Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 29)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 29)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
مری جاں‘ ٹھیک کہتی ہو
ہماری اس محبت کا!
بھلا کیا فائدہ ہو گا
ہمارے درمیاں جو دوریاں ہیں
کم نہیں ہوں گی
کبھی بارش کے موسم میں
ہمیشہ ساتھ رہنے کی!
جو خواہش دل میں جاگی تھی
جو سپنے ہم نے دیکھے تھے
وہ سپنے ٹوٹ جائیں گے
مری جاں! ٹھیک کہتی ہو
مقدر کے لکھے کو ہی اگر تسلیم کرنا ہے
تو پھر ایسی محبت کا
کوئی بھی فائدہ کیسا؟
مگر اس کو اگر چاہو!
تو میری بے بسی کہہ لو
’’مجھے تم سے محبت ہے‘‘
بارش کم تھی پر ہوا زور سے چل رہی تھی
کمرے کے پردے پھڑ پھڑا رہےتھے کھڑکیاں زور زور سے بند ہو رہی تھی ماشی کی آنکھ کھول گئ ساتھ سوائے آسام کو دیکھا اور اس کے بازو کو اپنے اوپر سے اٹھا کر اٹھ کھڑی ہوئی
وہ اپنے کمرے کی ساری کھڑکیاں بند کر رہی تھی پھر وہ نیچے گئ اور جو دروازے اور کھڑکیاں کھولی تھی بند کرنے لگی۔
کیبن کا دروازہ اور کھڑکیاں کھولی دیکھ وہ بن کرنے گئ
لان والی سائیڈ کی کھڑکی بند کرتے ہاتھ روک گئے۔
وہ افنان کو دیکھ رہی تھی جو زمین پہ لیٹا ہوا تھا ایک تیز ہوا کا جھونکا ماشی کے وجود سے ٹکرایا تو وہ کانپ گئ ہوا میں شدت کی سردی تھی۔
بدلتے موسم کی برسات اکثر بیمار کر جاتی ہے اس نے اپنی ماں سے سنا تھا۔
“اسے کیا ہوا ۔،،کافی دیر جب افنان نے حرکت نہ کی تو وہ واپس مڑی
آور لان کی طرف بھاگی بارش یکدم تیز ہونے لگی تھی۔
وہ کانپتے وجود کے ساتھ لان میں جا کھڑی ہوئی جھک کر کانپتا ہاتھ افنان کی شہ رگ پر رکھ دیا وہ بے ہوش ہو چکا تھا
“اف۔۔,،،،وہ پکارنے لگی جب ایک تیز ہوا کے جھونکے نے افنان کی شرٹ اڑائی ماشی ڈر کے پیچھے ہٹ گئ۔
“ی۔۔یہ کون ہے ۔،، اس نے بے خبر پڑے افنان کو دیکھا
سینے پہ بڑے خوبصورت انداز میں چاندنی لکھا ہوا تھا
وہ آنکھیں پھاڑے افنان کے سینے پہ لکھا نام دیکھتی رہی یکدم مخالف سمت سے ہوا کا جھونکا آیا اور شرٹ اپنی جگہ واپس آئی، ماشی کو ہوش آئی تو کانپتے وجود کے ساتھ وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں گئ اور آسام کو دیکھا پھر اس کی طرف بڑھی
“آسام اٹھیں۔۔۔باہر وہ اف۔۔۔افن۔۔،،
“کیا ہوا بیگم جان۔۔،،آسام نے ماشی کو آدھ کھلی آنکھوں سے دیکھا۔
“اٹھو میرے ساتھ چلو۔۔،،ماشی اس کے ہاتھ کو پکڑ کر بولی۔آسام آنکھوں کو ملتے اٹھ کھڑا ہوا
**********
بائمہ تیز قدم اٹھاتی اپنے کمرے میں جا بیٹھی
کانپتے ہاتھوں کے ساتھ فون اون کیا
سامنے فون کی سکرین پہ ثاقب بیڈ پہ نم داراز فائلز چیک کرنے میں مصروف تھا جب دروازے پہ دستک ہوئی
“یس۔۔،،وہ مصروف انداز میں ہی بولا۔میر اندر داخل ہوا ادھر ادھر کی باتیں ہوئی۔کامرس ،میٹنگز،فرمز ،ان سب باتوں کے بعد اس نے ثاقب کواپنے ساتھ ڈیل سائن کرنے پہ راضی کیا اور پھر اپنے مطلب کی بات کی پتا نہیں میر کا کیا فائدہ تھا اس بات میں ۔
“”باؤ آپ سے محبت کرتی ہے میں اس کا کچھ نہیں لگتا پر پھر بھی اس کا باس ہوں۔۔تو کیا خیال ہے۔۔ بغیر باپ کے لڑکی ہے۔۔،،میر نے کہا
“یہ کیا بد تمیزی ہے مسٹر عوان آئندہ ایسی بات کرنے سے پہلے کروڑ بار سوچئیے گا۔ بہن آپ کے گھر میں بھی ہے اگر آئندہ میرے سامنے ایسی بکواس کی تو میں کبھی ڈیل سائن نہیں کروں گا ۔۔،ثاقب خاصہ غصہ ہوا تھا بائمہ نے ویڈیو سٹاپ کی اور پانی پینے لگی۔سانس روک گئ تھی
“تو وہ ویڈیو ایڈیٹنگ ۔۔،،بائمہ گلاس رکھ کر پھر سے ویڈیو دیکھنے لگی
“ایم سوری سر۔۔،،میر نے ندامت سے سر جھکایا تھا۔
“اٹس اوکے بٹ ایک بزنس مین کو ایسی باتیں سوٹ نہیں کرتی۔۔،،ثاقب چشمہ ٹھیک کرتا لیپ ٹاپ پہ جھکا تھا۔
“چھوٹے بھائی کو معاف نہیں کریں گے۔آپ میری فائل کل تک چیک کر کے بتا دیں گے کہ کچھ کمی ہو تو میں دوبارہ۔،،میر کی بات ثاقب نے کاٹی
“ٹھیک ہے میں چیک کر لوں گا۔۔اس میں کون سی بڑی بات ہے فل حال آپ جا کے چیک کر لیں اگر کوئی کمی پیش ہو تو دور کر لیں اب آپ جا سکتے ہیں۔۔،،ثاقب نے فائل کو ایک طرف رکھ کر کہا۔
بائمہ کی سانسیں روک گئ فون کو ایک طرف رکھ کر وہ بیڈ پر اپنے بازوؤں کو ٹانگوں پر لپیٹ کر کانپنے لگی۔سچ سامنے تھا ایک چھوٹ کے سہارے وہ اپنی زندگی برباد کرتی رہی تھی۔
“اتنے مہینے میں اس سے نفرت کرتی رہی ۔۔,،،آنسو بہنے لگے تھے۔وہ جلدی سے اٹھ کر باہر بھاگ گئ اندر طوفان اٹھ چکا تھا۔۔چاچی نے آوازیں لگائی پر اس نے نہیں سنی
دل میں آگ لگ چکی تھی
“ثاقب۔۔،،بھاگتے بھاگتے وہ سڑک کے درمیان گر گئ۔
“ثاقب ایک بار میرے سامنے آ جاؤ میں آپ سے معافی مانگنا چاہتی ہوں۔۔،بائمہ کے آنسوں بہنے کا نام نہیں لے رہے تھے آس پاس اندھرا پھیل گیا تھا۔
“پ۔۔پر م۔۔میں اس کے سامنے نہیں جاؤں گی۔۔م۔۔میں اس کے قابل نہیں ہوں۔۔،،بائمہ کو ہوش آیا تو وہ اٹھ کر مرے مرے قدم اٹھانے لگی آنسوں ابھی بھی نہیں نکل رہے تھے شائد وہ پتھر کی ہو گئ تھی۔
یا صدمہ برداشت نہیں ہو سکا۔
جس چوٹ کو وہ سچ مان کر خود کو تباہ کرتی رہی وہ آج سامنے آیا تھا۔
*******
میں کیا جانوں بےوافائی کی لذت
میں کب اس کے دل میں رہتا تھا
“افی آنکھیں کھولو۔۔۔،،آسام نے اس کا منہ تھپتھپایا۔پر وہ اٹھا نہیں۔
ماشی نے پریشانی کے عالم میں اسے دیکھا اور پھر آسام کو۔آسام جانتا تھا وہ جلدی گھبرا جاتی۔تبھی اس نے ہاں میں سر ہلا کر یقین کرایا کہ ٹھیک ہے۔
“ماشی میری ہیلپ کریں اسے اندر لے جاتے ہیں۔۔،،ماشی نے ہاں میں سر ہلا کر ایک طرف سے افنان کو سہارا دیا۔
اور بامشکل پیچھلی سیڑھیاں چڑھ کے وہ اندر لے گئے ۔
آسام نے ایک انجیکشن لگایا اور تھوڑی دیر وہ اس کے پاس بیٹھے رہے
“آسام یہ اسے۔۔،،ماشی نے اسے دیکھ کر سوال کیا۔
“اکثر ہوتاہے۔ زیادہ ڈرنک کرنے کی وجہ سے ہو رہا ہے ڈاکٹر نے اسے مناح بھی کیا تھا پر یہ سنتا کب ہے اور اوپر سے ٹینشن بھی لے لیتا ہے۔۔،،آسام اٹھ کر افنان کے پاس جا بیٹھا۔اور اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دیئے۔
“اسے ٹینشن بھی ہوتی ہے جو دوسروں کو دیتا ہے انہہوں۔۔۔،،ماشی نے بغور افنان کے چہرے کو دیکھا۔
“اگر ٹینشن ہے تو کس بات کی۔۔،،ماشی نے پھر افنان کے چہرے کو دیکھا جہاں کوئی تاثر نہیں تھا۔
وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئ۔جبکہ آسام ابھی بھی افنان کے پاس بیٹھا تھا اور تب تک بیٹھا رہنا تھا جب تک وہ ہوش میں نہ آتا یہ ماشی جانتی تھی
*******
“سفر ایک بات مجھے بتاؤ کب تک یہ سب سنبھال سنبھال کے رکھو گے۔,،سعدیہ صبح صبح ہی سفر کے سر پر کھڑی تھی جو بہن کا خط دیکھ کر رو رہا تھا
“سوچو ہم اگر مر جائیں تو ثاقب کے پاس زیادہ فرمز ہیں اس کے نام اتنا کچھ کیوں کیا تم نے۔وہ تمہارا بیٹا نہیں ہے بھول کیوں گے تھے۔،،سعدیہ تحش میں آکر بولی تھی دروازے میں آ رہا ثاقب روک کر ایک طرف ہو گیا۔
“وہ ملکوں کا خون ہے کب تک معلوم نہیں ہو گا اسے ایک دن تو معلوم ہو جائے گا تو وہ ہمارا سب کچھ لے کے چلا جائے۔۔،،
“نہیں ماما میں کچھ نہیں لے جاؤں گا۔۔،،ثاقب لڑکھڑاکر سامنے آ گیا آنکھیں نم ہو گئی ہاتھ میں پکڑی فائلز زمین بوس ہو گئ سفر کا رنگ اڑ گیا وہ خط کو اور تصاویر کو چھپانے کی ناکام کوشش کرنے لگا پر ثاقب نے کھینچ لی اور خط پڑھتے ہی اس کے آنسوں آنکھوں میں آ گئے سفر بیڈ کو پکڑ کر بیٹھ گیا ۔
“ڈیڈ آئی ڈونڈ بی لیو دس یہ ۔۔یہ سچ ہے۔۔ڈیڈ وہ میرے بابا ہیں۔۔۔اور پھوپھو سچ میں میری پھوپھو۔۔نہیں ڈیڈ ۔۔یہ چھوٹ ہے نہ۔م۔موم۔۔،،ثاقب کے ہاتھ میں ایک تصویر تھی اور وہ سفر کے سامنے سراپا سوال بنا کھڑا تھا۔
سفر نے ہاں میں سر ہلایا تو ثاقب لڑکھڑا گیا۔
“وہ ۔۔۔ماش۔۔ماشی میری بہن ہے۔۔۔،،ثاقب نے ٹائی کی نٹ ڈھیلی کی جیسے وہ اس کے گلے کا پھندا بن گئ تھی۔صبح آفس کے لئے کتنے دل سے تیار ہوا تھا۔
“ثاقب کسی کو مت بتانا۔۔۔پلیز ب۔۔بیٹا۔۔،،سعدیہ نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔
“اس کمرے کی چابی دیں۔۔،،ثاقب نے آنسوں سے بھری نظر اٹھا کے سفر کو دیکھا
“بیٹا۔۔،
“ماموں پلیز۔۔،،ثاقب نے سختی سے کہا۔
سفر کو صدمہ ہوا اور کانپتے ہاتھوں کے ساتھ چابی اسے دے دی۔
“اور کیا کیا چھپا رہے ہیں۔۔۔،،ثاقب الٹے قدموں کے ساتھ چلتے ہوئے بولا۔
“ثاقب روکو۔۔،،
“آپ نے بیس سال مجھے میرے بابا سے دور رکھا میری ماں کے قاتل ہیں آپ ی۔۔یہ۔۔یہ ثبوت ہے۔۔،،ثاقب نے منزہ کا آخری خط سفر کے منہ پہ دے مارا۔
“میرا وجود میرا سب کچھ آپ نے چھین لیا اور بنا دیا ثاقب رندھاوا مشہور بزنس مین۔تاکہ میرے عقل کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کر سکیں،، ثاقب نے اپنے بالوں کو جکڑ لیا۔
“بیٹا یہ سب تیرا ہے تم میرے بچے ہو۔۔،،
سفر نے التجاء کی۔
ثاقب کا زور دار کہکہا تھا اتنا زور کا کہ سب اپنے کمروں سے نکل آئے۔ماشی ناشتہ بنا کر لارہی تھی ثاقب اور آسام کے لئے انہوں نے اکٹھے ناشتہ کرنا تھا
“نہیں ماموں جو میرا تھا وہ ہی آپ نے چھین لیا۔ایک بات بتاؤں مجھے پہلے سے ہی شک ہو گیا تھا کہ یہ میرے نام کے ساتھ اصغر کیوں لگتا ہے۔۔
تب جب میری بہن ہوسپٹل میں تھی اور مجھے کال آئی کہ کسی کو خون کی ضرورت ہے۔۔معروش ملک اصغر ملک کی بیٹی۔میری بہن آپ نے کہا میرا باپ مر گیا آپ میرے ڈیڈ ہیں ۔،، ثاقب کی بات پہ معروش لڑکھڑا گئی ہاتھ سے ناشتے کی ٹرے گر گئ، اور آسام کے سینے سے جا لگی جو خود شکڈ تھا۔۔پر اس نے ماشی کو تھام لیا
“میرا بھ۔۔بھیا۔۔مجھے انہوں نے خون دیا تھا ی۔۔یہ کیسے ہو سکتا ہے،،معروش نے
آسام کو سوالیہ نظروں سے دیکھا اور ثاقب کو وہ پھر سے بولنے لگا تھا
“میں نے اپنے بابا کے ساتھ بدتمیزی کی میں پھوپھو کے پاس دس سال رہا اور یہ نہ جان سکا وہ میری پھوپھو ہے فہد میرا کزن ہے۔ کیوں ڈیڈ کیوں۔۔،،ثاقب نے ایک مکا دروازے کے ہینڈل پہ مارا
“بھائی۔۔،،آسام نے ماشی کو کھڑا کیا اور بھاگ کر ثاقب کے پاس گیا جس کے ہاتھ سے خون نکل رہا تھا۔
پر وہ بند کمرے کی طرف جا رہا تھا ماشی اپنےکمرے کی دیوار کے ساتھ سہارا لیئے کھڑی تھی۔۔
“م۔۔میرا بھائی پ۔۔پر کیسے۔،،ماشی نے سہارے کے لئے دیوار تھام لی۔وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے گھبرانے والی اتنی بڑی بات کو برداشت نہیں کر سکی تھی
“کیا پروبلم ہے یار صبح صبح کیوں ۔۔،،افنان آنکھیں ملتا باہر آ رہا تھا اور ماشی کو یوں دیوار سے لگے دیکھ خاموش ہو گیا۔
“کیا ہوا۔۔۔سانپ دیکھ لیا ایسے کیوں کھڑی ہو۔،،افنان صرف اسے دیکھ رہا تھا جو حیرانگی اور غم کی کیفیت کو سمجھ نہیں رہی تھی۔
“چاندنی۔۔۔،،افنان اس کے سامنے جا روکا ماشی اسے دیکھنے لگی۔
افنان کو سمجھ نہیں آئی وہ کیا کرے ۔۔
“کیا ہوا تمہیں ٹھیک ہو نہ۔۔،،افنان نے ایک بار پھر سوال کیا۔پر پتا نہیں وہ کیا دیکھ رہی تھی نظریں کچھ کھوج رہی تھی افنان کے چہرے پر تھی پر خیال کہیں اور جگہ ۔۔۔
“چاندنی ہوش میں تو ہو
چاندنی۔،،افنان پاگل ہونے لگا تھا وہ اسے کاندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑنے لگا۔
“چاندنی۔ت۔۔تم ٹھیک ہو ک۔۔کیا ہوا تمہیں پلیز ٹل می ۔،،افنان نے اسے پھر سے جھنجھوڑا اور سینے سے لگا لیا۔وہ ڈر کے مارے اسے چاندنی بول چکا تھا۔
تبھی وہ کرنٹ کھا کر ہٹی اور حیرانگی سے افنان کو دیکھنے لگی۔
افنان بے بسی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا آنکھیں تر تھی۔ماشی مڑی تو اس کے لمبے سلکی بال افنان کے منہ سے ہوتے کمرے پہ جا گرے وہ بھاگ کر اس سے دس قدم دور جا کھڑی ہوئی۔وہ اس سے ڈری نہیں چاندنی نام سن کے گھبرا گئ۔
وہ وہی کھڑا رہ گیا۔
“یہ میں نے کیا کیا
وہ۔۔وہ میری چاندنی نہیں ہے ۔۔،،افنان نے سر تھام لیا تبھی اس کی نظر آس پاس پڑی ۔
حماد جاہنگیر،رکشندہ ثوبیہ سب چپ کھڑے سامنے دیکھ رہے تھے۔
افنان نے ان کی نظروں کا پیچھا کیا۔اور دنگ رہ گیا وہ کمرہ جو ہمشہ بند رہتا تھا وہ کھول گیا تھا۔ ثاقب اور آسام کمرے میں جا رہے تھے۔
افنان نے لمبا سانس لیا اور واپس کمرے میں چلا گیا۔
“ٹھیک سے سونے بھی نہیں دیتے۔ہر روز ایک نیا ڈرامہ چل جاتا ہے۔۔،،وہ گہرا سانس لیتا اور بیڈ پہ گر گیا۔
پر ماشی کا چہرہ سامنے آنے لگا۔
خوفگی ،ڈر،حیرانگی،بہت کچھ تھا۔وہ جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
اور باہر جا کر ماشی کو دیکھنے لگا
“ماشی اندر چلو یہاں ہر روز ایسا ڈرمہ چلتا ہے ۔،،افنان نے کہا پروہ ہونٹ بھیجے کھڑی رہی افنان نے غصے سے نفی میں سر ہلا دیا اور سیڑھیاں اترنے لگا
*******
آسام اور ثاقب کمرے میں داخل ہوئے تو وہاں ہر چیز پہ دھول جمی تھی۔سوائے بیڈ کے اور بیڈ کے اوپر پڑھی ایک فوٹو جس میں سفر شگفتہ کے سوا ایک بچہ بھی تھا آسام اور ثاقب نے چونک کے ایک دوسرے کو دیکھا
“یہ بچہ۔۔اور پھوپھو کی فوٹو یہاں کیوں۔۔مجھے لگا تھا یہ ماما کا کمرہ ہو گا بٹ۔۔۔یہ کیا راز ہے۔۔،،ثاقب نے ہاتھ بڑھا کر تصویر اتار لی۔
“بھائی یہ ڈیڈ اور ان کے ساتھ ان کا کیا تعلق اور یہ بچہ کون ہے۔۔،،آسام نے تصویر پہ ہاتھ چلا کے مٹی اتاری۔ اور تصویر اٹھا کر باہر لپکا۔سفر کو حماد اور جاہنگیر نے تھم رکھا تھا
“ڈیڈ کیا رشتہ ہے آپ کا ان سے اور۔۔۔اور یہ بچہ کون ہے ٹل می ڈیڈ۔۔،،آسام نے بچے کی تصویر پہ انگلی رکھ کر بولا
“بیٹا وہ۔۔۔وہ۔،،سفر نے بے بسی سے حماد کو دیکھا اس سے پہلے وہ کچھ بولتا آسام بول دیا
” جھوٹ بولنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا ڈیڈ۔۔سچ سچ بتائیں۔۔،،آسام نے کرخت لہجے میں کہا۔
“یہ ہمہارا بھائی ہے اور یہ چھوٹی ماں ہے۔۔،،ایک بجلی گری تھی وہاں کھڑے مکینوں پہ رکشندہ ثوبیہ اور آسام ثاقب سب پہ سکتا چھا گیا۔
“کیا فہد میرا سگا بھائی ہے۔۔،،آسام کے ہاتھ سے تصویر گری تو بہت زور کی آواز آئی پوری حویلی میں خاموشی کی وجہ سے ہر طرف ٹوٹنے کی آواز گونجی۔ماشی لڑکھڑا گئی۔ پیچھے سے آ رہے افنان نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر نفی میں سر ہلایا۔
“ہمت رکھو لڑکی۔،،وہ کہ کر ایک طرف جا کھڑا ہوا
“ڈیڈ ۔۔،،آسام اتنا ہی کہ سکا۔سفر ایک مجرم کی طرح کھڑا تھا۔
آج اس کے گناہوں سے ایک ایک کر کے ہر پردہ اٹھ رہا تھا۔
“سفر سوچا تھا میں ساری عمر تمہارے ساتھ گزاروں گی۔تم مجھے اپنے قدموں کی دھول بھی سمجھتے رہتے تو میں خوشی خوشی جی لیتی۔
کبھی کوئی سوال نہ کرتی۔کاش تم سعدیہ اور آنٹی کی باتوں پہ چل کے مجھے ۔
مجھے طلاق دینے کے بارے میں نہ سوچتے۔میری زندگی ختم ہو گئی سفر۔تمہارے۔،،ثاقب جو ڈائری لئے کھڑا پڑھ رہا تھا۔چپ ہو گیا آنسوں گرنے لگے سب شاکڈ کھڑے تھے اس نے ندامت سے سفر کو دیکھا اور پھر سے پڑھنا شروع کیا۔
“میں شگفتہ ملک۔،،ثاقب نے نام لیا اور دیوار کے سہارے کھڑی ماشی کو دیکھا اسی پل ماشی نے دیکھا اور وہ بھاگتی ہوئی ایک طرف سے ہوتی وہاں آئی۔اس کے پائل کی آواز رندھاوا ہاؤس میں گونج گئ تھی سب نے بیک وقت اسے دیکھا افنان کو کسی سے بھی کوئی غرض نہ تھی وہ ایسے خاموش کھڑا تھا جیسے اسے فرق نہ پڑتا ہو۔
جیسے وہ سب جانتا ہو۔
ماشی کی پائل کی چھن چھن سن کے اس نے بے دردی سے آنکھیں بند کر لی۔ہونٹوں کو بھیج لیا۔
“ی۔۔یہ۔یہ فہد ہے ہاں یہ فہد ہے ۔پ۔۔پر یہاں کیوں ہے اس کی تصویر اور۔۔
اور انکل آپ ۔۔،،ماشی کا وجود کانپ رہا تھا۔
پھوپھو کے پاس وہ تصویر کئ بار دیکھی تھی پر جو وہ شخص تھا اس کے چہرے پہ کالی مارکر سے بے نشان کیا ہوا تھا۔
وہ پھوپھو سے پوچھتی تو وہ کہ دیتی میرے شوہر کی ہے فہد نے بچپن میں بگاڑ دی تھی ساتھ ہی آنسوں آ جاتے تھے۔
“فہد بھائی ہے میرا۔،،آسام نے ماشی کے سر پہ بم پھوڑا۔
“ن۔۔نہیں یہ نہیں ہو سکتا۔
میری پھوپھو انکل سکندرنہیں بلکہ ان کے لئے روتی تھی۔اور ثاقب بھائی میرے بھائی یہ۔۔یہ کیا ہو رہا ہے آسام۔،،ماشی کے دماغ پہ اثر ہونے لگا تھا وہ جو کمرہ کھولنا چاہتی تھی جو راز کھولنے چاہتی تھی وہ اس کے سامنے یوں آئیں گے وہ نہیں جانتی تھی۔
اب برداشت نہیں کر سکی تھی اور آنکھیں بند کر گئ۔اتنا بڑا سچ یکدم باہر آ گیا تھا۔
افنان وہاں ہی کھڑا تھا۔
ایک تماشائی کی طرح سب دیکھ رہا تھا آسام جانتا تھا ماشی کے دماغ میں تب بہت گہری جوٹیں آئی تھی جس وجہ سے وہ زیادہ ٹینشن لیتی تو دماغ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
“آئی ڈونٹ بلو دس ماموں آپ نے اتنی زندگیاں تباہ کی میں اپنے ماں کے قاتلوں کے گھر میں رہ رہا تھا۔۔اب میرا دم یہاں گھٹ رہا ہے ایک منٹ اور یہاں نہیں روک سکتا ۔،،
“نہیں بیٹا مت جاؤ پلیز۔۔،،ممانی نے ہاتھ جوڑ کر کہا
“ڈونٹ وری ممانی آپ کا سب کچھ چھوڑ کے جاؤں گا۔،،وہ تلخی سے کہتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ سب حیران کھڑے رہ گئے افنان بھی چپ چاپ اپنے کمرے میں چلا گیا۔
*
ثاقب نے اپنی پیکنگ شروع کر دی تھی۔
وہ وہاں کیوں روکتا آج اس کے سامنے اپنی ممانی کا اصلی چہرہ نمایاں ہوگیا تھا۔
“ثاقب روک جاؤ بیٹا یہ تمہارا ہی گھر ہے۔یہ سب تمہارا ہے بیٹا تمہاری ماں کی تو عادت ہے یہ سب بولنے کی۔،،سفر کھڑا منتیں کر رہا تھا۔
“ماں نہیں ممانی میری ماں کو تو آپ بہت پہلے مار چکے ہیں ماموں۔کیوں کیا آپ نے اس طرح ڈر نہیں لگا آپ کو۔۔،،ثاقب اپنے کپڑے پھینک کر بولا۔
“ثاقب رکھو یہ سب۔۔،،حماد اندر آیا تھا
“اور آپ بھائی آپ نے کیوں نہ بتایا مجھے کہ میں۔۔،،ثاقب سر تھام کر بیٹھ گیا پہلی بار وہ رو رہا تھا پہلی بار وہ اپنے حق کے لئے بول رہا تھا۔
وہ آنسو صاف کرتا بالوں کو ٹھیک کرتا باہر چلا گیا۔
اور تیز تیز قدم اٹھاتا گھر سے ہی نکل گیا۔آسام اسے جاتے دیکھ چکا تھا۔بھابھیاں سعدیہ کے پاس تھی کیونکہ اس کی بھانجیاں تھی۔تو انہیں کون سا کسی کی فکر تھی
“افنان پلیز ماشی کے پاس روکنا م۔۔میں ثاقب بھائی کے پیچھے جا رہا ہوں وہ بہت پریشان اور غصے میں ہیں۔خیال رکھو گے نہ ماشی کا۔۔میں ابھی آ رہا ہوں ۔،،وہ دروازے میں کھڑے افنان سے بول کر جلدی سے باہر بھاگا ماشی سو چکی تھی۔
افنان نے اسے دیکھا اور ایک طرف کھڑا ہو گیا۔
تھوڑی دیر بعد ماشی نے آنکھیں کھول
کر افنان کو دیکھا وہ گھبرا گیا تھا۔
چہرے پہ خوفگی صاف ظاہر ہو رہی تھی۔
“تمہیں پتا ہے میں تمہارے چہرے پہ جانے پہچانے چہرے کو محسوس کرتی تھی پر یہ معلوم نہیں تھا وہ چہرہ اتنا جانا پہچانا ہو گا۔ایک غلطی کتنی زندگیوں کو برباد کر دیتی ہے نہ۔،،ماشی بے بسی سے مسکرائی تھی۔پہلی بار اس نے افنان سے بات کی تھی۔وہ اس لئے کہ آسام نے اسے کہا تھا کہ افی کو معاف کر دے تو وہ کوشش کر رہی تھی پر ابھی بھی وہ ڈری ہوئی تھی جو اس کے چہرے پہ افی نے دیکھ لیا تھا۔تو وہ نظریں جھکائے اٹھ کر جانے لگا۔دل کی مانتا تو کبھی نہ اٹھتا۔
“روکو۔۔،،ماشی نے ہاتھ بڑھا کر ڈوپٹہ اٹھا کر اپنے سر پر ٹکا لیا ۔وہ روکا پر مڑا نہیں۔ماشی اس کے منہ سے اپنے لئے چاندنی لفظ سن کے نارمل نہیں تھی پر اس پہ ظاہر نہیں کیا
“تم کیسے نارمل رہ سکتے ہو تم انسان نہیں ہو کیا دل نہیں کیا تجھ میں۔،،ماشی نے حیرانگی سے سوال کیا
“ہاہاہاہا۔مجھے پہلے سے پتا تھا۔۔میں نہیں ہوں انسان پتھر ہوں میں۔۔،،انداز نارمل تھا پر وہ دانت پیس کر بولا تھا ماشی دنگ رہ گئ۔
“پتا تھا پر۔کیسے۔،،ماشی کے گلے میں کانٹے چبھنے لگے تھے۔پر وہ جانے لگا۔
“افنان روکو۔،،ماشی نے پہلی بار اس کا نام پکارا تھا۔وہ ہونٹوں کو بھیجے روک گیا۔
“کیوں پکارتی ہو مجھے جینے دو مجھے اب چین سے جینے تو دو۔تمہیں اس کمرے میں کیسے برداشت کروں۔پر میں نے اپنے باپ کی طرح بہت ساری زندگیاں نہیں برباد کی۔۔،،وہ بس سوچ سکا تھا۔
“میں جا رہا ہوں اور اب پیچھے سے پکارا تو انجام برا ہو گا۔۔،،وہ جان بوجھ کے غصے سے بولا تھا ماشی نے جلدی سے کمبل منہ پہ اڑ لیا اور افنان سے چھپ گئ۔
“ہاہاہاہا ابھی بھی ڈرتی ہے۔پاگل مجھے تباہ کر کے مجھ سے ہی ڈر رہی ہے۔پر اس نے کب تباہ کیا میں خود ہوا۔۔چل افنان رندھاوا اب اس شہر سے کیا ملک سے بھی جانے کا ٹائم آ گیا ہے۔،،اس نے گھڑی دیکھی اور ایک نظر سامنے لگی آسام اور ماشی
کی تصویر جس میں دونوں مسکرا رہے تھے۔
“اللہ تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے کوئی غم نہ آئے ۔،،دل سے بے اختیار دعا نکلی
اور وہ ایک نظر بیڈ پہ کمبل اوڑھے لیٹی ہوئی معاشی کو دیکھتا الٹا چلنے لگا باہر نکلتا وہ جلدی سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔
اسے پینگ بھی کرنی تھی۔
جا رہا تھا وہ پاکستان سے سب کچھ ہار کے۔اسے سب معلوم تھا۔کوئی اسے نہیں جان سکتا تھا آخر وہ افنان رندھاوا تھا۔جس کے دل میں کیا چلتا تھا کوئی نہیں جانتا تھا۔وہ جانتا تھا آسام اور ثاقب اسے نہ جانے دیتے۔اسی لئے وہ ان کی غیر موجودگی میں جا رہا تھا۔
ماشی سے محبت کرتا ہے یہ تو ماشی بھی شائد جان گئ تھی۔
********
“آنٹی بہت جلد اس کے مجرموں کو میں سزا دلواؤں گا بدلے میں مجھے اپنی بائمہ دیں گے نہ۔میرے پاس کچھ نہیں صرف اس کے۔،،وہ بائمہ کی ماں کے پاس بیٹھا تھا۔گھر کوئی نہیں تھا صرف بائمہ کی ماں تھی۔
“بیٹا وہ بہت معصوم تھی پر۔۔وہ کم بخت چندو اس کی زندگی برباد کر چکا ہے۔۔تم میری بچی کو اس گھر سے نکال لو وہ پتا نہیں کیوں غلط راستے پہ چل دی ہے میری بچی ایسی نہیں تھی۔اسے سیدھے راستے پر تم لا سکتے ہو میں جانتی ہوں۔،،ماں نے ثاقب کی پیشانی چوم کر کہا۔
“آپ فکر نہ کریں آپ اب میں چلتا ہوں پھر آتا ہوں۔،،وہ اٹھ کر چلا گیا بائمہ کی ماں اسے رات میں تڑپتے دیکھ چکی تھی جب ثاقب گھر سے نکلا تھا تو اسے انجان نمبر سے کال آئی وہ بتائے گے پتے پہ پہنچ گیا۔
*******************
آسام ،ثاقب کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر واپس لوٹ آیا تھا پر آفس کے سامنے اس کی کار کھڑی تھی وہ وہاں موجود نہیں تھا۔
“آسام کیا ہوا۔۔بھائی کہاں ہیں۔،،ماشی اسے نڈھال قدموں سے اندر داخل ہوتا دیکھ کر بیڈ سے اٹھ کر اس کی طرف بڑھ گئ۔
“پتا نہیں ماشی وہ چلے گئے۔۔،،آسام مرے مرے قدم اٹھاتا بیڈ پہ گر گیا۔
“آسام حوصلہ رکھیں وہ آ جائیں گے۔۔،،ماشی اس کے ساتھ بیٹھ کر بولی۔
تو آسام نے بے بسی سے اسے دیکھا ماشی نے اس کا ہاتھ تھام لیا
“آسام اتنا بڑا سچ سامنے آیا ہے کچھ تو ٹائم لگے گا ان کا وجود ہی تبدیل ہو گیا ہے۔ان کے ساتھ بہت غلط ہوا تھا۔تو اب ٹائم لگے گا وہ واپس آ جائیں گے۔،،ماشی نے آسام کے بالوں کو سنوارا جو بے ترتیب انداز میں بکھرے ہوئے تھے۔آسام نے اسے سینے سے لگا لیا اور ماتھے پہ اپنے ہونٹ سجا دیئے۔
“اچھا میں افنان کے پاس جا رہا ہوں۔۔آپ کو پتا تو ہے وہ کیسا ہےآپ ریسٹ کریں ۔۔،،آسام کی بات پہ وہ سر ہلا کر بیڈ پر لیٹ گئی۔تھوڑی دیر بعد نیچے ایک شور برپا ہوا تھا۔سعدیہ رو رہی تھی کچھ دیر تو وہ سمجھنے سے قاصر رہی پھر اٹھ کر باہر بھاگی۔
آسام ماں کو چپ کروا رہا تھا حماد اور جاہنگیر فون کرنے لگے جو
افنان کے کمرے میں بجا تھا۔
ماشی نے حیرانگی سے کمرے کو دیکھا ایک پٹ کھولا تھا اور ایک بند۔
وہ نیچے چلی گئی اس کی پائل کی آواز گونجی تھی۔
رکشندہ اور سعدیہ نے اسے ناگواری سے دیکھا تو وہ وہی روک گئ۔
“ہمارے دو ،دو بچے غائب ہیں اور تو سجی سنوری پھر رہی ہو۔،،سعدیہ نے دانت پیس کر کہا۔آسام نے ماں کو دیکھا۔
“یہ سب اس کی وجہ سے ہوا ہے اپنی پھوپھو کی طرح منحوس ہے۔آئی ہے تو میرے دونوں بچے چلے گئے۔،،سعدیہ نے سر پکڑ کر کہا
“اس کی پھوپھو بھی منہوس تھی میرے اور سفر کے درمیان میں آ گئ اب یہ آئی تو میرے بچے مجھ سے دور ہو گئے۔،،آسام ہونٹ بھیجے ماں کو دیکھنے لگا ماشی کو سمجھ نہ آئی وہ اس پہ غصہ کیوں ہو رہی ہیں
“موم ماشی کی کیا غلطی ہے آپ پلیز ریلکس ہو جائیں۔،،آسام ماں کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر بولا۔
“میں تمہیں کہتی تھی نہ۔کہ یہ دو دن کہیں رہ کر آئی ہے۔،،
“موم اب یہ بات کہاں سے درمیان میں آ گئ۔۔،،آسام ماں کو سنبھالنے میں لگا ہوا تھا پتا نہیں کیوں اسے ماشی کے آنسوں نظر نہیں آ رہے تھے۔
“میری کیا غلطی ہے۔،،ماشی نے خود سے سوال کیا۔
“یہ اپنی پھوپھو پہ گئ۔ہے۔۔،،سعدیہ بولتی جا رہی تھی آسام کبھی ماں کے بہتے آنسوں دیکھتا کبھی ماشی کے۔کبھی ماں کی باتیں سنتا۔وہ بے بس تھا۔
“بس موم اب میں ایک اور لفظ نہیں سنو گا ماشی اور۔۔ماما کے بارے میں۔۔
آپ ہیں بری۔
آپ اس لائک نہیں کہ ماشی جیسی بہو ملے۔اور آپ اس مقام تک پہنچ نہیں سکتی کہ میری ماما کی برابری کریں آپ ہیں منحوس۔
۔اور آسام شیم اون یو ڈوب کے مر جاؤ یار کیسے اس لڑکی کی بے عزتی برداشت کر سکتے ہو۔،،افنان اپنا فون لینے آیا تھا پر سامنے ماشی کے آنسوں دیکھ غصے میں آ گیا۔
“واہ بیٹا واہ۔اب تم کو بھی اس نے پھنسا ۔،،
“شیٹ اپ جسٹ شیٹ اپ مسز رندھاوا اب ایک لفظ اؤر بولی تو میں بھول جاؤں گا کہ تم میرے باپ کی بیوی ہو۔۔,,افنان نے میز پہ پڑا گلدان زمین پہ دے مارا
آسام اٹھ کر اس کے پاس جا کھڑا ہوا اور روکنے لگا۔وہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔
سفر صدمے کی کیفیت میں بیٹھا دیکھ رہا تھا
“افنان موم س
اس طرح بات مت کرو۔،،آسام نے اسے انگلی دیکھائی پر وہ نظر انداز کر کے سعدیہ کی طرف بڑھا۔حماد اور جاہنگیر روکنے لگے پر سفر نے ہاتھ سے روک دیا۔
” بس یاد رکھوں گا تو یہ کہ تم میری ماں کی دوشمن ہو میرے بھائی کو مجھ سے دور کرنے والی آپ ہو۔اور یہ۔۔،،اس نے انفلی سفر کی طرف گھمائی
“کتنا گر گئے تھے آپ دونوں۔مجھے اور ثاقب بھائی کو ہمارے وجود سے الگ کیا
فہد جو میرا ٹوین ہے جس کے ساتھ میں نو مہینے سانسیں لیتا رہا اس سے جدا کیا۔۔اب بتائیں کون غلط آپ یا یہ۔،،افنان نے پہلے سعدیہ اور پھر ماشی کو دیکھا جو رو رہی تھی۔
آسام کو ابھی بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے اس نے پہلے آنسو بہاتی ماشی کو دیکھا اور پھر ماں کو پر ماں کے آنسو زیادہ درد دے رہے تھے درد تو ماشی کے بھی دے رہے تھے پر وہ ماں کی طرف بڑھ گیا۔ماشی اس کے سہارے کی منتظر نہیں تھی۔
“افی چپ ہو جاؤ تمہاری وجہ سے ماں رو رہی ہیں۔،،آسام نے ہاتھ جوڑ کر کے کہا
“اور یہ تمہاری وجہ سے۔۔مجھے لگا تھا تم۔۔تم اسے رونے نہیں دو گے ڈرنے نہیں دو گے پر نہیں سامی۔تم وہی سامی بےبی رہے۔یہ عورت جو چار چار زندگیاں تباہ کر چکی ہے تم اس کے لئے اپنی بیوی کو رسوا کر رہے ہو سب کے سامنے چھچ۔۔،،افی کا بس نہیں چل رہا تھا وہ دو لگا دے آسام کو
“افنان زبان کو لگام لگاؤ اس لڑکی کے پیچھے تو ماں کو برا بھلا کہ رہا ہے۔۔،،سعدیہ نے آنسو بہائے۔
“ہاہاہاہا ماں۔۔،،افنان نے کہکا لگایا۔
“افی سٹاپ اٹ ماں کے ساتھ بد تمیزی مت کرو۔،،آسام اٹھتے ہی بولا اور ایک تھپڑ رسید کر دیا حال میں موجود سب افراد کے جیسے سانس روک گئے تھے.
“تو ماشی سے کروں جو بے قصور ہے۔ہاں بول۔دیکھ اسے یہ۔۔یہ ہے تیرا پیار۔آسام تو ڈی_سائڈ کر لے ماشی کو خوش رکھ سکتے ہو یا نہیں۔میں اس کا کزن ہونے کے ناطے پوچھ رہا ہوں کہ تم اس کی آنکھوں سے آنسوں کب تک بہنے دو گے ۔اگر تم اسے خوش نہیں رکھ سکتے تو چھوڑ۔،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتا ایک اور تھپڑ ماشی نے رسید کر دیا اور منہ پہ ہاتھ رکھ کر سیڑھیاں چڑھ گئ۔
“میرے پیچھے کوئی بھی نہیں آنا چاہئے جا رہا ہوں میں۔بہت پہلے فیصلہ کر چکا تھا پر آج مجھے کوئی روکے نہ سب جان کے میں بھی خاموش رہا کیونکہ مجھے کسی نے خاموش رہنے کو کہا ہوا تھا۔اور یہاں روکے رکھا اب میں جا رہا ہوں ،،افنان نے کہا اور کمرے میں چلا گیا کچھ ڈاکومنٹس اور فون اٹھا کر واپس مڑا ہی تھا کہ کچھ یاد آنے پہ وارڈروب کھول کر ماشی کے ڈوپٹے کو پیار سے نکال کر اپنے کورٹ میں ڈال لیا اور تیز قدم اٹھاتا سیڑھیاں اترا ۔آسام آگے بڑھنے لگا پر اس نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔
“سامی ماشی کو خوش رکھنا اس عورت کے پیچھے اسے کھو مت بیٹھنا۔میں تمہارا سوتیلا بھائی نہیں ہوں ایک باپ کی اولاد سوتیلی نہیں ہوتی پر ہمارا ساتھ یہاں تک ہی ہے زندگی رہی تو پھر بہت جلد ملیں گے افنان لو یو برو،،افنان نے اس کے کاندھے پر تھپکی رسید کی گلے لگا اور تیز قدم اٹھاتا لاؤنچ میں جا روکا۔اس کے پیر کے نیچے ماشی کی پائل آئی تھی اس نے پائل اٹھا
کر نظریں اوپر کی ماشی پیچھے ٹیرس پر دیوار کے ساتھ لگی آنکھیں مندے کھڑی تھی۔پر وہ دوسری نظر ڈالے بغیر چلا گیا۔ایک اور ادھوری نشانی اس نے پالی تھی ماشی کی۔
“اللہ سچ اتنے کڑوے کیوں ہوتے ہیں۔۔اور مجھے کن گناہوں کی سزا مل رہی ہے آسام کو ایک بار بھی میرا خیال نہ آیا کیا خون کے رشتے دل کے رشتوں سے زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔اور آج یہ کون سا افنان تھا جو میں نے دیکھا۔،،ماشی وہی بیٹھ گئ تھی۔وہ جانتی تھی ماں کا رتبہ اعلی ہوتا ہے۔پر اسے ہر عورت سے محبت ملی تھی پہلی بار کسی عورت نے اسے نفرت سے دیکھا تھا ۔
“ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ایک عورت ہی دوسری عورت سے نفرت کرتی ہو۔،،ماشی کو اور کچھ نہیں بس سعدیہ کی باتیں رولا رہی تھی۔
*****
گھر میں بلکل خاموشی چھا گئ تھی۔
افنان ثاقب دونوں جا چکے تھے۔آسام پریشان رہتا دو تین دن تک ماشی اور اس کی بات نہیں ہوئی تھی۔وہ خاموش اپنے کمرے میں بند رہتی،باہر جاتی تو کام سے آسام اندر آتا تو وہ ٹیرس پہ چلی جاتی۔
وہ باہر ہوتا تو ماشی اندر ہوتی۔
زندگی نے الگ موڑ لیا تھا۔
جس پہ سب کچھ خاموش ہو گیا تھا
**********
“وکیل صاحب پیپرز ریڈی ہو گئے ہوں تو لائن دیں۔،،ثاقب جلدی سے بولا تھا تین دن پہلے وہ کہ چکا تھا اب ریڈی ہو جانے چاہئے تھے
“مسٹر رندھاوا بس ہونے والے ہیں پر آپ کیوں کرنا چاہتے ہیں ایسا ۔،،وکیل نے تفتیش آمیز انداز میں پوچھا
”بس یوں ہی میں کچھ دن کام سے ریلیف چاہتا ہوں جب پیپرز ریڈی ہو جائیں تو اس پتے پہ آ جائے گا دو دن تک میں یہاں ہوں۔،،
جیب سے ایک کارڈ نکال کر دیا۔
“واٹ بٹ۔۔،،
“بٹ وٹ کچھ نہیں یار بس سکون چاہتا ہوں اسی لئے۔۔،،ثاقب نے مسکرا کر کہا۔
“اور ہاں میرے ٹھیکانے کا کسی کو علم نہ ہونے پائے۔،،وہ جاتے جاتے مڑا۔
وکیل نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
اب اسے ایک دن کا انتظار تھا پھر وہ آزاد ہونے والا تھا۔وہ پیدل چلتا بیس کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے آیا تھا اور اب پھر پیدل جا رہا تھا۔
******
“بیٹا تم مجھ سے ناراض ہو۔۔،،سعدیہ نے آسام کو پیار پھیرتے ہوئے پوچھا۔
وہ ماں کو دیکھتا رہا اور پھر نفی میں سر ہلا کر ان کے گلے لگ گیا۔
ماں تو ماں ہوتی ہے۔
وہ صبح سے شام تک سعدیہ اور سفر کے پاس رہا تھا۔
“ماں آپ نے اور پاپا نے جو بھی کیا میں نے آپ کو معاف کر دیا۔،،آسام نے ماں کے ہاتھوں پہ ہونٹ رکھ دیئے
“مجھے چھوڑ کر تو نہیں جاؤ گے نہ۔،،سعدیہ نے آنسوں سے بھری ہوئی آواز میں کہا
“کبھی نہیں میں ہمشہ آپ دونوں کے ساتھ رہوں گا۔،،آسام نے سفر اور سعدیہ کو گلے لگا لیا۔ندامت کے آنسوں۔سعدیہ اور سفر کی آنکھوں میں آ گئے
“جاؤ میری جان بہو کے پاس میں نے اس کو بہت ہرٹ کیا۔،،سعدیہ نے کہا تو وہ سر ہلا کر چلا گیا۔
کمرے کا دروازہ کھولا تھا پر اندر لائٹ آف تھی وہ گھبرا گیا۔کیونکہ ماشی نے کبھی لائٹس آف نہیں کیتںی۔
“ماشی۔۔۔
ماشی,،،وہ لائٹس اون کر کے دنگ کھڑا رہ گیا۔
ماشی بیڈ پہ سوائی ہوئی تھی بال زمین پہ گرے ہوئے تھے آنکھوں کے آنسوں منہ پہ جمے ہوئے تھے آسام کو پچھتاوے نے آن گھیرا۔وہ آہستہ آہستہ چلتا بیڈ کے پاس نیچے جا بیٹھا۔
“ماشی ایم سوری۔میں آپ کو خوش نہیں رکھ پا رہا۔مجھے معاف کر دینا یار۔پر مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔،،وہ بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا مڑ کر ماشی کو دیکھا تو دونوں کے چہروں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ تھا۔
“میں کیسے ماں کی انسلٹ برداشت کرتا ماشی میں اپنی ماں کی بہت عزت کرتا ہوں۔اور ان کی طرف سے میں آپ سے معافی مانگتا ہوں وہ غصے میں کچھ بھی بول جاتی ہیں۔ان سے دو بچے دور جا چکے ہیں اب میں بھی چلا جاتا۔ماشی میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں پر اپنی ماں سے بہت زیادہ أپ سمجھ سکتی ہیں نہ۔مانتا ہوں انہوں نے بہت غلطیاں کی ہیں پر اب ان کو اس عمر میں سزا کیسے دوں۔
کیسے انہیں چھوڑ کر چلا جاؤں۔مجھے معاف کر دینا۔،،آسام اٹھ کر باہر چلا گیا۔
ماشی نے آنکھیں کھول کر دیکھا
“میں آپ سے ناراض نہیں ہوں آسام۔میں تو ان کڑوی حقیقتوں سے پریشان ہوں۔افنان اور فہد ٹونز ہیں۔اور ثاقب م۔۔میرا بھائی ہے۔اوہ مائی گاڈ۔اور افنان کے کتنے روپ ہیں اس انسان کے۔
کتنے راز دفن ہیں اس کے سینے میں۔اور وہ کون سا افنان تھا جو اتنا بد تمیزی اور۔۔،،وہ سوچنے لگی اس کا دماغ دو افنان کے درمیان الجھا ہوا تھا۔دونوں میں زیادہ فرق نہیں تھا بد لہاظ دونوں تھے۔پر اس نے کسی کے لئے آواز اٹھائی تھی۔
اور پھر اب وہ جا چکا تھا کہاں کسی کو نہیں معلوم تھا کیونکہ وہ افنان تھا اس کے دل میں کیا چلتا تھا کوئی نہیں جانتا تھا۔
اب بھی یہ ہی ہوا تھا
سب کے دماغ میں چل رہا تھا کہ۔وہ کون تھا جس کے روکنے پہ افنان روکا وہ کون تھا جس کی وجہ سے وہ خاموش تھا۔
اسے سب کیسے معلوم تھا سب پر جواب صرف افنان اور اس انسان کے پاس تھا جس نے انہیں وہ سب بتایا تھا۔
