Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 20)

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry

ابھی ابھی وہ لوگ سویزیلینڈ کے مشہور ہوٹل میں پہنچےتھے افنان نے سارے انتظامات پہلے سے ہی کر رکھے دئیے تھے

آتے آتے سب کے ہاتھ پاؤں سن ہو چکے تھے۔۔

افنان نے کمرے آل ریڈی بک کر رکھے تھے۔

وہ لوگ اپنے کمرے میں گھس گئے۔

افنان کپڑے چینج کر کے بیڈ پر جا لیٹا۔

اس کے سر میں شدید درد ہونے لگا تھا

وہ سر کو دبانے لگا۔۔پھر اچانک اس نے اپنے ہاتھوں پہ کوئی نرم و ملائم ہاتھ محسوس کیا۔اس نے چونک کر آنکھیں کھول لی۔اس کا سر ماشی کی گود میں تھا ماشی کی انگلیاں اس کے سر میں چل رہی تھی۔ماشی کے چہرے پہ مسکراہٹ نمودار ہو گئ

افنان نے آنکھیں بند کر لی

“مجھے پتا ہے یہ خواب ہے۔۔۔۔اور مجھے یہ بھی پتا ہے کہ میں یہ سچ ضرور کروں گا ماشی صرف میری ہے۔۔ہاں ہے مجھے اس سے محبت۔۔اور وہ لوچا۔۔ہارش اس کے قابل ہی نہیں ۔چاندنی اور افنان پرفیکٹ کپل۔،،وہ ماشی کے گرد بازو حائل کر کے آنکھیں بند کر کے بول رہا تھا اسے ڈر تھا کہیں ماشی غائب نہ ہوجائے۔۔۔

“اور اگر تم مجھ سے نفرت

کرو گی تو۔۔۔۔۔تو میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں کبھی نہیں۔۔۔،،وہ اٹھ کر بیٹھ گیا غصے سے پاگل ہو رہا تھا وہ۔۔اٹھ کراس نے اپنا بیگ کھولا اور ماشی کا دوپٹہ لے کر بیٹھ گیا۔اس نے پیار سے ڈوپٹے کو دیکھا اور اسے منہ پہ پھیلا لیا ماشی کی خوشبو ابھی تک آرہی تھی۔

افنان کو پتا بھی نہیں چلا کب وہ نیند کی آغوش میں چلا گیا۔۔

اس پہ ایک عجیب سی ضد یا جنون سوار تھا وہ کیا کرنا چاہتا تھا یہ کون جانتا تھا شائد وہ خود بھی نہیں جان سکا۔

*************

“آسام یہ۔۔۔یہ لوکیشن کہاں کی ہے۔۔

۔۔،،حماد کو آسام نے لوکیشن سینڈ کی تھی تو۔بھاگ کر اس کے کمرے میں آیا تھا

“میرے سسرال کے گھر کی۔۔،،آسام نے ہسی دبا کر کہا۔

“ت۔۔تم کس سے شادی کرنا چاہتے ہو۔۔،،حماد نے اس بار اطمینان سے پوچھا۔

“لڑکی سے, بھائی کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ۔۔،،آسام نے سنجیدگی سے جواب دیا

“آسام سٹوپ اٹ۔۔۔میرے ہر سوال کا ٹھیک سے جواب دومذاق کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں میں۔۔،،حماد قدرے چینخ کر بولا۔آسام نے سر ہلا دیا

“کیا نام ہے لڑکی کا کس کی بیٹی ہے ۔۔،،حماد نے مختصر سا سوال کیا

“معروش ملک نام ہے اور مشہور ڈاکٹر اصغر ملک کی بیٹی ہے اور کچھ۔۔،،آسام اٹھ کر لیپ ٹاپ چلاتے ہوئے بولا۔حماد کا رنگ اڑ گیا اور وہ الٹے پاؤں کمرے سے نکل گیا۔

آسام نے مڑ کر دیکھا پر حماد جا چکا تھا۔

“بھائی کو کیا ہوا۔۔۔،،آسام نے ناسمجھی سے شہانے آچکا کر پھر سے لیپ ٹاپ میں گھس گیا۔

“جاہنگیر بھائی۔۔آ۔۔س۔۔آسام ۔،حماد بھاگ کر جاہنگیر کے کمرے میں گیا تھا وہاں اپنی بھابی کو دیکھ کر چپ ہو گیا۔

“بھابھی آپ باہر جائیں گی تھوڑی دیر کے لئے مجھے بھائی سے کچھ بات کرنی ہے۔،،حماد نے لہجے کے توازن کو برقرار رکھ کر کہا تو وہ کمرے سے چلی گئی

“کیا ہوا گھبرائے ہوئے کیوں ہو۔۔۔۔،، جاہنگیر نے فکر مندی سے سوال کیا۔

“یہ لوکیشن دیکھو آسام

کی محبت اس حویلی میں ہے۔۔،،حماد نے سر پکڑ لیا اور بیڈ پر تقریباً گر گیا۔

“اس کا کچھ نہیں ہو سکتا حماد۔۔۔یہ شادی کبھی نہیں ہو گی۔۔۔وہ نہیں مانیں گے۔۔یہ کیا کیا آسام نے۔۔۔اپنے ہاتھوں سے اپنا اور اپنی محبت کا گلا گھونٹ لیا۔۔،،جاہنگیر بھی حماد کے ساتھ بیٹھ گیا۔

“نہیں ۔۔۔ہم جائیں گے۔۔۔ پاسٹ آسام کی زندگی برباد نہیں کر سکتا۔۔۔میں نے جب انہیں ہوسپٹل میں دیکھا تھا اور میرا دل کیا تھا ان کے گلے لگ جاؤں پر۔۔۔،،حماد کہتے کہتے رک گیا۔۔جاہنگیر پریشان ہو کر اسے دیکھنے لگا۔

“اگر۔۔اگر یہ رشتہ نہ ہوا تو آسام ٹوٹ جائے گا اور اگر ماما پاپا وہاں جائیں گے تو۔۔،، جاہنگیر نے پریشان ہو کر کہا۔

“ماما پاپا وہاں گئے تو ان کو وہ لوگ ماریں گے نہیں بیٹا۔۔۔وہ آپ کے پاپا کی طرح کسی کی جان نہیں لیتے۔۔،،پتا نہیں وہ کہاں سے آگیا تھا۔حماد اور جاہنگیر نے پریشان ہو کر اپنے باپ کو دیکھا جو ساری باتیں سن چکا تھا

“نہیں ڈیڈ آپ نے کسی کی جان نہیں لی۔۔کب تک خود کو اس جرم کی سزا دیں گے جو آپ نے نہیں کیا۔۔،، جاہنگیر اٹھ کر ان کے پاس گیا۔

“ہاہاہاہاہاہاہا سفر رندھاوا۔۔ آج اپنے بیٹے کی محبت کی رکاوٹ بن کر رہ گیا ہے۔جسے ۔کاش میں بھی تب مر۔۔،،

“نہیں ڈیڈ ایسے مت کہیں پلیز۔۔،،وہ کچھ اور بولتا اس سے پہلے حماد نے انہیں ٹوک دیا۔

“ہم چلیں گے۔۔تم آسام کو کچھ مت بتانا میں نہیں چاہتا وہ اپنے باپ سے نفرت کرنے لگے۔،وہ بیڈ پر بیٹھ گئے تھے شرم سے آنکھیں نہیں اٹھا پا رہے تھے

جاہنگیر اور حماد دونوں اس کے اطراف میں بیٹھ گئے تھے۔

“کاش میں نے اتنے سال پہلے وہ غلطیاں نہ کی ہوتی کاش آخری غلطی ہی نہ کرتاتو آج۔۔میرے بیٹے کی محبت کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ آتی ۔،،سفر نڈھال ہو گیا تھا۔یکدم اس کے دل میں درد ہونے لگا تھا۔

“ڈیڈ سنبھالیں خود کو پلیز۔۔،جاہنگیر نے ان کو پکڑ لیا حماد باہر بھاگا تھا۔کچھ دیر میں وہ ان کی میڈسنز لے کر اندر آیا تھا۔

“تم لوگ تیاریاں کرو

میں تمہاری ماں سے بات کرتا ہوں۔،،سفر تھوڑی دیر بعد اٹھ گیا تھا

حماد اور جاہنگیر خود کو دیکھ کر رہ گئے ۔

پتا نہیں اب کیا ہونا تھا۔۔

پتا نہیں وہ لوگ ماننے بھی تھے یا نہیں۔وہ دونوں سر تھام کر بیٹھ گئے تھے۔

قسمت پھر سے سفر کو اسی چوکھٹ پہ لے جا رہی تھی جس چوکھٹ کے اندر بسنے والی ایک عورت کی اس نے زندگی ویران کر دی تھی اس سے سب کچھ چھن لیا تھا۔اب وہ کس منہ سے جائے گا اپنے بیٹے کے لئے اسی گھر کی لڑکی کا رشتہ مانگنے۔۔وہ یہ سوچ سوچ کرمر رہا تھا۔

___****

“بائمہ اچھی سی چائے بناؤ بیٹا مالک آئے ہیں ۔۔,،،اس کا خالو چھوٹے سے صحن میں آ کر بولا تھا وہ دو چھوٹے چھوٹے کمروں کے سامنے بنے برآمدے میں بیٹھی اپنی خالہ کا جوڑا سلائی کر رہی تھی۔

“اچھا خالو۔۔۔پنار باہر سے دودھ پکڑ لا۔۔،،بائمہ منہ سے دھاگہ کاٹتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔

اورچھوٹے سے کچن میں گھس گئ۔

چھوٹا سا کچن جس میں دم گھٹ جائے بندے کا پر بائمہ کو عادت تھی۔

وہ چائے بنا کر بیٹھک کا دروازہ کھٹکھٹانے لگی۔

“خالو چائے پکڑ لیں۔۔،،وہ مدھم آواز میں بولی۔خالو نے دروازہ کھولا اور چائے پکڑنے لگا۔بائمہ کی نظر جب اندر پڑھی

اندر بیٹھے ثاقب نے بھی اسی پل باہر دیکھا تھا۔ثاقب کی آنکھوں میں کچھ تھا یا نہیں

پر بائمہ کے ہاتھ کانپ گئے وہ جلدی سے واپس بھاگ آئی

“یا خدا وہ مجھے نہ پہچانے کبھی نہ پہچانے۔۔،،وہ چارپائی پر کپڑے سلنے کے لئے بیٹھ گئ۔

“آہ۔۔،،وہ بے دھیانی میں ہاتھ مشین کی سوئی کے نیچے لے گئ تھی سوئی پوری طرح اس کی شہادت کی انگلی میں پھنس گئ تھی۔وہ صرف ایک آہ ہی کر کے رہ گئ۔پھر بے دردی سے انگلی میں سے سوئی نکالنے کی کوشش کرنے لگی بہت خون بہنے لگا تھا پر اسے پرواہ کہاں تھی۔ زندگی نے اسے کتنے دکھ درد سے دوچار کیا تھا۔

“آپی۔۔۔خالو آپی کے ہاتھ مشین میں آ گیا ہاتھ سے بہت خون

نکل رہا ہے۔۔،،پنار گیند کے ساتھ کھیل رہی تھی ۔اس کے ہاتھ سے گیند گر گئ تھی۔وہ بھاگ کر بائمہ کے پاس آئی بائمہ نے چپ رہنے کو کہا پر بچی گھبرا گئ تھی۔پنار رونے لگ گئی ۔

خالو بھاگ کر باہر آئے تھے اس کی خالہ تو جوان بیٹوں کی موت کا صدمہ برداشت نہیں کر سکی تھی۔اور بیمار ہو گئ تھی۔

“ارے باؤ اندھی ہو گئ ہو کیا۔۔اب یہ کیسے نکالوں میں ۔۔،،خالو اس کی انگلی کو دیکھ کر کانپ گیا تھا اپنے بچوں کا خون اس کی آنکھوں کے سامنے آنے لگا تھا وہ نیچے بیٹھ گیا۔

“خالو فکر نہ کریں ابھی ٹھیک ہو جائے گا۔۔معمولی سی چوٹ ہے۔،،بائمہ پھر سے انگلی سے سوئی نکالنے لگی درد کےمارے چہرہ پسینے سے بھیگ گیا تھا۔ ثاقب بیٹھک میں بیٹھا سارا شور سن رہا تھا۔خالو اٹھ کر بیٹھک میں چلا گیا اور ثاقب کو بلا لایا اندر آنے کا دروازہ اتنا چھوٹا تھا کہ ثاقب کو جھک کر گزرنا پڑا۔

“بیٹا اس کو ڈاکٹر کےپاس لے جاؤ یہ سوئی نکالو بہت خون نکل گیا ہے۔ آج اگر اس کے بھائی زندہ ہوتے تو آپ کو تکلیف نہ دیتے مہربانی ہو گی بیٹا۔،،خالو نے التجاء کی۔

ثاقب چارپائی کے ایک طرف بیٹھ کر اس کے ہاتھ کو دیکھنے لگا اور پھر چہرے کو بائمہ کے چہرے پہ درد تھا آنکھوں میں بھی درد تھا

پر وہ چپ کر کے بیٹھی تھی اس کی جگہ کوئی اور ہوتی تو اب تک بے ہوش ہو جاتی

ثاقب نے اس کی کلائی کو پکڑ کر آرام سے سوئی مشین سے الگ کر دی

“ڈاکٹر سے نکلوا لیں گے گھر نکالی تو تکلیف ہو گی۔چلیں پنا بیٹا آپی کی چادر لے آؤ۔ ،،

بائمہ اٹھ کر ثاقب کے ہمراہ چل دی پنار ابھی بھی خون دیکھ کر رو رہی تھی۔بائمہ نے اپنی چادر کو ہاتھ سے منہ پہ بھی کر رکھا تھا۔

“اتنا صبر کس میں ہوتا ہے یار مجھے یہ لڑکی انسان تو نہیں لگتی۔۔،ثاقب نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے سوچا۔۔پاس ہی ایک کلینک تھا کچھ دیر میں وہ وہاں تھے ڈاکٹر نے سوئی نکال دیی تھی۔اور پٹی وغیرہ بھی کر دی تھی۔۔

“آپ جا سکتے ہیں ہم خود گھر چلی جائیں گی چلو پنار۔،،بائمہ حد درجے تک بے مروتی سے بولی ثاقب کو برا بھی نہیں لگا اور حیرانگی بھی نہیں ہوئی کیونکہ جتنی بار وہ لوگ ٹکرائے تھے بائمہ کاٹ کھانے کو دھوڑتی تھی۔ثاقب سر جھٹک کر باہر کی طرف بڑھ گیا۔

گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے بھی وہ سوچ رہا تھا کہ بائمہ کو پہلے کہاں دیکھ چکا ہے پر چہرے کے علاوہ کچھ یاد نہیں آرہا تھا اسے

یہ اس کی عادت تھی جب کوئی چیز پریشان کرتی تو وہ اس کی جڑ تک جاتا تھا ورنہ اسے نہ سکون ملتا تھا نہ چین۔

کراچی والی فیکٹری پوری طرح جل کے راکھ ہو گئ تھی لیکن کچھ ایسے ثبوت ملے تھے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی تھی۔

“ہیلو۔ پتا چلا کچھ آئی نو یہ پروف کافی نہیں ہیں پر آپ لوگ کوشش تو کریں۔۔،،ثاقب کو اب غصہ آ گیا تھا پیچھلے کچھ دونوں سے وہ کراچی تھا۔۔اس نے اچھے سے سب کچھ سنبھل لیا تھا اور گھر میں کوئی ٹی وی اون نہیں کرتا تھا۔نہ ہی کسی نےبات کی تھی

وہ گاڑی روڈ پر لا کر گاڑی کو اڑانے لگا تھا۔۔کیونکہ کل وہ لوگ لاہور جانے والے تھے آسام کے لئے ماشی کو مانگنے۔۔

“افی اٹس نوٹ فیئر یار تم سویزیلینڈ چلے گئے تمہیں پتا ہے۔۔،،اس سے پہلے آسام کچھ اور بولتا کال کٹ گئ۔

“شائد سگنل پروبلم ہو گا۔۔،،آسام نے سوچا اور گاڑی سٹارٹ کر لی وہ ہارش کے پاس جا رہا تھا اسے اس کے فلیٹ سے پیک کرکے یونیورسٹی جانا تھا۔

فلیٹ کے سامنے وہ گاڑی روک کر چابی گھماتا اور گنگناتا اندر کی طرف بڑھ گیا آسام کے چہرے پہ خوشی تھی۔آنکھوں میں عجیب سا اثر تھا

“ارے واہ واہ۔آج بڑے خوش لگ رہے ہو سم تھینگ سپیشل۔،،ہارش ابھی نائٹ ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھا۔

“ہاں بھائی۔۔اب بس میری ساری دعائیں قبول ہونے والی ہیں۔،،آسام صوفے پر بیٹھ کر بولا۔

“ایسی کون سی دعائیں مانگتے ہو تم جس کی قبولیت پہ اتنے خوش ہو رہے ہو۔۔،،ہارش سامنے بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگا۔

“جس کو دعاؤں میں مانگا وہ ملنے جارہی ہے مجھے ماشی۔،،آسام نے مسکرا کر ماشی کے نام پر بات کا اختتام کیا

تھا ہارش منہ میں نوالہ ڈالنا بھول گیا ۔

“کیا وہ آفت مانی کیسے یار۔۔،،ہارش نے نوالہ رکھتے ہوئے کہا۔آسام مسکرا دیا۔

“مطلب معاملہ لو شاو کا ہے۔۔،،ہارش نے اس کی مسکراہٹ سے اخذ کر لیا تھا آسام نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلا دیا۔

ہارش چپ چاپ اس کے پاس آکر بیٹھ گیا اور ایک جھٹکے سے اس پہ کیچپ کی بوتل انڈیل دی۔

“یہ تمہاری سزا ہے بڑے بغیرت نکلے تم تو چوری چوری عشق کر لیا مجھے بتایا نہیں ڈوب کے مر جاؤ دوست کہتے ہو اور اپنا اتنا بڑا راض نہیں بتایا۔۔،،ہارش اسے ٹانگوں میں دبا کر مارنے لگا ہوا تھا۔

“چوری چوری کہاں سب کو پتا چل گیا ہے تمہاری پہنچ ہی اتنی تھی تو پتا کیسے چلتا۔۔،،آسام نے اسے زمین پر گرا دیا اور کیچپ کی بوتل اٹھا کر اس کے چہرے پر گرانی شروع کر دی۔

“ہاں ہاں ا۔۔اب تم نے یوں ہی کہنا ہے میسنے،لگتا نہیں تھا تو ایسی حرکت کرے گا۔۔،،ہارش اس کی گرفت سے آزاد ہونے لگا تھا آسام کی ہسی نہیں روک رہی تھی ہارش کا چہرا دیکھ کر اور ہارش بھی اپنی ہنسی کو کنٹرول کر کے اس سے لڑنے میں بزی تھا۔

“چلو اب اٹھو بہت ہو گئ لڑائی اب گلے مل لو ۔۔۔،،ہارش اسے دھکیل کر کھڑا ہو گیا اور اسے گلے لگا لیا۔

“مبارک ہو سامی بےبی۔۔

ویسے جب تم بےبی کا پاپا بنو گے تب بھی تم بےبی ہی رہو گے۔۔،،ہارش نے اس کو گدگدی کرتے ہوئے کہا تھا آسام ہسنے لگا

“ماشی بھی تمہیں بےبی بولے گی۔۔یا پتا ہے کیا ۔بےبی کے پاپا بےبی سنتے ہو جی۔۔ایک پیمپر لانا۔۔ہاہاہاہا۔۔ہیپی پیمپر لائف بیٹا۔۔،،ہارش نے آسام کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا تھا

“ہاہاہاہا۔۔۔شرم کرو۔۔میرے بچوں کے سامنے کچھ مت بولنا ورنہ۔۔،،آسام نے اس کی ٹانگ میں ٹانگ آڑا کر گرا دیا۔

“بس کرو یار اب کوئی ہڈی توڑ کر دم لو گے کیا۔۔،،ہارش ہنستے ہوئے بولا تھا

آسام نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور دونوں صوفے پر گر گئے۔

“اور یہ بتا افنان اور ماشی ایک چھت کے نیچے کیسے رہیں گے۔۔ہاہاہاہا،،ہارش نے ہس کر کہا۔اسے یہ نہیں پتا تھا کہ افنان اور ماشی کے درمیان کیا کیا ہو چکا ہے۔

“رہ لیں گے اب ان کا رشتہ بدل جائے گا۔۔ ایکسپٹ کر لیں گے ایک دوسرے کو۔۔،،آسام اٹھ کر بیٹھ گیا۔دونوں کے کپڑے خراب ہو چکے تھے۔ہارش اور آسام میڈیکل کے نہیں بلکہ کسی چھوٹی کلاس کے اسٹوڈنٹس لگ رہے تھے۔

“آج تمہاری وجہ سے یونیورسٹی پھر سے نہیں جا رہا جب سے ماشی گئ ہے دو تین بار یونی گیا ہوں۔۔،،آسام ٹیبل سےٹیشو اٹھا کر منہ صاف کرتے ہوئے بولا۔

“میں بھی نہیں گیا اور کومل لوگ بھی سیالکوٹ گئی ہوئی ہیں۔ ٹھوکو تالی۔ہاہاہاہا۔۔،،ہارش نے کہکہکا لگاکرکہا۔

“ویسے یار مجھے تمہاری قسمت پہ رشک ہو رہا ہے۔۔معروش ملک جو اچھے اچھے لڑکوں یعنی کہ میں۔۔مجھے گھاس تک نہیں ڈالتی اور تم میسنے کتابی کیڑے اسے اڑا لے گیا۔،،ہارش کو ابھی بھی یقین نہیں ہو رہا تھا کہ واقع ہی معروش اور آسام ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے جا رہے ہیں۔

“دفع ہو۔۔۔،،آسام اسے خود کو گھورتا پا کےدھکا دے کر واش روم چلا گیا ہارش کا کہکہکا بے اختیار نکلا تھا۔آسام بے حد خوش تھا کیونکہ اسے اس کی معروش ملنے جا رہی تھی۔

___***

“مسٹر رندھاوا ہمیں وہاں جانا چائیے کیا۔۔؟؟،،وہ لوگ سارا سامان گاڑی میں رکھ چکے تھے جب مسز رندھاوا نے فکر مندی سے کہا مسٹر رندھاوا اپنی شال کو ٹھیک کرتے رک کر اسے دیکھنے لگے تھے۔

“چلیں ڈیڈ۔۔،،وہ کچھ بولتا ثاقب آ گیا تھا۔ثاقب اپنا کورٹ ایک ہاتھ پہ ڈال کر ان کے پاس آکر رکا۔

“کیا ہوا آپ لوگ پریشان کیوں ہیں۔۔،،ثاقب چشمے کے پیچھے سے دیکھ کر بولا۔

“نہیں بیٹا یہ سوچ رہے ہیں کہ اس نواب کو لے کر جائیں یا نہیں۔۔،،وہ سر اٹھا کر اپر کھڑے آسام کو دیکھ کر بولے تو ثاقب مسکرا دیا۔

“اسے یہاں ہی رہنے دیتے ہیں۔۔،،ثاقب نے اپر دیکھ کر مسکرا کر کہا۔اور وہ لوگ گاڑی میں بیٹھ گئے۔آسام کے چہرے پہ مسکراہٹ سجی ہوئی تھی

جاہنگیر کی وائف ( رکشندہ) افنان اور آسام کے علاوہ سب جا رہے تھے۔

حماد اور جاہنگیر اپنے باپ کے لئے جا رہے تھے انہیں نہیں پتا تھا وہاں کیا ہونے والا ہے۔۔

مسز رندھاوا نے بہت شور شرابہ مچایا تھا پر مسٹر رندھاوا نے صاف صاف کہ دیا تھا کہ جہاں آسام چاہتا ہے وہاں ہی اس کی شادی ہو گی۔۔

راستے میں ثاقب ثوبیہ کے علاوہ کوئی نہیں بولا تھا لاہور تک وہ سب ایسے خاموش رہے تھے جیسے سانپ سونگھ گیا ہو سب کو۔

راستے میں ثاقب نے ایک ہوٹل کے سامنے گاڑی روک دی تھی کھانا کھانے کے لئے وہ لوگ وہاں داخل ہوئے کھانا کھانے کے بعد وہ لوگ پھر سے اپنے راستے پہ روانہ ہو گئے تھے۔

***********************

“ماشی کیسے آرام سے بیٹھی ہو۔۔اٹھ کر کپڑے چینج کر لو فہد کہ رہا تھا تمہارے سسرال والے پہنچنے والے ہیں۔لڑکی کچھ اپنا حولیہ ٹھیک کر لو۔۔،،ماشی بیڈ پر بیٹھی فون پہ انگلیاں ٹائپنگ کے لئے چلا رہی تھی جب عشرت اس کے پاس آئی۔

“ڈیڈ اور موم کب تک آئیں گے۔۔،،ماشی بیڈ سے اٹھ بیٹھی تھی۔

“وہ لوگ آ رہے ہیں میرے فہد نے سب کو پتا نہیں کیسے منا لیا۔۔،،عشرت آئینے کے سامنے اپنی ساڑھی کا پلو ٹھیک کرتے ہوئے بولی۔

“آسٹریلین بلا یوں ہی تو نہیں کہتی میں۔چلاک بہت ہے تمہارا آسٹریلین بلا۔۔،،ماشی نے بلے پہ زور دے کر کہا اور کپڑے اٹھا کر واش روم چلی گئ ۔اس کا بازو ابھی ٹھیک نہیں ہوا تھا نہ ہی سر کی پٹی کھولی تھی چھوٹے موٹے زخم بھر گئے تھے۔

“ماشی آپی کتنی پیاری لگ رہی ہیں اگر ہمارا بہنوئی ساتھ آ رہا ہوا تو مر جائے گا ،،نمرہ باہر سے آتے ہی چینخی تھی۔

“ارے نمی ابھی تیار تو کر لینے دے ابھی تو باہر جا شاباش۔۔،،عشرت نے اسے باہر نکل دیا اور ماشی کو ڈریسنگ کے سامنے بٹھا کر تیار کرنے لگی

“آسام آرہا ہے کیا۔۔،،عشرت اس کے ایک کان میں جھمکا ڈالتے ہوئے بولی۔

“نہیں۔،،ماشی اپنے بالوں میں بورش چلانے لگی تھی۔

“آنکھوں میں اداسی کیسی ہے یہ۔۔،،عشرت اس کو شہانوں سے پکڑ کر بولی۔

“پاپا مان جائیں گے نہ یا پہلے کی طرح پھر سے ایک نہیں دو زندگیاں برباد ہوں گی عشو۔۔،،ماشی اس کی طرف گھوم گئ تھی ۔

“ہاں ماشی فکر نہ کرو وہ مان جائیں گے۔۔،،عشرت اس کو پھر سے گھما کر تیار کرنے لگی تھی۔

“عشو میرے دل کی دھڑکن سن رہی ہو۔۔،،ماشی نے آئینے میں عشرت کو دیکھ کر کہا اس کے بلش اون لگاتے ہاتھ روک گئے تھے

“یہ آسام کی موجودگی کی وجہ سے ہے وہ میرے دل میں دھڑکتا ہے اگر وہ اور میں ایک نہ ہوئے تو مجھے نہیں لگتا کہ یہ دل دھڑکے گا۔،،ماشی پر اطمینان انداز میں بولی اور ڈریسنگ سے چوڑیاں اٹھا کر ہاتھوں میں ڈالنے لگی۔

“یہ دھمکی دے رہی ہو کیا۔تم پاگل ہو۔،،عشرت کا دل کانپ گیا تھا۔

“افففف نہیں یار تمہیں حقیقت بتا رہی ہوں۔۔،،ماشی خود پہ ایک نظر ڈال کر بولی

“نہیں ماشی ایسا کچھ نہیں ہوتا۔۔یہ سب فلموں میں ہوتا ہے ڈراموں اور ناولوں میں ہوتا ہے حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔،،عشرت نے اس کے دونوں پیروں میں پائلز پہنا دی تھی۔

“ہاہاہاہاہاہاہا پھر تم محبت کو سمجھی نہیں ہومحبت کی طاقت کو نہیں جانتی۔۔،،ماشی نے اس کا مذاق اڑایا تھا

“کیا کر رہی ہو تم دونوں۔۔وہ لوگ پہنچنے والے ہیں،،فہد اندر داخل ہوا تھا

“ماشاءاللہ بہت خوبصورت لگ رہی ہو ماسی جی۔،،فہد ہسی دبا کر بولا تھا

“کتنی بار کہ چکی ہوں ماسی مت بولا کرو میں ماشی ہوں۔،،ماشی کرسی سے اٹھ کر اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی لڑنے والے انداز میں وہ

فہد سے بولی تھی۔

“دیکھو مس سٹروم میں تمہارے لئے اتنا کچھ کر رہا ہوں اور تم مجھ سے لڑ رہی ہو۔۔،،فہد نے معصوم سی شکل بنا کر کہا

“تو اب کیا تم پہ پھول برساؤں میں نے بھی تو عشو اور تمہاری شادی کروائی میں نے کبھی جتایا تمہیں۔۔،،ماشی اپنے سر پر ڈوپٹہ ٹکا کر بولی۔اتنے میں دروازے پر بیل ہوئی تھی

“میں دروازہ کھولتا ہوں بچے بھی پیچھلے لان میں ہیں اور موم بھی ابھی تیار ہو رہی ہیں چلو عشرت۔،،فہد اور عشرت باہر نکل گئےفہد نے اپنے براؤن بالوں کو ایک طرف پف کی شکل میں گرایا ہوا تھا

شلوار قمیض کےاپر واسکٹ پہنےوہ شہزادہ لگ رہا تھا۔عشرت بھی شہزادیوں سے کم نہیں لگ رہی تھی وہ ساڑھی زیب تن کئے ہوئے تھی۔پھوٹی چھوٹی جویلری اس نے پہن رکھی تھی آخر ملکوں کی بہو بیٹی تھی۔

ماشی مڑ کر بیڈ پہ بیٹھ گئ تھی اس کا دل دھڑک رہا تھا۔

فہد اور عشرت مسکراتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھ گئے۔

“اسلام علیکم۔۔،،فہد نے دروازہ کھول کر سلام کہا۔باہر کھڑے انسانوں میں جان نہیں لگ رہی تھی۔ ثوبیہ اور ثاقب کے علاوہ سب کے چہرے پر بہت سارے رنگ آ کر جا رہے تھے۔

مسٹر رندھاوا نظریں جھپک نہیں سکا تھا یہ ہی حال تھا حماد اور جاہنگیر کا۔

“اندر آئیں پلیز۔۔،،فہد نے ہاتھ کا اشارہ اندر کی طرف کیا تو ان سب مجسموں میں جان آئی تھی۔وہ لوگ اندر کی طرف بڑھے

“ڈیڈ یہ ہیں ملک فہد سکندر۔۔۔میرے بیسٹ فرینڈ اور آپ کی ہونے والی بہو کے بھائی۔۔اور یہ ان کی وائف عشرت۔۔،،ثاقب نے اندر بیٹھتے ہی ان کا تعارف کروایا تھا۔

“ملک فہد سکندر۔۔،،مسٹر رندھاوا کے دل نے ثاقب کی بات دھرائی تھی

“اور فہد یہ میری فیملی ہے۔۔،،ثاقب نے سب کا مختصر تعارف کروایا تھا۔

“سفر انکل کو کون نہیں جانتا۔۔ہم سب نوجوانوں کےآڈیل ہیں اپنی جوانی میں ہی اتنے مشہور بزنس مین بن گئے تھے ۔۔،،فہد صوفے پہ بیٹھ کر بولا تھا۔عشرت اتنے میں لوازمات سے سجی ٹرالی گھسیٹتی آئی تھی۔

ثاقب فہد اور

ثوبیہ باتیں کرنے لگ گئے تھے مسٹر رندھاوا اور مسز رندھاوا کی نظریں فہد پہ ہی جمی ہوئی تھی حماد اور جہانگیر بھی اس کو ہی دیکھ رہے تھے۔

“باقی گھر والے کہاں ہیں اور ہماری ماشی کو تو سامنے لاؤ۔۔،،ثوبیہ نے کہا تھا۔

“ماموں ممانی کراچی گئے ہوئے تھے بس پہنچنے والے ہیں اور ماما آتی ہیں۔۔

اوربھابھی آپ ماشی کو جانتی ہیں۔،،فہد نے آخری فقرہ حیرانگی سے پوچھا ۔

“جی ہمارے گھر آئی تھی جب ثاقب کی واپسی پہ ڈیڈ نے پارٹی رکھی تھی۔۔تب اس نے ہی ماشی کو انوائیٹ کیا تھا۔۔،،ثوبیہ نے سرگوشی کی تھی۔سب ہسنے لگ گئے تھے

“بھابھی آپ میرے ساتھ چلیں اپنی ماشی کو دیکھ لیں۔،،عشرت ثوبیہ کو ساتھ لے کر ایک طرف چلی گئ وہ دونوں پہلے پھوپھو کے کمرے میں گئ ان کو مہمانوں کے آنے کی خبر دے کر وہ ماشی کے پاس چلی گئی

پھوپھو اٹھ کر ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئ۔

آج صبح سے ان کا دل بے چین تھا پر وہ نہیں سمجھ رہی تھی کیا وجہ ہے۔

“لو ماما بھی آ گئ۔۔،،فہد مسکرا کے اٹھا اور ان کے پاس جا کر ان کو تھام کر لے آیا۔مسٹر رندھاوا سکتے میں بیٹھا تھا مسز رندھاوا کا بھی یہ ہی حال تھا حماد اور جاہنگیر اٹھ کر کھڑے ہو کر انہیں دیکھنے لگے تھے۔تیس سال سے جن کو نہیں دیکھا تھا وہ ان کے سامنے کھڑی تھی۔

ثاقب اٹھ کر ان کے پاس آیا۔وہ نارمل تھا پر اور کوئی بھی نارمل نہیں لگ رہا تھا

وہ بھی سکتے میں کھڑی تھی قسمت نے کہاں لا کر کھڑا کیا تھا۔

“چ۔۔۔چ چھوٹی۔۔،،اس سے پہلے حماد کچھ بولتا جاہنگیر نے اس کا ہاتھ دبوچ دیا۔

“ماما میں ذرا عشرت کو کہ دوں ماشی کو لے آئے۔،،فہد مسکرا کر چلا گیا اس نے کسی کے چہرے کو نوٹ نہیں کیا تھا۔

اگر کر لیتا تو شائد وہ ہلنا بھول جاتا

“ثاقب سامان تو گاڑی سے نکال لاؤ۔۔،،حماد اسےکسی طرح وہاں سے بھیجناچاہتا

تھا۔ثاقب سر ہلا کر باہر چلا گیا

حماد بھاگ کر ان کے سینے سے لگ گیا۔

“چھوٹی ماما۔۔،،حماد اپنے آنسوں پہ قابو نہیں ڈال سکا تھا

“اب تو مجھ سے بڑے ہو گئے ہو پھر بھی روتے ہو بیڈ بوائے۔۔،،وہ حماد کی پیٹھ پہ تھپکی دے کر بولی ۔اس نے جاہنگیر کی طرف دیکھا وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا تھا۔پھر اس نے سفر اور سعدیہ پہ نظر ڈالی وہ ایک ساتھ بیٹھے بالکل بھی نارمل نہیں تھے

“کیسی ہو سعدیہ۔۔،،وہ نارمل انداز میں بولی تھی سفر نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔

“ٹھیک ہوں تم کیسی ہو۔۔ش۔۔شگفتہ۔،،سعدیہ کے لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہو رہے تھے

“تمہارے سامنے ہی ہوں۔۔،،شگفتہ مسکرائی تھی یہ وہی مسکراہٹ تھی جو اس کے چہرے پہ ہمشہ رہتی تھی چاہئے اندر ہزاروں دکھ کیوں نہ ہوتے

“آپ مجھ سے ناراض ہیں کیا جاہنگیر بیٹا۔۔،،شگفتہ نے اسے ہاتھ سے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا تو وہ آہستہ آہستہ چلتا ان کے پاس آ گیا ان کے چہرے کو دیکھنے لگا ان کا چہرہ ابھی بھی ویسا ہی تھا۔سورج کی طرح چمکتا بس تبدیلی آئی تھی تو بالوں میں۔

بال اندر اندر سے سفید ہو گئے تھے

“چھوٹی ماما آپ کیوں آئی تھی۔۔۔میں نے آپ کی منتیں کی تھی ۔۔آپ نے اس رات مجھ سے وعدہ کیا تھا آپ مجھ سے حماد سے ملا کریں گی پر آپ۔۔آپ پھر کبھی نہیں آئی کیوں چھوٹی ماں۔۔۔

پاپا کے بغیر آپ کا ہم سے کوئی رشتہ نہیں تھا۔۔میں اور حماد روز آپ کا ویٹ کرتے تھے روز ۔۔۔روز ۔۔،،جاہنگیر کی آنکھوں میں آنسوں آ گئے تھے وہ جلدی سے آنسوں صاف کر کے بولا

“روز اسکول کے باہر آپ کو ڈھونڈتے تھے روز آپ کی آواز کو یاد کرتے روز آپ کی لوری کو یاد کرتے ۔۔یہ حماد کئ کئ راتیں سوتا نہیں تھا۔۔کیوں چھوٹی ماما آپ کیوں گئ۔کیوں گئ۔۔،،جاہنگیر ان کو اپنی باہوں میں لے کر رونے لگا تھا شگفتہ کی آنکھیں نم ہوئی تھی۔وہ کچھ نہ بول سکی

“یہ سوال

کبھی کسی سے نہیں کئے کیونکہ تب ہماری کوئی سنتا نہیں تھا آپ تو سنتی تھی نہ تو پھر۔۔،،

“بس کرو بیٹا چپ کر جاؤ اپنے بھائی کا رشتہ جوڑنے آئے ہو نہ تو پرانے رشتوں کی کروہٹ مت گھلنے دینا اس رشتے میں۔۔کچھ مت بولو۔۔،،شگفتہ نے اسے چپ کرویا اور صوفے پہ بیٹھا دیا۔

“یہ ۔۔یہ فہد میرا بھائی ہے نہ۔۔،،حماد بھگے لہجے میں بولا تھا

شگفتہ نے ہاں میں سر ہلا دیا اور صوفے پہ بیٹھ گئ۔

سفر نے آنکھیں بند کر کے بہت سارے درد کو اپنے اندر اتار لیا تھا

“یہ لیں آپ کی بہو حاضر ہے ماما ۔،،ثوبیہ اور عشرت ماشی کو تھام کر لے آئی تھی ماشی نے سفر اور سعدیہ کے سامنے سر جھکایا تو انہوں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھ دیا۔

“ثاقب بھائی کہاں ہیں۔۔،،فہد نے اس کی غیر موجودگی کو پا کر پوچھا تھا۔

“باہر گیا تھا دیکھو تو ذرا،،حماد نے باہر کی طرف اشارہ کیا۔سب نارمل ہو چکے تھے

“چاچا چاچی آگئے۔۔،،عشرت مسکرا کر بولی۔

فہد ان سے مل کر باہر کی طرف چلا گیا۔شائد قدرت بھی یہ نہیں چاہتی تھی ان کے سامنے کچھ پرانے راز کھولیں۔

سفر اٹھ کر ملنے لگا تھا جب اصغر کی اس پہ نظر پڑھی تو اس کا ایک رنگ جا رہا تھا ایک آ رہا تھا ۔۔اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔

“۔۔یہ رشتہ نہیں ہو سکتا تم لوگ جا سکتے ہو۔۔،،اصغر سختی سے بولا

اس کی بات سن کر ماشی کرنٹ کھا کر اٹھی تھی۔پیچھے سے آ رہے ثاقب اور فہد کے قدم بھی روک گئے تھے۔

“بٹ وائے ماموں۔۔۔،،فہد بھاگ کر آیا۔

“آپ لوگ جا سکتے ہو۔۔،،اصغر نے سفر پہ نظر ڈالے بغیر کہا

“ماموں بات کیا ہے لڑکا تو آپ کو پسند تھا نہ۔۔پھر۔،،فہد نے پھر سے پوچھا۔

“فہد تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں وہ لڑکا رندھاوا خاندان کا ہے ایسے گندے اور گھٹیا لوگوں کو میں اپنی بیٹی کا رشتہ کبھی نہیں دوں گا۔۔۔،،وہ غصے سے چینخے تھے سب چپ چاپ کھڑے تھے

“بٹ انکل

بات کیا ہے۔۔کوئی مس انڈرسٹینڈنگ ہو گئ ہے کیا۔دیکھیں ماشی اور آسام ایک دوسرے کو چاہتے ہیں اور ہمارے بھائی میں کوئی گھٹیا بات نہیں ہے۔،،ثاقب بھی سامنے آیا تھا۔وہ جانتا تھا ماشی اور آسام کی محبت کو اس نے ماشی پہ نظر ڈالی تو وہ اپنے ہاتھوں کو آپس میں رگڑ رہی تھی اس کی آنکھوں میں ڈر تھا بے بسی تھی۔

“چپ رہو تم دونوں۔۔۔اور آپ مسٹر رندھاوا صاحب یہاں آنے کی ہمت کیسے ہوئی آپ کی۔۔ابھی کچھ باقی رہتا تھا جو منہ اٹھا کر چلے آئے چلے جاؤ یہاں سے یہ میں لاسٹ بارکہ رہا ہوں۔۔عشرت ماشی کو اندر لے کے جاؤ۔۔،،اصغر غصے میں آ گیا تھا

“عشرت یہ سب۔۔،،ماشی نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا تو اس نے اسے دلاسہ دیا اور اندر کی طرف لے گئ

“اصغر میری بات سنو۔۔سوال ہمارے بچوں کی خوشیوں کا۔۔،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتا اصغر نے اس کی بات کاٹ دی۔

“ہمارے نہیں صرف تمہارے بیٹے کی خوشی ۔۔اس نے میری بیٹی کو اپنی باتوں میں پھنسا لیاہو گا گندے باپ کا گندہ خون۔،،اصغر اس کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا تھا سب کے چہرے پہ کئ رنگ آ کر چلے گئے

“بس کرو انکل اب ایک لفظ اور نہیں سنو گا میں ۔آپ کچھ بھی بول دیں گے اور ہم برداشت کرتے رہیں گے نو وے ہم یہاں رشتہ جوڑنے آئے تھے دشمنی کرنے نہیں اور آسام اور ماشی ایک دوسرے کو چاہتے ہیں تو اس میں غلط کیا ہے انکل۔ آپ کیوں میرے ڈیڈ کو اتنی باتیں سنا رہے ہیں۔،،ثاقب بول پڑھا تھا

اس سے پہلے اصغر کچھ بولتا شگفتہ نے اپنے بھائی کو روک لیا۔سب چپ چاپ کھڑے تھے۔

“بس اب اور بے عزتی برداشت نہیں ہوتی ۔۔کہ دیں گے آسام کو وہ پل پل تڑپے اب وہ کبھی نہیں ہسے گا ۔اللہ حافظ لیس گو ڈیڈ۔،،ثاقب کہ کر ڈرائنگ روم سے نکل گیا۔

اس کے پیچھے پیچھے سب نکل گئے تھے۔

اصغر اپنے کمرے کی طرف بھاگ گیا

فہد ماشی کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

“کیا ہوا فہد پاپا مان گئے ہاں نہ۔۔۔مجھے پتا تھا میرے پاپا

مان جائیں گے ان کو اپنی بیٹی کی پرواہ ہے ۔۔،،ماشی کی خوشی بہت پھیکی تھی۔کیونکہ وہ بھی جانتی تھی ایسا کچھ نہیں ہوا ہو گا اصغر ایک بار جو فیصلہ کر لیتا دنیا ادھر کی ادھر ہو جاتی پر وہ نہیں ہوتا تھا۔

“نہیں ماشی ماموں نہیں مانے۔۔،،فہد نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہا۔

ماشی کی آنکھوں میں سے آنسوں آ گرے تھے۔وہ جلدی سے آسام کو کال کرنے لگی۔

“کیا کر رہی ہو ماشی۔۔،،فہد نے اس سے فون لینا چاہا پر اس نے ہاتھ سے روک دیا ماشی کا سارا وجود کانپ رہا تھا۔

“ہیلو۔کیا ہوا ڈیڈ لوگ پہنچے کیا۔۔،،

“آسام مجھے مجھے وہ۔۔وہ تین لفظ سننے ہیں۔۔وہ جن سے انسان مر ب۔۔بھی جاتا ہے اور جی بھی جاتا ہے پلیز ٹیل می۔،،ماشی رو نہیں رہی تھی نہ ڈری ہوئی تھی۔عشرت نے فہد کا ہاتھ تھام لیا تھا۔وہ ڈر گئ تھی۔فہد نے حیرانگی سے ماشی کو دیکھا

“میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔۔،،

پہلی بار آسام نے وہ لفظ سادگی سے کہئے تھے۔کیونکہ کبھی کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑھی تھی پر اب ماشی اس کے منہ سے سننا چاہتی تھی

“پتا ہے آسام میں چاہتی تھی تم میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر یہ لفظ کہو ۔،، ماشی بےبسی سے ہسی تھی۔

“چاہتی تھی۔۔۔اور اب۔۔،،آسام نے حیرانگی سے سوال کیا۔

“اب۔۔۔۔اب بھی چاہتی ہوں اگر قسمت میں ہوا تو۔۔اچھا اب میں جاؤں۔۔،، ماشی نے اپنا سر تھام لیا تھا اس کے پاؤں لڑکھڑا گئے تھے عشرت اور فہد اس کی طرف بڑھے تھے پر اس نے ہاتھ سے روک دیا۔

“جاؤ میری ۔۔،،آسام نے مسکرا کر کہا اور کال کاٹ دی۔۔

ماشی نے مسکرا کر عشرت کو دیکھا اور لڑکھڑاتی اس کے سامنے آ گئ۔

“ماشی تم نے کچھ الٹا سیدھا تو نہیں کیا۔۔،فہد اسے شہانوں سے پکڑ کر بولا

“ن۔۔نہیں فہد میں اس کے ساتھ تھی۔۔ایسا کچھ نہیں۔۔،،عشرت کے لفظ منہ میں ہی تھے کہ ماشی دھڑام سے گر گئ۔

“ماشی ماشی آنکھیں کھولو۔۔،،

عشرت نے منہ تھپتھپایا پر وہ نہیں اٹھی ۔فہد اسے اٹھا کر باہر کی طرف بھاگا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *