Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 17)

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry

“آسام میں لاہور جا رہی ہوں پیپرز دینے آؤں گی

مجھے ریگولر لیکچررز سینڈ کرتے رہنا۔۔،،ماشی نے اسے دیکھ کر کہا۔وہ تھوڑا پریشان تھا۔وہ اس کی اداسی کو سمجھ گئ تھی

“کیا ہوا آپ پریشان کیوں ہیں۔۔،،ماشی نے آسام کے چہرے پر نظریں جماکر کہا۔اس نے نظر اٹھا کر ماشی کو دیکھا آسام کی آنکھوں میں پریشانی اور اداسی کے سائے تھے

“کچھ نہیں یار۔۔آپ اپنا خیال رکھنا اور پلیز اکیلی باہر نہ جایا کریں۔،،آسام اپنی پریشانی بغیر بتائے فکر مندی سے کہا۔ماشی اس کےچہرے کو دیکھتی رہی

“اور پلیز اپنا خیال رکھنا آئی نو وہاں آپ کا سب خیال رکھنے والے ہیں پھر بھی۔۔،،آسام نے اس کے ٹوٹے ہوئے بازو کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لی۔ماشی ابھی بھی اپنے محبوب کو دیکھ رہی تھی

“ماشی مجھے دیکھنا بند کریں۔اور میری باتوں پہ غور کریں۔۔دیکھیں آپ۔۔،،اس سے پہلے آسام کچھ اور کہتا ماشی کہکہکا لگاکر ہسنے لگی

“ہاہاہاہاہاہاہا آسام جب آپ ایسے لیکچر دیتے ہیں تو مجھے آپ میں اسٹریلین بلے کی جھلک نظر آتی ہے۔،،ماشی ہس ہس کے پاگل ہو رہی تھی۔

“یہ آسٹریلین بلا کون ہے۔،،

“فہد وہ آسٹریلین بلا ہے اس کی آنکھیں۔بال براؤن ہیں اور رنگ وائٹ سو اسے میں آسٹریلین بلا بولتی ہوں۔،،ماشی نے ڈیٹل بتائی۔تو آسام بھی ہسنے لگا۔

“کبھی کبھی فہد سے مل کر ایسا لگتا ہے کہ ہمارا کچھ رشتہ ہو کوئی گہرا رشتہ دل اس کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے۔دل کرتا ہے اس سے بات کروں جب اس کے گلے لگتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں افنان کے گلے لگا ہوں۔،،آسام کھڑا ہو کر سنجیدگی سے بولا۔ماشی اسے دیکھتی رہی

“پہلی بار جب افنان اور اس کی لڑائی ہوئی تھی تب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا تو ایسا لگا وہ میرا اپناہے۔،،آسام ہونٹوں پر انگلی رکھ کر بولا۔

“کیافہد اور افنان کی لڑائی ہوئی پر کب۔،،ماشی کو کرنٹ لگا تھا۔

“ہائے ماشی کیسی ہو۔۔،،آسام نے بولنے کے لئے منہ کھولا تھا کہ ہارش دروازہ کھول کر اندر آ گیا تھا اس کے ہاتھ میں پھولوں کا بکے تھا ماشی کو اس کا یوں آنا اچھا نہیں لگا تھا۔

“ہارش پلیز آپ باہر جائیں گے۔۔ہم کچھ بات کر رہے ہیں۔۔،،ماشی اسے بغیر دیکھے بولی تو وہ سوری بول کے چلا گیا۔

“ہاں تو آپ کیا بول رہے تھے۔۔،،ماشی آسام کی طرف دیکھ کر بولی وہ حیرانگی سے ماشی کو دیکھ رہا تھا۔

“آپ نے مس بی ہیور کیوں کیا۔ہارش کے ساتھ۔،،

“تو کیا پھول برساتی آسام وہ ہمارا کلاس فیلو ہےاس سے بڑھ کر کچھ نہیں تو میں اس سے بے تکلف کیوں ہوں۔آپ جانتے ہیں نہ کہ مجھے یوں کسی سے بات کرنا اچھا نہیں لگتا ہاں آپ کی بات اور ہے۔۔،،ماشی مسکرا کر بولی

“۔کلاس فیلو اور پڑھائی

کی حد تک ٹھیک ہے بٹ وہ بہت فرینک ہوتا ہے مجھے پسند نہیں ہے اپر سے اس نے آپ کو جیل بھجوا دیا۔۔حد ہے یار اس کو کس نے حق دیا تھا۔۔،،ماشی نان سٹاپ بولنے لگی تھی آسام اسے مسکرا کر دیکھنے لگا۔

“ہس کیوں رہے ہو تمہیں اچھا لگتا ہے کیا کہ۔۔۔۔

کہ تمہار۔۔ی ماشی کے ساتھ کوئی بات کرے۔۔،،ماشی نے اس کی ٹانگ کینچھی تھی

“نہیں پر اگر کوئی نیک نیت سے بات کرے تو بات اور ہے۔۔،،آسام نے سنجیدگی سے جواب دیا اور ہسنے لگا۔

“مسکرا کیوں رہے ہو۔۔،،ماشی نے اسے گھور کر کہا

“کچھ نہیں۔۔،،آسام اپنی ہسی نہیں روک سکا تھا۔

“اچھا آپ یہ بتاؤ فہد اور افنان کی لڑائی کب ہوئی۔۔اور کیوں ہوئی۔۔،،ماشی نے پر سوچ انداز میں پوچھا۔آسام نے ساری بات ماشی کو سنا دی

“یار افنان کی پروبلم کیا ہے کسی کو بھی چین سے جینے کیوں نہیں دیتا۔،،ماشی دانت پیس کر بولی۔اسے افنان کی ایک ایک حرکت یاد آ رہی تھی۔

آسام کے پاس اس کے سوال کا جواب نہیں تھا یا وہ بتانا نہیں چاہتا تھا ماشی نہیں جان سکی۔

“اچھا اب میں چلتا ہوں۔۔۔،،آسام اپنی ریسٹ واچ پر ٹائم دیکھتے ہوئے بولا۔۔ماشی اسےپریشانی کے عالم میں دیکھنے لگی۔ آسام نے اس کی پریشانی کو بھانپ کر اس کی طرف بڑھا

“اب کیا ہوا۔۔،،آسام کرسی پہ جا بیٹھا۔

“کچھ نہیں۔,،،ماشی نے نظریں جھکا کر کہا۔

“فکر نہ کریں سب ٹھیک ہو گا۔۔،،آسام نے پہلی بار اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا۔ماشی نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلا دیا

“آسام۔۔۔،،ماشی نے جزبات سے بھری آواز میں سرگوشی کی۔

“جی۔۔،،آسام نے اس کو نظر اٹھا کر اسے دیکھا

“آپ نظریں جھکا کر کیوں رکھتے ہیں نظریں اٹھا کر کیوں نہیں دیکھتے مجھے۔۔،،ماشی نے آسام کو غور سے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔آسام نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تو ماشی شرما کر نظریں جھکا گئ

“ہاہاہاہاہاہاہا اسی لئے نظریں جھکا کر رکھتا ہوں۔۔آپ کو ہمارے جذبات کا علم ہو جائے تو دل میں اتھل پتھل مچ جائے گی۔۔,،آسام نے شرارت سے کہا ماشی کا کہکہکا بے اختیار تھا اور آسام بھی ہسنے لگا

“آسام پلیز کم بیک۔۔،،آسام جانے کے لئے دروازے کی طرف بڑھا تھا کہ ماشی نے اسے پکارا آسام کے دروازہ کھول رہے ہاتھ روک گئے اس نے مڑ کر ماشی کو دیکھا۔اور اس کی طرف بڑھ گیا

“ماشی پلیز مجھے پیچھے سے آواز نہ لگائی کرو ۔۔،،آسام اس کے پاس بیٹھ کر بولا۔

“My heart says to you I have sit,,

ماشی نے آسام کا ہاتھ تھام لیا۔۔اور اسے دیکھنے لگی۔آسام کی آنکھوں میں اب بے بسی تھی۔

“Thus, do not,, آسام بے بسی سے بولا

“کیا کروں یار یہ دل ہے کہ مانتا نہیں۔۔،،ماشی نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا اور چھت کو گھورنے لگی۔

“اوکے اب آپ ریسٹ کریں۔۔۔اللہ حافظ۔،،آسام اٹھ کر چلا گیا۔

“مجھے کیا ہو گیا ہے میں اس کو نہ دیکھوں تو سکون نہیں ملتا وہ جانے لگتا ہے تو میرا دل بھر آتا ہے وہ میرا ہاتھ پکڑتا ہے تو طاقت آ جاتی ہے مجھ میں۔مجھے اپنے جذبات پر قابو پانا چاہئے۔۔،،ماشی نے سوچا اور آنکھیں بند کر لی۔

اس کی محبت ہی ایسی تھی۔۔

ماشی کے گھاؤ ابھی بھرے نہیں تھے پر ڈاکٹر ملک کے کہنے پر ہوسٹل سے ڈسچارج مل گیا تھا۔۔

ڈاکٹر ملک نے اپنے ہوسپٹل سے ایک اچھی نرس کو ماشی کی دیکھ بھال کے لئے چنا تھا۔

***************

“What!she is going ,،،

آسام کی بات پہ افنان کو کرنٹ لگا تھا آسام نے حیران کن آنکھوں سے افنان کو دیکھا۔

“ہاں جا رہی ہے تمہاری کرتوتوں سے تنگ آکر۔۔ہر روز تم اس کو زلیل کرتے تھے کتنی بار اس کی عزت پہ ہاتھ ڈالا،،آسام نے ماتھے پہ بل ڈال کر کہا افنان کی ہسی نکل گئی۔

“ذلیل کب کیا۔۔۔ہاں تنگ تو کرتا تھا۔۔مزہ آتا تھا جب وہ مجھ سے ڈرتی تھی۔آج تک ہر لڑکی نے افنان رندھاوا کو محبت بھری آنکھوں سے دیکھا وہ پہلی لڑکی ہے جس کی آنکھوں

میں میرے لئے نفرت ہے آئی لائک اٹ۔۔،،افنان سامنے لٹکے ڈوپٹے کو دیکھ کر بولا۔۔آسام نفی میں سر ہلا کر اٹھ کر باہر چلا گیا۔اس سے برداشت نہیں ہوتا تھا کہ کوئی بھی ماشی کے بارے میں بکواس کرے افنان اس کا بھائی تھا جس وجہ سے وہ اسے کچھ نہیں کہ سکتا تھا

“مس چاندنی تم خود کو کیا سمجھتی ہو۔۔اب تمہاری نفرت کو میں محبت میں بدل کر رہوں گا اور تمہاری یہ خوشبو۔۔،،وہ سامنے پڑھا ماشی کا دوپٹہ اٹھا کر سونگھنے لگا

“تمہاری یہ خوشبو میری آغوش میں مہکے گی۔تم کو میں اپنے اتنا پاس لے آؤں گا کہ۔تمہیں میرے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔۔تم صرف افنان افنان کرو گی۔،،وہ بیڈ پر گر کر ماشی کے ڈوپٹے کو منہ پہ پھیلا کر بولا۔

ماشی کے ڈوپٹے کو اس نے ہونٹوں سے لگا کر الگ کیا اور مسکرانے لگا۔وہ کیا کرنے والا تھا یہ تو وہ ہی جانتا تھا

***************

ماشی ملک ہاؤس پہنچ گئی تھی اس کی ماں کی آنکھوں میں آنسوں آگئے تھے۔نمرہ کو شان نے بہت سمجھایا تھا کہ وہ اموشنل نہیں ہو گی پر نمرہ کیا جو اموشنل نہ ہوتی۔۔ماشی سے مل کر وہ بہت روئی تھی ۔

“میں نے کیا بکواس کی تھی ۔،،شان غصے سے چلایا تھا۔

“میں اب تمہیں کبھی ڈائیاگرام نہیں بنا کے دوں گا۔۔،،شان نے اسے دھمکی دی

“اچھا سوری نہ ۔۔،،نمرہ نے معاشی کی طرح اس کے کان پکڑ کر کہا۔

تو اس کی ہنسی نکل گئ۔

“عرض کیا ہے۔۔،،اس سے پہلے شان کوئی شعر سناتا نمرہ نے ہاتھ جوڑ دیئے۔

“بس بس شا عر صاحب مجھے آپ کے سڑے ہوئے شعر سننے کا کوئی شوق نہیں ہے۔۔،،نمرہ ناک سکوڑ کر سیڑھیاں اتر گئ۔

“لو بھائی!گھر کی مرغی دال برابر کسی کو میری قدر ہی نہیں ہے۔،،شان نے سوچا اور پتنگ سنبھالنے لگا وہ دسویں کا اسٹوڈنٹ تھا پر شعر وشاعری فہد جیسی کرتا تھا۔اسے یہ فن فہد سے ہی ملا تھا۔

***************

“آج ویلنٹائن ڈے ہے تم نے سفر کے لئے کچھ پلین کیا۔۔۔،سعدیہ نے اس کے چہرے کو دیکھ کر پوچھا شگفتہ اپنے بیٹے کو گود میں لئے بیٹھی تھی پتا نہیں سعدیہ نے ایسا سوال کیوں کیا تھا شگفتہ کا دل بھر آیا تھا کیونکہ سفر نے اسے دو بجے کا ٹائم دیا تھا وہ ہر رات اس کا ویٹ کرتی تھی پر سفر کبھی کبھی آتا تھا

“نہیں۔۔۔,،،شگفتہ نے نفی میں سر ہلا کر کہا۔وہ کچھ کرنا بھی نہیں چاہتی تھی

“کیوں بھائی وہ تمہارا

شوہر ہے یار۔۔،،سعدیہ نے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا۔

“ہاں بٹ تم۔۔،شگفتہ نے سعدیہ کو دیکھ کر چپ ہو گئ۔

“اوہ ہو۔۔شگفتہ اب قسمت نے ہمیں ایک ساتھ کھڑا کیا ہے تو رشتہ نبھانا تو ہو گا۔۔ویسے بھی تمہیں اور سفر کو کبھی ٹائم نہیں ملا اسی بہانے ٹائم بھی سپینڈ کر لینا۔چلو ۔،،سعدیہ نے اس کی گود سے بچے کو پکڑ لیا اور بچے کی چھوٹی سی ناک دبانے لگی۔

شگفتہ کو سمجھ نہیں آئی سعدیہ اور سفر دونوں ہی اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ تھے۔

“اوکے۔۔میں کچھ سوچتی ہوں۔۔،شگفتہ اٹھتے ہوئے بولی

وہ کمرے میں جا کر سوچنے لگ گئ کہ کیا کرے۔اس کا دل مان گیا تھا۔آخر کافی دیر بعد اسے کوئی ایڈیا آیا تو وہ ملازمہ کو ساتھ لے کر بازار چلی گئ۔سفر کے لئے گفٹز لئے اور واپس آ کر اپنے کمرے کو کینڈلزبلونز وغیرہ سے سجانے لگ گئ۔اس کام سے فارغ ہو کر اس نے براؤن امبروڈیڈ ساڑھی زیب تن کر لی۔سمپل سی جویلری پہن کے بالوں کو کھولا چھوڑ کر خود کو دیکھنے لگ گئ اتنے میں بچہ رونے لگ گیا اس نے بچے کو دودھ پلا کر سولا دیا اور سفر کا ویٹ کرنے لگی۔

کافی دیر بعد گاڑی کا ہارن سن کر وہ کھڑکی پہ جا کھڑی ہوئی۔سفر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا اس کے ہاتھ میں کچھ گفٹز تھے۔شگفتہ پھر سے آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئےمسکرا کر باہر کی طرف لپکی۔

سیڑھیاں اترتے ہوئے اس کے پاؤں تھم گئے۔حال میں سفر اور شگفتہ کھڑے تھے۔سفر کی گال پر لیپسٹک کا نشان تھا وہ دونوں ہس کر کچھ بات کر رہے تھے۔سفر نے گفٹز سعدیہ کو تھما دئے تھے۔

شگفتہ نے نظریں جھکا لی اور سیڑھیاں اتر کر کیچن میں گھس گئ۔

پانی لے کر وہ باہر آئی۔

“شگفتہ ہم باہر جا رہے ہیں تم چلو گی۔۔،،سفر صوفے پر بیٹھا تھا۔شگفتہ کو دیکھ کر بولا تو اس نے مسکرا کرنفی میں سر ہلا دیا۔

“اوکے۔۔سعدیہ جلدی کرو۔۔،،سفر گھڑی دیکھ کر بولا شگفتہ کادل بھر آیا تھا جس کا ڈر تھا اسےوہ ہی ہوا تھا

سفر نے اس پہ نظر ڈالی تو وہ مسکرا کر سیڑھیاں چڑھ گئ۔سفر کو اس کی مسکراہٹ کتنی پھکی لگی تھی اس کے چہرے پہ سفر کی آنکھیں الجھ گئ تھی ۔تھوڑی دیر میں اسے گاڑی سٹارٹ ہوتی سنائی دی وہ کھڑکی میں کھڑی ہو کر دیکھنے لگی سفر اور سعدیہ بہت دور چلے گئے تھے

شگفتہ نے جویلری اتار دی۔ساڑھی بھی کھینچ دی۔اور کپڑے چینج کر کے لیٹ گئی۔دل میں آگ لگی ہوئی تھی۔وہ صبر والی تھی پر اتنا صبر کر کر کے وہ تھک چکی تھی۔

آنسوں سے چہرہ تر ہو گیا تو وہ واش روم چلی گئ۔واپس آ کر اس نے سارے کمرے کو تہس نیس کر دیا کینڈلز کو اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دیا پھولوں کو بیڈ سے نیچے پھینک دیا۔کمرے کو تحس نحسکر کے وہ بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئ۔اتنے میں دروازے پہ دستک ہوئی تھی۔وہ اپنے آنسوں صاف کر کے باہر چلی گئی۔بڑا بچہ باہر کھڑا تھا۔

“چھوٹی ماما کیا ہوا۔۔،،وہ شگفتہ کی موٹی موٹی آنکھیوں میں آنسوں دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا۔۔شگفتہ زمین پر پنجوں کے بل بیٹھ گئ۔

“کچھ نہیں بیٹا آپ سوئے نہیں۔۔،،شگفتہ نے اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ کر کہا۔

“نیند نہیں آ رہی آپ میرے پاس آجائیں۔،،وہ شگفتہ کے گرد بازو حائل کر کے بولا تو شگفتہ دروازہ بند کر کے اس کے پاس چلی گئ۔

“چھوٹی ماما آپ باہر کیوں نہیں گئ۔۔،،شگفتہ بچے کے سر میں ہاتھ چلا رہی تھی۔

“بیٹا آپ کی بڑی ماما اور پاپا گئے ہوئے ہیں اور گھر میں دادو دادا بھی نہیں ہیں اسی لئے مجھے رکنا پڑا۔۔،،شگفتہ کھوئے کھوئے انداز میں بولی۔

“چھوٹی ماما آپ پلیز کہیں نہ جائے گا۔۔آپ اگر چلی گئی تو میں کیسے رہوں گا۔۔،،بچہ اٹھ کے بیٹھ گیا تھا اور اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ شگفتہ کی گال پر رکھ دیئے

“میں نے کہاں جانا ہے میری جان آپ کے بغیر میں نہیں جی سکتی نہ۔۔،،شگفتہ نے اسے زور سے اپنے سینے سے لگا لیا

“ماما کہتی ہیں آپ کچھ دن کے لئے ہی ہیں پھر چلی جائیں گی۔اور کبھی نہیں آئیں گی۔،،بچہ رونے لگ گیا تھا۔۔شگفتہ کو لگا جیسے اس کے

سینے میں کھنجر گاڑھ دیا ہو وہ حیرانگی سے بچے کو دیکھنے لگی۔

“ک۔۔کیا مطلب بیٹا۔ایسا ک۔کیوں کہا۔مما نے۔،،شگفتہ خوفگی سے بولی

“چھوٹی ماما پاپا آپ کو ڈیورس دینے والے ہیں میں نے ماما اور پاپا کی باتیں سنی تھی۔پلیز آپ نہ لینا۔،،بچہ روتے ہوئے بولا۔

“شگفتہ کو لگا وہ ابھی مر جائے گی اس کی سانسیں حلق میں اٹک گئ۔کسی نے زور سے اس کے سینے میں کھنجر گاڑھ دیا تھا اگر اس کے آنسوں نہ بہتے تو وہ بے جان لگ رہی تھی۔

“بیٹا بری بات ایسے پاپا ماما کی باتیں نہیں سنتے۔۔اگر میں چلی گئ تو میں آپ سے ضرور ملا کروں گی۔ہم روز ملا کریں گے۔۔،،شگفتہ نے روتے ہوئے بچے کو چپ کروایا تھا۔

“پکا ماما آپ مجھ سے ملا کریں گی۔۔،،بچہ خوش ہو کر بولا تھا۔

شگفتہ نے ہاں میں سر ہلا دیا۔

بچے کو سلا کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی

ساری رات اس نے جاگ کے گزاری تھی دن کو نماز پڑھ کر وہ کیچن میں جا گھسی۔سفر باہر آیا تو وہ اسے ٹک ٹکی باندھے دیکھنے لگی۔

“تو سفر میری محبت ہار گئ۔۔آخر میں تمہارے لئے ایک مہرہ ہی تھی۔,,وہ سبزی کاٹتے ہوئے سفر کو دیکھ کر بڑبڑائی وہ رک کر اسے دیکھنے لگا تو شگفتہ نے نظریں جھکا لی۔سفر سعدیہ کی بغل والی کرسی پر بیٹھ گیا۔شگفتہ نے میز پر کھانا لگانا شروع کر دیا تھا سفر اور سعدیہ کچھ ڈسکس کر رہے تھے پر جب شگفتہ میز پر آتی تو وہ دونوں چپ کر جاتے شگفتہ نے نوٹس کیا اور پھر واپس نہ آئی۔اپنے کمرے میں چلی گئی

اس کو پل پل قیامت کا الہام ہو رہا تھا۔

“سفر ایسا مت کرنا۔۔میرا بچہ کیسے باپ کے بغیر رہ سکے گا سفر اپنے بچے کے لئے ایسا ظلم مت کرنا۔۔،،وہ سفر کی قد آدم تصویر کو دیکھ کر گڑگڑا رہی تھی

پر تصویریں کہاں بولتی ہیں ۔۔

ہر روز یہ ہی ہونے لگا تھا شگفتہ سفر کو دیکھتی رہتی تھی۔کبھی کبھی دل کے ساتھ آنکھیں بھی بھر آتی تھی۔سفر جان بوجھ کر اسے اگنور کرنے لگا تھا وہ بدل گیا تھا۔

ایک ہفتہ گزر گیا کچھ نہیں ہوا تھا۔شگفتہ بھی ریلکس ہو گئ تھی۔اسے محسوس ہوا شائد سعدیہ نے غصے میں آ کر کہ دیا ہو کیوں۔اکثر وہ غصے میں کچھ بھی بول جاتی تھی ۔

دل پہ جو کچھ بھی گزرتی ہے کہوں یا نہ کہوں

مان لوں اپنا تجھے یا کوئی بیگانہ کہوں

جب سے آشفتہ سری نے مجھے آوارہ کیا

ہے مناسب کہ تر ے شہر کو ویرانہ کہوں

بحر حسرت میں جو یادوں کے سفینے ڈوبے

ہائے کس منہ سے بھلا پیار کا افسانہ کہوں

دشتِ غربت میں کہاں آبلہ پائی سے مفر

ورنہ میں تو کسی صحرا کو بھی صحرا نہ کہوں

ہوش ہوتا تو خبر ہوتی مجھے عالم کی

کس کو فرزانہ کہوں اور کسے دیوانہ کہوں

تُو نے یوں دیکھا مجھے جیسے کہ دیکھا ہی نہیں

اور میں ہوں کہ تری چال کو مستانہ کہوں

زندگی کیا ہے عذابِ دل و جاں ہے ناظرؔ

لوگ کہتے ہیں کہ دنیا کو بھی دنیا نہ کہوں

کافی دن گزر گئے تھے اس بات کو شگفتہ نے فیصلہ کر لیا کہ وہ سفر سے ضرور بات کرے گی

سفر نہا کر آفس کے لئے تیار ہو رہا تھا شگفتہ اس کے پاس جا کھڑی ہوئی۔سعدیہ کمرے میں نہیں تھی۔

سفر کے ایک منٹ کے لئے ہاتھ تھم گئے تھے وہ روک کر اس کے اداس چہرے کو دیکھنے لگا۔۔سفر کی آنکھوں میں کچھ تھا شگفتہ نے اس کی آنکھوں کو پڑھنا چاہا پر وہ نظریں جھکا کر ٹائی باندھنے لگا۔۔

پر ٹائی باندھی نہیں جا رہی تھی۔شگفتہ نے اس کے ہاتھ کو پکڑ لیا اور ٹائی باندھنے لگی ۔

“سفر آپ آج کل اس طرح کیوں کر رہے ہیں۔۔،،شگفتہ ٹائی باندھتے ہوئے بولی

“میں نے کیا کیا۔۔،،سفر لاپرواہی سے بولا شگفتہ نے اس کے چہرے کو دیکھا اور پھر سے ٹائی باندھنے لگی۔

“سفر آپ کو جو کرنا ہے کر لیں پر پلیز مجھے اور ہمارے بچے کو خود سے دور مت کرنا۔۔۔،،شگفتہ کا لہجہ بھر آیا تھا وہ ٹائی باندھ کر واپس بھاگ گئ سفر اسے جاتے دیکھتا رہ گیا۔۔۔

*****************

“نمرہ کتنی بار کہا ہے اس کمرے کی طرف نہ جایا کرو چاچی سے ڈانٹ پڑھ گئ نہ۔۔اب چپ کرو،،عشرت اس کو چپ کرواتے ہوئے بولی۔پر نمرہ روتی گئ

“پر کیوں آپی بچپن سے دیکھ رہی ہوں وہ کمرہ کوئی نہیں کھولتا۔۔بس چاچی صفائی کرواتی ہیں کیوں اس پہ تالا لگا ہوا ہے میں جاننا چاہتی ہوں۔،،نمرہ روتے ہوئے چلائی تھی۔

“نمرہ چپ کرو ہم اتنے بڑے ہو گئے ہیں کبھی اس کمرے کی طرف نہیں گئے۔تو تم اب حویلی کے رولز توڑو گی بری بات بیٹا بڑے جس کام سے روکیں رک جانا چاہئے۔،،فہد نے اسے سمجھانا چاہ پر وہ روتے ہوئے بھاگ گئ۔ اسے ماشی کی ماں سے کافی ڈانٹ پڑھی تھی کیونکہ وہ چوری چوری اس کمرے میں جانا چاہ رہی تھی جہاں ہمشہ تالا لگا رہتا تھا

“فہد ویسے کئی بار میرے ذہین میں بھی یہ سوال آتا ہے کہ یہ کمرہ پیچھلے کئ سالوں سے بند کیوں ہےمیں نے جب ہوش سمبھالا تب سے اس کمرے کو دیکھ رہی ہوں بند ہی پڑھا ہے کیوں۔۔،،عشرت پر سوچ انداز میں بولی۔

“پتا نہیں تم دماغ نہ چلاؤ اپنے شوہر پہ توجہ دو۔۔،،فہد نے اس کے سر پہ چپ مار کر کہا ۔عشرت مسکرا کر اس کے ہمراہ چل دی

“ویسے میرے ذہین میں بھی یہ ہی سوال آتا ہے پر کچھ کر نہیں سکتے اچھا چھوڑو چلو کہیں چلتے ہیں۔کیا خیال ہے۔،،فہد عشرت کا ہاتھ پکڑ کر بولا وہ لوگ چھت پر چلے گئےتھے

“خیالات تو نیک ہی ہیں،

عشرت نے شرارت سے کہا تو فہد نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔

“اچھا اپنے نیک خیالات سے مجھے بھی آگاہ کر دیں۔۔،،فہد نے اس کی رخسار کو چھوتے ہوئے کہا۔

“اچھا پہلے چھوڑیں چاچا گھر ہی ہیں اپر آگئے تو بینڈ بجا دیں گے آپ کی اور یہ سارا رومانس نکل جائے گا آپ کا۔۔،،عشرت اس کی گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش کرتے ہوئے مسکرا کر بولی

“اوکے جاؤ۔۔،،فہد نے اس کو چھوڑ کر پیٹھ پھیر کر کھڑا ہو گیا۔۔عشرت اسے حیران ہو کر دیکھنے لگی تھبی فہد بولا

“عرض کیا ہے۔۔

لفظ کریں گے اشارہ جانے کا

تم آنکھیں پڑھنااور رک جانا،،

فہد نے اسے پھر سے اپنی گرفت میں لے لیا تھا عشرت نےمسکرا کر اس کے سینے پر سر رکھ دیا ۔

“چوری چوری پیار کریں گے ہم دونوں۔۔،،سٹیف اڑ کر فہد کے کاندھے پر آ بیٹھا تھا اور سریلی آواز میں بولا

“شش۔۔سٹیف شور نہ کرو ۔،،فہد نے اسے اڑاتے ہوئے کہا۔

عشرت ہسنے لگ گئ تھی۔فہد بھی مسکرا دیا تھا۔

“فہد آپ کو یاد ہے نہ ہم ابھی ہنی مون نہیں گئے۔۔،،عشرت الگ ہو کر بولی۔

“ابھی ہنی مون کی کوئی ضرورت باقی ہے انگلینڈ تو لے جا رہا ہوں۔۔،،فہد اپنی بھوری بھوری آنکھوں کو پھیلا کر بولا تو عشرت ہسنے لگی

********************

“شگفتہ مجھے نہیں پتا کہ آپ کے دل میں میرے لئے کوئی جگہ ہے یا نہیں ہے پر میرے دل میں تمہارے لئے ہمشہ جگہ رہ گی اور یہ میرا بچہ ہے سکندرکا اسے میرا نام ملے گا اور تم مجھے شوہر نہیں تو ایک اچھا دوست تو سمجھ سکتی ہو پچھلے ایک سال اور چھ مہنے سے آپ نے مجھ سے بات نہیں کی آپ نے مجھ سے نکاح اپنی رضامندی سے کیا تھا نہ۔۔،،سکندر اس کے سامنے بیٹھا پوچھ رہا تھا وہ خالی خالی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگ گئ۔

آج اس کا سکندر کے ساتھ نکاح ہوئے ایک سال چھ مہینے ہو گئے تھے اسے سفر نظر نہیں آ رہا تھا وہ آج بھی اسی کے نام کو جپتی تھی۔

“ہاں میں نے اپنی مرضی سے تم سے نکاح کیا تھا۔۔،،شگفتہ جواب دے کر پھر سے کہیں کھو گئ تھی۔

“شگفتہ کن خیالوں میں گم ہو۔۔،،سکندر نے اس کے شہانے کو ہلا کر کہا تو وہ ہوش میں آئی۔اور اس کی آنکھوں میں اداسی تھی وہ خالی خالی آنکھوں سے سکندر کو دیکھنے لگی۔

“سکندر ہم پیدا کیوں ہوئے ہیں۔۔،،شگفتہ نے سکندر سے سوال کیا۔سکندر حیران کن آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا وہ اکثر ایسےہی

سوال کرنے لگی تھی

سوال کرنے کے بعد وہ کھو جاتی تھی۔

سکندر نے اس کے چہرے کو دیکھا اداسی چھائی ہوئی تھی۔آنکھیں سرخ تھی

“کاش میں تمہاری ساری تکلیفیں لے سکتا اور اپنے سارے سکھ تمہیں دے سکتا۔۔،،سکندر نے سوچا اور بچے کو اٹھا کر ٹیرس پر آ گیا کراچی کی شام بہت خوبصورت تھی پر شگفتہ تو کہیں اور ہی تھی۔

“شگفتہ ایک بات کہوں کیا جب میں مر جاؤں گا تب بھی تم مجھے یاد نہیں کرو گی۔تب بھی تم سفر کو یوں یاد کیا کرو گی۔کیا تب بھی تمہارے دل میں میرے لئے نہیں بلکہ سفر کے لئے محبت ہو گی۔۔۔،،سکندر واپس اس کے پاس آکر بیٹھ گیا تھا۔

شگفتہ نے اس کو دیکھا سکندر کے چہرے پر بہت ساری دیوانگی تھی جیسے وہ اکثر اگنور کرتی تھی

“جو ہوا اسے بھول نہیں سکتی تم مجھے پتا ہے پربھولنے کی کوشش تو کر سکتی ہو۔۔تم سفر سے محبت کرتی تھی کرتی ہو اور شائد کرتی رہو گی۔۔پر مجھے تمہارا مر جھایا ہوا چہرہ اچھا نہیں لگتا۔میں جانتا ہوں تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی پر اب تم میری بیوی ہو۔میں تم سے کوئی اختیارات نہیں مانگتا پر یوں پریشان نہ ہوئی کرو سفر کے ساتھ گزارے اچھے لمحوں کو یاد کیا کرو۔اور یہ دیکھو۔۔،،اس نے بچے کی طرف اشارہ کیا۔۔”یہ ہے نہ چھوٹا سفر تمہارے پاس۔۔ ،، سکندر مسکرا کر بولا تھا

سکندر اسے ایک دوست کی طرح ٹریٹ کر رہا تھا کیوں کہ ایک شوہر کبھی اپنی بیوی کو یہ حق نہ دیتا کہ وہ کسی اور کو سوچے۔پر سکندر جانتا تھا اس کی محبت کو اس نے جو کچھ بھی سفر کے لئے کیا تھا ,چھ مہینے سے سکندر نے اس پہ کبھی شوہر ہونے کا حق نہیں جمایا تھا۔

“سکندر مجھے معاف کر دو میں نے تمہارا دل توڑا تھا اس کی ہی سزا ملی مجھے۔۔،

مجھے یہاں سے لے چلواس ملک سے لے چلو۔۔لے چلو مجھے یہاں سے۔۔مجھے یہاں گھٹن محسوس ہوتی ہے دم گھٹتا ہے میرا یہاں۔مجھے لگتا ہے میں مر جاؤں گی پلیز مجھے یہاں سے لے جاو۔،،شگفتہ سکندر کے گلے لگ کر رونے لگ گئ تھی۔پیچھلے ایک سال اور چھ مہینے میں پہلی دفعہ شگفتہ نے اس سے بات کی تھی سکندر نے اس کے گرد اپنی باہوں کو حائل کر دیا۔شگفتہ سفر کی شرٹ کو پکڑ کر سسکیاں لے رہی تھی۔کیا بن گئ تھی ایک سال چھ مہینے پہلے کیا تھی وہ اور اب کیا بن گئ تھی۔۔مسز سفر سے مسز سکندر بننے کا راستہ اس کے لئے کتنا مشکل تھا یہ تو وہ ہی جانتی تھی۔کتنی بار مری تھی وہ ہر پل اسے اپنے سفر کا چاند سا چہرہ نظر آتا تھا پاکستان میں ہر جگہ وہ ہی خوشبو محسوس ہوتی تھی جو سفر کی آغوش میں تھی اسی لئے پاکستان سے جانا چاہتی تھی۔

“ٹھیک ہے میں تمہیں لے جاؤں گا پہلے رونا بند کرو۔۔،،سکندر نے اس کے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا۔

“بیٹا آپ کی مما بہت روندو ہیں نہ آپ سے بھی زیادہ۔۔۔،،سکندر نےبچے کی گال پر ہونٹ رکھ کر کہا شگفتہ مسکرا دی۔

اور بچے کو دیکھنے لگی وہ سفر کی فوٹو کاپی تھا ناک آنکھیں رنگ بال سب سفر پہ گیا تھا اسی لیئے وہ گھنٹوں اسے سامنے لٹا کے دیکھتی رہتی تھی۔۔

سکندر اٹھ کر کیچن میں چلا گیا کیونکہ شگفتہ کو بخار تھا پیچھلے کئ دونوں سے۔

وہ لیٹ گئ اور بہت ساری یادیں اس کی آنکھوں کے سامنے آنے لگی۔

سکندر سے نکاح اس نے منزا اور اصغر کے رشتے کو بچانے کے لئے کیا تھا

“ماما پلیز آپ ایسے نہ کریں۔۔میں سکندر سے نکاح کروں گی یہ کب تک چلتا رہ گا سفر نے مجھے طلاق دی ہے تو کیا اب بھائی کا بھی حق بنتا ہے کہ وہ طلاق دیں نہیں ماما۔۔،،اسے یاد آیا تھا سفر سے طلاق کے بعد اس کی ماں نے منزہ کو طلاق دلوانے کا مطالبہ کیا تھا انہوں نے کہا یا شگفتہ اسکندر سے نکاح کرے یا اصغر بھی منزہ کو طلاق دے

۔پر شگفتہ کی ماں نے اصغر کو فورس کرنا شروع کر دیا آئے روز لڑیاں ہوتی۔اسے یاد تھا جب اصغر نے منزہ کو طلاق دی تھی کتنا کتنا تڑپا تھا اس کا بھائی۔۔

“اصغر مجھے طلاق چاہئے میں اس گھر میں اور نہیں رک سکتی تمہاری ماں کو برداشت نہیں کر سکتی سو پلیز۔۔،،منزہ کا وہ جملہ شگفتہ کے کانوں میں گونجتا تھا۔

“منزہ میں اپنے بچے کے بغیر نہیں رہ سکتا پلیز ایسا مت کرو۔۔،،اصغر نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھ جوڑے تھے منزہ اپنا بیگ اور بچہ اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گئی اصغر اس کے پیچھے بھاگا تھا

“ٹھیک ہے پھر اب عدالت میں ملاقات ہو گی۔۔کیوں کہ میں تمہاری ماں کے تانے سن سن کر تھک چکی ہوں۔۔میرے بھائی نے جو گناہ کیا اس کی سزا مجھے مت دو۔میں اس جہنم میں اور نہیں رہ سکتی سمجھے تم۔،،منزہ زور سے چلائی تھی۔سب باہر جمع ہو گئے تھے۔شگفتہ بھی۔آئی ہوئی تھی۔

“بھابھی آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں۔۔،،شگفتہ نے اسے پکڑنا چاہا تھا پر اس نے شگفتہ کو دھکا دے دیا پیچھے کھڑے سکندر نے اس کو گرنے سے بچا لیا تھا۔

“ٹھیک ہے منزہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا پر میرا بچہ۔۔،،اصغر نے بچے کو دیکھ کر کہا۔

“میں بچہ کبھی نہیں دوں گی میرے بھائی نے بھی تو تمہاری بہن سے نہیں لیا پھر میں کیوں دوں۔۔،منزہ کا دماغ خراب ہو چکا تھا اصغر اس کے ساتھ تھا ہمشہ اس کی سائڈ لیتا تھا۔پر وہ اس کے ساتھ رکنا نہیں چاہتی تھی

“اوکے میں پیپرز تیار کرواتا ہوں۔۔،،اصغر نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا تھا

“بھابھی یہ آپ کیا کر رہی ہیں آپ کے لئے میں نے سفر کے علاوہ اس شخص کو اپنایا صرف آپ کے لئے تاکہ آپ کا اور بھائی کا رشتہ نہ ٹوٹے پر آپ۔،،شگفتہ نے منزہ کو کاندھوں سے پکڑ لیا تھا۔

پر وہ اسے دھکیل کر اپنا بچہ اور بیگ اٹھا کر باہر چلی گئی تھی۔

شگفتہ جو سب کے لئے اپنی خوشیوں کو قربان کر رہی تھی۔وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔منزہ نے بھی اپنے بھائی کی طرح کسی کے بارے میں نہیں سوچاتھا

اصغر بھی صوفے پر گر گیا تھا وہ کس قدر منزہ سے محبت کرتا تھا یہ جانتے ہوئے بھی منزہ اسے چھوڑ گئ تھی۔

“شگفتہ اٹھو سوپ پی لو،،سکندر کی آواز اسے ماضی کی دلدل سے نکال کر حال میں لے آئی تھی وہ اٹھ کے سوپ پینے لگی تھی ایک نظر اس نے اس شخص پہ ڈالی جو بچے کے ساتھ کھیل رہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *