Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671
Last updated: 5 May 2026
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 01)Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 02)Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 03)Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 04)Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 05,06)Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 07)Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 08)Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 09)Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 10,11)Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 12)Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 13)Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 14)Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 15,16)Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 17)Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 18)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
عشرت اور ماشی ہم کلاس تھی ماشی کاایک بھائی اور ایک بہن تھی بہن بڑی تھی اور اس کی شادی ہوچکی تھی اور بھائی کافی چھوٹاتھاوہ اور نمرہ ہم کلاس تھے
ماشی کاوالد باہرسے ڈاکٹر بن کرآئےتھےپاکستان آکے اپناہوسپیٹل بنالیاتھااورچند مہنوں میں ان کا نام مشہور ہوگیا تھا۔لاہور میں ہی نہیں بلکہ بہت سے شہروں میں سےلوگ آتے تھے ان کے پاس لوگوں کا کہنا تھا ان کے ہاتھ میں شفا ہے
,,چ۔۔چ۔۔چھوٹے صاحب بڑے صاحب آپ کویاد کر رہے ہیں ۔۔,,ملازم نے ڈرتے ڈرتے اسےجگایا کیوں کہ وہ جانتا تھا اس کے غوصے کو۔۔۔۔
,,,ابھی نہیں جاٶ تم۔۔۔۔,,,وہ کمبل منہ پہ کھینچتے ہوٸے ملازم کو ہاتھ کے اشارے سے جانے کوبولا۔۔۔ملازم جو پورے کمرے کاجزا لے رہاتھا جلدی سے باہر چلا گیا۔۔کمرے کی حالت کچھ یوں تھی۔۔۔صوفے کے کوشن زمین پہ پڑھے تھے۔۔۔بیڈشیٹ نیچے لٹکی ہوٸی تھی۔۔۔اس کی شرٹ صوفے پہ پڑھی تھی اور وہ خود منہ سرہانے میں دے کے گدھے گھوڑے بیچ کے سویا ہوا تھا۔۔
ملازم کے جانے کے بعداسے نیند نہ آٸی تو اٹھ کے بیٹھ گیا۔۔۔تھوڑی دیر آنکھیں ملنے کے بعد وارڈروب کی طرف بڑھ گیا۔وہاں سے برینڈڈ بٹنو والی شرٹ اور ساتھ پینٹ نکال کے واش روم گھس گیا۔۔گرم پانی سے نہنےکے بعد رات کی تھکاوٹ اتر گٸ تھی ۔۔وہ ڈریسنگ کے سامنے آکے اپنے براٶن اینڈ بلیک ڈائی کئے ہوئے بالوں میں برش کرنے لگا سٹاٸل سے پیچھے کیٸے ۔۔۔پھروہ ڈریسنگ پہ رکھی اعلیٰ کواٸلٹی پروفیوم میں سے انتخاب کرنے لگا کچھ دیر سوچنے کے بعدایک کواٹھا کےسپرے کیا پھر واپس رکھ کے ۔۔۔ڈریسنگ کا اپر والا دراز کھولا جہاں سن گلاسز اورریسٹ واچیز کا سٹاک تھا ۔۔۔اس نے سب سے مہنگی والی ریسٹ وواچ اٹھالی
ریسٹ واچ باندھنے کے بعد خود پہ ایک نظر ڈال کےاپنا فون اور گاڑی کی چابی گھوماتا ہوا نیچے چلاگیا۔۔۔۔
,,,گڈمارنگ ایوری وان۔۔۔;,,وہ کھانےکے میز پہ بیٹھتے ہوٸے بولا۔۔۔۔
,,یہ کیا بدتمیزی ہے افنان ۔۔۔تم نے تو لاپرواہی کی حد کردی۔۔۔۔,,,اس کا ابو اس کا ویٹ کر رہا تھا اسے دیکھتےہی بھڑک پڑھا۔۔۔وہ کھانے کا جزا لے رہاتھا
;,کیاڈیڈ میں نے کیاکیا۔۔۔,,,افنان معصوم سی شکل بنا کے پوچھا۔۔۔
;,,افنان میرا دماغ خراب مت کرو۔۔۔کل تم نے راہ چلتے ایک لڑکے کواڑا دیا۔۔۔۔اگروہ مر جاتا تو۔۔۔۔اسے ہوسپیٹل بھی نہیں لے کے گٸے پولیس پکڑ لیتی تو کیا عزت رہتی میری۔۔۔۔۔,,,وہ اس پہ چلانے لگے افنان بوریت کی ایکٹنگ کرنے لگا۔۔اس پہ ان کی بات کااثرنظرنہیں آرہاتھاکیوں کہ یہ روز کامعمول بن گیاتھا ۔۔
,,کم اون ڈیڈ۔۔میں افنان رندھاوہ ہوں آپ کو تو پتا ہے نہ کہ میں نے رکنا نہیں سیکھا۔۔۔۔اور ویسے بھی میں نے اسے نہیں بولا تھا کہ روڈ پہ آجاٸے۔۔۔۔افنان کے راستے کی جو رکاوٹ بنے گا وہ۔;;;وہ ہاتھ کااشارہ اپر کرکے بولا۔۔۔
,,افنان تم ابھی بچے نہیں,,,اس سے پہلےاس کا باپ کچھ اور کہتاوہ بول پڑھا
,,اوکے باٸے میں باہر سے کر لوں گا بریک فاسٹ۔۔۔,,گاڑی کی چابی اٹھاتا وہ باہر چلاگیاوہ اسے دیکھتے رہ گٸے۔۔
,,اس لڑکے کا پتا نہیں کیا ہو گامجھے تو ڈر ہے کسی دن خود بھی ڈوبے گا اور ہمیں بھی لے ڈوبے گا۔آسام کے علاوہ یہ کسی کی نہیں سنتا۔۔,,وہ سر پکڑ کے بیٹھ گٸے ۔۔
,,ابو جان ابھی وہ بچا ہے جی لینے دیں اسے جب بھاگ بھاگ کے تھک جاٸے گا تو خود ہی رک جاٸے گا۔۔۔,,افنان کے بڑے بھاٸی نے دلاسہ دیا۔۔
افنان رندھاوا امیر باپ کا بگڑا ہوا بیٹا تھا۔۔پراس کے بھاٸیوں کامزاج اس سے بہت مختلف تھا اس کےابوخود بھی بہت ہی اچھےدولت کا مان نہیں کوٸی غرور نہیں ہاں پرافنان شاٸد ماں پہ گیا تھااس کی ماں کو اپنی شان و شوکت روپے پیسے پہ بہت مان تھا
مان تھاافنان کے ابو کی لیدر کی فیکٹریز تھی باہرکے ملک سے بھی ان کاواسطہ تھا....کہئی بھی دولت کی بات ہوتی رندھاوا خاندان کو ضرور یادرکھاجاتا
,,اے حسن کی ملکہ۔۔۔۔اے پریوں کی رانی میں تمہارے سپنوں کاشہزادا ہوں اپنا نرم وملائم ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دو ۔۔۔۔۔میں تمہیں لینے آیا ہوں۔۔۔۔ہائے اللہ کتنا حسین خواب تھاماشی۔۔۔۔کتناخوبصورت تھاپروہ رکاہی نہیں بھاگ گیا جب میں بھاگی تو بادلوں میں غائب ہوگیا۔۔۔کمنہ انسان ہاتھ نہیں آتا کبھی آئے گاتواس کی ہڈی توڑ دوں گی آہ۔۔،،،عشرت روز کی طرح بیڈسے گرگئ تھی اور اب اپنی کمر پکڑ کے کہرانے لگی۔
,,,عشرت سارادن توتم رسالے پڑھتی ہواور ڈرامہ ایک نہیں چھوڑ تی۔۔۔توخواب بھی توویسے ہی آئیں گے۔۔۔۔اب اٹھ جا اور نماز پڑھ لے ویسے تمہاراشہزادہ مسلمان معلوم ہوتاہے نماز کے ٹائم تم کوزمین پہ گرادیتاہے۔۔۔ہاہاہا،،،ماشی اپنا ڈوپٹا سر پہ پھلاکے نماز پڑھنے لگ گئ۔۔۔
عشرت کہراتےہوئے واش روم چلی گئ۔۔۔
وہ جب باہرآئی تو ماشی نماز پڑھ کے جائے نماز اٹھاجاچکی تھی اور باہر چلی گئ۔۔۔آہستہ آہستہ چلتی وہ اپرچلی گئ جہاں کبوتر طوطے چیڑیوں کے پینجرے تھے۔۔وہ طوطےکےپینجرے کےپاس جارکی۔۔۔
,,صنح بخیرسٹیف۔۔،،،وہ طوطے کو پینجرےسے باہرنکالتے ہوئے بولی۔
,,صبح بخیرماشو۔۔،،طوطے نے اپنی سریلی آواز میں کہا ماشی کےہونٹوں پہ
مسکراہٹ نمودار ہوگئ
