Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 07)

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry

محبتوں کا بھرم کھولتے ہیں سناٹے

اداس شب میں بہت بولتے ہیں سناٹے

کسی کسی کو یہ اتنا نواز دیتے ہیں

کسی کسی کو بہت رولتے ہیں سناٹے

رکھے ہیں چاند ستاروں نے ہاتھ کانوں پر

کہیں سنا تھا بہت بولتے ہیں سناٹے

تمہارے بس میں اگر ہو تو جان لو اِن کو

کسی پہ خود کو کہاں کھولتے ہیں سناٹے

سنا ہے میں نے یہ تنہائیوں کے دشمن ہیں

سنا ہے اُن میں زہر گھولتے ہیں سناٹے

یہ میری شاعری ان کی ہی اک ادا سمجھو

کہ مجھ میں سوچ کے در کھولتے ہیں سناٹے

آج بہت دونوں کے بعد فہد نے عشرت اور ماشی کو کال کی تھی کال اٹھاتے ہی وہ بھڑک پڑھی

,, آسٹریلین بلے تم نے واقع ہی کسی گوری سے شادی کر لی ہے جو نہ ہمیں کال کرتے ہو نہ گھر

کوئی پروبلم ہے کیا

نہیں اگر کوئی پروبلم ہے تو مجھے بتاؤ مجھے پہلے ہی پتا تھا تم وہاں جا کر چاچا کی طرح۔۔،،وہ پھر سے نان سٹاپ شروع ہو گئی تھی فہد اپنی ہسی کنٹرول نہ کر سکا۔

,,اب ہس کیوں رہے ہو۔۔،،ماشی اس کے ہسنے پہ تپ کر بولی

,,یار تم کتنا بولتی ہو۔اگلا بندہ جواب دینے کے انتظار میں دنیا سے کوچ کر جائے۔ہاہاہاہاہا۔،،فہد ہس ہس کے پاگل ہو رہاتھا ماشی نے بھی اپنی حرکت پہ کہکہکا لگادیا

,, فہد ایک بات پوچھوں۔۔،،وہ پر سوچ انداز میں بولی تھی۔فہد کافی پی رہاتھا مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔

,,کیا کسی انسان پہ بھروسہ ہو تو۔۔۔،،وہ اُدھوری بات چھوڑ کر سوچنے لگ گئ اسے الفاظ نہیں مل رہے تھے وہ نقاب پوش کے بارے میں بات کرنا چاہتی تھی پھر کچھ سوچ کر چپ ہوگئی

,,کسی پہ بھروسہ ہو تو آگے بھی بولو۔،،فہد نے اسے خاموش پاکر کہا

,,کچھ نہیں اچھا عشرت سے بات کر لو میں سونے لگی ہوں۔۔،،عشرت اور کومل لوگ کھانا کھا کر کمرے میں آئی تھی

اس نے سیل عشرت کو پکڑ دیا اور لیٹ گئی عشرت فون لے کر اپنے بیڈ پہ جابیٹھی

,,کیسی ہو۔۔۔،،فہد مختصر بولا ۔عشرت نے آنکھیں بند کر کے سکون کو اپنے اندر اتارا

,,ٹھیک اور آپ۔۔۔،،عشرت نے بھی اسی کے انداز میں پوچھا

,, سٹیڈی کیسی جا رہی ہے۔،،فہد نے کوفی کا مگ منہ کو لگاتے ہوئے پوچھا۔عشرت اٹھ کر باہر چلی گئی ماشی نے سر اٹھا کر

اسے دیکھا اور پھر سے سر تکیئے پررکھ دیا۔

,,دال میں کچھ کالا ہے۔۔۔،،ماشی نے عشرت کو باہر جاتے دیکھ سوچا

,,فہد ایم سوری اس دن کے لئے پر۔۔،،اس کی بات ابھی منہ میں ہی تھی کہ فہد نے ٹوک دیا

,, عشرت تم نے ایسا سوچ بھی کیسے لیاتھا۔بچی ہو کیا تم۔،،فہد نے تجسس سے پوچھا عشرت کے دونوں آنکھوں سے آنسوں گر کر زمین میں جذب ہو گئے

,, فہد پلیز کال مت کاٹنا میری بات سن لو پلیز ایک بار۔۔،،فہد کا ارادہ بھانپ کر عشرت چلائی۔

,,بولو کیا بات کرنی ہے۔،,فہد نے بے رُخی سے کہا۔

,,دل پہ کسی کا زور نہیں چلتا میرا دل بھی میری بات نہیں مانتا

کیا کروں میں جب مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے اس میں میری کیا غلطی ہے۔۔،،عشرت سانس لینے کے لئے رکی

“فہد آئی لو یو سو مچ۔۔۔میں تمہارے جواب کا انتظار کروں گی۔۔,,عشرت بہتے آنسوں کے ساتھ بولی

“انتظار کر سکو گی میرا۔۔,،فہد نے اطمینان سے سوال کیا

“ہاں فہد قیامت تک کروں گی انتظار ،،عشرت نے بہتے آنسوں کے ساتھ کہا

“اور اگر پھر بھی میں تمہارا نہ ہوا تو۔۔،،فہد کھڑکی میں جاکر کھڑا ہو گیا

“میں تو تمہاری ہو چکی ہوں نہ۔۔۔اپنا خیال رکھنا اللہ حافظ۔۔،،وہ ہچکی لے کر

کال کاٹ دی اور آنسوں صاف کرکے مڑی ماشی اس کے پیچھے ہاتھ سینے پر باندھے کھڑی تھی

,, واہ واہ بات یہاں تک پہنچ گئی اور مجھے کچھ بتایا ہی نہیں۔

اور وہ آسٹریلین بلا اکڑ کیوں رہا ہے ادھر لامیں سیٹ کرتی ہوں اسے تو میری پیاری سی بہن کو رولا رہا ہے۔۔۔۔،،ماشی اس کے ہاتھ سے فون لینے لگی پر اس نے ہاتھ پیچھے کر لیا۔

,, نہیں ماشی پلیز تم کچھ نہیں کہو گی اسے اگر مجھ سے محبت نہیں ہے تو میں فورس تو نہیں کر سکتی نا۔۔،،عشرت کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے ماشی نے اسے گلے سے لگالیا۔

,, عشو رو نہیں یار۔۔ میری جان وہ صرف تمہارا ہے اچھا بتاؤ وہ ایسا کیوں کر رہاہے۔۔۔،،ماشی اسے کرسی پر بیٹھا کربولی

,,ماشی میں فہد سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔یہ بات تب پتا چلی جب اس سے دور ہوئی۔۔،،عشرت اپنے ہاتھوں پہ دیکھتے ہوئے بول رہی تھی۔ماشی اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی,

,,دو دن پہلے میں نے اسے کہا کہ مجھے اس سے محبت ہے پر۔۔،،عشرت نے بے بسی سے ماشی کودیکھا۔ماشی نے اس کا ہاتھ تھام لیا

”پر وہ بھڑک گیا اور کہتا میں بچی ہوں مجھے شرم آنی چاہیئے ۔ایک ہفتے سے جو میری کیفیت ہورہی تھی وہ اس نے نہیں جانی میرا دل زور زور سے دھڑکتا ہے اس سے انتہا تک میں محبت کرتی ہوں پروہ۔۔،،عشرت کی سسکیاں نکلنے لگی۔

”عاشو چپ ہو جا میری جان۔وہ کنفیوژ ہوگا

ہوجائے گاٹھیک۔،،ماشی نے اس کے ماتھے پہ بوسا دیا

”اور اگر وہ کسی اور سے محبت کرتا ہوا تو میں نے۔،،اس نے جس انداز میں کہا تھا ماشی اگلی بات بھی جان گئ تھی۔

“عشرت محبت کرنا غلط نہیں ہے پرتم جو سوچ رہی ہو وہ غلط ہے۔اگر کوئی شخص نہ ملے تو صبر کرو بھلائی آپ کی ہی ہوتی ہےوہ اللہ بڑا بے نیاز ہےاپنے بندوں کے ساتھ کچھ غلط نہیں کرتا۔،،ماشی اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی

“میں ماشی ملک نہیں عشرت ملک ہوں اور میں صبر نہیں کرسکوں گی اگر فہد کسی اور کاہوا۔۔،،وہ اٹھ کھڑی ہوئی

”جس دن فہد کسی کا ہوگا میری میت اٹھے گی۔۔،،وہ آنسوں صاف کرتی کمرے میں بھاگ گئی۔ماشی حیران تھی اس نے کبھی ایسا محسوس ہی نہیں کیا تھا کہ عشرت اور فہد۔اب جب اسے پتا چلا تھاکہ عشرت فہد کو چاہتی ہے تویہ سن کر حیران تو نہیں ہوئی تھی پر پریشان ہو گئ تھی فہد نے اسے ہرٹ کیا۔

تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد وہ اٹھ کر کمرے میں چلی گئی۔عشرت منہ پہ کمبل تانے لیٹی ہوئی تھی وہ سوئی نہیں تھی رو رہی تھی ماشی جانتی تھی ماشی جتنی بہادر تھی عشرت اتنی بہادر نہیں تھی ماشی کے ساتھ افنان نے ظلم کیا تھا آگے پتا نہیں کیا کیا کرنے والا تھا پر ماشی سب اپنے رب پہ چھوڑ کر اطمینان سے سانس لے رہی تھی

جب انسان اپنے پروردگار پہ چھوڑ دیتا ہے تو کوئی ڈر نہیں رہتا کیوں کہ وہ پاک ذات بہت مہربان ہے

____________****___________

آج سنڈے تھا وہ لوگ شوپنگ کرنے گئ ہوئی تھی ماشی اپنے پیسے ہوسٹل بھول گئ تھی لینے کے بعد وہ ہوسٹل سے نکلی ہی تھی کہ ایک گاڑی نے اسے ٹکر مار دی۔

گاڑی تیز نہیں تھی پر ٹھکر لگنے سے ماشی گر گئ

اور سر زمین پر لگا جس وجہ سے وہ چکرا گئی اور بے ہوش ہونے سے پہلے اس نے گاڑی میں جو شخص دیکھااسے دیکھ کر یہ ہی دعا کی

“اے خدا میری عزت محفوظ رکھنا۔۔،،لوگ جمع ہو گئے تھے لکی اور ساگر گاڑی سے نکلے

“ہم ان کو جانتے ہیں آپ لوگ ہٹ جائیں ہم ہاسپیٹل لے جاتے ہیں۔۔،،لکی نے اسے اٹھاکے گاڑی میں

ڈال دیا۔اور گاڑی اڑا لے گئے

۔جب اس کو ہوش آئی تو وہ دیکھ کر حیران رہ گئ وہ بیڈ پر تھی پر کس کا بیڈ تھا کس کے کمرے میں تھی وہ۔

یہ سوچ کے اس کا سر چکرا گیاوہ اٹھ کے دروازے کی طرف بھاگی

,, دروازہ کھولو پلیز۔،،دروازہ باہر سے بند تھا

”تمہاری شیرنی اٹھ گئی ہے جا بھائی سمبھال لے۔،،لکی نے کہا اور وہ تینوں اٹھ کر چلے گئے افنان دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا

اسے دروازے کو کونڈی لگاتے دیکھ ماشی کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔اپر سے اس کی شرٹ کے بٹن بھی کھولے تھے۔وہ کونڈی لگاکر مڑا

“تتت۔۔تم یہ کیا کر رہے ہو۔،،وہ بامشکل غصے سے بولی۔

”دروازہ بند کر رہا تھا جان کوئی ہمیں ڈسٹرب نہ کرے۔،،وہ چلتا ہوا اس کے پاس آگیا۔ماشی نے ادھر ادھر دیکھا گلدان نظر آیا وہ اس کی طرف بڑھی پر افنان نے اس کا ارادہ بھانپ کر اسے بیڈ پہ دھیکل دیا۔

“تم کیوں نہیں سمجھتی میری جان۔ہروقت مجھے کیوں مارنے کے لئے تیار رہتی ہو پیار کرو مجھے ۔،،

افنان اس پہ جھک کر معصومیت سے بولا ماشی نے آنکھیں مچ لی۔اس نے ماشی کے بالوں میں ہاتھ چلنا شروع کر دیا

“نفرت کرتی ہوں میں تم سے۔۔،،ماشی اسے دھکا دے کر دروازے کی طرف بھاگ گئی

پر افنان اس تک پھر سے پہنچ گیا۔

“میں بھی تم سے بہت نفرت کرتا ہوں۔،،اس نےماشی کو اپنی گرفت میں لے لیا ماشی نے اس کے بازو پہ زور سے کاٹا پر وہ اسے دیکھ ہستا رہا۔ماشی اس کے سینے پر ناخنوں سے وار کرنے لگی پر اس پتھر پہ کوئی اثر نہ ہوا

,,کھانے کا ارادہ ہے کیا جان من۔،،وہ ماشی کے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔

ماشی اپنی ہر کوشش ناکام ہوتے دیکھ رونے لگی تھی اسے اپنی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں تھااور وہ شخص بار بار اس کے پاس آ کر اسے ذلیل کررہاتھا اس کی عزت پہ وار کر رہا تھا

“ممم۔۔مجھے چھوڑ ورنہ۔۔تم جانتے نہیں ہو مجھے چھوڑو مجھے۔،،ماشی اس کو دھکیلتے ہوئے بولی وہ کمنگی سے ہستا رہااور ماشی کی کمر پہ اپنی گرفت مضبوط کر دی

“چھوڑو مجھے کمنے انسان۔،،وہ بہت مشکل سے بول پائی تھی

“نہ بےبی غصہ نہیں کرناآج تمہاری مدد کرنے کوئی نہیں آئے گا میں ہی تمہارا ہیرو ہوں میں ہی تمہارا ویلین۔۔،،وہ ماشی کے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے بولا ماشی اس کی گرفت سے آزاد ہونے کی ناکام کوشش کررہی تھی

“میں چاہوں تو ابھی۔تمہیں۔۔،،وہ اپنی بات اُدھوری چھوڑ

کر ماشی کو دیکھنے لگاماشی اس کی بات کا مطلب سمجھ گئی تھی۔

“مم۔۔مجھے چھوڑ دو پلیز۔،،یکدم اس نے رونا شروع کر دیا

“ہاتھوں میں ہاتھ لیئے کھڑی ہو

اور اجازت مانگ رہی ہو جانے کی۔،،

افنان اس کے ہاتھ کو دباتے ہوئے بولا ماشی کی ساری طاقت جاتی رہی تھی

افنان دلچسپی سے اس کے آنسوں دیکھنے لگا پھر اس کی رخسار پہ آتے آنسوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دیئے

سارے آنسوں ہونٹوں سے صاف کر کے وہ پھر سے ماشی کو دیکھنے لگا۔

ماشی کے پیروں سے زمین نکل گئ۔اس کا دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔پر ایسا نہیں ہوا وہ افنان رندھاوا کی گرفت میں تھی۔

“تتت۔۔تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے افنان رندھاوا اس کی لاٹھی بے آواز ہے جب پڑھتی ہے اچھے اچھے پچھتاتے ہیں۔،،ماشی نے اسے پیچھے دھکیلتےہوئے کہا ماشی کے آنسوں روانی سے بہے رہے تھے

“کہاں ہوتم۔کیوں نہیں پتا چل رہا تمہیں کہ میں مشکل میں ہوں۔

پلیزآجاؤ خدا کا واسطہ تجھے مجھے بچا لو

اے میرے اللہ اسے بھیج دے ۔۔،اس نے دل میں نقاب پوش کو پکارا۔

“افنان پلیز مجھے چھوڑ دو پلیز میں کبھی تمہارے پاس نہیں آؤں گی تت۔تم جو کہو گے میں کروں۔پلیز مجھے چھوڑ دو پلیز۔،،ماشی نے روتے ہوئے التجاء

“جو میں کہوں گا کرو گی۔۔،،وہ سنجیدگی سے بولا

“ہاں مجھے جھوڑ دو پلیز،، ماشی نے بہتے آنسوں کے ساتھ کہا

افنان جوچاہتا تھا اسے مل گیا تھا۔اس نے ماشی کی کمر سے ہاتھ ہٹالئے۔

“ٹھیک ہےکل پوری کلاس کے سامنے تم مجھ سے ہاتھ جوڑ کے معافی مانگو گی۔منضور ہے یا۔،،افنان اس کے سراپے پہ نظر ڈال کر بولا ماشی کے سر پہ ڈوپٹانہیں تھا بال بے ترتیبی سے بکھرے ہوئے تھے ماشی نے ہاں میں سر ہلا دیا۔

“تم جاسکتی ہو۔،، افنان بیڈ پہ لیٹتے ہوئے بولا۔ماشی کا دوپٹہ اس کے نیچے تھا

“ڈوپپپ۔۔پٹہ۔،،ماشی آنسوں میں ڈوبی آواز میں بولی افنان نے اسے آنکھیں کھول کر دیکھا ایک پل کو تو نظریں ہٹا نہیں پایا ماشی کی آنکھیں لال ہو چکی تھی افنان نے اسے اندر تک توڑ دیا تھا جس کے آثار ماشی کے چہرے پہ جھلک رہےتھے

وہ اٹھا اور ڈوپٹہ ماشی کی طرف بڑھا دیاماشی کی انگلیاں اس کے ہاتھوں کو ٹچ کر کے مڑی

“میں تمہیں بددعا نہیں دوں گی پر جو تم نے کیا میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔،،ماشی دوپٹہ سر پہ کر کے باہر بھاگ گئ۔وہ اس کےپیرؤں کی چھاپ سنتا رہا جب پیرؤں کی آواز انی بند ہوگئ تو اس نے اٹھ کر دروازہ بند کر لیا۔

“معروش ملک آخر تمہاری ہار ہوئی اور میری جیت کل پوری یونی ورسٹی میں یہ بات پھیل جائے گی کہ معروش ملک نے افنان رندھاوا سے معافی مانگی

۔ ویلڈن افی۔آہ۔،،وہ دروازہ بند کر کے خود کو داد دیتا واپس آرہا تھا جب اس کے پیر میں کچھ لگ گیا وہ کراہ کر رہ گیا۔پاوں اٹھا کر دیکھاتو معروش کی بالی تھی۔اس نے اٹھا لی اور جاکے بیڈ پہ لیٹ گیا

” تمہاری چیزیں بھی اب مجھے درد دیں گی۔۔،،وہ بالی کو آنکھوں کے سامنے کرکے بول رہاتھا

۔پھروہ اس بالی کو پھینک کر لیٹ گیا۔

“تم جھوٹے ہو کک۔۔کوئی کسی کا سایہ نہیں بنتا سب جھوٹ ہے۔۔کیوں نہیں آئے جب میری عزت لہلامی کی حد تک پہنچ گئی تھی کیوں۔۔کیوں نہیں آئے کتنا پکارا تھا تمہیں میں نے تم نے کیا کہا تھا تم سب بھول گئے۔اگروہ افنان۔۔میری عزت لوٹ لیتا تب آتے تم یہ کون سی محبت ہے تمہاری کیوں نہیں آئے تم۔۔،،ماشی روڈ پہ چلتی مسلسل نقاب پوش کو سنا رہی تھی پر وہ اس کے ساتھ نہیں تھا اآج

“ماشی وہ آتا پر وہ انسان ہے فرشتہ نہیں جسے خبر ہو جاتی کہ تم مشکل میں ہوکک۔کیا پتا اس کو۔۔،اس کے دل نے سرگوشی کی تواس کے پاؤں لرز گئے

“یااللہ اس کی حفاظت کرنا۔،،ماشی ہاتھ جوڑ کر چلتی رہی

وہ خوف زدہ ہو گئ

“اب میں اس کی خیریت کیسے معلوم کروں۔اے میرےاللہ ان کی حفاظت کرنا میری محبت کو مجھ سے ملانے سے پہلے جدا نہ کرنا میرا دل ڈر رہا ہے حفاظت کر اسکی میرے مولا۔،،وہ اپنے دل کی آواز سن کے ڈری نہیں تھی محبت کرنے لگی تھی اس نقاب پوش سے۔ماشی جس جھنجھٹ میں نہیں پڑھنا چاہتی تھی پڑھ چکی تھی۔کیوں کہ محبت پوچھ کر نہیں ہوتی۔

وہ نڈھال قدم اٹھا کر چل رہی تھی اسے نہیں پتا تھا کہ وہ کہاں ہے کس جگہ ہے بس وہ چلتی جارہی تھی

“اگر آج وہ میرے ساتھ ہوتا تووہ درندہ مجھے چھوبھی نہ سکتا۔،,وہ خود کلامی کررہی تھی وہ کس قدر بھکر چکی تھی اس کی حالت ڈر کے مارے خراب ہو گئی تھی منہ لال ہو چکا تھا

“میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔،،ایک سوال تھا جو وہ پتا نہیں کس سے کررہی تھی۔پر کوئی جواب نہیں تھا۔

بربادی سے کچھ فاصلے پہ افنان نے اسے چھوڑا تھا کیونکہ ماشی گڑگڑا پڑھی تھی عزت کے لوٹ جانے کے ڈر نے اس کے ہاتھ جڑوا دئیے تھے۔وہ اس گھمنڈی انسان کے سامنے جھک گئ تھی

اب اسے کل بھی ہاتھ جوڑنے تھے اور وہ یہ سوچ کر جوڑنے والی تھی کہ افنان رندھاوا سے جان تو چھٹے گی۔

وہ سڑک پہ چلتی جارہی تھی جب اس کے پاس آکر گاڑی رکی۔

“مم م۔۔ماشی۔۔،،ہارش اسے یوں چلتا دیکھ پریشان ہو گیااور گاڑی سے بھاگ کر باہر نکل آیا

“کیا ہوا تم یہاں کیا کر رہی ہو۔،،وہ اس کے سامنے آ کر بولاماشی اسے حیرانگی کی کیفیت میں دیکھنے لگی

“چلو گاڑی میں بیٹھو میں تمہیں ہوسٹل چھوڑ دیتا ہوں۔۔،،ہارش نے اسے سرسے پاؤں تک دیکھا دوپٹہ سر پہ تھا پر چند بال منہ پہ تھے دونوں ہاتھوں کو آپس میں جکڑے ہوئے تھی۔

جب بھی وہ پریشان ہوتی تو ہاتھوں کو آپس میں جکڑ لیتی تھی اور یہ ہارش جانتا تھا کیونکہ بچپن میں بھی وہ ایسے ہی پریشانی کے عالم میں ہاتھوں کو جکڑ لیتی تھی

“چلو دیکھو تم شہر سے دس کیلومیٹر دور ہو ۔ میں تمہیں محفوظ ہوسٹل پہنچا دوں گاٹرسٹ می۔،،وہ اس کی آنکھوں میں ڈر دیکھ کر بولا۔ماشی اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔

“تم یہاں کیا کرنے آئی تھی جبکہ تم اس شہر میں پہلی دفعہ آئی ہو۔۔۔۔،،ہارش سٹیرنگ کوتھامتے ہوئے بول رہاتھا ماشی نے کوئی جواب نہیں دیا کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔

“کیا ہوا بتاؤ گی بھی۔۔,,ہارش اس کی خاموشی سے تنگ آکر بولا

,,پتا نہیں۔۔،،ماشی نے گم سم سے انداز میں جواب دیا

“تم یہاں کیا کرنے آئی تھی۔۔،،ہارش ڈرائیو کرتے ہوئے بولا

“پتا نہیں۔۔،،ماشی نے پھر وہی جواب دیا ہارش نے اس کا چہرا دیکھا ماشی کے چہرے پرکوئی تاثر نہیں تھا وہ جھنجھلا گیا اور چپ چاپ ڈرائیو کرنے لگا

ہوسٹل کے دروازے کے سامنے اتار کر وہ چلا گیا۔

__________***********_________

“ماشی کہاں چلی گئی تھی تم بتا تو دیتی۔۔،،عشرت اسے دیکھتے ہی بھڑک گئی تھی

“ہم لوگوں نے تم کو کتنی کالز کی اٹھائی

کیوں نہیں اور تم گئی کہاں تھی۔،،عشرت نے پھر سے سوال کیا تو ماشی ایک نظر اس پہ ڈال کر واش روم چلی گئی

“عجیب لڑکی ہے ۔۔,, عشرت تپ کر بیڈ پر بیٹھ گئ۔

,,عشو کوئی بات نہیں وہ بچی نہیں ہے ڈونٹ وری ۔،کومل نے کہا

“پر بتا تو دیتی ۔۔،،عشرت کا غصہ عروج پر تھا

__________***********_________

“عشرت تم پاگل ہو گئ ہو

کیا کرنے جا رہی تھی تم۔۔،،عشرت چھری کو دیکھ رہی تھی تو کبھی اپنے ہاتھ کو ماشی اس کی طرف بھاگ کر آئی اور چھری اس سے پکڑ لی۔

“تو کیا کروں ماشی۔۔،،عشرت نے پھر سے رونا سٹارٹ کر دیا ماشی اپنا درد بھول گئ تھی عشرت کو گلے لگا لیا

“عشو پاگل مت بنو۔میری جان۔،،ماشی اس کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی_

ابھی سورج نہیں نکلا تھا ماشی ساری رات سو نہیں سکی تھی افنان کے ہاتھوں کا لمس وہ اپنے وجود پہ محسوس کرتی تو اٹھ کر بیٹھ جاتی بہت طاقتور تھی

پر ساری طاقت افنان رندھاوا نے ختم کر دی تھی اس کے پاس آکر

ماشی نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کے ساتھ ایسا کبھی ہو گا

اس کی عزت پہ کوئی یوں ہاتھ ڈالے گا

ساری رات آنسوں بہاتی رہی تھی وہ

پر صبح عشرت کو ٹوٹتا دیکھ اپنا درد بھول گئ تھی اور اس کو سنبھالنے لگ گئی تھی،

“ماشی میرا دم گھٹ رہا۔میں مر جاؤں گی۔فہد کے بغیر میں جی نہیں سکوں گی۔مجھے کہئیں سکون نہیں ہے۔،،عشرت اپنے بالوں کو دونوں ہاتھوں میں جکڑ کر رونے لگ گئ اسے جو درد ہو رہاتھا وہ ماشی کے اندر بھی تھا جو دل کے کسی کونے میں دب چکاتھا

وہ حیرانگی سے عشرت کودیکھنےلگی۔

“عشرت چپ کرو فہد تمہارے پاس ضرور آئے گا وہ تمہاراہے صبر کرو میری جان۔۔،،ماشی اس کو روتا دیکھ گھبرا گئ تھی عشرت کی آنکھوں میں پہلی بار آنسوں دیکھ ماشی کادل کٹ کر رہ گیاتھا۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ فہد کو اچھی خاصی باتیں سنا دے پر عشرت نے روک رکھا تھا اسے

عشرت آنسوں صاف کرکے لیٹ گئی ماشی وضو کر کے نماز پڑھنے لگ گئ۔

“اے میرے پروردگار تو رحیم ہے رحم کر میرے مولا

فہد کو ہدایت دے یا عشرت کو صبر دے مولا تو تو دلوں کے حال جانتا ہے ،،وہ رو رو کے عشرت کے لیئے دعا کر رہی تھی خود کا درد بھول گئ تھی وہ اسے یہ بھی یاد بھول گیاکہ آج وہ افنان کے سامنے جھکنے والی ہے اسے یاد تھا تو صرف عشرت کا درد

وہ نماز پڑھ کرروز کی طرح ناشتہ بنانے لگی دل تھا کہ دھڑکتا ہی جارہا تھا

“اے میرے اللہ مجھے پتاہے میں آج غلط انسان کے سامنے جھکوں گی پر عزت بچانے کے لئےکیا یہ غلط ہے۔،،وہ چادر اوڑھتے ہوئے سوچنے لگی

“ماشی میرا دل نہیں کر رہا میں یونی ورسٹی نہیں جارہی ۔،،عشرت کمبل اوڑھ کربولی

“عشرت پلیز خدا کا واسطہ تجھے کچھ غلط نہ کرنا۔،،ماشی ڈر کے بولی

“اوکے نہیں کرتی ۔۔،،ماشی نے مہک اور کومل کو اشارہ کیا کہ آج تم لوگ بھی نہ جاؤ تو وہ دونوں مان گئ

ماشی کا جانا ضروری تھا وہ آج سارے معاملات رفع دفع کرنا چاہتی تھی

بیگ اور کتابیں اٹھا کر وہ باہر چلی گئی

__________***********_________

“یار وہ معافی تو مانگے گی نہ ۔۔،،انوشکا افنان کے پاس بیٹھ کر بولی

آج وہ لوگ اپنے معمول سے پہلے آگئے تھے اور ماشی کا ویٹ کر رہے تھے

“یس بےبی۔ تمہارے افنان کےآگے وہ ہاتھ جوڑ کر جھکے گی۔،،افنان اس کا ہاتھ پکڑ کر بولا

“انوشکا اکیلی اکیلی جانس مت مارا کرو ان دونوں کوبھی ٹائم دے دیا کرو۔،،ساگر اور جنید نے ہاتھ ملا کر کہا۔

“یار افنان ایک ہے وہ ایک کو ہی سنبھال لے ہم مر گئے ہیں کیا۔،،لکی نے شرٹ کا کاکلر جھاڑا

افنان دروازے کو ہی دیکھ رہاتھا

“ایکسکیوزمی۔،،افنان نے ماشی کودیکھ لیاتھا وہ انوشکا کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکال کر ماشی کی طرف بڑھ گیا ماشی نے اسے نہیں دیکھا تھا وہ اچانک ایک سائڈ سے سامنے آرکا تو ماشی ہڑبڑا کر دو قدم پیچھے ہٹ گئی

“تجھ کو دیکھوں تو اس طرح دیکھوں میں

شرما جاؤ تم اور اپنی باہوں میں سمالوں تجھے،،

افنان اس کو دیکھتے ہوئے اپنے انداز میں شعر پڑھ رہا تھا ماشی ایک سائڈ سے نکلنے لگی تو اس نے روک لیا

“یاد ہے نہ کیا کرنا ہے تم نے اور ہاں یہ رونی شکل کے ساتھ معافی نہ مانگنا میری جان تھوڑا پیار سے مسکرا کے مانگنا۔،،افنان اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا ماشی بغیر جواب دیئے چلی گئی

__________***********_________

دوسرے پیریڈ میں سر نہیں آیاتھا تو انوشکا ڈائس پر جا کھڑی ہوئی

“ہیلو میری طرف توجہ کریں ویسے میں کیسی لگ رہی ہوں افکورس پیاری لگ رہی ہوں گی ۔۔،،انوشکا نے چہک کے کہا

“تم ٹھیک تو ہو۔۔،،ہارش اور آسام اس کے ساتھ والے ڈیکس پر بیٹھے تھے ہارش اٹھ کر اس کے پاس جاکھڑاہوا

“ہوں۔۔،،ماشی کا دل دھڑک رہا تھا وجود کانپ رہا تھاوہ جانتی تھی انوشکا کیوں وہاں کھڑی تھی

ہارش اس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ محسوس کر رہا

تھا

“مسٹر راجپوت آپ بیٹھ جائیں پلیز۔۔معروش تم یہاں آؤ اور جو کہنا چاہتی ہیں کہ دیں ۔۔،،انوشکا نے سٹائل سے کہا

“انہوں نے تم کو پھر سے تنگ کیا ابھی بتاتا ہوں انہیں۔،،ہارش دانت پیس کر بولا

“رکو۔۔،،معروش نے نظریں جھکا کر ہی کہا اور اٹھ کر سامنے جا کھڑی ہوئی اس کا وجود کانپ رہاتھا اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا بولے ۔

“ممم۔میں۔،،وہ اتنا ہی با مشکل بول پائی تھی ہارش اس بینچ کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا

“مم۔مجھے۔۔،،اسے لفظ نہیں مل رہے تھے کہ کیا بولےآسام پوری کلاس میں خاموشی چھا گئی تھی۔

“مس سٹروم آپ انجان شہر میں جارہی ہیں اپنا اور عشرت کا خیال رکھنا۔،،اس کے کانوں میں فہد کا جملہ گونجا ایک سانس لے کر وہ لفظ ڈھونڈنے لگی

“جلدی کرو نہ یار۔۔مس ملک۔,, افنان ہس کے بولا۔ماشی نے پہلی بار نظر اٹھا کر دیکھا تھااسے۔

سرخ آنکھوں کودیکھ افنان کی مسکراہٹ ایک لمحے کو غائب ہو گئ تھی پر دوسرے ہی لمحے وہ کمنگی سے ہسنے لگا۔۔

“ایم سوری افف۔،اس کے لفظ گلے میں اٹکنے لگے تھے۔وہ پھر سے رکی آج اسے لفظ نہیں مل رہے تھے لفظوں سے لڑائی کر رہی تھی وہ۔

“ایم سوری افنان۔مم۔مجھے آپ کو تھپڑ نہیں مارنا چاہئے تھااور آپ کے فرینڈز کو بھی کچھ نہیں کرنا چاہئے تھاایم سوری۔۔،،ماشی جلدی سے بول کر بھاگ گئ۔پوری کلاس حیران ہو گئ تھی ہارش اور آسام کو بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ معروش کہ کرگئ تھی

“پر آپ نے معافی کیوں مانگی۔۔،،

بہت سی آوازیں اٹھی تھی۔پر وہ جا چکی تھی

“ماشی رکو۔،،ہارش اس کے پیچھے بھاگا تھا۔

“آپ نے معافی کیوں مانگی اسے مانگنی چاہئے تھی اس کی غلطی تھی پھر کیوں آپ۔۔،،ہارش کا جملہ اس کے منہ میں ہی تھا ماشی بولی

“تم ہوتے کون ہو میری لائف میں انٹرفیئر کرنے والے۔کلاس فیلو ہو اسی حد تک رہو ۔مجھے پتا ہے کیا غلط ہے اور کیا صیحح۔،،ماشی سرخ آنکھوں سے اسے سناکر چلی وہ اسے جاتا دیکھتا رہ گیا۔وہ اسے اس کی حد دیکھا کے جاچکی تھی

__________***********_________

“تم پریشان مت ہو سب ٹھیک ہو جائے گا شگوفی۔میں صرف تمہاراہوں،،وہ اس کے پاس بیٹھ کر بول رہا تھا

“مجھے نہیں لگتا سب ٹھیک ہو گا۔۔

میں آپ کے بغیر کیسے رہوں گی اگر آپ کے گھر والے نہ مانےبھائی نہیں مان رہا توکیاہوگا سفر۔،،وہ اس کی طرف مڑ گئ تھی

“تو ہم بھاگ جائیں گے ہاہاہاہاہاہا۔۔،،وہ انچی آواز میں کہکہکا لگاکربولا تو وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئ۔

“ن۔نن نہیں میں اپنے ماں باپ کی عزت کو پیرؤں میں رندھ کر اپنی دنیا آباد نہیں کرسکتی۔۔،،وہ اس کا ہاتھ چھوڑ کر گھوم گئ تھی۔

“میں مذاق کر رہا تھا میری جان۔وہ مان جائیں گے فکر نہ کروایک سال کاانتظارکم نہیں ہے ۔۔،،وہ اس کے سامنے جاکھڑا ہوا۔ اسے محبت سے دیکھنے لگا۔

“بہت خوبصورت ہو تم اور میں تم سے شروع ہو کر تم پہ ختم ہو جاتا ہوں سوچنا بھی مت کہ میں تمہارے سوا کسی اور کا ہاتھ تھاموں گا۔۔،،وہ اس کے سورج کی روشنی جیسے رخسار پہ ہاتھ رکھ کر بولا تووہ آنکھیں میچ کر سکون اپنے اندر اتارنے لگی۔کیا پتا تھا اسے کہ یہ سکون چند دونوں کا ہے۔

__________***********_________

“اس نے اب تم سے معافی مانگ لی ہے۔

یہ بات پوری یونی ورسٹی میں پھیل گئی ہے مبارک ہو میرے ہیرو۔،،لکی کی بات پہ کمرے میں کہکہکا گونجا۔افنان اپنے بیڈ پر بیٹھا فون گھوما رہا تھا اس کے ہونٹوں پہ فاتحانہ مسکراہٹ تھی وہ جو چاہتا تھا وہ ہو گیا تھا

“اب خوش ہو نہ۔۔۔،،ساگر نے ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے کہا

“بہت زیادہ۔آخر میں افنان رندھاوا ہوں مجھے اپنی بات منوانے کا طریقہ اچھے سے آتا ہے۔،،افنان آئنے کے سامنے جا کے شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے بولا۔

“یہ کیا ہے زخم کیسے آئے تمہاری باڈی پہ۔،،لکی اس کے سینے پہ نشان دیکھ کر چونک کر بولا

وہ نشان تب لگے تھے جب ماشی خود کو بچانے کے لئے اس کو ناخنوں سے وار کر رہی تھی پر ناکام رہی تھی۔

افنان کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ وہ ان زخموں پہ اپنی انگلیاں چلانے لگا۔

تھبی آسام کمرے میں داخل ہوا تھا

“افنان تم نے مس ملک کو کیا کہا۔

اس نے تم سے معافی کیوں مانگی۔۔،

آسام نے آتے ہی سوال کیا وہ ویسے ہی کھڑا زخموں کو دیکھتا رہا۔اور مسکراتا رہا

“اور یہ زخم کیسے ہیں۔۔،،آسام نے پھر سے سوال کیا

“اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو معافی مانگ لی۔،،افنان شرٹ اتار کر وارڈروب کھولتے ہوئے بولا

“افی میں جتنا اسے جانتا ہوں وہ تم سے معافی نہ مانگتی ضرور تم نے کچھ کیا ہو گا کیا کیا اس بار تم نے۔،،آسام اس کو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف مڑتے ہوئے بولا۔

“بہت جانتے ہو اسے بھائی ہمارے ساتھ بھی جان پہچان کروا دو۔۔،،افنان نے کہکہکا لگاکرکہا

“سامی اس نے۔۔،،لکی کچھ کہتا آسام نے ہاتھ سے روک دیا

“تم لوگ جاؤ میں افی سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں پلیز۔،، آسام نے غصے سے ان دونوں کو دیکھا تو وہ اٹھ کر چلے گئے۔

“افی بتاؤ اب مجھے۔،،آسام نے اس پھر سے گھیر لیا۔

“جانے دو نہ بھائی رات گیا بات گئ۔۔،،وہ ٹی شرٹ پہن کر بیڈ پہ گرگیا

“افی پلیز ٹیل می ناؤ۔۔،،آسام غصے سے بولا

“کول برو بتاتا ہوں۔ادھر آؤ۔۔،،وہ آسام کو اپنی طرف کھینچ کر بولا آسام بیڈ کی ایک سائیڈ پر ٹک گیا افنان نے پارٹی کی رات سے لے کر فارم میں ہونے والے واقعے تک سب بتا دیا

“یہ نشان اس نے چھوڑے ہیں میرے بدن پہ۔۔اچھے لگے نا۔،،وہ کمنگی سے ہس کے بول رہا تھا آسام سن ہو گیا

“میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا تم اس حد تک جاسکتے ہو تمہیں شرم آنی چاہیے افنان ایک لڑکی کو جھکانے کے لیے تم اس کی عزت کے ساتھ ساتھ کھیل گئے۔،،آسام بے یقینی کے عالم میں بول رہا تھاافنان تکیئے پہ سر رکھ کر لیٹ گیا۔

“سامی جب وہ میرے پاس آئی تو مجھے ایسا لگا جیسے میں شراب پی رہا ہوں افففف یار۔۔،،افنان اس کی بات کواگنور کرتے ہوئے آنکھیں میچ کے بولا

“شیٹ اپ سدھر جاؤ افنان ورنہ بہت پچھتاؤ گے۔۔اور آئند ایسی حرکت نہ کرنا۔،،آسام غصے اور افسوس میں کہ کر چلا گیا۔افنان پہ اس کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔وہ لیٹ کر ہستا رہا

“معروش ملک کیا چیز ہو تم۔دیکھوں تو

قیامت اور پاجب آتی ہو تو۔۔،،وہ معروش کے سراپے کو آنکھوں کے پردے پر لا رہا تھا وہ واحد شخص تھا جس نے اسے اتنے پاس سے دیکھا اور چھوا تھا

__________***********_________

“ماش ابھی فرح کی کال آئی تھی کہ رہی تھی ساری یونی ورسٹی میں ہر جگہ یہ ہی بات ہورہی ہے کہ تمہارا اور افنان کا۔،،مہک کی بات منہ میں ہی رہ گئ ماشی نے اس پہ غصلی نگاہ ڈالی۔

“ہاں معاشی۔سب کہ رہے ہیں دونوں خوبصورت ہیں جوڑی جمے گی۔ویسے سچی میں افنان میرا بہنوئی بنےگا نہ۔۔،عشرت اس کے غصے کو نظر انداز کر کے کہکہکا لگاکر بولی۔

“عشرت چپ کر جاو۔۔،،ماشی نے غصے میں کہا۔

“ساری دنیا کامنہ کیسے بند کروا گی۔تم نے کیوں معافی مانگی اس سے اگر ایسا کچھ نہیں تو۔،،عشرت بھی بھڑک اٹھی

“چپ کیوں ہو بولو کیوں مانگی معافی۔،

“میں نے اپنی عزت بچانے کے لیے مانگی ہے معافی سنا تم نے اگر میں اس سے معافی نہ مانگتی تو۔۔،،ماشی کے آنسوں نہیں بہہ رہے تھے وہ دکھی تھی پر آنسوں اس سے روٹھ گئے تھے بہے بہے کے ختم ہو گئے تھے

اس نے ساری کہانی ان تینوں کو سنا دی

کمرے میں خاموشی چھا گئی عشرت کھڑی کھڑی بیڈ پہ گر گئ

“اتنا گرا ہوا انسان ہے وہ۔۔میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔اس کا اندر اتنا گھٹیا ہے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔،،عشرت کے آنسوں نکلنے لگے تھے

“ماشی اتنا کچھ ہو گیا تممم نے ہمیں بتایا تک نہیں ۔۔کیوں ماشی اتنا بڑا درد اکیلے کیوں جھیلتی رہی۔،،عشرت اس کے ہاتھ تھام کر بولی پر ماشی نے کوئی جواب نہ دیا اور اٹھ کر کتابیں سمیٹ کر بیڈ پر لیٹ گئی

“عشرت چپ کرو اسے ہم سبق سیکھائیں گےسمجھتا کیا ہے وہ خود کو۔،،کومل نے غصے سے کہا

“ٹھیک کہا تم نے۔۔،،عشرت آنسوں صاف کر کے بیٹھ گئ

“عشرت کومل ہم لڑکیاں ہیں کچھ مت کرنا بڑی مشکل سے جان چھڑوائی ہے اس سے۔۔،،ماشی ان کی باتیں سن کے اٹھ بیٹھی تھی۔

“ماش اس نے تمہارے ساتھ کیا کیا

ہےاب لوگ بھی طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔،،عشرت روتے ہوئے بولی ماشی اٹھ کر اس کے پاس آگئ اور گلے لگا لیا وہ رو نہیں رہی تھی اور اس کے اندر طوفاں برپا تھا جو رات کو تکیئے پہ نکالنا تھا..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *