Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan NovelR50517 Ziddi Ishq Mera (Episode 31)
Rate this Novel
Ziddi Ishq Mera (Episode 31)
Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
ہیلو۔۔۔! ایک بری خبر ہے۔۔۔ حیات سکندر۔۔ بھاگ نکلا ہے۔۔ اب کیا کریں۔۔؟؟
موباٸیل سے آواز ابھری تو وہ سبھی چونکے اور ایک دوسرے د یکھنے لگے۔
اب صرف۔۔۔ ایک ہی حکم کا اکا بچا ہے۔۔ وہ بڈھا۔۔۔ اسے اپنی سخت قید۔میں رکھنا۔۔ اور ہاں۔۔ کل ہم آٸیں گے۔۔ تو باقی کی پلاننگ کرتے ہیں۔۔ تم۔۔ بولتی کیوں نہیں۔۔۔؟؟ چپ کیوں ہو۔۔؟ ہیلو۔۔۔؟؟؟
آواز پھر سے ابھری۔ کشش نے کال کاٹ دی۔
اور یامین کے پاس آٸ۔
یامین لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا۔
وہ دادا جی۔۔۔ کی بات۔۔۔؟؟ کشش کی آنکھیں نم ہوٸیں۔
یامین نے گہرا سانس خارج کیا۔
کچھ نہیں ہو گا دادا جی کو۔۔۔! یامین نے یقین دلایا۔
میں۔۔ اس ۔۔ علیزہ چڑیل کو چھوڑوں گی نہیں۔۔۔ کہتے ہی وہ غصے سے باہر نکلنے لگی۔ کہ یامین نے تھام کے روک لیا۔
ابھی نہیں۔۔۔! ابھی دادا جی اس کے قبضے میں ہیں۔۔جب تک ہم دادا جی تک اور بابا تک پہنچ نہیں جاتے۔۔ ہمیں اسکی ہر بات ماننی پڑے گی۔
یامین نے سب کی طرف دیکھتےہوٸے تنبیہہ انداز میں کہا۔ تو سب دانت پیستے رہ گٸے۔
یہ دیکھیں۔۔ بھاٸ۔۔۔! داور نے یامین کو۔پکارا۔
یہ تصویریں۔۔ ۔۔۔؟؟ یامین سوچ میں پڑگیا۔
دادا جی کی کڈنیپنگ کی تصویریں کسی نمبر سے سینڈہوٸی ہوٸی تھیں۔
یہ جگہ۔۔۔۔؟؟ جانی پہچانی سی لگتی ہے۔۔۔۔! یامین سوچ رہا تھا۔
اور ایک دم سے اسے یاد آگیا۔
یہ۔۔۔پرانے قبرستان کے پاس ہے۔۔ کوٸی مل ہے۔۔ جو بند پڑی ہے۔۔ ۔۔۔ وہیں۔۔۔! یامین نےفوراً جلیل کوکال کی۔اور اسے ہدایت دیتا مڑا۔
سر۔۔۔ ایک اور خبر دینی تھی آپ کو۔۔۔! جلیل بھی فوراً بولا۔
کیا۔۔۔؟؟ یامین چونکا۔
سر۔۔۔! وہ مسٹر عادل ۔۔۔ !!!!
جلیل نے ساری بات یامین کے گوش گزار دی۔
یامین نے ایک نظر کشش کودیکھا۔ جو اسی کو دیکھ رہی تھی۔
سر۔۔۔! وہ ۔۔ میرولا۔۔۔ کے اردگرد۔۔ اپنے آدمیوں کو بھیج چکا ہے۔۔ سمیر سر اور۔۔ میڈم کو اٹھوانے کے لیے۔۔۔!
جلیل نے مزید انفو دی۔
بھیجنے دو۔۔۔! ڈر نہیں۔۔۔ ! یامین نے کشش کے گرد نظروں کا حصار مزید گہرا کیا تو وہ گھبرا کے نظریں پھیر گٸ۔
امید ہے دادا جی مل۔جاٸیں گے۔۔ بس دعا ہے۔۔۔ کہ بابا بھی۔۔ صحیح سلامت ہوں۔ ۔۔ یامین نے دھیرے سے کہا۔ تو سب نے دل۔میں آمین کہا۔۔
اسکے ۔موباٸل پے جس نمبر سے تصاویر سینڈ ہوٸیں ہیں اور لاسٹ کال جسکی آٸ تھی۔ وہ نمبرز مجھے نکال۔کے دو داور۔۔! یامین نے داورکوہداتی دی تو وہ فوراً عمل۔درآمدکرنے لگا۔
آپ۔۔۔ کیا کریں گےاب۔۔۔؟؟ کشش نے دھیرے سے اسکےپاس آتے پوچھا۔
یامین نے ایک نظر اسے دیکھا۔
اسے یہ جاٸیداد بزنس۔۔اور پیسہ چاہیے۔۔۔ نمبر کی چٹ داور سے لیتے وہ کشش کی جانب مڑتا سنجیدگی سے بولا۔
اس کے بعد وہ دادا جی کو چھوڑ دے گی۔۔۔
تو کیا۔۔ آپ۔۔ سب کچھ۔۔اس کے نام۔کردیں گے۔۔۔؟؟ کشش کوشاک۔لگا۔
نہیں۔۔ ! سب نہیں۔۔جو۔۔ میرا ہے۔۔۔ میرے نام ہے۔۔۔وہ کرسکتا ہوں۔۔۔! یامین نے جاتےہوٸے مڑ کے کہا ۔
لیکن۔۔۔ دادا جی۔۔۔۔ مل جاٸیں گے ناں۔۔؟؟؟ تو کیوں۔۔؟؟ کشش کو۔ہضم نہ ہو رہا تھا تو جرح کرنے لگی۔
کشش۔۔۔! ابھی دادا جی ملے نہیں۔۔ اور میں بابا اور داداجی کی زندگی کاکوٸی رسک نہیں لے سکتا۔۔۔ میرے لیے۔۔ ہر چیز سے زیادہ اہم میرے اپنے ہیں۔۔! یامین نے اسے رسان سے سمجھایا۔
تھوڑا۔۔۔ ویٹ تو کرلیں۔۔ اتنی جلدبازی کی کیاضرورت ہے۔۔؟؟ کشش کامنہ بگڑا۔
کشش۔۔! یو آرامپاسبل۔۔۔! میرےپاس اتنا وقت نہیں کہ تم سے بحث کروں۔۔۔ اسلیے۔۔۔۔! یامین زچ ہوا۔
آپ۔۔۔ غلط کررہے ہیں۔۔۔! کشش بھی اپنی بات پے قاٸم رہی۔
یامین اسے بس ایک ٹک دیکھے گیا۔ کیا۔۔۔ کشش کے لیے پیسہ زیادہ ضروری ہے۔۔۔؟؟ وہ سوچتا رہ گیا۔ اور بناکچھ کہے وہاں سے چلا گیا۔
یہ بھی ناں۔۔۔؟؟؟اب سب اس علیزہ چڑیل کے نام۔کر دیں گے۔۔۔ اور وہ ہمیں۔۔ یا تو گھر سے نکال دے گی۔۔۔ یا۔۔یہاں پے اپنا غلام۔بنالے گی۔۔۔
کشش۔نے وہیں بیٹھتے دکھ سے کہا۔ اور یامین جو واپس پلٹ کے آیا تھا۔ اسکی بات سن کے ٹھٹھک گیا۔
داور۔۔۔! موباٸل۔واپس رکھو علیزہ کا۔۔ اسے کسی قسم۔کا شک نہیں ہونا چاہیے۔۔ امید ہے۔۔ دادا جی صبح تک۔مل۔جاٸیں گے۔ میں بھی جا رہا ہوں ۔
کشش کونظر انداز کرتے وہ داور سےکہہ کے مڑاکہ کشش پھر سے سامنے آگٸ۔
آپ۔۔ کےساتھ۔۔ میں بھی جاٶں گی۔ ایک ضد تھی اسکےانداز میں جو یامین کو مزید غصہ دلا رہی تھی ہاتھ سےپکڑا اسے وہاں سے اسی کے روم۔میں لے کے آیا۔ اور دروازہ لاک کیا۔
تم۔۔یہیں۔۔ رہو گی۔ اور کوٸی بھی کسی بھی قسم کی شرارت نہیں کرو گی۔ سمجھی۔۔ یامین نے اس کے قریب ہوتے اس کو تنبیہہ کی جبکہ آگے وہ بھی ماتھے پے تیوری چڑھاۓ یامین کو گھور رہی تھی۔
میں آپ کے ساتھ جاٶں گی۔۔۔۔! وہی ضد۔۔۔
کشش۔۔ ہر بات پے ضد اچھی نہیں ہوتی۔۔ آگے۔۔ اس عادل کی مصیبت کو بھی گلے میں ڈال لیا ہے۔۔ غصے سے جھنجھلاتے وہ کشش کو عادل والی بات بھی کہہ گیا۔
کیا۔۔۔کیا مطلب۔۔۔؟؟ کشش نے حیرت سے اسے دیکھا۔
تم۔۔۔ سارے مطلب چھوڑو۔۔۔ اور میری بات غور سے سنو۔۔۔! میری اجازت کے بنا گھر سے باہر نہیں نکلو گی۔۔ اور نہ ہی کوٸی کسی قسم۔کا پنگا لو گی کسی سے۔۔۔! یامین نے دھیمے لہجے میں اسے پھر سے سمجھایا۔
اتنی ہدایتیں دے رہے ہیں۔۔ اور آپ کوپتہ بھی ہے میں نے سننا نہیں۔۔ تو ساتھ لےکیوں نہیں جاتے۔۔۔؟؟ کشش بھی پھر سے ضد کرتے بولی۔
یامین نے گہرا سانس خارج کیا۔ اگر ہم دونوں ایک ساتھ گھر سے غاٸب ہوٸے۔۔۔ تو۔۔ علیزہ کو شک ہو جاۓ گا۔۔۔ اور۔۔۔
اوہ۔۔ تو اچھا۔۔۔ آپ اس۔۔ چڑیل کی وجہ سے۔۔ مجھے ساتھ لے کے نہیں جارہے۔۔۔ ڈرتے ہیں اس سے۔۔۔! کمر پے ہاتھ باندھے وہ لڑنے مرنے کو تیار ہوٸ۔
ایسا کیسے سوچ لیتی ہو یار۔۔۔۔؟؟؟ یامین نے ماتھا مسلا۔
اور موباٸل پے آتی کال پک کی۔
اور بات کرنے لگا۔جبکہ کشش اپنا غصہ کنٹرول کرنے لگی۔
کشش ۔۔! یامین نے اسے پکارا۔
میں نےآپ سے کہہ دیا۔۔۔کہ میں نے جانا ہے۔۔مطلب جانا ہے۔۔۔! وہ بات کاٹ کے بولی۔
ویسے بھی اس کے سامنے تو آپ نے مجھے ایک ظالم شوہر کی طرح روم۔میں بند کیا۔ تو سمجھیں۔۔ ہیر دیور میں چنوا دی گٸ۔۔ اب اسے کیا پتہ چلے گا۔۔۔کہ آپ مجھے ساتھ لے کے گۓ ہیں۔۔۔؟
کشش نے لمبا خاصا بیان دےدیا۔
یامین سوچ میں پڑ گیا۔
اییی ایک منٹ۔۔۔ دیوار میں انار کلی کوچنوا یا تھا۔۔۔ یہ ہیر کہاں سے آگٸ۔۔۔؟یامین کو اسکی مثال ہضم نہیں ہوٸ۔
یہ آپ بعد میں کلاس لے لینا ابھی چلیں۔۔ دادا جی کو بچانا ہے۔۔۔! کشش نے فوراً بات کو کاٹا۔ تو وہ اسکی جلد بازی دیکھتا اسکی ضد کے آگے ہار مانتا اسے ساتھ لیے باہر نکلا۔
بھاٸ ہم بھی ساتھ جاٸیں گے۔
داور اور سمیر بھی سامنے آگٸے۔
باقیوں کو بھی بلالاٶ۔۔ سیر کرنے جا رہے ہیں ناں۔۔ کوٸی رہ نہ جاٸے۔۔۔ ! یامین نے میٹھا سا طنز کیا۔
تو کشش نے انہیں نہ ساتھ جانے کا اشارہ کیا۔
اگر سب چلے جاٸیں گے تو اس چڑیل۔کا دھیان کون رکھےگا۔۔۔۔؟؟ کشش نے دانت پیستے ہوٸے کہا
چلیں۔۔۔! ان سے کہتی انکو آنکھ ونک کرتی یامین کا ہاتھ تھامےباہرنکلی۔
یامین گارڈز اور سیکیورٹی گارڈز کو ہدایت دیتا گاڑی کی جانب بڑھا۔ جہاں وہ کشش کو لیے گاڑی میں بیٹھا۔ دوگاڑیاں مزید سیکیورٹی کی ساتھ تھیں۔
اب وہ اسی پرانے قبرستان کی طرف گامزن تھے۔















وہ آفس جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ اور عناٸشہ اسکے اردگرد ہی منڈلارہی تھی۔
گھڑی کی طرف ہاتھ بڑھاۓ تو عناٸشہ نے جھٹ سے اٹھا کے اسکے سامنے کر دی۔ حازق نے ایک نظر اسے دیکھا۔ اور گھڑی تھام لی۔جتنی دیر وہ پہنتا رہا اور بالوں کو کنگھی کرتا رہا وہ پاس کھڑی میٹھی نگاہوں سے دیکھتی رہی۔
حازق نے پرفیوم کا سپرے کیا۔ تو اس نے آنکھیں بند کیے وہ خوشبو اپنے اندر اترتی محسوس کی۔
حازق نے بھی موقع ملتے دیکھ ایک بھرپور نظر اس پے ڈالی۔ لیکن جلد ہی رخ پھیر صوفے پے جا بیٹھا۔ شوز پہنتا ایک بار وہ پھر چونکا۔ جب عناٸشہ نے اسے شوز پہنانے چاہے۔
کیا کر رہی ہو۔۔۔؟؟ چھوڑو اسے۔۔؟ حازق کے ماتھے پے بل پڑے۔اور عناٸشہ کا ہاتھ پیچھے کیا۔
پلیز۔۔۔ کرنے دیں۔۔ ! وہ سر جھکاٸے بولی۔ تو حازق خود بھی کھڑا ہوا اور اسے بھی کھڑا کیا۔
پاگل ہو گٸ ہو کیا۔۔۔؟ کیوں یہ سب کر کے۔۔۔ کیا ثابت کرنا چاہتی ہو۔۔؟؟یا اگر تم۔۔۔ یہ سمجھ رہی ہو۔۔۔کہ تم میرے دل میں وہ پہلے والا مقام حاصل کرلو گی یہ سب۔۔کر کے۔تو۔۔؟؟
میں ایسا کچھ نہیں چاہتی۔۔ حازق۔۔! میں جانتی ہوں۔۔ میں نے غلط کیا۔۔ بنا کسی ٹھوس وجہ کے آپ کو ۔۔۔ ڈچ کیا۔۔۔ آپ سے علیحدگی اختیار کی۔ لیکن۔۔ میں کیاکروں۔۔ اب۔۔۔ کہ ۔۔۔ سب ٹھیک ہوجاٸے۔۔۔؟آپ ک بے رخی۔۔ مجھے۔۔تکلیف دے رہی ہے۔۔۔! اسکی آنکھوں کے آنسو حازق کے دل کو پسیج رہے تھے۔ وہ اپنے فیصلہ پے قاٸم نہیں رہ پارہا تھا۔
ہاں تھوڑی بہت تو سزا بنتی تھی۔۔ جو وہ اسے دے رہا تھا۔ لیکن۔۔۔ یوں اسے روتا دیکھ وہ برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔
حازق۔۔! آپ۔۔ بہت اچھے ہیں۔۔ شاید۔۔ میں آپ جتنی۔۔ اچھی نہیں۔۔ ! میں ۔ آپ کو ۔۔۔ ڈیزرو نہیں۔۔ کرتی۔۔۔ آپ تو۔۔ بہت اچھی لڑکی۔۔۔۔؟؟
وہ کہہ نہ پاٸی۔۔ آنسوٶں نے مزیدکچھ کہنے جوگا چھوڑا ہی نہیں۔ اسکی بات پے حازق نے لب بھینچے۔
کیا مطلب۔۔ہے۔۔۔ اس بات کا۔۔۔؟؟
شاید۔۔ ایک وقت آٸے گا۔۔ آپ مجھے چھوڑ دیں گے۔۔۔اور۔۔
میں۔۔ محبت ختم نہیں ۔۔ کرنا چاہتی۔۔۔
نہ ہی آپ سے دور۔۔۔۔جانا چاہتی ہوں۔۔
لیکن ۔۔ پھر۔۔سوچتی ہوں۔۔
دوری کی اذیت۔۔۔ فقیری کی ازیت سے زرا کم تکلیف دہ ہوگی۔
وہ نین کٹورہ آنکھیں حازق پے اٹھیں۔ تو حازق کا دل ہی لے ڈوبیں۔
حازق نے آگے بڑھ کے اسے اپنے سینے سے لگایا۔
اور وہ پھوٹ پھوٹ کے رودی کب سے وہ ان بانہوں کے لیے تڑپ رہی تھی۔ ان پناہوں میں آنے کے لیے۔۔۔
حازق نے بہت مضبوطی سے اسے اپنے حصار میں لیا تھا۔
عنا۔۔۔! آج توکر لی بات۔۔ دور جانے کی۔۔ آٸندہ کی تو۔۔جان سے مار ڈالوں گا۔۔۔ کہتے وہ عناٸشہ کو جنونی سا لگا۔
آپ۔۔مجھ پے اعتبار نہیں کرتے۔۔۔! منہ بسورتے روتے ہوٸے کہا۔
حازق نے اس کے آنسو صاف کیے۔
اعتبار محبت کی پہلی سیڑھی ہے۔۔۔ عنا۔۔اگر اعتبار نہ ہوتا تو پیار کیسے کرتا۔۔۔؟؟ بہت نرم اور پیار بھرے لہجے میں کہا۔ عناٸشہ کی تو حیرت سے آنکھیں ہی پھیل گٸیں۔
مطلب۔۔۔؟ جو آپ نے رات کو کہا۔۔؟؟ وہ سب۔۔؟؟
تم نے تھوڑا تنگ کیا۔۔۔آٹھ ماہ۔۔ پاگلوں کی طرح تمہیں ڈھونڈتا رہا اور تم۔۔ کسی کے کہنےپے بنا سوچے سمجھے مجھ سے دور ہوگٸ۔۔۔؟؟ اک بار بھی مجھ سے نہ پوچھا۔۔۔؟؟ کہ حقیقت کیا ہے۔۔۔ ؟ وہ تو۔۔ میں ۔۔ تمہاری مما سے نہ ملا ہوتا تو۔۔۔شاید۔۔ کبھی جان ہی نہ پاتا۔۔۔
حازق نے آج وہ بات کہہ ہی دی۔۔ جسے وہ اتنے عرصے سے چھپا رہا تھا۔
ہاں وہ عابدہ آنٹی سے ملا تھا۔ عناٸشہ کی غیر موجودگی میں ۔ اور انہوں نے ہی تو اسے راہ کھاٸی تھی۔ عناٸشہ کےبارے میں تفصیل بتاٸی تھی۔ اور کہا تھا کہ وہ اسکی سگھی ماں کو ڈھونڈنے میں اسکی مدد کریں۔ نام اور باٸیو ڈیٹا سب بتایا۔ وہ اپنی بہن کو کیسے بھول سکتی تھیں۔۔۔؟؟ ہاں۔ ان کا ایڈریس نہیں جانتی تھیں۔ وہ عناٸشہ کو اکیلا اس دنیا میں چھوڑ کے نہیں جانا چاہتی تھیں۔ جبکہ وہ جانتی تھیں کہ انہیں بلڈ کینسر ہے وہ بھی آخری اسٹیج پے۔
اس دن چاٸے بنانے کے لیے وہ کچن کی جانب بڑھیں تو غیر ارادی ہی سہی حازق عناٸشہ کے روم کی جانب۔۔ یہ تھی تو ایک غیر اخلاقی حرکت۔ لیکن وہ یہ جانتا تھا۔ کہ عناٸشہ کو ڈاٸری لکھنے کا شوق تھا۔ اور وہ اپنی زندگی کی ہر بات ڈاٸری میں لکھتی تھی۔
حازق کو زیادہ محنت نہ کرنا پڑی۔ ایک دراز کے اندر سے اسے ڈاٸری مل گٸ۔ جسے وہ چھپا کے لے آیا۔
اسے پڑھنے کے بعد ہی حازق کو ساری سچاٸی پتہ چل گٸ تھی۔
لیکن ۔۔ عادل کے ساتھ شادی پے ہامی بھرنےپے حازق کو بے پناہ غصہ آیا۔کہ بجاٸے سچاٸی بتانے کے۔۔ وہ پھر سے اس سے دور جا رہی تھی۔
میں نے۔۔ کبھی دھیان ہی نہ دیا ۔۔کہ میری ڈاٸری میرے پاس نہیں۔۔۔ عناٸشہ دھیرے سے بولی۔
عنا۔۔۔۔! مجھ سے جب جب تم نے دور جانے کا سوچا۔۔۔۔۔مجھے تب تب تم پے غصہ آیا۔
اور تب تو بہت زیادہ۔۔۔ جب بجاۓ مجھے سچاٸ بتانے کے تم۔نے۔۔۔ عادل کے رشتے کے لیے ہاں کی ۔
عناٸشہ نے جھکا سر اٹھایا۔
عنا۔۔۔ تم۔نے ایک بار پھر سے مجھ پے بھروسہ نہ کیا۔۔۔ مما بابا کومنانا ۔۔ میرے لیے کوٸ مسٸلہ نہیں تھا۔ لیکن ۔۔ تم۔۔ تمہاری۔۔ بے وفاٸ۔۔۔۔۔؟؟
میں بے وفا نہیں حازق۔۔۔! عناٸشہ تڑپ ہی گٸ اسکی بات پے۔
ہاں۔۔ جانتا ہوں۔۔۔۔ لیکن۔۔۔ جدا تو ہونے کا سوچا ناں۔۔؟؟وہ تو کشش نے۔۔۔؟؟ کشش کے نام پے حازق کا دل نرمی لے آیا۔۔ بنا کسی رشتے کے اس نے بنا کسی کی پرواہ کیے اس نے ان کا ساتھ دیا۔ اور انہیں ملوایا۔ ایسے ہمدرد لوگ دنیا میں بہت کم ہوتے ہیں۔۔ جو آپ کو سمجھیں اور بنا کسی غرض کے آپ کی مدد کریں۔۔ وہ بھی بنا آپ کو بتاٸے۔۔۔
دروازے پے ناک ہوٸ۔ تو دونوں چونکے۔
کیا ہم اندر آسکتے ہیں۔۔۔؟؟ دانی اورہانی نے منہ نکالتے مسکینی صورت بنا کے پوچھا۔
عناٸشہ آنسو صاف کرتی پیچھے ہٹی۔
آجاٶ۔۔ یار۔۔۔! حازق نے موباٸل اٹھاتے سرسری انداز میں کہا۔
ہم۔نے آپ کو ڈسٹرب تو نہیں کیا۔۔۔؟؟ دانی کی آنکھوں میں شرارت تھی۔
حازق نے ایک محبت بھری نظر عناٸشہ پے ڈالی۔
اب کر تو دیا ہے۔۔۔ خیر۔۔ بتاٶ۔۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔۔؟ حازق نے والٹ پاکٹ میں رکھتے ہوٸے کہا۔
ہم ناں۔۔ پلان۔۔ کر رہے تھے۔۔۔ کہ آپ کے ساتھ۔۔۔ کہیں گھومنے چلیں۔۔۔ اس سے پہلے کہ آپ ۔۔ دبٸ کی اڑان بھریں۔۔۔۔
دانی نے مسکاتےکہا۔
ہمممممم۔۔۔۔۔۔! ایک کام کرو۔۔ اپنی آپی سے پوچھو۔۔ جہاں جانا ہو مجھے بتا دینا۔۔ میں آجاٶں گا۔۔ ابھی آفس جانا بہت ضروری ہے۔۔۔ یامین بھی نہیں ہے۔۔تو۔۔ جلدی جانا ہے۔۔! اور کوشش کروں گا۔۔ عناٸشہ کی طرف پیار سے دیکھا۔
جلدی آجاٶں۔۔۔! الله حافظ
نظروں سے ہی اسے پیار دیتے وہ باہر کی جانب نکلا۔
جبکہ دانی اور ہانی اب عناٸشہ کے اردگرد ہولیے تھے۔














حیات صاحب بھاگ کے وہاںسے نکل تو آٸے لیکن ان پے کافی تشدد کیا گیا تھا۔ جسکی وجہ سے انکو چلنا بھی محال ہو رہا تھا۔
لیکن ہ واپس نہیں جا سکتے تھے۔ انہوں نے کڈنیپرز کو کہتے سنا تھا کہ ان کے والد کو بھی انہوں نے قید کیا ہوا ہے۔۔ اور وہ اپنے والد کو ڈھونڈنا چاہتے تھے۔ ہر حال۔میں۔۔ اور وہ ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔ ان کے پاس کوٸ موباٸل کچھ بھی نہ تھا کہ وہ یامین کو اطلاع دے دیتے۔ سنسان اور بیابان علاقہ دور دور تک کوٸی نہ تھا۔ کہ وہ مدد لے لیتے ۔
زخموں سے چور وہ ایک جگہ تھک کے بیٹھ گٸے۔
یاللہ۔۔۔! مدد فرما۔۔۔ توجانتا ہے۔۔ میں نے جان بوجھ کے کچھ نہیں کیا۔ سب انجانے میں ہوا۔۔۔ اور۔۔ میری ۔۔ کوٸی غلطی بھی۔۔نہیں۔۔ تو ہی میری مدد کر ۔۔۔! انکی آنکھوں میں آنسو آگۓ۔ اپنی بے بسی پر۔۔
وہ جو کل تک چلتے بھی اکڑ سے چلتا تھا ۔ آج بے بس ہوا تھا۔ اللہ کے آگے۔
اسی اثنا میں انہیں کسی کے قدموں کی چاپ سناٸی دی۔ تو وہ بھی وہاں سے فوراً اٹھے۔
اور ایک طرف لذکھڑا کے چلنا شروع کر دیا۔














ان کی گاڑی ابھی راستے میں ہی تھی۔ کہ یامین کو محسوس ہوا۔ کہ انکا تعاقب کیا جا رہا ہے۔۔ اس نے سیکیورٹی گارڈز کو الرٹ کیا۔ او اپنی گن نکال کے چیک کی۔
یہ۔۔۔ یہ۔۔ بھی ہے۔۔ آپ کے پاس۔۔؟؟ کشش کی آنکھیں چمکیں۔ یامین نے ایک نظر ہی دیکھا ہوگا۔ اسے کے انکی گاڑی ان بیلنس ہوٸ۔
یہ کیا ہوا۔؟؟یامین نے ڈراٸیور سے پوچھا۔ جو گاڑی کو قابو کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔
سر کسی نے گاڑی کا ٹاٸر پنکچر کیا ہے۔ ۔۔
گاڑی روکو۔۔ ! یامین نے فوراً حکم دیا۔۔
لیکن۔۔سر۔۔ گاڑی روکنا خطرے سے خالی نہیں ڈراٸیور نہ مانا۔
تمہیں جتنا کہا ہے وہ کرو۔۔ یامین نےاسکی بات پے سختی سے کہا تو اس نے سامنے دیکھتے ایک جھٹکے سے گاڑ ی کو روکا۔
سامنے ہی تین بلیک کلر کی گاڑیاں کھڑیں تھیں۔
اور ان کے آگے کچھ آدمی بھی کھڑے تھے۔ جیسے انہی کے انتظار میں تھے۔ اوت بہت مطمیٸن انداز تھا۔
کشش نے یامین کو دیکھا ۔ وہ کیا کرنے والا ہے۔۔؟ اندازہ لگانا چاہا۔
یامین پہچان گیا تھا۔ وہ اور کوٸی نہیں عادل کےبندے تھے۔ اور سامنے ہی یامین کو وہ بھی کھڑا نظر آگیا تھا۔
جاری ہے
