Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 27)

Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry

ان دونوں نے بازف کو پٹرول پمپ سے follow کرنا شروع کیا تھا۔

پٹرول پمپ کے سامنے cctv کیمرہ

دیکھ کر أسام نے گاڑی روکی اور سکیورٹی روم میں چلا گیا ساگر نے گاڑی کی شناخت کی اور وہ اسی راہ پر چلنے لگے جدھر بازف جا رہا تھا۔

“سامی سپیڈ بڑھاؤ ابھی اس کی گردن کو پکڑتا ہوں۔،،افنان دانت پیس کر بے تابی سے بولا۔اور پسٹل نکال لیا

“نہیں افی ایسا کچھ نہ کرنا پلیز۔،،آسام گھبرا کر بولا۔اسے ڈر تھا لینے کے دینے نہ پڑ جائیں

“اندر رکھو اسے ایسا کچھ سوچنا بھی نہیں پلیز۔،،سامی ڈر گیا تھا اسے افنان کی آنکھوں میں موجود غصہ نظر آیا تو کانپ گیا جب جب۔اس کی آنکھوں میں ایسا غصہ دیکھا کوئی قیامت آئی تھی۔آج شائد وہ قیامت بازف پہ آنی تھی۔

“گاڑی کیوں روک دی تم نے۔۔،،آسام کو بریک لگاتا دیکھ افنان چینخا

“ساگر, ثاقب بھائی کو کال کر کے ایڈریس بتا دو تاکہ وہ پولیس۔۔،،

آسام کی بات منہ میں ہی تھی کہ افنان تحش میں آکر بولا

“شیٹ اپ یار پولیس کیا کر لے گی۔دیکھو وہ اہم ہے پولیس کو بتانا نہیں اور اگر اتنا ہی ڈر لگ رہا ہے تو لوٹ جاؤ میں اکیلا چلا جاتا ہوں۔۔،،آسام نے چونک کر اسے دیکھا۔افنان “اوہ شیٹ۔،،کہا کر بالوں کو پیچھے کیا جو اس کی آنکھوں میں آ رہے تھے

“سامی گاڑی چلاؤ ماشی کے بارے میں سوچو ٹھوڑی سی بھی کوتاہی اس کے لئے خطر ناک ثابت ہو سکتی ہے۔۔،،افنان نے دونوں ہاتھ اس کے سامنے جوڑ کر کہا۔آسام کچھ سوچنے لگا اور بولا۔

“چلو اب جو ہو گا دیکھا جائے گا۔۔،،اس نےگاڑی سٹارٹ کر لی۔

بازف کی گاڑی بہت دور جا چکی تھی۔

نظروں سے بھی اوجھل ہو گئ تھی۔پر اب انہوں نے اسے ڈھونڈ لینا تھا

******

کانفرینس روم میں لمبی میز کے گرد رکھی کرسیاں بھری ہوئی تھی۔ سب اپنی فائلز کو کھولے اپنے اپنے کام میں مصروف نظر آ رہے تھے۔۔ثاقب سربراہی کرسی پر بیٹھا جھول رہا تھا۔پر دھیان کہیں اور تھا وہ میٹنگ اٹینڈ نہیں کرنا چاہتا تھا پر حماد کے فورس کرنے پہ وہ وہاں موجود تھا۔

“شروع کرو۔۔،،ثاقب نے اپنے بائیں جانب بیٹھے نوجوان لڑکے کو کہا۔

“اوکے سر۔۔،،لڑکا احترام سے بولا اور اسی احترام سے کھڑا ہو گیا۔

ثاقب کی توجہ کام پہ نہیں تھی لڑکا بولنے لگا تھا ثاقب پینسل رکھ کر کرسی کو گھما کر اسے دیکھنے لگا۔پر دھیان ابھی بھی دھیان کہیں اور تھا۔

سب کی نظروں میں اس کے لئے ستائش تھی عزت تھی ۔چھوٹی سی عمر میں وہ جس مقام پہ بیٹھا تھا اس کرسی پر بیٹھنے کو لوگ ترستے تھے۔

ثاقب نے چشمے کو ٹھیک کیا اور ٹانگ پر ٹانگ رکھ لی سفید رنگ کی بٹنوں والی شرٹ جس کے بازوؤں کو تھوڑا سا فولڈ کیا ہوا تھا ٹائی کی نٹ ڈھیلی کی ہوئی تھی اور کورٹ کرسی کے پیچھے لٹکا رکھا تھا

“کہیں افنان اور آسام کچھ غلط نہ کر بیٹھیں۔۔،،ثاقب نے سوچا

“سر ڈون۔۔،،لڑکا دوبارہ اپنی کرسی کے پاس کھڑا ہو کر بولا۔ثاقب نے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور پروجیکٹ دھرایا ۔سب نے اپنی رائے دی۔دو تین گھنٹے کی مسلسل میٹنگ کے بعد کانفرنس روم خالی ہونے لگا

“رندھاوا انڈسٹریز یوں ہی تو top پہ نہیں ہیں۔۔سب سے زیادہ ہاتھ مسٹر ثاقب رندھاوا کا ہے۔۔جب سے سفر نے کام چھوڑا ہے اس سے پہلے یہ انگلینڈ کی فرم تک محدود تھے پر پھر اب شائد انہیں ثاقب صاحب کی کمی یہاں محسوس ہو رہی تھی تبھی تو بلا لیا ۔۔،،ثاقب کے کانوں میں سرگوشیاں پڑھ رہی تھی پر وہ کرسی کو گھوماتا سر کرسی کی پشت سے ٹکائے جھول رہا تھا۔

“یہ تو بات ہے۔۔۔بہت انٹیلجنٹ ہے اپنے دوسرے بھائیوں سے زیادہ سلجھا ہوا ہے۔

میں نے تو سنا تھا۔آسام رندھاوا نے ایک لڑکی کو ہی اپنی گاڑی سے کچل ڈالا تھا۔اور اب اسی سے شادی بھی کر رہا ہے پر ابھی کل ہی سنا وہ لڑکی غائب ہے۔۔ہاہاہاہاہا۔ اور سب سے جو چھوٹا ہے افنان رندھاوا اس کی تو کیا ہی بات ہے ہاہاہاہا کروڑوں کے مالک ہیں کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔،،ایک بھاری مردانہ آواز جس آواز میں طنز تھا۔ بد اخلاقی۔بے مروتی تھی۔ ثاقب چونکا۔

“مسٹر مگسی۔۔۔۔یہ کانفرنس روم کسی کی بدخواہوں کے لئے نہیں بنایا گیا۔۔اور ہاں لڑکی بھاگی نہیں ہے۔اس کی ماں کی طبیعت بگڑ گئ تھی جس وجہ سے شادی delay کر دی گئ۔اور بہت جلد آپ کو میرے بھائی کی شادی دیکھنے کو ملے گی۔اب آپ جا سکتے ہیں۔،،ثاقب اطمینان سے کہتا پھر سے کرسی پر بیٹھ گیا۔

“مطلب بات باہر آنے لگی ہے آخر کب تک چھپی رہنی تھی۔اگر میڈیا والوں کو پتا چلا تو وہ بات کا ایشو کریٹ کریں گے۔اوہ مائی گاڈ،،ثاقب اپنا سر کرسی کی پشت سے ٹکا کر بیٹھ گیا۔اور سر کو دبانے لگا

آج کل اس کے سر کا درد نہیں جا رہا تھا۔پتانہیں کیوں پر وہ زیادہ تر پریشان رہنے لگا تھا سنجیدہ تو پہلے ہی تھا۔کبھی ہے کہ وہ کھلکھلا کر ہنسا ہو۔

یہ سنجیدگی شائد

اس لئے تھی کہ وہ ایک نوجوان بزنس مین تھا۔پر یہ وجہ ٹھیک نہیں رہے گی۔۔

وہ خیالات کے سمندر میں ڈوبتا جا رہا تھا۔باہر ہلکی ہلکی بارش برس رہی تھی۔بدلتے موسم کی برسات

وہ باہر کی دنیا سے بے نیاز تھا سر کو آہستہ آہستہ دباتا وہ آنکھیں مندے جا رہا تھا شائد راحت مل رہی تھی

آج کل وہ زیادہ پریشان رہنے لگا تھا۔

بزنس کی پریشانی،بائمہ جو دے گئ تھی وہ الگ اور اب ماشی کے missing ہونے کی

“افف۔۔،،ثاقب نے بے رحمی سے سر میں ہاتھ مارا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ کورٹ اٹھا کر باہر چلا گیا۔آفس میں نامعلوم سا شور تھا۔جو اس کے دماغ میں اتھوڑے برسا رہا تھا وہ اپنے کیبن میں بیٹھ گیا اور اے سی اون کر لیا ہلانا کہ سردی سے دماغ شل ہو رہا تھا

“پتانہیں یہ سر کا درد کیوں نہیں جا رہا۔ ۔،،۔چشمہ اتار کر واش روم میں گیا اور آنکھوں پہ پانی کے چھینٹے مارے پھر واپس آ کر کرسی پہ اس انداز سے گرا جیسے جان وجود میں نہ رہی ہو۔بائمہ شیشے کے دروازے سے ثاقب کو کرسی پر گرتے دیکھ چکی تھی۔

“ٹھیک نہیں لگ رہا یہ۔،،بائمہ کو اس کی فکر ستانے لگی تھی۔

“میں اندر آ جاؤں ۔۔۔،،ہاتھ میں فائل تھامے بلیک کلر کے ڈریس میں ملبوس سر پہ اچھے سے ڈوپٹہ پھیلائے وہ ثاقب کے سامنے کھڑی تھی۔

جو کہ کے گئ تھی میرے سامنے مت آنا اب خود اس کے سامنےتھی۔ثاقب نے بغیر اسے دیکھے ہاں میں سر ہلا دیا اور سیدھا ہو کے بیٹھ گیا۔

بائمہ کی نظر اس کے چہرے پر پڑی ،سفید چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔

“تم ٹھیک ہو۔۔،،بائمہ کے الفاظوں میں نہ اپنائیت تھی۔نہ محبت۔بس “تم” لفظ اس نے اسے اپنے برابر رکھنے کے لئے استعمال کیا تھا۔

ثاقب نے کوئی جواب نہیں دیا بس نفی میں سر ہلا دیا۔بائمہ باہر گئ اور کچھ دیر بعد واپس آئی اس کے ہاتھ میں کافی کا مگ تھا۔

“یہ لو شائد آرام مل جائے۔،،بائمہ نے میز پہ کافی کا مگ رکھ دیا۔ثاقب نے ایک نظر اس کے سپاٹ چہرے کو دیکھا

“پی لو زہر نہیں ملائی۔،،بائمہ کاٹ کھانے والے انداز میں بولی

اتنے میں اس کے فون کی گھنٹی بجی تھی

“مجھے پتا چل گیا ہے ساگر افی اور سامی سے کہنا کچھ غلط نہ کریں پولیس کو انفارم کر دیا ہے وہ اپنا کام کرنا جانتے ہیں۔۔۔،،ثاقب کافی کا مگ اٹھا کے اٹھ کھڑا ہوا۔

“ٹھیک ہے پر افی کو سنبھال

لینا۔سر پھرا ہے وہ۔ آنا تو میں چاہتا تھا پر آ نہیں سکتا۔۔,،وہ ساگر کی بات سن کے بولا۔

“جی فرمائیں۔۔،،ثاقب بائمہ کی طرف گھوم گیا۔۔

“کچھ نہیں۔۔،،وہ فائل رکھ کر باہر چلی گئی۔

“ایک جوان لڑکا ایک جوان لڑکی کو اپنے کمرے میں کیوں بلاتا ہے۔۔،،ثاقب کی سماعت سے بائمہ کی کہیں بات ٹکرائی وہ کرسی پر بیٹھ گیا اور فائل دیکھنے لگا ایک سیپ کافی کا لیا تو وہ حیران رہ گیا۔

“اسے کیسے پتا کہ میں ایسی کافی پیتا ہوں بابا تو ہیں نہیں پھر۔۔۔۔۔،،ثاقب پریشان ہو گیا کافی اس کے دل پہ اتر رہی تھی۔اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ بائمہ سے کس طرح ملا تھا۔یاد کرنے کی ہر ناکام کوشش کررہا تھا۔

******

وہ لوگ بازف تک پہنچ گئے تھے دونوں بھائیوں نے مار مار برا حال کر دیا تھا۔وہ اپنے کراچی والے بنگلو میں چھپا تھا۔

“چاندنی۔۔۔۔،،افنان نے اسے دیکھا وہ بے ہوش پڑھی تھی سر سے خون بہہ رہا تھا منہ سے بھی خون بہے رہا تھا۔ بریک ریشمی لہنگا اس طرح پھٹا تھا جیسے کوڑے برسائے گئے ہوں۔سفید بازوؤں سے خون رسا ہوا تھا ایک ٹانگ سے بھی کپڑا غائب تھا۔اور بال بے ترتیب انداز میں بکھرے زمین پہ تھے۔

“سامی،وہ اسے دیکھو میں سنبھال لیتا ہوں اسے۔۔،،افنان کے قدم روک گئے دماغ نے پھر بازی جیت لی دل ہار گیا۔آسام نے جب ماشی کو دیکھا تو اس نے بازف کو زمین پر گرا لیا۔پنچ مار مار منہ سے خون نکال دیا دل تو ٹھنڈا نہیں ہوا تھا پر ماشی کے پاس جانا ضروری تھا آسام اسے اٹھا کر بیڈ روم میں لے گیا

افنان نے اپنا بیلٹ نکال کر بازف کو پیٹنا شروع کر دیا۔

“چاندنی کو تم نے ہاتھ کیسے لگایا۔۔۔

افنان نےبازف کو گریبان سے پکڑ لیا۔

“ہاہاہاہا چھچ۔۔چھچ۔۔افنان رندھاوا کیا حال بنا دیا ہے تم دونوں بھائیوں کا اس لڑکی نے۔۔بہت گری ہوئی ہے نہ کبھی تمہاری باہوں میں کبھی تمہارے بھائی کی باہوں میں جا گرتی ہے۔اور اب تو حد کر دی میری باہوں میں آ گری اس کی بہن بھی ایسی ہی ہے میرے ہر فرینڈ کے ساتھ اس کا افیئر تھا۔ہاہاہا۔۔،بازف نے کہکہکا لگاکرکہا۔

“بکواس بند کر کتے۔۔۔،،افنان نے ایک زور کا تھپڑ اس کے منہ پہ رسید کر دیا۔

پھر اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ مارنا شروع کر دیا۔

“ہاہاہاہا مار لو جتنا مارنا ہے پر یہاں سے باہر جاؤ گے تو کوئی نیوز تمہارا انتظار کر رہی ہو گی بہت جلد تم تینوں کا سکون چین سب برباد ہو گا۔۔اوہ سوری تمہارا تو پہلے ہی برباد ہے۔تمہارے بھائی اور بھابھی کا۔۔،،بازف بغیرتی سے بولا۔

“تم ایسے نہیں مانو گے نہ سالے حرامی۔،،

افنان نے دانت پیس کر پسٹل نکالا اور اس کی ٹانگ پر گولی مار دی۔

“ہاہاہاہا یاد ہے وہ رات ،سنسنان جگہ۔لمبی سڑک اور وہ خون۔۔،،بازف نے کچھ یاد دلوایا افنان کو ساگر اور لکی نے پکڑا ہوا تھا

“میں بتاتا ہوں جب میری جان اوہ ہو سابقہ سالی جان موت اور زندگی کے درمیان لٹکی ہوئی تھی۔اور تمہارے بھائی کو جیل

ہوئی۔

وہ سب میں نے کیا تھا۔۔میڈیا والوں کو میں نے بلویا میں تو تب سے واپس آ گیا ہوں جب سےمیری سالی جان اسلام آباد گئ کئ بار اپنے آدمیوں کو بھیجا پر کوئی نقاب پوش اسے بچا لیتا تھا اب تم دونوں کو میں اپنا ذریعہ بناؤں گا تمہاری چاندنی کی بربادی کا،،وہ بولا توافنان نے اسے غصے سے دیکھا اور پھر سے پٹائی کرنی شروع کر دی۔اتنے میں پولیس آ گئ۔انہوں نے افنان کو الگ کیا بازف ادمرا ہو چکا تھا۔

“اے ایس پی اگر یہ باہر آیا تو میں اسے مار دوں گا۔۔پھر تم مجھے جہاں مرضی ڈال دینا۔پر یہ بغیرت افنان رندھاوا کے ہاتھوں سے نہیں بچے گا۔،،افنان نے پسٹل ایس پی کو دیتے ہوئے بازف کو ایک اور تھپڑ رسید کر دیا

پولیس اسے لے گئ ابھی کچھ پتا نہیں چلا تھا کہ ماشی ٹھیک ہے یا نہیں۔وہ لوگ باہر نکل آئے

“بوتل دو۔۔۔، افنان شرٹ کو ٹھیک کرتے ہوئے ہاتھ لکی کی طرف کر کےبولا۔

“کیا۔۔۔پہلے گھر تو جا لیں اور مس معروش ملک کیسی ہے یہ تو پتا کر لو۔۔،،لکی نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔

“اس کے سامنے جاننے کے لئے ہمت کی ضرورت ہے اور میری ہمت شراب میں ہے ۔۔اور سامی کی شادی قریب ہے پارٹی تو بنتی ہے نہ۔ہاہاہاہا۔۔اور میری بےبی ڈول انوشکا کی کالز آ رہی تھی کافی ناراض ہو گی۔۔اپنا سیل دو بات کر لوں۔۔،،افنان گاڑی کے فونٹ پر لیٹ گیا۔

لکی نے اسے بوتل تھما دی۔

“تو کبھی نہیں بدلے گا ایک دن کے لئے تو ہم دنگ رہے گئے تھے کہ افی یوں بدل گیا ۔۔،،لکی نے اس کی بوتل سے اپنی بوتل مس کی۔

اور ایک کہکہکا گونجا۔

“افی وہ مس ملک۔۔،،جنید اندر سے بھاگ کر آیا تھا افنان اٹھا نہیں تھا۔

“کیا ہوا کیوں پریشان کر رہے ہو سامی سنبھال لے گا ہمارا کام تو ہو گیا نہ ہم نکلتے ہیں۔۔،،افنان چھلانگ لگا کر ن نیچے اتر کر شرٹ ٹھیک کرنے لگا۔

“پانی کہاں ہے یار۔۔۔اسے ہوش نہیں ہےسانسیں بڑی آہستہ چل رہی ہیں۔۔،،جنید گاڑی میں سے پانی ڈھنڈھنے لگا افنان کے ہاتھ روکے ایک پل کو سانس بھی روکی دل میں اسے کھونے کا ڈر آیا۔دوسرے ہی پل وہ بولا۔

“پچھلی سیٹ پر ہو گا،اور اب وہ مر بھی جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔،،وہ گلاسز لگاکر گاڑی میں بیٹھ گیا۔

“تمہیں سمجھنا بہت مشکل ہے جس لڑکی کے لئے تم دو دن سے بھوکے پیاسے پھر رہے ہو اب تم کہ رہے ہو وہ مر بھی جائے تو فرق نہیں پڑتا۔۔،،ساگر نے نفی میں سر ہلا کر کہا

“ہاہاہاہاہاہاہا۔۔میں نے سامی کے لئے کیا یہ سب کچھ اگر وہ سامی کی ہونے والی وائف نہ ہوتی تو کبھی اسے بچاتا نہ۔۔،،افنان نے سونگ پلے کر دیا اور سر سیٹ پر ٹکا دیا۔

“اٹھو افی۔۔۔چلو ابھی بھی سامی کو تمہاری ضرورت ہے ۔۔،،ساگر نے اس کو پکڑ کر باہر نکالا۔اور سونگ بند کر دیا

“نہیں یار پلیز۔۔،،افنان نے ہاتھ چھڑانا چاہا

“افی سن ! اگر وہ مر گئ تو ساری زندگی پچھتاؤ گے۔،،ساگر کی بات افی کے اندر کچھ جلا گئ تھی۔

دل دھڑکنا بھول گیا قدم بے اختیار چلنے لگے آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے پر اس نے بے دردی سے آنکھیں بند کی۔

افنان اس کے سامنے شائد نہیں جانا چاہتا تھا۔

پر جا رہا تھا

***

سزا دینی تو مجھے بھی آتی ہے۔۔!!!

پر تم تکلف سے گزرو یہ ہمیں گوراہ نہیں۔۔!!

“ماشی پلیز آنکھیں کھولو۔۔،،آسام اس کا منہ تھپتھپا رہا تھا پر وہ اٹھنے کا نام ہی نہیں رہی تھی سانسیں بہت آہستہ چل رہی تھی۔

“افی۔۔م۔۔م۔۔ممم ماشی آنکھیں نہیں کھول رہی۔۔،،آسام اپنی آنکھوں کو بے دردی سے رگڑتے ہوئے بولا آنکھیں اتنی لال ہو چکی تھی کہ دیکھتے ہی ڈر لگتا۔افنان نے اس کے پھٹی ہوئی کرتی دیکھی تو ساگر کو گاڑی سے اپنا کورٹ لانے کو کہا

“سامی اس کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں ی۔۔یہ پہنا دو۔۔،،افنان نے جھجھکتے ہوئے اپنا کورٹ آسام کی طرف بڑھایا۔آسام نے جلدی سے پکڑ لیا اور ماشی کو تھوڑا اپنے ساتھ لگا کے کورٹ پہنا کر پھر سے اسے اٹھانے کی کوشش کرنے لگا۔۔آنسوں تھے کہ روک نہیں رہے تھے

“سامی تم پاگل ہو گئے ہو یار اسے اٹھاؤ اور ہوسپٹل لے چلو یار مر جائے گی ۔،،سامی کو کوئی ہوش نہیں تھا۔ آسام نے جلدی سے اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالا۔

ڈاکٹر کے پاس لے گئے وہاں جا کر جھٹکے لگے تھے انہیں۔

جب ڈاکٹر نے کہا دو دن سے لگاتار اسے ڈرگز دی جا رہی تھی جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہیں ڈرگز بہت زیادہ مقدار میں دی گئ تھی

“ٹ۔۔۔ٹھیک ہو ج۔۔جائے گی نہ ۔۔،،آسام لڑکھڑا گیا تھا اسے نہیں معلوم وہ کس سے سوال کر رہا تھا پر سر ہاں میں ہلا تھا وہ بیک وقت بھاگا۔

اور ہوسپٹل کے ساتھ والی مسجد میں جا گرا۔۔

ماشی ابھی ہوش میں نہیں تھی فہد اور اصغر لاہور سے نکال چکے تھے

ساگر اور جنید لوگ اسلام علیکم نکل گئے تھے۔

ہوسپٹل کے کوریڈور میں افنان اکیلا ٹہل رہا تھا۔ کوئی دو تین گھنٹے بعد ماشی کو ہوش آیا تھا۔

“انہیں ہوش آ گیا ہے مسٹر آسام کو وہ کب سے بلا رہی ہیں۔آپ مسٹر آسام ہیں۔،،ایک نرس باہر آ کر مسکرا کے بولی۔افنان نے حیرانگی سے اسے دیکھا اور ہاں میں سر ہلا دیا۔

“ابھی وہ پورے ہوش میں نہیں ہیں ہم نے انہیں انجکشن اور ڈریپس لگائی ہوئی ہیں انشااللہ وہ بہت جلد ٹھیک ہو جائے گی۔،،

افنان حیرانگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اتنی محنت کرتی ہے آسام سے کہ بے ہوشی میں بھی بلا رہی تھی۔

نرس افنان کو دیکھتی کھڑی رہی۔

افنان نے گہرا سانس لیا اور اندر چلا گیا۔

ماشی بیٹ پہ عروسی لباس میں ہی لیٹی ہوئی تھی۔اور ہاتھ کورٹ پہ تھا۔جیسے وہ جکڑے ہوئے تھی

بال بے ترتیب انداز میں بکھرے ہوئے تھے۔

“مجھ سے بھی زیادہ محبت ہے تمہیں سامی سے اتنی محبت کون کرتا ہے کسی سے۔۔۔۔،،افنان اس کے پاس بیٹھ گیا۔اور حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا

“آسام۔۔،،ماشی نے افنان کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔وہ ڈر رہی تھی۔آواز میں کرب تھا۔

افنان اسے دیکھتا رہا

وہ ابھی بھی وہ ایک نام ہی پکار رہی تھی

“آسام،،صرف آسام۔

افنان نے آنکھیں بند کر کے کھولی۔

“دل کر رہا ہے تمہیں گلے لگا لوں۔۔اور پیاری سی وہ مسکراہٹ تمہارے ہونٹوں پہ لے آؤں۔۔تمہیں ہوش میں لے آوں۔۔پر،،افنان نے اسے دیکھا

“آسام۔۔۔۔۔،،ماشی نے پھر سے پکارا افنان کے دل پہ اتھوڑے برسنے لگے اس نے ماشی کے ہاتھ کو جھٹک دیا اور

اٹھ کر پیچھے ہٹنے لگا اور دیوار کے ساتھ جا لگا۔

“میں تم سے نہیں ہار سکتا چاندنی۔۔۔تمہیں بھی نہیں ہارا سکتا۔۔۔کیسے کہوں کہ تمہیں توڑ سکتا ہوں ۔۔کیسے تمہیں مار دوں کیسے تمہیں زبردستی اپنا بنا لوں کیسے تمہیں اور سامی کو درد کے کنویں میں پھینک دوں کیسے۔۔۔کیسے چاندنی میں تمہیں بھولوں۔کسے چاندنی کیسے یار۔۔کیوں تم میری زندگی میں آئی۔۔۔افنان رندھاوا کو تم نے اپنا دیوانہ کیوں بنایا۔۔،،غصہ تھا افنان کے لہجے میں پر چہرے پہ درد تھا۔بے بسی تھی

“ت۔۔تم تو آسام کی ہو اور م۔میں۔،افنان نے اپنے بالوں کو جکڑ لیا۔

اس کی آنکھوں میں جلن ہونے لگی تھی۔۔۔سانس روکنے کو تھا۔

“ماشی ۔۔،،آسام کی آواز پر وہ چونک کر سیدھا ہو کھڑا ہو۔اور دیوار سے ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔

“ماشی تم ٹھیک ہو نہ۔۔میری طرف دیکھو۔۔،،آسام بیڈ پر بیٹھ کر بولا۔

“سامی یہ ہوش میں نہیں ہے پوری طرح۔،،افنان نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا

آسام نے بے اختیار ماشی کو گلے سے لگا لیا

“اللہ آپ کو کبھی کچھ نہ کرے۔،،آسام کی آواز بھر آئی تھی۔

ماشی نے کوئی ری ایکشن نہیں کیا تو آسام گھبرا گیا۔

“ک۔۔کیا ہوا۔۔،،آسام نے پہلے ماشی کو اور پھر افنان کو دیکھا۔

“تھوڑا انتظار کرو ۔۔،،افنان تھپکی دے کر ایک طرف کھڑا ہو گیا۔کچھ گھنٹوں کے انتظار کے بعد ماشی کو ہوش آنے لگا۔ ہوش میں آتے ہی وہ اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کرنے لگی اور پہلا سوال کیا

“آسام۔۔۔م۔۔مجھ سے نکاح کر۔ک۔۔کک۔کرو گے نہ یا۔۔۔،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتی آسام نے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا۔

“آج شام تک آپ میری ہو جائیں گی۔۔آپ فکر نہ کریں سب ٹھیک ہو گیا ہے وہ پکڑا گیا ہے ماشی ۔۔،،آسام نے بغور اسے دیکھا وہ نارمل نہیں تھی۔

آسام نے اسے لٹا دیا اور اٹھ کر افنان کے گلے جا لگا۔

” Thank you so much afi۔۔,,

آسام نے دل سے شکریہ ادا کیا۔

“بھلا وہ کیوں۔۔۔کم اون برو۔۔اب یہ میرے ساتھ تو مت کرو۔۔،،افنان نے اس کے بالوں کو ایک طرف کیا جو آنکھوں میں آ رہے تھے آسام ہس کر پھر سے اس کے گلے لگ گیا۔

“اب چلو۔۔اپنی حالت درست کر لو۔تمہارے سسرال والے آ رہے ہیں،،افنان نے ماشی

کو بھی دیکھا جو دنیا میں ہوتے ہوئے بھی نہیں تھی۔

“میری ماشی کا اس دریندے نے کیا حالت کر دی ہے،،آسام نے آنکھیں مند لی

“سب ٹھیک ہو جائے گا سامی۔۔،،

افنان نے اس کے کاندھے پہ تھپکی دی

آسام ماشی کے پاس جا بیٹھا۔۔اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔

“بہت جلد آپ ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔،،آسام نے یقین دلایا پر اس کی آنکھوں میں اداسی تھی۔

افنان وہاں زیادہ دیر کھڑا نہ رہ سکا الٹے قدموں سے وہ باہر بھاگ گیا

******

نائٹ فنیکشن ارینج کیا تھا۔ بس گھر کے ہی لوگ تھے سب ماشی کو گرم جوشی سے ملے تھے بہت پیار کیا تھا پر وہ کچھ نہ بولی۔

“ماشی کیا کیا اس نے تمہارے ساتھ بتاؤ مجھے۔۔میری قسم بولو ۔،،عشرت نے اس کا ہاتھ اپنے سر پہ رکھ کر کہا

“تمہیں میرے ہونے والے بچے کی قسم ماشی بولو ایسے چپ رہو گی تو جی نہیں سکو گی۔پلیز میری جان بولو۔ ۔،ماشی نے چونک کر اسے دیکھا۔

“عشو۔۔،،ماشی بے اختیار اس کے گلے سے لگ گئ اور رونے لگی۔

“عشو وہ مجھے مارتا تھا ب۔۔بہت بری طرح پٹتا رہا دو دن میرے جسم کو بیلٹ سے پٹا ہے اور ڈ۔۔۔ڈرگز۔۔۔دیتا رہا ہے مجھے۔۔عشو م۔۔میں نے اپنی بہن کے کئے کی سزا بھگتی ہے۔۔یہ۔۔یہ دیکھو۔،،ماشی نے عشرت کے سامنے گردن کی۔

“ی۔۔یہ دیکھو۔۔،،ماشی روتے ہوئے اسے کبھی اپنے بازو دیکھاتی تو کبھی کمر کبھی ٹانگ۔

کھڑکی میں کھڑے آسام کی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔

“اور تمہاری عزت پہ تو چوٹ نہیں آئی نہ۔۔،،عشرت نے اس کے آنسوں صاف کر کے خوفگی سے سوال کیا۔آسام جاتے جاتے روک گیا

“اگر میں ۔میں مار نہ کھاتی تو جسم پہ نہیں روح پہ داغ لگتا میں کیسے اپنی عزت تباہ ہونے دیتی۔بہت کوشش کی اس نے پر ہر بار ناکام ہو جاتا تھا جب اس نے مجھے ڈرگ دی تھی۔۔تو گاڑی میں ڈال کر کہیں لے گیا پھر میری آنکھ میرے آسام کے پاس کھولی۔۔۔،،ماشی نے آنکھوں کو رگڑا اور کپڑے اٹھا کر واش روم میں چلی گئ آسام بھی کمرے میں چلا گیا۔

“ایس پی صاحب وہ بازف کو ایسی سزا دینا کہ مرتے دم تک یاد رکھے۔۔اگر باہر نکلا تو میں اسے اڑا دوں گا۔۔۔اس کو وہاں سےکوئی بھی نہیں نکال سکے understand۔۔،،آسام کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ خود اسے جا کر مار مار کر جان سے مار دے۔

سعدیہ نے آسام کو بہت باتیں سنائی تھی پر اس نے بھی صاف کہ دیا کہ ماشی سے نکاح کرے گا نہیں تو کسی سے نہیں۔

“دو دن وہ غائب رہی ہے کیا پتا اس نے کیا کیا گل کھلائے ہوں اور تم۔۔۔،،آسام کو افنان تیار کر رہا تھا جب وہ کمرے میں آ کر پھر سے بولنے لگی۔

“موم موم اپنی گھٹیا باتیں اپنے پاس ہی رکھو اور فل حال یہاں سے جاؤ۔۔،،افنان ان کے سامنے آ کر بولا وہ دنگ کھڑی دیکھتی رہی پھر جلدی سے باہر چلی گئی۔

“افی تمہیں ایسا بی ہیور موم کے ساتھ نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔،،آسام بیڈ پہ بیٹھتے ہوئے بولا۔

“بیٹھ کیا رہے ہو مولوی صاحب اور بھابھی صاحبہ آپ کا انتظار کر رہی ہیں چلو۔۔،افنان نے اسے پکڑ کر اٹھایا۔آسام کے ہمراہ وہ بھی چل دیا

آسام وائٹ کلر کی شیروانی میں ملبوس تھا۔جبکہ افنان بٹنوں والی black شرٹ اور جینز میں ملبوس تھا

آسام نے صوفے پر بیٹھتے ہی فہد اور ثاقب کو دیکھا ماشی کہاں ہے اشارے میں پوچھاگیا وہ دونوں شلوار قمیض میں ملبوس بہت ہینڈسم لگ رہے تھے

ثاقب اور فہد نے ایک دوسرے کو دیکھا اور دونوں کا کہکہا بے اختیار تھا

افنان نے اس کے کاندھے پہ تھپکی دے کر ایک طرف اشارہ کیا آسام کی نظر ادھر پڑی تو پلٹنا

بھول گئ۔

ماشی ہلکے سے کام والی مہنگی ترین وائٹ فراک میں ملبوس تھی۔ایک ڈوپٹہ جو سر پہ تھا اور ایک بڑا سا ڈوپٹہ جو ایک کاندھے پر سیٹ کیا ہؤا تھا

کوئی میک اپ نہیں تھا تھوڑی بہت جویلری پہنے وہ کھوئی کھوئی لگ رہی تھی خوشی چہرے پہ تھی پر ڈر زیادہ تھا۔ آسام کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئ۔

“میں ابھی آتا ہوں۔۔،،افنان ،آسام کے کان میں کہ کر ماشی کے پاس سے گزر کرایک طرف چلا گیا۔

ماشی کو آسام کے ساتھ بیٹھا دیا گیا۔ماشی نے نظریں گھما کر اس کی طرف دیکھا۔

آسام نے بھی دیکھا۔ماشی اس کی آنکھوں کے گلے کو پڑھ چکی تھی

ماشی کی آنکھوں میں اداسی آسام کو اپنے اندر اتارتی محسوس ہوئی۔

“آپ خوش تو ہیں۔۔،،آنکھوں میں ہی پوچھا گیا۔اور ہاں میں سر ہلا دیا ہلکی سی مسکراہٹ ہونٹوں کو جب چھوئی تو آسام کے وجود میں جان آئی

ماشی نے سر جھکا لیا پیپرز اس کے سامنے رکھے جا چکے تھے اسے سوچنا پڑا

“میں آپ سے محبت کرتی ہوں پر کیا میری محبت آپ کو زندگی میں آگے بڑھنے دے گی۔۔

کل کو اگر کوئی ایسی بات ہوئی تو کیا آپ۔۔میں یہ کیا کرنے جا رہی ہوں۔۔،،وہ اٹھنے لگی پر آسام نے اس کا پین والا ہاتھ تھام لیا اور نفی میں سر ہلایا۔وہ سمجھ گیا تھا کہ اسے آسام کی فکر ہونے لگی تھی۔

“پلیز۔۔۔،،آسام کے ایک “پلیز،، میں درخواست تھی بے بسی تھی محبت تھی۔اسے پانے کی چاہت تھی۔

“میں اپنی ساری زندگی آپ کے نام لکھتی ہوں آسام۔پر میری زندگی میں بہت کروہٹیں ہیں مجھے جینا نہیں آتا پر میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں ۔۔،،

ماشی نے پیپرز اٹھا کر خود کو اس کے نام کر دیا۔

اور ایک نظر اس پہ ڈالی جو مسکرا رہا تھا۔

نکاح نامہ اب آسام کے ہاتھ میں تھا۔

“میری زندگی تمہارے نام کی ماشی۔۔۔۔میری ہر خوشی تم سے شروع ہو گی اور تم پہ ختم۔میں آپ کو جینا سیکھاؤں گا آپ کے ہر ڈر کو جڑ سے نکال پھینکوں گا۔اور ہمشہ آپ کے ساتھ رہوں گا،،آسام نے سائن کر دیئے اور مسکرا کر ماشی کو دیکھا دونوں کی نظریں ملی ماشی کے بے جان وجود میں پھر سے جان آنے لگی تھی جہاں وہ دونوں محبت کے وعدے کر رہے تھے وہاں

دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے افنان نے ہونٹوں کو دانتوں میں دبا کر آنکھیں مند لی ایک آنسو زمین پر جا گرا۔

” Happy new life Mr. Afnan Randhawa…,,

افنان نے ٹائی کھول کر پھینک دی اور بوتل منہ سے لگا کرباہر نکل گیا۔وہ خود ہارا تھا خود اپنی محبت کو اپنے ہی بھائی کے حوالے کر دیا تھا۔کیونکہ اسے نہیں منظور تھا کہ اس کے پیچھے وہ اپنے بھائی کو توڑ دے۔

“جتنی چاہت سے تجھے چاہا تھا۔

اتنی چاہت سے تو کچھ نہیں چاہا۔

بھول جاؤں گا میں اس انسان کو جس نے جھے پاگل کر دیا تھا۔گڈ بائے چاندنی۔،،ایک نمبر پر میسج سینڈ کیا اور

وہ گاڑی میں بیٹھ گیا۔پتا نہیں میسجز ماشی کو ملتے بھی تھے یا نہیں یہ وہ نہیں جانتا تھا۔

پر جو وہ کہ نہیں سکتا تھا وہ میسج کر کے دل ہلکا کر لیتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *