Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 03)

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry

٬٬,عشرت رو کیوں رہی ہو خیریت تو ہے۔۔۔سٹیف زرا یہاں بیٹھنا،،وہ عشرت کوروتا دیکھ سٹیف کو لیپ ٹیبل پہ بٹھا کے اس کی طرف بڑھ گئ۔۔

;;سب تباہ و برباد ہوگیا ماشی وہ مر گیا۔۔،،عشرت نے روتے ہوئے کہا۔

;;اللہ کرم کرے ک۔۔۔ک۔۔کون مرگیا۔۔،،ماشی کا دل دھک سےرہ گیا

;;میرے ناول کا ہیرو۔۔،،عشرت نے منہ پہ ہاتھ رکھتے ہوئے رونا سٹارٹ کر دیا۔۔

;;دفعہ ہو جا عاشی تو بھی کچھ کھا کے مر جا میری تو جان نکل گئ تھی..،،ماشی نے سرہانہ اٹھا کے عاشی کو مارا ۔پروہ روئے جارہی تھی۔۔

;;اٹھ جا اب اس کی ہیروین سوگ منالے گی تم نماز پڑھ کے اس کی مغفرت کی دعا کرو۔ہاہا،،ماشی نے اس کا مزاق اڑیا اور اٹھ کے باہر چلی گئ۔۔۔ظہرکی نماز پڑھ کےہٹی ہی تھی کہ اس کی کزنزآگئ۔۔

;;ماشی چلو بازار جانا ہے۔۔،عشرت تیار ہوکے نکل آئی باہر۔۔

،،پر آپی میرا من نہیں ہے۔۔آپ لوگ جاؤ پھرکبھی۔۔،،وہ ڈوپٹہ سینے پہ پھیلاتے ہوئے بولی۔۔

;;چل نہ یار۔۔۔انجوائےکریں گے کولج کے بعد کبھی گھر سے باہر نہیں نکلیے،،عشرت نے منت بھرے لہجے میں کہاتو ماہی نے ہاں کر دی۔۔

;;یہ کیا کر رہی ہوتم۔۔۔پہنے رکھو کتنی سجتی ہیں تمہارے پیروں میں۔۔،،ماشی پائلز اتار رہی تھی عا شی چلا اٹھی کیوں کہ اسے ماشی کی پائل کی آواز پسند تھی ۔۔

;;باہر جانا ہے ہم نے عاشی ایسی چیزیں باہر نہیں پہن کے نکلتے۔۔،،ماشی چادر اڑھتے ہوئےبولی۔۔

;;فادی۔۔کہاں ہے۔،،سدرہ نے چاروں اطراف نظر گھوما کےپوچھا ۔۔

;;فہدبھائی توشائد گھرنہیں ہیں۔۔عشرت نےکہا

;کسی کاپیکج ہےتوکال کردے کیوں کہ اس نےلے کےجاناہے،،سدرہ صوفے پہ گرتے ہوئے بولی۔

;;یارابھی توپاپاکے پاس تھا۔۔۔۔ابھی کہاں چلاگیا ;;ماشی ڈرائنگ میں جا کے دیکھ کے آئی تھی۔

;;بیٹا وہ رضاکے پاس گیاہے۔،چاچی اور معروش کی ماں باہر سے آ رہی تھی۔۔

;;چلو ہم پیدل چلتے ہیں پھرپرماشی تمہاری ڈرائیونگ سیکھی کب کام آئے گی۔۔چلو گاڑی نکالو۔;;

;;نہیں یارم۔۔م۔مجھے نہیں کرنی آتی کسی ٹرک یا بس کے نیچے گھسا دی تونا۔۔۔نانا۔،،ماشی نے ہاتھ جوڑدیئے پر عاشی بھی ڈٹیی رہی ماشی کومناکے چھوڑا۔۔

وہ لوگ شوپنگ کر کے کیفے میں جابیٹھی تھی

;;آج توتم لوگ بچ گئ ہربار میں نہیں لے کےآؤں گی سن لیا تم سب نے۔۔اگر آج کچھ اونچ نیچ ہوجاتی توکیاجواب دیتی میں تمہارے گھر والوں کو نہ بابا آئندہ کے لیئے نہیں۔۔،،ماشی نے خوف سے کہا

;;ارے ارے تم ملکوں کی رانی ہو ۔۔۔رانی ڈرا نہیں کرتی۔۔،۔عاشی نےفخرسے کہاان کے ٹیبل کےکچھ فاصلے پہ لڑکوں کی ٹیبل تھی جو مسلسل ان کو گھور رہےتھے۔۔پر وہ چارو ان کی طرف متوجہ نہیں تھی۔۔

;;اومائی گڈمیں اپنا سامان شوپ پہ بھول آئی عشرت چلو میرے ساتھ۔تم دونوں ویٹ کرو ہم آتی ہیں۔۔،،سدرہ عشرت کو پکڑکے باہرلے گئ۔وہ لوگ بیٹھی رہی تھوڑدیرپھراپنا سامان اٹھاکے باہر چلی گئ۔۔

;;ماشی مجھے واش روم جاناہے یار میں ابھی آتی ہوں۔ڈرنانہیں۔،،باہر اندھیرا چھا چکاتھا معروش گاڑی کے پاس کھڑی کانپ رہی تھی۔۔

;;میں گاڑی چلانا سیکھادوں کیاجان من،،وہ اپنے پیچھے بھاری آواز سن کے چونک گئ۔۔اور اس کی کپکپہٹ اور بڑھ گئ۔۔۔وہ پیچھے ہٹنے لگی۔۔۔تو پیچھے سے ایک آدمی آ گیا

;;یا اللہ میری مددکر مجھے ان دریندوں سے بچالے بھرے بازار میں میری عزت لہلام نہ کرنا میرے مولا۔۔،،ماشی کی آنکھوں میں پانی آ گیا۔وہ بھاگ نہیں سکتی تھی ۔۔چلاناچاہتی تھی پر آوازہلق میں اٹک گئ تھی

;;حسن پردےمیں اچھا نہیں لگتا ذرا پردہ تو ہٹائےجان من۔۔;; ایک لڑکا ہونٹ پہ زبان مارتا اس کی طرف ہاتھ بڑھارہا تھاماشی نے ڈر سے آنکھیں مند لی۔۔۔

تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھولی تو وہ لڑکے غائب تھے۔۔ایک کاغذ کا ٹکرا اس کے ہاتھ میں ےتھا وہ کیسے آیاتھا یہ وہ نہیں جانتی تھی ۔۔۔

;;۔کبھی ڈرنہ نہیں معیوس نہیں ہونا اللہ اچھے لوگوں کی مدد کے لیئے کسی نہ کسی کو بھیج دیتا ہے۔۔ اور ملکوں کی رانی کی حفاظت کے لیے مجھے بھیجا اللہ نے،،،اس نےورقعے پہ لکھی تحریر پڑھی۔

;;یہ کیا ہے اور کیا یہ خواب تھا میراایک مینٹ میں وہ لڑکےغائب ہوگے۔۔۔;;اس کے دل میں خوف پیداہونے لگا تو وہ جلدی سےگاڑی میں بیٹھ

گئ۔لاہور کی وہ شام اسے پرسرار لگنے لگی۔اس نے دو تین بار وہ تحریر دہرائی پھر اپنے بیگ میں رکھ کے سر گاڑی کی پشت سے ٹکا دیا۔کالی چادر میں اس کا سفیدرنگ چاند کی طرح لگ رہاتھا ۔۔تھوڑی دیر تک اس کی کزنز وغیرہ آ گئ۔اور اس نے کسی کو وہ واقع نہ بتانےپہ گزارہ کیا۔۔

اور راستے میں اس کو آتے ہوئے واقع بھول گیا اور لیٹر بھی

****

آج رندھاوا ہاؤس کی چمک دمک اور بڑھ گئی تھی۔۔کیوں کہ نئی فرم کی اوپننگ کی تھی مسٹر رندھاوا اپنے بڑے بیٹےکواونربنانا چاہتے تھے جس خوشی سے آج پارٹی ارینج کی گئی تھی اسلام آباد اور بہت سے شہروں کاہر امیر آدمی اس پارٹی میں شامل تھا۔۔

ڈینرڈریس میں مبلوس افنان کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈال کے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا۔۔

,,اوئے وہ دیکھ تیرے پاپا کے دوست کی بیٹی۔۔یہ وہ ہی ہے نہ۔ہماری کلاس فیلو کیانام تھا نہیی۔٬٬ساگر نے ایک طرف اشارہ کر کے کہا۔۔

,,ارے وہ تو یہاں ہی آرہی ہے افی دیکھ تو۔۔,,افنان کو اس نے دھکا دے کے ادھر موڑا

,,ارے یار یہ بہت پکاتی ہے میں تو چلا،،،افی بھاگنے لگاپر وہ اس کے سر پہ پہنچ گئی تھی۔۔

,,ہائے ہینڈسم ۔۔۔بھول تو نہیں گئے مجھے۔۔،،اس لڑکی نے ہاتھ افی کے آگے بڑھادیا۔۔

,,نہیں سویٹ ہارٹ۔۔,,افی نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔۔وہ ساگر کو آنکھیں نکال کے دیکھنے لگا اسکی وجہ سے وہ بری طرح پھنس گیا تھا ۔۔۔

,,نہیا ہم ابھی آتے ہیں سامی بلارہا ہے۔۔،،افی نے ہاتھ پیچھے کھنچتے ہوئے کہا۔۔

,, میں بھی چلتی ہوں۔۔کہاں ہے وہ۔۔,,

,, پھنسا دیا نہ۔۔۔حرامی مجھےاب یہ بول بول کے مجھے خوب پکائے گی۔۔اگرثنانے مجھے اس کے ساتھ دیکھ لیاتو بریک اپ پکاہے میرا۔۔۔۔,,افی نے ساگر کے کان میں گھس کر کہا

,,کیاکھسرپھسرکررہےہو مجھے بھی بتاؤ,,نہیا نے کہا

,,افی کہا رہا تھا تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔،،،جنیدنے اس کو سراہایا

,,نوٹیی بوائے۔۔۔،،نہیا نے افی کے کاندھے پہ چوٹکی کاٹتے ہوئےبولا۔۔

,, واقع ہی نہی قیامت گ رہی ہو۔۔۔آج کی پارٹی تمہارے حسن کے نام۔،،لکی نے کولڈرنک والا گلاس اوپر کر کے کہا۔۔اتنے میں وہ لوگ آسام کے پاس پہنچ گئے وہ علی اور نیلم کے ساتھ کھڑا ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پہ لے کے بات کر رہا تھا۔۔

,,ہائے سامی بے بی۔۔۔،،نہیانے چہک کے اس کے سامنے ہاتھ کیا پر آسام نے ہاتھ نہیں تھاما اور منہ سے ہی سلام کیا۔

,,مجھے لگا تھا تم ان دو سالوں میں بدل گے ہوگے پرتم ابھی بھی وہ ہی سامی بےبی ہی ہو۔۔۔ہاہاہاہا،،نہیااور افی نے ہاتھ ملا کے کہکہالگادیا۔۔

,,یہ انوشکا اور ونیت کہاں رہ گئی۔۔،،

,,وہ دونوں بھی آئی ہیں۔۔،،ساگرنے پوچھا

,, ہائےگائس ایم ہیر ہائےنہیا۔۔,, انوشکا نے چہک کے کہا۔۔

,,ہائے افی۔۔۔ اففف کتنے کیوٹ لگ رہے ہو۔۔۔اوہ سوری ہوٹ۔۔,,وینی نے افنان کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی

،,تھینک یو۔۔،،افنان نے شہزادوں کی طرح گھٹنے جھکا کے کہا۔آسام ہس رہا تھا ان کی حرکتیں دیکھ کر۔

,,نوشکی۔۔اپنے سامی سے ملیئے۔۔،،

,, اسلام علیکم۔۔،،سامی نے پھرمنہ سے ہی سلام کیا

,,اومائےمائے۔۔۔سامی بےبی۔۔،،تینوں لڑکیوں نے پہلے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ایک ساتھ بولی۔

,,یہ علی ہے میرا فرینڈ اور یہ ان کی وائف نیلم۔۔,,آسام نے چپ کھڑے علی اور نیلم کو دیکھ کے کہا

,, اسلام وعلیکم۔۔،،علی اور نیلم نے کہا۔۔

اسب نے سلام کا جواب دیا۔۔

،,,تو گائس لیٹس بی گین پارٹی۔۔۔،،انوشکا افنان کوہاتھ سے کھینچ کر لے گئ۔۔

وہ سب اسکول فرینڈز تھے ایک ہی کلاس میں تھے۔۔اسکول میں بھی افنان کی گرل فرینڈز کی لمبی لیسٹ تھی اور آسام ان کاموں سے دور رہتا تھا۔۔۔اسی لیئے سب اسے بےبی بولتے تھے۔۔۔اسکول کے بعد

آسام نے سب کا بوائز کالج میں ایڈمیشن کروایا تھالکی لوگ نہیں مانتے تھے پراس نے بھی ان کی ایک نہ سنی تھی ۔۔

پارٹی رات دیر تک چلتی رہی اور انہوں نے خوب انجوائے کیا

**********

,,سٹیف تم کو کچھ آئیڈیا ہے یہ لیٹر کس کاہو گا کیاکوئی بھوت ہوگااچھے والا بھوت جس نے میری مدد کی۔۔،،وہ بیڈ پہ بالوں کو اپنے آگے پھیلائے لیٹی ہوئی تھی ایک ہاتھ میں لیٹر تھا جس پر خوبصورت سا لکھا ہوا تھا۔۔

,,کیاسوچ رہی ہو۔۔،،فہدکی آواز نے اسے چونکا دیا تھا۔۔

,, تمہیں تمیز نہیں ہے۔۔۔کسی کے کمرے میں بغیر اجازت کے نہیں آتے۔۔۔،،ماشی آگ بگولہ ہو گئی تھی۔۔اپنے بال پیچھے کرکےاور دوپٹہ آگے پھیلاتے ہوئے اٹھ بیٹھی تھی۔۔

,,ہاتھ میں کیاہے دیکھاؤ۔۔،،فہدنے ہسی دباکے کہا اس کے ہاتھ میں دبا کاغز کا ٹکڑا دیکھ چکاتھاوہ

,,ک۔۔ک۔کچھ نہیں تم سے مطلب ابھی ج۔۔جاؤ یہاں سے۔۔،،وہ فہد کو دھوکا دیتے ہوئے بولی۔

,,ارے ارے لڑکی ذراسابھی لحاظ نہیں۔۔،،فہد اس کے حملے کے لئے تیار نہیں تھا۔اسی لئے لڑکھڑا کر باہر گیا۔۔ماشی نے دروازے کو چٹکی لگا لی۔۔

,,اففف اگرآج یہ پڑھ لیتا تو پتا نہیں کیا سمجھتا ۔۔،،وہ کاغز کا ٹکڑا پھاڑکے پھینکتے ہوئے بولی۔۔کاغذ کے ٹکڑے پر کچھ خاص تو تحریر نہیں کیا ہوا تھا ۔۔۔پروہ ماشی ملک تھی۔۔وہ بیڈ پہ بیٹھی تھی کہ اس کی بڑی بہن کی کال آگئ

,, اسلام وعلیکم۔۔۔کیسی ہیں آپی۔۔ہاں ابھی جاتی ہوں دو منٹ ویٹ،،وہ فون کان کو لگائے دروازا کھول کے باہر بھاگی۔۔

,,اللہ میرے اے لڑکی تےطوفان دی طرح چلتی ہے۔۔،،ماشی ہربار کی طرح آج بھی کرمو سے ٹکراگئی تھی کرمو جو فہد کے کپڑے اس کے کمرے میں لے جا رہی تھی سارے کپڑے بکھر گئے تھے

,, سوری کرمو انگلینڈ سے آپی کی کال ہے ماما سے بات کروانی ہے۔۔،،،ماشی بھاگتے ہوئے بولی اس کے بالوں ہلتے تو آواز آتی تھی اور پائل کی چھن چھن سے پورےملک والا گونج اٹھا

,,سمندر کی لہروں کی رفتار آہستہ ہو سکتی ہے پر ماشی کی رفتار میں کمی نہیں آسکتی ۔۔،،فہد اپنےکمرے کی کھڑکی کھول کے سینے پہ ہاتھ باندھے اس کو سامنے والے برآمدے میں بھاگتا دیکھ کر ہس دیا۔۔

,,کیا سوچ رہے ہو فادی۔۔،،اس کا دوست اسے یوں مسکراتا دیکھ بولتا اس کے ساتھ آکھڑا ہوا۔۔

,,اوو۔۔۔تو یہ بات ہے۔۔،اس کےدوست نے سیٹی بجانے والے انداز میں ہونٹ گول کر کے کہا

,, کون سی۔۔,,فہد کھڑکی بند کر کے اب سٹیڈی کرسی پہ بیٹھتے ہوئے بولا۔۔

،,پیار ہوگیا ہے کیامس معروش سے۔،کےدوست نے کہا۔

,, کیا دماغ خراب تو نہیں ہوگیارضا تمہارا۔۔ بہن ہے وہ میری۔۔سمجھے تم،،فہد نے آنکھیں دیکھائی ۔

،،,اوکےاوکے۔۔۔سوری مزاق کررہاتھا شیر غوصہ تو نہ کرو۔۔۔،،فہد نے افسردگی سے سرنفی میں ہلایا۔

,,ماشی۔۔۔ماشو رک جافرش گیلا ہےآگے۔,,عشرت دوسرے برآمدے سےاس کودیکھ کے بولی جب نہ رکی تواس کی سمت میں ہی بھاگی۔۔

,,کیا۔۔۔کیا کہ رہی ہو ۔۔۔

آپی کی کال ہے۔۔ماما جان سے بات کرنی ہے أجاؤتم بھی کر لو۔۔،،وہ بھاگتی ہوئی بولی۔۔

,,باہر شور کیسا ہے۔۔،،فہد اٹھ کر دروازہ کھول کے باہر چلا گیا۔۔

,,کیا ہوا عشرت کیوں بھاگ رہی ہو۔۔،،فہد نےاسے بے سود بھاگتے دیکھا۔۔

,,ب۔۔ب۔بھائی ماشی کو روکیں فرش گیلا ہے۔۔،،ماشی بھاگتی ہوئی بولی۔۔فہد نے بھاگتی ہوئی ماشی کو دیکھا اور برآمدے سے نکل کے سیدھا بھاگا۔۔دونوں برمدے جہاں ملتے تھے اس کے سامنے والا کمرہ کرمو نےدھویا تھا جس وجہ سے چیپس کا بناہوا فرش گیلا ہو گیا تھا

ماشی اس جگہ پہ پہنچتی پہلے فہد اس کے سامنے جارکا ماشی کواچانک اپنے قدم روکنے پڑھے۔۔اور وہ فہدسے ٹکرا گئی اور سنبھال بھی گئ

,,تم پاگل ہو کیا۔لڑکی۔,,فہد پھولی سانسوں کوبحال کرتے ہوئے بولا۔۔

,, پاگل لڑکی دیکھ کے چل لیا ۔۔اوہ میرا مطلب بھاگ لیا کرو۔۔آگےفرش گلا ہے پاؤں پھسلتاتو کوئی ہڈی تو ٹوٹ ہی جاتی۔پھرپڑھی رہتی چارپائی پرمس۔سٹروم ،،فہد سانس لیتے ہوئے بولااور واپس چلا گیا۔۔آپی کی کال کٹ گئ تھی۔۔وہ حیرانگی سے جاتے ہوئے فہد کی پیٹھ تکتی رہ گئی۔۔

ایک نام فہد نے اسے دے دیا تھا

,,,مس سٹروم،،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *