Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 01)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 01)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
اک تمہارے پیار نے جادو یہ کیسا کر دیا
چار سو میرے اجالا ہی اجالا کر دیا
کون کہتا ہے محبت نام ہے رسوائی کا
کب سنا ہے پھول کو شبنم نے میلا کر دیا
ڈھونڈتا پھرتا ہے اب وہ دوستوں کو ہر طرف
دوستی کے شوق نے اُس کو اکیلا کر دیا
چیخ سن کر بھی کسی نے مڑ کے دیکھا ہی نہیں
بے حسی نے شہر کے لوگوں کو بہرہ کر دیا
بارشوں میں بھیگ کر سب پیڑ اُجلے ہو گئے
رات بھر رونے نے کچھ مجھ کو بھی ہلکا کر دیا
روز ملتا تھا میں تم سے روز ہوتا تھا جدا
اس طرح کے حادثوں نے زخم گہرا کر دیا
************
,,ارے او ماشو۔۔۔۔کہاں مرگٸ ہو ۔۔۔۔پتنگ کٹ جاٸے گی جلدی اپرآ۔۔۔,,عشرت نے نیچے دیکھتے ہوٸے کہا۔۔۔ماشی نیچے منہ پھلاٸے بیٹھی تھی تھوڑی دیر پہلے فہد اور اس کی لڑائی ہوئی تھی ۔۔پتنگ کٹنے کے ڈر سے نیگے پاٶں اپر کو بھاگی۔۔۔اس کی پائل کی آواز سے پورےملک والا گونج اٹھا
,,اے خدا۔۔۔ارے سمبھال کے کرمو۔۔۔۔,,ماشی بھاگتی ہوٸی کرمو سے ٹکراٸی تھی کرمو کے ہاتھ میں امرودوں کا ٹوکرا تھا جو ماشی کے ٹکرانے سے گر گیا۔۔ماشی کا ڈوپٹہ اڑ گیا اس نے ایک جھٹکے سے اپنے بالوں کو پیچھے کیا جواس کی اگلی طرف جھول گٸے تھے۔۔۔اور کرمو کا ڈوپٹا لے لیا
,,سوری کرمی ۔۔۔,,وہ اس کے کان پکڑکے بولی وہ ہسی تواس کی آنکھیں بھی ہس دی موٹی موٹی آنکھوں میں کا جل کی لہر اس کے حسن کوچار چاند لگادیتی تھی۔۔۔اور داٸیں گال پہ پڑھتا ڈمپل قیامت برپہ کر دیتا تھا جب وہ ہستی تھی تو۔۔
,,تم ہر وار میرے نال ٹکرا جاتی ہو۔۔۔,,کرمو ٹوٹی پھوٹی اردو بولتی تھی۔۔۔۔جوکبھی سیدھی نہیں ہوسکتی تھی۔۔۔
,,ماشی جلدی آ نا یار۔۔۔۔,,اس بار نمرہ نے آواز لگاٸی۔۔اس نے بھاگ کے سیڑھیاں عبور کی اور جا کے پتنگ کی ڈور پکڑ لی۔۔۔
,,تم لوگ بچو سے ہار رہی تھی ۔۔کوٸی حال نہیں تم لوگوں کا۔۔۔۔,,اس نے پتنگ کی ڈور کھینچتےہوٸے کہا۔۔۔
,,ماسی جی آج تمہاری پتنگ کٹ جانی ہے۔۔۔ہاہاہا۔,,فہد اپر آکےسینے پہ ہاتھ باندھ کے کھڑا ہو گیا
;,لو اب تو پکا کٹے گی دوشمن جو پیچھےکھڑا ہو گیا ہے۔۔۔اور میں ماسی نہیں ماشی ہوں۔۔۔۔کتنی بار بتانا پڑھے گا تمہیں کھڑوس براؤن بلے۔۔۔۔,,وہ پتنگ کو سمبھالتے ہوٸے بول رہی تھی۔۔
,,لو ۔۔۔۔گٸ بھینس گوبر میں۔۔۔۔,,,عشرت نے پتنگ کٹتے دیکھ سر پیٹ لیا۔۔۔
,,عاشی ۔۔۔کیوں محاوروں کی ٹانگیں توڑتی ہو گٸ بھینس پانی میں ہوتا ہے۔۔۔اور یہ سب تمہارے منہوس بھاٸی کی بدولت ہوا ہے ۔۔۔کہاں گیا میں پوچھتی ہوں اسے۔۔۔,,ماشی ہاتھ جھاڑتے ہوٸے بولی۔۔پر فہد نیچے جاچکاتھا۔۔۔
اس نے نیچے ہوکے دیکھا فہد نیچے
کرسی پہ بیٹھا تھا۔۔۔وہ ہونٹ پہ انگلی رکھ کے سوچنے لگ گٸ۔۔۔آس پاس دیکھا تو اسے پانی کی بالٹی نظر آٸی ۔۔۔
وہ چٹکی بجا کے اس کی طرف بڑھ گٸ۔۔۔اور پانی کی بالٹی اٹھاکےفہد پہ انڈھال دی وہ کرنٹ کھاکے اٹھا۔۔۔
,,ہاہاہاہا۔۔۔اسٹریلین بندکہاتھانامجھ سے بچ کے رہاکرو۔۔۔ہاہاا,,مہر نے عشرت کے ساتھ ہاتھ ملا کے کہا۔۔۔فہد بری طرح بھیگ گیا تھا۔۔۔۔اس کے براؤن بال جن کاسٹائل خراب ہو چکا تھا۔۔اس کی آنکھوں پہ آگئے تھے فہد کے بال اور آنکھیں براؤن تھی جس وجہ سے ماشی نےاسے کئ نام دے رکھے تھے جیسے براؤن بلا، براؤن بندر۔ آسٹریلین بند۔،وغیرہ
,,ماشی تم آج مر گٸ میرے ہاتھوں ۔۔۔,وہ غصے سے بولا۔۔
,,ارے فادی پہلے پکڑ تو لو۔۔۔ہاہاہا,,اس پہ فہد کے غصے کا کوٸی اثر نہ ہوافہد سر جھٹک کے بالٹی اٹھاکے اندر چلا گیا۔۔۔ماشی لوگ وہاں بیٹھ گٸ۔۔
فہد آہستہ آہستہ قدم دھرتا سیڑھیاں چڑھ رہاتھا۔۔نمرہ نے دیکھ لیا۔۔فہد نے اسے چپ رہنے کااشارہ کیا۔۔۔فہد جیسے ہی پانی کی بالٹی ماشی پہ گرانے لگا وہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور بالٹی کامنہ فہد کی طرف کردیا وہ پھرسے بھیگ گیا تھا۔۔۔
,,,اسٹریلین بندر ۔چچ چچ چچ بچارا پھرسے ایک بار ہار گیا۔۔ہاہاہاہا۔۔,فہد اس لہمےکوکوسنے لگا جب اس کے ذہن میں ماشی سے بدلہ لینے کا خیال آیاتھا ماشی اورعشرت نیچے چلی گٸ تھی۔۔۔
,,فہد بھاٸی آپ ہروقت ماشی آپی سے خوب عزت کرواتے ہیں۔۔,,نمرہ نے مسکرا کے کہافہد نےاسے غصےسے گھورا۔۔۔تو وہ نیچے بھاگ گٸ۔۔۔
فہد نے ماشی کا ڈوپٹہ اٹھا لیا۔۔جب ماشی بھاگ رہی تھی تو اس کاڈوپٹہ اڑ کے فہد کے منہ پہ گرا تھا۔۔۔اور وہ اس کو دینے آیا تھا پر وہ پتنگ اڑا رہی تھی تواس نےایک طرف رکھ دیا تھا۔
***
ماشی کے دوچاچا تھےسب سے چھوٹاچاچاانگلینڈ پڑھنے گیاتھا پرپھر کبھی لوٹ کے نہ آیاوہاں ہی شادی کی اور سیٹل ہوگیاتھا ۔۔
درمیان والا چاچاآرمی میں تھاوہ شہدید ہو گیاتھا توماشی کےابو ان کے بیوی بچوں کو اپنے پاس ہی لے آٸے تھےدو بچیاں تھی نمرہ عشرت۔عشرت بڑی تھی اور نمرہ چھوٹی اور اکیلی عورت بچیوں کوکیسے پالتی اس لیئے وہ ان کے پاس آگئ اسی دوران ایک اورعذاب نازل ہو گیا تھا ماشی کی پھوبھی بیوہ
ہوگئ تھی ان کا ایک بیٹاتھا جو تب بہت چھوٹا تھا اسی لیئے ماشی کاابواپنی بہن کواپنےپاس لےآیاسسرال میں کوئی تھابھی نہیں جو فہد اور اسکی ماں کی زمیداری اٹھاتا ماشی(معروش)کےابوفہدکو ڈاکٹربناناکےلیئے انگلینڈبھیجنا چاہتے تھےفہد کی ماں نہیں مانتی تھی ان کا کہناتھا کہ یہ بھی اپنےماموں کیطرح وہاں جاکے گھربسا لے گا کسی گوری کے ساتھ۔۔۔
عشرت اور ماشی ہم کلاس تھی ماشی کاایک بھائی اور ایک بہن تھی بہن بڑی تھی اور اس کی شادی ہوچکی تھی اور بھائی کافی چھوٹاتھاوہ اور نمرہ ہم کلاس تھے
ماشی کاوالد باہرسے ڈاکٹر بن کرآئےتھےپاکستان آکے اپناہوسپیٹل بنالیاتھااورچند مہنوں میں ان کا نام مشہور ہوگیا تھا۔لاہور میں ہی نہیں بلکہ بہت سے شہروں میں سےلوگ آتے تھے ان کے پاس لوگوں کا کہنا تھا ان کے ہاتھ میں شفا ہے
************
,,چ۔۔چ۔۔چھوٹے صاحب بڑے صاحب آپ کویاد کر رہے ہیں ۔۔,,ملازم نے ڈرتے ڈرتے اسےجگایا کیوں کہ وہ جانتا تھا اس کے غوصے کو۔۔۔۔
,,,ابھی نہیں جاٶ تم۔۔۔۔,,,وہ کمبل منہ پہ کھینچتے ہوٸے ملازم کو ہاتھ کے اشارے سے جانے کوبولا۔۔۔ملازم جو پورے کمرے کاجزا لے رہاتھا جلدی سے باہر چلا گیا۔۔کمرے کی حالت کچھ یوں تھی۔۔۔صوفے کے کوشن زمین پہ پڑھے تھے۔۔۔بیڈشیٹ نیچے لٹکی ہوٸی تھی۔۔۔اس کی شرٹ صوفے پہ پڑھی تھی اور وہ خود منہ سرہانے میں دے کے گدھے گھوڑے بیچ کے سویا ہوا تھا۔۔
ملازم کے جانے کے بعداسے نیند نہ آٸی تو اٹھ کے بیٹھ گیا۔۔۔تھوڑی دیر آنکھیں ملنے کے بعد وارڈروب کی طرف بڑھ گیا۔وہاں سے برینڈڈ بٹنو والی شرٹ اور ساتھ پینٹ نکال کے واش روم گھس گیا۔۔گرم پانی سے نہنےکے بعد رات کی تھکاوٹ اتر گٸ تھی ۔۔وہ ڈریسنگ کے سامنے آکے اپنے براٶن اینڈ بلیک ڈائی کئے ہوئے بالوں میں برش کرنے لگا سٹاٸل سے پیچھے کیٸے ۔۔۔پھروہ ڈریسنگ پہ رکھی اعلیٰ کواٸلٹی پروفیوم میں سے انتخاب کرنے لگا کچھ دیر سوچنے کے بعدایک کواٹھا کےسپرے کیا پھر واپس رکھ کے ۔۔۔ڈریسنگ کا اپر والا دراز کھولا جہاں سن گلاسز اورریسٹ واچیز کا سٹاک تھا ۔۔۔اس نے سب سے مہنگی والی ریسٹ وواچ اٹھالی
ریسٹ واچ باندھنے کے بعد خود پہ ایک نظر ڈال کےاپنا فون اور گاڑی کی چابی گھوماتا ہوا نیچے چلاگیا۔۔۔۔
,,,گڈمارنگ ایوری وان۔۔۔;,,وہ کھانےکے میز پہ بیٹھتے ہوٸے بولا۔۔۔۔
,,یہ کیا بدتمیزی ہے افنان ۔۔۔تم نے تو لاپرواہی کی حد کردی۔۔۔۔,,,اس کا ابو اس کا ویٹ کر رہا تھا اسے دیکھتےہی بھڑک پڑھا۔۔۔وہ کھانے کا جزا لے رہاتھا
;,کیاڈیڈ میں نے کیاکیا۔۔۔,,,افنان معصوم سی شکل بنا کے پوچھا۔۔۔
;,,افنان میرا دماغ خراب مت کرو۔۔۔کل تم نے راہ چلتے ایک لڑکے کواڑا دیا۔۔۔۔اگروہ مر جاتا تو۔۔۔۔اسے ہوسپیٹل بھی نہیں لے کے گٸے پولیس پکڑ لیتی تو کیا عزت رہتی میری۔۔۔۔۔,,,وہ اس پہ چلانے لگے افنان بوریت کی ایکٹنگ کرنے لگا۔۔اس پہ ان کی بات کااثرنظرنہیں آرہاتھاکیوں کہ یہ روز کامعمول بن گیاتھا ۔۔
,,کم اون ڈیڈ۔۔میں افنان رندھاوہ ہوں آپ کو تو پتا ہے نہ کہ میں نے رکنا نہیں سیکھا۔۔۔۔اور ویسے بھی میں نے اسے نہیں بولا تھا کہ روڈ پہ آجاٸے۔۔۔۔افنان کے راستے کی جو رکاوٹ بنے گا وہ۔;;;وہ ہاتھ کااشارہ اپر کرکے بولا۔۔۔
,,افنان تم ابھی بچے نہیں,,,اس سے پہلےاس کا باپ کچھ اور کہتاوہ بول پڑھا
,,اوکے باٸے میں باہر سے کر لوں گا بریک فاسٹ۔۔۔,,گاڑی کی چابی اٹھاتا وہ باہر چلاگیاوہ اسے دیکھتے رہ گٸے۔۔
,,اس لڑکے کا پتا نہیں کیا ہو گامجھے تو ڈر ہے کسی دن خود بھی ڈوبے گا اور ہمیں بھی لے ڈوبے گا۔آسام کے علاوہ یہ کسی کی نہیں سنتا۔۔,,وہ سر پکڑ کے بیٹھ گٸے ۔۔
,,ابو جان ابھی وہ بچا ہے جی لینے دیں اسے جب بھاگ بھاگ کے تھک جاٸے گا تو خود ہی رک جاٸے گا۔۔۔,,افنان کے بڑے بھاٸی نے دلاسہ دیا۔۔
افنان رندھاوا امیر باپ کا بگڑا ہوا بیٹا تھا۔۔پراس کے بھاٸیوں کامزاج اس سے بہت مختلف تھا اس کےابوخود بھی بہت ہی اچھےدولت کا مان نہیں کوٸی غرور نہیں ہاں پرافنان شاٸد ماں پہ گیا تھااس کی ماں کو اپنی شان و شوکت روپے پیسے پہ بہت مان تھا
مان تھاافنان کے ابو کی لیدر کی فیکٹریز تھی باہرکے ملک سے بھی ان کاواسطہ تھا….کہئی بھی دولت کی بات ہوتی رندھاوا خاندان کو ضرور یادرکھاجاتا
*****
,,اے حسن کی ملکہ۔۔۔۔اے پریوں کی رانی میں تمہارے سپنوں کاشہزادا ہوں اپنا نرم وملائم ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دو ۔۔۔۔۔میں تمہیں لینے آیا ہوں۔۔۔۔ہائے اللہ کتنا حسین خواب تھاماشی۔۔۔۔کتناخوبصورت تھاپروہ رکاہی نہیں بھاگ گیا جب میں بھاگی تو بادلوں میں غائب ہوگیا۔۔۔کمنہ انسان ہاتھ نہیں آتا کبھی آئے گاتواس کی ہڈی توڑ دوں گی آہ۔۔،،،عشرت روز کی طرح بیڈسے گرگئ تھی اور اب اپنی کمر پکڑ کے کہرانے لگی۔
,,,عشرت سارادن توتم رسالے پڑھتی ہواور ڈرامہ ایک نہیں چھوڑ تی۔۔۔توخواب بھی توویسے ہی آئیں گے۔۔۔۔اب اٹھ جا اور نماز پڑھ لے ویسے تمہاراشہزادہ مسلمان معلوم ہوتاہے نماز کے ٹائم تم کوزمین پہ گرادیتاہے۔۔۔ہاہاہا،،،ماشی اپنا ڈوپٹا سر پہ پھلاکے نماز پڑھنے لگ گئ۔۔۔
عشرت کہراتےہوئے واش روم چلی گئ۔۔۔
وہ جب باہرآئی تو ماشی نماز پڑھ کے جائے نماز اٹھاجاچکی تھی اور باہر چلی گئ۔۔۔آہستہ آہستہ چلتی وہ اپرچلی گئ جہاں کبوتر طوطے چیڑیوں کے پینجرے تھے۔۔وہ طوطےکےپینجرے کےپاس جارکی۔۔۔
,,صنح بخیرسٹیف۔۔،،،وہ طوطے کو پینجرےسے باہرنکالتے ہوئے بولی۔
,,صبح بخیرماشو۔۔،،طوطے نے اپنی سریلی آواز میں کہا ماشی کےہونٹوں پہ
مسکراہٹ نمودار ہوگئ
,,سٹیف آج کی صبح بہت پیاری ہے نا۔۔۔۔پرایم سوری سٹیف تم اڑ نہیں سکتے کاش تمہارے پراس آسٹریلین بلے نے نہ کاٹے ہوتے ۔۔۔پرسٹیف اب جب تمہارے پرآجائیں گے تو اڑ جانا ۔۔۔،،،ماشی کی آنکھوں میں آنسوں آ گئے۔۔۔
اسے یاد آیاجب فہدنے بےدردی سےچھوٹے سے سٹیف کے پرکاٹے تھے توماشی نے جلدی سے اس سے پکڑلیاتھا تب سے اس کاطوطے سے لگاؤ ہوگیاہر صبح وہ نماز پڑھ کے اوپر آکے پرندوں سے باتیں کرتی کوئی اور نہیں سمجھتا تھا پرسٹیف
سمجھتا تھا کیونکہ ماشی نےاسے باتیں سکھائی تھی۔۔۔
,,سٹیف اگرتم اڑگےتومیں تمہیں بہت مس کروں گی۔۔۔،،ماشی نے ایک ہاتھ سے اپنے بالوں کوکیچرسےآزاد کردیا
,,صبح صبح سٹیف کو پریشان کردیتی ہو۔۔۔،،فہد پتا نہیں کہاں سے نکل کے نمودار ہو گیا تھا ۔۔اورسٹیف کوماشی کے ہاتھ سے لے کے پینچرے میں ڈال دیا۔
,,فہد تم پریندوں کو قید کیوں کرتے ہو ان کی بھی فیملیز ہوتی ہیں سو چواگر تم صبح کوگئے گھرنہ لوٹو توپھوپھوجان کا کیا حال ہو گا۔۔کتناروئیں گی توسوچوان کی مائیں بھی تو ہوں گی بہ سٹیف کی ماں بھی ہوگی نہ،،,ماشی نےسنجیدگی سےسوال کیافہداسے دیکھنےلگاماشی اکثرایسےسوال کرتی تھی فہدلاجواب ہوجاتا تھا
،،کسی جاندار چیز کو قید نہیں کرتے۔۔،ماشی نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔
،،سٹیف تمہاری موسی پاگل ہوگئ ہے۔۔ہاہاہاہا،فہد جواس کی اداسی کودیکھ کےرکاتھاوہ پھر سے بولنے لگا۔۔
,,مرجاؤکچھ کھاکے آسٹریلین بلے۔،،وہ تپ کے بولی تھی فہد کی بےاختیار ہنسی نکل گئی ماشی پیر پٹختی سیڑھیاں اتر گئی۔
ماشی اور فہد کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے کچھ نہیں تھا نہ کوئی احساس۔ہاں دوشمنی ہوسکتی تھی
پرفہدکی ماں ماشی کو اس کے لئے چنے بیٹھی تھی۔۔۔
پورے خاندان میں ماشی جیسی سلجھی ہوئی اور چنچل خوبصورت لڑکی نہیں تھی۔۔۔۔ایک دو بار انہوں نےماشی کے ابو سے بات کرنے کی کوشش کی پر پھر چپ ہو جا تی۔۔کیوں کہ فہد ابھی اپنے پیروں پہ کھڑا نہیں ہوا تھا۔
___
,,معروش بیٹا۔ادھرآؤمیرے پاس۔فہدکی ماں نے ماشی کو بلایا جو نمرہ کے نیل پینٹ لگارہی تھی۔۔۔۔ماشی احتیاط سے نیل پینٹ کو نمرہ کو پکڑاکےان کےپاس چلی گئی۔۔
,,جی۔۔۔۔،،وہ ان کےپاس بیٹھتے ہوئے بولی۔۔۔
,,آج میرادل کر رہا ہے اپنی بیٹی کے ہاتھ کے کوفتے کھانے کو بنادوگی کیا۔۔۔؟،انہوں نے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
,,جی ضرور پھوپھوجان،،
وہ ان کے گلے لگ گئ ۔۔۔
,,کیسی ہو بیٹی۔۔۔،،محلےکی ایک عورت آئی تھی۔۔۔
,ٹھیک آنٹی آپ کیسی ہیں۔۔۔،،،ماشی نےاٹھ کے انہیں بیٹھنے کی جگہ دی۔۔
,,بس پتر کیا بتاؤں گھٹنوں کی درد نے تنگ کر مارا ہے ڈاکٹرانی کہاں ہیں نظر نہیں آ رہی۔۔۔،،،
,,مامامارکیٹ گئ ہیں آپ دونوں بیٹھ کے باتیں کرو میں ابھی کوفتے بناکےلاتی ہوں۔۔۔،،ماشی نے مسکرا کے کہا اور کیچن کی طرح بڑھ گئی
,,,کتنی پیاری بچی ہے سب کا کتنا خیال رکھتی ہےاورخوبصورت بھی یہ لمبے بال موٹی آنکھیں ۔۔۔،,
،،ماشااللہ بول بہن نظرنہ لگا دینامیری معروش کو۔۔۔،،فہدکی ماں ماشی کی پیٹھ تک آتے لمبے بال دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔۔
,,کیا کر رہی ہو محترمہ۔۔۔۔،،فہد پانی کی طلب سے کیچن میں آیا تھاماشی کو وہاں دیکھ کے بولا۔
،،،پھوپھوجان کے لئےکوفتے بنارہی ہوں۔۔۔تم کھاؤگے۔۔۔،،،وہ مصروف انداز میں بولی وہ پانی کی بوتل فریج میں رکھ کےاس کے تھوڑا پاس آگیا۔۔سینک کے ساتھ ٹیک لگانے کھڑے ہوتے ہوئے بولا
،،آج پھول کیوں برسا رہی ہو ۔خیریت تو ہے۔۔۔،،،،فہدکی آنکھیں پھٹ گئی اس کے اس قدر مہربان سلوک کو دیکھ کے۔
،،آگ برسا برسا کے تھک گئی ہوں۔۔۔،،ماشی نے سرہلاکے کہا
،,،فہدبیٹادال میں ضرور کچھ کالا ہے نکل لے۔۔۔،،،وہ سوچتا ہوا جانے لگا
،،ارے ارے رکو تو میرا پیارا اکلوتا بھائی نہیں ہو بات تو سن لو۔۔،،،اسے پتاتھاجب بھی ماشی کو کوئی کام ہوتا تو وہ اتنی مہربان سلوک کرتی تھی آگے پیچھے تو دونوں میں جنگ ہی چلتی تھی۔۔
،،دیکھو ماسی جی اس بار میں تمہارا کوئی کہنا نہیں ماننےوالا پیچھلی بار بھی دس ہزار کی چڑیاں آڑا دی تھی تمہارے کہنے پہ ابھی تک میں اور
شان(ماشی کابھائی)پچھتا رہے ہیں۔۔۔اس بار مجھے معاف کرو۔۔۔۔,,وہ ماشی کا مطلب بھانپ چکاتھااور ہاتھ باندھتا باہر چلاگیا ماشی تپ کے پیاز کاٹنے لگی۔۔
,,,کیوں پرندوں کو قید کر لیا جاتا
ہے کیوں۔۔۔۔ پرندوں کی زندگی نہیں ہوتی کیا ۔۔۔۔وہ اڑ نہیں سکتے ساری زندگی قید ہو کے گزار دیتے ہیں انسان کوایک دن قید کر لو تو کیا کیا بول دیتا ہے پرندے بے زبان ہوتے ہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے فہد کو۔۔۔۔۔،،ماشی روہنسی ہوگئ تھی
،،آپی میرے کیپٹن فہد ملک کہ رہے ہیں کہ آج میچ ہے شام کو
ان کاپیغام ہے آپ کے لیئے وہ فرماتے ہیں کہ
,,, محترمہ کوفتے بناتے ہی نہ رہ جائے گا ۔۔۔۔
آج شام کو میچ ہےاس بات پہ ذرا غور فرمائیے گا۔۔۔۔،
ساگرنے مؤدبانہ انداز میں فہد کا رٹایا ہوا شعر پڑھا۔۔
،،اپنےاسٹریلین بلے سے کہنا۔۔۔میچ تب ہی ہوگاجب میں بولوں گی ۔۔،، ماشی پہلے ہی غصے میں کھڑی تھی شان کی بات نے اس کا دماغ اور شارٹ کر دیا
،،پر آپو ساگر بھائی۔۔۔گل بھائی لوگوں کو کال کرچکےہیں آپ کی ٹیم کو بھی اطلاع دی جاچکی ہے۔۔۔،،،
،،ٹھیک ہےجاؤتم ۔۔۔،،
،،یس بوس۔۔۔۔،،شان سلوٹ ٹھوکتا چلاگیا تھا
ہراتوار کو ملک ہاؤس سب اکٹھے ہوتے تھے بچپن سے ان کے ہاں ہر اتوار کو ماشی لوگ بیڈ منٹن کھیلتے تھے۔۔ جس میں اس کے کزنز اور محلے کے کچھ افراد شامل ہوتے تھے بچپن سے ہی ٹیمز بنی ہوئی تھی اب بھی وہ ہی تھی بس ماشی کی آپی نہیں تھی۔۔۔۔
ماشی کے ابو نے بہت بڑالان بنوایا ہوا تھا جوکوٹھی کی پیچھلی سائڈ پر تھا وہاں وہ سب کھیلا کرتے تھے۔۔۔۔
ماشی کوفتےپھوپھوکو دے کے عشرت کے پاس چلی گئی وہ رسالے میں مگن بیٹھی تھی ماشی نے اس سے رسالہ کھینچ لیا
،،ہر وقت ایک ہی کام ہے تمہارا رسالہ پڑھنا اور پھر خواب دیکھ کے نیچے گرنا۔۔۔،،ماشی نے رسالے کےورقے آگے پیچھے کر کے رسالہ بند کر دیا۔۔
،،اوہ ہو ماشو ادھر دو کیا سٹوری تھی یار لڑکا لڑکی کوپرپوز کرنے والا تھا اور تم نے آ کے مزا خراب کر دیا۔۔۔،،،عشرت اس کے ہاتھ سے رسالہ کھینچنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی ماشی اس کے آگے بھاگ کھڑی ہوئی۔۔
،،یہ لو پکڑ لو ۔۔۔ہاہاہاہا،،ماشی اس کےسامنے کتاب لہرا کے بولی۔۔۔عشرت پکڑنے لگی تو ماشی پھر سے بھاگ گئ۔۔۔۔
،،ماشی پلیز دے دو نہ ۔۔،،،عشرت اس کے پیچھے برآمدے میں بھاگتی ہوئی بول رہی تھی۔۔۔۔
،،نہ نہ۔۔۔،،ماشی پیچھے دیکھ کے بول رہی تھی تبھی آگے سے آتے ہوئے فہد سے زور دار ٹکر ہو گئ اورماشی گرگئ اور رسالہ اڑ کے دور جا کے گرچکاتھا۔۔۔
،,میڈم جی زاراسمبھال کے پاؤں رکھا کرو دوشمن سے ٹکر نہیں کھاتے۔۔۔۔،،،فہد ہسی دبا کے بولا
،،ہاتھ پکڑاؤ۔۔۔،،،وہ ہاتھ آگے بڑھا کے بولا ماشی اس کے ہاتھ کو اگنور کر کے کھڑی ہو گئی۔۔۔
،،آئندہ میرے راستے میں آئے توبھول جاؤں گی کہ تم مجھ سےعمرمیں بڑے ہو۔آہ۔۔۔،،،ماشی کمر کو پکڑ کے کھڑی ہو کے بولی فہد اس کی جدوجہد کامیاب ہوتے دیکھ خوشامد کرنے لگا۔۔۔
،،واہ کیا بہادر لڑکی ہو۔۔ہاہاہا،،فہد ہستا ہوا چلا گاوہ اسے گھورتے رہ گئ
،،ارے لڑکی تھوڑا دھیان دے نال چلا کرو۔۔ہر ولے بھاگتی رہتی ہو۔۔۔،،کرمو چھاڑو لگاتے ہوئے وہاں آئی تو ماشی کو مشکل سے چلتے دیکھ اسے سہارا دیتے ہوئے بولی۔ماشی چپ کرکے کرموکے سہارے چلتی رہی۔۔۔
******
آج افنان اور اس کےچار دوست شکار کرنے جارہے تھے ۔افنان نے آسام کوضدکرکے اپنے ساتھ آنے پہ مجبور کردیاتھا۔۔۔
،،یار ایڈمیشن لینا ہے اگر تیاری نہ ہوئی تو ٹیسٹ کیسے دوں گا۔۔۔تم لوگ جاؤ،،آسام فکرمندی سے بولا
،،کتابی کیڑا نہ بنا رہاکرو۔۔۔کبھی انجوئے بھی کیاکر ،،افنان اسے ہاتھ سے پکڑکے جیپ میں بٹھاتے ہوئے بولا۔۔آسام چپ کرکےبیٹھ گیا کیوں کہ وہ جانتا تھا بحس کرنا فضول ہےافنان ماننے والا نہیں تھا۔۔۔وہ لوگ ایک کیفے کے پاس جاکے رکے جہاں افنان کے دوست اس کا انتظار کررہے تھے۔۔۔
،،قیامت۔۔۔لگ رہے ہو تم دونوں راستے میں لڑکیوں کی لاشیں بیچھیں گی۔۔۔،،،ایک لڑکے نے جیپ میں
بیٹھتے ہوئے کمینٹ پاس کیا
۔،،۔یار تم دونوں بھائی تو لڑکیوں کا شکار کردیتے ہو اپنی لک سے پھر جانوروں کےشکار کا کیا فائدہ۔۔کیوں لکی ۔۔،،جیپ میں ایک کہکے کی آواز گونجی۔
،،گائس گائس۔۔۔ہماراسامی بےبی کتنا ہوٹ لگ رہاہے ۔۔۔اور یہ پریشان سا چہرا افففف۔۔،،ایک لڑکے نے آسام کاجائزہ لیا وہ بٹنوں والی گرے کلرکی شرٹ اور بیلوپینٹ میں مبلوس تھاشرٹ کےبازو فولڈ کئےہوئےتھےاور بلیک کلر کےبالوں کو سلیکےسےسٹائل بناکےچھوڑا ہوا تھااورٹیسٹ کی ٹینشین اس کےچہرےپہ نظرآرہی
،،،پلیز گائس۔۔۔ایسی بےہودہ باتیں نہ کیا کرو۔۔۔۔اب آپ لوگ تھرڈ ایئرکے اسٹوڈینٹ بننے والےہو۔۔۔بچنا چھوڑو اور سیریس ہو جاؤ۔۔۔۔،،،آسام نے ان سب کودیکھ کے سمجھایا۔۔۔
،،ہاہاہاہا سامی ۔۔۔۔بےبی۔۔ابھی تو ہم نے جینا ہے ۔۔۔کیوں ہیں نا شہزادے۔۔،،دوسرے لڑکے نے اس کا مزاق اڑتے ہوئے افنان کے کندھے پہ ہاتھ مارا۔۔
،،یس گائس ویسے۔۔۔پہلے میں کچھ بیزی تھا کیا بات کر رہے تھےتم لوگ۔۔۔،،افنان نے بلیوٹوتھ کان سے نکالتے ہوئے پوچھا۔۔۔
،،اووو۔۔۔۔۔۔۔کس کے ساتھ بیزی تھے بھابھی۔۔۔۔ نوٹ بیڈ۔۔۔ویسے ہمیں تو کوئی ملتی نہیں اور شہزادے کے پاس تو پتا نہیں کتنی ۔۔۔،،افنان نے چپ ہونے کااشارہ کیا۔۔۔کیوں کہ آسام ان کے ساتھ تھا۔۔۔افنانے اس کا چہرہ دیکھ کے اندازا لگالیاکہ اس کی شامت آگئی
،،،افی میں نے تم سےکیا کہا تھا۔۔۔۔۔سدھر جاؤ کیوں کڑکیوں کی زندگی خراب کرتے ہوہرلڑکی سے دوستی اچھی نہیں ہوتی اگر وہ تم سے کچھ امیدیں وابستہ کر بیٹھے تو۔ایٹس نوٹ گڈ۔۔۔،،،آسام نے سنجیدگی سے کہا۔۔افنان نے اس کی بات اگنور کر کے میوزک کی آواز بڑھا دی۔۔۔
آسام سر ہلا کے رہ گیا۔۔۔
دونوں بھائی بےحد خوب صورت تھے گرلز اچھے سگنل دیتی تھی۔۔۔پر آسام اگنور کرتا تھا اور افنان ان کے سگنل کو ایکسیپٹ کرلیتا تھا۔۔۔افنان نے کبھی کسی کی طرف خود ہاتھ نہیں بڑھایا تھا پر جوہاتھ بڑھاتی تھی اسےواپس بھی نہیں جانےدیتا تھا
آسام سمجھ دار سلجھا ہوا لڑکاتھا اور افنان اتناہی الجھاہوا۔۔۔اور بدتمیز بھی کہ سکتے ہیں
********
،،تم سب نے ٹیسٹ کی تیاری کی ہے کیا ایک ویک بعد جانا ہے ہم نے یاد تو ہے نہ۔۔۔،،آسام نے سب کی شکلیں دیکھی۔۔۔
،،اپنا بھائی سلامت رہے پاس ہوجائیں گے۔۔۔،،آسام کے علاوہ سب نے جان دار کہکہا لگایا۔۔
وہ لوگ جنگل میں بیٹھے تھے۔۔۔۔افنان بندوق میں گولیاں بھررہاتھا۔۔
،،میں اس بار کوئی ہیلپ نہیں کروں گا انڈرسٹینڈ۔۔۔،،،آسام نے ان سب کی طرف اگلی کرکے بولا۔۔
،،ہربار ایسے بولتے ہوتم میری جان۔۔۔۔اور پھرترس آہی جاتاہے تم کوہم پہ۔۔۔اس بار بھی ایسا ہی ہوگااگر کوئی ٹیسٹ ہوا تو۔۔۔۔،،ایک لڑکے نے دوسرےلڑکے کے ہاتھ پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
،،یار چلو کچھ۔۔شکار ہی کرلیتے ہیں۔۔،،،افنان نے شرٹ کے بازو فولڈ کرتے ہوئے کہا۔۔۔سب اٹھ کھڑے ہوئے۔۔اورجھاڑیوں کی آڑ میں کھڑے ہو گئے
،،ششش۔۔۔کوئی جانور نزدیک ہی ہے۔۔۔آواز آرہی ہےنہ۔۔،،،افی نے ایکٹیو ہو کے بولا۔۔۔چھاڑیوں کے اڑھ میں ہوکے وہ دیکھنے لگےہرن کا بچا کھڑا گھاس کھارہاتھا۔
،،افی پلیز مت گولی چلانا۔۔۔معصوم سا بچاہے پلیز۔یار۔۔،آسام نے منت کی
،،سامی چپ کرو افی یار چلاؤ نہیں تو بھوکے رہ جائیں گے۔۔،،،ایک لڑکے نے سرگوشی کی افنان گولی چلانے لگا پر آسام نے بندوق کا منہ اپر کردیا گولی ہوا میں چل گی ۔۔اورسارے پرندے اڑگئے ہرن کا بچابھی بھاگ گیا۔۔
،،سامی یہ کیا کیاتم نے۔۔۔اتنی مشکل سے شکار ملتا ہے اور ہر بار تمہاری وجہ سےہاتھ سے نکل جاتاہے۔۔۔،،،افنان نے بندوق پھینک کے کہا۔۔۔جب بھی وہ لوگ شکار کرنےآتے تھے آسام گولی کسی جانور پہ چلنے نہیں دیتا تھا۔۔
،،افی یار کسی بے زبان کو مارنا بہت سخت گناہ ہے۔۔۔اور یار ان کو بھی درد ہوتا ہے مجھ سے بردشت نہیں ہوتا۔۔اسی لیئے تو بول رہاتھا مجھے ساتھ نہ لے کے آؤ۔۔،،،سامی نے افی کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے
کہا۔۔۔افی بندوق اٹھا کے جیپ کی طرف بڑھ گیاکیوں کہ اب کوئی جانور ملنے والاتوتھا نہیں ۔۔۔
،،،غصہ آگیا افی کو۔۔۔۔،،،لکی نے کہا۔۔
،،ہوجائے گاٹھیک چلو۔ہم بھی چلتے ہیں۔۔،،آسام کے ہاتھ پہ لکڑی لگ گئ تھی خون نکلا تھا تھوڑا سا جو اس نے لاپروئی سے دیکھا۔اور چل پڑھا۔۔افی جیپ میں بیٹھا اپنا فون اپرکرکے سگنل ڈھونڈرہا تھا۔۔۔
،،چلو چلتے ہیں اس نواب کوساتھ لانے کا نقصان ہی ہوتا ہے۔ساگر گن سمبھالو۔،،افنان نے بندوق ساگر کی طرف اچھالی اس نے پکڑ لی اور سب بیٹھ گئے گاڑی میں۔۔
،،ارے یہ کیا ہوا۔۔۔سامی تمہارے ہاتھ سےخون نکل رہاہے۔۔،،
،،کچھ نہیں یار ہلکی سی چوٹ ہے۔۔،،افنان اپنا بیگ کھولنے لگ گیا پھر ٹیوب ملنے پہ فرنٹ سیٹ سےاتر کےآسام کے سامنے آرکا۔۔۔
،،ہاتھ آگے کرو۔۔۔،،افی نے مصنوعی غوصے سے کہا آسام کواس کے غوصے میں بھی پیار لگا آسام نے ہاتھ آگے کردیااور مسکرا کے دیکھنے لگا۔۔۔
،،اچھا اب مان جاؤ نہ یار ۔۔،،افنان جانے لگا توآسام اس کے سامنےآگیا۔۔اور آسام نے اسے گلے لگا لیا۔۔
،،یارو مجھے بھوک لگی ہوئی ہے ہرن توسامی نےبھاگا دی نہ جانور پکڑتاہےنہ لڑکیاں۔،،لکی نےمنہ بنا کے کہا اس کی ایسی حالت پہ سب ہس دیئے۔
،،اچھا یہ بتاؤ تم کیاکیا لائے ہو۔۔۔افی۔۔،،،آسام نے سوچتے ہوئے پوچھا۔۔
،،جسٹ مسالےکولڈڈرینکس۔۔۔۔۔۔اور میں ٹماٹر مرچیں لانے سے رہا۔۔ہاہاہا۔،،افنان سیٹ پہ بیٹھتے ہوئے بولا۔
،،کولڈڈرنکس کتنی ہیں۔۔،
،،ٹو۔۔۔فور۔۔کو پلس کرو ،،افنان نے معصومیت سےانگلیاں دیکھاکےکہا۔۔
،،ہاہاہاہا اوکے سمجھ گیا۔۔
ساگر۔۔فرحان۔۔تم دونوں کچھ لکڑیاں جمع کرو۔۔،،
،،ارے یار اب جنگل میں لڑکیاں کہاں سے جمع کریں۔۔،،لکی نے کمنگی سے کہا۔۔
،،،کبھی کچھ اور بھی سوچ لیاکرو میرے بھائی۔۔۔،،آسام نے ماتھے پہ بل ڈال کے کہا۔۔
،،سامی اگر لڑکیاں ہوتی ۔۔۔۔۔
،،افی نے مزیدکچھ نہ کہا۔آسام نے اسے گھور کے دیکھا۔
،،افی سامان نکال کے دو۔۔،،آسام نے ان کی باتوں کو اگنور کرتے ہوئے کہا۔۔
،،،سنو سنو میرے پاس تین نوڈلزکے پیکٹس ہیں۔۔۔،،،جنید نے نوڈلزکے پیکٹس نکال کے لہرائے
،،گڈ۔۔اب پروبلم ہی حل ہوگئ۔۔،،آسام ہاتھ جھاڑکے بولا۔ساگراور لکی لکڑیاں اکٹھی کر چکے تھے۔۔ان کے پاس اسٹیل کا باؤل تھا جو کہ مصالہ مکس کرنے کی غرض سے رکھاتھا جنید نے۔۔
،،لائٹر ہے کسی کے پاس۔۔،،آسام نے احتیاط سے لکڑیاں جوڑتے ہوئے پوچھا۔
،،ہاں یہ لو سامی۔۔۔،،لکی نے لائٹر اس کی طرف اچھالا۔۔آسام آگ جلا دی اور سٹیل کے باؤل کو آگ پہ کرنے لگا تو پکڑنے کے لیئے کپڑا نہیں تھا اس نے اپنی شرٹ اتار کے ہاتھ پہ لپیٹ لی۔۔۔اب اس کاہاتھ محفوظ تھا۔۔
,,کیوباڈی بنائی ہوئی ہے میرے یار واہ واہ،،لکی نے کہا
۔افنان لوگ کھڑے ہوکے اس کو غور سے دیکھنے لگے۔وہ احتیات سے کام کر رہا تھا۔۔
،،سامی ۔۔بلکل سلجھی ہوئی لیڈی لگ رہے ہو۔۔ہاہاہا۔۔،،،آسام اب پانی میں نوڈلز ڈال رہا تھا۔۔۔
،،تمہاری وائف کی تو موجیں ہوں گی۔۔۔،،لکی نے رشک سے آسام کودیکھا
،،ہمارےشہزادے کو کیا آتا ہے بس کھانااور گرل فرینڈ گھومانا۔۔۔ہاہاہا،،،ساگر جوافی کے پاس کھڑا تھا اسے دیکھ کے بولا۔۔
،،،میں افنان رندھوا ہوں میرے لیئے کوئی کام مشکل نہیں ویسے بھی یہ عورتوں کے کام ہیں۔۔،،افی جیپ کی فرنٹ پہ لیٹ گیا۔۔
،،مسٹر افی رندھاوا صاحب اگرمجھے آج کوکنگ نہ آتی ہوتی تو تم لوگ بھوکے مرجاتے۔۔عورتوں کا کام ہےانہہ۔۔۔،،آسام نےاس کی نقل اتاری۔
،،تم کونہ آتی ہوتی تو کسی عورت کو لے آتے ساتھ۔۔ہاہاہا۔،،افی نے آنکھیں مندے ہی کہکہہ لگایا۔۔نوڈلز تیار ہو گے تھےاس نے ساگر کے گلے سے مفرل اتار کے نیچے نیچھادیا ۔۔
،،افی کولڈڈرینکس لے آؤ ۔۔۔،۔لکی نے کہا وہ سب بیچھے ہوئے کپڑے کے گرد بیٹھ گئے آسام بھی اپنی جگہ سے پتے اور چھوٹی موٹی لکڑیاں سائڈ پہ کرکے بیٹھ گیا
,,ہاتھوں سے ہی گزراکرنا پڑھے گا بوائز۔۔افی آجایار ۔۔،،آسام نے افی کوجیپ کے فرنٹ پہ لیٹے دیکھ کہا۔۔وہ اٹھ کے پیچھے گیا اور کولڈرینکس نکال لایا۔۔
،،سوری گائس میں یہاں نہیں بیٹھنے والا۔۔۔،،افی اپنی کولڈڈرینک کھولتے ہوئےبولا۔۔
،،افی یہ کیا بات ہوئی یار۔۔مل بیٹھ کے کھانے کا کتنا مزاح ہوتاہے ۔۔۔چلوآجاؤ۔۔،،،آسام نے اس سے التجاکی پروہ کہاں ماننے والا تھا وہ بھی افنان رندھاوا تھا
سب اٹھ کے اس کےپاس جاکھڑے ہوئے۔۔
،،ہاتھ سے کیسے کھاؤں۔۔۔،،افی نے معصومیت سے سوال کیا۔۔سامی نے نوڈلزکا شاپر اٹھایا اور اسے چمچ کی شکل دینےکی کوشش کی اور کوشش کامیاب ہوگئ۔۔
،،،کیا بات ہےفیوچر ڈاکٹر صاحب۔۔،،ساگر لوگوں نے تالی بجادی آسام مسکرادیا۔۔۔کھانےکے بعدوہ لوگ وہاں سے نکل گئے اندھیراپھیل گیاتھا۔۔
