Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 32)

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry

ماشی اور آسام نے شگفتہ سے بات کی تو وہ مان گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی مرضی کے آگے ہم کچھ نہیں بولیں گے۔پر ایگزامز کے بعد کی ڈیٹ رکھی گئ تھی۔نگین ملک ہاؤس میں ہی رہ رہی تھی بائمہ اور اس کی بھی دوستی ہو گئی تھی۔

سعدیہ اور سفر سے بھی آسام اور ماشی نے جا کر بات کی تھی۔

وہ بھی مان گئے تھے بس سعدیہ کو پروبلم ہوئی تھی پر زیادہ کچھ نہیں بولی تھی وہ افنان کی ناراضگی زیادہ نہیں دیکھ سکتی تھی۔

ماشی اور آسام واپس رندھاوا ہاؤس چلے گئے تھے۔جبکہ افنان ملک ہاؤس سے جا کر پیپرز دینے جاتا تھا۔

افنان کی شادی پہ فہد اور عشرت آنا چاہتے تھے پر فہد کچھ بزی تھااور عشرت کو ڈاکٹرز نے سفر کرنے سے سختی سے منع کیا تھا۔

********

افنان شیروانی پہن کر بیڈ پہ بیٹھا خود کو آئینے میں دیکھ رہا تھا۔

“ایک ہی خواب تھا ایک خوبصورت سا چھوٹا سا گھر ہو تم میں ہوں سکون ہو اور،،اس نے سر اٹھا کر آئینے میں خود کو دیکھا۔

بہت سارے آنسوں اندر اتارنے کی کوشش کی پر نہیں روکے وہ دروازہ بند کر کے واش روم گھس گیا ماشی کے کمرے میں وہ تھا۔

“محبت ہو جاتی ہے اور کبھی کبھی اس محبت کو دل کے کسی کونے میں چھپا لیا جاتا ہے،،اس نے اپنے پیچھے آواز سنی تو منہ اٹھا کر سامنے لگے آئینے میں دیکھا ماشی پیچھے کھڑی تھی اس نے مڑ کر دیکھا تو غائب ہو گئ

“کیا میں نگین کے ساتھ غلط کر رہا ہوں،،افنان ٹاول سے منہ صاف کرتے ہوئے سوچنے لگا۔

“نہیں مجھے سب بھولنا ہو گا ماشی کو بھولنا ہو گا،،افنان نے ٹاول رکھا اور ایک نظر خود پہ ڈال کر واش روم سے نکل کر کمرے میں جا روکا۔

سامنے لگی ماشی کی قد آدم تصویر لگی ہوئی تھی۔وہ ہونٹ بھیجے باہر چلا گیا سب اس کا انتظار کر رہے تھے بارات تیار تھی اور ہوٹل میں نگین بھی تیار بیٹھی تھی۔

افنان کو سہرا پہنایا جا رہا تھا۔وہ مسکرا رہا تھا پر دل سے نہیں دل میں اتھل پتھل مچی ہوئی تھی۔

پر جب اس نے نگین کو دیکھا تو دل میں سکون اترنے لگا وہ خوش تھی۔

نکاح نامہ سامنے آیا تو افنان نے ایک نظر نگینہ پہ ڈالی سرخ جوڑے میں ملبوس وہ افنان کے رنگ میں رنگنے جا رہی تھی

“نہیں معلوم کہ میں ماشی کو کب دل سے نکال سکوں گا پر میں اپنی کوشش جاری رکھوں گا،،افنان نے پیپرز سائن کر دئیے۔اور ایک نظر اس نے ماشی پہ ڈالی جو آسام کے ساتھ کھڑی مسکرا رہی تھی۔

*************

نگینہ اس کا انتظار کر رہی تھی۔

پھولوں سے سجا کمرہ مہک رہا تھا۔وہ ہاتھوں کو

گھٹنوں پر رکھے سر جھکائے بیٹھی نروس لگ رہی تھی۔

دروازہ کھولنے کی آواز پہ وہ مزید سمٹ گئ افنان دروازہ بند کر کے چلتا اس کے پاس آ بیٹھا۔

نگینہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا وہ تھوڑا پریشان تھا وہ جانتی تھی کیوں ہے پریشان۔

“نگین میں وعدہ کرتا ہوں آئندہ سے مجھ پہ صرف تمہارا حق رہے گا۔ماشی کو میں،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتا نگین نے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا

“ششش۔۔۔کچھ کہنے کی ضرورت نہیں شادن میں آپ پہ یقین کرتی ہوں،،،نگین نے اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔

“نگین میں تمہاری آنکھوں میں آنسوں نہیں آنے دوں گا بس جب میں مر جاؤں گا تو،،

“افنان پلیز ،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتا نگینہ کے آنسوں اس کے چہرے پر گرنے لگے وہ اٹھ کر بیٹھ گیا چند پل دیکھنے کے بعد افنان نے اسے اپنی باہوں میں لے لیا اور ایک جذب سے آنکھیں بند کر لی۔

**********

اگلے دن نگینہ فجر ٹائم اٹھ گئ تھی پر افنان سو رہا تھا نگینہ کا سر اس کے مضبوط بازو پہ تھا

وہ مسکرائی اور افنان کے بالوں کو ماتھے سے ہٹایا۔

“گڈ مارننگ جان،،افنان نے آنکھیں موندے ہی کہا

“گڈ مارننگ اٹھ جائیں،،نگینہ اٹھتے ہوئے بولی تو وہ آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگا۔اور پھر اٹھ کر بیٹھ گیا۔اور سر بیڈ کی پشت سے ٹکا لیا

*********

“میں کیسا لگ رہا ہوں۔،،افنان اس کی طرف جھکا وہ سمٹ گئ۔

“بہت اچھا ،،نگینہ نے مسکرا کر کہا۔

افنان سفید پینٹ کوٹ میں ملبوس بالوں کو پیچھے سٹائل سے کئے اور سفید کلائی میں گھڑی جو ابھی ابھی شگفتہ نے پہنائی تھی۔شہزادہ لگ رہا تھا۔اور اس کے مقابل بیٹھی نگین اس کی چاندنی واقع ہی چاندنی لگ رہی تھی۔سفید گاؤن زیب تن کئے اور گلے میں مہنگا ترین نیکلس

جو اس کی روشنی سے چمک رہا تھا۔

کانوں میں چھوٹے چھوٹے ٹاپس اور بائیں ہاتھ میں بریسلٹ جو ہاتھ کے ساتھ چپکی ہوئی تھی انگلی سے لے کر کلائی میں آ رہی تھی۔دوسرے ہاتھ کی شہادت کی انگلی میں بڑی ساری انگوٹھی۔اور بالوں کو جوڑا بنا کر کچھ بالوں کو باہر نکال کر سٹائل دیا گیا تھا۔

بلکل سیمپل میک اپ میں وہ آسمان سے اتری پری لگ رہی تھی۔بھائی لگتی بھی کیوں نہ وہ افنان رندھاوا کی بیوی تھی آج ان کا ولیمہ تھا جو بہت بڑے ہوٹل میں مینج کیا تھا سعدیہ سفر سب شریک تھے۔سفر سے اور باقی سب سے وہ گرم جوشی سے ملا تھا پر سعدیہ سے نہیں۔

جہاں سب خوش تھے وہاں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہیں چاندنی افنان کے ساتھ ایک آنکھ بھی نہیں جچ رہی تھی۔

اور وہ اور کوئی نہیں ۔انوشکا ونیت لوگ تھے۔

جو سب سے آخر والی کرسی پہ بیٹھی بےوجہ کی باتیں کر رہی تھی۔

وہی ماشی اور آسام پیش پیش تھے۔

“ہائے سویٹ ٹ ہارٹ۔،،افنان کا گروپ سٹیج پر آ گیا۔افنان اٹھ کر سب سے گلے ملا۔ اور انوشکا جان بوجھ کر اس کی باہوں میں آ گری۔

“ایم سوری بےبی۔آج بہت ہینڈسم لگ رہے ہو نہ۔ تو پھسل گئی۔آئی تھینک تمہیں اعتراض تو نہیں ہو نہ جان۔,،،انوشکا سیدھی ہو کر اس کی ٹائی ٹھیک کرنے لگی۔لوگ دیکھ رہے تھے پر اس بے عزت لڑکی کو اپنی عزت کی پرواہ کہاں تھی۔افنان نے نظریں گھما کر نگین کو دیکھا جو چپ چاپ نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔اس کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئ تھی۔آخر لڑکی تھی۔اور کیسے برداشت کرتی۔افنان کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اور اس کا دماغ چلا

“میں ٹھیک ہوں تم ٹھیک ہو لگی تو نہیں۔،،مصنوعی فکر مندی سے بولا تو نگین نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر جھکا لیا آنسوں کو جاری ہونے سے روک لیا گیا۔افنان ہنس ہنس کے ان لوگوں سے باتیں کرنے لگا۔کبھی نظر ٹہری کر کے نگین کی کیفیت کو دیکھ لیتا۔

آسام اور ماشی سامنے کھڑے تھے۔جو یہ سب دیکھ رہے تھے

“یہ افنان کر کیا رہا ہے یار نگین کے چہرے کو نہیں دیکھ پا رہا وہ کتنی ہرٹ ہو رہی ہے۔اور وہ اس آدھی نگی پونگی کے ساتھ کیسے چپک رہا ہے لوگ باتیں کر رہے ہیں یہ کبھی نہیں سدھرے گا۔،،ماشی کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اس کا خون کر دے۔

حجاب میں غلافی چہرہ غصے میں بھی پیارا لگ رہا تھا۔

“جاؤ جا کے زرا خبر لو اپنے بہنوئی پلس دیور کی،،آسام نے ہاتھ سینے پر باندھ کر کہا

وہ غصے سے چلتی سٹیج تک چلی گئی۔ نگین نے اسے دیکھ کر سکون کی سانسیں لی اور اسے اپنی طرف بلایا

“ماشی مجھے واش روم جانا ہے۔،،نگین کی آواز بھرا گئی تھی۔اسی پل افنان نے دیکھا تو ماشی نے اسے آنکھیں دیکھائی اور اشارے میں نگین کی حالت کے بارے میں بتایا۔پر وہ ظالم سرے سے انجان بنا ان سے باتیں کرنے لگا۔

“تم نہیں ،یہ جائیں گی یہاں سے۔،،ماشی نے کہا اور ان کی طرف بڑھ گئ۔

“ایکسکیوزمی۔تم سب یہاں سے جانے کی تکلیف کریں گی ہمیں اس آسٹریلین بندر سے اکیلے میں کچھ بات کرنی ہے۔،،ماشی نے دانت پیس کر آسٹریلین بندر منہ میں ہی کہا۔

“تم ہوتی کون ہو ہمیں یہ کہنے والی کہ ہم یہاں سے جائیں۔،،انوشکا سختی سے بولی

“میں اس چھ فٹیا جس کی عقل گھٹنوں میں ہے اس کی سالی بھی ہوں اور کزن بھی۔،،ماشی نے اطمینان سے کہا سٹیج پر آ رہے آسام کا بے اختیار کہکا گونجا

افنان اپنی ہنسی روکے ماشی کو دیکھ رہا تھا۔

“کیا کزن یہ۔ ۔۔اور اور یہ تمہاری بہن تو نہیں کوٹھے والی ہے ساگر بتا رہا تھا پتا نہیں کتنے مردوں کےساتھ اس نے۔۔،،اس سے پہلے انوشکا کچھ اور بولتی ایک زور کا تھپڑ اس کی رخسار پہ آیا حال میں خاموشی چھا گئی شگفتہ اور کلثوم عشرت کی ماں بائمہ سعدیہ بھاگ کر سٹیج تک آئی۔

“آئندہ اگر تم نے نگین کے بارے میں اپنی گندی زبان سے ایک لفظ بھی نکالا تو انجام کی زمیدار تم خود ہو گی۔خود کو کبھی دیکھا ہے یہ چار چار مردوں کے ساتھ گھومتی ہو ڈوپٹہ سر پہ نہیں

ہوتا۔

سر پہ کیا گلے میں ہی نہیں ہوتا کبھی اپنا جائزہ لیا ہے تم نے وہ تم سے لاکھوں کیا کروڑوں گنا اچھی ہے تم تو اس کے پیروں کی دھول برابر بھی نہیں ہو۔میری بہن ہےیہ۔امید ہے اتنی عزت کافی رہی ہو گی گیٹ آؤٹ۔،،ماشی نے سینے پر ہاتھ باندھ کر اطمینان سے کہا اس کا غصہ دیکھ سب خاموش کھڑے تھے انوشکا نے کچھ بولنے کے لئے منہ کھولا تو ماشی نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا اور ہاتھ کا اشارہ اترنے کے لئے کیا وہ پیر پٹختی چلی گئی پیچھے پیچھے ساگر لوگ بھی چلے گئے۔

“کیا ہوا بیٹا۔یہ کیا تھا،،شگفتہ نے فکر مندی سے پوچھا۔

“کچھ نہیں ماما آپ کی بہو کو غصہ آ گیا تھا۔،،افنان نے ماشی کو دیکھ کر کہا اور مسکراہٹ دبا لی نگین ابھی بھی خاموش بیٹھی تھی۔

“پھوپھو اس کو سمجھا دیں کہ نگین کو ہرٹ نہ کرے ورنہ میں بھول جاؤں گی کہ یہ آپ کا بگڑا ہوا بیٹا ہے۔،،ماشی نے کہا اور سٹیج سے اتر گئی۔اس کے کہنے کے انداز پہ سب ہسنے لگے۔

“چل بیٹھ یہاں میں اپنی بیگم جان کو دیکھ لوں بچاری کا سارا موڈ خراب کر دیا تم نے۔،،آسام نے اسے صوفے پر بیٹھا دیا اور ماشی کے پیچھے چلا گیا۔

شگفتہ لوگ ہنستی سٹیج سے اتر گئی۔

“تم نے کل رات کتنے وعدے کئے تھے ایک پل میں بھول گئے کیوں افنان میں واقع ہی تمہارے لئے کچھ معانی نہیں رکھتی سب جھوٹ تھا۔،،نگین نے آنسوں سے بھری نظر اٹھا کر اسے دیکھا

“ہاہاہاہا جلنے کی بو آ رہی ہے۔میری جان میں تمہیں تنگ کر رہا تھا قسم سے ،،افنان نے جھک کر اسے دیکھا اور آنسو صاف کئے۔

“نہیں برداشت ہوتا مجھ سے کوئی آپ کے پاس آئے آپ صرف میرے ہو۔پہلے ایسا نہیں لگتا تھا اور آج برداشت نہیں ہوا نہیں جانتی کیوں،،نگین نے نظریں جھکا کر کہا تو افنان مسکرا دیا۔

“اسے کہتے ہیں محبت میں پاگل ہونا تمہاری آخری سٹیج ہے چاندنی افسوس۔،،افنان نے برا سا

منہ بنا کر کہا تو نگین نے اسے کاندھا مارا۔

پھر دونوں بے اختیار ہنس دیئے۔

***

کتنی محدود سی ہے زندگی میری

ایک طرف درد ہے دوسری طرف محبت تیری۔۔

فنیکشن کے بعد وہ لوگ واپس ملک ہاؤس گئے تھے کل فجر کی فلائیٹ سے افنان اور نگین جا رہے تھے ماشی نگین کے ساتھ پیکنگ کروا رہی تھی۔دونوں ابھی اسی لباس میں ملبوس تھی جو ولیمہ میں پہنے تھے۔

“تم باہر جاؤ یہاں تمہارا کوئی کام نہیں ہے۔،،افنان بیڈ پر آ گرا تو ماشی نے کہا۔

“کیوں نہیں ہے۔ میری وائف یہاں ہے تمہارے ساتھ تو اگر تم نے اس کے کان بھرے تو۔۔،،افنان نے آنکھیں پھیلا کر کہا۔

اس سے پہلے وہ اسے کرارا سا جواب دیتی

آسام اسے بلا کے لے گیا

“میں کیا سوچ رہا تھا مسز رندھاوا۔،،آسام نے ماشی کے کان میں گھس کر کہا جو اس کے ساتھ چل رہی تھی۔

“آپ کیا سوچ رہے تھے یہ مجھے کیسے پتا ہو گا ویسے بھی آپ آج کل غلط سوچتے ہیں ہٹیں۔۔،،ماشی گزرنے لگی جب اس نے چھپٹ کر اسے پکڑا اور کمرے میں لے گیا۔

“مسٹر رندھاوا میں چلا چلا کر لوگوں کو بلا لوں گی ۔،،

“چلیں ٹرائی کر کے دیکھ لیں۔۔جب یہ ہاتھ ہٹے گا تو ہی چلائیں گی۔،،آسام نے شرارت سے کہا اور ہاتھ ماشی کے ہونٹوں پر رکھ دیا ماشی اس کی شرارت پہ چھنپ گئ۔

“کیا کام ہے ۔،،ماشی نے اس کا ہاتھ ہٹا کر کہا ۔

آسام اس کا ہاتھ تھام کر اسے محبت بھری نظروں سے دیکھنے لگا ماشی اپنی مسکراتی نظریں جھکا گئ

“آپ کی اس مسکراہٹ نے تو مجھے پاگل کیا ہے ماشی۔اسی لئے میں نے آپ کے لئے کچھ کیا ہے۔میں نے آپ کو

بہت رولیا نہ۔۔،،آسام کو اپنا گزشتہ رویہ یاد آگیا۔

“نہیں آسام آپ بار بار معافی مانگ کے مجھے شرمندہ نہ کریں آنٹی سے میں بلکل بھی ناراض نہیں ہوں ساس اور بہو میں یہ سب چلتا رہتا ہے اور آپ آئندہ سوری وری نہیں کریں گے۔،،ماشی نے خاصی لمبی تقریر کی تو وہ گھبرا کر ہاتھ جوڑ گیا۔

“یہ دیکھیں۔،،آسام نے جیب میں سے کچھ نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا۔

“یہ کیا ہم کیوں جا رہے ہیں۔۔،،ماشی یکدم مرجھا گئ پینک کلر کی عربی میکسی اور چہرے کے گرد حجاب لپیٹے وہ فکر مندی سے اسے دیکھنے لگی۔

وہ سامنے بلیک پینٹ کوٹ اور ٹائی بھی بلیک میں بہت پرکشش لگ رہا تھا بلیک آنکھوں میں شرارت ۔ پنک ہونٹوں پہ مسکراہٹ اور ہاتھوں کو ماشی کے کاندھے سے لے جا کر سر کے پیچھے باندھا ہوا تھا اور اسے دیکھ رہا تھا۔

“کیوں کا کیا مطلب ہم لوگ ہنی مون نہیں گئے یار اب موقع ملا ہے تو جانا چاہئے۔،،

“پر آسام ۔،،

“پر ور میں کچھ نہیں سن رہا ہم جا رہے ہیں مطلب جا رہے ہیں۔،،وہ ضد کرتے ہوئے بولا۔

“آسام پلیز ٹرائی ٹو انڈر سٹینڈ ہم نہیں جا سکتے ابھی آنٹی اور انکل کو ہماری ضرورت ہے آپ سے کہا تھا نہ کہ نہیں جانا سب کو ایک کرنے کی بجائے آپ خود جا رہے ہیں پلیز سب ٹھیک ہو جانے دیں پھر چلیں گے۔،،ماشی نے اس کی رخسار پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔

“تم جانا نہیں چاہتی کیا؟؟اور ماما پاپا کے پاس بھائی لوگ ہیں انہوں نے خود کہا ہے جانے کو۔پلیز ماشی میں آپ کے ساتھ بہت سارا ٹائم گزارنا چاہتا ہوں چار،پانچ مہینے ہوئے ہیں ہماری شادی کو اور ہم نے سب کو ٹائم دیا ایک دوسرے کو نہیں دے سکے پلیز ماشی ،،آسام نے بھی اس کے چہرے کو تھام لیا

“آسام میں جانا چاہتی ہوں پر ان حالات میں نہیں آپ سمجھ دار ہیں سمجھ جائیں نہ پلیز ۔،،ماشی نے التجاء کی۔ کہ بھی وہ ٹھیک ہی رہی تھی

“ٹھیک ہے پھر اب نہیں جائیں گے ہیپی,

،،آسام نے اس سے پیپرز لے لئے۔

“آسام۔۔،،وہ ناراض ہو گیا تھا ہوتا بھی کیوں نہ اس کی بات جو نہیں مانی گئ تھی۔وہ ہر بات تو مانتا تھا ماشی کی ۔اس کی بات بھی کوئی بڑی نہیں تھی وہ اپنے لئے نہیں بلکہ دونوں کے لیے ٹائم مانگ رہا تھا۔

“آسام پلیز روکیں۔۔،،وہ اس کے پیچھے بھاگی پر وہ تیز قدم اٹھاتا چلا گیا۔

“آسام بات تو سن لیں۔

“میں کچھ نہیں سن رہا

“آسام پلیز اوکے چلیں گے روک جائیں۔۔،،ماشی نے کہا تو وہ روک گیا اس کا پلین کامیاب ہو گیا تھا وہ مسکراہٹ دباتا روک گیا مڑا نہیں۔ماشی جا کر اس کے سینے سے لگ گئ

“روٹھ کر نہ جایا کرو نہ۔،،ماشی نے محبت آنکھوں میں بھر کر کہا۔

“آپ بھی بات مان لی کرو نہ۔سب کے بارے میں سوچتی ہو بٹ معصوم سا شوہر نہر نہیں آتا،،آسام نے اسے سینے سے لگا لیا۔افنان اور نگین پیچھے کھڑے ہسنے لگے۔

ماشی شرما کر نظریں جھکاتی بھاگ گئ۔

“کہیں موقع نہیں چھوڑتے نہ تم دونوں رومینس کا۔۔۔،،،افنان اس کے کاندھے پر بازو حائل کر کے بولا

“یار وہ مان نہیں رہی تھی جانے کو تو تھوڑا سا ۔،،اآسام نے اسے آنکھ ماری تو وہ بھی مسکرا دیا۔نگین اپنا گاؤن اٹھاتی لاؤنچ کی طرف بڑھ گئ جہاں سب بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔

ماشی اور بائمہ کیچن میں کچھ مصروف تھی۔

سعدیہ لوگ ہوٹل سے ہی واپس چلے گئے تھے۔

تھوڑی دیر بعد فہد اور عشرت کی کال آئی تو سب باتیں کرنے لگے۔

“ماشی تم جاؤ پینگ کر لو میں یہ کر لیتی ہوں۔,،،بائمہ نے اپنا دوپٹہ ٹھیک کر کے کہا۔

“آپ اکیلے کیسے کریں گی میں پیکنگ کر لوں گی۔ بعد میں،،ماشی نے مسکرا کر کہا اور کیک کو اوون سے نکال لیا جو بلکل تیار تھا

“واہ بھابھی کیا خوشبو ہے۔،،ماشی نے بائمہ کی تعریف کی تو وہ مسکرا دی۔

ماشی سب کو لوازمات سرو کر کے اپنے کمرے میں چلی گئی اور پیکنگ کرنے لگی تھی تھوڑی دیر بعد آسام بھی اس کے ساتھ پیکنگ کروانے لگا۔

ملک ہاؤس ایک بار پھر سونا ,

ہونے جا رہا تھا ۔پر ثاقب اور بائمہ کو اصغر نے روک لیا تھا ۔اس نے بھی کوئی ضد نہیں کی تھی آخر اتنے سالوں بعد اس کا باپ ملا تھا۔بائمہ ملک ہاؤس میں بہت جلد ہی اجیسٹ کر گئ تھی وہ صرف کلثوم شگفتہ اور چاچی کے اچھے سلوک کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔

***

افنان لان میں بیٹھا ادھر ادھر اڑ رہے کبوتروں کو دیکھ رہا تھا۔اور ہاتھ میں ایک ڈائری پکڑی ہوئی تھی۔اس ڈائری کو وہ کئ بار پڑھ چکا تھا اب تو رٹی ہوئی تھی۔بغیر دیکھے بتا سکتا تھا کہ ڈائری میں کون سے صفحے پر کیا لکھا ہے

اس نے ڈائری کھول لی۔اور اس پہ ہاتھ چلانے لگا

“بہت پیار کرتے ہو نہ ڈیڈ سے شادن ،،نگینہ اس کے پاس آکر بیٹھ گئ تھی۔افنان نے ہاں میں سر ہلا دیا اور اسے دیکھا

“فہد سے بات ہوئی تمہاری ،،افنان نے سوال کیا

“نہیں۔۔،،نگینہ نے نفی میں سر ہلا دیا

“شادن ایک گڈ نیوز ہے وہ جو کوٹھا تھا نہ وہ تمہارے آدمیوں نے ختم کروا دیا ہے اور آسلام آباد سے کیا بہت سارے شہروں سے سمگلرز کو پکڑ لیا گیا ہے۔،،نگینہ نے ایک منٹ میں ساری انفارمیشن دے دی۔

“اور سب سے بڑا سمگلر وہ بازف اس کا انکاؤنٹر کر دیا ہے ایس پی رانا نے تمہارے پلین کے مطابق۔اس کو چھوڑا گیا اور پھر انکاونٹر ،،نگین کرسی پر بیٹھ کر اسے کچھ دیکھانے لگی۔

“افی تم نے بہت ساری لڑکیوں کی عزت بچا لی ہے۔،،نگینہ نے فخریہ نظروں سے اسے دیکھا۔

“پارٹنر جو میرے ساتھ کمال کا تھا۔،،افنان نے اس کے بالوں کو انگلی پہ لپیٹ لیا۔

“ویسے تم ایکٹر کمال کے ہو ایک بات بتاؤ آسام اور باقی گھر والوں کو اپنے بارے میں۔۔،،

“نہیں نگی یہ بات فہد تمہیں اور مجھے پتا ہے کسی کو نہیں پتا چلنا چاہئے کہ ہم کون ہیں۔،،افنان نے اس کی شال شہانوں پہ کروا دی۔

“اور کراچی والی فیکٹری میں آگ جو لگی تھی وہ علی اور نیلم نے لگوائی تھی ان کو تو میں تب ہی پہچان گیا تھا کہ وہ میرے بھولے بھالے بھائی کو الو بنا رہے تھے ٹارگٹ تو میں تھا۔پر ۔،،اسے یاد آیا تھا جب علی اور نیلم انہیں ٹارگٹ بنایا تھا۔

“بس اگر یہ عشق نہ ہوتا تو وہ تباہی نہ ہوتی ،،

“تمہارا قصور نہیں تھا وہ لوگ بہت ہوشیار نکلے ۔،،

“تمہیں پتا ہے نگینہ جب مجھے یہ ڈائری فہد نے دی تھی جب ہم پہلی بار ملے مجھے اپنے وجود کا علم ہوا۔بہت لڑائی کرتے تھے میں اور فہد ہاہاہاہا۔

سب سے چھپ چھپا کرملنا میں اسے بہت تنگ کرتا ہوں کہ جن من اب نہ ڈر لائک آ گرل فرینڈ ہاہاہاہا۔۔میں نے جب اس پہ پہلی بار ہاتھ اٹھایا تو میرا وجود کانپ گیا تھا۔پر وہ فہد کی پلینگ تھی ۔،،وہ مڑ کر نگینہ کو دیکھنے لگا۔کئ بار وہ فہد اور اپنی ملاقات کے بارے میں۔پر آج پھر وہ موڈ میں تھا

“میں یہاں ایک بار نہیں کئی بار آ چکا ہوں۔میں ماشی کو پتا ہے کب سے جانتا ہوں جب سے وہ مجھے پہنچانتی تک نہ تھی۔کئ بار اسے دور سے کئ گھنٹوں تک دیکھتا رہتا تھا۔حویلی کی چھت پہ وہ سٹیف کے ساتھ باتیں کر رہی ہوتی تھی۔

کئ دفع اس کو حویلی میں بھاگم بھاگ ہاہاہاہا مس سٹروم۔،،اسے یاد آنے لگا جب وہ فہد کے کمرے میں تھا اور ماشی پورے گھر میں بھاگتی پھر رہی تھی کتنے گھنٹوں وہ بند کھڑکی کے سوراخوں سے اسے دیکھتا رہا تھا۔

“اور پتا ہے کئ بار میں ماما،ماشی کے ہاتھ کا کھانا کھا چکا ہوں۔ایک بار پتا ہے کیا ہوا۔میں فہد سے ملنے آیا ہوا تھا تو پانی لاناتھا۔وہ سو گیا تھا میں اسے ٹانگیں مااروں۔ہاہاہاہاتو وہ مجھے پھر مجھے جانا پڑا وہ چھت پہ بیٹھی تھی میں اس سے چاہ کر بھی بات نہیں کر سکتا تھا۔فہد میری کیفیت کو بھناپتا تھا وہ مجھے کہتا تھا میں کنٹرول رکھوں جذبات پہ۔۔وہ مجھ سے ٹکرائی لائٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہ مجھے فہد سمجھ کر لڑنے لگی اور چلی گئی ۔،،وہ چلتے ہوئے لان کے ایک طرف چلے گئے جہاں جگہ ڈھکی ہوئی تھی وہاں دو کرسیاں رکھی تھی وہ دونوں بیٹھ گئے نگین اسے دیکھنے لگی۔

“کئ بار میں عشرت اور اسے کالج سے لینے جاتا رہا فہد کو کوئی کام ہوتا تو وہ مجھے ہیلمٹ پہنا دیتا کہتا تھا ماشی کو ڈر لگتا ہے اکیلے آنے میں کئ بار میں راستے میں روک جاتا اور جب وہ ڈرتی ہوئی عشرت کے ہمراہ چلتی تو میرا دل کانپ جایا کرتا تھا۔اور بدلے میں بہت ساری باتیں سننی پڑھتی تھی مجھے اچھا لگتا تھاجب

وہ مجھے باتیں سناتی تھی۔،،اسے گزشتہ سال مہینے سب یاد آنے لگے تھے۔

“بہت محبت کی میں نے اس سے پاگل ہو گیا تھا اس کی محبت میں پر وہ مجھ سے ڈرتی تھی۔میں اس کی گود میں سر رکھ کر سونا چاہتا تھا نگین یاد ہے جب میں وہاں نشے کی حالت میں آیا تھا وہ نشا نہیں تھا۔میں ساری دنیا بھول گیا تھا اس نے مجھے مکمل طور پر توڑ دیا تھا مظبوط اور انٹیلجنٹ افنان کو اس نے ایک منٹ میں مار دیا۔اس دن اس کی نفرت نے میرے پاؤں غلط راستے پہ لائے تھے۔،،افنان نے سر کرسی کی پشت سے ٹکا دیا۔نگینہ چپ چاپ اسے سن رہی تھی جو بلکل بھول گیا تھا کہ نگین اس کی وائف ہے وہ اپنی محبت کی داستان نگینہ کو سنا رہا تھا۔

“میں اسے بھاگم بھاگ کہتا تھا۔اکثر فہد سے اس کا پوچھتا تو وہ مجھے تنگ کرتا کئ بار اس نے کہا کہ وہ اس سے بات کرے گا پر میں روک دیتا تھا۔میں خود اس سے بات کرنا چاہتا تھا۔جب وہ یونیورسٹی میں آئی وہ بھی فہد نے میرے حوالے پہ چھوڑا تھا کہ میں اس کا خیال رکھوں وہ اسے میری امانت کہتا تھا کہتا بھی ٹھیک تھا وہ میری جو تھی۔،،وہ آنکھیں مندے بول رہا تھا۔

“میں نے اسے اپنے بہت پاس لایا کہ شائد میری خوشبو پہچان جائے پر سب چھوٹ ہوتے ہیں۔وہ نہیں پہچان سکی۔،،افنان نے گہرا سانس لیا اور ٹائی ڈھیلی کر لی

“اور پھر مجھے لگا وہ لڑکا ہارش ہو گا میں نے اسے اٹھایا تھا۔کیونکہ اس کو بازف سے خطرہ تھا۔ جب مجھے پتا چلا کہ وہ آسام سے محبت کرتی ہے تو میرے وجود میں آگ لگ گئی۔وہ دونوں شادی کرنا چاہتے تھے۔میں سب بھول گیا مجھے میرا کام بھول گیا مجھے یاد تھا تو ماشی سے کیا ہوا عشق۔پر

فہد نے مجھے سمجھایا دو زندگیاں تباہ ہونے سے بچانے کے لئے یہ ضروری ہے نہیں تو ہم پھر اپنے باپ کا خون کہلائیں گے جو میں نہیں چاہتا تھا۔بس اب میری زندگی میں صرف تم ہو میری بیوی میرا سب کچھ مجھے معاف کر دینا نگین ۔،،افنان نے سر جھکا لیا تو وہ اپنی کرسی سے اٹھ کر اس کے پاس جا بیٹھی۔

“میں سب جانتی ہوں تمہیں معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے،،نگینہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔افنان نے مسکرا کر اسے دیکھا

“ذہرہ ہمیں ۔۔اوہ سوری نگین۔اب ہمیں چلنا چاہئے،،افنان نے زبان دانتوں کے نیچے دبا لی۔

“زبان پھسلنی نہیں چاہئے افنان نہیں تو یہ طوائف تیری جان لے لے گی۔ہاہاہاہاہا۔،،نگین نے آنکھ ماری اور کہا لگا دیا۔

“بہت اچھی ایکٹر ہو آپ تو پر اس ایکٹنگ میں سچی والی محبت کر بیٹھی تم تو۔،،اس نے نگین کو گود میں اٹھا لیا۔اور چلنے لگا

“شادن چھوڑیں

,,,ویسے میں تمہیں کس نام سے پکاروں شادن خان،اسفند،منان،ارمان۔یا،،اس پہلے وہ کچھ اور بولتی افنان نے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا۔

“بےبی ڈول میں تو بس ایک ہی ہوں جو مرضی بولو پر موقع کی مناسبت دیکھ کر بولنا۔،،بات شرارت والی تھی۔

“اوکے۔۔۔۔پر اب میں آپ کی وائف ہوں کچھ نہیں کہ رہی اور آپ سے محبت بھی کرتی ہوں۔پر آپ کی جگہ اگر کوئی اور ہوتا تو۔وہی حال کرتی یاد ہے جو اٹلی میں آپ کا کیا تھا ہاہاہاہاہاہاہا،،نگینہ نے کہکا لگا کر کہا

“میری جگہ اور کیوں ہوتا کوئی اور ایک پیاری سی گڑیا کو پیارا سا گوڈا ہی سورٹ کرتا ہے ۔،،افنان نے ہونٹ اس کی گال پر رکھ دیا تو وہ شرمائی اور افنان کے سینے پر سر ٹکا دیا۔

وہ سیڑھیاں چڑھتا چھت پہ چلا گیا وہاں نگین کو اتار کے وہ دونوں ایک ساتھ نیچے اتر رہے تھے۔

“ارے کہاں رہ گئے تھے تم لوگ اور ماشی کہاں ہے۔،،آسام ان دونوں کو دیکھ کر بولا

“ہمیں کیا معلوم۔،،افنان شہانے آچکا کر بولا

“مطلب وہ تم لوگوں کو بلانے گئ تھی۔،،آسام نے افنان اور نگین پہ دھماکہ کیا تھا بجلی کی پھرتی سے دونوں کی نظریں ملی۔

“ہاں یاد ہے تم روکو میں ابھی آتا ہوں۔،،آسام نے اسے روکنا چاہا پر افنان تیز قدم اٹھاتا سیڑھیاں چڑھ گیا۔

“آپ چلیں بھائی وہ وہاں بیٹھی تھی کہتی موسم بہت اچھا ہے اب آپ نے پوچھا ہے تو لانا تو پڑھے گا۔،،نگین مطمئن نہیں تھی آسام نے بھی نوٹس کیا تھا پر وہ مسکراتا چلا گیا

“دال میں ضرور کچھ کالا ہے،،آسام نے سوچا وہ واپس جانے لگا تو ثاقب کی پکار پہ وہ لاؤنچ میں چلا گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *