Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 26)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 26)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
“بائمہ تم ثاقب رندھاوا سے دور کیوں بھاگتی ہو۔۔،،اس کی دوست اس کے ساتھ بیٹھی تھی۔پر وہ اس کے پاس بیٹھے ہوئے بھی نہیں تھی۔
“کیونکہ میں چاہتی ہوں وہ میرے قریب نہ آئے وہ میرے قریب آتا ہے تو دل کرتا ہے یا اسے مار دوں یا خود مر جاؤں۔۔،،بائمہ نے آنکھیں بند کر لی
“وہ دن یاد کرو جب تم اس کو چھونا چاہتی تھی۔۔کبھی اس کو دیکھ لیتی تو دل کی دھڑکنوں سے گھبرا جاتی تھی۔،،بشرہ کی باتیں اسے پاسٹ میں لے گئ تھی۔
“بشرہ میرے خوابوں کا شہزادہ کیسا لگا ہے نہ ہوٹ اینڈ ہینڈسم۔،،ایک بار اس نے نیوز دیکھتے ہوئے ثاقب کی تصویر پر روک دیا اور بے اختیار ہاتھ ٹی وی کی سکرین پر رکھ کر کہا ۔
“بہت خوب۔۔اب تم ثاقب رندھاوا جو کہ پاکستان کے مشہور بزنس مین میں سے ایک ہو اس کی محبت میں پاگل ہو گئ ہو۔ہاہاہا۔وہ تم سے کیوں محبت کرے گا وہ زمین پر نہیں آسمان پر ہے اور تم کیوں اپنے پیروں کے نیچے سے زمین کو کھینچ رہی ہو وہ کبھی کبھی زمین پہ قدم رکھتا ہے اور تم بس کر باؤ۔،،بشرہ نے ٹی وی بند کر کے کہا۔
“نہیں بشرہ۔۔۔میں اسے زمین پر کھڑی ہو کے دیکھوں گی اس چاند کی طرح۔۔،،اس نے کھولے آسمان پر نظر آ رہے چاند کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
“اور وہ چاند کی طرح مجھ پہ روشنی ڈالتا رہ گا۔۔،،بائمہ خوشی سے جھوم کر بولی۔
“تم پاگل ہو گئ ہو۔۔،،بشرہ نے اس کے سر پہ تھپکی رسید کی تھی
“ہاں ثاقب صاحب کی محبت میں۔ہاہاہا۔،،بائمہ نے سرگوشی کی تھی۔
“تم تو اس کی محبت میں پاگل تھی نہ پھر انگلینڈ میں ایسا کیا ہوا جو تم نے اسے دل سے نکال دیا۔،،بشرہ کا سوال اسے کھینچ کر حال میں لے آیا تھا۔
“بہت کچھ بدل گیا ہے میں بدل گئی ہوں۔پر وہ ابھی بھی چاند ہی ہے۔شائداب میں کبھی روشنی کی امید نہیں کروں گی۔میں اسے اپنے سائے سے بھی دور رکھوں گی۔۔۔،،بائمہ رونے لگی تھی وہ دونوں رکشے میں بیٹھی واپس گھر جا رہی تھی بشرہ اس کی ہمسائی ہونے کے ساتھ ساتھ اچھی دوست بھی تھی جس سے وہ ہر بات شئیر کر سکتی تھی۔پرایک بات وہ کبھی نہیں شئیر کر سکتی تھی
“باؤ ایک بات کہوں چندو اچھا لڑکا نہیں ہے کل وہ دو لڑکیوں کو چھیڑ رہا تھا۔۔،،بشرہ نے سنجیدگی سے کہا۔
“میں کون سا
اب اچھی لڑکی رہی ہوں۔انہہوں۔،،وہ بڑبڑائی۔
“کیا مطلب۔۔،،
“کچھ نہیں۔۔،،بائمہ نے جواب دیا اور سڑک پر دیکھنے لگی اور پھر سے پاسٹ میں چلی گئ
“سر! پر میں انگلینڈ نہیں جانا چاہتی آپ اپنے ساتھ کسی اور کو لے جائیں۔،،وہ میر سے معزرت خواہ انداز میں بولی۔
“بائمہ۔۔تمہارے لئے ایک گڈ نیوز ہے وہاں سے واپس آ کر تمہاری تنخواہ بڑھا دی جائے گی ۔،،میر نے کہا تو وہ سوچ میں پڑھ گئ۔
“یار ہاں کہ دو انگلینڈ گھوم آنا اور وہ ثاقب بھی تو وہاں ہی ہے۔۔،،بشرہ سے مشورہ کیا تو اس نے اسے سمجھایا ثاقب کے نام پر تو وہ جان بھی دے سکتی تھی۔
تو وہ مان گئ۔انگلینڈ جا کر اس نے ثاقب کی ساری انفارمیشن حاصل کر لی۔ویسے تو وہ اپنے گھر میں روکا ہوا تھا لیکن ہوٹل میں بھی اس کے نام سے کمرہ بک تھا۔
اسی ہوٹل میں میر اور بائنہ روکے ہوئے تھے۔
کئ بار اس نے ثاقب کو دیکھا کئ بار وہ اس کے قریب سے گزرا پرکبھی ثاقب نے اسے نہ دیکھا۔بائمہ اسے دیکھتی رہتی۔ کبھی کھانا کھاتے ہوئے تو کبھی وہ صوفے پہ بیٹھا لیپ ٹاپ سامنے رکھے کام میں ایسے مگن ہوتا دنیا جہاں سے بے خبر
“کیا اسے کسی کی پرواہ نہیں ہے۔۔کوئی اہم انسان نہیں ہے اس کی لائف میں ہر وقت کام میں لگا رہتا ہے۔اور آج جناب کو ہوا کیا ہے جاؤں کیا ان کے پاس۔،،بائمہ صوفے پہ بیٹھی سامنے یوں ہی گرے ہوئے ثاقب کو دیکھ کر سوچنے لگی۔پر دوسرے ہی پل وہ اس کے سامنے تھی۔
“ہیلو۔۔۔،، اس نے ہمت کر کے ثاقب کو پکار ہی لیا وہ تھکا ہارا ہوٹل میں کھانا کھانے آیا تھا پر طعبیت نازک لگنے لگی تھی تو صوفے پہ سر ٹکا کر بیٹھ گیا۔بٹنوں والی شرٹ کے بازوؤں کو فولڈ کیا ہوا تھا۔کورٹ ایک طرف پڑھا ہوا تھا۔سفید کلائی پہ گھڑی بہت خوبصورت لگ رہی تھی اور آنکھوں پہ نظر کا فریم والا چشمہ۔بائمہ نے بغور اسے دیکھا ۔
“جی۔۔،،وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
“کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں۔۔،،بائمہ نے اس کے سامنے رکھے ہوئے صوفے کی طرف ڈرتے ہوئے اشارہ کیا۔
“اوکے بیٹھیں۔۔،،ثاقب اسے بغیر دیکھے بولا تھا۔دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو فقط آپس میں جکڑ لیا
“وہ میں میر عوان کی سیکرٹری ہوں وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں کافی عرصے سے وہ آپ کو mail کر رہا تھا تو۔۔،،بائمہ کواور کوئی بات ہی نہیں سوجھی وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی پر مجال ہے جو وہ اس پہ نظر ڈالتا ۔
“بہت نخرہ ہے اس بندے میں تو۔حد ہے یار پتانہیں خود کو سمجھتا کیا ہے ٹی وی پہ تو بہت اچھا بولتا ہے پر واقع ہی حقیقت میں لوگ ویسے نہیں ہوتے جیسے بولتے ہوئے لگتے ہیں۔۔،،بائمہ نے سوچا
“اتنا بھی غرور نہیں ہونا چاہئے اپنی دولت پر، شہرت پر کہ سامنے بیٹھا
انسان نظر نہ آئے۔،،بائمہ نے کہا اور اٹھ کر چلی گئی۔
اسے نہیں معلوم تھا کہ ثاقب نے اسے دیکھا یا نہیں۔
رات کو اس کے کمرے کا دروازہ بجا تو اس نے ڈرتے ہوئےکھولا سامنے میر تھا نشے میں دھت۔
“سر۔۔آپ اس وقت یہاں۔۔،،بائمہ کی چھٹی حس تیزی سے پھڑکی تھی۔
انہونی کا الہام دل میں آیا۔۔
وہ اندر داخل ہوا اور دروازہ بند کر دیا۔
“نی اندھی اے اس وقت کہاں سے منہ کالا کروا کے آرہی ہے۔۔تیرا روز کا ڈرمہ بند گیا ہے۔اس عشق کے پاس ہی روک جاتی۔،،چاچی کی آواز پہ وہ پھرحال میں لوٹ آئی آنسوں گالوں پر آ گئے تھے اس نے آنسوں صاف کئے اور اندر داخل ہو گئ
“وہ تو کہتا تھا روکنے کو پر میں نے سوچا یہ نہ ہو تم لوگوں کو کا بھی منہ کالا ہو جائے ہاہاہاہا۔۔،،بائمہ بیگ پھینک کر کیچن میں گھس گئ۔چاچی کو آگ لگ گئ تھی
“کتنی بے حیا ہو گئ ہو۔۔منہ پھٹ ۔تم نے کیا ڈرمہ بنا رکھا ہے۔ایک تو وہ چندو تمہیں رات کو لینے آ جاتا ہے وہ تو ٹھیک ہے کیوں کہ منگیتر ہے تیرا۔پر تو کہاں۔۔،،چاچی کچھ اور بولتی اس سے پہلے بائمہ کھانے کی تھالی زمین پر پھینک کر اپنے کمرے میں گھس گئ اور دروازہ زور سے بند کر دیا۔
“اس کو یہاں سے نکالنا ہو گا کل کو میری بیٹی بھی اس کے نقش قدم پر چل دی تو کیا عزت رہ جائے گی کرتی ہوں اس کے اس عشق چندو سے بات لے جائے اس ڈائین کو دو جوڑے کپڑے دوں گی اور نکال دوں گی۔۔،، چاچی اونچی بولی جیسے وہ بائمہ کو سنا رہی ہو۔
بائمہ کا وجود کانپ گیا۔
“چندو کے ساتھ ش۔۔۔شادی۔۔نہیں۔،،وہ دروازے کے ساتھ ایسے لگی جیسے کوئی بھوت دیکھا ہو اور دروازے پہ یوں ہاتھ رکھے جیسے کسی نے پیچھے باندھ دیئے ہوئے ہوں۔
“میں یہ گھر چھوڑ کر ہی چلی جاتی ہوں۔۔،،وہ الٹے ہاتھ سے رخسار کو رگڑ کر کپڑے پیک کرنے لگی۔ بیگ پیک کر کے دروازے تک پہنچی۔
“نہیں ماں اور پنار۔۔۔وہ کہاں جائیں گی۔۔،،وہ بیگ پھینک کر بیٹھ گئ۔
ساری رات زمین پر بیٹھی آنسوں بہاتی اور ثاقب کا نام زمین پہ انگلی سے لکھتی رہی۔کبھی آنسوں گرتے تو مٹ جاتا نام کبھی وہ اپنے ہاتھوں سے مٹا کر دوبارہ کانپتی انگلی زمین پر رکھ دیتی۔
“اس کا تو نام ہی میرے نام کے ساتھ نہیں اچھا لگتا نہ میں تمہارے ساتھ کھڑی اچھی لگوں گی ث۔ثاقب۔تمہارے کپڑے برینڈیڈ اور میرے۔۔،،اس نے جلدی سے اپنا ڈوپٹہ ہاتھوں پہ پھیلا لیا۔
“میرے ہاہاہاہا۔۔تم مخمل کے بستر پہ سوتے ہو تو میں کتنی ہی راتیں زمین پہ۔بیڈ سے تو خوف آتا ہے سانپ ہیں وہاں۔۔،،وہ اپنے منہ کو ٹانگوں میں چھپا کے سسکیاں لینے لگی۔
“ہاں میں اعتراف کرتی ہوں میں نے جھوٹ بولا تم نے کبھی میرے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔تم نے تو مجھے بچایا تھا میرے محسن ہو تم۔۔پر میں نہیں چاہتی تم مجھے جانو۔میں چاہتی ہوں تم مجھ سے نفرت کرو۔میرے گھٹیا وجود سے نفرت کرو۔،،سسکیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی ایک بار پھر اس نے زمین پر انگلی چلائی اور وہی لیٹ گئ۔
بیڈ پہ تو اسے سانپ نظر آتے تھےجو ڈھستے تو شائد بند پانی نہ مانگتا پر اسے وہ سانپ کئ بار ڈھس چکے تھے۔
اس سے پہلے گزرے وقت کی یادیں آ کر اسے رولاتی۔ نیند نے اسے اپنی گود میں سولا لیا۔
************
بہت دیر وہ لوگ ادھر ادھر بھاگتے رہے پر بازف نہ ملا۔۔ آسام کی حالت دیکھ کر افنان کو غصہ آ جاتا اور وہ بازف کو ہمیشہ کی نیند سلا دینے کے بارے میں سوچتا۔وہ جو سوچتے تھے ابھی مل جائے گا ابھی مل جائے گا پر ان کی سوچ تھی۔لاہور کا چپا چپا چھان مارا تھا پر بازف نہ ملا۔وہ لوگ لاہور سے اب دور آ چکے تھے سڑک پر گاڑی روک دی تھی
“افی صبح ہونے والی ہے م۔۔ماشی نہیں ملی۔۔،،آسام دیوانگی کی کیفیت میں بولا۔
افنان ہونٹوں کو بھیجے اسے دیکھتا رہا۔
آسام کھڑا کھڑا گاڑی کے ٹائر کے ساتھ بیٹھ گیا ۔
“آ ہارش سیدھی طرح بتا وہ کتا کہاں ہے۔۔نہیں تو جانتا ہے تو مجھے میں دو خون تو معاف کروا ہی لوں گا۔۔،،افنان دانت پیس کر بولا تھا آسام روکنا چاہتا تھا پر افنان نے ہاتھ اپر کر کے نفی میں سر ہلا دیا۔
“ایک تیرا اور ایک اس بغیرت کا۔۔۔جان سے مار دوں گا اگر اسے کچھ بھی ہوا افنان رندھاوا ہوں میں جانتے ہو نہ۔۔،،افنان نے سڑک پر پڑا پتھر پاؤں سے اڑا دیا تھا۔
“میں کچھ نہیں جانتا۔۔سمجھے اس کا پتا بتاؤ ہر ایک جگہ کا جہاں جہاں وہ روک سکتا ہےلاہور سے باہر ہر جگہ کا۔۔،،افنان نے دانت پیسے رکھے تھے۔آسام نے سب سے منہ موڑ کے اپنے آنسوں کا بڑی بے رحمی سے نام و نشان مٹایا۔
“ماشی کہاں ہیں آپ۔اگر آپ کو کچھ بھی ہوا تو
میں خود کو معاف نہیں کر سکوں گا۔ میں تمہیں کیسے ڈھونڈوں یار۔۔،،وہ بائیں ٹانگ کھڑی کر کے بازو اس پہ ٹکا کے سر اس پہ رکھ لیا۔صبح سے وہ بھوکا پیاسا صحرا میں گھوم رہا تھا جہاں کی ریت میں اس کی ماشی ایسی کھوئی تھی کہ ملنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
۔وہ تھک چکا تھا۔پر ہارا نہیں تھا۔
“سامی۔۔یہ دیکھو۔۔،،افنان بھاگ کر اس کے پاس آیا اور اپنا فون آگے کر دیا یہ وہ ہی لوکیشنز تھی جو ہارش نے دی تھی۔
“ہم یہاں سے شروع کرتے ہیں۔ یہ بنگلو کراچی میں ہے باقی کا ہم چھان چکے ہیں۔پتا نہیں ہمارے پاکستان کی پولیس ہے یا چھوڑو یار چلو اٹھو سامی ۔۔۔۔،،افنان کو ہر ایک انسان پہ غصہ آ رہا تھا۔جو وہ ظاہر کر رہا تھا۔آسام کا دماغ بس ایک ہی جگہ اٹکا تھا ماشی کس حال میں ہو گی۔۔۔ٹھیک ہو گی۔اسے معلوم تھا ماشی نے کچھ نہیں کھایا ہو گا اسی لئے وہ بھی پانی تک نہیں پی رہا تھا۔ساری بھوک پیسا اڑ گئ تھی۔
افنان نے گاڑی سٹارٹ کر لی اور لاہور سے کراچی جانے والے راستے پہ ڈال دی۔
“سامی میں ایک خون تو معاف کروانے والا ہوں اور اگر معاف نہ بھی ہو تو خیر ہے۔،،افنان نے گیر لگاتے ہوئے کہا۔ اور گاڑی راکٹ کی طرح ہوا سے باتیں کرنے لگی۔
“پلیز میرے مولا۔۔میری ہونے والی شریک حیات کی حفاظت کرنا۔۔اسے کچھ نہ ہو تو،تو جانتا ہے وہ معصوم ہے۔۔۔میرے اللہ اس کی حفاظت کرنا تجھے پیارے نبی کا واسطہ۔۔۔۔اس کی عزت کو سلامت رکھنا۔۔تیرے سوا کون کس کو بچاتا ہے۔۔اس حیوان سے ماشی کو بچا لینا۔۔،،آسام نے دونوں ہاتھوں کو آپس میں جکڑ لیا اور ہونٹوں پہ رکھ لیا۔
اس نے اپنے پروردگار کو یاد کیا تھا وہ بھی دل سے۔
***
تمھارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو
تمھارے بعد بھلا کیا ہے وعدہ و پیماں
بس اپنا وقت گنوا لوں اگر اجازت ہو
تمھارے ہجر کی شب ہائے تار میں جاناں
کوئی چراغ جلا لوں اگر اجازت ہو
جنوں وہی ہے، وہی میں، مگر ہے شہر نیا
یہاں بھی شور مچا لوں اگر اجازت ہو
کسے ہے خواہشِ مرہم گری مگر پھر بھی
میں اپنے زخم دکھا لوں اگر اجازت ہو
تمھاری یاد میں جینے کی آرزو ہے ابھی
کچھ اپنا حال سنبھال لوں اگر اجازت ہو
رات گزر گئ دن ہو گیا۔
پر ماشی کی کوئی خبر نہ ملی۔آسام اور افنان کے فون بھی بند ہو گئے تھے۔ایس پی ،نے ثاقب کو کال کر کے کہا وہ پوری کوشش کر رہے ہیں اس وقت وہ بھی کراچی میں ہی تھے۔انہیں بھی لوکیشن مل چکی تھی۔
“ڈیڈ میں تو کہتا ہوں آپ اور موم بھابھیاں یہاں روکیں ہم جاتے ہیں۔یوں کام سے منہ موڑنا اچھا نہیں ہے۔،،ثاقب نے سمجھ داری کا مظاہرہ کیا تو سفر نے ہاں میں سر ہلا دیا تو وہ تینوں اجازت لے کر اسلام روانہ ہو گئے۔
ملک ہاؤس میں ماتم جیسا عالم چھایا ہوا تھا۔
وہاں ایسا بلکل بھی نہیں لگ رہا تھا ماشی missing ہے بلکہ ایسا لگ رہا تھا ماشی مر گئ ہے۔وہ کبھی واپس نہیں آئے گی۔۔
شانی اور نمرہ پیچھلے کھولے گارڈن میں کرسیوں پر بیٹھے تھے پر ایک دوسرے سے بات نہیں کر رہے تھے۔
“شانی آپی مل جائے گی نہ انہیں کچھ ہو گا تو نہیں۔۔،،نمرہ بال کو پھینکتے ہوئے بولی۔
پیچھلے دو گھنٹوں میں پہلی بار وہ بولی تھی۔شان نے ہاں میں سر ہلا دیا اور پھر لمبی خاموشی۔
عشرت بیڈ پہ بیٹھی ماشی کی تصویروں کو گلے سے لگا کر رو رہی تھی۔
“فہد میری۔۔۔میری ماشی کو لے آؤ۔۔۔لے آؤ نہ پلیز۔،،ماشی سسکیاں لیتی فہد کے سینے سے جا لگی تھی۔فہد دودھ کا گلاس ایک طرف رکھ کر بیڈ پہ اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
“عشو دیکھو اس طرح ہمت نہیں ہارتے وہ۔۔۔وہ مل جائے گی۔۔مل جائے گی اور وہ جب تمہیں یوں اس حالت میں دیکھے گی تو مجھے ہی گلہ کرے گی۔۔۔،،فہد کا لہجہ پر یقین تو نہیں تھا پر ہمت تھی۔
“ہاں جانتی ہوں مل جائے گی ۔۔پ۔۔پر کس حال میں۔۔ٹ۔۔ٹھیک ملے گی نہ۔۔،،عشرت کے گلے میں کانٹا اٹک رہا تھا فہد نے خوف سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
“م۔۔مجھے ماشی چاہئے فہد۔۔میں نے تم سے کہا تھا۔۔۔کہا تھا سیکیورٹی گارڈز بلا لو ۔۔ارے تم میری بات مانتے تو آج میری جان۔۔وہاں نہ ہوتی آسام کے پاس ہوتی پتا بھی ہے وہ اکیلی کتنی ڈر جاتی ہے۔۔مجھے پتا ہے۔۔،،عشرت اٹھ کر وحشت سے بولی تھی بہت سارے آنسوں اس کی گالوں پر آ گئے تھے۔
فہد نے اس اپنے سینے سے لگا لیا اور بالوں میں انگلیاں چلانے لگا پھر اٹھا کر بیڈ پر ڈال کر بغیر کچھ بولے اس کا سر دبانے لگا۔عشرت روتے روتے سو گئ اور وہ اسے دیکھتا رہا۔اسے معلوم نہیں تھا عشرت ماشی سے اتنی محبت کرتی ہے۔ماشی کا تو پتا تھا کہ وہ عشو کے لئے کچھ بھی کر سکتی تھی۔
شگفتہ سجدوں میں گری ہوئی تھی۔
ثوبیہ بھی ان کا ساتھ دے رہی تھی۔
ہر سجدے کے ساتھ سینکڑوں آنسوں گرتے تھے۔
کلثوم بستر پہ بے جان ہونے لگی تھی۔اصغر اس کے پاس بیٹھا تھا۔
“اصغر میں نے آپ سے کبھی کچھ نہیں مانگا۔۔آپ نے جب بھی دیا اپنی مرضی سے دیا
پوری زندگی آپ منزہ کی یادوں کے سہارے جیتے آئے میں نے نہیں روکا۔
روکتی بھی کیوں آپ مجھے بیوی ہونے کے سارے حق دیتے تھے۔
میں نے آپ کا ہر فیصلہ دل سے قبول کیا۔پر آج آج میں اپنی بچی مانگتی ہوں۔
اصغر وہ پھولوں سے بھی کومل ہے۔۔بہت نازک ہے میری بچی۔بازف درینہ ہے پتا نہیں وہ کیا کرے گاپلیز میری بچی کو بچا لیں ۔،،کلثوم چھت کو گھورتے ہوئے بولی اصغر کا دل پسلیاں چیر کر باہر آنے کو ہوا۔ وہ کچھ نہ بول سکا۔اور سیب کاٹنے لگا۔۔
**************
“یہ دونوں ایک دن سے بھوکے ہیں اس لڑکی نے ان دونوں کو گھن چکر بنا دیا ہے اور یہ بن گئے ہیں۔۔اس کی فیملی والے ڈھونڈے یہ دونوں کیوں ٹائم ویسٹ کر رہے ہیں۔۔،،ساگر نے ایک بار پھر سے سر پیٹ لیا تھا۔
“چپ کر یار اگر افنان نے سن لیا تو اسکا۔۔۔ کیا نام ہے۔۔۔چلو جو بھی اس کا murder کرنے سے پہلے تمہارا کر دے گا۔۔۔،،لکی نے اسے روکا
وہ لوگ کراچی کے ایک گاؤں میں موجود تھے جہاں کا انہیں اڈریس ہارش نے میل کیا تھا۔
“نہ یار ابھی تو میری ایک بھی girlfriend نہیں بنی نہ نہ مجھے نہیں مرنا یار۔۔،،ساگر نے دہائیاں دی
“گائس اس کے پاس پسٹل تو ہے نہیں پھر muder کیسے کرے گا ۔ہاہاہاہا۔اب وہ ہیرو تو ہے نہیں۔،،لکی روڑ پر چلتے ہوئے بولا
آسام اور افنان گاڑی سڑک
پر روک کر پیدل گاؤں میں گئے تھے۔
گاؤں کی آبادی زیادہ تو نہیں تھی پر گاؤں خوبصورت تھا۔
“پسٹل بھی ہے اور چلانا بھی بہت آسان ہے ٹائم پاس کرنے آئے ہو کیا۔۔۔،،افنان گاڑی کا دراز کھولتے ہوئے بولا
“نہیں ہم تو سوچ رہے تھے کہ آتے ہیں پر بھوک لگی ہے ۔۔،،ساگر نے جلیبی والے کو دیکھا جو گاؤں کی نوکڑ پہ چھوٹی سی جھونپڑی میں بیٹھا جلیبیاں بنا رہا تھا۔
“یہ لو اور اب ہمارے پیچھے مت آنا ہم دو ہی کافی ہیں اس چپڑگنجو کے لئے۔۔،،افنان شرٹ اپر کر کے پسٹل اندر رکھ کر وائلٹ ان کی طرف اچھال دیا۔اور جس راستے سے آیا تھا اسی پہ چلا گیا۔
“دو کیا مجھے تو ایک ہی کافی لگ رہا ہے۔۔۔کیا لگتا ہے افنان مار دے گا واقع ہی۔۔،،ساگر گاڑی کے فونٹ پر چھلانگ لگا کر بیٹھ گیا ۔
“بھوکھا شیر ہے کچھ تو کرے گا ہی ۔۔اور ہمارا بےبی کیا کرے گا۔۔،،لکی نے کہکہا لگا کر کہا۔
“وہ کرے گا جو افی نہیں کر سکے گا۔۔۔،،جنید نے آنکھ مارکر معنی خیز کہکہا لگایا۔
انہیں کیا فرق پڑتا تھا۔ماشی ان کی کچھ لگتی تو تھی نہیں کہ اس کی فکر کرتے ۔سو وہ انجوائے کر رہے تھے۔
“مجھے لگتا ہے ہمیں یہاں سے جانا چاہئے۔۔اگر وہ بندہ یہاں سے نکلا تو وہ یہاں سے زندہ نہیں جائے گا جانتے تو ہو تم افنان کو اب تو وہ زیادہ پاگل ہو گیا ہے۔۔اور آسام بھی نہیں روکے گا۔اپر سے انہوں نے سی بی آئی۔پولیس سب کو خود اکٹھا کیا ہوا ہے خود بھی پھنس جائیں گے ہمیں بھی پھنسائیں گے۔۔، لکی نے سنجیدگی سے کہا۔
“ٹھیک کہا اگر ایسا کچھ ہوا تو میرا ڈیڈ مجھے۔۔،،ساگر نے ہاتھ کا اشارہ اپنی موت کی طرف کیا۔
“کیا بکواس کرتے ہو۔۔یار دوست ہے وہ ہمارا ایسے کیسے چھوڑ جائیں اسے۔کتنی بار اس نے ہماری مدد کی یہ۔،،جنید نے ساگر کی پاکیٹ سے وائلٹ نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھ دیا۔۔
“یہ۔۔اس نے تمہیں دے دیا بغیر دیکھے کہ اس میں کتنے پیسے ہیں۔کتنی بار اس نے
ہم لوگوں کو کتنا پیسا دیا بھائیوں کی طرح سمجھتا ہے ہمیں۔
کچھ تو شرم کرو۔،،جنید نے نفی میں سر ہلایا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔شائد ان کے پلے بات پڑھ گئ تھی۔تبھی وہ جلیبی والے کے پاس جا کر جلیبیاں لے آئے ساتھ میں چائے کے کپ پکڑ کر وہ انجوائے کرنے لگے ۔
***************
“سنبھالو خود کو سامی۔۔،،افنان نے اسے گرنے سے بچانے کے لئےتھام لیا۔آسام ماشی کے جوڑے کی پین اور ماتھا پیٹی کو اٹھا کر سینے سے لگا کر رونے لگ گیا تھا۔
وہ لوگ فارم ہاؤس پہنچے تھے پر وہاں ماشی نہیں تھی پر اس کے نشان تھے۔
آسام نے درد کو کم کرنے کے لئے آنکھوں کو زور سے بند کیا بہت سارے آنسوں رخسار سے ہوتے ہوئے شیروانی میں جذب ہو گئے
افنان نے اسے روکا نہیں اور زمین پر نظر پڑتے پڑتے دیوار پہ جا رکی جہاں فرش سے تھوڑا اوپر دیوار پر ایسے خون کے دھبے تھے۔جیسے سر دیوار میں لگا ہو۔وہ وحشت سے دیکھتا دیوار کی طرف بڑھ گیا اور زمین پہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر خون پہ ہاتھ رکھ کر دیکھا
تازہ خون تھا۔
“میں اسے مار دوں گا اگر میری ماشی کو کچھ ہوا تو نہیں چھوڑوں گا اسے نہیں۔۔،،آسام زمین پر گر گیا ۔اور ماشی کی ماتھا پیٹی کو ہونٹوں سے لگا کر زورو قطار رونے لگا افنان نے مڑ کر اسے دیکھا اور پھر سے منہ موڑ کر دیوار کو دیکھنے لگا۔ایک طرف نظر پڑھی خون سے کچھ لکھا ہوا تھا
“A..h…m..p….,,
افنان لفظ جوڑنے کی کوشش کرنے لگا پر واضح نہیں تھے۔صرف چند رومن تھے جیسے وہ سمجھ نہ پایا
“سامی ادھر آؤ۔۔،،افنان نے اسے دیکھا اور آواز لگائی وہ بھاگ کر آیا۔
“یہ کوئی messenge لکھا۔۔،،اس سے پہلے وہ کچھ بولتا آسام نے کڑیاں جوڑ لی تھی۔
“A..help…me..p….,,
وہ بول کر آنسوں بہنے لگا سمجھ گیا تھا وہ۔
“ک۔۔کک۔کیا مطلب ہے اس کا۔۔۔،،افنان نے سر کو نفی میں ہلا کر سوال کیا۔
“”Agent help me please..,,
آسام گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس جگہ ہاتھ چلانے لگا۔
افنان ابھی بھی نہیں سمجھ سکا تھا کیونکہ وہ کچھ جانتا ہی نہیں تھا۔
“Agent…,,
افنان نے سوالیہ انداز میں نام لیا
“بعد میں بتاؤں گا چ۔۔چلو۔۔فون بھی بند ہو گئے ہیں۔۔ثاقب بھائی یا فہد سے ربطہ بھی نہیں ہو رہا ۔،،آسام اٹھ کھڑا ہوا پھر سے ہمت پکڑی ۔وہ ہمت ہارتا تو ماشی کو کیسے ڈھونڈھتا۔
“مجھے اب اس کا ایجنٹ بننا ہو گا۔۔آسام کمزور ہے پر ایجنٹ نہیں۔۔،،آسام نے ماتھ پٹی جیب میں ڈالی اور باہر کی طرف بڑھ گیا افنان ناسمجھی سے اسے دیکھتا اس کے پیچھےباہر چلا گیا۔
“اب کیا کریں یار۔۔،،جنید سیل گھماتے ہوئے بولا۔
آسام بالوں میں ہاتھ چلاتا سوچ میں پڑھ گیا اور سیل پہ نظر پڑھی۔
“بس اب یہ بچوں کی طرح آنکھ مچولی کھیلنا بہت ہوا۔۔میرے پاس ایک بہت اچھا پلین ہے۔۔،،آسام کے دماغ میں ترکیب آ گئ تھی۔ایجنٹ کا دماغ چلا تھا
“کیا plan ہے۔۔،،افنان نے بغور اسے دیکھا۔
“یہاں سے دو روڈ نکل رہے ہیں ایک یہ۔۔،،آسام نے اس روڈ پر اشارہ کیا جس پہ وہ کھڑے تھے۔
“اور ایک دوسری طرف ہے سوچنے کی بات یہ ہے وہ دن دہاڑے اس سڑک سے تو جائے گا نہیں کیونکہ public ہے اور دوسرا فارم کے پیچھے سے جا رہا ہے تو مجھے۔۔،،آسام کی بات افنان نے کاٹی
“وہ وہاں سے گیا ہو گا اور سامی خون تازاہ تھا شائد اس نے ہمیں دیکھا ہو اور۔۔،،
“اور بھابھی کو لے گیا۔۔،،لکی نے بھی افنان کی بات کاٹی۔۔
“Yes. so, boy get ready for fight..,,
افنان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“اور اب یہ بتاؤ ہمیں پتا کیسے چلے گا کہ وہ کہاں گیا۔۔،،ساگر نے ناسمجھی سے سوال کیا
” کیمرے کے ذریعے۔
ٹائم ویسٹ نہیں کرو جلدی بیٹھو۔اور افی اسی ایریا میں کوئی اور بنگلو وغیرہ ہے۔۔،،،آسام نے ایک سیکنڈ بھی نہیں لگایا اور گاڑی سٹارٹ کر لی۔افنان نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
آسام میں جان آنے لگی تھی۔وہ یہ نہیں سوچنا چاہتا تھا کہ کیا ہوا ہو گا وہ یہ سوچنے لگا کہ اسے کیا کرنا ہے ۔۔
دل میں ڈر تو تھا۔ماشی کا خون دیکھ کے دل بے چین ہوا دھڑکا زور سے دھڑکا پر وہ اگر کمزور پڑھتا تو کون ڈھنڈھتا ماشی کو۔۔
**************
سفر ٹی وی اون کرتے کرتے روک گیا۔ دل میں ڈر سا تھا ریمونڈ رکھ کر صوفے پر بیٹھ گیا۔
“کس منحوس گھڑی میں ہم نے ملکوں کے ساتھ پھر سے رشتہ۔۔،،اس سے پہلے وہ کچھ
اور بولتی نظر سفر پہ جا ٹھہری جو اسے غصے سے گھور رہا تھا تو وہ چپ ہو گئ۔
“سعدیہ تم کتنی کھٹور دل ہو یار ۔۔،،سفر نے افسوس سے سر ہلا دیا۔
“سفر اگر کل کو باہر بھل لگ گئ کہ رندھاوا انڈسٹریز کی ہونے والی بہو غائب ہے تو سوچو لوگ کیا کیا باتیں بنائیں گے ہماری عزت شہرت سب خاک میں مل جائے گی۔۔،،سعدیہ دونوں ہاتھوں کو ہوا میں لہرا کر بولی۔
“چپ کرو یار میں اب تو تمہاری ایک نہیں سنو گا پہلے ہی بہت کچھ کھو چکا ہوں ۔دوبارہ سے کچھ رشتے جڑنے جا رہے ہیں تو تمہیں تکلیف نہ ہو۔میں آسام کو اس دلدل میں نہیں دھکیلوں گا جس میں۔میں جود۔۔،،وہ کہتا کہتا روک گیا سامنے شگفتہ آ رکی تھی ۔
سفر نے نظریں جھکا لی کیسے ملاتا وہ نظریں۔مجرم تھا اس کا اور شگفتہ نے بھی کب معاف کیا تھا وہ تو اپنے بیٹے کی محبت میں اسے جھیل رہی تھی۔
“ش۔۔شگف۔،،اس سے پہلے سفر اسے پکارتا وہ واپس مڑ گئ۔
سعدیہ نے منہ موڑا اور اٹھ گئ۔
“کاش ۔۔۔کہ وہ دن واپس آ جائیں۔۔۔،،سفر نے آنکھیں بند کر لی اور پھر کھولی نہیں پاسٹ میں کھو گیا۔
بہت سارے آنسوں رخساروں پر آ گئے تو وہ اٹھا اور وضو کر کے فہد کو بلانے لگا وہ آیا تو اس کو ساتھ لے کر باہر نکل گیا۔
چلتے ہوئے بھی وہ ملک فہد سکندر کو دیکھتا گیا۔
“ویسے بیٹا۔تم اپنے پاپا پہ گئے ہو۔ ذہانت،پرسنیلٹی،آنکھیں بلکل اپنے پاپا کی کاپی ہو ۔ہاہاہا۔۔،،سفر نے کہکہا لگا کر کہا کیوں کہ وہ اور سفر بلکل بھی مختلف نہیں تھے۔ براؤن بال سفید چہرا براؤن آنکھیں۔ تیکھی ناک۔پھر فہد یا کوئی اور کیوں نہیں پہچان سکتا تھا۔۔؟
“نہیں انکل میں بلکل اپنے پاپا پہ نہیں گیا۔۔،،فہد نے سنجیدگی سے کہا سفر نے چونک کر اسے دیکھا۔
“تو پھر۔۔،،سفر پتا نہیں کیا سننا چاہتا تھا۔اسے لگتا تھا شائد شگفتہ نے بتایا ہو۔
“پتا نہیں میرے ڈیڈ اور میری شخصیت میں بہت فرق ہے۔۔،،اس نے فون نکال کر سفر کو دیا جہاں اس کی شگفتہ کی اور سکندر کی کئ فوٹوز تھی۔سفر سکرین پر تیز تیز ہاتھ چلانے لگا۔
“آپ کے ڈیڈ بہت ہی انٹیلجنٹ پرسن تھے۔ہم دونوں نے ایک ساتھ بھی کام کیا ہے جب وہ اٹلی سے واپس آئے تھے۔پر ایک دن اچانک ایک حادثے میں وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔۔،،سفر نے افسردگی سے کہا۔
“جانتا ہوں کراچی والی فیکٹری جو آج بھی سکندر اعظم فیکٹری کے نام پہ ہے ۔۔،،سفر اس کی بات سن کر چونک گیا۔
“اور کیا کیا معلوم ہے اسے۔۔،،سفر نے بغور اس کا چہرہ دیکھا جو سپاٹ تھا
(پر اب اس فیکٹری کو جلا دیا گیا ہے پتا نہیں کیوں۔اور کس نے۔۔،،)فہد دل میں سوچ کر رہ گیا۔
“انکل ڈیڈ کسی حادثہ کا شکار نہیں ہوئے تھے ان کا muder ہوا تھا۔،،فہد نے فون کو جیب میں ڈال کر کہا۔
ایک اور شوکڈ لگا سفر کو۔
“نہیں بیٹا ان کا muder نہیں ہوا تھا۔۔تم تو مجھ پہ یقین کر لینا میرے بچے۔،،سفر بس سوچ ہی سکا۔وہ دونوں مسجد پہنچ گئے تھے۔سفر نے مزید کوئی بات نہیں کی
