Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 25)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 25)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
میرا ہاتھ تھام لینا۔۔۔
مجھے تنہائیوں سے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔
کلثوم بیگم سنتے ہی بےہوش ہو گئ تھی۔عشرت اور فہد نے سب مہمانوں سے معازرت کی کہ لڑکی کی ماں کی طبیعت بگڑ جانے کی بدولت شادی کی تاریخ اپر کر دی گئ ہے۔بہت سی باتیں بنی تھی۔پر وہ لوگ کیا کرتے۔دنیا کی باتیں تو ختم ہی نہیں ہوتی ۔سارےمہمان جا چکے تھے
اب وہ لوگ لاؤنچ میں بیٹھے تھے رندھاوا خاندان بھی موجود تھا ۔
“ایسے ہاتھ پہ ہاتھ رکھے کب تک بیٹھیں گے۔،،اصغر صاحب غصے سے بولے تھے۔عشرت سب کو چائے اور ساتھ لوازمات دینے کے لئے آئی پر وہاں کس کو بھوک،پیاس نہ تھی۔کلثوم بیگم نے تو رو کر برا حال بنا رکھا تھا۔
شگفتہ اس کو سینے سے لگائے دلاسہ دے رہی تھی
“میں نے انسپکٹر سے بات کر لی ہے ۔،،فہد نے بتایا
“ہارش وہ جس کا ابھی سب نام لے رہے تھے اس کا فون نمبر دو اور ایک فوٹو بھی واٹس ایپ کرو۔۔میں ابھی ساری انفارمیشن نکلواتا ہوں،،ثاقب نے چشمہ ٹھیک کر کے جلدی سے کہا، ہارش نے فون نمبر دے دیا۔
“پر اب وہ کہاں ہے یہ کوئی نہیں جانتا۔۔آٹھ سال سے وہ واپس نہیں آیا۔۔،، ہارش کے پاپا نے کہا۔
“پر بھائی صاحب تحقیقات تو کرنی چاہئے نہ۔ہماری جوان بیٹی لا پتا ہے۔شادی درمیان میں ہی روک گئ۔لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔،،کلثوم روتے ہوئے بولی۔
“جاہنگیر بھائی یہ نمبر اور اس لڑکے کا نام فوٹو سب کراچی تھانےمیں دیں اسلام آباد میں بھی بھیج دیں ،،ثاقب جاہنگیر کی طرف متوجہ ہوا اس نے اپنا فون نکال لیا۔
“اور میں نے انسپکٹر علی کو سینڈ کر دی ہے۔ہارش انکل آپ لوگوں کو۔۔،،فہد کی بات منہ میں ہی تھی کہ فرحان اٹھ کھڑے ہوئے۔
“بس کرو فہد۔۔۔مانا کہ اس سے غلطی ہوئی تھی۔پر اب وہ واپس نہیں آیا میں نے اپنا بھانجھا کھو دیا تھا آپ لوگوں نے کیا کھویا کچھ بھی نہیں۔۔عزت بھی ہماری اچھالی گئ۔۔اب ایک بار پھر وہ ہی ہونے جا رہا ہے۔،،وہ تحش میں آکر بولا۔
“انکل پلیز کول۔۔۔اور اس نے جو غلطی کی تھی اس کی سزا اسے جتنی ملے کم ہے۔اور ہم نے کیا کیا کھویا یہ آپ جانتے ہیں ۔ہمیں اپنا کام کرنے دیں۔اور اگر آپ کو برا لگ رہا ہے تو پلیز آپ جا سکتے ہیں ۔،،فہد کو سچ میں غصہ آیا تھا پہلی بار وہ کسی بڑے سے اس قدر انچی آواز میں بولا تھا۔غلطی بھی فرحان صاحب کی تھی وہ اپنے بھانجے کی محبت میں صحیح غلط بھول گیا تھا۔
“نہیں معلوم آخری بار جب بات ہوئی تھی تو اٹلی میں تھا اس کے بعد کبھی بات نہیں ہوئی۔،،فرحان ٹھنڈے ہو گئے تھے۔ہونا بھی تھا۔وہاں سب خاموش تھے کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کریں۔
“اٹلی۔۔۔،، حماد نے سوالیہ انداز میں بات دھرائی۔تو فرحان نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
وہاں بیٹھے ہر انسان کے چہرے پہ سوالیہ نشان تھا۔ذہین میں بہت سارے سوالات تھے
“اب ہم اسے کیسے ڈھونڈے گے،،عشرت
نے فہد سے سوال کیا۔ عشرت رو رہی تھی۔ فہد نے بے بسی سے اسے دیکھا۔
“بیٹا تم فکر نہ کرو تمہارے لئے ٹینشن اچھی نہیں ہے بچے پہ برا اثر پڑھے گا۔چلو میرے ساتھ۔۔،، شگفتہ نے عشرت کو تھام لیا۔فہد نے ہاں میں سر ہلایا تو عشرت اندر چلی گئی۔
“میرے بچوں کو اگر میرے گناہوں کا علم ہو تو کیا کریں گے۔۔،، سفر نے ان چاروں کو دیکھا ادھر سے ادھر چل رہے وہ چاروں پتا نہیں کہاں کہاں کالز کر رہے تھے۔
وہ وہاں وہاں پہنچ رہے تھے جہاں جہاں تک ان۔کی پہنچ تھی۔۔
*****
“افی یہ نمبر اور فوٹو دیکھو فہد نے بھیجی ہے اس کا کہنا ہے اس لڑکے کا نام ہےبازف۔،،آسام نے فون افنان کی طرف بڑھا دیا۔
“اس نے اگر میری ماشی کو کوئی نقصان بھی پہنچایا تو میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گا۔۔،،آسام نے بھیگے ہوئے لہجے کے ساتھ کہا
“آسام وہ مل جائے گی پریشان نہ ہو۔۔،،افنان نے آسام کو دلاسہ دیا تھا۔وہ سر تھام کر باہر دیکھنے لگا۔
“آپ میرا ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے وعدہ کریں۔۔،،آسام کے کانوں میں ماشی کے فقرے ٹکرائے۔
“آسام آپ مجھ سے نکاح کریں گے نہ۔۔،،ایک اور جملہ کانوں سےتیر کی طرح ٹکرایا تھا۔
“آپ کو کھونے سے ڈر لگتا ہے۔۔،،ایک اور جملہ پھر ایک کے بعد ایک خنجر کی طرح اس کے سینے میں اترنے لگے تھے ایک آنسوں لڑکھڑاتا گال پر آیا تو اس نے بے دردی سے رخسار کو رگڑ دیا کالی اور اپر گولڈن کلر کے کام والی شیروانی میں ملبوس وہ کھویا ہوا لگ رہا تھا
محبت رولا رہی تھی اسے۔ ماشی کس حال میں ہو گی یہ سوچ سوچ کر اس کی جان نکل رہی تھی۔
**************
“ہائے سویٹ ہارٹ۔۔۔،وہ ماشی پہ جھک کر بولا تو ماشی تھوڑی پیچھے کو سرک گئ۔وہ ساڑھے پانچ فیٹ کا آدمی داڑھی مونچھوں کے ساتھ جانا پہچانا لگ رہا تھا۔پر داڑھی اگر نہ ہوتی تو وہ بہت جلد پہچان جاتی۔
“ت۔۔تت۔تم۔،،ماشی اس کو دیکھتے ہوئے ڈر گئ تھی۔
“یس میں۔۔جس کو تم لوگوں نے برباد کیا۔ساری زندگی خراب کر دی میری۔۔کہا تھا نہ کہ تمہیں شادی والے دن اٹھا لوں گا دیکھو اب اٹھا لیا اور اب تم سے میں نکاح کروں گا۔اس city سے دور چلے جائیں گے ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں گے ہسی خوشی زندگی گزاریں گے۔،،وہ پاگلوں کی طرح حرکتیں کرنے لگا۔
“ہاہاہاہا۔۔حرامی تمہیں تو بھائی کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔۔،،ماشی نے اس کے منہ پہ تھوک دیا تھا وہ غصے میں آ گیا اور
ماشی کے منہ پہ زور سے تھپڑ مارا اتنی زور سے کہ وہ زمین پر گر گئ۔
“سڑتی رہو گی یہاں کوئی نہیں بچا سکے گا تمہیں۔۔،،وہ ماشی کے منہ کو نوچ کر بولا۔
“بکواس بند کرو۔۔تم کچھ نہیں کر سکو گے ملک اور رندھاوے تم تک پہنچ جائیں گے میرا آسام تمہیں نہیں چھوڑے گا پہلے تو بخش دیا تھا نہ اب تم بہت پچھتاؤ گے۔،،ماشی نے دانت پیس کر کہا۔
“ہاہاہاہا۔۔۔چھچ چھچ کتنا اڑ رہی ہو۔اچھی خوش فہمی ہے پر صرف خوش فہمی ہے۔ویسے تم شادی کس سے کر رہی ہو افنان رندھاوا سے یا آسام سے۔ہاہاہاہا۔وہ کیا ہے نہ بےبی تم کبھی کس بھائی کی باہوں میں ہوتی ہو تو کبھی کس کی۔،،بازف نے اسے ایک اور تھپڑ رسید کر دیا تھا۔ماشی منہ پہ ہاتھ رکھ کر اسے دیکھنے لگی۔
“میری غلطی کیا ہے آخر میں نے کیا کیا ہے۔کیوں مجھے چین سے جینے کا حق نہیں ہے۔۔تمہاری فیملی نے مجھے پاکستان سے باہر نکلوا دیا۔
تمہیں کوئی نہیں بچانے آ رہا بھول جاؤ اب یہ ہی تمہاری دنیا ہے ذرا باہر نکل کر دیکھو۔۔،،وہ ماشی کو گھسیٹا باہر لے جانے لگا۔
“دیکھو اب بھی تمہیں لگتا ہے وہ یہاں تک پہنچ سکے گا ۔،،ماشی نے منہ پہ ہاتھ رکھ لیا تھا باہر انچے انچے درختوں کے سوا کچھ نہیں تھا وہ کسی گاؤں میں تھی دور دور تک صرف درخت اور سبزا تھا
“ہاہاہاہا کیا ہوا ٹائیں ٹائیں بند ہو گئ۔چلو اب چپ کر کے بیٹھ جاؤ تعاون کرو گی تو بچ کے رہو گی نہیں تو یاد ہے نہ تمہاری بہن کے ساتھ کیا ہوا تھا ۔ہاہاہاہا۔اپنے بہنوئی کے غصے سے تو واقف ہو میری سالی جان۔ویسے اگر تمہاری بہن میرے ساتھ ہوتی ۔تمہارا باپ اور وہ فہد چھ فٹیا آٹھ سال پہلے مجھے نہ پھنساتے تو آج تمہاری شادی نہ رکتی۔،، وہ اس کو دوبارہ گسیٹ کر اندر لے گیا۔
“تو اب کیا خیال ہے۔۔،،وہ ڈھٹائی سے ہنستا ہوا کرسی پر بیٹھ گیا۔
“اللہ سے ڈرو اس کی بے آواز لاٹھی سے ڈرو۔کیوں بھول گئے ہو اس خدا کو ۔تمہیں تو سدھرنے کا موقع ملا تھا پر تم نے وہ موقع گنوا دیا ۔،،ماشی نے چینخ کر کہا
“اے بکواس بند کرو اپنی۔۔کیا گناہ کیا تھا میں نے۔۔اور تمہاری بہن بھی اس میں برابر کی شریک تھی اور کچھ حصہ تمہارا بھی تھا۔۔تم کیوں نہیں ڈرتی اللہ سے تمہاری بہن کیوں نہیں ڈرتی اللہ سے۔،وہ کرسی کو پیر مار کے کھڑا ہو گیا۔
“میری بہن کی یہ غلطی تھی اس نے تجھ جسے انسان سے محبت کی۔۔میرے بھائی اور باپ کی یہ غلطی تھی انہوں نے تجھ پہ یقین کیا۔۔اور میری یہ غلطی تھی کہ میں نے تجھ جیسے انسان کو بھائی بولا۔۔،،ماشی نے بھرے ہوئے لہجے میں کہا
“ہاہاہاہا سو واٹ۔۔اوکے اب چیخنے چلانے کی کوشش بھی مت کرنا۔بازف راجپوت کی ریاست میں موجود ہو تم یہاں کوئی بچانے نہیں آئے گا تمہیں۔،وہ کہ کر باہر کی طرف بڑھ گیا۔
“پلیز دروازہ کھولو۔۔،،بازف نے دروازے کو باہر سے تالا لگا دیا۔
“چپ کر کے بیٹھ جاؤ میں ابھی واپس آ رہا ہوں میری سالی جان۔۔ہاہاہا،،بازف کہکہکا لگاتا دور چلا گیا
“یا اللہ۔۔میری مدد فرما۔،،ماشی ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گئی۔لال جوڑا دیکھ اس کا دل بھر آیا جی بھر کے روئی وہ۔دل اتنے زور سے دھڑکنے لگا تھا کہ خود ڈر کے مارے کانوں پہ ہاتھ رکھ لئے۔آسام کو دولہا بننے دیکھنے کی خواہش پوری نہیں ہوئی تھی۔
“ک۔۔کیا واقع ہی مجھے کوئی نہیں بچا سکے گا۔اور میں یہاں۔۔۔،،اس نے چاروں طرف دیکھا اور اٹھ کر اپر کو بھاگی۔۔
شائد کوئی راستہ مل جائے ہر کمرے کے دروازوں کو تالے لگے تھے۔وہ مایوس ہو کر پھر سے بیٹھ گئ۔
“آسام پلیز۔۔آ جاؤ اگر میں یہاں رہی تو۔پتا نہیں یہ کیا کرے گا۔۔،،ماشی نے ماتھا پٹی اتار کر پھینک دی۔
اور پھر سے رونے لگی۔
دولہن کا جوڑا اس کے لئے خوشیاں نہیں لے کر آیا تھا۔پاسٹ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا تھا۔
ماشی کے پاس رونے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔
غلطی اس کی نہیں ہوتی تھی پھر بھی وہ بار بار پھنس جاتی تھی کیونکہ جس چیز سے ہمیں ڈر لگتا ہے وہ ڈر ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا
***************
“آسام کچھ کھا لو پلیز ایسے کیسے چلے گا۔م۔۔مم۔۔ماشی مل جائے گی۔اسے ڈھونڈنے کے لئے ہمت کی ضرورت ہے ہمت رکھو۔۔،،افنان اس کے لئے کھانا لے کر آیا تھا پر وہ گاڑی کی سیٹ پر سر ٹکائے آنکھیں مندے بےصبر بیٹھا تھا۔دل میں اتھل پتھل مچی ہوئی تھی
“نہیں افی مجھے بھوک نہیں ہے۔پتا نہیں ماشی کیسے حال میں ہو گی تم لوگ جلدی سے کھا لو۔،،وہ بولا تو لہجہ بھرا ہوا تھا افنان سے اس کا وہ حال دیکھا نہیں گیا۔بھاگ کر ایک طرف چلا گیا۔
“آج مجھے تو کوئی اور ہی افی نظر آ رہا ہے۔خود پریشان ہے پر دوسروں کو دلاسہ دے رہا ہے۔،،ساگر نے اس کی طرف بوتل بڑھا کر کہا افنان نے نفی میں سر ہلا دیا۔ اسے تھوڑی دیر دیکھتا رہا پھر ایک دم اس کے گلے لگ کر رونے لگ گیا۔
“م۔۔میں چاہا کے بھی کچھ نہیں کر سکتا۔یار میرا دل کر رہا ہے میں ماشی کو کہیں سے بھی لا کر سامی کو دے دوں۔۔۔،،اس نے آسام پہ نظر ڈالی جس کا وجود اندھیرے میں ڈھل چکا تھا۔فون پہ ماشی کی تصویر اور فون کی سکرین پر گر رہے اس کے آنسوں افنان کو بہت تکلیف دے رہے تھے۔وہ سلجھا سمجھ دار آسام نہیں لگ رہا تھا
“تم خود تو کچھ کھا لو۔۔،،ساگر نے
فکر مندی سے کہا۔
“نہیں بھوک نہیں ہے چلو چلتے ہیں۔،،افنان سر دباتا گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
“وہ مل جائے گی نہ۔۔،،آسام نے لال ہوتی آنکھوں سے افنان کو دیکھ کر کہا تو وہ کچھ نہ بول سکا بس ہاں میں سر ہلا کر گاڑی سٹارٹ کی۔
دن سے رات ہو گئ تھی پر کسی کو کوئی خبر نہ تھی کہ وہ کہاں ہے۔پولیس بھی اپنی پوری کوشش کر رہی تھی پر ہر کوشش ناکام ہو رہی تھی۔
**
“فہد یہ بازف کون ہے اور ماشی کو کیوں اٹھائے گا۔۔،،ثاقب نے تجسّس آمیز انداز میں سوال کیا۔
وہ لوگ ملک ہاؤس میں ہی تھے۔ثاقب اور فہد انسپکٹر علی کو مل کر آئے تھے اس نے کہا ابھی کچھ پتا نہیں چلا ہاں. پر بازف پاکستان میں ہے یہ پتا چل گیا تھا۔اور شک یقین میں بدل گیا تھا
“بازف راجپوت۔۔انکل فرحان کا بھانجہ ہے۔ماں باپ کا سایہ سر سے اٹھا تو انکل اسے اپنے پاس لے آیا۔ہم سے بڑا ہے اور آپی کا ہم عمر کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے دونوں۔ ہم خوب موج مستی کیا کرتے تھے سگے بھائیوں کی طرح سمجھا تھا۔پر اس نے ہماری پیٹھ میں خنجر مارا۔۔،،فہد پل بھر سانس لینے کو روکا۔
“عشاء آپی یعنی ماشی اور ہماری بڑی بہن اس حرامی سے محبت کر بیٹھی تھی وہ ہر سنڈے کو یہاں آتا تھا پھر وہ دونوں ملنے لگے ماموں نے گھر سے نکلنے کی ماشی میں اور عشرت اسکول کے اسٹوڈینٹ تھے اور وہ دونوں کالج کے تو وہ ملنے لگے تھے پھر آپی رات کو بھی جانے لگی تھی ۔،،فہد نے سر جھکا لیا۔
“اور پھر مومانی کو اس بات کی خبر ہوئی۔تو انہوں نے ماموں سے کچھ نہیں کہا اور عشاء آپی کو سمجھایا پر وہ نہیں روکی کیوں کہ وہ بہت آگے نکل چکے تھے ماشی بارہ تیرہ سال کی تھی اس کے دماغ پہ اس سب کا بہت گہرا اثر ہوا تھا۔مومانی اور عشاء آپی کی لڑائی اور عشاء اور بازف کے غلط ارادوں کے بارے میں اس نے ایک دن سن لیا تھا۔بچی تھی زیادہ پتا نہیں تھا پھر بھی جو سمجھی اس نے مومانی کو بتا دیا۔مومانی نے ماموں سے بات کر کے شادی پکی کر دی شادی ہو گئ۔۔پر وہ بغیرت انسان ہماری آپی کا بہت برا حال کیا۔۔،،فہد بولتے بولتے تھک چکا تھا۔
“مطلب ۔۔،،ثاقب نے تعجب سے پوچھا ایک ثاقب تھا جس سے وہ ہر بات شیئر کر سکتا تھا۔
“مطلب وہ سمگلر تھا۔ہیروین چرس وغیرہ کا کام کرتا تھا۔اور آپی کو اس نے محبت کی آڑ میں پہلے تو اپنے کارناموں کا حصہ بنایا اور پھر۔ drugs دینے لگا۔پہلے تو وہ دھوکے سے دیتا تھا آہستہ آہستہ ۔آپی کو ایسی عادت پڑی ریگولر لینے لگی۔
ماشی کو ایک دن آپی ساتھ لے گئ۔شاپنگ کے لئے وو بچی تھی پر اتنی بھی نہیں کہ سمجھتی نہ۔اس نے بازف اور آپی کے درمیان جو باتیں ہوئی جو کچھ ہوا دیکھا ہمیں نہیں بتایا کہ کیا دیکھا۔پر ڈر گئ تھی وہ ہم سمجھ گئے بہت بڑی بات ہو گی بس اتنا کہا تھا بازف بھائی اچھے نہیں ہیں۔
ماشی کے دماغ پر پریشانیوں کا اثرات بڑھتےا گئے۔۔شروع سے ہی وہ بہت احساس تھی۔اسے ڈر لگتا تھا ہر ویسے انسان سے جو بازف جیسا تھا وہ ڈر اب تک اس کے دل میں تھا۔اور اب آپی کی غلطیوں کی سزا اسے مل رہی ہے۔۔،،فہد کرسی پر گر گیا اس کی آنکھوں کے سامنے وہی ماشی کا ڈرتا معصوم سا چہرہ آ گیا تھا۔ثاقب نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
“میں نے مومانی سے بات کی یہ تو تمہیں پتا ہے اصغر ماموں شروع سے بہت غصے والے تھے اور وہ گھر میں کبھی نہیں رہتے تھے۔اور جب بھی آتے تھے چپ چاپ اس کمرے میں بند ہو کر رہتے تھے۔
فہد نے نیچے کی طرف اشارہ کیا۔
“اور مومانی نے جب آپی سے بات کی تو وہ صاف مکر گئ اور اس کمینے نے ماشی کو بہت ڈرایا آپی نے بھی ماشی کو ڈانٹا۔ماشی، آپی کو دیکھتے ہی چھپ جاتی تھی۔اور ہم نے آخر ماموں سے بات کر لی۔ ماموں اس کے کارناموں کو دنیا کے سامنے لے آئے۔اس نے ماموں کو دھمکیاں دی تھی بدنامی ان کا نصیب بنے گی۔اور انہوں نے اپنی اور آپی کی تصویریں لیک کر دی آپی کا نام بھی لے لیا کہ وہ اس کی بزنس پارٹنر ہیں آپی نے بھی except کر لیا آپی کو جیل ہو گئ بہت عزت اچھالی گئ پر بہت جلد ہی آپی کو بے گناہ ثابت کر دیا ماموں نے ۔۔،،فہد نے آنکھیں بند کر کے کھولی۔گہرا سانس لے کر وہ پھر سے بولا
“ماموں پوری طرح ٹوٹ چکے تھے آپی سے میرے ماموں زاد نے شادی کر لی اور وہ ہمشہ ہمشہ کے لئے انگلینڈ چلے گئے۔
وہاں اچھے ڈاکٹرز سے چیک اپ کرایا آپی کا تو وہ ٹھیک ہوئی۔ماشی کو تب سے اب تک اس بات کا ہی ڈر رہا کبھی اس کے ساتھ اس کی بہن کی طرح نہ ہو۔کبھی وہ کسی لڑکے کے ساتھ نارملی پیش نہیں آتی۔اس نے مان لیا تھا کہ ہر لڑکا بازف جیسا ہوتا ہے ان سے بچ کے رہنا چاہئے۔ماموں نے اس پہ کوئی پابندی نہیں لگائی تھی۔کیونکہ پابندیوں سے وہ ہی انجام ہوتا ہے جو آپی کا ہوا
پر پھر بھی وہ اکیلی کہیں نہیں جاتی تھی گھر بند ہو کر رہے گئ تھی پہلے گھر سے اسکول اور اسکول سے گھر پھر گھر سےکالج اور کالج سے گھر اسے میں چھوڑنے جاتا تھا اور لینے بھی۔پر اسلام آباد اسے ہم نے بڑی مشکل سے بھیجا تھا وہ پڑھنا چاہتی ہے بہت ذہین ہےپر ڈر اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا جو آج بھی اس کے دل میں ہے ۔۔۔،،فہد اور ثاقب دونوں کے رنگ پھیکے پڑھے ہوئے تھے۔ثاقب چپ چاپ فہد کو سن رہا تھا۔
“اسکی غلطی کوئی نہیں تھی ہاں مانا آپی کی غلطی تھی بہت بڑی غلطی تھی ۔پر ایسا کب تک ہو گا کسی کی غلطیوں کی سزا کوئی اور بھگتے آپی اب خوش ہے پر ماشی ۔اس کی نئی زندگی کی شروعات ابھی ہوئی بھی نہیں تھی کہ۔۔۔،،فہد اٹھ کر دیوار کھڑا ہو گیا۔
“میں نے آپ کو کہا تھا سیکورٹی کا انتظام کریں۔۔اب اگر کل کے نیوز چینل پر۔ ایک بار پھر وہ ہی ہوا تو ۔۔،،عشرت فہد کے پاس آکر بولی۔
“نہیں۔۔یا اللہ اگر ایسا ہوا تو ماشی۔۔برداشت نہیں کر سکے گی کتنی سینس_ٹیو ہے وہ فہد کچھ بھی کرو پر پلیز آپ لوگ ماشی کو بچا لو۔۔ثاقب بھائی پلیز کچھ کریں۔،،عشرت رونے لگی تھی۔
“عشو چپ کریں کچھ نہیں ہو گا ماشی کو۔آسام ،افنان،پولیس ہم سب اسے ڈھونڈ رہے ہیں تم چلو ریسٹ کرو۔،،فہد نے ثاقب سے جانے کی اجازت اشارے میں مانگی تو ثاقب نے ہاں میں سر ہلا دیا۔اور جھک کر کمرے کو دیکھنے لگا۔
“ایسا کا ہے اس کمرے میں جوانکل کے دل کے اتنے قریب ہے کہ وہ اپنی بیوی بچوں کا دھیان نہیں رکھ سکتے تھے۔،خود سے سوال کیا۔
“ماشو۔ماشو۔۔،،سٹیف کی آواز ثاقب کے کانوں پر پڑھی۔پر وہ سمجھا نہیں کس کی آواز ہے۔
“ادھر دیکھو ڈبل بیٹری۔۔،،سٹیف پینچرے پہ بیٹھ کر بولا۔ثاقب نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔
“تم بولنے والے طوطے ہو۔۔،،ثاقب پینچرے کے پاس چلا گیا۔
“آہو۔۔کوئی شک۔۔،،طوطا غصے میں تھا۔اور جو لفظ بول رہا تھا وہ کبھی شانی نے اسے سیکھائے تھے۔گالیاں باتیں سنانا سب ان دو شرارتی بچوں نے سیکھایا تھا۔
“نہیں پر اتنا اچھا کیسے بول لیتے ہو۔۔،،ثاقب نے اسے اپنے ہاتھ پہ بٹھا لیا۔وہ بہت پریشان تھا سٹیف نے اس کی پریشانی کم کر دی تھی پر ختم نہیں کی تھی۔
“جیسے تم بول لیتے ہو۔۔میں ماشو کا سٹیف ہوں،،سٹیف نے چلا کر کہا۔۔وہ بلکل ثاقب کو حیران کر رہا تھا۔
“میں انسان ہوں انسان تو بولتے ہیں میاں مٹھو،،ثاقب تو جیسے اس ننی جان کا امتحان لینے بیٹھ گیا تھا۔
“میں پرنس سٹیف ہوں۔ میاں مٹھو نہیں بیٹری۔جانور بھی بولتے ہیں جانوروں کو قید نہیں کرتے ان کو جینے کا حق ہے ماشو کہتی۔،،سٹیف نے ثاقب کی ناک پہ اپنی چونچ رکھ دی ۔ثاقب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی اس نے سٹیف کو چھوڑ دیا اور اپر رکھی چار کرسیوں میں سے ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔
“یا اللہ معروش کی حفاظت کرنا میرے بھائی کی محبت کو سلامت رکھنا اس نے آج تک کسی کے ساتھ غلط نہیں کیا۔اس کے ساتھ بھی کچھ غلط نہ کرنا۔،،ثاقب نے دل سے دعا کی تھی۔
اتنے میں اس کے فون کی بیل بجی تھی دل میں ایک امید جاگی۔
“ہاں افی کچھ پتا چلا کہاں ہو تم لوگ اور سامی کیسا ہے۔،،ثاقب نے ایک کے بعد دوسرا سوال کیا۔
“بھائی ہم نے اس آدمی کو لاہور سے باہر ایک چھوٹے سے ہوٹل کے پاس دیکھا تھا۔ہم نہیں بلکہ ساگر نے پر اس گدھے کو اب یاد آیا ہے۔اور سامی ٹھیک ہے۔،،افنان نے آسام کو دیکھا وہ ڈرائیونگ کر رہا تھا۔افی نے کال کاٹ دی۔
“سامی شائد وہ یہاں آس پاس ہی ہو کوئی گھر وغیرہ۔جہاں م۔،،افنان اس کا نام لینے سے گھبرانے لگا تھا۔جسے وہ چاندنی بنا چکا تھا اسے ماشی کہنا کتنا مشکل تھا۔
“ہاں تم ٹھیک کہ رہے ہو کیونکہ وہ ماشی کو اکیلا چھوڑ کر زیادہ دور تو نہیں جائے گا ۔تو مطلب ماشی اسی ہوٹل کے آس پاس ہی ہے۔۔,،آخری جملہ افنان اور فہد نے ایک ساتھ کہا تھا۔
“سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ماشی میرے پاس ہو گی۔،،آسام نے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی تھی وہ دیر نہیں کرنا چاہتا تھا اسے سوراخ مل گیا تھا۔
“صبح کی کیوں رات کے آخری پہر تک ۔۔،،افنان نے چہک کر کہا۔آسام مسکرا دیا۔ اس کی مسکراہٹ جاندار نہیں تھی۔
“سامی اگر اسے کچھ ہو گیا ہوا۔۔۔تو،،ساگر نے فکر مندی سے سوال کیا تو افنان نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔
آسام کا دماغ پھر سے غلط سوئی پہ اٹک گیا تھا۔
“تم بہت خوبصورت لگ رہے ہو سامی۔۔،،افنان نے اس کا جائزہ لیا بکھرے بکھرے بال آنکھوں میں نمی ہونٹوں کو بھیجے ہوئے دونوں ہاتھوں کو سٹیرنگ پہ جکڑے شیروانی کے بٹن بے ترتیب انداز میں کھولے ہوئے تھے۔آسام نے اپنے بالوں کو پیچھے کیا اور نفی میں سر ہلا کر باہر دیکھنے لگا۔اور پھر سے روڈ پر دیکھا۔
وہ خوبصورت تو تھا ہی پر جب وہ پریشان ہوتا تھا تو شائد زیادہ خوبصورت لگتا تھا۔یا افنان لوگوں کو ایسا لگتا تھا
“چلو اب تم یہاں آجاؤ۔۔،،افنان نے کہا تو وہ اتر کر ڈرائیونگ سیٹ چھوڑ دی
“افی کہتے ہیں کبھی کبھی اندھیرے اندر اترتے محسوس ہوتے ہیں۔۔سچ مجھے میرے اندر اندھیرے اترتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں ایسا لگ رہا ہے میں ایک اندھیرا ہوں جیسے ماشی کبھی نہیں ملے گی ۔وہ اس چاند کی طرح لگ رہی ہے مجھے۔بہت دور اور میرے دل کے بہت پاس اس کی روشنی تومجھ تک پہنچ رہی ہے پر وہ مجھ تک نہیں ہے۔۔،،آسام نے سر سیٹ کی پشت سے ٹکا دیا اور آنسوں جاری ہوگئے وہ کمزور پڑھ گیا تھا۔
کون کہتا ہے مرد کمزور نہیں پڑتے
مرد بھی کمزور پڑ جاتے ہیں جب ان
کے گھر کی عزت پہ بات آئے ۔وہ اندر سے ٹوٹ رہا ہوتا ہے پر پھر بھی باہر سے مضبوط ہوتا ہے
کون کہتا ہے مرد روتے نہیں
روتے ہیں کیوں کہ ان کے اندر بھی دل ہوتا ہے ہاں پر مرد خود کو مظبوط بنا کر رکھتے ہیں۔وہ دنیا کو نہیں دیکھاتا چھپ کر روتا ہے۔
کیونکہ اسے مضبوط ہونا ہوتا ہے
“پتا نہیں وہ کس حال میں ہو گی۔۔،،آسام نے منہ پر ہاتھ رکھ لئے۔
“وہ ٹھیک ہو گی۔۔فکر نہ کرو۔،،افنان نے گاڑی روک کر اسے گلے لگا لیا
“عشق انسان کو کیا سے کیا بنا دیتا ہے یہ آسام جو کبھی کسی لڑکی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا جب دیکھا تو کام سے ہی گیا۔۔ایسا بھی کیا عشق یار رانجھا بنا بیٹھا ہے بھول گیا ہے کہ ہم آج کے دور کے نوجوان ہیں ایسے عاشق بن کر رہے گئے تو پاکستان کا کیا ہو گا۔۔،،ساگر نے نفی میں سر ہلا کر سوچا۔اسے یکدم پاکستان کی فکر ہونے لگی تھی
“لکی کچھ کھانے کو ہے۔۔،،افنان نے پیچھے منہ کر کے پوچھا۔
“افی مجھے بھوک نہیں ہے تم گاڑی چلاؤ مجھے ماشی کو ڈھونڈھنا ہے نہ پولیس کچھ کر رہی ہے ۔،،آسام نے سر کو پکڑ لیا۔
“بھائی نے کہا ہے سی بی آئی بھی ساتھ ہے۔شائد وہ بہت بڑا کمنہ ہے ۔۔،،
“CBI..but ..,,لکی نے سر تھام لیا۔
“ٹھیک کہا سامی جہاں پولیس نہیں پہنچ سکتی وہاں سی بی آئی پہنچ جاتی ہے۔بہت جلد ہی ماشی مل جائے گی۔،،افنان نے اسے دیکھا اور پھر روڑ پر دیکھ کر ڈرائیو کرنے لگا۔
“واقع ہی یہ پاگل ہو گئے ہیں۔۔دونوں بھائیوں کو ایک لڑکی نے مجنوں بنا دیا ہے افف ۔۔،،لکی نے آنکھوں کو گھما پھیرا کر سوچا۔
گاڑی ہوٹل کے سامنے جا رکی ہوٹل والوں نے اس آدمی کے بارے میں بتایا کہ وہ کہیں جا رہا تھا۔فون پہ میڈیا،بدنام وغیرہ جیسی باتیں کر رہا تھا۔
“بہت عجیب آدمی تھا۔ہم اس سے آڈر لینے گے تو بھڑک اٹھا
پھر یہ بچہ اس کی فون پر ہو رہی گفتگو سن کر ڈرتا میرے پاس آگیا۔،، روٹیاں بنا رہے ایک آدمی نے کہا
“ایسی بھی کیا باتیں کر رہا تھا۔۔اور وہ یہ ہی تھا نہ۔،،آسام نے ایک بار پھر اپنا فون آگے کیا۔
“وہ دھاڑی والا تھا پر ایک گھنٹہ
پہلے ایک آدمی ہی آیا ہے۔،،وہ آدمی غور سے دیکھتے ہوئے بولا۔
“سامی میں نے اس آدمی کو دیکھا تھا یار۔۔ہاں پر دھاڑی تھی آنکھیں یہ ہی تھی۔اور ہارش کے بتانے کے مطابق ساڑھے پانچ فٹ hight ،،ساگر نے کہا۔
“اچھا بات کیا ہوئی تھی جس سے یہ بچہ ڈر گیا۔،،آسام نےتوجہ ہوٹل والے کی طرف کی۔
“وہ کسی لڑکی کو اٹھا کر لایا تھا۔۔اور نشے وغیرہ کی بات کر رہا تھا۔بہت گھٹیا باتیں تھی۔۔،،بچے نے خوفگی سے کہا۔آج کل کے بچے کون سا کم ہیں سب سمجھتے ہیں
آسام کھڑا نہ ہو سکا تھا اور کرسی پر گر گیا۔
“اور۔۔۔اور کیا بات کی۔۔پلیز آپ لوگوں کی وجہ سے ہم اس شخص تک پہنچ سکتے ہیں۔،افنان نے آسام کو سہارا دیتے ہوئے بولا۔
“وہ کہ رہا تھا کہ اب ان کی عزت اچھالوں گا ہر چینل پر ان کی عزت اچھلے گی۔آگے انگلش میں بولتا رہا ہمیں کچھ سمجھ نہیں آئی۔،،وہ آدمی معزرت خواہ انداز میں بولا۔
“ن۔۔نہیں میں۔۔میں ماشی کو کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔،،آسام اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور گاڑی کی طرف بھاگ گیا۔
“کس طرف گیا ہے وہ۔۔،،افنان نے آسام کو دیکھا ہوٹل والے نے مغرب کی طرف جا رہے راستے کی اشارہ کیا۔افنان بھاگ کر آسام کے ساتھ بیٹھ گیا۔
“پر یہ بازف ہے کون یار اور مس معروش ملک کا لگتا کیا ہے کوئی خاص دوشمنی ہو گی تو۔۔،،ساگر اکتا کر بولا۔
” Listen to me..یہ تمہاری پروبلم
نہیں ہے یار وہ جو بھی لگتا ہو گا پتا چل جائے گا تمہیں فل حال چپ کر کے بیٹھو پلیز۔،، افنان نے منہ پہ انگلی رکھ کر کہا تو ساگر ہاں میں سر ہلا کر بیٹھ گیا۔
دل میں نئی نئی ڈراؤنی سوچوں نے جنم لے لیا تھا۔
*************
“فہد پلیز تم جاؤ نہ اسے ڈھونڈ لاؤ وہ بہت معصوم ہے۔وہ بغیرت بازف پتا نہیں کیا کرے گا۔۔دن ہونے کو ہے ماشی نہیں ملی۔میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔،،شگفتہ بیگم برآمدے میں تخت پر بیٹھی تھی جب فہد ان کے پاس آیا تو وہ رونے لگ گئ۔
“وہ انسان بہت خطرناک ہے بیٹا۔۔میری جان ماشو۔۔پتا نہیں وہ دریندہ کیا کرے گا۔۔،،شگفتہ فہد کے سینے سے لگ کر رونے لگی
“ماں ہمت نہ ہاریں۔ورنہ ہمیں ہمت کون دے گا۔اور ماشی کو کچھ نہیں ہو گا۔،،فہد نے ان کے آنسوں صاف کئے۔
“سفر صاحب نے آپ کو یاد فرمایا ہے فہد صاحب۔،،کرمو نے فہد کو آ کر کہا تو شگفتہ کے پیروں تلے سے زمین سرک گئی۔
فہد اٹھ کر چلا گیا پر وہ کئ لمحے بغیر سانس لئے بیٹھی رہی۔اور پھر اٹھ کر اس کمرے کی طرف بڑھ گئ جہاں سفر اور سعدیہ روکے ہوئے تھے پر سفر وہاں موجود نہ تھا شائد وہ باہر کی طرف چلے گئے تھے۔
“شگفتہ۔۔،،وہ پلٹنے لگی تو سعدیہ نے اسے آواز لگائی۔چند لمحے تو شگفتہ کھڑی رہی پھر کمرے کی طرف بڑھ گئ۔
“دیکھو وہ ہماری ہونے والی بہو ہے۔اگر اس کا کہیں چکر وکر تھا تو ہمیں آج ہی بتا دیں دیکھا نہیں میرا بیٹا کیسے اس کے پیچھے پاگل ہےاور میں ہرگز نہیں چاہوں گی میرے بیٹے کی زندگی خراب ہو۔،،سعدیہ کاٹ دار لہجے میں بولی۔ شگفتہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔
“تم بلکل بھی نہیں بدلی شک ابھی بھی وہی ہے۔سوچ ابھی بھی وہی ہے۔بہن تمہیں تو یہ بھی نہیں پتا تمہارا بیٹا کون سا ہے افنان یا آسام پر مجھے پتا ہے میرا بیٹا کون ہے ۔میں کبھی اپنے بیٹوں کے بارے میں برا نہیں سوچوں گی۔اور ہاں ماشی جیسی بہو تمہیں کہیں نہیں ملے گی۔وہ پاک صاف ہے۔ہم نے اسے ویسی تربیت نہیں دی معاف کرنا پر عمر کے ساتھ انسان کو بدلنا چاہئے۔اگر میری بچی کی بات نہ ہوتی تو کبھی اس طرح بات نہ کرتی۔،،شگفتہ کوسعدیہ کی بات نے غصہ دلایا تھا
وہ اٹھ کر جانے لگی تو سفر دروازے میں کھڑا تھا۔قدم روکے نظر بھی ملی پر شگفتہ کی نظروں میں اتنی نفرت تھی سفر نے نظر جھکا لی۔
شگفتہ اپنی چادر شہانوں پہ ڈالتی اس کے پاس سے گزر گئ۔
“سعدیہ کچھ تو شرم کرتی۔۔۔گھر میں کیسا ماحول بنا ہوا ہے جانتی ہو نہ تم۔،،سفر نے سعدیہ کو اچھی خاصی سنا دی۔وہ منہ پھیر کر لیٹ گئی۔مجال ہے جو اسے اپنے کئے پر شرمندگی محسوس ہوئی ہو۔
کچھ لوگوں کو پچھتاوے نہیں ہوتے۔شرمندگی نہیں ہوتی۔ایسے لوگ مطلبی ہوتے ہیں۔
