Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 37)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 37)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
گزر گئ رات آنکھوں آنکھوں میں
ہو گئ ملاقات آنکھوں آنکھوں میں
صدیوں سے تھی پیاسی محبت
بوجھ گئ پیاس آنکھوں آنکھوں میں
“زہرہ میں اسے آخری بار اپنے پاس بیٹھا کر دیکھنا چاہتا ہوں میں اسے لینے جا رہا ہوں بس کچھ دیر کے لئے اس سے باتیں کرنا چاہتا ہوں۔وہ محبت کرتی ہے مجھ سے۔،،وہ عجیب سی خواہش کر رہا تھا زہرہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی وہ جو سمجھ رہی تھی کہ افنان سویزیلینڈ سے سیدھا اس کے پاس آیا ہے شائد اس سے ملنے وہ سب غلط نکلا.
“آر یو میڈ ادھر آؤ،،وہ لاؤنچ سے اسے کھینچتی کمرے میں لے گئ۔تاکہ سکندر اٹھ نہ جائے۔
“ایسا کچھ مت کرنا افنان پلیز
“زہرہ وہ مجھ سے محبت کرتی ہے اگر نہ کرتی ہوتی تو اسے کیسے معلوم ہوتا کہ مجھے کچھ ہونے والا ہے۔اور اس نے پہلی بار مجھ سے بات کی میری فکر ہے اس کو۔میں غلط نہیں تھا اس کے دل میں میرے لئے محبت ہے،،افنان نے اسے بازوؤں سے تھام لیا۔وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی۔کیا وقت آیا تھا اس پہ
“بس یہ پہلی اور آخری بار میں اسے صرف اپنے لئے لاؤں گا شائد شائد وہ ۔۔،،افنان خوشی سے جھوم رہا تھا۔
زہرہ نے دل سے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا۔
“اگر وہ مجھ سے محبت کرتی ہوئی تو کیا میں اس سے شادی کر لوں۔بس اب میں کچھ سوچنا نہیں چاہتا اسے منانا چاہتا ہوں۔کیا میں اس سے شادی کر لو؟؟ ،،افنان ایک مظبوط نہیں بلکل ایک دیوانہ افنان لگ رہا تھا پہلی بار وہ اس طرح دیوانگی کی حد پار کر رہا تھا
زہرہ اس کے سوال پر چونک گئی۔
” بتاؤ کیا میں کر لوں اس سے شادی،،افنان نے اسے دیکھا۔
“لو اب یہ بات بھی مجھ سے پوچھو گے،،زہرہ نے مسکرا کر اس کے سر پر تھپکی رسید کی۔وہ تو یہ ہی چاہتی تھی کہ اس کا افنان خوش رہے جیسے بھی رہے پر خوش رہے
“تم پہ یقین ہے نہ تم جو بھی کہتی ہو میرے لئے ٹھیک ہوتا ہے،،افنان نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔زہرہ کے اندر تک آگ لگ گئ اس کا لمس ہی جان لیوا ہوتا تھا جب بھی چھوتا وہ کانپ جاتی۔
“تو پھر مت جاؤ۔مجھے چھوڑ کے،،اس کی زبان پھسلی۔وہ چکرا گئ۔وہی افنان حیرانگی سے اسے دیکھ ریا تھا۔اور وہ جلدی سے اس سے ہاتھ نکلوا کے منہ موڑ گئ۔
کیسی مشکل گھڑی تھی۔وہ اپنے دل پہ قابو پاتی مڑی اور مسکرائی۔
“جاؤں،،وہ بتا رہا تھا زہرہ نے ہاں میں سر ہلا دیا۔پر جب افنان نے قدم بڑھائے تو افنان کی واچ زہرہ کے نیٹ کے بازو میں رہ گئ۔
“سوری ،،۔وہ اتنی جلدی میں تھا کہ گھڑی ہی اتار کر چلا گیا۔زہرہ نے ہر بار کی طرح اسے بہت ساری دعائیں دے کر رخصت کر دیا تھا۔پر ہر بار کی طرح اس بار بھی اس کی دعائیں رنگ نہیں لائی تھی۔
********
ماشی کی شادی ہو گئ اور جب وہ آسام کے ساتھ اپنی نئی زندگی کی شروعات کو آگے بڑھی تو افنان بازف کو مارنے پیٹنے چلا گیا۔ایس پی اس کا دوست تھا نہ چاہتے ہوئے بھی اسے اندر بھیج دیا۔
جب جی بھر گیا تو واپس آ گیا۔
“محبت ہو گئی کسی اور کی۔۔،،وہ لڑکھڑاکر حویلی میں داخل ہوا فہد نے اسے دیکھ لیا تھا۔اور
“افی سمبھالو خود کو،،فہد اسے پکڑتے ہوئے بولا۔
“افنان رندھاوا ہار گیا محبت نہیں حاصل کر سکا ماشی ماشی کسی اور کی ہو گئ۔کتنے سال اس۔۔اسے چاہا وہ کیوں نہیں سمجھی۔سب کی خوشی کے آگے میں نے کبھی اپنا خیال نہیں کیا وہ تو کرتی،،افنان رو رہا تھا۔فہد کو جس دن کا ڈر تھا وہ دن آگ بن کر سب جلا رہا تھا افنان کے اندر دل میں آگ لگ چکی تھی۔وہ دنیا بھول چکا تھا۔
“افنان ہو کیاگیا ہے تمہیں پاگل ہو گئے ہو حالت دیکھی ہے اپنی.،،فہداسے کمرے تک لے گیا وہ سب بھول گیا تھا۔کیسے ممکن ہوتا ہے بھلا اپنی محبت کسی اور کو سونپ دینی۔۔
اور پھر زہرہ نے اس کی بہت کیئر کی اس کی محبت واضح جھلکتی تھی ۔پر وہ بیان نہیں کرتی تھی۔وہ بہت روئی تھی افنان کو اس حال میں دیکھ کر اس کی روح کانپ جاتی تھی پر ضبط کئے رہتی۔
**********
“زہرہ ادھر آؤ ،،افنان کو بہت تیز بخار تھا ساری رات وہ اس کے پاس بیٹھی اس کو دم کرتی رہی آنسوں جاری ہو جاتے۔دو دن سے وہ بھوکی پیاسی اپنا آپ بھلا کے افنان کی خدمت میں لگی ہوئی تھی بغیر کسی لالچ کے بغیر کسی خواہش کے بس ایک خواہش وہ خوش رہے۔اب بھی وہ اسے سوپ دے کے مڑی تھی تو افنان کی آواز سن کے وہ پلٹی۔
“منہ کھولو،،افنان نے سوپ کی چمچ اس کے منہ کے نزدیک کر کے کہا۔
“ن۔نہیں مجھے بھوک نہیں ہے افی تم پیؤ،،اس نے اس کے ہاتھ کو گھمایا تو افنان نے چونک کر اسے دیکھا۔زہرہ کا جسم آگ کی طرح سلگ رہا تھا۔
“زہرہ تمہیں بخار ہے۔۔۔،،
“نہیں بس ہلکی سی تھکان ہو گئ ،،وہ مسکرا کر اٹھنے لگی پر افنان نے ہاتھ پکڑ لیا۔
“کیا بات ہے زہرہ تمہارے چہرے پہ وہ جو ہر وقت چپکی رہتی تھی۔۔۔وہ کہاں ہے تمہاری پیاری سی مسکراہٹ،،افنان نے سرخ آنکھوں کو اس کی سرخ آنکھوں میں گاڑھ دیا۔تب اسے معلوم ہوا کہ وہ روتی رہی کتنی سلگھاتی رہی ہے وہ اندازہ ہو گیا تھا افنان کو۔وہ ہونٹ بھینچ کر سر جھکا کر گئ چوری پکڑی گئی تھی اس کی۔
“کیا ہوا زہرہ ،،
“تمہیں کیا ہوا ہے،،الٹا اس نے اس سے سوال کیا۔
“تم جانتی ہو۔
“مجھ سے نہیں برداشت ہوتا تمہارا یوں اس حالت میں ہونا۔نہیں برداشت ہوتے تمہاری آنکھوں میں آنسوں۔بےبس ہو جاتی ہوں تمہیں تڑپتا دیکھ کر،،وہ یکدم بولنے لگی تھی۔افنان نے اس کا ہاتھ تھام لیا
“تو تم کیا چاہتی ہو،،
“میں یہ ہی چاہتی ہوں کہ تم خوش رہو ،،
“پر کیسے رہوں،،
“افنان زندگی روکنے کا نام نہیں جینے کا نام ہے،،
“تو تم کیوں نہیں جی رہی،،وہ آج ایک دوسرے کے سامنے سوال بنے کھڑے تھے ۔
“میں جی رہی ہوں پر تم میرا جینا مشکل کر رہے ہو یوں خاموش رہ کر اس طرح وہ واپس نہیں آئے گی،،وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
“پلیز افنان میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں۔اپنی زندگی برباد مت کرو،،وہ اس کے سامنے بیڈ پہ ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گئی۔
“تم کیوں برباد کر رہی ہو۔،،افنان نے اس کے ہاتھ پکڑ لئے
“میں نہیں کر رہی ,،
“پھر میری ایک بات مانو گی،،افنان نے سرہانے پڑا لفافہ اس کے سامنے کیا تو اس نے پکڑ لیا۔اور ہاں میں سر ہلا دیا
“اگر مجھے خوش دیکھنا چاہتی ہو تو شادی کر لو یہ اچھے اچھے لڑکوں کی فوٹوز ہیں دیکھ لینا جو پسند آ جائے مجھے بتا دینا،،وہ اٹھ کر وارڈروب کی طرف بڑھ گیا۔زہرہ کی تو سانس حلق میں اٹک گئ
“م۔۔میں تم پہ بوجھ ہوں سیدھی طرح کہو،،وہ طحش میں آ کر بولی۔
“نہیں،پر ابھی تم نے کہا تم مجھے خوش دیکھنا چاہتی ہو،،افنان نے اس پہ نظر ڈالی جو سر تھام کر آنسوں پہ قابو پانے کی ناکام کوشش کررہی تھی
“ٹھیک ہے اگر تم اس طرح خوش ہو جاؤ تو میرے لئے مشکل نہیں ہے۔میں کچھ دونوں تک اپنا فیصلہ بتا دوں گی,،،وہ روکی نہیں تیز تیز قدم اٹھاتی کمرے سے نکل گئ۔
********
اگلے روز وہ صبح اٹھ کر اسلام آباد نکل گیا۔وہ کھڑی میں کھڑی بس دیکھتی ہی رہ گئ۔
“ڈیڈ وہ چاہتا ہے میں شادی کر لوں کیوں ڈیڈ
کیوں وہ میرے جذبات کا مذاق اڑانے پہ تلا ہوا ہے،،وہ کئ گھنٹوں سکندر کی گود میں سر رکھ کر روتی رہی۔افنان کے ساتھ ساتھ وہ بھی ٹوٹی تھی اندر تک وہ ٹوٹ گئ تھی
سکندر نے بڑی مشکل سے اس کو خاموش کروا کر میڈیسن دے کر کمرے میں بھیجا۔
*******
دو دن بعد افنان واپس کراچی آیا تھا نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے قدم ،خیالات،فکر سب زہرہ کی طرف بڑھ رہے تھے۔
وہ آتے ہی سو گیا تھا۔
رات تھوڑی تھوڑی پھیل رہی تھی جب وہ اٹھا۔
زہرہ کیچن میں کھانا بنا رہی تھی وہ فریش ہو کر اس کے پیچھے کھڑا دیکھتا رہا۔وہ رو رہی تھی۔
“تو کیا فیصلہ کیا ہے تم نے،،
“سب لڑکے اچھے ہیں تم جو فیصلہ کرو گے مجھے منظور ہو گا میں نے اپنی قسمت اور زندگی اللہ کے بعد تمہیں سونپ دی۔چاہئے برباد کر دو چاہئے آباد کر دو،،اور اس کے سامنے جا کر رک گئ۔افنان سینے پر ہاتھ باندھے ٹکٹی باندھےاسے دیکھ رہا تھا۔چند پل یوں ہی بغیر ہلے وہ ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔پھر زہرہ جاتے جاتے روک گئ
“اور یہ جو کارنامہ سر انجام دے کر آئے ہو کیا سوچ کر ٹیٹو بنوایا تم عام مرد نہیں کیوں بھول جاتے ہو۔کیوں اپنے فرائض کو بھول گئے ہو محبت اتنی مطلبی ہرگز نہیں ہوتی۔،،وہ انگلی دیکھا کر سختی سے بولی اور چلی گئی۔اس کی سختی میں ناراضگی تھی۔پر آنکھیں محبت برسا رہی تھی
“تو میڈم خفا ہیں،،افنان نے دل میں سوچ کر مسکرا دیا۔
“بات تو سنو زہرہ،ناراض کیوں ہو،،
“میں بھلا تم سے باراض کیوں ہونے لگی۔آخر کیا لگتی ہوں میں تمہاری،،اس کے انداز ناراضگی پہ افنان کی ہنسی چھوٹ گئی۔
“زہرہ بہت کیوٹ لگتی ہو اسی طرح لڑتی رہا کرو۔اور یہ ساگر لوگوں نے فورس کیا تھا تو بنوانا پڑا،،وہ ہنسنے کے وقفے میں بولا۔
“افنان مجھے شادی نہیں کرنی ،،تھوڑی سی خاموشی کے بعد وہ کہتی ہوئی کمرے میں چلی گئی۔آنکھیں ویران تھی،نہ پہلے والی چمک نہ وہ خوشی
“زہرہ میں تمہاری اس اداسی سے پریشان ہوں تم کیوں نہیں سمجھتی پر میں کیوں پریشان ہوں ،،وہ خود سے سوال کرتا بالکنی میں جا کھڑا ہوا۔
“بیٹا اکثر ہم ایک لمحے کی کیفیت کو محبت سمجھ لیتے ہیں جبکہ وہ غلط فہمی ہوتی ہے،،سکندر اس کے پاس آکر بیٹھ گیا۔افنان بات سمجھ چکا تھا۔
“پر ڈیڈ میں کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوں۔زہرہ صرف میری اچھی دوست ہے ،،
“پر وہ تو تمہیں اپنا سب کچھ مانتی ہے۔دیکھو بیٹا محبت کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ اس انسان کے پیچھے باقی سب کو بھی بھول جائیں۔وہ اب آسام کی بیوی ہے تم آگے بڑھو اور زہرہ بچی کے ساتھ قدم رکھو تم دونوں کی منزل ایک ہے تو ہم سفر کیوں نہیں پھر بنتے،اب آپ کو کوئی رولائے اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ آپ بھی کسی کے احساسات کی قدر نہ کرو اسے سولی پہ لٹکائے رکھو۔زہرہ بچی بہت اچھی ہے،کوئی اپنا نہیں ہے ہمیں وہ اپنا سب کچھ مانتی ہے خاص کر تمہیں ،بیٹا جان زندگی روکنے کا نہیں چلنے کا نام ہے میری بات پہ غور کرنا تمہارے پاپا کو اچھا لگے گا،،سکندر اس کے کاندھے پر تھپکی دے کر اٹھ گیا۔
افنان سوچنے لگا
ساگر لکی لوگوں کے فورس کرنے پہ اس نے ٹیٹو بنوایا تھا۔پر وہ سوچ زہرہ کے بارے میں رہا تھا۔اکثر وہ ماشی اور زہرہ کو کمپیئر کرتا تھا تو اس کی سلطنت میں جیت زیرہ کی ہوتی تھی۔یہ محبت ہی تو تھی۔پر وہ ماشی کے لئے محبت کےاظہار رکھتا تھا۔
اس نے آنکھیں بند کر لی۔
“کہتے ہیں جب آنکھیں بند ہوں اور بند آنکھوں کے اس پار اندھیرے میں ایک روشن چہرہ نظر آتا ہے،،وہ سوچنے لگا۔
بند آنکھوں میں اندھرہ گہرا ہو رہا تھا وہ بھول بھلیاں میں چلتا جا رہا تھا۔ہر طرف سیاہ رات کا پہرہ تھا۔یکدم قدم روکے ماشی نے اسے دیکھا اور نظریں جھکا کر گزر گئ۔
افنان ہونٹوں کو کاٹتا آگے بڑھا اسے روکنا نہیں تھا۔
ایک طرف سے اسے ہنسے کی آوازیں سنائی دی تو وہ اندھیرے میں آگے بڑھا
سامنے وہ زہرہ کے ساتھ تھا۔
زہرہ کو باہوں میں اٹھائے وہ گھوم رہا تھا اور دونوں کے قہقہے گونج رہے تھے۔
“آئی لو یو،،اس نے یکدم آنکھیں کھول دی۔
اور حیرانگی سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔پھر لمبا سانس لے کر کام میں مصروف ہو گیا۔
کیا سچ تھا کیا جھوٹ کیا وہ چاہتا تھا کیا قسمت وہ الجھا نہیں۔
پھر کچھ دونوں بعد وہ بہت بڑے آپریشن کے لئے آسلام آباد چلے گئے۔دونوں ایک بار پھر سب بھول بھال کے کام میں مصروف ہو گئے۔
**********
وہ زہرہ کو چاہنے لگا تھا۔اس کے ہر کام سے متاثر ہوا تھا۔ہر ادا اچھی لگتی تھی۔
سب سے زیادہ بات یہ کہ وہ اسے سمجھتی تھی۔
ہر جگہ اس کا ساتھ دیتی تھی۔
کبھی اسے ہتھیانے کے لئے جتن نہیں کرتی تھی۔
جب وہ بیمار ہو کے ہوسپٹل پہنچی تو افنان نے اطراف کیا کہ وہ اس کے لئے دل میں گہرے جذبات رکھتا ہے۔
وہ عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہو گیا۔
سکندر کا کہا ہر لفظ اسے یاد تھا آخر اس نے
زہرہ سے نکاح کا فیصلہ اس کا تھا۔ جس سے اس کے دل میں ایک عجیب سا سکون اترا تھا۔
*******
دو دن سے موسم خطرناک حد تک خراب تھا۔
شگفتہ نے افنان اور زہرہ کو جانے سے روک لیا تھا۔
آج بھی موسم شدید خراب تھا ہوائیں تیز چل رہی تھی۔بادل گرج رہے تھے۔
آسام ماشی کے پاس بیٹھا اسے سوتے دیکھ رہا تھا دو دن پہلے وہ جس طرح ری ایکٹ کر رہی تھی آسام پریشان ہو گیا تھا۔آج کل تو وہ زیادہ ہی پریشان رہنے لگا تھا کیونکہ اسے انجان نمبر سے عجیب عجیب میسجز مل رہے تھے۔
وہ اس کے بالوں میں ہاتھ چلا رہا تھا کہ اس کا فون بجا وہ ہی نمبر تھا اس نے کال کاٹ دی اور سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
“افنان اور ماشی ایسے نہیں ہیں مجھے ان پہ یقین ہے۔پر افنان نے ایسا کیوں کیا کیوں مجھ سے چھپایا اس نے ،،اس نے ماشی کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دیئے۔
پھر کال آنے لگی تھی اس نے اٹینڈ کی اور باہر نکل گیا۔
“تمہاری پروبلم کیا ہے۔۔۔،،کچھ دیر کو وہ روکا
“کیا بکواس کر رہی زبان سنبھال کے بات کرو میرے بھائی اور بیوی کے بارے میں ایسی وحیات باتیں مت کرو ،،آسام کی رگیں تن گئ۔ایک وہ پہلے سے ہی پریشان تھا اوپر سے وہ مثبت پھر کال کرنے لگی تھی
“سامی بے بی تم بےبی ہی رہنا۔ ارے کتنے بڑے ڈفر ہو تم ان کی کمیسٹری نظر نہیں آتی کیا۔میں کب سے تمہیں سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں تمہیں سمجھانے کی پھر بھی تم سمجھ نہیں رہے۔ووہ تمہاری آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں ثبوت میرے پاس ہے۔تم نے کیسے مان لیا کہ افی اپنی کسی چیز کو یوں چھوڑ دے گا اور ماشی وہ تمہیں پتا ہے افی کے کتنا پاس گئ ہے حد سے زیادہ کبھی تم دونوں اتنے پاس آئے ہو نہیں نہ کیوں کہ وہ۔۔اور افنان حدیں توڑ چکے ہیں تم سمجھ دار ہو یار کبھی تو آنکھیں کھولو ایک مہینے سے میں تمہیں سمجھا رہی ہوں یار ولیمے والے دن ،جب وہ اسے اٹھا کر لے گیا لیا یوں ہی لے گیا تھا کیا نہیں سامی سوچو پلیز ،،
“بکواس بند کرو پہلے بھی تمہیں کہ چکا ہوں کال مت کرو سمجھی تم۔ آئندہ کال کی تو مجھ سے برا اور کوئی نہیں ہو گا،،آسام نے غصے سے کہا اور چلتا ہوا صحن میں رکھی کرسی پہ جا بیٹھا۔
انوشکا کی باتوں نے اسے خاصا ڈسٹرب کر رکھا تھا دو مہینے سے پر وہ یقین نہیں کر رہا تھا کرتا بھی کیوں ماشی وہ تھی جو اس سے محبت کرتی تھی اور افنان وہ تھا جو اس کا بھائی تھا۔پھر بھی جب کوئی برین واش کرے انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔وہ یقین کرتا تھا پھر بھی
اس کی آنکھوں کے سامنے ماشی اور افنان کا ہس ہس کے باتیں کرنا آ رہا تھا۔وہ۔وہ کیا کیا سوچنے لگا تھا
“کیا واقع ہی افی اور ماشی۔۔،،آسام ہونٹوں پہ انگلیاں رکھ کر
سوچنے لگا
“اگر ایسا کچھ تھا تو دونوں نے شادی کیوں نہ کی۔۔۔شائد وہ،،
“چھچ میں بھی کیا سوچ رہا ہوں نہیں میری ماشی ایسی نہیں ہے اور میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہوں،،وہ اٹھ کھڑا ہوا اور کمرے میں چلا گیا پر ماشی کمرے میں نہیں تھی۔
وہ حیران ہو کر دیکھنے لگا اور پھر باہر چلا گیا۔
******
جب آسام کمرے میں نہیں تھا تو وہ کمرے سے نکل کر چھت پہ جا بیٹھی تھی۔افنان اور زہرہ کی باتوں نے اسے خاصا ڈسٹرب کر دیا تھا۔اور بھی کچھ تھا جو اس کے دل میں درد بھر رہا تھا۔سر تھا کہ چکرا رہا تھا۔پیچھلے دو دن سے وہ بیمار تھی
کو پیچھلے یہ ہی سوچ رہی تھی کہ کیوں کیا فہد اور افنان نے ایسا سب سے کیوں چھپایا آخر کیا ملا انہیں
“ماشی یہاں کیا کر رہی ہو سردی بہت ہے موسم بگڑا ہوا ہے کمرے میں جاو،،افنان پیچھلے لان سے واپس کمرے میں جا رہا تھا ماشی کو چھت پہ بیٹھا دیکھ بولا ماشی نے ایک افسوس بھری نظر اس پہ ڈالی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
“چاندنی۔۔۔۔،،ماشی کا شائد سر چکرا گیا تھا وہ گرنے لگی تھی پر افنان نے اسے اپنی باہوں میں سمیٹ لیا۔
“تم ٹھیک ہو نہ کیا ہوا طعبیت ٹھیک ہے نہ ،،افنان نے اس کے چہرے کو دیکھا جو پھیکا پڑھ چکا تھا۔آنکھیں سرخ ہو چکی تھی۔بال بکھرے وہ بکھر چکی تھی۔
“کیوں کیا تم نے اس طرح۔۔کیوں کیا ملا تم کو یہ سب کر کے۔ کیا ملا افنان کیا ملا مجھے تکلیف دے کر۔کیا ملا پھوپھو کے جذبات کے ساتھ کھیل کر آخر کیا،،ماشی اس کے گریبان کوپکڑ کر اسے جھنجھوڑنے لگی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے تھے۔افنان کے ہاتھ ابھی اس کی کمر پہ تھے۔
۔آسام کے قدم رک گئے اس کے پیروں تلے سے زمین سرک گئی۔ماشی کے دونوں ہاتھ افنان کے گریبان پر تھے اور افنان کے ہاتھ ماشی کی کمر پہ۔
“سامی۔۔۔،،افنان اس کی موجودگی پا کر چونک گیا اور ماشی کو کھڑا کر دیا وہ پھر سے لڑکھڑا گئی تھی اس نے افنان کا بازو تھام لیا۔اور منہ پہ ہاتھ رکھ کے شائد کچھ روکنے کی کوشش کرنے لگی۔افنان نے اسے کرسی پہ بیٹھا دیا۔بیمار لگ رہی تھی۔
“آسام پلیز مجھے کمرے میں لے جاؤ میرا سر چکرا رہا ہے۔۔۔دل خراب ہو رہا ہے،،ماشی نے کرسی کو تھام لیا اور سر اس کی پشت سے ٹکا دیا۔آسام نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔اور پھر افنان کو۔ایک بار پھر سے اس کے پیروں تلے سے زمین سرک گئی۔۔
“یہ۔۔یہ کب ہوا ہمارے درمیان تو ایسا کچھ نہیں ہوا پھر یہ،،وہ خود سے سوال کرنے لگا۔
“سامی ماشی کو کمرے میں لے جاؤ طعبیت خراب ہے اس کی سوچ کیا رہے ہو،،افنان نے نارملی کہا تھا پر آسام کے چہرے پہ کئ رنگ آ کر چلے گئے۔ جو افنان نے نوٹس کئے۔پر وہ جلدی سے ماشی کی طرف بڑھا
“ماشی آپ ٹھیک ہیں ،،آسام نے اسے گود میں اٹھا لیا اور
سیڑھیاں اترنے لگا۔
“ہاں بس سر چکرا رہا ہے ومٹنگ ہو رہی ہے،،آسام چپ چاپ چلتا رہا۔کمرے میں بیڈ پہ لٹا کر وہ صوفے پہ بیٹھ گیا اور ماشی کو دیکھنے لگا۔
“سامی بے بی تم بےبی ہی رہنا ارے کتنے بڑے ڈفر ہو تم ان کی کمیسٹری نظر نہیں آتی کیا وہ تمہاری آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں ثبوت میرے پاس ہے۔تم نے کیسے مان لیا کہ افی اپنی کسی چیز کو یوں چھوڑ دے گا اور ماشی وہ تمہیں پتا ہے افی کے کتنا پاس گئ ہے حد سے زیادہ کبھی تم دونوں اتنے پاس آئے ہو نہیں نہ کیوں کہ وہ ،،
اس کے کانوں میں ایک بار پھر یہ فقرے گونجے۔
“نہیں مجھے اس انوشکا کی باتوں پہ یقین نہیں کرنا چاہئے۔پر اس کی دوشمنی کیا ہے وہ کیوں جھوٹ بولے گی۔شائد وہ افنان کو پانا چاہتی ہو۔۔۔پر اگر وہ اسے پانا چاہتی ہوتی تو نگین کو ایسا کچھ کہتی مجھے کیوں شاید یہ سچ ہو شائد افنان اور،،اس نے چونک کر ماشی کو دیکھا جو واش روم سے واپس آ رہی تھی۔اور ٹاول سے منہ صاف کر کے سر تھام کر بیڈ پر بیٹھ گئ۔رنگ پیلا پڑ گیا چکا تھا۔کمزوری وجو پہ طاری تھی
“ہمارے درمیان ایسا کچھ ہوا نہیں پھر ماشی پریگننٹ کیسے۔کیا یہ دونوں حدیں توڑ چکے ہیں؟
پر میرے ساتھ ایسا کیوں کیا ماشی؟۔محبت کےبدلے رسوائی کیوں دی۔محبت کے بدلے دھوکہ کیوں دیا میری محبت میں کیا کمی تھی۔مجھ میں کیا کمی تھی۔۔،،وہ پتا نہیں کیا کیا سوچنے لگا تھا۔
“آسام آپ کچھ دونوں سے پریشان ہیں کیا بات ہے،،وہ اس کے پاس آکر بیٹھ گئ۔آسام نے جانچتی نظروں سے ماشی کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“کچھ نہیں بیگم جان آپ سو جائیں چلیں،،آسام نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔
“نہیں آسام پلیز ٹیل می کیا بات ہے میں آپ کو کافی دونوں سے نوٹس کر رہی ہوں آپ پریشان ہے کیا بات ہے،،ماشی نے ایک ہاتھ اس کی رخسار پہ رکھی تو آسام کو اس کے ہاتھ میں افنان کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا۔تو وہ اچھل کے اس سے دور ہ ہو گیا۔
“ک۔کچھ نہیں آپ ریسٹ کریں،،آسام نے نظریں جھکا لی وہ کیسے ماشی کو کہ دیتا پر جب اس نے زیادہ فورس کیا تو آسام بول دیا۔
“ماشی آپ پریگننٹ کیسے ہوئی۔۔،،آسام نے طنزیہ انداز میں سوال کیا جو ماشی نے محسوس نہیں کیا۔
“پتا نہیں پر ہو گئ نہ۔۔آپ پاپا بننے والے ہیں،،وہ اٹھ کے اس کے پاس آکر بیٹھ گئ۔
“بٹ ماشی ہمارے درمیان ایسا کب ہوا مجھے یاد کیوں نہیں اگر میں،،وہ اس کی طرف گھوم گیا۔اس بار اس نے اطمینان سے سوال کیا۔آخر تھا تو وہ مرد ہی کیسے برداشت کرتا اس کی حالت دیکھ کر اب تو وہ منہ سے بھی اقرار کر رہی تھی۔
“آسام کیسے سوال کر رہے ہیں۔ہو کیا گیا ہے آپ کو ۔۔،،ماشی نے اس کے چہرے کو ہاتھوں میں تھام لیا۔آسام تھوڑی دیر اسے دیکھتا رہا اور پھر نفی میں سر ہلاتا اٹھ گیا۔دماغ میں عجیب خیالات آ رہے تھے۔
اور آج تو وہ یہ بھی جان گیا تھا آخر چاندنی ہے کون۔
“آسام رکو۔۔۔،،ماشی اٹھ کر اس کے پیچھے بھاگی۔اور جلدی سے دروازہ کھولا تو تیز ہوا کا جھونکا اندر آیا اس کے وجود سے ٹکرایا پر وہ روکی نہیں لمبے برآمدے میں بھاگتی گئ۔
گھرمیں کوئی موجود نہیں تھا سب ہارش کے ہاں گئے ہوئے تھے۔
“آسام کہاں جا رہے ہو پلیز رکو،،
ماشی کا دوپٹہ اڑ گیا گرتے گرتے دو بار بچی پر وہ روکا نہیں حویلی بلکل سنی تھی۔ماشی کی پائل کی آواز چھن چھن اور تیز ہوا نے سناٹے کو توڑا۔ذہرہ اور افنان کمرے میں بیٹھے تھے ماشی کی آواز سن کر وہ دونوں باہر بھاگے۔
“آسام آپ کو میری قسم روک جاؤ پلیز ،،،ماشی بھاگتے ہوئے بولی۔آسام کے قدم رک گئے۔وہ آنکھیں بند کر کے کھڑا رہا اور پھر مڑا۔
“کیا ہوا سامی۔۔۔کہاں جا رہے ہو،،افنان اور زہرہ ماشی کے پاس آ روکےآسام نے اپنے فون کی سکرین ان تینوں کے سامنے کی۔ماشی کی آنکھیں پھٹ گئی۔
“نہیں نہیں آسام یہ۔۔یہ سچ نہیں ہےیہ سچ نہیں ہے ،،ماشی گرنے لگی تھی ذہرہ نے اسے تھام لیا۔
افنان اور اس تصویریں اتنی نزدیکیاں کب۔یہ فارم ہاؤس کی تصویریں تھی۔جب افنان اسے اٹھا کر لے گیا تھا پر اس طرح نہیں ہوا تھا۔
اتنی بے حیائی تو افنان نے نہیں کی تھی۔
اور پھر اور تصویریں جو سیلفیز تھی افنان کے سینے پہ لیٹ کے ۔ایک ویڈیو چلی پھر افنان نے اظہارِ محبت کیا
“یہ کیا ہے ،،آسام کے آنسوں ٹوٹ کر گرنے لگے۔وہ بھرائے ہوئے لہجے میں بولا۔
“یقین کیا تھا آپ پہ ماشی۔۔اور افنان تم۔۔تم نے یہ سب کیوں کیا۔ماشی تم نے کہا تھا فارم ہاؤس کچھ نہیں کیا تھا افنان نے بس دھمکی دی تھی یہ یہ دھمکی تھی۔اس طرح کی دھمکی۔۔۔اور تم پریگننٹ ہو گئ جب کہ میرے اور آپ کے درمیان کبھی ایسا کچھ نہیں ہوا میں کیا کہوں پھر ماشی۔،، ماشی نے خوفگی سے اسے دیکھا۔اور نفی میں سر ہلا دیا۔پھر اس نے زہرہ کو دیکھا وہ اسے تھام کر کھڑی تھی ماشی نے اس کا ہاتھ تھام لیا
“آسام زبان سمبھالو اپنی۔یہ نقلی ہیں بے واقوف ہو کیا تم،،افنان نے اس کے ہاتھ میں فون تھما دیا۔
“چلو مان لیا یہ تصویریں جھوٹی ہیں یہ سب جھوٹ ہے پر تمہارا اظہار محبت ۔ چھت پہ تمہاری باہوں میں کیوں تھی۔اور تم اسے چاندنی بول رہے تھے سینے پر نام لکھا ہوا ہے تم نے اس کا یہ سب کیا ہے تم نے دھوکہ دیا مجھے افنان۔ہس ہس کے تم نے مجھے دھوکہ دیا۔اور یہ یہ تمہاری محبت ہی نہیں سمجھ ڈکی۔سب جھوٹ ہے میں جانتا ہوں پر یہ تو جھوٹ نہیں ہے ۔،،آسام نے اس کی شرٹ پھاڑ دی
“آسام پ۔۔پپ۔پلیز ایسا کچھ نہیں میں پریگننٹ۔اور مجھے کیسی کی محبت سے کوئی مطلب نہیں اور جب تم مانتے ہو یہ سب جھوٹ ہے پھر کیوں،،ماشی ذہرہ سے ہاتھ
چھڑواتی اس کے پاس چلی گئ اور آنسوں سے بھری گالوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا آسام بغیر ہلے اسے دیکھ رہا تھا۔
“اب ایک لفظ اؤر نہیں ماشی آپ جھوٹ ہو سکتا ہے پر تمہاری آنکھیں جو ہمشہ دیکھتا آیا ہوں افنان کے لئے محبت۔اور یہ سب افنان تمہاری وجہ سے ہوا تم اتنے کمزور تھے کہ محبت کا اظہار نہیں کر سکے،،آسام کی بات سن کر ماشی اس سے الگ ہوئی۔اور پیچھے ہٹ گئ۔افنان نے چونک کر ماشی کو دیکھا جو نفی میں سر ہلا رہی تھی
وہ آنسوں سے بھری آنکھیں آسام کی آنکھوں میں گاڑے ہوئے تھی۔جہاں محبت تھی۔پر درد تھا
“آسام وہ تم سے محبت کرتی ہے،تم پاگل ہو گئے ہو کیا۔ ،،افنان نے اسے شہانوں سے تھام لیا ماشی پیچھے ہٹنے لگی تھی۔کس موڑ پر آ کھڑے تھے وہ چاروں۔زہرہ نے افنان کی طرف دیکھا۔جو اس سے اظہار محبت کر بھی ماشی کا لگ رہا تھا۔
“کیا ابھی بھی یہ معاشی سے محبت کرتا ہے۔۔ہاں کرتا ہے،،زہرہ خود سے ہی اپنے سوال کا جواب دینے لگی
آسام نے بےدردی سے آنکھوں کو رگڑا۔
“افنان تم نے اپنی محبت میری جھولی میں کیوں ڈالی ۔میں تو ہمشہ یہ ہی سمجھوں گا میرے بھائی کا میں نے حق چھین لیا ،،آسام نے افنان کو جھنجھوڑ دیا۔ماشی برآمدے کے ستون سے جا لگی اور آسام کو دیکھنے لگی۔
“سب جھوٹ ہے پر تم تم نے جو کیا افنان وہ بہت غلط کیا۔تم نے اپنی محبت،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتا افنان نے ایک زور کا تھپڑ اس کے منہ پہ رسید کیا ماشی یوں ہی خاموش بے جان کھڑی دیکھتی رہی آسام کو امید تھی وہ کچھ بولے گی پر وہ کچھ نہیں بولی ہمت نہیں ہو رہی تھی کیا بولتی۔
آسام نے ایک آنسوں بھری نظر ماشی پہ ڈالی اور اس کی طرف بڑھا۔
“ماشی مجھے آپ پہ یقین ہے پر میں کچھ ٹائم کے لئے باہر جا رہا ہوں یہاں دم گھٹ رہا ہے ،،اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسوں صاف کرنے چاہئے پرماشی اس کا ہاتھ جھٹک کر آنکھوں کو رگڑتی اس کی آغوش سے نکل گئ۔
“چلے جاؤ آسام پلیز گو میرے سامنے مت آنا ۔۔،،وہ منہ موڑ کر چینخی افنان اور زہرہ نے چونک کر ایک دوسرے کو دیکھا۔
“جاؤ میرے سامنے مت آنا جاو،،ماشی نے اسے دھکا دیا وہ لڑکھڑا گیا۔اور الٹے قدموں سے بےجان وجود کو اٹھاتا باہر چلا گیا۔
“کیوں افنان کیوں میری جھولی میں ڈالی،،آسام نے شرٹ کے اوپر والا بٹن کھول دیا کورٹ اتار کر پھینک دیا۔گھٹن دل میں اترنے لگی تھی۔ماشی نے اسے اندر تک توڑ دیا تھا۔
۔گاڑی سٹارٹ ہوئی اور چلی گئ۔
“آسام۔۔۔،،ماشی زمین پہ گر کر چیخنے لگی۔
افنان نے زہرہ کو اشارہ کیا تو وہ ماشی کے پاس جا بیٹھی۔
“ماشی اٹھو،،
“نگین وہ چلا گیا۔اسے مجھ پہ یقین نہیں اسے میری محبت پہ یقین نہیں۔،، وہ ہوش کھو چکی تھی۔
“نہیں ماشی وہ واپس آئے گا اس کے آنسوں بتا رہے تھے اسے تم پہ یقین ہے۔وہ ہرٹ ہوا ہے آسان نہیں تھا اس کے لئے کہ وہ افنان کی محبت کو اپنی بیوی بنا چکا ہے ۔۔بہت محبت کرتا ہے وہ تم سےچلو اٹھو۔،،ذہرہ نے اسے کھڑا کیا
“کیوں افنان کیوں ایک بار پھر تم نے مجھے ایک بار پھر توڑ،،ماشی نے خوفگی سے اسے دیکھا اس سے پہلے وہ اپنی بات پوری کرتی سر چکرایا اور وہ گر گئ۔
“ماشی۔۔۔ماشی آنکھیں کھولو۔۔افی ماشی کو کچھ ہو گیا ہے،،ماشی آنکھیں بند کر چکی تھی۔
افنان بھاگ کر اس کے پاس آیا۔
“Mashi please open your eyes please,,
افنان اسے اٹھا کر گاڑی کی طرف بھاگا ۔زہرہ کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے وہ آنکھیں رگڑتی اس کے پیچھے بھاگی۔
اس نے صرف ہوش ہی نہیں کھویا تھا بلکہ نروس بریک ڈاؤن ہو گیا تھا۔
ڈاکٹر کہ کر چلا گیا افنان کو لگا وہ دوسری سانس بھی نہیں لے سکے گا
۔اور گم سم کوریڈور میں رکھے بینچ پہ گر گیا
“افنان۔۔۔کچھ نہیں ہو گا اسے ،،ذہرہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“وہ پریگننٹ نہیں ہے پھر وہ کیوں بول رہی تھی۔اس کی اس بےواقوفی نے اسام کے دل میں شک پیدا کر دیا۔میری وجہ سے وہ اس حالت میں ہے زہرہ اگر اسے کچھ ہو گیا تو آسام مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا م،،افنان نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھ دیئے۔
“میں ماشی کو کچھ نہیں ہونے دوں گا،،افنان نے خوفگی سے نفی میں سر ہلایا۔اس کی شرٹ پھٹ چکی تھی زہرہ کی نظر جب ٹیٹو پہ پڑھی تو وہ نظر جھکا گئ افنان نے نوٹ کیا تو شرم کے مارے سر جھک گیا۔
“افنان ماشی کہاں ہے،،آسام بھاگ کر آیا تھا۔
“میری وجہ سے یہ سب ہوا ہے اسے جیت کر بھی،،اس سے پہلے آسام کچھ اور بولتا زہرہ چینخی۔
“ارے بس کرو تم دونوں اسے نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے اور تم لوگ ایسے لڑ رہے ہو جیسے وہ ٹرافی تھی. ۔گھر والوں کو کیا جواب دو گے یہ سوچو وہ آج اس حالت میں ہے نہ تو صرف تم دونوں کی وجہ سے،،زہرہ کہ کر روکی نہیں تیز قدم اٹھاتی کوریڈور سے نکل گئ۔ آخرآخر وہ عورت تھی۔
آسام شیشے کے سامنے جا روکا۔اور بہت سارے آنسوں گر گئے۔
افنان سر تھام کر بینچ پہ گر گیا آخر وہ سب سے لڑتے لڑتے تھک کر بیڈ پہ جا گری تھی۔
