Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 36)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 36)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
اسلام آباد آتے ہی افنان نے ایک آدمی کو اڑا دیا تھا
آدمی کون سا اچھا تھا بازف کا آدمی تھا۔پر سفر اس بات سے انجان تھا۔تبھی اچھے سے ڈانٹ لگائی۔
*******
اس دن وہ لوگ شکار پہ جب جا رہے تھے تو وہ ذہرہ سے بات کر رہا تھا۔وہ سکندر کی طعبیت کے بارے میں بتا رہی تھی اور افنان بس ہاں ہوں میں جواب دے رہا تھا کیوں کہ سامی ساتھ تھا۔اسے ہوش تب آیا جب
لکی نے اس کے کاندھے پہ تھپکی دی
“یس گائس پہلے میں کچھ بزی تھا کیا بات کر رہے تھے تم لوگ،،وہ بیلو ٹوتھ کان سے نکالتے ہوئے بولا اس نے واقع ہی کچھ نہیں سناتھا۔
اس کے لئے پہلے جیساافی بننا بہت مشکل تھا۔پر ناممکن نہیں تھا۔
پر وہ بن رہا تھا واپسی پہ جب اس نے علی اور نیلم کی اور ایکٹنگ دیکھی تو وہ جان گیا تھا۔کہ نیلم بےشک پریگننٹ ہو پر وہ دونوں بہت شاطر تھے۔
ہوسپٹل پہنچ کر اس نے فہد کو کال کی۔
“ہیلو فہد میں دو فوٹو بھیج رہا ہوں زرا چیک کروا ہاں مجھے شک ہے کہ یہ دونوں ڈرامہ کر رہے تھے۔اس لڑکے کی آنکھیں پھڑپھڑا رہی تھی۔پھر بےہوش کیسے ہاتھ ہلا تھا پاؤں بھی حرکت کر رہے تھے،،اس نے فہد کو ساری انفارمیشن نکالنے کو کہا۔
/***********
افنان کا پہلا دن تھا یونی ورسٹی میں ۔نماز پڑھ کر وہ لیٹا ہی تھا کہ فہد کی کال آ گئ۔
“جی جان من ،،وہ دروازے کو بند کر کے مسکرا کر بولا۔
“یار تمہارا شک ٹھیک تھا وہ جو تمہارے گھر میں رہ رہے ہیں وہ سمگلر ہیں اور آئی تھینک بازف کا ان سے کوئی لینک ہے،،فہد چھت پہ کھڑا
سرگوشی کر رہا تھا۔
“اوہ تو ہم ان کو پکڑوا دیتے ہیں۔،،
“نہیں ابھی کوئی ثبوت تو ہے نہیں اور ہاں وہ بازف کل کچھ ہنگامہ برپا ضرور کرے گا اس کے لئے میرے پاس ایک پلین ہے۔،،فہد نے سارا پلین اس کو بتا دیا۔
“کیا فادی میں تم پہ کیسے ہاتھ اٹھاؤں گا۔نہیں یہ مجھ سے نہیں ہو گا۔۔،،افنان نے التجاء کی۔
“بٹ کرنا پڑھے گا،،
“اوکے کوشش کروں گا۔۔،،افنان کال کاٹ کر سوچنے لگا۔
پھر وہ یونیورسٹی کے لیئے نکل گیا۔
پلین کے مطابق فہد سامنے گاڑی میں بیٹھا تھا۔اس نے انگوٹھا دیکھا کر بیسٹ آف لک کیا افنان کو اور گاڑی واپس مصڑنی شروع کر دی۔
وہ سیدھی طرح بھی بازف کو پکڑ سکتے تھے پر ایسے وہ پکڑا نہ جاتا
“اے یو مین۔۔۔سٹوپ ،،افنان گاڑی سے چھلانگ لگا کر اترا۔
“شاباش میرے شیر،،فہد دل میں سوچتا مسکراتا باہر نکلا۔
“فہد میں تم پہ ہاتھ نہیں اٹھا سکتا۔۔،، افنان اس کے پاس جا کر سرگوشی سے بولا۔
“تھوڑی سی گردن گھما کر دیکھو بازف کی گاڑی نظر آئی۔جب تک یہاں بھیڑ اکٹھی نہیں ہو گی وہ یہاں سے جائے گا نہیں اور جائے گا نہیں تو تیری حور کو اٹھا کر لے جائے گا ،،فہد کے ہاتھ کے اشارے کی طرف اس نے مڑ کر دیکھا
“ایم سوری غلطی آپ کی ہے جیپ ایک سائڈ پر،،فہد نے اونچی آواز میں کہا اور اسے مارنے کا اشارہ کیا۔
پھر افنان نے ہاتھ اٹھایا۔
وہاں بھیڑ اکٹھی ہو گئ تبھی آسام بھی آ گیا۔
اور ان کو الگ کیا ۔فہد نے آنکھ دبا کر گڈ لک بولا تو افنان مسکراتا پھر سے ساگر لوگوں کے ساتھ یونیورسٹی چلا گیا
جب ماشی کو افنان نے دیکھا تو وہ بے اختیار اس کی طرف بڑھا پر ونیت لوگ سامنے آ گئے۔
اور ماشی سے جب لڑائی ہوئی وہ روکنا چاہتا تھا پر ماشی نے اس کی اچھی خاصی بےعزتی کر دی تھی دل میں وہ مسکرا رہا تھا۔
اور پھر شام کو وہ لوگ مال میں بھی یوں ہی نہیں ملے پلینگ کے مطابق
افنان اس کے پیچھے گیا تھا پر تب تک اسے آسام کے بارے میں نہیں معلوم تھا۔
وہ بار بار اسے نفرت کا شکار کر رہی تھی ہر بار ۔جب وہ بات کرنا چاہتا تو وہ اسے نفرت سے دیکھتی۔
****
پارٹی والے دن ماشی حال میں داخل ہوئی تھی۔
افنان سٹیج پہ کھڑا کب سے اس کا انتظار کر رہا تھا جب وہ سامنے آئی تو افنان کی دھڑکنیں تیز ہونے لگ گئ۔دل ایسے دھڑکنے لگا وہ منہ موڑ گیا
“میرا دل کر رہا ہے آج پوری دنیا کے سامنے تمہیں پرپوز کر دوں پر کیا کروں ایسے نہیں ایک بار پھر سے۔تھپڑوں کی برسات تم کر دو تو،،وہ اپنی گال اور جو علی اور نیلم کو دیکھانے کے لئے ڈرامہ کیا تھا زخمی ہاتھ کو دیکھنے لگا۔
تبھی ماشی نے اس کی طرف پیٹھ کی تو افنان کی نظر اس کی کھولی زیپ پہ پڑھی تبھی اس کو ترکیب سوچی۔اگر وہ یوں ہی اسے پکارتا وہ نہیں آتی یہ وہ جانتا تھا۔
اور پارٹی کے شروع ہوتے ہی اس نے اسے کال کی وہ جب باہر نکلی اور افنان اسے کمرے میں لے گیا۔وہ ماشی کو تنگ کر رہا تھا۔ ماشی نے اس کی آنکھیں نہیں پڑی اگر پڑھ لیتی تو ہلنا بھول جاتی سارے جذبات کا اندازہ ہو جاتا۔
“ایم سوری پر مجھے ایسے کرنا پڑ رہا ہے تاکہ آپ کو کسی سے ڈر نہ لگے،، وہ دل میں سوچتا اس کی زیپ بند کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگا تھا پر وہ ہاتھ پاؤں چلا رہی تھی اچانک لائٹ بند ہو گئ اور وہ اسے دیوار سے جدا کرنے کیلئے کوشش کر رہا تھا اسی پل اس کی گھڑی ماشی کے ریشمی بازو میں اٹکی وہ چھڑوانے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ ماشی کا بازو پھٹ گیا تبھی وہ اس طرح چلائی کہ افنان چونک گیا۔
وہ اس کی چینخ کو سمجھ کر خود ہی پیچھے ہٹ گیا۔اس پہ بھاری وار ہوا۔
“سامی،،،وہ خوشبو پہچان کر چونک گیا۔
اور پھر اس پہ یہ راز کھولا کہ آسام ماشی سے محبت کرتا ہے۔
پھر ایسے کئ حادثے ہوئے۔جب افنان ٹوٹنے لگا اور دل میں ایسی آگ مچی کہ جب ماشی سامنے آتی تو وہ بے اختیار اس کی طرف بڑھ جاتا وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ اسے کیا ہو گیا ہے انہی دونوں ساگر لوگ اسے بار میں لے گئے دل دکھا تھا پر دماغ حاضر تھا وہاں علی نیلم اور بازف کی میٹنگ تھی۔بازف لڑکیوں کو ایک کوٹھے پہ بٹھاتا تھا پچاس پرسینٹ کا مالک تھا
وہ اس کوٹھے کا۔
وہ اگلے دن ہی کراچی چلا گیا۔
****
“افنان آر یو اوکے،،زہرہ اسے اٹھانے گئ تھی۔وہ بیڈ پہ الٹا گرا آنکھیں بند کئے ہوئے تھا۔
“زہرہ وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے ،،افنان نے زہرہ کا ہاتھ تھام لیا اور بیڈ پر بیٹھا کر اپنا سر اس کی گود میں رکھ لیا۔
“افنان ہوش کرو تم یہ گناہ کیسے کر سکتے ہو تم شراب کو ہاتھ بھی کیسے لگا سکتے ہو ،،وہ تقریباً چینخی تھی۔وہ اس کی نیم بے ہوشی کو دیکھ کر تڑپ اٹھی
“میں نے نہیں پی تمہیں لگتا ہے میں ایسا ہوں۔۔۔،،وہ اپنی سرخ آنکھوں کو زہرہ کی آنکھوں میں ڈال کر بولا۔وہ بغیر نشے کے تھا۔پر حالت اس کی ایسی تھی کہ۔کوئی بھی سمجھ نہ سکتا۔ پر جب وہ اس کی آنکھوں میں جھانک رہی تھی سارے انقشاف ہو گئے زہرہ نے نفی میں سر ہلا دیا۔
“تم کمزور نہیں ہو افنان ۔۔۔،،
“میں نے اسے بہت ذلیل کیا اپنی محبت کو زلیل کیا ذہرہ۔۔۔پر کیا کرتا جب دل کرتا تھا اسے سب بول دوں بتا دوں کہ بہت محبت کرتا ہوں اس سے تبھی آسام کا چہرہ سامنے آ جاتا تھا وہ محبت کرتا ہے ماشی سے ،،وہ خوفگی سے بولا۔
“پر ماشی نہیں کرتی نہ تم اسے کہ دو پلیز افی سنو میری بات سنو۔۔،،ذہرہ نے اس کا سر سرہانے پہ رکھ دیا۔
اور تھوڑا پیچھے ہو کر سر دبانے لگی۔
افنان آنکھیں بند کر گیا شائد اسے سکون مل رہا تھا۔
“تم اس سے بات کرو آرام سے بات کرنا۔غصہ کنٹرول کر کے اسے سمجھاؤ وہ سمجھ جائے گی،،
“نہیں سمجھے گی میں اسے آل ریڈی اتنا ہرٹ کر چکا ہوں تمہیں معلوم ہے وہ۔۔۔اس کی آنکھوں میں میرے لئے بہت نفرت ہے زہرہ میں سب کچھ برداشت کر سکتا ہوں پر اس کی نفرت نہیں۔کیا کروں اب میں اچھی نیت سے بھی بات کروں گا تو وہ مجھے غلط سمجھے گی۔آسام کی محبت کے سامنے اس کی محبت ہار گئ،، سمبھل کے بیٹھ گیا۔
“نہیں سمجھے گی۔تم یہ سوچو کہ صرف تم اس سے محبت کرتے ہو یہ مت سوچو کہ آسام بھی محبت کرتا ہے۔ریسٹ کرو میں ڈیڈ کو میڈیسن دے آؤں ۔زیادہ سٹریس مت لو ،،زہرہ نے اپنا ہاتھ اس کے سر سے کھینچ لیا۔اور اٹھ کر باہر چلی گئی۔
وہ سو گیا رات کا اندھیرا چھا رہا تھا وہ اٹھ کر واش روم چلا گیا۔فریش ہو کر باہر آیا تو بلکل ٹھیک تھا۔اب وہ مجنوں
بن کر نہیں بیٹھ سکتا تھا
“پاکستان اچھی سی کافی بنا لاؤ،،وہ زہرہ کو بول کر بالکنی میں جا بیٹھا ۔زہرہ اس کے لئے اور اپنے لئے کافی بنا لئ۔
“تمہیں پتا ہے افنان محبت میں بہت طاقت ہوتی ہے اگر سچی ہو تو۔اگر محبت میں پانے کی خواہش ہو تو وہ محبت بہت درد دیتی ہے اور اگر،،اس نے افنان کو دیکھا جو اب بلکل فریش تھا ۔ٹیوزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس بالوں کو سٹائل سے پف کی شکل دی ہوئی تھی۔
“اور۔۔،،افنان مسکرا کر بولا۔
“اور اگر پانے کی خواہش نہ ہو تو وہ محبت سکون دیتی ہے،،زہرہ نے نظریں جھکا لی۔
“اچھا اب اپنی پیکنگ کر لو ،،
٬افنان ڈیڈ کے پاس کون رہے گا،،
“ظنی انکل ،،
“اوکے اور ٹارگٹ کون ہے پلین کیا ہے،،
“بازف راجپوت شائد ہی اس کے جتنا کوئی گرا ہوا اور کوئی انسان ہو گا۔اس کے کام بند کروانے ہیں۔اسلام آباد میں اس نے ایک کوٹھا کھولا ہوا ہے اور کئ بار ہیں۔،،
“افنان بار میں تو نہیں کوٹھے پر میں جا سکتی ہوں۔،،کچھ دیر سوچنے کے بعد زہرہ بولی۔
“کیا۔دماغ ٹھیکانے پہ تو ہے تمہارا پاگل تو نہیں ہو گئ میں تمہیں وہاں ہرگز نہیں چھوڑوں گا سمجھی تم،،افنان اس کی بات سن کر تپ گیا ۔
“ہو گیا۔۔اب میری بات سنو۔اگر پسند نہ آئے تو نہ صیحح،،زہرہ اٹھ کر اس کے ساتھ آ کھڑی ہوئی۔۔افنان نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
“میں وہاں پہنچ جاؤں گی کسی بھی طرح وہ میری پروبلم ہے آپ وہاں آئے گا اور جسے امیر لوگ کرتے ہیں ویسے ہی مجھے خرید لیجئے گا میں آپ کی ہو جاؤں گی اور کوئی مجھے ہاتھ بھی نہیں لگا سکے گا۔،،لہجے میں عجیب سی خواہش بھر آئی تھی۔افنان نے نظریں گھما کر اسے دیکھا تو وہ نروس ہو گئ۔
“اور پھر میں نظر رکھ لوں گی آپ کو جب ٹائم ملا آ جایا کرنا۔مجھے کراٹے آتے ہیں کوئی ایسی ویسی بات ہوئی تو میں سنبھال لوں گی،،
“پلین سے ون ہے پر تم اپنے بارے میں بھی تو
تو سوچو ،،افنان کافی کا مگ اس کو تھما کر واپس مڑا۔
“تم شراب نہیں پیتے نہ,،،وہ اس کے سوال کو اگنور کر کے اس کے پاس بیٹھ کربولی۔
“تمہیں کیا لگتا ہے،،افنان نے ہاتھوں کو آپس میں جکڑ لیا اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ سجا کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“مجھے لگتا ہے تم ایسا کچھ نہیں کرو گے جو غلط ہو،،
“تو پھر کم از کم میں تمہیں جوابدہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ تم مجھے جانتی ہو ،،افنان سر کرسی کی پشت سے ٹکا کر آنکھیں مند کے بولا۔
“ہاں اور ایک بات کبھی شراب کو چھوا تو میں بھول جاؤں گی کہ آپ میرے سر تھے،،وہ مصنوعی غصے سے بولی
“ہاہاہاہا تھے نہیں بچی ابھی بھی ہوں چلو اب زیادہ ٹائیں ٹائیں نہ کرو۔پیکنگ کرو،،افنان نے ایک آنکھ کھول کر اسے دیکھا تو وہ اس کے یوں دیکھنے پہ ہنستی اندر چلی گئ۔
اگلے دن وہ دونوں کراچی پہنچ گئے اور زہرہ نگین بن کے افنان کی بتائی ہوئی جگہ پہ پہنچ گئ۔اتنا گناہ ماحول اس نے پہلی بار دیکھا تھا اب وہ خود کو کوس رہی تھی۔
“افی مجھے بچا لے یار،،وہ کانپتی ہوئی ایک کمرے میں جا گھسی افنان کا میسج آیا کہ وہ رات کو آئےگا۔
اور کہا کہ سنبھال کر رہے وہاں بازف کے آدمی بھی ہوں گے،وہ کمرے میں بند تھی کہ باہر دو آوازیں ابھری
“یہ لڑکی اس کو اٹھا کر لے آنا پرانی دشمنی ہے میری بہت محفوظ کرتی ہے خود کو کل کا سورج ڈوبے گا وہ اس کوٹھے پہ گزارے گی۔،،پھرایک کہکہکا گونجا زہرہ چونک گئی اور دروازے کی سوراخ سے باہر جھانکا۔بازف اور علی باتیں کر رہے تھے۔
“ملک اصغر دیکھنا اب تمہاری چاند سی بیٹی پہ داغ کیسے لگاتا ہوں,،،وہ دانت پیس کر بولا۔
زہرہ نے جلدی سے فون نکالا اور افنان کو بتا دیا ۔دن کا سورج نکلا تھا کہ افنان نےماشی کو کال کی پر اس نے اٹھائی نہیں۔فہد کو اس نے کال کی تو اس نے کہا تم اسے غائب کردو میں بازف کو دیکھ لوں گا،
*********
پلین کے مطابق سب ہوا تھا ماشی کو وہ فارم ہاؤس پہنچا چکا تھا۔پر ایک غلطی اس سے ہو گئ۔
جو وہ اس کے سامنے گیا۔
“تمہاری شیرنی اٹھ گئ ہے جا بھائی سمبھال لے،،لکی کا یہ فقرہ اس کے سر پہ بم کی طرح گرا تھا۔دانتوں کوپیش کر وہ رہ گیا۔
“ریلکس تو افنان رندھاوا ہے ،،اس نے خود کو ریلکس کیا اور کمرے کی طرف بڑھ گیا
“دل کہتا ہے تمہیں اپنا بنا لوں۔سب بتا دوں
انا کہتی ہے تمہیں ٹھکرا دوں ہر حد بھلا دوں،
،،وہ دل میں سوچتا کمرے کا دروازہ کھول کے داخل ہوا پر ماشی اسے دیکھتے ہی گھبرانے لگی ڈرنے لگی مارنے لگی۔
“کیوں ڈرتی ہو مجھ سے کیوں اتنی نفرت کرتی ہو میری اتنے سالوں کی محبت محسوس نہیں ہوتی کیوں حور ،،وہ اس کو شہانوں سے تھام کر بےبسی سے سوچ کر رہ گیا۔
اور پھر وہ ہی کیا جو ماشی سوچ رہی تھی۔
جب وہ چلی گئ تو ایک بالی کو ہاتھ میں دبا کر کئ گھنٹوں آنسوں بہاتا رہا۔ایک بہادر اسپائی کو ایک نازک سی لڑکی توڑ گئ تھی۔
“آئندہ میں تمہیں کبھی دکھ نہیں دوں گا کبھی تمہارے آس پاس نہیں بھٹکوں گا،،اس نے خود سے کہا۔
******
پر پھر وہ پارٹی میں پہنچ گئ حلانکہ اسے وہاں نہیں جانا چاہئے تھا علی اور نیلم بھی موجود تھے۔جو کسی وقت بھی کوئی چال چل سکتےتھے۔
پر افنان چاہتا تھا وہ اپنے بھائی سے ملے۔پوری پارٹی میں افنان اس پہ نظر رکھے ہوئے تھا اچانک سے وہ غائب ہوئی تو وہ بھی اس کے پیچھے بھاگا کہیں مصیبت میں نہ پھنس جائے۔پر وہ آسام کی باہوں میں تھی۔
ایک بار پھر غصہ سر چڑھ بولا وہ جو اتنے سالوں سے اس کی محبت میں پاگل ہوا پھر رہا تھا۔کیسے برادشت کرتا۔غصے میں آ کر وہ ایسے لفظ ادا کر بیٹھا جہنوں نے ماشی کے دل میں اور نفرت پیدا کر دی۔ایک غصہ اور اوپر سے اتنے سالوں کی محبت کو بھلانے میں کتنا ٹائم لگتا ہے شاید ساری زندگی۔اور ماشی تو اس کی زندگی تھی۔
“فہد میں نے سب ختم کر دیا۔وہ میری نہیں ہے وہ آسام کی ہے۔کیا کروں میں۔اب اسے چاہا کے بھی معلوم نہیں ہو گی میری محبت ،،وہ آسام سے تھپڑ کھا کر اپنے کمرے میں بند ہو گیا۔
“واہ واہ کتنی شریف ہو تم سیدھی کمرے میں،،
“واہ واہ کتنی شریف ہو تم سیدھی کمرے میں،،
“واہ واہ کتنی شریف ہو تم سیدھی کمرے میں،،
افنان فون پھینک کر کانوں پہ ہاتھ رکھ بیٹھا۔
“میرے بھولے بھالے بھائی کے ساتھ رومانس کر رہی ہو میں مر گیا
ہوں کیا،،
“میرے بھولے بھالے بھائی کے ساتھ رومانس کر رہی ہو میں مر گیا ہوں کیا،،
ایک بار پھر تیر سینے میں اترنے لگے۔
“افنان تو سب ہار گیا کاش تو فہد کی بات مان لیتا اور اس محبت کا گلا گھونٹ دیتا تو آج یہ دن ہی نہ آتا سامی کے لئے میں کیا کر رہا ہوں ۔۔میں سراسر غلط کر رہا ہوں۔ماشی مجھ سے نفرت کرنے لگے گی اس طرح۔۔کرے گی کیا وہ تو اب بھی کرتی ہے،،وہ بیڈ پر بیٹھ کر سوچنے لگا۔
“میں اس سے جھوٹ بولتا ہوں اسے ہرٹ کرتا ہوں پتا نہیں اللہ مجھے معاف کرے گا بھی یا نہیں،،وہ بیڈ پر لیٹ گیا دن آنکھ کھولی تو زہرہ اور فہد کے میسجز آئے ہوئے تھےاس نے سرسری سے پڑھے ایک میسج میں لکھا تھا بازف آؤٹ آف سیٹی گیا ہوا ہے۔پھر بھی ہوشیار رہنا پڑے گا۔ علی حماد کے ساتھ آفس جانے لگا
وہ اٹھ کر نماز پڑھنے کے بعد افنان رندھاوا والے کردار میں لوٹ آتا تھا۔
آج بھی نماز پڑھنے کے بعد وہ بیڈ پر لیٹ گیا۔
یونیورسٹی میں وہ دور سے ہی ماشی کو دیکھ رہا تھا۔ہارش کی نزدیکی اسے غصہ دلاتی تھی۔
*****
وہ کمسٹری لیب میں ریسرچ کر رہے تھے۔افنان بھی وہاں موجود تھا وہ آسام اور ماشی کو نوٹ کر رہا تھا۔
دونوں چوری چوری ایک دوسرے کو دیکھتے تھے
“تو مس معروش آپ واقع ہی آسام سے محبت کرتی ہیں،،افنان نے سوچا۔اور اس کے ہونٹوں پہ بے جان مسکراہٹ آ گئی۔
اور وہ پس منظر دھندلا سا گیا پھر وہ وہاں روکا نہیں بس تیز قدم اٹھاتا نکل گیا۔
“دل کرتا ہے تمہیں مار دوں مجرم ہو تم میری مجھے تجھ پہ یقین کیوں ہوا آخر کیوں سمجھ لیا کہ تم ان لڑکیوں جیسی نہیں ہو تم بھی ویسی ہو۔ایک بار بھی محسوس نہیں کیا
۔اففف افنان پلیز اپنے کام پہ کنسنٹریٹ کرو بھول جاؤ اسے،
کیسے بھول جاؤں زندگی ہے وہ میری،،،وہ سوچتا ماشی کی طرف بڑھا اور وہ جو اس سے ڈر کے مارے راستہ بدلنے والی تھی افنان نےاس کا ڈوپٹہ تھام لیا یہ حرکت اس نے آس پاس دیکھ کر کی وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔
اور پھر جب اس کی انسلٹ کر کے وہ خوش
ہوئی تو وہ حیران کن آنکھوں سے اسے دیکھتا رہا۔وہ خود کو اپنی روح کو تکلیف پہنچا رہا تھا اپنا ہاتھ جلا کے اسے درد دے کے۔
“تو آج ثابت ہوا کہ تم بھی ڈرامہ باز لڑکیوں میں سے ہو۔کاش تم زہرہ جیسی ہوتی ،،وہ اپنی ایسی سوچ پہ خود ہی حیران رہ گیا۔
*******
“افنان آج مجھے یہاں سے لے جاؤ پلیز دم گھٹ رہا ہے اتنی گندی جگہ پہ،،افنان اس کا میسج پڑھ کر دس منٹ میں وہاں پہنچ گیا۔زہرہ بھاگ کر اس کے گلے لگ گئ۔
“افنان پتا ہے یہاں کے لوگ کتنے گندے ہیں۔تھینک گاڈ تم آ گئے،،وہ گھبرائی ہوئی تھی ۔کچھ غلط دیکھ چکی تھی۔افنان سمجھ گیا۔
“کیا ہوا افنان تم نڈھال کیوں ہو سب ٹھیک ہے نہ،،وہ اسے بیڈ پر گرتے دیکھ بولی۔
“زہرہ ۔۔
“اوہ نہیں نگین یار دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں اور اس جگہ کے تو پتا نہیں کتنے کان ہوں گے،،زہرہ نے مسکرا کر کہا
“نگی۔۔،،وہ سر کو تھام کر بیٹھ گیا۔
“کوئی آ رہا ہے ،،زہرہ نے اس کا سر گود میں رکھ لیا اور انگلیاں چلانے لگی افنان نے اس کا دوپٹہ منہ پہ گرا لیا تاکہ کوئی پہچان نہ لے ایک لڑکی دیکھ کر کھلکھلائی اور چلی گئ۔ زہرہ ہاتھ کھینچنے لگی پر افنان نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“سچ میں یار تمہارے ہاتھوں میں جادو ہے۔ہر پریشانی کو بھگا دیتا ہے،،وہ مسکرا کر بولا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
“نگی شراب کی بوتل کا بندوبست کر لیا ہے۔،،
“اس کی کیا ضرورت ہے افنان ،،زہرہ چھڑ کر بولی۔
“ضرورت ہے پاٹنر باہر جو عورتیں مرد ہیں وہ سب بازف کے آدمی ہیں تو شک کی کوئی گنجائش نہیں،،وہ بولتا باہر چلا گیا۔
“یا اللہ یہ جو سب کے چہروں پر مسکراہٹ لاتا ہے اس کے اپنے چہرے پہ مسکراہٹ کیوں نہیں آ رہی یا اللہ جو افنان کے حق میں بہتر ہو وہ ہی کرنا جس سے وہ خوش رہ سکے۔،،زہرہ نے دل سے دعا کی اور اس کے پیچھے باہر نکل گئ۔
“مجھے تو اس جگہ خوف آتا ہے لڑکیاں خود کو تھالی میں رکھ کر پیش کرتی ہیں کتوں کو توبہ استغفار ،،
وہ سر سیٹ کی پشت سے ٹکا کر گہرا سانس لینے لگی۔
“کہا تو تھا وہاں مت جانا تو پھر کیوں گئ۔۔،،افنان لینڈکلاوزر پہ سارا غصہ نکل رہا تھا۔اس نے سپیڈ بڑھا دی۔
“شادن کیا کر رہے ہو پلیز سپیڈ آہستہ کرو،،زہرہ نے اپنے اڑ رہے بالوں کو پیچھے کیا۔اس کے خوف زدہ ہونے پہ افنان نے بریک پہ پاؤں رکھ دیا۔
اور نیچے اتر گیا۔
سفید شرٹ جس کے بٹن آدھے کھولے تھے ہر طرف اندھیرا تھا پھر بھی اس کا روشن چہرہ چمک رہا تھا۔ہاتھ میں ماشی کا دوپٹہ تھا جو اس نے غیر ارادہ طور پہ اٹھا لیا
“افنان ،،زہرہ نے اسے آواز لگائی اور ایک طرف اشارہ کیا وہاں ایک گاڑی کھڑی تھی جو ان کا پیچھا کر رہی تھی۔
پھر انہوں نے ایکٹنگ شروع کر دی۔
“افی یہ تو وہ ہی لڑکا ہے جو میں نے صبح بازف کے ساتھ دیکھا تھا کہیں ان کو شک تو نہیں ہو گیا۔،،زہرہ نے افنان کے کان میں گھس کر کہا۔
“نہیں شک نہیں ہو گا۔بوٹل کہاں ہے۔،،وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا اور گرین ٹی والی بوتل منہ سے لگا لی۔اور گاڑی سے اتر کر روڈ پہ چلنے لگا
“افنان بس کرو زیادہ نہ پئو تمہاری طبیعت بگڑ جائے گی۔،،زہرہ نے اس کو پکڑ لیا۔
“نگی ڈارلنگ ابھی زیادہ کہاں پی ہے۔۔میرا دل کرتا ہے کہ پی پی کے مر جاؤں۔،،اس نے بازو اس کے شہانے پہ حائل کر کے اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا۔پر زہرہ کے دل میں اتھل پتھل مچ گئی
“افنان کتنی بار کہا ہے کہ مرنے کی بات نہ کیا کرو،،وہ افنان کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھر کے محبت سے بولی۔افنان نے بھی محسوس کی تبھی وہ اس کے پاس سے نکل گیا۔گاڑی ابھی بھی وہاں ہی کھڑی تھی علی ان دونوں پہ نظر رکھے ہوئے تھا۔
“ارے یہ یہاں کیا کر رہی ہے بے واقوف لڑکی۔،،افنان کی نظر ماشی پہ پڑھی۔پھر اس نے علی کو دیکھا وہ ابھی بھی وہاں ہی تھا۔
“اب کیا کریں،،
“جو کر رہے ہیں وہ ہی ،،افنان کہتا ماشی کی طرف بڑھ گیا۔ماشی ایک بار پھر سے چوٹ لگوا بیٹھی تبھی
سڑک پر چلی گئی اور تیز رفتار گاڑی اس کو کچل گئ ۔افنان اور زہرہ دونوں کا سانس روک گیا۔افنان اسے ہوسپٹل لے گیا۔
*******
“فہد وہ بےوقوف باہر کیوں نکلی۔لے جاؤ اسے یہاں سے پلیز کیوں وہ ہارش کے سامنے آئی جب ہماری لڑائی ہو رہی تھی۔پھر باہر اور پھر سڑک پہ۔بس اب اسے لے جاؤ میں اور برداشت نہیں کر سکتا،،افنان اور وہ ہوٹل میں بیٹھے تھے افنان کا دل کر رہا تھا وہ ماشی کو دو تین تھپڑ مار کر پوچھے کہ کیوں ہر بار زخم لے لیتی ہو۔کسی اور کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔
“اچھا ریلکس افی۔میں لے جاؤں گا اسے۔اور یہ ہاتھ کو کیا ہوا،،فہد نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا جس پہ پٹی بندھی ہوئی تھی۔
“کچھ نہیں ہوا تم اسے لے جاؤ بس۔اور ہاں جانے سے پہلے آسام اور اس کا رشتہ پکا کرتے جانا،،افنان نے نظریں جھکا لی۔
“کیا یہ کیا کہ رہے ہو تم یار آسام اور ماشی۔،،فہد نے حیرانگی سے سوال کیا تو افنان نے ساری بات سنا دی۔
“اور افنان تم،،
“مجھے چھوڑو تم بتاؤ کر کے جاؤ گے نہ،،افنان آگے ہو کر بیٹھ گیا۔
“ماموں لوگوں کو کیا کہوں گا۔،،فہد ہاتھوں کو آپس میں جکڑ کر ٹیبل پر رکھ کر آگے کو جھکا
“فہد میں تنگ آ چکا ہوں ان سب ڈراموں سے اب ان سب کو سامنے تو لانا ہو گا۔اور میں سویزیلینڈ جا رہا ہوں۔،آسام میں کوئی کمی نہیں وہ اس سے بہت محبت کرتا ہے ڈاکٹر بننے والا ہے میری طرح موت کا بھی ڈر نہیں،،،افنان نے سر کرسی سے ٹکا لیا۔
“افنان تم ٹھیک ہو میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ ان چکروں میں مت پڑ پر تو مانا نہیں،،فہد کے چہرے پہ بےبسی آ گئ۔
“فہد تمہیں پتا تھا نہ کہ ماشی مجھ سے نہیں محبت کرتی ہے تو کیوں نہیں بتایا،،
“مجھے غائب سے علم ہونا تھا پر میں نے ایک بار اس کے ہاتھ میں خط دیکھا تھا۔،،فہد نے انگلیوں سے کان پٹی مسلتے ہوئے بولا۔
“بات سنو افنان تم اب یوں ایک جگہ تو نہیں ٹک سکتے۔تمہارا کام کیا ہے جانتے ہو نہ،،
“پلیز یار بار بار یاد مت دلوایا کرو تم اور زہرہ۔
میں اچھے سے جانتا ہوں۔بس وہ یہاں نظر نہ آئے کسی بھی طرح اسے لے جاؤ ،،وہ روڈ ہو گیا تھا فہد سمجھ سکتا تھا اس کی اس حالت کو۔
“افنان پلیز کم ڈاؤن۔یہ لو پانی پیئو،فہد نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھا دیا۔
اس نے پانی پیا اور اٹھ کر چلا گیا۔
“اسے کیا ہوا ہے،،زہرہ جو سامنے سے آ رہی تھی اس سے ٹکرا گئ پر وہ بغیر کچھ بولے چلا گیا فہد نے شہانے آچکا کر نفی میں سر ہلا دیا۔
“یہ لیں بھائی ۔بازف کی میٹنگ ہے اس میں۔اور ساری ڈیٹیل ہے۔مجھے لگتا ہے آسام کو اندھیرے میں نہیں رکھنا چاہئے۔وہ علی پہ یقین کرتا ہے کہیں علی اور نیلم نے ناجائز فائدہ اٹھایا تو ۔اور ہاں بھائی اس بچے کی ماں کا پتا چل گیا ہے وہ لڑکی وہاں ہی ہے کوٹھے پہ ،،زہرہ نے اچھے سے حجاب کیا ہوا تھا اور نیچے برقع پہن رکھا تھا۔
“میں اور افنان نے ایک درس کے لئے جگہ خرید لی ہے ان عورتوں کے لئے سب کچھ ریڈی ہے۔اب جب بازف کو پکڑیں گے تب اس کے سارے کارنامے بن کریں گے اور جن عورتوں کو زبردستی یہ کام کروایا جا رہا تھا ان کو درس گاہ پہنچا دیں گے اور جو اپنی مرضی سے کرتی تھی۔۔،،فہد نے لمبا سانس لیا۔اور ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر سوچنے لگا
“ان کا کیا کیا جائے؟؟،،فہد نے زہرہ سے سوال کیا۔
“بھائی مجھے نہیں لگتا کوئی عورت خود ایسے گھٹیا راستے پہ چلے گی ۔پہلے مجبوری اور پھر ۔ پھر ان کی عادت بن گئ،، ذہرہ نے سنجیدگی سے کہا۔پھر تھوڑی دیر وہ اس معاملے پر ڈسکس کرتے رہے۔زہرہ کو دیکھ کر فہد کے ذہین میں ایک سوال پیدا ہوا
“ایک بات پوچھوں،،فہد یو ایس بی کو گھماتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔۔
“جی ،،
“کیا تم افنان کو چاہتی ہو،،فہد نے بےجھجھک سوال کیا۔زہرہ کو لگا کسی نے اس کے سر پہ زور سے کچھ مار دیا ہو
کیا محبت واقع ہی آنکھوں سے جھلک جاتی ہے؟کیا واقع ہی وہ انسان کا راز نہیں رکھتی
کیا واقع ہی وہ اس قدر افنان کو چاہتی ہے۔،،
“دیکھو زہرہ میرا مطلب کچھ خاص نہیں بس یہ ہی ہے کہ اسے پہلے جیسا بنا دو وہ صرف تم کر سکتی ہو مجھے اس کے چہرے کی پریشانی دیکھی نہیں جا رہی۔کیا تم کر سکتی ہو ؟،،فہد نے امید بھرے لہجے میں کہا۔
“کوشش کروں گی۔میں بھی یہ ہی چاہتی ہوں کہ وہ پہلے کی طرح خوش رہا کرے پر محبت ہر جذبات پہ بھاری پڑ جاتی ہے اسے سمجھاؤں گی آپ فکر نہ کریں،،زہرہ نے مسکرا کر کہا۔
“وہ جا رہا ہے ایک ویک کے لئے پر جب واپس آئے تو تم اسے بتا دینا،دیکھو بھائی میں تو یہ محبت وحبت کے چکروں کو اتنا نہیں جانتا ہاہاہاہا ،،فہد نے ہلکا سا کہکا لگا کر کہا۔تھوڑی دیر کی گفتگو کے بعد زہرہ واپس چلی گئ اور فہد ہوسپٹل چلا گیا۔
*****
وہ جب سویزیلینڈ جا رہا تھا تو دماغ میں بس ایک ہی بات تھی۔
“کاش اس بار میں جاؤں تو کبھی نہ لوٹوں وہ حویلی گیا تھا اس کو دیکھنے پر وہ کمبخت اٹھ گئ۔نہ چاہتے ہوئے بھی افنان کو روڈلی بی ہیور کرنا پڑا۔جب اس نے افنان کو ایک ہاتھ پہ کئ بار زخم دے دیئے تو اس دن پہلی بار وہ اسے مرہم دے رہی تھی۔
“میں نے کبھی ڈرینک نہیں کی یہ میری کمزوری جھلکتی ہے آنکھوں سے آنسوں بہتے ہیں۔تم کیوں نہیں سمجھتی۔ایک زہرہ ہے جو بغیر مجھے دیکھے میری حالت جان لیتی ہے۔کون کہتا ہے مرد کمزور نہیں ہوتا۔کون کہتا ہے جو کہتا ہے وہ جھوٹ کہتا ہے۔اتنی محبت کے باوجود تم کو احساس نہیں ہوتا کاش تم ایک بار سمجھ جاتی کہ یہ سب صرف تمہاری اور آسام کی خوشیوں کے لئے کرتا ہوں۔مجھے کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ جب بھی بات کرنے آتا ہوں تم یوں ہی ری ایکٹ کرتی ہو،،وہ اس کے چہرے کو دیکھ کر سوچنے لگا۔
اور پھر زلیل خوار ہو کے واپس چلا گیا۔
“مجھے اب بہت مزہ آتا ہے اپنے آپ کو تکلیف دے کر،،وہ ملک ہاؤس سے نکلتے ہوئے مسکرا دیا۔
وہ ماشی کو میسجز تو لکھتا تھا پر سینڈ کرنے کی کبھی ہمت ہی نہ ہوتی ۔
کیوں وہ اپنے جذبات کا مذاق بنواتا۔
******
ساگر لوگ اسے ڈرینک تھماتے تو وہ پیتا نہیں تھا۔پر وہ بہت بری طرح سموکنگ کرنے لگا تھا۔عادت تھی یا مجبوری وہ نہیں سمجھ سکتا تھا بہت بار اسی عادت پہ اسے خود پہ غصہ آتا تھا۔
“ہیلو،،وہ سویزیلینڈ میں بیڈ پر اندھے منہ لیٹا ہوا تھا تبھی زہرہ کا میسج آیا تو وہ کال ملا کے ویسے ہی لیٹا رہا۔
“ہیلو کیسی ہو ،،
“ٹھیک ہوں تم کیسے ہو بغیر بتائے چلے اٹس ناٹ فیئر مسٹر خان،،زہرہ جھجھک کر بول رہی تھی ارادہ اس کا صرف افنان کا موڈ ٹھیک کرنے کا تھا
“کیا ہوا افنان آپ ٹھیک ہیں نہ،،وہ جب تھوڑی دیر بولا نہ تو زہرہ سمجھ گئ کچھ ٹھیک نہیں۔ وہ
“میرا سر بہت دکھ رہا ہے زہرہ۔۔۔۔۔دل کر رہا ہے دیوار میں سر دے ماروں یار پتا نہیں کیا ہے بےچینی دل میں گھر کر گئ ہے کیا کروں،،وہ سر بیڈ کی پشت سے ٹکا بیٹھا اور ایک ہاتھ سے سر تھام لیا۔دوسری طرف زہرہ بھی پریشان تھی۔
“دیکھو دل میں کچھ مت رکھو افنان آپ کمزور نہیں پڑ سکتے خود ان دونوں کو ایک کیا اب صبر رکھو۔یہ کیسی محبت ہے کہ اس کی خوشی نہیں دیکھ پا رہے۔،،زہرہ کے دل میں اتھل پتھل مچ چکی تھی دل حلق میں آ گیا تھا۔افنان پریشان تھا وہ جانتی تھی وہ تڑپ رہا ہے وہ جانتی تھی اس نے فرار کاراستہ اختیار کیا۔وہ بھی صرف آسام ماشی کے لئے وہ جانتی تھی ٹھیک کہتا تھا افنان کہ وہ اسے جانتی تھی کیونکہ اس کی محبت ہی ایسی تھی،
“شادن۔۔۔،،وہ اس کی خاموشی سے ڈر کے بولی۔
“بعد میں بات کرتے ہیں اللہ حافظ اپنا خیال رکھنا،،وہ کال کاٹنے لگا
“شادن پلیز لیسنٹ،،وہ اس کا ارادہ بھانپ کر بےبسی سے بولی۔
“فکر مت کرو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ریسٹ کرو وہاں آرام کے لئے گئے ہو نہ تو کوئی ٹینشن نہیں لینا
ہاں اگر دل نہیں لگ رہا تو کارٹون دیکھ لو،ہاہاہاہاہا،،زہرہ نے بے بسی سے کہکہا لگا کر کہا۔افنان نے بھی کوشش کی اور کال کاٹ کر پھر سے لیٹ گیا۔تبھی انوشکا لوگ اس کے پاس آئی تو اس نے اچھی خاصی ایکٹنگ کرکے انہیں بھیج دیا۔
*********
وہ افنان کے کہنے پہ واپس کراچی چلی گئی تھی۔
“بیٹا ادھر آؤ ،،سکندر بالکنی میں بیٹھے تھے اور موسم سے لطف اندوز ہو رہے تھے
“جی ڈیڈ،،وہ ان کے پاس آکر بیٹھ گئ اور مسکرا کر بولی مسکراہٹ بہت پھیکی تھی۔
“کیا ہوا بیٹا جان۔۔۔،،سکندر نے زہرہ کے سر پہ ہاتھ رکھ کر پوچھا۔
“کچھ نہیں ڈیڈ
“تو یہ اداسی۔۔۔افنان یاد آ رہا ہے۔۔،،سکندر نے مسکراہٹ دبا کر سوال کیا تو چھنپ گئ۔
“سب جان گئے تم کیوں نظر انداز کر دیتے ہو افنان۔۔۔،،اس نے دل میں اسے مخاطب کیا۔وہ جو صرف اسی کو نظر انداز کرتا ۔وہ بھی بے بس تھا کوئی اختیار نہیں تھا دونوں الگ الگ پر ایک ہی قسم کے احساسات سے دو چار تھے۔
“فکر مت کرو بیٹا جان جو اللہ قسمت میں لکھ دیتا ہے اسے کوئی آپ سے چھین نہیں سکتا۔جیسے میری قسمت میں شگفتہ کو لکھا تھا۔آپ نے تو مجھے میرے گزرے دن یاد دلوا دیئے ہاہاہاہاہاہاہا میں بھی کئ کئ گھنٹوں اس کو یاد کرتا رہتا تھا۔پھر جب امید ہار گیا تب وہ اللہ نے مجھے لوٹا دی،،سکندر نے سنجیدگی سے کہا اور پھر اپنی گزری زندگی کے بارے میں کبھی ہس کے تو کبھی رو کے سنا دیا۔
“ڈیڈ میں نے اسے چاہا ہے پر پانے کی خواہش کیوں نہیں کیوں میرا دل کرتا ہے وہ خوش رہے جہاں بھی رہے بس خوش رہے اور میرے سامنے رہے،،زہرہ نے نظریں اٹھا کر سکندر کو دیکھا۔
“صبر رکھو بیٹا جان وہ خوش بھی رہے گا اور آپ کے سامنے بھی رہے گا،،سکندر نے اس سر پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔
