Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 09)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 09)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
بدن کی سرزمین پر تو حکمران اور ہے
مگر جو دل میں بس رہا ہے مہربان اور ہے
جو مُجھ سے منسلک ہُوئیں کہانیاں کُچھ اور تھیں
جو دِل کو پیش آئی ہے وہ داستان اور ہے
یہ مرحلہ تو سہل تھا محبتوں میں وصل کا
ابھی تمہیں خبر نہیں کہ امتحان اور ہے
وہ دن کدھر گئے مِرے وہ رات کیا ہوئی مِری
یہ سرزمین نہیں ہے وہ یہ آسمان اور ہے
وہ جس کو دیکھتے ہو تم ضرورتوں کی بات ہے
جو شاعری میں ہے کہیں وہ خُوش بیان اور ہے
جو سائے کی طرح سے ہے وہ سایہ دار بھی تو ہے
مگر ہمیں ملا ہے جو وہ سائبان اور ہے
“یہ کمرہ ۔یہ بیڈ اور ،،وہ چلتی ہوئی سفر کی تصویر کے سامنے آرکی۔
“اور سفر صرف میرا ہے۔۔اس کمرے میں آنے کے خواب میں نے دیکھے تھے سفر.اور تم اس شگفتہ کولے آئے ہو۔۔،،وہ آدم قد تصویر کے سامنے کھڑی غصے سے بولی۔
“شگفتہ یہ مت سمجھنا میں نے تمہیں اپنا سفر دے دیا
نہیں شگفتہ سفر صرف میرا تھا میرا ہے اور میرا ہی رہے گا آج نہیں تو کل کل نہیں تو پرسوں پر تم اس کمرے سے باہر اور میں۔۔،،وہ پھولوں سے سجے بیڈ پہ گر گئ۔
“سفرکے دل میں اور اس کمرے کے اندر ہاہاہاہا۔،،وہ پھولوں کواچھلتے ہوئے ہ ہسی۔،
“تمہارے پاس خوبصورتی نہیں ہے میرے پاس ہے اور میں اس خوبصورتی کو ہتھیار بناؤں گی تو ریڈی ہو جاؤ تم۔۔،،
“صائمہ باہر آؤ کمرہ سجا لیاہے نہ۔۔،،باہر کسی کی آواز سن کر وہ جلدی سے بیڈ شیٹ ٹھیک کر کے کمرے سے نکل کر باہر چلی گئی
ابھی بارات آئی تھی سب کزنز بھنگڑا ڈال رہے تھے سفر اور شگفتہ صوفے پر بیٹھے مسکرا رہے تھے۔
“شگوفی۔کیسامحسوس ہو رہا ہے۔آج تم میری ہو گئ ہوپوری طرح سے صرف میری ۔۔،،سفر اس کے ہاتھ پر اپنے ہونٹ رکھ کر بولا شگفتہ شرما کر نظر جھکا گئی تھبی کچھ کزنز سفر کو اٹھاکر لے گئے۔ وہ بھی بھنگڑا ڈالنے لگا شگفتہ نے محبت بھری نظر اس کے چاند سے روشن چہرے پر ڈالی اور آنکھوں سے ہی اسے چوم لیا۔
“دولہا تو دودھ جیسا سفید ہے اور دلہن کیسی بیاہا کے لایا ہے۔
رنگ تو گورا ہوتا۔۔,،شگفتہ کے کانوں میں کسی عورت کی بات پڑھی
“ارے بہن میں نے سنا ہے لڑکے کی پسند ہے لو میرج ہے لڑکی نے سفر کو پھنسا لیا ہو گا آخر اتنا بینک بیلنس دیکھ منہ سے پانی تو آئے گا ویسے لڑکی کے مائیکے والے بھی اچھے خاصے امیر ہیں ۔ہمیں کیا بہن دیکھنا تھوڑے دن ہی ہیں یہ لڑکا دوسری شادی کرے گا۔۔،،ایک اور آواز تیر کی طرح اس کے دل پہ لگی۔ شگفتہ کادل اچٹ ہو گیا وہ سر جھکا کر بیٹھ گئ وہ سفر کو بھی نہیں دیکھ رہی تھی۔بہت سارے آنسوں اس نے اپنے اندر اتارے
“چلو اٹھو تمہیں تمہارے کمرے میں چھوڑ آؤں۔۔،،سفر کی کسی کزن نے نہایت بدتمیزی سے اسے کہا تھا وہ چپ چاپ اٹھ کر چل پڑھی۔وہ لڑکی اسے چھوڑ کر باہر چلی گئ۔
شگفتہ کمرے کا جائزہ لینے لگی۔کارپیٹ سے لے کر پروں اور بیڈ کی شیٹ سےسامنے لگی سفر کی تصویر کے فریم تک سب چیز نفیس تھی اس کے ذوق وشوق کا پتا دے رہی تھی
وہ پہلی بار سفر کے کمرے میں آئی تھی پر زندگی میں تو ایک سال پہلے کی آچکی تھی۔
“سفر میرا اور آپ کا کوئی کپل نہیں آپ چاند یو تو میں زمین ہوں۔،،اسے وہ رات یاد آگئی جب منزہ کی ڈیلیوری تھی وہ ہوسپٹل داخل تھی اور سفر اسے گھر لے جارہاتھا۔راستے میں سفر نے اسے اپنے دل کا حال بتادیا
“میں اگر چاند ہوں تو تم میری روشنی ہو۔مجھے تم سے محبت ہے اور تم مجھےروک نہیں سکتی۔۔،،سفر نے گاڑی روک دی تھی
“س۔۔س۔سفر گاڑی چلاؤ بہت رات ہے اور مم۔مم ۔موسم بھی بہت خراب ہے۔۔،،وہ گھبرا کر بولی تھی۔
“نہیں جب تک تم میری بات کا جواب نہیں دو گی میں گاڑی سٹارٹ نہیں کروں گا تو بولو میری روشنی بنو گی۔۔،،سفر اس کے سامنے ہاتھ کر کے بولا
“سفر لوگ باتیں کریں گے۔, شگفتہ نے ڈر کے کہا
“مجھے لوگوں کی پرواہ نہیں ہے مجھے صرف تمہاری پرواہ ہے تم کیا سوچتی ہو میرے بارے میں۔۔،،وہ ہاتھ پیچھے ہٹائے بغیر بولا تھا۔شگفتہ پریشان ہو گئ
“کرتی ہو نہ مجھ سے محبت۔۔،،سفر نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا وہ ہی بے بسی کا لمحہ تھا شگفتہ نے ہاں میں سر ہلا دیا اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔
دروازے کی آواز اسے خیالوں سے نکال لائی تھی اس نے سر اٹھا کر دیکھا سفر اس کی طرف آ رہاتھا۔اس نے پھر سے سر جھکا لیا سفر چلتا ہوا اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
“اسلام علیکم!شگفتہ یار منہ کیوں لٹکارکھاہے تم نے۔۔،،سفر اس کے منہ کو تھوڈی سے اپر کرتے ہوئے بولا شگفتہ نے نفی میں سر ہلا دیا اور مسکرا دی سفر اس کاہاتھ پکڑ کے اسے انگوٹھی پہنانے لگا اور پھر اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا
“شگفی آئندہ بلکہ ابھی سے تم کبھی پریشان نہیں ہو گی میں نہیں چاہتاکہ میری جان کا چہرا مرجھایا ہوا ہو۔۔۔،،سفر اس کے آگے جھولتے بالوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے بولا۔شگفتہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگ گئ سفر تھوڑی دیر لیٹنے کے بعد اٹھ کے بیٹھ گیا۔۔
“کیا ہوا سفر۔۔, شگفتہ نے پریشان ہو کےپوچھا۔
“کچھ نہیں بہت پیاری لگ رہی ہو تم۔۔،،سفر نےاس کی تعریف کر کےلائٹ بند کر دی۔
“یہ کیا کیا آپ کو پتاہے نہ م۔۔مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔،،شگفتہ خوفگی سے چلائی
“میں ہوں نہ تمہارے پاس۔۔،،سفر اس اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولا شگفتہ خاموش ہو گئی سفر کی دل کی دھڑکن سننے لگی ۔جو اس کے لیئے دھڑکتی تھی۔۔
___________*********__________
“افی آج تمہاری شیرنی نظر نہیں آ رہی کہئں وہ تم سے ڈر کے بھاگ تو نہیں گئ۔،،ساگرکی بات پہ افنان نے اسے گھورا اور اٹھ کر سامنے سے آتی کومل اور مہک کی طرف بڑھ گیا
“معروش ملک کیوں نہیں آئی۔۔،،افنان نے ان دونوں کو روک کے بغیر دیکھے پوچھا۔
“بھلا ہم تمہیں کیوں بتائیں تم ہوتے کون ہو۔۔،،مہک نے غصے سے جواب دیا افنان سن گلاسز اتار دئیے اس کی آنکھوں میں غصہ دیکھ وہ دونوں ڈر گئ۔
“اس کے ک ک کزنز کی شادی ہےلاہور گئ ہے۔دوتین دن تک آجائے گی۔،،کومل جلدی سے بولی۔ افنان پھرسے سن گلاسز لگاکے اپنے گروپ کے پاس جابیٹھا۔
“کیا ہوا افی۔,, انوشکا نے پوچھا
“وہ لاہورگئ
ہے کچھ دونوں تک میرے پاس ہوگی۔،،افنان چہک کے بولا اور انوشکا کو آنکھ ماری
“افنان وہ تجھے گھاس بھی نہیں ڈالتی اور تم ہوکہ۔،،لکی کی بات پہ اس نے اسے غصے سے گھورا
“میں بھی اسے گھاس نہیں ڈالتا بس اسے ذلیل کرنے میں بہت بہت مزہ آتا ہے ہاہاہاہا۔،،افنان نے جان دار کہکہکا لگاکرکہا تو سب ہس دیئے۔
“ویسے اس کا وہ باڈی گارڈ ہارش بھی نظر نہیں آ رہا۔۔،،ونیت نے کہا۔افنان سوچ میں پڑھ گیا
“کیا سوچ رہے ہو ہنڈسم۔،،انوشکا اس کے پاس آکر بیٹھ گئ۔
“تمہیں سوچ رہا ہوں بےبی ڈول۔۔،،افنان اسے دیکھتے ہوئے بولا تو وہ ہس دی
“واہ واہ۔۔،،لکی نے تالی بجائی
وہ کیا سوچتا تھا یہ کوئی بھی نہیں جان سکتا تھا۔۔اس کا گروپ بھی نہیں پڑھ سکتا تھا اسے
___________*********__________
آج رات فہد اور عشرت کی مہندی تھی پورا ملک ہاؤس مہمانوں سے بھرا ہوا تھا
ماشی چھت پہ کھڑی سٹیف سے باتیں کر رہی تھی
“سٹیف ایک بات بتاؤں تمہارے علاوہ بھی مجھے کسی سے محبت ہو گئی ہے۔۔،،ماشی چلتی ہوئی اپر رکھی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گئ۔
“کس سے۔،،سٹیف نےاپنی سریلی آواز میں پوچھا۔
“بہت اچھا ہے وہ۔۔،،ماشی سٹیف کی چونچ پر انگلی لگاتے ہوئے بولی
“کون بہت اچھاہے۔۔،،ہارش کی آواز پہ وہ بوکھلا گئ۔ہارش سینے پہ ہاتھ باندھے اسے دیکھ رہاتھا
“تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔،،ماشی اٹھ کر اس کی طرف بڑھی۔اس نے پیرؤں میں پائلز پہن رکھی تھی جن کی آواز بھی اس کے ساتھ چلی۔
“کیا مطلب میرے فرینڈ کی شادی ہے تو میں نہیں آؤں گا تو۔۔،،ہارش معصومیت سے بولاماشی نے اس کی بات کاٹ دی
“میں نے پوچھا یہاں کیا کر رہے ہو۔۔،،ماشی نے انگلی کا اشارہ زمین کی طرف کیا۔
“یہ تو میرے ماں باپ کو پتا یار۔۔،،ہارش نے اور معصوم بن کے جواب دیا۔ماشی کو غصہ آگیا
“سٹیف چلو نیچے چلتے ہیں پاگل لوگوں کے منہ نہیں لگنا چاہیے۔ ،،وہ ہارش کے پاس سے گزر کر سیڑھیاں اترنے لگی
ہارش اسے دیکھ کر ہس دیا۔ماشی کے پیروں میں پائل کی آواز سن کر اس نے اس کے پیروں کو دیکھا بڑی بڑی سونے کی پائلز پہنی ہوئی تھی پیرؤں کو مہندی سے سجایا ہوا تھا۔
“چھمک چھلو۔۔،،اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی
“ہارش او ہیلو ہارش۔۔،،فہد اور کچھ دوست اور کزن نیچھے کھڑے اسے پکار رہے تھے وہ خیالات سے چونک گیا
“کیا ۔۔کہاں گم ہو یار چل نیچھے آ۔,،رضا نے ہاتھ کے اشارے سے اسے نیچے بلایا
رضا کو فہد پہلے ہی بتا کے آیا تھا کہ وہ شادی کرنے جا رہا ہے۔تو وہ بھی پیچھے آگیا تھا
“ارے رضا بھائی آپ بھی آگئے ۔۔،،ہارش نیچے اتر آیا
“ہارش فہد کی شادی ہواور اس کے دوست ساتھ نہ ہوں بات تو نہیں بنے گی۔،،رضاہارش کے گلے لگتے ہوئے بولا۔
“اپنے اپنے ہتھیار تیار رکھنا۔۔،،ایک کزن نے اشارہ گن اور پسٹل کی طرف کیا
“ارے ارے میری شادی ہے جنگ نہیں لڑنے جانا۔۔ہاہاہاہا,, فہد نے کہکہکا لگاکرکہا
“میں نے انسپکٹر سے اجازت لے لی فائرنگ کی۔اور اسے بھائی کی شادی پہ انوائیٹ بھی کر دیا ہے اب رات کو اتنی فائرنگ کریں گے پورے لاہور کو پتا چلے گا ملک فہد کی شادی ہے۔۔،،ایک کزن نے فہد کے کاندھے پہ تھپکی دے کر کہااور وہ لوگ باہر چلے گئے
“تم نے سنا سٹیف یہ لوگ فائرنگ کریں گے۔۔،،ماشی اور سٹیف ان کی باتیں سن رہے تھے
” سٹیف۔۔اگر کوئی پرندہ اڑ رہا ہوا تو مر جائے گا۔۔،،ماشی اپنی لمبی فراک کو پکڑ کر چلنے لگی
“پاگل لڑکی ان کے معمولات میں ٹانگ نہ اڑانا رات کو تمہارے باپ نے اڑنا ہے ۔۔،،ایک بڑھی عورت اس کے سر میں تھپکی رسید کر کے بولی
“سٹیف ہم دونوں پاگل ہو گئے ہیں شام کو کہاں پرندے ہوتے ہیں۔۔،،ماشی سٹیف کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی اور اپنے کمرے میں چلی گئی
“اوہ مائی گاڈ۔۔کس کی مس کالز ہیں ۔۔،،وہ اپنا فون چارج سے اتار کر بیڈ پر جا کے اپنے بالوں کو اگلی طرف پھیلا کر لیٹ گئی مہندی سے بھرے ہاتھوں سے فون نکال کر سائڈ پہ رکھ دیا۔تھوڑی دیر بعد پھر سے فون بجنے لگا
“ہیلو۔۔،،ماشی اٹھ کر بیٹھ گئی
“کیسی ہو میری شیرنی۔۔،،افنان کمنگی سے مسکرا کر بولا
“تمہاری پروبلم کیاہے میری جان چھوڑ دو خدا کا واسطہ تجھے۔،،ماشی غصہ لہجے میں بھر کر بولی۔اور کال کٹ دی
“دماغ خراب ہے اس لڑکے کا بغیرت انسان ۔۔،،وہ فون کو آف کر کے رکھ کر باہر چلی گئی۔
___________*********__________
“افنان بیٹا کبھی ماں کے پاس بھی بیٹھ جایا کرو۔۔,, افنان اپنی ماں کے کمرے کے سامنے سے گزر رہا تھا جب انہوں نے آواز لگائی
“کم اون موم آپ کو کب سے میری ضرورت پڑھ گئ۔۔،،افنان شرٹ کے بازو فولڈ کرتے ہوئے بولا
“بیٹا میں تمہاری ماں ۔۔،،
“ماں ہاہاہاہا۔۔ہاؤ فنی۔۔،،افنان اپنے بالوں میں ہاتھ چلتا سر جھٹک کر چلا گیا اور وہ اسے جاتا دیکھتی رہی۔
“ہائے بڈی۔۔وٹس اپ۔،،وہ ڈرائنگ روم میں جاکے اپنے بڑے بھائی کے پاس بیٹھ گیا
“نوتھینک چھوٹے۔۔،،انہوں نے سر اٹھاکر اسے دیکھااور مسکرا کر بولے۔
“نو نو میں ابھی چھوٹا نہیں ہوں بھائی کیا ہو گیا ہے اس گھر کو جو دیکھو مجھے چھوٹا سمجھتا ہے واٹ نون سینس یار۔۔،،افنان غصے سے بولا تو باہر سے آتا ہوا آسام ہس دیا۔
“اب چھوٹے کو چھوٹا نہیں تواور کیا کہیں گئے۔،،آسام اس کے پاس بیٹھ کر بولا۔بھائی بھی ہسنے لگ گیا
“افنان تم اپنے غصے پہ تھوڑا کنٹرول کرنا سیکھ جاؤ ورنا کسی دن پچھتاؤ گے۔۔،،مسٹر رندھاوا نے بھی آتے ہی کہا افنان تپ گیا۔
“افففف گو ٹو ہیل سب نے مجھے سمجھانے کا ٹھیکا لے رکھا ہے کیا اس گھر میں میری کوئی عزت بھی ہے۔۔,,وہ بدتمیزی سے بولا اور درمیان میں رکھے میز کو پاؤں مار کر باہر چلا گیا۔
“تمیز نہیں ہے بہت زبان چلنے لگی ہے اس کی ۔۔،،مسٹر رندھاوا صوفے پر بیٹھ گیا۔
“ڈیڈ آپ بیٹھیں ٹینشن نہ لیں آپ کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے میں دیکھتا ہوں اسے۔۔،،آسام مسٹر رندھاوا کو کہ کرباہر چلا گیا
“پتا نہیں کب سدھرے گایہ۔۔،،مسٹر رندھاوا نے سر صوفے کی پشت سے ٹکا لیا۔ان کو دل کا مسلئہ تھا عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے اور پریشانیاں زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کو کئ بار دورے پڑھ چکے تھے آج کل وہ سارا بزنس
اپنے بیٹوں کے حوالے کر کے آرام کر رہے تھے
___________*********__________
“سجنا ہے مجھے سجناکے لیئے۔۔،،ماشی عشرت کو تیار کر رتے ہوئے گنگنائی عشرت نے سبز اوینج رنگ کا شرارا پہن رکھا تھا
ماشی شلوار قمیض میں بالوں کی چوٹیا بنائے ایک سائڈ پہ ڈالی ہوئی تھی
پیرؤں میں پائلز آنکھوں میں کاجل اور کانوں میں بڑے بڑے جھمکے اور ماتھے پہ بندیا بلکل پنچابن لگ رہی تھی۔
“ماشاءاللہ میری بچیاں کتنی پیاری لگ رہی ہیں۔۔،،پھوپھو کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔
“اور ہماری پھوپھو بھی کم نہیں لگ رہی۔,,ماشی ان کو دیکھتے ہوئے بولی۔
“اچھا بیٹا عشرت کو باہر لے آؤ فہد انتظار کر رہا ہے۔۔،،پھوپھو بول کر چلی گئ۔
ماشی اپنے سر پہ ریشمی ڈوپٹہ ٹکاکر عشرت کی طرف بڑھ گئی
“چلو آسٹریلین بلی تمہارا بلا ویٹ کر رہا ہے۔۔،،ماشی لہجے میں شرارت لاکر بولی۔
وہ عشرت کاہاتھ پکڑ کر باہر لے گئ ساتھ میں کچھ کزنز بھی تھیں
فہد عشرت کو دیکھ کر اٹھ کے کھڑا ہو گیا۔عشرت نے آنکھوں میں محبت بھر کے اسے دیکھا فہد کے چہرے پر مسکراہٹ تھی
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔،،عشرت جیسے ہی اس کے پاس بیٹھی فہد نے کان میں کہا۔
“اور آپ بھی۔۔،،عشرت نے اسے دیکھ کر کہا فہد وائٹ شلوار قمیض میں مبلوس تھا ایک کاندھے پر شال اوڑ رکھی تھی براؤن بالوں کو پف کی شکل دے رکھی تھی
“نواب لگ رہے ہو۔،،عشرت نے اس کے کان میں پھر سےسرگوشی کی تو وہ مسکرا دیا
“ماموں نے شیروانی پہننے سے روک دیا تھا نہیں تو آپ کے حکم کی تکمیل ہوتی۔،،فہد نے اسے دیکھ کر کہا عشرت نے اس کے لیئے شیروانی پسند کی تھی پر ماموں نے اپنے پرانے رواج کو انگار رکھتے ہوئے سوٹ پہنایاتھا۔
“کیا گھسر پھسر کر رہے ہو چپ کر کے بیٹھو۔۔،،ماشی ان کے پاس آکر بولی
“ماشی ویسے تم ہو کس سائڈ پہ فہد یا عشرت۔،،ہارش نے ماشی کو دیکھ کر پوچھا وہ فہد کی دوسری طرف بیٹھا تھا
وہ بھی شلوار قمیض میں مبلوس تھا اپر واسکٹ پہنے وہ بہت اچھا لگ رہا تھا
“یہ تو سالی ہے۔۔،،ایک کزن نے کہا
“فہد اب بھی کہو بہن ہے میری ہاہاہاہا۔۔،،رضا نے بھی مزاق اڑایا فہد کی ہسی نکل گئ۔
مہندی کا فنگشن شروع ہو گیا تھا فہد کے دوستوں نے اور کزنز نے فائرنگ کرنی شروع کردی کچھ بھنگڑا ڈالنے لگ گئے بڑی بوڑھی عورتیں ایک سائڈ پر بیٹھ کر ڈھولی پہ گیت گانے لگی کچھ کزنز ماشی کو کھینچ کر لے گئ ماشی جاکر کھڑی ہو گئی وہ ڈانس نہیں کرنا چاہتی تھی خود کو بچانے کے لیے اس نے فہد اور عشرت کو کھینچ کر میدان میں لے آئی اور ایک سائڈ پر چلی گئی
“بس کرو اب کسی کی جان لو گے کیا۔۔،ہارش گن میں گولیاں بھررہاتھا ماشی اس کے پاس جا کر بولی۔
“ہاں تمہاری۔ہاہایاہاہا۔،،ہارش گن کا منہ اس کی طرف کرکے بولا۔
“ہمت ہے تجھ میں۔۔بونے،،ماشی بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے بولی۔
“وہ ہی تو نہیں ہے۔۔،،ہارش نے سرگوشی کی
“کیا کہا۔۔،،ماشی کو بات سمجھ نہیں آئی یا سنائی نہیں دی
“میں نے کہا۔۔آپ کو کیوں بتاؤں۔،،ہارش شرارتی انداز میں بولا ماشی کو غصہ آگیا
“دفع ہوجاؤ پھر۔،،ماشی سینے پہ ہاتھ باندھ کر سختی سےبولی
“کہاں۔۔،،ہارش گن کو کاندھے پر رکھ کر شرراتی انداز میں بولا تو ماشی پیر پٹختی چلی گئ۔وہ ہس کر پھر سے باہر جاکے فائرنگ کرنے لگا۔
وہ اکثر ماشی کو تنگ کرتا تھا وہ سوال اور کرتی تو آگے سے جواب اور ملتا اس بات پر وہ تپ جاتی
________
وہ لوگ سورہے تھے جب دروازے پر دستک ہوئی شگفتہ نے اپنے اپر سے سفر کا ہاتھ پیچھے کیا شگفتہ نے بے خبر سوئے سفر کو نظر بھر کر دیکھا۔اور اپنا دوپٹہ ٹھیک کر کے دروازے کی طرف بڑھ گئ۔دروازے پہ سفر کی ماں تھی
“صبح بخیر ماما۔۔،،شگفتہ نےسر پہ ڈوپٹہ ٹکا کر آداب سے کہا
“اے لڑکی میں تمہاری ماں نہیں ہوں اور آئندہ اپنی گندی زبان سے مجھے ماں مت کہنا۔سفر کو اٹھاؤ۔۔،،وہ جاتے جاتے مڑی
“اور ہاں اپنے چہرے پہ بیس لگا لینا اتنی کالی ہو ہماری تھوتھو مت کروانا۔،،ان کی بات شگفتہ کےدل میں چھد کر گئ۔دل بھر گیا وہ سر ہلا کر رہ گئ۔
“سفر اٹھ جائیں۔۔،،وہ نہاکر سفر کے اپر سے کمبل کھینچ کر بولی سفر نے اس کو اپنی طرف کھینچ لیا۔اور اس کے بالوں لمبے بالوں کے ساتھ کھیلنے لگا
“صبح بخیر میری جان۔۔،،سفر شگفتہ کے ماتھے پر ہونٹ رکھ کر بولا شگفتہ شرما گئ اور سفر نے اسے کے گرد اپنی باہوں کی گرفت مضبوط کر لی لیا
“افففف تمہارا یہ شرمانہ۔،سفر نے اسے اپنی باہوں میں لے لیا۔وہ سفر کی محبت کے آگے سب کچھ بھول گئ
“اب چھوڑو بھی ماما پھر سے آجائیں گی اٹھ جاؤ اور تیار ہو جاؤ۔،،شگفتہ اس کی گرفت سے نکل کربولی۔
“واہ مولا کیا بیگم دی ہے چلو ٹھیک ہے بیگم آپ کا جو حکم۔۔،،سفر معصومیت سے بولتا واش روم چلا گیا۔۔شگفتہ منہ دوسری طرف کر کے ہس دی
___________*********__________
“فہد ہٹ جاؤ پلیز سامنے سے ہٹ جاؤ ۔۔،،ماشی زور زور سے چلاتی ہوئی اس کی طرف بھاگی وہ روڈ کے درمیان میں کھڑا مسکرا رہا تھا دور سے آتا ٹرک اس کے پاس آرہا تھا ۔
“پلیز فہد ہٹ جاؤ خدا کا واسطہ تجھے۔۔،،عشرت بھی چلائی
پر وہ کسی کی نہیں سن رہا تھا ٹرک
بہت پاس آ گیا تھا
“فہد پلیز ہٹ جاؤ۔۔،،ماشی نگے پاؤں بھاگی اس کی پائلز ٹوٹ کے اتر گئ ڈوپٹہ اڑ کر دور جا چکا تھا اس وہ گر گئ تھی۔چاروں اطراف اندھیرا چھایا ہوا تھا
۔ٹرک فہد کے بہت پاس آگیاتھا دیکھتے ہی دیکھتے ٹرک نے زور کی ٹکر مار دی اور فہد دور جاگرا۔
“فہد اٹھو پلیز۔۔،،ماشی اس کی طرف ہاتھ بڑھا رہی تھی پر فہد دنیا سے بے خبر لیٹا ہوا تھا اس کا جسم خون سے لت پت ہو چکا تھا
“فہد پلیز اٹھ جاؤ۔۔،،عشرت اور ماشی دونوں بھاگ کر اس کے پاس گئ پر جاچکا تھا
“ف ف۔۔فہد۔۔۔۔۔،،ماشی اٹھ کر بیٹھ گئ۔
منہ اور سارا وجود پسینے سے شرابور ہو چکا تھا اس نے لیمپ جلا دیا
“خواب تھا یا اللہ یہ کیسا خواب تھا۔۔مجھے کبھی خواب نہیں آیا پھر آج کیوں یا اللہ فہد کو لمبی زندگی عطا کر۔۔،،ماشی بیڈ سے اٹھ کر باہر بھاگی رات کا پتا نہیں کون سا پہر تھا پوری حویلی میں خاموشی تھی اس کی پائلز کی چھن چھن نے اس سناٹتےکو توڑا
وہ فہد کے کمرے کا دروازہ کھول کر دروازے میں ہی رک کر دیکھنے لگی۔اتنی بڑی حویلی کے پہلے سے آخری کمرے میں آتے آتے اس کی سانسیں پھول گئ تھی
“اللہ تیرا شکر ہے۔۔،,وہ فہد کو بے خبر سوتے دیکھ شکر کرنے لگی اور دروازہ بند کر کے واپس چلی گئی
“یا اللہ عشرت کی خوشیوں کو قائم رکھنا اسے کبھی کوئی غم نہ ہو۔فہد کو لمبی عمر عطا کر دینا۔۔،،ماشی اپنا پسینہ صاف کر کے کمرے کی بجائے چھت پہ جا کر بیٹھ گئی۔
“چاند کو دیکھ کر تیری یاد آتی ہے
وہ بھی کتنا دور ہے تیری طرح۔،،ماشی پورے چاند کو دیکھ کر بولی
“واہ میں تو شاعر ہو گئ ہوں۔،،وہ اپنے پڑھے گئے شعر پر خود ہی ہس دی اس نے آنکھیں بند کر کے کھولی تو سامنے نقاب پوش کھڑا تھا
“تو تم آ گئے۔ تمہیں کیسے پتا چلا میں تمہیں یاد کر رہی ہوں ۔،،کچھ فاصلے پر نقاب پوش کھڑا اسے دیکھ رہا تھا ماشی اس کی طرف بڑھی۔وہ سینے پہ ہاتھ باندھے کھڑا رہا
ماشی جیسے ہی اس کا نقاب اتارنے لگی وہ غائب ہو گیا ماشی نے آس پاس دیکھا تو کوئی نہیں تھا وہ اپنے سر پہ چپت لگاکر ہسنے لگی۔اور اپنی ریسٹ واچ دیکھنے لگی
“افففف دو بج گئے۔۔،،
وہ نیچے جانے کو مڑی تھی جب کسی سے ٹکرا گئ۔اور اس نے ماشی کا ہاتھ پکڑ کر اسےگرنے سے بچالیا
“یہاں کیا کر رہی ہو اتنی رات کو۔۔،،فہد نے سنجیدگی سے پوچھا
“کچھ نہیں ویسے ہی تم ٹھیک ہو نہ۔۔،،ماشی نے اسے دیکھا وہ بکھرے بالوں میں کھڑا تھا آنکھوں میں نیند تھی۔
“تم پہلے بتاؤ میرے کمرے میں کیوں آئی تھی خیریت تو ہے نہ۔،،فہد آنکھوں کو ملتے ہوئے بولا تو ماشی نے خواب سنادیا۔فہد کی بے اختیار ہنسی نکل گئی
“ہس کیوں رہے ہو۔۔۔،،ماشی نے غصے سے پوچھا
“کچھ نہیں یار جاؤ جا کر سو جاؤ پاگل ہاہاہاہا۔۔،،فہد ہس کے بولا۔
“آسٹریلین بلا تمہاری فکر کرنا بے کار ہے پتا ہے مجھے تو اتنی جلدی مرنے والا نہیں ہے انہہ۔۔،،وہ منہ چڑھا کر نیچے جانے لگی۔
“اگر مر گیا تو۔۔،،فہد سنجیدگی سے بولا تھا ماشی کے قدم رک گئے وہ بے بسی سے فہد کی پیٹھ گھورتی رہی۔فہد مڑ کر اس کے پاس آیا۔
“ہاہاہاہا۔واقع ہی پاگل ہو تم۔،،فہد اس کی کیفیت پر ہس دیا ماشی گھور کر چلی گئی
___________*********__________
“بی بی جان آپ کے بھائی اور منزہ بی بی آئی ہیں ۔۔،، سفر اور وہ ہنی مون سے واپس آئے تھے اصغر اور منزہ ان سے ملنے آئے تھے۔
“خالہ کتنی بار کہا مجھے بی بی نہیں شگفتہ بولا کرو۔آپ مجھ سے بڑی ہیں۔۔،،شگفتہ بیڈ سے اٹھتے ہوئے بولی۔
“نہ بی بی جان ہم تو آپ کے غلام ہیں جی۔۔،،ملازمہ آداب سے کھڑی تھی
“نہیں خالہ آئندہ اسی بات نہ کریئےگا۔۔،،شگفتہ ان کے پاس جاکر بولی اور باہر چلی گئی
“کتنی اچھی لڑکی ہے میڈم ہر وقت پتا نہیں کیوں خفا رہتی ہیں ان سے۔،،کام والی اسے دیکھتے ہوئے بولی
اس نے جب بھی سفر کی ماں کو دیکھا تھا وہ شگفتہ کو باتیں سنا رہی ہوتی تھی۔
“بھابھی کیسی ہیں آپ۔،،شگفتہ منزہ کے گلے لگتے ہوئے بولی
“ٹھیک ہوں میری جان کیسا رہاتمہارا ٹوؤر ۔۔،،منزہ شرارتی انداز میں بولی۔
“بھابھی۔۔،،شگفتہ نے آنکھیں پھیلا کر کہا
منزہ ہسنے لگ گئ اصغر اس سے مل کے باہر چلاگیا
“ماما کارویہ کیسا ہے تمہارے ساتھ۔۔،،منزہ اور شگفتہ میں گہری دوستی تھی اسی لیے شگفتہ بےجھجھک بول سکتی تھی پر اب وہ اپنے گھر والی ہو گئ تھی ہر بات نہیں بتانا چاہتی تھی
“ٹھیک ہیں بہت خیال رکھتی ہیں میرا
یہ چھوڑیں اور بتائیں میرا شہزادہ کہاں ہےباتیں کرنے لگا ہے کیا۔،،شگفتہ نے اپنے بھتیجے کا پوچھا
“باتیں کرتا ہے ماشاءاللہ تمہارا نام بھی لیتا ہے ،،
شگفتہ خوشی سے چینخنے لگی۔
“کیا ہو گیا سیلاب آگیا یا عذاب کیوں جاہلوں کی طرح شور مچا رہی ہو اب تم شادی شدہ ہو یہ تمہارے باپ کا گھر نہیں دفع ہو جاؤ اپنے کمرے میں۔۔،،سفر کی ماں کمرے سے اٹھ کر باہر آتے ہی چلانے لگی شگفتہ کا چہرا شرم سے لال ہو گیاوہ سیڑھیاں چڑھتی بھاگ گئ
۔وہ تو اپنا بھرم بنا چکی تھی سفر کی ماں نے ایک منٹ میں توڑ دیا تھا
“ماما چپ کریں اصغر ساتھ آیا ہوا ہے۔۔،،منزہ نے اپنی ماں کو سرگوشی کی
“میری بچی کیسی ہو وہاں کوئی تکلیف تو نہیں ہے نہ تمہیں اصغر تمہاری ساس سب ٹھیک ہیں نہ تمہارے ساتھ۔،، وہ منزہ کو گلے لگا کر بولی
“جی ماں سب بہت خیال رکھتے ہیں۔۔اصغر تو جان چھڑکتا ہے۔مجھے وہ بیڈ سے ہی نہیں اٹھنے دیتا وہ ملازمین آگے پیچھے گھومتی ہیں .., وہ جوس اٹھاتے ہوئے چہک کے بولی
“منزہ واقع ہی ادھر آؤ میری بچی۔۔۔،، اس کی ماں نے اسے گلے سے لگا لیا
“اسلام علیکم آپی ۔۔شگفتہ کہاں ہے۔،،سفر منزہ سے مل کر اسے ڈھونڈنے لگا۔
“اپر ہے میڈم نکلتی کہاں ہے اپنے کمرے سے۔۔،،
“موم پلیز ہر وقت طوفان برپا مت کیا کریں۔۔۔،،سفر غصے میں بول کے اپر چلا گیا
“دیکھا اسے اس ماہ رانی کا غلام بنا بیٹھا ہے۔۔،،وہ غصے سے بولی۔
“شگفتہ دروازہ کھولو۔۔۔،،سفر دروازا بجانے لگا۔شگفتہ نے آہستہ سے دروازہ کھول دیا
“کیا ہوا اندر کیوں بیٹھی ہو۔نیچے اپی آئی ہوئی ہیں کچھ ہوا ہے کیا میری جان کا منہ کیوں اترا ہوا ہے۔،،سفر اس کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے بولا۔شگفتہ نے نفی میں سر ہلا دیا۔سفر نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا
“سفر۔آپ مجھے چھوڑیں گے تو نہیں نہ۔۔،،شگفتہ کے دل میں جوڈرتھا وہ
لفظوں کے ذریعے باہر نکل آیا سفر کے چہرے پر کئی رنگ آکر چلے گئے۔شگفتہ ان رنگوں کو سمجھ نہ پائی
“نہیں شگوفی۔کبھی نہیں۔،،سفر نے اسے کےماتھے پہ بوسا دے کر کہا
قسمت کو کون جانتا ہے کیا پتا ہوتا ہے کب کون ساتھ چھوڑ دے انسان کو تو اپنی سانسوں کا بھی نہیں پتا ہوتا کہ کب تک چلیں گی
___________*********__________
“ماشاءاللہ ماشاءاللہ۔۔،،عشرت کو
پولر والی تیار کر کے جا چکی تھی۔
وہ برائڈل روم میں لال جوڑے میں ملبوس صوفےپہ بیٹھی تھی جب مہک اور کومل لوگ آئی تھی۔
“بہت جلدی آئی ہو تم دونوں۔۔،،ماشی اپنا لہنگا سنبھال کےاٹھ کے ان کوملی۔
“کیا کریں یار راستے میں ٹریفک بہت زیادہ تھی ہماری گاڑی پھنس گئی پھر ایک جگہ آ کے ٹائر پھٹ گیا۔پھر وہ ہارش اللہ میرے
گاڑی اتنی تیز چلا کے لایا لگا ابھی گئے۔زلیل ہو کے یہاں پہنچی ہیں۔
بارات کب تک آ جائے گی۔۔،،مہک چادر اتار کے رکھتے ہوئے بولی
ان کوبس سٹوپ سے ہارش لینے گیا تھا کیونکہ وہ ان کو جانتا پہچانتا تھا
“ابھی تھوڑا ٹائم ہے تم لوگ آسانی سے تیار ہو سکتی ہو۔۔،،ماشی نے فون سے ٹائم دیکھ کر کہا
“چلو ٹھیک ہے۔۔،،وہ دونوں اپنے اپنے کپڑے اٹھا کر الگ الگ واش روم چلی گئی ماشی کے فون کی بیل بجی تو وہ میسج پڑھنے لگ گئ
“ہماری یاد نہیں آتی کیا ملکوں کی رانی کو ۔،،وہ مسج پڑھ کر حیران نہیں ہوئی تھی۔اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئ تھی
“یہ تو آپ سے بہتر کون جان سکتا ہےکہ ملکوں کی رانی کو آپ کی کتنی یاد آتی ہے۔،،اس نے مسکرا کر میسج سینڈ کر دیا۔
آگے سے کوئی ریپلائی نہیں آیاتھا
“ایجنٹ کا میسج۔۔،،عشرت اس کی مسکراہٹ دیکھ کر بولی تو اس نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلا دیا
“ہائے کیا بات ہے۔۔پیا کا میسج پڑھ کر یہ حال ہے تو اسے دیکھ کر تمہارا کیا حال ہو گاسوچو وہ اگر تمہارے پاس ہو تو ۔،،عشرت نے رومنٹک انداز میں کہا
اس کی بات سن کر
ماشی کادل زور زور سے دھڑکنے لگا۔وہ جلدی سے صوفے پر بیٹھ گئ۔
“ماشی کنٹرول۔۔اس کے ذکر سے تم پاگل ہونے لگ جاتی ہو جب سامنے آگیا تو۔۔،،عشرت نے اس کے دھڑکتے وجود کودیکھا محبت اس پہ تاری ہوچکی تھی دل کی دھڑکن تیز ہوگئ تھی
“اس کا تصور ہی اتنا جان لیوا ہے تووہ سامنے آ گیا تو مر جاؤں گی میں عشرت۔۔،،ماشی نے آنکھیں بند کر کے کہا۔
“ہاہاہاہا کملی۔۔،،مہک اس کے سر میں تھپکی دے کر بولی۔
ماشی نے آنکھیں کھول لی۔
“یار سچی محبت ایسی ہی ہوتی ہے
یو کیری اون۔۔،،کومل نے اس کا مذاق اڑایا
“لڑکیو حویلی سے بارات نکل چکی ہے جلدی کر لو۔،،پھوپھو کمرے میں داخل ہوئی اور کہ کر چلی گئ۔
“ماش ادھر آ یار میرا کچھ کر دے۔،کومل ہڑبڑا گئ تھی ماشی اٹھ کر سانس بحال کر کےاسے تیار کرنے لگی۔
“عشرت کیسا محسوس کر رہی ہو آئی مین آج تمہاری شادی اور رات۔۔،،اس سے پہلے کومل کچھ اور بولتی ہارش کمرے میں داخل ہوا۔
“مس ملک باہر آئیں کچھ کام ہے۔۔،،وہ ماشی کو دیکھ کر بولا اور باہر چلا گیا۔
“تم مسکارا لگاؤ ہئیر اسٹائل میں آ کر بناتی ہوں۔۔،،وہ بلش اون اس کو پکڑا کر اپنا دوپٹہ سر پہ کر کے لہنگے کو سنبھالتی باہر چلی گئی
“جی کیا کام ہے۔۔،،وہ ہارش کے پیچھے جا کھڑی ہوئی۔وہ کمرے کے باہرساتھ اپر سے اتر رہی سیڑھیوں پر کھڑا تھا۔ماشی کی آواز پر پلٹا وہ پینٹ کوٹ میں ملبوس تھا کوٹ تو ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا۔ٹائی ڈھیلی کی ہوئی تھی۔
“آنٹی کا حکم دے ہے آپ کو ابھی حویلی میں پیش کیا جائیں۔۔ چلیں۔،،ہارش سن گلاسز لگاکے سیڑھیاں اترنے لگا
“بٹ وائے ہاؤ کین آئی بی لیو یو۔۔،،ماشی ماتھے پہ بل ڈالتے ہوئے بولی۔
اسے پسند نہیں آیاتھا ہارش کے ساتھ جانا۔
“میڈم جانا ہے تو بتائیں اب میں ہر وقت آپ کو یقین نہیں دلوا سکتا ۔ہونہہ۔،،ہارش بھی تپ کے بولا۔
ماشی نے غصے سے اسے گھورا۔
“اب جانا ہے یامیں جاؤں میں آپ کی طرح فری نہیں ہوں اور بارات تمہارے انتظار میں کھڑی ہے۔۔،،ہارش سیڑھیاں اتر چکا تھا ماشی تپ
کر اس کے پیچھے بڑھ گئی۔
“میں تمہارا ڈرائیور ہوں کیا میڈم۔۔،،ماشی پچھلی سیٹ پر بیٹھنے لگی تو ہارش نے تپ کر کہا۔
“جی جو مرضی سمجھ لو۔۔،،ماشی نے اسی کے انداز میں جواب دیا اور پیچھے بیٹھ گئ۔
“یا اللہ مجھے اکیلے نہیں آنا چاہئے تھا اس کے ساتھ ہے تو لڑکاہی نہ
اے اللہ میری حفاظت کرنا۔،،ماشی کا دل ڈراتھا ۔
“اپنی سیٹ کی پیٹی باندھ لو پھر نہ کہنا مجھے گرا دیا۔،،ہارش بیک مرر سے اسے دیکھ کر بولا
ماشی نے اس پہ غصے بھری نظر ڈالی اور بیلٹ باندھ لیا
ہارش بیک مرر میں اسے دیکھ کر مسکرا دیا۔
اس نے گاڑی کی رفتار تیز کر دی۔
“امی جی مار کے لے جاؤ گے کیا بونے،،ہارش نے گاڑی موڑی تو دو ٹائر اپر اٹھ گئے ماشی کےمنہ سے ڈر کی وجہ سےنکل گیا۔
“نہیں اگر مرے تو اکٹھے مریں گئے۔۔ہاہاہاہا،،ہارش نے بیک مرر سے اس کے چہرے کو دیکھا۔
“اللہ میرے مجھے معاف کر دے جو میں اس کے ساتھ آ گئ۔افنان کو چھپا دو اور اس کو نکال دو دونوں بڑے ہی ظالم انسان ہیں۔
پر نہیں وہ تو انتہا ہی گرا ہوا انسان ہے ہارش اس سے لاکھ گنا اچھا ہے ۔۔،،وہ بیک مرر میں ہارش کو دیکھا
“افففف میں بھی کن جھنجھٹوں میں پڑھ گئ کوئی کیسا بھی ہو مجھے کیا۔،،وہ سر سے سرکا ہوا ڈوپٹہ سر پہ کرتے ہوئے سوچ کے رہ گئ۔
“مس ملک اب اتر جائیں حویلی پہنچ گئے ہیں۔،،ماشی کا سر چکرا گیا تھا وہ گاڑی کو اڑا کر لایا تھا ایک گھنٹے کا سفر دس منٹ میں تہہ کیا تھا اس نے
“ارے سمبھل کے۔گر جاؤ گی پھر مجھے کہو گی بونے چوٹ لگ گئ اااوووو۔تب تو میں چھوٹا تھا اب بڑا ہو گیا ہوں اٹھا سکتا ہوں۔،،ہارش نے اس کو بچپن کی بات یاد کروائی ماشی نے غصے سے اسے گھورا تو وہ اپنی ہنسی دبا کر کان پکڑ لئے۔ماشی نے مسکراہٹ دبا لی حویلی کی طرف قدم بڑھا دیئے۔
__
___________*********__________
“لازم تو نہیں تجھے آنکھوں سےہی دیکھوں
تیراتصور تیرےدیدار سےکم نہیں تڑپاتا،،
افنان بیڈ پر بے سود گراہوا تھا فون کو اپنے سامنے کیا روشن سکرین پر ماشی کی تصویر تھی جو اس نے پارٹی کی رات بنائی تھی
“دل تو کرتا ہے تمہاری جان لے لوں۔۔پر کیا کروں تم میری شراب ہو معروش ملک۔،،وہ معروش کی تصویر پر ہاتھ چلاتے ہوئے بولا۔
“جب تمہارے پاس آتا ہوں تو پینے کی طلب ختم ہو جاتی ہے ہاہاہاہا۔،،وہ فون کو سینے پر رکھ کر لیٹ گیا۔
رات کو مسٹر رندھاوا سے لڑائی کر کے وہ بار میں چلا گیا تھا آسام اسے نشے میں دھت اٹھا کرگھر لایا تھا اور اب بھی وہ بیڈ پر گرا ہوا تھا یونی ورسٹی نہیں گیا تھا۔
“ہائے بےبی ڈول۔۔کیسی ہو آئی مس یو یار۔۔،،افنان نے انوشکا کو کال کر دی۔
“ملتے ہیں پھر۔۔،،انوشکا نے آفر کی تو وہ جھٹ سے مان گیا۔
اور اٹھ کر ڈریسنگ کے سامنے جارکا
آنکھیں سرخ ہوئی پڑھی تھی بال بکھرے ہوئے تھے وہ واش روم میں داخل ہوگیا فریش ہو کر وہ باہر چلا گیا۔
“میری جیپ کی کیی کہاں ہے۔۔،،وہ غصے سے چینخا
“م۔ممم۔مالک وہ بڑ۔۔ھ۔ھے صاحب کے پاس ہے نکال کے لے گئے ہیں۔،، نوکر ڈرتے ہوئے بولا۔افنان جیپ کے ٹائر کو کیک مار کر اندر چلا گیا۔
“ڈیڈ ۔۔۔باہر آئیں
چاہتے کیا ہیں آپ وٹ دی ہیل از دس۔۔،،وہ صحن میں جا کر اپر ان کے کمرے کو دیکھ کر چلایا
“کیا مصیبت ہے تمہیں صبح صبح کیوں چلا رہے ہو۔۔۔۔،،مسٹر رندھاوا باہر نکل آئے
“میری جیپ کی کیی دے دیں ورنہ۔۔،،
“ورنہ کیا دفع ہو جاؤ کوئی کی نہیں جب سدھر جاؤ تو آ کر لے لینا۔۔،،مسٹر رندھاوا غصے سے بولا۔
“اب دیکھیں میں کیا کرتا ہوں۔۔۔،،افنان تحش میں آکر بولا اور باہر چلا گیا۔
“آپ چابی دے دیتے۔اب پتا نہیں کیا کر گزرے گا ہے تو آپ کاہی بیٹا۔۔،،مسسز رندھاوا کی بات پہ وہ ان کو دیکھنے لگےتووہ پھر سے لیٹ گئ۔
“تمہاری پرورش میں کمی ہے اسی وجہ سے وہ ایسا ہے ۔۔،،مسٹر رندھاوا تپ کے بولے۔وہ چپ کر کے لیٹی رہی
