Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 38)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 38)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
بیس ایکیس دن وہ ہوسپٹل میں رہی تھی۔۔
آج ڈسچارج ہو کر واپس آئی تھی۔
ان بیس دونوں میں آسام ٹوٹ ٹوٹ کر بکھرا تھا۔
خود کو مجرم سمجھ کر وہ سزا دے رہا تھا۔
کسی کو سمجھ نہیں آئی کہ ماشی کی یہ حالت کیوں ہوئی۔
ماشی لیٹی ہوئی تھی جب افنان اندر داخل ہوا
“مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے،،وہ افنان کی آواز پر چونکی۔اور بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
“ماشی تم آسام کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہی وہ ختم ہو رہا ہے۔ اس کی کوئی غلطی نہیں ہے کیوں اسے سزا دے رہی ہو۔۔۔،،افنان اس کے سامنے رکھے صوفے پہ بیٹھ کر بولا۔وہ آسام کی حالت دیکھ کر آیا تھا شگفتہ کے کمرے میں بند وہ کتنے آنسو بہاتا رہتا اور جب سر بوجھل ہو جاتا تو کھڑی سے ماشی کو دیکھ لیتا۔
ماشی نے سختی سے منع کیا تھا کہ آسام اس کے سامنے نہ آئے۔
“دیکھو ماشی۔۔۔
“پلیز افنان چلے جاؤ،،اس سے پہلے افنان کچھ اور کہتا وہ بولی۔
“جب کسی سے محبت ہو اور وہ ہی آپ پہ شک کرے تو اسے کیا کہیں گے۔۔۔۔؟؟،اس نے آنکھیں کھول کر افنان کو دیکھا۔وہ جو سر جھکائے بیٹھا تھا چونک کر ماشی کو دیکھا۔
اس کا چہرہ سپاٹ تھا کوئی تاثر نہیں تھا۔
“شک نہیں ہے اسے تم پہ۔۔اب میں تمہیں کیسے سمجھاؤں،،افنان نے سر تھام لیا
“سمجھانے میں تو تم ہمیشہ سے ہی غلط طریقہ استعمال کرتے ہو اب بھی وہ ہی کرو ،،وہ چھت کو گھورتے ہوئے بولی۔افنان کے چہرے پہ کئ رنگ آ کر چلے گئے۔
“آج تک میری زندگی میں جتنے بھی حادثے ہوئے جتنے دکھ ہوئے تمہاری دین ہیں افنان۔اب تمہاری سزا کسی کو تو ملے گی پھر وہمیں اور آسام ہی کیوں نہیں
پہلا حادثہ ،درد۔۔تم نے میرا سر پھوڑ دیا
دوسرا درد میں گاڑی کے آگے بھی تمہاری وجہ سے گئ۔
چوتھا درد،تمہیں سب معلوم ہوتے ہوئے بھی تم نے آسام کو نہ بتایا کہ تم میرے کزن یو۔
پانچواں حادثہ۔ اگر تم اس رات نشے میں۔۔۔سوری نشہ تو تم کرتے نہیں۔۔۔
اگر اس دن تم مجھے بچا لیتے تو بازف میرے وجود پہ میری روح پہ زخم نہ دیتا۔۔۔
اور چھٹا حادثہ۔۔۔۔۔۔اگر تم یہ ٹیٹو والی بےواقوفی نہ کرتے تو آج یہ نہ ہوتا۔۔۔
اور ستواں سب سے بڑا سنانا چاہو گے،،ماشی نے طنزیہ مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی وہ جو حقا بقا بیٹھا تھا ہل بھی نہیں سکا بڑی مشکل سے سانس لیا اور ہاں میں سر کو جنبش دی
,”ساتواں یہ کہ تم اتنے کمزور ہو میں نہیں جانتی تھی۔
تم کو کیا لگتا ہے میں بچی ہوں۔۔بےواقوف ہوں،،ماشی نے ماتھے پہ بل ڈال کر اسے دیکھا۔
“میں سمجھا نہیں،،
“جب سے تم اس حویلی میں آ رہے ہو تمہیں جانتی ہوں۔پہچانتی ہوں،میں بچی نہیں ہوں کہ افنان اور فہد میں فرق نہ کر سکوں۔۔تمہارا وہ منہ کو چھپانا فہد کاجھوٹ بولنا۔تم دونوں میشن پہ تھےتو گھر والوں سے جھوٹ بولتی رہی کہ فہد سے بات ہوتی ہے تم دونوں کی مدر صرف اس لحے کی کہ کزنز تھے اور ہھوپھو کی جان بستی ہے تم دونوں میں،اور میرے دل میں تمہارے لئے صرف وہ ہی جگہ رہی جو فہد کے لئے۔۔،،ماشی نے اس کے سر پہ بم پھینکا۔
” میں آسام سے محبت کرتی ہوں بہت محبت کرتی ہوں۔۔۔۔،
پہلی نظر میں محبت ہوتی ہے یہ تب پتا چلا جب آسام کو دیکھا۔۔۔
مجھے نہ سٹائل نہ ہی کوئی ایسی ویسی ایکٹیویٹی اٹریکٹ کرتی ہے۔
مجھے جو چیز اٹریکٹ کرتی ہے وہ
سیمپل ،نکھری ہوئی شخصیت،مجھے تم سے کبھی محبت نہیں ہوئی کیونکہ تمہارا اور میرا کوئی کپل نہیں۔
تم اور نگین پرفیکٹ کپل ہو۔میں آسام سے خفا ہوں میرا حق بنتا ہے وہ میرا شوہر ہے میرا سب کچھ ہے۔۔،،
“ماشی پلیز اب سب ناراضگی ختم کرو اگر وہ تمہارا سب کچھ ہے تو کیوں اسے اتنا درد دے رہی ہو،،،
“تاکہ پھر کبھی ایسا نہ ہو۔ایک پلینگ تمہاری تھی یہ پلینگ میری ہے ایجنٹ افنان رندھاوا۔۔۔،،
“یہ بات کسی کو بتانا مت پلیز،،افنان نے التجاء کی۔
“اتنے سالوں سے نہیں بتایا ڈیر کزن تو اب کیوں بتاؤں گی۔۔،، نرم سی مسکراہٹ ہونٹوں پر آ گئ۔
“ماشی میں تمہارا گناہگار ہوں جو سزا دو گی منظور ہو گی۔پر آسام کو سزا مت دو وہ تڑپ رہا ہے اس کی سزا ختم کر دو۔سکون کی زندگی گزارو اور سب کو جینے دو،،
“اب تک تم نے کسی کو چین سے جینے دیا۔۔۔۔زیادہ نگین کو تڑپایا ،،ماشی نے نظریں اس کے چہرے پہ گھاڑ دی کر وہ دونوں ہاتھوں کو جکڑے ہونٹوں کو کاٹ رہا تھا۔
آج وہ برا پھنسا تھا۔
“میں جانتا ہوں پر اب ہمارے درمیان میں سب ٹھیک ہو گیا ہے۔۔
میں سمجھ گیا ہوں کہ وہ میرے لئے بنی ہے،پلیز تم بھی آسام کو معاف کر دو کتنی مشکل سے دونوں فیملیز مل رہی ہیں ,،،
“مجھے نیند آ رہی ہے اب جاؤ،،وہ کمبل کو منہ پہ کھینچ کر بولی۔
“عجیب ضد ہے تمہاری یار محبت بھی کرتی ہو اس سے اور سزا بھی دے رہی ہو۔تم کیوں خود کو اور اس کو درد کے گہرے کنویں میں دھیکل رہی ہو ،،وہ سوچتا باہر نکل گیا۔۔۔اور تیز تیز قدم اٹھاتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔
آسام باہر جا رہا تھا ایک ہفتے سے وہ ایک ہی پینٹ شرٹ میں ملبوس تھا۔خود سے بے نیاز وہ تیز تیز قدم اٹھاتا حویلی کا دروازہ عبور کر گیا۔زہرہ نے دیکھ لیا تھا۔وہ لاؤنچ سے اٹھ کر کمرے کی طرف چل دی
“مجھے کوئی دکھ نہیں اگر افنان ماشی سے محبت کرتا ہے پھر میں درمیان میں کیوں آئی آسام بھائی کی طرح میں بھی چلی جاتی ہوں۔ٹھیک رہے گا مجھے لگا تھا شائد میں اس کے دل میں ہوں بٹ میں غلط تھی۔پر جب ماشی افی سے محبت کرتی تھی تو انہوں نے ایسا کیوں کیا۔شائد آسام بھائی کو غلط فہمی ہوئی ہو آئی تھینک سو،،وہ خود سے الجھتی کمرے میں داخل ہوئی
“افنان،،،وہ بیڈ پہ الٹا لیٹا ہوا تھا زہرہ کے قدم خود بخود اس کی طرف بڑھے۔وہ اس کے پاس جا بیٹھی۔اور سر میں انگلیاں چلانے لگی۔
“جی میری جان،،افنان نے سر اٹھا کر اسے دیکھا وہ حیران ہوئی تھی تبھی موٹی موٹی آنکھوں کو اور موٹا کر کے دیکھنے لگی۔ پہلی بار بغیر کسی پلینگ کے وہ اسے” جان” بول رہا تھا یا خدا یہ کریشمہ تھا
“آئی لو یو زہرہ۔کیا تمہیں بھی مجھ پہ یقین نہیں ہے۔میں مانتا ہوں میں اس سے محبت کرتا تھا بہت زیادہ کی پر میں اتنا مطلبی نہیں کہ چار زندگیاں تباہ کروں،میں اتنا مطلبی نہیں آسام اور ماشی کے درمیاں دیوار بنوں،،اس نے زہرہ کو پکڑ کر اپنے پاس کر لیا۔اس نے نفی میں سر ہلا دیا
“میں بہت برا ہوں نہ تمہارے جذبات کی قدر نہیں کی اپنی یکطرفہ محبت کی آگ میں تمہاری محبت کو بھی جلاتا رہا۔،،دونوں یوں قریب بیٹھے تھے جیسے دو انگلیاں۔زہرہ نے آنکھیں مند لی اور نفی میں سر دیا بہت سارے آنسوں گرے جیسے افنان نے جلدی سے سمیٹ لیا۔
“آئندہ کبھی رونا نہیں تم میری ہمسفر ہو پتا نہیں کیوں میں بھٹک
رہا تھا پر اب میں نے کبھی ماشی کو اس نظر سے نہیں دیکھا۔اور اب آسام کو پتا چلا تو میں اس کا گناہ گار بن کر رہ گیا ہوں۔وہ مجھے اپنا مجرم سمجھتا ہے سچ ہی سمجھتا ہے میں نے کیا جو غلط ہے۔پر اس کے ساتھ تو ٹھیک کیا نہ زہرہ،،وہ تڑپ کر بولا۔
“میں کیا کیا سوچ رہی تھی یہ ایسے ہرگز نہیں ہیں یااللہ معاف کرنا مجھے،،زہرہ بھی اس کے ساتھ تڑپ گئ جیسے ہر بار تڑپتی تھی۔
“مجھے آپ پہ یقین ہے افنان آپ جو کریں گے ٹھیک کریں گے ایک اور بات میں بھی بدگمانی کا شکار ہوئی تھی پلیز مجھے معاف کر دینا۔۔۔۔یہ اس لئے بتا رہی ہوں رشتوں میں کرواہٹ نہیں گھولنی چاہئے۔خاص کر بیوی اور شوہر کے رشتے میں۔کوئی بات چھپی نہیں رہنی چاہئے۔امید ہے آسام اور ماشی کا رشتہ بہت جلد ٹھیک ہو جائے گا۔آسام کو تم دونوں پہ یقین ہے۔لیکن یہ سچ ان کے لئے جان لیوا تھا کہ وہ جس سے شادی کر چکے اس سے ان کا بھائی بھی محبت کرتا تھا،اور پھر ماشی کی طعبیت،، ،زہرہ نے اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑ کر سینے سے سر ٹکا دیا
“کرتا تھا اب نہیں کرتا وہ میری بھابھی ہے اور کزن ہے بس میرا سب کچھ تم ہو زہرہ,،
اس نے زہرہ کو اپنے پاس لاکر بالوں کو کیچر سے آزاد کرتے ہوئے کہا اور پھر اس کی گود میں لیٹ کر بالوں کو انگلیوں پہ لپیٹنے لگا،۔
“زہرہ ماشی کو سب پتا تھا۔اور میرے اور ماشی کے درمیان کبھی ایسا رشتہ نہیں بنا تمہیں مجھ پہ یقین۔،،زہرہ نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیئے۔
“مجھے یقین ہے آپ پہ اور معاشی پہ بھی۔تم عام آدمی نہیں ہو آپ تو وہ ہو جو اتنی عزتوں کو محفوظ کر چکا ہے پھر وہ خود کیسے کسی کی عزت برباد کرے گا اور وہ بھی اس کی جس سے محبت،،اس بار افنان نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر نفی میں سر ہلا دیا ۔
دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہےاور پھر افنان نے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا۔دونوں کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی آپس میں ملی۔اور پھر یقین ہوا محبت واقع ہی مطلبی نہیں ہوتی۔
,*****
۔آسام رات لوٹ آیا تھا۔ماشی کو سویا دیکھ وہ کافی دیر اس کے پاس بیٹھا رہا رات جب آنکھوں سے گزر گئ تو اٹھ کے شگفتہ کے پاس چلا گیا۔پہلے تو وہ حیران ہوئی۔سرخ آنکھیں بکھرا بکھرا ٹوٹا ٹوٹا۔
“چھوٹی ماما۔۔میں جیت کر بھی ہار گیا محبت میں پاگل ہو کے میں اپنے بھائی کی خوشیوں کو چھین بیٹھا،،وہ زورو قطار رونے لگا
“میں ایک اچھا بھائی نہیں بن سکا ماں نہ ایک اچھا شوہر ،،شگفتہ کے قدموں میں بیٹھ کر ان کے گھٹنوں پر سر رکھ لیا۔
“بیٹا جان،افنان نے جو کیا ٹھیک کیا پر تم جو کر رہے ہو غلط کر رہے ہو،،شگفتہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
“بیٹا ماشی تم سے محبت کرتی ہے۔افنان یہ جان کر پیچھے ہٹ گیا۔تاکہ تم دونوں خوش رہو،اور اب ماشاءاللہ سے افنان بھی خوش ہے جو خوشی اس کے چہرے پہ نہیں تھی وہ ہے۔اس نے ٹھیک کیا تھا میری جان اب سب تمہارے ہاتھ میں ہے۔افنان ،زہرہ،اور تمہاری محبت تمہاری ماشی ،ان دو گھروں کا ملن تمہارے ہاتھ میں ہے،اس رشتے کو ٹوٹنے مت دینا ،اپنی محبت کا ہاتھ کبھی مت چھوڑنا،وہ تمہیں اپنے پاس سے بھیجتی ہے تو تم اس کے پاس جاؤ،،،آسام بس سنے جا رہا تھا۔
“پر میں کیسے افنان کے سامنے نظریں اٹھاؤں گا۔اس کی خوشیوں کو تو میں نے چھین لیا،اور اگر ماشی کے سامنے گیا وہ غصے میں کچھ کر بیٹھی تو،،آسام نے خوفگی سے نفی میں سر ہلا دیا
“نہیں بیٹا تم نے نہیں چھینا اس کی خوشیاں زہرہ بیٹی کے ساتھ ہیں۔تمہیں پتا ہے عورت جب ایک مرد کو دل میں جگہ دیتی ہے تو دوسرے کی جگہ نہیں ہوتی جیسے ماشی نے تم سے محبت کی،اگر افنان تمہیں بتاتا یا زور زبردستی کرتا تو وہ مردانگی نہیں ہونی تھی،وہ میرا سمجھ دار بیٹا ہے اب تمہاری باری ہے ماشی سے بات کرو یہ فکر مت کرو وہ کیا کرے گی وہ تم سے بہت محبت کرتی ہے میری جان ،، ،شگفتہ نے اسے بیڈ پر بیٹھا دیا۔
“ماں پلیز مجھے اپنی گود میں سلا لو بہت ڈر لگ رہا ہے مجھے۔میں ماشی کے بغیر سانس بھی نہیں لے سکتا ،،وہ چھوٹے سے بچے کی طرح تڑپ کر بولا تو شگفتہ نے اس کا سر گود میں رکھ لیا۔تھوڑی دیر بعد وہ نیند کی وادیوں میں چلا گیا۔
******
ماشی سیدھی لیٹی ہوئی چھت کو گھور رہی تھی۔
اور ہاتھوں کو آپس میں جکڑے ہوئے تھی۔بہت سارے آنسوں دونوں طرف تکیئے کو بھگا رہے تھے۔ہونٹوں کو دانتوں میں دبائے وہ کوئی درد برداشت کر رہی تھی۔
“آسام۔۔۔،،دل تو بس ایک ہی نام پکار رہا تھا
“ماشی پلیز چپ کر جاؤ وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے وہ کہیں نہیں گیا،بیس دن سے وہ تڑپ رہا ہے،،
“نہیں وہ چلا گیا اسے مجھ سے محبت نہیں ہے وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا م۔۔مم۔مجھے محبت کرنی بھی نہیں میں۔۔میں نے اسے ٹوٹ کر چاہا۔۔پر وہ۔۔وہ چلا گیا محبت کو رسوا کر کے چلا گیا۔اسے مجھ پہ رتی برابر بھی یقین نہیں اور افنان تو اس
کا بھائی ہے تو کیوں اس پہ یقین نہیں کیا۔اب وہ میرے سامنے آیا تو میں اسے جان سے مار دوں گی،،ماشی اٹھ کر کھڑی ہو گئی وہ کیا بول رہی تھی وہ خود نہیں سمجھ پا رہی تھی ایک دم سے بہت کمزور ہو گئ تھی۔ ایک بار پھر اسے غصے،درد کا دورا پڑا تھا
“نہیں ماشی اسے یقین ہے تم دونوں پہ وہ یہ سچ برداشت نہیں کر سکا۔اور کیوں تم اسے سامنے نہیں آنے دے رہی ان بیس دونوں میں وہ موت کے منہ میں رہا ہے محبت کرتی ہو تو اس طرح مت کرو پلیز ریلکس ہو جاؤ تمہاری طبیعت پہلے ٹھیک نہیں ہے پلیز ،،زہرہ اسے پکڑنے کی کوشش کرنے لگی۔باہر لاؤنچ میں بیٹھے افراد ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔شگفتہ نے سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اس کے کمرے کی طرف بڑھ گئ
دروازے میں کھڑے آسام کے قدم رک گئے وہ ایک طرف چھپ گیا۔بات کرنے کی غرض سے آیا تھا وہ ۔پر ماشی نارمل نہیں تھی۔
“تھک چکی ہوں میں درد سہتے سہتے اور برداشت نہیں ہے مجھ میں زہرہ میرا دل بہت بڑا تھا پر اس دل میں درد کے سوا کچھ بچا ہی نہیں۔م۔مم۔مجھے آسام سے بے تحاشہ محبت ہے وہ یہ سب جانتا ہے اسی لئے مجھے ہرٹ کرتا ہے میں پریگننٹ کیسے ہو سکتی ہوں جب میں اور آسام۔۔۔۔۔۔۔۔پھر بھی وہ مجھے پریگننٹ سمجھ کر چھوڑ گیا۔ارے کیا سمجھتا ہے وہ خود کو بہت ہینڈسم ہے اسے مل جائے گی کوئی بھی پر اب میں نہیں ملوں گی ،،ماشی کے آخری فقرے پہ آسام اور زہرہ بے اختیار چونکے۔
آسام نے اندر جھانکا ماشی فروٹ کی ٹوکری سے چھوری اٹھا رہی تھی۔وہ ہوا کے جھونکے سے بھی تیز اس کے پاس آیا اور چھوری لے لی۔
“پاگل ہو گئ ہو کیا۔ایسی سزا بھی کوئی کسی کو دیتا ہے۔۔۔۔،،اس نے ماشی کے چہرے کو ہاتھوں میں تھام لیا۔پاگل تو وہ ہو چکا تھا۔کون پہچان سکتا تھا اسے کہ یہ وہ ہی سنجیدہ مزاج کا پڑھاکو آسام ہے
“ہاں ہو گئ ہوں تو۔۔۔تو کیا کر لو گے مجھے پاگل خانے بھیج دو گے بھیجو جان چھڑوا لو مجھ سے،،وہ آسام کو دھکا دے کر بولی۔
اسے آسام کی حالت نظر نہیں آ رہی تھی۔
بال بے ترتیب انداز میں بکھرے ہوئے۔آنکھیں سرخ ہو چکی تھی اور لمبی سفید ناک بھی سرخ ہو چکی تھی آدھی شرٹ پینٹ میں اور آدھی باہر تھی اوپر کے دو تین بٹن کھولے جس سے لگ رہا تھا وہ ٹوٹ کر رویا ہے۔پھر بھی وہ ماشی کے پاس کھڑا تھا۔پر ماشی کچھ نہیں دیکھ رہی تھی
“ماشی ریلکس۔۔۔میں میں کہیں نہیں گیا تھا میں تو۔،،
“تو چلے جاؤ شوق سے جاؤ۔۔،،وہ اپنے آنسوں رگڑتی باہر بھاگ گئ ۔زہرہ کو کچھ سمجھ نہیں آئی وہ کیا کہے وہ بھاگ کر افنان کو بلا لائی ۔
“ماشی۔۔ماشی رک جاؤ پلیز،،وہ بےسود دروازے کی طرف بھاگ رہی تھی آسام کی کوئی پکار اسے سنائی نہیں دے رہی تھی کوئی بھی سمجھ نہیں رہا تھا کہ اسے ہو کیا گیا ہے بائمہ نے کلثوم کو پکڑ لیا جو بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر چکرا گئی تھی۔ دو تین بار وہ یوں ہی دروازے تک بھاگی تھی آج بھی
وہ بے سود دروازے کی طرف بھاگ رہی تھی
پائل ٹوٹ کر گر گئ۔ڈوپٹہ اڑ گیا بال ویسے ہی جھول رہے تھے کچھ آگے تو کچھ پیچھے۔اس سے پہلے کہ وہ دروازہ کھولتی افنان اس کے سامنے جا روکا اس کے قدم رک گئے اور آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے۔افنان سینے پہ ہاتھ باندھے ماتھے پہ بل ڈالے اسے گھور رہا تھا۔
“کیا پروبلم ہے اس ٹائم کہاں جاؤ گی،،
“جہنم میں راستے سے ہٹ جاؤ،،وہ آنسوں صاف کرتے ہوئے بولی۔
“افنان م۔۔مجھے اس حویلی میں گھٹن محسوس ہو رہی م۔۔مجھے ایسا لگ رہا ہے میرا کوئی گلا دبا رہا۔۔،،وہ اپنے بالوں کو نوچنے لگی
اسی ٹائم آسام نے اسے پیچھے سے پکڑ لیا۔
“ماشی آئی لو یو میں کہیں نہیں گیا تھاپلیز یقین کرو،،وہ اس کے سامنے آ روکا ماشی کے بہت سارے آنسوں زمین پہ گر گئے
“چ۔۔چ۔چھوڑو مجھے ،،وہ اس کے گریبان کوپکڑ کر دانت پیس کر بولی۔آسام نے نفی میں سر ہلا دیا ایک آنسو لڑکھڑا کر ماشی کے ہاتھ پر گرا۔
“میرے پاس مت آنا آسام مجھے۔۔ تمہاری ضرورت نہیں ہے میں جی لوں گی اکیلی۔مجھے کیسی کی ضرورت نہیں ہے۔۔چلے جاؤ سب۔،،ماشی اپنے حواس کھو چکی تھی۔افنان اور زہرہ حیرانگی سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔
“سٹوپ اٹ ماشی رک جاؤ ابھی،،ماشی آسام کے سینے پر مکے برسا رہی تھی کہ افنان نے اسے پکڑ کر ایک طرف دھکیل دیا۔
“ماشی۔۔کیا کر رہے ہو افنان ،،آسام نے اسے جلدی سے پکڑ لیا۔پر وہ افنان کو گھورتے ہوئے واپس کمرے کی بجائے نگے پاؤں ننگے سر بھاگتی سیڑھیاں چڑھ گئ ۔افنان نے زہرہ کو اس کے پیچھے جانے کا اشارہ کیا۔
“سامی مجھے تم سے بات کرنی ہے چلو،،وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے میں لے گیا اور دروازہ بند کر دیا۔
*********
“دیکھ سامی۔۔۔۔
“کیا دیکھوں افی جب تو اس سے محبت کرتا تھا تو تم نے کیوں نہیں بتایا۔اور اگر تم ابھی بھی کہو تو میں اس کو ڈیوس دے دوں گا اور تم۔۔،،آسام کی بات پوری ہوئی نہیں تھی کہ افنان نے اس کے منہ پہ زور کا تھپڑ دے مارا۔
“بکواس بند کرو آسام ،،افنان نے غصے سے کہا
“پر میری غلطی ہے میں تمہاری محبت،،آسام نے سر جھکا لیا ۔
“میں تم سے محبت کرتا ہوں۔تمہاری محبت کے آگے ایسی کتنی ہی محبتوں کو ہار دوں۔ اور میں اس سے محبت کرتا تھا یا نہیں میں نہیں جانتا۔شائد اس کی خوبصورتی سے متاثر تھا۔
میری زندگی سب کچھ نگینہ ہے میرے دل میں معاشی کے لئے ویسا کچھ نہیں ہے۔وہ اور تم ایک دوسرے کے لئے بنے ہو اور وہ پریگننٹ۔۔۔،،افنان نے اسے دیکھا جو مجرم کی طرح سر جھکائے کھڑا تھا۔
“وہ پریگننٹ نہیں ہے۔۔
یہ نام میری نگینہ کا ہے میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہوں آسام۔۔۔اور وہ ویڈیو ٹھیک تھی پر اب کوئی مطلب نہیں ان سب کا۔ماشی کوئی ٹرافی نہیں ہے نگی ٹھیک کہ رہی تھی۔۔،،افنان کی بات سن کر آسام نے اسے دیکھا
“اور اب قسم سے میرے دل میں صرف میری بیوی ہے آسام۔محبت مطلبی نہیں ہوتی۔۔۔،،آخری فقرہ اس نے آسام کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تو آسام بے اختیار اس کے سینے سے لگ گیا۔
“افنان اگر مجھے ذرا سا بھی اندازہ ہوتا کہ تم ماشی سے محبت کرتے ہو تو میں قسم سے اپنے راستے بدل لیتا،کبھی مڑ کر بھی نہیں دیکھتا،،اس کی آواز آنسوں سے بھری ہوئی تھی۔
“میں یہ ہی تو نہیں چاہتا تھا کہ تم راستے بدل لیتے۔محبت وہ کرتی ہے تم سے۔مرد کے اختیار میں سب ہوتا ہے عورت کو زبردستی اپنے ساتھ باندھنے والا مرد نہیں ہوتا عورت جب ایک بار کسی کو اپنے دل کی سلطنت کے تخت پہ بیٹھا دیتی ہے تو کوئی دوسرا اس سلطنت کو جیت نہیں سکتا۔تو میرے بھائی آپ میری کزن کے دل ،زندگی وجود روح ہر چیز پہ راج کر رہے ہو بس وہ تم سے ناراض ہے جاؤ مناؤ اسے، دماغ خراب ہو گیا ہے اس کا،،افنان نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا
“میں ماشی کو روتا نہیں دیکھ سکتا افی بہت محبت کرتا ہوں پر پھر بھی وہ میری وجہ سے ہرٹ ہوتی ہے میں اسے چھوڑ کر ہرگز نہیں گیا تھا۔مجھے تم دونوں پہ یقین ہے۔میں تو اپنا دکھ ہلکا کرنے کے لئے گیا تھا کہ تم اس سے اتنی محبت کرتے تھے اور میری خاطر تم نے ،،آسام بات اُدھوری چھوڑ کر پھر سے اس کے گلے لگ گیا۔
“کرتا تھا پر وہ صرف آسام رندھاوا کی تھی ہے اور رہے گی چلو اور اسے مناؤ پاگل۔۔۔،،افنان نے اس کے بالوں کو سنوارا۔
اور ہاتھ پکڑ کر چل دیا۔
“میری وجہ سے وہ بیمار ہوئی میں اس کے قابل نہیں ہوں،،آسام چلتے چلتے روک گیا۔اور آنکھیں بند کر کے آنسوں کو روکا
“نہیں وہ اس لئے بیمار ہوئی کہ اسے راز پسند نہیں ایک کے بعد ایک گہرا راز اس کے سامنے کھلا وہ جو خود کو بہت طاقتور سمجھتی تھی کمزور پڑ گئ۔ایک بعد ایک حادثہ ہوا ہے اس کے ساتھ برداشت کرتے کرتے تھک گئ ہے۔تم سمبھال لو گے اسے یقین ہے مجھے،غلطی صرف میری ہے آسام پر میں تمہاری طرح اپنا جرم قبول نہیں کر سکتا تمہارے سامنے کچھ راز راز ہی رہنے چاہئے،پر ایک راز کہ میں زہرہ سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔۔شائد ماشی ٹھیک کہ رہی تھی میری اور زہرہ کی جوڑی پرفیکٹ ہے۔ہاں بلکل میرا پاکستان،، ،افنان نے گہری سانس لے کر سوچا اورمسکرا دیا۔
ماشی زہرہ کے شہانے پہ سر رکھے بیٹھی تھی۔
سفید چہرہ سرخ پڑ چکا تھا۔
“نگین اب مجھے پتا ہے کیا لگتا ہے ایسا لگتا ہے ہر چیز میں جھوٹ جھلک رہا ہے ہر چیز ایک راز چھپائے ہوئے ہے۔۔
پتا نہیں کیوں جینے کا دل نہیں کر رہا۔۔،،وہ اآنسوں سے بھری آواز میں بولی۔
۔ہار گئ تھی لوگوں کے دو دو چہرے دیکھ کر۔اتنا سب برداشت کر کے وہ گھبرا گئ تھی
“ماشی ۔۔،،آسام کی آواز سن کر وہ تیزی سے اٹھ کر جانے لگی پر
آسام نے گھٹنے ٹیک دیئے اور ہاتھ جوڑ دیئے ۔زہرہ افنان کے پاس جا روکی۔
“ماشی پلیز آخری بار مجھے معاف کر دو میں تمہارے بغیر نہیں جی سکتا۔۔،،
“تو مر جاؤ،،وہ تیزی سے بولی۔
“میں سچ میں مر جاؤں گا،،آواز میں درد تھا۔
” بس دوسری اور آخری بار مجھے معاف کر دیں پلیز آئندہ کبھی ایسا کچھ بھی کیا میں نے تو تم جو سزا دو گی منظور ہو گی۔آئی لو یو ماشی،،وہ دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر سر جھکا گیا۔ماشی نے منہ موڑ لیا۔زہرہ نے فکری مندی سےافنان کودیکھااور ہاتھ دبایا تو اس نے اس کو دیکھا اور ہاں میں سر ہلا دیا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا
“ماشی پلیز ،،اسام کی آواز بھرا گئی تھی۔
“ماشی تم کیا کر رہی ہو۔۔۔آخر اس کی غلطی کیا ہے جو تم اسے یوں تڑپا رہی ہو دیکھ نہیں رہی حالت اس کی۔محبت کرتا وہ تم سے،محبت کی یہ سزا مت دو محبت کو رسوا مت کرو،،،وہ ہونٹ کاٹتے ہوئے سوچنے لگی
“ماشی پلیز آخری بار معاف کر دیں۔۔،آسام کے آنسوں ااب ماشی کے دل میں اترنے لگے تھے اوپر سے وہ اتنے پیار سے پلیز جو کہتا تو ماشی مر مٹتی تھی۔
وہ جس طرح بیٹھا تھا ماشی بھی اس
کے سامنے ویسے ہی گھٹنوں کے بل بیٹھ گئ اور اس کےہاتھوں کو کھول دیا۔اپنے ٹھنڈے ہاتھوں کو اس نے آسام کی سلگتی رخسار پہ رکھ دیا۔
“ایم سوری جان،،آسام نے جلدی سے اس کو گلے لگا لیا تاکہ وہ بھاگ نہ جائے۔
“آئی لو یو۔۔،،آسام نے جذب سے آنکھیں بند کر کے کہا۔
“آئی لو یو ٹو آسام پلیز ڈونٹ لیو میں آلون۔آپ کے بغیر میں کچھ نہیں ہوں۔پلیز سب بھول جائیں۔وہ حقیقت نہیں تھی۔یہ حقیقت ہے کہ میں آپ کی بیوی ہوں میں بھی آپ کو آئندہ کبھی دکھ نہیں دوں گی اور میں نے کہا تھا نہ مرد روتے اچھے نہیں لگتے ،،ماشی نے اس کے گرد بازو حائل کر دیئے۔افنان اور زہرہ نے مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھا اور تالی بجائی۔
“چلو اب کمرے میں نہیں تو تم دونوں یہاں ہی مر جاؤ گے۔۔ہاہاہاہا صبح کی برینگ نیوز ہو گی ہونے والا ڈاکٹر آسام رندھاوا اور ڈاکٹر مسز رندھاوا عشق کرتے ہوئے سردی میں مارے گے۔
ڈرامے باز جب پتا بھی ایک دوسرے کے بغیر جی نہیں سکتے تو بےقار کے ڈرامے کیوں کرتے ہو۔دوسروں کے ناک میں دم کیوں کرتے ہو،،افنان کی بات پہ وہ چاروں ہس دیئے ماشی کی طعبیت ٹھیک نہیں تھی۔پر اب وہ کبھی رونے والی نہیں تھی۔نہ ہی آسام۔
“میں وعدہ کرتا ہوں ماشی کہ آئندہ تمہیں کبھی کوئی دکھ چھوئے گا بھی نہیں کبھی آنسوں نہیں آئیں گے۔بس یہ آخری بار ہوا۔میں سب ٹھیک کر دوں گا،،
“میں وعدہ کرتا ہوں نگی کہ آئندہ سال میرے دو پیارے پیارے بچے ہوں گے جو آسام کو
کو بڑے پاپا کہیں گے ماشی کو بڑی ماما مجھے پاپا اور تمہیں ماما۔کیوں آسام ایسا وعدہ کر سکتے ہو۔ہاہاہاہا،،افنان نے شرارت سے کہا تو زہرہ چھنپ گئ جبکہ آسام ماشی اور افنان نے بلند کہکہکا لگادیا۔
“چلو بیگم جان اب یہ رونا دھونا بند کرو۔پلیز مجھ پہ یقین کرو ماشی میں آپ کو کھو نہیں سکتا ،،آسام نے ماشی کو گود میں اٹھا لیا اور گھر کی طرف قدم بڑھا دیا۔ چھت پہ کھڑے ثاقب،بائمہ،کلثوم،سب دیکھ رہے تھے مسکرا کر جلدی سے چھت سے اتر گئے تاکہ وہ چاروں انہیں دیکھ نہ لیں۔
“ماشی مجھے معاف کر دو میں بہت شرمندہ ہوں۔میں۔۔۔۔۔،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتا
ماشی نے اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ کر سینے سے سر ٹکا دیا۔کیوں کہ وہ جانتی تھی کہ اب کی بار یہ آخری بار اس کے آنسوں گرے تھے۔اور آسام جو اس کے آنسوں دیکھ خود بھی رو دیا۔
محبت ایسی ہوتی ہے درد برداشت کہاں کرتی ہے کہ جس سے ہو وہ روئے۔محبت جس سے ہوتی ہے اس پہ یقین ہوتا ہے۔
“چلو میری جان ہم بھی چلتے ہیں،،افنان نے زہرہ کو اٹھایا تو اس کے منہ سے ہلکی سی چینخ نکلی۔
“ششش ،،،افنان نے کہا تبھی افنان کا فون بچا
“جان کال دیکھنا کس کی ہے۔،،بار بار اس کا جان کہنا زہرہ کی جان لے رہا تھا۔زہرہ نے اس کے ہاتھ سے سیل پکڑ لیا نمبر دیکھ کر اس کا قہقہہ گونجا اور سکرین اس نے افنان کے سامنے کر دی۔
“تمہاری گرل فرینڈ۔۔،،
“اٹھاؤ اب یہ کیا کہتی ہے،،افنان نے شرارت سے کہا
“ہیلو،،زہرہ نے ایک ہاتھ افنان کے کاندھے کے گرد حائل کر دیا اور کال لاؤڈ سپیکر پہ ڈال دی
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری کال اٹھانے کی افی کو دو ،،انوشکا کی غصے سے بھری آواز ابھری۔زہرہ نے آنکھیں ٹیڑھی کر کے افنان کو دیکھا
“وہ بزی ہے ۔۔۔۔,،زہرہ نے مسکرا کر کہا
“کس کام میں۔۔۔،،انوشکا نے بےچین ہو کر پوچھا
“اپنی خوبصورت سی ،گلابی،لال،پینک لیپس ،اینڈ سمارٹ بیگم کو پیار کرنے میں تو ڈونٹ ڈسٹرب می اینڈ اینڈ میرے بھائی اور بھابھی سے بھی دور رہنا نہیں تو مجھے اچھے سے جانتی ہو تم۔۔تم بڑی شاطر ہو سامی کو ہتھیانا چاہتی ہو بےبی ڈول اتنا آسان نہیں ہے کسی کی زندگی میں زہر گھولنا اور تم نے کیا سمجھا اس طرح کر کے تم معاشی کی زندگی برباد کر دو گی۔اور آسام آسانی سے تمہارے پاس پہنچ جائے گا۔ نہیں بیٹا ابھی تو کچی کھلاڑی ہے اور آئندہ تم نے ایسی کوئی بھی کوشش کی تو کوشش تو ناکام ہو گی تمہارا بھی انجام برا ہو ۔۔۔،،افنان کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ انوشکا نے جل بھن کر کال کاٹ دی۔
افنان نےزہرہ کو اپنے نزدیک کر کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دیےتو وہ شرما گئ۔
“آئی لو یو اینڈ ایم سوری ۔۔۔،،افنان کی آنکھوں میں محبت دیکھ وہ شرما گئ۔اتنے میں وہ کمرے تک پہنچ گئے افنان اسے بیڈ پر لٹا کر اس کے
پاس بیٹھ گیا۔وہ زہرہ پہ جھکا ہی تھا کہ ایک بار پھر سے فون بجا۔
“کیا یار ڈسٹرب کر دیا ،،افنان کی بےبسی پہ زہرہ کا قہقہہ گونجا۔
“ڈیڈ کالنگ،،اس نے جلدی سے کال اٹھائی
“بیٹا میں لاہور پہنچنے والا ہوں کچھ دیر تک گھر آ رہا ہوں۔،،
“اوکے ڈیڈ میں آ جاؤں گا بس سٹاپ۔،،وہ بات کرتے ہوئے بھی زہرہ کو دیکھ رہا تھا
“نہیں بیٹا جان میں آ جاؤں گا۔،،
“ٹھیک ہے ڈیڈ،،افنان نے کال کاٹ دی اور زہرہ کے ساتھ لیٹ گیا۔
“زہرہ اب پھر سے ملک ہاؤس کی خوشیاں لوٹ رہی ہیں۔۔،،وہ ہاتھ کے سہارے بیٹھ کر اس پہ جھک کر بولا۔تو زہرہ نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلا دیا۔
“ایک بات کہوں۔،،افنان شرارت بھرے لہجے سے بولا۔
“ہوں۔۔
“مجھے ڈیڈ بننا ہے کتنا اچھا لگے گا نہ جب چھوٹے چھوٹے بچے مجھے ڈیڈ جان اور آپ کو ماما جان کہیں گے،،
افنان نے اس کے بالوں کی لیٹ کو انگلی پہ لپٹتے ہوئے کہا شرارت سے کہا۔
“ہاہاہاہاہاہاہا بڑے بدماش ہو گئے ہو،،زہرہ شرم سے لال ہو گئ تھی۔
“وہ تو میں پہلے سے ہی ہوں آپ کے ساتھ بدماشی نہیں کی وہ الگ بات ہے،،اس نے آنکھ دبا کر کہا تو زہرہ کا قہقہہ چھوٹ گیا
“میں کیسے کہوں کہ محبت کرتی ہوں تم سے،
دنیا بھر کی ان بدنظروں سے ڈرتی ہوں،،زہرہ نے اس کا روشن چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھر کے شعر پڑھا۔
“بد نظروں کا تو پتا نہیں جانم۔
آپ کی نظر ہمیں ضرور لگے گی ارادے کہتے ہیں،،،افنان نے لائٹ آف کر دی ۔اور زہرہ کا سر اپنے بازو پہ رکھ دیا۔محبت جھوم اٹھی تھی۔
“بھائی جی صبح صبح ہی لائٹ آف کر لی۔ڈرائنگ روم میں سب آپ لوگوں کو بلا رہے ہیں ،،شان نے شرارت سے دروازہ بجا کر کہا تو زہرہ جلدی سے اٹھ گئی۔اور باہر بھاگی۔
******
دروازے کی بیل بجی۔۔سب ناشتے کی میز پر بیٹھے تھے زہرہ اور افنان نے ایک دوسرے کو دیکھا
“صبح صبح کون ہو سکتا ہے ،،شگفتہ جو کہ کھانا سرو کر رہی تھی سیدھی ہوئی۔
“میں دیکھتا ہوں ،،ثاقب کرسی سرکا کر اٹھا۔افنان اور زہرہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئ۔کہ اب کیا ہونے والا ہے ۔کہیں خوشی کے مارے کسی کو کچھ ہو نہ جائے کہیں کچھ غلط نہ ہو جائے۔افنان نے مٹھی میچ کر ٹیبل پر رکھی اور ہونٹ کاٹنے لگا۔ ثاقب دروازے کے پاس پہنچ چکا تھا۔
زہرہ نے افنان کا ہاتھ پکڑ لیا اور حوصلہ رکھیں نظروں سے
ہی کہا۔
“آپ،،ثاقب نے حیرانگی سے انہیں دیکھا اتنے سال بعد وہ تو مر چکے تھے۔پھر یہاں کیسے۔
“بیٹا گلے نہیں لگو گے،،سکندر نے مسکرا کر باہیں پھیلا کر کہا۔وہ سفید شلوار قمیض میں ملبوس تھے ایک کاندھےپہ شال گھنی مونچھوں کے نیچے ہونٹوں پر مسکراہٹ۔
وہ بلکل نہیں بدلے تھے بس بال تھوڑے تھوڑے سفید ہو چکے تھے۔
ثاقب حیرانگی اور خوشی کے ملے جلے احساسات کے ساتھ ان کے گلے لگا۔
جب وہ ڈائنگ روم داخل ہوئے تو سب ایسے کھڑے ہوئے جیسے بھوت دیکھ لیا ہو۔ ہاں بھائی ان کے لئے بھوت ہی تھا دس بیس سال مرا ہوا ایک انسان یوں سامنے آئے تو بھوت ہی لگے گا۔
شگفتہ کے ہاتھ سے چمچہ گر گیا۔
سب حقا بقا ہو کر دیکھ رہے تھے۔
ماشی کیچن سے کھیر لے کر نکلی تو کھیر کا دونگا گرا جس کی آواز سن کر سب ہوش میں آئے ۔آسام بھاگ کر اس کے پاس آیا۔اور تھام لیا۔
“جان ریلکس۔۔انکل واپس آ گئے ہیں پریشان نہ ہوں۔پلیز۔ ،،آسام نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔تو ماشی نے سر ہلا کر اسے یقین دلایا کہ وہ ٹھیک ہے۔اور اس کا ہاتھ تھام لیا
وہ جانتا تھا ٹینشن ماشی کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔اب وہ کوئی ریسک نہیں لینا چاہتا تھا۔
“شگفتہ،،سکندر چلتا ہوا اس کے پاس آگیا تو وہ منہ موڑ کر کھڑی ہو گئی۔
“مجھے معاف نہیں کرو گی شگفتہ۔۔۔۔،،سکندر نے اس کے شہانے پہ ہاتھ رکھ کر کہا آواز آنسوں میں ڈوب چکی تھی۔
شگفتہ نے اپنے پلو سے آنکھوں کو رگڑا اور چلتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔سکندر نے منہ پھیر کر سب کو دیکھا۔
اصغر کے گلے لگا آخر کزن تھا اور بچپن کا دوست
پھر باری باری سب سے ملنے کے بعد وہ شگفتہ کے کمرے کی طرف بڑھ گیا اسے منانا جو تھا۔
“شگفتہ مجھے معاف کر دو،،سکندر اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔
“ہرگز نہیں،،شگفتہ نے اپنے آنسو چھپائے۔اور سکندر کے سینے سے لگ گئ۔
“آپ کے بغیر میں جی کے بھی مر رہی تھی سکندر ،،وہ اس کی ہمشہ کی طرح مضبوط گرفت میں خود کو طاقت وار محسوس کر رہی تھی
“ایم سوری شگفتہ میں تمہارے پاس نہیں آ سکا میں اس وقت تمہارے ساتھ نہیں تھا جب تمہیں میری ضرورت
تھی،،سکندر نے اس کے آنسوں صاف کئے اور کافی پل یوں ہی گزر گئے
شگفتہ کو ناراض ہونا آتا ہی کہاں تھا
“چلو میرے ساتھ۔،،سکندر اپنی قمیض ٹھیک کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔شگفتہ بغیر کوئی سوال کئے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی ۔جہاں سفر اور اس کی پوری فیملی موجود تھی۔
شگفتہ نے ناسمجھی سے سکندر کو دیکھا۔
“ان کی کوئی غلطی نہیں تھی معاف کر دو شگفتہ انہیں۔،،سکندر نے سنجیدگی سے کہا۔
“میں معاف کر چکی ہوں سچے دل سے معاف کر چکی ہوں سکندر،،شگفتہ نے سنجیدگی سے کہا۔پھر تھوڑی دیر کے رونے دھونے اور میل ملاپ کے بعد سب ہنسنے لگے
“ہم اپنی بیٹیوں کو لینے آئے ہیں،،سعدیہ جس کے ایک طرف زہرہ اور دوسری طرف ماشی بیٹھی تھی۔اور بائمہ ثاقب کے ساتھ کھڑی مسکرا رہی تھی۔
“یہ تو بات غلط ہے۔۔۔بیٹیوں کو لے جاؤ گے تو ماما ہمارا کیا ہو گا نہ نہ یہ ظلم ہے،،افنان نے دہائیاں دی تو سب کا بے اختیار قہقہہ گونجا۔
“افنان مجھے معاف نہیں کرو گے بیٹا،،سعدیہ نے حسرت سے افنان کو دیکھا۔تو زہرہ نے اسے اشارے سے بلایا ۔
“ماما میں آپ سے ناراض نہیں ہوں ،،افنان سعدیہ کے سامنے گھٹنوں پر بیٹھ گیا۔سعدیہ نے اس کا منہ سر چوم لیا۔
“بس مجھے تو کوئی پیار ہی نہیں کرتا ،،آسام نے رونی شکل بنا کر کہا۔
“کیوں کوئی نہیں کرتا ادھر آؤ میری جان ،،شگفتہ نے آسام کو اپنے پاس بلا لیا۔
“ماشی اور تمہارے درمیان جو غلط فہمیاں پیدا تھی ختم کر دی ہیں تم نے آئندہ کوئی شکائت ملی۔یا میری بچی کو رولیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا،،شگفتہ نے کان کھینچ کر کہا
“پھوپھو ان کا کوئی قصور نہیں تھا درد ہو رہا ہے انہیں چھوڑ دیں،،ماشی تڑپ کر بولی تو ڈرائنگ روم قہقہوں سے گونج گیا۔ماشی اپنی بے اختیاری پہ شرما کر سر جھکا گئ
“شانی کیمرہ لے کے آؤ ،،نمرہ نے اس کے کان میں گھس کر کہا تو وہ بھاگ کر کیمرہ لے آیا۔
“چلو سب ریڈی ہو جاؤ فیملی فوٹو ہوجائے۔،،شان نے کیمرہ سنبھال کر کہا پھر مختلف پوز کے ساتھ فوٹو بنائے گے
مٹھائی کی تھالی لائی گئ۔
آسام نے برفی کا ٹکڑا اٹھا کر شرارت سے ماشی کو اپنی طرف بلایا۔تو اس کی آنکھیں پھیل گئی۔
“پلیز آؤ نہ،،آسام نے آنکھوں کو سکوڑ کر اشارے میں کہا تو ماشی سعدیہ کے پاس سے اٹھ کر اس کے پیچھے چلی گئی۔آسام نے جھٹ سے اس کو کمر سے پکڑ کر دیوار سے لگا لیا۔
“یہ کیا بد ماشی ہے
مسٹر رندھاوا،،ماشی نے اس کے کاندھے کے گرد بازو حائل کر کے ادا سے پوچھا۔
“جو میں کر رہا ہوں۔منہ کھولو،،آسام نے اسے اپنے نزدیک کر لیا۔آسام کے وجود سے اٹھ رہی خوشبو ماشی کو جکڑ چکی تھی
“کوئی آ جائے گا چھوڑیں ،،ماشی نے نظریں جھکا کر کہا
“منہ کھولو آآآآآأآں ،،آسام نے اپنا منہ کھول کر اسے دیکھایا تو ماشی کی بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی اور اس نے منہ کھولا۔اور برفی کھانے کے بعد اس نے آسام کی طرف برفی کا ٹکڑا کیا۔
“ایم سوری ماشی ۔۔۔،،آسام نے اس کے منہ پہ آ رہے بالوں کو پیچھے کیا اور اسے گلے لگا لیا دونوں نے سکون اور ایک ۔ آنکھیں بند کر لی کتنے ہی پل وہ یوں ہی کھڑے رہے ہوش تب آیا جب افنان اور زہرہ ان کے سر پہ پہنچ گئے۔
“کمرہ کم پڑ گیا ہے جو باہر کا ماحول خراب کر رہے ہو،،افنان نے آسام کے شہانے پہ تھپکی دے کر کہا تو ماشی نے آنکھیں کھول کر اسے پیچھے دھکیلنا چاہا پر اس نے گرفت اور مضبوط کر لی۔
“میں اپنی بیوی کے ساتھ بیزی ہوں زرا سائڈ سے گزرو،،آسام نے دو انگلیوں سے جانے کا اشارہ کیا تو زہرہ اور افنان کا بلند قہقہہ گونجا۔جبکہ ماشی چھنپ کر رہ گئ
“اچھا جی۔۔اوہ ماموں جان یہ دیکھیں،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتا آسام کرنٹ کھا کر ماشی سے الگ ہوا پر وہاں ان چاروں کے علاؤ کوئی نہ تھا۔
“یو۔۔۔۔،،آسام نے چپت رسید کی۔
“میں کیا سوچ رہی تھی،،، ماشی نے اپنے بالوں کو پیچھے کر کے تینوں کو دیکھا
“ہمیں کیا پتا تم کیا سوچ رہی تھی،،وہ تینوں ایک ساتھ بولے۔
“میں کہ رہی ہوں کہ اب ہمیں اپنے گھر چلنا چاہئے کچھ مہینوں تک عشرت اور فہد بھی آ رہے ہیں۔آوٹ آف کنٹری سب مل کر جائیں گے۔ کتنا مزا آئے گا نہ ،،اس کی بات پہ آسام اور افنان نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہاں میں سر ہلا دیا۔ماشی اور زہرہ خوشی سے جھوم اٹھی
“میں سب کو بتا کر آتی ہوں۔چلونگین،،ماشی زہرہ کا ہاتھ پکڑ کر چل دی۔نگینہ نے مڑ کر افنان کو دیکھا تو اس نے مسکرا کر زہرہ کو دیکھا آنکھوں میں محبت تھی۔ وہ ہی محبت جو آج کل وہ اپنے لئے دیکھ رہی تھی
اسے افنان ملا تو اسے یوں لگا کل کائنات اسے مل گئ۔
