Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 08)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 08)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
فہد چھوٹیاں لے کر پاکستان آگیا تھا کسی کو بھی سمجھ نہیں آئی تھی وہ کیوں آیا ہے۔
“فہد تم کیوں آئے ہو جب کہ ابھی تمہیں وہاں گئے ہوئےایک مہینہ ہوا ہے مشکل سے اور تم واپس بھی آ گئے ایسے تو نہیں چلے گا نا۔،،
“ماموں میرا دل کیا تھا آنے کوتو میں آگیا کچھ دن تک چلا جاؤں گا۔پلیز غصہ نہ کریں نا۔۔،،فہد معصومیت سے بولا
“اب بس کریں بچے کو کیوں ڈانٹ رہے ہیں ابھی پانی بھی نہیں پیا میرے بچے نے اور آپ شروع ہو گئے
جاؤ فہد بیٹا ریسٹ کر لو۔۔میں کھانا بناتی ہوں تمہارے لیے،،
“تھینک یو مومانی جان۔،،فہد ان کے گلے لگ کر بولا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔
“کل مجھے اسلام آباد جانا ہو گا یہ سب پرابلمز حل کرنی ہیں ۔۔،وہ سوچ کر واش روم چلا گیا سفر کی تھکان اس کے وجود پہ تاری تھی جو نہانے سے جھڑ گئی وہ فریش ہو کر لیٹا ہی تھا کہ نیند نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا
_______********_________
“آج مجھے اس نقاب پوش کا چہرا دیکھنا ہی ہو گا۔۔،،وہ چاروں کینٹین میں بیٹھی تھی ماشی ہونٹ پہ انگلی رکھ کر سوچتے ہوئے بولی وہ اس سے بات کرنا چاہتی تھی اس انسان سے محبت ہو گئی تھی اس کو جیسے وہ جانتی بھی نہیں تھی اب جاننا چاہتی تھی
“اگر وہ ہماری یونیورسٹی کا ہوا تو٬٬کومل نے ان تینوں کو دیکھ کر کہا
“اگر وہ ہماری یونیورسٹی کا ہوا تو ایک آئیڈیا ہے میرے پاس۔۔،،عشرت نے پر سوچ انداز میں کہا سب ایکٹو ہو کر بیٹھ گئی۔۔
“کیا آئیڈیا ہے جلدی بتاؤ۔۔,،ماشی نے بے تابی سے پوچھا
“محبت ہونا چاہے دیوانی کھونا چاہئے۔۔،،عشرت اور کومل نے ایک سور میں گانا شروع کر دیا۔ماشی نے خوفگی سے عشرت کو تھپڑ مارا ماشی کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ نمودار ہو گئ
“ہائے یہ مسکراہٹ۔اچھا سنو!
ہم پوری یونی ورسٹی کے بوائز کی ہینڈورائٹنگ چیک کریں گے۔،عشرت نےجھک کر کہا
“واقع ہی ہارش ٹھیک کہتا ہے تم بد دماغ ہو
اتنی بڑی یونیورسٹی میں پتا ہے کتنے لڑکےہیں بے واقوف ۔۔،،ماشی اس کی عقل پہ سر پیٹ کر رہ گئی۔
“یار میں بد دماغ نہیں ہوں اپنی کلاس سے سٹارٹ کرتے ہیں سر فریاد نے آج ٹیسٹ لینا ہےمجھے یقین ہے وہ ہماری کلاس کا ہی ہو گا ۔،،عشرت نے ماشی کے سر میں تھپڑ مار کر کہا۔
“ماشی تو اس ایجنٹ کی محبت میں پاگل ہو گئ ہے اسی لیے دماغ کام کرنا چھوڑ گیا ہے اس کا۔۔،،کومل نے کہکہکا لگاکرکہا
“اے ایسا کچھ نہیں بس میں اسے دو تین اچھی خاصی سنانا چاہتی ہوں کیوں نہیں آیا تھا
کہتا تھا میری حفاظت کرے گاپھر افنان سےبمیری حفاظت۔۔،،وہ جلدی جلدی بولتے رک گئ تھی اسے افنان کی حرکتیں یاد آ گئی اس نے آنکھیں بند کر کے لمبا سانس لیا وہ تکلیف کبھی کم نہیں ہونی تھی پر وہ بھلانا چاہتی تھی
افنان نے اس کی عزت پہ ہاتھ ڈالا تھا کیسے بھول جاتی۔اس کو عزت بہت عزیز تھی افنان نے اس کی عزیز چیز پہ وار کیا تھا
عشرت اسے چپ دیکھ کر پریشان ہو گئ دونوں کا یہ ہی حال ہوتا تھا ایک دوسرے کو تکلیف میں دیکھ کر۔پریشان ہو جایا کرتی تھی
“ماشی بھول جا وہ واقع اب اس نے کچھ کرنے کی کوشش کی تو پھر اس کو سبق سیکھائیں گے۔،،عشرت اس کے کاندھے پہ ہاتھ رکھ کر بولی ماشی سر ہلا کر اٹھنے لگی جب افنان اور اس کا گروپ کہکہکے لگاتے کینٹین میں داخل ہوئے تھے۔افنان کے قدم اسے دیکھ کر رک گئے
ماشی کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگا گئے
اسے وہ سب یاد آنے لگ گیا جو اب تک افنان نے اس کے ساتھ کیا تھا
عشرت افنان کی طرف بڑھی پر ماشی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور سر نفی میں ہلا دیا
افنان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئ اسے کانپتا دیکھ_ وہ سن گلاسز اتار کر اس کی طرف بڑھ رہا تھا ماشی نے فائل پہ پکڑ مضبوط کر لی۔
” عرض کیا ہے
بولو منظور ہے کیا میرا عشق
یا یہاں سے کود کر جان دے دوں۔،،,
افنان ڈیکس پہ چڑھ کر بولا کینٹین میں ،
موجود لوگ ہسنے لگ گئے
“نہیں بے بی مجھے منظور ہے پلیز نیچے اتر جاؤ۔۔،،انوشکا کانوں پہ ہاتھ رکھ کر بولی
ساگر اور لکی آپس میں ہاتھ ملا کر ہسنے لگے
“چلو عشرت۔،،ماشی آگے بڑھ گئی۔اسے پتا تھا وہ اسے ہی تنگ کر رہے ہیں پر وہ ان کے منہ نہیں لگنا چاہتی تھی
“میں ابھی آتی ہوں ہارش کے پاس بک ہے میری لے کر آتی ہوں۔۔،،عشرت کینٹین سے باہر جاکر بولی تو وہ تینوں سیدھی چلی گئ اور عشرت ہارش کو ڈھونڈنے لگی۔
_______********_________
“سر کیا مجھے آج کے سارے ٹیسٹ مل سکتے ہیں۔۔،،ماشی نے پروفیسر سے کہا
“اوکے بیٹا ہارش ماہا اور آسام کو ساتھ لے کر چک بھی کر لینا۔۔،،پروفیسر اس کو ٹیسٹ کا شاپر پکڑاکر چلا گیا
“یس۔۔اب تمہارے اس ایجنٹ عاشق کا پتا چل گیا۔۔،،کومل نے اسے کاندھا مار کر کہا ماشی کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ پہلی محبت کا پہلا احساس بہت خاص ہوتا ہے
جب بھی نقاب پوش کا ذکر ہوتا تو ماشی کا چہرا کھلکھلا اٹھتا پر جن حالات میں اس کو محبت ہوئی تھی ان میں نہ وہ کھول کر ہس پا رہی تھی نہ خوشی کو محسوس کر پارہی تھی پر وہ زندگی کوجی رہی تھی
اتنی تکلیفوں کے باوجود اس نے مسکرانا نہیں چھوڑا تھا۔
اور مایوس ہوکر اپنی محبت کو بھی نہیں دبایا تھا
“ماشی کلاس پہ ایک نظر ڈالو جو پریشان ہو تمہارے ہاتھ میں ٹیسٹ دیکھ کر سمجھ جانا وہ تیرا ایجنٹ ہو گا۔۔،،عشرت نے اس کے کان میں سرگوشی کی ماشی نے سب پہ نظر ڈالی اور سر نفی میں ہلا دیا۔
“ماشی ہم اکیلے اتنے پیپرز کیسے دیکھیں گے دو تین اور ساتھ لے لیتے ہیں۔،،عشرت نے کہا ماشی نے شہانے آ دیئے
“ہارش آپ ماہااور آسام ہمارے ساتھ ٹیسٹ چیک کروا دیں گے پلیز۔۔،،عشرت نے ان تینوں کو ڈھونڈتے ہوئے کہا ماشی نے بھی کلاس میں نظر یں گھمائی
“میں بھی آ جاؤں کیا۔۔،،لکی نے کہکہکا لگاکرکہا
“نہیں جناب جاہل لوگ اپنا ٹیسٹ کر لیں تو بڑی بات ہے دوسروں کاکیا چک کریں گے اپنا ہوتا نہیں انہہ ۔۔،،عشرت نے انگلی دیکھا کر کہا تو ساری کلاس کہکہکے سے گونج اٹھی لکی خجل ہو کے بیٹھ گیا
ماشی نےباہر قدم بڑھا دئیے اس کے پیچھے ہی آسام ماہا اور ہارش بھی کلاس
سے باہر چلے گئے
وہ لوگ لان میں بیٹھ کر چیک کرنے لگ گئے
” ہارش یہ تم چک کرو چک کر کے ماشی کو دیتے جانا۔۔ماہا آپ بھی اور مسٹر آسام شرافت کی مثال کہاں گم ہو۔،،عشرت نے آسام کو دیکھا وہ وہاں موجود تھاپر خیال اس کا کہیں اور تھا
“عشرت آسام کو ایک لڑکی نے پرپوز کیا ہے تب سے بے چارہ پریشان ہے۔ہاہاہاہا۔،،ہارش ٹیسٹ پہ پینسل چلاتے ہوئے بولا
ہارش اور آسام میں کافی اچھی دوستی ہو گئ تھی۔
آج وہ دونوں کینٹین سے باہر نکال رہے تھے ایک لڑکی نے زبردست قسم کی بدتمیزی کی تھی آسام کا ہاتھ پکڑ لیا تھا آسام ہڑبڑا گیا تھا
“ہاہاہاہا یار پریشان کیوں ہو رہے ہیں آپ ہاہاہاہا،،عشرت ماہا سب کی بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی آسام نے ہارش کو گھورا
سب ٹیسٹ چیک کرنے لگ گئے ماشی دیکھتی گئ لیکن ہینڈ رائٹنگ میچ نہیں ہوئی ۔آدھے ٹیسٹ چک ہوئے تھے کہ طوفان اور بارش آ گئ
“اوہ شیٹ سارا پلین چوپٹ ہو گیا شائد اللہ بھی چاہتا ہے تمہارا ایجنٹ سامنے نہ آئے۔ہاہاہاہاہا۔،،عشرت نے ٹیسٹ ہوا میں اڑتے ہوئے کہا ماشی نے اسے آنکھیں دیکھائی۔
“یا اللہ یکدم یہ بارش اور طوفان کہاں سے آگیا۔،،ماشی نے آسمان کو دیکھ کر سوچا
“تم دونوں کہاں جارہے ہو انجوائے کرتے ہیں نہ بارش کو۔۔،،مہک نے آسام اور ہارش کو جاتے دیکھ کہا۔وہ دونوں رک گئے
“ہاہاہاہا ماشی یاد ہےجب کبھی اسکول میں بارش ہوتی تھی ہم کاغذ کی کشتیاں بناتے تھے۔اور آپ اپنی کشتی سب سے آگے چھوڑ کر کہتی تھی میری کشتی سب سے آگے ہے ہاہاہاہا،،ہارش ایک کاغذ اٹھا کر بولا اور کشتی بنانے لگ گیا ماشی ہسنے لگ گئ کچھ اسٹوڈنٹس باہر آگئے تھے کچھ کوریڈور میں کھڑے ہو کے انجوائے کر رہے تھے افنان کوریڈور میں کھڑا ان سب کو دیکھ رہا تھا
“ہاں اور جب اس کی کشتی ڈوب جاتی تھی ہماری بھی ڈبو دیتی تھی۔۔،،عشرت پانی میں کشتی چھوڑتے ہوئے بولی۔
“بلکل اس طرح ہاہاہاہا۔۔،،ماشی نے کہکہکا لگاکرکہا
اور ان کی کشتیاں ہاتھ میں اٹھالی پہلی بار وہ یونیورسٹی میں اس طرح کہکہکا لگاکرہس رہی تھی
“مس ملک کیا واقع ہی آپ بچپن میں اتنی شرارتی تھی۔،،آسام نے ہس کر کہاتو ماشی نے ہسی دبا کر اسے غصے سے گھورا
“نہیں میرا مطلب کہ اب آپ بہت سیریس ہیں۔۔،،آسام ڈرتے ہوئے بولا تو ماشی کی ہسی نکل گئ۔پہلی بار وہ اور آسام ایک دوسرے سے پڑھائی کے علاوہ بات کر رہے تھے اس نے آس پاس دیکھا تو بہت سے لوگ تھے جو دیکھ رہے تھے تو وہ اپنا دوپٹہ ٹھیک کر کے عشرت سے مخاطب ہوئی
“عشرت میں جارہی ہوں ایک کام ہے ویسے بھی چھٹی ہو گئ ہے۔،،ماشی آسمان کو دیکھ کر کچھ سوچ کر مسکرا کربولی اور کوریڈور کی طرف بڑھ گئ۔وہ افنان سے بہت سے فاصلے سے گزر کر کلاس میں داخل ہو گئ کلاس میں کوئی نہیں تھا
وہ ایک طرف کھڑی ہو کے اپنے بالوں کو کھولا چھاڑ کے پھر سے کیچر میں قید کر لیااور اپنے ڈیکس کی طرف بڑھ گئ
“دیکھ کے مجھے کیوں تم دیکھتے نہیں
یارا ایسی بے روخی سہی تو نہیں،،افنان رومنٹک انداز میں گنگنایا
ماشی کے کتابیں اٹھاتے ہاتھ رک گئے وہ اس کے پیچھے کھڑا تھا کافی فاصلے پر تھا پر وہ اس کی نگاہوں کی تپش محسوس کر رہی تھی۔ماشی گہری سانس لےکر چادر لینے لگی اس نے احتیاط سےچادر اپنے اوپر گرا لیا اور ڈوپٹہ اتارا اسے پتا تھا افنان پیچھے کھڑا ہے
چادر لے کر وہ بیگ ہاتھ میں اٹھا کر دروازے کی طرف بڑھی
“راستے سے ہٹو۔،،ماشی نے اسے نظر اٹھا کر دیکھے بغیر بولی
“مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب تم مجھے دیکھ کر ڈرتی آئی لائک اٹ۔۔،،افنان سینے پہ ہاتھ باندھے اپنی بھوری بھوری آنکھوں میں شرارت لئے بولا معاشی نے اس پہ غصلی نگاہ ڈالی اور دھکا دے کر باہر چلی گئی وہ اسے جاتا دیکھ مسکرا دیا
“سمجھتا کیا ہے خود کو بغیرت انسان۔۔پتا نہیں کب جان چھوڑے گا پیچھے ہی پڑھ گیا ہے کیا بگاڑا ہے اس کا میں نے معافی مانگ تو چکی ہوں اب کیوں ذلیل کر رہا ہے مجھے اللہ اس دریندےکو انسان بنادے بڑی رحمت ہو گی تیری۔،،وہ یونیورسٹی سے نکلتے ہوئے سوچ رہی تھی
_______********_________
ہوسٹل جاکراس ماشی چینج کرنے کے بعد دوسری چادر لے کر ہوسٹل سے نکل آئی پیدل چلتی وہ روڈ پر آئی اور رکشے میں بیٹھی گئی
وہ بڑے درخت کے پاس اتر گئ رکشے والے کو پیسے دے کر وہ درخت کے نیچے جا کھڑی ہوئی
“آج تم کو پکڑ کر رہوں گی محبت بھی کرتے ہواور سامنے بھی نہیں آتے۔آج خیر نہیں تمہاری۔،،وہ ٹہلتے ہوئے سوچ رہی تھی۔اس نے گھڑی پہ ٹائم دیکھا اور پھر سے ٹہلنے لگی۔
“یااللہ وہ کیوں نہیں آرہا۔۔،،ایک گھنٹہ ہو گیا نقاب پوش نہیں آیا تو ماشی کا دل بیٹھنے لگا بارش رک چکی تھی موسم بہت سہانا ہوگیا تھا ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی درخت کے پتوں سےجابجا پانی کی بوندیں گررہی تھی۔ سڑک پر ٹریفک بہت کم تھا
“میرے اللہ اس کی حفاظت کرنا میری محبت کو سلامت رکھنا۔،،ڈر کے اس کے دل سے دعا نکلی تھی۔
وہ پریشان ہو کر ٹہلتی رہی
“وہ نہیں آئے گا کیا۔۔،،اس کا دل کے
ساتھ آنکھیں بھی بھر آئی۔
“وہ کہاں چلا گیا کیاوہ کبھی نہیں آئے گا۔۔،،اس کے دل نے ایک اور سوال کیا اس کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے
وہ روڈ پہ آنسوں سے بھری نظر ڈال کر واپس مڑی تو درخت کے ساتھ ٹیک لگائے وہ کھڑا تھا
“تم سمجھتے کیا ہو خود کوجب دل چاہا آ گئے نب دل چاہا چلے گئے۔۔،،ماشی آنسوں صاف کرکے اس کی طرف جاتے ہوئے ناراضگی سے بولی وہ سیدھا ہو کر کھڑا ہو گیا
“تم بھی جھوٹے تمہارے وعدے بھی جھوٹے اس دن کیوں نہ آئے جب وہ میری عزت۔پہ ہاتھ ڈال رہا تھا کیوں میری حفاظت کرنے نہ آئے کیا کہا تھا سائے کی طرح ساتھ رہو گے ۔پھر کیوں ساتھ ہو کے بھی نہیں ہونہیں ہو ساتھ ۔،،وہ جذباتی ہو کے بولی آنکھیں بھیگ گئ تھی ماشی کی وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا
” دو دن سے کہاں تھے آپ۔،،ماشی نے اپنے جذبات پر قابو پا کر پوچھا پر وہ اسے دیکھتا رہا ماشی اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی تو وہ نظریں جھکا گیا۔
“مجھے نہیں معلوم کہ میں نے یہاں آ کر اچھا کیا یا غلط کیا۔پر میں آپ کو دیکھنا چاہتی ہوں،،ماشی نے ضدی انداز میں کہا نقاب پوش کی آنکھوں میں بے بسی آ گئ اور اس نے نفی میں سر ہلا دیا
“پر کیوں۔۔،،ماشی نے بےتابی سے سوال کیاوہ اظہارِ محبت نہیں کرنا چاہتی تھی پر اس کے پاگل پن میں نقاب پوش کے لیئے محبت جھلک رہی تھی جو وہ محسوس کر رہا تھا پر وہ پتا نہیں کیوں بے بس تھا
“ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔ویسے تم گونگے بہرے ہوکیا۔،،ماشی کی بات پہ نقاب پوش اپنی ہسی نہ روک سکا
“چلو یہ تو کنفرم ہوا مجھے کسی گونگے بہرے سے محبت نہیں ہوئی۔،، اس نےاسے سرتاپاوں دیکھ کر خود سے سرگوشی کی
وہ نوجوان ٹی شرٹ اور جینز میں مبلوس تھا ایک ہاتھ پہ ریسٹ واچ باندھے وہ بہت پرکشش لگ رہاتھا
“آپ مجھے اپنا چہرہ کیوں نہیں دیکھاتے نہ ہی بولتے ہیں۔کیوں ،،وہ دونوں کافی فاصلے پر کھڑے تھے ماشی اسے دیکھ رہی تھی پر نوجوان نیچے دیکھ رہا تھا۔
“میں جارہی ہوں بائے۔مت بولو ضرورت بھی کیا ہے۔،،وہ اس کی جاموشی سے اکتا کر بولی تو وہ بھاگ کر اس کے سامنے آ گیاماشی نے حجاب کیا ہوا تھا اسے دیکھ کر نقاب پوش کی آنکھیں مسکرائی وہ ماشی کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھما کر جانے لگا۔
“سنیں۔،،ماشی نے اسے آواز لگائی تو وہ رک گیامڑ کے دیکھنے لگا
“کچھ نہیں جائیں۔۔،،ماشی نے مسکرا کرنفی میں سر ہلا کر کہا تو وہ سر ہلا کرچلا گیا۔
“میں آپ کو اپنا چہرہ ضرور دیکھاؤں گا پر ابھی ٹھیک ٹائم نہیں ہے اور مجھے معاف کر دینا میں آپ کی حفاظت نہیں کر سکا پر اس دن ایک مجبوری تھی ورنہ میں کبھی اس افنان رندھاوا کو ایسا نہیں کرنے دیتا
ایک اور بات اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر مجھے مت ڈھونڈو ایسے تو کبھی نہیں ملوں گا اپنے دل میں مجھے ڈھونڈو بہت جلد مل جاؤں گاآخر آپ کا ہی ہوں اور ڈرنے کی ضرورت نہیں عورت بہت مضبوط ہوتی ہے اور آپ کے ساتھ تو آپ کا ایجنٹ بھی ہے پھر اس افنان رندھاوا سے کیوں ڈرتی ہیں۔،، ماشی کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ ڈھکے چھپے الفاظ میں نہیں بلکہ جان دار الفاظوں میں وہ اپنی محبت کا اظہار کر گیا تھا وہ لفافے کو بیگ میں رکھ کر چل پڑھی
اب اسے راستے میں کوئی تکلیف نظر نہیں آ رہی تھی ہر طرف اسے خوشیاں نظر آرہی تھی
وہ جس کی محبت میں پاگل ہو گئ تھی وہ بھی اس سے محبت کرتا تھا یہ جان کر وہ آسمان پر تھی۔اس نے غلط نہیں کیا تھا وہ جس انسان کے پاس گئ تھی وہ اس کا محافظ تھا جو ہمیشہ دور سے اس کی حفاظت کرتا تھا
ماشی کو یقین تھا اس پہ۔اور اس کی محبت پہ
____
یہ سوچ ہے دیوانگی!
کہ تپتے سورج کے تلے
میں گھر بناؤں موم کا
“سفر آپ کی فیملی اور بھائی مان گئے ہیں تم سچ کہ رہے ہو۔۔،،وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی
“جی اور شگفی اب ہماری منزل دور نہیں یہ سب آپی یعنی آپ کی بھابھی نے ٹھیک کیا ہے اسے اپنے بھائی پہ ترس آگیا تو اس نے ماں ابو سے بات کی اور آپ کے بھائیوں کو بھی منالیا۔،،سفر اس کے پاس بیٹھ کر بولا
“آئی لو یو شگفتہ۔اب آپ کو میری ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔،،وہ شگفتہ کے رخسارپہ ہاتھ رکھ کر بولا شگفتہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا
“آئی لو یو ٹو سفر۔۔،،اس نے سفر کے کاندھے پر سر ٹکا دیا۔ان کی محبت جتنے والی تھی شگفتہ کی دعا،سفر کی محنت رنگ لا رہی تھی
سفر اپنی فیملی کو منا رہا تھا پر سفر کی ماں نے صاف انکار کر دیا تھا وہ اپنی بھتیجی لینا چاہتی تھی پر جب ان کی بیٹی نے شگفتہ اور سفر کی بات چلائی تو ان کو ماننا پڑھا۔
“اب آپ کو میں گھر چھوڑ دیتا ہوں۔آپ تیاریاں کریں جا کر میرا ہونے کی۔،،سفر نے اسے گاڑی میں بیٹھاکر خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔،،وہ مسلسل شگفتہ کی نظروں کی تپش محسوس کر کے اس سے پوچھنے لگا
“میں کتنی خوش قسمت ہوں کہ مجھے آپ مل گئے۔،،شگفتہ کی آنکھوں میں آنسوں آگئے اسے یاد آگیا ایک سال سے وہ دونوں ایک دوسرے کا ہونے کو کیا کیا کررہےتھے
“اور میں بھی اب آنسوں صاف کرلو آج سے میں تمہاری آنکھوں میں آنسوں نہ دیکھوں بہت ہو گیا رونا دھونا۔،،سفر اس کے آنسوں کو اپنے ہاتھ سے صاف کرتے ہوئے بولا تو وہ مسکرا دی
“افففف یہ ہی مسکراہٹ نے تو میری جان لے لی تھی۔یاد ہے نہ جب آپ لوگ آپی کو دیکھنے آئے تھے۔ہاہاہاہاہا۔،،سفر نے کہکہکا لگاکرکہا
“بہت اچھے سے پر مجھے آپ بلکل بھی اچھے نہیں لگے تھے نہ ہیلو نہ ہائے جی اپنا نمبر دیں گی۔،،شگفتہ نے اس کی نقل اتاری تو سفر ہس دیا
“اور جب تم میری محبت میں پاگل ہو گئ تھی تب۔۔۔۔،،وہ اسے اس کی بات یاد دلوا رہاتھا شگفتہ سر جھکا گئی
“تب تو رات کے دو بجے کال کرتی تھی سفر مجھے نیند نہیں آرہی پلیز آپ اپنے گھر والوں کو منا لیں جلدی سے پلیز۔ہاہاہاہا, وہ بھی اسی کے انداز میں بولا تو دونوں کی بے اختیار ہنسی نکل گئی
“اب کچھ دن بعد میں تمہیں گھوڑی پہ اوہ ہو گھوڑی کاتو زمانہ گیا گاڑی پہ لینے آ رہا ہوں ہمارے ویلکم کی تیاریاں کریں ۔،،سفر نے اسے آنکھ مارکر کہا تو شرما گئ۔
اس کا گھر آگیا تھا سفر اسے اتار کر چلا گیا اور وہ گھر میں داخل ہوگئ
___________**********___________
“یہ پڑھ کر تو لگ رہا ہے وہ ہماری یونیورسٹی کا ہی لڑکاہے ماشی اب دیکھنا میں اپنے بہنوئی کو کیسے پکڑوں گی۔۔،،ماشی واپس آئی
تو وہ لوگ بھی آ چکی تھی انہوں نے ماشی کو گھیر لیا تھا ماشی نے لیٹر نکال کر ان کو دے دیا
“چلو باہر چلتے ہیں اتنا پیارا موسم انجوائے کرتے ہیں پھر اس کے بارے میں سوچیں گے۔،،مہک نے لیٹر ماشی کے بیگ میں ڈالتے ہوئے کہا۔ماشی جانا نہیں چاہتی تھی پر انہوں نے ضد کی تو وہ اٹھ کر چل پڑھی
“ف۔۔فہد۔،،عشرت نے فہد کو دیکھا اور بے ساختہ اس کی طرف بھاگی۔وہ گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا تھا عشرت کو دیکھ وہ سیدھا ہو کر کھڑا ہو گیا عشرت اس کے گلے لگ گئ۔فہد ہڑبڑا گیا ماشی اور کومل مہک اپنی ہنسی دبا کر دیکھتی رہی
“ہم لوگ جاتی ہیں آپ کے جیجا جی آگئے ہیں بائے۔،،کومل اور مہک مخالف سمت چلی گئی
“عشرت لوگ دیکھ رہے ہیں پلیز سائڈ پر ہو جاؤ۔،،فہد نے جھنجھلا کر کہا عشرت ایک سائیڈ پر ہو کر اسے دیکھنے لگی جیسے صدیوں سے وہ پیاسی تھی ۔
“کیسے ہو آسٹریلین بلے۔،ماشی ان کے پاس چلی آئی
“ٹھیک ہوں۔،،اس نے ایک نظر عشرت پہ ڈالی جواسے ہی دیکھ رہی تھی وہ اکتا کر پھر سے ماشی کی طرف متوجہ ہوگیا
“فہد اتنی بے رُخی کیوں۔محبت کرتی ہوں میں آپ سے کچھ تو بھ رکھ لیں ،وہ اس پہ ایک گہری نظر ڈال کر سوچنے لگی
“چلو کہیں چلتے ہیں مجھے تو بھوک لگی ہوئی ہےاور اسلام آباد کا موسم بھی بہت پیارا ہے۔،،فہد ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر بولا
“پر تم انگلینڈ سے یہاں کیا کرنے آئے ہو ابھی ایک مہینہ ہوا ہے گئے ہوئے کو۔،،ماشی بیٹھتے ہوئے بولی
“ایک ضروری کام تھا۔۔،،فہد گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے بولا
“ایسا بھی کیا ضروری کام تھا۔۔،،ماشی نے پھر سے سوال کیا
“میں شادی کرنے آیا ہوں ایک لڑکی مجھے پسند آ گئ ہے اور میں نہیں چاہتااسے کوئی اور پسند کرلے۔،،فہد ماشی کو دیکھ کر بولا اور بیک مرر میں عشرت کو دیکھا عشرت کو لگا جیسے اس کی روح کسی نے نکال لی ہو۔اس کا دل گھبرانے لگا گاڑی میں گھٹن محسوس ہونے لگی
“ف۔۔فہد گ گگ گاڑی روکو۔،،عشرت بامشکل بول پائی تو فہد نے بریک
لگا دی
” مجھے کچھ کام ہے واپس ہوسٹل جارہی ہوں۔،،عشرت کہ کر پلٹ گئ۔
“پر کام بعد میں بھی ہو سکتا ہے۔،،ماشی نے کہا پر وہ نہ مڑی
فہد نے گاڑی سٹارٹ کر لی وہ دیکھتی رہی گاڑی تیزی سے بہت دور جارہی تھی
وہ روڑ پہ نڈھال قدموں سے چل رہی تھی
“تو یہ وجہ تھی تمہاری مجھے ٹھکرانے کی تم کسی اور سے محبت کرتے ہو ہاہاہاہا۔۔،،وہ خود پہ ہس رہی تھی آنکھیں آنسوں سے بھر گئی تھی وہ کھڑی ہو کر گزرتی ٹریفک کو دیکھنے لگی آنسو صاف کر کے اس نے پرس سے اپنا فون نکالا۔
“فہد میں نے آپ سے بہت محبت کی ہے پر مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوگاکہ آپ کسی اور کے ہوجاؤ۔میری آنکھیں یہ نہیں دیکھ سکیں گی اسی لیئے میں اس دنیا سے جا رہی ہوں۔مجھے تمہارے بغیر جینا نہیں آئے گا سدا خوش رہنا
آئی لو یو۔
گڈ بائے۔،،اس نے بہتے آنسوں کے ساتھ میسج ٹائپ کر کے سینڈ کر دیا اور پھر سےٹریفک کو دیکھنے لگی۔
___________**********___________
“ماشی جلدی چلو۔۔،،فہد اٹھ کر کھڑا ہو گیا وہ دونوں کسی ہوٹل میں کھانا کھا رہے تھے جب عشرت کا میسج اس نے پڑھا
“ک۔۔کیا ہوا۔۔،،ماشی نے گھبرا کے پوچھاتو فہد نے اپنا فون اس کی طرف بڑھا دیا اور خود باہر کو لپکا
“اے میرے اللہ۔۔،،ماشی میسج پڑھ کر چکرا گئی اور فہد کے پیچھے بھاگی۔فہد نے گاڑی سٹارٹ کی اور روڈ پہ بھگانے لگا ماشی نے اسے دیکھا وہ بہت پریشان تھا چہرے پہ ڈر چھا گیا تھا وہ مرد تھا رو نہیں رہا تھا
“فہد تم اسے بتا دیتے کہ تم اس کے لئے یہاں آئے ہو اب اگر اس نے کچھ الٹا سیدھا کر لیا تو۔،،ماشی نے گھبرا کر کہا
“نہیں میں اسے کچھ نہیں ہونے دوں گا۔،،فہد نے گاڑی کی سپیڈ اور بڑھا دی
وہ پاکستان جس کے لئے آیاتھا وہ عشرت تھی وہ اسے سرپرائز دینا چاہتا تھا ملک ہاؤس میں ان کی شادی کی تیاریاں چل رہی تھی۔اس نے اپنی ماں سے رات کو ہی بات کر لی تھی سب مان گئے تھے بس ماشی کے پاپا نےکہاکہ ابھی پڑھائی کرو اور عمر کو لے کر بھی بحس کی تھی وہ ابھی بائیس سال کا ہی ہوا تھا پر فہد نے بھی کہ دیا کہ وہ شادی کے بعد بھی پڑھائی کر سکتا ہےتو ان کو ہتھیار ڈالنے پڑے
وہ اسلام آباد ان کو لینے آیا تھا پر اس نے عشرت کو نہیں بتایا ماشی کو سب پتا تھا فہد نے اسے بھی منا کیا تھا
“میں تو اسے تنگ کر رہا تھا پر اگر اس نے کچھ کر لیاتو۔۔،،فہد نے بے بسی سے ماشی کودیکھا
“نہیں کچھ نہیں ہو جلدی گاڑی چلاؤ۔۔،،ماشی کے دل میں اتھل پتھل مچ گئی تھی ۔اتنے میں عشرت کے نمبر سے کال آنے لگ گئی ماشی نے فہد کو دیکھا اس کی آنکھوں میں ڈر تھا ماشی نے کانپتے ہاتھوں سے کال ریسیو کی۔
“ہیلو۔،، ماشی کی آواز کانپ رہی تھی۔
“عشرت کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے بہت نازک حالت ہے خون بہت بہے گیا ہےجلدی سے آپ لوگ ہوسپٹل آجاؤ۔۔،،سامنے والا ہارش تھا وہ بہت گھبرایاہوا لگ رہا تھا
ہارش کی بات سن کر ماشی کی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔
“فف۔فہد ہاسپیٹل عع ۔۔ع عشرت۔۔،،ماشی نے آنسوں میں ڈوبی آواز سے بس اتناہی کہ پائی فہد نے گاڑی کی باریک لگا کر اسے دیکھنے لگا فہد کی آنکھ سے ایک آنسوں نکل کر اس کی شرٹ میں سما گیا
“میں خود کو کبھی معاف نہیں کروں گا اگر اسے ک۔کچھ۔،،فہد نے سٹیرنگ پرسر ٹکا دیا۔
“نہیں فہد ہماری عشرت کو کچھ نہیں ہوگا۔۔،،ماشی نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہافہد نےآنسوں صاف کرکے پھر گاڑی سٹارٹ کر لی اور ہاسپیٹل والے روڈ کی طرف گھوما لی ہوسپٹل میں وہ دونوں بھاگ کر داخل ہوئے اور کاؤنٹر پہ جارکے
“یہاں کوئی ابھی عشرت نام کی لڑکی داخل ہوئی ہے۔،،اس نے بہت سے آنسوں اپنے اندر اتار کر پوچھا
“جی وہاں ہےایک لڑکی ۔اوپریشن چل رہا ہے۔۔،،اس لڑکی نے اوپریشن تھیٹر کی طرف اشارہ کرکے کہا فہد بے سود ادھر بھاگا۔ دروازے کے پاس جا کھڑا ہوا۔
“ماشی اگر میری عشرت کو کچھ ہوگیاتو میں خود کو کبھی معاف نہیں کروں گا اس کی اس حالت کی وجہ میں ہوں۔،،فہد زمین پر گر گیا ماشی نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا وہ خود کو بھی سمبھال رہی تھی اگر وہ روتی تو فہد کو کیسے سمبھالتی
“میں نے اس کی محبت کی قدر نہیں کی جب احساس ہوا تو اب وہ وہاں ہے۔ایک مہینے سے وہ مجھے اپنی محبت کااحساس دلاتی رہی اب جب میرے دل میں اس کے لئیے محبت پیدا ہو گئ تو۔وہ۔،،فہد منہ پہ ہاتھ رکھ کر رونے لگ گیا
“کیا ہوا میرے ہونےوالے وہ۔۔،،،فہد عشرت کی آواز پر چونک گیا ماشی نے اور اس نے بیک وقت پیچھے مڑ کر دیکھا تو عشرت سینے پہ ہاتھ باندھے کھڑی مسکرا رہی تھی
ساتھ ہارش بھی کھڑا مسکرا رہا تھا
“تم کیا سمجھے پریشان کرنا تمہیں آتا ہے سرپرائز دینے مجھے بھی آتے ہیں۔۔،، وہ اپنی ہنسی دبا کر اس کی طرف بڑھ رہی تھی
فہد حیرانگی سے اسے دیکھ رہاتھااسے اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں ہوا وہ کمرے میں جھانکنے لگا
“وہاں بھی کوئی عشرت نام کی ہی لڑکی ہے پر آپ کی عشرت یہ ہے۔،،عشرت نے شرارتی انداز میں اپنی طرف انگلی کی
“میں نے گھر کال کی تھی تو پتا چلا کہ تمہاری شادی کی تیاریاں چل رہی ہیں بڑی مشکل سے میں نے پوچھ ہی لیا کہ لڑکی کون ہے تو پتا چلا کہ میڈم عشرت ملک ہے جس کے لئے تم سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آگئے پھر میں نے سوچا تمہیں بھی اب سبق سیکھایا جائےکہ اپنی گیم کیسے الٹی پڑھتی ہے تو میں نے ہارش کو اپنا پلین بتایا تو یہ خوشی خوشی مان گیا ۔،،عشرت ہس کے ساری بات سنا گئ
“جی ہماری ہونے والی بد دماغ بھابھی میں بہت دماغ ہے ۔
دیکھا اب جناب کی شکل کیسی ہو گئ ہے ۔ہاہاہاہاہا،،ہارش نے کہکہکا لگاکرکہا
” آئی لو یو۔۔میں یہاں تمہیں لینے آیا ہوں دل نہیں لگتا تمہارے بغیر۔،وہ عشرت کا ہاتھ پکڑ کر بولا عشرت بے اختیار اس کے سینے سے لگ گئ ماشی اور ہارش نے آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر منہ دوسری طرف کر لیا۔
“شرم کرو لوگ دیکھ رہے ہیں دو دن صبر کر لو فہد۔،ہارش نے کہکہکا لگاکرکہا تو فہد نے عشرت کو خود سے جدا کیا اور ہارش کے پاس آکر اسے گلے لگا لیا
“بونے بہت بڑے ہو گئے ہوہاہاہا۔،،فہد نے اس کو چڑھیا۔
“چلو اب میں نے یونیورسٹی سے چھوٹیاں لے لی ہیں اور ہارش تم بھی آ رہے ہواور اگر نہ آئے تو بچپن والی پٹائی کروں گا۔،،وہ ہارش کے ساتھ چلتا بول رہا تھا ماشی نے عشرت کا کان کھینچ کر گلےسے لگایا
“جان نکال دی تھی میری تو تم نے۔،،ماشی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولی
“مجھے تو میرا مجنو مل گیا تمہارا رانجھا کہاں ہے کب ملے گا۔،،عشرت نے ماشی کے کان میں سرگوشی کی اس نے اسے کہونی ماری تو دونوں ہسنے لگ گئ
“ماشی میری وائف کو آگے آنے دو۔۔،،ہارش سلام کہ کر اپنی گاڑی میں جا بیٹھا تو فہد نے بیک مرر میں دیکھ کرہس کے کہا
“جاؤ بھابھی اب تو تم بھی آسٹریلین بلی بن گئ ہو۔ہاہاہاہاہا۔،،ماشی نے ہس کر کہا تو عشرت اسے گھور کر فرنٹ سیٹ پر جا بیٹھی فہد نے اسے دیکھا اور آنکھوں آنکھوں میں کچھ کہا عشرت نے اس کی بات سمجھ کے اسی انداز میں آنکھوں میں ہی جواب دیا ماشی دیکھ کر مسکرا دی اور دل میں اللہ کا شکر ادا کرنے لگی
” شکر ہے مولا تیرا۔۔عشرت کی جھولی میں خوشیاں ڈال دی تم نے۔۔،،وہ دل میں اس ذات کا شکر ادا کرنے لگی
فہد اور عشرت کی دوریاں مٹنے جارہی تھی وہ دونوں ایک پاک رشتے میں بندھنے جا رہے تھے اور ماشی ان کے لیئے بہت خوش تھی وہ لوگ کومل اور مہک کو انوائیٹ کرکے لاہور روانہ ہونے سے پہلے شوپنگ کرنےچلے گئے
___________**********___________
“ماشی اپنے ایجنٹ سے مل کر جانا
نہیں تووہ پیچھے سے رو رو کر مر جائے گا اسلام آباد کی گلیوں میں بھٹکتا رہے گا۔،ماشی اور وہ دونوں جیولری دیکھ رہی تھی جب عشرت نے اس کے کان میں گھس کرسرگوشی کی
“سیدھی طرح کہو نہ کہ کباب میں ہڈی نہ بنو۔۔،،ماشی نے اس کی ٹانگ کھینچی۔
“ایک بات بتاؤ مجھے
اس ایجنٹ کو پتا کیسے چل جاتا ہے کہ تم اس کا انتظار کر رہی ہو یا تم مصیبت میں ہویاتم کہاں ہو،عشرت ایک لاکٹ اس کو پکڑاتے ہوئے سنجیدگی سے بولی۔
“پتا نہیں مجھے بھی یہ سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیسے جان جاتا ہے میں اس کا انتظار کروں تووہ حاضر ہو جاتا ہے۔۔،،ماشی ماتھے پہ بندیا لگاتے ہوئے بولی
“واقع ہی تمہارا محبوب کمال کاہے۔پردے میں بھی رہتا ہے اور۔،،عشرت شرارتی انداز میں بولی
“اور کیا۔۔۔،،ماشی نے اسے دیکھا
“اور تمہارے دل میں بھی رہتا ہے۔۔،عشرت نے آنکھ مارکر کہا تو ماشی شرما کر بندیااتار کر کرسی سے اٹھ گئ
“مجھے تم سے محبت ہے۔اور یہ احساس بہت اچھا لگنے لگا ہے۔،،وہ دوسری سائڈ پہ جاکے کھڑی ہو گئی “اس کو کیا پسند ہو گا میں کیسے پسند ہوں گی۔۔،،وہ مرر میں خود کو دیکھ کر سوچنے لگی
اسے یاد آیا کہ جب اس کے سر سے ڈوپٹہ سرک گیا تھا تو اس نے معاشی کاسر ڈھانپا تھا
“اسے میں ایسی پسند ہوں۔۔،،وہ اپنا دوپٹہ پکڑ کر بولی اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئ محبت کا رنگ اس کے چہرے پہ جھلک رہےتھے آنکھوں میں بھی رنگ بھرگئے تھے۔
پہلی محبت کا پہلا احساس بہت خاص ہوتا ہے ماشی کو بھی اس خاص احساس نے چھو لیاتھا۔
“ایکسکیوزمی آپ تھوڑا سا سائڈ پر ہو جائیں پلیز۔۔،،ایک لڑکی کی آواز نے اسے چونکادیا تھالڑکی کم عمر کی نہیں تھی شادی شدہ لگ رہی تھی وہ مسکرا کر ایک سائڈ پر ہو گئ۔
“بہت خوبصورت لگ رہا ہے یہ آپ پر۔۔،،ماشی نے اس عورت کو چھمکا ٹرائی کرتے ہوئے مرر میں دیکھ کر کہا۔اس عورت نے پہلی بار ماشی پہ نظر ڈالی تو نظر ہٹانا ہی بھول گئ۔
“کیا ہوا آپ ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں۔،،وہ عورت کو مسلسل دیکھتا پاکر ہڑبڑا گئ۔
“ماشاءاللہ بہت پیاری ہو۔،،وہ عورت ماشی کے منہ پہ ہاتھ رکھ کر بولی تو ماشی مسکرا دی۔
“لو اس نے یہاں بھی واقفیت نکال لی کتنی بار بولتا ہوں انجان لوگوں کے ساتھ بات چیت نہیں کرنی چاہیے آج کل کے حالات ٹھیک نہیں ہیں پھر بھی۔،،فہد ماشی کو دیکھ کربولا تو عشرت نے اس کی بات کاٹ دی
“فہد وہ بچی نہیں ہے ویسے بھی وہ اتنی پیاری اور اچھی ہے لوگ خود ہی اس کی طرف کھینچےچلے آتے ہیں تم اب یہ دیکھ و۔۔،،عشرت نے فہد کو جیولری کی طرف متوجہ کیا
“اکیلی آئی ہو شوپنگ کرنے۔۔،،عورت ماشی کودیکھ کر بولی
“نہیں بھائی اور بھابھی بھی ساتھ ہیں ایکچلی ان دونوں کی شادی ہے اسی کی شاپنگ ہو رہی ہے۔،،ماشی ایک جھمکا اٹھا کر ان کو پکڑاتے ہوئے بولی
“چلیں بھابھی آپ کی شوپنگ ختم نہیں ہوئی۔۔،،آسام ماشی کو اپنی بھابی سے باتیں کرتے دیکھ چونک گیا۔
“اسلام علیکم۔کیسی ہیں آپ۔،،آسام نے آداب سے ماشی کو سلام کیا
” ٹھیک ہوں ،،ماشی نے آسام کو بغیر دیکھے جواب دیا
“اوکے میں چلتی ہوں آپی۔،،وہ آسام کی بھابھی کو بائےبول کے فہد لوگوں کے پاس آکر بیٹھ گئ۔
“جانتے ہو تم اسے۔۔،،
بھابھی نے معنی خیز انداز میں پوچھا
“جی کلاس فیلو ہے۔۔،،آسام نےان کی بات کا مطلب جانے بغیر لاپرواہی سےجواب دیا
“صرف کلاس فیلو ہی ہے نہ یا کچھ اور بھی۔۔۔،، بھابھی نے آسام کی ٹانگ کینچھی
“خدا کا خوف کریں بھابھی۔۔،،آسام نے خوفگی سے کہا
“کیوں بتا نہ اسے دیکھ کر کچھ کچھ نہیں ہوتا تمہیں۔۔کتنی پیاری ہے وہ۔،،بھابھی ماشی کو دیکھ کر بولی
“نہیں بھابھی ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔،،آسام خھجل ہورہاتھا
“ویسےایک بات بتا یونیورسٹی میں تو بہت سے لڑکے اسے دیکھ دل تھام لیتے ہوں گے۔،،بھابھی کی بات پہ آسام کی آنکھیں پھٹ گئی
“مجھے نہیں پتا بھابھی اور آپ بھی کیسی باتیں کر رہی ہیں ۔۔،،آسام نےکہا
“کیانام ہے ۔۔،،بھابھی اٹھتے ہوئے بولی
انہوں نے شوپنگ کر لی تھی۔
“کس کا۔۔،،آسام نے لاپرواہی سے پوچھا
“تمہاری ماں کا۔۔،،بھابھی تپ کر بولی آسام کی بے اختیار ہنسی نکل گئی
“میری ماں کا نام توآپ کو بھی پتا ہے اور اس کا نام۔معروش ملک ہے۔۔،،آسام جیپ میں بیٹھتے ہوئے بولا وہ لوگ شوپنگ کرنے آئے تھے بھابھی کے بھائی کی شادی تھی
“معروش ملک۔۔،،بھابھی زیر لب بولی
آسام نے ہاں میں سر ہلا کر جیپ اسٹارٹ کر دی
___________**********___________
“ماشی تمہیں ایک بار اس سے مل کر جانا چاہئے یار ایم سیریس۔۔،،عشرت اپنے کپڑے پیک کرتے ہوئے مسلسل اسے بول رہی تھی
“ہاں ماش عشو ٹھیک کہ رہی ہے اس طرح وہ پریشان ہو جائے گا تم بھی تو ہو گئ تھی نہ۔،،مہک نے بھی کہا
“پر وہ آسٹریلین بلا مجھے جانے دے گا کیا آسٹریلین بلی۔۔،،ماشی مسکراہٹ دبا کر عشرت کودیکھ کر بولی۔عشرت نے اسے کتاب دے ماری۔
“یہ سب یہاں ہی چھوڑ جاؤ عشرت واپس یہاں ہی آنا ہے تم نے۔،،مہک اسے دیکھ کر بولی
“کس نے کہا میں تو اپنے فہد کے ساتھ انگلینڈ چلی جاؤں گی۔،،وہ چہک کے بولی۔
“کیا۔۔،،مہک اور کومل نے بیک وقت ایک ساتھ بولی
“ارے مذاق سے ہٹ کے
یار فہد نے کہا ہے،،عشرت ٹیچی بند کر تے ہوئے بولی
“تو ماشی بھی چلی جائے گی کیا۔۔,, کومل نے افسردگی سے پوچھا
“اب یہ فیصلہ تو گھر جاکے ہی ہو گا ویسے لگتا ہے چاچا اسے پھر یہاں نہیں آنے دیں گے۔،،عشرت نےماشی سے بچاکران دونوں کو آنکھ ماری
“کیوں نہیں آنے دیں گے پہلے بھی انہوں نے بھیجا ہے مجھے اور جب تم نہیں آنا چاہتی تھی تب بھی انہوں نے کہا تھاکہ وہ مجھے بھیجیں گے۔،،ماشی نے تپ کر کہا تو ان تینوں کی ہنسی نکل گئی وہ پھر سے پیکنگ کرنے لگ گئ شوپنگ سے آکے وہ دونوں اپنا سامان سمیٹ رہی تھی کچھ الماری میں رکھ دہی تھی جو لے جانے والا تھا وہ بیگ میں عشرت اپنے سارے رسالے نکال لائی تھی
“عشو یہ مجھےدیتی جاؤ یار میں نے پڑھنا ہے۔۔،،کومل ایک رسالہ اٹھاکر بولی
“ٹھیک ہے رکھ لو میری جان کو
ویسے میں دیتی نہیں ہوں پر اب میں جارہی ہوں نہ اسی لیئے دے رہی ہوں۔،وہ دوسرے رسالے اندر ڈالنے لگی
“زیادہ اتراوؤ مت پاسپورٹ ہے تمہارا۔۔،،ماشی کی بات پہ اس کی ساری خوشی اڑن چھو ہوگی۔اس نے نفی میں سر ہلا دیا
“تو پھر یہ سب کچھ چھوڑ کر جاؤ شاباش۔۔،،کومل نے کہکہکا لگاکرکہااور دو تین ناولز اٹھا لئے
“پر فہد تو بول رہا تھا وہ مجھے اپنے پاس لے جائے گا۔،،عشرت نے افسردگی سے کہا
“اس نے یہ کہاکہ وہ ابھی لے جائے گا۔۔, مہک نے اس کے پاس جاکر پوچھاتو اس نے سر نفی میں ہلا دیا
“ہارش ٹھیک کہتا ہے تمہیں بد دماغ۔ہاہاہاہا،،مہک اور کومل نے ہائے فائے کیا
“اچھا اب چلو آسٹریلین بلی تمہارا بلا ویٹ کر رہا ہے اور کومل آپ لوگ کب آؤ گی۔۔،،ماشی اپنا ہینڈ بیگ اٹھاتے ہوئے بولی۔
“ہم مہندی میں تو نہیں آ سکیں گی ہاں بارات اور ولیمہ میں کوشش کریں گی۔۔،،کومل نے معزرت خواہ انداز میں کہا ماشی دونوں کو باری باری ملی
“تم کچھ نہیں لے جارہی کیاماشی۔،،کومل ماشی کے ہاتھ میں صرف ہینڈ بیگ دیکھ کر بولی تواس نے نفی میں سر ہلا دیا اور وہ دونوں باہر چلی گئی
فہد ان کا سامان ڈیگی میں رکھ کر ڈرائیو کرنے لگا ۔ماشی کے دل کو کچھ ہونے لگا وہ وہاں سے جانا نہیں چاہتی تھی وہاں اس کاسب کچھ تھااس کی محبت اس کا ایجنٹ تھا۔اس کی آنکھوں میں آنسوں آرہے تھے وہ بار بار صاف کر رہی تھی۔اس کادل بے چین تھا کیوں تھا یہ وہ جانتی تھی
نقاب پوش کا سراپا اور اس کی محبت بھری آنکھیں اس کی آنکھوں کے سامنے آرہی تھی۔گاڑی اسلام آباد سے دور ہوتی جارہی تھی اور اس کی بے چینی بھی بڑھتی جارہی تھی۔
