Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 39)

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry

چار سال بعد۔

چار سال میں بہت کچھ بدل گیا تھا۔

ہر سنڈے میچ ہوتا تھا جس میں رندھاوا اور ملک سب حاضر ہوتے تھے۔

جب فہد اپنے دو مہینے کے بیٹے حازم کے ساتھ پاکستان لوٹا تو پورا ملک ہاؤس سجایا گیا۔پہلی خوشی تھی ۔اور اس کے لوٹ آنے سے ایک یہ راز کھولا کہ ماشی نے افنان اور زہرہ کی باتیں سن کر فہد سے بات کی پھر جو وہ نہیں سمجھی تھی وہ بھی سمجھ گئ۔۔۔

ثاقب نے اپنا نام ایک پھر سے بنا لیا تھا۔اور اب وہ ثاقب ملک کے نام سے مشہور تھا۔ایک سال پہلے نمرہ نے بھی ثاقب کو جوائن کر لیا تھا کیونکہ نمرہ کو بزنس میں انٹرسٹ تھا اور بڑی وجہ بائمہ گل کی پیدائش کے بعد اس تک ہی

محدود ہو گئ تھی۔

تین سال پہلے پیارے سے گل نے ان کے گھر میں آنکھیں کھولی۔جس پہ دونوں خاندانوں میں ایک بار پھر سے خوشیاں آئی تھی۔

آسام اور ماشی نے اپنا کلینک بنایا تھا۔اور اصغر کے ہوسپٹل میں بھی وہ لوگ آتے جاتے تھے۔

اور پھر دو سال پہلے ان کے گھر میں ایک ننھی سی جان زرباب نے آنکھیں کھولی۔ماشی جیسا رنگ رووپ اور آسام کے جیسا ستون ناک گلابی ہونٹ،روئی کی طرح نرم و ملائم۔افنان نے اس کا نام زرباب رندھاوا رکھ دیا۔

۔اور پھر ایک مہینے کے بعد خوشیاں پھر سے لوٹی جب ارباب نے افنان اور زہرہ کی گود میں آنکھیں کھولی۔

سب کو لگا افنان،اور آسام کا بچپن لوٹ آیا ہے شگفتہ تو ارباب،زرباب کو ہر وقت گود میں لئے بیٹھی رہتی تھی۔

اور پھر ایک سال پہلے شان کے دبئی سے لوٹنے کی خوشی میں پارٹی رکھی گئ۔

وہ ایکٹر بننا چاہتا تھا پر اصغر مان نہیں رہا تھا تو ماشی اور آسام نے اسے منایا۔اور شان کراچی ،سے ہو کر دبئی تک جا چکا تھا اور The Malik shan بن گیا

اسی پارٹی میں ایک اور خوشی ملی جب شان نے اپنے دل میں موجود نمرہ کے لئے احساسات کا اظہار کیا اور ان کی فٹ سے منگنی کر دی گئ۔

افنان نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر رندھاوا انڈسٹریز سنبھالی تھی اور فہد بھی واپس آ چکا تھا اور اب وہ اصغر کے ہوسپٹل میں موجود ہوا کرتا تھا۔

ماشی، عشرت اور زہرہ بائمہ کی مثال خاندان میں دی جاتی تھی۔آپس میں پیار محبت سے رہنا۔درانیاں جیٹھانیاں نہیں بہنوں کی طرح رہتی تھی۔

بس ایک سچ کبھی سامنے نہیں آیا کہ فہد، افنان ،زہرہ پاک ایجنٹ ہیں۔ اور یہ راز صرف ماشی اور سکندر کو معلوم تھا۔

کہتے ہیں نہ کہ کچھ راز راز ہی رہنے چاہئے۔۔

اور ماشی کی جگہ بھی تو کسی نے سنبھالنی تھی بھاگم بھاگ نمرہ ملک نے اب ماشی کی جگہ لے لی تھی ،اس کی طرح خوبصورت لمبے بال جان دار مسکراہٹ کوئی دیکھے تو مر میرے تبھی تو ہمارے ،دی ملک شان اپنا دل کھو بیٹھے۔

پر ملک نمرہ ڈرتی نہیں ڈراتی تھی۔

گھبراتی نہیں لوگ اسے دیکھ کر گھبرا جاتے۔۔

خیر اب تو ہماری ماشی بھی ویسی نہیں رہی تھی۔

*******

“نمی یار جلدی کرو تمہیں آپی کے پاس چھوڑ کر مجھے کہیں جانا ہے یار ،،شان نے جھک کر گاڑی کا ہارن بجایا۔

وہ جینز اوپر بٹنوں والی شرٹ ایک ہاتھ میں آئی فون اور اسی ہاتھ میں برینڈیڈ پٹے والی واچ۔ شرٹ کی آستینوں کو فولڈ کئے بالوں کو زبردست سا سٹائل دیئے۔بہت فریش تھا پر دو گھنٹے پہلے۔ اب وہ زچ ہو چکا تھا کیونکہ بچارا دو گھنٹے سے نمرہ میڈم کا انتظار کر رہا تھا پر ان کے آنے کے کوئی آثار نہیں تھے

وہ آج فارم ہاؤس جا رہی تھی۔جہاں ماشی لوگ آل ریڈی موجود تھے۔گرمیوں کی چھوٹیاں تھی تو وہ لوگ ایک ہفتے سے فارم ہاؤس اکھٹے انجوائے کر رہے تھے۔جس میں ثاقب ،آسام،فہد،افنان کی فیملی تھی اور باقی سب بھی کبھی چکر لگا لیتے تھے۔

“ارے شانی ٹھنڈ رکھ آ رہی ہوں مجھے پتا ہے جو تو نے کہاں جانا ہے کیوں جھک مارتا پھر رہا ہے آس پاس۔ کچھ شرم و حیا ہے پلے،،نمرہ جو ابھی تک ریڈی نہیں ہوئی تھی چینخ کر بولی۔

“تمہیں کوئی پروبلم میں جس سے بھی ملنے جاؤں،،وہ اس کی پکار پہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا اور نمرہ کو اپنی گرفت میں لے لیا اس کے لمبے بال منہ پہ گر گئے۔

“ی۔۔یہ کیا بدتمیزی ہے ماما چچا کو بلا لوں گی،،وہ ابھی بھی اس کی گرفت میں تھی۔شان نے مسکراہٹ دبا کے اس کے بالوں کو پیچھے کیا تو وہ آنکھیں بند کئے ہوئے تھی۔گلابی ہونٹوں کو دانتوں میں دبایا ہوا تھا۔سفید چہرہ گلابی گال۔شاکنگ پینک لون کے ڈریس میں ملبوس ڈوپٹے سے بے نیاز گڑیا لگ رہی تھی وہ اس میں کھو چکا تھا۔بچپن کی محبت پروان چڑھی تھی۔۔

“ایسے کیا دیکھ رہے ہو،،نمرہ نے ماتھے پہ بل ڈال کر پوچھا۔تو وہ چونکا

“تیار تو تم ہو چکی ہو ،،شان نے اس کے بالوں کی لیٹ کو پیچھے کرتے ہوئے شرارت سے کہا۔ تو نمرہ نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔سفید چہرہ آنکھوں میں شرارت ہونٹوں پہ مسکراہٹ۔پینٹ شرٹ میں ملبوس یہ وہی تھا اس کا شان جب وہ دبئ چلا گیا جیسے وہ کئی کئی راتوں یاد کرتی تھی۔

“نہیں جی ماما ،چاچی ،پھوپھو آپی سب کہتی ہیں کہ ملکوں کی بیٹیاں ، بہوئیں

ہاتھوں کو،آنکھوں کو کانوں کو خالی نہیں چھوڑتی،،

“اچھا جی،،شان نے شرارت سے کہا تو وہ سمجھ کر جلدی سے محفوظ ہو گئ۔

“چھوڑو مجھے باہر جا کر انتظار کرو آ رہی ہوں،،اس نے شان کو دھکا دے دیا تو وہ مسکراتا باہر نکل گیا۔

وہ جلدی سے مڑی اورایک پیر میں پائل پہنی جو شان نے منگنی پہ گفٹ کے طور پہ پہنائی تھی۔ پھر کانوں میں چھوٹے چھوٹے جھمکے آخری نظر خود پہ ڈال کے خود کو ہی آنکھ مار کر باہر بھاگی۔

“نمرہ سمبھال

کر آگے دیکھ کے چلو۔اے میرے اللہ،،شگفتہ نے سر پکڑ لیا کیوں کہ وہ سارے مثالے اڑا چکی تھی اور اب منہ میں شہادت کی انگلی ڈال کر ایک آنکھ دبائے شگفتہ ماما اور کلثوم کو دیکھ رہی تھی۔

“ایک ماشی سمجھدار ہوئی اب پیچھے سے دوسری ماشی،،چاچی نے آنکھیں دیکھائی

“کوئی بات نہیں ان ہی کی وجہ سے تو بہار ہے جاؤ بیٹا ،،سکندر نے اسے خواتین سے بچا لیا تھا۔

“سوری اوکے بائے،،وہ کھلکھلا کر ہنسی اور باہر کی طرف بھاگی جہاں شان بڑے آرام سے کھڑا کال سن رہا تھا۔

“شان تمہیں پتا ہے تم کتنے ہینڈسم ہو میں تمہاری کتنی بڑی فین نہیں نہیں دیوانی ہوں اپنی کزن سے پوچھ لینا۔ لڑکیاں تم پہ مرتی ہیں آئی لو یو شان ،،نمرہ نے اس کے کان سے ایک ہینڈ فری نکال کر اپنے کان میں لگائی تھی تو ایک آواز ابھری۔

“اوہو ہو , دیکھ شنایا باز آ جا نہیں تو خون پی جاؤں گی میرے منگیتر پہ ڈورے ڈالنے بند کرو بہت پیار کرتا ہے یہ مجھ سے۔سمجھی،،نمرہ نے غصے سے کہا اور ہینڈ فری نکال کر شان کو غصے سے گھورتی گاڑی میں بیٹھ گئ۔وہ اپنی ہنسی دبا کر فرنٹ سیٹ پہ جا بیٹھا

“یہ کیا بد تمیزی تھی نمی۔۔۔۔،،شان فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے مصنوعی غصے سے بولا۔

” شان تمہیں یہ بد تمیزی لگتی ہے ہاہاہاہا۔۔۔،،نمرہ نے جان دار کہکہا لگا کر کہا تو وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا۔

“میں ان لڑکیوں میں سے ہرگز نہیں جو اپنے ہونے والے شوہر کو کسی بھی لڑکی کے ساتھ افیئر چلانے دے۔۔اگر تم نے چلانے ہی ہیں اگر۔تمہیں مجھ میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے تو یہ رشتہ برقرار رکھنے کی کیا ضرورت ہے کل کو تم نے مجھے ذلیل کرنا ہے اس سے بہتر ہے آج ہی کر دو آج تمہارے لئے محبت کے جذبات میں شدت نہیں ہے کل کو ایسا ہوا تو ،،نمرہ بات اُدھوری چھوڑ کر باہر دیکھنے لگی تھی۔ وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا اتنی بڑی بات تو نہیں تھی شان کے لئے تو بلکل بھی نہیں وہ ایک سلیبرٹی تھا ہر روز کئی لڑکیوں کے عشق بھرے تبصرے سنانا اب اس کی عادت بن گئ تھی۔پر محبت تو ہمشہ نمرہ سے ہی کی تھی۔اس کی بے بنیاد بات پہ وہ تحش میں آ گیا۔

“ٹھیک ہے تم آپی سے بات کر لینا انہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا جب ہم دونوں انٹرسٹیڈ نہیں تو کیا فائدہ میں بھی آپی سے بات کروں گا اور یہ منگنی ٹوٹی سمجھو ڈونٹ وری،،وہ سٹیرنگ گھماتے ہوئے بولا۔

نمرہ نے بالوں کی آڑھ میں بہت سارے آنسوں گرائے

“ڈونٹ وری کہتے ہو کبھی تمہیں کیسی سے محبت ہوتی تو اندازہ ہوتا۔تم تو ٹھہرے دی ملک شان،آئے روز نئی نئی ملتی ہوں گی۔۔پر میں کون سا کسی سلیبرٹی سے کم ہوں۔پر محبت تو تم سے کرتی ہوں،، ،اس نے سوچا اور پھر اپنے پرس سے

موبائل نکال کر یوں ہی چھیڑ چھاڑ کرنے لگی۔ شان اس کی کیفیت بھانپ کر مسکرا چکا تھا۔

“بےواقوف لڑکی دماغ گھٹنوں میں ہے تمہاری خاطر سب کو ٹھکراتا ہوں پر تم سمجھتی نہیں پر آج تمہارا دماغ ٹھیکانے پہ لا کر ہی دم لوں گا میں بھی تمہارا ملک شان ہوں،،وہ مسکراہٹ دبا کر گاڑی موڑتے ہوئے سوچنے لگا

*******

ماشی عشرت،اور زہرہ کیچن میں گھسی طرح طرح کے پکوان بنا رہی تھی۔ کیوں کہ انہیں حماد لوگوں اور نمرہ شان کی آمد کی خبر مل چکی تھی۔

جبکہ بائمہ بچوں کے پاس تھی جو ابھی سو رہے تھے۔بچے تو کیا بچوں کے پاپا بھی ڈرائنگ روم میں پھیل کر سوئے ہوئے تھے۔

“ٹائم کیا ہوا ہے عشو،،زہرہ نے ہاتھ دھوتے ہوئے پوچھا۔لون کے پیرٹ کلر کی اونچی قمیض میں ملبوس ڈوپٹہ ایک طرف ٹکائے بالوں کو کھولا چھوڑے وہ بہت نکھری نکھری لگ رہی تھی موسم بھی سوہنا ساہنا تھا۔ہوا چل رہی تھی جس سے سیب اور آم کے باغات نزدیک تھے جن کی خوشبو ماحول کو زیادہ تازاہ دم بنا رہی تھی۔

“ابھی سات بجے ہیں،،عشرت ڈرائی فروٹ کاٹتے ہوئے بولی

اتنے میں چار سالہ ملک حازم فہد بھاگتا ہوا آ گیا

“ماما، مجھے دیں میں بھی کروں گا،،وہ عشرت کے پاس بیٹھ گیا۔ان تینوں نے مسکرا کر اس ننھے منے کو دیکھا۔جو عشرت کی مدر کرنے کے لئے آیا تھا۔وہ فریش فریش تھا بال ابھی گیلے تھے بائمہ نے ابھی ابھی اسے اور گل کو نہلایا تھا۔

“میری جان آپ ارباب اور زرباب کے پاس جاؤ وہ اٹھ کر رونے لگ جائیں گے۔آپ ابھی چھوٹے ہیں،،ماشی نے اسے اپنی گود میں اٹھا کر پیار کیا۔لال رنگ کی لمبی قمیص بالوں کو کیچر میں قید کئے ڈوپٹہ ایک کاندھے پہ ٹکائے پروقار لڑکی لگ رہی تھی ۔

“ان کے پاس گل اور مامی جان بیٹھی ہیں چھوٹی ماما،،حازم نے بائمہ اور تین سالہ گل کا نام لیا تو وہ تینوں ہنس دی۔

“اور آپ کے ماموں بڑے پاپا چھوٹے پاپا سب کہاں ہے،،زہرہ بھی ہاتھ صاف کر ماشی کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھ کر حازم کی پیشانی چومنے لگی۔

“وہ ابھی سو رہے ہیں بیڈ بوائز ہیں،،حازم نے منہ بسور کر کہا۔

“ہاہاہاہا میرا پیارا بیٹا،،ماشی نے اس کی رخسار پہ ہونٹ رکھ کر کہا اور بازوؤں میں بھر لیا۔

“بلکل اپنے باپ پہ گیا ہے،،عشرت نے مسکرا کر کہا

“نہیں ماما میں ان کی طرح بیڈ بوائے نہیں ہوں آپ سب کو ایک بات بتاؤں چھوٹی ماما بڑی ماما،،وہ راز داری سے بولا۔

“ہوں ہوں بتاؤ شہزادے،،ماشی جو اسے زہرہ کی گود میں بٹھا کر اس کے لئے جوس لا رہی تھی راز داری سے بولی۔

“پتا ہے پاپا ،چھوٹے پاپا،بڑے پاپا، سوہنے ماموں اور ہارش ماموں کب تک جاگتے رہے اور انہوں نے کیا کیا،،وہ منہ پہ ہاتھ رکھ کر بولا۔

“کیا کیا،، زہرہ نے جھک کر پوچھا جب کہ ماشی اور عشرت مسکرا رہی تھی۔

“دیر تک جاگتے رہے مویز دیکھی ،میں نے کہا کارٹون دیکھنے ہیں تو کہتے ہم بچے نہیں ہیں اور مجھے کمرے میں ماما کے پاس چھوڑ گئے،،وہ منہ بسور کر بولا

“ہاؤ یہ تو بری بات ہے نہ میں آپ کے بڑے پاپا کی خبر لوں گی آپ پہلے بریک فاسٹ کر لیں،ماشی نے جوس کا گلاس تھما کر کہا تو وہ جھٹ میں پی گیا

“گڈ بوائے ،،ماشی نے اس کا منہ چوم لیا اور پھر زہرہ نے تو وہ پھر سے اپنی کھلونا گاڑی میں جا بیٹھا

“میں افنان کو جگا دوں تاکہ فریش ہو جائیں۔سب آتے ہی ہوں گے،، زہرہ اپنا دوپٹہ سیٹ کرتی اٹھ گئ۔

“رہنے دو نگین رات دیر تک وہ لوگ جاگتے رہے تھے اٹھ جائیں گے ،،ماشی نے مسکرا کر کہا اور اون کی طرف بڑھ گئ۔جہاں سینڈوچز کے تیار ہونے کی خوشبو آ رہی تھی۔

“تو بھائی ہم بھی تو ایک ،دو بجے تک جاگتی رہی ہیں ہم تو جلد ہی اٹھ گئ نکمے ابھی سو رہے ہیں،، بائمہ کیچن میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔

“بلکل ٹھیک کہا بھابھی،میں ابھی آتی ہوں،،زہرہ کیچن سے نکل گئ

“نگی یہ کیوں نہیں کہتی میرے دیور کو دیکھنے کا جی کر رہا ہے۔ایک رات تمہارے پاس نہیں آیا تو پاگل ہو گئ ہاہاہا،،عشو نے ماشی اور بائمہ کو آنکھ دبا کر کہا۔

تو وہ دونوں کھلکھلا کر ہنس دی۔

“عشو سمجھ دار تو کافی ہو ،،زہرہ کون سا کم تھی۔

پھر وہ سیڑھیاں چڑھتی پہلے کمرے میں داخل ہو گئ۔

وہ بیڈ پہ

بغیر شرٹ کے لیٹا ہوا تھا ایک ٹانگ بیڈ سے نیچے تھی زہرہ کئی پل یوں ہی کھڑی دیکھتی رہی۔اتنے سالوں میں بھی اس کا جی نہیں بھرا تھا محبوب کو دیکھ دیکھ کر ۔ہر شام افنان نے اس کے نام کر دی تھی۔سارا دن بزی ہونے کے باوجود وہ کبھی رات باہر نہیں گزارتا تھا۔کیونکہ ارباب میں اس کی جان بستی تھی۔اورزہرہ تو اس کا سب کچھ بن گئ تھی۔

وہ دیکھتی رہی اور پھر اس کے پاس جا بیٹھی۔

“گڈ مارننگ اٹھ جائیں سورج سر پہ آ گیا ہے،،وہ اس کے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے بولی۔جیسے وہ ہر صبح اسے اٹھاتی تھی۔

افنان نے انگڑائی لی۔بغیر آنکھیں کھولے اسے اپنے سینے پر گرا لیا۔

“گڈ مارننگ جان ،،وہ بولتے ہوئے اسے بیڈ پر لے آیا

“بچے اٹھ گئے ہوںگے میں انہیں دیکھ لوں اور بھائی فہد لوگوں کو بھی اٹھا دیں۔ چلیں اب اٹھیں یہ رومانس قسطوں میں ادا کر لیجئے گا،،زہرہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور بیڈ سے اتار دیا

“مارننگ قسط تو ادا کرنے دیں ،،وہ شرارت سے بولا

“نہیں بلکل نہیں جائیں فریش ہو جائیں۔نہیں پہلے انہیں اٹھا کر آئیں ماشی لوگ نیچے بزی ہیں۔بھائی حماد لوگ آتے ہوں گے اور ہمارے سلیبرٹی بھی ،،زہرہ بیڈ شیٹ ٹھیک کرتے ہوئے باہر نکلتے ہوئے بولی

افنان بالوں میں ہاتھ چلاتا ٹی شرٹ پہن کے ساتھ والے کمرے میں چلا گیا۔۔

“فہد اٹھ جا یار کیوں ان لیڈیز کے ہاتھوں ہلاک ہونے کا ارادہ کر رہے ہو ،ثاقب بھائی رات کی اتری نہیں ہے کیا،،وہ ان دونوں کے اپر سے کمبل کھینچ کر اے سی اوف کرتے ہوئے بولا۔

“تمہاری اتر گئ اتنا ہی کافی ہے ہاہاہاہا،،آسام واش روم سے نکلتے ہوئے بولا۔وہ فریش تھا کیونکہ وہ فجر کی نماز پڑھ کر ماشی کا دیدار کر کے کمرے میں آیا تھا

“ویسے پیا کیا تھا۔۔،،فہد آنکھیں ملتا اٹھ کھڑا ہوا

“یہ تو ہارش کو ہی پتا ابے ہارش اٹھ،،آسام نے اس کے اوپر سے کمبل کھینچ لیا۔وہ جو صوفے سے گرنے کو تیار تھا دھڑم سے گرا

“میں نے کچھ نہیں پلایا تم لوگوں نے خود ہی کچھ پیا ہو گا،،وہ آنکھیں ملتا صوفے پہ واپس بیٹھا

تو سب نے کہکہکا لگادیا

“بھائی پیا تو کچھ نہیں تھا دیر سے سوئے تھے اگر پینے پلانے کے بارے میں لیڈیز نے سن لیا تو جان سے مار دیں گی،، ثاقب نے آنکھیں کھول کر کہا

“کاش میری مسز مجھے کبھی نہ ڈانٹتی ہوتی اوہ شیٹ آج تو واٹ لگنے والی ہے میں چلتا ہوں یار کومل کو شاپنگ پہ لے جانا ہے،شادی سے پہلے تو کہتی تھی جانو جیسے آپ کہو گے ویسا ہی کروں گی پرسب بدل جاتا ہے،،وہ آسام کے کاندھے پر سر رکھ کر بولا۔

“نہ نہ بیٹا رونا نہیں اور جا نہیں تو رات کو ہم آئیں گے تمہارے جنازے پر،،فہد نے قہقہہ لگایا

اتنے میں ارباب اور زرباب کے رونے کی آوازیں آنے لگی

“جاؤ جا کر اپنے بچوں کو چپ کروؤ ان کی مائیں کیچن میں بزی ہوں گی”فہد نے آسام اور افنان کو دیکھ کر کہا تو ہارش کا قہقہہ بے اختیار تھا۔

“آسام بےبی پلیز بےبی کو دیکھنا,،،ہارش نے کئ سالوں پہلے کی بات دہرائی تو وہ اسے آنکھیں دیکھانے لگا

آسام اور افنان باہر نکل گئے۔

اور تیسرے کمرے میں چلے گئے جہاں ان کے لختے جگر تھے ۔

“لو جی بڑے بدماش ہیں ہماری واٹ لگوا دی ،،

ماشی آل ریڈی ان کے پاس آ چکی تھی اور وہ دونوں کھلکھلا کر کاٹ میں کھڑے تھے۔

“آپ دونوں فریش ہو جائیں میں انہیں نہیلا کر لاتی ہوں،،ماشی نے مسکرا کر کہا تو افنان دونوں بچوں کو پیار کر کے چلا گیا جبکہ آسام اس کے پاس آکر بیٹھ گیا کیونکہ وہ فریش تھا۔

آسام نے دونوں بچوں کو چھیڑا تو وہ کھلکھلا دیئے آسام زرباب سے زیادہ ارباب سے پیار کرتا تھا۔آخر اس میں افنان نظر آتا تھا جس بات پہ افنان نے اسے کئ بار ڈانٹا تھا کہ تم ارباب اور زرباب کو برابر کیوں نہیں سمجھتے بھتیجے کو زیادہ پیار کرتے ہو تو وہ کہتا یہ میرا چھوٹا سا افنان ہے ویسے تو دونوں بچے اپنے اپنے والدین پہ گئے تھے اور کبھی نہ ماشی نے فرق کیا اور نہ ہی زہرہ نے اکثر زرباب زہرہ کے پاس سے ہی ملتا تھا کیونکہ ماشی تو ہوسپٹل جاتی تھی۔

“بہت خوبصورت لگ رہی ہیں ڈاکٹر صاحبہ،،آسام اس کے ساتھ بیٹھ گیا اور ارباب کو اٹھا لیا۔

ماشی نے نظریں ٹیرھی کر کے دیکھا اورنج ٹی شرٹ میں ملبوس چہرے پہ بلا کا حسن ہونٹوں پہ مسکراہٹ۔اور آنکھوں سے جھلک رہی محبت۔ماشی نے اس کی رخسار پر ہاتھ رکھ دیا۔

“صبح بخیر،، مسکرا کر وہ تھوڑا سا جھکی اور ارباب کی رخسار پہ ہونٹ رکھ کر اٹھ کر ہسنے لگی۔

“دیکھا ارباب آپ کی بڑی ماما کو میری زرا فکر نہیں ہے شوہر کی بجائے بیٹے کو کس کر رہی ہیں ،،آسام نے خفا ہو کر کہا چھوٹا سا بچہ بغیر سمجھے کھلکھلا کر ہنسا اور آسام کے بالوں کو نوچنے لگا۔

ماشی نے مسکرا کر آسام کو دیکھا اور زرباب کے کپڑے تبدیل کر کے اسے تھما دیا۔

“میں کیچن میں جا رہی ہوں سمبھالیں اپنے لاڈلوں کو،،وہ باری باری دونوں کے رخسار پہ ہونٹ رکھ کر باہر لپکی۔

“مسز میری بھی رخسار ہے،،آسام نے جل بھن کر بولا۔

وہ تھوڑا پاس آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ جلدی سے اس کی رخسار پر ہونٹ رکھ کر باہر بھاگ گئ۔

آسام کھڑا مسکراتا رہ گیا اور پھر ہوش آنے پہ نیچے حال میں رکھے صوفوں پہ جا بیٹھا۔ارباب اور زرباب اس کی گود سے اتر کر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے گل اور حازم کے پاس جا روکے اور پھر وہ چاروں مل کر کھیلنے لگے۔

گل نے زرباب کو گرا دیا تو ارباب رونے لگا۔

“گل چھوٹے بھائی کو مارتے نہیں ،،حازم جو ان سے بڑا تھا وہ سمجھانے لگا۔اور پھر زرباب کو کھڑا کیا،آسام دل چسپی سے ان کو دیکھ رہا تھا۔

“پاس بیٹھ کر بچوں کو جھگڑا کروا رہے ہو، ویری بیڈ ڈاکٹر صاحب،،افنان ،فہد اور ثاقب اس کے پاس صوفے پہ آ کر بیٹھ گئے۔تو ثاقب نے ڈانٹا۔

“بھائی جان وہ یہ دیکھ رہے تھے کہ بڑے ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ چلیں گے یا پھر روائتی بھائیوں کی طرح لڑائیاں کریں گے،،ماشی ڈائنگ ٹیبل پر کھانا لگاتے ہوئے مسکرا کر بولی

“کبھی تو ڈاکٹر صاحب کی سائڈ نہ لیا کرو یار ۔،،افنان نے آنکھیں پھیلا کر کہا۔

“تاکہ آپ لوگ میرے بھولے بھالے ڈاکٹر کو ٹارچر کریں،،ماشی نے آنکھیں سکوڑی۔ جس پہ سب نے کہکہکا لگادیا

“نہیں بھائی ایسا تو کوئی ارداہ نہیں اب ہمارا۔بس یہ اللہ کی گائے ہے۔ کیوں فہد بھائی ،،افنان اور فہد نے ہائے فائے کیا۔بائمہ اور عشرت بھی محفل میں آ بیٹھی جبکہ زہرہ ماشی کی مدد کرنے لگی۔

“اسی لئے تو میں ڈاکٹر بن گیا ہوں بچو جی،،پہلی بار آسام نے کہا۔

“چلو اب بس کرو جنگ کا میدان مت گرم کرو۔ماشی نمرہ اور ہمارے سلیبرٹی ابھی نہیں آئے،،ثاقب نے بات بدلی۔

“بھائی وہ ٹہرے سلیبرٹی دیر سے ہی آئیں گے،،زہرہ نے بھی باتوں میں حصہ لیا۔

“ہاہاہاہاہاہاہا چلیں کوئی نہیں ان کا انتظار کر لیتے ہیں،،فہد نے ارباب اور زرباب دونوں کو اٹھا لیا اور ان روئی کے گوڈوں کے ساتھ کھیلنے لگا۔

گل اور حازم گاڑی میں سوار پورے حال میں شور مچا رہے تھے اور عشرت ان کے شور میں برابر کی شریک تھی۔

ماشی نے گھڑی دیکھی

اور شان کو کال کرنے لگی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *