Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 15,16)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 15,16)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
“سعدیہ کیا میں تمہارے پاس بیٹھ سکتی ہوں۔،،سعدیہ اپنے کمرے میں بیٹھی بچے کو مالش کر رہی تھی جب۔شگفتہ اس کے پاس آکر بولی تو اس نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
“سعدیہ میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتی ہوں ۔آئی نو تم مجھے لائک نہیں کرتی۔اور کرنا بھی نہیں چاہئے سوتن جو ٹھہری۔،،شگفتہ نے سانس لے کر اسے دیکھا اور بات پھر سے شروع کی۔
“کیا ہم بہنوں کی طرح نہیں رہ سکتی دیکھو ہم نے رہنا تو اب ایک ساتھ ہی ہے۔تو کیوں نہ ایک مثال قائم
کریں۔,،،شگفتہ نے اسے دیکھا وہ شگفتہ کے چہرے کو دیکھ رہی تھی
“پر میں کیوں ایسا چاہوں گی۔تمہیں سفر نے طلاق دے دینی ہے۔،،سعدیہ اطمینان سے بولی شگفتہ کو لگا جیسے کسی نے اس کی روح میں کھنجر گاڑھ دیا ہو
“سعدیہ پلیز ایسے مت کہو میرا گھر برباد مت کرو۔میری زندگی کے ساتھ بہت سی زندگیاں جوڑی ہوئی ہیں م۔۔میرا بچہ اس سے باپ کا نام مت چھینو۔،،شگفتہ نے ہاتھ جوڑ دیئے تھے وہ کمزور پڑھ گئ تھی۔۔سعدیہ حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی
“سعدیہ س۔سس۔سفر صرف تمہارا ہے میں کبھی نہیں مانگوں گی۔پر میں اس کی بیوی بن کر رہنا چاہتی ہوں میں اس سے بہت محبت کرتی ہوں ۔سعدیہ مجھے پتا ہے تم دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہو۔میں کبھی تم دونوں کے درمیان میں نہیں آؤں گی آج تک نہیں آئی آئندہ بھی نہیں آؤں گی میری زندگی کے ساتھ منزہ کی زندگی بھی جوڑی ہوئی ہےان کا بچہ بھائی اصغر پلیز سعدیہ۔،،شگفتہ نے التجاء کی تھی سعدیہ اس کے بہتے آنسوں دیکھتی رہی۔
“سعدیہ جو تم کہو گی میں وہ کروں گی بس یہ طلاق مت دلوانا مجھے۔،،شگفتہ نے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا
“جو کہوں گی مانو گی۔،،سعدیہ نے اس کے آنسوں کو دیکھ کر کچھ سوچ کرپوچھا۔
“ہاں جو کہو گی میں مانوں گی۔،،شگفتہ بے تابی سے بولی۔
“میری بہن بنو گی۔،،سعدیہ نے اس کے آنسوں صاف کرتے ہوئے مسکرا کر کہا تو شگفتہ حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی۔
“شگفتہ میں سفر کو کسی کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتی کولج ٹائم سے ہی وہ اور میں ایک ساتھ تھے پھر بہت مشکات آئی ہماری شادی میں پر میں نے سب کچھ چھوڑ دیا سفر کے لئے اپنا گھر ماں باپ بہن بھائی اور اگر اب سفر نے مجھے چھوڑ دیا تو۔اسی لئے اب میں ڈرتی ہوں ۔،،سعدیہ پہلی بار شگفتہ سے اپنائیت سے بات کر رہی تھی
“تم فکر نہ کرو وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے مجھ سے شادی اس نے ۔۔،،شگفتہ نے ٹھنڈا سانس لیا۔
“مجھے پتا ہے۔،،
میں بھی ایک عورت ہوں عورت کے جذبات کی قدر ہے مجھے اتنی بھی ظالم نہیں ہوں۔،،سعدیہ نے شگفتہ کے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا تو شگفتہ اس کے گلے سے لگ گئ شگفتہ سعدیہ سے عمر میں بہت تو نہیں پر چھوٹی تھی۔۔
“تھینک یو۔،،شگفتہ اس سے الگ ہو کر بولی تھی۔
“آج تم میرے ساتھ پولر چلو گی سمجھی۔ساسو ماں کا منہ بند نہیں کرنا۔اتنی پیاری ہو تم پر اپنا خیال نہیں رکھتی ۔،،سعدیہ اس کو بولی تو وہ مسکرا کر رہ گئ۔شگفتہ پھولے نہ سما رہی تھی۔خدائی اس پر مہربان ہو گئ تھی۔اب وہ سکون کی نیند سو سکتی تھی۔
******************
“ماشی کو ہوش کیوں نہیں آرہا۔،،مسٹر ملک نے ڈاکٹر سے پوچھا۔
“مسٹر ملک آپ خود ڈاکٹر ہیں آپ سے اب کیا چھپا رہ گا ان کے دماغ میں چوٹیں آئی ہیں بہت متاثر ہوا ہے۔اور ایسی حالت میں۔،،وہ کہتے کہتے رک گئے تھے۔پیچھے کھڑے افنان کے اوسان خطا ہونے لگے اسے لگا وہ ہل نہیں سکے گا سورج غروب ہونے والا تھا۔
وہ مشکل سے خود کو گھسٹتا ماشی کے کمرے میں لے گیا بہت ساری مشنوں کے درمیان وہ پڑھی تھی سرپر پٹیاں بندھی ہوئی تھی۔گردن کے گرد بھی پٹی تھی
“اے معروش۔اٹھو۔،،افنان اس کے پاس جا کر بیٹھ کر قدرے غصے سے بولا۔
“ت۔تت۔تم تو کمزور نہیں تھی پھر کیوں یوں پڑھی ہو تم اٹھو مجھے جتنا مرضی ڈانٹو مارو میں کچھ نہیں کہوں گا پر اٹھ جاؤ۔اگر تمہیں کچھ ہو گیا تو آسام۔۔۔آسام کبھی جیل سے باہر نہیں آئے گا پلیز اٹھ جاؤ آج افنان رندھاوا تمہارے سامنے اپنے بھائی کی سلامتی کی بھیگ مانگ رہا ہے۔تم تو غلط کو غلط سمجھتی ہو اور آسام وہاں کیوں ہے میری وجہ سے پر میں نے کب تم کو مارنا چاہا میں نے تمہاری جان بچائی ہے اس کا قرض تو چکانا پڑھے گا۔اٹھ جاؤ اور آسام کو وہاں سے نکلو پلیز اٹھ جاؤ۔،،افنان کے آنسوں جاری ہو گئے تھے جتنا بھی وہ آسام سے لڑ
لیتا پر محبت بہت کرتا تھا۔مسٹر ملک اسی پل کمرے میں آئے تھے افنان جانے لگا پر انہوں نے اسے روک لیا۔
“پیپرز کہاں ہے لاؤ میں سائین کر دیتا ہوں۔،،مسٹر ملک کی بات سن کر وہ حیران کن آنکھوں سے ان کو دیکھنے لگا۔
اور باہر چلا گیا۔
مسٹر ملک بھی ان کے ساتھ گئے تھے۔
سائین کر کے وہ ثاقب اور افنان کو دیکھنے لگا۔
“اگر تھوڑی سی بھی دیر ہوتی تو میری بیٹی آج زندہ نہ ہوتی تم نے میری بیٹی کی جان بچائی ہے جاؤ اپنے بھائی کو جیل سے نکلوا لو۔،،مسٹر ملک نے افنان کے کاندھے پر تھپکی دے کر کہا اور ماشی کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
اور وہ دونوں باہر چلے گئے۔
******************
“آسام۔تم نے ایسا کیوں کیا جبکہ غلطی کسی تیسرے کی تھی تمہارے پاس دماغ نام کی کوئی چیز ہے ۔،،ثاقب گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولا۔اتنے میں میڈیا والے آگئے۔
ہر سوال کا جواب ثاقب مسکرا کر اور اطمینان سے دینے لگا
ایک دن میں اس جھوٹی نیوز کو ہر چینل والوں نے اڑیا تھا۔اور اب جب آسام باہر آ گیا تھا تو یہ خبر عام ہو گئ تھی آسام ابھی بھی پریشان تھا۔ثاقب نے میڈیا والوں کو منہ توڑ جواب دیا تھا۔
“افی مس ملک کیسی ہیں۔،،آسام نے فکر مندی سے پوچھا۔
“ابھی ہوش نہیں آئی خطرے سے تو باہر ہیں پر۔،،ثاقب کہتے کہتے رک گیا تھا
“پر۔۔،،آسام کے چہرے پر ڈر تھا۔
“پر چوٹوں نے دماغ کو بہت متاثر کیا ہے۔،،ثاقب نے پریشانی سے کہا۔آسام نے آنکھیں بند کر کے گہرا سانس لے کر آنکھیں کھول لی۔۔
گھر پہنچ کے افنان بھاگ کر اپنے کمرے میں چلا گیا تھا اور دروازہ بند کر لیا۔اسے غصہ تھا غم تھا پتا نہیں کیا تھا وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا
“میرا انٹیلجنٹ بیٹا۔،،مسٹر رندھاوا ثاقب کو گلے سے لگا کر بولا۔
ثاقب ہس دیا
“چلیں اب تو خوش ہیں۔ بٹ ابھی کوئی پارٹی نہیں کیوں کہ وہ لڑکی ابھی خطرے میں ہیں۔،،ثاقب مسٹر رندھاوا کے گلے لگ کر بولا۔
“اللہ اسے لمبی عمر دے۔,،مسٹر رندھاوا نے دل سے دعا کی تھی۔،
******************
“چاچو۔وہ ماشی۔,،عزرت بھاگ کر ماشی کے کمرے سے باہر آئی تھی۔
“کیا ہوا ماشی کو بیٹا وہ ٹھیک ہے
“٬ماشی کو ہوش آ گیا ہے چاچو وہ ٹھیک ہے۔اس نے آنکھیں کھولی ہیں جلدی چلیں۔،،عشرت پھر سے ماشی کے کمرے کی طرف بھاگی۔
مسٹر ملک بھی خوشی سے بھاگے تھے۔
ماشی انہیں دیکھ کر مسکرا دی۔۔
“میری بہادر بچی۔،،مسٹر ملک نے ماشی کے سر پہ بوسا دیا۔
“ماشی کچھ بول کیوں نہیں رہی بولو نہ پلیز۔،،عشرت خوف زدہ ہو کر بولی مسٹر ملک نے بھی پریشانی سے ماشی کو دیکھا۔
“کیا بولوں۔،،ماشی آہستہ سے بولی۔عشرت کے دل کا خوف دور ہو گیا۔
“میری بچی کیسامحسوس ہو رہا ہے کوئی تکلیف تو نہیں ہو رہی کہئں اور کیا ہوا تھا ۔،،مسٹر ملک اس کے پاس بیٹھ کر بولا۔
ماشی نے آہستہ آہستہ سب بتا دیا تو پتا نہیں کیوں انہوں نے سکون کا سانس لیا۔
“بیٹا بولنے سے پرہیز کرنا۔اور جب آپ ڈسچارج ہوں گی تو آپ لاہور واپس جائیں گی وہاں پڑھیں گی یہاں بلکل بھی نہیں۔،،مسٹر ملک کی بات سن کر ماشی کی آنکھوں میں بےبسی آگئ اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔پر مسٹر ملک باہر چلے گئے۔
“ماشی اس ایک دن میں بہت کچھ ہو چکا ہے۔ہارش نے آسام کو اریسٹ کروا دیا تھا۔،،عشرت نے ساری بات بتا دی۔ماشی کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئی۔
“بٹ اب وہ جیل سے باہر ہے چاچو جان نے اسے نکلوا دیا ہے۔،،عشرت نے ماشی کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔
ماشی کی آنکھوں میں پریشانی کے سائے دھوڑے ہوئے تھے سفید رنگ پیلا پڑھ گیا ہوا تھا ۔
“اچھا تم اب ریسٹ کرو۔میں آتی ہوں۔،،عشرت اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ کر بولی اور باہر چلی گئ۔
“میں سمجھ گئی میرے مولا کیوں میں کل رات کو ہوسٹل سے باہر آئی تھی کیوں میرا دل باہر جانے کو کر رہا تھا۔ پتا نہیں اس کا کیا حال ہو رہا ہو گا مجھے اس کو بتانا چاہئے کہ میں ٹھیک ہوں۔،،ماشی اپنا فون ڈھونڈھنے لگی پر ملا نہیں۔”میرا سیل۔شائد ایکسڈنٹ کے وقت گر گیا ہو۔،،
ماشی نے آنکھیں بند کر لی اس کو بہت کمزوری
ہو گئ تھی بہت سارا خون بہے چکا تھا۔
******************
رات کا پتا نہیں کون سا پہر تھا جب ماشی نے اپنے ہاتھ پر کسی کا ہاتھ محسوس کیا وہ جاگ رہی تھی اس نے آنکھیں کھولی اور اس کے نکابی چہرے کو دیکھا۔
“میں ٹھیک ہوں۔پریشان نہ ہوں۔,،،ماشی نے بہت دھیمے لہجے میں کہا نقاب پوش کی آنکھوں میں آنسوں آگئے تھے۔
“پتاہے میں نےکل آپ کو ملنے کو کیوں کہا تھا۔،،ماشی نے پھر سے سرگوشی کی۔نقاب پوش نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔
“میں جان گئ ہوں آپ کون ہیں۔تو اب اس پردے کا کیا فائدہ اتار دو نہ۔،،ماشی کے آنسوں بہنے لگے تھے۔نقاب پوش کی آنکھوں میں حیرانگی تھی نہ ہی ڈر بس آنسو اور درد تھا فکر تھی ماشی کے لئے
“جس سے محبت ہو جائے نہ اسے لاکھوں لوگوں میں سے پہچانا جا سکتا ہے میں بھی پہچان گئ تھی۔
آپ کی خوشبو مجھے آپ کی طرف کھینچتی تھی پر پتا نہیں کیوں میں بول نہیں سکتی تھی۔،،ماشی کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے۔
کتنے فنکار ہیں نہ آپ گفٹ پر ہینڈ رائٹنگ چینج کر لی میرے سامنے انجان بنتے تھے اور نقاب کا سہارا لے کر میرے ساتھ رہتے تھے۔
لاہور کی وہ شام اور پھر کتنے ہی ایسے واقعات ہوئے۔اور رندھاوا ہاؤس میں جب میں نے آپ کی آنکھوں میں جھانکاآپ کی آغوش میں وہی خوشبو تھی جو میرے ایجنٹ کی ہے سوچا تب ہی آپ کا نقاب اتار دوں۔پر میں بھی سرپرائز دینا چاہتی تھی آپ کو۔بٹ۔۔۔،،وہ رک کر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی اس کی آنکھوں میں آنسوں تھے ماشی کے ن
لئے محبت تھی
” یہ سب ہو گیا۔شائد یہ بھی اچھے کے لیئے ہوا شائد اس دن میں وہاں نہ جاتی تو شائد افنان یہاں ہوتا کیونکہ وہ ن۔نشے،،ماشی پہلی بار چپ ہوئی تھی ماشی کی آواز بھری ہوئی تھی آنسوں بہے رہے تھے۔
“آپ کیوں گئ تھی باہر جب میں نے آپ کو منع کیا تھا اور آپ کی طبیعت بھی خراب ہے ۔،،وہ نقاب اتار کر اسے دیکھنے لگا۔ماشی نے اس کا چہرہ دیکھ کر آنکھیں بند لی بہت سارے آنسوں اس کی گالوں پر آ گئے تھے محبوب کا دیدار اس کے لئے جان لیوا تھا۔۔وہاس کا دیدار برداشت نہیں کر سکی تھی
وہ اس کے آنسوں کو صاف کرنے لگا۔
“چپ کریں پلیز اب کیوں رو رہی ہیں میں آپ کے سامنے ہوں نہ۔اب تو مت روئیں۔۔،،وہ بے تابی سے بولا تھا۔۔
“ماشی آپ کی موٹی موٹی آنکھیوں میں آنسوں بلکل بھی اچھے نہیں لگتے۔میں ہمشہ آپ کے ساتھ ہوں بٹ۔اس رات۔،، وہ اپنے آنسوں پونچھ کر بولا ماشی نے اپنا ہاتھ اس کی رخسار پہ رکھ دیا۔
“کتابی کیڑا بہت رومنٹک
ہے مجھے نہیں پتا تھا۔،،ماشی اس کے بالوں کو ایک سائڈ پر کرتے ہوئے بولی۔
“مجھے بٹھاؤ پلیز۔،،ماشی اس کے ہاتھ کو تھامتے ہوئے بولی۔
“نہیں آپ ابھی لیٹی رہیں۔۔،،اس نے سنجیدگی سے کہا
“میرا شریف ایجنٹ۔،،ماشی نے پیار سے اسے دیکھا۔
“ہاہاہاہاہاہاہا۔آسام رندھاوا شریف اور کتابی کیڑے رانجھا کیسے بن گیا۔،،ماشی نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا
“میں رانجھا نہیں آسام ہی ہوں اور مجھے رانجھے کی طرح مرنے کا کوئی شوق نہیں میں اپنی رانی کے ساتھ جینا چاہتا ہوں۔،،آسام ماشی کے ہاتھ پر ہونٹ رکھ کر بولا۔ماشی نے آنکھیں بند کر لی اس کا دل دھڑکنے لگا تھا۔۔
“اور اگر میں آج زندہ نہ ہوتی ۔،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتی آسام نے ماشی کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر نفی میں سر ہلا دیا۔ ماشی نے اس کی انگلیوں کو چوم لیا آسام نے مسکرا کر ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔
“اور آپ کو مس ملک ۔ملکوں کی رانی کو مجھ جیسے بندے سے محبت کیسے ہو گئ۔دنیا کی سب سے زیادہ ڈرپوک لڑکی ہاہاہاہا،،آسام نے آخری جملے پہ اس کا مذاق اڑایا تھا۔
“کیوں میرے پاس دل نہیں ہے۔۔،مجھے محبت نہیں ہو سکتی کیا۔اور جب اتنا خوبصورت کیرنگ اور شریف انسان آپ کا سائیا بن جائے تو محبت تو لازم ہے،،ماشی نے مصنوعی غصے سے کہا۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔نہیں نہیں ہماری ہمت آپ کو روکیں۔ہم تو آپ کے غلام ہیں۔،،آسام نے شرارت سے کہا
“غلام نہیں ہیں آپ ۔،،ماشی نے اسے غصے سے دیکھا وہ مسکرانے لگا
“تو ہم آپ کے ہیں کون ۔۔،،آسام نے ہسی دبا کر سوال کیا تو ماشی شرما کر آنکھیں بند کر گئ اس کی یہ کیفیت دیکھ آسام نے بات بدل لی۔۔
“افنان کی ہر غلطی کی وجہ سے میں دل سے معافی مانگتا ہوں۔وہ نادان ہے بہت سمجھایا پر وہ نہیں سمجھتا پتا نہیں کیوں پر وہ بہت بگڑ چکا ہے وہ۔،،آسام نے ندامت سے کہا۔ماشی چپ چاپ ساتھ کرسی پہ بیٹھے آسام کو دیکھتی رہی۔
“پر وہ دل کا برا نہیں ہے بہت اچھا ہے وہ۔آج جب میں جیل میں تھا ےو وہ بہت پریشان تھا آپ کو لے کر بھی وہ پریشان تھا صبح سے شام تک نیوز والوں نے مجھے آپ کا مجرم کہا پر میں کیا کرتا ہارش نے افنان کو پھنسا دیا تھا۔پر وہ اتنا برا بھی نہیں ہے ۔
بات کے اختتام پر آسام نے نظر اٹھا کر ماشی کو دیکھا ماشی نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
“اٹس اوکے پر آپ ہر جگہ کیسے پہنچ جاتے تھےاور ہماری حویلی کے بارے میں کیسے پتا چلا آپ کو ۔،،ماشی نے آہستہ سے کہا۔
“بہت لمبی کہانی ہے فہرست میں سناؤں گا۔،،آسام نے مسکرا کر کہا
“اور میرے سامنے آنے سے کیوں ڈرتے تھے چہرے پر نقاب کیوں اڑا۔،،ماشی نے سنجیدگی سے سوال کیا۔
“افنان اور آپ کی 1965ء کی جو جنگ ہے اس وجہ سے تم دونوں بہت مطلبی ہو اپنی نفرت کے آگے میں معصوم کی محبت کو چھوٹا کرتے رہے۔۔،،آسام نے معصومیت سے کہا تو ماشی کی بے اختیار ہنسی نکل گئی آسام اسے محبت بھری نظروں سے دیکھا
” آپ اور افنان کے درمیان جو نفرت کی لکیریں ہیں انہوں نے مجھے اپنا چہرہ چھپانے پہ مجبور کیا۔مجھے ڈر لگتا تھا اگر میں آپ کے سامنے آگیا تو شائد آپ مجھے ایکسپٹ نہ کریں اور۔،،آسام نے اسے دیکھا ماشی بے تابی سے آسام کا ہاتھ تھام کر نفی میں سر ہلا دیا۔
“اچھا اب میں چلتا ہوں اتنی رات کو بغیر کسی وجہ کے میرا یہاں رکنا ٹھیک نہیں اپنا خیال رکھنا۔،،آسام نے ماشی کا ہاتھ چھوڑنا چاہا پر ماشی نے نفی میں سر ہلا دیا۔
“آسام مت جائیں پلیز۔،،ماشی کا لہجہ بھر آیا تھا آسام نے اسے بے بسی سے دیکھا۔ماشی کی آنکھوں میں سے آنسوں پھر سے برسنے لگے تھے
“مس ملک۔۔بری بات۔،،آسام نے اسے نفی کی
“اچھا اب کب آئیں گے۔،،ماشی اسے دیکھتے ہوئے بولی۔
“جب جب آپ مجھے یاد کرو گی میں آ جاؤں گا۔،،آسام نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے چھڑواتے ہوئے کہا۔
“عشرت کہتی تھی جب میں ایجنٹ کا دیدار کروں گی تو کیا ہو گا میں نے بولا تھا کہ میں مر جاؤں گی۔پر اب پتا چلا کہ میں آپ کا دیدار کر کے جینے لگی ہوں جب آپ کا دیدار نہیں ہوتا تھا تو مجھے سکون نہیں تھا آج مجھے سکون ملا ہے ۔،،آسام کے قدم رک گئے تھے اس نے مڑ کر ماشی کو دیکھا ماشی نے اسے روکنا چاہتی تھی۔اسے دیکھنا چاہتی تھی پروہ باہر چلا گیا۔
ماشی نے آنکھیں بند کر لی اور پھٹ پھٹ کر رونے لگی دیدار یار ہوا تھا اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔
وہ چاہ کے بھی اسے روک نہیں پائی تھی اسی بات پہ اسے رونا آگیا۔
_____
“سعدیہ میں نہیں جاؤں گی۔یار کتنی عجیب لگ رہی ہوں سفر ہسنے لگے گا۔پلیز رہنے دو۔،،سعدیہ اس کا میک اوؤر کروا کے لائی تھی
شگفتہ بلکل بدل چکی تھی ایک سائڈ سے بالوں کو سٹائل سے کاٹا ہوا تھا لمبے بالوں کو سٹریٹ کیا ہوا تھا شلوار قمیص پہننے ایک سائڈ پر ڈوپٹہ اور انچے سول والا جوتا پہنانے ہوئے بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
اب سعدیہ اپنا کارنامہ سفر کو دیکھانا چاہتی تھی پر شگفتہ نہیں مان رہی تھی۔
“شگف۔چلو چپ کر کے۔،،سعدیہ نے آنکھیں دیکھائی تھی۔
“نہیں۔،،شگفتہ بیڈ پر بیٹھ گئ۔اور ڈوپٹے کو انگلیوں سے الجھانے لگی
“تم اپنی بڑی بہن کی بات نہیں مانو گی۔،،سعدیہ ہاتھ باندھے اس کے سر پہ کھڑی تھی
“اوکے چلو۔،،وہ باہر نکلنے لگی۔آج سن ڈے تھا سفر اپنے بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا لان میں۔
“سفر ایک سرپرائز ہے تمہارے لئے۔،،سعدیہ نے شگفتہ کو سامنے کیا۔
“یہ کون ہے۔،،سفر اپنی ہسی دبا کر بولا۔
“شگفتہ ہے یار پہچانی نہیں جا رہی نہ۔میرا کمال ہے دیکھ لو،،سعدیہ نے خوشی سے کہا۔
“ہاں بلکل۔یہ ایسے اچھی نہیں لگتی سعدی۔تمہاری طرح نہیں بن سکتی۔،،سفر نے ہس کے کہا تھا۔شائد اس نے مذاق کیا تھا پر شگفتہ کے دل دکھا تھا۔۔
وہ ہونٹ بھئینچےکھڑی رہی۔سعدیہ نے اسے دیکھا تو وہ مسکرا دی
“م۔میں بچوں کے لئے کچھ بنا کے لاتی ہوں۔،،شگفتہ اپنی آنکھوں کے آنسوں چھپاتے ہوئے اندر چلی گئی۔پیاز کاٹنے کے بہانے آنسوں بہا دئیے سفر کے لہجے میں کچھ خاص نہیں تھا پر وہ بہت دل گرفتگی کا شکار ہوئی تھی۔اسے ایسا نہیں کہنا چاہیئے تھا پر وہ کچھ کرنے سے پہلے سوچتا ہی کب تھا
اس نے اپنے بالوں کو جوڑے کی شکل دے لیا پر کٹے ہوئے بال پیچھے نہیں ہوئے تھے بار بار اس کی گالوں کو چھو رہے تھے۔اور وہ بار بار انہیں پیچھے کر رہی تھی
پکوڑے سموسے وغیرہ اور ڈرنکس اٹھا کر وہ لان کی طرف بڑھ گئ لان میں سعدیہ اور سفر کے علاوہ کوئی اور بھی موجود تھا شگفتہ نے ایک نظر اس پہ ڈالی اور اس کے دل میں ہلچل مچ گئی وہ نہیں چاہتی تھی اس ایک انسان کو اس بارے میں پتا چلے وہ کیا سوچے گا ۔۔شگفتہ کانپتے ہاتھوں کے ساتھ سامان میز پر رکھنے لگی۔تبھی ایک پلیٹ گرنے لگی تو سکندر نے پکڑ لی۔
شگفتہ سعدیہ کے ساتھ بیٹھ گئ بچے بھاگ کر اس کے پاس آگئے تھے
“تھینک یو چھوٹی ماما۔۔،،ایک بچہ اس کے گرد بازو پھیلا کر بولا تھا۔سکندر کے ہاتھ رک گئے تھے اس نے شگفتہ کی طرف پریشان ہو کر دیکھا۔۔شگفتہ اس سے نظریں چرا رہی تھی۔
وہ بچوں کے ساتھ مصروف ہو گئ سکندر مسلسل اس کے بدلے ہوئے روپ کو دیکھ رہا تھا۔جس شگفتہ
کو وہ اپنا بنانا چاہتا تھا وہ چھوٹی ماں بن چکی تھی اور کتنی خوش تھی۔
“تم خوش نہیں ہو شگفتہ مجھے پتا ہے میں تمہاری آنکھیں پڑھ لیتا ہوں دنیا کو دھوکہ دے سکتی ہو لیکن سکندر کو دھوکہ نہیں دے سکتی۔،،سکندر اس کو دیکھ کر سوچنے لگا وہ سات سالہ بچے کو گود میں لے کر بیٹھی اسے پیار کر رہی تھی اور بچہ بھی اس کی ناک کو دبا دیتا کبھی اس کے گال پہ ہونٹ رکھ دیتا دس سالہ بچہ اس کے پیچھے کھڑا بالوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔
“بہت کچھ چھپانے لگی ہو تم۔اتنی بڑی تو نہیں ہوئی۔،،سکندر کا لہجہ خود بخود طنزیہ ہو گیا تھا شگفتہ نے ایک نظر اس پہ ڈالی اور پھر سے بچے کے ساتھ کھیلنے لگی۔
“میں تم سے بات کر رہا ہوں شگفی۔،،سکندر نے اس کو پکارا۔سکندر کو اصغر نے بتایا تھا سفر کی شادی کے بارے میں
“اب میں اپنے گھریلو معاملات میں آپ کو کیوں داخل کروں۔،،شگفتہ نے سخت لہجے میں جواب دیا سفر کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئ۔سکندر چپ کر کے چائے پینے لگا
“بہت گھول مل گئے ہیں بچے شگفتہ سے سکندر میں نے کبھی شگفتہ کو سوتن نہیں مانا ہاں مجھے اس کو ایکسپٹ کرنا مشکل تھا پر اب کر چکی ہوں ،،سعدیہ شگفتہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بولی۔سکندر کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آ گئ۔
“شگفتہ تم نے تو مجھے اپنی محبت کے لئے ٹھکرادیا تھا اب دیکھو تمہاری محبت کسی اور کے پہلوں میں بیٹھی ہے اب تمہیں احساس ہو گا دل ٹوٹنے کا درد کیا ہوتا ہے۔کتنا فخر تھا تمہیں تمہاری سو کول محبت پہ،،سکندر نے سوچا تھا۔وہ دکھی تھا پر وہ پہلی بار طنزیہ انداز سے پیش اآیا تھا شگفتہ کے ساتھ۔۔سکندر کو وہاں گھٹن محسوس ہونے لگی تھی تو وہ اٹھ کر چلا گیا۔
شگفتہ بچوں کو اندر لے جا کر نہلانے لگی۔وہ بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتی تھی دونوں بڑے بچوں کو اس سے بہت محبت ہو گئ تھی۔اور شگفتہ کو بھی ان سے بہت محبت تھی سارا سارا دن وہ ان کو پڑھاتی رہتی کبھی گانےسنانے لگ جاتی تھی۔اور سفر سعدیہ کو ٹائم مل جاتا تھا وہ دونوں ساتھ وقت گزارتے تھے شگفتہ کا دل تو کرتا تھا کہ سفر اس کے ساتھ بھی وقت گزارے پر وہ کہتی نہیں تھی۔حلیمہ بیگم ہمشہ سعدیہ کے کان بھرتی تھی کہ وہ شگفتہ سے بات نہ کرے پر وہ آگے سے ان کی بے عزتی کر دیتی تھی کافی دفع سعدیہ اور حلیمہ منہ ماری کر چکی تھی۔کیونکہ وہ سعدیہ کے کاموں میں مداخلت کرنے کی کوشش کرتی تھی اور سعدیہ کو یہ بات پسند نہیں تھی پھر شگفتہ ان دونوں کو چپ کرواتی تھی۔
کبھی کبھی سعدیہ غصے میں ہوتی تو شگفتہ کو بھی اچھا خاصہ سنا دیتی تھی پر شگفتہ اف تک نہ کرتی۔اس نے صبر کرنا سیکھ لیا تھا۔ اللہ نے اسے بہت صبر دیا تھا پر سفر نے جو اس سے وعدہ کیا تھا اس پہ وہ پورا نہیں اتر رہا تھا
*******************
“ثاقب بھائی واٹ اے سرپرائز یار۔آپ پاکستان کب آئے۔،،فہد ثاقب کے گلے لگتے ہوئے بولا افنان آسام اور ثاقب ہوسپٹل آئے تھے۔عشرت سمجھ نہیں پائی کہ وہ اسے کیسے جانتے ہیں۔۔
” کچھ دن پہلے آیا ہوں اور تم سناؤ کام کیسا چل رہا ہے۔اور سٹڈی۔۔،،
ثاقب اس سے پوچھنے لگا تھا عشرت کو ایک اور جھٹکا لگا فہد کام کرتا تھا پر کیا۔۔۔؟
فہد آسام سے بھی ٹھیک طرح سے ملا تھا پر افنان سے ویسی گرم جوشی سے نہیں ملا تھا۔
“تم دونوں چلو ہم آتے ہیں چلو فہد۔،،ثاقب فہد کو ہوسپٹل کےپیچھلی سائڈ پر لے گیا تھا عشرت کوریڈور میں کھڑی دیکھتی رہ گئ۔
“یا اللہ یہ کیا ہو رہا ہے۔کیا چکر ہے۔،،عشرت فہد اور ثاقب کو اپنائیت سے باتیں کرتے دیکھ سوچنے لگی۔
“آپ یہاں روکو میں ابھی آتا ہوں اس سے اکیلے میں کچھ بات کرنی ہے۔،،افنان نے آسام کو کہا اور اندر چلا گیا آسام چپ چاپ کوریڈور میں ٹہلنے لگا
“میری راتیں اور دن
اے جانم خاک ہیں تیرے بن۔،،افنان ماشی کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ کر بولا۔ماشی نے آنکھیں
کھول کر اسے نہیں دیکھا۔
“یہ تمہارا فون اس دن۔۔،،وہ کچھ اور بولتا ماشی بول پڑھی۔
“رکھ دو اور یہاں سے چلے جاؤ تمہاری مہربانی ہو گی۔،،ماشی کاٹ دار لہجے میں بولی۔افنان اسے دیکھنے لگا وہ بہت کمزور ہو گئ تھی سفید رنگ پیلا پڑھ گیا تھا چاند سے چہرے پر جگہ جگہ خراشیں پڑی ہوئی تھی۔
افنان کو اس کا یوں لیٹنا پسند نہیں آیا تو وہ جلدی سے باہر چلا گیا۔
تیز قدم اٹھاتا وہ ہوسپٹل سے نکل گیا۔آسام نے آواز لگائی تھی پر اس نے نہیں سنی تھی وہ دوڑ پہ بھاگ رہا تھا۔اندر کا طوفان باہر نہیں آرہا تھا اسے کیا تھا وہ نہیں جان سکا۔روڑ پہ بھاگتا گیا بہت دور جا کے وہ رک گیا تھا اور راستہ موڑ لیا جہاں وہ جا رہا تھا وہاں سکون نہیں تھا پر سہارا تھا۔
*******************
“اب آپ کیسی ہیں۔ایک دن میں آپ نے ہماری بہت دھوڑ لگاؤئی ہے۔،،ثاقب نے مسکرا کر کہا تھا۔وہ سب اس کے پاس بیٹھے تھے ماشی کی آنکھیں آسام کے نوری چہرے پر ہی جمی ہوئی تھی۔۔
“میں ٹھیک ہوں۔،،وہ آسام کو دیکھتے ہوئے ہی بولی تھی۔
“سب پاس ہیں ہوش کریں مس ملک۔،،آسام نے آنکھوں میں ہی کہا تھا ماشی کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی
“ہوش ہی تو نہیں کرنا چاہتی۔آپ کی محبت نے مجھے پاگل کر دیا ہے۔دل کرتا ہے بس آپ کو دیکھتی رہوں۔،،ماشی نے اسے دیکھتے ہوئے ہی سوچا۔
وہ سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔
“اچھا آپ بس ٹھیک ہو جائیں پھر میں آپ کو اپنے پاس لے آؤں گا پھر جی بھر کے دیکھ لینا اب نظریں جھکا لو نہیں تو میں نے بھاگ جانا ہے۔،، آسام نے اپنے نیچے والے ہونٹوں کو دانتوں میں دبا کر ہسی روکنی چاہی۔ماشی کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ آگئ عشرت نے نظریں ٹھہڈی کر کے ماشی کی نظروں کا پیچھا کیا۔اور سمجھ کر ہا سر ہلا دیا
“تو یہ شریف۔کتابی کیڑا میرا بہنوئی ہے۔ہائے کتنا ہوٹ لگ رہا ہے۔
عشرت سوچ کر مسکرا دی۔
“اوکے فہد ہم چلتے ہیں رات کو ملاقات ہو گی آپ اور بھابھی ضرور آنا۔کبھی چلو آسام۔،،ثاقب فہد کے گلے لگ کر بولا۔ آسام نے ماشی کو آنکھوں سے اللہ حافظ بولا ماشی کے ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ آ گئی۔آسام مسکرا دیا اور فہد کو گلے مل کر باہر چلا گیا
“کیا چل رہا تھا اندر۔۔،،ثاقب مصنوعی غصے سے بولا
“کیا۔،،آسام نے شہانے آچکا کر ناسمجھی کی کوشش کی۔
“مت بھولو کہ تم مشہور اور انٹیلجنٹ بزنس مین ثاقب رندھاوا کے سامنے کھڑے ہو سامی بےبی۔،،ثاقب نے اس کے کاندھے پر مکا مارا۔
“نہیں بھائی ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔،،آسام نے سنجیدگی سے کہا۔
“اوہ ریلی مجھے تو اسی دن شک ہو گیا تھا جب افنان اس کے بارے میں برا بھلا بول رہا تھا۔اور جناب غصے میں پاگل ہو رہے تھے۔نہیں یوں کہو مس ملک کی محبت میں پاگل ہو رہے تھے۔،،ثاقب نے کہکہکا لگاکرکہا تو آسام سر جھکا کر ہنسی کنٹرول کرنے لگا۔
“نہیں بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔اب چلیں۔مجھے علی کی طرف جانا ہے اور ہارش کی طرف بھی
،،آسام نے بات تبدیل کر دی تو ثاقب شہانے آچکا کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔
*******************
“سعدیہ تم اپنی سوتن کو سپورٹ کر رہی ہو کسی دن تم پچھتاؤ گی۔،،حلیمہ غصے سے بولی۔
“اس کی اتنی ہمت نہیں ہے۔میں اب اتنی بےوقوف بھی نہیں ہوں۔،،سعدیہ شطرنج کی چال چلتے ہوئے بولی۔
“کیا مطلب۔۔،،حلیمہ نے سوالیہ نظروں سے سعدیہ کو دیکھا۔وہ مسکرا دی۔
“مجھے سفر چاہئے اور اسے بچے۔میں نے بچے اس کے حوالے کر دیئے ہیں اور سفر کو لے لیا وہ بچوں میں اتنا بیزی ہوئی ہے کہ سفر اور وہ اس ایک مہینے میں مشکل سے دو تین بار بات کر سکے ہیں۔نہ ملے نہ ہیہاہاہاہا،،سعدیہ نے حلیمہ کی رانی کو مارتے ہوئے کہا اور جوس پینے لگی۔
“ہاہاہاہاہاہاہا۔نائس آئی لائک اٹ۔،،حلیمہ نے کہا۔
کمرے کے باہر کھڑی شگفتہ نے سب سن لیا تھا وہ جن قدموں سے آئی تھی انہوں سے ہی واپس چلی گئی۔
“مجھے پتا ہے سعدیہ سفر سے بہت محبت کرتی ہے پر محبت میں چالیں نہیں چلی جاتی۔محبت میں یقین ہوتا ہے اسے سفر پہ یقین نہیں ہے کیوں۔،،وہ بیڈ پر گر گئ تھی اب اسے یاد آیا تھا کہ وہ سفر سے ایک مہینہ پہلے بولی تھی آج کل وہ بچوں میں اتنا الج گئ تھی کہ سفر کی طرف دھیان ہی نہیں جاتا تھا۔اور سفر وہ تو شائد ۔۔۔ڈفر تھا۔۔۔۔وہ صرف سعدیہ سعدیہ کرتا تھا۔
سارے وعدے بھولتا جا رہا تھا۔
“بس سفر اب بہت ہو گیا میں تم سے اپنا حق لے کر رہوں گی۔میں بھی آپ کی بیوی ہوں آپ کی محبت پہ میرا بھی حق ہے ،،شگفتہ آنسوں صاف کرتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔اور کھانا بنانے چلی گئ سفر آفس سے آنے والا تھا شگفتہ اس کا انتظار کرتی رہی ۔آخر وہ آ گیا تھا شگفتہ اپنے کمرے سے بھاگ کر سیڑھیاں اتری ۔بھاگ کر ٹی وی لونچ میں پہنچی تو سعدیہ سفر کے گرد باہیں لپیٹے کھڑی تھی۔شگفتہ کے قدم رک گئے۔سفر نے اسے دیکھ لیا تھا شگفتہ منہ پھیر کر کھڑی ہو گئ بہت سارے آنسوں کو اپنے اندر اتارا اور کیچن میں چلی گئی۔
“سفر میں نے خود آپ کو اپنے آپ سے دور کر دیا ہے اللہ میری قسمت میں محبت کیوں نہیں ہےتھوڑی سی محبت تھوڑی سی سفر کی محبت میری جھولی میں ڈال دے مولا میں آنسوں آ گئے تھے۔جس وجہ سے اس کی انگلی کٹ گئ تھی خون بہنے لگا تھا۔
“دھیان سے کام کیا کرو۔،،سفر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔اور انگلی سے بہے رہے خون کو دیکھنے لگا
“چلو میرے ساتھ۔،,سفر اس کا ہاتھ پکڑ کر سیڑھیاں چڑھنے لگا شگفتہ اسے دیکھتی رہی
کمرے میں جا کر وہ اس کے کٹے ہوئی جگہ پہ ٹیوب لگانے لگا۔شگفتہ بہتے آنسوں کے ساتھ اسے دیکھنے لگی
“شگفتہ رو کیوں رہی ہو۔،،سفر اس کے ہاتھ کو پکڑ کر بولا۔
“نہیں میں نہیں رو رہی۔،،شگفتہ نے جھوٹ بولا۔
“شگفتہ پہلے دن کیا ڈیسائڈ ہوا تھا۔پھر پریشان کیوں ہوتی ہو تم۔دیکھو شگفتہ پیچھلے ایک مہینے سے تم نے مجھ سے بات تک نہیں کی اور آج رونے لگ گئ۔کیوں۔اب تم کیوں بھول گئ ہو کہ میں صرف سعدیہ کا ہوں تم نے ہی اسے کہا تھا نہ،،سفر اٹھ کے کھڑا ہو گیا تھا۔شگفتہ اس کی پیٹھ کودیکھتی رہی۔
“سفر آئی وانٹ یو۔،،شگفتہ سفر کو پیچھے سے گلے لگا کر روتے ہوئے بولی۔سفر نے آنکھیں بند کر لی تھی۔
“شگفتہ رونا بند کریں۔،،سفر نے بے بسی سے کہا
“سفر تھوڑا سا پیار تو مجھے مل سکتا ہے نہ۔بس تھوڑا سا زیادہ نہیں۔میں بھی آپ کی بیوی ہوں مجھے پتا ہے مانگنے سے پیار نہیں بھیک ملتی ہے پر میں اپنے شوہر سے اس کی توجہ مانگ کر کچھ غلط نہیں کر رہی۔۔،،،شگفتہ روتے ہوئے ہی بولی تھی۔اس نے کسی اور سے نہیں اپنے شوہر سے محبت مانگی تھی۔
سفراسے سامنے لا کر دیکھنے لگا۔
“ہاں میری جان۔،،سفر نے اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دیے شگفتہ نے جلدی سے اسے باہوں میں بھر لیا وہ دوغلے انسان کی محبت میں پاگل تھی۔کبھی تولا کبھی ماشہ ہونے والا وہ انسان اس کے لئے سب کچھ تھا
“شگفتہ رات کو دو بجے میں گیسٹ روم میں تمہارا ویٹ کروں گا آؤ گی نہ۔،سفر اس کے چہرے کو ہاتھوں میں بھر کر بولا۔شگفتہ نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
سفر اس کی گال تھپتھپا کے باہر چلا گیا۔شگفتہ آنسوں صاف کر کے بچوں کے کمرے میں چلی گئی۔
بچے اتھل پتھل مچا رہے تھے۔وہ جا کے دلچسپی سے انہیں دیکھنے ہے۔
وہ دونوں بھاگ کر شگفتہ کے پاس آگئے تھے شگفتہ نے ان کو باری باری پیار کیا روز کی طرح۔
اور سلا کر اپنے کمرے میں چلی گئی دو بجے کا انتظار کرنے لگی۔وہ سعدیہ کو دھوکہ نہیں دے رہی تھی پر سعدیہ نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا تھا…
Episode 16
“نگینہ ماشی ٹھیک ہے میری معروش ٹھیک ہے آج جشن توبنتا ہے نہ۔،،افنان شراب کی بوتل کو منہ سے لگا گیا۔
“افنان بس کرو بہت ہو گیا۔جب دکھی ہوتے ہو تو بھی شراب پیتے ہو اورجب خوش ہوتے ہو تو بھی شراب پیتے ہو۔،،نگینہ اس سے بوتل کینچھتے ہوئے بولی۔
افنان اس کو ساتھ لے کر بیڈ پر گر گیا۔
“کیا کروں عادت ہو گئ ہے اور افنان رندھاوا عادت اور ضرورت کبھی نہیں بدلتا۔،،وہ نگینہ کے ڈوپٹے کو اپنے منہ پہ پھیلاتے ہوئے بولا۔
“نگی تمہیں پتا ہے میں کیا سوچتا ہوں۔،،وہ اپنے زخمی ہاتھ کو دیکھتے ہوئے بولا۔
“میں سوچتا ہوں کاش کہ معروش۔
نہیں نہیں یارمعروش نام ٹھیک نہیں۔۔،،وہ منہ بنا کر بولا
‘” کچھ اور ہونا چاہئے ہوں ہوں۔،،وہ ہونٹ پہ انگلی رکھ کر سوچنے لگا۔
“شیرنی۔۔
نہیں نہیں۔وہ شیرنی نہیں ہے کیوں کہ وہ مجھ سے ڈرتی ہے ڈرپوک ہے ایک بار وہ بول دے افنان میں صرف تیری ہوں لے جا جہاں لے جانا ہے تو میں ایک منٹ میں اس سے شادی کر لوں گا پر وہ ہے کہ ہر وقت مجھے مارتی رہتی ہے سمجھتی ہی نہیں کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں اس کی محبت میں پاگل ہو چکا ہوں۔اسے دیکھتے ہی دل اس کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے ہے میں اس کے پاس نہیں جانا چاہتا پر یہ دل ۔,,وہ سینے پر زور سے مکا مار کے بولا نگینہ اسے ٹک ٹکی باندھے دیکھنے لگی
“یہ دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس کے پاس جاتا ہوں پر جب اس کی نفرت بھری نگاہوں کو دیکھتا ہوں تو دل کرتا ہے اسے مار دوں اس کی جان لے لوں اسے وہاں پہنچا دوں جہاں سے وہ واپس ہی نہ آئے پر وہ افنان رندھاوا کی کمزوری بن گئ ہے۔۔۔اس کا نام چاندنی ہونا چاہئے۔،،وہ یکدم غصے میں آ گیا تھا اور شراب کی بوتل اٹھا کر منہ سے لگا لی۔نگینہ کھینچنے لگی تھی کہ اس نے اسے دھکا دے دیا۔
“کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے اسے بہت سارا پیار کروں اسے تنگ نہ کروں۔۔۔پر جب جب اس کی نفرت یاد کرتا ہوں تو دل کرتا ہے اسے شوٹ کر دوں اس کے دل پہ گولی ماروں جہاں افنان کے لئے نفرت ہے۔،،وہ نشے میں دھت ہو گیا تھا اکثر نشے میں وہ سچ ہی بولتا تھا اور ان سب کی گواہ نگینہ ہی تھی
“کیسی محبت ہے تمہاری نہ اس کی موجودگی میں تمہیں چین ملتا ہے اور نہ غیر موجودگی میں۔۔،نگینہ نے افنان کی سرخ ہوئی آنکھوں کو دیکھ کرافسوردگی سے کہا تو افنان نے کہکہکا لگادیا نگینہ نے اس کے چہرے کو خوفگی سےدیکھا
“تم سے کون محبت نہیں کرے گا کتنے پیارے ہو تم۔۔،،نگینہ نے اس کی گال پر ہاتھ رکھ دئے۔
“سچی۔۔؟؟,, افنان نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔نگینہ نےہاں میں سر ہلا دیا۔
“تو چاندنی کیوں میرے پاس نہیں آتی کیوں مجھ سے دور بھاگتی ہے زندگی میں پہلی بار افنان رندھاوا کو کوئی لڑکی پسند آئی جس کی طرف وہ خود بڑھا پر وہ۔وہ مجھے تھپڑ مار کے چلی گئ میں اسے اپنی باہوں میں لینا چاہتا ہوں۔۔اس کی پیاری سی آواز سننا چاہتا ہوں کیوں میں ایسا چاہتا ہوں،،افنان اٹھ کر بیٹھ گیا۔اور بالوں کو ہاتھوں میں جکڑ لیا۔نگینہ نے اس کے ہاتھوں کو پکڑ لیا۔
“افنان محبت ایک ایسا احساس ہے جو خود با خود پیدا ہوتا ہے۔۔۔اس احساس کو پیدا کرنے کے لئے کچھ کرنا پڑھتا ہے خود کو بدلنا پڑھتا ہے۔،،
“نہیں میں کچھ نہیں بدلوں گا اور محبت شراب کی طرح ہوتی ہے جب اس کی عادت پڑھ جائے تو بدلی نہیں جا سکتی نشے میں رہنے کو جی کرتا ہے۔۔ایک دن اس کو بھی میری محبت کا نشہ سر چڑھ کر بولے گا ۔۔،،افنان نے نگینہ کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا اسے افنان کی سرخ آنکھوں سے ڈر لگنے لگا تھا تو وہ اس کے پاس سے اٹھ گئ
“نہیں میں اس ماشی
اپنے آگے جھکا کر رہوں گا۔۔،،وہ بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
نگینہ اس کو حیرانگی سے دیکھتی رہ گئ پل میں دیوانہ پل میں نفرت کی مورت بن جاتا تھا۔
“افنان سنبھل کر گاڑی چلانا۔،،نگینہ اسے دروازے کی طرف جاتے دیکھ بولی وہ اس کی کیفیت سے ڈر گئ تھی اسے روکنا نہیں چاہتی تھی۔۔افنان ہاتھ ہلا کر چلا گیا
“تو افنان تمہیں محبت ہو گئ ہے۔ ہاہاہاہا یقین نہیں ہو رہا۔۔،،نگینہ نے بے جان کہکہکا لگادیا وہ خود پر ہس رہی تھی۔
“بھلا ایک طوائف کے نصیب میں محبت کہاں ہوتی ہے۔،،وہ سوچ کر اس جگہ لیٹ گئی جہاں کچھ دیر پہلے افنان لیٹا ہوا تھا وہ اس کی خوشبو کو اپنے اندر اتارنے لگی ایک وہ ہی تو تھی جو اس کے پاس تھی۔
***************
“ماشی ایک بات کرنی تھی تم سے۔،،فہد اس کے پاس بیٹھ کر بولا تھا۔ماشی نے
“وہ جو بھی ہے نقاب پوش۔,,,فہد نے اس کا چہرا دیکھا۔
“جو بھی تم اس سے نہیں ملو گی کبھی بھی نہیں۔۔تم بھولو مت کہ تم ملکوں کی لڑکی ہو ماشی ملک ہو کوئی ایرا غیرا نہیں جو ایسے الٹے سیدھے کام کرنے چل پڑھی ہو۔میں نے تب تمہیں کچھ نہیں کہا تھا۔بٹ اب یہ جو تم نے حالت بنا لی ہے۔،،فہد نے فکر مندی سے اسے دیکھا تھا
“ماشی تم میری بہن ہو اور بڑے بھائی ہونے کے ناطے میرا فرض ہے تمہیں سمجھانا۔میں تم پہ پابندی نہیں لگاؤں گا کیونکہ پابندیوں سے وہ ہی ہوتا ہے جو۔۔،،وہ کہتے کہتے رک گیا۔ماشی نے بھی سر جھکا لیا تھا کبھی کبھی ندامت کے لمہے یاد آنے پہ نظریں نہیں ملائی جاتی فہد نے آنکھیں بند کر کے سانس لی اور آنکھیں کھول لی۔
“مجھے پتا ہے تم اس واقعے کو کبھی نہیں بھول سکتی۔پر کوئی بھی تمہاری حفاظت کرے گا اور تم اس پہ یقین کر لو۔نہیں ماشی مت بھولو وہ نامحرم ہے اور نامحرم سے ملاقات اسلام میں جائز نہیں۔ہاں اگر تم اس سے محبت کرتی ہو تو اسے اللہ سے مانگو محبت کرو پر رات کو ملنا ٹھیک نہیں۔تم یہاں پڑھنے آئی ہو۔مت بھولو۔،،فہد کی بات سن کر وہ حیران رہ گئ اس کی آنکھیں بھر آئی تھی۔
فہد اسے کیا سمجھ رہا تھا۔۔۔جو وہ نہیں تھی۔
“ف۔۔فہد میں اس سے کبھی نہیں ملی اس طرح۔۔،،وہ کیا کہ رہی تگی فہد سمجھ رہا تھا
“۔ہماری ک۔۔ککبھی ویسی ملاقات نہیں۔ہوئی۔بی۔ل۔۔لیو می۔میں نے اپنی عزت کا خیال رکھا ہوا ہے میں ویس۔ویسی نہیں ہوں۔،،وہ فہد کو صفائی دے رہی تھی وہ اسے کیسی سمجھ رہا تھا کیا تھی اور کیا سمجھ رہا تھا۔
“اس واقع کے بعد۔۔میں ۔۔میں نے خود کو۔۔،،اس سے پہلے وہ کچھ بولتی فہد نے اسے چپ کروا دیا۔
“مجھے پتا ہے ماشی پر پلیز بی کیر فل تم خود سمجھ دار ہو۔پر بھائی کا حق ہوتا ہے سمجھانا۔،،فہد اس کے سر پہ ہاتھ رکھ کر بولا ماشی نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
“چلو اب چپ کرو بہادر بچی نہیں ہو میری۔،،فہد کسی بابے بڑھے کی طرح بولا تھا۔ماشی کی ہسی نکل گئی اور وہ آنسوں صاف کر کے لیٹ گئ۔فہد کمرے سے چلا گیا۔
“آسام ویسا لڑکا نہیں ہے۔پر ہے تو نامحرم اور نا محرم۔۔،،اس کی آنکھوں کے سامنے چند سال پہلے کا واقع آ گیاکانوں میں بہت ساری آوازیں سنائی دی تھی اس نے آنکھیں بند کر لی۔
“یا اللہ میری حفاظت کرنا،،دل سے دعا نکلی تھی۔آسام کی کال آنے لگی تھی۔
وہ فون کو دیکھنے لگی بہت سارے آنسوں گالوں پر آ گئے تھے۔
سوچنے کے بعد اس نے کال کاٹ دی پھر سے کال آنے لگی تھی ماشی نے پھر کاٹ دی۔
پھر میسجز آنے لگ گئے اس نے پڑھے نہیں۔فہد کی باتوں نے ماشی کو کافی متاثر کیا تھا تبھی وہ آسام سے بات چیت نہیں کر رہی تھی
***************
“مس ملک کال کیوں نہیں اٹھا رہی۔،،وہ کچھ سوچ کر اپنے لیپ ٹوپ کو آؤن کیا سکرین پر پاسورڈ کا خالی خانہ ابھرا “mashi Asam,, اس نے رومن میں ٹائپ کیا تو لیپ ٹاپ اون ہو گیا اون ہوتے ہی اس پہ ماشی کی تصویر ابھری جو ملک حویلی کی چھت کی تھی وہ اس کے پاس کیسے آئی وہ ہی جانتا تھا
بہت کچھ تھا اس کے چھوٹے سے لیپ ٹاپ میں اسے نے جلدی سے ہوسپٹل میں ماشی کے کمرے میں لگے ہوئے کیمرے کو اپن کر لیا اب اس کے سامنے ماشی کاچہرہ
تھا۔
“پریشان کیوں ہیں یہ۔،،وہ کافی دیر دیکھتا رہا ماشی اپنے فون کو اٹھاتی تھی اور پھر رکھ دیتی تھی۔
“مجھے جانا چاہئے کیا پتا پھر کوئی پروبلم ہو گئ ہو۔۔نہیں میں کبھی آپ کو کسی مصیبت میں نہیں آنے دوں گا یہ میں نے خود سے وعدہ کیا ہوا ہے۔ایک بار افنان تمہیں ہرٹ کر چکا ہے کاش اس دن میرا فون پانی میں نہ گرتا تو میں کبھی ایسا نہ ہونے دیتا تمہارے سائے کی طرح تمہارے ساتھ رہوں گا یہ میں خود سے وعدہ کر چکا ہوں۔،،وہ پینسل کو منہ پہ رکھ کر سوچنے لگا۔ وہ لیپ ٹاپ بند کر کے اٹھ بیٹھا اور باہر نکل گیا۔
“کہاں جا رہے ہو۔۔،،ثاقب پانی کی بوتل گھماتے ہوئے بولا۔
“بھائی کچھ کام سے باہر جا رہا ہوں۔،،وہ رک کر بولا۔
“اوکے ویسے اس ٹائم رات کے بارہ بج گئے ہیں۔چلو مجھے فہد کے پاس اتار دو گے اس سے کچھ کام ہے۔ ،،ثاقب اسے بغیر دیکھے بولا
“اوکے چلیں۔،،
“ایک منٹ میں اپنا سیل لے لوں تم نیچے ویٹ کرو میں آ رہا ہوں۔،،ثاقب کہ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ان تینوں کے کمرے ایک ہی لائن میں تھے ۔بڑے دونوں کے سامنےتھے۔
ثاقب آگیا تھا وہ نائٹ ٹایوزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھا راف سے حولے میں بھی وہ بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا۔اس کی آنکھوں پہ نظر کا چشمہ بہت اچھا لگتا تھا اور اس کی ذہانت کی گواہی بھی دیتا تھا۔
,”افنان کہاں ہے آج سارا دن نظر نہیں آیا۔،،ثاقب اپنے فون پر انگلیاں چلاتے ہوئے بولا۔
“۔۔اب یہ کام اس نے دن میں بھی کرنے شروع کر دیئے۔،،آسام سنجیدگی سےبڑںڑایا کہا۔ثاقب نے گردن گھما کر اسے دیکھا ۔
“کیا مطلب کون سے کام ۔۔،،ثاقب نے حیرانگی سے پوچھا۔
“کچھ نہیں بھائی ڈونٹ وری وہ اپنے فرینڈز کے ساتھ ہو گا آجائے گا۔،،آسام باہر دیکھتے ہوئے بولا۔آسام نے جھوٹ بولا تھا ۔یہ ثاقب بھی جان گیا تھا پر وہ کچھ نہیں بولا تھا۔”فہد آپ ثاقب رندھاوا کو کیسےجانتے
ہیں اور آپ کیا کام کرتے ہیں۔،،عشرت نے کوریڈور میں کھڑے فہد سے سوال کیا۔تو وہ ہڑبڑا گیا۔
“یار۔۔،،اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتا ثاقب اور آسام کی آواز پر چونک کر وہ مڑا
“ارے بھائی۔۔،،فہد چہرے پہ مسکراہٹ سجا کر ثاقب کی طرف بڑھا۔
“آپ تو آئے نہیں ہم نے سوچا ہم مل آتے ہیں۔۔۔،،ثاقب نے فہد کی ٹانگ کینچھی۔
“یار ماشی کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے ۔،،فہد معزرت خواہ انداز میں بولا
“چلو اب چلتے ہیں کہیں ۔۔ عشرت بھابھی اور آسام ہیں ہوسپٹل۔۔،،ثاقب نے عشرت اور آسام کو دیکھا۔
“ٹھیک ہے جی چلیں۔۔آسام ہم جب تک نہیں آ جاتے یہاں ہی رکنا۔،،فہد۔ آسام کو دیکھتے ہوئے بولا۔آسام نے ہاں میں سر ہلا دیا تو ثاقب اور فہد باہر کی طرف بڑھ گئے۔
اگر آسام کی جگہ افنان ہوتا تو فہد کبھی بھی نہ جاتا۔
فہد کو اس پہ شاید یقین تھا۔
“آسام اگر ماشی سے ملنا ہے تو چلے جاؤ اندر۔۔۔،،عشرت اپنی ہنسی دباتے ہوئے بولی۔آسام نے نفی میں سر ہلا دیا
“چلے جاؤ رانجھے۔تمہاری ہیر انتظار کر رہی ہو گی۔۔ہاہاہاہا،،عشرت نے کہکہکا لگاکرکہا۔آسام کی آنکھیں پھیل گئی۔وہ اپنی کیفیت کو چھپانے کے لیئے اندر چلا گیا۔
ماشی آنکھیں بند کر کے لیٹی ہوئی تھی
آسام دروازے میں کھڑا ہو کر اسے دیکھنے لگا
“آپ کیوں آئے ہیں یہاں،،ماشی نے آنکھیں نہیں کھولی تھی آسام نے اسے دیکھا ماشی کے لہجے میں محبت کیا کوئی احساس بھی نہیں تھا۔
“چلا جاتا ہوں۔آپ ٹھیک ہیں نہ۔۔۔،،آسام کا وہی پیار بھرا لہجہ تھا۔وہ اس کے اس انداز پہ ہل گیا تھا
“ہوں۔،،ماشی نے وہی بے رُخی سے جواب دیا۔
“ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا۔اللہ حافظ۔،،آسام نے اس کی بند آنکھوں کو دیکھ کر کہا۔اور باہر چلا گیا۔
ماشی نے آنکھیں کھول لی بہت سارے آنسوں بہنے لگے تھے
“کیوں کیا تم نے اس طرح۔۔اس کی محبت میں کوئی کھوٹ نہیں ہے۔تم جتنی بار اس کے قریب گئ اتنی بار اس نے
تمہیں دور کیا۔کبھی تمہارے ڈر کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا۔پھر تم اس کی محبت کو کیوں نہیں سمجھی۔ابھی پکار لو نہیں تو بہت دور چلا جائے گا وہ۔محبت روٹھ جائے تو واپس نہیں آتی۔اور کیسے بھول گئ تم کہ اس نے ہمشہ تمہاری حفاظت کی ہے تو پھر وہ کیسے۔۔،،ماشی کے دل سے آواز آئی تھی۔ماشی نے جلدی سے اپنا فون اٹھایا اور نمبر ڈائل کرنے لگی۔
“آسام پلیز کم بیک۔،،ماشی نے بھری ہوئی آواز میں کہا وہ ہوسپٹل سے نکل رہا تھا اس کے قدم رک گئے تھوڑی دیر رکنے کے ںعد وہ واپس بھاگ کر آیا تھا۔اور جلدی سے ماشی کے پاس چلا گیا۔
“کیا ہوا ٹھیک ہیں نہ آپ۔۔،،آسام فکر مندی سے بولاماشی اسے دیکھتی رہی آسام کی آنکھوں میں دیوانگی تھی وہ سراپا محبت تھا۔جو صرف اسی کا تھا۔ماشی نے نفی میں سر ہلا دیا۔
“آسام آپ مجھ سے نکاح کریں گے نہ یا۔۔،،ماشی نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔
“محبت کا دوسرا نام نکاح ہے سچی محبت کی منزل نکاح ہوتا ہے اور میں میری محبت کی منزل تک پہنچنا چاہتا ہوں۔،،آسام اس کے پاس رکھی کرسی پر آ بیٹھا۔
“آپ پریشان نہ ہوں۔ایک دفع آپ تندرست ہو جائیں پھر ہمارا نکاح ہو گا۔یقین رکھیں۔،،آسام نے ماشی کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا آسام کی آنکھیں بھی سچ بول رہی تھی۔
“تھینک یو آسام۔۔،،ماشی رونے لگی تھی۔آسام نے بے بسی سے اسے دیکھا۔اور اس کے آنسوں کو اپنے ہاتھ سے صاف کر دیا۔
“ہر بات پہ رونے کیوں لگ جاتی ہیں آپ۔۔۔کس بات کا ڈر ہے آپ کو۔آج کل کے دور میں اتنا ڈر اور سہم کر رہنا اچھا نہیں ہے ماشی۔۔کیا وجہ ہے پلیز ٹیل می۔،،آسام نے اس سے وہ سوال کر لیا تھا جس کا جواب بہت مشکل تھا۔ماشی نے نفی میں سر ہلا دیا اور آسام کو دیکھنے لگی۔
“پتا نہیں کیوں جب آپ میرے سامنے نہیں آئے تھے تو مجھے ڈر نہیں لگتا تھا اب انجانا سا ڈر لگ رہا ہے۔۔،،ماشی نے آسام کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ لیا تھا۔آسام نے اس کے ہاتھ کو دیکھا پھر اس کے چہرے کو
“میں جن بھوت ہوں جو آپ کو ڈر لگتا ہے مجھ سے۔،،آسام مصنوعی خوفگی سے بولا۔
“نہیں آپ کو کھونے سے ڈر لگتا ہے۔۔،،ماشی نے اس کے ہاتھ کو پکڑ لیا تھا۔
“اپنے جذبات پر قابو پانا سیکھو لڑکی۔اگر بھائی فہد آ گئے تو یہ دیکھ کر پکا مجھے مار دیں گے اور ابھی تو میں جینا چاہتا ہوں۔۔،،آسام نے مسکرا کر اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑاوا لیا۔ماشی دکھی ہو کر اسے دیکھنے لگی۔
“اچھا یہ لو پکڑ لو۔،،آسام نے اپنا ہاتھ اس کے آگے پھیلا کر مسکرا کر کہا۔تو ماشی نے اس کے ہاتھ کو دیکھا۔
“آپ کے ہاتھ میں واچ بہت پیاری لگتی ہے۔،،ماشی نے اس کے ہاتھ میں ریسٹ واچ کو دیکھ کر کہاسفید کلائی پر بندھی واچ مہنگی ترین تھی پر آسام کی کلائی پر آ کر اس کی قیمت اور بڑھ چکی تھی۔
“ہاہاہاہا۔۔شکریہ اب آپ ریسٹ کریں میں باہر بیٹھتا ہوں۔،،آسام نے ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے کہا۔
“میں آپ کو کھاؤں گی نہیں۔ویسے بھی مجھے وائٹ چکن پسند نہیں سو آپ یہاں بھی بیٹھ سکتے ہیں۔۔،،ماشی نے آنکھیں سکوڑ کر کہا۔
“آپ کا کیا پتا آنکھوں سے ہی قتل کرتی رہتی ہیں۔،آسام نے قدرے رومنٹک انداز میں کہا تو ماشی شرما گئ۔
“ہیر رانجھے کی بات چیت ہو گئ ہو تو میں آ جاؤں۔۔،،عشرت نے دروازے پر دستک دے کر کہا۔
“سچ کہتے ہیں عشق کسی اور سے ہوتا ہے پر پتا پوری دنیا کو لگ جاتا ہے۔،،وہ عشرت کے لئے کرسی خالی کر کے اٹھ بیٹھا۔اور دوسری کرسی کو گھسیٹ لایا۔
“ہاہاہاہا ویسے تم تو بڑے چھپے رستم نکلے اور یہ بے واقوف تمہیں پہچان ہی نہیں سکی۔،،عشرت نے ماشی کی طرف اشارہ کر کے کہا ماشی ہسنے لگ گئ۔
“پھر اب کیا پلین ہے۔۔،،عشرت نے ان دونوں کو دیکھا۔
“پلین تو بہت لمبا چوڑا ہے۔۔،،آسام نے ماشی کو محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“پلین اب ہم بنائیں گے۔۔۔،،ثاقب اور فہد کمرے میں داخل ہوئے تھے فہد نے غصے سے کہا تو ماشی کے ساتھ ساتھ
آسام کا رنگ بھی اڑ گیا۔
“میں تو تمہیں شریف سمجھتا تھا اتنا یقین کیا اور تم نے میری بہن کو ہی گندی نظروں سے دیکھا۔،،فہد نے آسام کے گریبان سے پکڑ کر کہا۔
“ن۔نہیں فہد آس۔۔سام ایسا نہیں ہےہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں م۔۔محبت کرنا گناہ۔۔ت۔تو نہیں ہے۔،،ماشی کے گلے میں الفاظ اٹک رہے تھے
“تم چپ رہو ماشی۔،،فہد نے غصے سے کہا۔ثاقب سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔
“وہ دونوں محبت کرتے ہیں ان کے درمیان ویلن کیوں بن رہے ہو۔۔،،عشرت نے فہد کو روکنا چاہا
“تم بولو۔ہمت کیسے ہوئی تمہاری۔،،فہد نے آسام کو چھنچھوڑ کے پوچھا۔
“ایم سوری بھائی پر میں م۔ماشی سے محبت کرتا ہوں نکاح کرنا چاہتا ہوں۔۔اگر آپ کو منظور نہیں تو میں بھول جاؤں گا ماشی کو۔۔،،آسام نے بڑی مشکل سے بولا
“بھول جاؤ گے۔۔،،ثاقب نے حیرانگی سے سوال کیا۔آسام ماشی کو دیکھنے لگا ماشی کی آنکھوں میں ڈر تھا ماشی نے نفی میں سر ہلایا
“نہیں پر۔۔،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتا ثاقب اور فہد نے کہکہکا لگادیا۔اور ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا وہ دونوں اپنے پلین میں کامیاب ہو گئے تھے
عشرت ماشی اور آسام ان دونوں کو دیکھنے لگ گئے۔
“میں تمہاری شادی فیکس کرنے لگا ہوا ہوں اور تم کہتے ہو بھول جاؤ گے ۔،،ثاقب نے آسام کے سر پہ تھپکی رسید کی۔تو سامی اور ماشی نےان دونوں کو دیکھا اور سکون کا سانس لیا۔
“تو یہ بات آپ پہلے بھی بتا سکتے تھے نہ خامخا ہماری جان نکال دی۔مجھے تو لگا اب بس سب ختم ،،آسام کرسی پر بیٹھ کر بولا۔
“ثاقب بھائی نے مجھ سے بات کی ہے آپ دونوں کے بارے میں۔ماشی کا ہاتھ مانگا ہے آپ کے لئے جناب۔ماشی ٹھیک ہو جائے تو سوچتے ہیں کچھ تم دونوں کے بارے میں۔،،فہد نے آسام کے کاندھے پر تھپکی دے کر کہا ماشی شرما کر نظریں جھکا گئ۔
“بھائی ایک ہاتھ کو میں کیا کروں گا مجھے تو پوری ماشی چایئے۔،،آسام نے ہسی دبا کر کہا
“بے شرم ہو گئے ہو تم سسرال والوں کے سامنے ایسی باتیں نہیں کرتے بیٹا۔،،ثاقب نے اور فہد نے ہائے فائے کیا تھا۔
“ثاقب بھائی میں لڑکا ہوں لڑکی نہیں جو شرماؤں۔،،آسام
نے کہا ماشی کے ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ تھی وہی مسکراہٹ آسام کے چہرے پر بھی تھی۔
ان کی زندگی میں سب اچھا ہو رہا تھا۔
“اب آپ خوش ہیں نہ۔۔،،آسام نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ماشی سے سوال کیا ماشی نے ہاں میں سر ہلا کر نظریں جھکا لی
__****************
رات کے دو بجے وہ دبے قدموں کے ساتھ گیسٹ روم کی طرف بڑھ گئ۔
“میرا دل کیوں دھڑک رہا ہے۔۔ایسا لگ رہا ہے کچھ انہونی ہونے والی ہے یا اللہ کرم کرنا۔۔۔،،شگفتہ کو صبح سے ایسا ہی لگ رہا تھا پر وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی وہ سفر کی دی ہوئی کھولے گلے والی نائٹ ٹی پر ڈوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے چل رہی تھی۔
“سفر کہاں ہیں آپ۔۔،،شگفتہ گیسٹ روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئ۔
“ششش۔۔میرا بیٹا سو گیا کیا۔،،سفر نے اسے کمر سے پکڑ لیا تھا۔اور آہستہ سے سرگوشی کی۔شگفتہ کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں
“ہوں۔۔،،شگفتہ اس کے سینے سے لگ گئ۔
سفر نے اس کے ڈوپٹے کو اتار دیا۔اور لائٹ جلا دی۔شگفتہ منہ نیچے کر کے کھڑی رہی۔
“میں تمہارا شوہر ہوں یار۔۔،،سفر اس کے منہ کو اپر کرتے ہوئے خوفگی سے بولا۔
“تو پھر یوں ملنے کا کیا مطلب۔۔مجھے تو ڈر لگتا ہے اس طرح ملنے سے۔،،شگفتہ بیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے بولی
“ہاہاہاہا ڈر کیوں میں تمہارا لور نہیں شوہر ہوں بے وقوف عورت۔۔،،سفر اس کے پاس لیٹ کر بولا۔
“شوہر ہو تو اس طرح چوری کیوں ملتے ہو۔۔،،شگفتہ اپنے لمبے بالوں کو اس کے منہ پہ گرا کر ہس کے بولی
“میرا دماغ خراب ہے۔،،سفر مصنوعی غصے سے اس کے بالوں کو کھینچ کر خود پہ گراتے ہوئے بولا۔
“ہاہاہاہا دماغ خراب نہیں پاگل ہو۔۔،،شگفتہ اس کی ناک کو دبا کر بولی۔۔
“تمہاری محبت میں۔۔،،سفر نے اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیئے۔شگفتہ سہم گئ۔
“سفر محبت میں پاگل ہونے کا مطلب پتا ہے آپ کو۔۔،،اس نے سفر کو پیچھے کرتے ہوئے کہا۔سفر سوچنے لگ گیا۔
“نہیں تم بتا دو۔۔،،سفر اس کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے بولا۔
“کسی کو ٹوٹ کے چاہنا۔کسی کے اوپر اپنا
سب کچھ وار دینا۔ساری زندگی ایک انسان کے حوالے کر دینی۔اسے کہتے ہیں محبت۔۔،شگفتہ سفر کے سینے پہ انگلیاں چلاتے ہوئے بولی۔
“تو کیا تم میری محبت میں پاگل ہو۔۔،،سفر شگفتہ کے بالوں میں ہاتھ چلتے ہوئے بولا۔
” جی سفر۔۔آپ کو کوئی شک ہےکیا؟۔۔،،شگفتہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔
“نہیں میری جان ۔۔،،سفر نے شگفتہ کے ماتھے پہ ہونٹ رکھ دیے
“میں جا رہی ہوں۔۔میرا بیٹا جاگ جائے گا۔پھر وہ پورے گھر کو سر پہ اٹھا لیتا ہے آپ کی طرح۔۔ہاہاہاہا۔،،شگفتہ بیڈ سے اتر کر جوتا پہنانے لگی
سفر اسے دیکھ کر مسکرا دیا
“ہر روز۔دو بجے یاد رکھنا میری محبوبہ۔۔،،سفر نے شگفتہ کو آنکھ ماری
“سفر۔۔،،شگفتہ نے خوفگی سے اسے آنکھیں دیکھائی تو وہ ہسنے لگا۔
“اپنی بیوی کو ہی چھپ چھپ کر ملنا پڑھ رہا ہے کیسے دن آ گئے ہیں مجھ پہ سفر بیٹا تو تو کچھ دونوں کا مہمان ہے سعدیہ کو پتا چلا تو تم ختم۔۔،،سفر قمیض ٹھیک کرتے ہوئے اٹھ گیا
__**********************
“ماشی آپو کے اندر کے گھاؤ بہت گہرے ہیں۔یہ تو اللہ کی مہربانی ہے جو وہ ٹھیک ہے۔نمرہ تمہارا دل کبھی کبھی ٹھیک دھڑکتا ہے تم اس دن پریشان تھی۔تم نے جو خواب دیکھا۔کہ آپی کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ۔۔۔،،شان اور نمرہ پیچھلے لان میں بیٹھے تھے۔شان نے دکھی ہو کر کہا۔
“شان واقع ہی یار مجھے تو اب اپنے خوابوں خیالوں سے بھی ڈر لگنے لگا ہے پتا نہیں آپی کب آئیں گی یہاں چاچا جان کہ رہے تھے دو ہفتوں تک آپو کو ملک ہاؤس میں لے آئیں گے۔،،نمرہ اپنا فون شان کو پکڑاتے ہوئے بولی۔
“یہ دیکھو آپی کتنی کمزور ہو گئ ہیں۔میری آپو کتنی
پیاری ہوتی تھی۔اب چاند سے چہرے پہ داغ لگ گئے ہیں کیا یہ داغ ختم ہو جائیں گے شان۔،،نمرہ کے آنسوں صاف بہنے لگے تھے لہجہ بھی رو رہا تھا یہ اس کی محبت ہی تھی ماشی کے لئے شان نے پریشان ہو کے اسے دیکھا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا نمرہ نے اس کی سیاہ آنکھوں میں دیکھا وہاں ڈر تھا۔نمرہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی
“چلو شانی پریکٹس کرتے ہیں کل سنڈے ہے میچ ہے نہ۔،،نمرہ نے اس کے کاندھے پر تھپکی دے کر کہا۔وہ سانس بحال کر کے کھڑا ہو گیا۔
“سینٹی نہ ہوا کرو یار میں بور ہو جاتی ہوں۔،،نمرہ اپنی شرٹ ٹھیک کرکے بالوں کو بینڈ میں قید کر کے بلا سنبھال کر بولی۔
“واہ واہ۔۔اپنی بار جب یہ کدو جیسا منہ لٹکا لیتی ہو تب۔۔،،شان نےگیند کو سنبھالتے ہوئے اس کا مذاق اڑایا۔
“کاش کل ہم سب ایک ساتھ کھیل سکتےآپو ۔عشرت آپی۔فہد بھائی۔بٹ پتا نہیں ایسا کب ہو گا شانی۔۔۔،،نمرہ ویکٹیں سنبھالتے ہوئے پھر سے روہانسی ہو گئ تھی۔
“بس کرو اپنے ڈرامے بند کرو۔۔اور گیم پہ فوکس کرو جب دیکھو روتی ہی رہتی ہو انہہ۔۔،،شان نے منہ بنا کر کہا اور بال کروانے کے لئے مخالف سمت میں بڑھا ہی تھا کہ نمرہ نے بلا اس کے گھٹنوں پر دے مارا اور اندر بھاگ گئ شان زمین پر ہی بیٹھ کے کراہنے لگا تھا
___ _******************
“فہد تم مجھے بتاؤ گے کہ رندھاوا خاندان سے کیا تعلق ہے ثاقب آسام وغیرہ کے ساتھ اتنی گہرای دوستی کیسے اور تم کیا کام کرتے ہو۔آخر کیا چھپا رہے ہو۔۔پلیز ٹیل می۔،،عشرت فہد ہوسپٹل سے نکل کر ساتھ والے ہوٹیل میں بیٹھےکھانا کھا رہے تھے۔جب عشرت نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔
“عشرت تمہیں مجھ پہ یقین نہیں ہے کیا۔۔۔،،فہد نے اس کی بات کا جواب دینے کی بجائے سوال کر دیا۔
“فہد مجھے آپ پہ یقین ہے پر۔۔۔،،عشرت کچھ اور بولتی فہد نے اس کی بات کاٹ دی
“تو پھر فکر نہ کرو ایک دن میں ضرور بتاؤں گا۔،،فہد نے
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تو عشرت نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
“تمہیں پتا ہے وہ ایجنٹ کون تھا آسام۔۔،،عشرت ایکسائٹڈ ہو کر بولی
“ریلی۔۔۔وہ پرفیکٹ ہے ماشی کے لئے بہت اچھا لڑکا ہےجب بھائی ثاقب نے ماشی کا رشتہ مانگا تو میں نہ نہیں کر سکااب ماموں ولائیت سے واپس آجائیں پھر ان سے بات کروں گا۔،،فہد چاولوں کی چمچ منہ میں دباتے ہوئے بولا
“عشرت ایک بات بہت عجیب ہے نہ۔آسام ،ثاقب بھائی اچھے ہیں بٹ افنان انتہائی بگڑا ہوا۔۔۔اور بدتمیز انسان ہے۔۔,،فہد کے لہجے میں غصہ آگیا تھا
“ہاں ۔پر ہینڈسم، گڈ لوکنگ، پرسنیلٹی ہے اس کی اور اس کی آنکھیں افف اور اس کا ہیئر اسٹائل واؤ ہے۔۔،،عشرت نے آنکھیں دبا کر فہد کو چک کرنے کی غرض سےکہا۔
“اوہ ریلی۔۔۔۔تو اس سے محبت کر لینی تھی اس سے شادی کر لینی تھی میری محبت میں کیوں پاگل ہوئی۔۔،،فہد مصنوعی غصے سے بولا۔
“ہاہاہاہا میں نے سنا تھا عورتیں ہی جیلس ہوتی ہیں پر یہاں تو مرد بھی جل رہا ہے۔۔،،عشرت نےپھر سے اس کی ٹانگ کینچھی
“ہاں تو اور کیا بے شرم لڑکی اپنے شوہر کے سامنے کسی اور کی تعریفیں کر رہی ہو شرم کرو شرم۔،،فہد نے ہسی دبا کر کہا
“شرم اور میں کبھی بھی نہ۔۔،،عشرت نے نفی میں سر ہلا کر کہا تو فہد نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔اور اس کی طرف جھکا
“عشرت اپنے ہونٹوں کو نزدیک کرنا۔۔،،فہد نے رومنٹک انداز میں کہا تو عشرت کے گال شرم سے لال ہو گئے۔
“ہاؤ۔۔۔۔۔س۔سب دیکھ رہے ہیں فہد شرم کرو۔,،،عشرت محفوظ ہوتے ہوئے بولی۔اور فہد کو پیچھے دیکھل دیا
“ہاہاہاہاہاہاہا اب بولو شرم ہے یا نہیں۔۔،،فہد کرسی سے سر ٹکا کر اسے دیکھنے لگا فہد کی آنکھوں سے محبت برس رہی تھی۔
“میں نے آپ کے لئے ایک سرپرائز پلین کیا ہے۔اتنی پریشانی میں ہم ایک ساتھ ٹائم سپینڈ نہیں کر سکے اب ماشی کو لاہور شفٹ کروا دینا ہے پر اس سے پہلے۔۔آپ اور میں۔۔،،فہد نے عشرت کا ہاتھ دباتے ہوئے آنکھ ماری تو عشرت اس کی بات سمجھ کر شرما گئ۔
“افففف ایک تو یہ آپ کی شرمیلا پن ہماری جان لے گا۔۔،،فہد دل پہ ہاتھ رکھ کر بولا تو عشرت کی ہسی نکل گئی۔فہد ہاتھوں پہ تھوڈی رکھ کر اسے دیکھنے لگا۔
“چلیں۔۔،،فہد اس کے کھانے کے ختم ہونے پر بولا
“کہاں۔۔،،عشرت نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور ایک پھول اس کے آگے بڑھا دیا آس پاس کے لوگ ان کو دیکھنے لگ گئے تھے عشرت نے مسکرا کر اس کے ہاتھ سے پھول پکڑ لیا۔تالیوں کی آواز گونج گئ۔
فہد اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف چلنے لگا
ریسیپشن کاؤنٹر پر جا کر وہ رکا
“مسٹر اینڈ مسز ملک۔،،اس نےمسکرا کر کہا اور ایک جابی پکڑ لی
کمرے کے سامنے جا کر اس نے عشرت کا ہاتھ چھوڑ کر دروازہ کھول دیا
“واؤ۔،،کمرے کو دیکھ کر عشرت کے منہ سے بے اختیار نکلا پورا کمرہ سجا ہوا تھا دروازے سے بیڈ تک پھولوں سے راستہ بنایا ہوا تھا موم بتیوں اور پھولوں سے پورا کمرہ چہک رہا تھا فہد نے اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا اور پھولوں سے بھرے بیڈ پہ لے گیا۔
“میں سوچ رہا ہوں کہ ماما کی خواہش پوری کر ہی دوں۔،،فہد نے عشرت کے سامنے بیٹھ کر اس کے بالوں کو بینڈ سے آزاد کرتے ہوئے کہا عشرت شرما کر اس کے سینے سے لگ گئ۔
ان کی محبت سے اسلام آباد کی شام اور رنگین ہو گئ تھی بارش برسنے لگی تھی۔
“لگتا ہے محبت نے پھر دو دیوانوں کا ساتھ دیا ہے۔۔،،بہت دور بارش میں بھیگتی نگینہ نے سوچا تھا
