Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 33)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 33)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
“ماشی۔۔،،وہ کرسی کی پشت سے سر ٹکائے بیٹھی وہاں موجود نہیں لگ رہی تھی۔
“کیا اس نے سب سن لیا۔،،وہ دل میں سوچتا اس کی طرف بڑھا
“آسام تمہیں بلا رہا ہے چلو،،وہ اٹھی نہیں یوں ہی بیٹھی رہی
“ماشی۔۔،، افنان کو اس کی فکر ہونے لگی تھی۔
“ماشی۔۔۔ماشی۔،،دو تین بار اس نے ماشی کو پکارا
“جی جی۔،،وہ ہڑبڑا گئ۔
“کیا ہوا،،افنان
نے اس کے سامنے بیٹھ کر پوچھا وہ اس کے پاس نیچے بیٹھا تھا۔ماشی کا رنگ اڑنے لگا وہ اٹھی اور ایک طرف ہٹنے لگی۔
“کیا ہوا ماشی رکو پلیز بات سنو!،،افنان کو لگا اس نے سب سن لیا ہے۔
“روک جاؤ افنان۔تم برے ہو یہ تو پتا تھا پر اتنے ڈرپوک ہو یہ نہیں پتا تھا۔تم اب تک دھوکہ دیتے آئے جب میں سوچتی ہوں کہ تم ایسے ہقو ویسے نہیں تو ایک اور روپ میرے سامنے جاتا ہے تمہارا،،ماشی کے آنسوں بہنے لگے۔افنان نے نفی میں سر ہلا دیا
“افنان آج تم میرے ہر سوال کا جواب دو گے۔تم ی۔۔یہاں آتے رہے ہو،،ماشی نے آنکھوں کو رگڑ دیا۔افنان سمجھ گیا کہ وہ شائد ان کی دوسری باتوں کو سمجھ نہیں پائی یا سنی نہیں۔وہ مطمئن ہو گیا تھا۔اور چہرے پہ غصہ سجا کر وہ اس کی طرف بڑھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی
“کس حق سے مانگو گی جواب ہاں کون سا حق ہے تمہارے پاس مجھ سے سوال کرنے کا۔کچھ نہیں ہو اب تم میری صرف آسام کی وائف ہو۔،، وہ دو قدم دور کھڑا ہو گیا۔
“بکواس مت کرو افنان تب کس حق سے مجھے دیکھتے تھے۔کیوں تم لوگوں نے اتنا بڑا دھوکا دیا۔،،ماشی نے اسے دھکا دے کر کہا۔
“ہاہاہاہا دھوکا،،افنان کی آنکھوں میں نمی آ گئ۔پھر وہ گہرا سانس لے کر بولا۔
“میں نے تمہیں کبھی دھوکا نہیں دیا بٹ تم تم نے کیا کیا محسوس نہیں کیا میری خوشبو میری محبت آسام کی محبت محسوس ہو گئ اور میری جو پیچھلے کئ سال سے کر رہا ہوں وہ کم پڑھ گئ سوال تو مجھے کرنا چاہئے تم نے مجھے تباہ برباد کر دیا۔
پر میں افنان رندھاوا ہوں جو کبھی ہارتا نہیں۔اور ہاں اب میری بھی شادی ہو چکی ہے سو پلیز پاسٹ کو لے کر کوئی سوال مت کرنا چلو تمہارا شوہربلا رہا تمہیں.۔،،وہ اسی غصے سے کہتا چلنے لگا ماشی دنگ رہ گئ۔
“اور مہربانی ہوگی اگر کسی کو بتاؤ نہیں تو بتا بھی دو گی تو آئی ڈونٹ کیئر,,وہ مڑا بولا اور چلا گیا ماشی کا باریک ڈوپٹہ سرکتا ہوا ماشی کے پیروں میں جا گرا۔ایک حقیقت ایک سچ جو اس کی آنکھوں سے تھا۔کیوں ہوا ایسا۔۔۔۔
ایک جھٹکے سے اس نے ڈوپٹہ اٹھیا اور گلے میں ڈال کر کرسی پہ بیٹھ گئ۔
“فہد بھی اس کی طرح جھوٹا نکلا بھائی
کہاوہ بھی جھوٹا نکلا ۔،،وہ بیٹھی بیٹھی پاسٹ میں چلی گئی۔کئ بار اس کی جب فہد کے ساتھ لڑائی ہو چکی تھی کہ وہ رومال کیوں نہیں اتارتا
“تو وہ فہد نہیں اف۔۔افنان ہوتا تھا ی،،ماشی کا منہ کھول گیا اس نے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا
“تم یہ رومال اور چشمہ اتارو نہیں تو میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گی پتا نہیں کون ہو تم۔،،وہ تن فن کرتی اس کا رومال اتار رہی تھی جب وہ ہاتھ جوڑ کر اس کا رجسٹر تھام کر کچھ لکھنے لگاوائلٹ اور بائیک کا نمبر دیکھانے لگا تو اس بے وقوف نے بھی یقین کر لیا جب گھر میں بات ہوئی تھی تو فہد نے کہا تھا ڈسٹ الرجی کی وجہ سے نہیں بول سکتا۔
“دیکھو فادی آئندہ بائیک پر لینے مت آنا مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میں اور عشرت کسی غیر مرد کے ساتھ بائیک پہ گھومیں۔گاڑی کسی لئے دی ہے پاپا نے تمہیں،،ایک دن اس نے کہ ہی دیا
پر وہ کچھ نہ بولا تھا ہیلمٹ کے اندر افنان تھا تو اس نے سر ہلانے پہ ہی گزارا کیا اور ایک بریک لگائی تھی تو ماشی نے ہاتھ اس کے کاندھے پر رکھ دیا وہ مسکرایا جب کہ ماشی کا پارہ ہائی ہو گیا اور وہ اتر گئ
“یہ کیا بد تمیزی ہے فہد آئندہ ایسا کیا تو میں ڈیڈ سے کمپلینٹ کر دوں گی۔،،وہ اپنا کالج بیگ کاندھے پر ڈالتی چلنے لگی تھی۔ماشی کو اب یاد آنے لگا تھا کئ بار چھت پہ فہد سے ٹکر ہوتی تو وہ کچھ نہ بولتا پر وہ غلط آج ثابت ہو رہی تھی وہ فہد نہیں بلکہ افنان سے ہوتی تھی۔
فہد اس کا بھائی تھا وہ اسے دل سے بھائی مانتی تھی۔اور وہ بھی تو مانتا تھا۔
وہ حال میں لوٹ آئی تھی۔
“کبھی کبھی کسی کو پہچان کر نہ پہچانا بھی پڑھتا ہے۔،،وہ آنسو صاف کرتی ڈوپٹہ سر پہ ٹکاتی اٹھ کھڑی ہوئی حال میں سب اس کا انتظار کر رہے تھے کیوں کہ سب ریڈی بیٹھے تھے شائد کہیں جانے کی تیاری تھی
“ماشی آپ ٹھیک ہیں۔،،آسام فکر مندی سے اس کی طرف بڑھا تھا ماشی نے اثبات میں سر ہلا دیا
افنان نے گہری سانس لی
ماشی کو وہ رجسٹر یاد آیا تو وہ کمرے کی طرف بھاگی
ساری الماری سے کتابیں نکال نکال کر وہ بیڈ پر پھینکنے لگی۔
“کاش تم میرے ساتھ اتنا برا نہ کرتے افنان۔۔کاش تم دونوں بھائی یوں کچھ نہ چھپاتے میں بھی کتنی بےوقوف نکلی۔مجھے کیا جہنم میں جائیں۔،،وہ رجسٹر پھینک کر بیڈ پہ بیٹھ گئ
“ماشی آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں کپڑے چینج کر لیں وہ بازف کے گھر جانا ہے ڈیتھ ہو گئ ہے اس کی چلو،تم ٹھیک ہو نہ ،،آسام اس کو یوں بیٹھا دیکھ گھبرا گیا
“ہاں بس تھوڑی سر میں درد ہے میں چینج کر کے آتی ہوں آپ چلیں۔،،وہ بےروخی سے بولی۔
“کیا ہوا ماشی پلیز بتائیں۔،،
“کچھ نہیں ہوا ایک بار کہا نہ پھر کیوں بار بار فورس کر رہے ہیں پلیز لیو می،،وہ یکدم غصے میں آ گئ آسام دم سادھے اسے دیکھتا رہا۔
“آسام کیوں میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے۔آپ نے مجھ سے آج تک کوئی بات چھپائی ہے تو پلیز بتا دیں یہ راز اب مجھے اچھے نہیں لگتے،،یکدم وہ آسام کے گریبان کوپکڑ کر رونے لگی۔
“نہیں جان میں نے ۔،،
“م۔۔مم۔میں پاگل ہو جاؤں گی آسام مم۔۔م مجھے اب ہر چیز میں ایک جھوٹ نظر آتا ہے ہر انسان پہ بھروسہ اٹھ گیا ہے،،ماشی بالوں کو نوچنے لگی افنان کے قدم دروازے پر رک گئے وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا
“ماشی ریلکس کچھ غلط نہیں ہے سب ٹھیک ہے،،آسام نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔
“نہیں نہیں آسام کچھ ٹھیک نہیں ۔۔ت۔۔تم بھی ۔تم بھی دھکے باز ہو کیا اپنے ب۔۔بھ،،وہ خوفناک لگ رہی تھی۔آنکھوں میں خوف حجاب ڈوپٹے کی شکل میں آ گیا تھا جو اس نے اتار پھینکا تھا۔وہ ہر چیز اتار کر پھینک رہی تھی۔
“یہ تم نے کیا کیا افنان ،،افنان نے دیوار کو تھام لیا
“ماشی سٹوپ اٹ,
“آسام۔۔۔,،،اس نے آسام کی شرٹ lکو مٹھیوں میں جکڑ لیا وہ ہوش کھو چکی تھی
“شششش۔کچھ غلط نہیں ہے ماشی میں کچھ غلط نہیں کروں گا نہ ہی میرے پاس کچھ راز ہیں سب آپ کو پتا ہے میں بہت سیمپل سا انسان ہوں ریلکس،،اس نے ماشی کو پکڑ کر اس کے بالوں کو پیچھے کیا اور آنسوں صاف کئے۔تھوڑی دیر وہ اسے بیڈ پر لے کے بیٹھا رہا۔وہ ٹھیک ہونے لگی۔
“آسام آپ کچھ نہیں چھپائیں گے نہ م۔مجھے راز, اچھے نہیں لگتے،،وہ کھوئے کھوئے انداز میں بولی۔
“نہیں کبھی نہیں اب اٹھیں اور فریش ہو کے مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجا کر باہر آ جائیں۔،،آسام نے اس کےماتھے پہ ہونٹ رکھ دیئے وہ بےدلی سے مسکرائی اور واش روم میں گھس گئ
“یہ بالی مجھے بہت تکلیف دیتی ہے سنبھال کے رکھنا،،
“بچے کی جان لو گی کیا۔،،
“مجھ سے دور نہ جایا کرو نہ پلیز ،،افنان اس کے پیچھے کھڑا بول رہا تھا۔
ماشی خوف زدہ ہو گئ سفید رنگ مزید سفید ہو گیا۔
“تم تم نے کیا کیا محسوس نہیں کیا میری خوشبو میری محبت آسام کی محبت محسوس ہو گئ اور میری جو پیچھلے کئ سال سے کر رہا ہوں وہ کم پڑھ گئ سوال تو مجھے کرنا چاہئے تم نے مجھے تباہ برباد کر دیا۔
پر میں افنان رندھاوا ہوں جو کبھی ہارتا نہیں۔اور ہاں اب میری بھی شادی ہو چکی ہے سو پلیز پاسٹ کو لے کر کوئی سوال مت کرنا،،ماشی دیوار کے ساتھ لگ گئ اسے ڈر لگنے لگا تھا۔
“تم نے مجھے مار دیا,,افنان نے اسے شہانوں سے پکڑ لیا۔ماشی کی آنکھیں پھٹ گئی وہ چینخنے لگی۔
“نہیں م۔میں نے نہیں تم۔،،وہ کچھ اور بولتی باہر سے سب بھاگ کر آ گئے۔
“کیا ہوا ماشی دروازہ کھولو،،آسام نے دروازہ بجنا شروع کر دیا تو اس نے آنکھیں کھولی وہاں کوئی نہیں تھا۔وہ پانی کے چھینٹے منہ پہ مارتی باہر نکل آئی
“کیا ہوا تم ٹھیک ہو نہ،،آسام جو اس کی آنکھوں میں ایک آنسوں برداشت نہیں کر سکتا تھا جھٹ سے اس کو گلے لگا کر بولا۔
“کیا ہوا کچھ بولو گی تم ٹھیک ہو نہ،،آسام نے آس پاس کو نظر انداز کر کے دیوانگی سے بولا۔
ماشی کی نظر افنان پہ پڑھی جو ہونٹ بھیجے کھڑا تھا۔
“ہاں میں ٹھیک ہوں وہ چھپکلی دیکھ لی تھی،،ماشی کی بات پہ افنان نے اس کی طرف دیکھا ماشی کی آنکھوں میں کیا کیا نہ تھا۔
اس نے نظریں جھکا لی
“بیٹا تم دونوں گھر ہی رہو ہم چلے جاتے ہیں،،آسام نے ہاں میں سر ہلا دیا اور بیڈ پہ جا بیٹھا سب چلے گئے
“ادھر آئیں ماشی۔،،آسام نے اس کو اپنے پاس بلایا تو وہ ایک طرف ٹک گئ۔
“کیا پریشانی ہے آپ کو افی نگین اور آپ کے درمیان کیا ہوا ہے,, آسام نے کو بیڈ پر لیٹا دیا اور ماشی کا سر دبانے لگا۔
ماشی آنکھیں بند کر گئ تھوڑی دیر بعد وہ سو گئ۔
کچھ راز بہت تکلیف دیتے ہیں۔
کچھ سچائیاں برداشت نہیں ہوتی۔
**********
سب جا چکے تھے افنان اور نگین اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔
“ماشی کو کیا ہوا،،نگین اپنی جویلری اتارتے ہوئے بولی افنان نے نفی میں سر ہلا دیا۔
“نگینہ میں نے کچھ نہیں کہا اسے ،،افنان نے سر ہاتھوں میں گرا لیا۔
“افنان تم تینوں کے درمیان کیا چل رہا ہے۔پلیز افنان بتا دے یار میری ماشی کی یہ حالت کیوں ہو رہی ہے۔،،آسام اندر داخل ہوتے ہی بولا۔
نگی اور افنان کا رنگ اڑ گیا۔
“سامی کچھ بھی نہیں ہوا اب تو سب ٹھیک ہو گیا ہے اس نےمجھے معاف کر دیا ہے۔اور میں بھی اسے بھول گیا ہوں،، افنان نے آسام کا ہاتھ تھام کر آدھا سچ اور آدھا جھوٹ بولا
“ٹھیک ہے تم کب تک واپس آؤ گے۔،، آسام نے شرٹ کے بازو فولڈ کرتے ہوئے پوچھا۔
“کچھ کہ نہیں سکتا،،افنان نے گہرا سانس لیا پھر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔
***********
چند سال پہلے
روز کی طرح فہد کالج سے واپس آ کر سکندر کی ڈائری لے کر پیچھلے لان میں جا بیٹھا۔اس نے شروع سے ڈائری کھولی
“میری جان میں نہیں چاہتا تم کسی دھوکے میں رہو میرا ضمیر یہ اجازت نہیں دیتا کہ میرا بیٹا کسی دھوکے میں رہے اس ڈائری میں ،میں نے وہ سب لکھ دیا ہے جو شائد تمہاری ماما تمہیں نہ بتا سکے۔جب تم مٹرک پاس کر لو تو پیج نمبر ١٢٣ کھولنا اس سے پہلے نہیں وعدہ کرو۔،،فہد نے پڑھا اور جلدی سے ١٢٣ پیج کھول لیا دو تین پیج کو سٹیپل کیا ہوا تھا اس نے سویاں اتاری
“میری پیاری جان فہد آج یہ حقیقت جان کر تمہیں بہت دکھ ہو گا شائد بہت سارے لوگوں کے لئے تمہارے دل میں نفرت پیدا ہو جائے پر بیٹا نفرت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا تمہارا پاپا چاہتا ہے تم ایک نیک ایماندار اور مظبوط ہمت والے انسان بنو۔،،فہد نے ڈائری کے صفحے پر ہاتھ پھیرا جیسے وہ سکندر کے ہاتھ کا لمس محسوس کر رہا ہو۔اس نے ہونٹوں کو ڈائری پہ رکھا اور ٹائی ڈھیلی کر کے بڑے سے شیشم کے درخت کے نیچے جا بیٹھا اور پھر ڈائری کھول کر پڑھنے لگا۔
“میری جان تمہارے پاپا کا نام سفر رندھاوا ہے تمہاری ماما کی ڈیورس کے بعد ان کی میرے ساتھ شادی کر دی گئ پر وہ سفر کو کبھی نہیں بھولی نہ ہی بھول سکتی ہیں جو اس نے کیا شگفتہ کے ساتھ بہت غلط کیا۔بیٹا تمہارا ٹون بھائی ہے افنان نام ہے اس کا تمہاری ماں اسے ملنے کو بہت تڑپتی ہے پر کہتی نہیں۔میں چاہتا ہوں تم اسے ایک بار ماما سے ملوا دو۔،،فہد پڑھتا گیا اور آنکھوں سے آنسوں بہتے گئے جب چہرہ آنسوں سے بھر گیا تو اس نے ڈائری بند کی اور بازو سے ہی آنسوں صاف کئے سانس بحال کر کے اس نے پھر ڈائری کھولی۔
“بیٹا مجھے نہیں پتا میری زندگی کتنی سی ہے کب ختم ہو جائے کیونکہ تمہارا پاپا ایک پاک ایجنٹ ہے،
ایک ایمان دار اور بہادر جیسے موت سے ڈر نہیں لگتا۔بس
اپنے بچے سے دور ہونے سے ڈر لگتا ہے۔میری ایک خواہش ہے امید ہے تم پوری کرو گے بس ایک خواہش کہ تم میرے بعد ملک کی حفاظت کرو ایک ایماندار پاک اسپائی بنو موت سے نہ ڈرنے والے۔بس یہ ہی خواہش ہے میری ۔اور اپنے بھائیوں سے ضرور ملنا۔کسی کو نہیں بس افنان کو یہ سچ ضرور بتانا بیٹا کیوں کہ وہ تمہارا وجود ہے تم دونوں نے ایک ساتھ سانسیں لی ہیں۔اللہ حافظ بیٹا۔،،فہد نے ڈائری بند کی اور سینے سے لگا کر رونے لگا۔
“ڈیڈ آئی لو یو میرے ڈیڈ آپ ہیں کوئی اور نہیں میں اس حقیقت کو نہیں مانتا ڈیڈ،،وہ رونے لگا چند منٹ کے بعد وہ آنکھیں رگڑ کر اٹھ کھڑا ہوا کیوں کہ عشرت اور ماشی بیڈ منٹن اٹھائے سیڑھیاں اتر رہی تھی
آج وہ سترہ سال کا ہو گیا تھا۔اور پہلا دن کالج میں اس نے بڑی مشکل سے گزارہ تھا جو سرپرائز اسے ملنا تھا وہ اتنا تکلیف دہ تھا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا
پر وہ سکندر کا بیٹا تھا پاک ایجنٹ کی اولاد تھی کمزور نہیں تھا۔
“میں کل ضرور جاؤں گا اسلام آباد کچھ بھی ہو جائے پر میں ضرور جاؤں گا اپنے بھائی سے ملنےاور ڈیڈ میں وعدہ کرتا ہوں آپ کی طرح ایک ایماندار پاک ایجنٹ بنوں گا ہر راز کو راز رکھوں گا،،۔وہ ڈائری کی ایک طرف لکھا ہوا پتا دیکھ کر خود کلام ہوا۔
اور ڈائری پھر سے کالج بیگ میں ڈال کر وہ عشرت اور ماشی کی طرف بڑھ گیا
******
اگلے دن وہ صبح کالج کے لئے تیار ہوا بائیک نکالی اور کالج کی بجائے اپنے گہرے دوست رضا کی طرف چلا گیا اسے ساری بات سنائی تو اس نے کہا وہ کسی کو نہیں بتائے گا ماموں اگر پوچھیں گے تو کہ دے گا میرے ساتھ ہے ۔
فہد کالج یونیفارم اتار کے بیگ میں رکھے اپنے کپڑے پہن کر بس اسٹاپ پر چلا گیا ابھی آسلام آباد جانے والی بس کو تھوڑی دیر تھی وہ ادھر ادھر ٹہلنے لگا
******
فہد رندھاوا ہاؤس کے سامنے پہنچا تو اس کی رگیں تن گئ۔
پر سکندر کی بات یاد آئی کہ نفرت اور غصے سے کچھ حاصل
نہیں ہوتا اس نے لمبا سانس لیا اور ڈور بیل پہ ہاتھ رکھ دیا تھوڑی دیر بعد ایک لمبا چوڑا آدمی باہر آیا جس نے سیکیورٹی گارڈ والی وردی زیب تن کی ہوئی تھی ایک ہاتھ میں گن تھی۔
“مجھے افنان سے ملنا ہے،،فہد نے اس کے ساتھ سلام لیا اور مسکرا کر بولا۔
“کیوں ملنا ہے،،سیکیورٹی گارڈ نے اس کا جائزہ لیا چھوٹی سی عمر کے فہد نے نیلی جینز اور ٹی شرٹ زیب تن کر رکھی تھی دائیں کاندھے پر کالج بیگ براؤن بالوں کو سٹائل سے ماتھے پہ گرایا ہوا جن کو پسینے نے گیلا کر دیا تھا چھوٹی چھوٹی نہ معلوم موچھیں اور گلابی ہونٹ جن پہ مسکراہٹ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
“کام ہے اس سے ،،فہد نے کسی بڑے بوڑھے کی طرح کہا۔تو آدمی ہسنے لگا۔
“کیا ہوا آپ ہس کیوں رہے ہیں۔،،فہد نے حیرانگی سے سوال کیا
“چھوٹے میاں کیا کام ہے ،،
“چھوٹے میاں اور میں ۔۔،،فہد نے انگلی اپنی طرف کر کے کہا تو وہ آدمی ہسنے لگا اور ہاں میں سر ہلا دیا
“نہیں جناب میں چھوٹا نہیں پورے سترہ برس کا ہوں۔،،فہد نے مسکرا کر کالر جھاڑا تو پہلوان مزید کھلکھلا کر ہنسا۔
“آپ میری چیکنگ کریں اور اندر جانے دیں یا اسے باہر بلا دیں مہربانی ہو گی۔،،فہد کی مسکراہٹ غائب ہو گئ تھی۔
“افنان صاحب تو نہیں ہیں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ باہر گئے ہوئے ہیں آپ ویٹ کر لیں ان کا۔،،وہ اس کی چیکنگ کر کے بولا وہ آدمی ابھی بھی ہنس رہا تھا فہد اس کے ہمراہ چل دیا وہ آج افنان سے مل کر ہی جائے گا یہ اس نے سوچ لیا تھا۔
“انکل میں اتنا بھی چھوٹا نہیں ہوں لاہور سے اکیلا آیا ہوں۔،،فہد بالوں کو پیچھے ہٹاتے ہوئے بولا
“کیا تم لاہور سے آئے ہو گھر والوں نے آنے دیا۔،،وہ حیرانگی سے بولا۔
“جی بلکل زمانہ بدل رہا ہے انکل اور آپ ابھی یہ گن اٹھا کر پھر رہے ہیں یہ دیکھیں یہ گن لیں۔آج کے زمانے کی لیٹیس فیشن بھی اور
اور ہاتھ میں پکڑی بھی اچھی لگتی ہے چلانی تو ہوتی نہیں آپ نے ،،فہد نے پینٹ کی جیب سے اپنا سمارٹ فون نکال کر گنز کی فوٹو دیکھانی شروع کر دی
“ہاہاہاہا صحیح ہے بیٹا۔ویسے کیا نام ہے چھوٹے میاں آپ کا ،،فہد سیکیورٹی گارڈ کے سوال پر سوچ میں پڑ گیا
“رضا،،فہد نے مختصر سا کہا کیوں کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ سفر کو معلوم ہو اور کبھی تو سیکیورٹی گارڈ نے بتانا ہی تھا اسی لئے اس نے نام اپنا نہ بتایا
“تو رضا صاحب آپ کیا لیں گے کچھ ٹھنڈا ،گرم ،،
“بس ایک گلاس ٹھنڈا پانی پلیز۔،،فہد نے کہا تو وہ کمرے کا دروازہ کھول کر چلا گیا فہد اندر داخل ہو گیا اور صوفے پہ بیٹھ کر شوز اتارنے لگا پھر ٹھنڈے فرش پر پاؤں رکھ دیئے گرمیاں عروج پر تھی اس نے کمرے کا جائزہ لیا وہ حویلی کے باہر والی سائیڈ پر بنایا ہوا تھا جس میں کوئی باہر سے آئے تو بیٹھا دیا جائے جیسے چوکیدار کا کوئی جاننے والا یا معمولی سا کوئی انسان بھی۔پر کمرہ اچھا تھا اے سی ایک فرشی پنکھا کلین ایک بیڈ اور ایک صوفہ جس کے آگے ایک میز تھی۔جس پہ ٹیشو کا ڈیبہ پڑھا تھا فہد ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ آ گئی۔
پھر وہ سر جھٹک کر اٹھ کھڑا اور بورٹ کی طرف بڑھ گیا اپنا فون چارج لگا کر بیگ سے جوس کا ڈیبہ نکال کر وہ بیڈ پر نیم دراز ہو کر پینے لگا۔ صبح کا تھکا ہارا ہوا تھا۔بھوک پیاس لگی ہوئی تھی۔
***********
شام تک وہ انتظار کرتا رہا آخر اندھرا پھیلنے لگا تبھی اسے آواز سنائی دی تو وہ بھاگ کر کمرے سے باہر گیا وہ اپنی شرٹ کو ہاتھ پہ لپیٹے اچھلتا کودتا گانا گاتا حویلی کی اندرونی طرف داخل ہو رہا تھا فہد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی
“افنان،، اس نے ہاتھ لہرا کر کہا تو افنان روک کر پیچھے دیکھنے لگا اور پھر آہستہ آہستہ چلتا اس کے پاس آکر رک گیا۔
“تم نے ہئر اسٹائل میرا کاپی کیوں کیا،،افنان نے اس کا ہیئر اسٹائل دیکھ
غصے سے کہا۔فہد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔اس نے افنان کے بالوں کو دیکھا جو ماتھے پہ گرے ہوئے تھے
“نہیں بلکل نہیں میں نے کاپی نہیں کیا،،
“اچھا پھر ٹھیک ہے تم ہو کون،،افنان نے اس کو گھورا ایسے ہی جیسے کوئی غیر ملکی فوج اپنے دوشمن کو گھورتی ہے ابھی شوٹ کر دے جیسے
“میں تمہارا بھائی ہوں چلو اندر چلتے ہیں میں کچھ دیکھاتا ہوں تمہیں۔،،فہد نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا
“بھائی ہاہاہاہا،
وہ ہمیں چلے ہیں بےوقوف بنانے
بھول کر یہ کہ سلطنت ہماری ہے،،
افنان نے پہلے اس کی طرف پھر اپنی طرف اور پھر زمین کی طرف اشارہ کیا۔
“آؤ تو سہی یار،،فہد نے التجاء کی تو وہ نہ چاہتے ہوئے بھی چل دیا۔
فہد نے ڈائری اس کی طرف بڑھا دی آدھے گھنٹے پڑھنے کے بعد بھی اسے یقین نہ آیا۔تو فہد نے ایک تصویر نکال کر اس کی طرف بڑھا دی
“یہ دیکھو یہ جاہنگیر بھائی جب چھوٹے ہوتے تھے یہ حماد بھائی اور اگر پھر بھی یقین نہ آئے تو یہ دیکھو وہ پیپرز ہیں جو اس ہوسپٹل کے ہیں یہ اوریجنل اور یہ نقال اور پھر بھی یقین نہ آئے۔،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتا افنان اس کے گلے لگ گیا فہد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔
“فہد ڈیڈ اتنے برے ہیں مجھے نہیں پتہ تھا۔،،افنان صوفے پر بیٹھ کر دانت پیس کے بولا
“نہیں افنان وہ برے نہیں ہیں اور غصے نفرت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا پر مجھے پتا ہے تجھ میں بہت غصہ ہے۔نظر آ رہا ہے مجھے پر اس غصے کو سنبھال کر رکھو۔،،فہد نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا
“ہاں غیر ملکیوں کے غلط ارادوں کو خاک میں ملانے کے کام آئے گا۔ہم دونوں ڈیڈ سکندر کی طرح پاک ایجنٹ بنے گے۔فہد میں آسام کو بتاؤں گا وہ کتنا خوش ہو گا نہ کہ ہمارا ایک اور بھائی بھی ہے۔،،افنان چہک کر بولا
“نہیں نہیں اف کسی کو نہیں بتانا کہ ہم کبھی ملے ہیں اور آسام کو بھی نہیں اس راز کو راز ہی رکھنا راز رکھنے سیکھو گے
تو تمہیں پاک ایجنٹ بننے دوں گا وعدہ کرو تم یہ راز اپنے اندر ہی رکھو گے اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ کنٹیکٹ میں رہیں گے میرا نمبر لے لو ،،فہد کی بات سمجھ کر اس نے ہاں میں سر ہلا دیا اور اپنا فون نکال کر نمبر ڈائل کرنے لگا۔
“اور تم کون سی کلاس میں ہو،،فہد نے سوال کیا
“پڑھنے کو دل نہیں کرتا یار۔دوسری بار میٹرک کر رہا ہوں۔،،افنان نے مسکرا کر کہا تو فہد کا منہ کھول گیا۔
“واٹ افنان تم میٹرک میں ہو وہ بھی دوسری بار۔،،فہد نے اپنا سر پیٹ لیا
“اف پڑھا کرو بغیر پڑھے کچھ نہیں ہو گا یہ ڈائری اپنے پاس رکھو میرا گیفٹ سمجھ کر اور ڈیڈ کی جان سمجھ کر جب جب تم اسے پڑھو گے تجھے پڑھنے کا جنون سوار ہو گا دماغ وسیع ہو گا اور یہ ڈائری کسی کے ہاتھ نہیں لگنی چاہئےاسے راز کی طرح سنبھال کر رکھنا،،،فہد نے ڈائری اسے تھما کر کہا اور پھر تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد فہد افنان سے اجازت لے کر رخصت ہو گیا افنان نے اسے روکنا چاہا کہ رات ہو گئ ہے اور تم اس ٹائم اکیلے مت جاؤ اس نے کہا بہادر ایسے ہی نہیں بن جاتا بندہ. اندھیرے میں نکلنا پڑھتا ہے جہاں آپ کا کوئی اپناہو وہاں جانا پڑھتا ہے ،
اس کے بعد افنان اور فہد ایک دوسرے سے باتیں کرتے اور فہد افنان کو فون پہ ہی اسکول کاسمجھاتا اور افنان نے نیٹ کو استعمال کرنا شروع کر دیا اپنے فائدے کے لئے اور اسکول تبدیل کر لیا تاکہ آسام کو یا کسی کو علم نہ ہو کہ وہ پڑھنے لگا ہے۔سب کے سامنے وہ ایک نالائق افنان سفر تھا
اس کے نمبر آسام سے بھی زیادہ آتے تھے پر وہ کبھی کچھ کہ دیتا تو کبھی کچھ ۔
وہ آسام سے بہت آگے نکل گیا تھا پر سب کے حساب سے وہ نالائق تھا۔جو کہ وہ خود ظاہر کرتا تھا۔
کبھی کسی نے اس کے نمبر چیک کرنے کی یا جانے کی کوشش ہی نہ کی وہ آسانی سے نقلی رزلٹ کارڈ لا کر دیکھا دیتا اور سب مان بھی لیتے کالج اسکول میں اس نے تب سے ہی ملک افنان سکندر کروا لیا تھا
جب فہد اس سے مل کر گیا تھا۔
کام بہت مشکل تھا پر سکندر کے ایک دوست نے ان دونوں کی مدد کی تھی اس کام میں ظنی خان جو کہ پہنچا ہوا آدمی تھا اس کو یقین تھا وہ دونوں اپنے باپ کی طرح یہ ٹھان چکے ہیں تو کر کے ہی رہیں گے۔
ہر کام میں وہ ان کی مدد کرنے لگا تھا چاہئے وہ کوئی ایگزامز دینے ہوں یا افنان کو کراٹے سیکھنے کا جنون سوار ہو اور اس کے لئے ایک اچھا استاد رکھنا ہو۔
*****
ان کی پڑھائی تقریباً مکمل ہونے کو تھی
۔آج افنان رات کے ٹائم ملک ہاؤس میں آنے والا تھا فہد چھت پہ کھڑا ادھر ادھر ٹہل رہا تھا اور ساتھ ساتھ ویٹ کر رہا تھا کئ بار وہ مل چکے تھے پر افنان اس کے پاس پہلی بار آرہا تھا۔
“میں پیچھلے دروازے پر تمہارا ویٹ کر رہا ہوں جان من جلدی باہر آؤ ورنہ تمہارا ماموں دیکھ لے گا اور میری پٹائی کر دے گا،،افنان نے کال کر کے کہا تو فہد اپنا کہکہکا دباتا سیڑھیاں اتر کے پیچھلے دروازے کی طرف بڑھ گیا جو کافی دور تھا درمیان میں ایک لمبا سا گارڈن اور اس میں رکھی کرسیاں اور ایک طرف بنا کرکٹ کا میدان۔وہ بھاگ کر دروازے تک پہنچا پہنچتے پہنچتے اس کی سانس پھول گئ تھی سامنے افنان ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے ایک ہاتھ دروازے پہ ٹکائےکھڑا تھا
“کیسی ہو جان من۔،،افنان نے آنکھ دبا کر کہا
“بکواس مت کرو اللہ نے اتنی مشکل سے لڑکا بنایا ہے اور تو مجھے استغفار ،،فہد نے خوفگی سے کہا
“ہاہاہاہا یار اور کیا کہوں جتنا زلیل تمہارے پیچھے ہوتا ہوں اتنا تو لڑکیاں بھی نہیں کرتی اب یہ بتا مجھے اندر لے کے چلو گے یا یہاں میری کلفی جماؤ گے،،افنان نے ہاتھوں کو آپس میں رگڑا وہ کورٹ میں ملبوس تھا پر سردی بہت شدت سے پڑ رہی تھی۔
“ہاہاہاہا ایک نمبر کے کمنے ہو،،فہد نے اپنی چادر اسے دے دی۔
“اور دو نمبر کے تم کمینے ہو,،افنان نے اسی کے انداز میں کہا اور چلنے لگا۔
“تم چلو سامنے سے رائٹ سائڈ دو روم چھوڑ کر اگلا میرا کمرہ ہے۔ایک ساتھ گئے تو اگر کوئی باہر نکلا ہوا تو گڑبڑ ہو جائے گی۔،،فہد کی بات سمجھ کر وہ بھاگتا ہوا چلا گیا
وہ چادر ٹھیک کرتا کمرے میں داخل ہوا اور جلدی سے کمرہ بند کر دیا۔
“شکر ہے کوئی نہیں اٹھا ہو،،اس سے پہلے
منہ سے کچھ اور نکلتا نظر بیڈ پہ پڑھی۔
پیرؤں میں پائل۔ لمبے بال جن کی چوٹیا بنائی ہوئی تھی تھوڑے سے بالوں نے آدھے چہرے کو ایسے چھپا رکھا تھا جیسے چاند کو کالے بادل چھپا دیتے ہیں۔افنان کے پاؤں خود با خود آگے بڑھے وہ شال کو منہ پہ لپیٹا بیڈ تھام کر بیٹھ گیا نظریں ابھی بھی ماشی کے چہرے پر تھی۔ہاتھ بڑھا کر اس نے بالوں کو پیچھے کیا تو دل میں ہلچل مچی ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی
میک اپ سے پاک بےداغ چہرہ، لمبی پلکیں،گلابی ہونٹ ،افنان بغیر پلکیں جھپکائے دیکھتا گیا۔
آج تک اس نے کبھی کسی لڑکی کو یوں بغیر پلکیں جھپکائے دیکھا نہیں تھا۔بہت سی لڑکیوں نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا پر وہ تھام تو لیتالیکن وہ نہ کسی سے بات کرتا اور نہ ٹائم دیتا تو خود با خود اس کی جان چھوٹ جاتی ۔اسے کبھی کبھی افسوس ہوتا تھا لڑکیوں کی ایسی حرکتیں دیکھ کر کئ بار وہ بول بھی چکا تھا۔
افنان نے ماشی پہ کمبل اوڑھا دیا اور جلدی سے باہر نکل آیا دروازہ بند کر کے وہ ایک کمرہ چھوڑ کر دوسرے کمرے میں داخل ہو گیا
“کہاں چلے گئے تھے ،،فہد بیڈ سے اٹھ کر اس کے پاس آیا جو وہاں موجود نہیں لگ رہا تھا ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔
“غلط کمرے میں چلا گیا تھا کیا کسی نے دیکھا تو نہیں،،فہد نے کمرے کی کنڈی لگا دی۔
“غلط مگر درست ،مجھے کسی نے نہیں پر میں نے دیکھا ایک حور کو جنت کی پری کو ،،وہ بغیر ہوش میں آئے بول رہا تھا شال زمین بوس ہو گئ وہ چلتا بیڈ پر بیٹھ گیا۔فہد نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔
“اس گھر تو کوئی حور نہیں ہے غلط فہمی ہوئی ہے تمہیں،،فہد نے ناسمجھی سے کہا
“کون ہے وہ،،وہ فہد کی بات کو اگنور کر کے بولا
“کون وہ اب مجھے خواب نہیں آیا کہ تم کس کو دیکھ کر آئے ہویار ۔،،فہد نے مسکراہٹ دبا کر کہا
“وہ عشرت ہے یا معروش،،افنان نے نظر اٹھا کر سوال کیا۔
“افنان نظریں سنبھال کر رکھو ہمارا مقصد کیا
ہے۔ لڑکی کا چکر بہت مہنگا پڑھے گا ،،فہد اس کے ساتھ بیٹھ کر بولا۔
“فہد مجھے آج پہلی بار محبت ہوئی ہے،، افنان کی بات سن کر فہد نے سر پیٹ لیا۔
“الو محبت ایک بار ہی ہوتی ہے،،فہد نے اس کے سر پر تھپکی رسید کی
“پھر مجھے ہو گئ ہے تمہاری ہمسائی کمرے والی حور سے،،افنان کورٹ اتار کر بیڈ پر بیٹھ گیا۔
” وہ معروش ہے ،،افنان نے بتایا تھا یا پوچھا تھا فہد سمجھ نہیں سکا بس ہاں میں سر ہلا دیا۔
“بس میں اپنے لئے صرف حور چاہتا ہوں فہد بہت محبت ہو گئی ہے مجھے اس سے پہلی نظر میں بھی محبت ہوتی ہے یہ آج جانا،،افنان نے سر بیڈ کی پشت سے ٹکا دیا۔آنکھوں میں محبت وہ سراپا محبت بنا بیٹھا تھا
“پر کبھی میری محبت میرے کام پہ حاوی نہیں ہو گی دونوں کو الگ رکھوں گا ،،افنان نے اس کی آنکھوں کے سوال کو سمجھ کر کہا
“ٹھیک ہے انکل ظنی سے بات ہو گئ ہے بہت جلد ہم اپنی منزل کی طرف پہلا قدم بڑھائیں گے،،فہد نے مسکرا کر کہا۔
“میں ماما سے ملنا چاہتا ہوں جانے سے پہلے ان کی دعائیں لینا چاہتا ہوں۔،افنان نے التجاء کی
“مل لینا ،،فہد نے گہرا سانس لیا افنان نے فہد کو دیکھا وہ تھوڑا پریشان سا تھا
“تمہیں پتا ہے جب جب سعدیہ ماما کا چہرہ دیکھتا ہوں تو مجھے ماما کے آنسوں تڑپ یاد آ جاتی ہے میں چاہ کر بھی ان کے ساتھ نارمل بی ہیور نہیں کر پاتا ،،افنان نے مزید کہا
“اف کسی سے بھی نفرت نہیں کرنی چاہئے ،،فہد نے اس کو گلے لگا لیا۔
“آسام کیسا ہے بھائی سب کیسے ہیں،،فہد لیپ ٹاپ اٹھا کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا
“آسام بھی ٹھیک ہے باقی سب بھی ٹھیک ہیں،،افنان آنکھیں مند کے بولا اس کی آنکھوں کے سامنے ماشی کا چہرہ آنے لگا تو اس کے ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چھو لیا۔
پھر اکثر وہ وہاں آیا کرتا تھا ماشی کو دیکھنا اس کا معمول بن گیا تھا۔یا عادت یا جنون وہ نہیں سمجھ سکا
