Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 30,31)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 30,31)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
لاکھ مٹھاس سہی تیرے لہجے میں!!!
پر تیرا اوروں سے بات کرنا زہر لگتا ہے۔!!!
ثاقب لاہور سے واپس آیا تھا اس بار اسے مایوسی نہیں ہوئی باپ سے تھوڑی سی ناراضگی کی اور پھر مان گیا آخر باپ تھا اور کلثوم بھی جو اسے بہت پیار کر چکی تھی شان نے بھی اسے قبول کر لیا تھا۔
اصغر نے اپنے بیٹے کو سب بتا دیا تھا بہت دیر آنسوں بہانے کے بعد اصغر نے منزہ کی آخری نشانی بیٹٹے کے گلے میں ڈال دی تھی
اب وہ بائمہ کی ماں سے کیا ہوا وعدہ پورا کرنے کے لئے کھڑا تھا
“بائمہ کہاں ہے۔۔،،دروازہ چاچی نے کھولا تھا
“ا۔۔اندر ہے آپ کون۔،،وہ ثاقب کے ساتھ پولیس کو دیکھ کر گھبرا گئ۔پولیس نے دروازہ کھولا اور اندر چلے گئے۔چندو کرسی پہ بیٹھا تھا گھبرا گیا۔بائمہ کے ہاتھ سے تھالی گر گئ۔
“ہیرو۔۔،،پنار بھاگ کر ثاقب کے پاس آئی تو اس نے پنار کو پیار دیا اور چندو کی طرف بڑھا۔
“اسے گرفتار کر لو ۔،،ثاقب نے ماتھے پہ بل ڈال کر کہا۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی ۔
“تم چپ رہو گی دو منٹ پلیز۔،،بائمہ کی آواز گلے میں ہی دبا دی گئی تھی۔
“چل شہزادے تجھے سسرال لے چلیں اٹھ کمینے ۔،،ایس پی نے ایک پولیس والے کو اشارہ کیا تو اس نے چندو کو ہاتھ کڑی پہنا دی۔
“تیرا بوس تو جیل میں ہے یعنی میر عوان اب تو بھی جا اور آئندہ میری بائمہ پہ گندی نظر ڈالی تو انجام بہت برا ہو گا۔،، ثاقب نے چندو کو غصے سے دیکھا ۔بائمہ منہ پھاڑے دیکھنے لگی
“اب خوش ہیں نہ آپ میں نے تو اپنا وعدہ پورا کیا اب آپ اپنا وعدہ پورا کریں۔،،ثاقب بائمہ کی ماں کے پاس بیٹھ کر بولا تھا سب حیران کن آنکھوں سے وہ سب دیکھ رہے تھے۔
کیا چل رہا تھا کوئی سمجھ نہیں رہا تھا۔
“جیتے رہو میرے بچے باؤ ادھر آ۔،،ماں نے بائمہ کا ہاتھ پکڑ کر ثاقب کے ہاتھ میں دے دیا۔
“میری بیٹی
آج سے تمہاری ہوئی۔جاؤ لے جاو۔،،ماں کی بات سن کر بائمہ کے ہوش گم ہونے لگے۔
“ارے یہ کیا کہ رہی ہو یہ چندو کی۔،،
“تھی پر اب میری ہے۔،،چاچی کی بات پوری ہونے سے پہلے ثاقب بول پڑا۔
“یہ لیں ماں آپ کے گھر کی چابی آج سے آپ اور پنار وہاں رہیں گی۔،،ثاقب پھر سے ماں کی طرف متوجہ ہوا
“میں اپنی ماں کے پاس رہوں گی سمجھے تم۔،،بائمہ جو تب سے چپ بیٹھی تھی یکدم بولی
“شادی کے بعد اچھی بیویاں اپنے شوہر کے پاس رہتی ہیں۔،،ثاقب نے آنکھوں میں شرارت اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ سجا کر کہا تو بائمہ چھنپ گئ۔
“جاؤ بیٹا اللہ کی امان۔میں تو تم دونوں کی شادی دیکھنا چاہتی تھی پر آپ کی آج کی فلائیٹ ہے۔،،ماں نے باری باری دونوں کی پیشانی چوم کر کہا۔ثاقب نے بائمہ کے ہاتھ پہ دباؤ بڑھا دیا۔اس نے آنکھیں سکوڑ کر اس پیارے سے چشمیش کو دیکھا۔جو بہت پرکشش لگ رہا تھا.
“نہیں ماں آج کی نہیں تین دن بعد فل حال میں لاہور جا رہا ہوں آپ سب میرے ساتھ چلیں ہماری شادی وہاں ہی ہو گی۔میری فیملی کے ساتھ ملک ہاؤس۔،،ثاقب نے اٹھتے ہوئے کہا بائمہ کا ہاتھ ابھی بھی اس کے ہاتھ میں تھا۔ماں بھی اٹھ کھڑی ہوئی ۔پنار اچھلنے کودنے لگی۔
“یہ سب کیا چل رہا ہے میرا ہاتھ چھوڑو۔،،
“نہیں باؤ اب یہ ہاتھ کبھی نہیں چھوڑوں گا۔زیادہ نخرے دیکھائے تو اٹھا کر لے جاؤں گا انہوں نے مجھے اجازت دے دی ہے۔،،ثاقب اس کی طرف جھک کر بولا.ماں نے کہکہکا لگادیا۔
“میرے ساتھ چلو۔ ،،بائمہ اس کا ہاتھ پکڑ کر کمرے کی طرف بڑھ گئ کمرے کا دروازہ بند کر کے وہ اس کی طرف بڑھی۔
“دیکھو۔،،
“کیا۔۔،،
“میں ویسی نہیں۔،،
“کیسی نہیں۔،،ثاقب نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھ کر مسکرا کر کہا۔
“چپ کر کے میری بات سنو پھر کہو گے مجھے دھوکے میں رکھا۔،،بائمہ نےاس کے منہ پہ اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ثاقب مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھتا رہا
“پھر تم کہو گے مجھے اندھرے میں۔،،وہ نظریں جھکا گئ دل دھڑکنے لگا تھا ہاتھ
ابھی بھی ثاقب کے ہونٹوں پہ تھا۔وہ انجانے میں اس بے چارے کو دیوار کے ساتھ فٹ کر چکی تھی
“نظریں جھکاؤ ۔،،بائمہ نے دوسرے ہاتھ سے اس کا چشمہ اتارا اور اس کی آنکھوں پہ رکھ دیا۔ثاقب کو اس حرکت پہ ہنسی آ گئ۔
“کھکھی ۔مت کرو ۔،،بائمہ نے اپنے ہاتھ کا دباؤ بڑھا دیا۔
“ہاں تو میں کہ رہی تھی میں تمہارے لائک بلکل بھی نہیں ہوں جیسی ہر لڑکے کی خواہش ہوتی ہے اس کی بیوی پاک صاف ہو میں ویسی نہیں ہوں۔بعد میں تم پچھتاؤ گے اس لئے میں تمہیں کہ رہی ہوں چلے جاو۔،، بائمہ اپنی بات پوری کر کے پیچھے ہو کر اسے دیکھنے لگی ۔جو اپنی ہنسی کو کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا
“آپ جیسی بھی ہیں میری ہیں اب زیادہ نخرے نہ کر چل میرے ساتھ ۔،،ثاقب اسی کے انداز میں بولا اور ہاتھ پکڑ لیا۔۔وہ حیران کن آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی
“آج یہ نخریلو محبت کیسے برسا رہا ہے۔،،بائمہ نے پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا اور دل میں سوچا
“آئی لو یو۔،،ثاقب نے اپنے ہونٹ اس کے کان کے پاس کر کے کہا تو وہ آنکھیں مند گئ۔دل دھڑکنے لگا
“سوچ لو۔۔،،بائمہ نے اسے دھکا دے کر کہا
“ہوں۔۔۔،،ثاقب انگلی ہونٹ پہ رکھ کر سوچنے لگا۔
“سوچ لیا۔چل اب ۔،،ثاقب نے پھر سے اسی کے انداز میں کہا تو وہ ہسنے لگی ثاقب بھی ہسنے لگا۔
“ماں کو کب پٹایا۔،،بائمہ نے آنکھوں کو سکوڑ کر کہا
“ہاہاہاہا۔۔بعد میں بتاؤں گا وہاں ہماری شادی کی تیاریاں چل رہی ہیں چلو۔،،ثاقب نے آنکھ دبا کر اس کا ہاتھ پکڑا اور دروازہ کھول کر باہر چل پڑا ماں اور پنار ریڈی تھی چاچی نے حسرت سے ان دونوں کو دیکھا۔
“شادی ابھی۔۔،،بائمہ نے ماں اور پنار کی تیاری کو دیکھا۔
“جی ابھی نہیں کل۔،،ثاقب کے انداز پہ وہ شرما گئ
********
“نمرہ میرا بڑا بھائی بھی ہے واؤ ۔وہ بھی اتنا انٹیلجنٹ مجھ پہ گیا ہے ۔،، شان پھولوں کی ٹوکریاں رکھوا رہا تھا وہاں شادی کی تیاریاں عروج پہ تھی
“ابے کدو شریف جلدی کر اور بھائی تم پہ نہیں تم گئے ہو بھائی پہ ۔،،نمرہ مین دروازے سے لے کر ثاقب کے کمرے تک پھول بیچھا رہی تھی کرمو کے ساتھ مل کے
“ارے بیگم جان کہاں ہیں یہ میرا بٹن تو لگا دیں۔،،اصغر اپنے کمرے سے نکل کر بولا۔
“اوہ ہو یار۔۔۔آپ بھی نہ کوئی اور شرٹ پہن لیتے ،،کلثوم ہاتھ صاف کر کے بٹن لگانے لگی۔وہ صبح سے کیچ میں تھی طرح طرح کے پکوان بنا کر فریج میں رکھ رہی تھی۔
“کیا بات ہے بھائی بہو اور بیٹے کی خوشی میں شوہر کو ہی بھول گئ۔،،اصغر نے کلثوم کو اپنے قریب کر لیا
،”کیا کر رہے ہیں بچے دیکھ رہے ہیں۔،،کلےعم شرما گئ۔
“شکریہ کلثوم آپ نے میرے بیٹے کو قبول کر لیا۔میں آج بہت خوش ہوں۔،،اصغر اور کلثوم ایک ساتھ چلتے تیاریاں دیکھ رہے تھے جو عروج پہ تھی
“وہ میرا بھی بیٹا ہے اور میں وعدہ کرتی ہوں ثاقب کو کبھی شان سے کم پیار نہیں دوں گی۔،،کلثوم نے اصغر کے ہاتھ کو پکڑ کر وعدہ کیا۔
“ارے ارے ماما پاپا بس کریں ۔،،شان ان کے پاس سے گزر کر بولا تو وہ ہسنے لگے۔
“چلیں میں اب چلتا ہوں ہوسپٹل سے کال آئی ہے۔،،اصغر نے مسکرا کر کہا۔
“ٹھیک ہے جلدی آ جائے گا بہو اور بیٹے سے پہلے۔،،کلثوم نے اصغر کو ٹائی لگا کر کہا۔
اور وہ مسکراتا چلا گیا۔
/*****
“آپ یہاں ویٹ کریں میں اندر سے ہو کر آتا ہوں۔ ثاقب نےماں بائمہ ، پنار کو دیکھ کر کہا اور فائل اٹھا کے رندھاوا ہاؤس کی طرف بڑھ گیا۔
“معروش کو بلا دیں۔،،ثاقب نے ملازمہ کو کہا اور صوفے پہ ٹک گیا۔سفر سعدیہ اور باقی سب بھی لاؤنچ میں جمع ہو گئے تھے
“ماموں آپ نے میرے نام جو کچھ بھی کیا تھا سارے شیئرز،فلیٹز،لاکرز کی چابیاں سب یہ رہی ۔آپ لوگوں کے احسانات میں نہیں اتار سکتا مجھے پال پوس کے بڑا کیا۔،،ثاقب اٹھ کھڑا ہوا۔
“بیٹا یہ سب تمہارا ہے۔،،
“نہیں ماموں۔۔جو میرا ہے میں وہاں جا رہاہوں اپنے ڈیڈ کے پاس۔۔شادی کر رہا ہوں آپ لوگ آئیں گے تو مجھے اچھا لگے گا۔،،ثاقب نے بات مکمل کی ۔وہاں خاموشی چھا گئی تھی۔
تھوڑی دیر بعد پائل کی آواز پہ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔اور مڑ کر ماشی کو دیکھنے لگا جو سر پہ دوپٹہ لے کر اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔چند قدم کے فاصلے پر وہ روک گئی۔
“ماشی۔۔،،ثاقب نے بولنے کے لئے ہونٹ کھولے پر لفظ نہیں ملے۔
“بھیا۔۔،،دو منٹ کی خاموشی کے بعد ماشی بھاگ کر ثاقب کے گلے جا لگی۔
” تمہارے بھائی کی شادی ہے چلو گی نہیں میرے ساتھ۔۔،،ثاقب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا
“سچی کب بھیا۔۔بتایا ہی نہیں ابھی تو ساری تیاریاں ہونی ہے۔،،آسام باہر سے آتے ہوئے بولا۔
“تیاریاں شروع ہیں میرے اپنے گھر چلو گے ۔،،آسام نےحیرانگی سے ثاقب کو دیکھا۔
“تم دونوں سے اکیلے میں بات کرنی ہے چلو۔،،ثاقب نے دونوں کے درمیان کی دوری کو محسوس کیا تھا۔وہ لان کی طرف بڑھ گئے
“دیکھ آسام رشتے جوڑنے آسان ہوتے ہیں پر نبھانے بہت مشکل تم دونوں کے درمیان یہ دوریاں اچھی نہیں لگتی ۔،،ثاقب آسام کو ماشی سے تھوڑا فاصلے پر لے گیا۔
“بٹ بھائی میں نے تو بہت کوشش کی ہے اس کے دل میں کوئی غلط فہمی ہے تین دن سے بات نہیں کر رہی اگنور کر رہی ہے ۔،،آسام نے بے بسی سے کہا
“کیوں ایسا کیا ہو گیا اور افی کہاں ہے۔،،
“وہ بھی چلا گیا۔،،آسام نے ساری بات سنا دی
“واٹ افی اور فہد ٹونز ہیں بٹ ۔۔اوہ ایک اور گناہ ۔۔،،ثاقب نے سر تھام لیا۔
“افی کہاں گیا ہے۔،،ثاقب نے فکر مندی سے سوال کیا۔
آسام نے نفی میں سر ہلا دیا۔
“بھائی ماشی کو منا دیں نہ آپ کی تو بہن ہے پلیز۔،،آسام نے التجاء کی
“ہاہاہاہا ایک منٹ روک۔،،
“ماشی یہاں آؤ۔۔،،ثاقب نے ماشی کو اپنے پاس بلایا
“اس سے ناراض کیوں ہو۔۔،،
“کیوں کہ اس نے مجھے منایا نہیں ۔،،ماشی نے منہ موڑ لیا۔
“چلو اب غصہ تھک دو بھائی کی بات مان لو۔میں باہر ویٹ کر رہا ہوں تم دونوں کا یہ ناراضگی یہاں ہی چھوڑ کے آنا ۔،،ثاقب وارننگ دے کر چل دیا۔
“ایم سوری جان ۔،،آسام نے جلدی سے ایک پھول توڑا اور اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
“آسام میں آپ سے ناراض نہیں ہوں۔ماں، ماں ہوتی ہے بیوی ، بیوی۔میں جانتی ہوں بٹ دو دن آپ نے مجھے دیکھا تک نہیں آپ مجھے اگنور کرتے رہے۔،،ماشی روہانسی ہونے لگی۔
“کیا میں۔۔،،آسام کو حیرانگی ہوئی
“ہاں آپ آپ نے مجھے اگنور کیا۔،،ماشی رونے لگی۔
“نہیں آپ مجھے اگنور کرتی تھی۔،،
“نہیں آپ میں آپ سے بات کرنے کی کوشش کرتی تھی پر آپ۔۔،،ماشی نے غصے سے کہا
“اچھا بابا ایم سوری۔۔،،آسام نے کان پکڑ کر کہا۔
“سیٹ سٹینڈ کرو۔،،ماشی نے سینے پہ ہاتھ باندھے ہوئے کہا
“ٹھیک کہتے ہیں عورتیں اپنی بات منوا کر رہتی ہیں۔،،آسام منہ بسورے کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کرنے لگا۔
“بس کریں۔۔،،ماشی نے اسے روک دیا اور اس کے سینے سے لگ گئ۔
“ایم سوری آسام۔۔,,
“نہیں جان۔۔آپ کیوں کر رہی ہیں سوری اچھا اب یہ سب چھوڑیں اور تیاری کر لیں ۔،،
“ایسے کیا غلط ہے۔۔،،وہ دونوں چلتے لاؤنچ میں آ گئے
وہاں سب خاموش کھڑے تھے
“آسام آپ نہیں جائیں گے۔۔،،ماشی نے خاموش کھڑے آسام کو دیکھا۔
“تم دونوں چلے جاؤ۔،،آسام نے بولنے کے لئے منہ کھولا تھا جب سفر نے آ کر کہا
آسام دیکھتا رہ گیا۔
سفر نے آسام کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر ہاں میں سر ہلا دیا۔
“ماشی جلدی سے باہر کی طرف بڑھ گئ۔
“ارے ریڈی تو ہو لو۔۔،،آسام نے مسکرا کے کہا
“ٹائم نہیں ہے چلو۔۔،، ماشی نے ریشمی ڈوپٹہ پکڑ کر کہا۔
آسام کو اس کے جلد بازی پہ ہنسی آ گئ وہ سفر کے گلے لگا اور سعدیہ پھر اس کے پیچھے چلا گیا انہوں نے ابھی شاپنگ کرنی تھی
****
“افنان پلیز مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو۔،،نگینہ نے التجاء کی تو افنان بیڈ پہ لیٹ کر اسے دیکھنے لگا۔شفاف سفید چہرہ بہت خوبصورت تھا۔اس نے ایک جھٹکے سے اسے اپنے بہت پاس کھینچ لیا۔
“نگینہ تم بہت خوبصورت ہو،پر میں چاندنی سے بہت محبت کرتا ہوں اتنی محبت اتنی محبت کہ میری رگوں میں چاندنی ہے۔میری سانسوں میں چاندنی ہے میرے دل میں چاندنی ہے۔پر میری زندگی میں چاندنی نہیں ہے پتا نہیں وہ خوش بھی ہے کہ نہیں۔پتا ہے نگینہ میں اس کے ساتھ زبردستی کر سکتا اس کے ساتھ زبردستی نکاح کر سکتا تھا پر اس کے دل کی سلطنت پہ راج نہیں کر سکتا تھا۔ایک یہ محبت ہی تو ہے جس نے مجھے ہرا دیا چاندنی نے مجھے ہرا دیا اسے حق ہے میرے دل پہ صرف اس کا راج ہے۔۔پر میں بہت برا ہوں۔۔ہوتا بھی کیوں نہ میرا وجود ہی میرے ماں باپ نے چھین لیا۔,،،وہ رونے لگا تھا نگینہ نے اسے دلاسہ دینا
چاہا پر وہ اٹھ گیا۔
“اب تم ہی بتاؤ تم میرے ساتھ کیسے رہو گی مجھے جب غصہ آتا ہے تو اگلے بندے کا لحاظ نہیں کرتا سوچو اگر کبھی میں نے تمہیں مارا تو ۔میں ظالم ہوں بہت ظالم بس چاندنی کے لئے نہیں۔پر سکون مجھے صرف تمہارے پاس ملتا ہے چاندنی کے پاس بے سکونی ملتی ہے ،،افنان نے بوتل منہ سے لگا لی۔
“تم مجھے مار بھی دو تو مجھے قبول ہے پر مجھے تمہارے پاس رہنا ہے۔افنان میں۔تم سے۔،،نگینہ اٹھ کر اس کے پاس آ گئ۔
“کیا مجھ سے محبت کرتی ہو جانتا ہوں۔۔،،افنان نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“تو پھر ۔۔۔۔مجھے معاف کر دینا میں بھول گئ کہ میں طوائف ہوں مجھے نارمل لڑکی والی زندگی گزارنے کا کوئی حق نہیں۔،،نگینہ مڑنے لگی پر افنان نے اسے پکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔
“ہے میری جان پر میں تمہیں محبت نہیں دے سکوں گا۔اور جسمانی محبت کو تم کیا کرو گی۔،،افنان نشے میں دھت ہو کر بیڈ پہ گر گیا وہ دو دن سے وہاں ہی تھا۔
“افنان جب سے تم میری زندگی میں آئے ہو تمہارے سوا مجھے کسی نے نہیں چھوا۔ میں چاہتی ہوں ہمشہ تم ہی مجھے چھوؤ۔تم بہت اچھے ہو کبھی غلط فایدہ نہیں اٹھایا۔ہمشہ ایک حد تک رہے ہو جانتے بھی تھے میری کوئی عزت نہیں پھر بھی میری عزت کی۔
تو کیسے کہوں تم برے ہو۔،،نگینہ اس کے پاس گرتے ہوئے بولی۔افنان اسے دیکھنے لگا
“چلو تیاری کر لو پھر ۔،،افنان نے اس کے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے کہا۔
“قسم سے۔۔ت۔تم مجھے ساتھ لے جاؤ گے۔،،نگینہ نے افنان کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں تھام لیا۔افنان نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
اور آنکھیں مند لی
“پر میں تم سے کبھی محبت نہیں کر سکوں گا۔شادی بھی نہیں کر سکوں گا۔،،وہ بولا اور سو گیا
نگینہ نے اس کے سینے پہ سر رکھ لیا
“محبت کرتی ہوں میں تم سے اس درد سے ضرور آزاد کروں گی۔کیا ہوا میں تمہاری چاندنی کی طرح پاک نہیں پر کوشش کروں گی ۔،،افنان کے ماتھے پر ہونٹ رکھ کر وہ
اٹھ کے نیچے کپڑا بیچا کر لیٹ گئ۔
کیونکہ وہ جانتی تھی اس کی وہ جگہ نہیں تھی جہاں وہ لیٹی ہوئی تھی۔
توڑ کر پھینک نہ سینہ سے لگا لے مجھ کو
میں ہوں آئینہ تو پہلو میں بٹھا لے مجھ کو
اے چراغِ شبِ غم تجھ سے نہیں کوئی گلہ
اپنا پروانہ سمجھ اور جلا لے مجھ کو
تیرنا سیکھنا چاہوں بھی تو کیسے سیکھوں
کر دیا موجوں نے طوفاں کے حوالے مجھ کو
کیا عجب ہے کہ مری زیست کا پاسا پلٹے
جان جاناں تو اگر اپنا بنا لے مجھ کو
تیرا از راہِ کرم مجھ سے مسلسل ملنا
ڈر رہا ہوں کسی مشکل میں نہ ڈالے مجھ کو
زندہ رکھنا ہے تو سو طرح سے مجبور نہ کر
ورنہ یارب تری دنیا سے اٹھا لے مجھ کو
رہرو راہِ محبت ہوں گنہگار نہیں
کوچۂ یار سے کیوں کوئی نکالے مجھ کو
کبھی منزل کی تمنا میں قدم بڑھتے ہیں
روک دیتے ہیں کبھی پاؤں کے چھالے مجھ کو
شدّت رنج و الم نے کیا بے جاں ناظرؔ
لڑکھڑاتے ہیں قدم کوئی سنبھالے مجھ کو
٭٭٭
ثاقب اور بائمہ کا آج نکاح تھا۔نکاح پہ بس اپنے اپنے ہی تھے۔باہر کا کوئی افراد نہ ہونے کے باوجود حویلی میں شور کا ماحول تھا کیونکہ نمرہ اور شان نے شور مچا رکھا تھا۔ماشی عشرت کو دن میں کئ بار کال کر چکی تھی اور اسے خاصی سنا چکی تھی کہ وہ وہاں جا کر بیٹھ ہے اور یہاں ماشی اکیلی بائمہ کو سجا سنوار رہی تھی
“بھابھی،گھبرا رہی ہیں۔ہوتا ہے میرے ساتھ بھی ہوا تھا۔۔،،ماشی اسے سجا رہی تھی۔آج ان کا نکاح تھا بائمہ گھبراہٹ کے مارے ناخنوں کو چبائے جا رہی تھی
“ہاں تھوڑی بہت ہو رہی ہے۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ خواب یوں بھی پورے ہوتے ہیں واقع ہی ایک شہزادہ سڑک پہ پڑھی لڑکی کو اٹھا کر لے جاتا ہے۔،،بائمہ نے ماشی کا ہاتھ پکڑ لیا۔دو دن میں وہ دونوں اچھی دوستیں بن گئ تھی۔
“اللہ سب ٹھیک کرتا ہے وہ جو کرتا ہے ٹھیک کرتا ہے بہتری چھپی ہوتی ہے انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔سب اللہ پہ چھوڑ دینا چاہئے۔،،ماشی نے بائمہ کی گال پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔
“بڑی انٹیلجنٹ ہو۔۔بلکل اپنے بھائی کی طرح۔۔،،بائمہ نے اس کی ناک دبائی۔
“ہاہاہاہاہاہاہا اب آپ تھوڑی ریسٹ کر لیں فنیکشن بہت لمبا چلنے والا ہے ۔،،ماشی نے آخری نظر اس کی تیاری پہ ڈالی ۔اور ساڑھی ٹھیک کرتی جانے لگی بائمہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“اللہ تمہیں بری نظر سے بچائے۔،،بائمہ نے اس کی نظر اتاری تو ماشی ہسنے لگی۔
“اور آپ کو میرے بھائی کی نظر سے بچائے۔،،ماشی نے شرارت سے کہا۔
“آپی بھائی آسام آپ کو بلا رہے ہیں۔،،نمرہ نے کہا تو ماشی بائمہ سے اجازت لے کرباہر نکل گئ۔
“بول۔۔،،وہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی ہی تھی کہ آسام نے فٹ سے دروازہ بند کر دیا اور اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ماشی ہڑبڑا گئ
“افف یہ آنکھیں۔۔،،آسام نے آنکھوں میں شرارت بھر کر ماشی کے بالوں کو ایک انگلی سے پیچھے کر کےکہا۔ماشی کی آنکھیں پھٹ گئی۔
“افففف یہ ۔۔،،وہ ہاتھ کمر پر لے جا رہا تھا جب ماشی نے اس کے پاؤں پہ پاؤں مارا تو وہ کہرا کر دور ہو گیا
“چھچ۔چھچ۔۔بچارا ۔ہاہاہاہا پکڑ کے دیکھاؤ۔ہمت ہے تو،،ماشی دروازہ کھول کر بولی اور بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کیا اور بھاگی
“ایک رندھاوا کی ہمت کو للکارا آپ نے ابھی بتاتا ہوں۔،،وہ بازو فولڈ کرتا اس کے پیچھے بھاگا
وہ آگے تھی اور آسام اس کے پیچھے۔ماشی کی پائلز کی آواز پوری حویلی میں گونج گئ تھی۔
“ارے سنبھال کے ماشی ہاہاہاہا یہ بچے بھی نہ۔۔،،شگفتہ اور کلثوم اپنے کمرے سے نکل کر بائمہ کے پاس جا رہی تھی۔
“پکڑو پکڑو۔۔ہاہاہاہا۔،،ماشی نے پیچھے مڑ کر دیکھا ہاتھ اپنا آسام کی طرف کیااور پھر سے بھاگنے لگی۔
“بیگم جان روکو ۔۔،،آسام نے
اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا پر وہ پھرتی سے ستون کے گرد چکر کاٹتی ایک طرف بھاگنے لگی بال جھوم رہے تھے پائل کی آواز گونج رہی تھی پر یکدم اس کے پیر رک گئے۔
آسام نے دھیان نہیں کیا سامنے اور ماشی کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“اب بھاگ کے دیکھائیں بیگم جان۔،،ہونٹ کان کے پاس تھے ماشی نے اس کے ہاتھ پہ چٹکی کاٹی اور سامنے اشارہ کیا جہاں اصغر اور ثاقب کھڑے تھے۔
آسام گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا اور شرٹ ٹھیک کرنے لگا۔جس کے بٹن اس نے بند کرنے تھے بال جو ابھی سنوارنے تھے وہ سر جھکا کر کھڑا ہو گیا
“یہ کیا کر رہے ہو بچے ہو کیا تم دونوں۔۔،،اصغر نے غصے سے کہا۔
“سوری ڈیڈ۔۔۔وہ ۔۔یہ میرے پیچھے بھاگ رہا تھا۔۔،،ماشی نے آسام پہ الظام. لگا دیا
“ن۔نہیں انکل ۔،،آسام نے مجرموں کی طرح ہاتھ کھڑے کر دیئے۔
“آسام ابھی تم دونوں بچے نہیں ہو وہ دیکھو بچے بھی آرام سے لڑائی کر رہے ہیں اور تم دونوں۔ہاہاہاہا،،اصغر نے نمرہ اور شان کو دیکھا جو ایک دوسرے کے بال نوچنے میں مصروف تھے ۔اور آسام ماشی کا مذاق اڑایا ماشی نے چونک کر اپنے باپ کو دیکھا جو ہنس رہا تھا۔کیا بیٹا ملنے کی خوشی میں اتنا خوش ہوتا ہے ایک باپ ۔جی بلکل
“ہاہاہاہا ۔چلو ثاقب ۔،،اصغر ثاقب کو ساتھ لے جاتے ہوئے بولا۔ثاقب شلوار قمیض میں ملبوس تھا کاندھے پہ شال ڈالے بہت ہنڈسم لگ رہا تھا۔وہ جاتے جاتے آسام کو انگوٹھا دیکھا گیا۔
“یو۔۔مجھ پہ الظام لگاتی ہو۔۔،،آسام نے اسے حملہ کرنے کی وارننگ دی تو ماشی ہنس کر پھر بھاگنے لگی۔
“ارے ماشی سنبھال کے سامنے دیکھو۔،،آسام نے چلا کر کہا پر جب تک وہ دیکھتی سامنے سے آ رہے افنان اور نگینہ سے زور دار ٹکر ہوئی۔اور وہ اور نگینہ دونوں لڑکھڑا گئ افنان نے نگینہ کو تھام لیا جب کہ ماشی سنبھال گئ۔
“مس بھاگم بھاگ کبھی تو دیکھ کے چل لیا کرو۔۔،،افنان نے نگینہ کو کھڑا کر کے کہا۔ماشی اپنی ساڑھی کا پلو ٹھیک کیا۔فل بازوؤں والی امبروڈیڈ ساڑھی جس کا گلا گردن تک تھا بالوں کو سٹریٹ کئے بغیر میک اپ کے قیامت ڈھا رہی تھی۔
“مس کبھی اپنے پیروں پہ قابو بھی ڈال لیا کرو نہیں تو کسی دن گر کے مر جاؤ گی پھر کیا ہو گا میرے معصوم برو کا کیسے ہو سامی۔۔،،افنان نے کہا تو ماشی نے چونک کر اسے دیکھا
آنکھوں میں کچھ تھا پر کیا وہ سمجھی نہیں۔ماشی نے نظریں جھکائی اور سیڑھیاں چڑھ کر اوپر چلی گئ۔
دل اچٹ ہو گیا تھا۔
“نگی تم اوپر چلی جاؤ یا کمرے میں، میں ماں کے پاس جا رہا ہوں۔،،افنان کی بات سمجھ کر وہ ہاں میں سر ہلاتی چھت پہ ماشی کے پاس چلی گئ۔اسے وہ جانتی تھی۔اور کسی کو نہیں۔جانتی ہوتی بھی تو وہ نہ جاتی۔
“کیسے ہو افی۔تمہارے بغیر دل نہیں لگتا یار۔پلیز واپس آ جاؤ۔۔،،آسام نے اس کے گرد بازو حائل کر دیئے۔آسام اس کو کتنا یاد کرتا تھا یہ افنان جانتا تھا۔
“ارے ارے۔۔سینٹی نہ ہو میں تمہارے دل میں ہوں نہ چلو ماما کے پاس چلتے ہیں۔،،افنان نے اس کے کاندھے کے گرد بازو حائل کر کے کہا اور چلنے لگا
“افی یہ تمہارے ساتھ کیا کر رہی ہے کسی نے دیکھ کر پہچان لیا تو ۔،،آسام نے فکر مندی سے کہا
“دوست ہے میری اور پہچان لیں آئی ڈونٹ کیر۔،،افی نے کہکہا لگا کر کہا۔
وہ باتیں کرتے شگفتہ کے پاس چلے گئے۔
***************
“اسلام علیکم کیسی ہیں ۔۔،،نگینہ کی آواز پہ معاشی چونک گئ۔
“ٹھیک ہوں آؤ بیٹھو۔،،ماشی نے مسکرا کر کہا اورسامنے رکھی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
نگینہ بیٹھ کر اسے دیکھنے لگی۔
درمیان سے مانگ نکالی ہوئی تھی اس میں مانگ ٹکا ۔بالوں کو ایک طرف ڈالا ہوا تھا۔کوئی میک اپ نہیں آنکھیں کاجل سے بھری ہونٹوں پہ لپ گلوس اور کانوں میں جھمکے۔ جو بیلو کلر کی ساڑھی کے ساتھ میچ کر رہے تھے۔نزاکت سے وہ بیٹھی رانی لگ رہی تھی۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔,،،ماشی نے اسے مسلسل دیکھتے پایا تو مسکرا کر بولی رخسار پہ ڈمپل ایک اور قیامت کی نشانی
“ٹھیک کہتا ہے وہ کہ چاندنی ملکوں کی رانی ہے اب میں سمجھی رانیاں کیسی ہوتی ہیں۔،،نگینہ کی بات پہ ماشی کی مسکراہٹ غائب ہو گئ رنگ پیلا پڑھنے لگا۔وہ سمجھ گئ تھی کہ کون کہتا ہے۔نظریں جھکا لی اس نے۔
” آپ واقع ہی چاندنی ہو۔یوں ہی تو کوئی آپ کےسامنے ہتھیار نہیں ڈال چکا،،نگینہ نے اس کے سر پہ ایک اور دھماکہ کیا ماشی نے اسے دیکھانا شروع کر دیا۔
“اب ان باتوں کا کوئی فایدہ نہیں ہے نہ کبھی تھا اس سے مجھے خوف آتا تھا۔بہت برا ہے وہ کئ بار میری عزت پہ ہاتھ ڈال چکا ہے تو کیسےمیں اسے۔،،ماشی نے نظریں جھکا لی۔نگینہ مسکرائی اس کی مسکراہٹ طنزیہ تھی۔
“بہت خوبصورت ہو آپ۔،،
“اور آپ بھی۔۔،،ماشی نے بمشکل مسکرا کر اس کی تعریف کی۔نگینہ مسکرا دی وہ خوبصورت تو تھی ہی۔سفید اور گلابی رنگ جیسے پھولوں کا رنگ
“ایک بات پوچھ سکتی ہوں۔،،نگینہ نے اس کا جائزہ لیا۔وہ نروش ہو چکی تھی
“آپ کو آسام صاحب سے محبت کیوں ہوئی۔مطلب آپ کو اس میں ایسی کون سی بات جو اچھی لگی۔،،
“محبت کچھ سوچ سمجھ کے نہیں ہوتی شکل سے نہیں دل سے ہوتی ہے جس کا دل اچھا ہوتا ہے اس سے اپنے آپ محبت ہو جاتی ہے۔اور آسام بہت اچھے ہیں عورتوں کی عزت کرنا۔بڑوں کی رسپیکٹ۔اور عزت کی حفاظت کرنا یہ ان کی خوبیاں ہیں ہیں۔وہ ہمشہ میری عزت کرتے ہیں ایک عورت عزت دینے والے کو کبھی نہیں بھولتی اور جو مرد ذلت دیتا ہے اسے تو کبھی بھول ہی نہیں سکتی،،ماشی نے بہت سارا درد اپنے اندر اتارا۔ایک بار پھر نگینہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔جو پہلے أئی تھی
“چاندنی میں آپ سے کچھ مانگ سکتی ہوں۔،،نگینہ اٹھ کر اس کے پاس آ بیٹھی۔ماشی نے حیرانگی سے اسے دیکھا اور ہاں میں سر ہلا دیا۔وہ چاندنی لفظ سن کر پریشان ہو رہی تھی۔
“آپ افنان سے اتنی نفرت مت کرو۔اگر تم اس کی نہیں ہو سکتی تو نفرت تو مت کرو۔اور جب جب تم اس سے ڈرتی ہو وہ تب تب برباد ہوتا ہے۔بہت تڑپتا ہے وہ میں اس کو درد میں نہیں دیکھ سکتی۔
تم اسے معاف کر دو۔وہ پاگل تھا آپ کے پیچھے۔ایک بار آپ اس سے مسکرا کر بات کر لیں گی تو وہ سکون سے جی سکے گا۔آپ کی وہ ہر بات مانے گا ،،نگینہ نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے تھے وہ سراپا دیوانگی بن کر بیٹھی تھی۔
“میں نے اسے معاف کر دیا ہوا ہے۔،،ماشی نے خوفگی سے اس دیوانی کو دیکھا
“نہیں اس طرح کون معاف کرتا ہے آپ اسے ایک بار معاف کر دیں۔وہ آپ کی نفرت نہیں برداشت کر سکتا،،وہ رونے لگی تھی۔
“اچھا چپ کریں میں کروں گی بات۔آخرمیرے دیور نے اتنی پیاری لڑکی کا دل جو چرا لیا ہے۔کان تو کھینچنے پڑیں گے۔میں تمہارے لئے سب بھول جاؤں گی اب چلیں آپ کو بھابھی سے ملواتی ہوں۔اور آئندہ کبھی اس بارے میں بات نہیں ہو گی میں کسی کی وائف ہوں ،،ماشی نے مسکرا کر کہا
“بہت بہت شکریہ۔،،نگین نے آنسوں صاف کر کے کہا
ماشی اس کا ہاتھ پکڑ کر نیچے اترنے لگی۔دونوں مسکراتی باتیں کرتی نیچے اتر رہی تھی۔اور آسام افنان چھت پہ آنے کا ارادہ رکھتے تھے انہیں اترتا دیکھ نیچے کھڑے ہو کر انتظار کرنے لگے۔
“سویٹ گرلز زرا جلدی اترنے کی تکلیف کریں گی۔,،افنان نے بوریت سے کہا۔تو آسام ہسنے لگا۔
ماشی اور بائمہ نے ایک دوسرے کو دیکھا
“آپ ذرا راستہ چھوڑیں گے تو اتریں گے نہ۔،،ماشی نے پہلے آسام کو اور پھر افنان کو دیکھ کر کہا۔
تو وہ دونوں ایک طرف ہو گئے۔
“شکریہ۔،،ماشی نے آسام کو دیکھ کر کہا اور اس کے پاؤں پر پھر سے پاؤں مار گئ ۔وہ اپنا بدلہ لے چکی تھی جو تھوڑی دیر پہلے آسام اسے تنگ کر رہا تھا ۔
آسام منہ کھولے دیکھتا رہ گیا۔
“کیا ہوا سامی اوپر آ جاؤ۔۔،،افنان اوپر پہنچ چکا تھا اور اوپر دھوپ کافی تھی اس لئے اس نے اپنا کورٹ اتارا دیا تھا ۔شرٹ کے بٹن ابھی بھی دو کھولے تھے اور وہ وائٹ شرٹ کےبازوؤں کو فولڈ کرنے میں مصروف ہو گیا
“ارے واہ یہاں تو مسز رندھاوا کے عاشق بھی موجود ہیں کیا حال ہے میاں مٹھو۔۔،،افنان نے سٹیف کو اپنے ہاتھ پر بٹھایا سٹیف نے اس کے انگوٹھے پی کاٹ لیا۔
“ہاہاہاہا یہ تو کاٹتا بھی ہے۔،،
“پرندوں کو چھیڑا نہیں کرتے اور یہ مسٹر سٹیف ہیں ماشی کے پالتو ۔,،،سٹیف آنکھیں میچ کر بیٹھ گیا وہ شاید افنان کو ناپسند کرتا تھا۔
“سٹیف میاں چلو آپ کو شاعری سناتے ہیں۔۔،،افنان پھر سے سٹیف کو لے کر بیٹھ گیا اس نے آنکھیں نہیں کھولی آسام بھی کرسی پہ بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا۔جو سٹیف کے ساتھ کھیل رہا تھا
“شاعری آپ کو بھی آتی ہے۔۔،،شان ان کے لئے کیک چائے اور باقی ڈرائی فروٹس کی پلیٹ لے کر آیا تھا
“جی بلکل آتی ہے۔،افنان نے سٹیف کی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔پر ناکام رہی
“پر مجھ سے کم ہی آتی ہو گی۔میں فہد بھائی کا شاگرد ہوں۔،، شان نے کہا اور جانے لگا
“ہاہاہاہا اچھا جی ویری گڈ ہمیں بھی کچھ سنا دیں۔سالے صاحب۔،،آسام نے اسے پکڑ کر اپنے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا لیا۔
“جی ضرور سناؤں گا۔،،
“ابے او شانی نیچے آ یا میں اوپر آؤں۔ایک منٹ میں نیچے نہ آئے تو سب کو چینخ چینخ کر بتا دوں گی کہ تمہاری دو،دو گرل فرینڈز ہیں۔تم نے پھر سے میری سپورٹ شرٹ خراب کی نہ بتاتی ہوں اب۔،،نمرہ پیچھلے لان میں کھڑی اسے لوازمات لاتے دیکھ چکی تھی پر آسام اور افنان کو نہیں دیکھا تبھی وہ چلا چلا کر علان کر رہی تھی۔
شان نے سر پیٹ لیا وہی آسام اور افنان کا منہ کھول گیا۔
“نہیں بھائی یہ تو ایسے ہی بکواس کرتی رہتی ہے۔اوکے میں جاتا ہوں۔،،شان پیچھلی سیڑھیاں اترنے لگا
“سولہ برس کی عمر میں دو دو گرل فرینڈز ہمیں تو ابھی تک ایک بھی نہیں مل رہی یار۔،،افنان نے گردن گھما کر اسے دیکھا۔ افنان کی بات پہ آسام کا بے اختیار کہکا گونجا
“آپ کو مجھ سے ٹریننگ لینی چاہئے بھائی فہد نے بھی لی تھی۔تبھی عشرت آپی ملی،،شان نے آخری سیڑھی پھلانگ کر پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔
“پروبلم تجھ میں نہیں ہے بندر۔،،سٹیف کی افنان سے خاصی دوشمنی ہو گئ تھی۔
“تو کس میں ہے سٹیف میاں۔،،افنان نے بھی اپنی دوشمنی نبھائی اور س کی ٹانگ سے پکڑ کر لٹکا دیا سٹیف شور مچانے لگا۔
“افی چھوڑ دو یار بےزبان اوہ سوری پرندہ ہے یہ یار۔،،آسام کی ہنسی نہیں روک رہی تھی۔افنان نے سٹیف کو ہوا میں اچھالا تو وہ اڑتا ہوا پنجرے پہ جا بیٹھا۔
“کہاں رہے رہ ہو تم گھر کب آؤ گے۔،،آسام نے توجہ افنان کی طرف کی۔
“نگینہ کے پاس۔اور گھر کب آؤں گا یہ معلوم نہیں،،افنان نے کیک کا ایک پیس پلیٹ میں رکھا اور آسام کی طرف بڑھا دیا
“آہاں۔۔اچھی لڑکی ہے۔۔مجبوریاں ہوں گی جن وجہ سے وہ اس راستے پر چلی کیا خیال ہے۔،،آسام نے تھوڑا سا کیک کا ٹکڑا منہ میں ڈالا اور اٹھ کے پنجرے کے پاس رکھے دانے اٹھا کر پرندوں کو ڈالنے لگا ۔اسے کیسے منضور تھا کہ وہ کچھ کھائے اور بےزبان جانور بھوکھے رہیں۔
“اس کے ماں باپ روخصت ہو گئے۔اور رشتے داروں نے گھر سے نکال دیا۔اسے وہ راہ ہی ٹھیک لگی اور چل پڑھی۔پر جب اس راہ پہ آئی تو پتا چلا کتنا کٹھن ہے وہ راہ۔
بہت معصوم ہے وہ۔
جب میں پہلی بار گیا تھا وہاں تو وہ بہٹ ڈری ہوئی تھی مجھے بغیر دیکھے وہ سر جھکائے کانپ رہی تھی۔پر جب اس نے مجھ پہ نظر ڈالی۔میری حالت دیکھی۔میرے ہاتھ میں شراب تھی مجھے میری بلکل ہوش نہ تھی۔
میری شرٹ کے کھولے بٹن دیکھ کر میرے بکھرے بال دیکھ کر وہ میری طرف بے اختیار بڑھی تھی اور ہاتھ سے شراب پکڑ کر رکھ دی۔
پتا نہیں کیوں میں نے اسے روکا نہیں۔ وہ اپنی انگلیاں میرے بالوں میں چلانے لگی۔مجھے سکون مل رہا تھاایسا لگ رہا تھا میں سب بھول گیا ہوں۔میں نے تو اسے دیکھا ہی نہیں تھا۔جب اس کے چہرے کو دیکھا شفاف چہرہ چاند کی طرح روشن تھا آنکھوں میں آنسوں اور ماتھے پہ چوٹ کانشان تھا۔میں بغیر پلیں جھپکائے اسے دیکھ رہا تھا۔وہ مسکرائی تو میرا دل کیا اسے سینے سے لگا لوں اور میں نے لگا لیا تھا ۔نہ میں بولا نہ وہ بولی۔
پتا ہے اس کے سر پہ ڈوپٹہ ٹکا ہوا تھا۔میں نے پوچھا وہ وہاں کیوں ہے تو وہ مسکرائی اور مجھے سب بتادیا کہ کیوں وہ موجود ہے اس کا باپ عزت دار تھا اسی لئے اسے کوئی چھو بھی نہیں سکا۔پر جہاں وہ آ چکی تھی وہاں وہ بچ نہیں سکتی تھی۔میرے دل میں اس کے لئے رحم پیدا ہوا پہلی لڑکی تھی نگی جیسے دیکھ کر میرا دل کیا کہ اس کے لئے کچھ کروں۔پھرمیں نے اس کی مالک کو منہ مانگی رقم دی کہ کوئی اسے چھو نہ سکے جو کہ ابھی بھی دے کے آیا ہوں۔۔،،افنان بات کرتے آسام کے برابر آ کھڑا ہوا۔اس نے گردن گھما کر افنان کو دیکھا اور مسکرا دیا۔
“وہ مجھے ہمشہ پیار سے سلاتی ہے کبھی ڈانٹ کے کبھی رو کے پرمیں بھی کبھی کبھی اس کی بات مانتا ہوں۔ہاہاہاہا۔،،افنان نے نیچے جھانکا جہاں شان اور نمرہ ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔اور ان کے چند کزنز جو ان کے جتنے تھے سر تھام کے دونوں کو دیکھ رہے تھے
“تو تم شادی کیوں نہیں کر لیتے پھر۔تمہاری باتوں سے تو لگتا ہے تم اس سے محبت کرتے ہو کیونکہ افنان رندھاوا کسی کے لئے تب ہی کچھ کرتاہے جب اس کا دل چاہتا ہے ۔۔،،،آسام نے دانے ختم کئے اورسینے پر ہاتھ باندھ کر اسے دیکھنے لگا۔
“نہیں میں اس سے محبت نہیں کرتا آسام بس اسے زمیداری سمجھتا ہوں۔وہ بہت معصوم ہے۔دنیا کاپتا نہیں تھا اسے پر پتا ہے مجھے وہ جان گئ تھی دو دن میں۔میرا دل نہیں کرتا تھا وہاں جانے کو پر کوئی چیز تھی جو مجھے وہاں کھینچ لے جاتی تھی۔شراب کے نشے میں جب میں دھت ہو جاتا تھا تو وہ مجھ سے کراہت نہیں کرتی تھی بلکہ میرے قریب رہتی تھی جانتی بھی تھی میں مرد ہوں کچھ بھی کر سکتا ہوں اسے خرید چکا ہوں پر وہ مجھ پہ یقین کر چکی ہے۔اور میں نے کبھی اس کا یقین توڑا نہ ۔۔,،افنان واپس کرسی پر جا بیٹھا۔
“ہاہاہاہا محبت ہو گئی ہے تجھے اس سے یہ محبت کی ہی نشانیاں ہیں میرےبھائی۔،
“نہیں سامی یہ محبت نہیں فکر ہے وہ بیسٹ ڈیزرو کرتی ہے میں کبھی اسے محبت نہیں دے سکوں گا۔،،افنان نے خوفگی سے کہا۔
“میری زندگی میں بہت لڑکیاں آئی اور گئ ہیں تم جانتے ہو۔،،افنان اٹھ کے حویلی والی سائیڈ پر جھکا ماشی اور نگینہ آپس میں باتیں کرتی شگفتہ کے کمرے میں جا رہی تھی ۔افنان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئ۔
“اور اگر وہ تم سے محبت کرتی ہوئی تو ۔۔،،آسام نے سوال کیا۔
“تو مجھے نہیں پتا ۔،،
نظریں ماشی کے چہرے پہ تھی پر پھسل کر نگینہ کے چہرے پر چلی گئ ۔رنگ روپ دونوں کا ایک ہی جیسا تھا بس ماشی کے بال لمبے تھے اور ڈمپل جو قیامت برپا کر دیتا تھا۔پھر کیوں نگین نہیں کیوں ماشی
“امید ہےبہت جلدخوشخبری ملنے والی ہے،،آسام نے ایک کہکہکا لگاکرکہا تو افنان نے خوفگی سے اسے گھورا اور پھر خود بھی ہسنے لگا۔
Episode 31
ایک کھیل تو نے کھیلا میرے ساتھ!!!
ایک کھیل ہم کھیلیں گے قسمت کے ساتھ!!
افنان نے سب سے نظر بچا کر نگین کو بلایا۔
“کیا ہوا۔۔۔،،نگین نے اسے دیکھا وہ کچھ پریشان تھا
“یہ لو اور یاد کر لو۔،،افنان نے نگین کو ایک ورقعہ پکڑایا۔
“ہاہاہاہا کم اون افی ابھی تک تمہیں یقین نہیں میری قابلیت پہ۔،،نگینہ نے ورقعہ پھاڑ دیا۔
“اوکے بٹ کوئی گڑبڑ مت کر دینا یار شوخی مت ہو جانا نہیں تو مار دوں گا۔،،افنان نے اسے دھمکی دی۔
“اوہو تو اب جناب مجھے مارنے کی دھمکی بھی دیں گے۔،،نگین نے اپنی کالی کالی آنکھیں اس کی بھوری آنکھوں میں گھاڑ دی۔
“نہیں جانم بس کہ وارننگ دے رہا ہوں ۔،،اس نے نگین کی انگلیوں میں انگلیاں پھنسا دی۔
“افی ایک بات کہوں۔۔،،نگینہ کی آنکھوں میں جزبات ابھرنے لگے تھے۔
“نہیں فل حال نہیں۔وہ دیکھو ماشی تمہیں ڈھونڈ رہی ہے چلو جاؤ۔،،افنان نے اسے جانے کو کہا اور وہ اس کے ہاتھ سے ہاتھ نکال کر جانے لگی پر مڑ کر اسے دیکھا وہ اسے بیسٹ آف لک کے لئے انگوٹھا دیکھا کر آنکھ دبا کر ایک طرف چلا گیا۔
************
“آپ کو پتا ہے مجھے بہت ڈر لگتا تھا دنیا سے اور میں جہاں پہنچ گئی تھی وہاں تو مجھے خوف آتا تھا دو دن لگاتار طرح طرح کے مردوں کے پاس مجھے بھیجا جاتا پر میں بھاگ جاتی۔تو کبھی کوئی مجھے چھو نہ سکا۔میری ماں کہتی ہوتی تھی کہ جو مرد دوسروں کی عزت پہ ہاتھ نہیں ڈالتا اس کی ماں بہن اور بیٹی کی عزت اللہ خود محفوظ رکھتا ہے۔،،نگینہ گھاس پہ جوتا اتار کر چلنے لگی ماشی کرسی پر بیٹھ کر اسے دیکھ کر مسکرا کے سن رہی تھی۔
“پھر ایک دن ایک مسیحا آیا۔ پہلے تو میں ڈر گئ تھی جب مجھے اس کے پاس بھیجا گیا۔پر پتا ہے جب میری نظر اس کے روشن چہرے پہ پڑھی تو میرا سارا ڈر دور ہو گیا پتا نہیں ایسا کیا تھا اس کے چہرے پہ کہ میں اس کی طرف بڑھی وہ غصے میں تھا نشے میں
تھا پر مجھے اس سے ڈر نہیں لگا۔اس نے مجھے ہر مرد سے بچا لیا۔پتا ہے وہ مسیحا کون ہے۔،،نگینہ اب کرسی پہ بیٹھی ماشی کو دیکھنے لگی۔
“افنان۔۔،،ماشی نے مسکرا کر کہا
“ہاں وہ کہتا ہے وہ برا ہے لکین مجھے نہیں لگتا۔وہ کہتا ہے وہ مجھ پہ ہاتھ اٹھائے گا پر آج تک اس نے نہیں اٹھایا۔وہ سراپا محبت ہے بس اسے کوئی سمجھ نہیں سکتا جیسے آپ نہیں سمجھی۔،،نگینہ نے افسردگی سے کہا۔ماشی کا رنگ اڑنے لگا۔
“نگینہ ہر انسان کو سمجھنا ضروری نہیں ہوتا۔اور جس طرح اس نے میرے ساتھ کیا وہ۔۔،،ماشی نے افسردگی سے کہا نگینہ نے اس کی بات کاٹ دی۔
“ہاں مانتی ہوں اس نے غلط کیا۔پر آپ نے اسے نفرت سے شکار کیا۔،،نگینہ اس کی وکیل بنی کھڑی تھی ماشی کے پاس کوئی دلائل نہیں تھی۔
“محبت ہمارے بس میں نہیں ہوتی نگینہ خود با خود ہوتی ہے۔آپ کو پتا ہے آسام نے آج تک میرے سوا کچھ نہیں چاہا ہمشہ دوسروں کی فکر کرتا ہے۔اس نے مجھے چاہا اور میں کیسے اسے گنوا دیتی۔آپ کو پتا ہے میں بھی بہت خوف زدہ رہتی تھی۔اور اب وہ خوف نہیں رہا صرف ان کی وجہ سے وہ میرے ساتھ ہیں تو میں ہوں۔وہ سمپل ہیں آئی نو مجھے وہ ایسے ہی پسند ہیں۔جانتی ہوں افنان مجھ۔،،ماشی کہتے کہتے خاموش ہو گئی۔
“میں مانتی ہوں میں نے افنان کو نہیں جانا۔پر ضروری نہیں ہم ہر انسان کو سمجھیں اور اب میں بس اتنا جان سکی ہوں افنان کو سمجھنا آسان نہیں۔،،ماشی کی آنکھوں میں آنسوں آگئے تھے۔
“اور میں جانتی ہوں تم اس کی چاندنی بنو گی اسے اندھیرے سے روشنی میں لاؤ گی۔لاؤ گی نہ۔،،ماشی نے نگینہ کا ہاتھ تھام کر کہا۔
“جی پر مجھے آپ کی مدد چاہئے ہو گی۔،،نگینہ نے اپنا دوسرا ہاتھ ماشی کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
“ضرور۔چلیں اب آپ جوتا پہن لیں سردی لگ جائے گی۔،،ماشی نے فکر مندی سے کہا اور مسکرا دی ۔وہ تھی ہی ایسی سب کی فکر کرنے والی۔نگینہ نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلا دیا
“مجھے آپ نہیں تم کہا کریں۔،،نگینہ نے ناراضگی سے کہا
“اور تم بھی مجھے تم ہی کہا کرو۔،،ماشی نے اس کے انداز میں کہا تو وہ ہسنے لگی۔پورا چاند ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا دیا۔
“تم اس سے محبت کرتی ہو نہ۔،،ماشی نے تھوڑی خاموشی کے بعد سوال کیا۔تو وہ شرما کر ہاں میں سر ہلا گئ
تھوڑی دیر بعد نگینہ اٹھ کر چلی گئی۔
ماشی چاند کو دیکھنے لگی۔
“کیا دیکھ رہی ہو ۔،،افنان کی آواز سن کر وہ چونک گئی۔
“کچھ نہیں بیٹھو مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔،،ماشی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی
“آسام آ گیا تو شک کرے گا۔،، افنان کرسی پر بیٹھتے ہوئے آنکھیں پھیلا کر بولا۔۔
“نہیں کرے گا۔،،ماشی نے نظریں جھکا لی۔وہ نگینہ سے وعدہ تو کر چکی تھی بات کرے گی پر کیسے یہ وہ نہیں جانتی تھی.
“میں نے آپ کے گزرے ہوئے ہر برے برتاؤ کے لئے یہ سوچ کر معاف کیا کہ آپ میرے کزن ہو۔اور آسام کے بھائی بھی اور میری پھوپھو کے بیٹے بھی اور۔۔،،
“ہاہاہاہا اچھا آگے۔۔،،افنان کو ماشی کی ڈیٹیل پہ ہنسی آ گئی۔
“اور میں آپ سے نفرت نہیں کرتی بس ایک خلش دل میں آ گئ تھی کوئی بھی لڑکی برداشت نہیں کرتی کہ۔،،اس نے افنان کا جائزہ لیا اور گہری سانس لی
“اوکے پیچھلی باتوں کو چھوڑیں۔یہ بتاؤ آسٹریلین بلے۔،،ماشی نے غور سے اسے دیکھ کر کہا
“واٹ۔۔میں اور بلا کم اون یار فہد کم تھا جو مجھے بھی بنا دیا۔،،افنان اٹھ کھڑا ہوا۔اور خفا انداز میں ہنسی دبا کر بولا
“اوکے سوری زبان پھسل گئی آپ اور وہ ایک جیسے ہیں نہ سو بیٹھیں ۔،،ماشی نے دوبارہ کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
“میں بات یہ کرنا چاہتی ہوں کہ ۔،،ماشی کرسی سے اٹھ کر تھوڑا فاصلے پہ جا کھڑی ہوئی۔
“آپ شراب پینا چھوڑ دیں۔اور مجھے بھول کر زندگی کو نئے سرے سے شروع کریں نگینہ کے ساتھ۔،،ماشی نے مڑ کر اسے دیکھا وہ خاموش بے تاثر چہرے کے ساتھ بیٹھا تھا۔ماشی نے پھر سے منہ پھیر لیا۔
“آپ نے اسے طوائفوں والی زندگی گزارنے سے بچایا ہے اور پھر کیوں آپ اسے اسی دلدل میں چھوڑ کر کسی ایسی لڑکی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جو کبھی آپ کی ہو نہیں س
سکتی۔چلے جائیں اس کے ساتھ وہ بہت اچھی ہے مجھ سے زیادہ۔کوئی کمی نہیں ہے اس میں اور نہ ہی اس کی محبت میں ۔پاگلوں کی طرح چاہتی ہے آپ کو۔،،ماشی نے اسے بغیر دیکھے کہا۔
“اور اگر میں اسے محبت نہ دے سکا تو میرے دل نے اسے قبول نہ کیا تو میرا دل تو۔،،
“ضد اور محبت میں بہت فرق ہوتا ہے اور آپ جانتے ہیں آپ اس سے محبت کرتے ہیں۔کبھی دل سے پوچھ کر دیکھنا دل کے اوپر چاندنی لکھا ہے پر اندر نگینہ ہی ہے جو آپ سے ڈرتی نہیں آپ کے غصے سے خوف زدہ نہیں ہوتی آپ غصہ کریں تو بھی آپ کے پاس آتی ہے۔اپنی زندگی برباد مت کرو ،،ماشی نے مسکرا کر کہا تو وہ حیران رہ گیا۔
آج ایک عورت دوسری عورت کی فکر میں تھی۔وہ سوچ رہا تھا عورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں نگینہ اور معاشی جیسی بھی ہوتی ہیں۔
“میں چلتی ہوں امید ہے آپ سمجھ دار نکلیں گے ۔اور مجھے بھی معاف کر دیجئے گا گزشتہ غلطیوں کے لئے۔ رشتوں میں نفرت نہیں گھولنی چاہئے نہیں تو سب بکھر جاتا ہے ،،ماشی نے ایک نظر اس پہ ڈالی اور مسکرا کر چلی گئ مسکراہٹ کا مطلب تھا وہ سب بھول کر اسے معاف کر چکی ہے
وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا ماشی بغیر روکے سیڑھیاں چڑھ گئ۔
افنان وہاں ہی بیٹھ گیا اور سوچنے لگا۔
اور پھر ایک جان دار مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آ گئ۔
“چلو اس نے مجھ سے بات تو کی۔
آج اس کی آنکھوں میں ڈر نہیں تھا۔اس نے مجھے اپنا تو مانا۔اور نگی ۔۔،،وہ سوچنے لگا۔
نگی اس کی نگی جو اس پہ دل و جان ور چکی تھی۔اس گھمنڈی سر پھرے کے قدموں میں بیچھ چکی تھی۔
غصے سے ڈر کے دور ہونے کی بجائے اس کے قریب آتی تھی۔
وہ بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور سیڑھیاں چڑھنے لگا۔تبھی اس کے فون کی بل بجی۔ سکرین پہ چمک رہا نام اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ
لے آئی۔
“ہائے جان من واٹس۔اپ،،وہ مسکراتا کرسی پہ جا بیٹھا۔
“نہیں یار دو دن تک۔۔۔۔ثاقب بھائی کی شادی میں شرکت کرنی تھی نہ اور بھائی کی شادی کون سا بار بار ہونی ہے ہاہاہاہاہاہاہا۔۔،،
“نہیں میری جان۔۔اور انکل کیسے ہیں ہوش آئی انہیں۔۔،،افنان نے سر کرسی کی پشت سے ٹکا دیا۔
“ہاہاہاہا۔چلو اب ملاقات ہوتی ہے پھر دو دن بعد am coming baby ۔۔،،ہونٹوں کو دانتوں میں دبا کر اس نے شرارت سے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔پھر کچھ سوچ کر ایک نمبر پہ میسج سینڈ کر کے سیٹی بچاتا نیچے چلا گیا
**************
“ادھر آؤ۔۔،،افنان نگینہ کے کمرے میں تیزی سے داخل ہوتا بولا۔وہ جو سونے والی تھی بستر سے جھٹ سے اٹھ کے اس کے سامنے آ گئی۔اور اس کو دیکھنے لگی۔
“تم نے اسے کیوں بتایا۔اسے کیوں کہا کہ وہ مجھے کہ تو ۔۔،،وہ سر تھام کر کھڑا ہو گیا۔
“۔تمہیں یہ حق کس نے دیا نگی میں نے کبھی تمہیں یہ حق دیا،،،ماتھے پہ بل ڈال کر وہ بولا۔نگینہ نے بغور اس کے چہرے کو دیکھا۔اور نفی میں سر ہلا دیا پھر اس کی طرف بڑھی۔آنکھیں نم ہو گئ تھی۔افنان نے اس سے تو کبھی اس طرح بات نہیں کی تھی اسے کبھی اس کی اوقات یاد نہیں دلائی تھی۔
“معاف کر دیں۔پر آپ صرف چاندنی کی مانیں گے نہ اسی لئے۔،،نگی نے نظریں جھکا لی
“میں نے کہا تھا اسے بتانے کو۔ہاں بولو۔،،افنان غصے سے بولا اور نگینہ کو پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگا لیا۔
وہ گھبرا گئی دل دھڑکنے لگا۔اس نے آنکھیں میچ لی۔
“بولو۔۔،،افنان نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا کے آہستہ سا جھٹکا دیا۔اور وہ بھی کمال کی لڑکی تھی منہ سے آہ تک نہ کی۔
“معاف کر دیں آئندہ ایسا نہیں ہو گا پلیز غصہ نہ کریں۔میں مر جاؤں گی اگر آپ کو کچھ بھی ہوا تو ی۔۔یہ تو جانتے ہیں نہ آپ اسی لئے میں اس کے سامنے گئ اس سے تمہاری زندگی مانگی کیا غلط کیا میں نے۔۔،،نگینہ ایک منٹ میں اس کے سینے سے جا لگی وہ جو اسے ڈرانے کی کوشش کر رہا تھا خود ڈر گیا۔
“میں تمہیں یوں پل پل جلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی افنان تمہارے سوا میرا اس دنیا میں کوئی نہیں۔میں تمہیں نہیں کھونا چاہتی۔میں مر جاؤں گی تمہارے بغیر تم جانتے ہو نہ۔تمہاری ہر بات مانی بس میری ایک بات مان لو کبھی کچھ نہیں مانگوں گی۔کبھی کچھ نہیں۔ہمشہ تمہارا غصہ،درد سب برداشت کروں گی پلیز افی۔پلیز،،,،نگینہ کے بہت سارے آنسوں افنان کی شرٹ میں جذب ہو گئے
پہلی بار وہ رو رہی تھی۔شائد اس جگہ سے باہر نکل کے اسے اپنا وجود ملا تھا۔
افنان ہونٹ پینجھے کھڑا رہا۔اس کا پاگل پن دیکھ رہا تھا۔
“مجھے معلوم ہے میں نے غلط کیا پر اگر تم چاندنی کے سوا کسی کی بات مانتے ہوتے تو میں کبھی اسے نہ کہتی کبھی اسے نہ بتاتی پلیز مجھے معاف کر دو مجھے خود سے دور مت کرنا مر جاؤں گی افی م۔۔مم
میں مر جاؤں گی۔،،نگینہ نے اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں لے لیا تھا۔اسے ڈر تھا کہیں وہ گھمنڈی انسان بھاگ نہ جائے کہیں پھر سے اس کی اکڑ حاوی نہ ہو جائے۔
افنان کی محبت میں تو وہ کب سے پاگل تھی۔پر ماشی سے بات کر کے اسے یقین ہوا تھا کہ وہ آسام کے سوا کسی کی نہیں ہو سکتی۔نگینہ افنان کو ٹوٹنے کیسے دیتی۔اسے سنبھالنے کے چکر میں وہ ہر لمحہ ٹوٹتی رہی تھی۔کہ آج مکمل طور پر ٹوٹ کر افنان کی باہوں میں گر گئ۔
“جان بس کرو میں مزاق کر رہا تھا۔دیکھ رہا تھا واقع ہی تم پاگل ہو گئ ہو یا یہ ایکٹنگ ہے،،افنان نے اس کے بالوں کو کان کے پیچھے کر دیا
“یہ ایکٹنگ نہیں ہے۔،،نگینہ کمزور پڑھ گئ تھی۔
“اب چپ کرو ورنہ۔،،افنان نے اسے سامنے کھڑا کر کے کہا اور بیڈ پہ گر گیا ساتھ میں اسے بھی گرا لیا۔
“ایم سوری۔۔،،وہ اسے دیکھنے لگا تھا
“کیا۔۔۔کیا کہا۔،،نگی حقا بقا رہ گئ۔اسے لگا وہ مر جائے گی
“ہاں جانتا ہوں یار ایم سوری۔پر کسی کو بتانا نہیں ۔نہیں تو ۔،افنان نے اس کے گلے کو دبوچ لیا۔
“مار دو مجھے۔,،،نگی نے اس کے ہاتھ پہ دباؤ بڑھا کر کہا۔
“نہ نہ میری جان تمہیں مار کے میں اپنا پاٹنر اپنی جان کو کیوں بےجان کروں۔اپنا سکون کیوں برباد کروں چلو مجھے اب سلا دو نیند بہت آ رہی ہے یار۔،،وہ اس کی گود میں سر رکھ کر بولا نگینہ اس کے سر میں ہاتھ چلانے لگی۔
“افنان میں کیا کہ رہی تھی بھلا۔،،
“ابھی تو کچھ کہا نہیں میں نے سنا نہیں تو بتاؤں کیسے۔،،افنان نے اس کے دوپٹے کو منہ پہ لے لیا۔
“چپ کر کے بات سنو!تم ماشی کو بھول جاؤ نہ یار کیوں بےحال ہوتے ہو کیا ملتا ہے تمہیں اس طرح کر کے،،نگینہ اس کے بالوں میں ہاتھ چلانے لگی۔وہ چپ کر کے لیٹا رہا
“اچھا ایک اور بات سنو ،،
“بھلا میں تمہاری بات کیوں سنو آج تک سنی ہے جو اب سنو سونے دو سمجھی زیادہ حق مت جتاؤ میں صرف چاندنی کا ہوں بھولو مت اور جاؤ یہاں سے۔,،،وہ اس کی گود سے سر اٹھا کر لیٹ گیا۔نگینہ کئ پل اسے دیکھتی رہی۔
“جا رہی ہوں اور اب کبھی کچھ نہیں کہوں گی کبھی نہیں۔،،نگینہ کے آنسوں بہنے لگے۔
“ٹھیک ہے ٹھیک ہے اب جاؤ۔،،افنان نے ہنسی دبا کر کہا نگینہ کئ پل اسے گھورتی رہی۔پھر آنسوں صاف کر کے آہستہ سے دروازہ بند کرتی بھاگ گئ۔
پہلی بار اسے دوکھ ہوا تھا افنان کی بات سے کیونکہ آج تک اس نے کبھی بتایا نہیں تھا کہ اس پہ نگی کا کوئی حق نہیں۔
“میں تو اس سے یہ کہنا چاہتی تھی کہ یہ سب ٹھیک نہیں ہے ایک ساتھ بغیر کسی رشتے کے رہنا پر میں بھول گئ تھی کہ ۔،،وہ سوچتے سوچتے روک گئ۔حویلی کا کوئی دروازہ کھولا نہ تھا تو وہ حویلی کے پیچھلے احاطے میں ٹہلنے لگی۔موسم سرد تھا پر اندر آگ لگی ہوئی تھی۔
“افنان مجھ سے کیوں محبت کرے گا جس کا نہ گھر کا ٹھیکانہ ہے نہ بار کا۔میں اس کی پریشانیوں میں اضافہ کیوں کروں تم اسے سکون پہنچانے کے لئے میسر ہو نگی بس اور امیدیں کیوں لگائی کیوں۔وہ تمہاری پہنچ سے اتنا ہی دور ہے جتنا یہ جان ۔،،وہ اپنے منہ پہ تھپڑ رسید کرتے زمین پہ گر گئ۔
سر میں درد زور سے اٹھا تھا اور وہ سیڑھیوں کے نیچے رکھی دو عدد کرسیوں میں سے ایک پہ جا بیٹھی۔
کہاں جاتی اس سنگ دل نے تو روکا تک نہیں اسے معلوم تھا کہ وہ کہاں جائے گی پھر بھی نہیں روکا۔
سسکیوں کو ہاتھ رکھ کر اس نے روک لیا۔
اور چادر کو اچھے سے اپنے گرد لپیٹ لیا
“اتنا درد تو تب بھی نہیں ہوتا تھا جب تم اتنے دونوں تک چہرہ نہیں نہیں دیکھاتے تھے آج یہ ایک لفظ سن کے درد کیوں ہوا۔میری محبت میں کیا کمی ہے جو تم اپنی زندگی داؤ پہ لاگئے ہوئے ہو اس کے خاطر جو کبھی تمہیں سمجھ نہیں سکی۔میں ہر وقت تمہارے ساتھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکی۔کیا کمی ہے مجھ میں آخر کیا۔،،وہ افنان کو تصور میں سامنے بیٹھا کر سوال کر رہی تھی۔ رات کا چاند بھی رو دیا تھا۔وہ خوبصورت تھی پر افنان پہ اپنے ہتھیار نہیں چلاتی تھی شائد اسے چلانے نہیں آتے تھے۔تھی تو وہ بھی عورت محبت تو عورت کو مجبور کبھی کر ہی دیتی ہے بولنے پہ۔
_______________________
“بیگم جان یہاں آئیں گی پلیز۔۔۔،،آسام نے ہاتھ کو تکیا بنا کر لیٹتے ہوئے ماشی کو دیکھا
“کیا بات ہے آسام،،،وہ اپنی جویلری اتارنے لگی۔
“کچھ بات کرنی ہے۔کل ہم واپس جا رہے ہیں۔ ،،آسام اٹھ کے اس کے پیچھے جا کھڑا ہوا۔۔
“آسام ابھی تو میں نے بھابھی بھائی کے ساتھ ٹائم سپینڈ نہیں کیا ابھی نہ جائیں نہ پلیز۔،،ماشی نے اسے دیکھ کر کہا۔
“ٹھیک ہے بیگم جان ویسے
“بہت پیاری لگ رہی ہیں۔۔،،آسام نے اس کا ہاتھ تھام کر کنگن اتارے
“تو۔۔،،
“تو آپ نے دو بار میرا پاؤں دبوچا اب میری باری۔۔،،آسام نے سوچا۔اور مسکراتا ماشی کے پاس آنے لگا تو وہ اس کی نیت بھانپ کر ایک طرف سے نکلتی بیڈ پہ جا لیٹی
“آسام نیند آ رہی ہے گڈ نائٹ۔،،ماشی نے ہسی دبا کر کہا اور آنکھیں بند کر لی۔
“کیسی بیگم ہیں زرا بھی شوہر کا خیال نہیں۔،،آسام نے بے دلی سے سوچا اور ایک طرف لیٹ کر ماشی کے لمبے بالوں کے ساتھ کھیلنے لگا۔جو اسے بہت پسند تھے۔
*************
بائمہ صبح صبح اٹھ کے وضو کر کے نماز پڑھنے لگی تھی۔
“اے اللہ مجھے معاف کر دے میں بہت گناہ گار ہوں۔۔پر میرے پروردگار تیری زات تو بہت رحمت والی ہے مجھے معاف کر دے میرےاللہ ،،
وہ رو رو کے بس ایک ہی دعا کر رہی تھی۔بہت دیر اللہ کے سامنے رونے کے بعد وہ منہ پہ ہاتھ پھیر کے جائے نماز رکھ کے کمرے سے نکلتی کیچن کی طرف بڑھ گئ ثاقب ابھی مسجد سے واپس نہیں آیا تھا۔
“صبح بخیر بھابھی جان۔نہ نہ۔،،وہ اسے کیچن میں داخل ہوتے دیکھ چلائی۔بائمہ ہڑبڑا کر روک گئ۔
“کیا ہوا۔،،اس نے ناسمجھی سے سوال کیا۔وہ ڈر بھی گئ تھی۔
“آپ یہ کیا کرنے جا رہی تھی ماں دیکھ لیتی تو میری اچھی خاصی خبر لے لیتی۔ہمارے خاندان میں نئ نویلی دلہن کو کام نہیں کرنے دیتے۔،،ماشی نے مسکرا کر بتایا۔تو وہ سکون کا سانس لے گئ کہ کوئی اور بات نہیں۔
“ہاہاہاہا اور آپ کیوں کام کر رہی ہیں اتنے ملازمین کے ہوتے ہوئے بھی۔،،بائمہ کی حیرانگی سے آنکھیں پھیل گئی
“کھانا ہم خود بناتے ہیں ماما چاچی اور پھوپھو شروع سے ہی اپنے ہاتھوں سے کھانا بناتے آ رہی ہیں۔آپ ریسٹ کریں ڈیڈ ،آسام اور بھائی آتے ہی ہوں گے۔ آپ کے اور بھائی کے کپڑے ریڈی کر دیئے ہیں کرمو نے۔باقی موم آپ کو سمجھا دیتی ہیں۔،،ماشی نے سینڈوچز کو اون میں رکھتے ہوئے اسے دیکھا۔وہ حیرانگی سے ماشی کو دیکھ رہی تھی۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہیں بھابھی۔،،ماشی ہاتھ دھوتے ہوئے اور چادر شہانوں پہ ٹکا کر اس کے پاس چلی گئی۔
“یہ ہی کہ مجھے بہت پیاری اور اچھی نند ملی ہے۔کتنی قسمت والی ہوں نہ نہیں تو نندیں تو کتنی بری ہوتی ہیں،،بائمہ نے دل سےاس کی تعریف کی
“بھابھی دنیا میں ہم سب مہمان ہیں پھر کیوں نفرتیں گھولیں۔آخر یہاں سے لے کیا جانا ہے کچھ نہیں ۔،،ماشی نے مسکرا کر کہا تو وہ بھی مسکرا دی۔ماشی سب کا یوں ہی دل جیت لیتی تھی۔
ایک بار جو اس سے بات کرتا پھر سے کرنے کو من کرتا یہ ہی حال بائمہ کا ہوا تھا۔اسے اب یقین ہونے لگا تھا ہر عورت ایک جیسی نہیں ہوتی اور ہر مرد ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔
کافی دیر وہ دونوں باتیں کرتی رہی اور پھر بائمہ اپنے کمرے میں چلی گئی ماشی واپس کیچن میں جا کر گنگناتے تیز
تیز ہاتھ چلانے لگی۔
وہ اپنے دھیان میں مگن کام کر رہی تھی جب آسام نے اسے پیچھے سے آ کر ڈرا دیا ڈر کے مارے وہ ہڑبڑا گئ اور پاؤں سنگ مرمر سے پھسلا تھا کہ آسام نے اسے پکڑ لیا
“صبح بخیر جان۔,،،آسام نے اس کے کان میں کہا تو ماشی نے جذب سے آنکھیں بند کر لی۔وہ اسے دیکھنے لگا
“آئی لو یو بیگم جان۔،،آسام پھر محبت سے بولا۔
“ک۔۔ککک۔کوئی آ جائے گا چھوڑیں۔،،ماشی نے اسے دھکیلنا چاہا۔
“تو آ جائے میں نے اپنی بیگم کو پکڑا ہے کسی غیر کو نہیں مجھے حق ہے آپ کے پاس آنے کا اور۔۔،،آسام نے اس کو اپنے تھوڑا اور قریب کیا ماشی نے آنکھیں مند لی۔آسام اسے دیکھنے لگا منہ پہ بال آگئے تھے جو ڈھیلے ڈھالے جوڑے سے نکلے تھے آسام نے ایک ہاتھ سے انہیں ہٹایا ۔
“اور آپ کو چھونے کا۔،،ہونٹ ماتھے پہ جا ٹہرے تھے ماشی نے اس کے سینے سے سر ٹکا دیا۔
“آسام آپ آپ کو حق ہے پر کیچن میں یہ سب نہیں چلے گا۔۔میں نگینہ کو اٹھا آتی ہوں نماز پڑھ لے پھوپھو کو خبر ہوئی کہ ان کی ہونے والی بہو دیر تک سوتی ہے تو بچارے افی کا پتا کٹ جائے گا۔،،ماشی نے اسے پیچھے دھکیلا اور باہر بھاگی مڑ کر دیکھا تو آسام اسے دیکھ رہا تھا۔
“پاگل۔۔،،ماشی نے اشارے سے کہا۔
“آپ کی محبت میں۔،،آسام نے آنکھ دبا کر کہا تو وہ کھلکھلا کر ہنسی اور چلی گئ۔
نگینہ کو جس کمرے میں اس نے ٹہرنے کو کہا تھا اس کا دروازہ کھول کر وہ اندر چلی گئی۔
اسے لگا تھا شائد نگینہ ہو گی۔پر وہاں افنان سو رہا تھا۔
آڑھا تریچھا وہ بیڈ پہ منہ سرہانے میں دیئے ہوئے تھا ایک پیلو زمین پر گرا پڑا تھا اور ااس کی ٹانگ کمبل سے باہر تھی۔ٹائی زمین پہ پڑھی تھی شوز بےترتیب انداز میں پڑھے تھے
“ایک رات میں اس نے کمرے کا کیا حال کر دیا ہے۔اوت نگینہ کہاں ہے شائد اس کے کمرے میں ہو۔،،ماشی کمرے سے نکل کر افنان کے کمرے میں چلی گئ جہاں وہ پر وہ وہاں بھی نہیں تھی۔
“افنان کو پتا ہو گا۔،،وہ پھر واپس پلٹی افنان کروٹ بدل رہا تھا۔اس کی شرٹ کے بٹن آدھے
کھولنے ہونے کی وجہ سے چاندنی نظر آ رہا تھا۔
ماشی نے نظر جھکا لی اور واپس مڑنے لگی۔
“کیا ہوا کوئی کام تھا۔،،وہ بغیر آنکھیں کھولے بولا۔
“ہاں وہ نگینہ کہاں ہے۔،،ماشی نے ایک نظر اسے دیکھا جو سو رہا تھا یا جاگ رہا تھا یہ معلوم نہیں ہوا۔اور پھر وہ منہ موڑ کر شال ٹھیک کرنے لگی
“یہاں ہی ہو گی۔،،
“نہیں ہے یہاں۔،،ماشی فکر مندی سے بولی اور حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی وہ بھاگ کر بیڈ سے اترا تھا۔
اور پوری حویلی میں اسے ڈھونڈنے لگا۔
ہر کمرہ ہر جگہ ڈھونڈ لی پر وہ نہ ملی۔
سب پریشان ہو گئے تھے۔
“چھت پہ دیکھا۔،،آسام کے سوال کرنے پہ وہ چھت پہ بھاگ گیا اور پھر پچھلی سیڑھیاں اتر کر لان میں گیا۔ادھر ادھر دیکھنے کے بعد وہ نظر آئی سفید رنگ اور بھی سفید ہو گیا تھا ہونٹ نیلے پڑ گئے تھے۔
افنان کے قدم ڈگمگائے وہ بمشکل چلتا اس کے پاس جا کر گر گیا
“میں تمہیں یوں پل پل جلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی افنان تمہارے سوا میرا اس دنیا میں کوئی نہیں۔میں تمہیں نہیں کھونا چاہتی میں تمہارے بغیر مر جاؤں گی
یہ ایکٹنگ نہیں ہے
میں تمہارے بغیر مر جاؤں گی۔
تمہارے سوا میرا کوئی نہیں ہے،،۔آواز تھی کہ تیز چاکو کی دھار جو افنان کے دل میں لگنے لگی تھی۔
پہلی بار اس نے اظہار محبت کیا تھا پر آنکھیں تو کئ بار کر گئ تھی پھر کیوں وہ ایسا کرتا رہا ماشی کے لئے۔۔
“ن۔ننہیں نگی ت۔۔تم مجھے چھوڑ کے نہیں جا سکتی۔م۔۔میرا سکون ہو تم۔,،اس نے نگینہ کے بے جان وجود کو اپنی باہوں میں اٹھا لیا
“ن۔۔نن۔نگی اٹھو۔۔ آسام ما۔۔ماما۔۔ثاقب بھائی ۔,،،وہ جو کسی کو نہیں پکارتا تھا پہلی بار پتا نہیں کس کس کو پکار رہا تھا۔مضبوط افنان رندھاوا ہوش کھو چکا تھا۔
“نگی میں مذاق کر رہا تھا پلیز آنکھیں کھولو۔۔ت۔۔تت۔تم مجھے یوں ہی چھوڑ کر نہیں جا سکتی ابھی تو بہت دور تک چلنا تھا نہ تم نے وعدے کئے تھے ہم نے بھول گئ کیا۔اٹھو۔،،وہ اسے جھنجھوڑ رہا تھا۔اصغر نے جلدی سے اس کی شہ رگ اور نبض چیک کی زندہ تھی پر خطرے میں تھی۔
کیا پتا تھا دوسرے ہی پل وہ زندگی ہار جاتی۔
******
“تم نے ایسے کیوں کیا افنان۔وہ تمہاری محبت میں پاگل ہو گئ ہے تمہیں اس کی قدر کیوں نہیں ہوئی خود بچا کر خود ہی موت کے منہ میں دھکیل دیا۔،،
کوریڈور میں وہ ٹہلتی ہوئی اس کے پاس آئی وہ جو بینچ پہ ہاتھوں کو آپس میں جکڑے بیٹھا تھا آنکھیں اٹھا کر ماشی کو دیکھا۔وہ رو رہی تھی۔اسے حیرانگی ہوئی
“بہت اچھی ہے وہ اور تم نے اس کے ساتھ کیا کیا۔،،آنکھوں میں غضب کا غصہ تھا۔
“ایک دن وہ میرے ساتھ رہی ایک دن میں تو مجھے اس سے محبت ہو گئ
میں اسے جان گئ کہ وہ کتنی اچھی ہے اور تم یہ۔۔،،ماشی نے آنسوں صاف کر کے کھولے ہوئے بٹنوں میں نظر آ رہے چاندنی لفظ کی طرف اشارہ کیا۔
“یہ لکھ کر کہتے ہو محبت۔ارے تم محبت کرتے ہوتے تو تمہیں اس کی محبت کا اندازہ۔۔،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتی افنان کی آنکھیں لال ہو گئ وہ اٹھ کر تیز قدم اٹھاتا باہر چلا گیا۔
نگینہ کو بہت تیز بخار ہو گیا تھا۔
“کاش تمہیں معلوم ہوتا میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں،اور کون کہتا ہے مجھے اسے کی فکر نہیں۔اس کے سوا کون مجھے سمجھتا ہے کون میرا اتنا خیال رکھتا ہے۔ کتنی راتیں وہ تڑپی ہو گی۔اور میں تمہاری محبت میں مبتلا رہا اس کی آنکھوں میں محبت دیکھ کر اگنور کرتا رہا,،، وہ ہوسپٹل کے وسیع لان میں رکھے واحد بینچ پہ بیٹھ گیا۔ہر طرف سورج چمک رہا تھا روشنی تھی پر اس کے اندر اندھیرے اترنے لگے تھے۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر سینے پر رکھا اور آنکھیں بند کر لی۔دل زور سے دھڑکنے لگا تھا۔ہاتھ پاؤں ڈر سے پھولنے لگے وہ بہادر افنان رندھاوا کمزور پڑھ گیا تھا
“اسے کچھ نہیں ہو گا۔۔۔،،اس کا ایک آنسوں لڑکھڑاتا ہوا ہاتھ پہ گرا وہ پورے ہوشو حواس میں بیٹھا تھا۔کوئی نشے کا اثر نہیں تھا۔
“افنان رندھاوا کمزور نہیں ہے چلو اٹھو میرے ساتھ آؤ۔،،آسام اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف چلنے لگا اور ہوسپٹل میں بنی مسجد کے باہر جا روکا۔
“مانگنا ہے تو اس پاک ذات سے مانگو۔وہ ہر چیز دیتا ہے دل کو سکون روح کو قرار سب اس در سے ملتا ہے وضو کرو۔،،آسام نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
“اللہ مجھے معاف نہیں کرے گا سامی میں نے نگینہ کا یہ حال کیا ۔،،افنان نے ہارے ہوئے انداز میں کہا۔
“وہ سب کو معاف کرتا ہے دل سے مانگی معافی قبول ہوتی ہے وضو کرو
باقی سب اللہ پہ چھوڑ دو ۔،،آسام نے اس کے کاندھے پہ تھپکی دی اور خود وضو کرنے لگا۔وہ آسام کو کتنی دیر دیکھتا رہا ۔پھر وہ مڑا اور وضو کرنے لگا۔
******
“نگین منہ کھولو سوپ پی لو۔۔بریو گرل ہو نہ۔,, وہ اسے سوپ پلانے لگی تھی نگی نے اسے دیکھا اور رونے لگی۔
“چاندنی وہ میرا نہیں ہے۔کل اس نے مجھے کہ دیا کہ میرا اس پہ کوئی حق نہیں۔پھر مجھے کیوں بچایا اس نے مارنے دیتا۔،،نگی کی بات سن کر ماشی کا دل گھبرانے لگا
وہ بغیر بولے اسے سوپ پلانے لگی۔
“تم کچھ بول کیوں نہیں رہی۔۔،،نگی اس کی خاموشی سے پریشان ہو گئ تھی
“نگین جہاں تک میں اسے اب تک جان سکی ہوں وہ لاکھ برا سہی پر کسی کو تڑپا نہیں سکتا۔وہ چاہتا تو جب مجھے اٹھا کر لے گیا تھا شادی کر سکتا تھا پر اس نے آسام کی فکر کی۔اپنی پرواہ کئے بغیر اس نے ہماری شادی ہونے دی۔اگر چاہتا تو وہ آسام کو بتا سکتا تھا اور اسے معلوم تھا آسام اس کی کوئی بات نہیں ٹالتا پھر میں کیا تھی مجھے بھی وار دیتا اپنے بھائی کی خوشیوں پہ۔اور وہ تمہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔یقین رکھو اب تک کیا نہ یقین۔ اسے ٹائم دو سب ٹھیک ہو جائے گا۔،
ماشی نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔نگین کے چہرے پہ مسکراہٹ نمودار ہو گئ۔
“تم ٹھیک کہ رہی ہو۔قسمت میں جو لکھا ہو گا وہ ہی ہو گا۔زندگی کا کون سا بھروسہ ہے ہمیں،ایک اور بات کہوں ہم یہاں پتا ہے کیوں آئے تھے چاندنی۔،،نگین نے اٹھنے کی کوشش کی پر اٹھ نہ سکی۔
“نگین میں ایک بات کہوں پلیز مجھے چاندنی مت کہا کرو۔مجھے اچھا نہیں لگتا۔اس کے سینے پر لکھا نام میرا نہیں تمہارا ہےصرف تمہارا۔تم ہو اس کی چاندنی۔میں اپنے آسام ایجنٹ کی معاشی ہوں۔،،اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی آخر آسام کا نام جو ہونٹوں کو چھو گیا تھا
“اوکے ماشی۔کان کرو راز کی بات ہے۔،،نگین پھر سے بیٹھنے لگی تھی۔
ماشی نے مسکرا کر اس کے پیچھے سرہانے لگا کر بٹھا دیا۔اور
کان پہ آ رہے بالوں کو کان کے پیچھے کر کے کان آگے کر دیا۔
“کیا باتیں ہو رہی ہیں۔،،اس سے پہلے وہ کچھ بولتی آسام کمرے میں دستک دے کے داخل ہوا۔
“نگین بیٹا ایک منٹ ماشی سے کچھ بات کرنی ہے۔،،آسام کسی بڑے بوڑھے کی طرح بولا۔ماشی مسکرا کر اس کے ساتھ چلی گئ۔
تھوڑی دیر بعد وہ اور آسام اندر داخل ہوئے دونوں کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
“ایک بات کہوں راز کی ہے کان آگے کرو۔،،ماشی نے اسی کے انداز میں کہا اور آگے کو جھکی
“تم ٹھیک ہو جاؤ پھر سناؤں گی۔ہے تو افنان کے مطلق۔،،ماشی نے ہاتھ سینے پر باندھ کر کہا۔اور آسام کو دیکھا جو مسکرا رہا تھا۔
“میں ٹھیک ہوں ماشی پلیز بتاؤ وہ کہاں ہے مجھ سے ناراض تو نہیں ہے نہ۔میں نے اچھا نہیں کیا تھا۔کیا وہ کہیں پھر سے چلا گیا۔پہلے بھی چلا جاتا تھا م۔۔م۔مم۔مجھے تنہا چھوڑ کر اب اگر چلا گیا تو۔،،نگین نے ماشی کا ہاتھ تھام لیا وہ ہوش کھونے لگی تھی تبھی باہر بیٹھے افنان نے اس کی آنسوں بھری آواز سنی تو اندر داخل ہوا۔
“نگی۔میں نہیں گیا کبھی نہیں جاؤں گا۔۔ایم سوری جان میں غلط تھا سراسر غلط تھا میں نے تمہارے جذبات کی قدر نہیں کی ۔۔۔،، وہ بھاگ کر اس کے پاس آیا تھا ماشی اور آسام دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا مسکرا دیئے۔اور باہر چلے گئے آسام نے ماشی کا ہاتھ تھام لیا وہ کوریڈور سے نکلتے لان سے ہوتے ایک طرف جا روکے آسام اسے دیکھنے لگا جو اس کی چاندنی تھی جس نے اس کی زندگی میں محبت کے رنگ بھرے تھے۔
“ماشی ایک بات کہوں۔۔,،آسام سنجیدگی سے بولا
“یہ ہی کہ افنان کو واپس گھر لے جانا ہو گا۔،،ماشی نے اسے گہری نظروں سے دیکھا۔
“ہاں یار وہ پاکستان سے جا رہا ہے۔،،آسام سنجیدگی سے بولا۔
“آسام جانے دیں اسے۔پتا ہے اسے خود کو ٹائم دینے کی ضرورت ہے۔رشتوں کو سنوارنے کے لیے ٹائم چاہئے ہوتا ہے اور مجھے امید ہے ایک دن ضرور ہم سب ایک چھت کے
نیچے رہیں گے۔اسے ٹائم لگے گا آنٹی سعدیہ اور انکل سفر کو معاف کرنے میں۔وہ جذباتی زیادہ ہے۔اسی لئے اور رہی پاکستان سے جانے کی بات تو سمجھ لیں وہ اور نگین ہنی مون پر جا رہے ہیں۔کچھ مہینے جب وہ دور رہے گا۔ خاص کر ان لفنگوں سے تو سدھر جائے گا نگین اسے سدھار دے گی مجھے یقین ہے۔آپ بے فکر ہو جائیں ۔،،ماشی نے ہمشہ کی طرح آج بھی اس کا ہاتھ تھام کر اسے اس انداز میں سمجھایا کہ وہ مطمئن ہو گیا۔
“اتنی بڑی باتیں کہاں سے لاتی ہیں آپ کو موم کی بات بری نہیں لگی۔اور میرا آپ کا ساتھ نہ دینا۔،،آسام اس کے قریب ہو کر بولا۔
“نہیں آسام آپ نے جو کیا تھا ٹھیک کیا تھا وہ آپ کی ماں ہے۔ایک نظر سے دیکھا جائے تو انہوں نے اچھا نہیں کیا۔پر ہمارے مذہب میں بدلہ نہیں لیا جاتا معاف کر دیا جاتا ہے۔بہت سے لوگ بدلے کی آگ میں جل جاتے ہیں اور دوسروں کو بھی جلا دیتے ہیں۔یہ غلط ہوتا ہے انہیں معاف کرنا ہو گا بھائی بھی معاف کر دیں گے مجھے امید ہے اور افنان ،فہد،سب معاف کر دیں گے۔
پھر ہم ایک گھر میں رہیں گے۔اور ہر سنڈے میچ ہوا کرے گا۔،،ماشی نے آنے والے وقت کو اپنی آنکھوں کے پردے پر ستارا۔
“ماشی جیسے آپ سوچ رہی ہیں یہ بہت مشکل ہے سب کا دل آپ کے دل جیسا نہیں۔،،آسام نے اس کے گال پہ ہاتھ رکھ دیا وہ اسے بہت معصوم لگ رہی تھی۔
“پر ناممکن نہیں ہے ممکن ہے۔،،ماشی نے پر یقین انداز میں کہا اور مسکرائی
“انشاللہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب سب ٹھیک ہو جائے گا۔،،آسام نے اس کے ہاتھ پر ہونٹ رکھ کر کہا تو وہ چھوئی موئی کی طرح شرما گئ۔
**************
“یار کیا ضرورت تھی اتنی اور ایکٹنگ کرنے کی ،،افنان کرسی پر بیٹھ کے اسے دیکھنے لگا وہ حیرانگی سے اسے دیکھتی رہی اور پھر منہ موڑ کے آنسوں صاف کئے جو صاف نہیں ہو رہے تھے۔
“افنان تمہیں یہ ایکٹنگ لگتی ہے۔سب نظر آتا ہے میری محبت کیوں نہیں نظر آتی ،،نگینہ نے اس کے چہرے پر کچھ ڈھونڈنا چاہا
“مطلب یہ سچ ہے کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو جب کہ سب جانتی ہو کہ میں،،
“ہاں پھر بھی کیا تم مجھے میرے سارے اختیارات ٹھیک طریقے سے دو گے یا میں کورٹ میں جاؤں۔،،نگینہ آنسوں صاف کرنے میں ناکام تھی افنان اسے ہی دیکھ رہا تھا
“چاندنی ہو تم میری۔۔۔پتا ہے تمہیں،،افنان نے نگینہ کے رخسار پہ بہے رہے آنسوں کو اپنے ہاتھ سے صاف کر دیا۔نگین نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔
“میں جھوٹ نہیں بول رہا۔ایکٹنگ بھی نہیں کر رہا۔پتا ہے جب یہ لکھوا رہا تھا تو ایک روشن ساچہرہ
میری آنکھوں کےسامنے آ رہا تھا وہ تمہارا نہیں ماشی کا تھا پر دھیان اس کی طرف نہ تھا دھیان تمہاری طرف تھا۔آج میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔باقی کی زندگی میں سکون ہو گا۔آپ، میں اور کوئی نہیں۔پر اسے بھلانا مشکل ہے۔آج میرے دل کو بہت سکون ملا یہ فیصلہ کر کے وہ سکون جسے میں پانے کے لئے کیا کیا نہیں کرتا آیا۔،افنان نے اس کی آنکھوں میں دیکھا
“پر ناممکن نہیں اگر تم میرا ساتھ دو گی ہر بار کی طرح میرا ساتھ دو گی تو۔اور یہ نام بہت جلد ختم کروانے والا ہوں بھول گیا تھا کہ میں کیا ہوں اور یہ سب مجھ پہ سوٹ نہیں کرتا،،افنان کے ہاتھ ٹھنڈے ہونے لگے تھے۔نگی نے اپنے گرم ہاتھ میں اس کے ہاتھ پکڑ لئیےاور ہاں میں سر ہلا دیا
“افنان میں ہمشہ تمہارے ساتھ رہی ہوں ہر ایک قدم میں نے تمہارے ساتھ رکھا اور ساری زندگی ہم ساتھ رہیں گے۔ وہ زندگی کل کیوں نہ ختم ہو جائے۔،،نگین نے یقین سے کہا
“کیا تم مجھے معاف کرو گی میری ہر غلطی کے لئے۔میری چاندنی بنو گی مجھ سے شادی کرو گی۔،،افنان نے اس کے شفاف چہرے پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔
“نہیں کل کو تم پھر سے مجھے چھوڑ جاؤ گے۔پھر سے کہو گے میرا تم پہ کوئی حق نہیں تم صرف چاندنی کے ہو۔کیا ثبوت ہے تم کبھی مجھے چھوڑ کے نہیں جاؤ گے میرے پاس رہو گے پیچھلی بار کی طرح اکیلے ہی نہیں کہیں جاؤ گے جانتے ہو میں پیچھے سے کتنی پریشان ہو گئ تھی۔ ۔،،نگین نے اس کو گریبان سے پکڑ کر اپنے قریب کیا اور آنسوں صاف کر کے منہ دوسری طرف کر لیا۔
“کیا ثبوت چاہئے جان۔۔،،افنان نے جذباتی ہو کر اسے
اپنی طرف گھما لیا۔
“مجھے کیا پتا۔جو تمہیں ٹھیک لگے۔،،نگینہ نے اس کی بےبسی کو بھانپ کے مسکراہٹ دبا لی۔
“اوکے اب میں ثبوت کے ساتھ آؤں گا ویٹ اینڈ واچ۔،،افنان نے اس کو لٹا دیا اور باہر جانے لگا۔
“شادن۔۔،،نگینہ نے اسے آواز لگائی تو وہ روکا اور مڑا۔
“کچھ نہیں جائیں ،،وہ مسکرا کر بولی تو افنان سر ہلا کر باہر چلا گیا
“اللہ تیرا شکر ہے تو نے مجھ گناہگار کی دعائیں قبول کر لی اسے بھٹکنے سے بچا لیا اسے اس کا مقصد یاد آ گیا ۔،،نگینہ نے ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر ادا کیا۔اور پھر آنکھیں مند لی
*********
“تم دونوں کو میرا ایک کام کرنا ہو گا۔،،آسام اور ماشی لان میں بیٹھے باتوں میں مصروف تھے جب افنان ان کے سامنے آ کر بولا۔ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا نظروں میں ایک دوسرے کو کوئی اشارہ کیا۔
“کیا کام ہے۔،،
“میری شادی کرواؤ ماما کو منانا ہے۔،،
“کیا کہا۔۔،،وہ دونوں ایک ساتھ چلائے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔
“ہاں یار مجھے شادی کرنی ہے ۔۔،،،
“آسام آئندہ میری شادی کی بات بھی مت کرنا ورنہ۔۔۔،،آسام نے اس کے کہئے ہوئے جملے اسی کے سٹائل میں بیان کئے تو وہ سر تھام کر بینچ پہ بیٹھ گیا۔آسام اور ماشی کا بے اختیار کہکا گونجا۔
“مس سٹروم پلیز ماما سے بات کرو فہد اور عشرت کی سیٹنگ بھی تو کروائی تھی نہ۔اب میرا بھی کچھ کر دو وہاں وہ کہتی ہے میں محبت کاثبوت دوں۔مر گیا میں تو،،افنان نے معصوم سی شکل بنا لی۔آسام نے منہ پہ ہاتھ رکھ کر اپنی ہنسی روکی۔
اور ماشی بھی اسی کوشش میں تھی۔
“ٹھیک ہے آپ باتیں کریں’میں نگین کے پاس جاتی ہوں۔،،ماشی ڈوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے بولی۔
“مسز رندھاوا۔۔ایک منٹ،،افنان اٹھ کر اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
“نگین نہیں چاندنی افنان کی چاندنی۔۔،،افنان کی بات پہ ماشی نے حیرانگی سے اسے دیکھا اور مسکرا دی۔
“شکریہ بہت بڑا بوجھ ہلکا کر دیا آپ نے۔،،ماشی نے مسکرا کر کہا اور چلی گئی۔افنان اسے جاتے دیکھتا رہا جب وہ کوریڈور میں داخل ہو گئ تو
بالوں میں ہاتھ چلاتا واپس آ گیا۔
“یہ چاندنی والا کیا چکر ہے۔،،آسام نے بینچ پہ بیٹھتے ہی پوچھا۔
“پہلے یہ بتاؤ کہ ایجنٹ والا کیا چکر ہے۔،،وہ بھی بینچ پہ بیٹھ گیا۔
“میرا نام ہے،جو ماشی نے دیا ہے۔ ایجنٹ،نقاب پوش،آسام،مسٹر رندھاوا،کچھ بھی پکار سکتے ہو۔،،آسام نے ساری بات سنا دی۔افنان منہ کھول کر دیکھنے لگا
“سامی بےبی تو تو بڑا چھپا رستم نکلا،بھائی تک کو مارا چھچ چھچ ایک لڑکی کیا سے کیا بنا دیتی ہے ویسے تم نے اچھا نہیں کیا تھا جب موم۔۔،،وہ کہتے کہتے رک گیا۔
“جب تمہاری ماں اسے بےوجہ کی باتیں سنا رہی تھی۔تب تمہارا یہ پیار کہاں گیا تھا وہ وہاں خاموش کھڑی رو رہی تھی اور تم۔،،افنان کو اس پہ غصہ آنے لگا تھا۔
“غلطی ہوئی تھی مجھ سے آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔ایم سوری۔،،آسام نے مسکرا کر کان پکڑ لئے۔
“گڈ بوائے چلو اب چلتے ہیں۔لیڈیز کو زیادہ دیر اکیلا نہیں چھوڑنا چاہئے ہاہاہاہا۔،،افنان نے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔وہ چاندنی والی کہانی سنانا نہیں چاہتا تھا
آسام نے بغور اس کا جائزہ لیا۔جو شرٹ کے بٹن وہ ہر وقت کھولے رکھتا تھا وہ بند تھے۔چہرے پہ سکون تھا مسکراہٹ میں جان تھی۔
“نظر مت لگا دینا سامی بےبی۔۔،،افنان نے ہنسی دبا کر کہا آسام نے پنچ بنایا اور اس کے کاندھے پر مار دیا۔وہ دونوں ہنستے ہوئے کوریڈور میں داخل ہوئے۔
