Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 28)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 28)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
بھول سکتا ہوں نہ بھلا سکتا ہوں۔۔!!
تم نے مشکل میں ڈال رکھا ہے۔۔!!
نکاح کے بعد ماشی کو کمرے میں بھیج دیا اس کی طعبیت نازک تھی۔آسام کو فہد ثاقب ،عشو اور باقی ماشی کی کزنز نے گھر لیا تھا۔وہ سب سے نظر بچا کے ماشی کے پاس جانے لگا جب فہد ،ثاقب اور عشرت اس کے سامنے آ گئے وہ ڈر کے پیچھے ہٹا۔
“ارے ارے وہاں کہاں جا رہے ہو۔۔۔،،عشرت نے اسے روک لیا۔اور دروازے کے دونوں طرف ہاتھ رکھ لئے
“اپنی وائف جان کے پاس۔۔،،اس نے مسکرا کر جواب دیا۔
“نہیں بھائی جان آپ نہیں جا سکتے اپنی وائف کے پاس۔۔،،ثاقب اور فہد دونوں نے ہنسی دبا کر کہا۔
“کیوں کیوں۔۔،،اس نے آنکھوں کو سکوڑا لہجے میں بے چینی تھی
“کیونکہ آپ دونوں کہیں جا رہے ہیں۔۔،،فہد نے مسکرا کر کہا۔
“کہاں جا رہے ہیں۔برو لوگ ابھی تو مجھے میری بیگم جان کے پاس جانے دیں اور ۔
جدھر بھی جانا ہو بعد میں سوچیں گے۔،، وہ ان کے شکنجے سے چھوٹنے کی کوشش کرنے لگا۔پر ان سب نے اسے گھیر لیا تھا
“تھم جا یار۔۔یہ پکڑ۔۔اور لے جا اپنی وائف جان کو۔۔ہاہاہاہا۔
ہماری طرف سے سرپرائز سمجھو۔ڈرایئور باہر انتظار کر رہا ہے ۔،،فہد نے چابی اس کے ہاتھ میں تھما دی۔وہ حیران ہو کر چابی کو دیکھنے لگا
“جاؤ جاؤ۔۔شرماؤ نہیں ہاہاہاہا۔۔،،عشرت نے بھی اس بے چارے کی ٹانگ کھینچی۔اس نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا۔اور پھر سے ماشی کے پاس جانے کی کوشش کرنے لگا۔
“انہوں ہمارے ساتھ چلو۔۔،ثاقب نے اسے روک کر نفی میں سر ہلایا اور ہاتھ پکڑ کر ایک طرف چلنے لگا
“نو۔۔۔برو ایسا ظلم مت کریں ابھی ابھی میری شادی ہوئی کچھ تو رحم کریں اپنے چھوٹےبھائی پہ۔،، وہ بے چارگی سے بولا جس پہ ان سب کا بے اختیار کہکا تھا اور ثاقب اسے اپنے ساتھ لے کر باہر چلے گئے۔
عشرت ماشی کو کمرے سے لینے چلی گئ۔
ماشی کھوئی کھوئی سی بیٹھی تھی۔اس کی زندگی ایک دم سے بدل گئ تھی۔وہ کیا سے کیا بن گئ تھی۔
قسمت نے اسے بہت آزمایا تھا۔ابھی تو بہت لمبی زندگی تھی۔
پر آسام اس کے ساتھ تھا پر ماشی کے دل میں انجان سا ڈر تھا۔
“چلو ماشو ۔۔اپنے پیا جی کے ساتھ نئ زندگی کی شروعات کرو اور یہ پرانی ڈرپوک ماشی یہاں چھوڑ کے جانا فیوچر ڈاکٹر کی وائف ہو ۔۔،،عشرت نے پیار سے اسے دیکھا اور ڈوپٹہ ٹھیک کیا۔
“عشو مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔،،عشرت اس کی فرک سمیٹ کر بیڈ سے اتار رہی تھی۔
“کیوں وہ اتنا ظالم نہیں ہے ہاں پر آج اس کے ارادے نیک نہیں ہیں۔۔،،عشرت نے ہسی دبا کر کہا
“شیٹ اپ یار میں اور بات کر رہی ہوں تم بھی نہ عشو۔۔،،ماشی نے افسردگی سے نفی میں سر ہلا کر کہا۔
“تو تمہیں ڈر نہیں لگ رہا اپنے وجہہ شوہر سے۔۔،،عشو نے ایک بار پھر اس کی ٹانگ کینچھی۔
“شیٹ اپ عشو چلو۔۔،،ماشی نے خوفگی سے آنکھیں دیکھائی۔
“بہت جلدی ہے سامی بےبی کے پاس جانے کی۔۔،،عشرت نے آنکھ دبا کر کہا۔ماشی بیڈ پر بیٹھ گئ۔
“لو نہیں جاتی اب خوش۔۔،،ماشی قدرے غصے سے بولی۔
“ہاہاہاہا اچھا سوری میری جان اب چلو۔۔،،عشرت نے ماشی کے ماتھے پہ ہونٹ رکھ کر کہا تو وہ مسکرا دی۔اور باہر چل دی
تھوڑی دیر میں وہ دونوں ڈرائیو کے ساتھ ملک ہاؤس سے نکل آئے
راستہ خاموشی سے کٹا تھا پر اشاروں سے باتیں ہوتی گئ تھی دونوں کے دل الگ تار میں دھڑک رہےا تھے پر ماشی کے چہرے پہ درد ابھی بھی موجود تھا اور اداسی بھی۔
وہ ایک خوبصورت چھوٹا سا بنگلو تھا جو بہت خوبصورت انداز میں سجایا ہوا تھا۔لائٹنگ نے روش کر رکھا تھا۔
باہر دو گارڈز موجود تھے انہیں دیکھتے ہی انہوں نے مین گیٹ کھول دیا گاڑی اندر چلی گئ۔
اندر بھی دو گارڈز موجود تھے جو بنگلو کے اندر داخل ہونے والے دروازے پر موجود تھے گاڑی پورچ میں جا رکی۔
آسام نےاترکر ماشی کی طرف والا دروازہ کھولا اور ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا۔
ماشی نے مسکراہٹ دبا کر
آسام کو دیکھا اور ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔
گاڑی سے نکلتے ہی آسام نے اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا
“یہ کیا کر رہے ہیں۔۔۔،،ماشی کا دل زور سے دھڑکنے لگا
“شش۔۔،،آسام نے اس کا چہرہ نزدیک کر کے کہا۔
ماشی کی آنکھیں پھٹ گئی۔
“عشو ٹھیک کہ رہی تھی جناب کے ارادے نیک نہیں ہیں۔۔،،ماشی نے اسے دیکھ کر سوچا جب اس نے ماشی کو دیکھا تو وہ شرمائی مسکرائی اور آسام کے گرد باہیں ڈال کر سر سینے سے ٹکا دیا۔
آسام اسے بیڈ پر لٹا کر خود صوفے پر جا بیٹھا اور ماشی کو دیکھنے لگا۔ بہت سارے پل یوں ہی گزر گئے ماشی نے نظریں جھکا لی ۔اور ہاتھوں کو آپس میں رگڑنے لگی۔
“میں ساری زندگی آپ کو یوں ہی اپنے سامنے بیٹھا کر دیکھنا چاہتا ہوں۔پر ایک چیز جو میں نہیں چاہتا۔۔،،وہ اٹھ کر ماشی کے پاس جا بیٹھا۔
تھوڑی سے پکڑ کر منہ اوپر کیا۔
“آپ کو پریشان نہیں دیکھنا چاہتا۔پلیز سارے ڈر دل سے نکال دیں۔میں آپ کے ساتھ ہوں۔آپ کو یوں نہیں دیکھ سکتا پلیز ماشی۔۔،آسام نے ماشی کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لئے۔۔
ماشی نے نظر بھر کے اپنے مجازی خدا کو دیکھا۔وہ اس کا سب کچھ تھا۔
بے اختیار وہ اس کے سینے سے جا لگی شیروانی کو ہاتھوں میں جکڑ کر وہ رونے لگی۔آسام کو اس کے آنسوں نے بہت تکلیف دی۔پر وہ اس کے سارے درد کو نکالنا چاہتا تھا
“ماشی ریلکس۔۔روئیں نہیں پلیز۔آئی لو یو سو مچ۔،،آسام نے اس کو اپنی باہوں میں لے لیا۔ماشی کی سسکیاں بن گئ تھی۔جو آسام کے احصار میں جا کے ختم ہو گئی۔
“آج سے ہماری زندگی کی شروعات ہونے جا رہی ہے آپ ملکوں کی رانی سے رندھاووں کی رانی بننے جا رہی ہیں اور ہم چاہتے ہیں ہماری رانی بہت طاقتور ہو کمزور یا ڈرپوک نہیں۔،،آسام نے ماشی کے دوپٹے کو سر سے الگ کر کے
سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور اس کا سر اپنی گود میں رکھ کر بالوں کو کھول دیا
سر کو دباتے ہوئے وہ ماشی کو دیکھنے لگا ماشی اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے رو رہی تھی۔آسام نے روکا نہیں جتنے آنسوں بہتے وہ ٹھیک ہو جاتی۔
بہت دیر تک رونے کے بعد وہ سو گئی آسام نے اس کا سر تکیئے پہ رکھا ماتھے پہ ہونٹ رکھے اور اٹھ کر چینج کرنے چلا گیا واپس آ کے ایک تکیہ لے کے بیڈ کے ایک طرف لیٹ گیا۔
لائٹ اس نے آف نہیں کی اسے معلوم تھا ماشی کو اندھیرے سے ڈر لگتا ہے ماشی کے چہرے پہ اب سکون نظر آ رہا تھا۔وہ اپنی ماشی کو دیکھتے دیکھتے نیند کی وادیوں میں چلا گیا۔۔
*******
” افنان نظر نہیں آ رہا۔۔۔،،حماد نے ادھر ادھر نظریں گھمائی ۔شگفتہ کا دل بیٹھنے لگا ۔
“کہاں گیا ہے وہ۔۔رات کا کون سا پہر ہے اور وہ غائب ہے۔،،شگفتہ نے فکر مندی سے کہا سب اسے دیکھنے لگے۔
“ماما وہ سو رہا ہے باہر فرینڈز کے ساتھ گیا ہوا تھا شائد تھوڑی دیر پہلے آیا ہے۔۔،،فہد نے نظریں موڑ کر کہا
کسی کو نہیں پتا تھا کہ افنان کہاں گیا تھا اور کب واپس آیا تھا۔
بس فہد کو پتا تھا وہ اس لڑکھڑاتا حویلی میں داخل ہوتے دیکھ چکا تھا۔تو پکڑ کر کمرے میں لے گیا تب اسے پتا چلا اس نے شراب پی ہوئی تھی۔
****************
دن کا سورج طلوع ہوا تو آسام اٹھ گیا پر وہ ابھی بھی سو رہی تھی۔آسام نے اسے جگایا نہیں فریش ہو کر کیچن میں چلا گیا۔اچھا سا ناشتہ بنا کر اسے سجا کے کمرے میں داخل ہواماشی ابھی بھی سو رہی تھی۔میز پہ ٹرے رکھ کر وہ اس کے پاس چلا گیا ماشی کے منہ پہ بال آ رہے تھے اس نے ہاتھ سے انہیں پیچھے کیا اور مسکرا کے ماشی کے روشن چہرے کو دیکھا۔
“گڈ مارننگ ڈیر بیگم جان۔۔،،آسام نے جھک کر ماشی کے کان میں سرگوشی کی ماشی بغیر آنکھیں کھولے مسکرائی۔اور منہ دوسری طرف کرنے لگی پر آسام کے بازو کی آڑ نے روک دیا۔
“نہ نہ چلیں اب اٹھ جائیں ناشتہ ریڈی ہے۔۔،،آسام صوفے پر جا بیٹھا۔
“کس نے بنایا۔۔،ماشی اٹھ کر بیٹھ گئ۔سامنے لگے قد آدم شیشے میں خود کو دیکھا وہ اسی طرح ہی تھی جیسے سوئی تھی۔اور بیڈ کو دیکھا کوئی سلوٹیں نہیں اس نے پھر آسام کو دیکھا۔
“آپ کہاں سوئے تھے۔۔،،ماشی اٹھ کر جویلری اتارنے لگی۔
“آپ کے دل میں۔۔،،آسام نے شرارت سے کہا۔
“اچھا ذرا دل کی اچھے سے صفائی بھی کر دیتے جالے وغیرہ لگے ہوئے ہیں۔۔،،ماشی نے سنجیدگی سے کہا۔اور بالوں کو جوڑا کی شکل دے کر آسام کے سامنے جا رکی
“وہ جالے تب صاف ہوں گے جب آپ پہلے کی طرح مسکراتی رہیں گی۔۔،،آسام نے اسے دیکھا ماشی ایک نظر اس پہ ڈال کر واش روم چلی گئ۔واپس آ کر وہ آسام کے ایک طرف ٹک گئ وہ اس کا انتظار کر رہا تھا۔ماشی نےاس کا جائزہ لیا۔براؤن کلر کی ہاف بازوؤں والی ٹی شرٹ میں ملبوس تھا سفید اور طاقتور بازو نظر آ رہے تھے کلائی پر بندھی گھڑی اور گیلے ماتھے پہ گرے ہوئے بال۔قیامت لگ رہا تھا۔ماشی نے نظریں جھکا لی۔اور مسکرا دی
“مسز رندھاوا۔۔۔کیا ہوا شروع کریں۔اس ناچیز نے اپنے ہاتھوں سے آپ کے لئے بنایا ہےافی کو
میرے ہاتھ کا کھانا بہت پسند ہے۔۔،،آسام نے کہا
لو اب اس نکمے کےذکر کا کیا فائدہ تھاماشی کے ہاتھ روک گئے۔
“کیا میں آپ کو اپنے ہاتھوں سے کھلا سکتا ہوں۔۔،،آسام نے نوالہ ماشی کی طرف کر کے پوچھا
“آپ کا کچھ نہیں ہو سکتا مسٹر آسام رندھاوا جی۔۔۔،،ماشی کا دل کیا سر پیٹ لے
“بہت کچھ ہو سکتا ہے۔یہ تو آپ کی سوچ ہے۔۔،،آسام ماشی کے منہ میں نوالے ڈالتے ہوئے بولا۔
ماشی بے اختیار ہنسی اسی ہنسی کے لئے تو آسام مر رہا تھا۔
“یوں ہی ہنستی مسکراتی رہا کریں دل کو سکون رہتا ہے۔ن،،آسام نے آخری نوالہ اسے کھلایا
“اور آپ یوں ہی مجھے ہنساتے رہا کریں ۔۔،،ماشی نے نوالہ بنا کر آسام کے منہ میں ڈالا تو اس نے ماشی کی انگلی پہ کاٹ لیا۔
“بہت بگڑے ہوئے ہیں آپ مجھے تو پتا ہی تھا۔۔۔,،،ماشی اپنی انگلی کو دیکھنے لگی۔
“اب آپ ایک معصوم سے بےبی کو کھانا کھلا رہی ہیں احتیاط تو ضروری ہے نہ۔ ،،آسام ہسی دبا کر بولا۔
ماشی ایک بار پھر ہسنے لگی تھی۔
ناشتہ کرنے کے بعد وہ برتن سمیٹ کر کیچن میں رکھ کر کمرے میں آئی تو آسام بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔
“یہاں ہی رہنے کا ارادہ کیا تو میں جہیز میں لے لیتی ہوں یہ بنگلو۔۔،،ماشی نےاس کے سر پر آ کر کہا تو وہ ڈر گیا۔
“نہیں جناب جہیز ایک جنگ ہے اور ایسی جنگ سے مجھے نفرت ہے۔۔میں تو سوچ رہا تھا دو مہینے بعد ایگزامز ہیں تیاری ہے نہیں کیا ہو گا۔۔،، آسام نے اپنا فون اس کے سامنے کیا جس میں نوٹس بنے ہوئے تھے۔ماشی دیکھنے لگی
“آپ فیل ہوں گے۔۔۔ہاہاہاہا۔،،ماشی نے اس کی ٹانگ کینچھی۔
“ایکسکیوزمی میں ڈاکٹر آسام رندھاوا کبھی فیل نہیں ہو سکتا۔انشااللہ اس بار بھی نہیں ہوں گا آپ اپنی فکر کریں۔۔،،وہ گھٹنوں کے بل بیڈ پر بیٹھا بولا۔
“ہاہاہاہا میں فریش ہو کے آتی ہوں پھر گھر چلتے ہیں۔۔،،ماشی بالوں کو کیچر سے آزاد کرتے ہوئے بولی۔
“روکیں روکیں اتنی کیا جلدی ہے جانے کی تھوڑی دیر اس غریب بندے کے پاس بیٹھ جائیں ابھی کل ہی تو نکاح ہوا ہے ہمارا اور آپ پھر بھاگنے لگی ہیں۔۔۔،،آسام نے اسے کھینچ کر بیڈ پر گرا لیا۔
ماشی اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔
“ساری زندگی آپ
کے لئے اب واپس چلتے ہیں گھر والے انتظار کر رہے ہوں گے۔ ،،ماشی نے اسے دھکا دے دیا اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔
“اوکے آپ ریڈی ہو جائیں فہد بھائی کا میسج آیا تھا وہ ڈرائیور کو بھیج رہے ہیں۔،،آسام اٹھ کر نگے پاؤں چلتا آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔بالوں میں برش چلاتے ہوئے وہ مسلسل ماشی کو دیکھتا رہا۔ماشی کا دل دھڑکنے لگا۔
اور وہ شرما کر changing روم میں بھاگ گئ۔
“آپ نے میری زندگی میں آ کر مجھے مکمل کر دیا ہے آسام۔۔،،ماشی خود سے مخاطب تھی۔اور دروازے کے ساتھ لگ کر مسکرا دی۔
“بات سنیں میں نے آپ کے لئے ایک گفٹ ہے دائیں طرف والی میز پہ رکھا ہے پلیز آج وہ پہنئے گا۔پلیز۔۔پلیز۔،،آسام کی آواز سن کر وہ شلورا قمیض کو دوبارہ وارڈروب میں رکھ کر ایک طرف بڑھ گئ۔
گفٹ پیک کھول کر وہ حیران رہ گئ بہت خوبصورت شفون کی ساڑھی جس پہ گولڈن کام ہوا تھا۔
“آسام سنو۔ میں نے کبھی ساڑھی نہیں پہنی ۔۔،،ماشی گھبرا کر باہر آ گئ۔
آسام فون رکھ کر اس کے سامنے آ گیا
“تو آج پہن لیں چلیں جائیں پہن کر آئیں میں ویٹ کر رہا ہوں۔۔،،آسام اسے کمرے میں بند کر کے بولا۔
اور اس کا ویٹ کرنے لگا ماشی ساڑھی پہن کر بالوں میں بورش چلاتے ہوئے خود کو دیکھنے لگی۔
اس نے لپ اسٹک اٹھا کر ہونٹوں پر لگائی بلش اون کو ہلکا ہلکا گالوں پر لگایا مسکارا لگا کر خود کو دیکھنے لگی
پر کچھ نامکمل لگ رہا تھا۔
اس نے سکلی لمبے بالوں کو ایک طرف کیا اور پھر آئینے پر نظر ڈال کر
سونے کا لاکٹ ،جھمکے۔ کنگن پہن کر دروازے کی طرف بڑھی پہلی بار وہ یوں خود سجی تھی۔نظریں جھکائے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئی۔وہ آسام کے سامنے نظریں اٹھانا چاہتی تھی۔
“کیسی لگ رہی۔۔۔،نظریں اٹھتے ہوئے وہ روک گئ۔لفظ بھول گئے ۔نظریں جھک گئ اور پلو سر پہ آ گیا۔
سامنے کھڑا افنان بغیر پلکیں جھپکائے اسے دیکھ رہا تھا۔وہ نروس ہو گیا تھا۔نظریں ماشی کو چھو کر لوٹی تھی۔
“وہ س۔۔۔سامی باہر گیا ہے ہارش ملنے آیا تھا۔م۔۔میں اس کا سیل لینے آیا ہوں۔،،افنان
نے نظریں جھکا لی۔
پتا نہیں کیوں وہ گھبرا رہا تھا تبھی جلدی سے کمرے سے نکل گیا۔
ماشی نے گہرا سانس لیا اور بیڈ پہ ٹک گئ۔
ماشی کا موڈ خراب ہو گیا تھا۔وہ آسام کے سامنے جانا چاہتی تھی پر پھر سے افنان سامنے آگیا۔
“ایم سوری وہ ہارش ملنے آیا تھا ۔چلیں افنان ہمارا انتظار کر رہا ہے میں کہتا تھا نہ افی بہت اچھا ہے وہ سب بھول جائے گا ۔۔،،آسام بغیر اسے دیکھے بولا
“سبحان اللہ۔۔،،نظر پڑھی تو وہ جھپکنا بھول گیا ماشی کھڑی ہو گئی۔
“سوری۔۔،،أسام نے اس کی ناراضگی بھانپ کے کان پکڑ لئے۔ماشی نے نفی میں سر ہلا کر مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی اور چلنے لگی۔
“روکیں۔یہاں بیٹھ جائیں۔۔،،آسام اسے بیڈ پر بیٹھا کر وارڈروب کی طرف بڑھ گیا۔
“یہ آپ کیا کر رہے ہیں اٹھیں یہاں سے۔۔،،ماشی اسے زمین پر بیٹھتے دیکھ کر گھبرا کر بولی اور پاؤں بیڈ پہ رکھ لئے۔
“دو منٹ چپ رہیں گی۔۔,،آسام اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گیا اور اس کے پاؤں کو تھوڑا نزدیک کر کے پائل پہنائی پھر دوسرے پاؤں میں بھی۔
“آپ کو پائل پہننا بہت پسند ہے نہ۔۔تو یہ چھوٹا سا گفٹ آپ کے لئے۔،،
“اور کتنے سرپرائز دیں گے آسام۔۔،،ماشی نے محبت سے اسے دیکھا
“جب تک زندگی باقی رہی آپ کے ہونٹوں پر یہ مسکراہٹ لانے کے لئے کچھ بھی کروں گا۔۔،،آسام نے مسکرا کر ماشی کی گال پر ہاتھ رکھ دیا تو وہ بے اختیار اس کے سینے سے جا لگی۔
اندر داخل ہوتے افنان کے قدم دروازے میں روک گئے۔
اس نے دروازے کو تھام لیا اور نظریں جھکا لی۔
کیسے دیکھ سکتا تھا وہ۔
ماشی کی نظر آئینے پر پڑی تو افنان کو دیکھ کر آسام سے الگ ہو گئ۔
“چلیں سامی۔۔۔ثاقب بھائی کی کالز آ رہی ہیں۔ کچھ مہمان آئے ہیں ملنے تم دونوں سے۔،،افنان نظریں جھکائے بولا اور اسی وقت واپس چلا گیا۔
آنکھیں سرخ تھی اس کی پر کسی نے نوٹ نہیں کیا۔
نوٹ کرتا بھی کیسے کوئی اس نے نظریں ملائی ہی نہیں کسی سے۔
وہ دونوں ایک ساتھ چلتے ہوئے پورچ تک گئے تھے افنان گاڑی کے ساتھ کھڑا سگریٹ ہونٹوں میں دبائے ہوئے تھا انہیں دیکھ کر گاڑی میں جا بیٹھا ملازم نے دروازے کھول
کھول دیئے ماشی پیچھلی سیٹ پر بیٹھ گئ اور آسام افی کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔
“آسام بھابھی کے ساتھ بیٹھو یار۔۔،،افنان نے مسکرا کر کہا تو آسام پیچھے جا بیٹھا۔ افنان نے بیک مرر میں دونوں کو دیکھا اور مسکرا دیا۔
“کیوں میں یہاں آیا۔۔۔اے دل تو کیوں مجھے بے بس کر رہا ہے۔۔۔میں افنان رندھاوا ہوں۔۔کمزور انسان نہیں۔۔میں تمہارے ہاتھوں سے ہار نہیں سکتا۔،،،وہ سگریٹ سلگھاتے ہوئے سوچنے لگا
“افی یہ کیا کر رہے ہو۔۔تم سموکنگ کب سے کرنے لگے۔۔۔،،آسام کی حیرانگی کی انتہا نہیں تھا
“ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔بس یوں ہی یار۔چھوڑو مجھے تم گانا سنو گے۔،،افنان نے بات چینج کرنی چاہی۔
“پھینکو اسے۔۔،،آسام نے سگریٹ لے کر پھینک دی۔
“اگر کل کو میری وجہ سے آسام کے راستے میں کانٹے آ گئے تو میں کیسے بچاؤں گی ان کے پیروں کو زخمی ہونے سے۔۔،،ماشی نے آسام کو دیکھا جو افنان کے ساتھ کھلکھلا کر باتیں کر رہا تھا۔
“میری وجہ سے ان کی یہ خوبصورت مسکراہٹ غائب ہو جائے گی۔۔۔پر میرا کیا قصور تھا ۔۔۔،،ماشی نے آنکھیں میچ لی درد دل میں اٹھا تھا آنسوں آنکھوں سے نکلنے لگے تو اس نے منہ دوسری طرف کر کے بے رحمی سے آنکھوں کو رگڑ دیا۔
ڈرگز کے زیر اثر کی وجہ سے اس کی طعبیت نازک تھی پر وہ کسی کو دیکھا نہیں رہی تھی سب سے اپنی دلی کیفیت کو چھپائے ہوئے تھی۔
آخر شگفتہ کی بھتیجی تھی۔وہ جو بہت مظبوط خاتون تھی۔
راستے میں آسام نے کئ بار اس سے بات کی تو وہ مسکرا دیتی شائد افنان کے سامنے بولنا نہیں چاہتی تھی وہ جو اس کی آواز سننے کی غرض سے آیا تھا۔مایوس ہو کر رہ گیا۔
*
گِلے سے باز آیا جا رہا ہے
سو پیہم گنگنایا جا رہا ہے
نہیں مطلب کسی پہ طنز کرنا
ہنسی میں مسکرایا جا رہا ہے
وہاں اب میں کہاں اب تو وہاں سے
مرا سامان لایا جا رہا ہے
عجب ہے ایک حالت سی ہوا میں
ہمیں جیسے گنوایا جا رہا ہے
اب اس کا نام بھی کب یاد ہو گا
جسے ہر دَم بھُلایا جا رہا ہے
چراغ اس طرح روشن کر رہا ہوں
کہ جیسے گھر جلایا جا رہا ہے
بَھلا تم کب چلے تھے یوں سنبھل کر
کہاں سے اُٹھ کے جایا جا رہا ہے
تو کیا اب نیند بھی آنے لگی ہے
تو بستر کیوں بِچھایا جا رہا ہے
گماں کی اک پریشاں منظری ہے
بس اک دیوار ہے اور بے دری ہے
اگرچہ زہر ہے دنیا کی ہر بات
میں پی جاؤں اسی میں بہتری ہے
تُو اے بادِ خزاں اس گُل سے کہیو
کہ شاخ اُمید کی اب تک ہری ہے
گلی میں اس نگارِ ناشنو کی
فغاں کرنا ہماری نوکری ہے
کوئی لہکے خیابانِ صبا میں
یہاں تو آگ سینے میں بھری ہے
ناشتہ کرنے کے بعد اسے رخصت کرنا تھا۔ ثاقب نے مسٹر رندھاوا سے اجازت لی کہ وہ کچھ دن لاہور رہنا چاہتا ہے تو وہ مان گئے۔
گھر والوں سے مل کر وہ روئی تھی۔آخر اب وہ اپنے گھر جا رہی تھی۔
باپ کا گھر چھوڑنے سے دل تو ڈرتا ہے پھولوں سے سجی ہوئی گاڑی میں بیٹھا دیا گیا آسام اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ڈرئیور کی جگہ اب کی بار بھی افنان نے سنبھالی تھی۔پتا نہیں کیوں وہ ایسا کیوں کر رہا تھا۔
شائد ان دونوں کو دیکھ کر خوشی ہوتی تھی۔یا دیکھ کر خود کو جلا رہا تھا ماشی آسام کے برابر بیٹھ کر پھر سے رونے لگی تھی۔
“چپ کر جاؤ۔۔۔،،آسام نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا ماشی نے اسے دیکھا اور اس کے شہانے پہ سر ٹکا لیا۔افنان نے رومنٹک سا میوزک پلے کیا تو آسام کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔
افنان کے فون پہ بل ہونے لگی تھی
“اوہ مائی گاڈ۔۔۔اب کیا کروں سامی کے سامنے اس سے کیسے بات کروں۔۔،،نگینہ کا نمبر سکرین پر چمک رہا تھا۔
“اٹھا لو اٹھا لو ہم آنکھیں اور کان بند کر لیتے ہیں۔۔،،آسام نے مسکرا کر کہا تو ماشی بھی مسکرا دی
“ارے نہیں یار وہ ساگر کی کال تھی۔۔،،افنان نے جلدی سے فون کو سیٹ پر الٹا رکھ دیا۔
“ہاہاہاہا۔۔۔ماشی اپنی دیورانی کو ویلکم کرنے کی جاتے ہی تیاریاں شروع کر دینا۔ہاہاہاہا۔۔،،آسام نے کہکہکا لگاکرکہا تو ماشی نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلادیا پر افنان کے چہرے کے رنگ اڑ گیا پاؤں بریک پہ آگیا یکدم گاڑی کی بریک لگی تو ماشی اور آسام جھٹکا کھا گئے آسام نے ماشی کو کاندھوں سے پکڑ لیا۔
“سامی آئندہ میری شادی کی بات مت کرنا ورنہ۔۔۔،،افنان کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا تھا۔وہ بات اُدھوری چھوڑ کر آنکھیں مند کے سانس لے کر رہ گیا آسام اور ماشی نے ایک دوسرے کو دیکھا
“ٹھیک ہے یار۔نہیں کرتا ۔،،آسام نے ہاتھ جوڑ کر کہا
“پکا۔۔،،افنان نے پیچھے مڑ کر دیکھ کر پوچھا
“ہاں بابا چلو اب دن یہاں ہی گزارناہے کیا ہم تھک چکے ہیں دو دن سے ریسٹ نہیں کی۔۔،،آسام نے سر سیٹ کی پشت سے ٹکا دیا۔
“رات کو ریسٹ کر لیتے۔۔،،بات معنی خیز انداز میں کی گئی تھی۔آسام نے اسے
مکا رسید کر دیا اور دونوں کا کہکہا بے اختیار تھا ماشی جھنپ گئ اور منہ موڑ کر باہر دیکھنے لگی۔
افنان شاید خود کو اذیت دے رہا تھا یا سکون یہ تو وہ ہی جانتا تھا۔کون جانتا تھا اسے کوئی نہیں
******
اس کا استقبال شاندار انداز میں کیا تھا ثوبیہ اور رکشندہ نے۔
جاتے ہی وہ کمرے میں پہنچا دی گئ کیونکہ رات کافی ہو چکی تھی۔
“افی تم کہاں جا رہے ہو۔۔،،آسام سیڑھیاں چڑھتے سامنے جلدی سے آتے افنان سے ٹکرا گیا۔
“باہر جا رہا ہوں۔۔،،افنان روکے بغیر نیچے اتر گیا۔
آسام نے پوچھا بھی کہ کہاں جا رہے ہو پر جواب نہیں ملا۔
افنان تیز قدم اٹھاتا روک گیا۔شرٹ کے بازو فولڈ کرتے ہاتھ بھی روک گئے۔
نظریں اپنے آپ اوپر اٹھی۔ماشی کھڑکی کے ساتھ ٹیک لگائے آسمان پر کچھ ڈھونڈنے میں لگی ہوئی تھی۔اس کے وجود پہ بھی اداس چھائی ہوئی تھی
“کیوں تم پریشان ہو جب کہ تمہیں تو تمہاری محبت مل گئ پھر بھی یہ اداسی کیسی۔۔،،افنان نے دل میں سوچا اور پورچ کی طرف بڑھ گیا۔جب ماشی نے اس کودیکھا وہ گاڑی نکال کر اس وقت رات کے پہر عیاشی کرنے جا رہا تھا
********
سسرال والوں نے ماشی کی خوب خاطر داری کی بس سعدیہ اس سے دور رہتی تھی۔
یہ بات سب نے محسوس بھی کی تھی۔
اس کی نئی زندگی بہت اچھی جا رہی تھی آسام اس کابہت خیال رکھتا۔ دو دن بعد جب ثاقب لاہور سے لوٹا تو ۔ولیمہ بڑے پیمانے پر کیا گیا تھا سب۔ باقائدہ نیوز ریپورٹ کو بلایا تھا جو کہ ثاقب نے خود بلایا تھا۔وہ چاہتا تھا جن جن لوگوں نے باتیں کی جواب مل جائے۔
ایک ہفتے میں وہ لوگ یونیورسٹی جانے لگ گئے پوری یونی نے ان دونوں کو نئی زندگی کی شروعات کی دعائیں اور تحفے دئیے تھے۔ماشی کے چاہنے والوں کو بھی سکون تھا کہ وہ واپس آ گئ ہے۔فہد اور عشرت بھی انگلینڈ چلے گئے۔فہد نے عشرت کو بتایا کہ وہ ثاقب رندھاوا کو بہت پہلے سے جانتا تھا اور وہ سٹیڈی کے ساتھ ساتھ جاب بھی کرتا ہے تاکہ اپنے پیروں پر جلدی کھڑا ہو جائے
وہاں اس نے سکندر کی فیکٹری کو دوبارہ سے کھولا تھا سیونگ زیادہ نہیں تھی اس کے پاس تو ثاقب نے اسے پارٹنر شپ کی آفر کی۔کچھ دن سوچنے کے بعد وہ مان گیا تھا۔
بائمہ ثاقب سے دور نہیں رہ پا رہی تھی۔کیونکہ آج کل میر عوان ہر کام کے لئے اسے آگے کرتا تھا۔کوئی بھی میٹنگ ہوتی تو ادھر سے وہ جاتی۔۔
کچھ دونوں تک ثاقب نے وہاں کے بزنس کو فہد کے حوالے پوری طرح کر دیا۔کیونکہ پاکستان سے جانے سے پہلے وہ بائمہ نام کے مثلے کو حل کرنا چاہتا تھا۔
افنان اپنی پہلے کی روٹین پہ واپس آ گیا تھا لیٹ اٹھنا دیر رات تک غائب رہنا اور شراب کے نشے میں واپس لوٹنا کئ دونوں تک تو وہ فارم ہاؤس میں رہتا تھا۔ماشی کو دیکھنے سے وہ اپنے جذبات کو کنٹرول نہیں کر پاتا تھا۔وہ جب بھی اسے دیکھتا تو دل کے ہاتھوں مجبور اس کو دیکھتا۔وہ جانتا تھا ماشی اسے پسند نہیں کرتی تو وہ گھر کم ہی آتا تھا
اب دو مہینے ان کے اپیپرز میں پڑھے تھے ماشی اور آسام دن رات محنت کر رہے تھے۔
نئی نئی شادی شدہ زندگی کو نظر انداز کئے وہ ایک کمرے میں رہ کر بھی خود پہ قابو رکھتے تھے۔کیونکہ انہیں پڑھنا تھا کچھ بننا تھا۔
***********
ہر روز کی طرح ابھی بھی وہ دونوں پڑھ رہے تھے جب افنان نےان کے کمرے کا دروازہ بجایا۔
“یس کم ان۔،،آسام جمائی روکتے ہوئے بولا۔صوفے کی پشت سے سر ٹکا گیا
اور ماشی اپنے بالوں کو پیچھے کر کے بے خبر پینسل منہ میں دبائے سٹڈی ٹیبل پر بیٹھی پڑھ رہی تھی
“ہاہاہاہا۔۔۔واٹ از دس ۔تم دونوں سٹیڈی کر رہے ہو۔۔،،افنان ہس ہس کر بیڈ پر گر گیا۔ماشی نے خوفگی سے اسے دیکھا اور پھر سے کتاب پہ جھک گئ۔
“یہ دیکھنے آیا تھا تو۔۔اور میں نے جو لیکچر سینڈ کیا تھا یاد ہے کیا۔۔دیکھو افی کچھ بننا ہے تو پڑھنا پڑے گا۔،،آسام نے اسے کھینچ کر اپنے پاس بٹھایا
“کم اون یار میں افنان رندھاوا اور سٹیڈی نو بڈی۔۔،،افنان نے بھنورے آچکا کر دونوں ہاتھوں کو پیچھے کیا اور نفی میں سر ہلا دیا
“جی افنان رندھاوا صاحب آپ اور سٹیڈی کرنی پڑی گی۔۔۔،،آسام پانی کا گلاس اٹھا کر ماشی کی طرف بڑھ گیا۔
“یہ لیں۔۔،،آسام نے ماشی کے سوکھے ہوتے ہونٹ دیکھے
“تھینک یو۔۔،،ماشی نے مسکرا کر
آسام کو دیکھا اور پانی کا گلاس پکڑ کر منہ سے لگا لیا۔
“میں سوچ رہا تھا گپ شپ مارتے ہیں پر جب سے تمہاری شادی ہوئی ہے جورو کا غلام بن کر رہے گیا ہے۔۔ہاہاہاہا۔،،افنان نے کہکہکا لگاکرکہا۔
ماشی نے کتاب بند کی اور باہر نکل گئ۔
وہ چاہ کر بھی اس کے ساتھ نارملی پیش نہیں آ رہی تھی۔دل اجازت نہیں دے رہا تھا یا پھر عزت نفس۔وہ نہیں سمجھی۔باہر نکلتے اس کے قدم رک گئے وہ اس بند کمرے کو دیکھنے لگی جسے ہر روز دیکھ کر سوچتی تھی۔
٬”دونوں حویلیوں میں بند کمرےگھر کے ایک کونے میں کونسے راز دفن ہیں کیا دونوں بند کمروں کا کوئی کنیکشن ہے۔۔،،وہ سوچ کر سیڑھیاں اترنے لگی۔اور ارادہ کر لیا کہ پیپرز کے بعد وہ اس بارے میں ضرور تحقیقات کرے گی۔
“ارے واہ بھابھی کیا کیا جا رہا ہے۔۔،،وہ ثوبیہ کو کچن میں دیکھ کر اس کی طرف بڑھ گئ۔
“سوچ رہی تھی کچھ بنا لوں موسم بہت خوبصورت ہو رہا ہے تم کھاؤ گی۔،،ثوبیہ بریڈ کے ٹکڑے کرتے ہوئے مسکرائی۔ثوبیہ کے ساتھ اس کی کافی انڈرسٹینڈنگ ہو گئ تھی۔
“ضرور چلیں آپ کی ہیلپ کر دیتی ہوں ۔اور وہ بھی کہ رہے تھے کہ انہیں کچھ کھانے کا من ہے۔،ماشی فریزر کھول کر بوائل گوشت کو نکالنے لگی۔
“انہیں۔۔ہاں انہیں ۔ہاہاہاہا۔مانو یا نہ مانو مجھے تو اس دن ہی پتا چل گیا تھا جب تم دونوں جویلری کی شاپ میں ملے تھے۔،،ثوبیہ نے کہنی مار کر کہا تو ماشی شرما گئ۔
پھر دونوں نے سینڈوچز،کباب اور باقی کی چیزیں بنائی اتنے میں ہلکی ہلکی ریم جھم ہونے لگی۔
“میں انہیں دے کے آتی ہوں۔۔،،ماشی ایک ٹرے اٹھا کر بولی
“ارے وہ ایک بندہ ہے تو تم نے یہ دو دو پلیٹوں کو کیوں سجایا۔۔،،بھابھی نے پوچھا۔
“وہ اف۔۔۔،، ایسی کیا چیز تھی جو اسے اس کا نام لینے سے روکتی تھی اگر نام لے لیتی تو ڈر کے مارے کانپنے لگتی۔تبھی وہ افنان نہیں پکارتی تھی۔
بھابھی نے سمجھ کے ہاں میں سر
ہلا دیا ماشی سیڑھیاں چڑھتی کمرے میں داخل ہوئی۔
“واؤ ابھی میں سوچ رہا تھا کہ کچھ بنواتے ہیں کتنا خیال ہے نہ میری بیوی کو میرا۔۔،،آسام نے مسکراتے ہوئے ٹیبل سے کتابیں جلدی سے سمیٹی۔ماشی نے بھی بدلے مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی اپنے لمبے بالوں کو ایک جھٹکے سے پیچھے کر کے وہ پلیٹوں کو میز پر رکھ کر پلٹی اور افنان پہ نظر ڈالی وہ بیڈ پہ اڑھا تریچھا لیٹا ہوا تھا۔
“آ جاؤ افی کچھ کھا لو تمہاری بھابھی نے بنایا بہت ٹیسٹ ہے ان کے ہاتھوں میں۔۔۔،،آسام نے سینڈوچ منہ میں دبا کر کہا۔تو وہ بیڈ سے اٹھ کے آسام کے ساتھ آ بیٹھا
“وہ تو مجھ سے اچھا کون جانتا ہے۔۔،،افنان نے ماشی کی پیٹھ کو دیکھ کر کہا تو وہ مڑی۔افنان کی آنکھوں کے سامنے وہ منظر آ گیا جب اس کے بہتے آنسوں کو افنان نے اپنے اندر اتارا تھا۔
“وہ کیسے۔۔۔،،آسام نے ناسمجھی سے سوال کیا
“وہ۔۔۔تم جو تعریف کر رہےہو۔۔۔،، افنان نے بات گول کر دی
ماشی نے منہ موڑا اس کی آنکھوں کے سامنے بھی ایسے بہت سارے حادثے آنے لگے
“آپ کہاں جا رہی ہیں۔۔۔،،ماشی کو باہر نکلتے دیکھ آسام نے پکارا۔
“بھابھی کے پاس جا رہی ہوں۔۔،،ماشی نے مختصر سا کہا اور چلی گئی۔
افنان کے دل میں پھر سے بہت کچھ ٹوٹنے لگا تھا۔
ماشی کو دیکھتے ہی وہ دل پہ قابو نہیں رکھ پاتا تھا۔جو بے آواز دھڑکتا تھا۔جسے سن کے وہ غصے میں آ جاتا یا پھر گھبرا جاتا۔
اب بھی وہ آنکھوں کو مندے ہونٹوں کو بھیج گیا۔اور جلدی سے اٹھتا کمرے سے نکل گیا سامنے سے آ رہی ماشی سے ذور سے ٹکر ہوئی تھی اس کے ہاتھ سے پلیٹ گر گئ۔وہ گرنے لگی تو افنان نے اسے پکڑ لیا۔
چند لمحے افنان نے اسے چھوڑا نہیں۔ماشی نے بہت کوشش کی پر
جب افنان خوف کی آنکھوں میں آنسوں تر آئے تو وہ اسے کھڑا کر کے ہونٹوں کو دانتوں میں دبا کر نفی میں سر ہلاتا اپنے کمرے میں بھاگ گیا۔ماشی کو کچھ سمجھ نہیں آئی۔ اس نے سر جھٹک کر پلیٹ اٹھائی اور واپس چلی گئی۔
************
“بزم جاناں میں اگر اظہار حال دل نہ ہو
زندگی ہو جائے آساں موت بھی مشکل نہ ہو۔۔
یہ غزل سنی ہے تم نے۔۔،،بائمہ نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
“اسے سمجھو بھی ایک بار ثاقب سے اپنے دل کا حال کہ دو پلیز زندگی آسان ہو جائے گی۔۔،،اس کی دوست نے چھتری کو دوسرے ہاتھ میں کر لیا۔
“یار یہ بارش بھی ہر دوسرے دن برس رہی ہے۔۔۔،،
بائمہ نے بات بدل دی۔
“بائمہ پلیز میری بات کا جواب دو۔۔۔سوچو وہ تمہارے سامنے آ جائے۔بھری برسات میں۔۔واؤ باؤ۔۔۔میں تمہاری جگہ ہوتی تو ایک پل میں اسے جا کر بول دیتی۔آئی لو یو ثاقب میں تمہاری دیوانی ہوں تیری محبت میں پاگل ہوں۔۔،وہ چہک کر بولی۔
“میں اسے بتا کے اپنی زندگی مشکل نہیں کرنا چاہتی۔۔،،وہ بڑبڑاتی تیز تیز چلنے لگی تو اس کی دوست بھی تیز قدم اٹھانے لگی۔
“اور ویسے بھی یہ زندگی ہے فیلموں میں ہوتا ہے کہانیوں میں ہوتا ہے کہ ایک سڑک پہ پڑھی لڑکی کو کوئی شہزادہ آ کرلے جاتا ہے۔۔۔،،بائمہ نے مزید کہا اور پاسٹ میں چلی گئی۔
“میر سر پلیز ڈونٹ ٹچ می۔۔،،وہ پیچھے ہٹنے لگی میز سے ٹکرا کر وہ پھر سے ایک طرف بھاگی
“ہیلپ می۔۔۔سم باڈی ہیلپ۔،،میر نے اس کی پکار کو منہ میں ہی دبا دیا وہ وحشی ہو چکا تھا۔
“تم جس کے پیچھے بھاگتی ہو وہ بھی ایسا ہی ہے۔یہاں بہت ساری گرلز کے ساتھ اس کا آفیئر ہے یہاں یہ عام بات ہے۔اس سے میں نے تمہارے بارے میں بات کی تو اس نے کہا وہ تمہیں چیک کرے گا سچی قسم سے یقین نہیں آتا تو ویڈیو دیکھ لو۔۔،، میر نے ایک ویڈیو اون کر دی۔
“باؤ تم سے محبت کرتی ہے میں اس کا کچھ نہیں لگتا پر پھر بھی اس کا باس ہوں۔۔تو کیا خیال ہے۔۔،،میر نے ثاقب سے پوچھا تھا ثاقب کا بے اختیار کہکا گنجا۔
“ٹھیک ہے میں چیک کر لوں گا۔۔اس میں کون سی بڑی بات ہے فل حال آپ جا کے چیک کر لیں۔۔،،بائمہ گرنے لگی تھی اور میر نے اسے پکڑ لیا
“مجھے بہت غصہ آیا پر بات بھی ٹھیک کی اس نے بزنس میں سب شیئر کیا جاتا ہے چلو میری جان میرے پاس آ جاؤ زیادہ کچھ نہیں کروں گا۔۔،،میر نے اس کو پکڑ کر بیڈ پہ پھینک دیا۔
“ن۔۔نہیں میرا ثاقب ایسا نہیں ہے۔۔۔،،پر دماغ نے بات کی نفی کی کیوں کہ ثبوت اس کے سامنے پڑا تھا۔
وہ پھر سے میر کو دور دھیکلنے لگی۔
پر وہ اپنے حواس کھو چکا تھا۔شراب میں دھت تھا۔
“ہیلپ می پلیز ثاقب بچا لو پلیز۔۔،،آخری بار اس نے مدد مانگی۔۔اور خود کو میر کے رحم و کرم پر تب تک نہیں چھوڑا جب تک آخری امید نہیں ختم ہوئی۔
بائمہ نے آنکھیں بند کر لی بہت سارے آنسوں بہنے لگے تھے
“کیوں ثاقب کیوں۔۔۔میری محبت کی یہ قیمت تم نے لگائی۔۔،،وہ اپنے وجود کو دیکھ کر بولی اور بے ہوش ہو گئ
“باؤ وہ دیکھو۔۔،،وہ پھر حال میں لوٹ آئی تھی سامنے ثاقب کھڑا تھا۔بائمہ کا دل کیا اسے کوئی اینٹ دے مارے۔
وہ آس پاس دیکھنے لگی جب نظر پتھر پہ پڑی۔
“بائمہ رکو۔۔۔کیا بگاڑا ہے تمہارا انہوں نے۔۔۔،،
“اس نے میری عزت لٹوائی ہے۔۔میری زندگی تباہ کی ہے اس بندے نے اس کی وجہ سے اس کی وجہ سے میں۔۔طوائفوں والی زندگی گزار رہی ہوں ۔۔،،وہ شائد ابھی بھی پاسٹ میں تھی۔یا دماغ کام کرنا چھوڑ گیا ۔ وہ روک گیا تھا پیر زمین میں پھنس گئے تھے جیسے وہ مجسمہ بن کر اسے دیکھنے لگا۔
“میں خود سے اور اس انسان سے نفرت کرتی ہومجھے افسوس ہے میں نے اس سے محبت کی۔۔،،بائمہ بیگ پھینک کر ثاقب کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ہر چیز روک گئ تھی یہاں تک کہ بائمہ اور ثاقب کی سانسیں بھی۔
“کیا کہا۔۔۔،،ثاقب نے بے یقینی سے پوچھا۔
“تم امیر باپ کی اولاد ہو مشہور بزنس مین ثاقب رندھاوا صاحب تمہارے لئے یہ تو عام بات ہے ہر لڑکی کو بیڈ کی زینت بنانے کا۔۔،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتی ثاقب کا ہاتھ اٹھا۔
“پہلے میری بات کان کھول کر سنو۔۔میں نے کبھی تمہارے ساتھ کچھ نہیں کیا اور ہاں یہ اس میں کچھ ہے تمہارے لئے دیکھ لینا سب باتیں کلیئر ہو جائیں گی ۔۔،،ثاقب نے اپنا فون اس کے ہاتھ میں رکھا اور ایک طرف چلا گیا۔
بائمہ نے مڑ کر اسے دیکھا۔جو اس سے ایک بار پھر دور جا رہا تھا۔
بائمہ نے جلدی سے فون اپنے دوپٹے کے نچے چھپا کر بارش سے بچا لیا۔
********
“کیوں چاندنی کیوں گئ تم مجھ سے دور۔۔۔ایک بار تو روک جاتی میں تو پاگل ہوں پر تم تو نہیں۔۔،،وہ ماشی کے دوپٹے کو ایسے گلے لگا رہا تھا جیسے ماشی خود ہو۔۔۔
“میں تمہیں مار دوں گا چاندنی نہیں دیکھ سکتا تمہیں کسی اور کے ساتھ بے شک وہ میرا بھائی کیوں نہ ہو۔۔۔،،وہ دوپٹے کو ہاتھ پہ لپیٹ کر یکدم تحش میں آ گیا۔اسے ہوش نہیں رہا
“ہاں تمہیں مرنا ہو گا۔۔،،وہ آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا۔
“تم اپنی محبت کو کیسے مار دو گے ہوش میں تو ہو۔۔،،اس بار آواز دل سے آئی تو اس نے بے دردی سے رخسار پہ آ رہے آنسوں کو صاف کیا باہر بھی بارش زور سے برس رہی تھی وہ دروازہ کھول کے لان میں چلا گیا۔
دل پہ گرتی ہوئی بوندیں اسے سکون پہنچا رہی تھی آسمان کے ساتھ ساتھ اس کی آنکھیں بھی برس رہی تھی
دل وجود کے اندر گرج رہا تھا۔
وہ کرسی پر بیٹھنے کی بجائے زمین پر بیٹھ گیا اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ آخری بار زمین پہ کب بیٹھا تھا۔۔
بوتل منہ سے لگا کر وہ آسمان کو دیکھنے لگا۔
“تو کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔پر یہ کیوں کیا۔۔،،افنان نے انگلی آسمان کی طرف کر کے کہا درد وجود پہ تاری ہونے لگا تھا زندگی میں پہلی بار وہ رو رہا تھا۔دل کو سکون نہ ملا تو اس نے فون نکالا۔
“آج بارش بھی تیرے درد کی طرح ہے۔
ہلکی ہلکی پر روک نہیں رہی۔،،
افنان نے میسج ٹائپ کر کے سینڈ کیا۔اور زمین پہ لیٹ گیا دونوں باہوں کو پھیلا کر آنکھیں مند لی بارش کی بوندوں نے اسے بھگانا شروع کر دیا تھا تیز اور ٹھنڈی ہوا چلنے لگی تھی۔پر اسے پرواہ کہاں تھی۔
