Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 34)

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry

بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں

کہ اُن کے خط انہیں لوٹا رہے ہیں

نہیں ترکِ محبت پر وہ راضی

قیامت ہے کہ ہم سمجھا رہے ہیں

یقیں کا راستہ طے کرنے والے

بہت تیزی سے واپس آ رہے ہیں

یہ مت بھُولو کہ یہ لمحات ہم کو

بچھڑنے کے لیے ملوا رہے ہیں

تعجب ہے کہ عشق و عاشقی سے

ابھی کچھ لوگ دھوکا کھا رہے ہیں

تمہیں چاہیں گے جب چھِن جاؤ گی تو

ابھی ہم تم کو ارزاں پا رہے ہیں

کسی صورت انہیں نفرت ہو ہم سے

ہم اپنے عیب خود گِنوا رہے ہیں

وہ پاگل مست ہے اپنی وفا میں

مری آنکھوں میں آنسو آ رہے ہیں

دلیلوں سے اسے قائل کیا تھا

دلیلیں دے کے اب پچھتا رہے ہیں

تری بانہوں سے ہجرت کرنے والے

نئے ماحول میں گھبرا رہے ہیں

یہ جذبہ عشق ہے یا جذبۂ رحم

ترے آنسو مجھے رُلوا رہے ہیں

عجب کچھ ربط ہے تم سے تم کو

ہم اپنا جان کر ٹھکرا رہے ہیں

وفا کی یادگاریں تک نہ ہوں گی

مری جاں بس کوئی دن جا رہے ہیں

یہ اٹلی کی گرمیوں کی اس شام کی بات تھی جب افنان ایک مال میں وہ شاپنگ کرنے گیا تھا

اور جارج کا رائٹ ہینڈ کاشا اور کچھ آدمی اس کے پیچھے گئے تھے کیوں کہ انہیں اس پہ شک تھا۔جبکہ جارج سے ابھی اس کی ملاقات نہیں ہوئی تھی

“افنان کسی طرح بھی وہاں سے نکلنے کی کوشش کرو ۔،،فہد نے اسے أرڈر دیا تھا

“فہد میں یہاں بری طرح پھنس چکا ہوں۔،،وہ ایک کتاب اپنے منہ کے آگے کر کے کھڑا ہو گیا۔

“افنان میں کچھ کرتا ہوں ڈونٹ وری،،فہد فکر مندی سے بولا۔

“جان من جان من فکر کیوں کر رہے ہو میں بچہ نہیں ہوں تم بس اب دیکھو میں کیا کرتا ہوں،،وہ مسکرا کر بولا

تو اس کی براؤن آنکھوں میں بھی مسکراہٹ آ گئ

وہ کتاب رکھ کر ادھر ادھر دیکھنے لگا تو سامنے ایک لڑکی نظر آئی تو اس نے کوئی ترکیب سوچی اور مسکراتا اس کی طرف بڑھ گیا۔وہ جانتا تھا کاشا کی کمزوری لڑکیوں میں ہے

“ایکسکیوزمی ۔،،وہ سن گلاسز لگاکر اس کے سامنے جا کھڑا ہوابلیک پینٹ اوپر کریم کلر کی شرٹ جس کے دو بٹن کھولے تھے۔بال ماتھے پہ گرے ہوئے گلابی ہونٹوں پہ جان لیوا مسکراہٹ۔

“یہ میری ہیلپ کر سکے گی۔،،افنان نے ہونٹوں کو دانتوں میں دبا کر لڑکی کا جائزہ لیا اٹلی میں بھی ہوتے ہوئے بھی وہ لڑکی شلوار قمیض اور اوپر اسکاف لپیٹے ہوئے تھی۔معصوم سی وہ لڑکی دودھ جیسا رنگ گلابی ہاتھ جن پہ جابجا زخم تھے سفید کلائی جلی ہوئی تھی آنکھیں لال اور اداسی افنان کو ایک منٹ بھی نہیں لگا وہ اس کا جائزہ لے کر سمجھ گیا کہ وہ کن حالات کا شکار تھی۔

“جی کیا کام ہے کچھ چاہئے سر،،وہ بولی۔

“مجھے آپ کی ہیلپ چاہئے کیا آپ میری ہیلپ کر سکتی ہیں۔،،

“جی ضرور۔،،

“وہ دیکھ رہی ہیں سر ان کویہ جوس دے آؤ میرا کزن ہے ناراض ہے مجھ سے آپ اتنی کیوٹ ہیں کہ آپ کی بات مان جائے گا۔،،افنان نے جوس اس کو تھما کر معصومیت سے کہا

“پر

“پر ور کچھ نہیں پلیز پلیز ان کی طعبیت نازک ہے اگر وہ کچھ کھائیں گے نہیں تو زیادہ بیمار ہو جائیں گے,،افنان نے معصوم سی شکل بنا کر کہاتو وہ لڑکی سر ہلا کر چلی گئ افنان کرسی پہ بیٹھ گیا اور اخبار منہ کے سامنے کر کے اس کی آہٹ سے دیکھنے لگا وہ آدمی جوس اٹھا کر منہ سے لگا گیا۔

“یس اسے کہتے ہیں چوہے کا جال میں پھنس جانا چل بیٹا کاش اب پینٹ پکڑ لے ۔لڑکیوں کو استعمال کرنے والے آج ایک لڑکی تمہیں مروائے گی ریڈی ہو جا جگر۔،،وہ مسکراتا ادھر ادھر دیکھتا پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر واش روم کی طرف بڑھ گیا

“ویلکم کاشا،،وہ آدمی اسے دیکھ کر ڈر گیا۔

“کیا ہوا کتوں کی بھڑ میں تو ایک کتا ہی آتا ہے اور مجھے پکڑنے کے لئے تم اتنے کتوں کے ساتھ آیا مجھے ایک فون کر لیتے میں آ جاتا۔اب تمہارا کیا ہو گا چھچ چھچ۔،،افنان آہستہ آہستہ چلتا اس کے پاس آیا

وہ آدمی نہ ہاہر جانے کے لائک رہا تھا نہ واش روم میں۔وہ ٹانگوں کو دبائے کھڑا تھا۔

21

“نامرد دیکھ آج ایک لڑکی نے تمہارا یہ حال کر دیا جنہیں تو کمزور سمجھتا تھا۔آج تم یہاں اس کی وجہ سے اکیلے کھڑے ہو میرے سامنے۔ ،،وہ چلتا اس کے پاس جا کھڑا ہوا۔

“شادن خان تم بھی نامرد انسان ہو لڑکی کا سہارا لیا۔میں جارج کو بتا دوں گا تمہاری اصلیت۔،،وہ واش روم کی طرف بڑھا پر افنان نے ٹانگ اڑا کر اسے گرا دیا۔

“شادن خان تم بہت پچھتاؤ گے۔،،

“شادن خان پچھتاتا نہیں۔تو اب چپ ہو جاؤ۔اور جاؤ بتا جارج کو کیا بتاؤ گے کہ تم نے میرے ساتھ ڈیل سائین کی جو تم لوگوں کا دوشمن ہے پھر سوچو وہ تمہارے ساتھ کیا کرے گا سوچو سوچو،،افنان نے اس کے منہ پہ رومال رکھ دیا اور فون نکال کر بڑی مہارت سے لاک کھولا۔

“وہ خبیث نکل گیا ہے تم لوگ واپس لوٹ جاؤ میں کچھ دیر بعد آتا ہوں۔،،اس نے مہارت سے آواز تبدیل کر کے شاکا کی آواز میں کہا اور وہی ہوا وہ لوگ چلے گئے۔

“ہیلو کام ہو گیا پیچھلے دروازے سے ان لوگوں کو بھیج دو ،،وہ مسکراتا ایک طرف ٹک گیا اور فہد کو کال کرنے لگا۔

“افنان تم نے یہ کیا اگر جارج کے آدمی کو اس طرح اٹھا لیا۔جارج ساری فورس لگا دے گا اپنے آدمی کو ڈھونڈنے میں۔،،فہد نے فکر مندی سے کہا

“جان من ڈونٹ وری کیوں ٹینشن لیتے ہو جلدی سے بریانی بناؤ میں آ رہا ہوں۔،،وہ جان دار مسکراہٹ سے کہتا کال کاٹ کر نیچے بیٹھ کر دیکھنے لگا اسے۔اتنے میں اس کے آدمی کا میسج آیا تو اس نے پیچھے سے آنے کو کہا

اور جب وہ لوگ وہاں سے نکل گئے تو وہ اطمینان سے سیٹی بجاتا سن گلاسز لگاتا باہر نکل آیا۔

“یہاں تم مفت میں کمانا چاہتی ہو ماں باپ تو مر گئے اور تمہیں ہمارے لئے چھوڑ گئے۔،، وہ لڑکی کو بری طرح ڈانٹ لگا رہا تھا۔اور وہ سر جھکائے ہونٹوں کو بھیجے کھڑی تھی۔افنان سن گلاسز اتار کر اس امیر کا اصلی چہرہ دیکھنے لگا۔گلابی ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ آ گئ۔

“آئندہ کوئی غلطی ہوئی تو مہینے کی تنخواہ بھول۔،،اس سے پہلے وہ آدمی تھپڑ اس معصوم لڑکی کے چہرے پر رسید کرتا افنان نے اسے پکارا تو وہ آدمی مسکراتا اس کے پاس آیا۔

“آپ نہیں وہ۔،،افنان سینے پر ہاتھ باندھ کر

بولا تو وہ لڑکی ہڑبڑا کر اسے دیکھنے لگی اور پھر نظریں جھکا کر اس کے پاس آ گئ۔

“جی سر میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں۔،،وہ مؤدبانہ کھڑی ہو کر بولی

“آپ میرے ساتھ چلیں،،افنان نے مسکرا کر کہا

“کیا بکواس کر رہے ہیں سر۔،،وہ غصے سے بولی

“یار کچھ شرٹز دیکھنی ہیں اور میں جانتا نہیں ان سب چیزوں کے بارے میں ،،افنان نے فرینک ہونے کی کوشش کی پر وہ اسے غصے سے دیکھنے لگی۔

افنان سمجھ گیا اسے اچھا نہیں لگا۔

وہ اس کے ساتھ چلنے لگی ہلکی سی لون کا ڈریس اس نے زیب تن کیا ہوا تھا۔افنان نے اس سے کوئی بات نہ کی۔

“کل آؤں گا اب مجھے جانا ہو گا۔،،وہ فہد کا میسج پڑھتا الٹے قدم وہاں سے نکل گیا۔

“ہوا کا جھونکا۔جیتنی تیزی سے آیا اتنی تیزی سے چلا گیا ،،وہ مسکرا کر اس کو جاتا دیکھ رہی تھی۔

یہ نام تھا جو زہرہ نے اسے پہلی بار دیا۔

******

افنان گھر کا دروازہ کھول کر داخل ہو گیا اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتا تہے خانے میں چلا گیا جس میں داخل ہوتے ہی یہ پتا چلتا تھا کہ بہت ذہین آدمی کا کام ہے اور وہ ذہین آدمی اور کوئی نہیں بلکہ افنان تھا۔اگر تہہ خانے کو دیکھا جاتا تو وہ صرف ایک کمرہ تھا۔پر ایسا تھا نہیں وہ بہت بڑا تھا۔بھول بھلائیاں جیسا

داخل ہوتے ہی شیشے کا بہت بڑا دروازہ جس پہ پاسورڈ دے کر ہی اون ہوتا تھا۔اس کے بعد ریسٹ روم جس میں اے سی ایک عدد صوفہ اور ایک بیڈ اس کے دو دروازے تھے جنوب اور ایک مغرب کی طرف۔مغرب جو ایک بہت لکڑی کی بنی دیوار کو پیچھے سرکا کر داخل ہونا ہوتا تھا۔

اور پھر آگے ایک کھولا کمرہ جس میں کمپیوٹر اور باقی سارا سمان جس سے پورے اٹلی کے کیمرے اس نے اپنے ماسٹر مائنڈ سے کنیکٹ کئے ہوئے تھے۔سوفٹ ویر سے وہ اس طرح کھیلتا تھا جیسے بچہ کھیلونوں سے کھیلتا ہے۔

اور پھر ایک کمرہ۔۔ جیسے بجلی گھر بنایا ہوا تھا۔

اور پھر آخری کمرہ جس میں پتھر کا بنا بیڈ سرہانا نام کی چیز نہیں تھی اور کمرہ بلکل بند جیل کی مانند بند تھا۔اگر اٹلی کی پولیس کو افنان مل جاتا تو وہ اس سے جیل کا ڈیزائن ضرور بنواتے۔

وہ اس کمرے میں داخل ہوا سامنے فہد اس کا انتظار کر رہا تھا۔

“شادن تم نے یہ کیا کیا یار اس کو کیوں اٹھا لیا۔،،فہد نے خوفگی سے اسے دیکھا۔اس نے شادن اس لئے پکارا کیوں کہ کاشا ہوش میں تھا۔

“ریلکس یہ کوئی بہت بڑا نہیں ہے بس ایک سمگلرکا رائٹ ہینڈ ہے یہ بتا سکتا ہے کہ ڈیڈ کہاں ہیں۔،،

افنان نے رسیوں میں جکڑے خون سے لت پت پڑھے کاشا کو دیکھا

“تم کبھی اپنی مرضی نہ بھی کیا کرو یہ نہیں بتانے والا بہت ٹارچر کر چکا ہوں ۔،،فہد سر پکڑ کر کرسی پر بیٹھ گیا۔

“اچھا میں بھی دیکھتا ہوں کیسے نہیں بتائے گا۔ ،،افنان نے اپنی شرٹ اتار کر ایک طرف پھینکی اور لوہے کا ڈنڈا اٹھا کر اس کی طرف بڑھا۔

“دیکھ کاشا اپنی پرسنل کوئی دوشمنی نہیں ہے بس تم نے مجھے سمجھا نہیں اور اب تو سب سمجھ گیا ہے یا تو ہمارا ساتھ دے یا پھر باہر کی دنیا بھول جا۔ ۔،،افنان نے دانت پیس کر کہا۔

” کہاں ہیں ڈیڈ سکندر۔،،افنان نے نرم لہجے میں پوچھا۔

“نہیں بتاؤں گا۔،،وہ زخمی حالت میں بھی گھرایا۔افنان نے ایک زور کا ڈنڈا اس کے سر میں دے مارا

“اب یاد آیا۔،،

“شادن خان میں جانتا ہوں تم جارج کو اسے معلوم ہوا کہ تم نے مجھے پکڑا ہے مار دےگا تمہیں۔اور اگر میں سکندر کے بارے میں بتا دوں تو بھی مارا جاؤں گا اور اگر نہ بھی بتاؤں تو بھی مارا جاؤں گا۔تو مار دو۔،،وہ مسکرا کر بولا۔

“ہاہاہاہا یہ ہی تو تم سمجھے نہیں ۔چل بیٹا سیدھی طرح بتا دے میں وعدہ کرتا ہوں تمہیں چھوڑ دوں گا ۔،،افنان اس کے سامنے بیٹھ گیا۔

” پاکستانی ہو کر یہاں پاکستانی لڑکیوں کو لا کر چھچ جارج تمہیں کیا دیتا ہے صرف پیسہ اور تمہارے گناہ بڑھا رہا ہے ۔،، افنان نے اس کو پانی پلایا۔

“ہاہاہاہا شادن خان میرے باپ کو مارا گیا تھا بڑی بے رحمی سے پاکستانی آرمی نے مار دیا تھا تو میں اس پاکستان کی عزت کو لہلام کر دوں گا اور اس میں میری اور جارج کی ہیلپ تمہارا وہ سکندر کر رہا ہے۔تم مجھے نہیں مار سکتے شادن۔اور تم کیا میری سزا کم کرواؤ گے بہت جلد تم مرنے والے ہو ۔،،

“تمہارا باپ ایک مجرم تھا وہ غیر ملکیوں کے ساتھ ملا ہوا تھا جو بھی پاکستان کی طرف گندی نظر اٹھا کر دیکھتا ہے یہ ہی حال ہوتا ہے اور تمہارا بھی یہ ہی حال ہونے والا ہے۔،،افنان نے ایک کے بعد ایک ڈنڈا مارا جب وہ بے ہوش ہو گیا

تو وہ کمپیوٹر روم میں چلا گیا۔

“فہد اس کے گھر میں گھسنا ہو گا۔،،

“افنان تم جانتے ہو تم کیا کہ رہے ہو اٹلی کے ڈون کے گھر جانا آسان نہیں اور اس کا کوئی ایک ٹھیکانہ نہیں ہے ۔،،فہد نے سمجھ داری سے اسے سمجھایا۔

“ڈرنے سے کچھ نہیں ہو گا فادی۔ہم نے اس فیلڈ میں قدم کیوں رکھا ڈیڈ کا خواب پورا کرنے کے لئے اور ان کا یہ خواب ہرگز نہیں تھا کہ ہم ڈرپوک بنیں۔ ہماری زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے تو ڈر کس بات کا۔،،افنان سامنے بڑی ساری سکرین پہ نظریں جمائے کہا اور کی_پیڈ پہ انگلیاں چلا رہا تھا اور ساتھ ساتھ بات کر رہا تھا ایسے جیسے وہ ٹرینڈ تھا۔ہاں تھا بھی ٹرین بغیر دیکھے بھی وہ کام کر سکتا تھا۔

“اس کو معلوم کیسے ہوا۔،،فہد نے سکرین پہ دیکھ کر کہا

“اس وقت ہم میٹنگ کر رہے تھے جب تم نے کال کی اور کاشا نے اٹھا لی وہ تو شکر ہے اپنی غلطی سدھارنے کے لئے وہ مجھے ڈھونڈھنے لگا اور جارج کو نہیں بتایا۔اب پچھتا رہا ہوگا،،افنان نے مسکرا کر کہا۔

“تم جانتے ہو یہاں کی پولیس جارج کے ہاتھ میں ہے بہت بڑا ڈون ہے،،فہد نے سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا وہ مطمئن نہیں تھا

“تو کیا ہوا ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں فہد ۔اتنے سال ہم نے اس پل کا انتظار کیا ہے فہد اور اب تم مجھے روک رہے اور وہ پاکستان کا مجرم ہے ان گھروں کا مجرم ہے جو اس نے برباد کئے،اور میری ماں کا،،افنان شرٹ پہنتا پیسٹل میں گولیاں بھرنے لگا۔

“اوکے ابھی نہیں ہم کل چلیں گے ابھی نہیں چلو اوپر۔،،فہد نے پیسٹل لے کر رکھ دیا اور اسے پکڑ کر اوپر لے گیا۔

“افنان ماموں کی کالز آ رہی تھی وہ پوچھ رہے تھے میں کہاں ہوں وغیرہ وغیرہ۔،،فہد صوفے پر گر گیا۔

“تو تم نے کیا کہا۔،،

“یہ ہی کہ ابھی فرینڈز کے ساتھ ہوں اور کچھ دونوں بعد آ جاؤں گا۔یار زیادہ پروبلم ماشی کی ہے وہ کالج نہیں جا رہی ایک ویک کے بعد اس کے ایگزامز ہیں،،فہد نے وہ ہی جھوٹ بولا جو وہ اصغر سے بول کر آیا تھا۔افنان کی سوائی تو ماشی نام پہ اٹک گئ

“وہ کیسی ہے ۔،،افنان کی آنکھوں کے سامنے اس کا چہرہ آ گیا آنکھوں میں

” وہ کیسی ہے کون وہ،،فہد نے لاپرواہی سے سوال کیا۔اور اٹھ کر کیچن میں چلا گیا یہ وہ ہی گھر تھا جیسے سکندر نے بنایا تھا اپنے میشن کے لئے پر چینج افنان نے کیا تھا

“جانتے ہو تم کہ میں کس کی بات کر رہا ہوں۔،،افنان نے فروٹ کی ٹوکری سے سیب اٹھا کر سیدھے بیٹھے الٹا نشانہ لگایا جو فہد نے کیچ کر لیا

“بیٹا اپنے پرنسپل پہ ہاتھ اٹھاؤ گے۔،،فہد نے سیب کو کھانا شروع کر دیا۔

“اچھا اب بتاؤ پلیز۔میری بھاگم بھاگ کیسی ہے،،افنان نے لیپ ٹاپ آؤن کر لیا سامنے بہت ساری تصویریں تھی ماشی کی وہ بیڈ پر نیم دراز ہو کر دیکھنے لگا۔

“بات نہیں ہوئی اتنی محبت کرتے ہو اس سے تو بات کیوں نہیں کرتے اس سے ۔،،فہد کافی لے کر اس کے پاس بیٹھ گیا۔ایک مگ اس کی طرف بڑھا دیا

“تم جانتے ہو نہ کہ میری زندگی پتا نہیں کب ختم ہو جائے تو کیسے اسے ساری زندگی رونے کے لئے چھوڑ دوں پھر،،افنان لیپ ٹاپ بند کر کے کافی پینے لگا۔

“تمہاری بات ٹھیک ہے پر تجھے کچھ نہیں ہو گا تیرا بھائی ہے نہ تیرے ساتھ۔،،فہد نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تو وہ مسکرا دیا۔

“وہ تو ہے۔ڈرپوک بھائی ہاہاہاہا۔،،

“میں ڈرپوک نہیں بس تمہاری طرح من مرضی تو ہرگز نہیں کرتا۔،،فہد نے کافی کا مگ منہ سے لگا کر کہا

“ہاہاہاہا اچھا اب اس جارج چوہے کے گھر کب جانا ہے کچھ پلینگ کی ۔،،افنان کافی کا مگ رکھ کر ٹیب لے کر بیٹھ گیا جس میں جارج کا سارا ڈیٹا تھا

“ابھی اس کا منہ کھلواتے ہیں شائد وہ یہاں ہوں شائد کہیں اؤر جگہ انہیں رکھا ہو۔ایک بار کاشا منہ کھول دے پھر جارج سے بھی مل لیں گے ،،افنان نے ٹیب کی سکرین اس کے سامنے لہرائی۔فہد منہ کھولے دیکھنے لگا۔

“یہ کیسے کیا تم نے اور ڈیڈ کا حال کیا کر دیا ہے اس بغیرت نے،،فہد نے سکرین پر ہاتھ پھیرا سکندر شلوار قمیض میں ملبوس تھا جو بہت میلی تھی سر پہ ٹوپی تھی بہت کمزور لگ رہا تھا

“افنان رندھاوا ہوں میں کچھ بھی کر سکتا ہوں،اور ڈیڈ کو ہم واپس لائیں گے،ماما کی خوشیوں کو ان کی جھولی میں ڈالیں گے اتنے سال وہ تڑپی بس ڈیڈ مل جائے

پھر میں اسلام آباد چلا جاؤں گا وہاں بہت اہم کام رہتے ہیں اور وہ بازف راجپوت وہ اسلام آباد ہے ضرور کچھ سوچ رہا ہو گا،،افنان ٹیب پہ تیز تیز ہاتھ چلا رہا تھا۔

“افنان وہ ماشی یا عشرت کو نقصان پہنچانا چاہئے گا یاد ہے بتایا تھا تمہیں یہ وہ ہی ہے لاہور کا سب سے بڑا سمگلر،،فہد نے فکر مندی سے کہا

” ماشی اور عشرت کو اسلام آباد میری یونیورسٹی میں بھیج دینا۔اس کا کوئی بال بھی بانکا نہیں نہیں کر سکے گا ۔،،افنان نے پرسوچ انداز میں کہا

“ٹھیک ہے اب تم سو جاؤ میں کچھ کام کر لوں۔۔،،وہ اس کے بالوں میں ہاتھ چلاتا اٹھ گیا افنان نے لیپ آوف کر دیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا پر نیند نہیں آئی تو وہ اٹھ کر باہر چلا گیا۔

***

صبح اٹھنے کے بعد وہ مارنگ واک پہ نکل گیا۔اندھرا ختم ہو رہا تھا وہ چلتا چلتا ایک پارک میں جا نکلا۔

درمیان میں لگے فواروں سے پانی بہے رہا تھا جس پہ سورج کی کرنوں نے بہت پیارے رنگ بکھیرے تھے۔

“ہاہاہاہا ہیپی سمائل ڈے پلیز سمائل۔۔،،وہ جانی پہچانی آواز سن کر چونکا اور مڑا وہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو چاکلیٹ دے رہی تھی اور ساتھ ایک غبارہ جس پہ سمائل کا ایموجیز بنا ہوا تھا۔ حجاب میں لیپٹا ہوا اس کا چہرہ ہونٹوں پہ جان دار مسکراہٹ۔بچوں کے ساتھ بچی بنی ہوئی تھی۔افنان سینے پر ہاتھ باندھ کر اسے دیکھنے لگا۔

تھوڑی دیر کے بعد وہ لڑکی ایک بینچ پہ بیٹھ گئ۔تھوڑی دیر پہلے والی مسکراہٹ ہونٹوں سے غائب ہو گئ تھی۔افنان نے پارک ٹاک شاک سے ایک چاکلیٹ لی اور مسکرا کر اس کی طرف بڑھ گیا۔

“ہیپی سمائل ڈے ماما پاپا آئی میس یو سو مچ،، وہ اپنے لاکٹ کو سینے سے لگا کر روہانسی ہو گئی تھی۔

“ہیپی سمائل ڈے۔۔،،افنان نے پیچھے سے کہا تو وہ چونک گئ جلدی سے آنسوں صاف کر کے مڑی۔اور افنان کو دیکھ کر چونک گئ۔

“ہوا کا جھونکا ایک بار پھر سے اب کیا لے کر جائے گا۔زہرہ بی بی اپنے حواس پہ قابو پا پتا نہیں کون ہے چور ڈاکو ،،زہرہ سوچنے لگی

“ہیپی سمائل ڈےپر میں یہ نہیں لے سکتی ایکسکیوزمی،،وہ کہتی چلی گئ ۔

“ہیپی سمائل ڈے جان،،افنان نے فون اون کر لے ماشی کی تصویر پہ ہونٹ رکھے اور پھر سیل جیب میں ڈال کر چاکلیٹ کھانے لگا

اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ نمودار ہو گئ

*******

اور دو دن بعد اس نے نگین کو زخمی حالت میں دیکھا وہ جس ہوسپٹل میں کاشا کے لئے میڈیسن لینے گیا تھا وہاں وہ ایک بنچ پہ بیٹھی پتا نہیں کہاں کھوئی ہوئی تھی۔ ہونٹ سے خون بہہ رہا تھا۔ماتھے سے بہے بہے کر سوکھ چکا تھا اور ہاتھ کی کلائی جلی ہوئی۔

افنان کو اس پہ ترس۔دو دن پہلے جو مسکرا مسکرا کر سب کو ہیپی سمائل ڈے ویش کر رہی تھی اب خاموش بیٹھی تھی۔

“سوچو افی اگر اس کی جگہ عشرت یا بھابھی یا نمرہ ہوتی تو تم کیا کرتے،،وہ سوچتا اس کی طرف بڑھا

انسانیت کے ناتے وہ اس کے لئے جو کر سکتا تھا کیا۔

پٹی وغیرہ کروا کر وہ چلا گیا

اگلے دن وہ کاشا کی اچھی خاصی خبر لینے کے بعد اس کی خبر لینے آیا تو وہ وہاں نہیں تھی ایک خط اس کے نام چھوڑ گئ تھی۔

“اسلام علیکم! آپ میرے لئے مسیحا بن کر آئے میری زندگی بچائی آپ کا بہت بہت شکریہ اور میں جا رہی ہوں بہت دور مجھے اب جینے کا کوئی شوق نہیں ہے یہ چین زیادہ مہنگی نہیں ہے پر اتنے پیسے تو ہو جائیں گے کہ آپ نے جو مجھ پر خرچ کئے ادا ہو جائیں گے.,,افنان نے نفی میں سر ہلا دیا اور چین کو دیکھنے لگا

“بے واقوف عورت۔،وہ دل میں سوچتا کاونڑ پہ جا رکا۔

“کب نکلی ہیں وہ لیڈی.,,

“کچھ دیر پہلے

“شکریہ۔،،افنان مسکرایا اور تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل گیا بائیک کی چابی گھمائی اور سامنے جا رہی سڑک پر چلا گیا کچھ ہی دور وہ بینچ پہ بیٹھی تھی

وہ بائک روک کر اس کے پاس جا بیٹھا۔

“یہ کیا ہے۔،،افنان غصے سے بولا اور اس کا خط سامنے لہرایا اسے افسوس ہو رہا تھا کہ وہ لڑکی کیا کرنے جا رہی تھی۔

“پتا نہیں۔،،سوال جتنا مختصر تھا جواب اتنا ہی مختصر۔

“کیا ہوا تھا۔

“پتا نہیں۔

“وہاں کیا پروبلم تھی،،

“پتا نہیں،،

ہر سوال پر افنان ایک جواب سن سن کر تھک چکا تھا اب وہ اسے یوں اکیلے بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا۔

“یہ لو۔،،تھوڑی دیر سوچنے کے بعد افنان نے چابی ا اس کی طرف بڑھا دی۔

“یہ کیا ہے ۔،،ذہرہ نے مختصر سا سوال کیا

“چابی،،افنان نے بھی مختصر جواب دیا۔

“تو،،ذہرہ نے اسے بغیر دیکھے پوچھا۔

“تو یہ پکڑو اور میرے سر پہ دے مارو ویسے بھی ایک چھوٹی سی چابی میرا کیا بگاڑے گی،،

افنان سر پیٹ کر رہ گیا۔

“اچھا کس کی چابی ہے،،پہلی بار اس نے افنان کو نظر اٹھا کر دیکھا۔

“آپ کے گھر کی،،افنان نے تپ کر کہا وہ اس کے سوال سے تنگ آ گیا تھا۔

“آپ کا گھر میرا گھر کیسے ہو گیا؟؟۔۔،،ایک اور سوال۔۔

“افففف کتنے سوال کرتی ہو،،افنان نے سر تھام لیا پاک اسپائی کا دماغ ٹھکانے پہ آ گیا تھا معصوم سی لڑکی اس کے دماغ کی دہی کر رہی تھی۔

“یہ پکڑو اور یہ اڈریس اور یہ کچھ پیسے جاؤ اب تم ۔وہاں اکیلی رہو گی اور ہاں،،افنان اس کے ہاتھ میں چابی اڈریس اور کچھ پیسے تھما کر پینسل نکال کر اس کے ہاتھ پہ نمبر لکھ دیا۔

“کسی چیز کی ضرورت ہو تو اس نمبر پہ کال کر لینا۔اور آپ کو وہاں کوئی ڈسٹرب نہیں کرے گا وہاں آپ آرام سے رہیں گی۔بائے،،افنان دو انگلیوں سے سلوٹ جھاڑتا پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتا واپس چل پڑھا ۔اس بار اس نے زہرہ کو حیران کیا تبھی وہ حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی۔

“سنو!،،اس کی آواز میں حیرانگی تھی۔

“مجھے پتا ہے آپ کیا پوچھنا چاہتی ہیں انسانیت کے ناطے ہر انسان کا فرض بنتا ہے وہ اپنے ملک کے لوگوں کی غیر ملک میں ہیلپ کریں۔ پاکستان اور کوئی سوال نہیں۔ٹیکسی پکڑیں اور جائیں،،افنان بائیک پر بیٹھ کر گوگلز لگتا بائک کو اڑا لے گیا

“نام تک نہیں پوچھا۔،،زہرہ بینچ پہ بیٹھ گئ۔بخار سے بے حال ہو رہی تھی۔پر وہ ہمت والی تھی۔

“کیا یقین کر لینا چاہئے۔کوئی ٹھیکانا نہیں ہے چلی جاتی ہوں،،وہ ہاتھ میں تھمی ہوئی چیزیں دیکھنے لگی

” ویسے غلط انسان تو نہیں لگتا پاکستانی ہے۔شکل سے شریف لگتا ہے۔اتنا برا نہیں ہے ہاں بس تھوڑا سا غصہ،یا پتا نہیں پر کچھ ہے اس کی شخصیت میں جو یقین کرنے کو دل کیا،،وہ سوچتی اٹھ کھڑی ہوئی

***********

انہیں وہاں تک پہنچنے میں کچھ مشکلات آئی تھی۔پر ظنی انکل نے سب ہینڈل کیا۔

اس روز فہد اور ظنی بزی تھے کیونکہ ان دونوں کو اپنی منزل تک پہنچنے میں کم ٹائم تھا

ماشی کالج کا ٹائم ہو گیا تھا۔

عشرت کالج نہیں گئ تھی تبھی فہد کو زیادہ فکر

تھی۔تو فہد نے افنان کو کال کی

“افی کہاں ہو وہ ماشی کو کالج سے پیک کر سکتے ہو کسی بھی طرح۔میں یہاں ظنی انکل کے ساتھ ان کے گھر ہوں ،،فہد کی بات سن کے وہ بھاگ کر بیڈ سے اٹھا اور شرٹ پہن کر باہر بھاگا پھر کچھ یاد آنے پہ وہ کمرے میں چلا گیا۔لاہور میں پانچ مرلے کے گھر میں وہ اکیلا رہ رہا تھا۔

وہ اپنا رومال اٹھا کر اسے اچھے سے منہ پہ لپیٹ کر آنکھوں پہ گاگلز لگا کے فہد کی بائیک پر بیٹھ گیا۔

“اب وہ بھاگم بھاگ بلکل بھی نہیں پہچان سکے گی کہ میں ہوں کون فہد یا اس کا افی۔،،وہ بائیک کے مرمر میں خود کو دیکھنے لگا۔

“ویسے وہ مجھے بےوقوف لگتی نہیں۔اور کیا کروں،،وہ بائیک سٹارٹ کرنے سے پہلے روک گیا اور پھر سے کمرے میں بھاگ گیا فہد کا پرانا وائلٹ اور کچھ کارڈز وغیرہ اس میں ڈالے اور سکندر کی فوٹو لگائی جو فہد ہمشہ لگا کے رکھتا تھا

پھر وہ مسکرایا اور چل دیا تیاری کرنے میں اسے ٹائم لگ گیا تھا۔

کالج سے تھوڑی دور وہ غصے اور گھبراہٹ سے چلتی آ رہی تھی۔ گھبراہٹ جو افنان کو رتی برابر پسند نہ تھی۔بھلا اتنا بھی کیا ڈرنا۔

وہ اس کے سامنے جا روکا تو وہ ڈر گئ۔

پھر ایک طرف سے نکلنے لگی۔

تبھی افنان نے سر پیٹ لیا اور وائلٹ نکال کر اس کے سامنے کیا۔

“فہد کا وائلٹ ت۔۔تت۔تمہارے پاس کیسے آیا کون ہو تم،،وہ ڈر کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے غصے سے بولی۔افنان نے چشمے کے پیچھے سے گھورا اقر رجسٹر لے کر لکھنا شروع کر دیا وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی

“فہد ہوں گلا خراب ہے جلدی بیٹھو لوگ دیکھ رہے ہیں،،افنان نے رجسٹر اس کی طرف بڑھایا

“میں کیوں یقین کروں تم پہ یہ ہٹاؤ اور چشمہ بھی اتارو۔،،ماشی نے انگلی کے اشارے سے کہا تو وہ سوچ میں پڑھ گیا اور پھر چشمہ اتار دیا

“اور یہ بھی اتارو۔،،ماشی نے اشارہ رومال کی طرف کیا

“مجھے ڈسٹ الرجی ہو گئ ہے آنا ہے تو آؤ نہیں تو میں جا رہا ہوں آتی رہنا پیدل ،، اس نے

رجسٹر پہ لکھا اور پھر ہاتھ جوڑ کر جانے لگا

“اوکے ٹھیک ہے مت اتارو چلو،،

“بےوقوف لڑکی کل کو اگر کوئی ایسے آتا تو تو کیا کرتی ڈرپوک تمہارا ڈر بھی کسی دن دور کر دوں گا ،،افنان سن گلاسز لگاتے ہوئے سوچ کے مسکرا دیا اور بائیک سٹارٹ کر لی ماشی اس سے فاصلے پر بیٹھی تھی بغیر پکڑے جیسے وہ ہمشہ بیٹھتی تھی تبھی ایک سپیڈ بریکر آیا تو وہ ہڑبڑا گئ اور افنان کے شہانے کو تھام لیا اور۔افنان نے کان پکڑ کر بغیر بولے سوری کیا تو وہ ڈوپٹہ ٹھیک کرتی پیچھے ہو کر بیٹھ گئی۔

“آئندہ مجھے گاڑی پہ لینے آنا تمہیں گاڑی ڈیڈ نے کیوں لے کے دی ہے جب تم نے اس کھٹارا کو ہی استعمال کرنا ہے،،ماشی نے غصے سے کہا۔اس نے بس سر ہلانے میں ہی آفیت سمجھی۔پھر وہ اسے اتار کر چلا گیا۔

****

“ماموں میں ہوسٹل جانا چاہتا ہوں کراچی میں زیادہ محنت کرنا چاہتا ہوں،،فہد کی یہ عجیب سی خواہش اصغر کو غصہ دلا گئ۔

وہ نہیں مانےپھر کیا تھا فہد نے کھانا پینا کسی سے بھی بات کرنا چھوڑ دیا آخر کار ماموں مان گے کی ملک سے تو باہر نہیں جا رہا

“تم چلے جاؤ گے تو مجھے کون کالج سے لینے جائے گا ،،فہد اپنی پیکنگ کر رہا تھا جب عشرت اور ماشی اس کے سر پہ جا کھڑی ہوئی۔

“ڈرائیور لے آیا کرے گا پلیز اب کوئی ڈرامہ نہیں چاہئے۔مجھے ،،فہد نے کہا اور پیکنگ کرنے لگ گیا ماشی اور عشرت باہر نکل آئی تھوڑی دیر میں فہد ملک ہاؤس سے نکل کر کیفے میں چلا گیا جہاں افنان اس کا انتظار کر رہا تھا۔

اسے کیفے میں داخل ہوتے دیکھ افنان اٹھ کھڑا ہوا

“ظنی انکل سے بات کر لی تم نے اپنا سارا پلین سمجھا دینا تھا،،فہد نے اپنا بیگ ایک طرف رکھا اور گلاسز اتار کر صوفے پہ بیٹھ گیا۔

“ہاں سب سمجھا دیا

ایک بات کہوں،،افنان ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوئے بولا۔

گرے کلر کی بٹنوں والی شرٹ جس کے اوپر کورٹ پہنا ہوا تھا بالوں کو سٹائل دے کر چھوڑا ہوا تھا تھوڑے سے بال ماتھے پہ آئے ہوئے

“دیکھو افنان تم ایک اسپائی بننے جا رہے ہو ۔یہ جزباتی پن چھوڑو اور اپنے مشن پہ کنسنٹریٹ کرو تمہارا میشن ماشی نہیں پاکستان کی حفاظت کرنا ہو گا۔،،فہد ہاتھوں کو آپس میں جکڑ کر ٹیبل پر رکھ کر آگے کو جھک کر بولا۔افنان نے دانتوں کو ہونٹوں میں دبا لیا۔

“ہاں تم ٹھیک کہ رہے ہو ،،افنان نے اس کی بات سمجھ لی تھی پھر وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔

*****

بہت محنت ان دونوں پہ نہیں کرنی پڑھی تھی۔حکومت پاکستان کو دو ہونہار اسپائی ملے تھے افنان اپنے مسٹر مسئنڈ کی وجہ سے بہت جلد ٹینڈ ہو گیا تھا اور فہد کا جنون اسے جلد از جلد سب کروا رہا تھا۔

ان کاکام بدل گیا تھا، زمیداری بدل گئ تھی ،اب ان دونوں پہ پورے پاکستان کی حفاظت کی زمیداری تھی،راز رکھنے آسان نہیں ہوتے اور خود کو پلیٹ میں سجائے رکھنا تو بہت مشکل ہوتا ہے ہر وقت پکڑے جانے کا ڈر ۔پر وہ ڈر ان کو زرا سا چھو کر بھی نہیں گزرا کیوں کہ جب کسی کام کو جنون بنا لیا جائے وہ ڈراتا نہیں۔

فہد بہت بدلہ تھا پہلے سے زیادہ پوزیسو ہو گیا تھا۔ہر احساسات بدل گیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ زندگی اب اس زمیداری سے شروع ہو کر اسی پہ ختم ہونی تھی پھر کیوں بےقار میں عام انسان کی طرح کوئی خواب سجاتا۔

پر افنان تو پہلے ہی ایک وجود تھا پر انسان کتنے تھے یہ کوئی نہیں جانتا تھا کبھی کبھی تو وہ خود بھی نہیں سمجھتا تھا۔پر وہ دل کا بہت ہی نرم اور اچھا تھا۔اور اس کے دل میں ماشی کی محبت کم نہیں ہوئی تھی وہ وہاں ہی تھی ۔نہ ہی اس نے یہ سوچ کر اس سے محبت چھوڑ دی کہ کل کیا

ہو گا۔

فہد کئ بار اس سے پوچھ چکا تھا وہ ایسے احساسات کو ختم کیوں نہیں کر دیتا زندگی کا اب بھروسہ نہیں۔

تو وہ بس ایک ہی بات کہتا کہ زندگی کا تو پہلے بھی بھروسہ نہیں تھا تو کیا پہلے ہم جیتے نہیں تھے۔فہد خاموش ہو جاتا۔

اب ان کو اٹلی بھیجا جا رہا تھا ایک میشن کے تہت اور وہ میش ان کے باپ سے جوڑا ہوا تھا.کچھ مہینے انجان نمبر سے ایجنسی کو ایک میل وصول ہوا جو سکندر نے کیا تھا بس یہ معلوم ہو سکا وہ کسی کی گرفت میں ہے اور یہ بھی پتا چلا کہ وہ کسی J.U کی گرفت میں ہے یہ سکندر نے رومن میں ہینٹ دی تھی شائد ٹائم زیادہ نہیں تھا ۔اور کچھ نہیں پتا چلا۔

افنان وہاں شادن اور فہد کاشف خان کی پہچان سے رہنے

لگے

وہ وہاں اپنے گھر میں رہتے تھے جو سکندر نے بنایا تھا جو صرف فہد اور افنان کو معلوم تھا۔

افنان نے اس گھر کو بلکل بدل دیا تھا۔

فہد اپنے طریقے سے ریسرچ کرنے میں لگا ہوا تھا اور افنان اپنے طریقے سے اس نے اٹلی کے سب بڑے بڑے سمگلرز کے نام نکالے ان میں سے ایک جارج کا نام نکلا۔جو اٹلی میں ڈون تھا ساری فورس اس کے انڈر تھی۔تبھی افنان نے کاشا سے میٹنگ فیکس کی اور اب وہ ان کی قید میں تھا۔

************

“میں کیا سوچ رہا تھا بھلا فہد ،،افنان ہونٹ پہ انگلی رکھ کر کرسی کی پشت سے سر ٹکا کر جھولنے لگا

“کیا،،

“کل چلیں پھر جارج کو ملنے ویسے بھی میٹنگ سے کیا جائے گا۔،،

“اور اگر نقصان ہوا تو۔۔۔،،فہد نے پرسوچ انداز میں سوال کیا۔

“ہاہاہاہا وہ تم مجھ پر چھوڑ دو ،،

“ایک اور انفارمیشن جس سے تم محروم رہے ہو وہ یہ کہ جارج اگر کسی کو ملتا ہے تو صرف اس انسان کو جو پاکستان سے آیا ہو اور پاکستان کی لڑکیوں کو ادھر لائے اور ادھر کا مال ادھر ۔،،فہد نے کہا۔

“ویری سمارٹ۔۔،،افنان نے اس کی ذہنیت کی داد دی۔

“بٹ ایسا کیوں وہ یہاں کیوں کام نہیں کرتا پاکستان ہی کیوں کوئی چکر ہے۔پاکستان سےکچھ پرسنلی دوشمنی ہے کیا اس کی،،،افنان پینسل منہ پر رکھ کے سوچنے لگا

“یہ تو تب ہی پتا چلے گا جب تم اس کے ساتھ کوئی میٹنگ کرو گے میں نہیں جا سکتا کیونکہ یہ بازف اس کے ساتھ ملا ہوا ہے مجھے دیکھا تو پہچان لے گا،،فہد نے اشارہ سکرین پر کیا۔

“ٹھیک ہے میں پھر اسے میل کروں گا اب بچارے کا رائٹ ہینڈ تو ٹوٹ گیا ہاہاہاہاہاہاہا،،افنان بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے بولا۔

“کتنے پیسے ہیں تمہارے پاس۔۔کیونکہ وہ چھوٹے موٹے پیسوں والے سے ملاقات نہیں کرتا،،فہد نے ا

افنان کو مڑ کر دیکھا۔وہ ہنس دیا۔

“میرے باپ کے پاس بہت پیسہ ہے بڈی کروڑوں کے حساب سے جو ایویں ہی بینکوں میں پڑھے ہیں وہ کس دن کام آئیں گے،،افنان نے کہکا لگا کر کہا۔

“ویری فنی افی اگر وہ پوچھیں تو کیا کہو گے اور تم ظنی انکل کے بیٹے شادن ہو نہ کہ افنان رندھاوا ،،فہد کمپیوٹر بند کر کے شیشے کا دروازہ کھولتا چلا گیا۔

افنان بھی پیچھے بڑھ گیا دونوں تھک چکے تھے اور اب وہ بیڈ پر تقریباً گرے ہی تھے۔تھوڑی دیر ریسٹ اور باتوں کے بعد فہد کیچن میں گھس گیا۔

افنان نے اپنا فون اٹھایا اور ماشی کی تصویر نکال لی۔

“سو سو سوری جان بہت بزی تھا اسی لئے بھول گیا۔

ہیپی برتھڈے مائی لو،،اس نے ماشی کی فوٹو پہ ہاتھ چلایا۔

“تمہیں پتا ہے یہ دن مہینے تم سے دور بہت بےموسم لگتے ہیں اب کی بار جب آؤں گا تو ہمشہ کے لئے تمہیں اپنا بنا لوں گا فہد ٹھیک کہتا ہے کیا پتا زندگی کا میں باقی کی زندگی تمہارے ساتھ گزاروں گا,،،وہ لیٹ کر فون آنکھوں کے سامنے کر کے بول رہا تھا

“پر اگر میں کبھی گھر سے گیا اور واپس نہ لوٹا تو۔۔۔۔،،ایک ڈر سا لگا اسے تو اس نے فون بند کر دیا اور سوچنے لگا سوچتے سوچتے کب آنکھ لگی اسے معلوم نہ ہوا دو تین دن سے مسلسل وہ جاگ رہا تھا۔کام بہت زیادہ تھا۔

اور اب سکون کی نیند اس کی قسمت میں کہاں رہی تھی کم از کم اٹلی میں ہوتے ہوئے تو بلکل بھی نہیں۔

******

صبح جب وہ اٹھا تو فہد اٹھ چکا تھا۔

وہ آنکھیں رگڑتا کیچن میں چلا گیا دو کپ کافی بنا کر وہ تہے خانے کا دروازہ کھول کر داخل ہو گیا۔مزید ایک دو اور دروازے کو کھولنے کے بعد وہ فہد تک پہنچ چکا تھا۔

“گڈ مارننگ جان من،،افنان نے کافی کا مگ اسے تھما کر کہا۔

“گڈ مارننگ،،

“ایک بات بتا ماما والے گھر میں لڑکی کون ہے۔،،فہد نے اس کے چہرے کو دیکھا۔افنان نے ساری بات سنا دی۔

“تو اس کا حال چال تو کم از کم پوچھ آؤ وہ بیمار ہے ،،فہد نے سنجیدگی سے کہا

“ٹھیک یہ بھی ٹھیک ہے ایک تو وہ سوال اتنے کرتی ہے پاکستان ،،افنان نے منہ بسور کر کہا تو فہد اس کے پاکستان کہنے پہ ہس دیا

“پاکستان ہے نہ اسی لئے۔،،فہد نے دروازے سے مڑ کے اسے دیکھا۔

“ہاں یہ بھی ٹھیک ہے،،افنان نے سر ہلا دیا۔وہ واقع ہی تھوڑی دیر بعد اس گھر کے دروازے کے سامنے کھڑا ہوا تھا۔

کافی دیر دروازہ کھٹکھٹایا پر جب نہ کھولا تو اس نے بیگ سے دوسری چابی نکالی اور دروازہ کھول کر اندر چلا گیا وہ نہ حال میں موجود تھی نہ لان میں نہ لاؤنچ میں افنان پھر سیڑھیاں چڑھنے لگا وہ گھر ویسا ہی تھا جیسا شگفتہ نے سجایا تھا۔

وہ بیڈ روم کے دروازے کے سامنے جا رکا اور دوسری چابی سے دروازہ کھولا سامنے زہرہ زمین پہ گری پڑھی تھی اور ناک سے خون نکل رہا تھا افنان نے اسے اٹھایا اور بیڈ پہ ڈالا پھر بیگ سے فرسٹ ایڈ بوکس نکال کر ناک سے بہے رہے خون کو صاف کیا جو گرنے کی وجہ سے نکلا تھا افنان نے اندازہ لگا لیا کہ وہ چکرا کر گر گئ ہے اور گھر کیچن کی حالت دیکھ کر لگ رہا تھا وہ بھوکی تھی بخار تیز تھا وہ کانپ رہی تھی افنان نے اس کے ناک کا خون صاف کیا اور اس کے منہ پہ پانی کے چھینٹیں مارے پر وہ ہوش میں نہ آئی افنان اس پہ کمبل اوڑھ کر جانے لگا پر اس کا ہاتھ نگینہ کے کومل جیسے نازک ہاتھ میں تھا۔

“ماں آئی مس یو۔

ماں۔۔پلیز آ جاؤ۔

ماں

“ماں آئی مس یو،،وہ تڑپ تڑپ کر شاید خواب میں ماں کو پکار رہی تھی۔افنان کو اس پہ ترس آنے لگا وہ اس کے ہاتھ کو پیچھے کرتا اٹھ گیا کیچن میں گیا فریج سے سبزی

نکال کر کاٹی پھر سوپ بنا کر اس کے پاس چلا گیا وہ ابھی بھی نہیں اٹھی تھی۔۔

اس نے پھر سے کوشش کی۔

تو اس نے آنکھیں کھولی سفید آنکھیں لال ہو چکی تھی۔بہت کمزور لگ رہی تھی۔۔افنان نے اس کے پیچھے سرہانے لگا کر اسے بیٹھا کر چپ چاپ سوپ کا پیالہ اس کے ہاتھ میں تھما دیا

“دل نہیں کر رہا پینے کو،،زہرہ نے منہ بنا کر کہا بخار میں کہاں جی چاہتا ہے۔

“آپ کی مرضی پینا ہے تو پی لیں نہیں تو پھینک دیں،،افنان شیشے کی دیوار پہ ہاتھ رکھ کے جھک کر نیچے دیکھ رہا تھا۔

“عجیب لڑکا ہے،،زہرہ نے نے اسے سرسری سا دیکھا ہاف بازوؤں والی شرٹ جس سے اس کے سفید بازو نظر آ رہے تھے بال ماتھے پہ گرے ہوئے تھے جو گلے تھے جنہیں دیکھ کر لگ رہا تھا وہ نہا کر آیا ہے افنان کے وجود سے ایک خوشگوار مہک اٹھ رہی تھی جو پورے کمرے میں پھیل گئی ۔ہونٹوں کو دانتوں میں دبا کر وہ کچھ سوچ رہا تھا

“آپ کا نام کیا ہے،،زہرہ سوپ پینے لگی تھی افنان نے نظریں ٹیڑھی کر کے اسے دیکھا۔

“شادن خان،،

“کیا آپ اکیلی یہاں رہ سکتی ہیں،،افنان نے دور دور تک دیکھا سنسناں جگہ تھی اور ایک لمبی سڑک جو گھر سے نکل کر روڑ سے ملتی تھی پانچ چھ میل کا فیصلہ۔

“تنہائی کی تو عادت سی ہو گئی ہے۔انسان اکیلا ہی دنیا میں آتا ہے اور جاتا بھی اکیلا ہے پھر دنیا سے کیوں کوئی اچھی امید رکھیں،،زہرہ کا لہجہ بھیگنے لگا اس نے نظریں جھکا لی۔

“ہاں تو پھر مضبوط بنو جب جانتی ہو کہ دنیا میں کوئی اپنا نہیں پھر مضبوط بنو،،افنان مڑ کے صوفے پر بیٹھ گیا۔

“عورت جتنی بھی مضبوط بن جائے پر یہ دنیا اکیلا جینے نہیں دیتا شادن صاحب۔عورت کے سر پر باپ کا سایہ ہو،شوہر سامنے چلے بھائی کا ہاتھ سر پہ ہو تو دنیا کچھ نہیں کہتی اکیلی عورت ایک پیڑ کی وہ شاخ ہوتی ہے جو درخت سے کٹ کر گر جاتی ہے اور اس پہ زوال آ جاتا ہے،،نگینہ نے بات کے اختتام پر سر اٹھا کر افنان کو دیکھا

جو ٹانگ پر ٹانگ رکھے ہونٹوں پر دو انگلیاں رکھے دیکھ رہا تھا۔نظر سرسری سی تھی۔پر زہرہ زیادہ دیر اسے دیکھ نہ سکی

“آپ کیوں اکیلی ہیں،،افنان نے گہرا سانس لیا۔

“کیوں کہ میرا کوئی اپنا زندہ نہیں۔ اور جو ہیں وہ اپنے نہیں مطلبی ہیں،،زہرہ کو پیاس لگی تو وہ اٹھنے لگی پر ناکام رہی بیڈ سے اتر کر وہ گرنے ہی لگی تھی کہ افنان نے اسے تھام لیا۔

“بخار ہے آپ کو ابھی ریسٹ کریں ویسے کوشش اچھی تھی گر کے اٹھنا اچھی بات ہے,،افنان نے اسے بیٹھا دیا اور پانی کا گلاس اس کو تھما دیا۔اور میڈیسن دے دی۔

“میں جا رہا ہوں سوپ بنا کر رکھ دیا ہے یہ رکھا ہے پی لینا اور دروازہ میں بن کئے جاؤں گا چابی میرے پاس ہے اللہ حافظ،،افنان نے کہا اور چلا گیا۔اسے ایک امپورٹ کام کرنے جانا تھا۔

“کیا آج کل اچھے مرد بھی ہوتے ہیں دنیا میں شادن جیسے اس کی موجودگی میں ڈر کیوں نہیں لگا کہ وہ کچھ غلط کر دے گا۔ تھا تو مرد کبھی کسی پہ یقین نہیں ہوا پھر ان پہ کیوں،،زہرہ نے سوچا اور لیٹ گئ۔

دنیا میں وہ اکیلی ہو گئ تھی۔ماں باپ کی موت بہن بھائیوں سے بچھڑ گئی اور چچا نے بھی گھر سے نکل دیا۔جب اس کے ماں باپ گزرے تھے تو چچا کتنے رحم دل تھے پر پروپٹی ہتھیانے کے بعد سب بدل گیا۔کزنز چچا چاچی۔

۔وہ آنکھیں کھول کر ڈھکے ہوئے آسمان کو دیکھنے لگی۔بہت کوشش کی پر نیند نہ آئی کیسے آتی ایک بخار تیز اپر سے اپنوں کی یادیں۔

نیند نہ آئی تو وہ گنگنانے لگی۔

“تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیراں ہوں میں۔حیران ہوں میں

تیرے معصوم سوالوں سے پریشاں ہوں میں،،

اور پھر پھٹ پھٹ کر رونے لگی۔جو فہد Cctv کیمرے میں دیکھ چکا۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *