Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 12)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 12)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
معروش آپ کیسی ہیں۔۔۔اآٹھیک ہیں نہ۔،،مس علوی اور ساتھ کچھ لڑکیاں بھاگ کر ماشی کے پاس آئی تھی۔
ماشی کافی دونوں بعد یونیورسٹی آئی تھی
“جی میں ٹھیک ہوں۔۔،،ماشی نے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجا کر کہا۔
“ہم نے آپ کو بہت مس کیا آپ کے لیئے بہت دعائیں کی ایک بات بتاؤں۔کلاس نے آپ کے لیئے سرپرائز۔۔،،وہ کچھ اور بولتی عشرت نے آنکھیں دیکھائی تو وہ چپ ہو گئی
“سرپرائز ہے آپ کو دیکھنے کے لیے سب بہت یاد کرتے تھے۔۔،،مس علوی بات چینج کر گئ۔
“واقع ہی ماش تمہیں سب بہت یاد کرتے تھے نوٹس کی ضرورت ہوتی تو سب بھاگتے تھے ماہا سے بھی نہیں ملتے تھے۔منڈے کو ٹیسٹ تھا سب پریشان تھے پھر مسٹر پرفیکٹ نے سمجھایا افففف مائی گاڈ اتنا پیارا لگتا ہے نہ قسم سے یار۔،،کومل ببل چباتے ہوئے شرارت سے بولی تھی۔
“مسٹر پرفیکٹ کون۔۔،،ماشی ڈوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے بولی اس کے سر پہ ابھی بھی پٹی باندھی ہوئی تھی۔عشرت نے اسے بہت
رکا کہ وہ نہ یونیورسٹی جائے پر ماشی نے اس کی ایک نہ مانی اس کی پڑھائی کا نقصان ہو رہا تھا۔
“ویلکم بیک ۔۔،،وہ کلاس میں داخل ہوئی تھی کہ سب نے ایک ساتھ کہا تھا سب نے ہوٹنگ اور تالیوں کے ساتھ اس کا استقبال کیا تھا۔ماشی حیران ہو کر دیکھنے لگ گئ۔ اپنی کلاس کی محبت پر مسکراہٹ ہونٹوں پر نمودار ہو گئ
“مس معروش یہ آپ کے لیئے۔،،ماہا اسے تحفہ تھامتے ہوئے بولی۔
“بٹ میں یہ نہیں لے سکتی یار۔آپ لوگوں نے اتنا کچھ کیا وہ ہی کافی ہے۔،،ماشی مسکرا کر بولی
“مس بھاگم بھاگ کس کس کا گفٹ نہیں لیں گی اور ہم نے اتنے پیار سے خریدے ہیں ۔،،ہارش نے مسکرا کر کہا اور ایک گفٹ پیک اس کے سامنے لہریا اور بھی بہت سارے کلاس فیلوز نے گفٹ نکالے۔آسام سینے پہ ہاتھ باندھے کھڑا مسکرا رہا تھا۔ماشی نے اسے دیکھاتو وہ اس کی طرف چل کے آیا
“سوری مجھے مت دیکھیں میں آپ کے لیئے کچھ بھی نہیں لایا۔،،آسام اپنی ہنسی دبا کرہاتھ کھڑے کر کے بولا ماشی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دھوڑ گئی
“مذاق کر رہا ہوں یہ لیں اینڈ ویلکم بیک۔،،آسام نے اس کے سامنے ٹیبل پر گفٹ رکھ دیا
“میں نہیں لےسکتی پلیز ٹرائی ٹو انڈر سٹینڈ۔۔،،ماشی نےپھر سےسب کو دیکھا
“چلو رہنیں دیں آپ لوگ مجھے دے دیں ۔۔۔لاؤ ادھر سب۔ ان کو آپ لوگوں کے خلوص کی قدر ہی نہیں ہے مجھے تو ہے۔۔کیوں آسام کیا کہتے ہو۔۔ہاہاہاہا۔،،ہارش آسام کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا تو کلاس روم میں کہکہکے کی آواز گونج گئ۔
“ماشی لے لو یار سب کتنے پیار سے تمہارے لئے گفٹز لے کر آئے ہیں ،، ۔عشرت نے کہا تو ماشی نے ہاں میں سر ہلا دیا۔پھر سب باری باری ماشی کو گفٹ دینے لگ گئے اس نے کلاس میں نظر دوڑائی افنان اور اس کا گروپ غائب تھا
اس نے سکون کا سانس لیا۔
“چل آسام ایک سونگ سنا دے مس ملک کے گفٹ لینے کی خوشی میں آپ کو پتا ہے آسام کی آواز بہت سوریلی ہے۔،،ہارش نے ماشی کو آگاہ کیا
“کیوں میری عزت کا فالودہ بنا رہے ہو پوری کلاس کے سامنے اس رات تو یوں ہی گنگنا رہا تھا۔۔,, آسام نے ہارش کے کان میں گھس کر کہا ہارش کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئ
“آج بھی ویسے ہی گنگنا دو۔لیٹس بی گین ۔ کم اون آسام۔آسام۔آسام۔،،ہارش نے تالی بجانی شروع کر دی سب نے اس کا ساتھ دیا۔
“ناؤ یو ڈونٹ سبورٹیڈ مائی ہینڈز ہاشو۔۔،،آسام نے اسے انگلی دیکھائی
“پہلے اپنی تو خیر منالو سامی بےبی۔،،ہارش نے انوشکا لوگوں کی نقل اتار کر کہا اور ہس دیا۔
“ہارش مجھے تو یہ سب موت کے فرشتے لگ رہے ہیں یار میں تو جارہا ہوں۔۔،،آسام بھاگنے لگا ۔
“بھاگنے کی کوشش بھی مت کرنا اور اب نخرے بند کرو چپ چاپ گاؤ تم سے کوئل اچھی ہے گاتے وقت بہانے تو نہیں کرتی۔،،ہارش نے اسے پکڑ کر ڈائس پر کھڑا کر دیا۔
“کیا گھسر پھسر کر رہے ہو تم دونوں کم اون آسام اب نخرے بند کریں آپ۔،،مہک نے کہا ماشی اور عشرت بھی ڈیکس پر بیٹھ گئ۔ایک ڈیکس تو گیفٹ سے بھر گیا تھا۔
آسام ڈائس پر کھڑا ہو کر ہارش کو گھورنے لگا ہارش ڈیکس سے ٹیک لگا کر مسکرا دیا اور گانے کا اشارہ کیا۔آسام نے ماشی پہ نظر ڈالی تو وہ مسکرا رہی تھی پھر اس نے کلاس پر نظر ڈالی سب اس کے بولنے کے منتظر تھے۔
“کہاں پھنسا دیا ہاشو۔۔،،آسام نے ہارش کو گھور کر سرگوشی کی۔وہ گلا صاف کر کے بولا
“مجھے سونگ نہیں آتا۔،،آسام نے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجا کر کہا۔
“مسٹر آسام اپنی سریلی آواز میں کچھ بھی گنگنا دیں۔،،کومل نے کہا۔
اتنے میں افنان اور اس کا گروپ کلاس روم میں داخل ہوا اس نے آسام کو دیکھا
ساری کلاس کی نظریں ان کی طرف مڑ کے آسام پر پھر جا ٹکی۔
“مسٹر افنان رندھاوا ہمیں کسی قسم کی بد تمیزی نہیں چاہ
اگر آپ کو روکنا ہے تو چپ چاپ رک جائیں نہیں تو جانے کا راستہ ادھر ہے۔،،مہک نے کھڑے ہو کر کہا۔افنان چپ چاپ سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا رہا۔وہ ماشی کے سر پہ بندھی پٹی دیکھ رہا تھا
آسام نے پھر سے گلا صاف کیا۔
“چند لائنیں جو کہ میری فیورٹ ہیں وہ آپ کو سنا دیتا ہوں کیونکہ عین ٹائم پہ میرا دماغ کام نہیں کرتا۔ہاہاہاہا۔،،آسام نے مسکرا کر کہا۔بہت سی تالیوں کی آواز گونجی تھی۔
سب اسے دیکھنے لگے۔وہ نیچے دیکھ کر بولنے لگا
“Let the world stop turning,
Let the sun stop burning,
Let them tell me love’s not worth going through.
If it all falls apart,
I will know deep in my heart,
The only dream that mattered had come true
…In this life I was loved by you.”
اتنا کتابی کیڑا ان کے سامنے کھڑا اتنی رومانٹک لائنز بول گیا تھا سب حیران کن آنکھوں سے اسے دیکھ رہے تھے اس کا اندازِ بیان بہت اچھا اس نے دل کی گہرائیوں سے پڑھا تھا۔سب نے تالیوں سے اس کو داد دی
“واؤ سامی بےبی کیا بات ہے چھا گئے تم تو۔،،نہیا بھاگ کر ڈائس پر گئ اور آسام کے گرد باہیں پھیلا دی۔آسام ہڑبڑا گیا۔
“یہ کیا بد تمیزی ہے دور ہٹو۔۔،،آسام نے نہیا کو خود سے دور کر کے سرگوشی کی اور وہاں سے ہٹ گیا۔
“کتنی بے شرم لڑکی ہے کبھی افنان سے تو کبھی آسام سے لپٹتی رہتی ہے۔،،نہیا ان کے پاس سے گزرنے لگی تو مہک نے سرگوشی کی پر اس نے سن لی تھی
“تم لوگوں کو کوئی منہ نہیں لگاتا اسی لیئے دکھ ہو رہا ہے چھچ چھچ۔۔،،نہیا جھک کر بولی۔
“اے تمیز سے بات کر ہمیں تمہاری طرح عزت برباد کرنے کا کوئی شوق نہیں۔اور جس کے ساتھ تو چپکی تھی اس نے تو تجھے نہیں بولا تھا چپکنے کو کیوں مسٹر آسام آپ نے اسے بولا تھا۔،،مہک نے آسام کی طرف منہ کر کے پوچھا تو وہ چپ کر کے کھڑا رہا۔
“جانے دے مہک۔اس کو سر تا پاؤں دیکھ پھر ڈیسائڈ کرو کہ اس سے بات کرنی ہے یا نہیں۔۔یہ اس لائک بھی ہے۔،،عشرت نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا
ماشی ہونٹوں پر انگلی رکھ کر کچھ سوچ رہی تھی وہ کلاس میں ہوتے ہوئے بھی نہیں تھی۔
“تم بھی بات کرنے کے قابل نہیں ہو پتا نہیں کہاں سے آگئ پینڈو مڈل کلاس۔،،نہیا نے منہ چڑھا کر کہا اور جانے کو مڑی کومل نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ہارش ان کی لڑائی کو چاکلیٹ کھا کر انجوائے کر رہا تھا۔
“میڈل کلاس کس کو بولا۔یہ دونوں پتا ہے کون ہیں مہشور ڈاکٹر ملک کی بیٹیاں ہیں۔
۔اور پینڈو کسے بولا
ہمیں ان ان برینڈز کا پتا ہے جو تم نے کبھی سنی بھی نہیں ہوں گی پرہم تمہاری طرح عزت کو یوں لہلام نہیں کرتی سمجھی تم۔۔،،کومل ایک ایک لفظ چبا کر بول رہی تھی
“بہت خوب اب بس کرو تفصیلی تعارف ہو گیا چلو نہیا سب نکل لو یہاں سے اب تو جان گئ نہ ان کو۔۔,،ہارش نے ہس کرکہا نہیا پیر پٹختی کلاس سے باہر چلی گئی۔
افنان خاموش کھڑا ماشی کو گھور رہا تھا پتا نہیں وہ کیا دیکھ رہا تھا کیا ڈھونڈ رہا تھا پر ماشی اس کی طرف متوجہ نہیں تھی۔
“یہ اتنے گفٹز اس کو ملے ہیں۔،،انوشکا نے ونیت کے کان میں گھس کر کہا
“پتا نہیں اس بہن جی کے پاس ایسا کیا ہے جو لوگ اس پر جان دیتے ہیں۔،،،ونیت نے بھی سرگرشی کی
“چلو گائس باہر چلتے ہیں افی چلو۔۔،،انوشکا افنان کا ہاتھ پکڑ کر باہر لے گئ۔
اتنا کچھ ہو چکا تھا پر ماشی کو پتا بھی نہیں تھا وہ پتا نہیں کن سوچوں میں گم تھی۔
______*************________
“چلو کھولو بھی۔۔،،ماشی بیڈ پر بیٹھی تھی اس کے سامنے گیفٹز کا ڈھیر لگا پڑھا تھا وہ حیران تو نہیں کیوں کہ اس کی ہر سالگرہ پہ ہر عید شبرات پہ اسے بہت سارے گفٹز ملتے تھے پر یہ گفٹز اس کی سلامتی کے تھے۔اس کی کلاس نے اس کے چاہنے والوں نے دئے تھے۔
“اس میں تمہارے ایجنٹ کا بھی گفٹ ہو گا ضرور اپر نام لکھا ہو گا ہینڈ رائٹنگ میچ کر لیں گے۔۔،،عشرت ایک گفٹ کھولتے ہوئے بولی۔
ماشی کرنٹ کھا کر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی اور گفٹز کھولنے لگی۔
“محبوب کے نام پر تو جان بھی قربان کر دو گی کیا۔۔،،عشرت نے اس کی ٹانگ کینچھی وہ مسکرا کر گفٹ کھولنے لگی۔
“یہ دیکھو آسام کا گفٹ ۔
فرام آسام رندھاوا ٹو معروش ملک۔ ،،عشرت نےلالرنگ کی پینکنگ پر لگے گفٹ کارڈ پر لکھی ہوئی تحریر پڑھ کر ماشی کی طرف بڑھادیا۔ماشی جو ہینڈ رائٹنگ چک کررہی تھی اس نے دیکھی اور نفی میں سر ہلا دیا۔
“نہیں میچ ہوتی ویسے بھی وہ لگتا نہیں ہے مجھے۔،،ماشی نے گفٹ کو ایک طرف رکھ دیا
ویسے اس کی لائف میں بھی کوئی ہو گی شائد۔،،کومل نے گفٹ کی پیکنگ کھولتے ہوئے شہانے آچکا کر کہا
“ادھر دیکھاؤ۔آسام کا گفٹ۔،،
مہک عشرت کے ہاتھ سے گھڑی کی ڈبی پکڑ تے ہوئے بولی
“اوہ مائی گاڈ۔۔،،مہک کے منہ سے گھڑی دیکھتے ہی نکل گیا
“کیا ہوا مہکی۔۔،،عشرت نے گفٹ کھولتے ہوئے پوچھا۔
“یار یہ واچ دیکھی تم نے۔۔،،مہک کی سوئی گھڑی پر اٹک گئ تھی بہت پیارے ڈائل والی پر بہت مہنگی تھی تبھی مہک کا منہ کھول گیا تھا۔
“نہیں دیکھاؤ۔۔،،ماشی نے واچ نہیں دیکھی تھی وہ گفٹز نہیں صرف ہینڈ رائٹنگ ڈھونڈ رہی تھی۔
“تمہیں پتا ہے ماشی ایسی واچز اس دنیا میں بہت کم ہیں۔اور یہ یہاں سے نہیں ملتی ۔یہ ڈائمنڈ کا کام ہےاس کی پرائز مجھے یاد نہیں بٹ دس از ایکسپینسو واچ ۔،،مہک کی ریسرچ کرنے کی عادت آج کام آگئ تھی۔
“کیا دیکھاؤ مجھے۔۔،،کومل نے بھاگ کر واچ پکڑی۔ماشی نے پہلے عشرت کو دیکھا اور عشرت نے اسے دیکھا۔
“میں کل اسے واپس کرنے والی ہوں۔آئی کانٹ اکسیپٹ دس۔،،ماشی نے ٹھیک سے گھڑی کو ڈابی میں رکھ کر کہا۔
“نہیں ماشی ایسا نہیں کرنا اسے برا لگے گا تم بھی اس کو گیفٹ دے دینا۔بس بات ختم۔،،مہک نے اسے آئیڈیا دیا
“ہاں یہ ٹھیک ہے اس طرح اس کو محسوس بھی نہیں ہو گا۔،،عشرت نے ایک گفٹ ماشی کو پکڑاتے ہوئے کہا۔
“یار سارے گفٹز دیکھ لئیے لیکن تمہارے ایجنٹ کا پتا نہیں چلا یہ لاسٹ ہے۔،،عشرت بالوں کو سائیڈ پر کرتے ہوئے بولی
“کس کا ہے یہ۔۔،،ماشی بیڈ پر لیٹ گئی۔بیٹھے بیٹھے تھک چکی تھی
“ہارش راجپوت۔۔واہ بونے نے کیا گفٹ دیا ہے دیکھیں تو۔،،عشرت نےمسکرا کے گیفٹ کھولنا شروع کر دیا۔
“پائلز ہاہاہاہاہاہاہا۔۔ایک لیٹر بھی ہے۔،،عشرت نے کہکہکا لگاکرکہا
“پڑھو تو کیا لکھا ہے۔۔،،مہک گفٹز کو الماری میں رکھتے ہوئے بولی
“The most important thing is to enjoy your life – to be happy – it’s all that matters.
مجھے امید ہے آپ کو میرا نظرانہ پسند آیا ہو گا۔۔جواب کا منتظر رہوں گا۔
ہارش راجپوت،،عشرت نے اس کی تحریر پڑھی۔
“نائس ہارش اور آسام کا گفٹ اچھا لگا ہے مجھے تو ماشی تمہیں کس کا پیارا لگا۔۔،،مہک پائلز کو پکڑ کر دیکھنے لگی کافی مہنگی لگ رہی تھی
“مجھے سب کا پیار پسند آیا ہے مہنگی چیز نہیں دیکھی جاتی خلوص دیکھا جاتا ہے ۔ان دونوں کے علاوہ بھی میری کلاس نے مجھے گفٹ دیئے ہیں جو مجھے بہت پسند آئے ہیں۔،،ماشی لیٹ کر ایک سائڈ پر کتاب رکھ کر پڑھ رہی تھی۔وہ تینوں بھی کتابیں لے کر بیٹھ گئی۔بہت سی واچز گفٹ ہوئی تھی پر آسام کی واچ الگ تھی ۔اور ہارش کی پائلز ۔اس کے گفٹ میں صرف پائلز ایسی تھی جو صرف ہارش نے دی تھی۔
________
” رکشندہ بیٹا ثوبیہ۔۔۔۔جلدی آئیں وہ آرہا ہے میرا لال آرہا ہے ۔۔سامی بیٹا۔جلدی سے سارا گھر سجوا دو پوری حویلی کو روشن کر دو میرا چاند آ رہا ہے۔،،مسسز رندھاوا بھاگ کر سیڑھیاں چڑھ گئ اور اس کے کمرے کے دروازے کھول دیئے۔کھڑکیاں کھول دی
“ریلی موم کب آ رہا ہے وہ۔کتنی تیاریاں کرنی ہیں۔۔دس سال سے اس کو نہیں دیکھا۔ماما کب آ رہے ہیں۔۔،،رکشندہ خوشی سے بولی۔
“وہ وہاں سے آج روانہ ہو گا میرا لال آرہا ہے۔۔،،مسسز رندھاوا جھوم اٹھی تھی۔
“مسسز رندھاوا۔ کل بہت بڑی پارٹی ارینج کی جائے گی۔ہر امیر انچی انچی شخصیات کو بلائیں گے۔کتنے سالوں بعد وہ آ رہا ہے۔۔،،مسٹر رندھاوا کی آنکھوں میں آنسوں آگئے تھے۔
“ڈیڈ روئیں تو نہ خوشی کا ماحول ہے۔۔،حماد کی بیوی نے کہا۔
“افنان وہ آ رہے ہیں۔،،آسام نے باہر سے آتے افنان کو دیکھ کر کہا
“ریلی وین مجھے ابھی بہت سی تیاریاں کرنی ہیں یاہو۔۔۔،،افنان نے بھنگڑا ڈالنا شروع کر دیا۔
“حماد،جہنگر تم دونوں ساری ارینجمٹ اچھے سے سنبھال لینا میں نہیں چاہتا کوئی کمی رہ جائے۔،،مسٹر رندھاوا نے حکم دیا۔
افنان اور آسام کمرے کی طرف چلے گئے۔
“سامی ایم سو ایکسائٹڈ اب مزا آئے گا میں اور بڈی کیسے آسمان پر اڑیں گے۔یاہو۔۔،،افنان نے خوشی کا نعرہ لگا کر کہا۔
“ابھی تو زمین پر ہی رہو یار بہت سی
تیاریاں کرنی ہیں۔اور ہاں تم ذرا اپنی کرتوتوں پر قابو رکھنا پلیز خوشی کے ماحول میں کوئی بد مزگی پیدا نہ کرنا۔۔،،آسام اس کی کاندھے پر ہاتھ رکھ کر منت بھرے انداز میں بولا۔
“او ہیلو۔سامی بے بی تم مجھے مت سیکھاؤ وہ میرا بڈی ہے۔یاد ہے بچپن میں وہ میرے ساتھ رہتا تھا نہ کہ تمہارے ساتھ بورنگ بوائے۔اور میں ان دس سالوں میں ان کے ساتھ کنٹیکٹ میں رہا ہوں۔۔،،افنان سینے پر ہاتھ باندھ کر بولا۔
“جی بلکل جناب ہم نے تو فون پوکٹ میں ویسے ہی رکھے ہوئے ہیں۔۔،،آسام بھی اسی کے انداز میں بولا تو وہ کھلکھلا کر ہنس دیا۔
ثاقب رندھاوا کی واپسی پر رندھاوا ہاؤس کے درو دیوار چہک اٹھے تھے ہر طرف خوشیوں کا ماحول تھا۔وہ دس سال بعد پاکستان کی سر زمین پر قدم رکھنے والا تھا۔ افنان اور آسام اس کو ایئرپورٹ سے لانے کی پلینگ کرنے لگے ان کا بس نہیں چل رہا تھا وہ ائیرپورٹ سے گھر تک پھول بیچھا دیتے
“ثاقب صاحب آرہے ہیں کوئی کمی نہیں رہنی چاہیے اور ان کے کمرے کو اچھے سے صاف کرنا پتا ہے نہ وہ کتنے نفیس ہیں۔،،ایک ملازمہ نے دوسری کو کہا۔
افنان اور آسام اپنے کمرے میں بیٹھ کر بچپن کی باتیں یاد کرنے لگے۔
تیاریاں شروع ہو گئی تھی۔ جو کہ کل شام تک جاری رہنی تھی۔
______**************______
“شگفتہ میں باہر جا رہا ہوں ایک مہینے تک واپس آ جاؤں گا اپنا اور میرے پیارے بچے کا خیال رکھنا۔۔،،سفر نے چھوٹے سے بچے کے ماتھے پر ہونٹ رکھ کر کہا اور جانے کے لیئے پلٹا شگفتہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔سفر نے پیچھے مڑ کر دیکھا شگفتہ کی آنکھوں میں بہت سارے جذبات تھے سفر نظر نہ ہٹا سکا۔
“سفر آئی لو یو سو مچ۔۔اپنا خیال رکھنا۔اگر کبھی فری ہوں تو کال کر لیجئے گا دل نہیں لگتا آپ کے بغیر۔،،شگفتہ کی آنکھوں میں آنسوں نہیں تھے کیونکہ اس نے بہت سارے آنسوں اپنے اندر اتارے تھے۔
“ہاں شگفتہ میں کروں گا۔۔تم فکر نہ کرو۔۔،،سفر نے اس کے ہاتھ پر اپنے ہونٹ رکھ دیے شگفتہ نے آنکھیں بند کر لی۔سفر چلا گیاتھا وہ آنکھیں نہیں کھولنا چاہتی تھی اگر کھولتی تو پتھر کی ہو جاتی محبوب کو اپنی سوتن کے پاس خود بھیج رہی تھی وہ
“سفر مجھے معلوم ہے تم کہاں جا رہے ہو۔اللہ تمہیں خوش رکھے۔میں کبھی تمہیں نہیں روکوں گی سعدیہ اور تمہارے بچوں کا تم پر حق ہے۔ کیوں کہ وہ تمہاری زندگی میں پہلے آئے ہیں۔چار بچوں کی زمیداری ہے آپ پر سفر میں کبھی بھی نہیں روکوں گی۔،،شگفتہ کے
آنسوں گرے تھے۔بچہ رونے لگا تھا اس نے اسے اٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا۔
“چپ ہو جاؤ میری جان۔۔ بہادر بن جاؤ پتا نہیں کل کیسا ہو گا میں زندہ رہ بھی سکوں گی یا نہیں کون تمہیں یوں سینے سے لگائے گا ۔۔،،وہ ناسمجھ بچے کو گلے لگا کر اسے سمجھا رہی
بچہ روئے جارہا تھا وہ اپنے آنسوں صاف کر کے اسے چپ کروانے لگ گئ۔پر آنسوں تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے وہ خود بھی بلک بلک کر رونے لگی
رونے کا راستہ خود چونا تھا سفر کی محبت میں پاگل ہو کر وہ اس کی ہمسفر بنی تھی پر اس نے بہت کچھ چھپا رکھا تھا شگفتہ سے
______**************______
“ایکسکیوزمی مس ملک۔،،ماشی کامن روم کی طرف جا رہی تھی جب آسام نے اسے پکارا وہ رک کر اسے دیکھنے لگی۔
“یس۔،،ماشی نے فائل پکڑی ہوئی تھی وہ دوسرے ہاتھ میں کر کے سیدھی ہو کھڑی ہوئی۔
“آج رات کو ہمارے گھر پارٹی ارینج کی گئ ہے میرے بڑے بھائی انگلینڈ سے واپس آرہے ہیں۔میں چاہتا ہوں آپ اور عشرت لوگ سب آئیں۔پلیز منع نہ کریئے گا۔،،آسام نے التجاء کی
“بٹ ہم۔۔،،ماشی کچھ اور بولتی عشرت اچانک سے سامنے آ گئ۔
“جی ہم ضرور آئیں گے۔آپ اتنے خلوص سے انوائیٹ کر رہے ہیں منع کیسے کر سکتے ہیں۔،،عشرت نے مسکرا کر کہا آسام شکریہ ادا کر کے چلا گیا
“عشرت میں نے تمہاری جان لے لینی ہے۔۔ہاں کرنے کی کیا ضرورت تھی میں نہیں جا رہی تم ہی جانا۔۔,, ماشی سختی سے بولی اور چل پڑھی۔
“ماشی وہ ہمارا فرینڈ ہے اس نے سب کو انوائیٹ کیا ہے ماہا ،کومل،مہک،ہارش مطلب ہمارے سارے گروپ کو انوائیٹ کیا ہے وہ لوگ تو پلینگ بھی کر رہے ہیں میں تو جاؤں گی۔۔،،عشرت نے چہک کے کہا۔
“تم نے جانا ہے تو جاؤ میں نہیں جاؤں گی اور گروپ کب سے بنا لیا اور وہ ہمارا فرینڈ کب سے بن گیا ذرا مجھے بتاؤ گی۔,,ماشی نے چبا چبا کر لفظ ادا کئے
“جی ہمارا گروپ ہی ہے ہم سب ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔۔اور کل تم نے اس سے گفٹ لیا وہ کیا سوچ کر لیا تم نے۔،،عشرت نے غصے سے کہااور جانے لگی پھر پلٹی
“اور ہاں وہاں شائد تمہارا ایجنٹ بھی آیا ہو سوچ کر فیصلہ کرنا۔۔،،عشرت کہ کر
چلی گئ اس نے واقع ہی ماشی کو سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔ماشی کو ایک منٹ بھی نہیں لگا فیصلہ کرنے میں۔نقاب پوش کے نام پر عشرت اسے منا گئ تھی۔
______**************______
وہ لوگ یونیورسٹی سے جلدی آگئ تھی کیونکہ عشرت لوگوں نے شاپنگ کرنی تھی۔ماشی شوپنگ کرنے نہیں گئ تھی عشرت لوگ چلی گئ۔
“میں رندھاوا ہاؤس جاؤں یا نہیں اور آپ آؤ گے کیا۔،،اس نے میسج سینڈ کیا اور بالوں کے ساتھ کھیلنے لگی۔تھوڑے سے انتظار کے بعد میسج آ گیا تھا.
“میں کیا کہ سکتا ہوں آپ جانا چاہتی ہیں تو چلی جائیں اور اگر ڈنڈھ سکیں تو مجھے ڈھونڈ لیجئے گا۔,,
“یہ پہلیاں کب تک بجھاتے رہیں گے۔اب بس کریں میں تھک چکی ہوں۔،،ماشی نے بے بسی سے میسج سینڈ کیا۔
“ہرپہلی کا جواب خود ڈھونڈا جاتاہے۔,،اس کا میسج پڑھ کر وہ سمجھ گئ۔کہ وہ خود کبھی سامنے نہیں آئے گا اسے ہی سامنے لانا ہوگا
“تو میرے ایجنٹ تمہیں میں بے نقاب کر کے رہوں گی۔،،ماشی بازوں پر منہ رکھ کر مسکرا دی۔
“گھر سے اجازت لی ہی نہیں۔۔،،وہ فون اٹھا کسی کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔
“اسلام علیکم بابا جان۔،،وہ بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے آداب سے بولی
“کیسی ہو میری بیٹی۔،،مسٹر ملک نے پیار سے پوچھا
“جی ٹھیک ہوں آپ سے کچھ بات کرنی تھی پاپا۔۔،،ماشی نے ڈرتے ہوئے کہا۔
“جی میری جان بولیں۔،،انہوں نے وہی پیار بھرے لہجے میں پوچھا۔
“ہمارے ایک گروپ ممبر۔۔،,وہ تھوڑی سہمی سانس لے کر پھر بولی۔
“گروپ ممبر کے ہاں پارٹی ہے آج رات تو کیا۔۔ہ ہم۔،،وہ پھر روک گئی
“ضرور بیٹا آپ جائیں انجوائے کریں اوراپنا خیال رکھنا بیٹا۔،،ملک صاحب نے کال کاٹ دی ماشی اٹھ کر آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
اسے آئینے میں افنان کا سراپا نظر آنے لگا وہ اسے دیکھ کر ہس رہا تھاماشی کے چہرے پر کتنے رنگ آ کر چلے گئے آنکھوں میں ڈر کی لہر آگئ۔وہ اس کے بہت قریب آکھڑا ہوا دیکھتے ہی دیکھتےاس نے ماشی کو اپنی گرفت میں لے لیا
“تو تم آج خود میرے پاس آ رہی ہو میرے گھر۔تمہارا کیا ہو گا معروش ملک۔،،اسے اپنے وجود پر اس کا
لمہس محسوس ہونے لگا تھا۔
“نہیں۔۔،،ماشی نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔
“میں نہیں جاؤں گی۔۔مجھےوہاں بلکل بھی نہیں جانا چاہئے۔جہاں وہ ہو گا۔
اس کے گھر نہیں جانا چاہئے مجھے۔،،ماشی نے خود کو ڈانٹا وہ اپنی بے وقوفی پر پچھتا رہی تھی۔ ایجنٹ کو ڈھونڈنے کا پروگرام اس نے کینسل کر دیا تھا کیونکہ اسے عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا۔
______ **********________
“یہ کیا بات ہوئی دیکھو ماشی آسام نے ہمیں کتنی چاہت کے ساتھ انوائیٹ کیا اور تم اس کمینے انسان کی وجہ سے وہاں نہیں جا رہی ۔یار ہم سب تمہارے ساتھ ہوں گے ہارش بھی جا رہا ہے۔،،عشرت جب سے شوپنگ سے آئی تھی ماشی سے جنگ کر رہی تھی کومل لوگ تیاری کر رہی تھیں۔
“مارکیٹ میں آسام ملا تھا وہ کہ رہا تھاایک گھنٹے تک گاڑی بھیج رہا ہے تم جانا ہے تو ٹھیک ہے نہیں تو ہم جا رہی ہیں۔،،عشرت اٹھ کر واش روم چلی گئی ماشی منہ پھیلا کر بیٹھ گئی۔
“یار میں نہیں جانا چاہتی پلیز فورس نہ کرو۔۔،،ماشی نے التجاء کی
“یار ہم آسام کے گھر جا رہے ہیں تم یہ سوچو افنان کو گولی مارو۔،،مہک گلے میں نیکلس ڈالتے ہوئے بولی
“دل تو کرتا ہے سچ میں گولی مار دوں۔۔،،ماشی نے دانت پیس کر کہا
“اور تمہارا ایجنٹ بھی تو ہو گا وہاں۔،،کومل اس کے پاس بیٹھ کر بولی
“ہاں مانا ایک بار وہ نہیں آیا کیونکہ اسے کوئی مجبوری ہو گی یار۔۔،،مہک آئی میک اپ کرتے ہوئے بولی ماشی سوچ میں پڑھ گئ۔
“مجھے جانا چاہئے کیا۔پر میں کیوں جاؤں اتنا ضروری تو نہیں اور اگر وہ مجھے ملنا ہوا تو مل جائے گا۔،،ماشی نے سوچا اور لیٹ گئ۔
“میں نہیں جا رہی تم لوگ جاؤ۔,،وہ کمبل کھینچ کر بولی۔
“واٹ نون سینس یار تمہیں شرم آنی چاہئے۔آسام تمہاری کتنی رسپیکٹ کرتا ہے تمہیں یہ۔،،عشرت نے گھڑی ماشی کے بیڈ پر پھینکی
“یہ اتنا مہنگا تحفہ اس نے تمہیں دیا اس کا حساب واپس کرنا ہے یا نہیں جلدی
اٹھو اور ریڈی ہو جاؤ۔اب تمہاری ایک نہیں سنو گی۔ڈرامے کیئے جا رہی ہو۔،،عشرت اس کے اپر سے کمبل اتار دیا ماشی اس کا غصہ دیکھ کر چپ چاپ اٹھ کر بیٹھ گئی۔
“اب میرا منہ مت دیکھو یہ میں لائی ہوں آسام کے بھائی کے لئے تم دینا۔،،عشرت نے ماشی کے ہاتھ میں گفٹ پکڑا کر کہا۔
“اوکے۔۔،،ماشی اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔اور واش روم چلی گئی بے دلی سے تیار ہونے لگ گئ۔اس نے لمبی عربی میکسی پہنی ہوئی تھی اپر حجاب میں روشن چہرہ چمک رہا تھا پر اس کی سمائل کی کمی تھی۔
“یہ بوتھی ٹھیک کرو اپنی۔۔،،عشرت نے غصے سے کہا
“اب سانس بھی تمہارے حکم پر لوں کیا۔۔،،ماشی چڑ کر بولی۔
“بلکل آج تم سانس بھی میرے حکم پر لو گی۔ڈرپوک لڑکی ایک غونڈے سے ڈر کر بیٹھی ہے۔،،عشرت نے اس کے سر پر تھپکی رسید کر دی
“مت بھولو کہ تم اسی غونڈے لوفر کے گھر جا رہی ہو۔۔،،ماشی نے منہ سکوڑ کر کہا۔
“اوہ ریلی میں بلکل بھی نہیں بھولی کہ میں آسام کے گھر جا رہی ہوں تم بھی یہ یاد کر لو۔۔چلو اب گاڑی آگئ ہے۔،،عشرت اپنا فون اٹھا کر چل دی۔ماشی بھی پیچھے چل پڑھی۔
“اور ہاں یہ جو بوتھی لٹکائی ہوئی ہے اسے ٹھیک کر لو۔،،عشرت نے اس کے منہ کے گرد انگلی سے دائرہ بناکر کہا مہک اور کومل کی بے اختیار ہنسی نکل گئی۔
اور وہ چلنے لگ گئ۔
“ارے آپ تو خود ہی آ گئے۔۔،،عشرت کی بات پر ماشی نے سر اٹھا کر سامنے گاڑی کے ساتھ کھڑے آسام کو دیکھا اور پھر سے اپنی پیرؤں میں آرہی میکسی کو اٹھا کر چلنے لگی
“سوچا آپ لوگوں کو کوئی تکلیف نہ ہو۔مس ملک آپ بھی آ رہی ہیں۔،،آسام نے حیرانگی سے پوچھا۔
“جی نہیں میں تو باہر ٹہلنے جا رہی ہوں۔،،ماشی پہلے ہی غوصے سے تپی ہوئی تھی آسام کی بات پر بھڑک پڑھی۔
عشرت نے آسام کو مزید بولنے سے روکا تو وہ ان کے لیئے دروازہ کھول کر خود ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ گیا۔
“پتا نہیں مجھے وہاں جانا بھی چاہئے یا نہیں۔،،ماشی نے خوفگی سے سوچا۔
اور باہر دیکھنے لگی۔
__
______ **********________
گاڑی رندھاوا ہاؤس کے سامنے آ رکی
“واؤ واؤ۔۔۔سو نائس اینڈ ونڈرفل۔عشو یہ گھر تو تم لوگوں کے گھر سے بھی بڑا ہے۔،،مہک نے عشرت کے کان میں گھس کر کہا۔
عشرت نے اسے کہنی ماری رندھاوا ہاؤس پورا چمک رہا تھا اندر باہر کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں روشنی نہ ہو آخر مسسز رندھاوا کا چاند واپس آیاتھ
“چلیں۔۔،،آسام نے ہاتھ کا اشارہ اندر کی طرف کیا معاشی خوفگی سے ہاتھ ملنے لگ گئ۔
“چلو بھی۔،،عشرت اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے جاتے ہوئے بولی۔پیچھے حال میں سب جمع تھے۔ وہ لوگ بھی جا کے کھڑی ہو گئی
“ہائے لیڈیز۔۔،،ہارش ہاتھ میں گلاس لئے ایک ہاتھ براؤن پینٹ کی جیب میں ڈالے کھڑا تھا سکائے کلر کی شرٹ میں وہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔
“لیڈیز کسے بولا انکل۔،،عشرت مہک اور کومل ایک ساتھ بولی ہارش تھورا پیچھے ہوا اور ڈرنے کی ایکٹنگ کرنے لگا
جس پر چاروں کی ہسی نکل گئی
ماشی کی نگاہیں ایک انسان کو ہی ڈھونڈ رہی تھی۔
“ہائے سویٹ ہارٹ۔۔،افنان اس کے پاس آکر بولا تو وہ چونک گئی افنان پینٹ شرٹ میں ملبوس تھا اور شرٹ کے اپر والے دو بٹن کھولے ہوئے تھے لگ تو وہ ہینڈسم رہاتھا تھبی بہت سی نظروں کا مرکز تھا پر ماشی نے اس کو نفرت سے دیکھا وہ ماشی کے سر کو دیکھنے لگا پر پٹی نظر نہ آئی اس سے پہلے افنان کوئی حرکت کرتا اآسام آگیا
“افی بھائی کہاں ہیں چلو کے کے آتے ہیں ڈیڈ انتظار کر رہے ہیں۔،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتا آسام أکر اسے لے گیا
ماشی ایک طرف جا کر بیٹھ گئی عشرت لوگ بھی اس کے پاس جا کر بیٹھ گئ۔
“معروش کیسی ہو۔۔،،بھابھی اسے دیکھ کر اس کی طرف بڑھی تھی ماشی اٹھ کر ان سے گلے ملی۔
“چلو میرے ساتھ۔۔،،بھابھی اس کا ہاتھ پکڑ کر ساتھ لے گئ۔
“یہ کون تھی اور ماشی کو کیسے جانتی ہیں۔،،مہک حیران ہو بولی۔
“وہ ماشی ملک ہے ملکوں کی رانی کو کون نہیں جانتا۔ہاپاہاہا،،کومل نے کہکہکا لگاکرکہا
“ایک جویلری شاپ میں ملاقات ہوئی تھی۔ان کی اور معاشی کی۔،،عشرت نے بتایا۔بھابھی ماشی کو کسی کے ساتھ انڈرڈیوس کروا رہی تھی ماشی مسکرا کر جواب دیے رہی تھی۔
“ثاقب آگیا واؤ کتنا ہنڈسم ہو گیا ہےافففف ،،ایک لڑکی نے بھابھی
کو سیڑھیوں سے اترتے ہوئے ثاقب کی طرف متوجہ کیا تو ماشی نے بھی مڑکر اسے دیکھا۔
سفید روشن چہرہ بہت خوبصورت تھا وہ سب اس کی طرف متوجہ تھے
گہرے براؤن بالوں کو پف بنایا ہوا تھا آنکھوں پہ نظر کا چشمہ لگا ہوا تھا پینٹ کوٹ میں ملبوس وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھا کر سیڑھیاں اتر رہا تھا ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ سجائے وہ سب کو دیکھ ۔رہا تھا
“ویلکم بیک مائی سن ۔۔،،مسٹر رندھاوا نے اسے گلے لگا کر کہا
میڈیا والے اس کی تصویریں بنا رہے تھے
” اٹینشن پلیز یہ میرا انٹیلجنٹ سن انگلینڈ کی انڈسٹری کااونر چھوٹی سی عمر اتنی بڑی فیکٹری کو سمبھالا۔اور اب یہاں کچھ مہینوں کے لئے آیاہے۔،،،مسٹر رندھاوا اس کو سب سے انڈرڈیوس کروا رہاتھا
“بھابھی واش روم کس طرح ہے۔،،ماشی نے بھابھی سے پوچھا۔
“اپر جا کررائٹ سے لیفٹ پرلاسٹ کمرہ میرا ہے ادھر جاکر ٹچ اپ بھی کر لینا۔،،ماشی سر ہلا کر پیچھلی سیڑھیاں چڑھنے لگی سب کی اس کی طرف کمر تھی۔
“ارے پتا نہیں بھابھی رائٹ بولی تھی یا لیفٹ۔۔،،وہ اپر جاکر کنفیوژ ہو گئی اور رائٹ پر چلی گئی۔واش روم جاکر جب واپس آئی تو باہر کوئی لڑکا کھڑا تھا شرٹ اتاری ہوئی تھی۔ماشی کا منہ کھول گیا
“اوہ شیٹ شرٹ پہنیں پلیز۔۔،،ماشی نے منہ پھیر کر کہا
“آپ یہاں کیا کر رہی ہیں ایک منٹ۔،،آسام اس کی آواز سن کر چونک گیا تھا اور وارڈروب کھولنے لگا
“یہ بھابھی کا کمرہ ہےانہوں نے رائٹ سے لیفٹ نہیں لیفٹ سے رائٹ نہیں نہیں پتا نہیں۔۔،،ماشی آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہڑبڑائی اور سوالیہ انداز میں بولی
“مس ملک آپ غلط سائڈ پر آگئ ہیں لیفٹ کی بجائے رائٹ آگئ یہ میرا کمرہ ہے۔،،آسام شرٹ پہن کر بولا۔
“اب آپ منہ ادھر کر سکتی ہیں۔،،آسام شرٹ کے بازو فولڈ کرتے ہوئے بولا ماشی ویسے ہی ڈرتے ہوئے پیچھے مڑی ماشی نے ہاتھ تھوڑا سا پیچھے کر کے دیکھا آسام کو شرٹ میں ملبوس دیکھ معاشی نے منہ سے ہاتھ ہٹا لیئے۔
“ایم سوری میں بھابھی کے روم میں جانا چاہتی تھی بٹ۔۔،،ماشی نے نظریں جھکا کر ہی کہا۔۔
“اٹس اوکے۔،،آسام نے مسکرا کر کہا
“اوکے میں چلتی ہوں۔،،ماشی نے جانے کے لئے قدم بڑھایا ہی تھا کہ اس کا پاؤں
اپنے پاؤں سے ہی اٹکا گرنے ہی لگی تھی جب آسام نے اسے سنبھال لیا تھا سنبھال کر
“سنبھال کے۔۔،،ماشی نے آسام کے کاندھے پر ہاتھ رکھ لیا آسام نے ماشی کی کمر پر ہاتھ رکھ لیا تھا ماشی کو پہلے دن والا واقع یاد آگیا تھا جب آسام نے اسے کہا تھا سنبھال کر
“ایم سوری۔۔،،آسام اسے کھڑا کرنے لگا پر ماشی پھر سے لڑکھڑا گئ۔اور ڈرتے ڈرتے آسام کے کاندھے پر ہاتھ رکھ لیاماشی نے پہلی بار آسام کی آنکھوں میں دیکھا تھا اور پھر نظریں موڑ لی
“ایم سوری۔،ماشی سیدھی ہوتی بولی۔اتنے میں افنان آگیا وہ حیران ہو کر ماشی اور آسام کو دیکھنے لگا پھر مسکرا کے ان کی طرف بڑھا ماشی ہڑبڑا کر کھڑی ہو گئی۔۔
“واہ واہ کتنی شریف ہو تم سیدھی کمرے میں۔،،افنان تالی بجا کے بولا ماشی نے افسردگی سے اسے دیکھا
“افنان تمیز سے بات کرو۔،،آسام نے غصے سے کہا
“واہ محبوبہ کے پیچھے بھائی سے لڑائی کرو گے نائس میرے بھولے سے بھائی کے ساتھ رومانس کر رہی ہو میں مر گیا ہوں کیا ہاہاہاہا۔،،افنان نے کمنگی کا مظاہرہ کیا
“افنان حد میں رہو .,, آسام نےبغیر کچھ سوچے سمجھےافنان کو زور کا تھپڑ مار دیاماشی منہ پہ ہاتھ رکھ کر کھڑی ہو گئی
“واہ بھائی آج اس لڑکی کے لئے آپ نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔اور تم،،وہ ماشی کی طرف گھوما
“تم دفاع ہو جاؤ یہاں سے ابھی اسی وقت نہیں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔،،اس نے ماشی کو انگلی دیکھا کر کہا افنان کی آنکھیں لال ہو گئ تھی غصے سے کان بھی لال ہو گئے تھے ماشی ڈر کر پیچھے چلنے لگی
“افنان سٹوپ اٹ۔۔،،آسام نے افنان کو کاندھے سے پکڑ کر پیچھے دھکیلا۔ماشی نے باہر کی طرف دھوڑ لگا دی۔وہ بھاگ کر سیڑھیاں اتر تھی سامنے کھڑے ثاقب سے ٹکرائی تھی
“کیا ہوا۔،،ثاقب حیرانگی کے عا لم میں بولا ماشی نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈال کر پھر سے بھاگ گئ بہت سی آوازوں نے اس کا پیچھا کیا تھا پر وہ رکی نہیں تھی افنان کی باتوں نے اسے اندر تک ہلا دیا تھا۔افنان حد سے زیادہ گرتاجارہاتھا
