Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 23,24)

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry

دیر تک شاپنگ کے بعد تھکاوٹ اور بھوک دونوں نے ستا لیا تھا۔

فہد ان کو ایک ہوٹل میں بٹھا کر عشرت کو لے کے ڈاکٹر کے پاس چلا گیا۔ پارکنگ ایریا میں گاڑی روک کر وہ چلتے ہوئے کلینک کی طرف بڑھ گئے۔

“عشو تم ٹھیک ہو نہ کوئی تھکاوٹ وغیرہ یا کہیں تکلیف تو نہیں۔۔،،فہد نے ساتھ چلتی عشرت کو بغور دیکھ کر پوچھا۔فہد نے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈال رکھے تھے۔

وہ اپنے محبوب کے اس قدر محبت سے پوچھنے پر مسکرا دی.

“نہیں میں ٹھیک ہوں۔۔،،عشرت نے اسے یقین دلایا۔

“اوکے میری جان۔۔،،فہد نے تھوڑا سا اس کی طرف جھک کر کہا عشرت کا دل بے اختیار دھڑکا تھا۔

فہد پھر سے تھوڑے فاصلے پر چلنے لگا کلینک میں جا کر چیک اپ کرویا سب نارمل تھا۔

“فہد ہماری پیاری سی چھوٹی سی بیٹی ہو گی۔اور اس کا نام۔۔۔،،عشرت سوچ میں پڑھ گئ۔فہد نے اسے محبت سے دیکھا اور مسکرا دیا۔ہر عورت بیٹا مانگتی ہے پر وہ بیٹی مانگ رہی تھی۔

“اجالا رکھیں گے۔ اچھا ہے نہ۔،،عشرت نے چٹکی بجا کر کہا۔

“ہاں اور اگر بیٹا ہوا تو۔۔،،فہد نے گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے اندر بٹھا دیا۔اور مڑ کر ڈرائیورنگ سیٹ پر آ بیٹھا۔

“تو تیمور ۔۔۔۔ہاں تیمور ملک۔ میں نے ایک ڈرامہ دیکھا تھا۔۔اس میں ہیرو تیمور تھا میرا فیورٹ ہیرو ۔۔،،عشرت نے اپنے پسندیدہ ہیرو کا نام لیا۔

“ہاہاہاہا۔ٹھیک ہے بیگم۔۔،،فہد نے سٹیرنگ پرسر ٹکا کر اسے دیکھا۔عشرت اور بھی زیادہ خوبصورت ہو گئ تھی۔پیا کی محبت کا رنگ اس پہ چڑھ گیا تھا۔اور دوسرا وہ ماں بننے والی تھی کتنا انوکھا ہوتا ہے وہ احساس۔

“گاڑی چلاؤ مجھے بھوک لگی ہے۔۔،،عشرت اس کے کاندھے کو ہلا کر بولی۔ وہ اس کی کیفیت کو بھانپ گیا تھا۔اور کھلکھلا کر ہنسا ،گاڑی سٹارٹ کر لی۔

وہ لوگ ہوٹل میں پہنچ گئے تھے۔سب موجود تھی پر ماشی نظر نہیں آ رہی تھی۔ماحول بھی عجیب سا ہوا پڑھا تھا ایک میزٹوٹی ہوئی تھی کچھ خوراک نیچے پڑھی تھی۔اور وہ چارو لڑکیاں پریشان بیٹھی تھی

“ماشی کہاں ہے۔۔،،فہد نے فکر مندی سے پوچھا۔

“پتا نہیں۔۔کوئی لڑکا اسے اٹھا کر لے

گیا پتا نہیں کون تھا۔۔ہم نے روکنے کی کوشش کی پر وہ پسٹل نکال کھڑا ہوا اور ماشی کو۔۔،،ایک کزن آگے آ کر بڑے آرام سے بولی۔جیسے وہ کوئی سٹوری سنا رہی ہو۔

“واٹ۔۔۔تم لوگوں نے مجھے کال کیوں نہیں کی۔۔،،فہد کا دماغ گھوم گیا تھا۔

“ہ۔۔ہمارے پاس بیلنس نہیں تھا۔۔،، ایک کزن نے ڈرتے ہوئے کہا۔

“کبھی کروانا بھی مت کنجوسی کی حد پار ہو گئ۔۔،،عشرت نے غصے سے کہا۔

“یہ ضرور اس کا کام ہو گا۔۔،،عشرت بڑبڑائی۔

“کس کا۔۔،،فہد نے چونک کر اسے دیکھا۔

“۔۔۔وہ۔ ۔۔،،عشرت کہتے کہتے رک گئی

“نہیں عشو وہ نہیں تھا کوئی اور تھا بہت ہینڈسم گڈ لوکنگ۔ہوٹ ۔،، ایک کزن نے اس کی بات کو سمجھتے ہوئے کہا ۔

“مطلب افنان رندھاوا۔،،عشرت نے دونوں ہاتھ منہ پہ رکھ لئے

“کیا وہ اتنا گرا ہوا انسان ہے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔،،فہد نے دانت پیس کر کہا اور پینٹ کی جیب سے فون نکال کر آسام کا نمبر ڈائل کرنے لگا۔

“افنان ،ماشی کو اٹھا کر لے گیا ہے اگر اس نے کچھ غلط کیا تو میں اسے معاف نہیں کروں گا۔۔۔،،فہد نے مزید کچھ نہیں کہا اور کال کاٹ دی۔

دوسری طرف آسام لڑکھڑا گیا۔

آسام اسے ایرپورٹ سے ریسیو کرنے گیا تھا پر وہ وہاں نہیں تھا البتہ باقی سب تھے جب پوچھا تو پتا چلا وہ کسی کام سے گیا ہے۔کہاں گیا یہ نہیں پتا۔۔

اب آسام کو سمجھ آیا کہ کیا کام تھا۔

ماشی کے فون کی لوکیشن ملک ہاؤس میں تھی کیونکہ وہ فون گھر ہی چھوڑ آئی تھی۔

“میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا ماشی۔ افنان کے غلط ارادے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔۔،،آسام گاڑی نکال کر راستے پر چلنے لگا اسے معلوم نہیں تھا وہ کیا کرے کہاں جائے معلوم تھا تو یہ کہ ماشی کو بچانا ہے۔

“وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے اسے اپنے بھائی کا خیال نہیں آیا۔۔،،آسام کو افنان پہ حد درجے غصہ آ گیا تھا

**************

افنان نے ایک دفعہ بہانے بہانے سے ملک ہاؤس کے بارے میں پوچھ لیا تھا

اور جب وہ وہاں پہنچا تو وہ لوگ کہیں جا رہے تھے اس نے اپنی گاڑی کو ایک طرف کر لیا تھا۔اور جب وہ نکل گئے ان کا پیچھا کرنے لگا۔ہوٹل میں اس نے کافی ہنگامہ برپا کیا تھا ماشی ڈر گئ تھی

اور جب کچھ لوگوں نے روکنا چاہا افنان نے پسٹل نکال لیا اور ماشی کو اٹھا کر گاڑی میں ڈال دیا۔

“چھوڑو مجھے۔۔،،ماشی نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکلوانا چاہا۔

“نہیں چھوڑوں گا۔۔،افنان نے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی اور ڈھٹائی سے بولا۔

“کہاں لے جا رہے ہو مجھے۔۔،،ماشی چلائی تھی۔ سورج غروب ہونے کو تھا اور اس کی دھڑکنیں بھی۔

“جہاں بس تم اور میں ہوں گے۔۔تمہارا وہ

So cool boyfriend..

وہ بھی نہیں ہو گا۔۔،،افنان نے بوائے فرینڈ پہ دانت پیس لئے۔

“کون بوائے فرینڈ تمہیں شرم آنی چاہئے اپنی حد کیوں بھول رہے ہو ۔۔،،ماشی نے اس کے ہاتھ پر دانت رکھ دیئے تھے۔پر اسے کہاں فرق پڑا تھا۔

“ایک تو تم کاٹتی بہت ہو۔بچپن میں کسی پاگل کتے نے کاٹا تھا کیا۔،،افنان نے گاڑی روک لی تھی۔

اور اس کے گلے سے ڈوپٹہ کھینچنے لگا۔

“Stop it what you want..,,

ماشی اسے پیچھے دھکیلنے لگی

“I want you . only you my Jan..,,

افنان نے اسے محبت سے دیکھا۔

“چھچ۔میں تمہاری۔ب۔،،ماشی نے نفرت آمیز انداز میں کہا۔

“کیا تمہاری تم کچھ نہیں کر سکتی۔،،افنان اس کی بات کاٹ کر بولا اور دوپٹے سے اس کے دونوں ہاتھ باندھنے لگا۔

“تم غلط کر رہے ہو بہت پچھتاؤ گے۔۔،،ماشی پھر سے چلائی تھی۔

“شششش۔۔۔اب ایک اور لفظ بھی بولی تو۔۔مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ہر وقت بولتی رہتی ہو نفرت اگلتے اگلتے تھکتی نہیں۔۔۔،، افنان اس کے مسلسل بولنے سے تنگ آچکا تھا۔جب وہ غصے سے بولا تو ماشی سہم گئ۔

افنان نے اس کے دونوں ہاتھوں سے باندھے دوپٹے کو اپنے ایک ہاتھ سے باندھ لیا تھا ماشی نے اسے نفرت بھری نظروں سے دیکھا پر وہ مسکرا دیا۔

“تم کتنے گھٹیا انسان ہو پتا ہے تمہیں۔۔،،ماشی دانت پیس کر بولی۔

“ہاں بہت گھٹیا ہوں پر ہوں تو صرف تمہارا۔۔،،افنان نے مسکرا کر اسے آنکھ ماری۔ماشی نے منہ کھڑکی سے باہر کر لیا۔اس پہ ماشی کے نفرت بھرے جملوں کا کو اثر نہیں ہو رہا تھا۔

“پلیز آسام مجھے بچا لو۔پتا نہیں یہ دریندہ کیا کر گزرے۔،،وہ دل ہی دل میں آسام کو پکارنے لگی۔۔

رات کا اندھیرا چھانے لگا تھا۔

اور ماشی کا دل بھی ڈوبنے لگا تھا۔ آنسوں جاری ہوگئے تھے۔

“پلیز مجھے چھوڑ دو۔۔،،ماشی نے

دونوں ہاتھوں کو افنان کے سامنے جوڑ دیا۔پر وہ چپ چاپ ڈرائیو کرتا رہا۔

ماشی نے ایک چھوٹا سی دوکان دیکھی تو بول پڑھی۔

“مجھے بھوک لگی ہے۔۔،،

“میرا سر کھا کھا کر تمہارا پیٹ نہیں بھرا۔۔،،افنان نے ماشی کو گھورا تو وہ ڈر گئ۔اور نفی میں سر ہلا دیا۔

افنان نے گاڑی کی باریک لگا دی

“ہاتھ کھول کر جاؤ کہیں نہیں جاؤں گی۔۔،،ماشی نے اس کے سامنے ہاتھ لہرائے۔۔

“ہاہاہاہا مجھے پاگل سمجھا ہے تم نے ہوشیار مت بنو۔۔،،افنان نے اپنے ہاتھ سے ڈوپٹہ کھول کر سٹیرنگ سے باندھ دیا۔

اور دوکان کی طرف بڑھ گیا۔

ماشی کو گاڑی میں چارج سے لگا اس کا فون نظر آیا تو اس نے ہاتھ بڑھا کر اٹھا لیا۔

” کال اٹھاؤ پلیز۔۔،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتی افنان نے اس سے فون کھینچ لیا ماشی اس کی آنکھوں میں موجود غصے سے ڈر گئ۔

“تیرا وہ عاشق مجھ تک نہیں پہنچ سکتا۔۔اس راجپوت کی اتنی پہنچ نہیں ہے۔۔کہ افنان رندھاوا کو ڈھونڈ لے۔۔،،افنان نےماشی کا گلا دبوچ لیا۔

“راجپوت۔۔۔،،ماشی کا ہلق خشک ہونے لگا۔افنان کیا سوچ رہا تھا اور حقیقت کیا تھی۔۔

“وہ تم تک پہنچے گا اور وہ راجپوت نہیں بلکہ۔۔۔،،ماشی نے اس کے ہاتھ کو جھٹک دیا۔۔پر افنان اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے اس کی طرف جھکا

“دیکھتے ہیں۔۔،،افنان نے اپنے فون کو اٹھا کر اس کی طرف بڑھا دیا۔

“کر لو کال۔۔،،افنان ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر بولا۔

معاشی جلدی سے نمر ڈائل کرنے لگی تھی کہ افنان نے پھر فون کھینچ لیا

“سمجھتی کیا ہو خود کو چپ چاپ نہیں بیٹھ سکتی۔،،افنان اس پہ جھکا تھا ماشی نے آنکھیں بند کر لی۔دل تھا کہ دھڑکتا ہی جارہا تھا۔افنان اس کو دیکھنے لگا

“کتنی خوبصورت ہو تمجو آج تک کوئی نہ کر پائی تم نے کر دیکھایا۔افنان رندھاوا کو چرا لیا ہے ۔،،وہ اس کو چھونے کی کوشش کرنے لگا پر چھو نہ سکا کوئی بے بسی آ کر رہ گئ تھی۔وہ پیچھے ہٹ گیا

“اب ایک لفظ اؤر نہیں اوکے good girl کی طرح چپ کر کے بیٹھو۔،،افنان نے انگلی دیکھا کر کہا۔

“کاش تم پیدا ہی نہ ہوتے یا تم مر جاتے۔۔،،پہلی بار ماشی نے بولا تھا تھا۔

“پیدا بھی تمہارے لئے ہوا ہوں اور مروں گا بھی تمہارے لئے۔ہاہاہا۔۔،،افنان کی ہر بات اسے غصہ دلا رہی تھی۔

افنان نے گاڑی پھر سے سٹارٹ کر لی

سردیوں کی آمد تھی ماشی پہ لرزی طاری ہو گئ تھی وہ ڈر سے کانپ رہی تھی۔اسے معلوم نہیں تھا افنان اس کے ساتھ کیا کرے گا۔پر جب اس نے وہ لفظ دہرائے تو ماشی کی روح کانپ گئ۔

“کل ہمارا نکاح ہے۔۔،،افنان نے مسکرا کر اسے دیکھا۔پر ماشی کو لگا وہ ابھی بے ہوش ہو جائے گی۔دل میں دھماکے ہونے لگے۔

“تم۔تم۔۔۔پ۔۔پاگل ہو گئے ہو تمہیں پتا بھی ہے کہ میں اور ۔۔،،ماشی نے آنسوں میں ڈوبی آواز سے کہا۔

“ہاں جانتا ہوں تم اور وہ چپڑ گنجو ایک دوسرے۔۔۔بٹ اب تم صرف میری ہو۔۔افنان رندھاوا کی۔۔،،افنان نے اس کے آنسوں کو انگلی کے پروں پر سمیٹ لیا تھا

ماشی نے بولنے کے لئے منہ کھولا تھا پر افنان نے اس کی آواز دبا دی۔

“میں نے کیا کہا تم نے سنا نہیں۔۔،،افنان نے غصے سے اسے دیکھا۔

“میں تم سے نکاح نہیں کروں گی۔۔،،ماشی نے افنان کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔

“کیوں کیا کمی ہے مجھ میں۔۔ سمارٹ،ہوٹ،چارمنگ،اٹریکٹو،، سب کچھ ہے میرے پاس ۔پھر کیوں تم اس ہارش کے پیچھے بھاگتی ہو۔،،افنان نے گاڑی کی سپیڈ بہت حد تک بڑھا دی تھی ماشی کے اندر طوفان برپا ہو گیا تھا جب افنان کو حقیقت پتا چلنی تھی تو وہ طوفان اس کی طرف چلا جانا تھا۔

ماشی کی آنکھوں میں سامنے کی چیزیں دھندلا گئ تھی۔۔اور دیکھتے ہی دیکھتے۔۔وہ بے ہوش ہو گئی۔ بہت کمزور ہو جاتی تھی وہ۔۔

“شکر ہے اس کا منہ بند ہوا۔۔،، افنان نے اس کا سر اپنے کاندھے پہ ٹکا لیا۔

***********

“فہد یہ بات گھر میں چاچا کو مت پتا چلنے دینا۔۔ورنہ وہ سامی اور ماشی کو ایک نہیں ہونے دیں گے۔،،عشرت نے سمجھانے والے انداز میں فہد کو کہا تو اس نے سمجھ کر ہاں میں سر ہلا دیا

“ہم فارم ہاؤس جاتے ہیں تم وہاں رکنا اور میں آسام ،ماشی کو ڈھونڈیں گے۔۔انسپکٹر سے بات ہو گی ہے میری۔۔،،فہد نے ساری تفصیل مختصر بیان کی۔

عشرت نے باقی کی کزنز کو بھی یہ ہی بات سمجھا دی

“بٹ فہد اگر چاچا فارم ہاؤس پہنچ گئے تو کیا جواب دیں گے۔۔،،عشرت کے دل میں سوال ابھرا تھا۔

“وہ بعد کا معاملہ ہے امید ہے کل تک ہم ڈھونڈ لیں گے۔،،فہد نے اسے اسے یقین دلایا

“یا اللہ وہ بچی کیوں بار بار مصیبت میں پھنس جاتی ہے۔کیا لکھا ہے اس کی قسمت میں۔ حفاظت فرما اس کی مولا۔افنان کے دل میں غیرت اور رحیم پیدا کر دینا۔،،عشو نے ماشی کے لئے دل میں دعا کی۔

ہوتا بھی ہر بار ایسا تھا۔

کیا سے کیا ہو گیا تھا۔

شاید افنان کو علم نہیں تھا کہ ماشی کا اور اس کا کیا رشتہ جوڑ گیا ہے۔

ماشی کی آنکھ کھلی تو وہ خوف سے کانپ گئ چاروں طرف نظر گھمائی عالی شان کمرہ تھا وہ بیڈ پر سوئی ہوئی تھی

وہ یاد کرنے لگی کیا ہوا تھا۔پر یا کچھ نہیں آیا۔ایک طرف صوفے پر افنان سویا ہوا تھا۔اس کی شرٹ تن پہ نہیں تھی۔ماشی کے منہ سے یکدم چینخ نکلی۔

افنان کی آنکھ کھول گئ۔

“کیا پروبلم ہے۔،،افنان اس کے آنسوں اور ڈر کو نظر انداز کر کے بولا۔

“تم نے میرے ساتھ کیا کیا۔جلدی بتاؤ ۔۔تم۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئے۔کہاں لے آئے ہو مجھے،، ماشی اپنا دوپٹہ اٹھا کر میز پر پڑھا گلدستہ اٹھنے لگی۔

“ارے ارے یار ریلکس۔۔،،افنان نے اسے پکڑ کر بیڈ پر بیٹھا دیا۔

” م۔۔میں اکیلی تمہارے ساتھ ایک کمرے میں۔۔نہیں۔۔۔،،ماشی نے سر پکڑ کر اسے دور دھکیلا۔ ایسا ڈر کہ جان نکلنے کو تھی آنسوں بہنے لگے تھے۔ٹائم دیکھا تو دو بجے تھے رات کے

افنان نے اکتا کر اسے دیکھا۔

“جان پلیز سٹاپ اٹ۔۔،،افنان نے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا۔

ماشی کا سر اس کی گود میں جا گرا ماشی نے غم کے مارے آنکھیں بند کر لی۔

“تم ایسے کیسے کر سکتے ہو ۔۔،،ماشی نے اس کی گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش کرنے لگی۔پر ڈر سے اس کے وجود سے جان نکلنے لگی تھی۔

“دیکھو کل تم میری وائف بن جاؤ گی ۔۔میں نہیں چاہتا تم أنسوں بہاتی رہو ۔۔،،افنان نے اس کے آنسوں صاف کر دیئے تھے۔وہ اس کی قید سے چھوٹنے کی ہر ناکام کوشش کر رہی تھی۔

“تمہیں بھوک لگی ہو گی۔۔ایک منٹ۔۔،،افنان اس کی ایک نہیں سن رہا تھا ماشی کچھ بولنے کے لئے منہ کھولتی تو وہ اپنی بکواس شروع کر دیتا۔

“منہ کھولو آج میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے کھلاؤں گا۔۔ایک پل کو سمجھ لو کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔۔،،افنان اس کے قریب ہو کر بیٹھ گیا۔اور چاولوں کا چمچ ماشی کی طرف کیا ماشی نے اسے دھکا دیا اور دروازے کی طرف بھاگی دروازہ لاک تھا۔

“یار ہم اکیلے ہیں یہاں کوئی آ نہ جائے اسی لئے لاک لگا دیا ٹھیک کیا نہ۔,,ماشی کا رنگ اڑ گیا تھا۔اس کا سکون چین سب تباہ ہو گیا تھا۔

” کوئی کسی کے ساتھ ایسے کیسے کر سکتا ہےکیوں کر رہے ہو ۔ذرا بھی میری عزت کی پرواہ نہیں تمہیں۔،،ماشی چلانے لگی تھی۔

“ششش۔کوئی سن لے گا۔ادھر آؤ۔،،وہ اٹھ کر ماشی کے پاس آ گیا۔

“ہاتھ بھی مت لگانا مجھے دور رہو۔،،ماشی نے غصے اور خوف سے کہا۔

“دیکھو مجھے تمہاری عزت کی پرواہ ہے پر اس طرح کون سا میں تمہاری عزت لوٹ رہا ہوں۔ہمارے درمیان ایسا کچھ نہیں ہوا۔جب مجھے یقین ہے کہ تم میری ہو تو میں کیوں تمہاری عزت لوٹوں۔،،وہ ماشی کے بہت قریب کھڑا تھا۔اس نے شرٹ ابھی بھی نہیں پہنی تھی ماشی اپنے ڈوپٹے کو کس کے پکڑ کر پیچھے ہٹنے لگی۔افنان نے نفی میں سر ہلایا اور اسے پکڑ کر بیڈ پر پھینک دیا

“اور ہم اسلام آباد میں موجود ہیں کچھ دیر پہلے ہی پہنچے ہیں نہ خود چین سے سانس لیتی ہو نہ مجھے لینے دیتی ہو۔،،افنان بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے شرٹ پہن کر اس کے پاس آکر بیٹھ گیا۔

“منہ کھولو۔۔،،افنان نے پھر سے اس کی طرف چاولوں سے بھرا چمچہ کیا

“م۔۔مجھے بھوک ن۔۔نہیں ہے ۔۔،،ماشی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کرے اسے کھولی کھڑکی نظر آئی۔اس سے پہلے وہ بھاگتی افنان اس کی چال سمجھ کر کھڑکی کے پاس گیا اور بند کر دی پھر سے اس کے پاس آکر بیٹھ گیا

“میں نے کیا کہا سنا نہیں اور مرنے کے بارے میں سوچنا بھی مت۔۔،،افنان نےغصے سے کہا تو ماشی نے منہ نہیں کھولا اور جلدی سے کمبل میں خود کو چھپا لیا۔

“اگر میں چاہوں تو یہ کمبل بھی تمہیں نہ چھپا سکے پر میں ایسا نہیں کروں گا۔میں تم سے محبت کرتا ہوں چاندنی۔۔،،افنان نے پلیٹ کو ٹیبل پر رکھ دیا اور صوفے پر جا بیٹھا۔

ماشی کے دل میں پھر سے طوفان برپا ہونے لگا وہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ غلط کر رہا ہے پر ہر بار وہ اسے روک دیتا تھا

“افنان مجھے جانے دو آسام اور میری کل منگنی ہے کچھ تو حیا کرو میں تمہاری بھاب۔۔بھابھی بننے والی ہوں ک۔۔کچھ تو حیا کر لیتے۔اتنے گرے ہوئے انسان ہو۔۔،،ماشی نے جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی

اپنی بات پوری کی اور رونے لگی۔اب تک جو بات افنان اس کے منہ میں ہی اٹکا رہا تھا وہ باہر آ گی تھی۔ افنان کے سر پہ دھماکہ ہوا تھا سامنے کا منتظر دندھلا گیا۔وہ صوفے کو پکڑ کر بیٹھ گیا۔بے یقینی میں اس نے ماشی کو دیکھا۔پر دوسرے ہی پل وہ پھر سے میدان میں اتر آیا

“What a great joke..,,

افنان کا کہکہکا بلند تھا۔

“نہیں افنان رندھاوا۔۔۔آسام اور میری کل منگنی ہے شرم کرو شرم کبھی تو رشتوں کی قدر کرنا سیکھ لو۔میری عزت نہ سہی تو اپنے بھائی کا ہی سوچ لیتے تمہیں ذرا شرم نہ آئی کب سے میں کہنے کی کوشش کر رہی ہوں تم۔۔تم سب جانتے ہوئے بھی۔۔،،ماشی نے اس کے گریبان سے پکڑا اور زور سے تھپڑ رسید کر دیا ۔

“تو کیا۔۔۔تم کیا سمجھتی ہو کچھ بھی بولو گی اور میں مان جاؤں گا۔۔سامی اور میری بات ہوئی تھی۔اس نے کچھ نہیں بتایا تو تم چھوٹ بول رہی ہو ہاں نہ۔۔،،افنان کی آنکھوں میں ڈر تھا ہاتھ کانپنے لگے تھے۔جیسےوہ غصے سے چھپا رہا تھا۔تھپڑ کا اس پہ اثر نہیں ہوا تھا۔

ماشی کو پانے سے پہلے ہی وہ کھو چکا تھا۔۔

“ابھی کال کر کے پوچھ لو سب پتا چل جائے گا۔۔،،ماشی نے بھنورے آچکا کر کہا۔وہ اسلام آباد میں تھی آسام کے نزدیک تو ڈر کہاں لگنا تھا۔اس کی ہمت واپس آ چکی تھی

وہ ماشی کی آنکھوں میں سچ دیکھ چکا تھا۔

“پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔،،افنان نے اسے شہانوں سے پکڑ لیا۔

“کچھ بولنے دیا ہے مجھے۔۔اور تم جیسے وہشی کو کیا پرواہ تم تو بس اپنے بارے میں سوچتے ہو۔۔،ماشی نے اسے ایک بار پھر دھکا دیا تھا افنان لڑکھڑاکر صوفے پر گر گیا۔اس میں جان باقی نہیں رہی تھی شائد۔

یکدم کمرے میں گھٹن بڑھ گئی تھی۔وہ تیزی سے کمرے کی طرف بڑھا پر بھول گیا چابی کہاں ہے بے بسی سے یہاں وہاں ڈھونڈنے لگا۔ماشی نے اس سے پیٹھ پھیر لی تھی۔ چابی ملنے پر وہ ایک بےبس نظر ماشی پہ ڈال کر

دروازہ کھول کر باہر بھاگ گیا۔

ماشی نے سکون کا سانس لیا تھا۔

،افنان یکدم پھر سے سامنے آ گیا تھا۔اور ماشی کو اس سے ڈر نہیں لگا تھا کیونکہ وہ اس حالت میں نہیں تھا کہ دھاڑ سکتا۔

“ت۔۔ت۔تم سامی سے محبت کرتی ہو۔،،افنان نے اسے کاندھوں سے تھام کر بے یقینی کے عالم میں پوچھا۔

ماشی اس کی آنکھوں میں دیکھ کر حیران رہ گئ وہاں کیا تھا۔۔۔درد دکھ۔۔ یا غصہ۔

ماشی نے ہاں میں سر ہلا دیا۔

“اور سامی۔۔ب۔۔بھی ت۔۔تم۔۔،،افنان کا گلا خشک ہونے لگا تھا۔

“ہاں۔۔،،ماشی نے اسے پیچھے دھکیل دیا تھا۔

“مجھے کیوں نہیں بتایا تم دونوں نے۔۔ہاں کیوں۔۔کیوں کیا تم نے ایسے میرے بھولے بھالے بھائی کو بھنسا لیا۔۔چاہتی کیا ہو تم۔۔،،افنان تحش میں آکر بولا۔ماشی نے چونک کر اسے دیکھا۔

“مجھ سے بدلہ لینے کے لئے یہ سب کر رہی ہو نہ۔۔،،وہ بھوکے شیر کی طرح دھڑا تھا ماشی ڈر گئ سہم گئ اور پیچھے ہٹنے لگی افنان نے اسے پکڑ کر پھر سے اپنے قریب کر لیا۔

“میں تمہیں کسی کا نہیں ہونے دوں گا۔۔،،افنان نے اسے اپنی باہوں میں بھر کر بے تابی سے کہا۔اس کے سینے میں آگ لگ چکی تھی۔جو وہ ماشی تک پہنچانا چاہتا تھا۔پر ماشی کے دل میں آسام تھا اس کی دھڑکنیں سن کر افنان ڈر گیا۔

“پر اب۔۔۔اب۔۔ت۔۔تم۔۔،،وہ ماشی کو خود سے دور کر چند قدم پیچھے ہٹ گیا۔

“اب تم میری۔۔بھابھی۔نو۔۔نو۔۔۔۔،،افنان نے کہکہا لگا کر کہا۔ماشی اس سے ڈر گئ تھی۔پل میں تولا پل میں ماشہ ۔پل میں پاگل۔پل میں غصے سے بھر جانے والا وہ انسان اسے وحشی لگ رہا تھا۔

“چلو میرے ساتھ یہ کورٹ پہن لو باہر ٹھنڈ ہے۔۔،،افنان اپنے بالوں کو ایک طرف کر کے بولا۔ماشی سردی سے اور ڈر سے کانپ رہی تھی پر کورٹ نہ پکڑا۔ افنان نے غصے سے اسے گھورا اور اپنا کورٹ اس کو زبردستی پہنا دیا۔ ماشی کو غور سے دیکھنے کو بھی اب وہ ڈر رہا تھا۔

“ٹھنڈ سے تم مر گئ تو وہاں وہ کمنہ بھی مر جائے گا۔۔۔۔ہاہاہاہا۔،،افنان کا کہکہا بہت بے جان تھا ماشی نے نظر جھکا لی۔ سکون کا سانس لیا۔اور چل پڑی۔ گھڑی دیکھی تو پانچ بجنےکو تھے

افنان اپنا فون اون کرنے لگا اور کسی کا نمبر ڈائل کرنے لگا ۔ماشی نے دونوں ہاتھ اپنے سینے سے لپیٹ لئے۔

افنان نے آسام کو کال کر کے جگہ بتائی آسام نے اسے ہوٹل میں روکنے کو ہی کہا

افنان نے ماشی کو دیکھا اور اسے کمرے میں چھوڑ کر خود باہر چلا گیا۔ماشی کو بہت عجیب لگ رہا تھا۔سکون چین جاتا رہا تھا ۔ لوگ کیا سوچیں گے دیکھنے والے کیا سوچیں گے۔اس کے آنسوں ایک بار پھر بہنے لگے تھے۔۔

ماشی نے آنکھیں بند کر لی ۔ افنان کے کورٹ سے اٹھ رہی خوشبو اس کے حواس کو بے چین کر رہی تھی ڈر سے اس نے کورٹ اتار پھینکا۔۔

گاڑی کے پاس کھڑے افنان کے دل میں کچھ ٹوٹنے لگا تھا۔اس کی جلن ماشی کو محسوس نہیں ہو رہی تھی۔

“چاندنی۔۔،،افنان نے اسے پکارا تھا۔اور آنکھیں مند لی اتنے میں آسام وہاں پہنچ گیا تھا۔

“کچھ مت بولنا اور روکو میں آتا ہوں۔۔،، آسام کو دیکھتے ہی وہ ہوٹل کے اندرونی طرف تیزی سے بڑھا

آسام ضبط کئے کھڑا رہا واپسی پہ وہ ماشی کا ہاتھ پکڑ کر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا

“افنان یہ کیا بد تمیزی ہے تم ایسا کیسے کر سکتے ہو کچھ تو لحاظ کر لیتے ایک لڑکی کی عزت کیا ہوتی ہے جانتے بھی ہو۔اور اگر میڈیا والے یہ دیکھ لیں تو کچھ غلط کرنے سے پہلے سوچ لیتے۔۔،،آسام نے اسے تھپڑ مار کر دھکا دیا تھا پر اس نے ماشی کا ہاتھ نہیں چھوڑا ۔ماشی کا دل کیا وہ مر جائے ۔پر مر نہیں سکتی تھی۔اس کی قسمت نے ابھی بہت کچھ دیکھانا تھا اسے۔

“میں نے کہا تھا نہ کہ تم اس کے عاشق ہو ۔۔ہا ہاہاہاہاہاہاہا کاش تب تم مان جاتے۔ تو آج یہ گڈنیپ نہ ہوتی۔اور میں نے اس کے ساتھ کچھ نہیں کیا ہاہاہاہا۔،،افنان نے ماشی کی طرف اشارہ کیا۔وہ خود پہ ہس رہا تھا۔آسام نے ماشی کو دیکھا اس کی آنکھوں میں آنسوں تھے ڈر تھا۔افنان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شائد وہ اس کی جان لے لیتا

“آج ہماری منگنی ہے اور تم قسم سے اگر تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو میں اسے جان سے مار دیتا۔۔،،آسام نے سر تھام لیا۔

“پتا ہے پتا ہے۔۔میں نے کچھ غلط نہیں کیا بھابھی سے پوچھ سکتے ہو۔۔میں نے سوچا آپ دونوں کی ملاقات کروا دوں۔۔مجھے پتا ہے اب تک آپ دونوں آمنے سامنے بیٹھ کر باتیں نہیں کر سکے ہو گے اسی لئے میں نے۔۔یہ پلین کیا۔۔اور مس ماشی تمہیں پتا چل گیا نہ کہ میرا بھائی تم سے کتنی محبت کرتا ہے۔اور یہ گڈنیپنگ نکلی تھی۔۔،،افنان نے ماشی کا ہاتھ آسام کو تھما کر سینے پر ہاتھ باندھ کر انہیں دیکھ کر کہا۔ ماشی نے اپنے آنسوں صاف کر لئے پر دل ہر چیز سے اچٹ ہو گیا تھا۔ افنان نے ایک اور زخم اس کی روح پر لگایا تھا اور اب اسے چھپا رہا تھا۔تاکہ اس کے بھائی کا دل نہ ٹوٹے تینوں الگ الگ احساسات کے شکار ہو چکے تھے۔ماشی کو افنان سے نفرت اور بڑھ گئ تھی۔اور خود سے بھی نفرت ہونے لگی تھی۔آسام غلط فہمی کا شکار تھا افنان سے بدگماں تھا۔اور ماشی سے شرمندہ۔افنان جو ماشی کی محبت میں چور چور ہو کر بھی مسکرا رہا تھا۔ارادے بھی غلط تھے پر وہ خود غلط تھا ہر بار غلط کرتا تھا ماشی کے ساتھ۔

ماشی اور آسام نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر اسے

“تم سچ کہ رہے ہو۔۔پر یوں اٹھانے کی کیا ضرورت تھی۔۔،،آسام نے افنان مکا مارا۔

“ضرورت تھی ۔۔وہ۔۔وہ۔۔،،افنان کو کوئی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اب کیا

جھوٹ بولے۔

“کیا وہ ۔۔وہ۔۔،،آسام نے بغور اسے دیکھا۔

“وہ یہ کہ ۔۔چلو جانے دو۔۔ اب خود ہی چھوڑ آنا نہیں تو اس کا ہیٹلر بھائی میری جان لے لے گا۔اس نے تو پولیس کو بھی انفارم کر دیا ہو گا۔ توبا توبا بڑا advance بندہ ہے،،افنان نے کہکہا لگا کر کہا۔ماشی حیرانگی سے اسے سن رہی تھی دیکھ تو نچے رہی تھی۔ آسام اور ماشی جو دیکھ رہے تھے جو سن رہے تھے وہ سچ نہیں تھا افنان نے منگھڑت کہانی سنائی تھی تاکہ اس کے احساسات کا اندازہ نہ لگے۔۔اور آسام کا دل نہ ٹوٹے۔

“کہاں فنکشن ارینج کیا ہے۔۔،،افنان نے آسام کے گلے لگ کر پوچھا آسام کے ہاتھ سے ماشی نے ہاتھ چھڑا لیا۔اسے اب کسی کی موجودگی اچھی نہیں لگ رہی تھی۔آسام کی بھی نہیں۔افنان تو پہلے ہی اسے زہر لگتا تھا۔

“لاہور۔۔۔تم لوگ آ رہے ہو یا بھائی حماد کی شادی پرجس طرح کیا اسی طرح کرو گے۔،،آسام نے افنان کو گھورا تھا۔

“سامی بےبی ضرور آئیں گے ہم۔۔،،افنان نے ماشی کو دیکھا وہ آسام کے ساتھ کھڑی تھی دونوں ایک ساتھ بہت خوبصورت لگ رہے تھے افنان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی

“ملتے ہیں پھر میں لاہور جا رہا ہوں اور گھر والے سب ۔۔،، افنان نے قدم پیچھے بڑھا کر اچھلتے ہوئے کہا۔

“سب نکل گئے ہیں۔۔اب ہم تینوں رہ گئے ہیں تم چلو میں پہلے ماشی کو فہد اور عشرت کے پاس چھوڑوں گا ۔،،آسام نے ہاتھ ہلا کر کہا

تو افنان گاڑی میں بیٹھ کر انہیں دیکھتا گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔ماشی نے آسام کو دیکھا اور سکون اپنے اندر اتارا وہ اس کا سکون تھا۔چین قرار سب ہی تو آسام اس کا تھا۔پر اب وہ تھوڑی بدگمانی کا شکار ہو گئی تھی۔بےسکونی کا شکار ڈر کا شکار

“چلیں۔۔،،آسام نے مسکرا کر کہا پر ماشی نے ناراضگی سے اسے دیکھا اور نفی میں سر ہلا دیا

آسام اس کی ناراضگی سے واقف تھا وہ جانتا تھا کہ بے وجہ نہیں ہے۔

**********

“میری محبت دی اینڈ ہو گئ۔۔۔،،افنان اپنے کمرے میں جا کر بیٹھ گیا۔

دل تھا کہ بے سکون ہو چکا تھا۔

قسمت ایسے بھی بدلتی ہے اسے اب پتا چلا تھا وہ ماشی کو اپنا بنانے کے بارے میں سوچ لیا تھا اب وہ اس کی بھابھی بننے جا رہی تھی۔

“ٹھیک ہوا جو بھی ہوا اب تیار ہو جاؤ اپنی محبت کو اپنے ہی بھائی کا ہوتے دیکھنے کو۔ہاہاہا ویسے کتنی اچھی ہے نہ یہ تڑپ والی فیلنگز۔،،افنان آئینے میں خود کو دیکھ کر بولا

“کوئی نہیں تجھے تو اور کوئی بھی مل سکتی ہے پر سامی بےبی کو کوئی پسند نہیں آ رہی تھی اللہ اللہ کر کے آ گئ۔۔،،لکی نے کورٹ پہن کر کہا وہ سب لوگ تیار ہو چکے تھے۔۔

“تم اسے یوں ہی جانے دو گے تم تو افنان رندھاوا ہو نہ یار۔۔،،ساگر نے افنان کے کاندھے پر تھپکی دے کر شوخی دیکھائی

“سن ساگر میں کچھ بھی کر سکتا ہوں پر سامی کی خوشیاں نہیں چھین سکتا۔اب اس ایک لڑکی کے پیچھے میں اپنے بھائی کو دکھوں کے دلدل میں دھکیل دوں no way۔،، وہ پینٹ اٹھا کر واش روم کی طرف بڑھ گیا۔

“اور ہم تمہارے خوابوں کو چکنا چور ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔۔،،ساگر نے افسوس آمیز انداز میں کہا۔

“ہاہاہاہاہاہاہا ارے یار۔۔۔کون سے خواب میں نے کبھی دیکھے نہیں مجھے کوئی اور مل جائے گی۔۔۔ چلو اب جلدی سے ریڈی ہو جاؤ نہیں تو بھنگڑا ڈالنے سے محروم ہو جاؤ گے۔۔،،افنان کہ کر واش روم میں گھس گیا۔

“وہ رکھی ہے۔۔،،جنید بیڈ پر گرتے ہوئے بولا۔

“مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا۔۔،،ساگر پروفیمز میں سے ایک اٹھاتے ہوئے شہانے آچکا کربولا۔

افنان تھوڑی دیر میں باہر آ گیا

اس کی آنکھیں لال ہو چکی تھی۔

“ارے کیا ہوا۔۔۔،،لکی نے اسے اپنی طرف گھما لیا۔

“کچھ بھی تو نہیں۔۔۔،،افنان نے منہ موڑ کر شرٹ زیب تن کر لی۔

“اسے عشق نے مارا۔۔۔ چاندنی کا کیا قصور تھا۔۔،،لکی نے زور دار کہکہا لگا کر کہا جس پہ سب ہسنے لگے۔

“مر گئ چاندنی۔اب اگر کوئی زندہ ہے تو وہ آسام کی ماشی ہے بھول گیا میں کسی چاندنی کو۔،، افنان نے دانت پیس کر کف کے بٹن بن کئے اور باہر نکل گیا۔نہ پروفیم لگائی نہ بالوں کو سنوارا نہ چشمہ لگایا۔نہ ریسٹ واچ باندھی ۔

سب نے نوٹ کیا تھا پر کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اسے کچھ کہیں…

جاری ہے

Episode 24

ماشی بوجھے دل کے ساتھ تیار ہو رہی تھی آج اس کی منگنی تھی پر اس کے چہرے پر مسکراہٹ نام کی بھی نہیں تھی۔

“کیا ہوا ماشی تم پریشان کیوں ہو۔،،عشرت اس کے پاس بیٹھ گئ۔

“عشرت میں یہ منگنی نہیں کرنا چاہتی۔،،ماشی کی بات سن کر عشرت ہڑبڑا گئ۔

“یہ کیا کہ رہی ہو تم۔۔،،ماشی نے تجسس سے پوچھا۔

“جو میرے دل نے کہا۔۔میرا دل نہیں کر رہا نہ منگنی نہ شادی۔کچھ نہیں۔،،ماشی نے لمبا سانس لیا اور تیاری کرنے لگی۔

“یہ دیکھو ماشی۔۔آسام کتنا خوش ہے سب کتنے خوش ہیں اور تم آسام سے محبت نہیں کرتی کیا رہ لو گی اس کے بغیر۔،،عشرت نے آسام کی تصویر اس کی طرف کی اور کمرے سے چلی گئ فہد اس کا انتظار کر رہا تھا وہ لوگ ہوٹل کی طرف روانہ ہو گئے۔

“آسام پتا نہیں کیوں میرا دل ہر چیز سے اچٹ ہو گیا ہے۔مجھے پتا ہے تم میرے لئے کچھ بھی کر سکتے ہو ۔پر تمہیں پتا ہے نہ مجھے تناہی سے ڈر لگتا ہے تو کیوں مجھے اکیلا چھوڑ دیتے ہو۔۔،،وہ فون کی سکرین پر ہاتھ چلاتی ہوئی بولی جو درد اندر تھاآنسوں کے ذریعے بہے گیا

“ماشی غلطی آسام کی نہیں ہے اگر آج تم سلامت ہو تو تمہاری عزت سلامت ہے تو اس کی وجہ سے ہے وہ افنان کچھ بھی کر سکتا تھا پر آسام کی وجہ سے اس نے تجھے بخشا۔اور کیوں بھول گئ کہ اس نے ہر بار تمہاری حفاظت کی ۔اٹھو اور تیار ہو جاؤ تمہارا آسام تمہاری راہ دیکھ رہا ہے۔،،اندر کی آواز سن کر اس نے آنکھیں بند کر لی اور فون ایک طرف رکھ کر تیاری کرنے لگی۔

“ماشی بیٹا۔۔تم خوش ہو نہ۔۔،،شگفتہ اس کے پاس آکر بیٹھ گئ۔

“جی پھوپھو جان۔۔،،ماشی نے ان کے ہاتھ تھام لئے۔ماشی لائٹ پینک اور گولڈن کلر کی عربی میکسی میں ملبوس تھی۔ڈوپٹے کی جگہ حجاب کیا ہوا تھا آنکھوں میں کاجل ہونٹوں پہ لپ گلوس اور کسی قسم کا میک اپ اس کے چہرے پہ نہیں تھا کرتی بھی کیوں دودھ جیسا رنگ تھا۔

“اللہ میری بچی کی خوشیوں کو بری نظروں سے بچا کر رکھے۔،،شگفتہ نے اس کی نظر اتاری۔

سب ہوٹل پہنچ گئے تھے ماشی ابھی بھی ملک ہاؤس میں تھی۔کیوں کہ افنان کا انتظار ہو رہا تھا۔ مسز رندھاوا کی ضد تھی جو مسٹر رندھاوا نے مان لی۔

“یہ سعدیہ ڈرامے کیوں کر رہی ہے۔۔،،کلثوم تپی ہوئی اندر آئی تھی۔ماشی نے چونک کر ماں کو دیکھا۔ شگفتہ نے کلثوم کو چپ ہونے کا اشارہ کیا۔

“کلثوم کوئی بات نہیں۔۔ فنیکشنز میں ایسی چھوٹی موٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں ۔اور وہ۔۔کیا نام تھا اس کا۔ ،،شگفتہ جان بوجھ کر سوچ میں پڑھ گئ۔

“افنان۔۔،،ماشی کاجل ٹھیک کرتے ہوئے بے اختیار بولی۔

“,ہاں وہ ہی۔۔وہ بھی تو ابھی آنے والا ہے نہ۔۔۔ت۔۔تو سب کا موجود ہونا ضروری ہے۔۔،،شگفتہ کے چہرے پہ ڈھیروں خوشیاں تھی۔وہ ہوٹل سے واپس آئی تھی۔فہد عشرت باقی سب ابھی ہوٹل میں ہی موجود تھے لوگوں کو ویلکم کر رہے تھے۔شگفتہ اور کلثوم ہارش کے ساتھ آئی تھی۔

شگفتہ آسام کی نظریں اتار اتار کر نہیں تھک رہی تھی۔

افنان کے علاوہ وہ پانچوں بھائی ایک ساتھ کھڑے تھے۔سفر کو انہیں دیکھ کر خود پہ غصہ اور دل میں ڈھیروں دکھ ہو رہا تھا۔

“چاچی وہاں سب ماشی کا انتظار کر رہے ہیں۔۔افنان پہنچنے والا ہی ہے۔۔ہم چلیں تھوڑی دیر سامی کے ساتھ تو بیٹھے گی۔۔،،ہارش اندر داخل ہوا تھا شگفتہ کا دل خوشی سے جھوم اٹھا تھا۔کیونکہ وہ افنان کو دیکھنے کو ترس رہی تھی

“چلو ماشی۔۔،،کلثوم نے چادر اپنے اپر اوڑھ کر کہا۔ماشی لمبی میکسی کو پکڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔

“بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔بھابھی۔،،ہارش نے ہسی دبا کر کہا۔

ماشی نے روک کر اسے گھورا۔

“اچھا سوری بھابھی جی دیور تعریف بھی نہیں کر سکتا کیا۔۔،،ہارش نے کان پکڑ کر ہسی دبا کر کہا

ماشی اکتا کر چل پڑھی۔۔

دل پہلے سے ہی برا ہو رہا تھا اس کی کمی رہ گئ تھی۔۔

********

دو، تین گھنٹے کے انتظار کے بعد افنان آیا تھا۔شگفتہ اٹھ کر اسے دیکھنے لگی۔پر اس کی طرف بڑھی نہیں۔

“تھینک یو پر کہاں رہ گئے تھے تم لوگ۔۔،،افنان نے پھولوں کا بکے آسام کو تھمایا تو وہ شکوہ آمیز انداز میں بولا

“ٹریفک بہت تھی اور۔بینڈ

والوں کو بھی ساگر نے inform کرنا تھا۔اسی لئے دیر ہو گئ۔،،افنان نے ماشی کو دیکھا وہ بھی آسام کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی۔پر نظریں جھکی ہوئی تھی۔

“تمہیں دعا دوں یا بد دعا۔

سمجھ میں نہیں آتا۔۔،،افنان نے دل میں سوچا اور مسکرا دیا۔

آسام نے پینٹ کوٹ پہن رکھا تھا ماشی اس کی بغل میں کھڑی دونوں کتنے اچھے لگ رہے تھے۔افنان نے نظریں جھکا لی اور سٹیج سے اتر کر سامنے رکھی کرسیوں میں سے ایک پہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر جا بیٹھا۔

“مس ملک۔۔اب مسز رندھاوا بننے کے لئے تیار ہو۔۔،،آسام نے صوفے پر بیٹھتے ہی سوال کیا۔

“آپ کو کیا لگتا ہے۔۔،،ماشی نے بدلے میں مسکرا کرسوال کیا۔

آسام نے مسکرا کر منہ دوسری طرف کیا۔

“اور آپ تیار ہیں یا۔۔،،ماشی نے آنکھوں کو سکوڑ کر سوال کیا۔

“یا۔۔۔،،آسام تھوڑا سا اس کی طرف جھک کر بولا۔

“کیا کر رہے ہیں سب موجود ہیں کیا سوچیں گے۔،،ماشی نے کہنی مار کر اسے خود سے تھوڑا دور کیا تو وہ مسکرا دیا۔

ماشی نظریں گھمانے لگی تو سامنے بیٹھے افنان پہ نظر جا رکی ۔وہ بڑے اطمینان سے انہیں دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔

ماشی کی نظر پڑھتے ہی اس کا اطمینان رفو چکر ہو گیا وہ اٹھ کر بھاگ گیا تھا وہاں سے۔

دل نے کہاں مانا تھا اپنے محبوب کو کسی کا کرنے کو۔پر اس نے پرواہ نہیں کی دماغ سے کھل چکا تھا وہ جیتی بازی ہار چکا تھا ۔۔کیونکہ دل سے کھیلتا تو ماشی کو جیت جاتا۔اور ماشی کے دل میں اس کے لئے نفرت اور بڑھ جاتی۔اب بھی وہ اس سے کم نفرت نہیں کرتی تھی افنان سے۔

********************

“ارے کیا رکھا ہے محبت میں۔۔بھاڑ میں گئ محبت۔۔تم تو میری جان ہو۔۔ واپس آؤں گا تو لونگ ڈرائیو پہ چلیں گئے۔۔کیا کہتی ہو بےبی ڈول۔۔،،وہ اپنی گاڑی کے فنٹ پر لیٹا نگینہ سے بات کر رہا تھا۔

“ہم دونوں۔۔۔۔ لونگ ڈرائیو پہ نہیں جا سکتے افنان۔۔،،نگینہ نے بوجھے انداز میں کہا۔

“کیوں۔۔،،افنان نے بوتل منہ سے لگا لی۔

“تم پھر سے کیوں پی رہے ہو۔۔،،نگینہ نے اس کی آواز میں نشے کو جھلکتے محسوس کر لیا تھا

“ہر وقت لیکچر مت دیا کرو ۔۔،،افنان نے کال کاٹ دی اور بوتل پھینک کر شرٹ ٹھیک کرتا ہوٹل کے اندر داخل ہو گیا سامنے منگنی کی رسم چل رہی تھی۔

ماشی مسکرا کر آسام کے ہاتھ میں ہاتھ دے رہی تھی اور وہ اپنی محبت کی نشانی اس کی انگلی میں پہنا رہا تھا

افنان نے ایک ہاتھ سے بالوں کو جکڑ لیا ادھر ادھر دیکھا کوئی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا سب آسام اور ماشی کی طرف متوجہ تھے وہ روک کر دیکھتا رہا۔

“کیا ہوا افنان رندھاوا۔۔ہار گئے ہاہاہاہا۔۔ایک لڑکی کے ہاتھوں چھچ۔۔چھچ۔،، افنان نے چونک کر اپنے ایک طرف دیکھا وہاں اسے اپنی پرچھائی نظر آئی۔

“جا کر آسام کو روک دو ۔۔جان سے مار دو۔۔پر اس ماشی کو خود سے دور مت کرو۔۔،،ساتھ کھڑے افنان نے دانت پیس کر بولا تھا

“جاؤ۔۔۔جا کر روک دو۔۔اور سب کو بتا دو تم چاندنی سے محبت کرتے ہو وہ صرف تمہاری ہے۔۔آسام کی نہیں۔،،افنان اپنے اندر کی آواز سن کر ہڑبڑا گیا۔

اور ساتھ کھڑے والے سے ڈھول لے کر زور زور سے بجانے لگا اتنا زور کے کہ اس کے دل کی آواز دب گئ۔

سب نے اسے دیکھا تو اس نے بہت بڑی مسکراہٹ چہرے پہ سجا لی آسام اور ماشی بیٹھ گئے تھے۔منگنی کی رسم ختم ہو چکی تھی سب بھنگڑا ڈالنے لگے تھے۔وہ ڈھول آدمی کو دے کر کرسی پر بیٹھ گیا

ماشی آسام کے کان میں کچھ کہ کر عشرت کے ہمراہ کمرے کی طرف بڑھ گئ۔

“عشرت تم یہاں روکو میں واش روم ہو کر آئی۔۔،،ماشی اسے کمرے میں بٹھا کر واش روم چلی گئ۔عشرت ٹہلنے لگی

“تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔کوئی ڈرمہ مت کرنا یہاں۔۔وہ تمہارے بھائی۔۔،،افنان کو دیکھ کر عشرت غصے میں آ گئ تھی۔

“پتا ہے مجھے تمہیں بتانے کی کوئی ضرورت نہیں میں دو منٹ اس سے بات کرنا چاہتا ہوں۔۔،،افنان سینے پر ہاتھ باندھ کر بولا۔

“کم از کم اب تو شرم کر جاؤ۔۔۔اب تو اسے بخش دو۔۔،،عشرت نے دانت پیس کر کہا۔

“تم تو چپ رہو میں اس سے بات

کرنے آیا ہوں۔۔،،افنان نے منہ موڑ کر کہا۔

“تم۔۔۔۔،، عشرت کچھ اور بولتی ماشی واش روم سے نکل آئی۔

“عشو بولنے دو اسے۔۔،،ماشی ٹاول سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے بولی۔تو عشرت پاؤں پٹختی باہر چلی گئی۔

افنان تھوڑا پیچھے ہٹ گیا تھا ماشی ڈریسنگ کے سامنے جا کھڑی ہوئی پیچھے افنان کھڑا اسے نظر آنے لگا۔

“بولو۔ کیا بولنا چاہتے ہو۔۔،،ماشی نے اپنے حجاب کو ٹھیک کرتے ہوئے مصروف انداز میں کہا۔

“تم آج مجھ سے ڈری کیوں نہیں۔۔۔،،افنان دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر بولا۔ماشی نے اس پہ نظر ڈالی اور طنزیہ انداز میں مسکرا دی۔

“میں تم سے کیوں ڈروں۔۔۔،،ماشی نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔

“اوہ مائی گاڈ۔۔۔اٹس مائی بیڈ لک۔۔،،افنان نے سر تھام کر مسکرا کر کہا۔

“یہ ہی بات۔۔۔یہ ہی بات میں تم سے پہلے پوچھتا تھا۔۔۔ پر تم۔۔۔چھوڑو اب خوش رہو اور مجھ سے جو بھی غلطیاں ہوئی معاف کر دینا۔۔۔اگر تم آسام کی نہ ہوتی تو۔۔،،افنان کہتے کہتے رک گیا اور سر جھٹک کر تیز قدم اٹھاتا کمرے سے ہی کیا ہوٹل سے بھی نکل گیا۔

وہ بیڈ پر بیٹھ کر سانس بحال کرنے لگی۔

“یا اللہ اس ایک انسان کو مجھے سے بہت دور رکھنا۔۔نفرت ہے مجھے اس سے ۔ شروع میں ہی اس نے میرے ساتھ کتنا کچھ غلط کیا میں نہیں بھول سکتی۔۔،،ماشی نے سر کو تھام لیا تھا سائڈ پر پڑھے فون پہ آسام کا نام ابھرا تو وہ فون اٹھا کر مسکرا دی۔

“اب تو اس جناب کو چین بھی نہیں ہے۔۔،،وہ میسج کھولتے ہوئے مسکرا کر بولی۔ عشرت اور کومل لوگ اس کا برین واش کر چکی تھیں۔

اسے تھوڑی دیر پہلے ہونے والا واقع بھول گیا تھا وہ میکسی سمبھالتی کمرے سے باہر نکل آئی سامنے سٹیج پر بیٹھا آسام ہونٹوں پہ انگلی رکھے اسے محبت بھری نظروں سے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔

“مسٹر رندھاوا کچھ تو صبر رکھیں ابھی ہمارا نکاح نہیں ہوا۔۔،،ماشی نے کرسی پر بیٹھ کر شکوہ کیا۔

آسام نے دل میں اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کی بدگمانی دور ہو گئ نارمل ہو گئ تھی وہ۔ایسا یوں ہی نہیں ہوا تھا وہ یہ بھی جانتا تھا۔

“تین دن بعد وہ بھی ہو جائے گا فکر نہ کریں مس ملک۔۔۔اوہ سوری ہونے والی مسز رندھاوا۔۔،،آسام نے ماشی کو آنکھ ماری تھی۔ماشی کامنہ کھول گیا۔

“آپ کو ایسی حرکتیں بھی آتی ہیں۔۔،،ماشی نے بھنورے آچکا کر کہا۔

“ہاں آتی تو تھی پر کر پہلی بار رہا ہوں اپنی ہونے والی وائف کے ساتھ تمہاری قسم۔۔،،آسام نے ہسی دبا کر کہا۔

ماشی کی بے اختیار ہنسی نکل گئی۔سامنے تصویر بنانے والے نے ہر ایک منظر کو کیمرے میں قید کیا تھا میڈیا والوں کو بھی اطلاع ملی تھی پر گارڈز نے ہوٹل میں داخل ہونے سے روک دیا۔آسام نے کہا تھا اسے ایسی کوئی حرکت نہیں چاہئے۔

زندگی کا ایک الگ ہی اصول ہے پل میں بدل جاتی ہے۔۔

اور یہ ہی اصول وقت کا ہے۔۔

پر جو بھی ہے اچھا برا سب گزر جاتا ہے۔

اب ماشی اور آسام کی پاگلوں والی محبت کا کیا انجام ہونا تھا یہ بھی وقت نے ہی بتانا تھا۔

پر افنان نے اپنا فرض ادا کیا تھا۔

وہ جیسا بھی تھا پر اپنے قریبی رشتوں سے محبت کرتا تھا۔

اور یہ سب آسام نے ہی اسے سیکھایا تھا وہ آسام سے بہت محبت کرتا تھا کیونکہ گھر میں سے ایک وہ تھا جو افنان کو منایا کرتا تھا،اس کا دھیان رکھا کرتا تھا۔ہر ضد تو سفر اور سعدیہ مانتے تھے جو اب بھی اس کی رگوں میں بہتی تھی۔۔

دلوں سے کب نکلتے ہیں

محبت جن سے ہو جائے

بھول جانا،بھولا دینا

فقط ایک وہم ہوتا ہے!!!!

دھوم دھام سے بارات چڑھی آسام کی۔چار چاند تو افنان نے لگائے تھے۔افنان بھنگڑا ڈال ،ڈال کے پاگل ہونے کو تھا۔۔

سب خوش ہو کر دیکھ رہے تھے کہ بھائی کی شادی کی کتنی خوشی ہے اسے۔

پر کون جانتا تھا وہ اپنی دلی کیفیت کو چھپانے کے لیئے ناچ رہا ہے۔اپنے ٹوٹے ہوئے دل کی نمائش نہیں کروا رہا تھا۔پر چھوٹی خوشی نہیں تھی اس کی۔آسام کو دیکھ دیکھ کر وہ بھی خوش ہو رہا تھا۔

************

“ماشی بارات آ گئ ہے۔۔سامی اتنا خوبصورت لگ رہا ہے پوچھو مت۔۔،،کومل اور مہک اس کے پاس آکر بولی تھی۔

ماشی نظریں جھکا کر مسکرا دی۔اور نظر اٹھا کر خود کو دیکھا۔

اور کھڑکی میں جا کھڑی ہوئی۔

“یہاں سے نظر نہیں آئے گا۔۔۔،،کومل نے اس کے کاندھوں کو تھام کر کہا

لال رنگ کا عروسی لباس اور زیورات نے اس پہ بہت جادو کر دیا تھا۔پہلی بار وہ اتنا سجی تھی۔

“صبر نہیں کر سکتی کیا۔۔۔کچھ پل۔،،مہک نے اسے بیڈ پر بیٹھا دیا۔

“نہیں ہو رہا مہکی۔۔۔یو ناؤ واٹ میری دھڑکنوں نے شور مچانا شروع کر دیا ہے۔آسام آسام ۔۔دھڑک رہا ہے میرے سینے میں۔۔،،ماشی سینے پر ہاتھ رکھ کر صوفے پہ بیٹھ کر آئینے میں

دیکھ کے آنکھیں مند لی

“ہاہاہاہا۔۔۔تم واقع ہی اس کی محبت میں پاگل ہو گئ ہو۔۔،، مہک اور عشرت لوگوں نے کہکہا لگا دیا۔

“ہاں میں اس کی محبت میں پاگل ہوں وہ ہے ہی ایسا سراپا محبت۔۔،،ماشی نے ایک بار پھر سے کھڑکی کے باہر دیکھا۔لوگ بھنگڑا ڈال رہے تھے۔

“پھر تو تم مجھ سے محبت نہیں کرو گی اب ساری محبت آسام سے کر لو گی۔۔،،عشرت نے منہ لٹکا لیا تھا۔

“محبت کم کہاں ہوتی ہے۔اور محبت بانٹی جاتی ہے یہ ایک انسان پہ روکنے کی چیز نہیں ہوتی۔

۔ہر انسان کے لئے اللہ نے دل میں جگہ رکھی ہوتی ہے کسی کی کیسی جگہ ہوتی ہے کسی کیسی۔کوئی شوہر کی حیثیت سے دل میں رہتا ہے۔کوئی بھائی۔کوئی بہن ۔ماں۔باپ۔سب جائز رشتوں کے لئے محبت ہوتی ہے۔ناجائز رشتوں کے لئے محبت نہیں ہوتی۔آسام میرا جائز رشتہ بننے جا رہا ہے ۔اور جو صرف ایک انسان پہ روک جائے وہ محبت نہیں ہوتی۔وہ پتا ہے خود غرضی ہوتی ہے۔۔،،ماشی نے اسے دیکھ کر کہا تو سب نے ہاں میں سر ہلا دیا۔

کھڑکی کے پاس سے گزر رہے افنان نے اندر دیکھا پر ماشی اس کی طرف پیٹھ کئے کھڑی تھی۔تو وہ مسکرایا اور آگے بڑھ گیا۔

ہوٹل میں ارینجمنٹ نہیں ہوا تھا۔یہ بھی اصغر صاحب نے کہا تھا کہ جب اتنی بڑی حویلی ہے تو کسی چھوٹے موٹے ہوٹل کی ضرورت کیا ہے۔

اور ملک ہاؤس کے آگے تو سبھی ریسٹورنٹ پھیکے پڑ گئے تھے

“چلو اپنے بہنوئی کو دودھ نہیں پلانا کیا لڑکیو۔۔،،شگفتہ مسکرا کر بولی۔شگفتہ تو اپنے بچوں کی خوشی میں پاگل ہو رہی تھی۔

“جی جی کیوں نہیں چلو عشو۔۔،،مہک مسکرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔

“اور میں۔۔،،ماشی سب کو جاتا دیکھ بول اٹھی۔

“تم بھی چلو۔۔،،کومل نے شرارت سے کہا تو وہ واقع ہی کھڑی ہو گئ۔جس پہ سب نے سر پیٹ لیا

“لو جی۔یہ تو بہت بے چین ہے بے واقوف لڑکی۔تم آرام سے یہاں بیٹھو۔،،عشرت نے سر پیٹ کر اسے بٹھا دیا اور باہر چلی گئ۔

ماشی کے چہرے پر خوشی کے رنگ پھیل گئے تھے

آخر وہ اپنے ایجنٹ کی شریک حیات بننے جا رہی تھی تو خوش کیوں نہ ہوتی۔

“واؤ۔۔۔۔بہت خوبصورت لگ رہی ہو آج تو تم چادر والی لگ ہی نہیں رہی۔۔ہاہاہا،، انوشکا صوفے پر گرتے ہوئے بولی تھی۔لکی اور ونیت ایک طرف ٹک گئے افنان دروازے میں کھڑا سینے پہ ہاتھ باندھے مسکرا کراسے دیکھنے لگا تھا۔ماشی انہیں سنا سکتی تھی پر اب وہ اس کے سسرال والے تھے

انوشکا بہت خوش تھی۔ کیونکہ افنان اس کا ہی تھا۔

وہ لوگ اس کے پاس بھی پہنچ گئے ماشی جو مسکرا رہی تھی پھولوں کی طرح کھیلی ہوئی تھی۔ پل میں مرجھا گئ تھی وہ جو سوچ رہی تھی پہلی نظر وہ آسام پہ ڈالے گی پر نہیں ہر بار کی طرح افنان اس کے سامنے کھڑا تھا۔

بال بکھرے ہوئے شرٹ پسینے سے شرابور تھی اپر والے دو بٹن کھولے تھے اور شرٹ تھوڑی پینٹ میں اور ایک طرف سے باہر تھی اس کا حولیہ دیکھ لگ رہا تھا وہ بہت ناچ ناچ کر آیا ہے۔

“کیا کام ہے۔۔،،ماشی نے اطمینان سے پوچھا وہ اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔

“سامی بےبی سے صبر نہیں ہو رہا اس نے کہا ہے تمہاری پک بنا کر لائی جائے۔۔افی جلدی کرو یہاں گرمی ہے یار اےسی بھی نہیں ہےاس کے کمرے میں۔۔،،انوشکا ہاتھ سے ہوا لیتے ہوئے بولی۔ ماشی نے اے سی اون کر دیا تو وہ حیرانگی سے دیکھنے لگی۔

افنان بیڈ پر نظر دوڑانے لگا۔وہ ہی جگہ تھی جب وہ وہاں آیا تھا اس کے دل میں ہلچل مچی وہ اگنور کر کے بولا۔

“مجھے تو یہاں بلکل بھی گرمی نہیں لگ رہی بس ماحول تھوڑا گرم ہے۔۔،،افنان نے مسکرا کر ماشی کو دیکھا پر وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔نظریں محبوب کو ڈھونڈ رہی تھی۔افنان نے بھی اندازہ لگا لیا تھا وہ گہرا سانس لے کر اس کی طرف بڑھا

“ادھر دیکھو۔۔،،افنان نے ایک ہاتھ میں فون سنبھال کر اسے دیکھا۔

ماشی مڑی نہیں تو وہ خود اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔اب کھڑکی کے باہر کچھ نہیں نظر آرہا تھا۔

“تمہارے مجنو نے کہا تو آیا ہوں مجھے شوق نہیں تھا تمہارے کمرے میں آنے کا۔۔،،افنان نے کھڑکی سے ٹیک لگا کر کہا۔اور اس کی دو تین تصویریں ایک ساتھ کھینچ لی۔ ماشی پیچھے ہٹ کر کھڑی ہو گئی

“ماشو کو تنگ مت کرو۔۔،،سٹیف اڑھ کر افنان کے کاندھے پر بیٹھ کر اپنی سوریلی آواز میں بولا۔

“اگر تنگ کروں تو۔۔،،افنان نے سٹیف کے ساتھ پنگا لے لیا جو اسے مہنگا پڑا۔سٹیف نے اس کے کان پہ زور سے کاٹ لیا ماشی کا کہکہا بے اختیار تھا۔

افنان اس کو دیکھنے لگا۔کئ پل وہ اسے دیکھتا گیا۔پہلی بار وہ اس کے سامنے ہسی تھی۔

آنکھوں کی تپش اور ایک ناخوشگوار بو ماشی کو محسوس ہوئی تو چپ کر کے اس سے بہت دور چلی گئ اور بیڈ پر جا بیٹھی۔

“پلیز آپ لوگ باہر چلے جاو۔،،ماشی نے آخر کہ ہی دیا افنان نے اس کی پیٹھ کو گھورا اور باہر چلا گیا۔

ماشی کو کیا پتا تھا وہ وہاں خود بڑی مشکل سے کھڑا تھا۔پر کچھ تھا جو اسے جانے نہیں دے رہا تھا۔ماشی اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ وہ اس کی ہوتی تو اٹھا کر لے جاتا پر اس کی تھی نہیں۔

“کبھی کبھی دل کرتا ہے اس لڑکے کو جان سے مار دوں۔۔ہر وقت اس کے منہ سے شراب کی بو آتی ہے۔چھ۔۔چھچ۔،،ماشی پرفیوم خود پہ سپرئے کرتے ہوئے پھر سے بیڈ پر بیٹھ گئ ۔

ایک ایک پل اس کے لئے عزاب تھا۔

تھوڑی دیر بعد کمرے کی لائٹ آف ہو گئ تھی۔

اسے اندھیرے سے ڈر لگتا تھا۔۔

“یا اللہ۔۔،،ماشی اٹھ کھڑی ہوئی۔اسے اندھیرے سے ڈر لگتا تھا۔

باہر کی لائٹس اون تھی۔ اس نے مہندی سے سجا ہاتھ دیوار پر سوئچ بورڈ ڈھونڈنے کے لئے اور دوسرے سے لہنگے کو سنبھالتی آگے بڑھی سویچ بورڈ نہیں ملا ۔

یکدم اس کے سر پر کچھ لگا تھا “آہ”وہ کہرا کر گری۔

“آ۔۔۔آسام۔۔”بےہوشی کی کیفیت میں اس نے آسام کو پکارا تھا۔اور کوئی اسے اٹھا کر لے گیا تھا کہاں جا رہی تھی وہ اسے نہیں خبر تھی۔

بڑی مشکل سے اس نے آنکھوں کو کھولنے کی کوشش کی۔تو پیچھلے گیٹ پر تھی۔ کوئی انسان نظر نہیں آ رہا تھا۔ صرف ایک انسان پیچھے تھا افنان جو اس کے کمرے کی دیوار کے ساتھ کھڑا بوتل منہ سے لگائے کھڑا بالوں کو جکڑے ہوئے تھا۔۔

“افن۔۔افن۔۔،،وہ سانس لینے کو روکی اس طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا اسے وہ اندھیرا اپنا وجود لگا تھا۔افنان روشنی میں کھڑا بھی اندھیروں گھرا ہوا تھا۔

“افنان پلیز ہیلپ می۔۔۔،،ماشی جتنا زور سے بول سکتی تھی بولی تھی

اور آخری منظر وہ افنان کی طرف ہاتھ بڑھا رہی تھی۔اور وہ اپنی آنکھوں کو ملتے ہوئے دیکھنے لگا۔نشے کی وجہ سے وہ آنکھوں کو کھول نہیں پا رہا تھا۔۔

“ہاہاہاہا۔۔افی تم کو لگتا ہے کہ وہ تم کو پکارے گی۔پاگل ہو تم۔ آسام اسے کچھ نہیں ہونے دیتا تو وہ اس سے ہی مدد مانگے گی ۔،،وہ اپنے سر تھپڑ مار کر ایک طرف چل دیا۔

پر دل میں دھماکے ہونے لگے تھے۔بوتل پھینک کر بے رحمی سے منہ کو رگڑتا اس کے کمرے کی طرف بھاگ کر گیا وہاں وہ نہیں تھی وہ پھر بھاگا واش روم وہاں بھی نہیں تھی۔وہ بھاگ کے کمرے سے نکلا اور اس طرف بڑھ گیا جہاں سٹیج پر آسام پریشان سا بیٹھا تھا۔

“کیا ہوا سامی ۔۔،،افنان کو لگا اسے کچھ پتا ہے پر سب خوش تھے۔کسی کے چہرے پر وہ پریشانی نہیں تھی جو آسام کے چہرے پہ تھی۔

“پتا نہیں یار دل بے سکون سا ہو رہا ہے۔عجیب سی کیفیت ہو رہی ہے۔ماشی ٹھیک تھی نہ تم لوگ تو اسے دیکھ کر آئے ہو۔،،افنان نے حیرانگی سے آسام کو دیکھا۔محبت کرنے والوں کو یوں بھی الہام ہو جاتے ہیں افنان کو نہیں معلوم تھا

“ہا۔۔ہاں وہ ٹھیک ہے ڈونٹ وری۔۔،،افنان ،اس کے کاندھے پر تھپکی دے کر سٹیج سے اتر آیا اور ساگر لوگوں کے ساتھ ڈسکس کرنے لگا۔

“افنان بتا دو سب کو یہ نہ ہو تم پہ ہی الزام لگ جائے بڈی۔۔،،لکی نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا تو وہ آسام کو دیکھنے لگا وہ فکر مند تھا ماشی کی راہ دیکھ رہا تھا

“چلو میرے ساتھ۔میں آسام کو یوں پریشان نہیں دیکھ سکتا۔،،افنان نے ایک ہاتھ سے بال پیچھے کئے اور جدھر ثاقب اور فہد باتیں کرتے کھڑے تھے ان کے پاس چلا گیا۔نشاہ ابھی اترا نہیں تھا۔

“مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔،،افنان نے فہد کے کاندھے پر تھپکی دے کر کہا۔فہد نے ماتھے پر بل ڈال کر اسے دیکھا افنان کی حالت بہت خراب تھی۔

“تم نے پی رکھی ہے کیا۔۔،،فہد نے اسے غصے سے دیکھا۔

“What problem with you..

میں یہاں ایک important بات کرنے آیا ہوں اور تمہیں۔۔،،افنان نے ساگر سے چومنگ لے کر منہ میں ڈال لی

“کیا ہوا افی سب ٹھیک تو ہے۔۔،،فہد نے بولنے کے لئے ہوٹ کھولے تھے کہ ثاقب بول پڑا۔

“کچھ ٹھیک نہیں ہے میرے ساتھ چلیں بھائی۔،، افنان نے ثاقب کو اندر کی طرف اشارہ کیا۔

“تم چلو گے یا الگ سے کہوں

فہد ملک پلیز چلیں گے۔۔،،افنان نے ہاتھ جوڑ کر کہا ثاقب کا کہکہا بے اختیار نکلا۔

ثاقب پینٹ کورٹ اور چیک والی ٹائی میں ریل بزنس مین لگ رہا تھا جو کہ وہ تھا۔

دوسری طرف فہد شلوار قمیض اپر واسکٹ پہنے ہوئے ہیرو سے کم تو نہیں لگ رہا تھا پر شہزادہ کہنا زیادہ بہتر رہے گا۔

فہد اور ثاقب نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر اندر کی طرف چلے گئے۔

“مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔۔،،آسام نے وہ سب دیکھ لیا تھا۔دل اور بے چین ہو گیا انہونی کا الہام بڑھ گیا

وہ لوگ کچھ بات کر رہے تھے پریشانی صاف نظر آ رہی تھی ان کے چہرے سے بات کرتے کرتے وہ لوگ ماشی کے کمرےکی طرف چلے گئے تھے۔

” تو اندھا ہے یا دودھ پیتا بچہ ہے۔۔جب دیکھا تھا تو روک لیتے نہ ہماری طرف کیوں بھاگے۔۔،،فہد نے ماتھے پہ بل،اور دانت پیس کر افنان کو کہا۔

“تمہیں کیا پروبلم ہے۔ اگر میں تمہیں نہ بتاتا تو۔کیا کر لیتے پھر تم نے ہی کہنا تھا میں نے دوبارہ اسے اٹھا لیا۔،،افنان کون سا کم تھوڑی تھا ۔دو قدم آگے تھا

“تو ایسی حرکتیں کیا ہی نہ کرو

“سٹوپ اٹ یار کچھ تو شرم کر لو وہ missing ہے اور تم لوگ اپنی جنگ لے کر بیٹھ گئے۔فہد تمہیں کچھ idea ہے کس نے یہ کیا ہو گا مطلب کسی پہ شک وغیرہ ۔،،ان دونوں کی جنگ بڑھی تو ،ثاقب نے غصے سے دونوں کو الگ جیس۔

“نہیں بھائی۔۔باہر لوگ انتظار کر رہے ہیں کیا جواب دیں گے۔۔،،فہد سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا

“سامی۔۔۔،،افنان کے منہ سے بے اختیا

نکلا تھا۔سبھی نے دروازے میں کھڑے آسام اور عشرت کو دیکھا

آسام گرنے سے بچنے کے لئے دروازے کو پکڑ کھڑا تھا

فہد اٹھ کھڑا ہوا۔

“ماشی کہاں ہے بھائی۔۔،،آسام نے فہد سے سوال کیا تو اس نے ہونٹ بھیجےنفی میں سر ہلا دیا۔

“مجھے پتا ہے آسام۔۔،،عشرت نے پر یقین انداز میں کہا۔سب نے چونک کر اسے دیکھا۔

“کہاں۔۔،،آسام بےتابی سے مڑا۔

“میں نے پہلے ہی بولا تھا سیکورٹی کا انتظام کرنا چاہئے۔پر میری کسی نے نہیں مانی۔اب وہ لےگیا نہ ماشی کو۔۔کیسے بھول گئے تھے آپ اس کی دھمکی۔۔،،عشرت فہد کو کاندھوں سے تھام کر بولی۔

“کون لے گیا ہے۔۔کس کی دھمکی۔۔،،افنان نے ناسمجھی والے انداز میں عشرت کو دیکھا۔

“ہارش کو بہتر پتا ہو گا۔۔،،عشرت نے ہارش کو غصے سے گھورا ۔ایک بار پھر سب کی نظریں گھومی تھی۔

“نہیں فہد یقین کرو میرا مجھے نہیں پتا اور وہ پاکستان ابھی واپس نہیں آیا آٹھ سال ہو گئے ہیں۔۔،،ہارش کی بات فہد اور عشرت کے علاوہ کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی

“ہارش پلیز اگر تمہیں کچھ پتا ہے تو پلیز بتاؤ۔۔م۔۔مجھے بھائی کہتے ہو نہ ۔۔،،آسام نے ہارش کے ہاتھ پکڑ کر التجاء کی۔

“سامی قسم سے مجھے کچھ نہیں پتا اور بازف بھائی پاکستان نہیں ہیں۔۔،،ہارش نے سب کو دیکھا افنان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ہارش کا خون کر دے۔

“اب کیا کرو گے تم۔۔،،لکی لوگ جو چپ چاپ تماشا دیکھ رہے تھے وہ اس کے کان میں گھس کر بولے افنان سوچ میں پڑھ گیا۔

“پولیس کو کال کرتا ہوں میں۔۔،،فہد فون نکال کر نمبر ڈائل کرنے لگا۔

“تم کہاں جا رہے ہو افی۔۔،،ثاقب نے اسے دروازے کی طرف بڑھتا دیکھ کان سے فون ہٹا کر پوچھا۔

“تم لوگ اپنے طریقے سے ڈھونڈو میں اپنے طریقے سے کوشش کرتا ہوں۔یہ پولیس وغیرہ صرف money لیں گی بس۔کام نہیں کریں گے۔

آسام اگر تم آنا چاہو تو پیچھلے دروازے پر آ جاؤ۔،،افنان کہ کر روکا نہیں باہر چلا گیا

آسام نے آنکھوں کو رگڑا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔

“آسام۔۔،،فہد نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا پر عشرت نے روک دیا

“اب یہ بازف کون ہے یار۔۔،،لکی گاڑی میں بیٹھ کر بولا۔

“اتنی خوبصورت ہے وہ کوئی پرانا عشق یا بوائے فرینڈ۔یا لو۔۔،،

“پلیز گائس

شیٹ اپ۔چاندنی۔۔۔،،افنان چپ ہو گیا۔

آنکھوں کو رگڑا

“میرا مطلب ماشی ایسی نہیں ہے کچھ بولنے سے پہلے سوچ لیا کرو۔آئندہ سوچ سمجھ کر بولنا ۔۔،،افنان کافی بگڑا تھا۔

“ہو کیا گیا ہے تم کو یار۔۔ابھی بھی اس سے محبت کرتے ہو۔،،لکی نے سنجیدگی سے سوال کیا

“نہیں۔۔میں نہیں کرتا محبت۔تم نے حالت دیکھی ہے سامی کی۔یار وہ کرتا ہے اس سے محبت اور میں اپنے بھائی کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں اس بات سے تم لوگ بخوبی واقف ہو۔،،افنان نے گاڑی سٹارٹ کی اور پیچھلی گلی کی طرف چلا گیا۔آسام باہر کھڑا جھک کے کچھ اٹھا رہا تھا۔افنان نے گاڑی روک دی۔اسے اندازہ تھا کہ کچھ نشان تو مل جائیں گے۔

“افی اس سمت ہمیں چلنا چاہئے۔،،آسام گاڑی میں بیٹھ کر بولا تھا اس نے شیروانی پہنی ہوئی تھی ایک دولہے کے دل پر کیا گزرے گی جب اس کی دولہن لا پتا ہو چکی ہو۔

افنان نے ہاں میں سر ہلا دیا۔

“میں نے ماشی سے وعدہ کیا تھا کہ اسے ہر مصیبت سے بچاؤں گا۔پر آج وہ اس کی عزت سب ،سب داؤ پہ لگے ہوئے ہیں ،،آسام نے اپنے سر کو جکڑ لیا۔افنان کے پیروں تلے زمین نہیں گاڑی نکلنے لگی تھی اس نے سٹیرنگ زور سے تھام لیا

“سامی کچھ نہیں ہو گا۔۔،،افنان نے اسے نہیں بلکہ خود کو دلاسہ دیا تھا۔

آسام کی نظر زمین پر پڑی تو وہ گاڑی سے اتر کر ماشی کی چوڑیاں اور کان کی بالی اٹھانے لگا جو شائد اس نے سمجھ داری سے کام لیتے ہوئے پھینکی تھی وہ لوگ اسی سمت بڑھ گئے۔آگے کا راستہ انہیں خود ڈھونڈھنا تھا۔۔ وہاں سے کئی شہریوں کو کئ راستوں کو وہ سڑک جا رہی تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *