Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 14)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 14)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
بھائی پلیز سفر کو کچھ مت کہیں مجھے پہلے سے پتا تھا کہ سفر شادی شدہ ہے۔،،اصغر اور منزہ آئے تو دیکھ کر حیران رہ گئے۔
“سفر تم نے دھوکہ دیا ہے ہمیں۔،،اصغر غصے سے بولا۔
“کیا دھوکہ دیا ہے تمہاری بہن کو سب پتا تو ہے۔،،حلیمہ بولی
“جی بھائی جان مجھے سب پتا تھا۔آپ غصہ نہ کریں پلیز اور سفر کی یا کسی کی بھی غلطی نہیں ہے میں خوش ہوں سفر مجھے بہت پیار دیتے ہیں میں اور سعدیہ ایک ساتھ بہت خوش ہیں۔ہیں نہ سعدیہ۔،،شگفتہ نے سعدیہ کو دیکھا تو اس نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
“بھائی پلیز آپ اپنی فیملی کے ساتھ خوش رہیں میں بہت خوش ہوں پلیز ،،شگفتہ ڈر کے بولی تو اصغر اس کے سر پہ ہاتھ رکھ کر چلا گیا۔منزہ بھی اس کے پیچھے بھاگ گئ۔اصغر اپنی بیوی بچے کو بہت محبت کرتا تھا۔۔
“تم چلی کیوں نہیں گئ۔اپنے بھائی کے ساتھ چلی جاتی۔،،شگفتہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی جب سعدیہ نے آکر کہا۔
“سعدیہ بیٹھو یہاں۔،،شگفتہ بیڈ پر اپنے بچے کو لٹا کر سعدیہ کو کاندھوں سے پکڑ کر بیٹھا دیا
“میں اگر چلی جاتی تو منزہ کا گھر ٹوٹ جاتا۔سعدیہ میں نے پہلے دن بھی آپ کو کہا تھا کہ میں سفر کو کبھی تم سے نہیں مانگوں گی پر میرے بچے جو اور مجھے یہاں رہنے دو۔،،شگفتہ سنجیدگی سے بولی تھی۔
“ٹوٹ گیا تو دوبارہ جوڑ بھی
بھی سکتا ہے ۔،،سعدیہ کی بات سن کر شگفتہ کی حیرانگی کی انتہا نہیں رہی۔
“سعدیہ تمہیں میرے یہاں ہونے سے کیوں پروبلم ہے۔،، شگفتہ نے سنجیدگی سے سوال کیا
“کیوں کہ میں اپنے سفر کو کسی کے ساتھ نہیں بانٹ سکتی۔،،سعدیہ نخرے سے بولی۔
“ٹھیک ہے میں کبھی سفر کو نہیں مانگوں گی سفر صرف تمہارا ہے۔,،،شگفتہ کا لہجہ بھر آیاتھا۔اس نے سعدیہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا تو سعدیہ سر ہلا کر چلی گئ۔سفر دروازے کے پیچھے کھڑا سن رہا تھا۔اور وہ ہل چکا تھا شگفتہ کی باتیں سن کر
“یہ لڑکی کس مٹی کی بنی ہوئی ہے۔،،سفر سوچ کر اپنے اور سعدیہ کے کمرے میں چلا گیا۔
دن سارا مصروفیات میں گزر گیا سفر آفس چلا گیا تھا سعدیہ اور حلیمہ لان میں بیٹھ کر کہکہکے لگاتی رہی تھی۔ حلیمہ نے سعدیہ کے بچے کو اٹھایا ہوا تھا۔شگفتہ کافی بار دل گرفتہ ہوئی۔پر یہ راستہ اس نے خود چنا تھا۔
شام کو جب سفر لوٹا تو شگفتہ اسے کھڑکی سے دیکھنے لگی اس نے نظروں کی تپش محسوس کر کے اپر دیکھا توشگفتہ نے مسکراہٹ اس کی طرف اچھال دی۔
میں آتا ہوں۔۔۔سفر نے اشارے سے کہا
شگفتہ کے چہرے پر جان دار سمائل نمودار ہو گئ۔
پر تھوڑی دیر تک جب سفر نہ آیاتو اس نے باہر نکل کے دیکھا سامنے کمرے میں وہ سعدیہ کو گلے سے لگائے کھڑا تھا کمرے کا دروازہ نہ بند ہونے کی وجہ سے وہ دیکھ پا رہی تھی اسے۔
اس کی آنکھوں میں آنسوں آگئے اور وہ اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے بیڈ پر گر گئ۔
“کتنا مشکل ہے یہ سب میرے اللہ مجھے صبر دے۔،،شگفتہ زورو قطار رونے لگی تھی۔اپنی محبت کو کسی اور کے پاس دیکھنا آسان نہیں ہوتا وہ سونے کی کوشش کرنے لگی تھی پر نیند کوسوں دور تھی نیند بھی بے وفائی کر رہی تھی اس کے ساتھ
کافی رات ہو چکی تھی جب اس کے دروازے پر دستک ہوئی۔
وہ اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھ گئ۔
“سفر۔،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتی سفر اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ کر اسے اندر لے گیا اور دروازہ بند کر دیا۔
“شگفی۔۔،،اس نے شگفتہ کو اپنی گرفت میں مضبوطی سے پکڑ لیا تھا۔اس کے انداز میں بے تاب
ہی بے تابی تھی۔شگفتہ حیران ہو کر اس کی سانسوں کو محسوس کرنے لگی۔
“سفر، سعدیہ۔۔،،شگفتہ کچھ اور بولتی اس سے پہلے سفر نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا اور اٹھا کر بیڈ پر ڈال دیا خود بھی اس کےپاس لیٹ گیا شگفتہ اسے پھر نہیں سمجھ پائی تھی جس طرح وہ اس کے پاس آیا تھا۔
سفر کی آنکھوں سے محبت جھلک رہی تھی۔وہ اسے صرف اس کا سفر لگ رہا تھا۔
“شگفی آئی لو یو۔مجھے معاف کر دو میں نے تمہارے بارے میں سوچا ہی نہیں میں بہت مطلبی ۔،،سفر بول رہا تھا شگفتہ نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا۔
“نہیں سفر آپ مطلبی نہیں ہیں۔،،شگفتہ اس کی ہر غلطی پہ صحیح کی موہر لگادیتی تھی پر وہ کرتی بھی کیا۔محبت کرتی تھی وہ اس سے اور وہ اس سے کرتا تھا یا نہیں یہ وہ کبھی نہیں جان سکی تھی ۔
“شگفی میرا شیر بیٹا کیسا ہے ادھر لاؤ۔۔ٹائم ہی نہیں ملتا میرے بچے کو پیار کرنے کے لئے۔۔،،سفر بچے کو اپنی گود میں لے کر بیٹھ گیا اور بچے کو پیار کرنے لگا شگفتہ پیار بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
“اچھا اب میں جاتا ہوں سعدیہ اٹھ گئ تو خیر نہیں پھر ہاہاہاہا۔،،سفر بچہ شگفتہ کو پکڑا کر چلا گیا۔شگفتہ ان چند لحموں کو جی بھر کے جی چکی تھی۔
****************
صبح کا سورج ابھی نہیں نکلا تھا شگفتہ معمول کے مطابق اٹھ کر نماز پڑھ کے کیچن میں گھس گئ۔اور سب کا ناشتہ بنانے لگی۔
“گڈ مارننگ سعدیہ۔۔،،سعدیہ پتا نہیں کیا ڈھونڈتی ہوئی آئی تھی کیچن میں کیوں کہ وہ کبھی کیچن میں آئی نہیں تھی۔
“بےبی رو رہا ہے دودھ چاہئے تھا۔،،سعدیہ جمائی لے کر بولی
“اچھا تم جا کے سو جاؤ میں لے آتی ہوں۔،،شگفتہ نے پیار سے کہا تو وہ قاہلی سے چلتی واپس سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں جا کر سو گئی۔شگفتہ کچھ سوچ کر اس کے کمرے میں چلی گئ۔
“یہ تم کیا کر رہی ہو۔،،شگفتہ کو دودھ پلاتے دیکھ سعدیہ نے اطمینان سے سوال کیا تھا۔
“دو مہینے کے بچوں کو باہر کا نہیں ماں کا دودھ پلانا چاہیے اگر برا لگا ہو تو معاف کرنا۔،،شگفتہ بچے کو کاٹ میں ڈال کر بولی اور
سعدیہ کے سامنے ناشتہ رکھ کے باہر چلی گئ سعدیہ دیکھتی رہ گئی۔۔
وہ بڑے بچوں کے کمرے میں چلی گئ تھی
“بچو اٹھ جاؤ اسکول نہیں جانا۔،،وہ بکھرے ہوئے کھلونے اور زمین پر بکھرے کپڑے وغیرہ اٹھاتے ہوئے ان کو جگانے لگی
“چھوٹی ماما گانا سنا دیں۔،،دس سال کا بچہ شگفتہ کے گرد بازو حائل کر کے بولا۔شگفتہ پہلے حیران ہوئی پھر اس کو گلے سے لگا کر مسکرا دی۔کتنا خاص احساس ہوا تھا اسے بچے کے منہ سے یہ سن کے۔
“بری بات بیٹا صبح صبح اللہ کی حمد و ثناء کرتے ہیں چلو اب جا کے فریش ہو جاؤ۔،،وہ اس کی گال پر ہونٹ رکھ کر بولی۔
“اوکے چھوٹی ماما۔،،وہ بالوں میں ہاتھ چلاتا واش روم کی طرف جاتا بولا شگفتہ کے ہاتھ رک گئے پھر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی
“بچوں نے تو مجھے ایکسپٹ کر لیا۔پتا نہیں سعدیہ کب کرے گی۔,, شگفتہ سامان سنبھالنے لگی پھر بچوں کو تیار کر باہر چلی گئ۔
باہر سعدیہ اور حلیمہ بیٹھ کر باتیں کر رہی تھی۔اور ساتھ ساتھ تاش کھیل رہی تھی
شگفتہ گنگناتی کیچن میں کام کرنے لگی سفر نہا کر باہر آیا تھا
“سعدیہ میرے کپڑے کہاں ہیں یار بولا بھی تھا پریس کر دو۔،،سفر بغیر شرٹ کے کھڑا سر میں ٹاول چلا رہا تھا۔
“شگفتہ سفر کو کپڑے دے دو ۔،،سعدیہ پتا پھینکتے ہوئے بولی۔
شگفتہ نے سفر کو دیکھا اور مسکرا کر کمرے کی طرف بڑھ گئ۔سفر اس کے پیچھے چلا گیا۔
“یہ لیں کبھی کچھ خود کر بھی لیا کریں۔،،شگفتہ مسکرا کر بولی سفر نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔شگفتہ اس کے ٹھنڈے وجود کے ساتھ لگی تھی اس کا دل دھڑکنے لگا تھا تو اس نے آنکھیں مند لی
“تم ہو نہ میری جان۔۔۔۔ویسے آج بہت خوش ہو۔سم تھینگ۔،،سفر اس کے بالوں کو انگلی پہ لپٹتے ہوئے بولا
شگفتہ نے مسکرا کےاس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دیئے۔
“پتا ہے بچوں نے مجھے چھوٹی ماں کہا وہ مجھےایکسپٹ کر چکے ہیں سعدیہ پتا نہیں کب کرے گی۔،،شگفتہ آخری فقرہ بے دلی سے بولی۔
“کر لے گی۔ڈونٹ وری اچھا ٹائی لگا دو۔،،سفر نے ٹائی شگفتہ کو تھاما دی۔شگفتہ نے آنکھیں سکوڑ کر دیکھا
“پلیز ۔،،سفر نے آنکھوں میں شرارت بھر کے اسے دیکھاشگفتہ ٹائی پکڑ کر لگانی شروع کر دی۔
“اچھا سنو۔۔،،سفر ہونٹ اس کے کان کے بہت پاس لے گیا تھا
“نہیں اب آپ ریڈی ہو کر آجائیں میں بچو کو دیکھ لوں۔۔,,اس نے سفر کو پیچھے دھکیلا اور نیچے بھاگ گئ۔
سفر اسے دیکھ کر مسکرا دیا
شگفتہ سعدیہ کو ایکسپٹ کر لیا تھا اور وہ کھول کے جی رہی تھی بچے تھے اس کے پاس سفر بھی اس کے ساتھ تو تھا بے شک وہ سعدیہ کا تھا پر اس کا بھی شوہر تھا زیادہ نہیں تو تھوڑی بہت محبت تو وہ کرتا ہی تھا
****************
“ماشی یہ دیکھو اس رات والے فنکشن کی پیکس ثاقب بھائی کتنے ہینڈسم لگ رہے ہیں ۔اور آسام اور ہارش بھی۔،مہک نے اپنا فون ماشی کو پکڑا کر کہا۔ماشی تصویریں دیکھنے لگی آگے پیچھے کرنے کے بعد اس نے ایک فوٹو کو زوم کیا۔
تو وہ ٹھٹھک کر رک گئ۔
“یہ آنکھیں۔اوہ مائی گاڈ میں پہلے کیوں نہیں پہچان سکی۔مجھے ٹھیک احساس ہوا تھا مطلب افففف۔،،ماشی جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئ۔اس کا دل زورو قطار دھڑکنے لگا تھا کانپتے ہاتھوں سے اس نے اپنا فون اٹھایا
“مجھے ابھی آپ سے ملنا ہے۔،،وہ ایجنٹ کو میسج سینڈ کرنے لگی۔
“خیریت۔،،اآگے سے مختصر جواب آیا تھا۔
“اب کیا کہوں انہیں اگر سچ بتا دیا تو کبھی نہیں آئے گا شائد۔،،وہ سوچ کر رہ گئ۔اس کا دل ابھی دھڑک رہا تھا اسے لگا دل پسلیوں کو چیر کے ابھی باہر آ جائے گا۔تو اس نے دل پہ زور سے ہاتھ رکھ لیا
“ملنے کو دل کر رہا ہے۔،،اس نے شرارت سے اسے میسج سینڈ کیا
“دماغ تو ٹھیک ہے آپ کا سو جائیں. اس ٹائم نہیں مل سکتے گڈ نائٹ۔،،آگے سے میسج آیا تو وہ تپ کر بیٹھ گئ۔
“کوئی بات نہیں بیٹا صبح ہونے دو پھر بتاتی ہوں۔،،وہ گڈ نائٹ بول کر لیٹ گئ۔
“کل تمہیں بے نقاب کر کے ہی رہوں گی۔،،وہ سوچتے ہوئے لیٹ گئ ۔عشرت لوگ ابھی بھی تصویریں دیکھ رہی تھی
وہ ایجنٹ کی تصویر کو آنکھوں کے سامنے لہرا کر مسکرا دی۔اور فون آف کر کے لیٹ گئی اسےنیند کہاں آنےوالی تھی
اس نے پھر سے فون اٹھا لیا۔فوٹو کو زوم کر کے دیکھنے لگی۔ یک دم اس کا دل باہر جانے کو کیا تو ۔وہ اٹھ کر باہر چلی گئ۔واچ مین سو رہا تھا کرسی پہ وہ دبے قدموں سے باہر چلی گئ۔
“یا اللہ مجھے معاف کر دینا پر پتا نہیں کیوں میرا دل کر رہا تھا باہر نکلنے کو مجھے نہیں پتا پر مجھے معاف کر دینا۔،،وہ سوچتے ہوئےچادر لپیٹ کر روڈ کے ایک طرف چلنے لگی۔کیوں دل کیا تھا اس کا یہ وہ نہیں جانتی تھی۔ وہ اکیلی یوں نکلنے کی عادی نہیں تھی نہ ہی ہمت ہوتی تھی جب بھی وہ اکیلی ہوتی تھی نقاب پوش اس کے پاس ہوتا تھا۔پر آج وہ اکیلی نکلی تھی.
لمحوں کو صدیوں میں ڈھلتے دیکھا
سورج کو سینے میں جلتے
دُکھ کو دل کے اندر پلتے
خود کو جلتے میں نے دیکھا
جب سے تجھ سے ناتا ٹوٹا!
“افنان بس کرو زیادہ نہ پئو۔تمہاری طبعیت خراب ہو جائے گی۔۔،،افنان سڑک کے درمیان میں چلتا ہوا شراب کی بوتل منہ سے لگئے ہوئے تھا۔نگینہ نے اسے پکڑ لیا۔اور پیچھے کھنچنے لگی۔اسے پولیس کا بھی ڈر تھا یوں شرعام اسے پتے اگر کوئی دیکھ لیتا تو پکڑا جاتا
“نیگی ڈارلنگ ابھی زیادہ کہاں پی ہے۔میرا دل کرتا کہ
پی پی کر مر جاؤں۔،،افنان اس کے گرد بازو حائل کر کے بولا۔۔
“افنان کتنی بار کہا ہے مرنے کی بات مت کیا کرو۔۔،،نگینہ اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں بھر کر بولی۔
“ہاہاہاہاہاہاہا۔۔اچھا چھوڑو مجھے میں معروش کے ہوسٹل جا رہا ہوں تم بھی میرے ساتھ چلو۔۔۔ہم مل کر اس سے لڑائی کریں گے سمجھتی کیا وہ خود کو۔۔،،افنان پھر سے لڑکھڑا کر چلنے لگا تھا۔
“افنان چپ کر کے گاڑی میں بیٹھو۔،،نگینہ غصے سے بولی اور اسے کھینچ کر گاڑی تک لے گئ۔افنان چپ کر کے بیٹھ گیا۔اگر وہ نشے میں نہ ہوتا تو کبھی اس کی بات نہ مانتا یہ نگی بھی جانتی تھی
“ماشو ادھر آؤ۔۔،،افنان ایک طرف اشارہ کر کے بولا۔نگینہ نے اس کے ہاتھ کی سمت میں دیکھنے لگی۔وہاں کوئی لڑکی تھی
“افنان چپ کر کے بیٹھو وہ ماشی نہیں ہے۔،،نگینہ نےافنان کا ہاتھ پکڑ لیا
افنان ہاتھ چھڑوا کے گاڑی سے اتر کر روڈ کراس کر کے اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔۔
“ماشو۔۔یہ دیکھو تمہارا ڈوپٹہ میں نے اسے خود سے جدا نہیں کیا۔۔،،افنان اس کے سامنے دوپٹے والا ہاتھ کر کے بولا۔
“میرے راستے سے ہٹو بغیرت انسان۔،،ماشی دانت پیس کر بولی۔
“اؤوچھ۔۔۔دیکھو نگی یہ ایسے غصہ کرتی ہے۔۔اسے سمجھاؤ نہ کہ افنان گڈ بوائے ہے۔اس سے لڑائی نہ کیا کرے۔،،افنان انچی آواز میں بولا۔
“ماشو یا تو آج تم میری ہو گی یا آج میں اپنی جان دے دوں گا۔کل ہر نیوز چینل پر ایک ہی خبر ہو گی۔افنان رندھاوا موسٹ ہینڈسم نوجوان نے مس ملک کی محبت میں پاگل ہو کر اپنی جان دے دی واؤ۔۔،،افنان روڈ کے بیچو بیچ کھڑا ہو کر باہیں پھیلا کر بولا۔
ماشی نے مڑ کر اسے دیکھا۔
نگینہ کی حیرانگی کی انتہا نہیں رہی تھی وہ جیپ میں بیٹھی اسے اور ماشی کو دیکھ رہی تھی اتنے میں دور سے بس آتی ہوئی دکھائی دی اسے
“افنان روڈ سے اتر جاؤ۔۔،،وہ گھبرا کر بولی اور لینڈکلاؤوزر سے اترنے لگی پر اس کا قمیض پھنس گیا۔وہ چھڑوانے لگی پر ناکام رہی۔ماشی نے بھی آواز کی سمت میں دیکھا۔
افنان ابھی بھی روڈ پر ہی تھا۔
“بے واقوف انسان۔۔،،ماشی
دانت پیس کر بولی اور بھاگ کر اسے پیچھے کھینچ لیا۔
جس وجہ سے وہ توازن برقرار نہ رکھ سکی اور گر گئ۔اس کا سر پتھر پہ جا لگا تھا
افنان بھی اس کے ساتھ ہی گرا تھا پر اس کا سر ماشی کے سینے پہ تھا ہاتھ ماشی کے سر کے نیچے تھا۔ماشی ہوش کھونے لگی تھی۔۔نگینہ بھاگ کر اس کے پاس آگئ تھی
“ماشو۔۔ماشو پلیز آنکھیں کھولو۔دیکھو نگی میں نے پھر اپنی ماشی کو درد دیا۔۔ہر بار میں اسے درد دیتا ہوں۔۔،،وہ فکر مندی سے بولا تھا۔
نگینہ نے ماشی کو دیکھا پر وہ ٹھیک تھی لیکن افنان کے ہاتھ میں بہت گہرا زخم ہوا تھا اس کا ہاتھ پتھر پہ گرا تھا۔ماشی کے سر کا زخم تازہ ہونے کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گئی تھی
“کچھ نہیں ہوا اسے افنان تمہارے ہاتھ۔۔زخمی ہو۔،،نگینہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔افنان نے ہاتھ چھڑوا لیا اور
“اتنا بڑا زخم نہیں ہے۔اس کے ڈوپٹے نے بچا لیا،،افنان نے بے فکری سے کہا نگینہ گاڑی سے پانی کی بوتل اٹھا لائی اورماشی کے منہ پہ چھینٹے مارنے لگی۔ماشی نے آنکھیں کھول دی
“ت۔تم ٹھیک ہو ماشو۔۔،،افنان اس کے بہت پاس بیٹھا تھا ماشی کو اس نے سینے سے لگا لیا
“دور رہو مجھ سے۔،،ماشی نے اسے خود سے دور کر دیا۔اور اٹھ کھڑی ہوئی سر چکرا رہا تھا اس کا
“آپ۔۔ٹھیک ہیں۔۔،،نگینہ نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔
“ہوں۔۔،،ماشی نے پہلی بار اس کو دیکھااور چلنے لگی وہ لڑکھڑا کر روڈ پہ چلی گئ
تھبی ایک گاڑی اس میں آ لگی تو وہ روڈ سے دور جا گری۔افنان کرنٹ کھا کر کھڑا ہو گیا۔
“ابے رک۔۔،،وہ گاڑی کے پیچھے بھاگا تھا پر وہ کہاں رکنے والی تھی۔
“ماشی۔۔،،وہ واپس ماشی کے پاس آیا تھا افنان کا نشہ اتر چکا تھا وہ پاگلوں کی طرح ماشی کے بے جان وجود کو اپنی گود میں رکھ کر دیکھنے لگا۔
“ماشو پلیز اٹھ جاؤ۔۔۔،،وہ اس کے منہ اور سر سے بہتے خون کو صاف کرنے لگا پر جتنا صاف کرتا اور نکل آتا۔
اس نے کانپتا
ہاتھ ماشی کی شاہ رگ پر رکھ دیا وہ زیادہ تو نہیں پر اتنا سمجھ گیا کہ۔ابھی جان ہے اس میں وہ اسے اٹھا کر گاڑی کی طرف بھاگا نگینہ نے ماشی کا سر اپنی گود میں رکھ لیا ۔
“تمہیں شرم نہیں آتی۔۔میرا راستہ چھوڑو۔اس کی زیادہ ضرورت تمہیں ہے۔۔مجھے چھوڑ دو افنان خدا کا واسطہ تجھے ۔۔تم جو کہو گے میں کروں پر مجھے جانے دو۔۔،،ماشی کی آواز اس کے کانوں میں گونجنے لگی۔افنان نے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی
“نہیں معروش تم کو میں کبھی نہیں چھوڑوں گا تمہیں میں ایسے نہیں جانے دوں گا ابھی بہت سارے بدلے لینے ہیں۔تم کو میں نے ابھی تنگ کرنا ہے ایسے نہیں جا سکتی تم۔،،افنان نے سوچا اور گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی۔
*******************
“سامی وہ م۔ما۔ش۔،،افنان کے گلے میں لفظ اٹک رہے تھے۔
“ماشی ۔وہ تم۔۔ہوسپٹل آجاو۔۔،،افنان بڑی مشکل سے بول پایا تھا۔
“کیا ہوا۔۔،،آسام کمبل سے نکل کر بیٹھ گیاکال کٹ چکی تھی۔وہ جلدی سے پورچ کی طرف بھاگا گاڑی نکال کر وہ ہوسپٹل پہنچ گیا۔
“سامی ماشی بہت کرٹیٹکل حالت میں ہے پلیز اسے بچا لو ڈاکٹرز نے کہا ہےکہ وہ۔۔۔،،افنان اسے دیکھ کر اس کے گلے لگ کر رونے لگ گیا آسام نہیں سمجھ سکا تھا کہ وہ کیوں رو رہا ہے۔
افنان کی شرٹ سفید تھی پر خون نے لال کر دی تھی۔اس کی شرٹ کے سارے بٹن کھول چکے تھے بال بکھرے ہوئے تھےآنکھیں سرخ تھی
“کیا ہوا مس ملک کو۔۔،،آسام نے فکر مندی سے پوچھا تو افنان نے ساری بات سنا دی۔۔
آسام نے پھر اس کی شرٹ کو دیکھا۔
“آپ دونوں میں سے کسی نے گاڑی کا نمبر دیکھا۔۔،،آسام نے ان دونوں کو دیکھ کر پوچھا نگینہ جو ڈری سہمی کھڑی تھی اس نے نفی میں سر ہلا دیا افنان نے سر ہاتھوں میں گرا لیا تھا آسام کچھ دیر سوچتا رہا پھر افنان کی طرف بڑھا
“افنان اٹھو۔۔۔اور اپنی شرٹ مجھے دو اور یہ میری شرٹ پہنو اور جاؤ یہاں سے۔۔،،آسام نے اسے بینچ سے اٹھاتے ہوئے کہا تھا
افنان کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہ رہا ہے اور کیوں۔
“کیوں می۔میں نہیں جاؤں گا۔،،افنان نے نفی میں
سر ہلا دیا۔
“افی پلیز اٹھو اور جاؤ دیکھو میری بات غور سے سنو تم گھر جاؤ گے اور یہاں نہیں آؤ گے۔۔کیونکہ ہارش نے یہاں آنا ہے اور وہ۔۔تمہیں اس بار نہیں چھوڑے گا۔اسے تم پہ ہی شک ہو گا کیوں کہ ابھی وہ گاڑی والا بھی نہیں مل سکتا اسی لئے میں نہیں چاہتا میرا بھائی کسی مصیبت میں پھنس جائے۔،،آسام نے اس کی شرٹ اتار کر پہن لی۔اور اپنی ٹی شرٹ اسے دے دی۔
“پر سامی میں۔،،افنان جانے کے لئے مان ہی نہیں رہا تھا۔
“افنان پلیز گو۔۔۔بات سمجھنے کی کوشش کرو پولیس کا معاملہ ہے۔۔میں نہیں چاہتا تمہیں کوئی۔۔۔،،آسام کہتے کہتے رک گیا۔
“جاؤ تم پلیز یہاں سے جاؤ۔۔اور واپس نہ آنا کسی ٹائم بھی ہارش آتا ہو گا۔۔،،آسام نے افنان کو دھکا دے کر کہا
“سامی وہ م۔م۔۔ماشی۔۔،،افنان آسام کے گلے لگ گیا۔
“افی ریلکس میں اسے کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔سب سمبھال لوں گا۔۔۔اب تم جلدی سے چلے جاؤ۔ان کو چھوڑ دینا اور خود گھر جانا،،آسام نے افنان کو تسلی دی ۔
افنان نڈھال قدم اٹھاتا چل پڑھا اس نے شرٹ ہاتھ میں ہی پکڑ ہوئی تھی ایک ہاتھ پہ ماشی کا دوپٹہ لپیٹا ہوا تھا۔وہ دوپٹے کو بے بسی سے دیکھتا گاڑی میں بیٹھ گیا نگینہ اس کی ہر ایک حرکت کو غور سے دیکھ رہی تھی
وہ بے ہوشی کی کیفیت میں گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔
“افنان۔۔۔تم ٹھیک ہو۔،،نگینہ نے افنان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا افنان نے گاڑی روک لی اور نگینہ کے گلے گیا۔
“نگی میری وجہ سے میری وجہ وہ ہر بار اس حالت میں پہنچ جاتی ہے میں اسے ہرٹ کرنا چاہتا ہوں تنگ کرنا چاہتا ہوں پر مارنا نہیں چاہتا۔،،افنان نے نگی کے کاندھے پر سر رکھ لیا وہ اس کو دلاسہ دینے لگی۔
*******************
“خون کا جلدی بندوبست کریں ان کی حالت بہت نازک ہے اگر خون جلدی نہ لگا تو بچانا مشکل ہو جائےگا ان کو۔۔،،ڈاکٹر نے آسام کے سر پہ دھماکہ کیا تھا وہ کوریڈور میں ٹہلنے لگا۔رات کا سناٹا اسےبہت خوفناک لگا تھا۔ بہت سے لوگوں کو کال کی پر خون کا بندوبست نہ ہو سکا۔
وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔اس کا سر پھٹنے لگا
آسام اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے دباتے ہوئے پھر سے کال کرنے لگا تھا اتنے میں ہارش بھاگ کر آیا تھا
“کیا ہوا ماشی کو۔۔،،ہارش نے آسام کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“ایک گاڑی نے ٹکر مار دی تھی بہت چوٹیں آئی ہیں ۔ب۔۔بازو ٹ۔ٹوٹ گیا ہے۔۔اور بہت سارا خون بہے گیا ہے ان کا بلڈ گروپ او نیگٹیو ہے ڈونر نہیں مل رہا ٹرائی کرو تم۔۔،،آسام سر کو دباتے ہوئے بولا ہارش نے اس کی شرٹ کو گھورا تھا جہاں ماشی کا خون لگا ہوا تھا
“ماشی کو اس نے مارا ہے تم اپنے بھائی کی کرتوتوں پہ پردہ ڈال رہے ہو۔۔۔،،ہارش ،ہوسپٹل میں داخل ہوتے افنان کی طرف بڑھا افنان نے شرٹ نہیں پہنی تھی اس کے سفید سینے پہ خون کے نشان ابھی بھی تھے۔
“اوہ گوڈ کتنا سمجھایا اسے ۔۔۔کیوں آیا یہ یہاں جس کا ڈر تھا وہ ہی ہوا،،آسام نے سر تھام لیا تھا۔
“ہارش چھوڑو اسے اس نے کچھ نہیں کیا۔۔،،آسام نے ہارش کو دور کرتے ہوئے کہا۔
“اس نے ہی مارا ہے اسے۔۔اب میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔بس افنان بہت ہو گئ من مانیاں۔۔،ہارش فون نکالتے ہوئے بولا۔
“م۔م۔میں نے کچھ نہیں کیا۔۔،،افنان غصے سے غرایا تھا۔
“ہارش پلیز مس ملک کو ہوش۔۔،،آسام نے ہارش کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا پر ہارش نے اس کا ہاتھ چھٹک دیا۔
“تاکہ وہ پھر تمہارے بھائی کی گواہی دے نہیں سامی اب ایسا کچھ نہیں ہو گا۔۔یہ جیل کی ہوا کھائے گا تو اس کی عقل ٹھکانے آئے گی ۔۔،،ہارش نے افنان کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا
“ٹھیک ہے جو کرنا ہے تم نے کرو پر میں بھی اپنے بھائی کو کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔،،آسام غصے میں آکر بولا۔
“میں اپنی فرینڈ کے مجرم کو سزا ضرور دلاؤں گا۔۔،،ہارش نے غصے سے کہا۔
“کون دوست۔۔۔بکواس بند کرو اپنی۔۔ماشی نے تمہیں کبھی دوست نہیں مانا۔۔،،افنان نے ہارش کو دھکا دے کر کہا۔آسام نے اسے پکڑ کر بینچ پہ بیٹھا دیا صبح ہونے والی تھی۔پر ماشی بے خبر سوئی ہوئی تھی
“تم دونوں لڑنا بند کرو پلیز۔،،،،آسام نے غصے سے کہا
“ڈاکٹر خون کا بندوبست۔نہیں ہو رہا ان کی حالت ابھی کیسی ہے،،آسام ڈاکٹر کے پاس جا کر بولا
“مسٹر آسام خون کا بندوبست ہو گیا ہے۔ڈونر خون دے گیا ہے بٹ ہم اس کی پہچان نہیں بتا سکتے ایم سوری۔۔،،ڈاکٹر کہ کر چلا گیا۔۔
ایک گھنٹہ مشکل سے گزرا تھا مسٹر ملک پولیس کے ساتھ ہوسپٹل آ گئے تھے۔
ہارش نے افنان پہ شک کا الزام لگایا پولیس اس
“نہیں میں نے پی ہوئی تھی گاڑی سنبھال نہیں پا رہا تھا۔۔وہ سامنے آ گئی تھی تو۔۔،،آسام نے جھوٹ بول دیا۔افنان حیران کن آنکھوں سے آسام کو دیکھنے لگا اس کی زبان جیسے فریز ہو گئ تھی
“آسام بٹ۔۔،،ہارش کچھ کہنے لگا تھا پر آسام نے اسے غصے سے گھورا اور ہاتھ سے روک دیا۔
آسام کو نشے کی حالت میں اور ماشی کو اس حالت میں پہنچانے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔
ہوسپٹل
سے نکلتے ہی میڈیا کے بہت بڑے ہجوم نے انہیں آ گھیرا۔آسام کو سمجھ نہیں آئی کہ میڈیا کو کس نے خبر کی۔
“مسٹر آسام رندھاوا آپ کچھ کہنا چاہیں گے۔آپ نے کیوں مارنا چاہ سننے میں آیا ہے وہ لڑکی آپ کے بھائی کی محبوبہ تھی۔۔۔کیا آپ اور اس کے درمیان میں کچھ تھا۔۔۔یا۔۔،،ایک لڑکے نے ایسے گھٹیا سوالات کیئے کہ آسام کا سر گھوم گیا۔آسام نے ٹانگ دے ماری اور وہ لڑکا گر کیا
“جسٹ شیٹ اپ۔۔،،آسام نے غصے سےکہا پولیس نے اسے پکڑ کر گاڑی میں بیٹھا لیا۔
“کمنے تم نے آسام کو اریسٹ کروا کر اچھا نہیں کیا۔۔،،افنان ہارش کے گریبان سے پکڑ کر کہا۔
“تم جانتے نہیں ہو مجھے۔۔تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔،،افنان دانت پیس کر بولامسٹر ملک نے اسے اپنی طرف گھما کر تھپڑ رسید کر دیا
“دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔تمہارے بھائی نے خود قبول کیا ہے گناہ۔،،مسٹر ملک نے غصے سے کہا تو افنان بغیر کچھ بولے باہر چلا گیا۔باہر ابھی بھی میڈیا والے موجود تھے انہوں نے افنان کی طرف قدم بڑھائے تھے افنان ابھی بھی ویسی ہی حالت میں تھا اسے ہوش ہی کہاں تھی۔جتنا بھی برا تھا پر آسام میں اس کی جان بستی تھی وہ میڈیا والوں کے درمیان سے نکلتاآگے بڑھ رہا تھا
“انکل وہ لڑکا بے گناہ ہے مجھے اس کے بھائی پہ شک ہے اس نے اپنے بھائی کو بچانے کے لئے ایسا کیا۔،،ہارش نے کہا
“واٹ ۔۔،،مسٹر ملک کو کرنٹ لگا۔
“خون کامل گیا تھا کیا۔۔،،مسٹر ملک تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد پوچھا
“جی انکل بٹ ڈونر نے اپنی پہچان چھپانے کو کہا ہے۔ہارش بینچ پہ بیٹھ کے بولا
“بیٹا میں اور آپ کے پاپادو دن بعد ولائت جا رہے ہیں۔ تب تک فہد بھی آ جائے گا تم دونوں پیچھے سے سب سنبھال لینا۔۔،،مسٹر ملک پریشان ہو کر بولے وہ رکنا چاہتے تھے پر کام ضروری تھا۔ہارش نے ن کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر ہاں میں سر ہلا دیا
*******************
“یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے تم نے
افنان کس کا قتل کر کے آرہے ہو اور تمہارے ہاتھ میں دوپٹہ کس کا ہے۔۔،،افنان بھاگ کر گھر داخل ہو رہا تھا سامنے مسٹر رندھاوا صوفے پر بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے
اس کی چھاتی پہ خون اور ہاتھ میں شرٹ ایک ہاتھ میں دوپٹہ دیکھ غصے سے بولے افنان سیڑھیوں پر رک گیا۔
“ڈیڈ کبھی تو کچھ اچھا بول لیا کریں۔۔ہر وقت مجھ پہ الزامات مت لگایا کریں ،،افنان غصے سے بولا تھا۔
“ڈیڈ چلیں اب ریسٹ کریں۔۔ٹی وی بند کریں۔،، جہانگیر تقریباً بھاگ کر آیا تھا۔اور فٹ سے ٹی وی بند کر دیا۔
مسٹر رندھاوا نے جانچنے والی نظروں سے اسے دیکھا جہانگیر نے اپنی بیوی کو اشارے سے اسے اندر لے جانے کو کہا ۔
“افنان یہ کیا بکواس ہے ۔۔آسام اریسٹ ہو گیا اور تم۔۔،،اس سے پہلے جاہنگیر کچھ اور کہتا مسسز رندھاوا کی آواز سنائی دی۔
“میرے بیٹے کو ہتھکڑی لگ گئ۔۔ہائے میرے ربا یہ کیا ہو گیا۔،،وہ پنے کمرے سے باہر نکل آئیں تھی اور رونا پیٹنا شروع کر دیا تھا مسٹر رندھاوا بھی رک کر ان کو دیکھنے لگا۔
“حماد ٹی وی اون کرو۔نیوز چینل لگاؤ،،مسٹر رندھاوا صوفے پر بیٹھ کر بولے۔
“مشہور بزنس مین۔رندھاوا انڈسٹریل کے مالک کے بیٹے نے کسی لڑکی کو اپنی گاڑی سے اڑا دیا۔،،اس سے پہلے کچھ اور سنتے مسٹر رندھاوا کو دل کا درد شروع ہو گیا۔حماد نے ٹی وی بند کر دیا
“بھابھی جلدی سے ڈیڈ کی میڈسنز لے کر آئیں۔ڈیڈ ہم آسام کو کچھ نہیں ہونے دیں گے۔۔،،حماد نے مسٹر رندھاوا کو ریلکس کرتے ہوئے کہا۔۔
“ڈیڈ آسام بے قصور ہے اسے وہاں سے نکالنا ہو گا۔،،افنان جلدی سے بول کر سیڑھیاں چڑھ گیا
“یہ اس کی وجہ سے ہوا ہے۔۔کتنی بار سمجھایا ہے اسے کہ اپنی کرتوتوں سے باز آ جائے ۔۔،،مسٹر رندھاوا میڈیسن لیتے ہوئے بولے سب حال میں جمع ہو گئے تھے ثاقب باہر سے آیا تھا۔وہ نیوز سن چکا تھا اور گھر کا ماحول دیکھ کر وہ سمجھ گیا کہ سب جان گئےہیں
“افنان نیچے آؤ ابھی۔۔،،حماد غصے سے چینخا تھا۔
“بھائی بھائی ریلکس میں بات کرتا ہوں۔۔،،ثاقب بھاگ کر افنان کے پاس چلا گیا۔
“افنان کیا ہوا تھا۔۔ساری بات مجھے بتاؤ کیونکہ آسام کو جیل سے نکلوانا ہے وہ بھی آج ہی۔،،ثاقب اسے پریشان دیکھ کر پیار سے بولا تھا افنان نے ساری بات سنادی۔
“واٹ وہ لڑکا بے واقوف ہے کیا اور تم نے کچھ نہیں کہا چھوٹا بیان دے کر وہ اریسٹ ہو گیا۔،،ثاقب آسام کی عقل پہ رو رہا تھا۔
“بھائی اس نے مجھے بچانے کے لئے ایسا کیا ہارش نے مجھ پر الزام لگا دیا تھا۔،،افنان نے سر ہاتھوں میں گرا لیا
“اچھا اٹھو میرے ساتھ چلو پہلے شرٹ پہنو اور یہ ڈوپٹہ۔۔اسے بھی ،،ثاقب نے اس کے ہاتھ کی طرف اشارہ کر کے بولا افنان ریمنڈ کی طرح کام کرنے لگا اس نے ڈوپٹے کو کھینچ کر الگ کرنے کی کوشش کی پر وہ نہ اترا تو وہ شرٹ پہننے لگا۔ثاقب نے ڈوپٹے کو پکڑ کے پھاڑ دیا ڈوپٹے کا کچھ حصہ ابھی بھی افنان کے ہتھیلی پہ چپکا ہوا تھا۔وہ اسے دیکھنے لگا اس کے سامنے ماشی کی دو آنکھیں گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹ جو مسکرا رہے تھے بار بار آنے لگے
“ماما آپ فکر نہ کریں آسام شام تک آپ کے پاس ہو گا۔۔یہ آپ کے بیٹے کا وعدہ ہے۔،،ثاقب نیچے جا کر مسز رندھاوا کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے بولا۔وہ چپ کر گئ تھی ان کو ثاقب کی ذہانت پہ اعتبار تھا وہ حماد جہانگیر سے زیادہ انٹیلجنٹ تھا عمر میں تو چھوٹا تھا پر انگلینڈ کی فرم کو اس نے اکیلے سنبھال رکھا تھا۔
“چلو بھائی۔۔۔,،،ثاقب نے حماد کی طرف دیکھ کر کہا۔
“پر کہاں جا رہے ہو تم لوگ بیٹا۔،،مسز رندھاوا نے آنسوں صاف کرتے ہوئے پوچھا
“موم فکر نہ کریں شام تک آسام آپ کے پاس ہو گا۔۔،،ثاقب کہ کر باہر کی طرف بڑھ گیا۔حماد اور افنان بھی چل دئیے۔
“پر جانا کہاں ہے۔ہمیں بھی بتاؤ گے۔،،حماد گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولا۔
“ہوسپٹل۔۔وہ لڑکی ہی ہے جو آسام کو وہاں سے نکال سکتی ہے۔،،ثاقب سنجیدگی سے بولا۔
“بھائی معروش بہت نازک حالت میں ہے اسے ہوش نہیں ہے وہ کیسے نکوائے گی سامی کو باہر۔۔،،افنان نے فکر مندی سے کہا
“اسے ہوش آئے گا اور آسام بھی شام تک باہر آئے گا ۔۔،،ثاقب گوگلز لگاتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔
*******************
مسٹر ملک اور ہارش ہوسپٹل میں ہی تھے
“ہارش تم نے آسام کو کیوں اریسٹ کروایا۔وہ تمہارا بیسٹ فرینڈ ہے نہ جانتے ہو نہ اچھے سے اسے پھر ،،ثاقب نے آتے ہی ہارش سے سوال کیا۔
“بھائی اس نے خود کو اریسٹ
کرویا مجھے تو اس کتےپہ شک ہے ۔،،ہارش نے غصے سے افنان کو گھورا
“ہارش گالی مت دو۔۔،،ثاقب نے انگلی دیکھا کر سختی سے کہا۔۔
“تم لوگ یہاں سے جاؤ نہیں تو میں پولیس کو بلوا کے تم لوگوں کو بھی اریسٹ کروا دوں گا۔،،مسٹر ملک غصے سے بولے۔
“مسٹر ملک صاحب۔ہم تب تک نہیں جائیں گے جب تک یہ متحرمہ ہوش میں نہیں آ جاتی۔
چلیں بلاؤ پولیس کو۔۔ہم بھی آپ کو اریسٹ کروا سکتے ہیں جھوٹی ریپورٹ درج کروانے کے جرم میں۔۔
آپ نے کیا سوچ کر اسے اریسٹ کروایا۔۔،،ثاقب مسٹر ملک کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا ۔اس کو دوسروں کو خاموش کروانے کا ہنر آتا تھا
“ایک تو اس نے۔،،ثاقب نے کھینچ کر افنان کو آگے کیا۔
“اس نے آپ کی بیٹی کی زندگی بچائی۔اوپر سے آپ نے اس کے بھائی کو ہی جیل بھیج دیا۔۔کوئی ثبوت تھا آپ کے پاس۔۔؟
اور ہم بھی اگر چاہیں تو آپ کو اندر کروا سکتے ہیں آسام کو جرم قبول کروانے کے لئے فورس کیا ہے آپ لوگوں نے ایک بار وہ گاڑی والا مل جائے اور یہ متحرمہ ہوش میں آ جائیں تو آپ کو سچ کا پتا چل جائے گا ہم وکیل ساتھ لے کر آئیں ہیں۔۔آپ نے اپنا کام کیا اب ہم اپنا کام کریں ۔۔،،ثاقب کہ کر چلا گیا۔مسٹر رندھاوا کچھ بول ہی نہیں سکے تھے
ثاقب کو بولتی بند کرنے میں مہارت حاصل تھی۔وہی مہارت کام کر گئ تھی۔
“بھائی ثاقب۔وہ دیکھیں۔،،وہ لوگ آپریشن تھیٹر سے کافی فاصلے پر کھڑے تھے۔سامنے ٹی وی پر آسام کی تصویر کے ساتھ نیوز چل رہی تھی آواز نہیں آرہی تھی ہیڈلائنز واضح نظر آرہی تھی افنان نے ثاقب کو ادھر متوجہ کیا۔
“افی فکر نہ کرو ان میڈیا والوں کو شام تک جواب مل جائے گا۔۔اور ان کی وجہ سے رندھاوا انڈسٹریز کی ریپوٹیشن بھی بہت بری طرح متاثر ہو گی۔۔،،ثاقب نے کان پٹی مسلتے ہوئے کہا۔
“حماد بھائی کیا ہوا۔۔۔،،حماد پریشانی کے عالم میں کھڑا تھا۔اس کے چہرے پر کئی رنگ آکر جا رہے تھے۔
“کچھ نہیں۔۔،،وہ ثاقب کے پوچھنے پر اپنی گھبراہٹ اور آنسوں چھپاتا باہر بھاگ گیا افنان اور ثاقب نہیں سمجھے تھے ان کی پریشانی کو۔
ثاقب کو بہت کالز آرہی تھی وہ ہر کال کو کاٹ رہا تھا
