Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 02)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 02)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
تمہاری وجہ سےآج میچ نہیں کھیل سکے۔۔۔بھاگنےکی کیا ضرورت تھی۔۔۔،،عشرت تپی ہوئی تھی۔۔کیوں کہ ماشی کی کمر پہ چوٹ لگ گئ تھی تومیچ کینسل کر دیا گیا تھا۔۔
،،واہ واہ مجھ سے زیادہ امپوٹینٹ میچ تھا۔۔۔تھینک یو عاشی۔۔گڈ نائٹ۔،،ماشی عشرت کی طرف پیٹھ کرکے معصنوعی نیند کا بہنا بنانے لگی۔
،،اچھا یار سن تو۔۔۔،،،عشرت اسے پیچھے سے گلے لگاتے ہوئے بولی۔
،،کیا ہے۔۔سونے دو مجھے؟
،،اچھاسوری اب ادھر منہ کر لو۔۔۔،،عشرت نے منت کرتے ہوئے کہا۔۔
،،میں نے معاف کیا،، اب بولو کیا بات ہے۔۔,،ماشی اس کی طرف منہ کرکے لیٹ گئ۔۔
;;ایک ہفتےبعدیونیوریسٹی چلے جانا میں تو ابھی سے سوچ رہی ہوں کیا کیا کرنا ہے کیسے ڈریسنگ کرنی۔وغیرہ وغیرہ۔۔،،عشرت نےایکسائٹنگ ہو کے کہا۔۔
،،عشرت ہم پڑھنے جارہی ہیں گھومنے پھرنے نہیں جارہی۔۔اور ڈریسنگ یہ ہی شلوارقمیض خبردار جو کچھ اور سوچا بھی تو۔۔،۔۔ماشی نے اسے ڈانٹ دیا۔
،،میں تو تھک چکی ہوں اس بورنگ ڈریس سے یونیوریسٹی میں جاکے میں پینٹ شرٹز پہنوں گی۔۔،
،،عشرت لوگ کیا کہیں گےہمارے ماں باپ کے بارے میں۔یار بے شک وہاں ہمیں کوئی نہ جانتا ہو پر پہچانتے تو ہوں گے۔۔ چلو فرض کر لو پہچانتے بھی نہیں تو لوگ دیکھیں گے تو تم پینٹ شرٹ میں اچھی نہیں لگو گی ایسی اچھی لگتی ہو۔۔،،ماشی عشرت کے منہ پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔۔عشرت نےسمجھ کے سر ہاں میں ہلا دیادروازےمیں کھڑی اس کی پھوجوکچھ کہنےآئی تھی وہ مسکرا کے چلی گئ
،،اچھا اور سانی عطیہ لوگ بھی جارہی ہیں نا۔۔۔،،عشرت سیدھی لیٹے ہوئے بولی۔
،،نہیں یار۔وہ کہتی ہے کہ اس نےاوپن کے تھرو پڑھنا ہے۔۔،ماشی اٹھ کے بالوں کی چوٹیا بنانے لگی۔۔
،،اچھا اب سو جاؤ فجر کے ٹائم جلد اٹھ جانا ویسے تجھےنہیں تمہارے خوابوں کے شہزادے کو کہنا چاہئے۔۔۔ہاہاہا،،ماشی کواس کا روز کا بیڈ سے گرنا یاد آگیا۔۔اس نے لمپ بند کر دیااور اےسی ان کر کے لیٹ گئ۔۔۔کچھ ہی دیر میں نیند نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔۔۔
******
;افی گاڑی روکو وہ دیکھو۔۔کوئی گرا پڑھا ہے ۔۔،آسام کی نظر فٹ پاتھ پہ پڑھی وہاں کوئی لڑکا گرا ہوا تھا اس کے پاس کوئی لڑکی زور زور سے چلارہی تھی۔۔
،،یار سامی کیا پتا کوئی لوٹیرے ہوں۔اور ایکٹینگ کررہے ہوں۔۔رہنے دو یار۔۔،،حماد نےکہا۔
،،ہاں بھائی!لکی ٹھیک کہ رہاہے۔،،افنان نے گاڑی سٹارٹ کرلی۔
،افی آئی سیڈ سٹوپ ۔،،آسام نے غصے سے کہاتو افنان نے گاڑی روک دی۔آسام اتر کے سڑک پار کرتا چلاگیا۔۔
،،کیا ہوا آان کو۔۔،،آسام نے جاکے پوچھا وہ عورت زیادہ عمرکی نہیں تھی۔۔کوئی بیس سال کی لڑکی تھی
،،پلیز بھائی ہیلپ می یہ میرے شوہر ہیں ہم لوگ یہاں بس کاویٹ کر رہے ہیں کہ اچانک ان کو کچھ ہوگیا ۔،،وہ آسام کو دیکھ کے ہاتھ جوڑ کے اس کے سامنےآگئ
،اچھا آپ پہلے اپنے ہاتھ کھولیئے بھائی بولاہے نہ تو بہین بھائی کے سامنے ہاتھ نہیں جوڑتی صبر رکھیں آپ کے شوہر کو کچھ نہیں ہوگااللہ پہ بھروسہ رکھیں ۔،،آسام نےاسے تسلی دی اور لکی اور جنید کو آنے کا اشارہ کیا پھرانہوں نے مل کے اس آدمی کو جیپ میں لٹا دیا۔
،،بھروسہ رکھیں ۔۔ہم پہ بھائی بولا ہے نہ مجھے ،،،آسام اس کے چہرے کی کیفیت دیکھ کے بولا۔۔لڑکی کوفکر تھی چھ لڑکوں کے ساتھ کیسے جاتی جبکہ اس کا شوہر بھی بے ہوش تھا پر آسام نےیقین کرویہ کہ وہ ایسے لڑکے نہیں ہیں تو وہ لڑکی چل پڑھی
,,آپ یہاں بیٹھ جائیں۔جنید چلو تم لوگ آگے۔۔،،آسام نے لکی اور جنید کو آگے بیٹھادیا
،،اٹھ جائیں پلیز میں آپ کےبغیرکیسے جیوں گی۔۔ہمارا بچا اس کی توسوچیں۔۔وہ اس دنیا میں باپ کے بغیرکیسےجیئے گا۔۔،،وہ لڑکی اپنےشوہر کا ہاتھ پکڑ کےرو رہی تھی۔آسام کواس لڑکی پہ ترس آرہا تھا رورو کے لڑکی نے اپنا حال برا بنا لیا تھا
،،آپ روئیں نہیں بس کچھ دوری پہ ہوسپیٹل ہےابھی پہنچ چائیں گے۔افی گاڑی تیزچلاؤ۔،،آسام نے سنجیدگی سے کہا۔اور اس آدمی کی نبز چیک کرنےلڑکی نے سوالیہ نظروں سے دیکھاآسام نے ہاں میں سرہلادیاکہ نبز چل رہی ہے وہ لڑکی اللہ کےآگے ہاتھ جوڑ بیٹھ گئ۔تھوڑی دیر میں وہ لوگ ہوسپیٹل پہنچ گئے
،۔۔ڈاکٹر کیا ہوا تھا انہیں۔۔۔،،ڈاکٹر کوباہر آتا دیکھ سب اس کی طرف بڑھ گئے۔
،،ڈیپریشن ۔۔۔جس وجہ سے وہ بے ہوش ہو گئے ان کے لئے کسی بات کی ٹینشین لینا ٹھیک نہیں ہے بٹ اب ٹھیک ہیں آپ ان سے مل سکتے ہیں۔،،لڑکی بے اختیار اس کمرےکی طرف بھاگی۔
،،کیوں بوائز کیسا محسوس کررہے ہو کسی کی ہیلپ کر کے۔۔ ،،آسام نے افی کے کاندھے پہ ہاتھ مارتے ہوئے سب کودیکھ کے بولا تو سب نے تالی بجادی۔۔
،،چلو بھائی کا حال پوچھ لیتے ہیں،،آسام نے کونٹر پہ بل دیتے ہوئے کہا۔
،،تم نےرشتے دار بنائے ہیں جاؤ تم ہی نبھاؤ اپنی رشتے داری۔ہم باہر ویٹ کررہے ہیں،، افنان نے چابی گھوماتےہوئے باہر کی طرف قدم بڑھادیئے۔۔آسام جس کمرے میں وہ آدمی تھاادھر بڑھ گیا۔۔
،،آپ نے تو ڈرا دیاتھاکیوں اتنی ٹینشن لیتے ہو آپ۔۔۔،،لڑکی اپنے شوہر کاہاتھ پکڑکے رورہی تھی۔
،،او۔۔میری جان کچھ نہیں ہوگا مجھے ۔۔۔کیوں رورہی ہیں آپ ۔۔چپ کرجاؤ۔۔ہمارے بچے کے لیئے ٹینشین اچھی نہیں پہلے ہی بہت کچھ ہوچکا ہے ۔۔،،
،،اب ہم کہاں جائیں گے علی۔۔،،،لڑکی نے آنسوں صاف کرکے فکر مندی سے اپنے شوہر کو دیکھا۔۔آسام جودروازے میں کھڑا تھا اندرآگیا۔
،،اب کیسے ہیں آپ اور یہ کیوں ہوئے آپ کی صحت خراب
سوری بٹ میں نے کچھ باتیں سن لی ہیں ۔۔اگر آپ چاہیں تو یہ۔۔،،وہ اپنی شرٹ کی جیب پہ ہاتھ مارا پھر یاد آیاکہ اس کی شرٹ تو جنگل میں رہ گئ تھی پھر اس نے پینٹ کی جیب سے اپنا فون نکالا۔۔
،،آپ میرا نمبر لے لیں ۔۔جس چیز کی ضرورت ہو بے جھجھک کال کرلیجئے گا۔۔،،
،،شکریہ یار پر میرے پاس سیل نہیں ہے۔۔،،،اس لڑکے نے ندامت سے کہا۔۔
،،میرا نام علی ہے یہ میری وائف ہے نیلم۔۔ہم نے بھاگ کےشادی کی ہے۔۔،،لڑکے نے ایک نظرآسام پہ ڈالی اور نظرجھکالی۔۔آسام نےحیرانی سےدیکھا ان دونوں کو۔لڑکے نے پھرسے بات شروع کی۔
،،،ہماری فیملیز نہیں مانی ایک ہی خاندان ہونے کےباوجود اتنی دوریاں تھی ۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں جی سکتے تھےاور ہمارا بچہ ۔۔،علی نے لمبی سانس لی
۔، اسی لیئے فرار کاراستہ اختیار کیا ۔۔اس ٹائم ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔،،علی نے ساری داستان آسام کو سنا دی آسام حیرانی اور پریشانی کے عالم میں علی اور نیلم کودیکھنے لگا۔۔
،،،میرے خیال سے جوآپ نے کیا وہ غلط تھا
پر انسانیت کے ناتے میرا فرض ہے میں آپ لوگوں کی مدد کروں۔۔آپ میرے ساتھ چلیں۔۔،،آسام کی بات پہ علی اور نیلم ایک دوسرےکودیکھنے لگ گئے
،،نہیں شکریہ بھائی۔۔۔آپ نے پہلے ہی بہت کچھ کیاہے ہمارے لیئے کوئی اپنا نہیں کرتا اتنا۔۔،علی نے منع کیا پرآسام نہیں مانا۔۔اور ان کو مانا لیا
،،سامی ان کو کہاں چھوڑنا ہے۔۔۔،،افی جیپ میں بیٹھتے ہوئے بولا۔
،،,بعد میں بتاؤں گا۔۔،،آسام نےسرسری سا جواب دیا افی نے جیپ سٹارٹ کردی۔۔۔آسام پہ رہ رہ کے افی کو غصہ آ رہاتھا کیوں کہ اس کی وجہ سے وہ لیٹ ہو گئے تھے۔
۔گاڑی ان کے علیٰ شان محل جیسی انچی حویلی کے سامنے رک گئ۔۔علی اور نیلم نے حیران ہو کے پہلے ایک دوسرے کو دیکھا پھر بڑے سے دروازے کے باہر لگی تختی پہ سنہری نام کو پڑھا
،،رندھاوہ ہاؤس،،
;;چلیں اندر ،،آسام کے اس فکرے پہ افی اور باقی لڑکوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔
;;ی۔۔یہاں رہتے ہیں آپ،،نیلم جو سکتے میں کھڑی تھی سامی کی آواز پہ چونکی۔
,,نہیں روڑپہ ,,افی بڑبڑیا
،،جی۔۔کیوں کیاہوا۔۔،،سامی نے سوال کیا۔۔
;;کچھ نہیں پر امیرلوگ تو بہت گھمنڈی اور بدتمیز ہوتے ہیں۔آپ ویسے بلکل بھی نہیں ہیں۔،،نیلم کی بات پہ افی کوغصہ آگیا۔
;;ٹھیک فرمایہ محترمہ۔۔۔واہ سامی ابھی یہ گھر میں آئی نہیں اور پوائنٹ آوٹ کرنےلگ گئ یہ ہی فرق ہوتا ہے ہم میں اور میڈل کلاس لوگوں میں۔،،افنان ایک ایک لفظ چبا کےبولتا چلا گیا اور اس کے دوست بھی اس کے پیچھے چلے گئے آسام کواس کے اس قدر غلط رویے کی امید نہیں تھی۔۔نیلم اور علی سکتے میں تھے۔
،سوری اس کی بدتمیزی کے لیئے میرا چھوٹا بھائی ہے۔۔بچاہے ابھی چلیں آپ اندر۔،،
،،واقع ہی امیر لوگ گھمنڈی اور اکڑ والے ہوتے ہیں پر یہ شخص تو بلکل بھی نہیں ہے۔۔،،نیلم نے علی کے ساتھ ہس کے بات کرتے ہوئے آسام کو دیکھا۔
،،آپ کا نام کیا ہے بھائی۔۔،،نیلم نے آسام کو مخاطب کیا۔
،،آسام۔۔،،اس نے مختصر سا نام بتایا اگر اس کی جگہ افنان ہوتا تو لمبی چوڑی اپنی تعریف کردیتا۔پر وہ آسام تھا۔۔۔
جو نہ اکڑ والا تھانہ ہی کوئی غرور تھا اس کی شخصیت میں۔۔جس سے ملتا اس کا دل جیت لیتا تھا۔
;;یہ کون ہیں،،آسام کی ماں اور اس کی کچھ فرینڈز حال میں ہی بیٹھی تھی
،،ماما یہ میرا فرینڈ ہے کچھ دن میرے پاس رہنے آیا ہے۔۔،،آسام اپنی ماں کے غصے سے واقف تھا اگر سچ بولتا تو وہ ان دونوں کو ایک منٹ بھی اپنے گھر نہ رہنے دیتی۔۔آسام ان کو لے کر گیسٹ ہاؤس میں چلا گیا۔۔
،،اگر کسی چیز کی بھی ضرورت ہوبے جھیجھک بول دیجئے گااوکے ،،اور اگر کوئی بھی پوچھے تو کہنا تم میرے دوست ہو۔۔۔اور یہ پیسے رکھیں۔۔،،آسام نے جیب میں ہاتھ مارا جیتنے تھے اس نے سارے علی کے ہاتھ پہ رکھ دیئے۔۔
،،نہیں یار م۔۔م۔میں یہ نہیں لے سکتا ۔۔،،علی نے ہڑبڑا کے ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
،،یار بولا ہے نہ آپ نے مجھے تو اب پھر میرا فرض بنتاہے اپنے یار کی ہیلپ کروں تم دونوں جاکے شوپنگ کر لیں کل گھر میں پارٹی بھی ہے توآپ لوگوں نے شامل ہونا ہے ۔۔،،علی بے اختیار آسام کے گلے لگ گیا۔
،،فرشتہ بن کے آئے ہو آپ ہمارے لیئے۔بہت بہت شکریہ احسان مند رہیں گے آپ کے۔،،نیلم نے شکریہ ادا کیا
،،بہن بھائی کا شکریہ ادا نہیں کرتی۔۔،،آسام نے مسکرا کے کہاتھوڑی دیر باتوں کے بعد وہ گیسٹ روم سے نکل کے اپنے کمرےمیں چلا گیا۔۔
****
;;لاکھ چاہو بدل نہیں سکتیں
زندگی سے نکل نہیں سکتیں
عادتیں بھی عجیب ہوتی ہیں،،،
فہد نے ماشی کو بھاگ کے سیڑھیاں چڑھتے دیکھ شعر پڑھا۔
;;سٹیف۔۔کچھ لوگ بہت ہی خراب ہوتے ہیں نہ منہ نہ بھی لگاؤ تولگنے کی کوشش کرتے ہیں،،،وہ سٹیف کو اپنے ہاتھ پہ بٹھاکے ایک لفظ چبا چبا کے بولی..
;;سٹیف کچھ لوگوں کو کتنی غلط فہمی ہوتی ہے نا۔۔۔،،،فہد نے کتاب بند کر کے کہاوہ اپر لیٹا پڑھ رہاتھا جب ماشی کی پائل کی آواز سن کے سیدھا ہو بیٹھا۔۔
;;اسٹریلین بلا۔۔،
،اور تم چھمک چھلو۔۔،
,,انہہ۔۔۔،،ماشی ناک سکوڑتے نیچے چلی گئ۔۔
;;سٹیف میں چلی جاؤں گی تو تم اداس تو نہیں ہو جاؤگےنہ ۔،،سٹیف نے شور مچانا شروع کر دیا
،،او سٹیف میں بھی اداس ہو جاؤں گی پر پڑھنا میرا
جنون ہے تم جانتے ہو نہ پر کیا میں تم کو ساتھ لے جاسکوں گی۔۔ہاں سٹیف تم میرے ساتھ چلو گے ۔۔۔،،ماشی پھلانگنے لگی۔
:;کیا بات ہے بائی میری بیٹی بہت خوش لگ رہی ہے۔۔،،اس کے ابوصوفے پہ بیٹھتے ہوئے بولے۔معروش اپنا ڈوپٹہ سر پہ اڑھ کے ان کے پاس آبیٹھی۔
;;باباجان کیامیں سٹیف کوساتھ لے جاسکتی ہوں ۔۔۔،،اس نے طوطے کے سر پہ پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔
;;نہیں ماسی جی آپ یونیورسٹی جارہی ہیں وہاں انسان ہوتے ہیں جانوروں کی انٹری نہیں ہوتی۔۔ہاہاہاہا۔۔۔اسلام و علیکم ماموں جان ،،،فہدنے اس کی ٹانگ کھینچی اورماموں کےپاس بیٹھ گیا۔
;;اگر انسان ایسے ہوتے ہیں تو مجھے جانوروں کی یونیورسٹی جانا بہتر لگے گا۔۔۔،،ماشی فہد کی بات کا جواب دیتے ہوئے اٹھ گئ
;;اسٹریلین بلا۔۔کسی دن تم میرے ہاتھوں سے حرام موت مرو گے;;وہ بڑبڑاتی چلی گئی
;;بیٹا فہد۔۔تم خود کوریڈی کر لو میں تم کو انگلینڈ بھیجنا چاہتا ہوں ۔۔۔کیوں کہ ایک دن میں نے اس دنیا سےجانا ہی ہے پیچھے سےہوسپیٹل کو سمبھالنے والا بھی کوئی ہونا چاہئے،،،
;;ماموں جان ایسے تو نہ بولیں اللہ آپ کا سایہ ہم پہ ہمشہ قائم رکھے،،فہد کواپنے ماموں س بہت لگاؤ تھا کیوں کہ بچپن میں جب اس کے باپ کا انتقال ہوگیاتھا توانہوں نےکبھی فہد کوباپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی
