Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 35)

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry

اگلے دن دوپہر کا کھانا کھاتے ہوئے فہد کو کچھ یاد آیا تو اس نے ٹیب اٹھا لیا۔

“تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیراں ہوں میں۔حیران ہوں میں

تیرے معصوم سوالوں سے پریشاں ہوں میں،، افنان نے فہد کو دیکھا اور فہد نے افنان کو۔

کئ بار وہ یہ فقرہ گنگناا چکی تھی۔ایک بار وہ کمرے سے نکلی تھی اور سوپ سارا پی لیا تھا۔

“افنان یار ایک اکیلی لڑکی کو تم نے وہاں اکیلے چھوڑ دیا اور وہ بیمار ہے ،،فہد چاولوں

کی پلیٹ میں چمچ مارتے ہوئے کہا۔

“اب میں اور کیا کر سکتا ہوں رہنے کے لئے جگہ دی اور کھانا بنا کر دے کے آیا اب اور کیا کروں۔ یہاں اسے لا نہیں سکتا۔،،افنان نے سنجیدگی سے کہا

“ہاں ٹھیک کہ رہے ہو پر اس کی زمیداری اٹھائی ہے تو پوری بھی کرو وہ وہاں رہتی ہے جہاں دور دور تک کوئی بندہ نہیں۔ اکیلی ڈر جائے گی۔بخار کی کیفیت میں کسی کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہئے وہ تو پھر لڑکی ہے ،،فہد ڈیش اٹھا کر کیچن میں داخل ہو گیا۔

“ہاں تو۔۔۔ تو کہنا کیا چاہتا ہے،،افنان برتن سمیٹ کر کیچن میں داخل ہو گیا۔اور سینک کے ساتھ ٹیک لگا کر اسے دیکھنے لگا۔

“بس یہ ہی کہ اپنی زمیداری نبھاؤ جاؤ اور جا کے اسے دیکھ کر آؤ۔اس کا کوئی نہیں ہے تم پہ یقین کرتی ہے۔انسانیت کے ناطے تمہارا فرض بنتا ہے پاکستان کی عزت کی حفاظت کرنا۔۔،،آخری بات اس نے شرارت سے کی۔

“ٹھیک کہ رہے ہو۔۔اس میں سارا ڈیٹا ہے تو دیکھ لے میں آتا ہوں۔،،افنان سوچتاپورچ سے بائیک نکال کر باہر نکل گیا۔

دروازہ وہ خود کھول کے اندر داخل ہوا اور تیز تیز قدم اٹھاتا سیڑھیاں چڑھنے لگا کیوں کہ وہ اسے ڈرتا دیکھ چکا تھا۔

“ذہرہ۔،،افنان نے دروازہ جلدی سے کھولا۔وہ بیڈ کے ساتھ نیچے بیٹھی بازؤں کو ٹانگوں کے گرد لپیٹے خوف زدہ تھی افنان اس کے پاس جا کر نیچے بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا۔

“شادن وہ۔۔۔وہ مجھے مار دے گا پلیز مجھے بچا لو شادن م۔۔میں ابھی مرنا نہیں چاہتی ماما کی قبر پہ جانا چاہتی ہوں۔۔ی۔۔یہ دیکھو وہ وہ کہ رہا ہے مجھے مار دے گا شادن پلیز مجھے بچا لو پلیز،،وہ اپنا فون اس کے ہاتھ میں تھما کر بیڈ پر منہ چھپا کر رونے لگی

فون میں کچھ نہیں تھا شائد وہ خواب دیکھ رہی تھی یا ڈری ہوئی تھی۔اکثر بخار کی حالت میں ایسا ہو جاتا ہے۔

“ذہرہ کوئی تمہیں کچھ نہیں کہے گا یہاں کوئی نہیں آئے گا۔کوئی نہیں ہے ،،افنان نے اس کو شہانوں سے پکڑ کر بیڈ پہ بیٹھا دیا اور پانی کا گلاس تھما دیا

وہ اپنے ڈوپٹے سے آنسو صاف کرتے ہوئے نظریں گھما کر آس پاس دیکھنے لگی۔اور پھر نظریں جھکائے بیٹھی رہی افنان اٹھ کر باہر چلا گیا وہ ویسے ہی بیٹھی

رہی۔

“ذہرہ بس کرو۔چلو کھانا کھا لو اچھی بچی کی طرح،،وہ اسے خاموش بیٹھا دیکھ ۔تھوڑا فرینڈلی بولا۔تاکہ اس کی گھبراہٹ کم کر سکے۔

وہ اٹھ کر واش روم چلی گئی اور پھر ڈوپٹہ سر پہ اڑھ کر بیڈ پر بیٹھ گئ اور

افنان کو دیکھنے لگی۔وہ صوفے پہ بیٹھا فون میں بزی تھا۔

رف سے حلیئے میں بھی بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔

“آپ نے کھانا کھا لیا،،ذہرہ نظریں جھکائے ہی بولی۔

“ہوں،،جواب مختصر سا تھا۔

“میں جا رہا ہوں میڈیسن لے لینا اور یہ سارا کھانا ختم کرنا ٹیک کئیر،،افنان فون پینٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے بولا تو اس کے ہاتھ سے چمچ گر گیا پر وہ کچھ بولی نہیں۔

افنان بغیر روکے باہر چلا گیا۔اسے جارج کے ساتھ میٹنگ کا ٹائم مل چکا تھا۔تو وہ مزید دیر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ابھی جا کر اسے تیاری کرنی تھی۔

وہ بھاگ کر کھڑکی پہ آئی اور پردہ ہٹا کر دیکھا وہ بائیک سٹارٹ کر رہا تھا۔افنان نے غیر ارادی طور پر کھڑکی کی طرف دیکھا تو زہرہ جلدی سے پیچھے ہٹ گئ پر وہ اسے دیکھ چکا تھا۔

“شائد وہ ہے ہی اتنا اچھا کہ دل کرتا ہے وہ آس پاس رہے،،زہرہ نے ایک جذب سے آنکھیں مند لی۔اس کی خوشبو کمرے میں پھیل چکی تھی جیسے اس نے اپنی سانسوں میں سمو لیا۔ اور مسکرا کر کھانا کھانے لگی

********

وہ اپنے بالوں کو سائڈ مانگ نکال کر آنکھوں میں لینز لگا کے پینٹ کورٹ اور ہاتھ میں سگریٹ پکڑ کر ایک اعلیٰ شان کمرے میں جارج کا انتظار کر رہا تھا۔وہ بیس سالہ افنان نہیں بلکہ تیس بتیس سال کا شادن لگ رہا تھا۔

“ویلکم شادن خان ویلکم میری دنیا میں تمہارا ویلکم ہم کھولے دل سے کرتے ہیں،،وہ بھاری آواز سن کر مڑا۔ہونٹوں پہ مسکراہٹ اور انداز میں اعتماد

“بہت بہت شکریہ جارج ۔تیری اس دنیا کو میں کیسے ویران کرتا ہوں دیکھتے رہنے سوری پر تو دیکھے گا کیسے جب زندہ رہا تو ہی۔،،وہ دل میں سوچتا مسکراتا جارج کے گلے لگ گیا۔

“تو مسٹر شادن آپ اس فیلڈ میں کیوں آنا چاہتے ہیں۔اور میں ہی کیوں میرے ساتھ ہی کیوں میٹنگ کرنے آئے،،جارج صوفے پہ بیٹھ کر بولا اس کے دائیں بائیں دو باڈی گارڈ کھڑے تھے۔

“بیٹا تیری بینڈ بجانے کے لئے ،،وہ دل میں سوچ کر مسکرا دیا۔

“یہ میرا پرسنل مثلہ ہے مسٹر جارج آپ کام کی بات کریں ،،افنان ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر پر اطمینان انداز میں بولا۔

“ہاہاہاہا مسٹر خان آپ کا Attitude پسند آیا،پر ہماری بھی مجبوری ہے ،،جارج نے جاندار کہکا لگا کر کہا۔۔

“بہت اہم وجہ ہے معاملہ دل کا ہے جارج صاحب۔۔لمبی کہانی ہے پھر کبھی سناؤں گا،،افنان نے مصنوعی رونی شکل بنا کر کہا۔

“ہمارے پاس بہت ٹائم ہے آپ کے لئے،سنائیں،،جارج نے شیمپئن کھول کر دو گلاس میں ڈالی۔ایک افنان کی طرف بڑھا دیا۔افنان نے تھام تو لی پر سوچ میں پڑھ گیا

“ابے سالے میں یہ نہیں پیتا تو مجھے ہی پینے پہ لگا رہا ہے کیا کروں اب،،وہ سوچتا اٹھ کھڑا ہوا۔

“تو کہانی یہ کہ میں کسی سے بہت محبت کرتا تھا اور وہ لڑکی بہت لالچی تھی مجھے چھوڑ گئ۔اس شراب نے مجھے سہارا دیا ۔پیسے کے لئے چھوڑ گئ وہ مجھے تب سے مجھے لڑکیوں سے نفرت ہے اور وہ بھی صرف پاکستانی جو اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ ڈیڈ نے بھی گھر سے نکال دیا تو یہ کام شروع کر لیا۔،، افنان نے منہ موڑ کر مصنوعی آنسوں بہائے۔

اتنے میں جارج کی سیکرٹری آئی اور اس نے کچھ کہا اور چلی گئ۔اس موقع کا فائدہ اس نے اٹھایا اور شیمئن کا گلاس زمین پر گرا دیا۔

“اوہ سوری۔۔،

“کوئی بات نہیں شادن صاحب تو آپ مال کب تک لا رہے ہیں،،جارج نے مسکرا کر کہا

“اسے کہتے ہیں آ بیل مجھے مار۔۔،،افنان نے دل میں سوچا

“بہت جلد،میرے پاس مال بہت ہے پھر بھی اچھے اچھے مال کو ڈھونڈ رہے ہیں بہت جلد میرے آدمی آ جائیں گے۔،،افنان نے کہا اور پھر تھوڑی دیر کی گفتگو کے بعد وہ باہر چلا گیا۔

گھر پہنچ کر اس نے فہد کو ساری بات سنائی

**********

رات کو وہ زہرہ کے لئے میڈیسن لے کر گیا۔اس کا بخار کم تھا پر وہ ڈری تھی یہ وہ جانتا تھا۔

وہ کھانا کھلا کر چلا گیا

تھوڑی دیر کے بعد وہ باہر نکلی تو ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھولا تھا۔

“شادن تو چلا گیا تھا ک۔

کون ہ۔۔ہو سکتا ہے،،ہاتھ پاؤں پسینے سے شرابور ہو چکے تھے وہ ریپر اٹھا کر آہستہ سے کمرے میں داخل ہوئی اور بغیر دیکھے برسات کر دی۔

“سٹوپ اٹ میں ہوں ،،اس نے زہرہ کو پکڑ لیا اور لیپ جلا دیا۔

بغیر شرٹ کے وہ سویا ہوا تھا جس وجہ سے بازو پہ لوہے کا ریپر لگ گیا

“ایم سوری م۔۔مم۔میں ڈر گئ تھی،،وہ پیچھے ہٹ کر سر جھکا کر کھڑی ہو گئی۔اور

“کوئی بات نہیں آپ جا کے سو جائیں میں ٹھیک ہوں۔اور ڈرنے کی ضرورت نہیں میں یہاں ہی ہوں،،افنان نے کہا تو وہ سر ہلاتی کمرے سے نکل گئ۔

افنان بالوں کو ٹھیک کرتا پھر سے لیٹ گیا۔

“کر لی پاکستان کی حفاظت پاکستان نے تو مجھے ہی اچھے سے پیٹ دیا،،وہ لیٹا سوچ کر خود ہی ہنس دی

صبح وہ سرگی کے وقت ہی اٹھ گیا تھا پر کمرے سے نہیں نکلا فہد سے بات کر کے اس نے بتا دیا تھا کہ وہ وہاں سے ہی چلا جائے گا۔

“شادن صاحب اٹھ جائیں،، وہ لیپ ٹاپ سامنے رکھے کام کر رہا تھا جب زہرہ نے دروازے پہ دستک دے کر کہا۔

“اندر آ جاؤ میں اٹھ چکا ہوں،،اس نے نظر اٹھا کر دروازے کو دیکھا اور پھر سے لیپ ٹاپ میں بزی ہو گیا۔

“اور ہاں مجھے صاحب نہیں شادن ہی کہا کرو۔،،اس نے ایک نظر ذہرہ پہ ڈالی وہ اچھے سے سر پہ ڈوپٹہ ٹکائے ہوئے تھی جیسے نماز پڑھ کر آئی ہو

“کیوں،،وہ صوفے پہ بیٹھ گئ اور اس کے لیپ ٹاپ پہ چلتے ہاتھوں کو دیکھنے لگی۔

“کیوں کا کیا مطلب صاحب کہنے کا کیا مطلب،،افنان نے مسکراہٹ دبا کر سوال کیا

“یہ۔۔۔بھی سوال اچھا ہے مجھے عادت ہے نہ بڑے لوگوں کو صاحب کہنے کی،،وہ سر جھکا گئ۔

“میں بڑا نہیں ہوں اور اگر ہوتا تو بھی میں یہ ہی کہتا کہ مجھے صاحب نہیں بلائیں ،،افنان نے مسکرا کر کہا۔ذہرہ سر ہلا کر رہ گئی۔

“کیا ایک کپ کافی مل سکتی ہے پلیز،،

“ہوں ابھی لاتی ہوں کیسی پسند کریں گے،،وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔

“جو آپ کو بنانی آتی ہو،،افنان نے اس کا کام آسان کر دیا وہ سر ہلاتی چلی گئی۔

وہ سر بیڈ کی پشت سے ٹکا کر سوچنے ۔پھر یوں ہی بے دھیانی میں وہ ماشی کی فوٹو نکال کر دیکھتے اٹھ کھڑا ہوا۔

“کتنی کوشش کرتا ہوں ان جزبات کو دبانے کی پر یہ ہی تو میرے بس میں نہیں ہے۔سب کچھ کر سکتا ہوں پر تم سے محبت کرنا نہیں چھوڑ سکتا۔،،وہ شیشے کی دیوار پہ ہاتھ رکھ کر نیچے دیکھنے لگا۔جہاں گھاس اور مصنوعی جھیل پہ سورج کی کرنیں پڑ رہی تھی۔اور پھول کھیلے ہوئے تھے۔

“فہد کہتا ہے جیسا ہمارا کام ہے اس میں ہر احساسات کو ختم کرنا پڑھتا ہے یا اپنے آپ ہو جاتے ہیں۔پر مجھے نہیں لگتا کہ یہ ضروری ہے۔تو میری ہونے والی جان جی یہ پاک اسپائی تمہارے سامنے خود کو ہار گیا ،،

اس سے پہلے وہ اپنے خوب سجاتا کپ کے ٹوٹنے کی آواز نے اسے چونکا دیا۔

وہ واپس مڑا زہرہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی۔

“آپ۔۔،،وہ منہ پہ ہاتھ رکھ کر افنان کو دیکھنے لگی۔

“ہاں۔۔۔پاک اسپائی ہوں میں یہاں ایک میشن کے تحت آئے ہیں،، افنان کو شائد اس پہ یقین تھا کیونکہ وہ تھی ہی اتنی معصوم۔

“سچی آپ۔۔آپ پاک ایجنٹ ہو۔۔،،وہ بھاگ کر اس کے پاس آئی اور اس طرح دیکھنے لگی جیسے کوئی دوسری مخلوق دیکھ لی ہو۔

“جی پر یہ بات ہمارے درمیان میں رہے گڈ گرل۔کافی تو فرش پی گیا میں چلتا ہوں،،افنان لیپ ٹاپ اٹھانے لگا

“ن۔۔نہیں نہیں آپ بیٹھیں میں کافی بنا کر لاتی ہوں۔بیٹھیں،،وہ مسکرا کر دوبارہ کمرے سے بھاگ کر نکل گئی۔جیسے بچوں کو کچھ مل جائے تو خوش ہوتے ہیں ایسے تاثر تھے اس کے چہرے پہ۔افنان مسکرا کر کمرے سے نکل کر پیچھلے لان میں چلا گیا

کچھ دیر بعد وہ کافی بنا کر لائی تو افنان کمرے میں نہیں تھا۔ذہرہ نے شیشے کی دیوار کے پار دیکھا تو وہ گھاس پہ نگے پاؤں ورزش کر رہا تھا ہلکے ہلکے اندھیرے میں بھی اس کا روشن چہرہ نظر آرہا تھا۔ذہرہ کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ نمودار ہو گئ۔

“کتنی خوش قسمت ہو گی نہ وہ لڑکی جیسے آپ ملو گے۔ پروفیکٹ اور نیک ،انٹیلجنٹ اچھے،،،وہ سوچتی پیچھلے دروازے سے نکل کر لان میں رکھی کرسیوں پہ جا کر بیٹھ گئی۔

“شادن آ جائیں آج کے لئے اتنا کافی ہے،،ذہرہ نے کافی کپ میں ڈالنی شروع کر دی۔افنان اٹھ کے شوز پہن کر اس کی طرف بڑھا اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔ذہرہ بہت خوش لگ رہی تھی۔

افنان نے نظریں گھما کر اسے دیکھا اور مسکرا کر پوچھ لیا۔

“خیریت بہت خوش ہیں،،افنان کافی کا مگ تھام کر بولا۔اس نے ہاں میں سر ہلا دیا۔

“ہاں نہ ایک ایماندار پاک اسپائی کے ساتھ رہ رہی ہوں کتنی بڑی خوشی کی بات ہے نہ۔میں آرمی میں جانا چاہتی تھی پر ماما پاپا سب چلے گے سارے خواب خواب رہ گئے۔،ایک آنسوں آنکھ سے نکلا تھا۔وہ سر جھکائے بیٹھی تھی۔افنان کافی کا مگ ٹیبل پر رکھ کر اسے دیکھنے لگا۔۔

“آپ کو کیا کیا آتا ہے آئی مین دیواریں پھلانگنا جیسے گن چلانا کراٹے،،وہ ایکسائٹڈ ہو کر بولی۔

“ہاہاہاہا کیوں آپ سیکھنا چاہتی ہیں،، افنان نے سوال کیا تو وہ ہاں میں سر ہلا گئ۔

“کیا سیکھنا چاہتی ہیں،،

” گن چلانا سیکھائیں گے اور کراٹے بھی سچی مجھے بہت شوق ہے پلیز ،،وہ اچھلتے ہوئے ایکسائٹیڈ ہو کر بولی۔

افنان کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آ گئ ذہرہ بلکل بچی لگ رہی تھی۔اچھلتی کودتی اور اتنی خوش ہوتی ۔

“ذہرہ بی بی کو کراٹے سیکھنے ہیں ،اور گن بھی چلانی ہے،،افنان نے اٹھتے ہوئے سوال کیا۔

“ہاں نا آپ مجھے سیکھائیں گے آپ کا دل کہ رہا ہے۔ تو پھر کل سے شروع کریں گے شام کو جب آپ آئیں گے اوکے میں اب ناشتہ بنا لوں۔آپ ناشتہ کریں گے،،وہ خود ہی ٹائم فیکس کر چکی تھی ۔افنان نے حیرانگی سے اسے دیکھا اورکہکہا لگا دیا۔

“نہیں میں اب چلتا ہوں۔،،وہ کہتا ہوا اس کے ہمراہ چل دیا۔

“ایک بات یہ سب تب سیکھاؤں گا جب آپ اس کے قابل ہو جائیں گی،،دونوں ایک ساتھ چلتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔

“وہ کیسے میں قابلِ کیوں نہیں ،،ذہرہ برتن ٹیبل پر رکھ کر بولی۔

“کیوں کہ آپ ڈرتی بہت ہو، اس ڈر کو ختم کرو اس کا گلا گھونٹ دو۔ اکیلا انسان ہی کافی ہوتا ہے اگر وہ کچھ ٹھان لے۔،،افنان لیپ ٹاپ کو بیگ میں ڈالتے ہوئے بولا۔

“ٹھیک ہے اگراب میں نہ ڈروں تو آپ مجھے کراٹے اور گن چلانا سیکھاؤں گے میں بہت جلد سیکھ جاؤں گی۔میں کیسی کو نہیں بتاؤں گی۔،،

“سوچا جا سکتا ہے رات کو دیر ہو جائے گی ڈر لگے تو تالہ لگا لینا،،افنان کورٹ پہن کر باہر نکلتے ہوئے بولا۔

“مجھے اب ڈر نہیں لگے گا ،،وہ مسکرا کر بولی

“ہاہاہاہا دیکھتے ہیں،،افنان نے مڑ کر کہا اور وہ سر ہلا کر رہ گئی۔۔

افنان چلا گیا تو وہ اچھلنے کودنے لگی۔اور پھر سارا دن وہ خوش ہوتی رہی۔

******

“کاشا ڈیڈ کہاں ہیں۔۔۔،،افنان ایک بار پھر سے اس کے سر پہ سوار ہو گیا پر اس نے منہ نہیں کھولا۔دن سے رات ہو گئ تھی

پھر وہ باہر چلا گیا

فہد اور افنان باتیں کر رہے تھے افنان ساتھ ساتھ میل بھی چیک کر رہا تھا۔

“ماشی تمہیں میل کر رہی ہے،،افنان نے فون اس کے سامنے رکھ کر کہا

“تم پڑھ لو،،فہد نے کہا۔

“نہیں۔۔۔،،

“کیوں۔۔ایسا تو کچھ نہیں ہو گا گالیاں ہی ہوں گی،،فہد نے مصنوعی خوفگی سے کہا۔

“ہاہاہاہا کوئی بات نہیں بہنوں اور بھابھیاں کی گالیاں وقتی ہوتی ہیں۔،،افنان نے کہا اور کچھ یاد آنے پہ بائیک کی چابی اٹھا لی

“تم کہاں جا رہے ہو،،

“پاکستان کو اکیلا کیسے چھوڑ دوں،،افنان کی بات پہ فہد کا کہکہا گونجا۔

“اور باقی کا جو کام ہے،،فہد نے نظریں گھما کر اسے دیکھا

“اس میں ایک پاٹنر کی ضرورت تھی وہ مل گئ،،

“کون وہ ،،فہد نے وہ پہ زور دیا

“وہ نہیں یہ،،افنان نے ویڈیو چلائی تو سامنے زہرہ بیڈ پہ کھڑی ہاتھوں کو پیرؤں کو ادھر ادھر چلا رہی تھی۔جیسے کراٹے کلاس کی پریکٹس کر رہی ہو

“میں پاکستان کو گن اور کراٹے سیکھا کے آتا ہوں۔،،وہ بائک کی چابی گھوماتا باہر چلا گیا فہد برتن سمیٹ کے تہے خانے میں جا گھسا۔اور باقی کی فائلز کو ترتیب دینے لگا جو جارج کو دینی تھی۔

*****

وہ خود ہی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔وہ بائک کی آواز سن کر کمرے سے نکلی تھی

“پاکستان کیسے ہو۔یہ لو کچھ کپڑے ہیں اور فروٹس کھانا کھا لیا،،افنان نے مسکراہٹ دبا کر سوال کیا۔

“ہیں۔۔۔پاکستان وہ کیسے،کھانا ابھی نہیں کھایا ،، وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی۔

“چلیں آپ کھانا کھا لیں اور میں کچھ کام کر لوں،،

“سنو شادن آپ مجھے کراٹے سیکھائیں گے،،وہ بھاگ کر اس کے سامنے گئ۔افنان ہاں میں سر ہلاتا سیڑھیاں چڑھنے لگا۔

تھوڑی دیر بعد وہ جو کپڑے افنان لے کر آیا تھا پہن کر اس کے کمرے میں چلی گئ۔

ریڈ ٹی شرٹ بیلو ٹائٹس اپر ڈوپٹہ

“آپ ایسے کراٹے سیکھیں گی۔،،

“ہاں تو پروبلم کیا ہے،،اس نے خود کا جائزہ لیا

“ٹھیک ہے چلیں ،،وہ اٹھ کر پیچھلے لان میں چلے گئے۔وہ اسے پنچ بنانا سیکھانے لگا جب ہاتھ چلانے کی باری آئی تو اس کا دوپٹہ بار بار ہاتھوں میں آ جاتا۔

“ایسے کیسے چلے گا یار۔،،افنان روک کر پسلیوں پر ہاتھ رکھ کر اسے دیکھنے لگا۔

“ایک منٹ میں ابھی آتی ہوں،،ذہرہ چٹکی بجاتی کمرے میں بھاگ گئ اور دوپٹہ اتار کر بالوں کو انچی بینڈ میں جکڑ کر وہ واپس آ گئ۔

“اب ٹھیک ہے،،

“ہاں ٹھیک ہے چلو،،افنان نے سرسری سی نظر اس پہ ڈالی اور اٹھ کھڑا ہوا پھر یہ سلسلہ جاری رہا دونوں میں بےتکلفی ہو گئ تھی۔اور زہرہ سب کچھ جلدی جلدی سیکھ رہی تھی۔

افنان کو زہرہ کی قابلیت پہ فخر ہوا کرتا تھا۔وہ جس طرح اس کی ہر بات غور سے سن کر سمجھتی۔

افنان کو اس پہ یقین ہو گیا تھا کیونکہ وہ اس کا ڈیٹا تو پہلے دن ہی نکلوا چکا تھا۔

وہ افنان کی فکر کرتی۔افنان نے زیادہ سیریس نہیں لیا تھا وہ بس اسے پاٹنر سمجھتا تھا پر زہرہ اسے سب کچھ سمجھنے لگی تھی۔جانتی تھی وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے پھر بھی وہ صرف اس کی فکر کرتی تھی پر یہ بات کبھی افنان کو پتا نہیں چلنے دی،

دس بارہ دن لگے زہرہ کو کراٹے اور نشانہ لگانا سیکھنے میں۔

اور وہ اسے اپنے میشن میں شامل کرنا چاہتا تھا اسی لئے وہ اسے وہاں ہی لے آیا تھا ایک الگ کمرہ اسے دے دیا۔وہ اب ان کے میشن کی پاٹنر تھی

وہ اکیلی رہ سکتی تھی پر اب جب وہ تینوں ایک ساتھ تھے ایک دوسرے پہ یقین کرتے تھے تو وہ اتنی دور کیوں رہتی۔یہاں وہ میٹنگ کر سکتے تھے

****

“کل جارج کے نے مجھے بلایا ہے ۔۔۔،،ذہرہ کھانا لگا رہی تھی اور وہ کھانا کھاتے ہوئے ڈسکس کر رہے تھے۔

“میں بھی افنان کے ساتھ جاؤں گی،،ذہرہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔

“نہیں تم یہاں رہو گی ذہرہ ،،افنان نے سنجیدگی سے کہا۔

“پر شادن۔۔۔،،

“نہیں ذہرہ افنان ٹھیک کہ رہا ہے وہاں تمہارا جانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔لڑکیوں کا وہ۔۔،،فہد کہتے کہتے رک گیا۔

ذہرہ سمجھ کر ہاں میں سر ہلا گئ۔

“تم دونوں یہاں رہ کے باقی کے کام کر لینا،،افنان نے ان دونوں کو باری باری دیکھا۔پھر ساری پلینگ دوہرائی گئ۔

“پاکستان۔۔۔ذرا بریانی پکڑانا۔آج تو ماشی کے ہاتھ کی بریانی یاد دلوا دی،،افنان نے پلیٹ اس کے سامنے کی۔

“شادن پلیز مجھے پاکستان مت کہا کرو،،ذہرہ کی بات پہ افنان اور فہد بیک وقت ہنسے۔

“ٹھیک ہے۔۔سوری،،افنان نے مسکرا کر کہا۔

ذہرہ نے اس کی پلیٹ میں بریانی ڈال دی۔پھر تھوڑی دیر باتوں کے بعد افنان اور فہد تہے خانے میں چلے گئے اور زہرہ کمرے میں جا کے سو گئ۔

***

سر جھکانے کی عادت نہیں ہے

آنسوں بہانے کی عادت نہیں ہے

ہم کھو گئے تو پچھتاؤ گے بہت

لوٹ آنے کی ہمیں عادت نہیں ہے

کاشا نے بتا دیا تھا کہ سکندر ایکچلی ہے کہاں۔

ان کی طعبیت بہت خراب ہو گئی اچانک یہ بھی افنان کا ایک پلین تھا۔ جو ڈاکٹر ان کا چیک اپ کرنے آیا تھا وہ پاکستانی تھا اور ایجنسی نے بھیجا تھا۔

اور اس نے ہوسپٹل لے جانے کو کہا۔جارج کے آدمی ساتھ گئے۔

سکندر کو جب ہوسپٹل لایا گیا تو وہاں سے ہی اسے زہرہ اور فہد نے نکال لیا اور تہ خانے میں رکھا گیا تاکہ اگر جارج کے آدمی ان تک پہنچ بھی جائیں تو نہ ڈھونڈ سکیں۔ ہر کام پلین کے مطابق ہو رہا تھا۔

جارج نے اپنے بنگلو میں لڑکیوں کو رکھا ہوا تھا۔یہ تو افنان کو پتا چل گیا تھا کہ اس کے گھر میں کوئی پاکستانی آدمی نہیں تھا جس کی جان کو خطرہ ہو۔تو انہوں نے دیر نہیں کی اپنا لاسٹ دھماکہ کرنے میں۔

******

دو دن بعد وہ اٹلی سے جانے والے تھے۔۔ذہرہ بار بار افنان کو دیکھ رہی تھی۔وہ سوتا تو دیکھنے چلی جاتی۔صبح بھی بہت جلدی وہ اس کو دیکھنے چلی جاتی

ڈر اسے تو لگ رہا تھا پر وہ افنان سے چھپا رہی تھی۔

“افنان بات سنو۔۔۔یہ،،وہ افنان کے کمرے میں داخل ہوئی تھی پر وہ بغیر شرٹ کے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔اور لیپ ٹاپ سامنے رکھے کام کر رہا تھا۔

“شٹ۔۔۔۔ارے بندہ شرٹ تو کم از کم پہن لیتا ہے،،ذہرہ نے منہ موڑ لیا۔وہ ویسے ہی لیٹا رہا اور مسکرانے لگا۔

“تو پاکستان دروازہ کھٹکھٹا کے بھی تو بندہ اندا آ سکتا ہے ۔،،وہ شرارت سے بولا

“سوری ۔۔۔سوری ،،وہ گھبراتی باہر بھاگی اور جلدی سے دروازہ بند کر دیا۔

“کیا ہوا۔۔۔تم لوگ ریڈی نہیں ہوئے جانا نہیں،،سامنے سے آرہے فہد شرٹ کے بازوؤں کے بٹن بند کرتے ہوئے بولا۔

“میں ریڈی ہوں بھائی ۔وہ ابھی سو رہا ہے،،ذہرہ شوز کے تسمے کستے ہوئے بولی شرٹ اور جینز اونچی پونی سفید روشن چہرہ ،آنکھوں میں تھوڑا سا کاجل ،وہ خوبصورت لگ رہی تھی،

“میں دیکھتا ہوں آپ ایک کپ کافی بنا دیں میرے لئے اور افنان کے لئے بھی،آخری بار چین سے کافی تو پی لیں پھر کیا پتا کل ہو نہ ہو۔۔ہاہاہاہاہا،،فہد ریسٹ واچ باندھتا افنان کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

“ہاہاہاہا بھائی ابھی چین کہاں ہے چین تو تب ہو گا جب جارج کو ان کے انجام تک پہنچائیں گے،،ذہرہ ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی۔

“یہ بھی ٹھیک کہا ،،فہد نے سر پیچھے جھکا کر اسے دیکھا اور افنان کے کمرے میں چلا گیا۔کافی پینے کے بعد فہد اور زہرہ سکندر کے پاس جا بیٹھے۔

اتنے سال وہ کیوں قید میں رہا یہ تو اس کے ہوش میں آنے کے بعد ہی پتا چلنا تھا۔ پر اتنا پتا چل گیا تھا کہ جارج کا اصل نام عثمان

تھا اور اس کا باپ پاکستانی اسپائی ہونے کے باوجود بیکا ہوا تھا۔اور کاشا کا باپ بھی جارج کے باپ کا پاٹنر تھا۔

جب پتا چلا تو پکڑا گیا اور بھاگنے کے جرم میں مارا گیا تھا۔

******

شام کا اندھیرا چھا رہا تھا۔آخری کام کے لئے وہ تیار تھے۔ فہد سکندر کو کھانا کھلا کر کافی پینے لگا۔

افنان جانے کے لئے ریڈی ہو رہا تھا۔

تبھی زہرہ کمرے میں داخل ہوئی۔اور دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر اسے دیکھنے لگی۔

وہ تھوڑا جھک کر بالوں میں بورش کر رہا تھا اور گنگنا رہا تھا۔

“تمہیں ڈر نہیں لگ رہا وہاں دھماکہ ہونے والا ہے تم کیوں جا رہے ہو۔۔پلیز مت جاؤ ،،

ذہرہ اس کے پیچھے جا کھڑی ہوئی۔وہ مسکرایا اور مڑا۔

“بلکل بھی نہیں لگ رہا۔میں اس لئے جا رہا ہوں کہ اگر وہ جارج بچ جائے تو میں اسے اڑا دوں،،افنان پھر مڑ کر بورش کرنے لگا ذہرہ نے باہر دیکھا اندھیرا چھا گیا تھا اس نے دانتوں میں ہونٹوں کو دبا کر دل کی بے آواز دھڑکنوں کو محسوس کیا۔پھر جلدی سے سر پہ ڈوپٹہ لپیٹ کر کچھ پڑھنے لگی۔

“ہاہاہاہاہاہاہا کیا پڑھ رہی ہو،،افنان آئینے میں دیکھ کر بولا۔ذہرہ نے ہونٹ پہ انگلی رکھ کر اسے چپ ہونے کو کہا۔وہ سینے پر ہاتھ باندھ کر مڑا اور اسے دیکھنے لگا۔زہرہ کی دائی آنکھ سے آنسُو نکلا تو افنان نے گال پہ آنے سے پہلے ہی آنسوں اپنی انگلیوں میں جذب کر لیا۔اور مسکرا کر نفی میں سر ہلا دیا۔

“اللہ اس کی حفاظت کرنا،،ذہرہ نے پھونک مار کر دل میں ہی دعا کی۔واپس مڑنے لگی کہ افنان نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

“کیا پڑھا۔۔۔۔،،وہ زہرہ کے ڈوپٹے کو انگلی پہ لپٹنے لگا۔پہلی بار اس نے یہ عجیب سی عادت کی تھی۔

“جتنی بھی آیات آتی تھی سب پڑھ ڈالی۔،،لہجہ بھر آیا تھا۔آنکھ سے بہت سارے آنسوں پھر سے نکل کر ڈوپٹے میں سما گئے۔وہ نظر جھکا کے کھڑی تھی۔

“میں واپس آؤں گا کچھ نہیں ہو گا مجھے۔چلو اب یہ آنسوں بہانے بند کرو ،،افنان نے تھوڑا جھک کے اس کے آنسوں صاف کئے اور ڈوپٹہ چھوڑ کر بیگ اٹھانے لگا۔

“تم روتی ہوئی بلکل بھی اچھی نہیں لگتی کارٹون لگتی ہو پاٹنر،،افنان نے مسکرا کر کہا تو وہ بھی بےدلی سے مسکرائی

“تم ڈیڈ کو میڈیسن دے دینا بہت جلد میں واپس آ رہا ہوں،،وہ اس کے سر پہ تھپکی دیتا باہر بڑھ گیا۔

“فہد تم کہیں نہیں جا رہے میں صرف جا رہا ہوں۔وہاں سب کام ہو گیا ہے تم یہاں رہو ،،افنان نے اس کے کاندھے پر تھپکی دے کر کہا۔

اسکی بات سن کر فہد اور زہرہ بیک وقت

خوف زدہ ہوئے۔

“افنان تم اکیلے نہیں جا رہے میں ساتھ جاؤں گا،،فہد اٹھ کھڑا ہوا۔

“اور زہرہ،ڈیڈ کو یہاں اکیلا چھوڑ دیں۔،،پھر دس پندرہ منٹ کی بحس کے بعد وہ اکیلا چلا گیا۔ذہرہ دروازے تک اس کے پیچھے بھاگی۔دروازے میں جا کر وہ دروازے کو پکڑ کر کھڑی ہو گئی۔بالوں کی لٹیں چہرے پہ آ گئ۔ہوا تیز ہو گئ تھی۔دل میں طوفان اٹھنے لگا تھا۔

جب بائیک بہت دور چلی گئی تو وہ ڈوپٹے سے آنسو پوچھتی واپس چلی گئی۔

******

رات بڑی آہستہ گزر رہی تھی ذہرہ نے رات افنان کے انتظار میں گزاری ۔بار بار دروازے کو دیکھتی۔

رات ساری وہ یوں ہی بیٹھی رہی دن کا سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا کہ اس کی بائیک اندر داخل ہوئی۔

فہد ابھی سکندر کے پاس ہی تھا۔

“شادن،،ذہرہ کرسی سے اٹھ کر دروازے کی طرف بھاگی وہ پورچ میں گاڑی روک کے مسکراتا اتر آیا۔

“شادن ،،وہ بھاگ کر اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔دل کر رہا تھا اس کے سینے سے لگ جائے پر اپنی حد کو وہ جانتی تھی۔

“کیا ہوا پاکستان۔لگتا ہے بہت آنسوں بہائے گئے ہیں،،وہ شرارت سے بولا۔

“سب ٹھیک سے ہو گیا ،،ذہرہ نے اس سے بیگ پکڑ لیا اور ساتھ چلنے لگی۔

“پہلے کڑق کافی بنا کر دو اور پھر ساری سٹوری آرام سے سناؤں گا،،افنان نے مسکرا کر کہا

“ٹھیک ہے آپ چلیں میں سب کے لئے کافی بنا کر لاتی ہوں،،ذہرہ بیگ صوفے پہ رکھ کے دوپٹہ ٹھیک کرتی کیچن میں چلی گئی۔فہد کمرے سے نکل کر اس کے سامنے آیا اور اسے گلے لگا لیا۔ایک سکون دونوں کے اندر اتارا۔

“جان من کیسے ہو،،افنان نے اس کے کاندھے پر تھپکی دے کر کہا تو وہ مسکرا دیا۔

“ٹھیک ہوں تم ٹھیک ہو نہ افی،،پھر دونوں باتیں کرتے تہے خانے میں چلے گئے۔

ابھی سکندر کو ہوش آیا تھا پر وہ ٹھیک نہیں تھا۔وہ اسے کمرے میں لے گئے کیوں کہ سب ٹھیک ہو چکا تھا۔اور کاشا کو ابھی انہوں نے چھوڑا نہیں تھا وہ خطرہ مول نہیں لینا چاہتے تھے۔

*****

“میں واپس آ رہا ہوں حور اس بار تمہیں خود سے دور نہیں کروں گا اس بار اظہارِ محبت کر کے رہوں۔۔پر ڈر لگتا ہے۔۔ ،،وہ کھڑکی میں کھڑا آدھے چاند کو دیکھ رہا تھا۔اس نے اپنا فون نکال کر ماشی کی فوٹو نکالی۔وہ تصویر شائد چوری لی گئ تھی۔

دروازے کو تھامے وہ نظریں جھکائے کھڑی تھی۔رائٹ سائڈ دروازے کے پیچھے چھپی ہوئی تھی۔لمبے بال سامنے جھول رہے تھے۔افنان کرسی پر بیٹھ گیا۔اور تصویر پہ ہاتھ رکھ دیا

“ان لمبے بالوں سے کہیں مجھے باندھ نہ لیں۔ان موٹی موٹی آنکھوں سے کہیں مجھے گھائل نہ کر دیں۔ان پائلز کی آواز سے۔تمہاری جدائی سے،،ذہرہ دروازے کے پاس کھڑی اس کی دیوانگی کے عالم کو دیکھ رہی تھی۔

“بہت محبت کرتے ہو اس سے،،ذہرہ آہستہ آہستہ چلتی اس کے پاس رکھی کرسی پر آ بیٹھی۔افنان نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ذہرہ کے اندر توڑ پھوڑ شروع ہونے لگی۔آنسو جاری ہونے سے روکنے کے لئے اس نے دوسری طرف منہ کر کے سانس بحال کیا۔جانتی تو وہ شروع سے ہی تھی۔

“کیا میں دیکھ سکتی ہوں آپ کی حور کو،، ذہرہ نے اس کی طرف حسرت سے دیکھ کر ہاتھ سامنے کیا تو افنان نے فون اس کے ہاتھ پہ رکھ دیا۔اس نے ایک نظر افنان پہ ڈالی پھر فوٹو پہ نظر ڈالی

“ماشاءاللہ،بہت خوبصورت ہے واقع ہی حور ہے،،زہرہ نے مسکرا کر تعریف کی۔

“اچھا کل کی فلائیٹ ہے ہم سب جا رہے ہیں ،،افنان سیل پکڑتے ہوئے بولا۔

“ہم م۔مم۔میں بھی،،وہ بےیقینی کے عالم میں بولی۔

“ہاں بھائی آپ بھی اب آپ کو اکیلا تھوڑی چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔پاٹنر ہیں ہماری۔چلو کھانا لگ گیا ہے،،فہد اپنا فون چارج پہ لگاتے ہوئے بولا۔

” آفٹر آل آپ ہمارا پاکستان جو ہیں،،افنان نے اس کی ٹانگ کینچھی۔تو وہ اسے گھورتی اٹھ گئ۔

“میں ڈیڈ کو کھانا کھلا کر آتی ہوں،،فہد نے ہاں میں سر ہلا دیا

اور وہ دونوں کھانے کی میز پہ جا بیٹھے

“افی میں کیا سوچ رہا تھا کہ اگر آسام اور ذہرہ،،فہد بات اُدھوری چھوڑ کر اسے دیکھنے لگا۔

“وہ ایسا نہیں ہے یار اللہ کی گائے ہے شروع سے ہی

ان سب چکروں سے فرار چاہتا ہے،،

“لو نہ صیحح پر ارینج میرج تو ہو سکتی ہے کیا کمی ہے ذہرہ میں ماشاللہ بہت پیاری بیٹی ہے،،فہد نے کسی وڈیرے کی طرح کہا۔

“ٹھیک ہے کچھ کروں گا جا کے۔ اب کھانا کھا لیں ،،افنان نے التجاء کی

“افنان،فہد بھائی ڈیڈ کو ہوش آ گیا ،،ذہرہ بھاگ کر آئی ۔وہ دونوں کرسی چھوڑ کر کمرے کی طرف بھاگے۔سکندر بیٹھا حیرانگی سے چارو اطراف دیکھ رہا تھا

“ڈیڈ۔۔۔،،فہد اور افنان دونوں بھاگتے ہوئے دائیں بائیں بیٹھ گئے۔وہ ان دونوں کو حیرانگی سے دیکھنے لگا۔

“ڈیڈ میں فہد آپ کا فہد اور ی۔یہ۔۔یہ افنان ،،فہد نے سکندر کا ہاتھ تھام لیا۔وہ بہت کمزور ہو چکا تھا۔چند مینٹ دیکھنے کے بعد انہوں نے ان دونوں کو گلے لگا لیا

“فہد۔۔۔میری جان تم کتنے بڑے ہو گئے ہو،،وہ فہد کے منہ کو ہاتھوں کے پیالوں میں بھر کر بولے۔

“اور افنان۔۔،،وہ اس کی طرف گھوم گیا۔

“ڈیڈ ۔۔،،افنان نے سکندر کے گرد بازو حائل کر دیئے۔کافی دیر وہ ان دونوں کو گلے لگا کر لیٹا رہا۔سفر نے کبھی افنان کو یوں گلے نہیں لگایا تھا۔اس کی آنکھیں نم ہو گئی۔

“چلیں ڈیڈ کی میڈیسن کا ٹائم ہو گیا ہے۔،،ذہرہ مسکراتی ہوئی اندر داخل ہوئی

“یہ کون ہے۔۔،،سکندر نے ان دونوں سے سوال کیا

“آپ کی بیٹی ،,،اس سے پہلے وہ دونوں بولتے ذہرہ مسکراتی ایک طرف بیٹھ گئ اسی طرف افنان بیٹھا تھا۔جو اس کے بیٹھتے ہی اٹھ گیا۔

“تو بیٹی سینے سے لگتی ہے بیٹا جان ادھر آؤ،،سکندر نے مسکرا کر اس کی طرف ہاتھ کیا تو وہ ان کے سینے سے لگ گئ اور رونے لگی باپ کا پیار تو اس سے بہت پہلے روٹھ چکا تھا۔اب جا کر اسے باپ ملا تھا۔

“بس کرو یار پاکستان کیوں مجھ غریب کو رولا رہی ہے،،،افنان نے رونی شکل بنا کر نقلی آنسوں صاف کئے۔

جس پہ ان تینوں کا کہکہا گنجا ۔

“تمہاری ماں کیسی ہے اصغر بھائی،اور باقی سب ،،،سکندر

نے کہا۔

“ٹھیک ہیں۔۔،،فہد نے سنجیدگی سے کہا۔

“کتنے سال ہو گئے تمہاری ماں کو دیکھے ہوئے،،سکندر کے چہرے پہ دکھ کے سائے آ گئے

“ڈیڈ ہم یہاں سے ہی لاہور جائیں گے ماما کتنا خوش ہوں گی ،،فہد نے مسکرا کر کہا

“نہیں بیٹا ابھی ہم کراچی جائیں گے۔میں اس حالت میں تمہاری ماں کے سامنے نہیں جا سکتا بلکل صحت یاب ہو کر جاؤں گا۔پھر وہ خوش ہوں گی،،وہ کھانستے ہوئے بولا۔

“جیسے آپ کو مناسب لگے ڈیڈ,،،فہد نے ان کا ہاتھ تھام لیا۔

“پر ڈیڈ آپ کا تو ایکسڈنٹ ہو گیا تھا,،،فہد نے سوال کیا۔

“بیٹا وہ میں نہیں سلیم تھا۔مجھے یہاں سلیم نے پکڑوا دیا تھا۔وہ ملا ہوا تھا ان لوگوں سے۔تمہاری ماں سے وہ بات کرتا رہتا تھا۔میرے نمبر سے۔جب میں دو تین سال بعد بچ کے بھاگ نکلا تو اس کے پاس گیا۔تو پھر مجھے پتا چلا کہ اس کا پلین کیا تھا۔وہ میرے نام سے سارے کارنامے سر انجام دیتا تھا۔اور اس نے مجھے اپنے پاس قید کر لیا مجھے یاد ہے جب میں اس سے بات کرنے گیا تھا اس نے مجھے مارنا چاہا تھا شائد مار دیتا پر مجھے اس کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔

پھر وہ جب پاکستان گیا تو اس کا ایکسڈنٹ ہو گیا شائد اس کی لاش پہنچانے میں نہیں آئی ہو گی اور آپ سب نے اسے سکندر سمجھ لیا۔اور جب وہ مر گیا تو میں یہاں سے نہیں جا سکتا تھا اس کا بیٹا بہت چھوٹا تھا بیوی بھی چل بسی مجھے یہاں سلیم بن کے رہنا پڑا۔عثمان کے کان اس کے چاچا نے بھرنے شروع کر دیئے کہ میں نے اس کے بابا کی جان لی ہے۔پاکستان نے جان لی ہے۔اور اس کے چاچا نے اسے غلط راہ پہ لگا دیا۔اور بنا دیا جارج۔وہ بھی اپنے باپ اور چچا کی طرح بن گیا۔بہت کوشش کی تھی کہ اس کو اس راستے پہ چلنے سے روک لوں پر میں ناکام رہا اسے فہد سمجھ کے پالا پر اس نے میرا یہ حال کر دیا،،سکندر نے مختصر سارا واقع سنا دیا۔

“ڈیڈ وہ مارا گیا ہے۔ اب اور کچھ غلط نہیں ہو گا جس ملک کے لئے اس کا باپ کام کرتا تھا انہوں نے ہی اس کے بیٹے کی جان لی،،،افنان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

“کیا عثمان۔۔, سکندر کے آنسوں بہنے لگے۔

“ڈیڈ وہ سمگلر تھا۔پاکستان سے لڑکیاں لاتا تھا اور ان کے ساتھ۔۔چھچ،،افنان کے ماتھے پہ بل پڑھ گئے۔

“پر یہ سب ہوا کیسے،،سکندر کی بات پہ ان تینوں کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آ گئ ۔

“اس کو میں نے جو مال دیا تھا اس میں ٹائم بم فیٹ تھا مجھے پتا تھا وہ خود کھولے گا پیسے اور لڑکیاں اس کی کمزوری ہیں۔اس کی سیکرٹری نے سب آدمیوں کو نیند کی گولیاں دے دی اور بڑی آسانی سے پیسوں والا بیگ اس کے بیڈ کے نیچے رکھ دیا اور پھر جو لڑکیاں تھی انہیں میں نے ماما والے گھر میں بھیج دیا۔مجھے یہاں کوئی پہچان نہیں سکے گا نہ شکل نہ نام اور نہ ہی کام ۔،،پھر افنان نے ساری سٹوری ان کو سنا دی۔

افنان اور فہد نے ہائے فائے کیا

“اور زہرہ نے ہماری بہت مدد کی۔کاشا کا منہ کھلوانے سے لے کر آپ کو یہاں لانے کے پلینگ تک اور اس کی سیکرٹری سے گھر جا کر ملاقات کرنے تک۔اور قدرت بھی ہم پہ مہربان تھی جو ہم سوچتے تھے ویسا ہو جاتا تھا،،افنان نے فخر سے زہرہ کو دیکھا تو اس نے بھی مسکرا کر سر جھکا لیا۔

“ہاہاہاہا ایک بار پھر میرے گلے لگ جاؤ میرے بچو مجھے فخر ہے تم تینوں پہ،،سکندر نے بازو پھیلائے تو زہرہ اور فہد دونوں طرف بیٹھ گئے افنان پیچھے بیٹھ کر سکندر کے گرد ایک بازو حائل کر دیا۔اسے اتنے دن سکندر کا خیال رکھتے ہو گیا تھا کہ اسے باپ کی

جھلک نظر آتی تھی۔

“پاکستان ایک تو بہت جلد تو اموشنل ہو جاتی ہے چلو پینگ کرواؤ میرے ساتھ ,،افنان نے اس کے سر پہ چپت رسید کر کے کہا۔تو وہ مسکراتی اٹھ کھڑی ہوئی۔فہد سکندر کے پاس بیٹھا باتیں کرتا رہا۔

/***********

“تو پاکستان پھر کہاں رہو گی میرے ساتھ یا ڈیڈ کے پاس کراچی،،افنان مسکراہٹ دبا کر بولا ارادہ اس کی ٹانگ کھینچنے کا تھا۔وہ جو اس کے کپڑے بیگ میں رکھ رہی تھی حیران کن آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی

“کسی حق سے مجھے اپنے گھر لے جاؤ گے،،وہ بھی اسی کے انداز میں بولی۔

“جس حق سے تم کہو اسی حق سے،،وہ کچھ زیادہ ہی خوش تھا اور زہرہ اس کی خوشی کی وجہ جانتی تھی۔

“اچھا فلرٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہو ،،ذہرہ دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے بولی سرمئ رنگ کی لمبی قمیض اور نیچے ٹائٹس پہنے اچھے سے سر پہ ڈوپٹہ لئے بالوں کو ڈھیلی ڈھالی چوٹیا بنا کر آگے چھوڑا ہوا تھا۔وہ کرسی سے اٹھ کر اس کے پاس آ کھڑا ہوا۔

“نہیں بلکل بھی نہیں،،وہ مسکرا کر بولا ذہرہ پیچھے ہٹنے لگی کہ کارپیٹ کے ساتھ پاؤں اٹکا اور وہ افنان کے سینے سے جا لگی غیر ارادی طور پہ افنان کا ہاتھ اس کے گرد حائل ہو گئے۔چند سیکنڈ وہ حیرانگی سے کھڑی رہی پھر بجلی کی پھرتی سے مڑی اور سر جھکا کر کمرے سے نکل گئ۔افنان ایک عجیب سی کیفیت میں گھرا گیا۔جو اس کی سمجھ سے باہر تھی تھوڑا سا وقت وہ کھڑا رہا اور پھر سر جھٹک کے بیگ کی زیپ بند کرنے لگا۔

******

وہ لوگ پیچھے کوئی سوراخ نہیں چھوڑنا چاہتے تھے تبھی وہ کاشا کو اپنے ساتھ لے گئے اور اسے حکومت کے حوالے کر دیا۔باقی پاکستانی لڑکیوں کو بھی افنان نے کافی پیسے دیئے تھے جس کے ذریعے وہ واپس پاکستان لوٹتی۔جارج کی سیکرٹری بھی پاکستان سے تعلق رکھتی تھی۔

کراچی پہنچ کے پہلے زہرہ اور فہد نے مل کے گھر سیٹ کیا اور افنان اپنے کام‌میں مصروف ہو گیا۔کیونکہ ابھی بازف نام کا مجرم باہر تھا۔

سکندر کو خون کی کمی تھی اس کو خون کی بوتلیں لگائی گئی۔

اور ایک بہت اچھا ڈاکٹر ہائیر کیا گیا۔

رات کا کھانا ذہرہ نے بنا لیا تھا اور میز پہ لگا دیا۔افنان کو بلانے گئ تو وہ ہمشہ کی طرح بیڈ پہ بغیر شرٹ کے لیٹا لیپ ٹاپ سامنے رکھے کام کر رہا تھا۔

“یار۔۔۔۔افنان کبھی تو شرٹ پہن لیا کرو بےشرم لڑکوں کی طرح

شرٹ اتارے رکھتے ہو گھر میں لڑکی ہے خیال نہیں تمہیں،،ذہرہ دانت پیس کر بولی۔

“اور لڑکی ناک کر کے آ جایا کرے نہ۔منہ موڑ لوپہن لی ہے،،وہ شرٹ پہن کر بیٹھ گیا پر ابھی بھی اوپر والے تین بٹن کھولے تھے۔

“یہ بھی بن کرو بدماش لگتے ہو ،،ذہرہ نے منہ نیچے کر کے کہا۔

“بس کرو اب مجھے تم سیکھاؤ گی کہ کیا کرنا ہے میں تمہارا سر ہوں مت بھولو،،وہ اس کے سامنے دو قدم کے فاصلے پہ آ کر بولا۔ذہرہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔اور پھر نظریں جھکا لی۔وہ زیادہ دیر تک اسے دیکھ نہیں سکتی تھی اگر دیکھتی تو سارے جزبات افنان کے سامنے کھول جاتے۔

“سنو!!تمہارا یہ شرمانا یہ گھبرانا

بچے کی جان لے گا کیا،،

افنان نے سینے پر ہاتھ باندھ کر مسکراہٹ دبا کر شعر پڑھا۔

“سنو!!چاہتے کسی اور کو ہو

پھر۔

جان میری مٹھیوں میں کیسے،،

وہ کون سا کم تھی اس سے۔

“دل ہے کہ مانتا نہیں،، وہ بیڈ پر بیٹھ گیا۔

“تو نکال کر پھینک دو ایسے دل کو،،ذہرہ نے کہکا لگا کر کہا

“اپنے دل تک مجھے ایسی رسائی دے

میں جدھر بھی دیکھوں تو ہی دیکھائی دے،،

افنان نے آنکھ دبا کر کہاا۔

“واہ واہ۔۔،،ذہرہ نے مسکرا کر تالی بجائی وہ اپنی خوشی کا اظہار شعر سنا کر رہا تھا۔تو ذہرہ کیوں اس کی خوشی میں شریک نہ ہوتی۔

“اب تم دونوں شعرو شاعری بند کرو۔افنان تم اسلام آباد کے لئے نکل جاؤ میں جا رہا ہوں ،،فہد افنان کے گلے لگ گیا۔

“ذہرہ ڈیڈ کا اور اپنا خیال رکھنا ڈاکٹر ہر روز چیک کرنے آیا کرے گا۔،،فہدذہرہ کے سر پہ ہاتھ رکھ کر کہا اور وہ اور افنان باتیں کرتے باہر نکل گئے۔

افنان اسے بس سٹاپ پر چھوڑ کر واپس آیا تو اس کا سارا سامان ریڈی تھا۔وہ تیار ہو کر سکندر کے کمرے میں چلا گیا

“ذہرہ میں جا رہا ہوں،،وہ سکندر کے پاس بیٹھی تھی جب افنان نے سکندر سے ملنے کے بعد اسے متوجہ کیا جو شائد جان بوجھ کر اسے اگنور کر رہی تھی۔شائد ہمت نہیں تھی ہو رہی

الوداع کہنے کی۔

“جاؤ بیٹا دروازے تک تو چھوڑ آؤ،،سکندر نے ذہرہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا۔تو وہ ڈوپٹہ سیٹ کرتی اٹھ گئ۔دل بےچین ہونے لگا تھا۔وہ اس کے ساتھ سر جھکا کر چل رہی تھی۔افنان نظر ٹیڑھی کر کے اسے دیکھ رہا تھا۔

“کیا ہوا کہ دو نہ کہ روک جاؤں میں نہیں جاؤں گا،،وہ ہمشہ کی طرح شرارت سے بولا۔ذہرہ نے آنسوں سے بھری نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔

“نہیں جاؤ تم میں نہیں روکوں گی،،وہ نظریں جھکا کر بولی۔افنان اپنا بیگ کاندھے پہ ڈالتے ہوئے اس کی طرف مڑا۔

“اپنا خیال رکھنا۔امید ہے بہت جلد ہم ملیں گے،،افنان نے اس کے آنسوں دیکھ سر جھکا لیا کہتا بھی کیا۔احساسات سے تو وہ واقف ہو ہی گیا تھا اتنا تو پاگل نہیں تھا وہ۔

“دل کو پتا چل جاتا ہے زہرہ تمہارے یہ آنسوں میرے دل پہ گرتے ہیں پر میں کچھ نہیں کر سکتا اور تم بھی جانتی ہو شائد اسی لئے خاموش رہتی ہو،،افنان نے سنجیدگی سے سوچا

“آپ بھی اپنا خیال رکھنا۔اور کال کیا کریں گے ،،آنسوں پہ بڑی مشکل سے قابو پایا گیا تھا۔افنان نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور تھوڑا آگے بڑھا پھر اس کا ہاتھ تھام کر ہاں میں سر ہلا دیا

“تھینک یو،،زہرہ دل سے مسکرائی تھی۔

“اوکے میں چلتا ہوں ،،وہ اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالتا باہر بڑھ گیا ذہرہ وہی کھڑی اسے دیکھتی رہی۔افنان نے ایک بار بھی مڑ کر نہیں دیکھا۔اور بہت دور چلا گیا۔

وہ مرے مرے قدم اٹھاتی واش روم گھس گئ ٹوٹیی کھول کر خوب روئی۔

“یا اللہ یہ کیسی محبت پیدا کر دی تو نے میرے دل میں وہ میرا نہیں پھر بھی بے تحاشا محبت ہے اسے پانے کی خواہش نہیں ہے بس وہ سامنے رہے خوش رہے ہنستے مسکراتے ہوئے وہ بس آنکھوں کے سامنے رہے یہ کیسی خواہش ہے میری جو پوری نہیں ہو سکتی،،وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی اور منہ پہ ہاتھ رکھ کر چینخ کو بمشکل روکا ۔

“اللہ اسے بری نظر سے بچانا کوئی دکھ اس کے پاس نہ آئے۔اسے اس کی محبت مل جائے میں اسے خوش دیکھانا چاہتی ہوں ،،ذہرہ کے دل سے دعا نکلی۔تھوڑی دیر وہ سانسیں بحال کرتی باہر نکل گئ۔اتنی جلدی وہ ہار نہیں مان سکتی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *