Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 18)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 18)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
“ماما۔بھائی آپ لوگوں نے کسی کی بیٹی سے اس کی خوشیاں چھین کر بہت برا کیا میں اب اور نہیں جی سکتی۔۔میں اپنے اصغر کو چھوڑ کر پتا ہے کیوں آئی کیوں کہ آپ نے مجھے فورس کیا۔آپ نے ماما مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔شگفتہ نے بہت کچھ کیا تھا تم لوگوں کے لئے اور سفر ۔۔۔
سفر میں تمہیں کیا کہوں۔۔۔تم سے تو وہ پاگلوں کی طرح محبت کرتی تھی کرتی ہے اور کرتی رہ گی۔۔۔اس نے میرا اور اصغر کا رشتہ بچانے کے لیئے سکندر سے نکاح کیا۔۔۔میں اس سے ایک ہفتہ پہلے ملی تھی اس کی آنکھوں میں دل میں سفر سفر ہی ہےبس اب زبان پہ سفر نہیں ہے۔۔۔اس کی آنکھوں میں اداسی تھی۔۔سورچ کی طرح چمکتا چہرا مرجھایا ہوا تھا
میں یہ آپ کو پریشان کرنے کے لئے نہیں بتا رہی بس یہ کہنے کی کوشش کر رہی ہوں آئندہ کسی کی زندگی برباد نہ کرنا میرے بچے کو اپنی پہنچ سے دور رکھنا اگر ہو سکے تو ماما سے بھی دور رکھنا۔سعدیہ سے بھی
۔۔میں نہیں چاہتی میرا بیٹا بھی کسی کی زندگیوں کو تباہ کرے۔۔
سفر بھائی آپ نے کیوں تباہ کی اتنی زندگیاں
میری زندگی۔۔اصغر کی۔۔شگفتہ۔۔۔سکندر۔۔کی چار زندگیاں تباہ کر کے آپ کو کیا ملا۔۔۔
سعدیہ اور اس کا پیار۔۔ہاہاہاہاہا
نہیں بھائی یہ پیار نہیں تھا۔۔پیار وہ تھا جو شگفتہ نے آپ سے کیا پیار وہ تھا جو اصغر نے مجھے سے کیا پر میں بھی آپ کی بہن تھی کب اس کا احساس کیا۔۔۔ کاش آپ ایک بار اپنے آپ کو چھوڑ کر کسی اور کے بارے میں سوچتے۔۔۔۔کاش۔۔۔
تو شائد آج بہت سارے رشتے بچ جاتے
شائد آج تمہاری بہن کو یوں حرام موت نہ مرنا پڑھتا۔۔۔شائد شگفتہ کو اتنی قربانیاں نہ دینی پڑتی۔۔۔
پر میں صبر والی نہیں ہوں۔۔میرے پاس شگفتہ جتنا بڑا جگرا نہیں ہے۔۔اسی لئے یہ دنیا چھوڑ کے جارہی ہوں۔۔
آخری بات میرے اصغر کو میرے جنازے میں ضرور بلانا اگر وہ میری میت کو کاندھا دے گا تو میری روح کو سکون ملے گا۔۔
آپ کی بہن منزہ۔۔،،
خط ختم ہو چکا تھا خط کے ساتھ ساتھ وہ بھی زمین پر گر گیا تھا۔۔سامنے منزہ کی لاش پڑھی تھی۔۔ ایک سال چھ مہینے منزہ نے رو رو کر گزارے تھے۔کئ بار اصغر نے اس سے ملنے کی کوشش کی کتنے ہی خط لکھے پر منزہ جواب نہیں دیتی تھی۔۔
اندر کی جلن سے تنگ آ کر وہ بہک گئ تھی۔۔
وہ سفر کو سبق سکھانا چاہتی تھی۔۔اسی لئے وہ اپنے چھوٹے سے بچے کو چھوڑ کر دنیا فانی سے چلی گئ۔۔
“سفر اصغر کو کال کرو۔۔۔،،حلیمہ بیگم روتے ہوئے بولی۔سفر اٹھ کر اصغر کو کال کرنے لگا۔۔
“اصغر م۔۔منزہ۔۔۔،،سفر کے حلق میں کچھ اٹک گیا تھا وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔۔ادھرجب اصغر نے سنا تو اسے جھٹکا لگا۔۔وہ آفس کی کرسی پر گر گیا تھا۔۔
“اصغر جب میں تمہارا ساتھ چھوڑوں گی تو اس دنیا کو بھی چھوڑ دوں گی۔،،بہت دور سے منزہ کی آواز آئی تھی۔۔
“اصغر محبت ایک میتھ کی طرح ہوتی ہے۔
جس میں جب ایک اور ایک کو جمع کیا جاتا ہے تو دو بنتے ہیں اور جب ایک میں سے ایک کو تقسیم کیا جاتا ہے تو ایک بچ جاتا ہے۔۔اور اس ایک کو بہت سارے دکھوں کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔۔پر تب اس ایک کو ایسا کرنا پڑھتا ہے جس سے آس پاس کے لوگ خوش ہوں وہ بے شک خود دکھی ہو پر باقی لوگ خوشی ہوں۔اللہ جب ایک میں ایک کو جمع کر سکتا ہے تو تقسیم بھی کر سکتا ہے۔،،وہ اصغر کے سینے پر لیٹی ہوئی بولی تھی۔
“یہ کیسی بات ہوئی مجھے تو آپ کی بات سمجھ نہیں آئی۔۔،،اصغر نے اپنے بچے کے ہاتھوں سے کھیلتے ہوئے کہا تھا۔۔
“سر۔۔یہ آپ کے لئے پارسل ہے۔۔،،اصغر خیالات کے سمندر میں کھو چکا تھا
“منزہ کیوں کیا آپ نے ایسا۔۔کاش میں آپ کو نہ جانے دیتا کاش میں آپ کو ڈیورس نہ دیتا کاش۔۔۔میں عدالتوں میں جا کر تمہیں جیت لیتا۔۔
میں آج تمہاری اس بات کو سمجھا ہوں کہ محبت ایک میتھ ہوتی ہے۔۔منزہ تم زندہ تھی تو اتنا درد نہیں ہوا تھا تم سے دوری کا آج میرا دل۔۔۔میرا دل۔۔،،اصغر ٹیبل پہ منہ رکھ کر رونے لگ گیا تھا۔۔غلطی اس کی نہیں تھی نہ منزہ کی۔۔نہ شگفتہ کی انہوں نے تو صرف محبت کی تھی۔۔ایک سال چھ مہینے وہ اپنے بچے کے لئے تڑپا تھا۔
“کیا محبت میں ایسی۔۔ایسی قیمت چکانی پڑھتی ہے۔۔۔،،اصغر نے منہ پر ہاتھ رکھ لئے تھے اس کا چہرا لال پڑھ گیا تھا۔
پارسل پہ نظر پڑھتے ہی اس نے جلدی سے اٹھا لیا۔اور کھولنے لگا۔
وہ ایک ہفتے پہلے بھیجا تھامنزہ نے پر مل اب رہا تھا۔۔
“مجھے پتا ہے میں نے بہت غلط کیا۔۔۔مجھے معاف کر دینا اصغر۔۔میں تو آپ کے ساتھ نہیں جی سکی۔۔
پر ایک میری آخری خواہش مان لینا تم دوسری شادی کر لینا پلیز۔۔اور یہ لاکٹ کبھی اگر ہمارا بچہ تمہارے پاس آئے تو اسے ضرور دینا
مجھے یقین ہےہمارا بچہ ایک دن ضرور آپ کے پاس آئے گا۔اس کے ہر سوال کا جواب دینا۔اسے پھر واپس نہ بھیجنا ۔۔اسے بتانا تمہاری ماں غلط نہیں تھی۔
منزہ۔۔،،
اصغر نے ورقے کو ایک سائڈ پر رکھ کے لاکٹ کو اٹھاکر اس کا ڈائل کھول دیا اس ڈائل کے کھولتے ہی میوزک بجنے لگا تھا اور اس میں جھوٹا سا فریم تھا جس میں منزہ اصغر اور ان کا بچہ مسکرا رہے تھے سفر نے لاکٹ کو آنکھوں سے لگا کر رونے لگ گیا۔۔
لاکٹ کو جیب میں ڈال کر وہ اسلام آباد روانہ ہو گیا۔۔وہ جہاں جہاں سے گزرتا وہاں وہاں منزہ نظر آتی اسے۔۔
جنازے کے بعد وہ اپنے بچے کو گلے لگا کر بہت رویا تھا چھوٹا سا بچہ بس پاپا پاپا کرتا رہ گیا۔
“سفر پلیز میرے بچے کو مجھے لے جانے دو۔۔۔،،اصغر نے ہاتھ جوڑ کر کہا تھا پر حلیمہ بیگم نے گالی گلوج دینے شروع کردئیے اور سارا الزام اصغر پہ ڈال دیا۔۔۔پھر اصغر دل گرفتا ہو کر چلا گیا۔
“سکندر وہ چلی گئی کیا۔۔،،شگفتہ صدمے میں آ گئ تھی جب اصغر نے منزہ کی موت کے بارے میں بتایا۔
“می۔۔میری بیسٹ فرینڈ تھی وہ سکندر مجھے جانے دو پلیز۔،،شگفتہ ڈریپ اتارنے کی کوشش کرنے لگی۔
“نہیں شگفتہ تم ایسی حالت میں نہیں ہو تم کہیں نہیں جاؤ گی۔ ،،سکندر نے اسے پھر سے لٹا دیا تھا۔
“سکندر اس نے ایسا کیوں کیا۔۔ایک بار بھی اپنے بچے کے بارے میں نہیں سوچا۔۔۔،،شگفتہ دھاڑیں مارتے ہوئے بولی سکندر نے اسے تھام لیا تھا تھوڑی دیر بعد وہ لیٹ گئ اور پھر سے خیالات میں چلی گئی
۔وہ اب وہاں تھی جہاں وہ آخری بار بیٹھی تھی
“شگفتہ یہاں سائن کر دو۔۔،،سفر نے اس کے آگے ایک کاغذ کا ٹکڑا پھینکا تھا۔
“ک۔۔کیا ہے یہ۔،،وہ جانتی تو تھی وہ کیا ہے پر پھر بھی اس نے پوچھ لیا شائد سماں بدل جائے۔۔
“ڈیورس۔۔،،سفر نظریں جھکا کر بولا۔
شگفتہ اپنے قدموں پہ توازن برقرار نہ رکھ سکی اور زمین پہ گر گئ۔وہ سفر کے قدموں میں گر گئ تھی منہ سے کچھ نہیں بول رہی تھی پر آنسوں صاف بتا رہے تھے کہ وہ کیا کہ رہی ہے۔
“شگفی۔۔م۔مجھے معاف کر دو۔۔پر میں اب اور یہ رشتہ برقرار نہیں رکھ سکتا۔۔،،سفر پیچھے ہو گیا تھا۔
“م۔۔۔م۔میرا بچہ۔۔۔،،شگفتہ کو یکدم اپنے بچے کا خیال آیا وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
“میرا بچہ م۔۔میں نہیں دوں گی س۔۔سفر پلیز۔مجھ سے میرا بچہ نہ لینا میں اس کے بغیر نہیں جی سکوں گی۔۔،،شگفتہ نے ڈر کے مارے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔
“بچہ میں نہیں لوں گا۔۔اب سائن کر دو۔۔،،سفر پتھر بنا کھڑا تھا۔
شگفتہ نے اسے دیکھا اس کا چاند سا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے دھندلا گیا تھا شگفتہ بے اختیار سفر کے سینے سے لگ گئ۔
“سفر پلیز ایسا مت کریں۔۔۔،،وہ روتے ہوئے بولی تھی۔سفر نے آنکھیں بند کر کے کھولی اور اسے خود سےالگ کر دیا۔
“شگفتہ سائن کریں م۔۔میں سائن کر چکا ہوں۔،،سفر نے پیپرز اس کے ہاتھ میں تھما دئیے تھے۔۔۔
شگفتہ کے بہتے آنسوں رک گئے اور وہ پیپرز ٹیبل پر رکھ کر سائن کرنے لگی۔۔
“سفر۔۔،،شگفتہ نے اسے بہت سارے جذبات آواز میں سمو کر آواز دی وہ جو دیوار کو گھور رہا تھا اس کے چہرے کو دیکھنے لگا۔۔شگفتہ کی آنکھوں میں آنسوں کے ساتھ بہت سارے جذبات بھی تھے۔سفر زیادہ دیر نہ دیکھ سکا اور پیپرز اٹھا کر باہر چلا گیا شگفتہ وہاں ہی گر گئ تھی۔ اس کی زندگی ختم ہو گئی تھی پر یہ اس کی غلط فہمی تھی
۔تھوڑی دیر سوگ منانے کے بعد وہ اپنے بیٹے کو اٹھا کر باہر نکل آئی کوئی بھی موجود نہیں تھا سعدیہ کیچن سے نکل رہی تھی۔شگفتہ نے اسے روک لیا۔
“واقع ہی سعدیہ کبھی سوتن بہن نہیں بن سکتی یہ ثابت ہوا۔میں نے کیا مانگا تھا تم سے اور سفر سے۔،،شگفتہ اس کے چہرے کو دیکھ کر بولی۔تو وہ اندر چلی گئی۔شگفتہ کو کوئی روکنے والا نہیں تھا اس نے نظر اٹھا کر اپر دیکھا سفر ٹیرس پر کھڑا تھا۔شگفتہ نے ایک مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی اور دروازہ عبور کر گئ۔سفر بھاگ کر اندر چلا گیا تھا
وہ سفر سے دور ہو گئ تھی
بس سٹاپ پر بیٹھ گئ اس کے پاس بچہ تھا اور وحد ایک بیگ جس میں سفر کی تصویر تھی اور اس کی شرٹ۔وہ وہاں سے کچھ نہیں لائی تھی۔ لاتی بھی کیا جب اس کا کچھ تھا ہی نہیں۔
****
“۔۔کیسی ہیں آپ اور زخم ٹھیک ہوئے۔۔،،آسام بیڈ پہ بیٹھا لیپ ٹاپ سامنے رکھے ماشی سے بات کر رہا تھا۔
“ٹھیک ہوں ایجنٹ۔۔آپ کیسے ہیں۔۔،،ماشی نے مسکرا کر پوچھا۔
“آپ کے سامنے ہی ہوں دیکھ لیں کیسا ہوں۔۔،،آسام شرارت سے بولا تھا۔
“بہت ہی خوبصورت۔۔،،ماشی آنکھیں میچ کراسی کے انداز میں بولی تھی۔آسام نےکہکہکا لگا دیا
“اور آپ اپنا خیال نہیں رکھتی پریشان کیوں ہیں آپ۔۔،،آسام اس کی آنکھوں میں پریشانی بھانپ گیا تھا۔۔
“آپ کو کیسے پتا چلا۔۔میرا مطلب ہے کیسے جان لیا کہ میں پریشان ہوں۔،،ماشی حیران ہو کر بولی کیوں کہ اس نے اپنی پریشانی کو چھپانے کی بہت کوشش کی تھی
“آپ جب خاموش ہوتی ہیں توآپ کی آنکھیں بولتی ہیں۔۔،،آسام نے مسکرا کر کہا۔
“اچھا پہلے یہ بتائیں۔۔آپ ہر وقت مجھے کیسے ہر مصیبت سے بچا لیتے تھے۔،،ماشی نے سوال کیا تو وہ ہسنے لگا۔
“اچھا تو سنو۔۔،،آسام سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
“پہلی بار میں نے آپ کو لاہور میں دیکھا تھا۔۔جب آپ گاڑی کے پاس کھڑی تھی۔۔آپ کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر میں کھڑا تھا بھائی حماد کا انتظار کر رہا تھا۔آپ بہت گھبرائی ہوئی تھی۔
اور وہ لڑکے آپ کو چھیڑنے کی غرض سے آپ کی طرف آ رہے تھے۔۔تب میں نے وہ پیغام لکھا اور بھائی کا پسٹل نکال کر آپ کے پیچھے آ کھڑا ہوا تو وہ لڑکے بھاگ گئے۔۔،،آسام نے مسکرا کر بتارہا تھا
“پر مجھے آپ نظر نہیں آئے تھے۔۔،،ماشی نے حیرانگی سے سوال کیا
“نظر آیا تھا پر آپ نے دھیان نہیں دیا یاد کریں جب آپ نے گاڑی میں بیٹھ کر باہر دیکھا تھا تو آپ کی نظر مجھ پہ پڑھی تھی ۔۔،،آسام نے اسے یاد دلایا۔ماشی سوچنے لگی
“ہاں یاد آیا۔۔کسی پہ نظر تو پڑھی تھی کیونکہ وہاں اور کوئی نہیں تھا پھر آپ غائب ہو گئے تھے وہ کیسے ہوئے۔،،آخری فقرے پہ ماشی پریشان ہو کر بولی تھی آسام ہس ہس کے پاگل ہو رہا تھا۔
“ارے پاگل لڑکی میں گاڑی کا ٹائر چیک کرنے کے لئے جھکا تھا مجھے لگا تھا کہ ٹائر کی ہوا کم ہے۔۔،،آسام نے ہستے ہوئے ہی جواب دیا۔
“اور اس رات ہوٹیل میں آپ کیسے آ گئے۔۔۔،،ماشی نے پھر سے سوال کیا۔
“آپ کے ساتھ میں بھی لاہور گیا تھا اور جس ہوٹل میں آپ تھی اسی کے سامنے والے ہوٹل میں میں ٹہرا ہوا تھا۔۔آپ جب حال میں آئی تھی تو میں ٹیرس پر کھڑا ہوا تھا۔۔فاصلہ زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے اور میری نظر تیز ہونے کی وجہ سے میں نے آپ کو دیکھ لیا تھا۔۔اور اس کے بعد جو ہوا آپ کو پتا ہے،،آسام نے مسکرا کر کہا۔
“اور۔۔آپ کو ہماری حویلی کے بارے میں کیسے پتا۔۔،،ماشی ہر سوال حیران ہو کے کر رہی تھی
“یہ بات بتانی مشکل ہے۔۔۔،،آسام مسکرا کر بولا
“پھر بھی بتاؤ۔۔،،ماشی نے شہانے آچکا کر کہا۔
“آپ کے سیل میں ٹریکر لگا ہوا ہے۔۔،،آسام نے آنکھیں بند کر کے کہا۔
“واٹ۔۔پر کب لگایا آپ نے ٹریکر ۔،،ماشی کو حیرانی ہوئی تھی
“پہلے دن جب آپ اسلام آباد شوپنگ کرنے گئ تھی۔ آپ سیل کاؤنٹر پر چھوڑ گئ تھی اور میں نے ٹریکر لگا دیا جب آپ کے پیچھے گیا تو پرمیں ڈال دیا۔،،آسام نے تھوڑا جھجھک کے جواب دیا تھا۔
اسے پتا تھا یہ غلط ہے پر اس کی مجبوری تھی وہ ماشی کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔
“اور میں آپ کو ہر جگہ دیکھ سکتا ہوں ہوسٹل کے باہر کیمرے لگائے ہوئے ہیں پر مجھے یہ سب کرنے کا شوق نہیں تھا آپ نے ایسے انسان کے ساتھ جنگ کر لی جو کسی کو معاف نہیں کرتا اور میں کیا کرتا ایم سوری۔۔،،آسام نے ندامت سے کہا تھا
کی بات سن کر ماشی کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آگئ۔
“۔اس دن جب افنان نے آپ کو اٹھوایا تھا میرا فون پانی میں گر گیا تھا اور لیپ ٹاپ میں کچھ پرابلمز ہو گئ تھی اسی لئے میں۔۔،،آسام نے افسردگی سے کہا۔۔ماشی کے ذہین میں پھر سے وہی منظر آ گیا۔
“اور پھر آپ کی آنکھوں میں اپنے لئے محبت دیکھ کر میرا دل کرتا تھا میں آپ کے سامنے آ جاؤں پر ڈرتاتھا کہیں آپ۔۔،آسام نے لیپ ٹاپ پہ نظریں جما دی۔ماشی نے اس کی آنکھوں میں اداسی دیکھی۔
“آسام آپ کو ایسا کیوں لگا۔۔میری محبت اتنی کم نہیں ہے کہ افنان کی نفرت ہمیں دور کر دے گی۔،،ماشی نے آنکھوں میں اور لہجے میں جذبات بھر کر کہا۔تو آسام نے نفی میں سر ہلا دیا
“مجھے اب اور کچھ نہیں پوچھنا آپ نے جو کیا ٹھیک کیا کتنی بار میری حفاظت کی۔۔اگر آپ ایسا نہ کرتے تو شائد۔۔،،ماشی کے لہجے میں ڈر تھا۔
“اچھا ایک بات پوچھوں۔۔،،ماشی نے مسکرا کر بات تبدیل کی۔
“جی جناب پوچھیں۔،،آسام کے لئے ملازم کافی لے کر آیا تھا وہ اٹھ کر کافی بنانے لگ گیا۔
“میں آپ ک۔کو کس روپ میں اچھی لگتی ہوں۔۔,،،ماشی تھوڑی جھجھک اور تھوڑی شرما کر بولی آسام نےمڑ کر لیپ ٹاپ میں اس کے سراپے کو دیکھا اور مسکرا دیا۔
“مشرقی لڑکیوں کی یہ پروبلمز ہوتی ہیں۔۔خود پہ تھوڑا بھی یقین نہیں ہوتا ہاہاہاہاہاہاہا۔۔،،آسام کافی کا مگ منہ کو لگاتے ہوئے ماشی کا مذاق اڑانے لگا۔
“ٹھیک ہے مت بتاؤ۔۔،،ماشی منہ پھیلا کر بیٹھ گئی۔
“آپ ہر روپ میں اچھی لگتی ہیں۔۔اور اس طرح تو بہت۔۔۔،،وہ کچھ اور کہتا ماشی نے شرما کر کال کاٹ دی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئ تھی۔آسام کی پیار بھری نظر اس کے دل کے اندر تک گئ تھی
“میں بھی کیسے کیسے سوال کر رہی ہوں کیا سوچے گا وہ۔۔،،وہ دل پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئ آسام دور ہوتے ہوئے بھی اس کے دل میں دھڑک رہا تھا۔
آسام کی پھر سے کال آنے لگی تھی وہ لمبا سانس لے کر کال اٹھانے لگی
وہ خود ہی اپنے سوال پہ پچھتا رہی تھی۔
“کیا ہوا چہرہ اپرتو کریں۔۔،،
آسام اپنی ہسی دبا کر بولا۔وہ ماشی کی شرمانے کے انداز کو انجوائے کر رہا تھا۔۔
“مجھے لیکچر بتاؤ۔۔،،ماشی اپنی گہبراہٹ کو چھپاتے ہوئے بولی۔
“ہاہاہاہاہاہاہا۔۔ابھی آپ ریسٹ کریں۔۔،،آسام اس کے بات بدلنے پہ ہس دیا
“ماشو۔۔۔ماشو۔۔،،سٹیف اڑتا ہوا ماشی کے پاس آ گیا تھا۔
“واؤ یہ پیرٹ باتیں کرتا ہے۔پر پرندوں کو قید کرنا بہت بری بات ہے۔،،آسام نے سنجیدگی سے کہا
“ان کی بھی زندگی ہوتی ہے ان کو بھی آزادی چاہئے ہوتی ہے۔۔،،آسام نے پھر سے کہا ماشی سٹیف کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے آسام کو دیکھا ان دونوں کے خیالات کتنے ملتے تھے
“ماشی بھی یہ چاہتی ہے۔،،سٹیف اڑ کر ماشی کے کاندھے پر بیٹھ گیا اور شور مچانے لگا۔اسے اچھا نہیں لگا تھا آسام کا ماشی کو یوں سمجھانا وہ آسام کو برا بھلا کہنے لگا۔
“سٹیف بری بات چپ کرو۔۔،،ماشی نے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا تو وہ چپ کر گیا۔
“ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔بندہ نہیں تم نے تو پرندوں کو بھی اپنا دیوانہ بنا رکھا ہے۔۔،،آسام نے خود کو اور سٹیف کو مد نظر رکھ کر کہا ماشی نظر جھکا کر ہس دی۔
“اچھا بڑے سٹیف اب اللہ حافظ۔۔،،ماشی نے بائے کے لئے ہاتھ اٹھایا۔
“اچھا سنو۔۔،،آسام سنجیدگی سے بولا۔
“مجھے اس طرح ہر روز بات کرنا بہت برا لگتا ہے یعنی چوری ایسے تو محبت میں دھوکہ ہو گا نہ
ایک ہفتے تک ماما پاپا کو میں بھیج رہا ہوں۔،،آسام نے مسکرا کر کہا
“افففف پتا نہیں کس صدی میں جی رہے ہو تم۔۔
ٹھیک ہے۔اور ہاں شادی آپ سے کرنی ہے میں نے۔۔تو آپ کا آنا تو۔۔،،ماشی نے چہک کر کہا۔
“سوچتے ہیں اس بارے میں۔۔اور فہد بھائی کب تک واپس جا رہے ہیں۔۔،،
“ایک ماہ تک کیوں کہ دو ہفتے بعد اس کے کسی فرینڈ کی شادی ہے۔۔،،
“مطلب پھر تو ثاقب بھائی بھی ضرور آئیں گے۔۔،،آسام پر سوچ انداز میں بولا
“ایک بات بتائیں بھائی ثاقب اور آسٹریلین بلا۔۔میرا مطلب ہے فہد یہ ایک دوسرے کو کیسے جانتے ہیں۔۔،،ماشی نے سوال کیا۔
“پتا نہیں شائد انگلینڈ میں دونوں کی ملاقات ہوئی ہو اوکے اب آپ ریسٹ کریں اللہ حافظ۔۔۔،آسام نے کہا اور کال کاٹ دی
“کون تھا کون تھا۔،،سٹیف نے شور مچایا۔
“یہ وہ ہی ہیں۔جو بہت
اچھے ہیں۔
“Charm is ur face..
Character is ur great…
Great is ur smile…
Best is ur style….,,
وہ مسکرا کر لیٹتے ہوئے بولی ایک ہاتھ سے اپنے فون کو اٹھا کر آسام کی تصویر نکال کر دیکھتے ہوئے مسکرا دی۔۔تصویر میں آسام بھی مسکرا رہا تھا۔۔ماشی نے ہونٹ فون کی سکرین پر رکھ کر ہٹا لئے۔پھر فون کو سینے پہ رکھ کر لیٹ گئی۔
وہ خوش تھی۔۔ہوتی بھی کیوں نہ محبت کا ہاتھ تھام لیا تھا اس نے ایک ہفتے بعد وہ پوری طرح آسام کی ہونے والی تھی۔اس انسان کی جسے وہ دیوانگی کی حد تک چاہتی تھی۔۔
اور وہ انسان بھی کم پاگل نہیں تھا
جب کسی ایسے انسان کو محبت ہو جو ہر برے کام سے دور رہا ہو ہر گھٹیا کام اس سے کوسوں دور ہو تو اس کی محبت میں عجیب سی دیوانگی ہوتی ہے جو آسام اور ماشی کی محبت میں تھی۔
******************
“شگفتہ ۔۔سفرآیا ہے باہر بیٹھاتمہارا انتظار کر رہا ہے۔،،سکندر کمرے میں آیا تھا شگفتہ بیڈ سے بھاگ کے اتری تھی ۔وہ لوگ اٹلی شیفٹ ہو گئے تھے
“وہ آیا ہے کہاں ہے وہ۔۔,،،وہ سکندر کے پاس کھڑی ہو کر بولی سکندر کے چہرے پہ بہت سارے رنگ آ کر چلے گئے۔شگفتہ بھاگ کر باہر جانے لگی تھی پر دروازے میں جا کر اس کے قدم رک گئے اور وہ واپس مڑ آئی۔
“آج بھی نہیں بھولی اسے۔۔۔دو سال۔۔دو سال کا ٹائم کم نہیں تھا۔۔پر شائد تم کبھی اسے نہیں بھولا سکو گی۔۔،،سکندر نے اس کے فق ہوتے چہرے کو دیکھ کر سوچا۔
“ہاں وہ آیا ہے۔۔۔ جا کے مل لو اسے۔۔،،سکندر آفس کی فائل لے کر بیٹھ گیا شگفتہ اس کے چہرے پر کچھ ڈھونڈنےلگی پر اس کا چہرہ بے تاثر تھا
شگفتہ دوپٹہ سر پہ کر کے باہر چلی گئ۔
ڈرائیونگ روم میں جا کر اس کے قدم رک گئے تھے دو سال اسے کروڑوں صدیوں کے برابر لگے تھے۔۔۔۔شگفتہ نے اس کے سراپے پہ نظر ڈالی کچھ نہیں بدلا تھا وہی سفید چاند جیسا چہرہ۔۔وہی ہونٹ وہی شخصیت کا اثر دیکھتے دیکھتے شگفتہ کی آنکھیں سفر کی آنکھوں پہ جا رکی ۔
کچھ بدلا تھا تو اس کی آنکھیں اس کی آنکھوں میں اداسی نے پہرے لگا رکھے تھے۔۔
“کیسی ہو۔۔،،کافی دیر بعد سفر نے گفتگو کی شروعات کی تھی۔
“ٹھیک ہوں سعدیہ۔ماما پاپا۔ اور بچے۔۔کیسے ہیں،،شگفتہ نظریں جھکا کر بولی تھی۔
“ٹھیک ہیں سب بس ۔ماما بیمار رہتی ہیں کچھ،،
(کیسی لڑکی ہے کس مٹی کی بنی ہو تم شگفتہ پلیز ہمیں بدعائیں دو۔۔ہمیں گالیاں دو مجھے سے اپنی بربادی کا گلہ کرو۔۔تمہاری چپ ہمارے گھر کو کھا جائے گی۔مجھے جینے نہیں دے گی میں گھٹ گھٹ کے مر جاؤں گا شگفتہ۔،،)دل میں سوچ کر وہ ندامت سے سر جھکا گیا۔
“پتا ہے منزہ نے جاتے ہوئے مجھ سے ایک خواہش کی تھی کہ میرے بچے کو خود سے دور رکھنا اچھی پرورش دینا اور تم سے اچھی پرورش اور کون
دے سکتا۔ہے۔،،وہ چار سال کے بچے کو شگفتہ کی طرف بڑھا کر بولا۔۔شگفتہ نے بچے کو پکڑ کر سینے سے لگا لیا وہ منزہ سے بہت محبت کرتی تھی اس نے ہمشہ اسے دوست مانا تھا۔
“اس نے ٹھیک کہا تھا سفر۔۔۔باقی بچوں کو بھی اپنے جیسی پرورش نہ دینا بڑے دونوں تو کبھی تمہاری طرح نہیں بنیں گے۔۔
چھوٹے دونوں کو۔۔۔ کو بھی اپنے جیسی پرورش مت دینا پلیز۔۔،،شگفتہ نے ہاتھ جوڑ کر کہا تھا۔۔
سفر نے بے بسی سے اسے دیکھا۔
“اگر وہ تمہارے نقشے قدم پہ چلے تو پھر سے ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گا جو تم نے شروع کیا ۔۔،،شگفتہ کے لہجے میں زہر گھول گئ تھی
“اب آپ جا سکتے ہیں۔۔،،شگفتہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی۔ سفر اٹھ کر چل دیا تو شگفتہ نے اسے آواز لگائی۔
“اور ہاں ایک دو پہلے جو تم نے میرا بچہ سعدیہ کی گود میں ڈالا تھا تم نے ایسا کیوں کیا۔۔اس دن جوڑوں بچوں کو جنم میں نے دیا تھا سعدیہ نے نہیں۔۔پر تم نے ایک ماں سے اس کے بچے کو چھین کر دوسری ماں کی گود میں کیوں ڈالا اور آج یہ بچہ مجھے دے کے جا رہے ہو۔ہاہاہاہاہا۔تم نے رشتوں کو ہی مذاق بنا لیا ہے سفر صاحب۔،،شگفتہ نے زور سے کہکہکا لگاکرکہا اس کے کہکہکے میں وحشت تھی۔سفر کےپیروں کے نیچے سے زمین نکل گئ۔اس نے تو چوری یہ کام کیا تھا پھر شگفتہ کیسے جان گئ۔
“تم نے سمجھا شائد تم ایسا کرو گے تو مجھے پتا نہیں چلے گا پر نہیں سفر میں نے اسے اپنے پیٹ میں رکھا تھا نو مہینے اس کی سانسیں سنی تھی اس کو محسوس کیا تھا۔۔پھر کیسے نہ جانتی کہ میرا ایک بیٹا تم نے۔۔۔،،شگفتہ کے تیور بدل گئے تھے اس کے چہرے پر غصہ ہی غصہ تھا۔
“یہاں سے چلے جاؤ ورنہ میں اپنی ساری حدیں توڑ دوں گی ۔۔اب آپ جا سکتے ہیں امید کرتی ہوں ہمارا کبھی سامنہ نہ ہو سکندر سے رابطے میں رہنا آپ کی بات وہ منزہ کے بچے سے کرواتا رہ گا۔۔۔،،شگفتہ سینے پر ہاتھ باندھ کر سختی سے بولی اس کے لہجے انداز کہیں بھی سفر کے لئے محبت نہیں تھی وہ متاتا کا روپ دھار چکی تھی۔
سفر کو اس کے غصے اور نظروں کی آگ سے ڈر لگنے لگا تھا پہلی اور شائد آخری بار تھا جب شگفتہ نے سفر کو اس طرح ٹریٹ کیا تھا۔۔سفر تیز تیز قدم اٹھاتا چلا گیا
شگفتہ نے مسکرا کر بچے کو گود میں اٹھا لیا اور بیڈروم کی طرف بڑھ گئ
دو سال کا غصہ غم جو بھی تھا سب اس نے نکال دیا تھا اسے اپنا بچہ کھو کر منزہ کا بچہ ملا تھا۔اور اس نے سوچ لیا تھا وہ کبھی سفر کے سائے میں نہیں دے گی وہ بچہ
“سکندر آج باہر چلیں ۔۔،،شگفتہ بیڈ پر بیٹھ کر مسکرا کر بولی۔سکندر نے حیرانگی سے اسے دیکھا پہلی بار وہ سکندر سے یوں بات کر رہی تھی۔
سکندر اس کی اور سفر کی باتیں سن چکا تھا۔وہ ایک پل کو تو سن ہو گیا تھا پر پھر مسکرا دیا۔۔
“اوکے۔۔چلتے ہیں میں آفس سے ہو کر آتا ہوں کلائیڈ کے ساتھ میٹنگ ہے وہ ویٹ کر رہے ہیں۔۔۔،،سکندر اٹھ کے کھڑا ہو گیا۔
“سکندر۔۔۔،،شگفتہ اٹھ کر اس کے سامنے آ گئی۔
“سکندر محبت ایک دفعہ ہوتی ہے۔۔۔
پر آپ میرے شوہر ہیں آپ کی عزت کرنا میرا فرض ہے۔۔آپ بہت اچھے ہیں شکریہ میری زندگی میں شامل ہونے کے لئے پر مجھے معاف کر دینا میں آپ سے محبت نہیں کر سکتی ہاں کوشش ضرور کروں گی ۔،،شگفتہ نے سر جھکا کر کہا سکندر اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔۔سکندر نے اس کے جھکے سر کو اپر اٹھایا
“ڈونٹ وری اتنا کنفیوژ نہ ہوں ہمارے رشتے کو نارمل ہی رکھیں۔۔ہم اچھے دوست ہیں۔۔اوکے ریلیکس ہو جائیں۔۔اور تیاری کریں میں آتا ہوں۔۔۔،،سکندر کہ کر بیڈ کی طرف بڑھ گیا دونوں بچوں کو پیار کر کے باہر چلا گیا۔۔
” آپ کتنے اچھے ہیں سکندر۔۔دو سال آپ صوفے پر سوئے مجھ پہ کوئی حق نہیں جمایا کتنے صبر والے ہو تم میں آپ کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہوں۔۔جو درد مجھے ملا وہ آپ کو میں کیوں دوں کیوں آپ کو آپ کی محبت سے دور رکھوں۔۔،، ،،شگفتہ کو یاد آنے لگا تھا اسے اپنی غلطی پہ افسوس ہونے لگا تھا۔اس نے بھی سکندر کے ساتھ وہ ہی کیا تھا جو سفر نے کیا تھا۔۔
“نہیں سکندر میں اب آپ کی زندگی کو ویران نہیں کروں گی۔۔،،شگفتہ کچھ سوچ کر اٹھ کے کیلنڈر دیکھنے لگی
“آج سکندر کی برتھ ڈے ہے۔مجھے اس کے لئے سرپرائز پلین کرنا چاہئے۔۔اسے اچھا لگے گا۔۔،،شگفتہ نے خوشی سے کہا۔اور سوچنے لگی۔۔
باہر جانے کا پلین کینسل کر کے وہ تیاریاں کرنے لگی۔۔
اس نے اپنی زندگی کو جینے کی شروعات کر دی تھی۔ اس نے جو درد سہا تھا وہ درد سکندر کو دینا نہیں چاہتی تھی۔ہاں پر سفر کو بھی وہ کبھی بھول نہیں سکتی تھی پر کسی کو دکھی بھی تو نہیں کر سکتی بے شک سکندر اس سے کوئی گلہ شکوہ نہیں کرتا تھا پر اس کی آنکھوں میں اداسی ہی نظر آتی تھی۔۔کوئی شوہر اپنی بیوی کا ایسا بی ہیور برداشت نہیں کرتاہے سکندر نے کبھی کوئی گلہ نہیں کیا تھا.
