Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 13)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 13)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
یاد اُسے انتہائی کرتے ہیں
سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں
پسند آتا ہے دل سے یوسف کو
وہ جو یوسف کے بھائی کرتے ہیں
ہے بدن خوابِ وصل کا دنگل
آؤ زور آزمائی کرتے ہیں
اس کو اور غیر کو خبر ہی نہیں
ہم لگائی بجھائی کرتے ہیں
ہم عجب ہیں کہ اس کو بانہوں میں
شکوۂ نارسائی کرتے ہیں
حالتِ وصل میں بھی ہم دونوں
لمحہ لمحہ جدائی کرتے ہیں
آپ جو میری جاں ہیں۔۔میں دل ہوں
مجھ سے کیسے جدائی کرتے ہیں
با وفا ایک دوسرے سے میاں
ہر نفس بے وفائی کرتے ہیں
جو ہیں سرحد کے پار سے آئے
وہ بہت خود ستائی کرتے ہیں
پَل قیامت کے سود خوار ہیں *جون*
یہ ابد کی کمائی کرتے ہیں
“ہیلو ہارش ماشی نہیں مل رہی۔پتا نہیں رندھاوا ہاؤس سے کیوں بھاگی تھی کہاں
گئ کچھ پتا نہیں پلیز تم ابھی آجاؤ ۔گھر بھی نہیں بتا سکتے پلیز جلدی سے آجاؤ۔۔،،عشرت نے روتے ہوئے کہا۔
“تم ٹینشن نہ لو میں کچھ کرتا ہوں۔،،ہارش بھی پریشان ہو گیا تھا۔
وہ ابھی رندھاوا ہاؤس میں ہی تھا
“آسام ضروری کام ہے یار میں جاتا ہوں اب۔،،ہارش آسام اور ثاقب سے مل کر جلدی سے باہر بھاگا۔
_________*******_______
ماشی اسی درخت کے نیچے بیٹھی تھی۔اسے وہ درخت ہی اپنا سہارا لگتا تھا افنان ہر بار اسے گہرا گھاؤ دیتا تھا۔
“تم کیوں آئے ہو۔۔،ماشی نے سر اٹھا کر اسے دیکھا وہ چہرے پہ نقاب لپیٹے کھڑا تھا۔
“کیوں آئے ہو تم۔مجھے اکیلا چھوڑ دو پلیز۔،،ماشی اس کا گریبان پکڑ کر رونے لگی۔
“چلے جاؤ یہاں سے جاؤ۔۔،،ماشی نقاب پوش کے سینے پر مکے برسانے لگی۔اور ساتھ ساتھ رو بھی رہی تھی ماشی نے اسے دھکا دے دیا
“بس کرو ماشی کتنی بار بول چکا ہوں مت رویا کرو تکلیف ہوتی ہے مجھے تم کیوں اتنی ڈرتی ہو۔ٹھیک ہے پر جب میں تمہارے ساتھ ہوں تو کیوں ڈرتی ہو۔،،وہ دل میں سوچ کر ہی رہ گیا۔
نقاب پوش نے اس کے ہاتھ پکڑ لئیے تھے ایک ہاتھ سےاس کے آنسوں صاف کئے ماشی اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ گئ
“کیوں رو رہی ہو پلیز چپ ہو جاؤ۔،،وہ بے بسی سے اس کو چھوڑ کر پیچھے ہو گیا۔
“اوکے اب نہیں رؤں گی۔پر آپ ہمشہ میرے ساتھ رہیں گے وعدہ کرو۔،،ماشی نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے کیا۔نقاب پوش اسے دیکھتا رہا پھر ہاتھ تھام کر ہاں میں سر ہلا دیا۔
ماشی نے مسکرا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
پر اس نے نظریں جھکا لی۔
ماشی بے اختیار اس کے سینے سے لگ گئ۔پل بھر کو وہ ماشی کو دیکھتا رہا پھر اسے خود سے جدا کر دیا۔اور سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
“کیا کروں بہت ڈر لگتا ہے جب بھی کوئی میری طرف غلط نیت سے بڑھتا ہے۔پر اب آپ میرے ساتھ ہیں۔۔،،ماشی اس کی سوالیہ نظروں کو سمجھ کر بولی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر بھرے ہوئے لہجے میں بولی۔
“اب مجھے کسی سے بھی ڈر نہیں ۔،،وہ اس کے ہاتھوں کو آنکھوں سے لگا کر رو رہی تھی۔
وہ بے بسی سے اسے دیکھتا رہا پھر اس کےمنہ کو اپر کر آنسوں صاف کرتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا۔اس کا آنسوں ماشی کے ہاتھ پر گرا تو ماشی نےپریشان ہو کر اسے دیکھا پتا نہیں وہ کیوں رو رہا تھا۔
ماشی نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا.
“مرد روتےاچھے نہیں ،،ماشی نے اس کو سرگوشی کی تو اس کی آنکھیں مسکرا دی۔
اور وہ ماشی کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کی طرف چلنے لگا۔ماشی اس کے ساتھ چلتے ہوئے اسے دیکھ کر مسکرا دی۔۔وہ منہ سے نہیں آنکھوں سے محبت کا اظہار کر رہے تھے۔
وہ اسے ہوسٹل کے آگے اتار کر اسے دیکھنے لگا۔ماشی نے اسے محبت بھری نظروں سے دیکھ کر مسکرا دی۔جب بھی کوئی مصیبت آتی تھی وہ بھول جاتی تھی اسے اللہ پہ یقین تھا کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے۔کیا پتا اس میں کوئی بہتری ہو۔کیا پتا۔۔؟
_________*******_______
آج بہت دونوں بعد سفر واپس آیا تھا شگفتہ اس کے قدموں میں بیچھ گئ تھی
طرح طرح کے پکوان بنادئیے تھے اس کی پسند کے مطابق تیار ہوئی تھی۔پہلی بار اس نے منزہ کے ٹریک کو اپنایا تھا۔
“سفر میں کیسی لگ رہی ہوں۔،،سفر نے حیران ہو کر شگفتہ کو دیکھا کیونکہ آج تک شگفتہ نے کبھی نہیں پوچھا تھا۔
“کیا بات ہے آج میری بیوی بڑی بدلی بدلی لگ رہی ہے آپ کو کب سے پوچھنے کی ضرورت پڑھ گئ۔،،سفر اس کے پاس آکر بولا شگفتہ اسے محبت بھری نظروں سے دیکھنے لگ گئ۔اور سفر کے ہاتھ تھام لئے
“سفر مجھے نہیں پتا ہمارا ساتھ کب تک کا ہے پر میری سانسیں جب تک چل رہی ہیں میں آپ سے محبت کرتی رہوں گی ۔۔،،شگفتہ کہتے ہی سفر کے سینے سے لگ گئ اس کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئےسفر کے چہرے پر بے بسی آ گئ اسے خود سے نفرت ہونے لگی تھی شگفتہ بہت کمزور ہو چکی تھی۔وہ آج اس سے اپنے اور سعدیہ کے بارے میں بات کرنے والا تھا۔
“شگفی میں کیسے بتاؤں تمہیں میں۔ تمہارا گناہگار ہوں۔غصے میں آکے میں نے تمہاری زندگی کیوں خراب کرنی چاہئی پر اب نہیں ہم ساتھ رہیں گے تمہارے حصے کی سچی محبت تمہیں دوں گا اب میں تمہیں سب کچھ بتادوں گا۔،،سفر شگفتہ کے گرد بازو حائل کر کے سوچنے لگا۔
“شگفتہ۔م۔۔میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔،،سفر اسے خود سے جدا کر کے اس کے آنسوں صاف کرتے ہوئے بولا۔
“یہاں بیٹھو۔۔۔۔۔،،سفر اسے بیٹھا کر اس کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
“شگفتہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی میں شروعات کہاں سے کروں پر وعدہ کرو تم میرا ساتھ دو گی۔،،سفر نے ہاتھ آگے بڑھایا۔شگفتہ نے سفر کے ہاتھ میں اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر ہاں میں سر ہلا دیا
“شگفتہ میں نے تمہیں دھوکہ دیا ہے۔میں پہلے سے شادی شدہ ہوں میرے چار بچے ہیں ج۔جس دن ت۔۔تم۔۔۔۔۔۔جس دن ہوسپٹل میں تھی اسی دن سعدیہ بھی ہوسپٹل میں تھی۔۔چوڑواں ب۔۔بچوں کو پیدا کیا ہے۔میں سعدیہ کو نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ میں اس سے م۔۔۔مم۔محبت کرتا ہوں۔،،سفر اس کے ہاتھوں کو دیکھ کر بول رہا تھا۔
“پر شگفتہ میں تم سے بھی محبت کرنے لگا ہوں محبت تو پہلے سے ہی تھی پر
,,وہ دو منٹ کو رکا اور شگفتہ کا چہرا دیکھنے لگا اس کا چہرا بے تاثر تھا
“میں صائمہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا اسی لیئے تم سے شادی کر لی کیونکہ م۔۔میں چاہتا تھا ماما کو میری پسند کا احساس ہو جائے اور صائمہ کا ذکر چھوڑ دیں پر جب وہ تمہیں کچھ کہتی تھی تو مجھے غصہ آتا تھا۔دل ہل جاتا ہے مجھے پہلے سمجھ نہیں آتی تھی پر اب سمجھ گیا ہوں مجھے تم سے محبت ہے۔
پہلے میں تمہیں طلاق دے دینا چاہتا تھا سعدیہ کو گھر لا کے پر اب مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے آئی لو یو ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔،،سفر کہ کر اٹھ گیا۔
“مجھے پتا ہے سفر آپ کی شادی کے بارے میں بہت محبت کرتےہو آپ دونوں ایک دوسرے سےکو۔ یونیورسٹی میں ایک ساتھ پڑھتے تھے کچھ غلطیوں کی وجہ سے سعدیہ شادی سے پہلے۔،،وہ ایک پل کو روکی اور سانس بحال کر کے پھر بولنے لگی۔
دس سال پہلے تم دونوں نے کوٹ میرج کی تھی۔اور لندن چلے گئے تھےسب کو یہ لگتا تھا آپ پڑھنے گئے ہیں پر آپ وہاں جاکے اپنی زندگی جینے لگے واپسی پہ آپ نے اپنے گھر والوں کو شادی کے بارے میں نہیں بتایا تھا پر بات کی تھی وہ نہیں مانے ماما کو سعدیہ کے ناز نخرے پسند نہیں تھے۔میں سب جانتی ہوں اور آپ کی غلطی نہیں ہے آپ نے اپنی محبت کے لیئے یہ سب کیا
اب میں کیا کر سکتی ہوں اپنی محبت کے لیئے۔،،شگفتہ سفر کی ٹائی اتارتے ہوئے بولی سفر نے حیرانگی سے اسے دیکھ رہا تھا
“تمہیں پتا تھا تو مجھ سے کبھی ذکر کیوں نہیں کیا۔،،سفر نے اس کو کاندھوں سے پکڑ کر پوچھا۔شگفتہ اس کے سوال پر چپ رہی۔
“شگفتہ میں چاہتا ہوں کہ تم میں اور سعدیہ ایک ساتھ رہیں۔،،سفر شگفتہ کو سینے سے لگا کر بولا۔
“کیا سعدیہ مان جائے گی۔،،شگفتہ نے اس سے الگ ہو کر پوچھا۔
“پتا نہیں۔میں اس سے بات کروں گا۔،،سفر سنجیدگی سے بولا۔شگفتہ سر ہلا کر جانے لگی تو سفر نے اس کی ساڑی کا پلو پکڑ کر پیچھے کو کھینچ لیا۔وہ شرارت سے اسے دیکھنے لگا
“س۔سفر کوئی آ جائے گا۔،،شگفتہ نے سر جھکا کر کہا۔سفر اسے چھوڑ کر دروازے کی طرف بڑھ گیا اور دروازے کی کنڈی لگا دی۔واپسی پہ ہونٹوں پر مسکراہٹ سجا کر اس کی طرف بڑھا شگفتہ کا دل دھڑکنے لگا۔سفر نے اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا اور بیڈ پر لیٹا کر اس کے پاس بیٹھ گیا۔شگفتہ اس کے چہرے کو دیکھنے لگی اس کاہاتھ بے اختیار سفر کے چہرے پر جاٹکا۔سفر نے اس کی انگلیوں کوچوم لیا
وہ اس پر جھکا ہی تھا کہ اس کا فون بجنے لگا۔
“افففف کیا یار ڈسٹرب کر دیا۔ایک منٹ جان۔،،وہ اپنا فون پینٹ کی جیب سے نکال کر بولا جیسے ہی نظر سکرین پر پڑھی وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
“ایک منٹ سعدیہ کی کال ہے بولنا نہیں۔،،وہ گھبرا کر کھڑا ہو گیا شگفتہ سر ہلا کر رہ گئ۔
“جی جی میری جان۔۔،،سفر شیشے میں دیکھ کر اپنے بال ٹھیک کرتےہوئے بولا شگفتہ کا دل تڑپ گیا تھا۔
“اوہ ایم سوری جان میں ابھی آرہا ہوں غصہ نہ کرو پلیز میں دو منٹ میں تمہارے پاس ہوں گا۔،،وہ شگفتہ کو بائے بول کر باہر بھاگ گیا۔فون ابھی بھی اس کے کان کے ساتھ تھا
شگفتہ خود پر اور اپنے دھڑکتے دل کو سمبھال کر روتے ہوئے بچے کے پاس جا بیٹھی۔
جو بھی تھا پر وہ محبت تو کرتی تھی سفر سے اور جیسے وہ سعدیہ کے ایک فون پر بھاگ کھڑا ہوا تھا اس سے شگفتہ کو پتا چل گیا تھا اگر کبھی چھوڑنے کی نوبت آئی تو سفر شگفتہ کو چھوڑے گا۔پر پھر بھی وہ سفر سے محبت کرنا نہیں چھوڑ سکتی تھی۔
_____****
“یار اس رات کیا ہوا تھا۔کون تھیں وہ ۔،،ثاقب اور افنان سوئمنگ پول میں نہا رہے تھے تو ثاقب نے پر سوچ انداز میں پوچھا۔
“ہاہاہاہا کیوں بھائی دل آ گیا کیا۔،،افنان تیرتا ہوا ثاقب کے پاس آ گیا۔
“چپ کرو اور سیدھی طرح بتاؤ ۔،،ثاقب نے غصے سے کہا
“یار یونیورسٹی میں پڑھتی ہے آسام کی فرینڈ ہے۔اور میری دوشمن ۔،،آخری بات افنان نے دانت پیس کر کہئی تھی۔
“دشمن وہ کیسے۔۔،،ثاقب جوس کا گلاس منہ کو لگاتے ہوئے بولا۔
“اس نے مجھے تھپڑ مارا۔آسام سے بھی مروایا اور اس ہارش راجپوت سے بھی۔،،افنان اپنی غلطی بتائے بغیر بولا
“واٹ تم نے ضرور کوئی غلطی کی ہو گی۔،،ثاقب نے افسردگی سے پوچھا
“نہیں بڈی وہ اتنی خوبصورت ہے کہ آسام بھائی بھی پھسل گیا اور میں نے تو بس اس معروش کو دیکھا ہی تھا۔،،افنان معصومیت سے بولا۔
اس سے
پہلے افنان کچھ اور بولتا ثاقب نے اس کی بات کاٹ دی۔
“تو تم نہ دیکھتے۔ دوسروں کی چیز پر ڈاکا ڈالنا چھوڑا نہیں۔ اور لڑکیوں پر بھی نہیں دیکھا تھا میں نے تمہیں پارٹی میں ۔،،ثاقب اس کا کان کھینچ کر بولا۔
“ہاہاہاہاہاہاہا۔۔زندگی کا مزہ ایسے ہی آتا ہے۔کل آپ کو کمال کی جگہ لے کے جاؤں گا۔،،افنان بالوں میں تولیہ پھیرتے ہوئے بولا۔
“پر کہاں۔،،ثاقب اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
“واہ کیا باڈی بنائی ہوئی ہے بڈی۔،،افنان ثاقب کے سینے پر مکا مارا کر کہا
“ہاہاہاہا تھینک یو چلو اب تم جاکے سو جاؤ بہت دیر ہو گئ ہے۔،،ثاقب شرٹ پہن کر بولا۔
“میں اب بچہ نہیں ہوں یار۔،،افنان چلتے ہوئے بولا
“اور بڑے بھی نہیں ہوئے ویسے حیرانگی ہوتی ہے تم ہر سال پاس کیسے ہو جاتے ہو۔،،ثاقب نے اس کا مذاق اڑایا
“منی سے۔،،افنان مسکرا کر آنکھ مارکر کہا
“گڈ نائٹ بھائی۔،،آسام ان کے پاس سے گزرتے ہوئے بولا۔
“سنو سنو تم میرے کمرے میں آؤ ابھی۔،،وہ آسام کو روک کر بولا۔
“اوکے برو ابھی آتا ہوں۔،،آسام،افنان کو اگنور کر رہا تھا۔اور فرق افنان کو بھی نہیں پڑھا تھا وہ بھی اپنے فون پر لگا ہوا تھا۔
آسام اپنی کتابیں رکھ کر ثاقب کے کمرے میں چلا گیا
“بھائی میں بعد میں آتا ہوں۔،،آسام ،افنان کی موجودگی کو پاکر جانے لگا۔
“سنو آسام چپ کر کے میرے سامنے بیٹھ جاؤ۔،،ثاقب قدرے غصے سے بولا تو آسام صوفے پہ بیٹھ گیا وہ دیوار کو گھورنے لگا اور افنان بیڈ پر لیٹا فون کو گھوما رہا تھا ثاقب نے دونوں کو نوٹس کیا
” یار تم دونوں ایک لڑکی کے پیچھے آپس میں ناراض ہو آسام میں نے تم سے ایسا کبھی ایکسپٹ نہیں کیا تھا کہ تم ایک لڑکی کے پیچھے اپنے چھوٹے بھائی کو مارو گے۔،،ثاقب چلتا ہوا افنان کے پاس گیا اور اس کے ہاتھ سے فون لے لیا۔
“افنان کی غلطی ہے یہ ہر وقت اسے تنگ کرتا ہے جب وہ اس سے بچ
کر رہتی ہے تو یہ کیوں اسے تنگ کرتا ہے اور میں نے اس پہ ہاتھ تب اٹھیا جب اس نے اتنے گھٹیا الفاظ یوز کئے۔۔،،آسام کے لہجے میں غصہ امڈ آیا تھا۔
“اور میں نے اسے کتنی بار سمجھایا کہ سدھر جائے۔اس نے پتا بھی ہے کیا کیا۔کیاہے ہر غلط کام یہ کرتا ہے۔،،آسام نے افنان کی طرف اشارہ کر کے کہا۔افنان کمنگی سے مسکرا دیا۔
“کیا کیا ۔کیا ہے،،ثاقب سنجیدگی سے بولا
” اس لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی یہاں تک کہ اسے اٹھوا لیا۔۔،،آسام نے غصے سے افنان کو دیکھا۔
“اور آگے بھی بولو سامی بےبی۔تمہاری محبوبہ کے میں کتنا پاس آیا ہوں پتا ہے تمہیں۔افففف۔کیا۔۔,،افنان کمنگی سے بولا۔آسام غصے میں آ گیا اور اس کی بات کاٹ دی
“افنان زبان کو لگام دو۔وہ میری محبوبہ نہیں ہے اور دوسری بات اس کی جگہ کوئی بھی لڑکی ہوتی تو بھی میں یہ ہی کرتا افنان پلیز سدھر جاؤ اور لڑکیوں کو کھلونا سمجھنا بند کرو تمہاری مہربانی ہوگی۔،،آسام ہاتھ جوڑ کر بولا اور غصے سے باہر چلا گیاثاقب جو ان کی صلح کروانا چاہتا تھا حیران ہو کر ان دونوں کو دیکھتا رہا افنان ڈھٹائی سے ہنستا رہا پر آسام غصے سے تپ گیا تھا۔
“افنان تم اتنے بگڑ گئے ہو آئی ڈونٹ بی لیو دس لڑکی کو اٹھوا لیا ۔،،ثاقب نے سنجیدگی سے کہا اور نفی میں سر ہلا دیا۔
“یار کہاں بگڑا ہوں۔۔۔،،افنان سکرین پر ہاتھ چلاتے ہوئے بولا۔
“بس یہ حسینائیں میری جان لے لیتی ہیں۔اچھا برو اب میں جاتا ہوں۔،،افنان اٹھ کر چلا گیا۔ثاقب پریشانی کے عالم میں اسے دیکھتا رہا۔
__________***********________
“میں وہاں نہیں رہوں گی سفر۔شگفتہ بھی وہاں موجود ہو گی تو میں برداشت نہیں کر سکوں گی اس کو یا تو اسے طلاق دے دو تو آؤں گی۔،،سعدیہ سے سفر نے بات کی تو وہ تپ گئ تھی
“سعدیہ میری جان میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ اور شگفتہ کو جیسا میں کہوں گا وہ ویسا کرے گی تم فکر نہ کرو۔ہمارے درمیان وہ نہیں آئے گی اور ہاں وہ اچھی ہے تم اس کے ساتھ گھل مل جاؤ گی،،سفر نے اسے منانا شروع کردیا تھوڑی سی محنت کے بعد وہ مان گئی تھی سفر نے شگفتہ کو کال کی تو اس نے حلیمہ بیگم سے بات کی تھوڑی سی حیرانگی کے بعد وہ
خوشی سے جھوم اٹھی تھی
اور تیاریاں کرنے لگی تھی۔
شگفتہ بھی سعدیہ کے ویلکم کی تیاریوں میں مصروف ہو گئ تھی دل تو بھرآتا تھا کئی بار آنکھیں بھی بھر آئی پر پھر وہ مسکرا کر تیاریاں کرنے لگی تھی۔سفر نے اس کی محبت کا امتحان لیا تھا یا اللہ نے اس کے صبر کا پر وہ دونوں کے امتحان میں کامیاب ہوتی نظر آ رہی تھی
“شگفتہ جلدی سے کمرہ سجا دو اور ہاں یہ بیڈ شیٹ ڈالنا۔،،شگفتہ اپنے بچے کو دودھ پلانے لگی تھی جب حلیمہ نے آ کر کہا تھا۔وہ سر ہلا کر بچے کو لٹا کر بیڈ شیٹ پکڑ کر اپنے سامنے والے کمرے میں چلی گئی۔
اور کام والی کے ساتھ مل کر سعدیہ اور سفر کے لیئے کمرہ سجانے لگی تھی۔پھر دونوں بچوں کا کمرہ سیٹ کیا ان کے لیئے وہ بہت سارے کھلونے لائی تھی چاکلیٹ وغیرہ بھی ان کے کمرے میں رکھ دی ۔
اس کام سے فارغ ہو کر وہ کیچن میں چلی گئی۔شام کا وقت تھا جب دروازے پر گاڑی آرکی اس کی دھڑکنیں بھی رک گئ تھی۔
ہاتھ کپکپا گئے وہ اپنے کمرے سے باہر آ گئ تھی ہاتھوں کی کپکپاہٹ کو چھوپانے کے لئے اس نے اس نے دوپٹہ پکڑ لیا۔
سعدیہ نے ایک بچے کو اٹھایا ہوا تھا اور ایک کو سفر نے۔دو بڑے بچے پیچھے سے آئے تھے۔
“سویٹ ٹیچر۔۔،،بڑے دونوں بچے شگفتہ کو دیکھ کر اس کی طرف بھاگے تھے۔
شگفتہ نے نچے بیٹھ کر ان دونوں کو گلے لگایا۔
“میرے دونوں لیٹل ہیرو کیسے ہیں۔،،شگفتہ ایک دس سالہ اور سات سالہ بچے کو گلے سے لگا کر پیار سے بولی سب حیران ہو کر دیکھنے لگے۔شگفتہ ان کی حیران نگاہوں کو دیکھ کر سمجھ گئ
اور بغیر جواب دیئے کھڑی ہو گئ۔
“موم یہ ہماری سنگنگ ٹیچر ہیں جن سے آپ ملنا چاہتی تھی۔جن کی آواز آپ کو بہت پسند ہے۔،،دس سال کے بچے نے کہا سعدیہ کے رنگ آکر چلے گئے اس نے آنکھیں دیکھائی تو بچے چپ کر کے کھڑے ہو گئے ۔
“ویلکم سعدیہ۔،،شگفتہ نے مسکرا کر کہا اور سفر پر نظر ڈالی وہ بچے کو سیدھا کر رہا تھا۔
“کیا میں اسے اٹھا لوں۔،،وہ سفر کے پاس والے بچے کو دیکھ کر معصوم بچے کی طرح بولی۔
سفر نے شگفتہ کی طرف بچے کو بڑھا دیا۔
“سعدیہ چلو میرے ساتھ میری بچی کتنی تیاریاں کی تھی
میں نے تمہارے لئے تمہاری پسند کا ہر پکوان بنوایا ہے۔،،حلیمہ محبت سے بولی تو شگفتہ نے ان کو حیرانگی سے دیکھا۔
“چلو سفر ۔۔،،سعدیہ چلتے چلتے مڑی سفر شگفتہ کو اور بچے کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا سعدیہ کے لہجے میں کچھ تھا جس وجہ سے شگفتہ نے بچہ سفر کو دیا تو وہ آگے بڑھ گیا شگفتہ دیکھتی ہی رہ گئ۔
_________*******_________
” ماشی پتا ہے میرے خواب میں میرا شہزادہ آیاتھا۔میرا فہد افففف کتنا ہوٹ لگ رہا تھا جیسے ہی اسے گلے سے لگایا تو آنکھ کھول گئ۔،،عشرت اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔
“اے لڑکی اٹھ کے نماز پڑھ لو ویسے واقع ہی تمہارا ہیرو مسلمان نکلا۔،،ماشی حجاب کرکے جائے نماز بچھانے لگی عشرت اٹھ کر وضو کرنے چلی گئ۔
“یا اللہ میری حفاظت کرنا ہر روز میں تم سے بس اپنی عزت کی اور محبت کی سلامتی مانگتی ہوں۔مجھے مایوس نہ کرنا میرے مولا۔
اسے نا محرم سے محرم بنا دے میرا۔،،ماشی منہ پہ ہاتھ پھیر کے کھڑی ہو گئی۔ہر روز کی طرح وہ آج بھی وہ ہی دعا مانگ رہی تھی پتا نہیں قبول کب ہونی تھی یہ وہ نہیں جانتی تھی۔
___________************____________
“افنان یونیورسٹی تو اچھی ہے تمہاری اندر سے کیسی ہے۔،،آج ثاقب اس کے ساتھ آیا تھا وہ لوگ یونیورسٹی کے باہر لینڈکلاؤوزر میں بیٹھے تھے
“اندر سے بہت رنگین ہے۔،،جنید نے آنکھ مار کر کہا
“وہ دیکھ بھائی تیری شیرنی۔۔،،ساگر نے افنان کو ماشی کی طرف متوجہ کیا تو افنان نے ثاقب کی موجودگی کا احساس دلوایا۔
“مطلب آسام یوں ہی نہیں روتا یہ بگڑ چکا ہے۔،،ثاقب نے افنان کو دیکھتے ہوئے سوچا۔
“افنان کہاں دھیان ہے تمہارا۔۔،،ثاقب اس کے کاندھے پر تھپکی دے کر بولا۔افنان پتا نہیں کن خیالات میں گم تھا چونک کر ثاقب کو دیکھنے لگا ثاقب نے اس کی آنکھوں میں کچھ محسوس کیا تھا پر افنان گاڑی سے اتر گیا ۔
“اوکے برو ہم چلتے ہیں واپسی پہ میں آسام کے ساتھ آ جاؤں گا۔،،وہ چابی ثاقب کی طرف اچھال کر بولا۔
“وہ تمہارا خون پی جائے گا۔بہت غصے میں ہے نہ شیر کے منہ میں ہاتھ دے،،ثاقب نے آواز لگائی
“ہاہاہاہاہاہا بھائی ہے وہ میرا پیارا لونگ ،کیرنگ مجھ سے زیادہ دیر ناراض نہیں رہ سکتا ہے۔بائے جگر۔،,افنان الٹے قدم چلتا ہوا بولا ثاقب مسکرا دیا اور گاڑی سٹارٹ کرنے لگا اتنے میں آسام کی کار آرکی۔
“آسام افنان کو ساتھ لیتےآنا میں کسی کام سے جا رہا ہوں۔،،وہ بول کے چلا گیا آسام سن گلاسز اتار کر تھوڑی دیر بیٹھا رہا پھر سانس لے کر گاڑی سے اترا اور گاڑی لاک کرکے چلا گیا۔
___________************____________
“ماشی تم اس افنان سے بچ کے رہا کرو۔۔،،ہارش نے ماشی کو بولا۔
“تمہیں لیکچر دینے کی ضرورت نہیں ہے۔،،ماشی نے کیمیکلز میکس کرتے ہوئے سرگوشی کی
“حد ہے ویسے تمہاری بھلائی کی بات کرو تو بھی تمہیں اچھا نہیں لگتا۔،،ہارش نے غصے سے سرگوشی کی
“چپ چاپ اپنا کام کرو ورنہ پروفیسر کو بتا دوں گی۔،،ماشی نے دھمکی دی تو وہ چپ چاپ کھڑا ہو گیا۔
“آسام۔۔،،ہارش نے کافی فاصلے پر ایکسپیریمنٹ کرتے آسام کو آواز لگائی۔پر اس نے سنی نہیں۔
“سامی۔۔،،ہارش نے پھر سے سرگوشی سے آواز لگائی۔اس بار آسام نے اسے دیکھا تھا۔تو ہارش نے اسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا وہ پروفیسر کو دیکھنے لگا پروفیسر اپنے کام میں مصروف تھا تو آسام دبے قدموں سے چلتا اس کے پاس آیا۔
“جی بولو کیا ہے۔،،آسام اس کے پاس آکر کھڑا ہو کر بولا۔
“مجھے اس ماشی سے ڈر لگتا ہے یار تم یہاں درمیان میں کھڑے ہو جاؤ۔،،ہارش خوفگی سے بولا توماشی نے غصے سے اسے گھورا۔آسام نے آنکھیں دیکھائی
“,کیا یار تم اپنے پیارے ہینڈسم گڈ لوکنگ شریف معصوم دوست کے لئیے اتنا بھی نہیں کر سکتے۔،،ہارش رونی شکل بنا کر بولا۔ماشی اور آسام دونوں کی ہنسی چھوٹ گئی۔
“ہس لو ہس لو۔میں ابھی پروفیسر کو بتاتا ہوں کہ تم دونوں باتیں کر رہے ہو۔۔سر۔،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتا آسام نے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا۔ماشی نے اس کے پاؤں پر زور سے پاؤں مارا۔وہ بے چارہ کہرا کے رہ گیا۔
“مس ملک۔یہ کیاکر رہی ہیں آپ غلط کیمکلز میکس کر رہی ہیں چھوڑیں،،آسام ،ماشی کے ہاتھ سے دونوں کیمکلز پکڑ کر رکھتے ہوئے بولا۔
“دھیان کہاں ہے آپ کا۔ٹھیک تو ہیں آپ۔،،آسام اسے فکر مندی سے دیکھ کر بولا۔ماشی نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
“دھیان سے کام کریں۔،،وہ پھر سے بولا تھا۔ماشی نے اسے دیکھا اور نظریں جھکا لی۔
“میرا ہو گیا میں جا رہا ہوں مجھے کیمکلز میں گلنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔،،ہارش گلوز وغیرہ اتار کر چلتے ہوئے بولا۔آسام بھی جانے لگا۔
“مسٹر رندھاوا۔،،ماشی نے قدرے غصے سے اسے آواز دی وہ واپس مڑا
“میں ہارش کے سامنے کچھ نہیں بولی بٹ آئندہ آپ کو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اور اس طرح تو بلکل بھی نہیں امید ہے آپ سمجھیں گے۔،،ماشی کی بات سن کر وہ ہاں میں سر ہلا کر چلا گیا۔
ماشی بھی اپنا کام مکمل کر کے باہر چلی گئی۔
“لوفر ہر وقت فارغ پھرتا رہتا ہے پتا نہیں اسے میڈیکل میں کیسے ایڈمیشن مل گیا۔انہہ۔،،ماشی سیڑھیوں سے اتر رہے افنان کو دیکھ کر سوچنے لگی اور سیڑھیاں چڑھنے لگی۔افنان نے بھی اس کو دیکھ لیا تھا۔اسی لیئے وہ پہلی سیڑھی پر رک کر اسے دیکھنے لگا افنان کے چہرے پر جان دار سمائل نمودار ہو گئ تھی ماشی کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے
ماشی جلدی سے اس کے پاس سے گزرنے لگی پر اس نے ماشی کا دوپٹہ پکڑ لیا۔
“چھوڑو بد تمیزی کی حد۔۔،،وہ مڑی اور افنان کے بینڈ میں پھنسے ہوئے ڈوپٹے کو دیکھ کر چپ ہو گئ۔افنان نے بھنورے آچکائے اور مسکرا کر ہاتھ اوپر کر دیا
“دیکھ لو تمہارا ڈوپٹہ کتنا سمجھ دار ہے اسے مجھ سے محبت ہو گئی ہے،،افنان ،ماشی کے پاس ہو کر سرگوشی کرنے لگا ماشی اس کی سانسوں کی تپش محسوس کرتے ہوئے پیچھے ہٹ گئ۔
“کسی نے تمیز نہیں سیکھائی۔،،ماشی غصے سے غرائی۔افنان نے مسکرا کے نفی میں سر ہلا دیا ماشی تپ گئ اور
ڈوپٹہ چھوڑ کر چلنے لگی۔
“ارے یہ تو چھڑوا لو۔،،افنان اس کے پیچھے چلتے ہوئے بولا افنان نے ڈوپٹے کو مظبوطی سے پکڑ لیا۔ماشی نے دو تین بار ڈوپٹہ کھینچا پر نا کام رہی۔جو بھی ان کے پاس سے گزرتا دیکھ کر ہس دیتا۔
“افنان میرا ڈوپٹہ چھوڑو میں ابھی ایسے ہی پرنسپل کے پاس چلی جاؤں گی۔,,وہ اپر لائبریری کی طرف جارہی تھی وہ کوئی کوئی اسٹوڈنٹ تھا۔
“چھڑوا لو میں نے منع تھوڑی کیا ہے۔،،وہ ایک سائڈ پر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بولا ماشی نے نفرت بھری نظروں سے اسے دیکھا۔پر وہ مسکرا رہا تھا۔اس نے ماشی کے ہاتھ کو پکڑ لیا تھا
“ایسے نہ مجھے تم دیکھو سینے سے لگا لوں گا۔،،افنان رومنٹک انداز میں گنگنایا ماشی کو سر سے پاؤں تک آگ لگ گئ وہ
دوپٹہ کھینچنے لگی۔پر اسی پل افنان نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔
“مت دور جایا کرو مجھ سے تمہارے بغیر کچھ اچھا نہیں لگتا تم پاس ہوتی ہو تو سکون ملتا ہے۔،،افنان اس کے چہرے کو چھونے کی کوشش کرتے ہوئے بولا۔
ماشی نے ایک جھٹکے سے اسے ایک طرف دھکیل دیا اور ڈوپٹہ چھڑوانے لگی۔پر افنان نے جیب سے الفی نکال کر ہاتھ پر گرائی دوپٹہ ہاتھ کے ساتھ چمٹ گیا ماشی کی حیرانگی سے آنکھیں پھٹ گئی۔
“آہ۔،،جلن کے مارے اس کی آہ نکل گئی پر اس کے ہونٹوں پر وہی مسکراہٹ تھی۔
“بے واقوف انسان یہ کیا کیا ہے تم نےپاگل ہو کیا۔،،ماشی اس کا ہاتھ پیچھے کرنے لگی پر ہاتھ پیچھے ہٹ نہیں رہاتھا
“ہاں تم نے پاگل کر دیا ہے۔،،وہ ڈھٹائی سے بولا
“تم تمہارا دماغ خراب ہے کیا جاہل بدتمیز۔سمجھتے کیا ہو تم خود کو ایسے کر کے تم میری نفرت کا شکار بن رہے ہو۔،،ماشی اسے دھکا دے کر بولی۔
“میں کون سا تم سے محبت کرتا ہوں تمہیں ذلیل کرنے میں بہت مزہ آتا ہے۔ہاہاہاہا،،افنان اس کو اپنی طرف کھینچ کر بولا
“تم مرد کہلانے کے لائق ہی نہیں ہومجھے بے عزت کرنے کے لیئے کتنے گر گئے ہو تم چھچ۔،،ماشی کی آنکھیں آنگارے برس رہی تھی۔
“افنان یہ کیا بد تمیزی ہے۔،،اس سے پہلے افنان کچھ بولتا آسام اور ہارش آگئے تھے۔افنان نے ماشی کو چھوڑ دیا
آسام اس کی طرف بڑھا۔
“آخر کتنی بار سمجھاؤں
تم کو یہ کیا کیا تم نے بس کرو یار۔،،آسام اس کی حرکتوں سے تنگ آچکا تھا ماشی اس بار ڈری نہیں تھی وہ افنان کو نفرت اور غصے سے دیکھتی رہی۔
“سامی بےبی یہ مجھ سے دور جاتی ہے اسی لیے میں نے یہ کیا تمہاری قسم۔۔،،افنان معصومیت سےہس کے بولا ماشی کو اس کی معصومیت میں بھی کمنگی نظر آرہی تھی۔
“اب تم کیا کرو گی ڈوپٹہ اتارو گی یا اپنے افنان کو گلے لگاؤ گی مس معروش ملک۔،،افنان نے ماشی کو آنکھ مارکر
“عشو پلیز زرا ماشی کی چادر اپر لے آؤ لائبریری کے پاس ہیں ہم جلدی آؤ۔،،ہارش نے عشرت کو کال کی تو وہ تھوڑی دیر میں ان کے پاس تھی اس کا سانس بھولا ہوا تھا۔
ماشی نے ساری چادر اپنے اپرگرا لی۔افنان سینے پہ ہاتھ باندھے جھک کر اس کے چہرے کودیکھا ماشی نے ڈوپٹہ افنان کے اپر پھینک دیا افنان نے آنکھیں بند کر کے کھولی۔
“شاید مجھ سے زیادہ ضرورت تمہیں ہے اس کی،،ماشی غصے سے بولی اور لائبریری کی طرف بڑھ گئ۔ہارش اور عشرت کی ہسی نکل گئی تھی۔
“افنان میرے ساتھ چلو۔،،آسام اسے کھینچ کر لے گیا۔عشرت اور ہارش لائیبریری چلے گئے۔
“افنان کیوں تم اس لڑکی کے پیچھے لگے ہوئے ہو چھوڑ دو اس کا پیچھا خدا کا واسطہ تجھے۔،،آسام نے غصے سے کہا۔اور چلا گیا۔افنان ڈوپٹے کو دیکھ کر مسکرا دیا
“یہ کس کا دوپٹہ ہے ایک منٹ معروش ملک کا،،انوشکا کرنٹ کھا کر بولی۔
افنان نے ساری بات سنا دی اور ڈوپٹے کو دیکھنے لگا۔
“انوشکا اس کی حرکتیں مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی کہیں اسے اس سے۔،،ونیت نے کہا تو انوشکا نے اسے گھورا۔
“افنان تمہیں اس لڑکی سے محبت ہو گئی ہے کیا۔،،انوشکا اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے بولی۔
“نہیں یار وہ اس لائک ہے کیا افنان رندھاوا اس کو محبت کرے بس تنگ کرنے کی حد۔ تک ٹھیک ہے،،افنان ڈوپٹے کو ہاتھ پہ فولڈ کرتے ہوئے بولا۔اور چلا گیا۔
__
___________************____________
“عشرت میرا دل اب یہاں بلکل بھی نہیں لگتا۔پتا نہیں کب یہ دو مہینے گزریں گے۔،،فہد بیڈ پر گرا ہوا تھا اور عشرت سے بات کر رہا تھا۔
“تو آجاؤ نہ ملنے۔،عشرت چہک کے بولی
“بے واقوف عورت ماموں میری جان لے لیں گے۔،،فہد اٹھ
بیٹھ گیا۔
“ماما سے بات ہوئی تھی پتا ہے کیا کہ رہی تھی۔،،فہد کے لہجے میں خوشی کے ساتھ ساتھ شرارت بھی تھی۔
“وہ کہ رہی تھی اگلے سال انہیں پوتا یا پوتی چاہئے۔،،فہد نے شرارت سے کہا تو عشرت شرما کر سر جھکا گئ۔
“شرماتے ہوئے بہت پیاری لگتی ہو۔،،فہد نے لہجے میں محبت بھر کے کہا۔
“لیکن آپ کو کیسے پتا چلا۔،،عشرت حیران ہو کر بولی۔
“بس چل گیا پتا اب میں تھوڑا سا کام کر لوں۔اور اللہ حافظ،،فہد کال کاٹ کر اٹھ کر کام کرنے لگ گیا رضا کہیں گیا ہوا تھا۔اسی لیئے فہد کو خود سارا کام کرنا پڑھا تھا۔
