Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 10,11)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 10,11)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
دل تمنا سے ڈر گیا جانم
سارا نشہ اُتر گیا جانم
اک پلک بیچ رشتۂ جاں سے
ہر زمانہ گزر گیا جانم
تھا غضب فیصلے کا اِک لمحہ
کون پھر اپنے گھر گیا جانم
جانے کیسی ہوا چلی اک بار
دل کا دفتر بِکھر گیا جانم
اپنی خواب و خیال دنیا کو
کون برباد کر گیا جانم
تھی ستم ہجر کی مسیحائی
آخرش زخم بھر گیا جانم
اب بَھلا کیا رہا ہے کہنے کو
یعنی میں بے اثر گیا جانم
نہ رہا دل نہ داستاں دل کی
اب تو سب کچھ بسر گیا جانم
زہر تھا اپنے طور سے جینا
کوئی اِک تھا جو مر گیا جانم
“فہد تم نے مجھے بہت تڑپیا ہے۔۔،،عشرت اس کے ساتھ لیٹی ہوئی تھی فہد نے سرہانے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا وہ چھت کو گھور رہی تھی۔
“میرا ارادہ تمہیں ہرٹ کرنے کا نہیں تھا میں تو بس سمجھ نہیں پارہا تھا کہ کیا کروں۔
وہ تو مس سٹروم کا شکر ہے اس نے مجھے بتادیا کہ تم مجھ سے کتنی محبت کرتی ہو اسی لیئے میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے تمہارے پاس آگیا۔،،وہ عشرت کا ہاتھ تھام کر بولا۔
“واٹ ماشی نے تمہیں کب بتایا۔۔،،عشرت اسے دیکھنے لگی
“جب تم اپنی جان لینے کی ناکام کوششوں میں لگی ہوئی تھی۔ویسے تم مجھے اتنی پاگل لگتی نہیں تھی پر میری محبت نے تمہیں پاگل کر دیا۔,،وہ عشرت کے ناک کو دبا کر شرارت سے بولا عشرت نے سائڈ بدل کر اس کی طرف ہوگئ۔
“فہد میں کیا کرتی۔آپ نے تو سنگ دلی دیکھا دی تھی مجھے یہاں تک بول دیا کہ میں بچی ہوں ہاؤ فنی۔,, عشرت خفیف ہوکر بولی اور اٹھ کے بیٹھ گئ۔
“ہاہاہاہا ادھر آؤ۔۔،،فہد نےاسے کھینچ کر اپنے اوپر گرا لیا تو وہ شرما کر اس نے اس کے سینے پر سر ٹکا دیا
“عرض کیا ہے۔،فہد اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے بولا
سینے سے لگا لوں تجھ کو کچھ اس طرح
یہ وقت یہاں ہی رک جائےہمشہ کے لئے۔،،
عشرت منہ نہ اٹھا سکی فہد نے اس کے گرد اپنی باہوں کا گھرا ڈال دیا۔
“فہد ایک بات پوچھوں۔،،عشرت ایک طرف لیٹ کے بولی۔
“جی۔۔،،فہد نے پھر سے اس کاہاتھ تھام لیا تھا
“کیا واقع ہی آپ کو مجھ سے محبت ہے۔۔،،عشرت نے سنجیدگی سے سوال کیا
“یہ کیسا سوال ہے عشرت۔۔اگر محبت نہ ہوتی تو کیامیں یوں تمہارے پاس ہوتا۔۔،،فہد نے سنجیدگی سے اپنی نزدیکی کی طرف اشارہ کیا ۔
“میرا مطلب ہے کہ تم نے میری بے وقوفی کی وجہ سے تو نہیں شادی کی کہ میں مر نہ جاؤں۔۔،،عشرت اس کی براؤن آنکھوں میں جھانک کر بولی۔
“عشرت میں تم سے پہلے محبت نہیں کرتا تھا کیونکہ کہ میں بہت پریکٹیکل بندہ ہوں کبھی اس بارے میں سوچا ہی نہیں تھا تمہیں پتا تو ہے بچپن سے اب تک میں صرف سٹڈی پر فوکس کرتا آ رہا ہوں۔ پر جب
آپ کےدل میں میرے لیئے محبت تھی تو آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا مجھے۔۔,،فہد نے اپنی بات کے اختتام پر سوال چھوڑ دیا۔
“مجھےتب پتا چلا جب آپ انگلینڈ اور میں اسلام آباد چلی گئ۔دن رات آپ کا چہرہ آپ کی باتیں میرے کانوں میں گونجتی رہتی تھی۔۔تومجھے پتا چلا کہ آئی ایم ان لو۔،،عشرت اس کے بازو پہ سر ٹکا کر بولی فہد نےاسے اپنے پاس کر لیا اور لیمپ بند کر دیا۔عشرت اس کی مہکتی باہوں میں سما گئ۔
ان کی نئی زندگی کی شروعات ہو چکی تھی
عشرت کواس کی محبت مل گئی تھی۔جوکہ صرف معروش کی وجہ سے ہوا تھا۔
____________**********___________
“سفر آپ کہاں جارہے ہیں۔۔،،شگفتہ سفر کو تیار ہوتا دیکھ بولی۔
“میری جان ایک پارٹی میں جارہا ہوں۔ہوسکتا ہے شام کو دیر سے آؤں تم ویٹ نہ کرنا سو جانا۔،،سفر اس کے رخسار پہ ہاتھ رکھ کر بولا
“سفراپنا خیال رکھنا اور گاڑی آہستہ چلایا کرو ہوا میں ایسے اڑاتے ہو گاڑی نہ ہو گئ ہیلی کاپٹر ہہوگیا۔،،شگفتہ اس کی ٹائی کستی ہوئی بولی۔سفر کی ہنسی چھوٹ گئی اس نے اپنی بیوی کو پیار سے دیکھا۔
“اوکے اور آپ بھی کھانا کھا کر سو جانا۔،،سفر بائے بول کے چلا گیا۔
“سفر میں کیسے آپ کا انتظار نہ کروں گی ۔۔میری زندگی ہو آپ۔،،وہ کھڑکی میں کھڑی ہو کے اسے جاتا دیکھنے لگی سفر نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور ہاتھ سے بائے بولا بدلے میں شگفتہ نے بھی ہاتھ ہلا دیا۔
سفر گاڑی اڑا کر لے گیا ہمشہ کی طرح ۔وہ اسے دیکھتی رہی۔
اور پھر کھڑکی کے سامنے سے ہٹ کر بیڈ پہ لیٹ گئی
سارا دن گزر گیا اور رات ہو گئ۔
سفر نے نہ کال اٹھائی نہ میسجز کا ریپلائی کیا وہ لان میں جابیٹھی اور کرسی پر ہی سوگئ
“بی بی جی۔۔اٹھ جائیں جی۔،،ملازما کی آواز پراس نے آنکھیں کھولی
“آپ کے سفر صاحب آگئےکیا؟؟٬٬شگفتہ آنکھیں ملتی اٹھ کھڑی ہوئی صبح کا سورج سر پر آ چکا تھا
“نہیں بی بی جان ابھی تو نہیں آئے۔،،نوکر کی بات سن کر وہ خوف ذدہ ہو گئ۔دل میں برے برے خیالات آنے لگےاور وہ سفر کو کال کرنے لگی۔
بہت کالز کے بعد سفر نے کال اٹھائی تھی۔
“ہیلو سفر کہاں ہو تم۔۔رات کو بھی واپس نہیں آئے تھے تم ٹھیک ہو نہ ۔،،وہ پریشانی سے بولی۔
“جی کون۔,,آگے سے کوئی عورت بولی تھی۔شگفتہ کا وجود پتھر کا ہو گیا اس نے بڑی مشکل سے پوچھا
“آپ۔۔ک۔کک۔کون۔,،لفظ بڑی مشکل ادا ہوئے تھے
” مسسز سفر سپیکینگ ۔آپ کون۔،،عورت کی بات سن کر شگفتہ کے ہاتھ سے فون گر گیا اور وہ خود بھی نیچے گر گئ تھی۔
“سفر یہ کیا کیا تم نے۔دھوکہ کیا میرے ساتھ تم نے۔آخر کیوں سفر۔،،اس کے آنسوں اس سے بغاوت کر چکے تھے۔وہ بھاگ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
“میں نے آپ پر یقین کیاتھا سفر۔۔،،وہ بیڈ پر گر گئ۔
” مسسز سفر۔ مسسز سفر۔،، عورت کی آواز گونجنے لگی تھی۔شگفتہ نے کانوں پہ ہاتھ رکھ لیئے۔
“اب میں اس گھر میں ایک پل بھی نہیں رکوں گی اس گھر میں میرا کون تھا تم ہی تھے میرے پر تم بھی کب تھے سفر۔،،وہ اپنے کپڑے نکال کے ٹیچی میں بھرنے لگ گئی۔
“یہ کیا کر رہی ہو تم شگفتہ تمہارے ساتھ کتنی زندگیاں جوڑی ہوئی ہیں بھائی بھابھی ان کا بچہ۔،،اس کے دل نے سرگوشی کی تو وہ چپ کر بیڈ پر گر گئ۔
چار مہینے ہوئے تھے ان کی شادی کو اور اتنا بڑا سچ اس کے سامنے آگیا تھا
“شگفتہ سنبھالو اپنے آپ کو وہ تم سے محبت تو کرتا ہے نہ۔مرد تو چار چار شادیاں بھی کر لیتے ہیں تمہاری محبت ہے وہ تم اس کے بغیر نہیں جی سکو گی۔۔,٬اس کے پاس سرگوشی ہوئی
“پر میں اپنے سفر کو کسی ایک کے ساتھ بھی کیسے بانٹوں پر بانٹاتو اس عورت نے ہے۔میں تو دوسری ہوں۔۔،،شگفتہ روتے ہوئے خود سےبولی۔۔آنسوں رفتاری سے بہنے لگے تھےوہ بیڈ پر گری بے جان پڑی رہی ایک دن سے اس نے کچھ نہیں کھایا پیا تھا۔
“شگفتہ۔۔شگوفی۔،، پتا نہیں کب سفر کی آواز اس کے کانوں میں پڑھی۔وہ واش روم چلی گئی باہر آئی تو سفر سامنے کھڑا تھا۔
“شگفی ایم سوری رات کو فرینڈز نے بٹھا لیا تھا بہت ضد کی تھی پر آنے نہیں دیا انہوں نے۔،،
“کتنی سادگی سے تم چھوٹ بولتے ہو۔۔،،شگفتہ سفر کی چھوٹی گواہی پر سوچ کر رہ گئ چلتے چلتے اسے چکر آنے لگ گئے۔۔
“کیا ہوا تم ٹھیک ہو نہ میری جان۔،،سفر نے اسے اپنی باہوں میں تھام لیا۔،،شگفتہ اسے دیکھنے
گئی دیکھتے دیکھتے پہلے آنکھیں آنسوں سے بھر گئی پھر اس نے آنکھیں بند کر لی
“شگفی۔۔۔آنکھیں کھولو شگفتہ۔۔،،سفر اس کامنہ تھپتھپاتے ہوئے بولا
جب وہ نہ اٹھی تو سفر اسے اٹھا کر نیچے کی طرف بھاگا گاڑی میں ڈال کر ہاسپیٹل لے گیا
“ڈاکٹر وہ کیسی ہیں۔،
“مبارک ہو سفر صاحب آپ باپ بننے والے ہیں۔ویسے یار دو دو ہینڈل کیسے کرلیتے ہیں اور پہلی بھابھی کو بھی ابھی لے کے آئے ماشاءاللہ دونوں ایک ساتھ پریگننٹ پاکستان بنانے کا ارادہ ہے کیا ۔،،ڈاکٹر اس کا فرینڈ تھا وہ سفر کا مذاق اڑانے لگا سفر نے آنکھیں دیکھائی تو وہ چلا گیا۔
وہ اس کمرے کی طرف بھاگا جہاں شگفتہ لیٹی ہوئی تھی
“شگفی تھینک یو۔،،وہ بھاگ کر اس کے پاس آیا اور اسے خوشی سے گلے سے لگا لیا۔
“اللہ اب میں کیا کروں گی۔ایک بچے کے ساتھ وہ گھر کیسے چھوڑوں گی۔،،وہ سفر کو دیکھ کر سوچنے لگی
وہ ماں بننے والی تھی پر جو حالات اس کے سامنے تھے اس کی وجہ سے وہ خوش نہیں تھی۔
“یا اللہ مجھے صبر دے۔،،اس نے آنکھیں بند کر لی
ہر روز سفر اس کے پاس بیٹھا رہتا تھا کبھی کبھی تو آفس بھی نہیں جاتا تھا۔
جس وجہ سے اسے اپنے باپ سے ڈانٹ ڈپٹ پڑھتی تھی۔۔
“اتنے بڑے بزنس مین کا بیٹا رن مرید بنا بیٹھا ہے باہر نکل سفر۔،،آج اس کے والد بہت بھڑکے ہوئے تھے حال میں کھڑے ہوکر اسے بولا رہے تھے وہ شگفتہ کے پاس سے اٹھ کر باہر نکل آیا
“میری بیوی ماں بننے والی ہے اس کو ٹائم دینا میرا فرض ہے۔،،وہ آداب سے بولا
“گھر میں کتنے ملازم ہے وہ رکھ سکتے ہیں اس کا خیال۔۔،انہوں نے غصے سے کہا تو سفر تپ گیا
“سو وٹ ڈیڈ واٹ یو وانٹ ٹو سیے۔۔, سفر نے تیز لہجے میں سوال کیا
“اب اس عورت نے تمہیں زبان چلانی بھی سیکھا دی ہماری بیٹی نے کبھی اصغر کو ایسی پٹیاں نہیں پڑھائی۔،،سفر کی ماں بھی شروع ہو گئی کمرے میں بیٹھی شگفتہ کی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔
سب کی نفرت کا سامنا کرنا آسان نہیں ہوتااور اپر سے اتنا بڑا سچ اس کے سامنے آ چکا تھا وہ سفر کو سمجھ نہیں پاتی تھی کبھی وہ اس کے لیئے دنیا جہاں سے لڑتا تو کبھی وہ اسے سرے سے اگنور کرتا اور وہ پہلے سے شادی شدہ بھی تھا شگفتہ ہر وقت سفر کو سمجھنے میں لگی رہتی۔
“میں کیا کروں میرے اللہ۔۔اگر ایسی آزمائش میں ڈالا ہی ہے تو صبر بھی دے
میرے مولا صبر دے مجھے۔،،وہ ہاتھ اس پاک ذات کے آگے جوڑ کر رونے لگ گئ۔
باہر ابھی بھی ہنگامہ برپا تھا۔سفر کی ماں شگفتہ کو بد دعائیں تانے دینے میں لگی ہوئی تھی۔سفر غصے میں باہر چلا گیا۔
____________**********___________
ولیمہ کی تقریب شروع ہو گئ تھی جانی مانی ہستیاں بھی شامل تھی فہد ملک کے ولیمہ میں آخر پہنچے ہوئے ڈاکٹر کے بھانجے کی شادی تھی تو انچی انچی شخصیات نہ آتی یہ کیسے ممکن تھا۔
عشرت اور فہد صوفے پر بیٹھے باتیں کر رہے تھےاور عشرت وقفے وقفے سے مسکرا بھی رہی تھی فہد کے چہرے پر بھی مسکراہٹ تھی ماشی ان کو دیکھ کر دل ہی دل میں بہت خوش تھی ماشی اٹھ کر ان کے پاس چلی گئ اور تصویرں بنانے لگی۔
فہد اور عشرت ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ماشی نے وہ منظر اپنے فون میں قید کر لیا۔
“بہت پیاری لگ رہی ہومس ملک۔،،ہارش اس کے پیچھے کھڑا تھا ماشی چونک کر مڑی تواس کے لمبے بال ہارش کے چہرے پر لگے
وہ اپنے فیورٹ سٹائل لمبی پیروں تک اور فل بازوؤں والی میکسی میں مبلوس تھی بالوں کو کھولا چھوڑا ہوا تھا جو اس کی کمر سے بہت نیچے جا رہے تھے۔ہلکے ہلکے میک اپ میں اس کا سراپا بہت پیارا لگ رہا تھا ہارش اس کو دیکھتا ہی رہ گیا ماشی نے جلدی سے سر پہ ڈوپٹہ ٹکالیا۔
“آپ کی تعریف کی ضرورت نہیں۔،،ماشی فون کے ساتھ کھیلتے ہوئے بولی
“پر میں نے تو کر دی۔کیاکر لو گی۔،،ہارش نےہسی دبا کر کہا۔ ہمیشہ کی طرح اس کی ٹانگ کینچھی ۔
بچپن میں بھی وہ اسے تنگ کرتا رہتا تب ماشی اس کے بال کھینچ کر گرا دیتی تھی پر اب وہ بڑی ہو گئ تھی لحاظ کر جاتی تھی
“تمہاری پروبلم کیا ہے۔۔دیکھو ہارش مجھے بلکل بھی اچھا نہیں لگتا ۔ مجھ سے تمہارا بات کرنا
تمہاری مہربانی ہوگی مجھ سے دور رہو اور اب ہم بچے نہیں رہے بڑے ہو گئے ہیں بات بات پر بچپن یاد نہ دیلایا کرو۔،،ماشی کا جو غصہ کہیں دبا ہوا تھا اچانک باہر نکل آیا وہ غصے سے سرگوشی کرکے چلی گئی
“کتنی عجیب لڑکی ہے بات کرنا بھی اچھا نہیں لگتا۔،،ہارش گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔
۔اسی پل فوٹوگرافر نے اس کی تصویر لے لی۔
“نائس سر۔۔،،فوٹوگرافر اس کی تصویر دیکھتے ہوئے بولا۔
“ارے بھائی ادھر تصویریں بنائیں دولہا دلہن ادھر ہیں۔۔،،ہارش فوٹوگرافر کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔تو وہ ادھر چلا گیا۔
ہارش کو کسی کی آنکھوں کی تپش محسوس ہوئی تو اس نے آس پاس دیکھا کوئی نہیں ملا۔تو وہ سر جھٹک کر سٹیج پہ فہد کے پاس جابیٹھا۔
“مبارک ہو جناب۔۔,ہارش ،فہد کے گلے لگتے ہوئے بولا۔
“چلو ہمارے ساتھ۔۔اب بھابھی کا پلو چھوڑ دو ان کے پاس ہی رہنا ہے تم نےساری زندگی ادھر ساجد لوگ انتظار کر رہے ہیں تمہارا یار۔،،رضا لوگ بھی سٹیج پہ آئے تھے۔
“بھابھی جی ہم اپنے بھائی کو کچھ پلوں کے لئے لے جائیں اگر اجازت ہو تو۔،، عشرت سر جھکا کر اپنی مسکراہٹ چھپانے لگی اور سر ہاں میں ہلا دیا
“چل اب۔۔،،ایک دوست نے کہا توفہد ہس کے سٹیج سے اتر کر ہوٹل کی پیچھلی سائڈ پر چلا گیا
مہک ماشی اور کومل اس کے پاس آکر بیٹھ گئ۔
“یار کیا فوج تیار کی ہوئی ہےبہنوئی نے۔یار میں تو سوچ رہی ہوں ان میں سے ایک کو پسند کر لوں بھاگ جاؤں کیوں کہ گھر والوں نے تو مان نہیں ویسے مجھے تو بیلو پیٹ پیارا لگا ہے ۔۔،،کومل پر سوچ انداز میں بولی۔،وہ رضا کی بات کر رہی تھی ۔ان تینوں کی بے اختیار ہنسی نکل گئی
“عشرت کیا کہا فہد نے وہ تجھے اپنے ساتھ لے جائے گا کیا۔۔،،مہک نے پوچھا
“ہاں پر دو مہینے کے بعد۔،،عشرت منہ ڈھیلا کر کے بولی۔
“چلو کوئی بات نہیں دو مہینے کی بات ہےپھر تم چلی جاؤ گی اور میں اکیلی۔،،ماشی نےافسوردگی سے کہا
“ہم لوگ ہیں نہ اور تمہارا ایجنٹ بھی۔،،مہک نے کہاتو ماشی کے چہرے پہ جان دار سمائل نمودار ہو گئ۔
________
وہ ہوٹل کے کمرے میں پھنس گئ تھی سب جا چکے تھے
“کوئی ہےیہ دروازہ نہیں کھول رہا۔پلیز سم باڈی ہیلپ۔،،وہ دروازہ زور زور سے بجانے لگی اس کا فون بند ہو چکا تھا
“افففف کیا ہوا تھا میں کمرے میں آئی۔۔،،وہ سوچنے لگی تھی۔
“پھر پانی پیا اور پھر۔۔،،اسے یاد آگیا
اتنے میں ویٹر نے دروازہ کھولا تو وہ باہر نکل آئی اسے اس ویٹر کی نیت ٹھیک نہیں لگی تھی۔وہ تیز تیز قدم اٹھانے لگی ۔دو تین ویٹر اس کے پیچھے چل رہے تھے ہوٹل خالی تھا۔
اس کی چھٹی ہس پھڑکنےلگی تھی۔وہ بھاگنے لگی پر سامنے رکھی ہوئی کرسی سے ٹکرا کر گرگئ وہ تینوں ہونٹوں پہ مسکراہٹ
سجا کر اس کی طرف بڑھ رہے تھے
“نہیں پلیز میرے پاس مت آنا دور رہو مجھ سے۔،،وہ اپنے وجود کو گھسیٹتے ہوئے پیچھے جارہی تھی۔
‘”کتنی مشکل سے تمہیں بند کیا میڈم تمہیں نیند کی گولیاں دی اب چھوڑ دیں نہیں میڈم جی۔،٬ایک لڑکے نے کمنگی سے کہا اور اس کی طرف ہاتھ بڑھانےلگا
ایک لڑکا نے ماشی کے دوپٹے کواتار کر ہوا میں اچھال دیا
“نہیں پلیز مجھ سے دور رہو خدا کا واسطہ میرے پاس مت آنا۔،،ماشی چینخ کے بولی۔اور پیچھے کھسکتی گئ ان لڑکوں کے پاؤں نہیں روکے تھے ماشی کھسکتی ہوئی دیوار کے ساتھ لگ چکی تھی
“پلیز جانے دو مجھے۔،،ماشی نے ہاتھ جوڑ دیئے۔پر وہ لڑکے نہ
ماشی نےہاتھ سے ٹٹولا پیچھے دیوار تھی
وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی پر کچھ نہیں ملا
تو اس نے اپنی ہیل والا جوتا اتار کر دو لڑکوں کے سر میں مارا اور اٹھ کر کمرے کی طرف بھاگی وہ سر پکڑ کر اس کے پیچھے بھاگے اس سے پہلے ماشی دروازہ بند کرتی ان ویٹرز نے دروازہ کھول دیا
“سالی بھاگتی کہاں ہو۔۔،، لڑکا اس پہ جھکا ہی تھا کہ اس کی گردن سے کسی نے پکڑ کے پیچھے سے مکا دے مارا۔ماشی نےبہتے آنسوں سے اپنے مسیحا کو دیکھا
وہ آچکا تھا اس کے ایک ہاتھ میں ماشی کا دوپٹہ تھا جو ان لڑکوں نے حال میں اتارا تھا
ماشی نے سر گھٹنوں میں چھپا لیا۔اور دیوار کے ساتھ بیٹھ گئ
نقاب پوش نے مکوں کی برسات کر دی ان پر مار مار کر ان کا حال برا کر دیا تو وہ ہاتھ جوڑ کھڑے ہوئے
“معاف کردیں صاحب جی آئیندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی۔چھوڑ دیں ہمیں۔،،ایک ڑکے نے کہرا کےکہا نقاب پوش نےہاتھ کھینچ لیا اور غصیلی نگاہوں سے جانے کا اشارہ کیا تو وہ لڑکے ڈر کے دوسری طرف بھاگ گئے۔
نقاب پوش نے ماشی کو دیکھا اور اس کا وہ ڈری سہمی دیوار کے ساتھ لگی بیٹھی تھی
وہ اس کی طرف بڑھ گیا ماشی ویسے ہی گھٹنوں میں سر دے کر رو رہی تھی نقاب پوش نے اس کو بازوں سے پکڑ کر اٹھایا تو ماشی بے اختیار اس کے سینے سے لگ گئ نقاب پوش ایک منٹ کو تو ہڑبڑا گیا دوسرے پل اس نے ماشی کو خود سے الگ کر کے اس کے سر پہ ڈوپٹہ کروا دیااور اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر چل پڑھا حاصل میں گرے ہوئے اس کے جوتے اٹھا کر وہ پھر سے چلنے لگا ماشی اسے دیکھتی رہی مار پیٹ کے وقت اس کی شرٹ آگے سے پھٹ گئی تھی۔پر اسے پرواہ نہیں تھی اس نے ماشی کو گاڑی کے پاس کھڑا کیا اور جوتا پہنانے کے لیے جھکا
“نہیں آپ یہ کیا کر رہے ہیں۔۔چھوڑیں پلیز۔۔،،,ماشی نے پاؤں پیچھے کھینچ لیا پر مجال ہے وہ اس کی مانتا
وہ اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ماشی کا پاؤں اپنی ٹانگ پر رکھ کر جوتا پہنانے لگا ماشی نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔اور اسے دیکھنے لگی۔تھوڑی دیر میں وہ اس کو جوتا پہنانا چکا تھا۔اور گاڑی کا فرنٹ دروازہ کھول دیا ماشی چپ چاپ بیٹھ گئ وہ کوئی سوال نہیں کرتا تھا اس بار بھی اس نے ماشی سے کچھ نہیں پوچھا تھا
“میرے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے ایجنٹ۔۔،،وہ گم سم سے انداز میں بولی۔نقاب پوش اسے دیکھنے لگا ماشی کے آنسوں پھر سے بہنے لگے تھے۔نقاب پوش بے بس ہو کر اس کی طرف منہ کر کے فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ گیا۔
“جتنا میں خود کو بچاتی ہوں اتنا ہی۔۔،،ماشی اپنے کاندھوں کے گرد بازو حائل کرئے ہوئے تھی اس کا وجود خوف سے کانپ رہا تھا۔نقاب پوش بے بسی سے اسے دیکھتا رہا
“اگر آج آپ نہ تو۔۔،وہ اُدھوری بات چھوڑ کر پھر سے رونے لگ گئ۔جزباتی ہو کےاس نے نقاب پوش کے سینے سے سر ٹکا دیا اس کا وجود ابھی بھی تڑپ رہا تھا جیسے مچھلی کو پانی سے نکال دیا ہو نقاب پوش نے اپنا بازو اس کے گرد حائل کر دیا ماشی آنکھیں بند کر کے سکون کو اپنے اندر اتارنے لگ گئ
“مجھے آپ سے محبت ہے ایجنٹ۔،،وہ اس کے سینے سے لگی اظہارِ محبت کر رہی تھی۔وہ کچھ نہیں بولا تھا
تھوڑی دیر بعد اسے اپنی حرکت کا احساس ہوا تو جلدی سے پیچھے ہو گئ۔
“ایم سوری۔۔،،ماشی اپنے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے بولی نقاب پوش نے اسے دیکھا۔وہ نارمل ہو چکی تھی۔
“میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں ویسے تم بہت کمزور ہو ڈرا نہ کرو۔۔،،نقاب پوش نے سوچا
“ہاں پر آپ جب ساتھ ہوتے ہیں تو میں بہت مظبوط فیل کرتی ہوں ۔۔،،ماشی نے اسے دیکھ کر سوچا۔وہ اس کے دل کی بات پڑھ چکی تھی۔نقاب پوش نے اسے دیکھا اور اس کی آنکھیں مسکرا دی۔
“محبت ایک خاص احساس ہے جو اللہ نے ہمیں نوازا ہے۔۔،،نقاب پوش نے سوچا۔
ماشی نےاس پہ نگاہ ڈالی اور ہاں میں سر ہلا دیا
“تیرا شکر ہے میرے پروردگار میرے مسیحا کو بھیج دیا۔،،ماشی نے نظریں جھکا لی۔
__________********________
راستہ خاموشی سے تہہ ہوا وہ چپ چاپ ڈرائیو کرتا رہا گاڑی ملک ہاؤس کے سامنے آ رکی۔تو ماشی نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔
“آپ کو کیسے پتا چلا۔کہ،،ماشی حیران کن انداز میں بولی۔نقاب پوش کی آنکھوں میں ایک سایہ لہرا اس نے نظریں پھر سے چرا لی۔اور اتر کر ماشی کی طرف والا دروازہ کھول دیا۔اور گاڑی سےٹک لگا کر ملک ہاؤس کو دیکھنے لگا
“تم ک ک کون ہو۔۔،،ماشی اس کے سامنے کھڑی ہو کر بولی وہ اسے دیکھتا رہا ماشی نے بھی اس کی آنکھوں میں دیکھنا شروع کر دیا۔ تو وہ نظر چرا گیا ماشی کو ہر بار کی طرح اس بار بھی جواب نہ ملا تو اس نے قدم ملک ہاؤس کی طرف بڑھا دئیے۔دروازے میں جاکر اس نے مڑکر دیکھا نقاب پوش جاچکا تھا۔وہ دروازہ
کھول کے اندر چلی گئی۔حویلی میں سناٹا تھا
“شائد کسی کو علم ہی نہیں کہ میں کہاں ہوں۔۔،،وہ سوچتی ہوئی آہستہ آہستہ چلتی برآمدے میں داخل ہو گئ۔
“کہاں تھی تم۔۔،،وہ فہد اور عشرت کے کمرے کے آگے سے گزر رہی تھی جب اسے عشرت نے اندر کھینچ لیا۔
“تم لوگوں کو کیا۔شادی ہو گئ مجھے ہی بھول گئ وہاں چھوڑ آئے تھے تم لوگ مجھے۔،،ماشی عشرت کے انداز پر بھڑک گئ فہد سو رہا تھا
“اس کو تو کچھ نہیں بتایا نہ۔،،ماشی نے فہد کی طرف اشارہ کر کے پوچھا
“بتادیا ہے اس ایجنٹ کے بارے میں اور تم ابھی بھی اس کے ساتھ تھی نہ۔،،عشرت نے اطمینان سے جواب دیا
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا۔۔اس کو کیوں بتایا۔اور میں اس کے ساتھ نہیں تھی وہ ہر بار کی طرح اس بار بھی میری حفاظت کرنے آ گیا تھا۔،،ماشی نے ساری بات سنا دی عشرت ہر بار کی طرح حیران ہو گئ تھی۔
“ماشی مجھے وہ جن بھوت لگتا ہےیارہر جگہ پہنچ جاتا ہے۔اور اب اسے ہمارے گھر کا بھی پتا ہے اوہ مائی گاڈ واقع ہی وہ بھوت ہے بچ کے رہ اس سے۔،، عشرت فہد کے پاس بیٹھ گئ وہ سویا ہوا تھا
عشرت اس کے بالوں میں ہاتھ چلنے لگی۔ماشی کی ہنسی چھوٹ گئی۔
“چپ کرو چڑیل میرے شوہر کی نیند خراب نہ کرو تھکا ہوا ہے۔,, عشرت اٹھ کر ماشی کے پاس آگئ۔
“اوہ ہو۔اتنا پیار پوری عورت بن گئ ہو دو دن میں۔،،ماشی اسے سر سے پاؤں دیکھ کر بولی۔عشرت نے نائٹ گاؤن پہنا ہوا تھا جس کا گلا کھولا تھا کھولے بال اور چہرا بغیر میک اپ کے فہد کی محبت کا رنگ اس پہ چڑھا ہوا تھا ماشی نے پھر فہد پہ نظر ڈالی۔وہ سفید شلوار قمیض میں ملبوس بے خبر سو رہا تھا۔
“یہ سو رہا ہے یاسونے کا ناٹک کر رہا ہے۔،، ماشی نے گھور کر فہد کو دیکھا
“اے میرے شوہر پہ الزامات نہ لگاؤ چپ کر کے دفعہ ہو جاؤ۔،،عشرت غصے سے بولی تو ماشی کی پھر سے ہنسی نکل گئی۔فہد ہلنے لگ گیا۔
“خدا کا خوف کرو لیڈیز اتنی رات کو کیوں گلا بھاڑ بھاڑ کر ہس رہی ہو۔۔،،فہد آنکھیں ملتا اٹھ بیٹھا۔
“ہم لیڈیز نہیں ہیں بھورے بندر۔۔،،ماشی نے آنکھیں سکوڑ کر کہا
“محترمہ آپ کو ٹائم مل گیا گھر آنے کا۔ہوگئ ملاقات اپنے پردہ نشیں سے۔،،فہدانکھیں ملتا اٹھ کر بیٹھ گیا اور قدر غصے سے کہا ماشی نے افسردگی سے فہد کو دیکھا۔پھر عشرت کو اور بے یقینی کے عالم میں سر ہلا کر کمرے سے بھاگ گئ۔
“فہد آپ کو ایسے نہیں بولنا چاہئے تھا۔وہ اس سے نہیں ملنے گئ تھی بلکہ۔،،عشرت نے فہد کو ساری بات بتا دی تو۔
“اوہ شیٹ میں ابھی آتا ہوں عشو۔۔،،فہد بیڈ سے اٹھ کے ماشی کے پیچھے بھاگا۔وہ تب تک جا چکی تھی اسے پتاتھاوہ کہاں تھی۔وہ برآمدے سے ہو کر سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
“سٹیف سب لوگ کتنا غلط سوچتے ہیں بھلا میں معروش ملک رات کے ایک بجے کسی کو ملنے جا سکتی ہوں کیا۔پتا ہے سٹیف وہ دریندے کتنے خطرناک تھےاگر وہ نہ آتا تو۔،،ماشی دیوار کے ساتھ بیٹھ کے روتے ہوئے سٹیف کو سرگوشی کررہی تھی فہد کے قدم سیڑھیوں پر ہی رک گئے۔
“اگر آج وہ نہ آتا تو میری عزت لٹ جاتی وہ میرا مسیحا ہے اور فہد مجھ پہ کیسا گھٹیا الزام لگارہاتھا کیا میں ایسی لڑکی لگتی ہوں تمہیں سٹیف مجھے اپنی عزت کس حد تک عزیز ہے یہ تم جانتے ہو نہ سٹیف۔۔،،ماشی کے آنسوں بہے رہے تھے۔
“ایم سوری ماشی۔۔،،فہد کی آواز سن کر بھی اس نے اسے دیکھا نہیں۔
“میرا وہ مطلب نہیں۔۔،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتا ماشی اٹھ کر نیچے بھاگ گئ۔
“میں نے بغیر سوچے بول دیا افففف گوڈ اب پتا نہیں کب تک یہ ماہ رانی ناراض رہیں گی۔،،فہد اسے نیچے جاتا دیکھ سوچ میں پڑھ گیا اور پھر سے کمرے میں چلا گیا۔عشرت اس کا انتظار کر رہی تھی۔
“مان گئ کیا۔،،عشرت کے سوال پر اس نے سر کو نفی میں ہلا دیا اور اس کے ساتھ بیڈ پر لیٹ گیا۔
“کوئی بات نہیں جب سے وہ جوان ہوئی ہے تمہیں پتاتو ہے کتنی پوزیسو ہو گئ ہے کوئی
بات نہیں میں کل بات کروں گی آپ کی بیوی ہوں اب تو بے فکر ہو جائیں آپ کی بہنا کو مانا ہی پڑھے گا۔۔،عشرت فہد کی لمبی اور پیاری سی ناک کو دبا کر بولی فہد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئ اس نے عشرت کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
“میں دو دن بعد جا رہاہوں عشو۔،, فہد نے اس کے ہاتھ پر ہونٹ رکھ کر کہا۔
“مت جاؤ نہ میں کیا کروں گی تمہارے بغیر دل نہیں لگے گا فہد۔۔،،عشرت نے اس کے گرد بازوں کی پکڑ کو مضبوط کردیا جیسے وہ ابھی نہ بھاگ جائے
“میری جان میرا بھی دل نہیں لگے گا تمہارے بغیر بس تمہارا پاسپورٹ بن جائے پھر تمہیں بھی اپنے پاس لے جاؤں گا۔،،فہد اس اپنے بازو پہ لٹا کر اس پہ جھک کر بولا عشرت نے آنکھیں بند کر لی۔
فہد اس کی بند آنکھیں دیکھ مسکرا دیا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ سجا دئیے
“آئی لو یو فہد۔۔,،عشرت نے دنیاکے سارے جذبات لہجے میں سمو کر کہا تو فہد کے ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ اگئ۔
“لو یو ٹو عشو۔،،فہد نے اسی کے انداز میں جواب دیا اور عشرت کو اپنی باہوں میں بھر لیا۔
ان کی محبت سے کمرے کی ہر چیز جھوم رہی تھی آخر ان کی محبت کو منزل مل گئ تھی بغیر کسی رکاوٹوں کے۔
فہد کی چھٹیاں ختم ہونے کو تھی اور وہ دو دن بعد انگلینڈ کو جانے والا تھا اس بار وہ بہت ساری یادیں بہت ساری محبت کو لے جا رہاتھا۔
__________*********________
“کیا کر رہی ہو تم یہ تیرے باپ کا گھر نہیں ہے جہاں تم آرام کرو گی۔۔اور ہاں مجھے تم سے لڑکا چاہئے وہ بھی میرے بیٹے جیسا تمہارے جیسا ہوا تو بے شک گلا گھونٹ کر مار دینا۔،،حلیمہ بیگم اس کے کمرے میں آتے ہی شروع ہو گئ تھی شگفتہ ہقا بقا بیٹھی انہیں دیکھتی رہ گئ۔
“ایسے تاڑ تاڑ کیا تک رہی ہو میرے لئے جوس لے کر آؤ۔۔،،وہ صوفے پر بیٹھ کر بولی شگفتہ کی سوئی ابھی اسی لفظ پہ اٹکی تھی گلا گھونٹ کر مار دینا اسے اپنے کانوں پر یقین
نہیں ہو رہا تھا کہ کوئی عورت اور ماں ہو کر ایسا کچھ بول سکتی ہے۔
“تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا۔،،حلیمہ نے غصے سے کہا تو شگفتہ ڈر کر اٹھ گئ۔اور باہر چلی گئی۔
“اتنے بڑے خاندان سے ہے پر ڈھنگ سے کپڑے پہنے کا طریقہ نہیں آتااس لڑکی کو ناک کٹوا کے رکھ دی ہے سفر نے ہماری۔کاش میں اس کی بات مان کر اس پر کٹی سے شادی کروا دیتی تو تھو تھو تو نہ ہوتی خاندان میں۔سوہنی تو تھی گوری چٹی تو تھی۔،،حلیمہ کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے خود کلام تھی۔سفر کچھ کام سے باہر گیا ہوا تھا اگر وہ ہوتا تو حلیمہ کبھی اس کے کمرے میں نہ آتی پر جب اب وہ نہیں تھا تو حلیمہ کا معمول بن گیا تھا شگفتہ کی آ کر بے عزتی کرنے کا اسے تانے دینے کا نیچا دیکھانے کا۔
“م۔مم۔ماما جوس۔،،شگفتہ نےڈرتے ہوئے کہا۔
“تمہیں کتنی بار بولا ہے مجھے ماما مت بولا کرو۔سمجھ نہیں آتی تمہیں۔،،حلیمہ نے جوس کا گلاس زمین پر پھینک کر کہا۔شگفتہ ڈر گئ
“ایم س۔۔سوری ،،شگفتہ کا لہجہ بھر آیاتھا حلیمہ اسے دھکا دے کر اٹھ کر چلی گئی۔
“کیوں میرے مولا کیوں لوگوں کے دلوں میں میرے لیئے نفرت ڈالی تم نے کیوں مجھے اس مڑ پر لیا تم نے میں نہ اُدھر کی ہوں نہ ادھر کی نہ یہ گھر چھوڑ سکتی ہوں نہ اپنے بھائی کا گھر توڑ سکتی ہوں مجھےہمت دے میرے اللہ،،شگفتہ بیڈ کے ساتھ نیچے بیٹھ گئ۔
اور گھٹنوں میں منہ دے کر بلک بلک کر رونے لگ گئ روتے روتے اس کے سر میں شدید درد ہونے لگی تو اس نے اٹھ کر نیند کی گولی کھائی اور لیٹ گئ تھوڑی دیر میں وہ نیند کی وادیوں میں کھو گئ۔
_____________*******__________
“سامی بےبی آج تو تمہیں ہمارے ساتھ چلنا پڑھے گا۔چلو اٹھو۔،،لکی آسام کو کھینچتے ہوئے بولا۔
“نہیں مطلب نہیں سمجھ نہیں آئی ایک بار۔دیکھ لکی میں نے کتنی بار تم سب کو سمجھایاہے یہ کتے کام نہ کیاکرو اور افی سے بھی نہ کرویا کرو
جس دن میرا ہاتھ اٹھا تم سب کی خیر نہیں۔،،آسام آگ بگولہ ہو گیا تھا۔
“سامی کیوں بھڑک رہے ہو۔یار ہم وہاں کیوں جاتے ہیں ان کو پیسے دینےان کی ہر ضرورت پوری کرنےبدلے میں وہ ہمیں کچھ دیں بھی دیں تو بڑی بات نہیں ہے ۔۔،،افنان شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے مسکرا کے بولا
“افنان خدا کا خوف کرو ان کتے کاموں سے باز آجاؤ ہاتھ جوڑتا ہوں میں تمہارے آگے۔،،آسام نے سچ میں اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔
“سامی پلیزیار موڑ مت خراب کرو اور اگر خود تو بچہ ہے تو ٹھیک ہے مجھے تو مردانگی دیکھا لینے دے ہاہاہاہا چل لکی۔۔،،افنان بالوں کو سٹائل سے ماتھے پہ گرا کر باہر چلا گیا۔
وہ وہاں ہی جارہا تھا جہاں اکثر جاتا تھا۔اج نئی بات نہیں تھی اس کے لئے۔ آسام اسےہر بار روکتا تھا پر وہ نہیں رکتا تھا۔
“یااللہ اس کو نیک بنا دے یا اللہ میرے بھائی کو نیکی کی راہ دیکھا دے میرے مولا مردانگی کیا ہوتی ہے اسے یہ تک نہیں پتا اس کو کچھ کہ بھی نہیں سکتے کچھ غلط کر بیٹھے تو کیا منہ دکھائیں گے لوگوں کو۔۔،،آسام اپنا سر ہاتھوں میں گرا کر بیڈ پر بیٹھ گیا۔ افنان جن گلیوں میں جا رہا تھا خدا وہاں بھی تھا انسان وہاں بھی تھے پر وہاں عیاشی کرنے افنان جیسے امیر اور بے حیا لوگ جاتے تھے
کچھ مہینوں سے وہ وہاں جارہا تھا اب تو اس کی عادت ہوگئ تھی۔ ہفتے میں زیادہ نہیں تو دو بار ضرور جاتا تھا۔
آسام اس کی منتیں کر کر کے تھک گیا تھا
آسام چاہ کے بھی اس کے قدم رک نہیں سکا تھا کیوں کہ اسے پتا ہی نہیں چلا تھا کب افنان وہاں تک پہنچ گیا۔
Episode 11
جب بھی دیکھا مرے کردار پہ دھبا کوئی
دیر تک بیٹھ کے تنہائی میں رویا کوئی
لوگ ماضی کا بھی اندازہ لگا لیتے ہیں
مجھ کو تو یاد نہیں کل کا بھی قصہ کوئی
بے سبب آنکھ میں آنسو نہیں آیا کرتے
آپ سے ہوگا یقیناً مرا رشتہ کوئی
یاد آنے لگا ایک دوست کا برتاؤ مجھے
ٹوٹ کر گر پڑا جب شاخ سے پتّہ کوئی
بعد میں ساتھ نبھانے کی قسم کھا لینا
دیکھ لو جلتا ہوا پہلے پتنگا کوئی
اس کو کچھ دیر سنا لیتا ہوں رودادِ سفر
راہ میں جب کبھی مل جاتا ہے اپنا کوئی
کیسے سمجھیگا بچھڑنا وہ کسی کا رانا
ٹوٹتے دیکھا نہیں جس نے ستارہ کوئی
“نگینہ آج یہ چڑھ نہیں رہی۔۔،،افنان شراب کی بوتل اپر کر کے بولا۔
“کیوں نہیں چڑھ رہی میرے ہاتھوں سے پیئو۔۔،،وہ لڑکی اٹھ کے افنان کے پاس آگئ افنان نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔
“اب چڑھی۔۔،ان گنت بوتلیں وہ پی چکا تھا۔اور اب نشے میں دھت پڑھا تھا
“تمہیں پتاہے نگینہ میں یہاں کیوں آتاہوں۔،،وہ اس لڑکی کے کاندھے پہ سر رکھ کر بولا نگینہ نے اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا
“مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے تمہیں۔۔،،نگینہ اس کے چہرے پر ہاتھ چلاتے ہوئے بولی۔
“نہیں نگینہ تم سے زیادہ مجھے وہ جانتی ہے۔۔،،افنان نشے میں دھت تھا اٹھنے کی کوشش کرنے لگا پر ناکام رہا پھر سے نگینہ کی گود میں جا گرا۔
“وہ کون۔بیلا؟
تم پھر سے بیلا کے پاس گیا تو میرا کسٹمر ہے تو اس کے پاس کیوں جاتے ہو۔۔،،نگینہ قدرے غصے سے بولی۔
“اوہ نگی نہیں جان من اور میں تمہارا کسٹمر تھوڑی ہوں پاگل۔۔،،افنان اپنی شرٹ کو پکڑ کر ٹھیک کر کے بولا۔اس کی شرٹ کے بٹن کھول چکے تھے بیڈ پہ نگینہ کی گود میں وہ آدھا بے ہوش پڑھا تھا۔
“میں اس کی بات کر رہا ہوں۔۔،،وہ ہاتھ کا اشارہ سامنے کر کے بولا۔نگینہ نے اس کے ہاتھ کی سمت دیکھا۔
“یہاں تو کوئی نہیں ہے۔۔،،
“ہے وہ دیکھو سامنے کھڑی ہے معروش ملک۔۔اسے کہو میرے پاس آئے بولو اسے کہ مجھ سے محبت کرے بولو نہ نگی۔وہ ہر وقت مجھے مارتی رہتی ہے۔،،وہ نگینہ کا ہاتھ پکڑ کر بولا اسے معروش سامنے کھڑی نظر آرہی تھی۔معروش اس پہ ہس رہی تھی
“صاحب!۔،،نگینہ بولنے لگی افنان نے اس کی بات کاٹ دی۔اور ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا
“کتنی بار کہا مجھے صاحب نہیں افنان بولا کرو تم۔۔،،وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر بولا۔
“ہاں افنان! تم سو جاؤ نہیں تو تمہاری طبیعت بگڑ جائے گی پیچھلی بار بھی تمہاری طبیعت بگڑ گئ تھی کتنی بار بولتی ہوں زیادہ نہ پیا کرو،،نگینہ اس کے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے بولی۔
افنان رندھاوا خود چل کے اس کے پاس آتا تھا پہلی بار جب وہ وہاں آیا تھا تو اسے نگینہ پسند آگئ تھی وہ ان کی مالکن کو لاکھوں کے حساب سے پیسے دیتا تھا کہ نگینہ کو اس کے بغیر کوئی نہیں ہاتھ لگائے گا۔
“نہیں معروش ملک۔ ہر بار تمہاری مرضی نہیں چلے گی میں تمہیں نہیں جانے دوں گا۔،،وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا اور نگینہ کو دیکھنے لگا اسے ہر جگہ معروش نظر آ رہی تھی۔یہاں تک کہ نگینہ میں بھی
“افنان چپ کر کے سو جاؤ۔۔،،نگینہ غصے سے بولی اوراسے بیڈ پر لیٹا کے پھر سےاس کے سر میں انگلیاں چلانے لگی۔
“اوکے چپ۔ششش۔۔،،وہ بچے کی طرح منہ پر انگلی رکھ کر بولا۔
“نگینہ تم اپنے بال بڑے بڑے رکھو معروش ملک کے بال بہت بڑے ہیں۔اور آنکھیں بھی۔بہت پیاری ہیں پر پتا نہیں کیوں مجھے اس سے نفرت ہے۔۔وہ خود کو ایسے چھپاتی ہے جیسے صرف وہ ہی خوبصورت ہو تم بھی اتنی خوبصورت ہو پر تم نے تو مجھ سے کبھی پردہ نہیں کیا۔،،پہلی بار نگینہ اس کے منہ سے کسی لڑکی
کی تعریف سن رہی تھی پہلی بار افنان کو کسی لڑکی نے مات دی تھی جس کا رونا وہ نگینہ کے سامنے رو رہا تھا۔
نگینہ چپ چاپ اس کےسر میں ہاتھ چلاتی رہی۔آہستہ آہستہ افنان بولتے بولتے نیند کی آغوش میں چلا گیا نگینہ اسے دیکھتی رہی۔
“کتنے خوبصورت ہو تم پتا نہیں کس کے نصیب میں ہو تم۔مجھے تم سے محبت ہے پر۔ہوں تو ایک طوائف۔،،اس نےافنان کے براؤن بالوں کو ماتھے سے ہٹاتے ہوئے اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دیے وہ بے سود اس کی گود میں بے ہوش پڑھا تھا۔
سفید چہرا پیلا ہوچکا تھا نگینہ نے اس کی رخسار پر ہونٹ رکھ دیے اور اسے تکئے پر لیٹا کے باہر چلی گئ۔
“او نگینہ تیرا دیوانا خوش ہوا کیا۔۔،،ایک لڑکی اسے باہر آتا دیکھ بولی تھی۔
“چپ کر کے جا اندر شور نہ کر صاحب سو رہا ہے۔۔،، نگینہ غصے سے بولتی واپس کمرے میں چلی گئی۔اور افنان کودیکھنے لگ گئ
“کب تک تیرا چہرہ میں دیکھ سکوں گی۔،،وہ سوچ میں پڑ گئ تھبی افنان کے فون کی رنگ بجی۔اس نے ڈرتے ڈرتے فون کو دیکھا اور اپر چمک رہے نام کو۔ زیادہ نہیں تو دس بارہ پڑھی ہوئی تھی۔تو آسانی سے اس نےنام پڑھ لیا۔
“ہ۔۔ہیلو۔،،وہ ڈرتے ہوئے بولی۔
“جی آپ کون۔۔،،آسام نے احترام سے پوچھا
“میں ن۔ن۔نگینہ صاحب سو رہے ہیں۔،،وہ جھجھک کے بول رہی تھی حالانکہ وہ طوائف تھی پر افنان اکثر آسام کا ذکر کرتا تھا اس کے پاس۔ اس سے اس کو اندازہ تھا وہ کس حساب کا ہے۔
“ٹھیک ہے آپ مجھے اڈریس دیں میں اسے لینے آرہا ہوں۔۔،، نگینہ کی سوئی آپ لفظ پہ ہی آڑ گئ۔پہلی بار کسی آدمی نے اسے آپ کہاتھا۔ نگینہ نے اڈریس لکھوایا اور فون رکھ دیا ۔
“کیا طوائفوں کی زندگی نہیں ہوتی کیا اسے اچھی زندگی گزارنے کا کوئی حق نہیں کاش کوئی امیر زادہ یہ سوچتا تو کتنی ہی لڑکیاں طواف نہ ہوتی اور میں شائد۔،،سوچتے سوچتے اس کی آنکھوں میں آنسوں آ گئے سارا منظر دھندلا گیا تھا تو وہ آنسوں صاف کر کے پھر سے افنان کو دیکھنے لگی
_____________********___________
آسام ان گلیوں میں پہلی بار آیا تھا۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ صبح افنان وہاں سے نکےاور لوگ رندھاوا خاندان پر انگلی اٹھائیں۔
وہ جھجک کرچل رہا تھا۔جس جگہ کاپتا دیا گیا تھا وہ وہاں پہنچ گیا۔اندر رش ہی رش تھا وہ گھبرا رہا تھا۔
“م۔۔مجھے نگینہ سے ملنا ہے۔۔،،وہ اندر جا کے پاس سے گزرتی ایک لڑکی کو بولا۔اس نے سر سے پاؤں تک آسام کا
جائزہ لیا۔
“وہ تو نہیں مل سکتی ہاں میں چلوں گی کیا۔،،آسام کے اوسان خطا ہونے لگے تھے
“اے سائڈ پہ ہٹ صاحب جی آپ آئیں۔۔،، نگینہ نے لڑکی کو ایک سائڈ پر کیا اور آسام کو دیکھا
آسام اس کے پیچھے چل دیا ایک کمرے میں افنان بے خبر سو رہا تھا آسام اس کی طرف بڑھا
“افنان اٹھو۔۔،،آسام اس کے منہ کو تھپک کر جگانے کی کوشش کرنے لگا۔پر وہ نہیں اٹھا
“ص صاحب جی آپ نہ جگائیں ب بڑی مشکل سے سویا ہے۔،،نگینہ نے فکر مندی اور ڈر سے کہا۔
آسام حیران تھا کیونکہ نگینہ نے سر پر دوپٹہ لے لیا تھا اسے دیکھتے ہی
آسام نے گہرا سانس لیا
“آپ میری ہیلپ کر دیں اسے گاڑی تک لے جانے میں۔۔،،آسام نگینہ کو بغیر دیکھے بولا تھا
پھر انہوں نے اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالا۔
“شکریہ۔۔،،آسام فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر بولا۔نگینہ اسے دیکھتی رہی پر آسام نے اس پہ پہلی بار نگاہ ڈالی تھی اس کے بعد اب تک اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا بھی نہیں تھا۔آسام گاڑی سٹارٹ کر کے واپس کی راہ چل پڑھا۔
رات کے اندھیرے میں کیا گیا گناہ دن کے اجالے میں آنے سے اس نے بچالیا تھا۔جب سے نئی فرم کی اوپنگ ہوئی تھی تو رندھاوا خاندان کا نام سب سے اپر تھا۔
جس وجہ سے میڈیا والےجگہ جگہ رندھاوا خاندان کے افراد کو آگھیرتے تھے۔
اگر کوئی میڈیا والا افنان کو طوائفوں کی باستی سے نکلتا دیکھ لیتا تو رندھاوا خاندان کی دھجیاں اڑ جاتی اسی لیئے آسام کو ان گلیوں میں جانا پڑھا جہاں کی ہوا سے بھی دور سے گزرا تھا وہ ۔۔
“معروش ملک تم کو میں چھوڑوں گا نہیں۔تم نے مجھے تھپڑ مارا۔،،آسام اسے گاڑی سے اتار رہا تھا افنان لڑکھڑا کر آسام کو مارنے لگا وہ آسام پہ چلانے لگ گیا آسام نے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا۔اور اسے اندر لے گیا سیڑھیاں بڑی مشکل سے چڑھا تھا۔
وہ افنان کو اس کے بیڈ پر گرا کے خود بھی وہاں گر گیا اس کی سانسیں پھول گئ تھی
سانس بحال کر کے وہ اپنے کمرے میں
چلا گیا۔
_____________********___________
“ماشی ریڈی ہو جاؤ ،،ماشی کمرے میں بیٹھی تھی۔جب عشرت اس کے پاس آکر بولی۔
“اور تم۔۔،،ماشی نے اسے سوال کیا
“میں بھی جاہی رہی ہوں پر جب تک پاسپورٹ نہیں بن جاتا۔۔،،عشرت بیٹھتے ہوئے بولی اس نےلال اور ہلکے پھلکے کام والی ساڑھی زیب تن کی ہوئی تھی ہونٹوں پر لپ اسٹک بالوں کو کرلی کیا ہوا تھا کانوں میں سونے کے چھمکے گلے میں سونے کی چین اور ہاتھوں میں پھوپھو کے دیئے ہوئے کڑے پہن رکھے تھے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔
“عشو تم تو بلکل ہی بدل گئی ہو بڑی بڑی لگنے لگی ہو۔،،ماشی اس کا جائزہ لیتے ہوئے بولی۔
“ہاہاہاہا میری جان اب میں ملکوں کی بیٹی ہی نہیں بہو بھی بن گئ ہوں۔موم تائی اورچاچی نے پورے دو گھنٹے لیکچر دیا کہ آئندہ سے تمہارے ہاتھ سونے نہ ہوں گلا سونا نہ ہو وغیرہ وغیرہ۔،،عشرت کی بات پہ ماشی کھلکھلا کر ہنس دی۔
“اور یہ ساڑھی فہد نے دی ہے۔،،عشرت کھڑی ہو کے گھومی ۔
“واؤ بہت پیاری ہے یار۔مجھے نہیں پتا تھا آسٹریلین بلے کی چوائس اتنی اچھی ہے۔،،ماشی کی بات پہ عشرت اور اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔وہ دو دن سے فہد سے ناراض تھی۔ناراض ہونا بھی بنتا تھا اس بھی تو بات ویسی کی تھی۔
“ماشی فہد کو معاف کر دو یار غلطی اس کی نہیں میری ہے۔, عشرت اس کا ہاتھ تھام کر بولی
“تم اپنے شوہر کی وکالت کرنا بند کرو خود معافی مانگنے آئے گا تو معاف کروں گی۔،،ماشی بالوں میں برش چلاتے ہوئے بولی
“مس سٹروم ہمیں معاف کردیں پلیز۔،،وہ فہد کی آواز پر چونکی فہد کان پکڑ کر کھڑا تھا۔
“آئندہ ایسی غلطی کبھی نہیں ہو گی۔،،فہد معصومیت سے بولا ماشی کی ہنسی چھوٹ گئی۔فہد نے کانوں کو چھوڑ دیا
“ویسے وہ کون ہے مس سٹروم آپ کسی انجان پر بھروسہ کیسے کر سکتی ہیں۔ویسے حیرانگی کی بات ہے تمہاری حفاظت وہ جیسے کرتا ہے۔۔،،فہد کی بات منہ میں ہی تھی وہ بول اٹھی۔
“مجھے اس معاملے پر کوئی بحس نہیں کرنی آپ جلدی سے تیار ہو جائیں ابھی نکلنا ہے۔،،ماشی تیزی سے بولی۔وہ کاندھے اچکاکر چلا گیا
_____________********___________
“علی میری طبیعت بہت خراب ہو رہی ہے پلیز جلدی سے گھر آجاؤ۔،،نیلم کی کال آئی تھی تو وہ آفس سے بے سود بھاگا تھا۔اپنی واحد گاڑی جو آفس کی طرف سے اس کو ملی تھی اسے اس نے ہواؤں میں اڑا دیا تھا وہ گھر پہنچا تو نیلم کہرا رہی تھی۔
“نیلم۔کیا ہوا میری جان۔۔ہمت رکھو ابھی ہوسپٹل پہنچ جائیں گے۔،،علی نے نیلم کو گاڑی میں ڈالا اور پھر سے گاڑی بھگا دی۔ہوسپیٹل پہنچ کر وہ تقریباً بھاگ کر نیلم کو اندر لے گیاتھا۔ڈاکٹر نیلم کو چک کرنے لگ گئے
“مسٹر علی آپریشن کرنا پڑھے گا نارمل ڈیلیوری نہ ممکن ہے اور اگر آپریشن کے بعد آپ کی وائف یا بچے کو کچھ ہو گیا
اس کی رسپونسبلٹی ہماری نہیں ہو گی ڈی_سائڈ کر لیں آپریشن کروانا ہے کہ نہیں۔،،ڈاکٹر کہ کر چلا گیا علی کے اوسان خطا ہونے لگے وہ بینچ پہ گر گیا۔اس کے کانوں میں بار بار ایک ہی بات گونج رہی تھی علی نے جلدی سے فون نکلا۔
“آسام مجھے تمہاری مدد چاہئے بھائی۔،،علی نے ٹوٹے ہوئے انداز میں کہا۔
“کیا ہوا سب خیریت تو ہے۔،،آسام ہارش اور دو تین بوئز کینٹین میں بیٹھے تھے جب علی کی کال آئی۔
علی نے ساری بات بتا دی۔
“میں ابھی آتا ہوں ان کو کچھ نہیں ہو گا تم فکر نہ کرو۔،،آسام نے جلدی سے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا
“کیس ہوا کہاں جا رہے ہو یار!.,,ہارش کولڈ ڈرنک رکھتے ہوئے بولا ۔
“علی بھائی کی بیوی ہوسپٹل میں ہیں ان کو میری ہیلپ چاہئے۔،،آسام نے کہا اور کینٹین سے نکل گیا۔آسام ہارش اور علی کی ملاقات کروا چکا تھا اسی لئے ہارش اسے جانتا تھا
“ہائے سامی بے بی کہاں جا رہے ہو۔،،افنان اور اس کا گروپ کینٹین کے باہر کھڑا تھا جب آسام پاس سے گزرنے لگا تو لکی نے کہا۔
آسام نے غصیلی نگاہ اس پہ ڈالی اور پھر افنان پہ۔آسام کو رات والا واقع یاد اآنے لگا تھا۔
افنان مسکرا دیا آسام افسردگی سے نفی میں سر ہلاتا چلا گیا
جب سے وہ افنان کو وہاں سے لے کر آیا تھا اس نے افنان سے بات چیت بند کر دی تھی ۔
“سامی بےبی ناراض کیوں ہے۔،نہیا نے جاتے ہوئے آسام کی پیٹھ کو دیکھ کر کہا۔
“چھوڑو اسے وہ دیکھ ہارش چل اس کی خبر لیتے ہیں۔،،لکی نے کینٹین کی طرف اشارہ کیا۔
“آج اس کو بتاتا ہوں میں بہت اڑ رہا تھا نہ اس دن۔،،افنان دانت پیس کر بولا۔اور کینٹین کی طرف چل دیا۔وہ جا کر ہارش کے سامنے ٹیبل پر بیٹھ گیا۔اس کی کرسی پر پاؤں رکھ کر ہارش کو دیکھنے لگ گیا۔
“ہارش راجپوت خود کو سمجھتےکیا ہو۔،،افنان ،ہارش پر جھک کے بولا
“تیس مار خان۔چوزے۔،ہارش نے مسکرا کر جواب دیا اور کرسی کی پشت سے سر ٹکا دیا۔کینٹین میں موجود لوگ ہسنے لگ گئے۔
“مارو مجھے۔مارو ہمت ہے۔،،افنان آگ بگولہ ہو گیا۔اور ہارش کے گریبان سے پکڑ
لیا۔
“افنان ہاتھ پیچھے کرو نہیں تو۔،،ہارش نے اس کے ہاتھ کی طرف اشارہ کر کے کہا۔لکی نے سب کو کینٹین سے جانے کا اشارہ کیا تو سب چلے گئے۔اب وہ اور افنان کا گروپ یا کینٹین والا بچا تھا۔
“نہیں تو کیا کرو گے مارو گے مجھے مارو۔،،افنان اس کو اپنے پاس کرتے ہوئے بولا۔ہارش نے اسے ٹانگ ماری تو وہ ٹیبل سے نیچے گر گیا۔
“تم لاتوں کے بھوت ہو باتوں سے نہیں مانو گےآجاؤ بیٹا تمہیں تمہاری نانی یاد دلاتا ہوں۔،،ہارش نے اسے پکڑ لیا اور مکوں کی برسات کر دی اتنے میں لکی لوگ ہارش پر ٹوٹ پڑھے
“ابے سالے تم نے افنان پر ہاتھ اٹھایا۔اب مزہ چکھ،،ساگر اور جنید نے ہارش کو پکڑ کر پیٹنا شروع کر دیا۔افنان جو بے سود زمین پر گرا ہوا تھا اٹھ کر اس کی طرف بڑھا۔
“گائس اب مجھے بھی ہاتھ گرم کرنے دو چھوڑو اسے۔،افنان ہونٹ سے نکل رہے خون کو صاف کرتے ہوئے بولا۔
“تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔،،افنان غصے سے بولا اور ہارش کو مکا مارا وہ لڑکھڑا گیا۔اس کے منہ سے ناک سے خون نکل رہا تھا۔افنان ٹیبل سے شیشے کی بوتل اٹھا کر اس کی طرف بڑھا اس نے بوتل ہارش کے سر میں دے ماری۔بوتل ٹوٹ گئ تھی وہ ہارش کے نہیں بلکہ ماشی کے سر میں لگی تھی۔
“ماشی۔۔۔،،ہارش زمین سے اٹھ کر ماشی کی طرف بھاگا جو گرنے والی تھی۔ہارش نے اسے اپنی باہوں میں لے کر گرنے سے بچا لیا
ماشی پتا نہیں کہاں سے آگئ تھی ہارش جب لڑکھڑاکر گر گیا تھا تو افنان نے دیکھے بغیر بوتل ماری تھی اور وہ ماشی کو لگ گئ تھی۔
“ماشی آنکھیں بند مت کرنا۔۔،،عشرت بھاگ کر اس کے پاس آئی تھی وہ لوگ ہارش اور افنان کو لڑتا دیکھ کینٹین تک آئی تھی
“اگر ماشی کو کچھ بھی ہوا تو میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی۔،،عشرت نے افنان کو دھکا دے کر کہا ماشی نے افنان کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر آنکھیں بند کر لی۔پتا نہیں کیا تھا اس کی آنکھوں میں افنان گھبرا گیا اس کے ہاتھ سے بوتل کاٹکرا گر گیا وہ بے جان پڑھی ماشی کو دیکھنے لگا۔
“ماش آنکھیں کھولو پلیز ہارش اسے اٹھاؤ ہوسپٹل لے جانا ہو گا۔،،ہارش بے یقینی کے عالم میں بیٹھا ماشی کو دیکھ رہا تھا۔کومل نے اس کو کہا۔
,”ہارش۔۔،،مہک نے اسے ہوش دیلایا تو وہ ماشی کو اٹھا کر بھاگا۔
بہت سے اسٹوڈنٹس کھڑے ہو کر دیکھنے لگے تھےبات پرنسپل تک بھی پہنچ گئی تھی
“افنان یہ تم نے کیا کر دیا اگر وہ مر گئ تو۔۔،،لکی کی بات پر پہلی بار افنان نے ہوش میں آکر اسے دیکھا تھا۔
“نہیں وہ اتنی آسانی سے نہیں مر سکتی۔میں اسے ایسے نہیں مرنے دوں گا۔،،افنان پریشانی کے عالم میں بولا
وہ اٹھ کربھاگا۔لکی لوگ بھی اس کے پیچھے بھاگے تھے
“افنان تم مت جاؤ وہاں رکو۔،،ونیت نے اس کو روکنا چاہا تھا پر وہ نہیں رکا اس کے ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا پر وہ بے سود بھاگ رہا تھا۔انوشکا لوگوں نے حیرانگی سے اسے دیکھا
________
ہارش اور عشرت ماشی کو لے کر ہوسپٹل گئے تھے۔اسی ہوسپٹل میں نیلم کا آپریشن چل رہا تھا۔
آسام اور علی بینچ پر بیٹھے تھے وہ دونوں ہارش کی حالت اور ماشی کی حالت دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔
ہارش اور عشرت نے شور مچا دیا تھا
“تم جانتے نہیں ڈاکٹر ملک کی بیٹی ہے یہ ابھی ایڈمٹ کرو ورنہ۔،،ڈاکٹر نخرے دکھا رہے تھے ہارش نے ڈاکٹر کا گریبان پکڑ کر کہا ہارش کی بات سن کے ان کو ہاتھ پاؤں پڑھ گئے اور ماشی کو ایڈمنٹ کر لیا۔
وہ ہوسپٹل پرائیویٹ تھا اور ساٹھ پرسنٹ ڈاکٹر ملک اور باقی چالیس پرسینٹ کسی اور کا تھا ڈاکٹر ملک کی بدولت بہت سے غریبوں کا علاج فری کیا جاتا تھا۔
“کیا ہوا ہے مس ملک کواور یہ کیا ہوا تمہیں۔،،آسام نے فکر مندی سے ہارش کے کپڑوں پر لگے خون کے دھبوں کو دیکھا ۔
“چھوڑوں گا نہیں۔۔۔چھوڑوں گا نہیں۔،ہارش بھوکے شیر کی طرح گھرایااور بینچ پہ بیٹھ گیا
,”افنان نے تمہارے بھائی نے ماشی کی جان لینے کی کوشش کی ہے اور ہارش کی بھی ۔ہارش کال دی پولیس۔،،عشرت آنسوں صاف کرتے ہوئے غصے سے بولی۔
آسام کی حیرت سے آنکھیں پھیل گئی۔
“ہارش آئی سیڈ کال دی پولیس۔،،عشرت غصے سے پاگل ہو کر بولی۔
“نہیں عشرت ابھی ماشی ہوش میں آ لے پھر پولیس کو بھی کال کریں گےاور افنان رندھاوا کو گرفتار بھی کروایں گے۔اور آسام اس بار تم درمیان میں مت آنا۔،،ہارش عشرت کے سر پہ ہاتھ رکھ کر بولا۔
“اور ہاں فہد یا ملک ہاؤس کسی کو اس بات کی خبر نہ ہو ابھی تو بلکل بھی نہیں ہونی چاہیے بعد میں شائد پتا چل جائے یہ ہوسپٹل انکل ملک کا ہے۔۔،،ہارش کہ کر بینچ پر بیٹھ گیا آسام اور علی حیران رہ گئے۔ عشرت بھی ایک طرف ہاتھ جوڑ کے کھڑی ہو گئی۔
آسام کو تین تین پریشانیوں نے آ گھرا تھا۔ وہ تھا بھی اتنا سینس_ٹیو کسی کی پریشانی
میں پریشان ہو جاتا تھا۔اس نے ہارش کو کچھ نہیں بولا تھا۔اتنے میں افنان بھاگتا ہوا ہوسپٹل میں داخل ہوا تو عشرت غصے سے اس کی طرف بھاگی
“دفع ہو جاؤ یہاں سے خبیث انسان۔تمہارا خون پی جاؤں گی۔،،عشرت نے افنان کو دھکا دیا تھا وہ لڑکھڑا گیا تھا۔۔
“م۔معروش کیسی ہے۔،،افنان نے اس کے غصے کو نظر انداز کر کے آسام کو دیکھ کر پوچھا آسام کی آنکھوں میں غصہ ہی غصہ تھا۔ہارش کی کنڈیشن بھی یہ ہی تھی
“بے غیرت مار کے پوچھنے آ گئے ہو ایک بات کان کھول کے سن لو اگر معروش کو کچھ بھی ہوا تو زندہ تم بھی نہیں رہو گئے۔،،ہارش اٹھ کے اس کی طرف بڑھا تھا۔
“تم چپ رہو۔۔،،افنان نے اسے پیچھے دھکیل دیا وہ پھر سے لڑنے لگے تھے
“ارے بس کرو خدا کا واسطہ تم دونوں کو ہارش بیٹھ جاؤ اور افنان تم نے اگر رکنا ہے تو چپ کر کے بیٹھ جاؤ اب میں اور جھگڑا نہ دیکھوں۔،،آسام نے غصے سے کہا اور ان کو ایک دوسرے کی گرفت سے چڑھایاافنان کی شرٹ پر جابجا خون کے دھبے تھے
“یہ سب اس ہارش کی وجہ سے ہوا ہے۔ ،،افنان پھر سے دانت پیس کر بولا
“افنان چپ کر کے بیٹھ جاؤ یہ تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے ہوسپٹل ہے ،،آسام نے اس کو چھنچھوڑ کے کہا تو وہ اپنا کالر ٹھیک کرتا بیٹھ گیا عشرت اور علی چپ کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے۔
نیلم کا آپریشن چل رہا تھا۔ ایک طرف ماشی کو ہوش میں لایا جا رہا تھا
ماشی کے سر میں ٹنکے لگے تھے اور کچھ ہی دیر میں اسے ہوش آگیا تھا۔
“ماشی۔میری جان کیسی ہو اب۔۔,،عشرت اس کے پاس بیٹھ کر روتے ہوئے بولی۔
“لو پاگل رو کیوں رہی ہو۔کچھ بھی نہیں ہوا۔۔،،وہ اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔
“لیٹی رہو ابھی پولیس آتی ہی ہو گی۔،،عشرت کی بات سن کے وہ حیران ہو گئ۔
“پولیس پر کیوں۔۔،،ماشی نے تجسس سے پوچھا
“افنان رندھاوا کو اریسٹ کرنے کے لیئے تمہارا بیان لینے۔،ہارش نے کہا
وہ اور آسام اندر داخل ہوئے تھے افنان دروازے کے باہر کھڑا بند دروازے کے شیشے سے دیکھ رہا تھا۔
“پر کیوں میں مری نہیں ہوں۔سر ہی پھٹا ہے،،ماشی نے لاپرواہی سے کہا۔آسام نے چونک کے اسے دیکھا اور ہونٹ بھینچ کر کھڑا رہا وہ کچھ نہیں بول سکتا تھا اس کے بھائی نے بولنے لائک چھوڑا نہیں تھا
اتنےمیں پولیس آ گئ۔،ماشی حیران کن آنکھوں سے کبھی عشرت کو کبھی ہارش کو کبھی آسام اور پولیس والوں کو دیکھتی۔
“مس معروش ملک آپ کی یہ حالت کیسے ہوئی۔،،انسپکٹر نے سب کو باہر بھیج دیا تھا اور اب وہ بیان لے رہاتھا
ماشی نے شیشے سے دیکھ رہے افنان کو دیکھتے ہوئے بولی
“میں سیڑھیاں اتر رہی تھی پاؤں پھیسلا اور گر گئ۔،،معاشی افنان کو دیکھے جارہی تھی ۔
“لیکن مسٹر ہارش نے تو کہا ہے کہ افنان رندھاوا نے آپ پر حملہ کیا ہے۔،،
“نہیں انسپکٹر! آپ کو میرا بیان چاہئے تھا مل گیا اب آپ جاسکتے ہیں افنان رندھاوا بے قصور ہے۔،،ماشی نے آنکھیں بند کرکے جواب دیا۔
“آر یو شور مس ملک دیکھیں آپ کو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔،،
“میں کسی سے نہیں ڈر رہی اب چھوٹی رپورٹ درج کروا کر میں اسے اندر نہیں کروا سکتی۔،،ماشی ہر سوال کا جواب اطمینان سے دے رہی تھی انسپکٹر باہر چلا گیا۔
“ایم سوری مسٹر ہارش شائد آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے مسٹر افنان رندھاوا بے قصور ہے۔،،انسپکٹر کہ کے چلا گیا۔آسام نے اندر پڑھی ہوئی معروش کو دیکھا وہ آنکھ بند کئے ہوئے تھی۔ہارش نے افنان کو کھا جانے والی نظروں سےدیکھا وہ مسکرا کرہارش کو آنکھ مار کر باہر چلا گیا۔وہ وہاں کسی مقصد کے لیے آیا تھا وہ پورا ہو گیا تھا۔
“تم نے ایسا کیوں کیا ماشی۔۔،،عشرت اس کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔
“عشرت غلطی میری تھی میں نے جب دیکھ لیا تھا ان کو لڑتے ہوئے تو مجھے دور رہنا چاہیے تھا۔اور اگر افنان کو ہم اریسٹ کروا دیتے تو ہر نیوز چینل پر چل رہا ہوتا افنان رندھاوا نے معروش ملک پر وار کیا۔کیا وجہ رہی ہو گی کیا ناکام محبت۔وغیرہ وغیرہ اور میں نہیں چاہتی میرا نام میرے باپ
نام اچھلے اسی لیئے میں نے رپورٹ درج نہیں کرائی۔میں نے غلط کیا کیا۔،،ماشی ایک سانس میں بول کر عشرت کو دیکھنے لگ گئ عشرت نے نفی میں سر ہلا دیا۔
ڈاکٹرز نے ایک دن اس کو ہوسپٹل میں رکھنے کو کہا تھا خون زیادہ بہنے کی وجہ سے ویک نیس ہو گئ تھی اسے۔نیلم کا اوپریشن ہو چکا تھا اسے بیٹا ہوا تھا
بچے کی حالت خراب تھی اسے آکسیجن لگادیا گیا تھا۔آسام اور ہارش ہوسپٹل میں ہی تھے۔نیلم ابھی ہوش میں نہیں آئی تھی۔
_________***********_______
“سفر کہاں ہیں آپ کب سے کالز کر رہی ہوں میری۔،،شگفتہ ابھی بول ہی رہی تھی کہ سفر نے اس کی بات کاٹ دی۔
“کیا پروبلم ہے یار میٹنگ میں ہوں بعد میں بات کریں گے۔،،سفر نے کال کاٹ دی تھی۔شگفتہ نے پیچھے شور سن لیا تھا وہ میٹنگ میں نہیں تھا کہاں تھا وہ یہ نہیں جانتی تھی۔
“سفر کیا کر دیا آپ نےمیری زندگی برباد کیوں کی۔،،شگفتہ بیڈ کے ساتھ بیٹھ گئ
اس کے پیٹ میں درد تھا اسی لیے وہ سفر کو کال کر رہی تھی۔آخری مہینہ چل رہا تھا پر سفر کو پرواہ کہاں تھی۔پہلے دو تین ماہ اس نے شگفتہ کا بہت خیال رکھا تھا پر پھر وہ کئی ماہ سے گھر نہیں آیاتھا۔حلیمہ ہر قسم کے ظلم کرتی تھی شگفتہ پہ پر وہ بھی ڈھٹائی سے ہر کام کرتی رہتی بہت کمزور ہو گئ تھی وہ۔شوہر کی محبت نہیں ملتی تھی ساس کے تانے الگ سارا دن اس حالت میں کام کرنا اس کے لئے آسان نہیں تھا۔
“بی بی جان باہر کوئی سکندر آ پ سےملنے آیا ہے۔،،کام والی نے باہر سے ہی کہا۔
“سکندر۔۔،،شگفتہ زیر لب بڑبڑائی
“میں نہیں چاہتی تم مجھے یوں دیکھ کر میرا مذاق اڑاؤ۔۔،،وہ اپنے حولیئے کو دیکھ کر بولی اور آنسوں صاف کر کے آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔آنسوں صاف کر کے منہ پر کریم لگائی اور بالوں کو ٹھیک سے آگے پھیلا کر وارڈروب کھول لی اور سیمپل پر مہنگے والی ساڑھی زیب تن کر کے باہرچلی گئی۔
سکندر اسے سیڑھیاں اترتا دیکھ کھڑا ہو گیا۔
“کیسے ہو سکندر۔۔،،وہ نزاکت سے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی۔سکندر اس کے حال پوچھنے پر مسکرا دیا
“میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو۔،،سکندر نے مسکرا کر کہا
“میں بلکل ٹھیک ہوں خوش باش ہوں۔،،شگفتہ چہک کے بولی
” جب انسان خوش ہو تو بتانے کی نوبت نہیں آتی۔بائے دی سے گھر میں کوئی نہیں سفر کہاں ہے کہاں گئے ہیں سب۔،،سکندر نے گھر والوں کو ڈھنڈھا پر کوئی نظر نہیں آیا
“ماما پاپا باہر گئے ہیں اور سفر آفس۔۔آپ بولیں کیا کرنے آئے ہیں۔،،شگفتہ اپنے پیٹ کو پکڑے بڑی مشکل سے بول پارہی تھی۔پر ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی
اندر سے کتنی ٹوٹ چکی تھی وہ۔
“ہاہاہاہا اوکے موم نے یہ آپ کے ہونے والے بچے کی خوشی میں بھیجے ہیں میں چلتا ہوں۔،،وہ اٹھ کے چل دیا
“اور ہاں تکلیف دیکھنے والے دیکھ لیتے ہیں چاہئے چہرا میک اپ سے ہی کیوں نہ چھوپا لیا جائے،،وہ جاتے ہوئے مڑا اور شگفتہ پہ ایک نظر ڈال کر چلا گیا۔
“شگفتہ تم نے اس کا دل توڑ کر کیا اچھا کیااب بھگتو۔،،اس کے پاس ایک اور شگفتہ کھڑی سوال کر رہی تھی۔
“پر مجھے سفر سے محبت تھی۔۔،،شگفتہ کے آنسوں بہے نکلے
“ہاہاہاہا اور سفر اس کو اس کو تم سے محبت ہے کیا تم جانتی بھی ہو وہ شادی شدہ ہے اس کی ایک اور بیوی بھی ہے۔،،اس کے سامنے بیٹھ کر کسی نے سرگوشی کی۔
“تو کیا ہوا اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ہے۔،،شگفتہ نے قدرے غصے سے کہا۔
“اسلام میں تو برابر کے حقوق کا بھی حکم ہے وہ تمہارے کون سے حقوق ادا کر رہا ہے ،،شگفتہ کانوں پہ ہاتھ رکھ کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
“سفر آئی لو یو پلیز میرے پاس آجاؤ پلیز سفر میری محبت کا کچھ تو بھرم رکھ لو۔,,وہ سفر کی تصویر گلے سے لگا کر رونے لگ گئ۔سفر اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا
“سفر آئی نیڈ یو۔،،وہ تصویر کو ایک طرف رکھ کر لیٹ گئی پیٹ کا درد بڑھتا جا رہا تھا
“خالہ۔۔،،شگفتہ نے بامشکل کام والی کو آواز لگائی پر اس نے نہیں سونی
“خالہ۔۔،،شگفتہ خود کو گھسیٹتے ہوئے باہر آ گئ۔۔
“کیا ہوا بی بی جان۔۔،،ملازمہ بھاگ کر آگئ
“میرے پیٹ میں بہت شدید درد ہو رہا ہے خالہ بہت تکلیف ہو رہی ہے پلیز کچھ کریں،،انہوں نے شگفتہ کو پکڑ لیا اور سیڑھیاں اترنے لگی۔
“آپ یہاں بیٹھیں میں صاحب کو فون کرتی ہوں پریشان نہ ہو میری بچی۔،،وہ شگفتہ کا پسینہ صاف کر کے ایک طرف بھاگ گئ۔
اتنی گرمی کے باوجود شگفتہ کو پسینے چھوٹ رہے تھے۔
“شگفتہ ت۔۔تم ٹھیک ہو نہ۔،،سکندر پتا نہیں کہاں سے آگیا تھا۔اب وہ شگفتہ کے قدموں میں بیٹھکے
اسے فکر مندی سے دیکھ رہا تھا
“سکندر پلیز میرے بچے کو بچا لو۔م۔میں مر بھی جاؤں پر میرے بچے کو کچھ مت ہونے دینا۔،،شگفتہ ہاتھ جوڑ کر بولی تو سکندر کی روح تک کانپ گئی وہ کس حد تک شگفتہ سے محبت کرتا تھا یہ شگفتہ بھی جانتی تھی۔
“شگو ک۔کچھ نہیں ہونے دوں گا میں تمہیں اور تمہارے بچے کو۔،،سکندر اپنے رومال سے اس کے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے بولا
“بی جان صاحب فون نہیں اٹھا رہے۔۔،،ملازمہ فکر مندی سے بولی تھی سکندر نے ملازمہ کو دیکھا اور پھر نڈھال ہوتی شگفتہ کو سکندر کو ایک منٹ بھی نہیں لگا فیصلہ کرنے میں اس نے شگفتہ کو اپنی باہوں میں اٹھا لیا۔
“شگفتہ آنکھیں بند مت کرنا پلیز خالہ آپ ساتھ چلیں۔،،سکندر تقریباً بھاگتا ہوا گاڑی کی طرف بڑھا تھا ملازمہ اس کے حکم کے مطابق ان کے پیچھے بھاگی۔
راستے میں سکندر وقفے وقفے سے اسے پکارتا گیاتھا ۔ہوسپیٹل میں سفر موجود تھا کیوں موجود تھا کوئی نہیں جانتا تھا۔
“شگفی تم ٹھیک ہو نہ کیا ہوا میری شگفی کو ۔،،سفر اس کی طرف بھاگ کر آیا شگفتہ نے ایک نظر اس دوگلے انسان پر ڈالی اور پھر آنکھیں بند کر لی۔
سکندر نے اسے بھاگ کر بیڈ پر لٹا دی۔
“سفر تمہیں معلوم ہے نہ کہ اس کی حالت کیا ہے ان دونوں کسی وقت بھی ایمرجنسی آسکتی ہے تم اتنے لاپرواہی کیسے برت سکتے ہو۔۔،،سکندر سفر پر چلانے لگا تھا۔سفر چپ کھڑا رہا۔
“تمہارا پہلا بچہ ہے نہ ۔لو میرج کی ہے نہ تم نے پھر اس کو اکیلا کیوں چھوڑ دیا۔تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہے۔،،سکندر کان پٹی مسلتے ہوئے بولا۔
“تم ہوتے کون ہو ہمارے گھریلو معاملات میں مداخلت کرنے والے۔،،سفر نے غصے سے کہا
“میں جو بھی ہوں پر کل کو تمہاری بہن کے ساتھ ایسا ہوگا تو تمہیں پتا چلے گا کسی کی بہن کے ساتھ کیسے زندگی گزارتے ہیں۔تم شگفتہ کو لا وارث مت سمجھو ہم زندہ ہیں ابھی۔۔،،سکندر اسے لا جواب چھوڑ کر باہر چلا گیا۔
سکندر کو کیا پتا تھا پیچھلےایک سال سے شگفتہ کی زندگی میں کیا کیا ہو چکا تھا وہ کتنی بار سفر اور اس کی دوسری وائف کو ایک ساتھ دیکھ چکی تھی کتنی بار اس کے دو بیٹوں سے مل چکی تھی۔کتنی بار میسجز پڑھ چکی تھی سعدیہ کے کتنی بار سفر کا اس سے اظہارِ محبت سن چکی تھی۔
پر اس نے کبھی یہ ظاہر ہی نہیں ہونے دیا تھا سفر کو کہ وہ سب جانتی ہے۔
وہ سفر سے محبت کرتی تھی اور سب سے بڑی بات وہ اپنے بھائی کا گھر تباہ نہیں کر سکتی تھی۔اصغر کے غصے سے واقف تھی وہ اسی لیئے اندر اندر ٹوٹتی رہتی تھی۔
__________**********__________
سعدیہ سعدیہ نے جڑواں بچوں کو جنم دیاتھا۔ شگفتہ کی حالت بہت نازک تھی پر اس کا بچہ بلکل ٹھیک تھا سکندر نے ایک اور وعدہ پورا کر دیا تھا۔
سفر سعدیہ کے پاس گیا تھا۔
“مبارک ہو مسز سفر۔،،سفر نے سعدیہ کے ماتھے پر ہونٹ رکھ کر کہا وہ مسکرا دی
“اور شگفتہ۔۔۔،،سعدیہ نے سفر کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
“بیٹا ہوا ہے پر وہ ابھی بے ہوش ہے پر اب خطرے سے باہر ہے۔،،سفرنظریں چرا کر بولا۔
“سفر اسے ہمارے بارے میں بتا دو یا اسے طلاق دے دو۔میں اب وہاں تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔،،سعدیہ اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکال کر بولی۔
“سعدیہ بتا دوں گا۔،،سفر دربارہ سے اس کا ہاتھ پکڑ کر بولا
“مطلب اسے طلاق نہیں دو گے کہیں واقع ہی تمہیں اس سے محبت تو نہیں ہو گئ ہے۔،،سعدیہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔
“کیا بات کر رہی ہو یار ایسا ککچھ نہیں وہ میرے بچے کی ماں ہے میں کیسے طلاق دے دوں۔۔،،سفر نے سر جھکا کر کہا۔
“اچھی بات ہے وہ صرف تمہاری ایک غلطی تھی تم نے کہا تھا یاد ہے نہ اور بچے چار تو ہو گئے ہیں ہمارے اس کے بچے کی ضرورت ہی کیا ہے۔۔،،سعدیہ نے اسے اس کی بات یاد دلوائی تھی۔
“ہاں میری جان یاد ہے پر ابھی میں طلاق نہیں دے سکتا تم فکر نہ کرو میں صرف تمہارا ہوں۔۔،،سفر نے اس کے ہاتھ پہ ہونٹ رکھ کر کہا۔
“اچھا اب تم ریسٹ کرو میں آتا ہوں۔،،سفر اٹھنے لگا تو سعدیہ نے پھر سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
“اس کے پاس جا رہے ہو۔۔،،سعدیہ کی بات پہ اس نے سر ہاں میں ہلا دیا۔
“پر یاد رکھنا تم صرف میرے ہو۔۔،،سعدیہ نے پھر سے اپنا حق جمایا تھا سفر ہاں میں سر ہلا کر باہر چلا گیا۔
“کہاں پھس گیا ہوں میں یاردماغ خراب تھا میرا۔،،وہ باہر جا کر کبھی شگفتہ تو کبھی سعدیہ کے کمرے کو دیکھتا۔
“افففف گھر والوں کو سبق سکھانے کے چکر میں۔میں خود گھن چکر بن گیا۔ایک سمبھالی نہیں جاتی تھی دوسری کو بھی پلے ڈال لیا۔،،وہ افسردگی سے سر ہلا کر شگفتہ کے کمرے میں داخل ہو گیا وہ ہوش میں ہوتے ہوئے بھی بے ہوش تھی۔سفر اس کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔شگفتہ کو اس کی موجودگی کا احساس ہوا تو اسے دیکھنے لگی۔
“کیسی ہو۔۔تم ٹھیک ہو نہ میری جان۔،،سفر نے پیار سے پوچھا شگفتہ کے ہونٹوں پر بے جان سی مسکراہٹ آکر غائب ہو گئ۔
“ہوں آپ کیسے ہیں۔۔،،شگفتہ کو یاد آیا کہ اس نے پیچھلے چار مہینوں سے سفر کوآج دیکھا نہیں تھا وہ گھر نہیں آیا تھا۔
“ٹھیک ہوں۔۔،،سفر نظریں چرا گیا شگفتہ اس کی گہبراہٹ کو بھانپ گئ تھی اور آنکھیں مند لی سفر تھوڑی دیر بیٹھا اپنے بچے کو دیکھتا رہا پھر اٹھ کر باہر چلا گیا اس کے جاتے ہی شگفتہ نے آنکھیں کھول لی۔۔
