Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 19)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 19)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
“افنان آر یو اوکے۔۔یار ہم یہاں میٹنگ کر رہے ہیں اور تم وہاں بیٹھے کن خیالوں میں کھوئے ہوئے ہو۔،، لکی اس کے پاس آکر بیٹھ کر بولا۔وہ لوگ آج مسٹر رندھاوا کے فارم ہاؤس پر تھے۔افنان ہاتھ میں ڈرینک لے کر بیٹھاتھا۔۔پر اس کی آنکھوں میں کچھ عجیب سا احساس تھا
“افی۔۔۔،،لکی نے اس کے کاندھے پر تھپکی دے کر کہا تو وہ ہوش میں آیا
“ہاں۔۔،،وہ ناسمجھی سے بولا لکی سمجھ گیا کہ وہ وہاں جسمانی طور پر موجود ہے لیکن دماغی طور پر کہیں اور تھا۔
“کیا ہوا تمہیں کہیں عشق وشق تو نہیں ہو گیا۔۔,,لکی نے ساگر جنید کو آنکھ مار کر کہا۔
افنان سوچ میں پڑھ گیا کچھ دیر کی خاموشی کے بعد افنان بولا۔
“نہیں یار عشق نہیں ہوا مجھے عشق ہو سکتا ہے کیا ہاہاہاہا۔۔،،افنان نے کہکہکا لگاکرکہا۔
“ویسے یار وہ چادر والی ماسی بہت خوبصورت ہے اسے دیکھتے ہی دل میں کچھ کچھ ہوتا ہے دل کرتا ہے،،اس سے پہلے لکی کچھ اور بولتا افنان بول پڑھا
“اچھا یہ سب چھوڑو کہیں چلتے ہیں یونیورسٹی جانے کا موڈ نہیں ہے کہیں لمبی ٹریپ پہ چلتے ہیں ایک دو ویک کے لئے۔۔،،افنان گلاس کو ٹیبل پر رکھ کر اٹھ گیا اور سگریٹ سلگا کر ہونٹوں میں دبا کر جھولے پر گر گیا۔سگریٹ پہ وہ کچھ دن پہلے لگا تھا تھا
“مری چلتے ہیں۔۔،،جنید نے چہک کر کہا
“نہیں کراچی۔۔،،ساگر نے بھی چٹکی بجائی۔۔
“وہی کر دی نہ چھوٹے لوگوں والی بات
ہم انگریزوں کے ملک جاتے ہیں گوریوں کے ساتھ مزے کریں گے۔۔کیا کہتے ہو ہینڈسم۔۔،،لکی نے افنان کے کاندھے پر تھپکی دے کر کہا۔
“نہیں۔۔،،افنان سگریٹ کو پھینک کر بولا۔
” سویزیلینڈ چلتے ہیں ۔۔ایک ویک کے لئے کیا خیال ہے۔۔۔،،افنان نے سب کی طرف دیکھا
“میرا باپ اتنے پیسے نہیں دے گا قتل کر دے گا میرا وہ برو۔۔نہیں کہیں اور چلتے ہیں۔،،جنید نے خفیف ہو کر کہا۔
“ابے او فٹو۔۔سارا خرچ میں کروں گا تم بس اپنا ایک بیگ پیک کر لینا اگر وہ بھی نہیں لے سکتے تو بولو۔،،افنان نے اسے پنچ مار کر گرا دیا تھا۔
“واہ واہ ٹیکیٹس کروا لئے۔۔،،لکی ڈرینک کو منہ سے لگا کر بولا اتنے میں انوشکا اور ونیت بھی آ گئ
“ہائے بوائز۔۔۔کیا میٹنگ ہو رہی ہے۔۔،،ونیت تقریباً افنان کی بغل میں گر گئ تھی۔
افنان نے لکی کو آنکھیں دیکھائی۔
“میں نے ان کو یہاں نہیں بلایا پوچھ لو۔،،لکی نے افنان کے غصے کو بھانپ کر دہائیاں دینی شروع کر دی افنان کو پتا نہیں کیوں ان تینوں سے چڑ ہوتی تھی۔
اسے پتا تھا لڑکیوں کی نظروں میں اس کے لئے کیا کیا جذبات ہوتے ہیں پر وہ اس بات کی کب قدر کرتا تھا۔
لیکن کوئی اس کی طرف ہاتھ بڑھتی تو ایک دو ویک کے لئے تھام لیتا تھا شائد اسی لئے اس کو ان تینوں سے چڑ تھی۔۔وہ تینوں ہر وقت اس کے ساتھ چپکی رہتی تھی۔
“ہم لوگ سویزیلینڈ جا رہے ہیں۔تم لوگ چلو گی۔۔،،ساگر نے ان دونوں کو باری باری دیکھا
“واؤ ہم چلیں گی وائے نوٹ۔،،انوشکا نے چینخ لگا کر کہا۔۔
افنان اپنا کوٹ اٹھا کر کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
“اسے کیا ہوا۔۔،،ونیت نے سرگوشی کی۔
“میں دیکھتی ہوں۔،،انوشکا کمرے کی طرف بڑھی۔
“اور ہاں کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔۔،،اس نے مڑ کر آنکھ ماری اور چلی گئ۔
“کیا مطلب۔۔۔رک انوشی۔،،ونیت اس کے پیچھے لپکی تھی پر ساگر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔
“ڈونٹ وری وہ اس کی طبیعت فریش کر دے گی تم بیٹھو پلینگ کرتے ہیں ٹریپ کی یار ۔۔لکی یار نہیا کو کل کرو اسے ابھی بلاؤ۔۔اور آسام کو بھی،،
ساگر اپنا فون نکال کر بولا۔
“یار پلیز سامی بےبی کو ساتھ مت لے کر جانا۔۔ایسے ہی اپنی ٹریپ مت خراب کرو یار۔،،ونیت جھولے پہ گر گئ۔
“ٹھیک کہ رہی ہے یہ۔۔،،جنید نے بھی اس کا ساتھ دیا۔
پھر وہ لوگ پلینگ کرنے لگ گئے
“انوشکا نے اندر جا کر کمرے کو اندر سے لاک کر لیا تھا افنان بیڈ پہ الٹا گرا ہوا تھا ٹانگیں نیچے تھی اس نے منہ اپر نہیں اٹھایا تھا وہ چلتی ہوئی افنان کے پاس آکر سیدھی لیٹ گئ۔اپنی ہسی کو کنٹرول کر وہ افنان کے بالوں میں ہاتھ چلانے لگی۔
“کیا ہوا افی۔،،وہ ہونٹوں کو افنان کے کان کے نزدیک کر کے رومنٹک انداز میں بولی افنان نہیں ہلا تھا نہ ہی کچھ بولا
“میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتی ہوں بے بی۔،،وہ افنان کے وجہہ سراپے پہ نظر ڈال کر بولی
“مجھ سے برداشت نہیں ہوتا جب وہ دو چھپکلیاں تمہارے ساتھ چپکتی ہیں۔،،وہ افنان کی پشت پہ سر رکھ کر دانت پیس کر بولی۔
اس نے اپنے ہاتھ افنان کے ہاتھوں پہ رکھ لئے تب بھی افنان نہیں ہلا ۔
“کچھ بولو نہ جان۔۔۔میں تمہارے پاس آنا چاہتی ہوں۔۔،،وہ بے شرمی کی ہر حد توڑ چکی تھی شرم و حیا کی چادر پہلے ہی نہیں پہنتی تھی۔
گھر سے جھوٹ بول کر آنے والی وہ اسے کیا شرم تھی۔
افنان نہیں ہلا تھا اس نے اسے سیدھا کیا۔
“افففف اٹھو کتنے سٹوپیٹ ہون۔ اٹھو۔،،وہ اسے جھنجھوڑنے لگ گئ۔
“انوشی سٹوپ اٹ ۔۔،،افنان کی نیند ابھی کچی ہی تھی اس نے انوشکا کو دھکا دے دیا
اسے کوئی نیند سے جگاتا تو اسے غصہ آ جاتا تھا یہ بات انوشکا نہیں جانتی تھی۔
“بٹ افی۔۔،،اس کے لفظ منہ میں ہی تھے ابھی افنان بول پڑھا۔
“جسٹ لیو می۔گیٹ آؤٹ ۔،افنان غصے سے پاگل ہو کر بولا
“اٹس نوٹ فیئر افی۔۔،،انوشکا نے نفی میں سر ہلا کر کہا
“میں نے کیا کہا سننا نہیں تم نے۔۔،،افنان نے پھر سے غصے سے کہا۔تو وہ بھاگ گئ
“دماغ خراب کر دیا ہوا ہے ان لڑکیوں نے میرا۔۔ہر وقت چپکنے کو تیار ہوتی ہیں جیسے کھائی ہوئی جوینگم۔۔انہہ،،افنان لیٹتے ہوئےسوچنے
“نیند کی بینڈ بجا کر رکھ دی۔۔،،وہ پھر بڑبڑایا اور اٹھ بیٹھا۔اس کی ایک بار آنکھ کھلتی تو پھر اسے نیند نہیں آتی تھی۔
وہ اتر کر واش روم کی طرف جانے لگا تھا کہ اس کے پاؤں میں کچھ لگا تھا۔
“آہ۔۔،،درد سے وہ کہرا کے رہ گیا۔
جو بھی تھا بہت بری طرح پھنس گیا تھا وہ پاؤں اٹھا کر بیڈ پر جا بیٹھا۔اور پاؤں کو دیکھنے لگا۔ماشی کی بالی تھی جس کا کنڈا کھولا ہوا تھا اور اس کے پاؤں میں اندر تک پھس گیا تھا۔
اس نے ایک جھٹکے سے بالی کو کھینچ لیا اور دیکھنے لگا
اس کی آنکھوں کے سامنے وہ سارا منظر آ گیا جب ماشی اس کے قریب تھی۔
“کاش پھر ایک بار تم مجھے تھپڑ مارو اور میں پھر تمہیں اٹھوا لوں اور پھر۔۔۔،،افنان نے بالی کو ٹیبل پر رکھ دیا۔۔وہ کچھ سوچنے لگا جب ترکیب دماغ میں آ گئ تو وہ اٹھ کر واش کی بجائے باہر بھاگا وہ بالی اس نے اٹھا کر پوکیٹ میں ڈال لی۔
“کہاں جا رہے ہو اتنی جلدی میں۔،،لکی اسے جلدی میں دیکھ کر بولا۔
“ایک کام ہے۔۔۔ تم لوگ جاؤ پیکنگ کرو میں سارے ڈاکومنٹس وغیرہ رکھ لینا یہ نہ ہو پیچھلی بار کی طرح تم کچھ بھول جاؤ لکی اور اب ائیرپورٹ پر ملاقات ہو گی ۔۔،،وہ ٹیبل سے گاڑی کی چابی اٹھا کر دوسری طرف بڑھ گیا۔
“یہ کہاں جا رہا ہے۔۔،،ونیت نے سوالیہ نظروں سے سب کو دیکھا۔
“اللہ جانے یا افی۔۔۔ہم اس کو کیسے جان سکتے ہیں اس کے دل میں کیا چل رہا ہوتا ہے وہ کوئی نہیں جانتا ،،لکی نے کرسی کی پشت سے سر ٹکا کر کہا۔انوشکا اس سے کافی ناراض تھی۔پر افنان کو پرواہ نہیں تھی
*****************
سکندر میٹنگ سے واپس آ چکا تھا اسے کافی دیر ہو گئ تھی پر شگفتہ کے لئے اچھا تھا اس نے ملازموں کے ساتھ مل کر پورا گھر سجا دیا تھا۔
“شگف۔۔کہاں ہو یار تیاری کر لی آپ نے اور لائٹس کیوں آف ہیں۔۔،،وہ ہاتھ سے ٹٹولتا آگے بڑھ رہا تھا۔
“کہاں ہو یار مجھے فکر ہو رہی ہے تمہاری ۔ ،،سکندر فکر مندی سے بولا تھا۔اس نے ہاتھ سے ٹٹولا اور لائٹس اون کر دی۔
“ہیپی برتھڈے ٹو یو۔۔،،
شگفتہ اور سکندر کے کچھ فرینڈز اور ان کی بیویاں تالی بجا رہے تھے۔
سکندر شگفتہ جو دیکھنے لگا۔ شگفتہ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
اس نے شلوار قمیض پہن رکھا تھا ہلکا سا میک اپ کیا ہوا تھا لمبے کھولے بال سامنے جھول رہے تھے
“شکریہ شگفتہ۔۔،،سکندر اس کی طرف بڑھ کر بولا تھا شگفتہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بولا تھا
“اس کی ضرورت نہیں۔۔،،شگفتہ مسکرا کر بولی تو سکندر نے اسے اپنی باہوں میں لے لیا۔
چار سال کے بچے نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھ لیا۔اور ہسنے لگا
“کیک کاٹیں۔۔،،شگفتہ سکندر کا ہاتھ پکڑ کر ٹیبل تک لے گئ۔سکندر نے کیک کاٹا اور پہلا پیس شگفتہ کی طرف بڑھا دیا شگفتہ نے مسکرا کر چھوٹا سا حصہ لیا اور اس کے منہ کی طرف کیا
سکندر کے چہرے پر مسکراہٹ تھی
“کیا مجھے میری شگف مل گئ۔۔،،سکندر نے اس کے کان میں گھس کر سرگوشی کی
“آپ کو کیا لگتا ہے۔۔،،شگفتہ نے اس کی سیاہ آنکھوں میں جھانک کر کہا تو وہ مسکرا دیا۔
**************
“ایکسکیوزمی۔۔۔،،ثاقب نے اپنے پیچھے لڑکی کی آواز سنی تو چونک کر مڑا۔
اس کے پیچھے ایک لڑکی کھڑی تھی اور اس کے ساتھ سات آٹھ سال کی بچی بھی تھی
“یس۔،،ثاقب ابھی ابھی پارکنگ میں آ کر رکا تھا وہ ہوٹل میں کلائینڈز سے ملنے آیا تھا
“اوٹوگراف پلیز۔۔،،بچی نے اس کے سامنے ہاتھ بڑھا دیا۔ثاقب کی آنکھوں میں حیرانگی ہی حیرانگی تھی۔وہ کوئی ہیرو نہیں تھاوہ بچی اس سے اوٹوگراف مانگ رہی تھی
وہ ایک مشہور بزنس مین تھا اوٹوگراف اس نے کبھی نہیں دیا تھا اور وہ جب سے پاکستان آیا تھا جہاں جاتا میڈیا والے پہنچ جاتے اسی لئے اس نے مسٹر رندھاوا نے اسے باڈی گارڈ رکھنے کو کہا پر ثاقب کا ماننا تھا کہ باڈی گارڈ کمزور لوگوں کے ہوتے ہیں اور اس کو ان کی ضرورت نہیں
“لیٹل پرنسیز آپ کو میرا اوٹوگراف کیوں چاہئے۔،،ثاقب نے مسکرا کر سوال کیا۔
“کیونکہ آپ مجھے بہت بہت اچھے لگتے ہیں۔۔میں نیوز نہیں دیکھتی پر جب آپ کی کوئی بھی نیوز آتی ہے تو میں ضرور دیکھتی ہوں بائمہ آپی سے پوچھ لیں۔،،بچی نےاپنے ساتھ کھڑی لڑکی کی طرف اشارہ کیا۔
“ہاہاہاہا تھینک یو لیٹل گڑیا۔،،ثاقب پنجوں کے بل بچی کے پاس بیٹھ گیا۔اور اپنی جیب سے پینسسل نکال کر اس کے چھوٹے سے ہاتھ پہ سائن کرنے لگا۔
“یہ بھی آپ رکھ لیں۔،،سائن کرنے کے بعد اس نے اپنی پینسل بچی کو تھما دی۔
“کیاواقع ہی۔ میں یہ رکھ سکتی ہوں۔،،بچی پینسل پکڑ کر بولی ثاقب نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلا دیا
“یس میں اپنی سب فرینڈز کو دیکھاؤ گی ۔۔،،وہ بچی اچھلتے کودتے ہوئے بولی
ثاقب اٹھ کھڑا ہوا۔
“آپی آپ بھی ان کی فین ہے آپ بھی آٹوگراف لےلیں۔۔،،بچی نے چپ چاپ کھڑی لڑکی کو دیکھ کر کہاتو اس نے بچی کو آنکھیں دیکھائی ثاقب نے پہلی بار اس لڑکی کو دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا۔
“میں نے آپ کو کہیں دیکھا ہے۔۔،،ثاقب کے سوال پر وہ ہڑبڑا گئ۔
“پتا نہیں چلو پنار۔۔،،وہ جلدی سے اس کو گھسٹتی چلی گئ۔بچی رکنا چاہتی تھی کیونکہ ثاقب اسے بہت پسند تھا ہیرو ،سپر سٹاررز کو چھوڑ کر وہ ثاقب کو لائک کرتی تھی
ثاقب اسے جاتا دیکھتا رہا۔
اسے یاد نہیں آرہا تھا اس نے اس لڑکی کو کہاں دیکھا ہے وہ ہی آواز تھی وہ ہی نین نقش پر یاد نہیں تھا اسے کہ وہ یہ نین نقش کہاں دیکھ چکا ہے۔
ثاقب سر چھٹک کر ہوٹل کی طرف بڑھ گیا۔
*************
“بائمہ یہ تو وہی لڑکا تھا نہ جو انگلینڈ میں۔۔،،اس سے پہلے اس کی دوست کچھ اور بولتی وہ بول اٹھی
“کتنی بار بولا ہے میرے پاسٹ کو مت دہرایا کرو تم دوست ہو یا دوشمن۔،،بائمہ غصے سے بولی۔۔
“اوکے سوری میری جان۔،،وہ چہک کر بولی
“ااب ہم چلتی ہیں چلو پنار۔،،وہ پنار کو لے کر
رکشے میں بیٹھ گئ۔۔
“آپی مجھے گاڑی میں بیٹھ کر جانا تھا ثاقب رندھاوا ہمیں چھوڑ آتا اگر ہم اسے کہتے۔۔،،پنار ثاقب کی دی ہوئی پینسل کو اپنے ہاتھ میں لے کر بیٹھی تھی۔
“پنار وہ بڑے لوگ ہیں اور ہم بہت ہی چھوٹے۔۔ہمارا اور ان کا کوئی کنیکشن نہیں اور آئندہ تم نے ایسا سوچا تو دو لگاؤں گی۔۔،،پتا نہیں کیوں بائمہ کا لہجہ سخت ہو گیا تھا
بائمہ ایک میڈل کلاس گھرانے کی لڑکی تھی باپ کی وفات کے بعد وہ اس کی ماں اور چھوٹی بہن پنار اپنے چاچا کے پاس رہتی تھی۔ وہ جس کمپنی میں سیکریٹری کےطور پرکام کرتی تھی اس کی طرف سے وہ ایک دو مہینے کے لئےانگلینڈ گئ تھی اپنے بوس کے ساتھ
تنخواہ تو زیادہ نہیں تھی پر چاچی کے تانے سننے سے اچھا اس نے کام کرنا پسند کیا۔
چھوٹی بہن کو وہ پڑھا بھی رہی تھی۔
“میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ تم سے دربارہ ٹکراؤں گی شکر ہے تم نے مجھے پہنچانا نہیں۔۔،،بائمہ نے اداسی سے سوچا تھا
“ایسا کیوں ہوا تھا میرے ساتھ کیوں میری قسمت اتنی گھٹیا ہے۔۔کیا غریبی اتنی بری ہوتی ہے کیوں ہم غریب ہیں اللہ کے خزانے میں کیا کمی ہے وہ تھوڑا سا ہمیں بھی دے دیتا تو آج یوں خجیل نہ ہونا پڑھتا۔،،بائمہ کے دل نے اللہ سے گلہ کیا تھا وہ جن حالات سے دوچار تھی ان حالات میں یا تو بندہ سجدہ کرتا ہے یا پھر گلہ۔
اس نے بہت سجدے کئے تھے پر شائد اس کی دعا دیر سے پوری ہونی تھی۔
“میری دعائیں دل سے کیوں نہیں نکلتی۔۔کیوں میں پروردگار سے گلہ کرتی ہوں۔۔جبکہ میں جانتی ہوں جانتی ہوں وہ قادر ہے وہ جو چاہئے کر سکتا ہے۔۔کیامیں کافر ہوتی جا رہی ہوں ۔؟،،بائمہ خوف سے کانپ گئ۔وہ کرتی بھی کیا جب انسان کے پاس بندہ نہ بندے کی ذات ہو تو وہ انسان اللہ سے ہی گلہ کرے گا اللہ سے ہی بات کرے گا۔
اللہ سے بہترین دوست کوئی نہیں ہوتا۔۔
“میں تم سے کچھ نہیں مانگوں گی بس اس انسان کو میں یاد نہ آؤں ۔,,بائمہ نے آسمان کو دیکھ کر سوچا تھا
******
“بائمہ۔۔اے موئی کچھ جویلری پہن لیا کرو اتنی بڑی چادر اوڑھ لیتی منہ پہ کچھ میک اپ کر لیا کرو کسی امیر کی نظر پڑھ گئ تو قسمت چمک جائے گی۔۔،،چاچی نے اسے ڈانٹ لگانی شروع کر دی تھی۔وہ آفس جانے کے لئے تیار ہو رہی تھی۔ وہ ان کی باتوں کو اگنور کر کے اپنی چادر اوڑھ کر بیگ اٹھا
کر چلی گئ۔۔چاچی پیچھے سے بڑبڑاتی رہی پر وہ گھر کی دہلیز پار کر گئ۔
“میں کون سا لوگوں کو دیکھانے جاتی ہوں باہر خود کو۔مجبور ہو کر جاتی ہوں میرا بھی دل کرتا ہے یونی ورسٹی جانے کو پڑھنے کو آزادی سے جینے کو پر مجھے کون سمجھتا ہے سب کو مجھ سے کام نکلوانا آتا ہے جس کا دل کرتا ہے استعمال کر لیتا ہے۔۔،،کچھ کڑوی یادیں اس کی آنکھوں کے سامنے آ گئی تھی وہ بے خبری سے چلتی ہوئی فٹ پاتھ کی بجائے روڈ پر چلنے لگی تھی۔
“اے لڑکی مرنے کا ارادہ ہے کیا۔۔۔کسی اور کی گاڑی کے نیچے آنامیری گاڑی کے سامنے کیوں آرہی ہو۔۔،کسی آدمی نے بد تمیزی سے کہا تھا
“تمہیں کیا ہے۔۔۔میں تمہاری گاڑی کے نیچے آؤں یا کسی اور کی تم اپنا راستہ پکڑو اور نکلو۔۔،،وہ غصے سے بولی اور چلنے لگی۔
زندگی نے اسے ایسے ایسے کڑوے دن دیکھائے تھے کہ اب اس کی زبان بھی کڑوی ہو گئ تھی۔وہ پھر سے روڈ کے درمیان میں چلنے لگی تھی۔وہ شائد اپنی زندگی سے تنگ آگئ تھی۔
پر موت بھی اسے کہاں آتی تھی کئی بار تو مرنے کی کوشش کر چکی تھی پر ناکام رہی۔۔اب تو اسے موٹ کی بھی امید نہیں تھی
********************
“میں نے اس کو کہیں تو دیکھا ہے پر کہاں۔۔۔وہی چہرا وہی آنکھیں پر کہاں۔۔،،ثاقب آفس میں بیٹھا کرسی پر جھول رہا تھا۔پینسل کی نوک نیچلے ہونٹ پہ رکھ کر وہ سوچ رہا تھا اتنا ذہین ہونے کے باوجود اسے وہ یاد نہیں آرہی تھی۔
“یار کیا مصیبت ہے میں کیوں سوچ رہا ہوں۔۔وہ کوئی بھی ہو کہیں بھی اسے دیکھا ہو کیا فرق پڑتا ہے۔،،ثاقب پینسل کو ٹیبل پر رکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
“رحیم بابا۔۔ایک کافی بھیج دیں۔،،وہ فون کر کے پھر سے بیٹھ گیا آنکھیں بند کر کے وہ سر کو دبانے لگا رات کو وہ دیر تک آفس کا کام کرتا رہا تھا اور انگلینڈ والی فرم کے منیجر سے کسی ٹاپک پر لمبی بحث چلی تھی اسی لئے اسکے سر میں درد تھااور اب بائمہ نام کی فکراس سے
آ چپکی تھی۔
__*********
وہ لوگ اپنی فلائٹ کا ویٹ کر رہے تھے
افنان ٹین پیک کو کبھی ادھر تو کبھی ادھر گھما رہا تھا۔انوشکا ،ونیت ،نہیا ابھی ابھی آئی تھی پینٹ شرٹ پہن کر آنکھوں پہ گوگلز لگائے ایک ہاتھ میں سیل کو گھماتی وہ تینوں وہاں آرکی۔
“ہائےکتنی واؤ لگ رہی ہو یار۔لک ٹونٹی آٹھ۔۔،،لکی نے چشمے کو انگلی سے نیچے کر کے ونیت کو گھورا۔
“اینڈ فورٹی سیون ویٹ۔۔،،ساگرنے بھی اصافہ کیا۔وہ تینوں اپنی تعریفیں سن کر مختلف پوز بنانے لگی۔
“کیوں نہ لاسٹ سیل فیز ہو جائیں۔۔،،جنید نے سب کو کہا۔
“ارے افی جانوں تم وہاں کیا کر رہے ہو اپنا فون نکال یار۔۔،،جنید نے اسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا
“کیوں تم لوگوں کے سیل پہ سانپ بیٹھا ہے کیا۔۔،،افنان گوگلز اتار کر ٹین پیک کو ایک ہاتھ میں ہلاتا ان کی طرف بڑھا۔
“یار تم نے ابھی کل ہی لیا ہے۔۔اور وہ بھی آئی فون میرا باپ تو مجھے قتل کر دے پر آئی فون نہ لے کر دے۔۔،،جنید نے پھر سےاپنے باپ کا رونا رویا تھا
“ہر وقت اپنے باپ کو برا بھرا نہ کہا کرو۔مت بھول کہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔یہ لو یہ تم رکھ لو۔۔،،افنان اپنا کچھ ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے لگا اور پھر فون جنید کو تھما دیا
“واٹ تم اتنا مہنگا فون اس بھکھڑ کو دے رہے ہو۔۔۔دماغ خراب ہےتمہارا۔۔۔،،انوشکا جنید کے ہاتھ سے فون پکڑ کر بولی۔جنید نے منہ لٹکا لیا
“تو کیا ہوا دوستوں سے کچھ بھی پیارا نہیں ہوتا۔اور مجھے کیا ضرورت ہے فون کی میری پرنسزز تو میرے ساتھ ہیں۔۔،،افنان نے انوشکا سے سیل لے کر جنید کو تھما دیا اور ان تینوں کو آنکھ ماری انوشکا نے افنان کے گرد اپنی باہوں کو حائل کر دیا۔
“افی ٹھنڈے اور برفیلے علاقے میں، میں تمہیں اپنا بنا لوں گی ہم بہت پاس آنے والے ہیں۔۔اس کے بعد تمہاری لائف میں کوئی نہیں آئے گا۔،،انوشکا اس کے چہرے کو دیکھ کر سوچنے لگی۔اور افنان کے ہاتھ سے ٹین پیک لے کر
ہونٹوں کو لگا گئ۔افنان ہاتھ جھاڑ کر مسکرا دیا پھر وہ لوگ سیل فیز لینے لگ گئے۔
افنان ایک طرف جا کر کھڑا ہو گیا۔
“چاندنی کیوں تم مجھ سے دور جاتی ہو۔۔کل رات میں تمہیں اپنے دل کا حال بتانے گیا تھا پر۔۔۔۔پر تم پھر سے۔۔،،افنان کو اس کا غصہ یاد کرنے لگا۔
اس نے ہاتھ سامنے کیا اس کے ہاتھوں پہ بہت زخم ہوئے تھے سفید ہاتھوں پہ زخموں کے نشانات صاف نظر آتے تھے۔۔
“ہر بار تم مجھے نفرت کا شکار کرتی ہو ۔۔نہیں برداشت ہوتا مجھ سے تمہیں میں روتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں۔۔پر اس طرح نہیں۔۔تم روتی اچھی لگتی ہو پر اس طرح نہیں۔۔،،وہ مٹھی بند کر دانت پیس کر بولا۔
“افی چلو۔۔سیلفی لیتے ہیں۔،،انوشکا نے افنان کے کاندھے کے ساتھ چپک کر بولی افنان مسکرا کر سیلفیز بنانے لگا۔
__****************************
“افنان کو کیوں اکیلا بھیجا آپ نے۔۔۔آسام کو ساتھ بھیجنا تھا۔۔،،مسز رندھاوا نے گھر کو سر پہ آٹھا لیا تھا۔
“مسز مسز۔۔آپ فکر نہ کریں ہمارا بیٹا بڑا ہو گیا ہے۔۔۔،،مسٹر رندھاوا مسز رندھاوا کے گرد بازو حائل کر کے بولا۔
“ہٹو جی۔۔بچے جوان ہو گئے ہیں۔۔کوئی دیکھ لے گا ۔آپ کو رومانس سوچھ رہا،،مسزرندھاوا شرما کر بولی
“اب ہماری ایک اور بہو آنے والی ہے کل آسام نے مجھ سے بات کی ہے۔۔وہ کسی لڑکی کو پسند کرتا ہے۔۔،،مسٹر رندھاوا پان منہ میں دباتے ہوئے بولا
“کیسی بات کرتے ہیں ابھی اس کا بڑا بھائی کنواررا ہے اور چھوٹے کو شادی کی آگ لگ گئ نہیں بھائی ایسا نہیں ہو گا پہلے ثاقب گھوڑی چڑھے گا۔۔،،مسز رندھاوا نے اطمینان سے کہا۔
“اوہ ہو بیگم آسام کا لو کا معاملہ ہے تو ابھی انگیجمنٹ کر دیتے ہیں اسے بھی سکون مل جائے گا۔۔اور ثاقب کی شادی کے بعد آسام کی شادی کریں گے۔،،مسٹر رندھاوا نے اطمینان سے جواب دیا۔
“اور افنان کے بارے میں کچھ سوچا۔۔،، مسز رندھاوا فکر مندی سے بولی۔
“اللہ ہی جانے ہم دونوں نے ہی اسے بگاڑ دیا ہے تھوڑا سا میں ڈانٹ کے رکھتا تو آج وہ ویسا نہ ہوتا۔۔،،مسٹر رندھاوا افسردگی سے بولے تھے۔
“کچھ نہیں ہوتا رندھاوا صاحب بڑا ہو جائے گا اور آسام ہے نہ اس کے ساتھ ساتھ وہ اس کی بات سنتا تو ہے۔،،مسز رندھاوا نے مسٹر رندھاوا کے کاندھے پر سر ٹکا دیا۔۔
__*******************
“حماد بھائی کراچی والی فیکٹری میں آگ لگ گئی ہے میں ابھی جا رہا ہوں ڈیڈ کو مت بتائے گا۔،،ثاقب اپنی گاڑی میں اپنا کوٹ پھینک کر بیٹھ گیا۔وہ میٹنگ میں تھا جب اسے وہاں سے کال آئی تھی کہ بہت بری طرح آگ لگی ہے بہت سارے ورکرز بھی مارے گئے تھے۔۔ثاقب اپنی ساری میٹنگز کینسل کر کے جا رہا تھا
“واٹ پر ہوا کیسے۔۔۔،،حماد سائڈ پر کھڑا تھا اسے بھی کرنٹ لگا تھا۔۔اتنی محنتوں کے بعد وہ فیکٹری اپنے وجود میں آئی تھی
“ابھی یہ نہیں پتا چلا وہاں جا کر دیکھیں گے۔اوکے بھائی اللہ حافظ پلیز ڈیڈ کو کچھ مت بتانا ان کی طبیعت پہلے ناساز ہے۔،اور کوئی ٹی وی اون نہ کرے۔۔،،ثاقب نے فون کاٹ دی اور گاڑی کو روڈ پر لا کر فل سپیڈ پر چھوڑ دیا۔۔
بارش برسنے لگی تھی وہ ابھی شہر کے درمیان میں پہنچا تھا جب اسے ایک بچی اور ایک لڑکی بس سٹاپ پر کھڑی دیکھی وہ پنار اوربائمہ تھی وہ دونوں بلکل بھگ چکی تھی پنار تو تقریباً کانپ رہی تھی کیونکہ سردیوں کی آمد آمد تھی اور اپر سے ہوا بھی تیز تھی بارش بھی زور سے پڑھ رہی تھی
پتا نہیں ثاقب کا دل کیوں کیا پر اس نے گاڑی کی باریک لگا دی۔
“آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں۔۔،،ثاقب نے ان کے پاس گاڑی روک دی تھی۔
“آپ سے مطلب صاحب آپ یہاں سے جائیں۔۔،،بائمہ تیز اور کاٹ دار لہجے میں بولی تھی۔
“ہیرو ہمیں کراچی جانا ہے ہمارے کزنز کی ڈیتھ ہو گئ ہے وہ رندھاوا یعنی آپ ہی کی فیکٹری میں کام کرتے تھے۔،،،بچی نے بتایا۔
“میں بھی کراچی جا رہا ہوں اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو میرے ساتھ چل سکتی ہیں۔۔،،ثاقب نے انہیں بغیر دیکھے کہا۔
“ہمارا دماغ خراب ہے۔
ہم کیوں آپ کے ساتھ جائیں۔۔،،بائمہ ماتھے پہ بل ڈال کر بولی
“بائمہ مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے پلیز چلتے ہیں۔۔ہیرو اچھے ہیں وہ راکشز انکل کی طرح برے نہیں ہیں۔۔،،پنار کانپتے ہوئے بولی تھی۔
“راکشز۔۔،،ثاقب نے بھیگی ہوئی چادر میں چھپی بائمہ کا چہرہ دیکھا اس کے چہرے پر بہت سے رنگ آ کر چلے گئے تھے اس نے جب ثاقب کو اپنی طرف دیکھتے پایا تو جلدی سے منہ پہ چادر کر لی ثاقب نے نظریں مڑ لی۔
“دیکھیں متحرمہ بچی کو ٹھنڈ لگ رہی ہے اگر بخار ہو گیا تو لینے کے دینے پڑھ جائیں گے۔۔آپ یقین کریں آپ کو محفوظ گھر پہنچا دیا جائے گا۔،،ثاقب نے پیچھلا دروازہ کھول دیا پنار بھاگ کر اندر گھس گئ۔
“آپ۔۔۔،،بائمہ زیر لب بڑبڑائی
بائمہ نے ثاقب کے چہرے پر نظر ڈالی اور لمبا سانس لے کر گاڑی میں بیٹھ گئ۔
ثاقب نے گاڑی سٹارٹ کر لی۔
“آپ لوگ کیوں جا رہی ہیں جبکہ بڑوں کا کام ہےیہ۔۔،،ثاقب گاڑی سنبھالتےہوئے بولا۔
“میرے پاپا نہیں ہیں اور ماں بیمار ہیں چاچا چاچی نے جانے سے انکار کر دیا تو ماما نے مجھے اور بائمہ کو بھیجا ۔۔،،پنار نے سمجھ داری سے ساری بات بول دی پنار بہت بھگ چکی تھی جس وجہ سے وہ کانپ رہی تھی۔۔
“بائمہ مجھے بہت ٹھنڈ لگ رہی ہے۔۔چادر دو۔۔،،پنار کو بہت ٹھنڈ لگ رہی تھی
لگ تو بائمہ کو بھی رہی تھی پر وہ اپنے بازوؤں کے گرد ہاتھ باندھے باہر آسمان کو دیکھ رہی تھی۔کیا کیا نہیں تھا جو اس کو یاد نہیں آ رہا تھا۔
“پنار سارے کپڑے بھیگ گئے ہیں چپ کر کے بیٹھو۔۔،،بائمہ نے اسے دھیرے ڈانٹا
“یہ لیں۔۔۔ا اوڑھ لیں ۔۔،،ثاقب نے ساتھ والی سیٹ سے گرم شال اٹھا کر ان کی طرف بڑھا دی پنار نے جلدی سے پکڑ لی۔
“بیٹا شال اپنی آپی کو دے دو آپ یہ پہن لو یہ کچھ گرم ہے،،ثاقب نے اپنا کوٹ اٹھا کر پنار کو دے دیا پنار نے
چہکتے ہوئے پہن لیا
“یہ تو بہت بڑا ہے۔۔،،پنار نے منہ بنا کر کہا
“کوئی بات نہیں سردی تو نہیں لگے گی لیٹل گڑیا۔۔،،ثاقب نے مسکرا کر بیک مرر میں دیکھ کر کہا بائمہ شال کو دیکھ رہی تھی اس نے بڑے پیار سے شال اپنے گرد پھیلا لی تھی۔
شال میں سے اٹھ رہی خوشبو اس کے گرد حائل ہونے لگی تھی۔۔اس نے جلدی سے چادر اتار کر اگلی سیٹ پر پھینک دی ثاقب نے حیرانگی سے بیک مرر میں سے دیکھا۔
“کیا ہوا۔۔،،ثاقب پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔
“آپ اپنا کام کریں دھیان سے زیادہ فکرمندی دیکھانے کی ضرورت نہیں نہ ہی ہم پہ ترس کھانے کی تم جیسے لڑکوں کو میں اچھی طرح جانتی ہوں۔۔ سمجھے تم۔،،بائمہ کا وہی کاٹ کھانے والا لہجہ تھا۔ثاقب کو وہ نارمل نہیں لگی تھی۔
“کیا مصیبت ہے یار ایک تو ہیلپ کرو اپر سے الزامات سنو۔۔
بیٹا ثاقب اور کر لے مدد اس پاگل کی۔۔،،وہ دل میں سوچ کر رہ گیا
اس کے بعد ثاقب خاموش ہو کر گاڑی چلانے لگا
بائمہ نے اپنا چہرا چھپا لیا تھا اور وہ باہر جھانکنے لگی تھی
“مجھے بھوک لگی ہے آج چاچی نے کھانا بھی نہیں دیا تھا۔۔،،پنار رونے لگی تھی اسے اپنی چاچی کا بی ہیور یاد آ گیا ثاقب کی آنکھوں میں حیرانگی ہی حیرانگی تھی پر بائمہ نے پنار کو آنکھیں دیکھائی پر وہ بچی تھی۔
“چھوٹی سی بچی پہ کون اتنا ظلم کرتا ہے۔۔،،وہ دل میں سوچ کر افسردہ ہو گیا
“آپ کیا کھائیں گی بیٹا۔۔،،ثاقب نے پیار سے پوچھا تھا ثاقب کو اس بچی پہ ترس بھی آیا تھا۔اور رحم بھی
“جو بھی مل جائے۔۔،،پنار آنسوں صاف کر کے شہانے آچکا کر بولی۔
“تھوڑی دور ہوٹیل ہے وہاں سے۔۔،،ثاقب کے فقرے منہ میں ہی تھے کہ بائمہ بھڑک اٹھی۔
“تم سمجھتے کیا ہیں خود کو دو لڑکیوں کو اکیلا دیکھ کچھ بھی کر لو گے نہیں مسٹر زمانہ بدل گیا ہے۔ہم نا سمجھ نہیں ہیں ۔۔،،بائمہ غصے سے پاگل ہو گئ تھی۔
“شیٹ اپ۔۔۔شرم آنی چاہیئے آپ کو۔۔ایسی گھٹیا بات کرتے ہوئے۔۔آپ کا دماغ مجھے ٹھیک نہیں لگتا کسی اچھے ڈاکٹر سے اپنا چیک اپ کرواؤ،،ثاقب کا صبر جواب دے گیا تھا کب سے وہ بائمہ کے الزامات سن رہا تھا۔
“پہلے پوری بات سن لیا کریں پھر بولا کریں۔۔میں یہ کہ رہا تھا وہاں سے کچھ لا دوں گا۔۔اور مجھے ایسے گھٹیا شوق نہیں ہےمتحرمہ آپ کی مدد کی اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ میں نے کسی لالچ کی وجہ سے آپ کی مدد کی۔۔،،ثاقب کو پہلی بار غصہ آیا تھا۔بائمہ چپ کر کے نظریں جھکا گئ۔اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا
تھوڑی دیر بعد ثاقب نے ایک ہوٹیل کے سامنے گاڑی روکی اورچھتری لے کر باہر چلا گیا۔بارش ابھی رکی نہیں تھی
بائمہ باہر دیکھنے لگی پنار کوٹ کے لمبے بازوؤں کے ساتھ کھیلنے لگی تھی۔
وہ چند منٹ بعد واپس آرہا تھا بائمہ اس کے چہرے کو دیکھتی رہی وائٹ شرٹ میں ملبوس آنکھوں پہ چشمہ لگا ہوا تھا اور اس کے بال ماتھے پہ بے ترتیب انداز میں بکھرے ہوئے تھے وہ شخص اسے بہت وجہہ لگ رہا تھا۔
جب وہ تھوڑا سا قریب آیا تو بائمہ نے پھر سے منہ دوسری طرف کر لیا
ثاقب نے دروازہ کھول کر کھانا پنار کو پکڑا دیا
“آپ کی دوشمنی مجھ سے کھانے سے نہیں۔کھانا کھا لیں۔،،ثاقب گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے وہ بولا۔پنار لیگ پیس کو کھانے میں مصروف تھی پہلی بار اس نے ایسا کھانا کھایا تھا
“آپ بھی لے لیں۔۔،،پنار نے ثاقب کیطرف پلیٹ بڑھائی
“نہیں لیٹل گڑیا آپ کھاؤ اور جلدی سے ختم کرو پھر گاڑی کی سپیڈ بڑھانی ہے بارش رک گئ ہے۔۔۔اور آپ متحرمہ کھا لیں مہربانی ہوگی آپ کی۔،،ثاقب نے روڈ پر دیکھتے ہوئے کہا تو بائمہ نے ایک نظر اس پہ ڈالی اور کھانا کھانے لگی ثاقب نے گاڑی سٹارٹ کر لی جب وہ لوگ کھانا کھا چکی تو اس نے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی۔۔۔
بائمہ نے اپنا منہ پھر سے چھپا لیا تھا۔
وہ نہیں چاہتی تھی کہ ثاقب اسے پہچان لے
