Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Last Episode)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Last Episode)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
ماشی ابھی کھانا میز پہ لگا رہی تھی کہ شان اور نمرہ ایک ساتھ اندر داخل ہوئے
“لو آ گئے سلیبرٹیز بھی،،
ماشی سالن کا دونگا ٹیبل پر رکھ کر ان کی طرف بڑھ گئ۔
“کیسی ہیں آپی جان،،شان ماشی کی طرف بڑھا تو نمرہ جلدی سے مل کر سائیڈ پر ہو گئ۔
“کیا ہوا پھر سے لڑائی کر لی کیا،،ماشی نے شان سے سرگوشی میں پوچھا
“،نہیں اب ہم بڑے ہو گئے ہیں,,شان نے بات گول کی اور آسام کے پاس چلا گیا۔
“ہائے اولڈیج۔۔کیسے ہیں ،،وہ آسام لوگوں کو چڑھانے کے لئے بولا۔
“ایکسکیوزمی کل کے بچے ہیں ہم،،افنان نے مصنوعی خوفگی سے کہا۔
“بھائی افنان آپ تو ارباب یا زرباب کی پرانی چوسنی چوسا کریں،،شان کی بات پہ سب کا کہکہا گونجا۔
“بیٹا زیادہ ہوشیار مت بنو ،،افنان نے اس کی رخسار پہ چٹکی کاٹی
“واقع ہی گھر کی مرغی دال برابر باہر لوگ مرتے ہیں ایک سیلفی لینے کو۔ اور یہاں ہماری کسی کو قدر نہیں،،آخری فقرہ کافی انچا کہا گیا۔ تاکہ نمرہ سن لے۔ماشی نے اس کا انداز نوٹ کیا اور آسام کو دیکھا وہ بھی بھانپ گیا تھا۔ماشی نے نمرہ کو اپنی طرف بلایا
“کیسی ہو میری جان،،ماشی نے اس کی رخسار پہ ہاتھ رکھ کر پوچھا۔
“تم روئی ہوئی ہو کیا ہوا،،ماشی نے اس کی آنکھوں میں آنسوں دیکھ پوچھا۔
“نہیں آپی وہ مٹی پڑ گئ آنکھوں میں شان کہ بھی رہا تھا کہ گوگلز لگا لو پر میں نے نہیں لگائے بس اسی لئے۔ارے میرے جگر مجھے دیں بھائی،،وہ صوفے پہ بیٹھے فہد اور آسام کے درمیان ارباب زرباب اور گل کی طرف بڑھ گئ۔
“نہ بھائی گل تو میرا شہزادہ ہے۔۔بھائی گل مجھے دیں،،شان نے بڑھ کے گل کو گود میں اٹھا لیا نمرہ نے اسے دیکھا تو آنکھ بھر آئی۔کیونکہ وہ اسے اگنور کر رہا تھا۔اور ایسا پہلی بار ہوا تھا
کھانا کھاتے وقت بھی ماشی اور آسام نے دونوں کو نوٹ کیا نمرہ چور نظروں سے شان کو دیکھتی، پر وہ سرے سے اگنور کر رہا تھا
“نمی آج تمہیں میری قدر کا پتا چل جائے گا۔،،وہ اس کی نظروں کی تپش محسوس کر کے دل میں سوچ کر مسکرا دیا
“کیا تم واقع ہی یہ رشتہ توڑ دو گے شان ،،وہ سوچ کر کھانے کی میز سے اٹھ گئ۔
“ارے کیا ہوا نمی،،زہرہ نے اسے اٹھتے دیکھ کہا۔
“آپو میں نے کھا لیا،،نمرہ نے ایک نظر شان پہ ڈالی۔جو بڑے مصروف انداز میں کھا رہا تھا۔وہ سانس لے کر صوفے پہ بیٹھ گئ۔
“صدیوں سے بھوکے ہو کیا ،،وہ ابھی بھی شان کو گھور رہی تھی۔
“نمی آنٹی باہر چلیں بہت پیارا موسم ہو رہا ہے باغ میں چلیں،،حازم اس کا بازو پکڑ کر بولا تو وہ مسکراتی ہوئی اس کے ساتھ چل دی۔
“ہم آتے ہیں۔،،
وہ بےبسی سے مسکرائی تھی۔ آسام اور ماشی نے سب نوٹ کیا اور ایک دوسرے کو دیکھا
اور پھر شان کو جو کھانے میں مصروف نظر آ رہا تھا۔
کھانے کے بعد وہ زہرہ لوگوں کو برتن سمیٹنے کا کہ کر
اشارے سے آسام کو کمرے میں بلایا۔
“آسام ،نمی اور شان کے درمیان کچھ نوک جھوک چل رہی ہے،نوٹ کیا ان دونوں کو آپ نے،،ماشی نے سنجیدگی سے پوچھا۔
“ہاں پر عارضی ہے ،،آسام ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر سوچ میں پڑھ گیا۔
“چھوٹی چھوٹی غلط فہمیاں رشتے بگاڑتی ہیں بات کرو اپنے لاڈلے شان سے آپ۔
۔نمرہ پریشان ہے ۔شان نہیں اس نے ہی کچھ کہا ہو گا۔اب وہ بڑا ہو گیا ہے سمجھاؤ اسے تمہاری سنتا ہے،،
“ڈاکٹر معروش رندھاوا،بڑی نظر تیز ہے،،
“پر ڈاکٹر آسام رندھاوا آپ کی نظر
بھی تو تیز ایکسرے کی طرح ہے،،ماشی نے اس کے کاندھے پہ تھپکی دے کر کہا۔
“ٹھیک ہے میں بات کرتا ہوں،،وہ مسکرا کر باہر چلا گیا۔
“کیا ہوا ماشی،،زہرہ اسے پریشان دیکھ کر بولی تو ماشی نے ساری بات سنا دی۔
“ٹینشن نہ لو تھوڑا بہت لڑائی جھگڑا ہو گیا ہو گا،اچھا چلو اب باہر چلتے ہیں موسم بہت خوبصورت ہے۔
آسام بھائی دیکھ لیں گے ان دونوں کو،،زہرہ نے اس کے کاندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔تو وہ مطمئن ہو کر باہر چل دی۔وہ نہیں چاہتی تھی شان اور نمرہ کی وجہ سے پھر سے دوکھ کے بادل چھائیں۔
******
نمرہ حازم کے ساتھ مصنوعی جھیل کے کنارے بیٹھی تھی۔
کہ اچانک ہلکی ہلکی بارش ہونے لگی۔
“حازم آپ اندر چلیں بخار ہو جائے گا۔،،اس نے حازم کی رخسار پہ ہونٹ رکھ کر کہا۔تو وہ اندر بھاگا۔
نمرہ نے ہاتھ اوپر اٹھا کر چند قطروں کو مٹھی میں لے لیا۔
“یادیں جاگ جاتی ہیں اس بارش کے موسم میں
ہر گھڑی تیری یاد ستاتی ہے بارش کے موسم میں،،نمرہ نے آنکھیں بند کرلی تو وہ پانچ سال پہلے کی یادوں میں کھو گئی۔کیسے وہ اور شان بارش میں بھیگتے تھے چھوٹی موٹی لڑائی پر جلدی مان جانا۔
“تم بدل گئے ہو شان ملک بدل گئے ہو۔آج میں نے فیل کیا ہے کہ تم بدل گئے ہو۔،،اس نے ٹانگیں پھیلا لی اور ٹانگوں کے گرد ایک بازو حائل کر لیا۔اور ایک ہاتھ سے بالوں کو ٹھیک کیا تبھی اس کی نظر اپنے پیر پہ پڑھی۔وہ ایک سال پیچھے چلی گئی جب اس کو شان کے ساتھ ایک رشتے میں باندھا گیا تھا
“کیا کر رہے ہو شان میرا پیر چھوڑو۔۔،،اس نے اپنا پیر کھینچنا چاہا پر شان نے چھوڑا نہیں اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کا مرمری پاؤں اپنی ٹانگ پر رکھ لیا اور ایک پائل پہنا دی۔
“دوسری تب جب تم میری بیگم بن جاؤ گی ایسے کبھی اتارنا مت۔جب جب تمہارے پیر میں یہ چھنکے گی مجھے لگے گا تم میری ہو،،
اس نے آنکھیں کھول لی۔
“ایک سال پہلے تم مجھے اس رشتے میں باندھ کر بھول گئے،میں نے کبھی تمہیں نہیں یاد دلویا سوچتی تھی تم واقع ہی مجھ سے محبت کرتے ہو بٹ آج تم نے،،اس نے پائل پہ ہاتھ پھیرا۔
“تیرے آنسوں جب گرتے ہیں
دل بےچین ہو جاتا ہے،،
وہ پیچھے ہاتھ باندھے کھڑا مسکرا رہا تھا۔ وہ بہت نکھرا نکھرا لگ رہا تھا۔
“یہاں کیوں بیٹھی ہو،، شان اس کے پاس بیٹھ کر نظر ٹیڑھی کر کے دیکھنے لگا۔
“روکو نمی،،وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی تو شان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“شان میرا ہاتھ چھوڑو جو تم نے کہا تھا بلکل ٹھیک کہا تھا تم ایک سال پہلے یہ رشتہ جوڑ کر بھول گئے تھے ابھی بھی یاد نہیں آیا اور اب لندن سے آتے ہی رشتہ توڑنے کی بات ،،وہ سنجیدگی سے بول رہی تھی۔لہجہ اٹل تھا۔
“یار تم سیریس کیوں لے گئ تھی یو ناؤ نہ ہاؤ کین آئی لو یو یار میں تو بس یہ دیکھ رہا تھا کہ تم مجھ سے کتنی محبت کرتی ہو ،،شان اٹھ کر اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا اس کی آنکھوں میں نمرہ دیکھ کر گھبرائی کیوں کہ ہاں محبتیں شدتیں تھی۔
“پھر ٹھیک ہے،،نمرہ نے مسکرا کر کہا تو شان کا بے اختیار قہقہ لگا دیا
مصنوعی کنویں کے پیچھے آسام ،افنان ،فہد ،عشرت ماشی سب چھپ کر انہیں دیکھ رہے تھے۔انہوں نے سکون کا سانس لیا
زہرہ کو ترکیب سوجھی وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی پھر پائپ نظر آیا تو وہ دبے پاؤں پائپ کی طرف بڑھی
“ہیپی ریم جھم،،زہرہ نے پائپ کا نل کھول دیا اور افنان پہ فوارہ مارا تو وہ ہڑبڑا گیا۔ نمرہ اور شان چونکے اور افنان کو بھگا دیکھ ہسنے لگے۔افنان جو تھوڑی دیر پہلے فریش ہو کر اچھے سے بال بنا کر اور ہمشہ کی طرح شرٹ کے اوپر والے دو بٹن کھولے چھوڑے ڈیشنگ لگ رہا تھا پر اب بھگ کے سارا سٹائل پانی کی نظر ہو چکا تھا
“روک جاؤ بتاتا ہوں،،افنان نے بغیر پانی کی پرواہ کئے اس کی طرف بڑھا اور پائپ پکڑ لیا وہ بھاگ کر کبھی ثاقب کے پیچھے تو کبھی عشرت کے پیچھے کبھی فہد کے پیچھے۔ اس چکر میں سب بھیگ گئے
“نہیں نہیں میں نہیں،،وہ ماشی کے پیچھے چھپنے لگی تو ماشی نے آسام کا بازو پکڑ کر اسے آگے کر دیا
“آپ کیسے بچ سکتی ہیں بیگم جان،،آسام اپنے گلے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوئے بولا اور افنان سے پائپ پکڑ کر ماشی کی طرف کر دیا۔
“نہیں آسام ،،
“آسام میں بتا رہی ہوں اگر آپ نے مجھ پہ پانی گرایا تو بہت برا ہو گا،بھائی اسے روکیں،،،ماشی نے انگلی دیکھائی اور ثاقب کے پیچھے جا چھپی۔
“ماشی کیا ہو گیا ہے یار پانی ہے
تیزاب تو نہیں،،عشرت نے پکڑ لیا
“کمینی میرے کپڑے دیکھو زرا سے بھی گلے ہوئے تو،، ماشی نے آنکھیں دیکھا کر سرگوشی کی
“تو فیلم اوپن۔تو اب تم بھاگ لے آسام کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں ،،عشرت نے مسکرا کر ماشی کو وارننگ دی تو ماشی نے اس کے کاندھے پر تھپکی رسید کی اور فارم کے مین گیٹ کی طرف بھاگی آسام پائپ پھینک کر اس کے پیچھے بھاگا۔سب اپنے بالوں کو خوشک کرنے میں مصروف تھے۔افنان بالوں میں ہاتھ چلاتا روک سا گیا
بھگی ہوئی زہرہ کو دیکھا تو جذبات امڈ آئے۔وہ مسکرا کر بالوں میں ہاتھ چلا رہی تھی افنان چار سیب کے درخت چھوڑ کر پانچویں کے پیچھے جا کر اسے اشارہ کرنے لگا تو وہ سب سے نظر بچاتی اس کے پاس چلی گئ۔
تو افنان نے چھپٹ کے اسے درخت سے لگا کر دونوں طرف ہاتھ رکھ لیا۔تو وہ شرما کر نظریں جھکا گئ
“بیگم جان ہمیں پاگل کر کے کہاں بھاگ رہی ہیں۔۔،،آسام نے اسے کمرے میں جا کر پکڑ لیا اور دروازہ بند کر دیا۔
وہ سر جھکائے کھڑی تھی.جیسے نئ نویلی دلہن
“ڈاکٹر صاحبہ کبھی اس مریض کو بھی چیک کر لیا کریں،،وہ شرارت سے بولتا اس کے تھوڑا اور پاس آیا اور اپنے گیلے بالوں کو پیچھے کر ماشی کو گرفت میں لے لیا
“بہت رومانٹک ہو رہے ہو ڈاکٹر صاحب،،وہ اس کے گیلے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے بولی۔
“کیا کروں اتنی خوبصورت بیوی ہو اور،،وہ شرارت سے کہتے ہوئے اس کے بالوں کو پیچھے کرنے لگا ۔ماشی لون کے سوٹ میں لمبے بالوں کو ڈھیلی ڈھالی چوٹیا بنائے ڈوپٹہ بائیں شہانے پہ ٹکائے۔آنکھوں میں عزت اور محبت کے جذبات لئے اپنے محبوب کو دیکھ رہی تھی۔
“آج میں جو بھی ہوں آپ کی وجہ سے ہوں آسام، آج میرا جو درجہ ہے سب آپ کی وجہ سے ہے۔ میری زات میں صرف آپ ہیں۔آپ نے ہر قدم پہ میرا ساتھ دیا،،ماشی نے اس کے سینے سے سر ٹکا دیا۔ اب وہ سولجھی ہوئی ڈاکٹر تھی۔نادان اور ڈرپوک ماشی نہیں آہستہ آہستہ سب ڈر ختم ہوا جب ہر قدم پہ آسام کو اس نے اپنے ساتھ پایا۔
اور پھر وہ دونوں کھڑکی پہ جا کر باہر دیکھنے لگے۔
زہرہ،افنان سیب کے درخت کے نیچے کھڑے ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے افنان اس کی رخسار پہ آ رہی لیٹ کو پیچھے کرتے ہوئے مسکرا رہا تھا
ثاقب البتہ گھاس پہ لیٹا ہوا تھا اور ،حازم اس کے سینے پر لیٹا ہوا تھابائمہ اس کے پاس بیٹھی تھی وہ بھی باتوں میں مصروف تھے۔اور حازم کو پیار کرنے میں
فہد اور عشرت ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے باغ میں چہل قدمی کر رہے تھے۔
نمرہ اور شان پھر سے لڑائی کر رہے تھے۔
آسام اور ماشی کے چہرے پہ مسکراہٹ نمودار ہو گئ اور مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھا۔ماشی نے اس کے کاندھے سے سر ٹکا لیا
“آسام سب ایک ساتھ ہیں کتنا اچھا لگتا ہے نہ اللہ ہماری فیملی کی خوشیوں کو نظر نہ لگائے
ہم کبھی اب الگ نہ ہوں۔پیچھلے چار سال سے جو خوشیاں ہمارے گھر میں ہیں کبھی نہ جائیں میرے اللہ،،ماشی نے دل سے دعا کی۔
“ہم کبھی الگ نہیں ہوں گے ایک دوسرے میں ہماری جان بستی یوں کہ لو ایک دوسرے کی محبت میں ہم پاگل ہیں،،آسام نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“اور ہم آپ کی محبت میں پاگل ہوئے،،ماشی نے مسکرا کر کہا ۔
وہ ٹھیک کہتی تھی۔
محبت ایک انسان پہ نہیں روکتی سب جائز رشتوں کے لئے ہوتی ہے بہن بھائی
زبردستی کا رشتہ کامیاب نہیں ہوتا۔
اور محبت کے رشتے کو کوئی توڑ نہیں سکتا،،
اتنے میں نیچے ارباب اور زرباب “ماما”ماما”بولنے لگے تو وہ دونوں مسکراتے ان کے پاس چلے گئے۔
ہمیں کیا خبر ہم کیا ہوئے۔۔۔
خود سے جدا ہوئے۔۔
یا تم سے جدا ہوئے۔۔۔
آنکھوں سے لاکھ آنسوں گرے۔۔
دل نے دھڑکنا بھی چھوڑا۔۔
ٹانگوں سے جان بھی نکلی۔
تیری زندگی میں۔۔
تیری دنیا میں۔۔
ہم بیگانے ہوئے۔۔
تم نے منہ بھی موڑا۔۔
ہاتھ بھی چھوڑا۔۔۔
ساتھ بھی چھوڑا۔۔
تم جہاں چھوڑ کر گئے تھے۔۔
پھر بھی ہم وہاں ہی روکے رہے۔
کیسے کہوں۔۔۔
کن لفظوں میں کہوں۔۔
تیری محبت میں پاگل ہوئے۔۔۔
