Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 04)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 04)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
کچھ اس طرح سے تمہارا خیال رکھا ہے
تمہارے واسطے خود کو سنبھال رکھا ہے
یوں لگ رہا ہے کہ بارش میں دھوپ نکلی ہے
خوشی میں اس طرح تم نے ملال رکھا ہے
کچھ اس لیے بھی مرا حرف حرف روشن ہے
تمہاری سوچ نے دل کو اجال رکھا ہے
جو مجھ کو چھوڑ کے تقسیم ہو گیا سب میں
اسی کے واسطے خود کو سنبھال رکھا ہے
خود اپنے آپ میں رہنا اُسے قبول نہیں
مجھے بھی ذات سے باہر نکال رکھا ہے
ماشی بیگ پیک کر کے اپر پرندوں کے پاس چلی گئی تھی اور عاشی اپنا سامان پیک کر رہی تھی اس کا سارا سامان ناولزہی تو تھا۔۔۔
,,انہہ۔۔۔گھس جا ۔۔تم کو پڑھنا ابھی باقی ہےمیرے جگر۔،،عاشی ناول کو اپنے بیگ میں میں ڈالتے ہوئے اس سے بات کر رہی تھی
,,سارا بیگ تو تم نے ان سے بھر لیا ہےکپڑے اور یہ کہاں رکھو گی۔،
،،مامایہ مجھے دیں۔۔،وہ ان کے ہاتھوں سے کپڑے پکڑتے ہوئے بولی۔۔
,,بیٹا اپنا خیال رکھناانجان سیٹی میں جا رہی ہو۔،،
,,موم موم۔۔میں پڑھنے جا رہی ہوں جنگ لڑنے نہیں جارہی۔۔ہاہاہا،،وہ اپنی ماں کے گلے لگ گئی۔
,,ماشی کہاں ہے۔۔,,
,,وہ اپنے سٹیف کے پاس ہو گی۔جاجورہی ہے۔۔،،عشرت نے ہس کے کہا۔ اس کی ماں چلی گئی وہ پھر سے ناولوں کو بیگ میں دھکیلنے لگ گئی۔۔
,,سٹیف میں جارہی ہوں اپنا خیال رکھنا میرا انتظار کرنا۔۔اور اگر تمہارے پر آجائیں تو اڑ جانا ۔۔،،اس نے سٹیف کو کہا سٹیف چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے ماشی کو دیکھنے لگا۔
,,ماشو بہت پیاری لگ رہی لگ رہی۔۔،،سٹیف نے شور مچانا شروع کر دیا ماشی کے چہرے پہ مسکراہٹ نمودار ہو گئی۔
,, شرارتی سٹیف۔۔،،وہ سٹیف کےسر پر ہاتھ پھیرتےہوئے بولی۔
,,ماشو اللہ حافظ۔۔،،وہ سٹیف کوپنجرےپہ بیٹھاکے مڑی تو وہ اڑ کے اس کے کاندھے پہ بیٹھ گیا ماشی کی آنکھوں میں آنسوں جاری ہوگئے۔۔
,, سٹیف میں تمہیں مس کروں گی۔،،
,, میں بھی میں بھی۔ ،،سٹیف اپنی چونچ ماشی کی گال پہ رکھتے ہوئے بولا۔۔ماشی نے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا اور اس کو پھر سے پنجرےپہ بٹھا دیا۔۔۔اور نم آنکھوں کے ساتھ سیڑھیاں اترنے لگی۔۔
,, ماشی رو کیوں رہی ہو تم کو ہم زبردستی تو یونیورسٹی نہیں چھوڑ رہے
نہیں جانا چاہتی تو نہ جاؤ نہ پڑھو ہمیں کیا اپنے لیۓ پڑھنا ہے ہمارے لئے تو نہیں۔۔،،فہد نے اس کی موٹی موٹی آنکھیوں میں آنسوں دیکھ کے خوفگی سےکہا۔۔اسے پتا تھاماشی کو اپنی پڑھائی بہت پیاری ہے۔اس کے ڈر سے چپ ہو جائے گی ویسا ہی ہوا۔
,, آسٹریلین بلے میں سٹیف کے بارے میں سوچ کے پریشان ہوں تم اس کا خیال رکھو گے نہ۔۔۔،،ماشی نےفہد کو دیکھا
,, ,ہاں میری سٹروم کزن۔،،فہد نے ماشی کے سر پہ تھپکی رسید کرتے ہوئے کہا
,, تھینک یو بھائی۔۔،،ماشی آنسوں صاف کرتے ہوئے مسکرا کر بولی
,, آسٹریلین بلے ہماری دوشمنی وہاں ہی ہے۔یہ مت سمجھنا تم میرے سٹیف کا خیال رکھو گے تومیں سب بھولا دوں گی۔۔،،،ماشی اسے آنکھیں دیکھاتے ہوئے بولی
,, ہاہاہا۔۔لڑکی اب جاتے ہوئے تو معاف کر دو ۔بھائی کی تھوڑی بہت لاج تو رکھو۔،،فہد سیڑھی پر بیٹھتے ہوئےمسکرا کر بولا
,,کون بھائی۔۔،،ماشی نے ہسی دبا کر کہا۔۔
,,ہائے میں مر جاؤں۔۔یہاں تو لوگ رشتے بھی بھول جاتے ہیں۔۔،،فہد معصوم سی شکل بنا کر بولا جس پہ دونوں بے اختیار ہس دیئے
,,ماشو۔۔اپنااور عشرت کا خیال رکھنا۔انجان شہر ہے انجان لوگ ہوں گے ویسے تم خود سمجھ دارہوپرہر بھائی کا فرض ہوتا ہے نصحت کرنا۔۔،،وہ دونوں سیڑھیوں سے اٹھ کرچل دیئے ماشی کی پائل کی آواز بھی ساتھ ساتھ چل رہی تھی
,,اوکےبھائی آسٹریلین بلےہاہاہا۔۔،،ماشی اسے چڑھا کر بھاگ گئ
,,لویہ دونوں تو ایک دوسرے کو بہن بھائی بنا چکے ہیں۔۔,،چاچی اور پھوپھو جو چھپ کر ان کی باتیں سن رہی تھی ان کے مطلب کی کوئی بات نہیں ہوئی بلکہ کچھ اور ہی ہوگیا۔
,,تو کیا ہوا سگے بہن بھائی تو نہیں ہیں نہ۔۔،،فہد کی ماں بیڈ پہ بیٹھ کےبولی۔
,,اور اگر فہد نہ مانا تو،،چاچی نے پوچھا
,,تو کیا وہ جیسے پسند کرے گا وہاں کردیں گے بس کوئی گوری نہ پسند کرکے لے آئے۔۔،،پھوپھو پانی کا گلاس منہ سے لگاتے ہوئے بولی۔۔
______________********-______________
,, صبح صبح کیوں اٹھانے آجاتے ہو۔۔۔،،افنان کو آج پھر ملازم نے جگایاتو وہ بھڑک پڑھا۔
,, چھوٹے ص۔۔صاحب۔۔وہ۔۔وہ۔،،ملازم کانپ رہا تھا۔۔
,,افی آج یونی جانا ہے چلو اٹھ جاؤ کچھ پڑھ لو۔۔،،
,,کم اون سامی۔۔۔بھول گئے ہو کہ۔۔۔،،
اس سے پہلے کہ افنان کچھ کہتااس سے پہلے آسام بول پڑھا۔
,,ہاں ہاں پتاہے آپ افنان صاحب رندھاوا ہو۔۔آپ کے راستے میں کوئی نہیں آسکتا۔۔پرمائی بوائے پڑھائی بہت ضروری ہے۔۔،،وہ افنان کو کھینچ کے بٹھاتے ہوئے بولا ملازم مؤدبانہ کھڑا تھا
,,چاچا آپ جائیں۔،،آسام نے آدب سے کہا۔
,,کتنا فرق ہے دونوں بھائیوں میں ایک حدسے زیادہ بدتمیز اور ایک آسام ہے کتنا سلجھا ہوا نیک
اللہ اسے ہزاروں خوشیاں دے آمین،،ملازم باہر نکلتے ہوئے آسام کو دعائیں دیتا گیا۔۔
,,سامی نہیا انوشکا اور ونیت کو بھی پیک کرناہے۔وہ بھی اسی یونی میں ایڈمیشن لےرہی ہیں ہم اب ایک یونی میں پھرسے۔۔ ۔یاہو۔۔۔۔،،افنان نے خوشی کا نعرہ لگایا۔۔اوراپنے پسندیدہ سنگر کا سونگ پلے کر دیاآسام جو اس کو پڑھانے کی غرض سے آیا تھااسے جھومتے دیکھ اپنی کتابیں سنبھال کر اٹھ گیااور گیسٹ ہاؤس کی طرف چلاگیا
,, میں اندر آسکتا ہوں۔۔،،وہ دروازے پہ دستک دےکےبولا۔
,, آجاؤ یار۔۔۔۔،،علی سیدھا ہو کے بیٹھ گیا۔
,,کیسے ہیں بھائی۔۔،,نیلم اپنے کپڑے وارڈروب میں رکھتےہوئے بولی
,,ٹھیک ہوں بہنا۔آپ کی طبعیت کیسی ہے۔،،آسام نےنرم سے لہجے میں بولا۔۔
,, ٹھیک ہوں ۔۔بھائی ایک بات کرنی تھی۔۔،،نیلم نے علی کی طرف دیکھا اس نے نفی میں سر ہلا دیا
,,آپ اسے نہ دیکھیں جو بات کرنی ہے فٹ سے بول دیں۔۔،،آسام نےمسکراہٹ چہرے پہ سجاکر کہا
,, کیا آپ علی کو کہیں جوپ دلوا سکتے ہیں۔۔۔،،نیلم جھجکتے ہوئے بولی
,,بس یہ بات تھی۔۔۔بھائی کو منیجر کی ضرورت ہے۔۔میں ابھی بات کرتا ہوں،،آسام اپنافون نکالتے ہوئے بولا
,, آسام مجھے کچھ نہیں۔۔
آتایار مجھے پتاہی نہیں۔۔۔تو کیسے کروں گا۔۔,،علی نے گھبرا کے کہا۔
,,وہ میری پروبلم ہے اب چپ کرو،،آسام نے اپنے بھائی کو کال ملائی اور لاؤڈ سپکرپہ ڈال دیا
,, اسلام علیکم بھائی۔۔کیسے ہیں۔۔علاقہ میں ہیں یا فیکٹری,,
,,سامی ابھی تو گھرہی ہوں۔۔۔۔تم اپر آجاتے ۔۔عجیب لڑکے ہو۔یار۔،،بھائی نے کہکہا لگادیا۔
,, ہاہاہاہا بھائی آپ سے ایک کام تھا آپ کو منیجر کی ضرورت تو ہے نہ ۔۔کیوں کہ میرے پاس ایک ایسا آدمی ہے جو بھروسہ مند ہے۔۔،،
,،گریٹ کون ہے وہ ۔۔،،
،,, بھائی علی میرا دوست جس کو پارٹی میں ملایا تھا آپ سے اسے جوب کی ضرورت ہے۔۔اچھا لڑکا ہے میرا فرینڈ بھی ہے اور آپ کو بھی بھروسہ مند انسان ہی چاہے تھا۔۔،،
,,یہ تو اور بھی ٹھیک ہے
ہی از گڈ پرسن میں نیچے جاکے ملوں گا اس سے۔۔۔،،
,, بھائی آپ اس سے بات کر لیں میرے پاس ہی ہے۔۔،،آسام نے علی کو دیکھا وہ ہقابقا بیٹھا تھا
,,علی میاں آج سے مجھے جوائین کر لیں جاتے ہوئے میں آپ کو ساتھ لے جاؤں گا۔۔،،،بھائی نے سلام کرکے سیدھا پوائنٹ پہ آگیا
,,پر بھائی آئی مین سر مجھے کچھ نہیں آتا۔۔،،علی نے ندامت پھرے لہجے میں کہا
,,تو کیا ہوا سیکھ جاؤگے سب اپر سے نہیں سیکھ کے آتے زمین پر ہی سب سیکھتے ہیں۔ اور ہاں مجھے بھائی ہی بولنا سر نہیں آسام کے دوست تو ہمارے بھی دوست ہوآج سے میرے ساتھ ہی چلنا۔۔،،علی اور نیلم حیرانگی کی کیفیت میں بیٹھے ہوئے تھے
,, مبارک ہو منیجر صاحب۔،،اآسام نےعلی کو گلے لگا کر کہا
,, مجھے سمجھ نہیں آ رہی میں کن لفظوں میں تمہارا شکریہ ادا کروں بھائی۔۔۔،،علی کی آنکھوں میں آنسوں تر آئے
,, بھائی بھی بولتے ہو اور بات بات پہ پرایا کر دیتے ہو۔۔اٹس نوٹ فیئر۔۔۔،،آسام نے انگلی نفی میں ہلا کر کہا توعلی اور نیلم ہس دیئے
,,اچھا اب میں چلتا ہوں کل ایڈمیشن کروانے جانا ہے تیاری کرلوں اللہ حافظ۔۔،, آسام مسکراتا
دروازا عبور کر گیا
,,سچ میں علی یہ گھر فرشتوں سے بھرا ہوا ہےآسام تو ہمارے لئے فرشتہ بن کے آیا ہے اللہ اسے ہرقدم پہ ہزاروں کامیابیاں اور عزت دے۔۔آمین،،نیلم آسام کی پیٹھ دیکھ کے بولی۔
,, ہاں نیلم واقع ہی بہت اچھا لڑکا ہے۔۔،،علی نے بھی رشک سے کہا
آسام وہ جو کبھی اپنے بارے میں نہیں سوچتا تھا سب سے احترام اور مہربان سلوک کرتا تھا۔۔اور علی اور نیلم کے لیے جو اس نے کیا تھااس وجہ سے وہ ان دونوں کے دل میں گھر کر گیا تھا
___________*******_________
,,جی ماموں جان۔۔ہم بس پہنچنے والے ہیں ،،وہ لوگ اسلام آباد سے کچھ فاصلے پہ پٹرول پمپ پہ رکے تھے۔توماشی کے ابو کی کال آ گئ تھی۔۔
,,ماشی اٹھ جاؤ ۔۔۔سوایسے رہی ہو جیسے اپنے بیڈ پہ سورہی ہو۔۔۔،،عشرت اسے کے کاندھےکوہلاتے ہوئے بولی تو ماشی نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھلی دی۔
,,کب تک پہنچ جائیں گے۔۔،،ماشی آنکھیں ملتے ہوئے بولی۔۔
,, بس کچھ کیلومیٹر اور ویسے تم کوکیا فرق پڑھتا ہے تم سوتی رہو۔۔شاباش۔،،فہد ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہوئے بولا۔
, آسٹریلین بلے زیادہ میاؤں میاؤں نہ کرو،،ماشی اٹھتے ہی بولنے لگی تھی۔۔
,, ہاہاہاہا اپنے سے بڑے کی عزت کرتے ہیں میری بچی۔۔۔،،اس نے کسی بڑے بوڑھے کی طرح کہاجس پہ معروش اور عشرت کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی ہس دیا۔
,,،،ماشو میں بہت ایکسائٹڈ ہوں فائنلی ہم آج یونی جارہی ہیں۔۔،،عشرت گاڑی میں کودنے لگی فہد نے بیک مررسے ان کو دیکھا
,,مس سٹروم۔۔تم کیوں پریشان ہو خوش نہیں ہو۔تمہارے ڈریمز پورے ہونے کوہیں۔۔۔،فہد نے روڈ پہ دیکھتے ہوئے کہا
,,نہیں ۔۔خوش ہوں پرسٹیف نمرہ شان۔۔،،ان تینوں کا نام لیتے ہی ماشی کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسوں گرنے لگے۔فہد اور عشرت اسے حیران ہوکے دیکھنے لگ گئے ماشی بہت مضبوط تھی کبھی کسی کے سامنے روئی نہیں تھی پرآج وہ اپنے آنسوں روک نہیں سکتی تھی۔۔سٹیف نمرہ شان بہت
پیارے تھےاسے ملک ہاؤس کی ہر چیز سے اس کو محبت تھی پہلی دفعہ وہ جارہی تھی کہیں۔
,,ارے پاگلوں کی طرح کیوں رو رہی ہو۔۔میری جان۔۔چار سال کی تو بات ہے۔۔،،عشرت نے اسے گلے لگا کے کہا۔۔تووہ چپ ہو گئ۔۔کیونکہ پڑھنا بھی اسی کا جنون تھا اگر وہ تھوڑا سا اور روتی تو فہد گاڑی واپس مڑ لیتا اسی لیئے اس نے چپ رہنے پہ ہی اپنا بھلا سمجھا۔۔چار سال کم نہیں تھے۔وہ کہنا چاہتی تھی پر نہیں کہ سکی
______*******_____******_____
,,گائس۔۔ہم یونی میں جونیئر ہوں گے سینیرز ہماری بینڈ بجائیں گے۔۔،،لکی نے مکا بنا کرکہا
,, تم شائد بھول گئے ہو کہ افنان رندھاوا کے دوست ہیں ہم وہ افی جواچھے خاصے لوگوں کی بینڈ بجا دیتا ہے اور سینیرز تو ہمارے ہیرو کی انٹری اور پرسنیلٹی دیکھ کے ہی ڈر جانے والے ہیں،،ونیت نے فخر سے کہااور افنان کو دیکھنے لگی
افنان ڈرائیونگ کررہاتھاآج اس نے جینز پہ بیلو شرٹ پہن رکھی تھی براؤن آنکھوں کوسن گلاسز نے چھپا رکھا تھا۔۔ اور براؤن سیلکی بال ماتھے پہ گرے ہوئے تھے جو اس نےخود گرائے تھے ۔۔لینڈ کلاؤزر میں بیٹھا وہ واقع ہی گھمنڈی اور خوبصورت تووہ تھاہی پرآج وہ معلوم سے زیادہ سپیشل لگ رہاتھاتبھی تینوں لڑکیاں اس سے نظریں نہیں ہٹارہی تھی۔۔
اور وہ ان کی یہ حرکت خوب انجوائے کر رہاتھا۔۔ اس کے فرینڈزہی ساتھ تھے آسام کی جگہ نہیں تھی وہ اپنی گاڑی پہ آرہاتھا۔۔اگر ہوتی بھی تو وہ ان کے ساتھ نہ بیٹھتا کیوں کہ انوشکا لوگ بھی تھی ساتھ وہ ان سے ہمشہ دور ہی رہتا تھا۔۔
,,ہیرو یونی میں نئی گرل فرینڈز بنا لوگے اور ہمیں بھول جاؤگے۔۔،،نہیا نے منہ بسور کر کہا۔۔
,,تم تینوں اس کی گرل فرینڈز ہو۔۔۔کمال ہے یار ہمیں تو ایک نہیں ملتی ۔۔،،ساگر اپنارونا لے کے بیٹھ گیا۔
,,کچھ خاص ہے تجھ میں ساگر ۔۔ہمارا شہزادا تو سرسے پاؤں تک قیامت ہی قیامت ہے۔۔،،انوشکا نے گہری نظروں سے افی کو دیکھا افنان کے چہرے پہ جان دار سمائل آگئ۔
,, گرلز فکرنوٹ ہم سب ایک گروپ میں ہیں باقی سب چلتا رہے گا۔۔،،افنان نے منی خیز کہکہکا لگاکرکہا
______________*********______,____
فہد گاڑی گھمارہا تھا پر راستے پہ جیپ کھڑی تھی اس نے مشکل سے گاڑی سمبھالی پر گاڑی جیپ سے تھوڑا سا ٹکرا گئی
,,اے یو مین۔۔سٹوپ ۔۔،،وہ جیپ سے چھلانگ لگا کر نیچے اترا اور آواز لگائی گاڑی پہلے ہی رک چکی تھی۔۔فہد گاڑی سے نکل کر اس کے سامنے آکھڑا ہوا
,,ایم سوری پر غلطی آپ کی ہے جیپ ایک سائیڈ پہ۔۔،،فہد کچھ اور بولتا اس نے فہد پہ مکوں تھپڑوں کی برسات کردی۔۔وہ اس حملے کے لئے تیار نہیں تھا لڑکھڑا کر گر گیا۔۔
,,ڈس کسٹنگ مین دو کوڑی کی گاڑی کے لیئے میں اپنی جیپ سائیڈ پر کرتا۔۔،،وہ فہد کے گریبان سے پکڑ کے دانت پیس کر بولا۔۔
,, دیکھیں ہاتھ میں بھی چلا سکتا ہوں پر۔۔،،فہد کچھ کہتا اس سے پہلے اس کے منہ پہ زور دار مکا لگااور پھر مکوں کی برسات ہو گئ وہ نڈھال ہو گیا تھا
،,افنان ۔۔۔۔۔ک۔۔کیا کررہے ہو چھوڑو اسے۔۔۔۔،،آسام اسی وقت آیا تھا
گاڑی سے بھاگ کر اس تک گیا۔۔
,,ساگر پکڑو اسے ۔۔۔افنان چھوڑو۔۔،،وہ بامشکل افنان کی گرفت ڈھیلی کرپایاتھا اتنے میں سٹوڈنٹس جو جمع ہوئے تھے جانے لگ گئے
آسام نےلکی کے ساتھ مل کے فہد کو گاڑی میں ڈالا۔۔ساگرافنان کو جیپ میں لے گیاتھا تینوں لڑکیاں اس کے گرد ہوگئی اس کو پانی پلانے لگی ۔۔نہیانے برش نکال کر دیا اس نے اپنے بال ٹھیک کیئے۔۔اور انوشکا نے رومال دیا افی پسینہ صاف کر کے بیٹھ گیا
,,گائس چلو اگر کوئی ٹیچر آگیا تو پھس جائیں گے چلو افی۔۔،،ساگرنے افنان کو کھینچ کر کہا
آسام فہد کو پٹی کر رہا تھا میڈیسن بوکس وہ ہمشہ اپنے پاس رکھتا تھا۔فہد کے ہونٹ سے خون نکل رہا تھا اور ماتھے سے۔بھی نکل رہاتھا
آسام نے اسے پٹی کی پانی پلایا کچھ دیر بعد اس کا سانس بحال ہوا۔
,,ایم سوری میرے بھائی کی غلطی کی وجہ سے میں بہت شرمندہ ہوں پلیز معاف کر دیجیے گا۔۔،،آسام نےسر جھکا کر ندامت پھرے انداز میں کہا۔
فہد پہلے اسے دیکھتا رہا پھرنرم لہجے میں بول دیا
,,اٹس وکے ۔۔۔،،فہد گاڑی سے باہر نکل آ یا
,,یہاں رش کیوں تھا،،،ماشی اور عشرت جویونی جانے کے لئے آئی تھی رش دیکھ کے مڑگئ تھی۔۔وہ ساتھ اپنے ہوسٹل واپس چلی گئی تھی انہوں نے نہ فہد کو مار کھاتے دیکھا نہ افنان کومارتے دیکھاتھا
,,ف۔۔ف۔فہد۔۔۔۔,, ماشی کے ہاتھ سے کتابیں گر گئ اور وہ اس کی سمت بھاگی وہ لڑکھڑا کر چل رہا تھا ۔۔عشرت بھی دیکھ کے دنگ رہ گئی۔۔
,,ی۔۔یہ کیا ہوا ف۔۔فہد۔۔،ماشی اس کے پاس جاکھڑی ہمشہ وہ اور فہد آپس میں لڑتے رہتے تھے پرتھا تواس کا کزن خون کو کچھ ہو تو روح تو تڑپے گی
وہاں اس کے علاوہ کوئی تھاتوگاڑی میں بیٹھاآسام۔۔
,, آسٹریلین بلے کسی جنگلی جانور کے ہاتھ لگ گئے تھے کیا۔۔،ماشی نے اپنی سانس بحال کر کےاس کے ماتھے پہ باندھی پٹی پہ ہاتھ لگایا تووہ کرہا کر رہ گیا۔۔
,,مس سٹروم کچھ نہیں ہوا مجھے ہلکی سی چوٹ ہےاب تم لوگ جاؤ ۔۔,, فہد نے ماشی کے سر پہ تھپکی رسید کر کے کہا
,,ویسے فہد یہ چوٹ کیسے لگی۔۔ت۔تم تو واپس جارہے تھے نہ۔۔۔،،،عشرت ابھی بھی کانپ رہی تھی
,, چھوڑو اس بات کو اب تم لوگ جاؤ شاباش اپنا خیال رکھنا کسی کے منہ نہیں لگنا ۔۔ماشی سمجھدار ہو تم عشرت کا بھی خیال رکھنا۔۔،،فہد باری باری دونوں سے ملااور چلاگیا۔۔
،,میڈم اگر تکلیف نہ ہو تو اب اپنی کتابیں اٹھا لو۔۔ویسے تم نے سین تو فلموں والا کیا۔۔ہیرو کو چوٹ لگی اور ہیروئن بھاگی۔۔،،عاشی نے ہس کے اس کا مزاق اڑایاماشی نے اس کو غصے سے گھورا۔۔
,,کزن ہے اپنا اور اگر اسے کچھ ہو گیا تو پھوپھو۔۔،،ماشی کے ذہین میں وہ واقع آگیا جب فہد دیر تک باہر درہاتھااور پھوپھو نے رو رو کر اپنا حال برا کر لیا تھا.
,,ماشی ہم لیٹ ہوگئ۔۔،،عشرت نے چلتے ہوئے کہا۔۔ماشی اپنی بڑی سی چادر کو سنبھال رہی تھی ۔۔
,,نہیں یار گھبرا نہیں ریسیپشن چلتے ہیں۔۔۔،،وہ کوریڈور میں چلاتے ہوئے بولی ۔۔
ماشی کے ہاتھ کانپ رہے تھے وہ اس کپکپاہٹ کوچھپانے کے لیئے چادر ہاتھوں پر کیئے ہوئے تھی۔ڈرتی تو وہ کسی سے نہیں تھی بس وہ جس ماحول میں تھی اس سے گھبرا رہی تھی۔وہ بے دھیانی سے چلتی جارہی تھی کہ سامنے آتی انوشکا سے زور کی ٹکر ہو گئ اس کی
,, اندھی ہو کیا۔دیکھ کے نہیں چل سکتی پتا نہیں کہاں سے منہ اٹھا۔۔۔کے آگئ ہو۔۔،،
,,انوشکا کسی گاؤں کی لگتی ہے دیکھو ڈریسنگ کیسی ہےاس کی۔۔،،ونیت ماشی کا جائزہ لے کر بولی۔۔ماشی نے شلوار قمیض کے اپر بڑی سی چادر اوڑھ رکھی تھی جس میں وہ ساری چھپی ہوئی تھی۔۔
,,ایکسکیوزمی ذرا زبان سنبھال کر بولو۔۔،،عشرت انگلی اٹھا کر بولی۔
,, عشرت چلو۔۔۔،،ماشی اسے پکڑ کر لے گئ ۔
,,تم نے کیوں نہیں ان کو سنائی تم ہی کہتی تھی نہ کہ لوگ پینٹ شرٹز پہننے پہ باتیں کریں گے۔۔پراب وہ تین چوڑیلیں اتنی باتیں سنا کے گئ ہیں ۔۔ان کا کیا۔۔،،
,, عشرت ہم یہاں پڑھنے آئی ہیں ۔۔کسی سے لڑنے نہیں۔۔،،
,,پر ماشی یہ بھی ساتھ ساتھ لے کے چلنا پڑھے گا تم حد سے زیادہ اچھی اور یہ سوسائٹی ایسے لوگوں کی قدر کرتی ہے جو اکڑ کر چلیں۔,,عشرت تپ کر بولی
,,یہ زمین کس کی ہے اللہ کی۔۔اور ہم کیوں اکڑ کر چلیں ہم اس کی بنائی ہوئی مخلوق ہیں ہمارا اپنا کچھ نہیں بس اس زمین نے ہمیں دوگز کا ٹکرا دینا ہے تواسی پہ ہم کیوں اکڑ کر چلیں ہم نے ایک دن مر جانا ہے اسی زمین کے اندر جانا ہے پھر کیوں اکڑ کر چلیں بولو عشرت ۔،،ماشی کی لمبی چوڑی تقریر سن کے عشرت چکرا گئ
,,تم روکو میں آتی ہوں ،،عشرت جلدی سے اس کی مخالف سمت چلی گئ
,, بہت سے لڑکے لڑکیاں اس کے پاس سے گزر کر گئے جو اس کے چہرے پر نظر ڈالتا پلک جھپکنا بھول جاتا
,,یہ کام والی آنٹی ہو گی یونی کی۔اس سے پوچھتے ہیں۔۔،،افنان اور اس کے دوست کوریڈور سے اس کے پاس آ کر بولے ماشی نے ایک نظر ان پہ ڈالی اور پھر ان کی مخالف سمت قدم بڑھا دیئےافنان نے اسے دیکھا نہیں اور کاندھے اچکا کے چلا گیا۔
,,ہائے سویٹ ہارٹ۔۔کہاں تھے تم کب سے ڈھونڈ رہی تھی تم کو میں۔۔،،انوشکاافنان کو دیکھتےہی بولی۔۔
,,ہم لوگ یونی چک کررہے تھے ابھی کوئی مچھلی نہیں پھنسی۔۔،،ساگر نےلکی کے ساتھ ہاتھ ملا کرکہا۔۔
,, ہم نے ابھی ابھی ایک لڑکی کی اچھی خاصی کی ہے مزا ہی آگیا۔۔ہاہاہا،،انوشکا نے کہکہا لگا کر کہا
,,وہ دیکھو گائس مچھلی۔۔۔،،لکی نے ایک طرف اشارہ کر کے کہا۔۔
,,ارے یہ تو وہ ہی ہیے جو ہمارے ساتھ ٹکراگئی تھی چلو تھوڑا سا تنگ کرتے ہیں۔۔۔،،وہ سب اس کی طرف چل پڑھے
,,ہائے۔۔اولڈیج۔۔۔یہ لنڈے کی چادر ہے کیا۔۔۔،،انوشکا نے چادر کاپلو پکڑکرکہا۔۔ماشی نے غصے سے اسے دیکھا
,, نہیں یار تنگ نہ کرو آپی کو۔۔غصہ کرجائیں گی۔۔ہاہاہا،،جنید نےکہا
,,افی میں کیسی لگ رہی ہوں اور میری ڈریسنگ کیسی ہے۔۔۔،،انوشکا نے افنان کے کندھے پہ بازو رکھ کر کہا
,, بہت بیوٹیفل بے بی۔۔،،افی نے کہا ماشی جانے لگی پر ونیت نے اسے روک لیا۔
,,اور یہ کیسی لگ رہی ہے۔۔اولڈیج اگر ہمارے ہیرو نے تم کو سلیکٹ کر لیا تو تم کو چھوڑ دیں گے ۔،،انوشکا کی اس بات پہ اس نے اپنی آنکھیوں میں غصہ بھر کے اس کی طرف دیکھا۔۔
,, عزت برینڈز اور ان تمہاری دوکوڑی کی جینزسے مہنگی ہے۔میں تم کو کیوں بتاؤں کہ میں نے یہ چادر کہاں سے لی پر جہاں سے بھی لی ہے اپنے سراپے کو چھپانے کے لیئے لی ہےتم لوگوں کی طرح میں اپنے تن کی نمائش نہیں کروا رہی۔۔اور تم لوگ ہوتے کون ہومجھے روکنے والے اور ہیرو کون یہ ۔۔،،وہ یک دم پھٹ پڑھی تھی اس کی آنکھوں میں بھی غصہ تھا ایک نظر افنان پہ ڈال کر وہ پھر بولی,,شکل دیکھی ہے کبھی اپنی ۔۔انہہہ آئندہ مجھے روکنے کی کوشش بھی کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو انڈرسٹینڈ،،،ماشی نے انگلی دیکھا کرکہا اور چلی گئ۔۔ونیت روکنے لگی پر افنان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
,, بعد میں اس کو پوچھیں گے چلو اب،،
افنان نےایک نظر جاتی ہوئی ماشی پہ ڈالی اور چلے گئے
“واہ واہ کمال کردیا ملکوں کی رانی کو سیلوٹ۔۔،،عشرت وہ سب دیکھ چکی تھی ۔۔عشرت کے علاوہ آسام بھی دیکھ چکا تھا
,,چلو کسی نے تو ان لوگوں کی بولتی بند کی۔۔،،آسام کوریڈور میں کھڑا مسکرا دیاتھا
,, ہاہاہاہا چلو اب تو تم خوش ہو نہ۔۔،،
,,ویسےماشی وہ لڑکابہت ہوٹ تھانہ۔۔۔،،عشرت نے کہا
,,کون سا لڑکا۔۔،،ماشی نے غصے سے اسے دیکھ کر کہا۔
,,جس سے ابھی لڑائی کر کے آئی ہو تم۔۔،،
عشرت نے أنکھ مارتے ہوئے کہا۔۔ماشی نے اس کے کاندھے پہ فائل دے ماری۔بے دھیانی میں وہ چل رہی تھی کہ پاؤں انچی نیچی جگہ پہ آگیا۔۔
,, سنبھال کر۔۔،،آسام سامنے سے آرہا تھااسے گرتے دیکھ بول پڑھا۔۔ماشی نے عشرت کا ہاتھ پکڑلیا تھااور ایک نظر اس پہ ڈال کر پھر سے نظر جھکالی۔۔
,،اففف ایک اور ہینڈسم نوجوان۔۔ماشی دیکھ تو یار۔۔،،آسام ان کی سمت میں ہی آرہا تھا جب ماشی گرنےلگی توآسام سے نہ رہاگیا تو بے اختیار بول گیا۔۔
,, میں تو ہیلو ہائے کرنے لگی ہوں اس سے۔۔،،عشرت جانے لگی پر ماشی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔
,, آسٹریلین بلے نے کیا کہاتھا،،اس نے سرگوشی کی ۔۔
,,پر یہ شریف سا لگ رہا ہے ویسے بھی تمہیں گرنے سے بچایاہے۔۔،،
,,تم ٹائم پاس مت کرو آفس چلتے ہیں۔۔،،ماشی اسے ہاتھ سے پکڑ کر کھینچا
,,ہائے۔۔کیسے ہیں آپ میں عشرت اور۔۔یہ میری کزن ماشی آئی مین معروش آپ کی تعریف۔۔،،ماشی کے لا کھ منا کرنے کے باوجود جب آسام ان کے پاس سے گزرنے لگا تو عشرت نے اسے روک لیا
وہ اپنے معمول کے سٹائل میں تھا شرٹ کے بازو فولڈ کیئے ہوئے تھے۔۔اور ایک ہاتھ میں کتاب اور پیپرز پکڑ کر کھڑا تھا
,,میں آسام۔۔،،اس نے مختصر تعارف کروایا
,, عشرت چلو۔۔،،ماشی عشرت کو گھسٹے ہوئے لے گی۔۔اور آسام بھی ان کی مخالف سمت میں چلاگیا۔۔عشرت نے مڑ کر آسام کی پیٹھ کو دیکھا
ایڈمیشن کے بعد وہ لوگ اپنے ہوسٹل چلی گئی تھیں۔عشرت سو گئ تھی ماشی سٹیڈی کرنے بیٹھ گئ۔۔کیوں کہ وہ سونے نہیں پڑھنے آئی تھی۔آج کا دن اس کے حساب سے ٹھیک نہیں رہاتھا
____________***********_________
ماشی بیڈ پہ لیٹی تھی بالوں کو کھلا چھوڑا ہوا تھا آنکھوں میں اداسی تھی۔۔اسے سٹیف کی باتیں یاد آرہی تھی فہد کی لڑائی شان کی ایکٹنگ ماں چاچی پھوپھو کا پیار۔۔
,,ماشی ابھی ہم باہر جا رہی ہیں ریڈی ہو جاؤ۔۔،،عشرت اور ان کی روم میٹ مہک اور کومل تیار ہورہی تھی
,,عشرت ٹائم دیکھا ہے تم نے۔۔۔اس ٹائم باہر کون جاتا ہے۔۔،،ماشی نے خوفگی سے کہا۔
,,ماش۔۔اس شہر میں اس ٹائم ہی شوپنگ کی جاتی ہے۔۔،،کومل نے کہا مہک اور کومل سے ان کی اچھی دوستی ہو چکی تھی۔۔بلکہ وہ دونوں ماشی پہ فدا ہو چکی تھی
,,بس تم اٹھو اور ریڈی ہو جاؤ۔۔اور پلیز یہ بڑی سی چادر مت لے لینا ۔۔آج تمہاری وجہ سے وہ لڑکیاں ہمیں کتنا سنا گئی تھی ۔۔،،عشرت نے اس کو یاد دلایا پر وہ چپ چاپ اٹھی اور ریڈی ہو گئ چادر بھی لےلی وہ لاکھ بار منع کرتی رہی پرماشی نے ان کی ایک نہ سنی۔۔
اپنی عزت اور خود کوچھوپانہ وہ باخوبی جانتی تھی۔۔اپنا سراپہ دیکھاکروہ چند تعریفیں اکٹھی کرنا نہیں چاہتی تھی وہ آخرت اور دنیا میں بلند مقام چاہتی تھی
وہ خوبصورت تھی پر وہ کسی پہ اپنی خوبصورتی ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی لوگوں کی لالچ اور گندی نظروں سے خود کو محفوظ رکھنا چاہتی تھی۔
_____________*****___________
وہ لوگ مارکیٹ پہنچ گئی تھی۔۔
,,ماشی دیکھو میں نے یہ پسند کی ہیں۔کیسی ہیں۔،،عشرت نے اس کے سامنے جینز اور شرٹز لہرائی جنہیں دیکھ ماشی کی آنکھیں پھیل گئی۔۔
,,واٹ از دس عاشی تم کو منع کیا تھا نہ بٹ یو کانٹ انڈر سٹینڈ۔۔،،ماشی نے دانت پیس کر کہا۔
,,ماشی پلیز تم کو جو پہننا ہے پہن لو میں یہ ہی پہنوں گی۔۔۔اوکے۔۔مجھے اپنی بے عزتی کروانے کا کوئی شوق نہیں ہے تم کو ہے تم کرواؤ اور مجھے مت روکنا ۔۔،،عشرت نے خاصی بدتمیزی سے بات کی تھی معروش حیران رہ گئ اور مال سے باہر چلی گئی
,,یہ لڑکی کیوں نہیں سمجھتی بےعزتی کیسے ہوتی ہے عزت لہلام کیسے ہوتی ہے۔۔۔اور یہ عزت کو چھپانے کو بےعزتی کہ رہی ہے اے میرے اللہ اسے ہدایت کاراستہ دیکھا,۔اسے عشرت کی بات نے اندر تک ہلا دیاتھااسے دکھ اس کے بی ہیور کا نہیں تھاوہ جو کرنے جارہی تھی اس کادکھ تھا۔۔
اس نے اپنے پیچھے قدموں کی چاپ سنی تو ڈر گئ وہ فٹ پاتھ پر چلتی بہت آگے نکل آئی تھی ۔۔اس نےاپنے اردگرد دیکھا تو محسوس ہوا کہ وہ بہت دور نکل آئی ہے قدموں کی چاپ ابھی بھی اس کے پیچھے تھی۔وہ خوف سے پیچھے بھی نہیں دیکھ پارہی تھی
,,اللہ جی اب میں کیا کروں مجھے اس شہر کے بارے میں کچھ پتا نہیں ہے اور میرے پیچھے پتا نہیں کون ہے میری حفاظت کرمیرے مولا،،وہ دل میں دعا کرنے لگی۔۔وہ رک گئی قدموں کی چاپ بھی رک گئی اس کو پسنے آنے لگے تھے ایک جھٹکے سے اس نے پیچھے مڑکے دیکھا۔
,,ک۔ک۔کون ہو تم۔۔،،اس کی موٹی موٹی آنکھیوں میں ڈر تھا کیونکہ سامنے جوآدمی نقاب پوش تھا پینٹ شرٹ میں ملبوس وہ نوجوان اسکے
سامنے تھاماشی دو قدم پیچھے ہٹی۔۔
اس لڑکے نے ایک نظر اس کےپھول سی پنکھڑیوں جیسے ہونٹ کودیکھااور موٹی موٹی آنکھیوں میں ڈر کوپھر ہاتھ کا اشارہ اس سمت کر دیا جہاں سے وہ آئی تھی۔ماشی کچھ نہ بولی اور طوفان کی تیزی سے اس نوجوان کے پاس سے بھاگ گئی۔۔تھوڑے فاصلے پہ جاکے اس نے مڑکے دیکھاتو پیچھے کوئی نہیں تھاوہ نوجوان غائب تھا اس کے قدم رک گئے
آس پاس کوئی انسان نہیں تھا وہ خوف کے مارے پھرسے بھاگی
,,جن بھوت ہوگامیرے ساتھ اللہ ،،وہ بھاگتے ہوئے سوچ رہی تھی۔وہ مال میں جاکے رکی لمبے لمبے سانس لینے لگی اور پسینہ صاف کر کے آگے بڑھ گئ۔
,, وہ غائب کیسے ہو گیا۔۔،،وہ خود سے سوال کرتی بے دھیانی میں چل رہی تھی جب سامنے سے آتے افنان سے ٹکراگئ۔
,,ایم سوری۔۔۔میں نے آپ کو دیکھا نہیں تھا۔۔،افنان کو وہ بغیر دیکھے بول رہی تھی افنان نے اکتاکے اسے دیکھا
,,پینڈو۔۔اگرچلنا نہیں آتا تو باہر نکلتی کیوں ہو۔۔۔،،افنان نے دانت پیس کر کہا اور چلا گیا۔۔
,,افففف جاہل بدتمیز اور کمینہ انسان پتا نہیں کہاں سے آگیامیں بھی تو دھیان سے نہیں چل رہی تھی۔،وہ اپنی چادر ٹھیک کر۔کے خود کو ملامت کرنے لگی۔
,,یار افی وہ پینڈو ہےتو بڑی خوبصورت۔۔کیا آنکھیں ہیں اس کی۔دودھ جیسارنگ بس ذرا چادر ہٹائے تو۔۔ہاہاہا،،لکی نے آنکھ مارکرتو پہ زور دے کر کہا
,,دیکھنا پڑھے گا،،افی نے بھی اسی کے انداز میں آنکھ مارکر کہا تو سب ہس دیئے
,,چل یار سامی بےبی کے پاس چلتے ہیں وہ بکس لےرہاہےکتابی کیڑا۔۔,,جنید نےکہااوروہ اس طرف چلے گئے جدھرآسام کھڑا کتابیں دیکھ رہاتھا
________________*******____________
ماشی بھی ایک طرف کتاب پکڑکے دیکھ رہی تھی۔جب اس کی نظر ایک کتاب پہ پڑھی۔وہ اس کی طرف بڑھی اسی وقت ہی آسام بھی اسی کتاب کی طرف بڑھا تھا دونوں کا ہاتھ ایک دوسرے سے ٹچ ہوا ماشی نے ہاتھ پیچھے کھنچ لیا
,سوری آپ یہ لےسکتی ہیں
میں کوئی اور دیکھ لیتا ہوں۔،،آسام نے اپنے قدموں کے ساتھ ساتھ ہاتھ بھی پیچھے کھینچا
,,ن۔۔ن۔نہیں نوتھینکس۔۔،،ماشی اسے ایک نظر دیکھ کے جلدی سے وہاں سے چلی گئی عشرت لوگ شوپنگ کر چکی تھی وہ ان کے پاس چلی گئی
,, سامی بےبی اولڈیج سے کیا بات ہورہی تھی لیفٹ دے رہی تھی کیا۔۔،،لکی نے ہس کے کہا آسام نے اسے غصے سے گھورا۔
,,تمیز نام کی کوئی چیز ہوتی ہے لکی لڑکیوں کی عزت کرنا سیکھو۔،،سامی نے غصے سے کہا
,, میری جان اتنی عزت تو کرتے ہیں ان کواپنے سرآنکھوں پر بیٹھا تےہیں ۔ہایاہاہا،،افنان نے کہکہکا لگاکرکہاآسام افسردگی سے سرنفی میں ہلا کر رہ گیا۔
___________********__________
,,واؤؤ۔۔ماش دیکھو لینڈکلاؤوزر۔۔،،عشرت نے جیپ کودیکھ کرسرہیا۔
,,چلوسیلفی لیتے ہیں۔۔۔،،کومل سیل نکال کر بولی۔۔
,,نہیں کومل جن کی ہے وہ آگئے تو ۔۔،،ماشی نے کہا
,,کم اون ماشی۔۔ہروقت لیکچر مت دیاکرو خود انجوائے نہیں کرناتومت کرو ہمیں کرنے دو۔۔،،عشرت نے بگڑ کر کہاابھی ایک دن بھی نہیں ہوا تھا کہ عشرت اس کی کوئی بات نہیں مان رہی تھی پورے چار سال میں کیا ہونا تھاماشی سوچ میں پڑھ گئی۔
۔اور تھوڑے فاصلے پر کھڑی کومل مہک اور عشرت کے پوز دیکھنے لگی جب لڑکوں کاٹولا جیپ کے پاس آرکا
,،سویٹ گرلز۔۔سیلفیز ہو گئ ہوں تو سائڈ پہ ہوجائیں۔۔, افنان فرنٹ سیٹ پہ بیٹھتے ہوئے کہا۔
,,آپ کی ہے یہ بہت پیاری ہے۔۔،،کومل نے کہا
آپ کی طرح۔۔،،عشرت بے دھیانی میں اسے دیکھے جارہی تھی تو بول اٹھی۔
,, ہاہاہاہا تھینک یو تو فرینڈشیپ کرو گی۔،،افنان سٹیرنگ پہ جھک کر ایک نظر ماشی پہ ڈال کر۔۔ان تینوں کو دیکھنے لگا
,, نہیں ہمارے مذہب میں لڑکوں سے دوستی جائز نہیں تو اپنی یہ آفر اپنے پاس رکھو چلو عشرت۔۔۔،،اس سے پہلے عشرت کچھ بولتی ماشی اس کو پکڑ کر لے جانے لگی
,,پینڈو گرل افنان رندھاوا نے کبھی کسی کی طرف
دوستی کا ہاتھ نہیں بڑھایاخوش قسمت ہوتم لوگ۔۔اور تم لوگ اس سے دوستی کرکے فائدے میں رہو گی اکیلی اس انجان سیٹی میں کوئی جاننے والا ہونا چاہئے۔۔،،لکی نے کہکہکا لگاکرکہا ۔
,،ماشی مجھے تو اس ہینڈسم نوجوان سے محبت ہو گئی ہےمجھے لگتا ہے میرے خوابوں کا شہزادہ یہ ہی ہے میں دوستی کرنے لگی ہوں انجان سیٹی میں کوئی جاننے والا ہونا چاہیے یاردوستی میں حرج ہی کیا ہے۔۔،،عشرت افنان رندھاوا سے نظریں نہیں ہٹاپارہی تھی۔
,, عشرت تم پاگل ہو گئی ہوکیا۔۔۔اس بدتمیز انسان میں تم کوایساکیا نظر آگیا کہ تم اپنی حدبھول رہی ہو ۔۔،،ماشی نے غصے سے سرگوشی کی ۔عشرت سمجھ کر سر جھکا گئی وہ غلط تھی۔ماشی نے اس کو غلطی دیکھاکر بھٹکنے سے بچا لیا تھا پرکب تک ایسا ہونا تھا کب تک وہ
اس پرکشش انسان سے عشرت کوبچاسکے گی۔۔
,, افی چلو۔۔،،آسام ماشی اور باقی لڑکیوں کو کچھ فاصلے پر کھڑا دیکھ چونک گیا۔
,,اب پھرتم نے کوئی الٹا سیدھا تو نہیں کردیا افی۔۔،،،آسام نے خوفگی سے پوچھا
,, نہیں بھائی۔۔لڑکیاں مجھ سے دوستی کرنا چاہتی ہیں۔۔،،افنان نے کمنگی سے ہس کرجھوٹ بولا جس پہ ماشی کا رنگ اڑھ گیا آسام نے بھی ماشی اور عشرت کو دیکھا کومل نے نفی میں سر ہلا دیا
,،چلوعشرت۔۔۔،،وہ عشرت کا ہاتھ پکڑ کر کھنچتی چلی گئ۔افنان ہستے ہوئے جیپ سٹارٹ کرنے لگا۔
_____*****_____******_____
ماشی اپنے بیڈ پہ جاکے گرگئ اسے رہ رہ کے عشرت پہ غصہ آرہا تھا
,,ماشی کیا ہوا۔۔طبعت ٹھیک ہے نہ میری جان۔۔،،عشرت چینج کر کے اس کے پاس آبیٹھی۔
,,کچھ نہیں سو جاؤ تم گڈ نائٹ۔۔،،ماشی کی آواز بھرا گئی تھی۔
,, ماشی تم رو رہی ہو۔۔،،عشرت نے اس کامنہ اپراٹھناچاہا۔۔
,,ماشو کیا ہوا ۔۔،،عشرت نے فکر مندی سے پوچھا
,, عشرت میں نے کتنا سمجھایا تھا تم کو پر آج ۔۔،،ماشی اٹھ کے بیٹھ کر بولی
,,یار تم اتنی سیریس کیوں ہو جاتی ہو۔۔اس نے
دوستی کی بات ہی کی تھی اس میں بڑی بات کیا ہے۔۔یار،،عشرت نے اسےسمجھنا چاہا۔
,, عشرت بہت بڑی بات نہیں تو بہت چھوٹی بھی نہیں پر میں تم کو نہیں سمجھا سکتی۔۔،،ماشی اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے سوچ رہی تھی۔
,,اچھا ٹھیک ہے بابا اب چپ کرجاؤ ہماری رانی ۔۔ آئندہ جوآپ کا حکم ہو گا سر آنکھوں پر۔۔،،عشرت نے کھڑے ہو کر سلوٹ جھاڑا۔۔ماشی ہس دی اور اٹھ کے چینج کرنے چلی گئی ایک کمرے میں وہ چار لڑکیاں رہتی تھی ۔۔چارہی بیڈ تھے
ہوسٹل سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی پر پتانہیں کومل اور مہک نے سیکورٹی گارڈ کوکیاکہاکہ اس نے جانے کی اجازت دے دی تھی۔
,, ماشاءاللہ ماش تمہارے بال کتنے لمبے ہیں۔۔،،کومل نے اس کوکاندھے سےپکڑکر کہا۔
,ماشی بہت خوبصورت ہوتم آنکھیں ناک ہونٹ۔۔اور ڈیمپل افففف کوئی دیکھے تم کو تو پانی نہ مانگے۔۔،،مہک نے بھی تعریف کی
,,اسی لیئے تو میڈم پردے میں رہتی ہے جس دن پردے سے باہر آئی قیامت آئے گی اس دن۔۔،،کومل کی بات پہ سب کی بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی
,,پتاہے گرلز اس کو ہم مس سٹروم کہتے ہیں۔۔کیوں کہ ہر وقت طوفان کی طرح چلتی ہے۔۔،،عشرت نے راز کی بات بتائی
,,اچھا اب بہت ہو گئ میری تعریفیں اب سو جاؤ۔۔،،ماشی اپنے بالوں کی چوٹیا بناکربیڈ پہ لیٹ گئ۔
,, ماش آج میرے خواب میں پتاہے کون آنے والاہے۔۔,, عشرت اپنے بیڈ پہ لیٹے ہوئے بولی
,,وہ لینڈکلاؤوزر والا۔ہاہاہاہاہا۔۔،،عشرت نے کہکہکا لگاکرکہا
,,مرجا کچھ کھاکر کمینی۔ ،،ماشی کی بات پہ وہ تینوں ہس دی۔۔اور لائٹ آف کر کے لیٹ گئی۔
ماشی کے دماغ میں وہ نقاب والا لڑکا گھوم رہا تھا۔
,,کیا میرا وہم تھا۔۔ہاں وہم ہی تھا۔۔،وہ آنکھیں بند کر کےسونے کی کوشش کرنے لگی ۔
کل اس کا فرسٹ ڈے تھا یونی
وہ لیٹ نہیں ہونا چاہتی تھی۔۔
____________*******____________
,,فہد بیٹاادھرآؤ۔۔۔،فہد
ابھی اٹھاہی تھا کہ اس کی ماں نے آواز لگائی۔
,,جی ماما جان۔۔،،وہ ان کے پاس آگیا
,,بیٹا تم کو میں انگلینڈ ایک شرط پر جانےدوں اگر وہاں کسی گوری سے شادی نہیں کرو گے تو۔۔۔،،فہد ہسنے لگ گیا
,, میری پیاری ماں۔۔آپ کو لگتا کہ آپ کا بیٹا ایساہے۔۔۔،،وہ ان کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے بولا
,,جابیٹا پھر تیاری کرو اپنی۔۔جاؤ۔اپنے خواب پورے کر لو۔،،وہ فہد کے منہ کو اپنے ہاتھوں میں بھرتے ہوئے بولی۔۔فہد ان کے گلے لگ کے چلا گیا۔۔
,,مس سٹروم میں جارہا ہوں۔۔۔،،ماشی ابھی سوئی ہوئی تھی فہد کی کال نے اسے جگایاتھا
,,کہاں جہنم۔۔جاؤجاؤدائیں بائیں نہ جانا۔۔،،ماشی آنکھیں ملتی ہوئے بولی۔
,،اے چھمک چھلو۔۔ انگلینڈ جارہاہوں۔۔،،فہد کھڑکی سے لگتے ہوئے بولا۔
,,اوہ واؤ کسی گوری سے شادی کر لینا۔۔،ماشی اٹھ کے بیٹھتے ہوئے بولی
,,واہ کیا فیملی ہے میری بہن کہتی ہے گوری سے شادی کر لینا ماں کہتی ہے نہ کرنا۔۔میں کروں توکیا کروں۔۔،،وہ دنیا جہاں کی معصومیت لہجے میں سمو کر بولاماشی کی بے اختیار ہنسی نکل گئی
,,پھر پھوپھو کی بات مان لینا اگر نہ مانی تو وہاں ہی رہ جانا۔۔،،ماشی نے ہنستے ہوئے کہا
,,تم لوگ ٹھیک ہو کل کا دن کیسا رہا۔۔،،فہد کی بات پہ کل کا دن یاد آگیا صبح سے رات تک ان کا دن ٹھیک نہیں گزرا تھا
,,ہیلو کیاسوچ رہی ہو مس سٹروم۔۔،،اسے نہ سن کر فہد نے بولا
,,کچھ نہیں آسٹریلین بلے۔۔اچھا تھا دن۔،،ماشی نے کہا
,, عشرت کیا کر رہی ہے۔۔بات کرواؤ اس سے۔۔،،فہد نے کہا
,,وہ سو رہی ہے بعد میں کال کرنا اور کب تک جارہے ہو اب زخم کیسے ہیں ۔۔،،
,,مس سٹروم مس سٹروم۔۔اب بولو تو رک رک کر ایک ایک بات پوچھو۔،،فہد نے اسے ٹکا
,,میں دو دن تک جارہاہوں منڈے کی فلائٹ ہے میری۔۔اور زخم تو ٹھیک ہیں پر ماموں سے کافی ڈانٹ پڑھی ہاہاہاہاہاہاہا۔۔خیراب
میں ٹھیک ہوں رانی صاحبہ۔۔،،فہد نے لاسٹ جملہ سمائل کے ساتھ کہا۔
,,اوکے پھراب ناشتہ بنالوں۔اللہ حافظ۔،،وہ کال کاٹ کر بیڈ سے اتر کر واش روم چلی گئی۔فریش ہوکر اپنے بالوں کو کھلا چھوڑ کر اس طرف بڑھ گئ جہاں چھوٹاساکیچن تھا
ہوسٹل میں ناشتہ کیاابھی کوئی اٹھابھی نہیں تھا اسی لیئے وہ خود ناشتہ بنانے کے بارے میں سوچنے لگی۔۔ناشتہ بنا کر وہ۔عاشی اور کومل لوگوں کو جگانے آگئ۔
,,عاشی اٹھ جاؤ ناشتہ کر لو۔۔،،عشرت بیڈ پہ پھیل کے سوئی ہوئی تھی یہ ہی حال کومل اور مہک کا تھاوہ تینوں آنکھیں ملتی اسے دیکھنے لگی۔
ماشی نےہلکے پیرٹ کلر کا شلوار قمیض پہنا ہوا تھا دوپٹہ ایک کاندھے پہ ٹکایاہوا تھا بال کھلے کچھ پیچھے اور کچھ آگے جھول رہے تھے جن میں سے پانی کے قطرے بجابجا گررہے تھے اور چہرے پہ نام کی کوئی کریم نہیں تھی اس کا اصلی رنگ اتنا سفید تھا کسی چیز کی ضرورت نہ پڑھتی اور ہونٹ اتنے گلابی کہ لیپ سٹیک نہ بھی لگاتی تو کوئی فرق نہ پڑھتا۔۔
,,ماشی تم کتنی خوبصورت ہو ماشاءاللہ۔۔،،کومل اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔
,,اور تم بھی بہت خوبصورت ہو۔۔اب ناشتہ کرلو ،،ماشی کومل کے منہ پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولی تووہ مسکرا کر ناشتہ کرنے بیٹھ گئ
, ملکوں کی رانی کمال کردیا۔۔میں تو سوچ رہی تھی ہوسٹل کابےمزہ کھانہ کھانا پڑھے گا ۔۔،عشرت ناشتہ کرکےسلوٹ ٹھوک کر اٹھ گئ۔،
,, واقع ہی ماش تم نے بہت مزے کا کھانا بنایا ہے ۔۔،،مہک ہاتھ صاف کرتے ہوئے بولی
,, شکریہ۔۔،،ماشی برتن چھوٹے سے کچن کی سینک پہ رکھتے ہوئے بولی۔
,,ہر روز تمہارے ہاتھ سے کھانا اور تمہارا چہرہ دیکھ کر صبح ہوتو مزہ ہی آجائے۔۔،،کومل نے آنکھ مارکر کہا جس پہ سب ہس دی۔
اور تیاری کرنے لگ گئی..
