Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan NovelR50517 Ziddi Ishq Mera (Episode 08)
Rate this Novel
Ziddi Ishq Mera (Episode 08)
Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
کافی دیر ہوگٸ تھی۔ٹاٸم دیکھتا وہ اٹھا۔اور عناٸشہ کے کیبن کی طرف بڑھا۔
لیک وہ وہاں نہیں تھی۔
یہ ۔ کہاں چلی گٸ۔۔؟؟
حازق پریشان ہوا۔
پیون کو بلا کے پوچھا۔
سر۔۔! میم دس منٹ ہوٸے نکلی ہیں۔۔ !!
بہت مودب انداز میں جواب دیا۔
حد ہوتی ہے۔۔۔! اسکی وجہ سے میں یہاں بیٹھا ہوں۔ اور یہ محترم نکل گٸیں۔۔۔۔!!
حازق غصہ ضبط کرتے اپنے آفس کی طرف بڑھا اور گاڑی کی کیز اور موباٸیل اٹھاتا وہ باہر نکلا ۔
جبکہ چہرہ پے انتہا کی سختی تھی۔
گاڑی گیراج سے نکالتے وہ روڈ پے آیا۔













وہ موباٸیل کو چیک کر رہی تھی۔جسکی چارجنگ بھی ختم ہوگٸ تھی۔ کہ اتنے میں گاڑی پاس آکے رکی۔ تو وہ چونکی۔
کیاہوا۔۔ مس عناٸشہ۔۔۔؟؟ کوٸی پرابلم ہے۔۔؟؟
مسٹر کاشف نے گاڑی روکتے فکرمندی سے پوچھا۔
نو۔۔۔سر۔۔۔!! نو پرابلم۔۔۔!
حتی الامکان عناٸشہ نے اپنا لہجہ نارمل رکھا۔
ادھر ادھر نظریں دوڑاٸیں۔ لیکن سڑک پوری سنسان تھی۔اکادکا گاڑیاں ہی تھیں۔
عناٸشہ نے وہاں سے آگے جانا مناسب سمجھا۔ جہاں تھوڑے لوگوں کا رش تھا۔
ارے کہاں جا رہی ہیں۔۔؟ آٸیں میں چھوڑ دیتا ہوں۔۔؟
کاشف نے خدمات پیش کیں۔
شکریہ۔۔۔ سر۔۔۔!! میں چلی جاٶں گی۔۔ عناٸشہ نے بنا رکے ہی جواب دیا۔
اتنا بھی کیا ایٹیٹیوڈ مس عناٸشہ۔۔؟
کاشف کو کافی یادہ غصہ آگیا۔ تو اسی غصے میں بازو سے پکڑا۔
کیا۔۔کر رہے۔۔ہیں۔۔؟؟ ہاتھ چھوڑیں میرا۔
عناٸشہ کو سخت غصہ آگیا۔
چلو میرے ساتھ۔۔۔!!
غصے سے کھینچا۔۔
تو عناٸشہ کھینچی چلی گٸ۔
ہاتھ چھوڑیں میرا۔وہ چلاٸی۔
لیکن کاشف نے پرواہ نہ کی۔۔اور ایک تھپڑ کھ کے اسے دیا۔ جس سے اسکا ہونٹ پھٹ گیا۔ وہ حیران اور ڈری ہوٸی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ سارا اعتماد ایک دم سے ڈھے گیا۔
تیرا تو آج میں بندو بست کرتا ہوں۔
کہتے ساتھ گاڑی میں دھکا دیا۔
کہ ایک اور گاڑی پاس سے گزری۔ عناٸشہ کی نظر بے اختیار ادھر اٹھی۔ وہ اس کی گاڑی کو پہچانتی تھی۔ایک مغموم سی امید جاگی۔
گاذی آگے جا کے ریورس ہوٸی۔
عناٸشہ نے کاشف کو پے دھکا دیا۔ اور وہاں سے اس گاڑی کی طرف بھاگی۔
کاشف کی نظر بھی اس گاڑی پے پڑ چکی تھی۔
گاڑی سے حازق اتر کےباہرآیا۔
عناٸشہ اسکی جانب بھاگتی۔ اس کے سینے سے جا لگی۔ اور ضبط کے باوجود زور سے آنکھیں میچے رو دی۔
یہ احساس کے وہ نہ آتا تو۔۔۔!! اس کے ساتھ کیا ہوتا۔۔۔؟
حازق نے اسے اپنی بانہوں میں بھرا۔ وہ بھی تو اس کے لیے اتنا تڑپا تھا۔لیکن اسے یوں پھوٹ کے روتا دیکھ وہ بھی سخت پریشان ہوا۔ کاشف موقع غنیمت جانتے وہاں سے نکل گیا تھا۔ وہ حازق کی نظروں میں آکے اپنی نوکری نہیں گنوانا چاہتا تھا۔
عناٸشہ۔۔۔۔!! دھیرے سے اسے پکارا۔
لیکن اس نے مزید سختی سے اسکی شرٹ کو دبوچ لیا۔
عناٸشہ۔۔۔۔!! بہت پیار سے اسے پکارا۔ وہ اس کے سینے سے لگی اب جھٹکوں سے رو رہی تھی۔
ادھر دیکھو۔۔ میری طرف۔۔!! اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا۔
لیکن اس نے آنکھیں نہ کھولیں۔اور نہ ہی اسکی شرٹ کو چھوڑا۔
کچھ بھی نہیں۔۔ ہوا۔۔!! جسٹ ریلکس۔۔۔!
اسے سنبھالتا وہ کہیں سےبھی ناراض نہیں لگ رہا تھا۔ وہی کیٸر ۔۔۔۔ وہی محبت۔۔۔ وہی چاہت۔۔۔
عناٸشہ کو وہ آج بھی ویسا ہی لگا۔
عناٸشہ کو لیے وہ گاڑی کی جانب بڑھا۔ اور اسے بٹھایا۔
خود ڈراٸیونگ سیٹ پے بیٹھتے اس نے گاڑی اسٹارٹ کی۔
عناٸشہ نے گال پے آٸے آنسو صاف کیے۔ اور اپنی گود میں رکھے ہاتھوں پے نظر پڑی۔ اس کے ہاتھ ابھی بھی لرز رہے تھے۔۔
آنکھیں بند کرتے وہ پھر سے خود پے ضبط کھونے لگی۔
عناٸشہ۔۔۔۔!! پلیز خاموش ہوجاٶ۔۔۔!! کچھ بھی نہیں ہوا۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔۔! گاڑی کا موڑ کاٹتے اس نے عناٸشہ پے نظر ڈالی جو اب باہر کی طرف دیکھ رہی تھی۔
اچانک سے حازق کی نظر اس کے گال پے جا ٹہری۔
جہاں اسکا گال سوجھا ہوا تھا۔
گاڑی جھٹکے سے روکی۔اور اسکاچہرہ اپنی طرف موڑا۔
یہ۔۔۔ یہ۔۔کیا ہوا۔۔؟؟
جارحانہ انداز میں پوچھا۔۔
عناٸشہ کی آنکھیں پھر سے نم ہونے لگیں۔
کون تھا۔۔۔۔؟؟ تم۔۔جانتی ہو۔۔۔؟؟
حازق کے سوال ہی ختم نہیں ہو رہے تھے۔
عناٸشہ کو سمجھ نہ آیا کہ اسے کاشف کے بارے میں بتاٸے یا نہ۔۔؟؟
بتاٶ۔۔ مجھے۔۔۔! حازق غصے سے بولا۔
تو رناٸشہ نے گھبراتے نفی میں سر ہلایا۔
حازق نے دانت پیستے گاڑی آگے بڑھادی۔
گھر کا ایڈریس بتاٶ۔
سپاٹ لہجے میں کہتا وہ عناٸشہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑا گیا تھا۔
گھبراتے اسے ایڈریس بتایا۔۔ گھر کے دروازے پے گاڑی روکی۔ تو بے اختیار نظریں حازق پے جا ٹہریں ۔ جو سپاٹ انداز میں سامنے دیکھے جا رہاتھا۔
عناٸشہ نے گاڑی کا دروازہ کھولا۔
آٸندہ احتیاط کرنا۔۔۔ اور ٹاٸم سے گھر جانا ۔
بنا اسکی طرف دیکھے سنجیدہ انداز میں کہا۔
عناٸشہ نے سر جھکایا اور باہر نکل گٸ۔
ا سکے گھر میں انٹر ہوتے ہی حازق نے گاڑی آگے بڑھا دی۔
وہ عناٸشہ کے جھوٹ بولنے پے سخت غصہ ہوا تھا۔ جبکہ اس نے کاشف کو دیکھ لیا تھا۔














مبارک ہو! تمہارے دادا جی نے ۔۔ تمہارا اور داور کا رشتہ طے کر دیا ہے۔۔
عالیہ بیگم نے اندر آتے کرن سے کہا تو وہ ماں کے گلے جا لگی۔
مما پلیز۔۔۔!! ایم سوری۔۔۔۔ آپ مجھ سے ناراض نہ ہوں۔۔۔!
اسکی آنکھوں میں ڈھیروں آنسو تھے۔
عالہ بیگم نے انہیں صاف کیا۔
بیٹا۔۔۔! ماں باپ اولاد کی خوشیوں سے کب ناراض ہوٸے ہیں۔۔۔م؟ لیکن مجھے۔۔۔ نہیں لگتا۔۔۔ سویرا بھابھی یہ رشتہ توڑ چڑھنے دیں گیں۔
عالیہبیگمنے اپنے دلکا ڈر زبان پےلایا۔
مما۔۔۔! انہں آپ چھوڑیں۔۔
آپ۔۔مجھ سے خفا نہیں ہونا۔۔۔۔۔!!
کرن نےان کے گرد بانہیں پھیلاٸیں۔
بیٹا۔۔۔!! میں تو ماں ہوں۔۔ تمہارے لیے اچھے نصیبوں کی دعاہی کر سکتی ہوں۔۔۔ عالیہ بیگمنے مسکرا کے کہا تو کرن نے سکھ کا سانس لیا۔
اسے ماں کی ناراضگی مول لے کے کوٸی کام نہیں کرنا تھا۔













داور سے پیسے نکلوا پیزا آرڈر کر چکے تھے۔اور اب داور کے ہی روم میں بیٹھے پیزا کھاتے وہ سبھی انجواٸے کررہے تھے۔ اور کرن کو بھی کشش گھسیٹ لاٸی تھی۔
ہم نے صرف پیزا پے نہیں ٹکنا۔۔۔ یاد رکھنا۔۔ پیزا کا ایک باٸٹ لیتی وہ دوار سے بولی۔جبکہ کرن نظریں جھکاٸے بیٹھی تھی۔
سب کچھ ہو جاٸے گا۔۔ نہیں ہوگا۔۔ تو ۔۔ یامین بھاٸی کا رشتہ نہیں ہوگا۔۔۔۔
سمیر کی زبان ہلی۔
منہ اچھا نہیں تو بات اچھی کر لو۔۔۔
کشش نے ٹوکا۔
ہاں تو پھر۔۔۔۔! دیکھا نہیں کسطرح ڈانٹا تھا انہوں نے تمہیں۔
سمیر نے یاد کروایا۔
وہ۔۔ ۔۔وہ۔۔ تو چلتا رہتا ہے۔۔۔ فکر۔نہ کرو۔۔۔ ہم سب مل کے کوٸی نہ کوٸی جگاڑ لگا لیں گے۔۔ لیکن۔۔ میں آپ دونوں کی شادی جلد کرواٶں گی۔۔
مجھے سویرا مما پے بالکل بھروسہ نہیں۔ وہ کچھ بھی کر سکتی ہیں۔۔۔
کشش نے سوچتے ہوٸے کہا۔
مما ۔۔۔!! اور بابا۔۔ دونوں ہی نہیں راضی۔
داور بھی اداس ہوا۔
ٹینشن نہ لو۔۔۔ ابھی کونسی شادی ہو گٸی ہے۔۔۔؟ جو انہوں نے اٹینڈ نہیں کی۔ اور تم اداس ہو رہے ہو۔۔۔!
کشش نے اسے ٹوکا۔
تو تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔؟ ادی ہو جاۓ گی کیا۔۔؟؟ یامین بھاٸی کی ہوگی تو ہی داور کی نیّأ بھی پر لگے گی۔
سمیر نے پھر سے زبان ہلاٸی۔
اس کا بھی حل سوچا ہے میں نے۔۔۔۔!! آنکھیں چھوٹی کرتی وہ کوٸی نہ کوٸی پلان بنا چکی تھی۔۔
ان سب نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھا
کل بتاٶں گی۔
مشن شادی کل شروع ہوگا۔۔۔ کل ٹھیک چار بجے چھت پے ملنا سب۔۔۔!!
راز داری سے کہتی وہ سب کو ہی لاجواب کر گٸ۔















میں آ پ کو بتا رہی ہوں۔ میں داو کی شادی اپنیبہن کےگھر ہی کروں گی۔۔وہ میرا بیٹا ہے ور اسکی زندگی کا فیصلہ بھی میں ہی کروں گی۔
سویرا بی بی بھڑکی ہوٸیں تھیں۔
جبکہ حیات صاحب ابھی بھی خاموش بیٹھے تھے۔
اور آپ۔۔۔!! ابا حضور کے سامنے نہ خود بولے نہ مجھے بولنے دیا۔۔
وہ بہت غصے سے بولیں۔
سویرا۔۔۔!! ایک بات آج میری کان کھول کے سن لو۔۔۔ ساری جاٸیداد اور زمینیں گھر اور بزنس سب بابا کے نام ہے۔۔۔
اور اگر کوٸی بھی فیصلہ ان کے خلاف تم نے یا میں نے کیا۔۔ تو سوچ لو۔۔ سب۔۔ ہاتھ سے گیا۔۔۔
وہ اٹھتے ہوٸے منہ بنا کے بولے۔
پھر۔۔ کیا داور کی شادی اس۔۔ کرن سے ہونے دوں۔۔؟؟
نروٹھے پن سے کہا۔
تو ہونے دو۔۔۔۔! دوسری شادی بھی تو ہو سکتی ہے۔۔ناں۔۔۔!
حیات صاحب نے مسٸلے کا دوسار حل بتایا۔
تو سویرا بیگم کے دماغ میں ایک دم سے جھپاکا ہوا۔۔
ہاں۔۔۔ یہ تو۔۔میں نے سوچا ہی نہیں۔۔۔!!
سویرا بیگم کی آنکھیں چمک گٸیں۔
ہممم۔۔ہوجانے دو شادی۔۔۔
داور جب اپنے دادا کی بات مانے گا۔۔ تو انکا لاڈلا بن جاٸے گا۔۔جاٸیداد کا بہت سارا حصہ داور کے نامکریں گے یقیناً۔ ۔۔ اسکے بعد۔۔۔ اسکی دوسری شادی کروا دینا ایموشنل طریقے سے۔۔۔
اور اس سب سے۔۔ بابا بھی خوش ۔۔ داور بھی خوش۔۔ ہم بھی خوش۔۔۔
حیات صاحب نے مسکراتے ہوٸے مستقبل کا نقشہ کھینچا۔
بس۔۔ تم۔۔ اپنی بہن کو قابو میں رکھنا۔۔۔!!
اور اسے تسلی دیٸے رکھنا۔
حیات صاحب سویرا بی بی کو باورکرانا نہ بھولے۔
وہ آپ فکر ہی نہ کریں۔۔
سویرا بی بی خوش ہوتے چہکیں۔











اب لکھو بھی۔۔۔۔!!
کشش نے سمیر سے کہا۔
کشش کیایہ سب صحیح ہے۔۔؟؟ یامین بھاٸی کو پتہ چلا ناں۔۔۔تو۔۔۔ خیر نہیں۔۔۔
سمیرنے ڈرانا چاہا۔
تم چپ رہو۔۔۔! اورجو کہاہے وہ کرو۔۔
کشش نے اسے ٹوکا۔
اس وقت وہ چھت پے بیٹھے یامین کے رشتے کا نیوز پیپر میں ایڈدے رہے تھے۔
اور سمیر کوڈر لگ رہا تھا جبکہ کشش پورے کانفیڈینس سے ریڈی تھی۔ہر چیز کے لیے۔
لکھو۔۔۔ بھی۔۔۔!!
کشش نے اسے گھرکا۔
کھواٶ گی کچھ تو لکھوں گا ناں۔۔۔۔!!
سمیر بھی چڑا۔
لکھو۔۔۔! ضرورتِ رشتہ۔۔۔۔!
بہت سوچتے ہوٸے وہ بولی۔
کرن ک چہرے پے سماٸیل آٸی۔
داور اس وقت اپنے کام سے واپس نہیں آیا تھا۔ ورنہ وہ بھی اس ٹیم کا حصہ ہوتا۔
آگے بولو۔۔۔!!
سمیر نے لکھتے ہوٸے کہا۔
سوچنے تو دو۔۔۔۔! ادھر سے ادھر چکر لگاتی وہ ماغ لڑا رہی تھی۔
ایک ہینڈسم پڑھے لکھے رٸیس زادے۔۔۔۔
واہ۔و اہ۔۔۔۔ کیا بات ہے۔۔۔۔!! مقرر ۔۔آگے۔۔۔؟
سمیر نے تعریف کی۔
کشش نے اسے گھورا۔ اور بات کو جاری رکھا۔
جو کہ دیکھنے میں سالار سکندر ۔۔۔
سوچتےہوٸے لفظوں کو جوڑا۔
چلنے میں جہان سکندر۔۔۔
یہ۔۔۔کیالکھوا رہی ہو۔۔؟؟
ایڈ لکھواٶ۔۔ تم تو اپنا خاندانی شجرہ نسب لکھوانے لگی۔
یہ سکندر وہ سکندر۔۔۔۔۔۔!!
سمیر نے منہ بناتے کہا۔
تم۔ وہ سب لکھو جو کہہ رہی رہی ہوں۔
اور درمیان میں مت بولو۔۔ میں بھول۔جاٶں گی
کشش نے اسے بری طرح ڈانٹا۔
چلوآگے لکھو۔
ہمممممم۔۔۔۔
اٹھے تو فارس غازی ۔۔۔۔
بیٹھے تو کارل۔۔۔۔۔!!
دوڑے تو عمر جہانگیر۔۔۔۔!!
ایک منٹ۔۔۔ایک منٹ۔۔۔۔! یہ۔۔ سب کون ہیں۔۔۔؟؟
سمیر لکھتے ہوٸے حیرت سے کشش کو دیکھتے پوچھا۔
جس نے دانت پیستے اسے دیکھا۔
ہیروزززززز۔۔۔۔۔ ہیں۔۔۔۔!! کافی لمبا کرتے کہا۔
اچھھھا۔۔۔۔ اچھا۔۔۔ کس فلم کے۔۔۔۔؟؟
بہت برجستہ سوال تھا۔
جس پے کرن کا قہقہہ امڈا جو اتنی دیر سے وہ روکے بیٹھی تھی۔
کشش نے خون خوار نظروں سے سمیر اور کرن دونوں کو دیکھا۔
ناولز کے ہیروز۔۔۔ ہیں۔۔۔یہ۔۔۔۔!!
بتاتے ہوٸے ساتھ ناراضگی سے دیکھا۔
سمیر کو لگا شاید اسے سننے میں کوٸی غلطی ہوٸی ہے۔۔۔
واٹ۔۔۔۔؟؟ تمہارے۔۔کہنے کا مطلب۔۔۔ ہے۔۔۔ یہ۔۔وہ لوگ۔۔ ہیں۔۔۔ جن کا کوٸی۔۔۔ وجود ہی نہیں۔۔۔ اور۔۔۔ تم۔۔۔ انکی کوالٹیز لکھوا رہی ہو۔۔۔۔ مطلب۔۔۔ یہ لوگ۔۔۔ exiSt ہی نہیں کرتے ۔۔۔ اور۔۔۔!!! اللہ کا خوف کھاٶ۔۔ یار۔۔۔ !!
کیالکھوا رہی ہو۔۔۔؟؟ میں نہیں لکھتا یہ سب۔۔۔۔!! سمیر نے پنسل اور ڈاٸری ساٸیڈ پے رکھی۔
کشش کا غصے سے برا حال تھا۔
اپنے فیورٹ ہیروز کے بارے مں یوں کسی کی راٸے سننا اسے بہت ناگوار گزرا تھا۔
سمیر کے بچے۔۔۔ جان سے مار ڈالوں گی۔۔ اگر کسی ہیرو کے بار ے میں کچھ بھی غلط کہا تو۔۔۔ یہ سارے۔۔۔ میرے۔۔ کرش ہیں۔۔ سمجھے۔!!
کشش نے ہاتھ اٹھاتے وارن کیا۔
عجیب ہی کرش ہیں۔۔۔ جو ۔۔ا سدیامیں ہیں ہی نہیں۔۔۔!!
سمیر بھی ہار نہیں مان رہاتھا۔
یہ تمہارا مسٸلہ نہیں۔
تم بس لکھتےجاٶ۔ اور کمال۔دیکھنا۔۔ اس ایڈ کا۔
کشش نے اب کی بار لہجہ نارمل رکھا۔
کوٸی لکھواے والی چی لکھواٶ تو لکھوں ناں۔۔۔!!۔بندہ پصھے تو سمجھ بھی آٸے۔۔۔
سمیر ابھی بھی راضی نہ ہوا۔
دیکھو۔ سمیر۔۔۔! آج کل ہر لڑکی کو ہی ایسا لاٸف پارٹنر چاہیے۔۔۔ اس سے یامین سکندر کا رشتہ بہت آسانی سے ہو جاٸے گا۔۔۔ سمجھو یار۔۔۔۔!!
کشش نے اسے سمجھا یا وہ مانا تو نہیں لیکن لکھنا پھر سے اسٹارٹ کر دیا ۔
کشش اسے لکھواتی گٸ اور وہ منہ بنا کے لکھتا گیا۔
ہمممم دکھاٶ تو۔۔۔۔!!
سارا لکھوا لینے کے بعد اب وہ ایک بار سارا مضمون چیک کر رہی تھی۔
گڈ ہو گیا۔۔۔۔!! اب ہم۔۔ کل ہی جاٸیں گے۔۔۔ ضرورتِ رشتہ کا یہ ایڈ نیوز پیپر میں دینے۔۔۔ تا کہ۔۔۔ جتنی جلدی ہو سکے۔۔ لگے ہاتھ یہ کام بھی نمٹ جاٸے۔۔۔۔
دیکھ لینا یہ نہ ہو۔۔ یامین بھاٸی لگے ہاتھ۔۔۔ تمہارا ہی کام نمٹا دیں۔۔۔اور تم خود کو ڈھونڈتی رہ جاٶ۔۔۔
سمیرنے لقمہ دیا تو کشش نے اسے پاس پڑا کشن دے مارا۔
وہ بھی بروقت نہیچے ہوتا خود کو بچا گیا۔












عناٸشہ بیٹا۔۔۔!! تمہاری طبعیت ٹھیک ہے ناں۔۔۔؟؟ تمہارا چہرہ کیوں اتنا لال ہو رہا ہے۔۔؟؟ ماتھے کو چھونے لگیں۔
ارے بیٹا۔۔۔! تمہیں تو بخار ہے۔۔۔!! آج۔۔۔ رہنے دو۔۔ یونی ورسٹی مت جاٶ۔
ارے مما۔۔! میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔اور۔۔ آگے نٸے کام کی وجہ سے دو دن ہوگٸے یونی نہیں جا پاٸی۔ آج کچھ ضروری نوٹس بنانے ہیں۔ جلدی آجاٶں گی۔
ماں کو تسلی دیتی وہ مسکراتی یونی کے لیے نکل گٸ۔
آفھا دن یونیگزار وہ اب ہوٹل آٸی تھی۔
اسکا سر کافی دکھ رہا تھا۔
آتے ہی سیدھی اپنے گیبن کی جانب بڑھی۔
کہ کاشف بھی نظر بچا کے پیچھے ہی آیا۔
سر۔۔۔آپ۔۔۔۔! عناٸشہ گھبرا گٸ۔
ہاں۔۔ میں۔۔۔ خبردار۔۔ جو ۔۔ سر کو کچھ بھی بتانے کی جرات کی۔۔ ورنہ۔۔۔ ایسڈ پھینک کے چہرہ بگاڑ دوں گا تمہارا۔۔۔ سمجھی۔۔۔۔!!
غصے سے غراتے وہ عناٸشہ کو اچھا خاصہ ڈرا گیا۔
اسے شدت سے آج اپنا باپ یاد آیا۔
دھمکی دے کے وہ جانے لگا کہ اسی لمحے حازق آفس میں داخل ہوا۔
وہ۔۔۔ سر۔۔۔!! میں۔۔ عناٸشہ کو کام سمجھانے آیا تھا۔۔۔
ککاشف گڑبڑا گیا۔
حازق نے کھینچ کے ایک مکا اس کے منہ پے رسید کیا۔
عناٸشہ منہ پے ہاتھ رکھے اپنی ینخ کا گلا گھونٹا۔
اتنے میں پویس کے دو اہلکار بھی اندر آٸے۔
لے جاٸیں اسے۔۔۔!! اور ڈالیں حوالات کے پیچھے اسے۔
کاشف جو منہ سے خون صاف کر رہا تھا۔ اس بات پے بپھر ہی گیا۔
میں۔۔۔ میں۔۔۔ نے کیا کیا ہے۔۔سر۔۔۔؟؟
اس نے خود کو چھڑایا۔
کاشف کو لگا عناٸشہ نے رات کو حازق کو سب بتا دیا۔
سر۔۔۔۔!! یہ۔۔۔لڑکی جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔!!میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔۔!!
کاشف تڑپ کے بولا۔
حازق دانت پیستا عناٸشہ کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
جو ایک ہی دن میں مرجھا گٸی تھی۔
پولیس والے کاشف کو لے گٸے۔
وہ چلاتا رہا لیکن کسی نے نہ سنا۔
کیا بولا تھا تم نے۔۔۔۔؟؟ تم۔۔۔ نہیں جانتی۔۔۔۔!!
حازق کو بے انتہا کا غصہ تھا۔
عناٸشہ کا سر جھک گیا۔
ضبط کے باوجود آنسو بہہ کے گالوں پے آگۓ۔
جھوٹ بولنے کی عادت۔۔۔ تمہاری گٸ نہیں۔۔۔!
غصے سے اسکی کلاٸی کو جکڑا۔ تو وہ ہل کے رہ گٸ۔
ایک دم سے حازق کو لگا اس نے کسی گرم چیز و ہاتھ میں پکڑ لیا ہو۔
تم۔۔۔۔!! بے اختیار ہاتھ ا سکے ماتھے پے گیا۔ جو تپ رہا تھا۔
حازق کے ماتھا چھو کے دیکھنے پے بے اختیار ہی عناٸشہ نے آنکھیں بند کیں۔ اسکے ٹھنڈے ہاتھوں کا لمس اسے سکون سا بخش گیا تھا۔
تمہیں۔۔ تو بہت تیز بخار ہے۔۔۔!!
تم۔۔۔ پاگل ہو۔۔۔! اتنے بخار میں کام پے آگٸ۔۔۔؟
ابکی بار ڈانٹ میں فکر تھی۔
میں۔۔۔ میں ۔۔۔ ٹھیک ہوں۔۔۔! بمشکل الفاظ ادا ہوٸے۔
دیکھ کے لگ رہا ہے۔۔۔! چلو میرے ساتھ۔۔۔۔!حازق نے اسے اچانک سے کہا تو اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
کہا۔۔۔ں۔۔۔؟؟
حازق اسے بنااجواب دیے اپنے ساتھ لے کے باہر آیا۔ گاڑی میں بٹھاتا اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔
وہ بس خاموشی سے اسے دیکھے گٸ۔
ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد میڈیسن لکھ دیں اور ڈاٸیٹ کا خاص خیال رکھنے کا کہا۔
حازق اسے میڈیسن اور کچھ فروٹس اورکھانے پینے کا سامان لے کے دیتا گھر چھوڑنے چلا گیا۔
عناٸشہ اسے یہ سب کرتا دیکھتی رہی۔
اکی اتنی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ اسے روکتی یا کچھ کہتی۔ بخار نے اسے نیم بے ہوش سا کر دیا تھا۔
اب کچھ دن آفس آنے کی ضرورت نہیں۔ گھر پے ہی رہو۔۔۔!! بنا ا سکی طرف دیکھے کھانے پینے کا سامان اٹھاتا اس کے گھر کے دروازے پے دستک دے چکا تھا۔
ہاں۔۔ وہ گھر۔۔ جس کا اس نے کبھی بھی نہیں بتایا تھا۔۔
ہزار بار پوچھنے پے بھی وہ ٹا ل گٸ تھی۔لیکن۔۔رات کو خود ہی بتا دیا۔
درواہ کھلا۔ حازق نے سامان عابدہ بیگم کو تھمایا۔ عناٸشہ کی طبعیت کے بارے میں بتایا۔
عابدہ بیگم نے فوراً آگے بڑھ کے عناٸشہ ک سہارا دیا۔ اور اسے اندر لے جانے لگیں۔
بیٹا۔۔۔! آپ کا ۔۔۔ بہت شکریہ۔۔۔ آپ نے ۔۔ بہت۔۔مدد کی۔۔!تشکر سے دیکھتے کہا۔
حازق اثبات مس سر ہلاتا وہاں سے گاڑی میں بیٹھتا جا چکا تھا۔
اس نے عناٸشہ سے بات بھی نہیں کی۔ اور یہی بات عناٸشہ کوتکلیف دے گٸ۔
اس کا یوں اگنور کرنا۔۔ کہاں۔۔ اچھا لگتا تھا۔۔
وہ ملا تو۔۔یوں مل جاٸے گا۔۔۔
کہ نصیبوں میں پھر سے۔۔ لکھوانے کا جی چاے گا۔۔۔
کیا جانتی تھی وہ۔۔۔ کہ اس محبت نے۔۔اسے اور کتنا آزماٸش میں ڈالنا تھا۔۔؟؟
جاری ہے۔
