Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 21,22)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 21,22)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
“ثاقب بھائی۔۔میرا دل بہت گھبرا رہا ہے پلیز بتا دیں کیا بات ہے۔۔آپ پریشان کیوں ہیں ماشی بھی کال پیک نہیں کر رہی ۔۔ماشی کے۔پ۔۔پیرینٹس مان گئے ہیں نہ۔۔،،آسام نے تیسری بار سوال کیا تھا ثاقب سر تھام کر بیڈ پہ بیٹھا تھا۔
آسام کی بات پہ اس نے سر اٹھا کر آسام کو دیکھا۔آسام کے چہرے پہ آنکھوں میں اداسی چھائی ہوئی تھی۔
“نہیں آسام نہیں مانے وہ لوگ۔۔،،ثاقب کی بات ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ آسام لڑکھڑا کر بیڈ پر گر گیا۔
“م۔۔مجھے یوں ہی بار بار نہیں لگ رہا تھا کہ۔۔م۔۔ماشی ٹھیک نہیں ہے بھائی پلیز ف۔۔فہد بھائی کو کال کر کے پوچھیں ماشی کیسی ہے۔۔وہ ٹھیک نہیں ہے وہ ٹھیک نہیں ہے بھائی۔۔،،آسام بہت کمزور پڑھ گیا تھااس نے بیڈ کو تھام لیا تھا۔ثاقب نے ہاں میں سر ہلا کر فون اٹھا لیا اور فہد کا نمبر ملا کر لاؤڈ سپیکر پہ ڈال دیا۔ایک رنگ کے بعد فہد نے کال اٹھا لی
“ہیلو بھائی۔۔م۔۔ماش۔۔ماشی کیسی ہے وہ ٹھیک ہے نہ۔،،آسام نے بھاگ کر فون پکڑ لیا
“نہیں وہ ہوسپٹل میں۔پلیز سامی جلدی سے آ جاؤ بار بار۔۔۔،،عشرت نے روتے ہوئے کہا اس کا فقرہ منہ میں ہی تھا کہ آسام کے ہاتھ سے فون گر گیا اور وہ بھی پھر تقریباً بیڈ پر گر گیا ۔
“آسام کچھ نہیں ہو گا اسے۔۔،،ثاقب کا لہجہ پر یقین نہیں تھا۔آسام نے آنکھیں بند کر لی تھی بہت سارے آنسوں پلکوں کو پیچھے ہٹا کر باہر آ گئے تھے۔
بے دردی سے وہ آنکھوں کو رگڑ کر اٹھ گیا۔
ثاقب نے بھی اسے روکا نہیں۔
“یا اللہ ان دونوں کو جدا نہ کرنا۔۔ان کی محبت میں کوئی کھوٹ نہیں تم تو واقف ہو نہ۔سچا عشق نہ ہارے۔،،ثاقب نے سر ہاتھوں میں گرا لیا تھا۔۔
آسام اپنے کمرے میں جا کر بند ہو گیا۔
شائد وہ زندگی میں پہلی بار رویا تھا شائد اسے زندگی میں پہلی بار درد کا احساس ہوا تھا جو اس کے دل میں ہو رہا تھا۔
۔بیڈ پہ منہ سرہانے میں دے کر وہ بے آواز روتا رہا۔۔
“اے میرے اللہ اسے ٹھیک کر دے نہیں تو مجھے بھی اسی حال میں پہنچا دے جس حال میں میری ماشی ہے تجھے واسطہ ہے پیارے نبی کا۔وہ تم سے بہت محبت کرتی ہے میرے اللہ پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہے اس نے مجھ سے محبت کر کے اگر غلطی کی ہے توجھے اپنے پاس بلا لو پر اسے کچھ مت کرنا۔،،
وہ دعا کر رہا تھا یا خود کو بد دعا دے رہا تھا اسے نہیں پتا تھا پر اسے اپنی ماشی چاہئے تھی۔۔
وہ اٹھ کر باہر بھاگا۔ ثاقب نے اس کے قدموں کی چھاپ سنی تو اپنے کمرے سے نکل کر اسے دیکھنے لگا۔
“کہاں جا رہے ہو آسام۔۔۔،،حماد نے پیچھے سے آواز دی تھی۔ثاقب بھی جلدی سے سیڑھیاں اترنے لگا۔
“روکو آسام۔ ۔،،ثاقب نے بھاگ کر اسے پکڑا آسام کی آنکھوں میں آنسوں تھے اور سرخ ہو چکی تھی بال بکھر گئے تھے۔
“کہاں جا رہے ہو وہاں مت جاؤ۔۔،،جاہنگیر نیچے آتے ہوئے بولا تھا۔
“کیوں نہ جاؤں۔۔ماشی وہاں ہوسپٹل میں پڑھی ہے اور آپ کہ رہے ہو میں نہ جاؤں۔۔،،آسام نے سر پکڑ لیا تھا وہ بے بس تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ کیا کرے
“اپنی ماشی کو لینے جا رہا ہوں۔۔آپ لوگ وہاں اسے میرے لئے مانگنے گئے تھے یا اسے ہوسپٹل پہنچانے گئے تھے۔۔،،آسام نے باری باری حماد ،جاہنگیر اور ثاقب کو دیکھا۔
وہ آج آسام نہیں لگ رہا تھا۔۔
“ہم نے نہیں اس کے باپ نے یہ حال کیا ہے۔وہ نہیں مانے تھے۔ڈیڈ کی انسلٹ کی ۔۔ تمہیں ڈیڈ کی عزت سے زیادہ اپنی محبت پیاری ہے۔ چپ کر کے اندر جاؤ۔۔،،جاہنگیر نے اسے ڈانٹا۔آسام نفی میں سر ہلا کر بھاگ کر سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
“آسام جاؤ۔اپنی دلہن کو لے آؤ اگر اس کے والد صاحب مانتے ہیں تو۔،،حماد نےاسے کہا تھا وہ سیڑھیاں چڑھتا رک گیا۔
“حماد تم کیا کہ رہ۔۔،، جاہنگیر اس کی طرف بڑھا
“نہیں بھائی میں نہیں چاہتا میرے بھائی کے دل میں اپنے بھائیوں کے لئے نفرت پیدا ہو آسام جاؤ یہ لو اور جاو۔۔،،حماد نے اس کی طرف چابی اچھال دی۔
“تھینک یو بھائی۔۔۔،،آسام آنکھ سے نکل رہے آنسو کو صاف کر کے باہر کی طرف لپکا۔
“ثاقب ساتھ جاؤ اس کے یہ پاگل ہو گیا ہے ہوش میں نہیں لگ رہا۔۔،، جاہنگیر کان پٹی مسلتے ہوئے بولا ثاقب سر ہلا کر اس کے پیچھے بھاگا۔
“حماد تمہیں نہیں لگتا آسام کو وہاں نہیں
جانا چاہئے تھا۔۔،، جاہنگیر صوفے پر بیٹھ کر بولا۔
“بھائی اگر آج وہ نہ جاتا تو شائد ہمشہ یہ سوچتا رہتا کہ کاش میرے بھائی مجھے نہ روکتے۔
اب جو بھی ہو گا پر اس میں کاش تو نہیں ہوگا۔۔چھوٹی ماں کہتی تھی نہ کہ ہمشہ دل کی سننی چاہئے تو آج میرے دل نے کہا آسام کو وہاں جانا چائیے۔۔،،حماد گلاس میں پانی انڈیل کر بولا۔
جاہنگیر نے سمجھ کرہاں میں سر ہلا دیا۔
“سامی پلیز گاڑی آہستہ چلاؤ۔۔،،ثاقب خوفگی سے چلایا تھا آسام نے کوئی جواب نہیں دیا۔
” مجھے آج سامی میں افی کی جھلک نظر آ رہی ہے اللہ کرم کرے۔،ثاقب نےسوچتے ہوئے بیلٹ باندھ لیا۔
“بھائی اگر ماشی کو کچھ ہوا نہ تو میں دنیا تح س نحس کر دوں گا۔،،آسام اپنی آنکھ سے جھلک رہے آنسوں کو صاف کر کےبولا ۔
“سامی ڈونٹ وری کچھ نہیں ہو گا ماشی کو۔۔،،ثاقب نے اسے دلاسہ دیا تھا۔
اس نے پھر سے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی شائد زندگی میں پہلی بار اس نے گاڑی اس سپیڈ میں چلائی تھی۔ بہت کچھ آسام کی زندگی میں پہلی بار ہو رہا تھا
********************
“بھائی کیوں آپ اپنی بچی کے دوشمن بنے ہوئے ہیں۔۔،،شگفتہ نے اصغر کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
“واہ واہ۔۔میں دشمن بنا ہوا ہوں۔۔۔میں نے نہیں کہا تھا اسے عشق کرنے کو۔۔اب جس حال میں ہے اس سے تو جلد صحت یاب ہو جائے گی۔پر اگر اس سفر رندھاوا کے بیٹے کی ہمسفر بنی تو ساری زندگی چارپائی پر گزار دے گی۔۔تم کیوں بھول گئ ہو جو بھی ہے وہ اس سفر کا خون ہے۔۔،،اصغر دھیرے مگر سخت لہجے میں بولا تھا۔
“بھائی ہر انسان میں فرق ہوتا ہے۔۔اگر ہم پاسٹ کو۔۔،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتی فہد ان کی طرف آتا دیکھائی دیا۔
“ماموں اگر وہ مر جاتی تو ۔۔۔تو آپ کے دل کو راحت مل جاتی۔۔۔کیوں ماشی کی خوشیوں کو چھین رہے۔۔،،
فہد کے لفظ منہ میں ہی تھے کہ اس کے منہ پر زور کا تھپڑ پڑھا جس کے نشان منہ پہ چھپ گئے وہ منہ پہ ہاتھ رکھ کر ماں کو دیکھنے لگا
“بد تمیز۔۔۔بڑوں سے بات کرنے کی تمیز بھول گئے ہو کیا۔۔۔۔معافی مانگو بھائی سے۔۔،شگفتہ نے غصے سے کہا۔
“س۔۔سوری ماموں۔۔پر اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں کچھ نہیں کروں گا۔۔اگر آپ سب اس رشتے کے خلاف ہو تو میں اس کے ساتھ ہوں مجھے ماشی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔۔ماموں آپ ذرا سوچیں اگر وہ اور آسام ایک ہو جائیں تو اس میں برا کیا ہے۔۔محبت کرتے ہیں وہ دونوں ایک دوسرے سے میں اچھی طرح جانتا ہوں آسام کو افنان کو اور ثاقب بھائی بلکہ سب کو ہی۔۔اچھی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں پلیز ماموں مان جائیں۔۔،،فہد پہلے غصے اور پھر التجاء کرنے لگا۔
“اب تم مجھے سمجھاؤ گے وہ کیسی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔۔واہ بیٹا واہ بہت بڑے ہو گئے ہو شاباش۔۔۔،،اصغر نےاس کے کاندھے پر تھپکی دے کر طنزیہ کہا۔
“اور ہاں میری مرضی کے خلاف جانے کی کوشش بھی مت کرنا۔۔،،اصغر نے ماتھے پہ بل ڈال کر کہا اور چلا گیا۔
“ماما پلیز ماموں کو سمجھائیں۔۔وہ کیوں ہر بار ایسے کرتے ہیں۔۔،،فہد نے شگفتہ کے ہاتھ تھام کر کہا۔۔
“وہ بڑے ہیں وہ جو فیصلہ کرتے ہیں ٹھیک کرتے ہیں۔،،شگفتہ نے نظریں جھکا کر کہا۔
“ماں آپ بھی جانتی ہیں ماموں یہ فیصلہ غصے میں لے رہے ہیں۔کیوں ماشی کو ڈیپریشن کا شکار کر رہے ہو۔۔مر جائے گی وہ آسام کے بغیر ابھی کوئی اور ثبوت چاہئے آپ لوگوں کو۔۔،،فہد بے بسی سے چلایا تھا۔اتنے میں اس کے فون کی بیل بجی۔
تو وہ باہر کی طرف بڑھ گیا۔
“میں بھی جانتی ہوں جو درد تجھے ہو رہا ہے وہ ہی مجھے ہو رہا ہے۔۔،،شگفتہ کی آنکھیں نم ہو گئیں
“ثاقب بھائی کیا ہوا کیا بات ہے۔۔،،فہد ہوسپٹل سے باہر گاڑی کے ساتھ کھڑے ثاقب کے پاس جا کھڑا ہوا۔
“فہد ماشی کیسی ہے کیا ہوا اسے۔۔,،ثاقب نے فکر مندی سے پوچھا۔
ان کے والدین کی لڑائی نے ان کے درمیان کوئی دیوار نہیں ڈالی تھی فہد اور ثاقب یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ اصغر صاحب نے ایسا کیوں کیا۔اور ان کی باتوں کا مطلب کیا تھا
“دماغ میں گہری چوٹیں آنے کی وجہ سے گہرا صدمہ برداشت نہیں کر سکا۔ اسے ماموں
کا فیصلہ پسند نہیں آیا ۔۔،،فہد نے ثاقب کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔۔
گاڑی میں بیٹھے آسام کو لگا اس کی ٹانگوں کی طرف سے جان نکلنی شروع ہو گئی ہو۔وہ گاڑی سے باہر بڑی مشکل سے نکلا تھا فہد نے اسے تھام لیا
“بھائی۔۔،،آسام بس اتنا بول سکا تھا۔اور فہد کے گلے سے لگ گیا۔
“وہ ٹھیک ہے آسام۔۔صبر رکھو پاگل مت بنو یار۔۔،،فہد نےاس کے سر پہ ہاتھ پھیر کر کہا۔
“وہ کب سے تمہیں پکار رہی ہے چلو میرے ساتھ۔۔،،فہد اس کا ہاتھ پکڑ کر ہوسپٹل کی اندرونی طرف بڑھ گیا۔ثاقب نے ہاں میں سر ہلا دیا اور گاڑی میں بیٹھ گیا وہ اصغر کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
آسام اور افنان ایک ساتھ ہوسپٹل میں داخل ہوئے
کوریڈور میں بیٹھی شگفتہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی اس کی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔
“فہد کو آسام کا خون اپنی طرف کھینچتا ہے اف۔۔۔افنان۔۔۔وہ کہاں ہے پتا نہیں کتنا بڑا ہو گیا ہو گا۔کیسا ہو گا آنکھیں ترس گئ ہیں اسے بھی دیکھنے کو ۔،،شگفتہ نے آسام کو دیکھ کر سوچا۔۔وہ جس آسام کو چھوٹا سا چھوڑ کر آئی تھی وہ اب بڑا ہو چکا تھا
“فہد۔۔روک جاؤ۔۔تمہارے ماموں نے روکا تھا کیوں تم ان کی مرضی کے خلاف جا رہے ہو۔۔,،،شگفتہ روکنا نہیں چاہتی تھی۔پر مجبوراً روکنا پڑا۔
“ماں اس کی حالت دیکھو۔۔،،فہد نے آسام کو دھکا دے کر شگفتہ کے سامنے کیا آسام نے نظریں جھکائی ہوئی تھی چہرے پہ اداسی چھائی ہوئی تھی۔ہونٹ بھیجے وہ کسی دیوانے کی طرح کھڑا تھا۔
“اب تو آپ سمجھ گئئ ہوں گی۔۔چلو آسام۔،، فہد نے پھر سے آسام کا ہاتھ تھام لیا۔اور ماشی کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
“جاؤ ۔۔،،فہد نے کمرے کے سامنے جا کر اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔اور اندر کی طرف اشارہ کر کے شگفتہ کے پاس چلا گیا۔
آسام تھوڑی دیر باہر کھڑا اپنی سانس کو بحال کرتا رہا اور پھر چہرے پہ مسکراہٹ سجا کر اندر چلا گیا۔ماشی چھت کو گھور رہی تھی۔
آسام آہستہ آہستہ چلتا اس کے پاس آکر بیٹھ گیا۔
ماشی شائد کسی اور دنیا میں گم تھی۔
“آسام۔۔۔میں آپ کے بنا مر جاؤں گی میں نے یہ احساس کیا تھا۔۔پر یہ حقیقت ہے
کہ ماشی،سامی کے بغیر مر جائے گی۔۔،،ماشی اسے دیکھتے ہوئے بولی۔آسام نے بے بسی کے عالم میں ماشی کو دیکھا
“آپ کیوں ٹینشن لیتی ہیں۔۔ماشی میری کوئی اوقات ہےآپ کی لائف میں کیا۔۔؟ جب آپ نے میری بات نہیں ماننی ہوتی۔۔کتنی بار بکواس کر چکا ہوں کہ۔۔،،آسام کچھ اور بولتا ماشی بجلی کی پھرتی سے آسام کے سینے سے آ لگی۔آسام نے آنکھیں بند کر لی
“ماشی۔۔،،آسام نے اسے خود سے جدا کر دیا۔
“ماشی اگر ہمارے اللہ نے ساتھ لکھا ہوا تو ہم ضرور ملیں گے۔۔،،آسام نے ماشی کے بالوں کو ہاتھ سے چھوا تھا۔پہلی بار ایسا کیا تھا اس نے۔ماشی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“ت۔۔تو پھر تمہارے چہرے پہ اداسی کیوں ہے۔،،ماشی اٹھ کر بیٹھ گئی۔اسے دیکھنے لگی تھی۔
“آسام یہ جو دل ہے نہ۔۔،،ماشی نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا اس کے دل کی دھڑکن وہ سن پا رہی تھی۔
“یہ جو دل ہے نہ یہ ہمارے بس میں نہیں ہوتا۔۔آسام میں کیا کہوں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا پلیز مجھے کچھ بتاؤ می۔۔میں کیا کروں۔۔،،ماشی اس کے ہاتھ پر منہ رکھ کر رونے لگی تھی۔
“اتنی بڑی بڑی باتیں کرنے والی ماشی آج کیوں کمزور پڑھ رہی ہے۔۔،،آسام اپنے آنسوں پہ قابو پانے کی ناکام کوشش کررہا تھا۔
“کیوں کہ میرا آسام مجھ سے دور ہونے کو ہے تو میں کیسے مظبوط رہوں۔۔،ماشی کے آنسوں بہنے لگے تھے۔وہ ہر جذبات کا اظہار کھول کر کر رہی تھی شائد اسے لگ رہا تھا دوسرے ہی پل وہ دونوں الگ ہو جائیں شائد وہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر کبھی نہ چلیں
“بس ماشی آج کے بعد تمہیں کبھی کچھ نہ ہو گا آج کے بعد تم کبھی روؤ گی نہیں۔آج جب تک انکل مان نہیں جاتے میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔۔۔مجھے تمہاری قسم۔،،آسام اس کے سر پہ ہاتھ رکھ کر بولا اور اٹھ کر باہر چلا گیا
“بھائی انکل کہاں ملیں گے۔ ،،أسام نے فہد سے پوچھا تو فہد حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا شگفتہ نے بھی حیرانگی سے دیکھا
فہد نے ایک طرف اشارہ کر دیا آسام اس طرف بڑھ گیا۔
“میں اندر آ سکتا ہوں سر۔۔،،آسام نے دروازے پہ
دستک دے کر کہا اصغر صاحب نے ہاں میں سر ہلا دیا
“مجھ میں کیا کمی ہے۔۔۔آج تک میں نے یہ سوال کسی سے نہیں کیا آپ سے کر رہا ہوں۔۔،،اصغر اسے حیرانگی سے دیکھنے لگا۔
“میں ماشی سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔پلیز انکل آپ ہمیں الگ مت کریں۔میں نکاح کرنا چاہتا ہوں آپ کی بیٹی سے۔،،آسام نے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔
“تم ماشی کے لئے کیا کر سکتے ہو۔۔،،اصغر اپنی کرسی پر جھولتے ہوئے اطمینان سے بولا۔
“کچھ بھی جو آپ کہیں پر مجھے ماشی دے دیں۔۔میری محبت میری جھولی میں ڈال دیں۔۔،،آسام نے سر جھکا کر کہا۔اس میں اتنی ہمت نہیں تھی پر محبت نے اسے ہمت دی ماشی کی دوری نے اسے ہمت دی تو وہ اصغر کے سامنے کھڑا تھا۔
“میں تم پہ یقین کیسے کروں۔۔اگر تمہارے کہیں افیئرز ہوئے تم چار پانچ بچوں کے باپ ہوئے تو میری بیٹی کی زندگی برباد ہو گئ نہ
۔،،اصغر کرسی گھوماتے ہوئے بولا آسام کے چہرے پر حیرانگی آ گئ تھی
“آپ میری انفرمیشن نکلوا لیں۔۔جو دل کرے آپ کریں۔۔پر میں صرف آپ کی ماشی سے محبت کرتا ہوں۔آپ کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔۔،،آسام نے پر یقین انداز میں کہا اصغر نے آسام کی آنکھوں میں جھانکا وہاں سچ ہی تھا۔
“ٹھیک ہے جاؤ میں سوچوں گا اس بارے میں۔۔،،اصغر پینسل ٹیبل پر رکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔آسام ان کو افسردگی سے دیکھنے لگا۔
“جاؤ سنا نہیں تم نے۔۔،،اصغر نے سختی سے کہا۔
“نہیں انکل میں نے ماشی سے وعدہ کیا ہے جب تک آپ نہ مانے تب تک میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔،،آسام نے نفی میں سر ہلا کر کہا۔اصغر کو اس کی ضد پہ حیرانگی ہوئی۔
“ماموں میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔میں اندر آ جاؤں۔۔،،فہد دروازے کے پاس آکر کھڑا ہو گیا۔
“آ جاؤ آ جاؤ تمہاری ہی کمی تھی آ جاؤ نواب زادے۔،،اصغر نے طنزیہ انداز میں مسکرا کر کہا۔فہد نہ چاہتے ہوئے بھی اندر داخل ہو گیا۔
“ماموں پلیز یقین کریں آسام پہ۔۔ایک بار ماشی کے بارے میں سوچیں۔۔وہ اس کے بغیر
خوش رہ سکے گی کیا۔۔،،فہد اصغر کے پاس جا کھڑا ہوا
“یہ تمہارا کیا لگتا ہے۔۔جو تم اس کی وقالت کر رہے ہو۔۔،،اصغر غصے سے بولا۔
“بھائی کہا ہے اسے میں نے ماموں اور آپ کو پتا ہے نہ جب ملک ایک بار کسی سے رشتہ جوڑ لیتے ہیں پھر مر جاتے ہیں پر رشتہ نہیں ٹوٹنے دیتے۔اور آسام پہ مجھے یقین ہے اگر کل کو کچھ اونچ نیچ ہو گئ تو اس کی زمیداری میری۔۔،،فہد اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔
“پلیز پہلی بار اور آخری بار میری بات مان لیں پلیز۔۔،،فہد نے اصغر کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لئے۔
آسام فہد کو دیکھنے لگا۔
“ٹھیک ہے اور اگر اس لڑکے نے پھر سے۔۔،،اصغر کہتے کہتے رک گیا۔
“اگر اس نے ماشی کو تکلیف دی۔۔اگر بعد میں کوئی ایسی ویسی بات نکلی تو میں۔۔۔تمہں نہیں چھوڑوں گا فہد یاد رکھنا پھر تمہارا یہ ماموں مر جائے گا تمہارے لئے۔،،اصغر نے پہلے اپنی طرف اور پھر فہد کی طرف اشارہ کیا۔،
“تھینک یو ماموں۔۔،،فہد نے خوش ہو کر اصغر کو گلے لگا لیا۔۔آسام ابھی بے یقینی کے عالم میں کھڑا تھا۔فہد اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر لے گیا۔
“میرا بہنوئی بننے کی تیاری کریں جناب۔،،فہد نے مسکرا کر آسام کے کاندھے پر تھپکی دے کر کہا۔
“سچی۔۔،،آسام نے بے یقینی سے پوچھا۔
“لو ابھی کوئی ثبوت چاہئے تمہیں۔۔۔,, فہد نے اسے کاندھے سے پکڑ کر کہا۔
“نہیں بھائی۔۔میں ماشی کے پاس جاؤں۔،،آسام اپنی خوشی کو چھپا نہیں سکا تھا فہد نے ہس کر ہاں میں سر ہلا دیا۔
آسام تقریباً بھاگ کر ماشی کے کمرے میں گیا تھا اس نے وہاں جا کر سانس لیا۔
“ماشی۔۔،،آسام بھاگ کر اس کے پاس جا بیٹھا۔ماشی اسے دیکھ کر مسکرانے لگی۔
“وعدے کے تو تم پکے ہو۔۔ڈیڈ مان گئے ہیں نہ مبارک ہو مسٹر رندھاوا صاحب۔۔،،ماشی نے آسام کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرا کر کہا۔
آسام نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلا دیا۔
” آج کے بعد میں آپ کی آنکھوں میں آنسو نہ دیکھوں۔۔اور نہ ہی آپ کو اس حالت میں دیکھوں۔۔جب دل کرتا ہے ہوسپٹل پہنچ جاتی ہو۔جب دل کرتا ہے چوٹیں لگوا لیتی ہو بس اب بہت ہو گیا میں تھک چکا ہوں اب آپ کو خود سے دور نہیں ہونے دوں گا اور ہمشہ آپ کی حفاظت کروں گا۔۔،،آسام نے اپنے بالوں کو ہاتھ سے اوپر کر کے کہا ماشی مسکرا کر ہاں میں سر ہلا کر رہ گئی
“اوکے اب میں جاتا ہوں اپنا خیال رکھنا اور پلیز پلیز اب ٹھیک ہو جائیں۔۔وہ کیا ہے نہ کہ میں اور انتظار نہیں کر سکتا۔۔،،آسام نے رومینٹک انداز میں کہا اور باہر چلا گیا ماشی شرماتی نظروں سے آسام کو دیکھتی رہ گئ۔
آسام نے اسے ہر تکلف سے نجات دلا دی تھی۔
*********
میں کچھ بھی نہیں ہوں تیرے لئے
کچھ تیرے لئے میں ہو جاؤں
تیرے دل میں رہوں آنکھوں میں بسوں
دھڑکن میں شامل ہو جاؤں
تو جب کوئی بات کرے
میری زات بھی اس میں شامل ہو
ہر بار نہیں اک بار صحیح
اک بار تو ایسا ہو جائے
اک پل کے لئے اے جان_وفا
تجھے مجھ سے محبت ہو جائے۔۔
“افی یار چلو دو دن ہو گئے ہیں تم ہمارے ساتھ نہیں جا رہے۔ ہم یہاں گھومنے پھرنے آئے ہیں نہ تو چلو ۔،،ونیت نہیااور انوشکا اس کے کمرے میں کھڑی پیچھلے دو گھنٹے سے منانے کی کوشش کر رہی تھی۔پر وہ سردی سے یا ان تینوں سے بچنے کے لئے کمبل میں چھپا ہوا تھا۔
“نہیں ۔۔مجھے بخار ہے تم لوگ جاؤ۔۔،،(ہاں ایسے میری جان چھوڑ دیں گی)دل میں سوچتے ہوئے وہ مسکرایا اور پھر بخار کی کیفیت منہ پہ لا کر ایکٹنگ کرنے لگا۔
“واقع ہی۔۔پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔,, ونیت نے فکر مندی سے کہا۔
“تم لوگ بولنے دیتی تو ہی نہ۔۔،،افنان نے معصوم سی شکل بنا کر کہا معصومیت کی ایکٹنگ اسے کرنی اچھے سے آتی تھی ۔
“تم لوگ جاؤ آج میں افی کے پاس رک جاتی ہوں اسے ضرورت پڑھ سکتی ہے کسی چیز کی۔،،انوشکا بیڈ پر براجمان ہو کر بولی۔
“کیا۔۔۔نہیں نہیں۔۔،،افنان نے جلدی سے کہا
“کیوں بخار نہیں ہے تمہیں ڈرامہ کر رہے ہو۔۔،،انوشکا نے افنان کے چہرے کو دیکھ کر پوچھا
(مجھے پتا ہے تم ڈرامہ کر رہے ہو آج اس بات کا فائد میں ضرور اٹھاؤں گی) انوشکا دل میں سوچ کر مسکرا دی۔
“نہیں اچھا ٹھیک ہے تم میرے پاس روک جاؤ باقی سب جاؤ۔۔،،افنان نے کمبل منہ تک اوڑھ لیا
نہیا اور ونیت
باہر چلی گئیں۔انوشکا بیڈ کے ایک طرف میز پہ پڑھی کتاب کھول کر پڑھنے لگی۔
افنان چپ کر کے لیٹا رہا۔
“یہ تو کچھ کہ ہی نہیں رہا۔۔میں کہ دوں۔۔،،انوشکا کتاب بند کر کے سوچنے لگی۔
“انوشی میرے ہیڈ فونز خراب ہو گئے ہیں تم اپنے لا دو۔۔،،افنان نے اس کی طرف منہ کر کے مسکرا کر کہا تو وہ پہلے افنان کو دیکھتی رہی پھر سر ہلا کر اٹھ گئ۔
جب وہ کمرے سے باہر چلی گئی تو افنان نے دروازہ بند کر لیا۔
“واہ افنان کیا سمائل ہے تیری۔۔،،وہ قد آدم آئینے کے سامنے کھڑا بالوں کو ٹھیک کرتے ہوئے خود سے بولا۔
“مجھے اس کی یاد آرہی ہے۔کیا وہ بھی مجھےیاد کرتی ہو گی۔،،وہ بیڈ پر جا بیٹھا۔
وہ پاکستان ہونے والی سب باتوں سے بے خبر تھا
اسے ابھی نہیں پتا تھا کہ آسام اور ماشی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔
وہ کچھ سوچنے لگا جب اس کے دماغ میں ترکیب آ گئ تو وہ اپنا فون اٹھا کر کمبل میں جا کر لیٹ گیا۔
“لاکھ نخرے دیکھاؤ سر جھکانا پڑھے گا
بن کے میری دلہن میرے پاس آنا پڑھے گا۔۔،،
افنان نے ٹائپ کیا اور مسکرا کرماشی کو سینڈ کر کے لیٹ گیا۔
“چار دن بعد ایک دھماکہ ہو گا۔۔اور چاندنی۔۔۔۔ہاہاہاہاہا،،افنان نے کہکہکا لگاکرکہا اور اپنے براؤن بالوں میں ہاتھ چلانے لگا
انوشکا دروازہ کھٹکھٹا کھٹکھٹا کر پاؤں پٹختی چلی گئی۔۔افنان نے دروازہ نہیں کھولایہ ہی تو اس کا پلین تھا انوشکا کو باہر بھیجنے کا۔
********************
“کاش میں نے آخری غلطی نہ کی ہوتی تو۔۔پر میں چاہتا ہوں کہ پھر سے دونوں فیملز مل جائیں کیا میں غلط سوچتا ہوں۔۔؟؟،،سفر رات کے اس وقت سکندر کی قبر پر بیٹھا تھا
“مجھے معاف کر دینا پر تمہیں صرف تمہیں پتا ہے میں بے قصور ہوں۔محبت کے ہاتھوں مجبور تھا ۔۔،،سفر نے سکندر کی قبر پہ ہاتھ پھیرا۔۔
“ڈیڈ چلیں اٹھیں رات بہت ہو گئ ہے۔،، جاہنگیر اس کے پاس آگیا اور کندھوں سے تھام لیا۔
سفر آنسوں صاف کر کے اٹھ کھڑا ہوا۔
“ڈیڈ ایسا کب تک چلے گا اب آپ کی عمر ہو گئ ہے اب سکندر انکل کے پاس آنا چھوڑ
دیں۔,, جاہنگیر نے گاڑی میں بیٹھتے ہی کہا۔
“بیٹا اس کے پاس کوئی روز نہیں آتا
میری وجہ سے اسلام آباد کوئی نہیں آتا تو میں کیوں اسے اکیلا چھوڑوں۔۔،،سفر نے سیٹ پہ سر ٹکا دیا۔
جاہنگیر نے ان کے چہرے پہ کچھ ڈھونڈنےکی کوشش کی تھی پر وہاں کچھ خاص نہیں تھا۔
“جاہنگیر سوموار والے دن تم لوگ صبح جلدی نکل جانا لاہور کے لئے۔۔میں کراچی سے ہو کر آؤں گا دو سال ہو گئے ہیں کسی فیکٹری کا راؤنڈ نہیں لگایا۔،،سفر نے جاہنگیر کے سر پہ دھماکہ کیا تھا جاننے والوں کو اور سفر کے فرینڈز نے اس سے کراچی فیکٹری کے بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی۔۔
ہر نیوز پیپرز کو سفر سے دور رکھا جاتا تھا۔ٹی وی وغیرہ پہ نیوز چینل بند کر دیا گیا تھا اور ان سب کی اتنی محنت کے بعد اب وہ کہ رہے تھے انہیں فیکٹری کا چکر لگانا ہے۔۔
“نہیں ڈیڈ آپ کا ہونا ضروری ہے۔۔اتنی مشکل سے تو انکل ماننے ہیں۔ہمارے آسام کی خوشی میں ہمیں خوش ہونا چاہئے چھوٹے تینوں کو گزرے ہوئے کل کے بارے میں پتا نہیں چلنا چاہئے۔چار دن بعد افی بھی آ جائے گا دھوم دھام سے منگنی کریں گے سامی کی ۔۔،،جاہنگیرنے انہیں کنوینس کرنا سٹارٹ کر دیا۔۔
“اوکے۔۔،،سفر نے پر سوچ انداز میں کہا اتنے میں ان کا گھر آ گیا تھا۔
سفر کس سے بھاگنا چاہتا تھا یہ جاہنگیر بھی جانتا تھا.
********************
بائمہ اپنے چھوٹے سے کمرے میں بیٹھی آفس کا کام کر رہی تھی۔۔وہ ایک دن پہلے کراچی سے واپس آئی تھی کام بہت زیادہ تھا۔
وہ چھوٹا سا کمرہ اس کی جنت تھی جس میں رہ کر اسے سکون ملتا تھا۔کسی کی باتیں نہیں سننی پڑھتی تھی۔کسی کی گندی نظروں کا سامنا نہیں ہوتا تھا۔کسی کے غلط ارادوں کا شکار نہیں ہوتی تھی۔تو اس کے لئے وہی کمرہ جنت تھا۔دس گھنٹے وہ بڑی مشکل سے آفس میں گزارتی تھی۔
“بائمہ۔باہر تم سے ملنے چندو آیا ہے۔۔،،چاچی نے اس کے پاس آکر کہا۔
“کیوں وہ کیوں آیا ہے اسے کہو میں بیزی ہوں۔۔،،بائمہ کا رنگ بدل گیا تھا۔
“اٹھ دفاع ہو کمرے میں جا۔۔،،
چاچی نے اسے پکڑ کر چارپائی سے نیچے دھکیل دیا۔
وہ پہلے چاچی کو دیکھتی رہی پھر ڈوپٹہ سر پہ ٹکا کر باہر چلی گئ۔
“بولو کیا مصیبت ہے اتنی رات کو یہاں کیا کر رہے ہو۔۔،،بائمہ سینے پر ہاتھ باندھ کر سختی سے بولی۔
وہ سامنے رکھی کرسی پہ ٹانگ پر ٹانگ دھرے بیٹھا تھا امیر تو نہیں پر وہ غریب بھی نہیں لگ رہا تھا۔اچھی خاصی پینٹ ،شرٹ پہن رکھی تھی اس نے
“چھچ چھچ۔۔۔باؤ باؤ تم اتنا کیوں اکڑتی ہو۔۔۔اپنی اصلیت کیوں بھول جاتی ہو۔۔،، چندو اس کے پاس آکردانت پیس کے بولا بائمہ کا جو تھوڑی دیر پہلے والا سکون تھا بے سکونی میں بدل گیا تھا اور شرمندگی کا احساس چہرے پر آ گیا تھا
ڈر بھی تھا اور غصہ بھی اس کے علاوہ بھی بہت کچھ تھا۔
“کیا ہوا۔۔باؤ یہ ڈوپٹہ۔۔،،چندو نے اس کے سر سے ڈوپٹہ کھینچ دیا۔
“تم پہ سوٹ نہیں کرتا یہ پہنو اور تیار ہو جاؤ باہر جا رہے ہیں۔۔تمہارے عاشق نے کال کی تھی۔۔،،چندو نے اس کی طرف ایک گفٹ پیک پھینکا۔
“کسے بغیرت اور کمینے انسان ہو اپنی منگیتر کو چھچ۔۔،،بائمہ نے دانت پیس کر کاٹ کھانے والے انداز میں کہا۔
“جیسی تو ویسا میں اب ڈرامے بند کر اور تیار ہو جا نہیں تو یاد ہے نہ میں کیا کیا کر سکتا ہوں۔۔،،چندو نے دھمکی آمیز انداز میں کہا تو بائمہ نفی میں سر ہلا کر چلی گئ وہ ڈر گئ تھی اور چندو اس کا انتظار کرنے لگا
بائمہ تھوڑی دیر بعد ۔اس کا دیا ہوا ڈریس پہن کر باہر آ گئ۔
کھولے گلے والی شرٹ جو گھٹنوں سے بہت اپر تھی اس کے بازو غائب تھے۔
بالوں کو اس نے انچی پونی کی ہوئی تھی۔
چندو اٹھ کے کھڑا ہو گیا اور سیٹی بجانے والے انداز میں ہونٹ سکڑے
چاچی کو جانے کا اشارہ کر کے وہ باہر بڑھ گیا باہمہ بھی اس کے ساتھ باہر چلی گئ۔
باہر ایک گاڑی کھڑی تھی وہ اس میں بیٹھ گئ۔چندو بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا
اس کو ڈر تھا پر کس بات کا۔۔؟اسے دکھ تھا پر کس بات کا۔۔؟
“میرے اللہ آگر تیرا کوئی وجود ہےنہ تو مجھے اپنے پاس بلا لےیا ان گناہوں سے نجات دے دے۔،،
اس نے بس ایک دعا مانگی تھی۔
گاڑی بہت بڑے ریسٹورنٹ کے سامنے روک گئ وہ چپ چاپ اتر کر اندر کی طرف بڑھ گئ ریسٹورنٹ کے اندر کا ماحول بہت خوشگوار تھا۔وہ چلتی ہوئی صوفے پر جا بیٹھی اس کے سامنے کوئی اور بھی موجود تھا جس کی موچھوں کے نیچے دبے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی بائمہ نے اسے ایک نظر دیکھا اور نظریں جھکا کر بیٹھ گئی
“لو بھائی میر میں نے اپنا وعدہ پورا کیا اب تم بھی کرو۔۔،،چندو صوفے پر گرتے ہوئے بولا۔۔
“ہاں ہاں یاد ہے جناب۔۔،میر نے جیب میں ہاتھ ڈال کر بہت سارے نوٹ اس کے ہاتھ میں تھما دئیے چندو کی آنکھوں میں چمک آ گئی تھی۔بائمہ نے اسے نفرت سے گھورا۔
“چلو باؤ۔۔،،میر نے ہاتھ اس کے سامنے کر دیا۔بائمہ نے منہ دوسری طرف کر لیا
“میر تم چلو میں باؤ کو لے کر آتا ہوں۔ ،،چندو نے بائمہ کو غصے سے گھورا
میر سر ہلا کر چلا گیا
“میرے ساتھ چلو۔۔،،چندو نے بائمہ کا ہاتھ پکڑ کر اتنا زور سے دبایا کہ وہ کہرا کر رہ گئ۔وہ اسے ایک کمرے کی طرف لے گیا۔
“تم زیادہ نخرے نہ دیکھاؤ اور چپ کر کے میر کے پاس جاؤ جو وہ کہتا ہے چپ چاپ کرو۔سمجھی تم۔۔،،چندو نے اس کے کاندھوں سے دبایا کہ چندو کی انگلیاں بائمہ کے کومل کاندھوں میں پھس گئ۔
“شرم کرو۔۔۔آہ۔۔میں تمہاری منگیتر ہوں کچھ تو لحاظ کرو ہمارے رشتے کا۔۔،،بائمہ کی آنکھوں میں غصہ امڈ آیا تھا۔
کھڑکی کے پاس کھڑا انسان ان کی باتیں سن رہا
تھا۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا باہر جا کر چندو کو دو لگا دے
“ہاہاہاہاہاہاہا یہ تمہں پہلے سوچنا چاہئے تھا۔۔اور منگیتر ہو بیوی تو نہیں ہو۔۔جب بن گئ تب تمہیں کسی دوسرے کےپاس نہیں جانے دوں گا۔۔ابھی جاؤ منگیتر کی بات نہیں مانو گی۔خود بھی انجوائے کرو مجھے بھی کرواؤ اپنے گھر والوں کو بھی انجوائے کرواو۔۔۔،،چندو نے اس کے بالوں کو کھول کر ایک طرف کر دیا۔بائمہ نے آنکھیں بند کر لی تاکہ وہ غائب ہو جائے پر حقیقت کہاں بدلتی ہے۔
“نہیں جاؤ گی ۔۔تو میں تمہیں۔۔۔پر تمہیں کچھ کیوں کروں اور جو میں کر سکتا ہوں وہ تم جانتی ہو۔۔،،چندو نے دھمکی دی تھی۔بائمہ کی آنکھوں میں ڈر کی لہر دوڑ گئی۔چندو نے اسے زور سے دھکا دیا بائمہ کا سر دیوار میں جا لگا۔
اگر پیچھے دیوار نہ ہوتی تو گر جاتی
“آہ۔۔،،بائمہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی کھڑکی میں کھڑے ثاقب نے اس کا منہ نہیں دیکھا تھا۔
“کیا ہو گیا ہے ہمارے ملک کو۔۔معصوم عورتوں کے ساتھ ظلم کیا جا رہا ہے۔۔، ثاقب بیڈ پر بیٹھ گیا۔وہ وہاں کسی میٹنگ کے لئے آیا تھا پر کلائنڈ تھوڑا لیٹ ہو گئے تھے جس وجہ سے وہ کمرے میں آرام کی خاطر چلا گیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد باہر ایک عجیب سا شور مچا تھا وہ سمجھنے سے قاصر. تھا اتنے میں اس کے دروازے پر دستک ہوئی تو اس نے دروازہ کھول دیا باہر کچھ پولیس والے کھڑے تھے۔
“کیا ہوا آپ لوگ یہاں۔۔؟؟،،ثاقب ایک طرف ہو کر بولا
“ہم نے سنا ہے یہاں کچھ لوگ غلط ارادوں کے ساتھ آتے ہیں اور عورتوں کو بیچا بھی جاتا ہے ایسے بہت سارے غلط کام اس ہوٹل میں ہو رہے ہیں
۔یہ کمرہ رہنے دو۔۔سوری مسٹر رندھاوا۔۔،،
“نہیں آپ لوگ اپنا کام کریں کوئی مسلئہ نہیں ہے۔۔،،ثاقب نے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔دو پولیس کے نوجوان اندر چلے گئے اور پھر تھوڑی دیر بعد نکل آئے نفی میں سر ہلا کر ایک طرف بڑھ گئے انسپکٹر نے ثاقب کے ساتھ ہاتھ ملایا اور خود بھی چلا گیا۔ثاقب دروازہ بند کر کے بیڈ پر بیٹھ گیا
“اوہ نو۔۔وہ لڑکی ۔۔اور کسی کا تو پتانہیں پر وہ تو بے قصور ہے نہ اسے بچانا چاہئے۔۔،،ثاقب کے دل کی آواز تھی یہ۔
وہ اٹھ کر سائیڈ ٹیبل سے نظر کا چشمہ لگا کراور اپنا کوٹ اٹھا کر باہر چلا گیا۔۔کچھ لوگ آرام سے بیٹھے تھے تو کچھ لوگ بھاگ رہے تھے۔
“مجھے کیسے پتا چلے گا وہ کہاں ہو گی۔۔،،ثاقب نے خود سے سوال کیا اور پیچھلی طرف چلا گیا ہر کھڑی سے وہ اندر دیکھنے کی کوشش
کرنے لگا آخری کمرے میں سے کسی کی آوازیں سنائی دی۔۔بھاری مردانی آواز میں کوئی سختی سے چلا رہا تھا۔اور آیک باریک آواز تھی جو التجاء کر رہی تھی۔ثاقب نے کھڑکی کے شیشے سے اندر دیکھا تو وہ وہی لڑکی تھی ابھی بھی اس کی پیٹھ نظر آرہی تھی کالی اور پیپسی رنگ کی چھوٹی سی شرٹ میں ملبوس تھی بال بہت لمبے تو نہیں تھے جو تھے کمر سے اوپر تھے وہ بہت پریشان تھی یہ ثاقب نے اس کی حرکت سے محسوس کیا وہ بار بار سر پکڑ رہی تھی
کچھ سیکنڈز کے بعد میر چلا گیا
بائمہ زمین پر گر گئ۔
ثاقب پہلے کچھ پل سوچتا رہا اور پھر کھڑکی کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔کھڑکی کھولی نہیں تو اس نے سر پکڑ لیا۔
“اب کیا کروں۔۔۔ایک بے قصور کو بد نام نہیں ہونے دے سکتا ہاں جو اپنے دل سے ایسے گھٹیا کام کرتے ہیں انہیں سزا ملنی چاہئے۔،،اس نے سوچا اور ایک جھٹکے سے شیشے پہ مکا مار دیا شیشہ ٹوٹنے کی آواز پر بائمہ چونک گئی مڑ کر دیکھنے ہی لگی تھی کہ سامنے قد آدم آئینے میں ثاقب کا چہرا دیکھا۔اس کا دل دھڑکنے لگا۔وہ رونا بھول کے ثاقب کو دیکھنے لگی جو بڑے آرام سے کھڑکی سے اندر آ رہا تھا۔
“یا اللہ اب میں کیا کروں۔۔،،وہ چاروں طرف کچھ ڈھونڈنےلگی جس سے وہ منہ چھپا لے پر کچھ نہ ملا۔
“یہ لیں اور جلدی چلیں یہاں آپ کو خطرہ ہے میں آپ کو نہیں جانتا پر آپ کی اور آپ کے منگیتر کی باتیں سنی تھی۔۔اس لئے میں انسانیت کے ناتے آپ کو بچانے آیا ہوں۔۔،،ثاقب نے اس کی طرف نہیں دیکھا بائمہ نے کورٹ پکڑ لیا۔
“انسانیت کے ناتے۔۔۔،،بائمہ نے بے بسی سے ثاقب کو دیکھا جو دوسری طرف دیکھ رہا تھا
وہ کورٹ کو پہن کر اٹھ کھڑی ہوئی دوسری طرف منہ کر کے اس نے اپنی شرٹ پہ لگے اضافی کپڑے کو پھاڑ لیا اور منہ پہ نقاب کی طرح اوڑھ لیا۔ہاتھوں کو کورٹ کی جیبوں میں ڈال لیا کیونکہ اس کے ہاتھ پر پٹی باندھی ہوئی تھی
ثاقب نے ایک نظر اس پہ ڈالی اور کھڑکی سے باہر نکل گیا بائمہ نے پینسل ہیل پہن رکھی تھی وہ اترنے لگی جب اس کی ہیل پردے میں اٹک گئ۔
“دھیان سے۔۔،،وہ کھڑکی کے ساتھ کھڑے ثاقب کے کاندھوں پہ ہاتھ رکھ کر اتر آئی ثاقب ایک طرف چلنے لگا ۔
“یہ ہیل اتار دیں آواز کر رہی ہے ۔۔،،ثاقب نے کھڑے ہو کر کہا۔بائمہ نے فٹ سے اتار دی۔۔ثاقب نے سر ہلا دیا اور پھر سے چلنے لگا۔اس نے اپنی جیب سے فون نکالا اور کسی کو کرنے لگا۔
“یا اللہ اب یہ میرے ساتھ کیا کرے گا۔،،اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں سوچ سکی۔اس نے جس کو بھی کال کی تھی پر تھوڑی دیر بعد لائٹ چلی گئی تھی۔
“میں جیسا کہتا ہوں آپ ویسا ہی کریں میرا ہاتھ پکڑیں اور کوئی آواز نہیں کرنی۔،،ثاقب نے اندھیرے میں اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا
“کیوں میں ایسا کیوں کروں کیوں اس انسان پہ یقین کروں۔۔،،بائمہ سوچنے لگی۔
“پر پہلے کون سا میری عزت باقی ہے۔۔جو اب خراب ہو گئی تو۔۔،وہ کچھ اور سوچتی ثاقب بول پڑا
“مجھے ہوٹل کا پیچھلا راستہ معلوم ہے جو کہ آپ کو معلوم نہیں ہے اور لائٹ بھی میں نے بند کروائی ہے تاکہ اس طرف کوئی متوجہ نہ ہو۔۔
اسی لئے بولا ہے ہاتھ تھامنے کو چلیں پھر آپ میرے پیچھے پیچھے چلتی رہیں۔،،ثاقب نے تفصیل سے بات بتا دی اور چلنے لگا۔
بائمہ کوپھر سے اپنی غلط سوچ پہ پچھتاوا ہوا وہ بھاگ کر ثاقب کو اندھیرے میں ڈھونڈنے لگی۔ اس کا ہاتھ ثاقب کے کاندھے پر گیا تھا آہستہ آہستہ اس نے ہاتھ ثاقب کے ہاتھ میں دے دیا ثاقب تیز تیز قدم بڑھاتا پیچھلے گیٹ کو عبور کر گیا۔اور پارکنگ ایریا میں جا کر اپنی گاڑی کا پیچھلا دروازہ کھول کر بائمہ کو اندر بیٹھا دیا
“انسانیت کے ناتے مدد کرنا اچھی بات ہے پر کسی کے جذبات کے ساتھ کھیلنا بہت بری اور گھٹیا بات ہے ت۔۔تم نے بہت برا کیا تھا میرے ساتھ۔۔آج اگر میری یہ حالت ہے تو اس کے زمیدار تم ہو ث۔۔ثاقب رندھاوا۔میں کیسے معاف کروں تمہیں۔تم سب امیر ایک جیسے ہوتے ہو اس مدد کے پیچھے بھی تمہارا کوئی مطلب ہو گا۔۔،،بائمہ نے بیک مرر میں ثاقب کے حسین چہرے کو دیکھ کر تلخی سے سوچا۔
بہت سی یادیں اس کے ذہین میں
آنے لگی تھی۔
“آپ کا گھر کس طرف ہے۔۔،،ثاقب کی آواز نے اسے خوابوں کی وادی سے نکال لیا۔
وہ اس کو نہیں دیکھ رہا تھا
“گھر کو دیکھ کر کیا کرو گے مجھ پہ ترس کھاؤ گے یا زیادہ سے زیادہ مجھے اپنی رکھیل بنانے کے بارے میں سوچو گے
ہاہاہاہا،،وہ سوچ کر خود پہ ہس دی۔۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ثاقب کو جان سے مار دے ۔۔
آواز تبدیل کر کے اس نے گھر کا راستہ بتایا ثاقب نے بیک مرر میں دیکھا تو وہ نظریں جھکا گئ۔
وہ اسے اس کے گھر اتار کے پھر سے ہوٹل واپس گیا تھا۔۔وہاں ابھی بھی شور تھا لائٹ آ چکی تھی کیونکہ اس نے صرف دس منٹ کے لئے بند کروائی تھی۔
ثاقب کو بہت سکون ملا تھا کسی کی مدد کر کے
وہ خوش تھا کہ کئی زندگیان برباد ہونے سے اس نے بچا لی اگر دنیا کے سامنے وہ لڑکی آتی تو شائد اس کے گھر والے اپنی جان دے دیتے ثاقب کو اس لڑکی پہ ترس آیا تھا
Episode 22
کراچی والی فیکٹری میں آگ کسی آدمی نے لگائی تھی وہ آدمی پکڑا بھی گیا تھا۔
“اسے سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے۔،،حماد نے اس لڑکے کے گریبان کوپکڑ لیا تھا ثاقب اس لڑکے کا جائزہ لینے لگا
“پر یہ شکل سے تو ایسا نہیں لگتا۔مجھے نہیں لگتا اس نے خود یہ کام کیا ہے۔،،ثاقب نے اس لڑکے کو دیکھ کر کہا
ثاقب کو ہر قسم کے انسان کی پہچان تھی کیونکہ چھوٹی سی عمر میں اس نے بزنس کی دنیا میں قدم جما لیا تھا۔
“مسٹر رندھاوا۔۔ہم تحقیقات کر رہے ہیں آپ بے فکر رہیں۔ ،،انسپکٹر نے ثاقب کو کہا پر وہ ابھی بھی اس لڑکے کو دیکھ رہا تھا۔
وہ لڑکا سر جھکا کر بیٹھا ہاتھوں کو آپس میں جکڑ کے ہونٹوں کو بھیجے ہوئے تھا۔ثاقب اور حماد باہر آ گئے۔ثاقب نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی
” bro, I think it’s fire this boy is not ap۔۔
یہ کام کسی نے کروایا ہے۔۔،،
“پر ہم سے کسی کی کیا دوشمنی ہو سکتی ہے کوئی بھی نہیں۔اور کوئی بھی انسان اتنے لوگوں کی جان کیسے لے سکتا ہے یار۔،، حماد پریشانی کے عالم میں بولا۔
“Yes brother, no man, if ever it will not on the She beast.
جو بھی ہے میں اسے چھوڑوں گا نہیں ڈیڈ کی محنت تھی۔۔کتنی محنت کی ڈیڈ نے اس فیکٹری کو کھڑا کرنے کے لئے آپ جانتے ہیں نہ۔۔،،ثاقب کو یاد آنے لگا تھا جب وہ آٹھارہ برس کا تھا تب سفر نے اس پروجیکٹ کو سٹارٹ کیا تھا۔ اور اس وقت ہی ثاقب نے بزنس میں اپنا پہلا قدم رکھا تھا۔اسے بہت دلچسپی تھی تبھی وہ جلدی ٹرین ہو گیا تھا۔کراچی کی فیکٹری سے ہی اس نے اپنی کارکردگی دیکھائی تھی۔۔حماد اور جاہنگیر سے وہ بزنس میں بہت زیادہ ہوشیار تھا
***************
“افی اور لو گے۔۔،،انوشکا نے بوتل اس کی طرف بڑھا دی۔افنان نے بوتل تھام لی۔
“چلو گائس افی کو سونے دو اسے چڑھ گئ ہے۔۔،،انوشکا لڑکھڑاتی ہوئی افنان کے پاس گر گئ وہ شراب پی پی کے بے ہوش ہونے کو تھا۔۔ماشی نے اس کے میسج کاجواب نہیں دیا تھا جس وجہ سے افنان کو غصہ آ گیا اور وہ غصے میں بیٹھا تھا جب اس کے کمرے میں سب ڈرینکس وغیرہ لے کر گھس گئے۔
اور وہ بوتل پہ بوتل پتا گیا۔کسی نے نہیں روکا۔
نہ تو وہاں نگینہ تھی نہ ہی آسام تو اور کون روکتا اسے۔
“تم بھی چلو نوشی۔۔نہیں تو کل کو پچھتانا پڑے گا۔۔ہاہاہاہا۔،،لکی نے نوشی کو پکڑ کر کھینچا۔
2
“کون پچھتائے گا۔۔میں نو نو۔۔اب گیٹ آؤٹ ہو جاؤ یہاں سے۔۔جاؤ جاؤ۔،،انوشکا نے سب کو دھکا دے کر کمرے سے نکال دیا۔
“افی آئی لو یو آئی لو یو۔۔،،انوشکا باہیں پھیلا کر بولی۔افنان نے اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی اور سامنے کھڑی انوشکا کو دیکھا۔وہ مسکرانے لگا
“آئی لو یو ٹو ماشی۔۔۔،،وہ نڈھال قدم اٹھاتا انوشکا کے پاس آگیا اب وہاں انوشکا نہیں اسے ماشی کھڑی نظر آرہی تھی۔پر انوشکا کا رنگ اڑ گیا
“What nonsense is this۔۔
کوئی بات نہیں پر تمہاری زندگی تو بدلے گی۔کل پاکستان جا کر تم کو ایک سرپرائز دوں گی۔،،انوشکا نے مسکرا کر افنان کو گلے لگا لیا۔
“Stay away from me۔۔,
افنان نے اسےدور دھکیل دیا۔انوشکا حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی۔
“پر افی۔۔،،انوشکا کچھ اور بولتی افنان نے اسے صوفے پہ دھیکل دیا۔اور خود بیڈ پر جا گرا۔
“تم ہر بار مجھے ہرٹ کرتی ہو آج میں تمہیں کروں گا گڈ نائٹ۔۔،،افنان نے صوفے پر گری ماشی کو گھورا۔اور آنکھیں بند کر لی انوشکا نے صوفے پر مکا مارا اس کا نشاہ اتر چکا تھا وہ اپنا فون نکال کر افنان کی طرف بڑھ گئ۔
“افی بےبی ہونا تو تمہیں میرا ہی ہے۔۔ایسے نہ صحیح تو ویسے ہی صحیح۔،،وہ اس کے پاس بیٹھ کر مسکرانے لگی پھر افنان کی شرٹ کے بٹن کھولنے کے بعد شرٹ کو تن سے ہی الگ کر دیا۔اور سیل فیز لینے لگی۔
اپنے کام سے فری ہو کر وہ مسکراتی باہر نکل گئ۔
شائد دولت نے اس کو اسلام کی پٹری سے اتار کر بے حیائی کے راستے پہ ڈال دیا تھا۔پر اللہ کی لاٹھی پڑھتی ضرور ہے۔
اور اس کی تربیت بھی ایسی ہی تھی اس کی کیا پورے گروپ کی ہی ویسی تھی۔ اور وہ لوگ جس معاشرے سے تعلق رکھتے تھے ان کے لئے یہ بات عام تھی۔
**************
“ہاہاہاہاہاہاہا آج تم گر گئ کیا خواب دیکھا بتا نہ۔ دیکھو دو دن بعد تمہاری منگنی اب آسام کے علاوہ کسی کے خواب مت
دیکھنا۔،،عشرت نے زمین پر گری ہوئی ماشی کو اٹھایا اور ہسنے لگی۔ پر ماشی نارمل نہیں تھی۔
“کیا ہوا۔۔۔تم ٹھیک ہو نہ۔۔،،عشرت نے اس کے باندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
“عشرت م۔۔۔میں نے بہت برا خواب دیکھا۔۔،،ماشی پسینے سے شرابور ہو چکی تھی۔
“اللہ کرم کرے ایسا بھی کیا دیکھ لیا۔،،عشرت پریشان ہو کر بولی۔
ماشی اپنے فون ڈھونڈنےلگی۔
اور پھر کسی کانمبر ڈھونڈنے لگی ۔
“کیا ہوا کچھ بتاؤ گی۔،،عشرت کا منہ کھول گیا ماشی پسینہ صاف کر کے نمبر ڈائل کرنے لگی
“بتا بھی۔۔،،عشرت نے بے صبری سے پوچھا
“بتاتی ہوں دو منٹ چپ رہو۔۔،،وہ فون کان سے لگا کر ٹہلنے لگی۔ایک ہاتھ سے اس نے سر تھام لیا تھا۔
“پلیز کال اٹھاؤ۔۔۔واٹس اپ پہ کرتی ہوں۔۔،،ماشی خود سے بات کرتے ہوئے صوفے پہ بیٹھ گئ۔
عشرت نے سیب کھاتے ہوئے اسے دیکھا
“آسام تم ہی اٹھا لو کال پلیز۔۔،،ماشی نے فون کو میز پر رکھ دیا اور سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔دل میں دھماکے ہونے لگے تھے اس نے ٹائم دیکھا دو بجے تھے۔ عشرت اس کےکمرے میں سوئی تھی ۔
“What happened no one has died, what.??,,
عشرت نے اکتا کر سوال کیا
“اللہ اللہ کر منہ ااچھا نہ ہو تو بات اچھی کرنی چاہئے۔۔،،ماشی نے اسے غصے سے گھورا اور پھر فون اٹھا لیا
“آج سویزیلینڈ سے جس پلین پہ تم آنے والے ہو وہ crash ہونے والا ہے وہاں ہی روکے رہنا۔یا ٹائم چینج کر لو پر پانچ بجے والی فلائٹ پہ مت آنا۔ پانچ بجے والی فلائٹ روکوا دو۔۔بہت ساری زندگیاں بچ جائیں گی کوئی اچھا کام کر لو گے تو گناہ نہیں ہو گا۔مذاق میں مت اڑا دینا بہت مہربانی ہو گی۔،،ماشی نے نہ چاہتے ہوئے بھی افنان کو voice میسج سینڈ کیا اور فون رکھ دیا
“اب بتا دو میں تنگ آ گئ ہوں۔۔،، عشرت بےصبری سے بولی۔
“۔Dude I dream in many funerals, seen۔۔
پتا ہے وہ جنازے کن کے تھے۔،،ماشی بہت گھبرائی ہوئی تھی آنکھیں کھینچ گئ تھی۔
“کس کے۔۔،،عشرت نے تجسس سے پوچھا
“افن۔۔۔،،وہ کہتے کہتے رک گئ۔
“بہت سارے لوگوں کے سویزیلینڈ سے آنے والی جو آج پانچ بجے والی فلائٹ ہے اس کے انجن میں کچھ پروبلم ہوتی ہے اور وہ۔۔آسمان پہ اڑنے سے
پہلے ہی تباہ ہو گیا بہت سارے لوگ مارے گے ہڈیوں تک نہیں ملی اور۔۔۔وہ افنان بھی۔۔۔،،ماشی بات اُدھوری چھوڑ کر پانی پینے لگی
“پھر۔۔۔کیا ہوا۔،،عشرت نے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر اطمنان سےسوال کیا
“پھر کیا ہونا تھا بہت سے لوگ مارے گے۔،،ماشی نے سر صوفے پر ٹکا دیا۔
“اور افنان واقع ہی مر گیا تھا نہ چلو جان چھوٹے گی۔۔،،عشرت نے کہکہکا لگاکرکہا
“شرم کرو۔۔وہ جتنا بھی برا ہے ہے تو انسان نہ۔اور آسام کا بھائی ہے تمہیں پتا ہے آسام کی اس میں جان بستی ہے۔،،ماشی کو اچھا نہیں لگا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی آسام کیا بہت سارے لوگ ٹوٹ جائیں گے پلین crash کی وجہ سے۔اور افنان تھا تو انسان ہی۔
“اچھا کوئی بات نہیں وہ تمہارا میسج ضرور دیکھے گا۔۔ اللہ سب اچھا کرے گا۔۔،،عشرت نے پر یقین انداز میں کہا۔
“اللہ کرے دیکھ لے کیونکہ میرے دل میں اتھل پتھل مچ چکی ہے مجھے نہیں پتا کیوں پر مجھے لگتا ہے یہ خواب سچ تھا۔۔،،ماشی اپنے لمبے بالوں کی چوٹیا بناتے ہوئے بولی
“اور تم ٹھیک ہو نہ میرے پاس کیوں آ گئ تھی آسٹریلین بلے نے کچھ کہا تھا کیا۔،،ماشی کا انداز شرارتی تھا
“جی نہیں میرا دل کیا تو۔،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتی اس کا دل الٹنے لگا تو وہ منہ پہ ہاتھ رکھ کر واش روم کی طرف بھاگ گئ۔
“ارے کیا ہوا عشو۔۔،،ماشی نے فکر مندی سےپوچھا۔
عشرت کو عجیب سا احساس ہونے لگا تھا۔۔
“ماشی ۔۔،،عشرت نے اپنے پیٹ پہ ہاتھ رکھ کر مسکرا کے کہا۔ماشی نے اس کا ہاتھ تھام لیا
“سچی۔ میں آنٹی بننے والی ہوں۔۔یس۔۔، ماشی کہ کر باہر بھاگ گئ۔
اتنے مہینوں کے بعد ملک ہاؤس ایک بار پھر سے ماشی کی پائل کی آواز سے گونج اٹھا تھا۔
عشرت اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا
“آج مس سٹروم کی پائلز کی آواز سنی ہے کیا خوش خبری ہے۔۔،،فہد اٹھ کر بیٹھ گیا نیند آنکھوں میں تھی شائد وہ ماشی کی پائلز کی آواز سن کر اٹھ بیٹھا تھا۔
عشرت شرما کر اس کے پاس ٹک گئ۔اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پیٹ پہ رکھ دیا۔
“سچی،،فہد نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔۔عشرت نے ہاں میں سر ہلا دیا اور فہد کے
سینے سے لگ گئی۔
“تھینک یو عشو۔۔،،فہد نے اس کے گرد بازو حائل کر دیئے اور ماتھے پر ہونٹ رکھ دیئے۔عشرت شرما گئ تھی۔
اللہ نے اس کی جھولی بھر دی تھی۔
سورج طلوع ہوتے ہی پورے گھر میں خوش خبری پھیل گئی۔شگفتہ بار بار عشرت کا منہ چومنے لگی۔فہد عشرت کو محبت بھری نظروں سے دیکھتا تو وہ نظریں جھکا کر مسکرا دیتی۔
“اللہ کا کرم ہوا ہے ہم پہ۔ دو دو خوشخبریاں ہماری جھولی میں ڈال دی۔۔،،شگفتہ اور کلثوم ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگی۔
“شگفتہ آپا میری بچی نہیں برداشت کرے گی آپ کے جتنا جگرا نہیں ہے میری بچی کا اگر آسام نے سفر بھائی صاحب کی طرح۔،،کلثوم کے فقرے منہ میں ہی رہ گئے۔وہ شگفتہ کا چہرہ دیکھنے لگی شگفتہ کا چہرہ فق ہو گیا تھا۔
“سوری آپا میرا ارادہ آپ کے زخموں کو ہرا کرنے کا نہیں تھا مجھے ماشی کی فکر ہو رہی ہے۔،، کلثوم نے شگفتہ کا ہاتھ تھام لیا۔
“فکر مت کرو وہ ویسا نہیں ہے فہد کو ہی دیکھ لو اب یہ بھی تو رندھاوں کا خون ہے۔۔،،شگفتہ نے سامنے بیٹھے فہد کی طرف اشارہ کیا فہد عشرت کے ساتھ ہس کے بات کر رہا تھا وہ شرما کر نظریں جھکا رہی تھی
کلثوم نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
پر ملک ہاؤس میں کوئی خاص خوشی نظر نہیں آ رہی تھی ۔اصغر صاحب تو ویسے دیر سے گھر آتے تھے ۔ماشی کو یا گھر میں کسی کو ظاہر نہیں ہونے دیا تھا بڑوں نے اور یہ ہی حال رندھاوا ہاؤس کا تھا۔دونوں گھروں کے بچے خوش تھے پر بڑے نہیں۔
“ماشی آپی میرے بہنوئی کی کال آئی ہے۔۔،،نمرہ دوسرے برآمدے میں کھڑی ہو کر چلائی تھی کرسی پر بیٹھی ماشی سب کو دیکھنے لگی اور بھاگ گئ اس کا پیچھا کہکہوں نے کیا تھا اس نے نمرہ کے ہاتھ سے فون لیا اور اس کے سر پہ چپت لگاکر کمرے میں چلی گئی۔
“کب سے آپ کو کال کر رہی ہوں کہاں تھے آپ کیا کر رہے تھے ۔۔،،ماشی بیڈ پر بیٹھ کر بولی۔
“اپنے بیڈ پہ تھا اور سو رہا تھا۔۔،،آسام ابھی بھی سو رہا تھا۔
“مطلب آپ یونیورسٹی نہیں جا رہے۔۔،،ماشی نے سوال کیا۔
“نہیں۔۔،،آسام جمائی روکتے ہوئے بولا۔اور کمبل کو پیچھے کر کے اٹھ بیٹھا رات کو دیر تک پڑھنے کی وجہ سے وہ جلدی نہیں اٹھ سکا تھا۔
“اور یقیناً نماز بھی نہیں پڑھی ہو گی۔۔ہو کیا گیا ہے آپ کو اتنے سست کیوں ہو گئے ہیں۔،
ماشی سختی سے بولی۔
“ارے ارے ابھی بیوی بنی نہیں اور دو،دو ہاتھ کرنے لگی توبہ توبہ۔،،آسام اپنی ہسی دبا کر بولا۔
“نیکی کا راستہ دیکھانا غلط بات نہیں ہے اور ہاں اصل بات جس کے لئے آپ کو میسج کیا تھا وہ یہ ہے کہ۔۔،،ماشی گلا صاف کر کے بولی
“آپ نے بتایا تھا نہ کہ افن۔۔افنان آج وہاں سے واپس آ رہا ہے۔۔،،ماشی نے اپنے خواب کے بارے میں بتا دیا۔
“اچھا کیا پر آپ فکر نہ کریں یہ ایک خواب تھا پھر بھی تھینک یو اس گدھے کو inform کرنے کے لئے اچھا میں دوبارہ کال کرتا ہوں اس کو یہ نہ ہو وہ آپ کا میسج نہ دیکھے۔۔،،آسام نے کال کاٹ دی ماشی فون کو گھومانے لگی۔۔اسے فکر ہو رہی تھی تھا تو خواب پھر بھی اسے ان معصوم لوگوں کی فکر تھی جو جہاز میں موجود تھے۔
وہ گھڑی دیکھنے لگی پانچ بجنےکو تھے اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئ تھی گئے تھے اس کے خواب میں بھی وہ ہی ٹائم تھا جب دھماکہ ہوا تھا۔اور سب تباہ ہو گیا
وہ اٹھ کر ٹہلنے لگی کچھ کر بھی نہیں سکتی خواب کو بھول بھی نہیں سکتی تھی ۔
**********
“فکر تو میری ہے تمہیں۔۔،،افنان نے اس کا میسج سن لیا تھا اور تیار ہو کر ایرپورٹ پہنچ گیا تھا۔
پلین کو ٹیک آف ہونے سے روک لیا گیا اور checking,شروع کر دی گئی۔
“تھینک یو سو مچ مسٹر رندھاوا۔۔آپ کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی جان بچ گئی۔اب کوئی خطرہ نہیں آپ اسی فلائٹ پہ سفر کر سکتے ہیں۔،، پائلٹ نے افنان سے ہاتھ ملا کر کہا۔
“نہیں میں اس میں نہیں جاؤں گا میری ہونے والی وائف نے مجھے روک دیا تو سوری۔۔،،افنان نے مسکرا کر کہا
“اوہ ہو ناٹ بیڈ۔۔،،پائلٹ نے بھی مسکرا کر کہا۔
“دوسری فلائٹ کب کی ہے۔۔،،افنان اپنے فون پہ انگلیاں چلاتے ہوئے بولا۔
“دو گھنٹے بعد کی ہے۔اب ہمارا ٹائم ہو گیا ہے اللہ حافظ۔۔،،وہ افنان سے سلام لے کر چلا گیا۔افنان نےسن گلاسز لگاکر شرٹ کے بازو فولڈ کرتے ہوئے ایک طرف بڑھ گیا۔
“کبھی ایسا خواب دیکھو۔۔
ہم آپ کے پاس ہوں۔۔،،افنان نے مسکرا کر voice میسج سینڈ کر دیا۔پہلے میسج کا جواب بھی اسے نہیں ملا تھا شائد ماشی نے دیکھا ہی نہیں تھا۔۔
بٹنوں والی وائٹ شرٹ اپر جیکٹ پہے سٹائل سے پف بنانے وہ ہیرو لگ رہا تھا۔ سویزیلینڈ میں وہ کیوں آیا تھا یہ وہ نہیں جانتا تھا پر اسے سکون نہیں ملا تھا وہاں۔۔
“اب یہ دو گھنٹے کب ختم ہوں گے یار۔۔،،وہ اپنے فون کو گھوماتا گاڑی میں جا بیٹھا۔
“دو گھنٹے انتظار کرنا پڑھے گا اگلی فلائٹ کا۔۔،،افنان گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہو بولا
“واہ تمہاری چادر والی تو بڑی پہنچی ہوئی لگتی ہے ۔۔،،انوشکا نے منہ سکوڑ کر کہا افنان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔
“ہاں میری چاندنی کو میری فکر ہے اسی لئے تو مجھے روک دیا۔،،افنان نے نیچے والے ہونٹ کو دانتوں میں دبا کے ہس کر کہا۔
“کیا کہا۔،،لکی جو اس کے ساتھ بیٹھا تھا۔افنان نے سن گلاسز اتار کر اسے دیکھا۔افنان کی آنکھوں میں عجیب سا احساس تھا۔اور ماشی کے لئے محبت صاف جھلک رہی تھی
“نو۔۔۔نو۔۔گائس گائس۔اسے لو ہو گیا ہے اس چادر والی سے۔،،لکی نے انچی آواز میں کہا۔انوشکا کی آنکھیں پھٹ گئی۔شائد دل بھی دھڑکنا روک گیا تھا۔
“پ۔۔۔پر اف۔۔فی ہمارے درمیان۔۔جو۔،،انوشکا نے جھک کر اسے دیکھا۔
“تم دونوں کے درمیان کیا ہے۔ ،،ساگر نے حیرانگی سے دونوں کی طرف اشارہ کر کےپوچھا۔
“بےبی ڈول۔۔وہ تو ہمشہ رہے گا ڈونٹ وری۔۔،،افنان نے گلاسز لگا کر مسکرا کے کہا۔
“میں چاندنی سے شادی کرنا
چاہتا ہوں۔۔مجھے نہیں پتا میں ایسا کیوں چاہتا ہوں۔اور ادھر سے جاتے ہی مجھے پتا ہے کوئی نہیں مانے گا اور وہ خود بھی نہیں مانے گی اس کے لئے بھی میرے پاس پلین ہے۔،،افنان نے ہس کر سب کو دیکھا
“اور وہ پ۔۔۔پلین کیا ہے۔،،انوشکا کو لگا تھا جیسے اس سے کسی نے اس کی سانس کھینچ لی ہو۔وہ جو افنان کو اپنا بنانے کے خواب دیکھ رہی تھی وہ سب شیشے کی طرح ٹوٹ چکے تھے
“ہمیں نہیں لگتا تمہیں ہماری ضرورت پڑھے گی پر اگر ہماری ضرورت پڑھے تو بتانا ضرور۔۔،،جنید نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا۔افنان نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
“پر افنان تم دونوں کے standards نہیں ملتے وہ اور تم دونوں بہت مختلف ہو اور۔،،ونیت نے کہنا چاہا پر افنان نے ہاتھ آٹھا کر اسے روک دیا۔
“یہ میری پروبلم ہے تم لوگ فکر نہ کرو۔۔،، افنان نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔۔
“اوکے پر وہ اور ہارش راجپوت کے درمیان مجھے کچھ لگتا ہے something wrong..،، انوشکا نے اندھیرے میں تیر چلایا۔
“ہاں یار لگتا تو مجھے بھی ہے جیسے ان دونوں کا کچھ چکر ہو۔۔،، لکی کچھ اور بولتا افنان نے اسے کھا جانے والے انداز میں گھورا۔
“ہے۔۔۔پرمیں سب ختم کر دوں گا۔۔تم لوگ بس بھنگڑا ڈالنے کی تیاری کرو۔۔،،افنان نے کہکہا لگا کر کہا۔
تو سب ہسنے لگے۔
افنان پھر سے کچھ سوچنے لگا
وہ بار بار گھڑی کو دیکھتا تو کبھی ماشی کی تصویر کو دیکھ رہا تھا
دو گھنٹے اسےقیامت لگ رہے تھے۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا پر لگا کے اڑ جائے۔۔
***
Sir..,,
وہ آفس کے دروازے پر دستک دے کر بولنے لگی تھی جب اندر بیٹھے انسان پہ نظر پڑی۔
“آؤ بائمہ۔۔،،میر نے واپس مڑ رہی بائمہ کو آواز دی تو وہ اندر داخل ہو گئ۔
“یا اللہ کیوں یہ شخص بار بار میرے سامنے آ رہا ہے۔۔،،بائمہ نے پھر سے پاک ذات سے شکوہ کیا
“ثاقب ،حماد یہ میری سیکرٹری ہے مس بائمہ۔۔،،میر نے مسکرا کر کہا اس کی مسکراہٹ میں کچھ عجیب لگابائمہ کو وہ فائل ٹیبل پہ رکھنے لگی تو نظر اٹھا کر ثاقب کو دیکھا وہ ہونٹوں پہ انگلی رکھے اسے دیکھ کچھ سوچ رہا تھا
“بائمہ۔۔تم کہاں جا رہی ہو بیٹھو۔۔،،میر نے دروازے میں جا رہی بائمہ کو آواز دی تو وہ روک کر پیچھے مڑی۔اور ایک کرسی پر بیٹھ گئ۔
“لیپ ٹاپ آؤن کرو۔۔،،میر نے پینسل گھوماتے ہوئے کہا۔حماد اور ثاقب ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے۔میر عوان چھوٹی سی مل کا مالک تھا۔ ویسے تو بہت سے لوگ رندھاوا انڈسٹریز سے جوڑنے کی خواہش تھی پر میر کو کچھ زیادہ ہی تھی۔اس نے ہر ممکن کوشش کی تھی حماد،جاہنگیر،ثاقب سے ملنے کی۔آخر اس کی کوشش تب کامیاب ہوئی جب اس نے ثاقب کو انگلینڈ کے ہوٹل میں دیکھا۔ثاقب ایک میٹنگ سے تھکا ہارا واپس آیا تھا۔ اور تب میر نے ثاقب کی منت سماجت کرکے اپنے آفس آنے کو کہا ثاقب نے ہامی بھر لی اور اب وہ اس کے پاس بیٹھا تھا۔ثاقب کو معلوم تھا ان کو زیادہ فائدہ نہیں ہو گا پر میر کو بہت فائدہ ہونے والا تھا
“ثاقب تمہیں نہیں لگتا ہمیں اس کے ساتھ اتنی بڑی ڈیل نہیں سائن کرنی چاہئے۔۔،،حماد نے ثاقب کے کان میں گھس کر کہا پر وہ میر اور بائمہ کو دیکھ رہا تھا
میر بائمہ کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا اور اس کے شہانے پہ جھک کر لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلانے لگا بائمہ نے کرسی کے ہینڈل کو پکڑ کر آنکھیں میچ لی۔اسی پل ثاقب کی نظر اس طرف اٹھی تھی۔اسے بہت عجیب احساس ہوا تھا وہ اس کیفیت کو سمجھ نہ سکا۔اس نے اپنی کیفیت پہ قابو پانے کے لئے مٹھیاں بند کر لی
میر کبھی بائمہ کے کاندھے پر ہاتھ رکھ لیتا تو کبھی ہاتھ پکڑ لیتا بائمہ کے۔
چہرے پہ بے بسی کے آثار نظر آ رہے تھے۔
ثاقب سے زیادہ دیر میر کی حرکتیں برداشت نہیں ہوئی تووہ تیزی سے اٹھا اور میر کو پکڑ کر سائیڈ پر کر دیا۔
“یہ کیا بد تمیزی ہے۔۔۔،،ثاقب نے اس کے گریبان سے پکڑ لیا تھا۔میر ہڑبڑا گیا۔ حماد اور بائمہ بھی ہڑبڑا کر اٹھ کھڑے ہوئے
“ثاقب ہاتھ ہٹاؤ مت بھولو میرے آفس میں کھڑے ہو میرے ساتھ ڈیل کرنے آئے ہو ۔۔،،میر آہستہ مگر دانت پیس کر بولا۔ کوئی بھی اپنی بےعزتی برداشت نہیں کر سکتا۔
” You should be ashamed of any helpless with such a move, while۔۔,,
۔ثاقب غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔
“ہاہاہاہاہاہاہا بے بس اور یہ سب کچھ اس کی مرضی کے مطابق ہوتا ہےکیوں ہیں نہ باؤ ۔۔،، میر نے بائمہ کو دیکھا اس کا رنگ اڑ گیا تھا جس بات کا اسے ڈر تھا وہ ہی ہو رہا تھا
“باؤ۔۔،،ثاقب زیر لب بڑبڑایا اور بائمہ کو دیکھا وہ میر کی بات پہ ہاں میں سر ہلا رہی تھی۔ثاقب نے میر کا گریبان چھوڑ دیا اور پیچھے ہٹنے لگا۔بائمہ نظر جھکا گئ تھی حماد کو کوئی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ثاقب کو سمجھ نہیں آئی وہ اس لڑکی کے پیچھے اس حد تک کیوں گیا۔
“And in England, which was have missed you or forgot۔۔۔,,
میر نے جان دار کہکہا لگا کر کہا ثاقب نے چونک کر میر کو دیکھا اور پھر بائمہ کو۔بائمہ کا رنگ ایک بار پھر اڑ گیا تھا۔
بائمہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ پر لگا کر اڑ جائے۔ثاقب کی آنکھوں میں بہت سارے احساس تھے بائمہ نے ایک نظر ثاقب پہ ڈالی اور اس کے پاس سے بھاگ کر گزر گئ۔ شائد وہ روکتی تو بیچ بازار میں لوٹی جاتی
“۔Mr. meer we with you Dell sign will not
جس انسان کو عورتوں کی عزت کرنی نہیں آتی اسے ہم رندھاوا انڈسٹریز کے ساتھ نہیں جوڑ سکتے گڈ بائے ۔،،
ثاقب نے غصے سے کہا اور باہر نکل گیا۔میر کا رنگ اڑ گیا تھا کیونکہ رندھاوا انڈسٹریز کے ساتھ جوڑنا اس کے لئے الدین کے چراغ کے ملنے جیسا تھا۔ اس کو اس ڈیل کے کینسل ہونے سے لاکھوں،کروڑوں کا نقصان ہونے والا تھا
حماد کو ابھی بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ چپ چاپ چلا گیا۔
“At the same time come to
me۔۔,,
میر نے اسے کال کی اور ٹہلنے لگا تھوڑی دیر بعد وہ گھبراہٹ کے ساتھ اندر داخل ہوئی
“Yes sir۔۔,,
بائمہ نے میر کی آنکھوں میں وحشت دیکھ لی تھی۔میر کرسی کو پاؤں مار کر اس کی طرف بڑھا بائمہ دو قدم دور ہو گئ آخر دیوار سے جا لگی۔
Sir ! Please I forgive please۔۔,,
بائمہ نے آنکھیں بند کر لی تھی۔۔وہ اس کے وحشی ہونے کو جانتی تھی۔تبھی گڑگڑانے لگی
“تمہاری وجہ سے میں رندھاوا انڈسٹریز سے دور ہو گیا۔۔تمہاری اتنی قیمت نہیں جتنا مجھے نقصان ہوا۔۔۔،،میر نے دروازہ بند کر دیا تھا۔اور اس کے بالوں کو پکڑ لیا۔
بائمہ ہونٹوں کو دانتوں میں دبا کر تکلیف برداشت کرنے لگی تھی۔ میر کو اس کی زندگی پہ تمام اختیارات چندو نے دے رکھے تھے۔
“Yet a former go and like too be pleased him pleased do۔۔
ایسے مت لوٹنا اگر سائن کروائے بغیر لوٹی تو تمہاری خیر نہیں۔۔،، میر نے اسے دھکا دے دیا تھا وہ کرسی میں جا لگی ابھرا ہوا کرسی کا حصہ اس کے ماتھے پہ لگا تھا وہ کہرا کر رہ گئی۔
اور فائل اٹھا کر باہر چلی گئ۔
“میری زندگی پہ ہی میرا کوئی اختیار نہیں تو۔۔۔،،وہ رکشے پہ بیٹھی اپنے ماتھے کو سہلا رہی تھی۔
“ہر بار اس رندھاوا کی وجہ سے۔۔۔،،ہر بات اُدھوری رہ رہی تھی۔اس کی زندگی کی طرح۔اس کی طرح
وہ اپنے ماتھے پہ ہاتھ رکھ کر رکشے سے نیچے اتری اور آفس کی طرف بڑھ گئ۔
“ایکسکیوزمی.. میں مسٹر رندھاوا سے ملنا چاہتی ہوں۔۔،،وہ پاس سے گزر رہے لڑکے کو روک کر بولی
“اس وقت کوئی بھی مسٹر رندھاوا آفس میں موجود نہیں ہیں۔کوئی کام تھا آپ کو۔میں ثاقب رندھاوا کا پرسنل سیکرٹری ہوں مجھے بتا سکتی ہیں۔۔،،لڑکے نے اسے اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔
“کب تک آ جائیں گےوہ۔۔،،بائمہ نے اپنے ماتھے کو سہلاتے ہوئے پوچھا۔
“میں کال کرتا ہوں آپ تشریف رکھیں۔۔،،وہ کہ کر ایک کیبن میں چلا گیا۔بائمہ اس کا انتظار کرنے لگی جس کی وجہ سے اسے وہ چوٹ لگی تھی۔وہ کیا بہت ساری چوٹیں ثاقب کی دین تھی۔جسم پہ روح پہ۔عزت پہ۔۔
پر غلطی ثاقب کی تھی۔۔؟؟
وہ غلط تھا یا نہیں پر بائمہ کو وہ ہی اپنا مجرم لگتا تھا۔
تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد ثاقب آفس میں آیا تھا اور وہ اٹھ کر اس کے آفس میں چلی گئی
“جی ۔۔،،ثاقب نے اس کے ماتھے کے زخم کو دیکھا ثاقب کا دل ایک عجیب دھڑکن میں دھڑکا تھا پر وہ سمجھ نہیں پایا۔بائمہ کے چہرے پہ نفرت کے ساتھ ساتھ غصہ بھی تھا۔
“یہ فائل سائن کر دو۔۔،،بائمہ نے فائل ثاقب کی طرف بڑھا دی وہ فائل پکڑ کر دیکھنے لگا۔
“اوکے میں سائن کر دیتا ہوں۔اور کچھ۔۔،،ثاقب نے فائل کو ٹیبل پر رکھ دی وہ سائن نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ وہ میر کا اصلی روپ دیکھ چکا تھا پھر بھی نہ جانے کیوں اس نے فائل سائن کرنے کی ہامی بھرلی۔
“تو وہاں بےقار کا ڈرامہ کیوں کیا۔۔کیوں میری تکلیفوں کو بڑھا دیتے ہو۔۔،،بائمہ اس کے چہرے کو دیکھ کر سوچ کر رہ گئی۔ نفی میں سر ہلا کر اس نے سر جھکا لیا
“میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔۔،،ثاقب نے سائن کر کے فائل بائمہ کی طرف بڑھا دی۔
“پر میں تمہیں کچھ بھی نہیں بتانا چاہتی۔۔۔،،بائمہ اٹھ کر جانے لگی۔
“انگلینڈ میں ہم کبھی ملے تھے کیا۔۔۔کیسی ملاقات ہوئی تھی ہماری؟۔کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ میں آپ کو پہلے دیکھ چکا ہوں کیسے کہاں یہ نہیں جانتا؟۔۔،،ثاقب اٹھ کر کھڑا ہو گیا بائمہ جاتے جاتے روک گئ۔
“تم جان کر کیا کر لو گے مجھے گھورنے سے باز آ جاؤ گے۔۔،،بائمہ نے ثاقب کو نفرت سے گھورا تھا۔اس نے کب اسے گھورا تھا۔۔کبھی ایک نظر اٹھی تو وہ سوچ میں پڑھ جاتا کہاں دیکھا ہے
“ہاں ہم ملے تھے۔بہت کچھ نہیں پر کم غلط بھی نہیں کیا تھا تم نے میرے ساتھ۔
پہلے ذلیل کیا اور پھر بچا بھی لیا۔۔میں میر کی girlfriend ہوں۔یاد آیا اب تسکین مل جائے گی ۔بس مل گیا جواب۔۔،،بائمہ نے ثاقب کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔
اس کی باتیں سن کر ثاقب اپنی ٹانگوں پہ کھڑا نہیں رہ سکا تھا۔وہ کرسی پہ گر گیا
“نہیں یہ سچ نہیں ہو سکتا۔۔،،ثاقب چشمہ اتار کر منہ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا
“ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔مجھے تم نے خود بلایا تھا۔کس کام کے لئے ہوٹل میں بلایا تھا۔دیر رات کو ایک جوان لڑکا ایک جوان لڑکی کو اپنے کمرے میں کیوں بلاتا ہے۔
شائد تم نشے میں تھے اسی لئے سب بھول گئے۔۔
تم جو شرافت کی چادر اوڑھ کر پھرتے ہو نہ اس کے نیچے تم ایک characterless انسان ہو۔۔،،بائمہ نے ثاقب سے منہ موڑ لیا تھا۔ثاقب کو ایک ایک لفظ خنجر کی طرح لگ رہا تھا۔
بائمہ کہاں تک سچ بول رہی تھی
یہ وہ نہیں جانتا تھا۔
“ن ۔۔۔ن ۔۔نہیں۔۔یہ سچ نہیں ہو سکتا۔۔سچ سچ بتاؤ۔۔،،ثاقب اٹھ کر اس کے پاس آ گیا تھا۔
اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا بائمہ کی آنکھوں میں غصہ تھا
“ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔آج تک جو میرے ساتھ ہوتا آ رہا ہے یہ تمہاری وجہ سے ہوتا آ رہا ہے اور کہاں تک میری زندگی میں درد گھولتے رہو گے میں جب بھی تمہیں دیکھتی ہوں تو تم سے نفرت اور بڑھ جاتی ہے۔ یہ معصوم چہرا دھوکہ دے دیتا ہے۔۔،،بائمہ نے ایک ہاتھ سے اس کا گریبان پکڑ لیا تھا۔
“No, I never wine never even touched the,,
ثاقب نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا پتا نہیں کیوں وہ اسے صفائی دے رہاتھا۔۔۔پر دوسری طرف طنزیہ مسکراہٹ تھی۔بائمہ کا ایک آنسو زمین پر جا گرا تھا۔
ثاقب نے حیرانگی سے اسے دیکھا پہلی بار وہ ہاری تھی۔پہلی بار ثاقب نے اس کی آنکھوں میں آنسوں دیکھے تھے
“تم نے تم نے میری زندگی میں کالی راتیں لائی ج۔۔۔ججج۔جو اب تک میری زندگی میں ہیں میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہی۔،،بائمہ نے ثاقب کے سینے پر مکا مارا وہ لڑکھڑا گیا۔ ٹانگوں میں جیسے جان باقی نہ رہی ہو
“آئندہ میرے سامنے کبھی مت آنا پلیز۔۔میں تمہارا یہ دوغلا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتی تم سے اچھا میر ہے جیسا اندر سے ہے ویسا ہی باہر سے ہے۔۔،،بائمہ نے بے دردی سے اپنی آنکھوں کو رگڑتی باہر چلی گئی ثاقب سر تھام کر تقریباً کرسی پر گر گیا۔
کیا سچ تھا کیا جھوٹ وہ نہیں جانتا تھا۔۔
وہ کچھ بھی نہیں جانتا تھا۔بس یہ ہی جانتا تھا بائمہ کو اس نے دیکھا تھا
“مجھے نہیں یاد کہ میں نے آج تک کبھی شراب کو چھوا ہو استغفار استغفار۔۔،،ثاقب کو پسینہ آنے لگا تھا وہ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھا کر منہ کو لگا گیا۔پھر کرسی پر جھولنے لگا۔
“میں اسے پرسنلی نہیں جانتا۔۔اور کمرے میں کیوں بلاؤں گا۔۔کیا ہوا تھا۔۔۔کیا وہ جو کہ گئ ہے وہ سچ ہے کیا۔۔،،ثاقب نے زور سے سر تھام لیا تھا۔
“نہیں میں ثابت کر کے رہوں گا کہ میں characterless انسان نہیں ہوں اس کی غلط فہمی ہے۔۔،،ثاقب نے آنکھوں کو رگڑا اور اٹھ کھڑا ہوا
۔اسے اس کی پرورش یہ ماننے پر تیار نہیں کر رہی تھی کہ وہ ایک لڑکی کے ساتھ کچھ غلط کر سکتا ہے۔
اب اس کا دماغ پہلے سے بھی زیادہ الجھ گیا تھا بہت سارے سوالات اس کے ذہین میں آ گئے تھے پر کوئی جواب نہیں دے سکتا تھا۔بائمہ اور میر کے علاوہ۔
****************
“واہ کیا بات ہے جھٹ منگنی اور پٹ شادی۔۔،،علی نے کارڈ کو سائڈ پر رکھ کر کہا۔
“جی پہلے تو موم نہیں مان رہی تھی وہ کہتی تھی پہلے ثاقب بھائی بعد میں میری باری آئے گی۔۔پر ثاقب بھائی نے کہ دیا ہے وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتے اسی لئے میرا سونا ہی سونا ہو گیا۔،،آسام نے کہکہا لگا کر کہا۔
“اللہ تمہاری خوشیوں کو بری نظروں سے محفوظ رکھے آمین۔۔،،نیلم نے آسام کی نظر اتارنی شروع کر دی وہ اور علی مسکرانے لگے۔
“اوکے اب میں چلتا ہوں۔۔افنان کو بھی ایرپورٹ سے ریسیو کرنے جانا ہے۔۔،،آسام تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
“ٹھیک ہے جناب۔۔،،علی گلے لگتے ہوئے بولا۔۔
آسام نے اس کے چھوٹے سے بچے کو پیار کیا اور باہر نکل گیا۔۔
*******
“سٹیف میری شادی ہونے والی ہے۔۔،،ماشی نے سٹیف کو ایک طرف بیٹھا دیا اور جویلری پہن کر دیکھنے لگی۔
“میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔پتا نہیں سسرال کیسا ہو گا۔میں نے سنا ہے ساس ۔ چٹھانیاں بہت بری ہوتی ہیں۔۔
پر یہ بھی تو سچ ہے نہ کہ محبت سے ہر برے انسان کو اچھا بنایا جا سکتا ہے۔اور وہ لوگ بہت اچھے ہیں۔،،ماشی نے جویلری ایک طرف رکھ دی۔۔ملک ہاؤس میں تیاریاں بڑی آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔۔اصغر دلی طور پر شائد مطمئن نہیں تھا۔یہ ہی حال رندھاوا ہاؤس میں تھا۔دونوں گھروں میں بچوں کے علاوہ بڑے سب زیادہ خوش نہیں تھے۔پر انہوں نے بڑی سی مسکراہٹ اپنے چہروں پہ چپکا رکھی تھی۔
“ماشو تیار ہو جا تو بازار جان لگی ایں۔۔وہ پر کٹی کبوتروں نے تھلے شور مچا رکھا ہے۔،،کرمو نے اندر آتے ہی انچی آواز میں کہا ۔
“ہاہاہاہاہاہاہا۔۔اچھا کرمو یہ جویلری سمیٹ کر ماں کے کمرے میں لے جا۔۔،،ماشی اٹھ کر واش روم کی طرف بھاگی۔کرمو نے ساری جویلری اکٹھی کی اور لے گئ ماشی تیار ہو کر نیچے آ گئ۔اس کی تیاری میں صرف بالوں کو کیچر یا بینڈ میں قید کرنا کاجل اور چادر اوڑھنا۔اس کی سادگی میں ہی بلا کا حسن تھا۔۔۔
“چلو دلہن رانی دیر ہو رہی ہے۔،،اس کی ایک کزن نے کہا تو وہ شرما گئ۔
“افففف یار ایک تو تم شرماتی بہت ہو پرانے زمانے کی ہیروئن کی طرح۔۔،،ایک کزن نے اسے دیکھ کر کہا
“فہد باہر ویٹ کر رہا ہے چلیں۔۔،،ماشی نے ان کا دھیان بھٹکانے کے لئے کہا اور چل پڑھی۔
“مجھے یہ کام بہت مشکل لگتا ہے عورتوں کو بازار لے جانے والا۔۔ایک آدھی کی تو خیر ہے پر دس بارہ۔۔۔ توبہ توبہ۔۔،،فہد نے ان سب کو دیکھا اور کانوں کو ہاتھ لگانے لگا۔جس پہ سب ہسنے لگی۔
“چلوجاؤ اپنی بیگم کو ہی لے جاؤ ہم نہیں جائیں گی۔۔،،ایک کزن نے کہا
“نہیں نہیں اب چلو پہلے ہی ماہ رانی ماسی نے لیٹ کر دی ہے۔۔،،فہد نے ماشی کو گھورا تو وہ منہ اڑھا تریچھا بنا کر ایک طرف دیکھنے لگی فہد کی بے اختیار ہنسی نکل گئی۔
“چلو اب بیٹھ جاؤ۔۔،،فہد نے گاڑی کا دروازہ کھول کر التجاء کی۔
“ناں۔۔۔۔۔،،ماشی نے بچی کی طرح ضد کی۔
“کیوں اب کیا پروبلم ہے۔۔،،فہد نے سینے پر ہاتھ باندھ کر ہسی دبا کرپوچھا۔
“پہلے مجھے پلیز کہو۔۔،،ماشی چادر کو ٹھیک کرتے ہوئے مصروف انداز میں بولی۔
“واٹ۔۔؟ پر کیوں۔۔مجھے پاگل کُتے نے نہیں کاٹا بہن۔،،فہد نے نفی میں سر ہلا دیا۔گاڑی میں بیٹھی تمام لڑکیاں بے اختیار ہنس دی
“ماشی ،فادی تم دونوں واپس آ کر لڑ لینا اب چلو دیر ہو رہی ہے کل تمہاری منگنی ہے میں نے ابھی پولر بھی جانا ہے اور فادی تم باپ بننے والے ہو اور تم ماشی شرم کرو شادی ہے کچھ دونوں بعد تمہاری۔۔،،ایک کزن اکتا کر بولی تو وہ ناک سکوڑتی پیچھے بیٹھ گئ
“شکریہ بھابھی ۔،،فہد فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر بولا
فہد کے ساتھ عشرت بیٹھی تھی جو انکی لڑائی کو انجوائے کرتے ہوئے ہسی تھی۔
“اپنی بہن کو سمجھا لو کھانے کو دوڑتی ہے۔,،فہد نے عشرت کو کہا۔
“واہ واہ ۔۔بلکل تم تو جیسے منہ پہ تالے لگا لیتے ہو ۔۔دیکھو میرا موڈ مت خراب کرو نہیں تو رشتے ناتے بھول جاؤں گی۔۔،،ماشی نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔
فہد اور باقی سب ہسنے لگ گئے۔
“دلہن کو زیادہ بولنا نہیں چاہئے۔۔،،فہد نے کہکہکا لگاکرکہا
فہد اور عشرت نے ہائے فائے کیا تھا
ماشی چپ کر گئ کیونکہ وہ جانتی تھی بے قار میں سر کھپاتی رہے گی ملے گا کچھ بھی نہیں سو اس نے خاموشی اختیار کر لی۔
