Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry NovelR50671 Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 05,06)
Rate this Novel
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe (Episode 05,06)
Teri Muhabbat Mein Pagal Hoe by Tayyaba Chaudhry
کبھی قیاس‘ کبھی وہ گمان بدلے گا
میں جانتی تھی وہ اپنا بیان بدلے گا
مری آنکھوں میں بھی رہنا تجھے قبول نہیں
بتا کہ اور تو کتنے مکان بدلے گا
بس ایک آس پہ جیتا ہوں آج تک مولا
کبھی تو رنگ تیرا آسمان بدلے گا
یہ ممتحن‘ یہ نتیجہ بدل نہیں سکتا
اے دل فقط یہ ترا امتحان بدلے گا
ابھی تو راہ میں کتنے ہی موڑ آنے ہیں
یہ دیکھتا ہوں تو کتنے بیان بدلے گا
وہ روز کی طرح بیڈ پہ تکیئے میں منہ دےکر سویا ہوا تھاجب آسام نے اس کو جگایا
,, افی اٹھ جاؤ آج پہلا دن ہے اور لیٹ ہونا ہے کیا۔۔۔،،وہ اے سی آف کر کے اس کی طرف آیا اور کمبل کھینچ دیا
,,کیا مصیبت ہے یار چین سے سونے بھی نہیں دیتے میں نے نہیں جانا تم جاؤسونے دو مجھے۔۔۔،،افنان بند آنکھوں سے ہی بولا اور کمبل کھینچ لیا
,,اٹھ جاؤ بس کرو اب نیندتوآنی نہیں تم کو ۔۔،،آسام پروفیوم لگاتے ہوئے بولا۔اور افنان اٹھ کر بیٹھ گیا
,,واہ واہ سامی بےبی بڑے ہوٹ لگ رہے ہو۔۔اس پینڈو کے ساتھ ڈیٹ ہے کیا،،افنان ہسی دباکے بولا
,,بکواس بند کرو اور تیار ہوجاؤایسی فالتو باتوں سے فہرست ملے تو پڑھائی پہ بھی دھیان دے لیاکرو۔۔،،آسام اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے آئینے میں سے افنان کو گھور کر بولا
افنان اٹھ کر سستی سے چلتاواش روم میں گھس گیا آسام صوفے پر بیٹھ کے اس کا ویٹ کرنے لگا۔۔
_____________*********____________
,,علی تمہارا کیبن یہ ہے تم نے جسٹ کالز پک کرنی ہیں اور اوڈرز لینے ہیں۔۔،آج علی کی جوب کا پہلا دن تھا۔۔موحد اسے کام بتاکرچلاگیا۔
,,ویلکم ۔امید ہے آپ کو ہمارا آفس پسند آئے گا اور اگر کچھ سمجھ نہیں آرہی ہو تو ہمیں یاد کرئے گا۔۔،،سکریٹری نے آداب سے کیا اور چلی گئی۔۔
علی کرسی پہ جھلنے لگا۔۔اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔کیونکہ اسے نوکری مل گئ تھی وہ بھی رندھاوا انڈسٹریز کا حصہ بن گیا تھا۔۔اس کو فیکٹری کی طرف سے مکان دیا گیا تھا ۔اور وہ اپنے گھر میں رہتے تھے سب ٹھیک ہو چکا تھااس کی زندگی میں۔۔وہ باپ بننے والا تھایہ خوشی اس کے لیئے کم نہیں تھی۔۔
___________****________****________
,,یااللہ آج اس جاہل بدتمیز کمینے انسان سے ٹکراؤ نہ ہو میرا۔۔,,ماشی یونی ورسٹی کادروازہ عبور کرتے ہوئے سوچ رہی تھی۔۔اس نے ڈوپٹہ کیاہوا تھا۔جس میں وہ بہت عجیب فیل کر رہی تھی۔
,, ماشی۔۔،،کومل نے اسے پکارا تھاوہ جو کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی اس کی آواز پر چونک گئی
,,جی۔۔،،ماشی اس کی طرف گھوم گئی
,, ملکوں کی رانی تم شلوار قمیض میں پٹاخہ لگتی ہو اسی لیئے تو ہر آتا جاتا تمہیں ہی دیکھ رہاہے ہے۔۔،،کومل نے آتے جاتے ہر اسٹوڈینٹ کی طرف دیکھا
,,اور ہاں ہم مس سٹروم کو دیکھنا چاہتے ہیں ۔۔ہاہاہاہا،،مہک نے کہکہکا لگاکرکہا
,, گرلز مجھے ڈر ہے کہ یونیورسٹی والے مجھے باہر نہ نکال دیں پھر۔۔،،ماشی نے کاجل سے بھری آنکھوں کو سکوڑ کر کہا
,,مرجانی اےتم جیسی خوبصورت کو کون نکالنا چاہئے گا پرنسپل بھی فدا ہو جائے گا۔۔،،کومل آنکھ مارکر بھاگ گئ۔
,,شرم کرو رکو بتاتی ہوں تم کو میں۔۔،،ماشی اس کے پیچھے چل دی وہ کوریڈور میں چل رہی تھی کہ اچانک کسی کلاس سے کوئی نمودار ہو گیا ماشی کی اس سے ٹکر ہو گئی اس شخص کی کتابیں گر گئ۔
,,ایم سوری،۔۔وہ اس کی کتاب اٹھاتے ہوئے بولی
,,۔ایٹس اوکے میں اٹھا لوں گا۔۔،،وہ بھی جھکا کتابیں اٹھانے لے لئے۔ایک پل کو تو ماشی کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا تھا پردوسرے پل وہ بولا
,, میرا نام ہارش راجپوت ہے اور آپ۔۔،،ماشی جانے لگی جب ہارش نے پیچھے سے کہا۔ماشی اسےمڑکے حیران ہو کر دیکھنے لگی وہ اپنا تعارف نہیں کرنا چاہتی تھی
،,,میں معروش ملک ۔۔،، وہ بول کر چلی گئی
,,معروش ملک۔۔،،ہارش اس کانام بول کر مسکرا دیا۔
,اللہ میرے میں تو بھول ہی گئی تھی کہ یہ میرا گھر نہیں ذرا ہوش سے چل لیتی تو کیا بگڑ جاتا میرا۔۔،،وہ دھڑکتے دل کے ساتھ کوریڈور سے نکل گئ۔
,, ہاہاہاہا ملکوں کی رانی کے پاؤں کس نے روک دئے۔چلو اب کلاس لگنے والی ہے پہلی کلاس انگلش کی ہے سنا ہے پروفیسر ہیٹلر ٹائپ ہیں۔کیٹ ہوجانے پر کلاس میں انٹری بند کردیتے ہیں۔،،وہ چاروں کلاس کی طرف چلی گئیں
کلاس میں شور تھا وہ تھوڑی نروس تھی نئی جگہ نئے لوگ وہ دونوں ہاتھوں کوآپس میں جکڑے ہوئے چل رہی تھی
اس نے کلاس میں قدم رکھا تو سناٹا چھا گیا ساری کلاس اس کی طرف دیکھنے لگ گئ۔وہ اور نروس ہو گئی اسے پسند نہیں آیا تھا اس کے کلاس فیلوز کا یوں دیکھنا
,,ماش دیکھ سب کے منہ کھول گئے۔۔،،کومل نے اس کے کان میں گھس کر کہا ماشی نے اسے کہنی ماری اور ایک سمائل کلاس کی طرف اچھالی ۔
,,ہائے پینڈو راستہ چھوڑنہ پلیز۔۔،،پیچھے سے انوشکا اور افنان لوگ آگئے تھے ونیت اس کو دھکادینے لگی پر ہارش نے ماشی کو ہاتھ سے پکڑ کر سائیڈ پر کر دیا اور اسی وقت ہاتھ چھوڑ دیا۔
,,ایم سوری مس ملک پراگرآپ گر جاتی تو مجھے آپ کو اپنی باہوں میں اٹھانا پڑھتا
جوآپ کوکبھی پسند نہ آتا اسی لیئے آپ کو میں نے بچانا ٹھیک سمجھا۔۔فہرست میں ہمارے بارے میں سوچئے گا شائد ہم یاد آجائیں آپ کو۔۔،،وہ سرگوشی کرکے پیچھے ہو گیا۔
اور سلوٹ جھاڑکے بینچ پہ بیٹھ گیا۔وہ سوچنے لگی پر سمجھ میں کچھ نہ آیاتو بینچ پہ جاکربیٹھ گئ
۔ساری کلاس کا دھیان افنان اور انوشکا لوگوں کی طرف تھا اس نے سکون کا سانس لیا اور کتاب کھول کر بیٹھ گئی عشرت لوگ بھی اس کے پاس آکر بیٹھ گئ۔آسام کلاس میں آیا تو عشرت نےماشی کو کہنی ماری
,,دیکھو کتنا پیارا لگ رہا ہے اور وہ دیکھو کیا نام تھا افنان وہ کتنا ہینڈسم ہے میں کس کو پیار کروں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ماشی۔۔،،عشرت سر پکڑ کر بیٹھ گئی ماشی نے کتاب اس کو ماری تو اس کی ہسی نکل گئ۔
کلاس کاشور تب تھما جب سر کلاس میں داخل ہوئے۔۔سب نے سلام کیا سر نے لیکچر شروع کر دیا
,,معروش ملک۔۔آسام رندھاوا۔ہارش راجپوت۔۔اور ماہا۔۔آپ میرے پاس آئیں ویٹ کر رہاہوں میں آپ چاروں کا۔۔کچھ کام دینا ہے آپ چاروں کو۔۔،لیکچر کے لاسٹ پہ سر کہ کے باہر چلے گئے۔ساری کلاس کی نظریں ان چاروں کوڈھونڈ رہی تھی۔۔
,,اب یہاں کس کو گرا دیا تم نے مٹی۔۔,,ہارش ماشی کے پاس آکر بولا
,,اے مسٹر تم کون ہو۔۔،،عشرت نے چڑ کر پوچھا
,, میں بونا۔۔۔،،ہارش نے ہس کر کہا
,,بونا۔۔۔۔یہ کیسا نام ہے،،عشرت نے پر سوچ انداز میں کہا
,,آفت۔کی پوڑیا۔۔تم کیا سوچ رہی ہو۔۔چلو چلیں،،ماشی نے چونک کر اسے دیکھا پینٹ شرٹ میں ملبوس پرسنیلٹی والا وہ نوجوان پہلے دیکھ چکی تھی وہ یہ لفظ کئ بار سن چکی تھی۔۔پرکہاں کس سے یہ اسے یاد نہیں تھا آسام تھرڈ بینچ پہ بیٹھا تھا اور ماہا فرسٹ پہ وہ لوگ بیٹھ کر ہی ہارش اور ماشی کا ویٹ کرنے لگے
,,آسام تو ہمارا بےبی ہے ۔۔اور یہ ہارش ماہا اور معروش ملک کون ہے گائس ۔،،انوشکا بینچ پہ کھڑی ہو کر چلائی
,,میں ماہا ہوں۔۔،،ماہا کھڑی ہو کربولی پر ہارش اور معروش نہ ہلے۔
,,اور ہارش راجپوت معروش ملک کون ہیں شکلیں دیکھا دیں ہم دیکھنا چاہتے ہیں ہمارے ٹوپرز کیسے ہیں۔۔،،
,, چلیں۔۔،،ہارش نے دروازے کی طرف اشارہ کیا
,,آپ جاؤ میں آجاؤں گی۔۔،،ماشی نے ناگواری سے کہا ہارش کاندھے اچکاکر چلا گیا
,,تم ہارش راجپوت ہو۔۔۔،،ونیت اس کے سامنے ارکی۔
,,جی۔۔،،اسے ونیت کا یوں سامنے آنا آچھا نہیں لگا تھا اسی لیئے ناگواری سے بولا
,,مائے مائے بڑے ہینڈسم ہو پر افی سے کم ۔۔
ہائے میں سیدہ ونیت ۔۔۔،،اس نے ہاتھ آگے بڑھایاتو ہارش نے اس کاسر سے پاؤں تک جائزہ لیا جینز شرٹ میں وہ مبلوس چھوٹے چھوٹے بالوں کو کھولا چھوڑے منہ پہ میک اپ کئے کہئیں سے بھی سید نہیں لگ رہی تھی
,, معاف کیجئے گا پرآپ کسی اینگل سے بھی سید نہیں لگ رہی اور ویسے بھی میں لڑکیوں کے ہاتھ نہیں تھامتاسو۔۔۔۔،،اس نے سو کو لمبا کر کے کہا اور ہاتھ کے اشارے سے اس کو ہاتھ پیچھے کرنے کااشارہ کیا
کلاس میں کہکہکا گونج گیاونیت اسے کھاجانے والی نظروں سے گھورنے لگی
۔ہارش دروازے کی سمت بڑھ گیا ماشی بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
،,تم کہاں جارہی ہو پینڈو۔۔سر نے معروش کو بلایاہے یعنی انٹیلیجنٹ لڑکی کوتم کونہیں بیٹھ جاؤ جاکر۔،،انوشکانے اس کا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کیا۔
,,یہ ہی ہیں معروش ملک۔،،ہارش نے سینے پہ ہاتھ باندھ کرمسکراہٹ کے ساتھ کہا
اس کی اس بات پر افنان کے گروپ کو کرنٹ لگا انوشکا نےاس کا ہاتھ چھوڑ دیاوہ گزرنے لگی تو اس کا ڈوپٹا پیچھے سے کسی نے پکڑلیا
پرجب اس نے مڑکے دیکھاتو بینچ کےابھرے ہوئے کیل سے اٹکاہوا تھاوہ بینچ افنان کا تھا۔افنان اسے دیکھے جا رہاتھا وہ کیا سوچ رہاتھا یہ وہ نہیں جانتی تھی ماشی ایک قدم پیچھے ہوئی اور ڈوپٹہ نکالنے لگے افنان نے اسے قریب سے دیکھا۔۔ماشی نےاس پہ ایک
نظر بھی نہ ڈالی اور آگے بڑھ گئی۔
,,کیا دیکھ رہے تھےاسے ,,لکی نے افنان کوکاندھا مارکر کہا۔۔
,, دیکھ رہاتھا اس نے میک اپ کیا ہوا ہے یا ریل بیوٹی ہے۔،،افنان نے لکی کے کان میں گھس کر کہا
,,تو پھر کیا دیکھا,,,
,, حقیقت میں خوبصورت ہے۔۔،،افنان نے لکی کوأنکھ مار کر کہا
ماشی ونیت کے پاس سے گزرنے لگی تھی تو اس نے اپنی ٹانگ آگے کر دی۔۔ماشی گرنے لگی پر آسام نے اسے تھام لیا
,, آپ ٹھیک ہیں ۔۔،،آسام پیچھے ہوتے ہوئے بولا پر کلاس ساری ہس رہی تھی ماشی کی آنکھوں میں آنسوں تر آئے وہ ایک نظر آسام پرڈال کرباہربھگ گئی آسام نے ونیت کو دیکھا جواس کے ساتھ والے بنچ سے ٹیک لگا کر مسکرا رہی تھی
اس نے باہر قدم بڑھادیئے۔
اور ماہا ۔۔ہارش بھی ان کے پیچھے چلے گئے۔وہ لوگ سر سے مل چکے تھے اور باہر چلے گئے ماشی گھاس پہ جابیٹھی۔اسے غصہ تو نہیں آرہا تھا پر برا لگ رہا تھا
___________****________****________
,,ماشی نیکسٹ کلاس ہونے والی ہے چلیں۔۔،،ہارش پتا نہیں کہاں سے آگیا تھا۔
ماشی نے غصے سے اسے دیکھا
،،دیکھو تم جو بھی ہو مجھ سے دور رہو اور زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے سمجھے تم۔۔،،ماشی غصے سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
,,آفت۔۔۔ میں جو بھی نہیں ہارش ہوں۔۔۔ارف بونا۔۔،،ہارش پہ اس کے غصے کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا وہ اپنے انداز میں بول رہاتھا۔اتنے میں عشرت اور کومل مہک اس کے پاس آگئ
,, عشرت تم بھی مجھےبھول گئی افسوس سے ہےیار۔۔،،ہارش نے عشرت کودیکھ کر کہا عشرت سوچنے لگ گئ
,,۔نہیں میں آپ کو جانتی نہیں۔،،عشرت نے نظریں جھکا کر کہا تو اس کی بے اختیار ہنسی نکل گئی
,,قسم سے تم وہ ہی موٹے دماغ والی رہنا۔۔،،ہارش ان دونوں کو بات بات پہ چونکا رہا تھا
,, نہیں پہچانا۔۔ ،،ہارش نے پوچھا ان دونوں نے نفی میں سر ہلا دیا
,, میں بتاتا ہوں۔۔میں آپ کے پاپاکے دوست کابیٹا ہوں اور
آپ لوگوں کاکبھی بیسٹ فرینڈ تھاہم ا ایک اسکول میں ایک کلاس میں پڑھتے تھے مجھے تم لوگ بونا کہتے تھے
۔اب یاد آیا،،ماشی اور عاشی نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا
,,بونے تم۔۔۔اتنے بڑے کیسے ہوگئے۔۔،،عشرت نےہس کرکہا۔۔
,,تمہاری طرح نہیں ہوں بددماغ عورت۔۔۔،،ہارش نے بھی اسی کے انداز میں کہا۔
,,اوئے میں عورت نہیں ہوں۔۔،،عشرت نے اسے انگلی دیکھائی
,,ہاہاہا ۔ویسے کیا مجھے آپ کے گروپ میں انٹری مل سکتی ہےپلیز۔۔،،ہارش نے ماشی کو دیکھا پروہ کہئیں اور دیکھ رہی تھی۔۔ہارش اور عشرت نے اس کی اآنکھوں کا پیچھا کیا تو وہ اس طرف دیکھ رہی تھی جہاں افنان اور اس کا گروپ کچھ بچوں کو پریشان کر رہا تھا۔۔
,,ماشی کیا سوچ رہی ہو ۔۔،،
,,یہ ہی کہ یہ لوگ کیوں دوسروں کو پریشان کرتے ہیں۔۔،،عشرت کے پوچھنے پہ اس نے سنجیدگی سے جواب دیا ۔۔
,, ماشی بی بی! ابھی بہت کچھ دیکھنا باقی ہے۔۔تم اتنے میں پریشان ہو گئ ویسے تمہیں کیا لینا دینا وہ جو مرضی کریں۔تم انجوائے کرو ،،ہارش نے سنجیدگی سے کہا
,,دیکھوہارش مجھے یہ بلکل بھی پسند نہیں کہ کوئی میرےاور عشرت کے کردار پہ انگلی اٹھائے اس لیئے پلیز آپ ہم سے دور رہیں آپ کی مہربانی ہوگی میں یہاں پڑھنے آئی ہوں انجوائے کرنے نہیں ۔،،ماشی نے تیزی سے
اور لہجے میں غصہ بھر کر کہا توہارش سر ہلا کر چلاگیا۔
,,چلو کلاس ہونے والی ہے۔۔،،
,,تم لوگ جاؤ میں نے نہیں جانا،،ماشی کتاب کھول کر بیٹھ گئی۔۔عشرت لوگ چلی گئی۔اس کا دل اچٹ ہو گیا تھا باہر کبھی اتنی بدتمیزی کسی نے نہیں کی تھی جتنی اس کے ساتھ ہوئی تھی۔اس نے کبھی سوچا نہیں تھاوہ صرف پڑھنے آئی تھی یہ بھول گئ تھی باہر کی دنیا کیسی ہے۔
_____________**********___________
آج سنڈے تھا پر وہ اپنے معمول کے مطابق اٹھی نماز پڑھی اور ناشتہ بناکر کتابیں اٹھی اور اپرچلی گئ ایک ہفتہ ہو چکا تھا پر اس کا دل نہیں لگا تھا دل کسی جگہ خود بخود نہیں لگ جاتا
انسان کولگاناپڑھتا ہے پر اس نے کوشش ہی نہیں کی تھی
اس کا دل پرندوں کو دیکھنے کوکرتاپروہاں کوئی پرندہ نہیں تھا۔ہرروز کوئی نہ کوئی حدسہ ایسا ہو جاتا جواس کو پسند نہ ہوتااس کو دکھ ہوتا پر آہستہ آہستہ وہ اس معاشرے میں اجیسٹ ہونا سیکھ رہی تھی
وہ اپر بیٹھ کر پڑھتی رہی پھر جب دل وہاں بھی نہ لگاتو اٹھ کر کمرے میں چلی گئی کومل لوگ ناشتہ کر چکی تھی
,,ماشی باہر چلیں یار۔۔،،مہک نے پوچھا
,, کہاں جائیں گے۔۔۔،،ماشی نے سوال کیا
،,کہیں تو چلیں گے ریڈی ہو جاؤ۔۔اور شوپنگ بھی کر لیتے ہیں۔دو دن بعد پارٹی ہےکیا خیال ہے۔۔،،عشرت نے سب کودیکھ کرکہا۔
,,چلو ٹھیک ہے۔۔،،وہ اپنے بالوں کو جوڑے کی شکل دے کر حجاب کرکے بیگ اٹھالیا
،،چلو چلیں۔۔،
,,بس ریڈی ہو گئ۔۔،،وہ تینوں ایک ساتھ بولی ماشی نے خوفگی سے ان کو دیکھا
,,ہاں۔۔تو۔۔،،ماشی نے خود پہ نظر ڈال کر ان کو دیکھا وہ لوگ نفی میں سر ہلاکر چل پڑھی۔
,,آج پیدل چلتے ہیں۔۔،،کومل نے کہا
،،اوکے۔۔کہاں جاناہے۔۔,,وہ چاروں فٹ پاتھ پر چلتے ہوئےجارہی تھی
تھوڑی دیر میں وہ ایک پارک میں جا بیٹھی۔
،،سنو فہد نے پیسے بھیجے ہیں ہم نکلوا لاتے ہیں تم لوگ بیٹھو۔چلو مہک۔،،فہد نےاپنے آکاؤنٹ سے اس کے اؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر کر دیے تھےاور ماشی کو میسج کردیاتھاکہ نکلوا لینا
وہ لوگ بینگ کی طرف چلی گئی
بینک سے واپسی پہ ٹریفک بہت زیادہ تھی مہک تیزی سے روڈ کراس کر گئی ماشی ہڑبڑاگئ۔
,,ماش رکو ۔۔،،مہک نے دائیں طرف سے آتے ٹرک کو دیکھ کر ماشی کوہاتھ سے روک دیا
,,ماش تیزی سے آجاؤ۔،،مہک نے رش کم دیکھ کر ماشی کو کہا۔وہ ڈر گئ تھی
۔تبھی کسی کا ہاتھ اس نے اپنے ہاتھ پہ محسوس کیا۔اس نے مڑکر دیکھا تو وہ ہی نقاب پوش نوجوان تھا
وہ نوجوان اس کا ہاتھ پکڑ کر روڈ کی طرف لے جارہا تھا پہلے وہ رکی پر پھرقدم بڑھادئیے۔دوسری طرف جاکے نوجوان نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
,,ک۔۔کون ہو تم۔۔،،ماشی کی زبان لڑکھڑا گئ وہ نوجوان بغیر جواب دیئے مخالفت سمت میں بھاگ گیا۔
,,یہ کون تھا ماش۔۔،،مہک نے اس سے پوچھا
,,پ۔۔پ۔پتا نہیں چلو چلتے ہیں۔۔،،ماشی اس انجان شخص کی پیٹھ کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔وہ بہت دور جاچکا تھا جب بھی ملا تھا صرف آنکھیں ہی دیکھ سکی تھی وہ اس کی۔
کیوں کہ وہ سر اورباقی منہ چھپائے ہوئے ہوتاتھاوہ۔
,, شہزادےکیا سوچ رہے ہو۔،،لکی نے افنان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔
,,یہ ہی کہ وہ لڑکی خود کو سمجھتی کیا ہے افنان رندھاوا کی لوک اتنی خوبصورت شکل کا اس پہ اثر کیوں نہیں ہوا۔۔یار یونی کی لڑکیاں جان دیتی ہیں پروہ دیکھتی تک نہیں۔،،افنان اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
,,تو کیا ہوا یار ویسے بھی وہ پینڈو سی لڑکی ہے اسے کیا پتا۔۔۔،،افنان بیڈ پہ گرگیا
٬,,چل اب میں چلتا ہوں رات کافی ہوگئ ہے۔۔،،لکی اسے گلے لگاکرباہر چلا گیا۔۔
,,معروش ملک تم تو میرے ہاتھوں سے نہیں بچتی۔۔ہاہاہاہاہاہا،،وہ کچھ سوچتے ہوئے ہس دیا۔اور سیدھا ہوکر لیٹ گیااس کی آنکھوں کے سامنے بار بار معروش ملک کاچہراآرہاتھا
__________**********________
,,اے میرے اللہ آج کا دن اچھا گزر جائے۔کوئی گڑبڑ نہ ہونے دینا اللہ جی۔پلیز آج ان لوگوں کوتفیق دینا مجھ سے دور رکھنا پلیز میرے اللہ۔۔۔،،ماشی یونی میں داخل ہوتے دل میں دعا کر رہی تھی۔وہ ان لوگوں سے نہیں ڈرتی تھی بس افنان اور اس کے گروپ سے اس کو چڑ تھی
۔وہ ان کی حرکتوں کی وجہ تھی وہ کبھی کسی کو توکبھی کسی کو تنگ کرتے تھے۔جس وجہ سے ماشی کی لیسٹ میں وہ ہمشہ گرے رہتے تھے
وہ اپنی قابلیت کی وجہ سے پورے ڈیپارٹمنٹ میں مقام حاصل کر چکی تھی۔
,,ہائے مس معروش کیا مجھے آپ کے نوٹس مل سکتے ہیں ہرسبجیکٹ کے پلیز پلیز۔۔۔،،دو لڑکیاں اس کے پاس آئی تھی
,,جی ضرور یہ لیں۔۔،،ماشی نے اپنی فائل ان کودے دی۔وہ تھینک یو بول کر چلی گئ۔
,,ماشی کیا ہوتا ہے
تمہارے نوٹس میں سب تمہارے نوٹس ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔اور ماشااللہ چند دینوں میں تم بلندیوں پہ ہو۔۔،، کومل نے پوچھا
پاس سے گزرتی چند لڑکیاں اسے سلام کرکے گزری تھی ماشی نے مسکرا کر جواب دیا تھا
,, میں اآسان الفاظ میں لکھتی ہوں جو سمجھ بھی آجاتے ہیں اور یاد بھی ہو جاتا سیمپل۔۔،،ماشی سینے پہ ہاتھ باندھتے ہوئے بولی اتنے میں ایک لڑکی بھاگ کراس کے پاس آرکی۔
,, معروش میں یاسمین علوی ہوں
مجھ سے دوستی کریں گی آپ۔۔،،اس لڑکی نے آتے ہی سلام کے بعد دوستی کا پوچھا
,,جی ضرور۔۔،،ماشی نے ہس کر کہا
,,نہیں ایسے نہیں آپ میرے ساتھ گھمیں پھیریں گی ہم باتیں کیاکریں گے آپ مجھے ٹائم دیں گی اپنا۔۔۔،،لڑکی کی آنکھوں میں معصوم سے جگنوں جگمگا رہے تھے
,, دیکھیں میں کبھی باہر نہیں گھومتی ہاں ہم یونیورسٹی میں گھوم پھر سکتی ہیں ساتھ رہ سکتی ہیں۔۔،،ماشی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
,, معروش آپ سے میں بہت محبت کرتی ہوں۔۔آپ میری آئڈیل ہو
آپ سے مجھے بہت ایکسپائر کرتی ہیں
میں آپ کی ویسی دوست بننا چاہتی ہوں جیسے کومل اور مہک ہیں۔۔
آپ کی آواز میں جادوئی اثر ہے میں چاہتی ہوں آپ بولیں اور میں سنتی رہوں آپ بہت خوبصورت ہو مجھ سے دوستی کرلیں پلیز۔،،وہ لڑکی رونے لگ گئی تھی ماشی اس کے آنسوں سے گھبرا کر عشرت لوگوں کو دیکھنے لگی وہ لوگ بھی حیرانگی سے اس لڑکی کو دیکھ رہی تھی
,,اچھا آپ رونا بند کریں ہم آج سے فرینڈز ہیں ۔۔،،ماشی نے اس کے گلاسز اتار کر آنسوں صاف کیئے
لڑکی کی آنکھیں جگمگا اٹھی اور وہ ایک طرف چل پڑھی
ماشی لوگ کوریڈور میں چلتی آگے بڑھ گئی
,,لڑکیاں فیدا ہیں آپ پر پھر سوچیں لڑکوں کاکیاحال ہوتاگاآپ کودیکھ کر۔۔۔،،لکی اور ساگر اس کے سامنے آگئے
,,میرے سامنے سے ہٹو۔۔۔۔،،ماشی نے دانت پیس کر کہا
,,افففف اتنا غصہ اولڈیج ویسے غصے میں بھی آگ لگتی ہو۔،،لکی نے کہکہکا لگاکرکہا
,,اےمسٹر کہاں سے یہ تم کو اولڈیج لگتی ہے۔۔اور راستہ چھوڑو جانتے نہیں ہو ہمیں تم ۔،،عشرت نے انگلی دیکھا کر کہا
شلوار قمیض میں ملبوس ماشی سلیکےسے سر پہ دوپٹہ لئے ہاتھ سینے پہ باندھے ایک ہاتھ پہ ریسٹ واچ بہت بصورت لگ رہی تھی
،،ڈوپٹہ کون لیتاہے
آج کے دور میں۔۔اگر ڈوپٹہ نہ ہوتا تو،،ساگر نے بات اُدھوری چھوڑ کر کہکہکا لگایا
,,جن میں غیرت ہو ۔وہ ڈوپٹہ لیتی ہیں۔اور تم جیسے لوگ باہر دوسروں کی ماں بہنوں کوحوس بھری نظروں سے دیکھتے ہو
یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ تمہارے گھر میں بھی بہن ہے۔۔،،ماشی نے ساگر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اطمینان سے کہا
,,جسٹ۔۔شش۔،،ساگر کا جملہ ابھی منہ میں ہی تھا ماشی بول پڑی۔
,,جسٹ یو شیٹ اپ کتنے ڈھیت ہوکتنی بے عزتی ہو گئ پھر بھی کھڑے ہو ۔۔چھچ چھچ۔۔ڈوب کے مر جاؤ،،ماشی ایک ایک لفظ چبا کے بولی
,, واہ واہ ملکوں کی رانی کے لئے تالیاں ۔۔ویسے واقع ہی یار ڈوب کر مرنا ہماری رانی کا حکم ہے۔،،ہارش پیچھے کھڑا سن کے ہس رہاتھا اب اس کے پاس آکھڑا ہوا اور تالی بجانے لگا
عشرت اور کومل مہک بھی ہس کے تالی بجانے لگی کوریڈور میں تالیوں کی آواز گونجی گئ۔
کلاس روم میں داخل ہوتے آسام نے مڑ کر دیکھا اور اس طرف آگیا
,,ہم سے پنگا بہت بھاری پڑھے گا تمہیں۔۔۔،،لکی ماشی کی طرف بڑھا
,,کیا کر لو گے تم۔۔۔۔۔،،ہارش ماشی کے أگے آکے اسے محفوظ کر گیا۔
,,جانتے نہیں ہو تم لوگ کن سے پنگا لے رہے ہو۔۔،،ساگر نے دانت پیس کے کہا۔
,,اوہ ریلی تو بتا دو کس سے پنگا لیا ہے۔۔،،ہارش تنظریہ ہسا
,, افنان رندھاوا سے۔۔۔،،افنان کی آواز بھڑ میں سے گونجی وہ چلتا ہوا ہارش کے سامنے آگیا
آسام یہ سب دیکھ کر گھبرا گیا۔اور جلدی سے اس کے پاس آیا
,,افی چھوڑ چلو میرے ساتھ۔۔،،آسام اسے پکڑ کر کھینچنے لگا
,, نہیں سامی ڈونٹ ٹچ می اور ایک سائیڈ پر ہو جاؤ۔۔،،وہ ہارش کو دیکھتے ہوئے آسام کو سائیڈ پرکرتے ہوئے بولا
۔ماشی ہڑبڑا گئی افنان کی آنکھیں غصے سے لال ہورہی تھی
,,اب کیا ہو گا ۔۔،،وہ خود کو کوسنے لگی ۔
,, تم نے پتا ہے کس کو للکارا ہے۔۔۔افنان رندھاوا کو۔۔معافی مانگو تم دونوں ابھی میرے فرینڈز سے نہیں تو۔۔,, افنان نے غصے سے کہا
,,نہیں مانگیں گے کیا کر لو گے ۔۔۔،،ہارش نے آنکھیوں میں غصہ بھر کر کہا۔
,,افی جانے دو یار غلطی ساگر لوگوں کی ہےوہ مس معروش کوتنگ کر رہے تھے۔۔تم نہیں جانتے یار چھوڑو چلو میرے ساتھ۔۔،،
آسام ایک بار پھر ان کے درمیان میں آیا ماشی نے چونک کر آسام کو دیکھا اس کے چہرے پہ پریشانی تھی
,,نہیں سامی آج نہیں اس نے میرے فرینڈز کے ساتھ مس بی ہیوکیاہے میں اسےمعاف نہیں کروں گااور اس دو کوڑی کی لڑکی کو بھی ۔،،افنان نے کھا جانے والی نظروں سے ہارش کو دیکھا
,, تمہاری ہمت کیسے ہوئی معروش کے بارے میں ایسا لفظ استعمال کرنے کی۔۔،،ہارش نے اسے گھور کر کہا
,, واؤ عاشقی ہوتو ایسی ۔۔،،افنان کی بات پہ جتنا غصہ ماشی کو آیا اتنا ہارش کو بھی آیاتھاہارش افنان کی طرف قدم بڑھانے لگا
,,ماشی تم ہارش کو روکو بہت لڑائی ہوجائے گی پلیز۔۔،،عشرت نے خوفگی سے کہا
,,ہارش رہنے دو چھوڑو ان کے منہ لگنا ہی بے کار ہے جاہل لوگوں کو سمجھایا نہیں جاتا۔۔چلو تم ،،اس سے پہلے ہارش کچھ کرتاماشی نے عشرت کی بات مان کر اسے روک دیا
وہ افنان کو نفرت بھری نظروں سے دیکھ کر گزرنے لگی پر افنان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔
,, محترمہ اتنی بھی کیا جلدی ہے۔۔،،اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتاماشی نے اس کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا۔۔پورے کوریڈور میں سناٹا چھا گیا ۔
,, آئندہ ایسی بدتمیزی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچ لینا۔انڈرسٹینڈنڈ،،ماشی اسے انگلی دیکھاکر بولی وہ نہیں جانتی تھی اس میں اتنی طاقت کہاں سے آگئ ۔آسام حیرانگی سے کبھی ماشی اور کبھی افنان کے بدلتے ہوئے رنگ کو دیکھنے لگا
,,بہت پچھتاؤ گی تم۔۔۔،،افنان غصے سے دانت پیس کر اسے انگلی دیکھا کر چلا گیا۔ جمع ہوئے لوگ بھی چلے گئے
۔۔ماشی نے آسام کو دیکھا وہ ابھی بھی حیرانگی اور پریشانی کی کیفیت میں تھا۔
,,ایم سوری پر آپ کے بھائی کا یہ علاج تھا۔۔،،ماشی آسام کے پاس آکر رک کر بولی۔۔آسام نے ایک نظر اس پہ ڈالی اور چلا گیا۔
,, واہ واہ ملکوں کی رانی کمال کر دیا۔۔،ہارش نے کہا ماشی نےغصے سے اسے دیکھا اور تیز تیز چلتی گئ۔۔
ہارش کاندھے اچکاکر عشرت لوگوں کے پاس جاکھڑاہوا۔۔
آج ماشی نے سانپ کی بل میں ہاتھ دیاتھا۔۔افنان رندھاوا کی انا پر چوٹ لگی تھی۔۔اب وہ کیا کرنے والا تھا یہ تو آنے والےوقت نےہی بتانا تھا
__________**********________
ہارش راجپوت اپنے خاندان کا اکلوتا وارث تھا بہت
سلجھا ہوا اور تھوڑا بہت ضدی بھی
ضدی اس لئے کیوں کہ بچپن میں وہ جس چیز کی فرمائش کرتا مل جاتی
ماشی کا ابو اور ہارش کا ابو دونوں بچپن کےدوست تھے دونوں ساتھ ہی ڈاکٹر بن کرآئےتھےپاکستان
اور پھر ایک ہی ہاسپٹل بنا لیا ۔۔۔گہری دوستی تھی آنا جانا بھی تھا پر ماشی کبھی کہیں کم ہی جاتی تھی۔۔کالج ٹائم تو وہ بلکل ہی باہر نکلنا چھوڑ گئ تھی۔۔اسی لئے یونی ورسٹی میں اسے تھوڑی سی تکلیف ہوئی تھی اجیسٹمنٹ کرنے میں پر وہ اپنی قابلیت کے بل بوتے
بلندیوں کو چھو رہی تھی یونیورسٹی میں اس کولوگ ڈھونڈتے تھے
کچھ لڑکیاں اظہار محبت بھی کر چکی تھی تو وہاں لڑکے ڈرتے بھی تھے کیونکہ وہ ایسی ایسی باتیں سنا دیتی اگلا بندہ بولنے کے قابل نہیں رہتا ایسا ہی کچھ افنان رندھاوا اور اس کے دوستوں کے ساتھ ہوا تھا۔۔
_____________*******____________
,, ماشی تم نے اچھا نہیں کیا۔۔۔،،ماشی ڈاکومنٹس بنارہی تھی جب عشرت اس کے پاس آکر بیٹھ کر بولی تھی۔
,, کیا اچھا نہیں کیا،،ماشی نے مصروف اور لاپرواہی سے جواب دیا
,, افنان کو تھپڑ مار کر تم نے وہ کام کر دیا ہے
آ بیل مجھے مار۔۔
۔پتابھی تم کو وہ کتنا سر پھرا ہے۔۔۔اور تم کو اندازہ بھی ہے ان دو ہفتوں میں اس کی کتنے لڑکوں کے ساتھ لڑائی ہوئی کتنوں کو پیٹا۔۔۔اور پھر تم نے تو پوری یونی ورسٹی کے سامنے اسے تھپڑ دے مارا۔تم پاگل ہو گئ تھی کیا۔۔،،عشرت نے خوفگی سے اسے دیکھا پر اس کا چہرا سپاٹ تھا کوئی تاثر نہیں تھے۔۔
,,اور اس کا بھائی آسام کتنا اچھا ہے۔۔۔مجھے تو لگتا ہے آسام اس کا بھائی نہیں ہے۔پرمیرا ہیرو تو افنان ہے افففف اس کی اکڑ ۔۔اور کتنا ہینڈسم ہےاور اس کا غصہ افففف افففف۔۔،،عشرت لیٹ کر افنان کو تصور میں لانے لگی ماشی نے کتاب اسے مار دی
,,اٹھ اور جا یہاں سے خود تو پڑھتی نہیں۔۔مجھے تو پڑھنے دے۔۔،،ماشی نے انگلی دیکھا
کر کہا
,,ماش نے اچھا کیا۔ہمت کیسے ہوئی اس کی ہماری ماش کا ہاتھ پکڑنے کی۔۔،،کومل کافی کامگ ماشی کو پکڑاتے ہوئے بولی۔
,, تھینک یو۔۔اب اس ٹاپک کو بند کرو۔اور کچھ پڑھ لو۔۔،،ماشی مگ تھامتے ہوئے بولی وہ سب اپنے اپنے بیڈ پر چلی گئی۔ماشی اپنے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے کافی پیتے ہوئے سوچ میں پڑھ گئ غلطی اس کی نہیں تھی
افنان لوگوں کی تھی پر وہ ان دو ہفتوں میں افنان رندھاوا اور اس کے ٹولے کوجان گئی تھی جتنا وہ خطرناک تھا۔اس لئے وہ اس سے ٹکرانا نہیں چاہتی تھی۔
پر جب اس نے بدتمیزی کی تھی تو ماشی سے برداشت نہ ہوا۔
_________*****_________
افنان اپنے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا بار بار اسے ماشی کے تھپڑ کی آواز سنائی دے رہی تھی
,,تم نے افنان رندھاوا پہ ہاتھ اٹھایا۔۔۔تمہاری وہ حالت کر دوں گا۔پچھتاؤ گی تم۔افسوس ہو گا تم کو
گٹ ریڈی مس معروش ملک۔,,وہ سرخ آنکھوں سے اپنے سراپے کو آئنے میں دیکھتے ہوئے بولا
ایک ایک کر کے وہ پروفیمز کو ڈریسنگ سے اٹھا کر آئینے پر مارنے لگا
آسام اپنے کمرے میں جارہا تھا شور کی آواز سن کر اس کے کمرے کی طرف آگیا
,,افی کیا کر رہے ہو تم۔۔،،افنان کے ہاتھوں میں کانچ لگنے کی وجہ سے زخم ہو گئے تھےخون نکل رہا تھا
,,افی رک جاؤ۔۔،،آسام نے اسےپکڑنا چاہا
،،سامی اس لڑکی نے م۔۔مجھ پہ ہ ۔۔ہاتھ اٹھایا ۔۔پ۔پ۔پوری یونیورسٹی دیکھ رہی تھی۔۔افنان رندھاوا کے سامنے کسی نے انچی آواز میں بات نہیں کی اور وہ۔۔۔چھوڑوں گا نہیں اسے۔۔،،وہ غصے میں وحشا لگ رہا تھا سرخ آنکھیں اور بھی خوفناک بنارہی تھی اسے۔
,,افی تم بیٹھو یہاں۔،اس نے افنان کو بیڈ پہ بیٹھا دیا
,,ریلکس افی۔۔تم نے غلطی کی۔۔،،اس سے پہلے آسام کچھ کہتا افنان بول اٹھا
,, واہ بھائی ۔۔کیا بات ہے آج کم از کم میرا ساتھ دے دو۔آج تو لیکچر نہ جھاڑو تمہارے سامنے اس ل۔۔لڑکی نے مجھے تھپڑ
اب آپ بھی کچھ نہیں کرسکو گے سمجھے آپ ۔۔افنان رندھاوا ہوں میں وہ بھول گئ تھی۔۔یاد کرؤں گا اسے۔ویٹ اینڈ واچ۔۔،،افنان اس کے کاندھے پر تھپکی دے کر باہر نکل گیا۔افنان کے ہاتھوں سے خون نکل رہا تھا پرغصے سے اسے تکلیف بھی نہیں ہورہی تھی
,, یااللہ کچھ برا نہ ہو۔۔حفاظت کرنا اس نادان لڑکی کی۔اور افنان کو ہدایت دینا کچھ برا ہونے سے روک لینا۔۔,, آسام پریشان ہو کر بیٹھ گیا وہ افنان کا جب جب یہ روپ دیکھتا تھا تو بہت کچھ برا ہو جاتا تھا پر اس بار کیاہونا تھا۔۔وہ تو صرف افنان جانتاتھا۔آسام کو۔وہ بھوکے شیر کی طرح لگ رہاتھا
_______*****_____
,,شان گھر میں کتنا سناٹا ہےنا۔۔،،شان اور نمرہ اسکول سے آئے تھے اور اب اپر بیٹھ کرامرود کھارہے تھے
تو نمرہ نے افسردگی سے کہا
,, ہاں نمرہ۔۔،،شان نے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر اسی لہجے میں کہا
,, شان مجھے بہت ڈر لگتا ہےکبھی کبھی اس سناٹے سے۔آپی ماشی کی ہنسی پائل کی آواز نہیں سنائی دیتی
۔آپی عشرت کے لطیفے بھائی فہد اور آپی ماشی کی نوک جھوک نہیں سنائی دیتی مجھے ان کی بہت یاد آتی ہےان کی شان۔۔،،نمرہ نے آنکھیں مند کے دیوار کے ساتھ سر ٹکا دیا اس کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے
،،اے نمرہ رو کیوں رہی ہو پاگل وہ پڑھنے ہی تو گئے ہیں۔۔چ۔۔چار سال کے بعد پھریہ گھر ان کی ہنسی آپی کی پائل کی آواز سے گونجے گا۔۔چپ کرو۔۔،،شان کی آواز بھی بھر گئ تھی۔وہ تینوں
ان دونوں سے بہت محبت کرتے تھے اب جب وہ نہیں تھے تو شان اور نمرہ کو ان کی یاد آرہی تھی۔۔نیچے چاچی، پھوپھو ماں,بھی یہ ہی باتیں کر رہی تھی
,,ایسے لگ رہا ہے صدیاں ہوگئ ہیں بچوں کو دیکھے ہوئے۔۔،،پھوپھو نے چاچی کو دیکھ کر کہا۔
,,ہاں میرا دل تو کٹ کر رہ جاتا ہے جب سنے گھر کو دیکھتی ہوں۔۔،،چاچی لیٹتے ہوئے بولی
,,لو کر لو بات ۔۔ہم ابھی بات کرتے ہیں ان سے۔اوو کرمو میرا فون اٹھاکر لا ذرا۔۔،،ماں نے کہا
,,یہ لیں بی جان۔۔،،
کرمو بھاگ کر آئی
,,شان نمرہ ۔جلدی نیچے آؤ۔۔ماشی سے بات کر لو۔۔،،چاچی کی آواز سن کر وہ دونوں اٹھ کر بھاگے
,,آپو کیسی ہیں آپ۔۔،،شان نے جلدی سے فون پکڑتے ہوئے بولا
,, میں ٹھیک ہوں میری جان تم کیسے ہو۔۔،،ماشی عشرت کومل یونی کے لان میں بیٹھی تھی جب ان کی کال آئی تھی
,,آپی مجھے آپ کی بھائی فہد اور عشرت آپی کی بہت یاد آتی ہے آپ جلدی واپس آجائیں گھر ویران لگتا ہے سارا دن ماما ،چاچی،پھوپھو آپ سب کو یاد کرتیں رہتی ہیں۔۔،،نمرہ نے رونا سٹارٹ کر دیا ماشی کی آنکھیں بھی نم ہو گئی عشرت کے آنسوں بہنے لگے ماشی نے منہ پہ انگلی رکھ کر اسے چپ رہنے کو کہا
,,میری جان ہم بہت جلد ہی آجائیں گی اور ماں پھوپھو سےکہنا روئیں نہیں ہم جنگ پر تھوڑی آئی ہوئی ہیں بہت جلد ہم سب پھر سے مل کر ہر سنڈے بیڈمنٹن کھیلیں گے بہت ساری شرارتیں کریں گے۔۔،،ماشی نے اپنے اندر بہت سے آنسوں اتار کر بڑی مشکل سے کہا
,,اچھا گڑیا اب ہماری کلاس کا ٹائم ہو گیا میں ہوسٹل جاکر کال کروں گی اللّٰہ حافظ،،ماشی اپنا لہجہ زیادہ دیر توازن میں نہیں رکھ پارہی تھی تو بہانہ بنا کر کال کاٹ دی۔۔وہ نہیں چاہتی تھی وہ گھر والوں کو پریشان کرے۔
کال کاٹ کر اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیئے سارے آنسوں اس کے ہاتھوں میں جذب ہو گئےاسے بھی بہت یاد آتی تھی فہد کی نمرہ کی شان کی سٹیف کی۔
,,ماشی تم بھی بچوں کی طرح رونے لگ گئی بےواقوف لڑکی۔،عشرت نےاس کے ہاتھ منہ سے پیچھے کرتے ہوئے کہاپھر تھوڑی دیر تک وہ چپ ہو گئی کیونکہ دو،تین لڑکیاں ان کی طرف آرہی تھی۔
,,ہائے معروش۔۔مجھے آپ کی تھوڑی سی ہیلپ چاہئے۔۔،،ایک لڑکی بیٹھتے ہوئے بولی
،,مجھے یہ ٹاپک سمجھا دیں پلیز۔۔،،لڑکی نے کتاب آگے کرتے ہوئے کہا۔
,, عشرت تم لوگ کنٹین چلو میں ابھی آتی ہوں۔،،وہ کتاب پکڑتے ہوئے بولی۔عشرت لوگ چلی گئی۔
،،ہائے لیڈز کہاں جارہی ہو۔۔
,, کنٹین چلو گے۔۔،،عشرت فائل کو دوسرے ہاتھ میں کرتے ہوئے بولی
,,جی کیوں نہیں کتابی کیڑی نہیں آرہی ۔۔،،ہارش نے ماشی کو دیکھ کر کہا تو ماشی نے بھنویں اچکائے تو وہ کان پکڑ کر چل پڑھا جس پہ ماشی عشرت کومل تینوں بے اختیار ہس دی۔۔
وہ چاروں کینٹین کی طرف چل پڑے ماشی لڑکیوں کو سمجھانے لگ گئ۔۔
,, شکریہ آپ بہت اچھی ہیں ۔۔،،لڑکیاں اٹھ کر چلی گئی۔ماشی وہاں بیٹھی رہی۔
وہ سامنے سے افنان اور اس کے گروپ کو آتے دیکھ کر گھبرا گئ۔اور اپنی کتابیں سنبھال کر اٹھ بیٹھی
,,اس دریندے سے دور ہی رہنے میں بھلائی ہے میری۔۔،،وہ سوچ کر ایک سائیڈ پر چل پڑھی وہ ان لوگوں کو نہیں دیکھ رہی تھی۔پر افنان اسے ہی دیکھ رہاتھا۔
,,اس اولڈیج کو میں مزہ چھکاؤں گی ابھی بتاتی ہوں میرے افی کو تھپڑ مارکر اس نے بہت برا کیا۔۔،،انوشکا اس کی طرف بڑھی۔
,,رک انوشی۔۔ابھی نہیں اس کو مزا تو چھکانا ہے پر ابھی نہیں۔۔،،افنان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔تو وہ رک گئ۔اور افنان کو دیکھنے لگی افنان کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی
,, کیا سوچ رہے ہو تم۔۔۔،،ونیت افنان کے سامنے آکر کھڑی ہو گئ اور اس کی آنکھوں کو پڑھنے لگی پر پڑھ نہ پائی افنان نے آنکھ مار کر سن گلاسز لگا لئےاور جس طرف ماشی جارہی تھی اس طرف بڑھ گیا
,,بے بی ڈول افنان کی آنکھیں پڑھنا بہت مشکل ہے آپ ہماری پڑھو سمجھ بھی آئے گی۔۔،،لکی نے ونیت کو کہا
,,شیٹ اپ یار ۔۔،،ونیت بےزاری سےکہتی افنان کے پیچھے چلی گئ باقی سب بھی اس کے ساتھ چل دیئےوہ کیا سوچ رہاتھایہ کوئی نہیں جانتا تھا۔۔
Episode 6
آج یونی ورسٹی میں ان کو ویلکم پارٹی ملی تھی۔۔سب تیاریوں میں مصروف تھے۔یونی میں چہل پہل شروع ہوگئی تھی ۔
,, عشرت کتنی پیاری لگ رہی ہو یار۔۔ماشااللہ
اللہ نظر بد سے بچائے۔۔،،ماشی عشرت کو دیکھ کر بولی عشرت نےفراک پہن رکھی تھی کھولے بالوں میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
,,ماش میری ایک بات مانو گی۔۔پلیز۔, عشرت اپنے بیگ میں کچھ ڈھونڈتے ہوئے بولی
,,ہاں جی بولو میری جان۔۔،،
وہ ابھی تیار نہیں ہوئی تھی وہ کومل اور مہک کو ریڈی کر کے فارغ ہوئی
,, آج یہ ضرور پہنا کوئی لیکچر نہیں سننا چاہتی میں اوکے پلیز پلیز ۔۔,, عشرت اس کے ہاتھ میں پائلز تھما کر بولی ماشی اسے دیکھنے لگی عشرت کی آنکھوں میں امید کے جگنو تھے ماشی وہ جگنو دیکھ کر چپ ہو گئ اور سر ہاں میں ہلا دیا
,, تھینک یو سو مچ۔۔اور آج میں جیسا بولوں گی ویسا تیار ہونا پڑھے گا۔۔،،عشرت اس کے گلے لگ کر بولی ماشی نے سر ہلا دیا
وہ عشرت کاموڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی پردل ہی دل میں ڈر بھی رہی تھی کہ پتانہیں عشرت کیا فرمائش کرے گی
پر بچ بچا ہو گیا
,,واؤ۔۔۔۔بہت پیاری لگ رہی ہو اللہ ماش۔۔۔۔میں صدقے جاؤں۔۔،،کومل اسے دیکھ کر خوشی سے چینخنے لگی تھی
ماشی نے گولڈن پیرؤں تک آتی رشمی فراک پہنی ہوئی تھی جس کے فل بازو تھے۔چھوٹی چھوٹی جیولری اور گلابی ہونٹوں پہ لپ گلوس
آنکھوں میں کاجل
بالوں کا ڈھیلا ساجوڑا بنایا ہوا تھا
پیرؤں میں پائلز تھی۔
,,ایک نظر خود پہ ڈالو۔۔،،مہک نے آئنہ ماشی کے آگے کر دیا۔ماشی نے خود کو دیکھا
,,بس نظر نہ لگا لینا خود کو
چلو پہلے ہی دیر ہو رہی ہے۔۔،،عشرت کو پتا تھا ماشی اگر خود کو غور سے دیکھے گی تو سب کچھ اتار دے گی اسی لیئے اس نے آئنیہ اس سے لے لیا اور چل پڑھی
_________*************_________
حال میں سب جمع نہیں تھے کچھ لوگ باہر تھے کچھ سیلفیز لے رہے تھے
دونوں اطرف کرسیاں لگی ہوئی تھی درمیان میں راستہ تھا سٹیج تک جانے کا راستہ تھا
افنان سٹیج پر کھڑا تھا
وہ اچھی خاصی تیاری کے ساتھ آیا ہوا تھا۔۔بیلو پینٹ کوٹ میں ملبوس وہ بہت پیارا لگ رہا تھا۔بہت سی لڑکیاں اس کے اردگرد منڈلارہی تھی ۔۔جیسا وہ چاہتا تھا
آسام نے وائٹ شرٹ اپر بیلو کورٹ پہن رکھاتھا
وہ حال کے باہر کھڑا اپنے کلاس فیلوز کے ساتھ باتیں کر رہاتھا۔
معروش لوگ حال کی طرف جارہی تھی جب راستے میں ہارش آگیا
,,ہائے۔۔۔۔۔،،ہارش ان کے سامنے آگیا وہ چلتے چلتے رک گئیں
,, بددماغ یور لوکنگ بیوٹیفل۔۔،،ہارش نے چہک کے کہا۔
,،تھنک یو بونے۔۔،،عشرت نے اس کے انداز میں کہا۔
,, یار اب تو چھ فٹ کا ہو گیا ہوں اب تو بونا نہ بولو۔۔،،ہارش نے بری سی شکل بناکر کہا عشرت لوگ ہس دی
“مس ملک یو آر سو پریٹی۔،،ہارش نے ماشی کو دیکھ کر کہا ماشی ان کے پاس سے چلی گئی
,,اسے کیاہوا ہے آج بھی چہرے پہ بے ذاری کیوں۔۔،،ہارش نے ماشی کو جاتے ہوئے دیکھ کر کہا
عشرت نے شہانے آچکا دیئے۔اور وہ چاروں بھی حال کی طرف چلے گئے۔
_________*************_________
,, معروش مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے پلیز۔جسٹ وان سیکنڈ پلیز۔،،آسام، ماشی کے پاس آکر
بولا
دونوں کلاس فیلوز تھے سٹیڈی کے معاملے میں اگر ہیلپ چاہئے ہوتی تو ایک دوسرے سے لے لیتے تھے پر صرف سٹیڈی تک ہی وہ بھی معروش کے مزاج کوپہلے دن جان چکاتھا اور معروش کو بھی پتا تھاکہ وہ شریف ہے اسی لیے وہ اس سے سٹیڈی کے مطلق بات کرلیتی تھی۔
,, عشرت میں ابھی آتی ہوں ۔۔،،وہ آسام کے ہمراہ چل دی۔
,, میں آپ سے بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ۔،،آسام نے ایک نظر اس پہ ڈالی اس کی آنکھوں میں سوال تھےوہ آسام کوہی دیکھ رہی تھی
,,کہ آپ افنان اور اس کے فرینڈزسے بچ کے رہئے گا آپ کی بہتری اسی میں ہے۔ میں نے آپ کو بتانا ضروری سمجھا اسی لیئے کہ دیا۔۔،،آسام اسے بغیر دیکھے بول رہا تھا پھر ایک نظر ماشی کے سراپے پہ ڈال کے چلا گیا
ماشی وہاں ہی کھڑی رہی
,,کیا کرشمہ ہے میرے مولا ایک بھائی جو انتہا کا گھٹیا اور خبث انسان اور ایک بھائی۔۔۔،،اس نے مڑ کر جاتے آسام کودیکھا
,,اللہ میری حفاظت کرنا۔۔،،ماشی نے دل میں دعا کی اور پھر چھک کے پائلز اتارنے لگی۔۔اسے وہ آواز اچھی نہیں لگ رہی تھی کیوں نہیں لگ رہی تھی یہ وہ بھی نہیں جانتی تھی۔
,,اؤئے وہ دیکھ واوؤ ہماری دوشمن کتنی بیوٹیفل لگ رہی ہے۔،ساگر نے افنان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے حال کی طرف
آتی ماشی کی طرف کیا
,,گائس وہ کہاں سے پیاری لگ رہی ہے۔۔،،انوشکا نےبگڑ کے کہا
,,تم جیلس مت ہووہ بہت پیاری لگ رہی ہے۔۔،،لکی نے بھی ماشی کوگھورا۔افنان ہونٹوں کو دانتوں میں دبا کر ہزار اور گانا پلے کر دیا
ماشی آہستہ آہستہ چلتی اپنی کرسی پر جابیٹھی سر پہ ڈوپٹالے لیا توعشرت نے اسے گھورا اور اس کا ڈوپٹا ایک کاندھےپہ پن اپ کر دیا
فنگشن شروع ہو گیا تھا تلاوت اور نعت خوانی کے بعد ڈانس وغیرہ شروع ہو گیا
۔تھبی ماشی کو کسی انجان نمبر سے کال آئی اس نے کال کاٹ دی پھر آئی کال اس نے پھر کاٹ دی تیسری بار پھر کال آنے لگی تھی وہ جھنجھلا گئ
,, عشرت میں ابھی آتی ہوں۔۔پتانہیں کس کی کالز آرہی ہیں۔بار بار،،وہ عشرت کے کان میں بول کر حال سے باہر چلی گئی کیونکہ حال میں شور بہت تھا
,, ہیلو کون۔۔،،حال سے باہر بھی اسے آواز نہیں آرہی تھی تالیوں کا شور ہوٹینگ کا
شور باہر آرہا تھا
تو وہ حال سے چلتی ہوئی آگے چلی گئی۔سب لوگ حال میں تھے وہ کوریڈور میں جا کھڑی ہوئی تھبی کسی نے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ کر اسے کلاس روم میں گھسیٹ لیا کلاس روم میں لے جاکر لائٹ اون کر دی گئ تھی اور سامنے جوشخص تھا وہ اور کوئی نہیں افنان تھا۔
,,تم ۔۔۔تمہاری ہمت کیسے۔۔،،اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتی افنان نے اس کے منہ پہ زور سے ہاتھ رکھ دیا ماشی کی آواز حلق میں دب گئ۔
,,بے بی۔۔بےبی چلنا نہیں ۔۔کیوں کہ کوئی آنے والا تو ہے نہیں اور میں تمہیں چھوڑنے والا نہیں ۔۔،،افنان اس کے کان کے پاس ہونٹ کر کے بولاماشی اسے ہاتھوں سے پیچھے دھکیلنے لگی پر ناکام رہی وہ نازک سی لڑکی اس ظالم کی گرفت کو ڈھیلا نہ کر سکی۔
,, تمہیں پتاہے تم ۔۔بہت خوبصورت ہو۔۔۔شائد میں تم سے محبت کر لیتا پر۔پر۔جو تم نے مجھے تھپڑ مارا وہ بہت غلط کیا۔تنہائی میں مارتی تو کچھ نہ کہتا لیکن سب کے سامنے اٹس نوٹ فیئر جان ۔،،افنان معصومیت کی ایکٹنگ کرکے بولا
اور ماشی کے بال کھول دئیے۔اس کے سیلکی بال کاندھے پہ چھول گئے
,, کیوں مارا مجھے تھپڑ ہاں۔۔میں نے ہاتھ ہی تو پکڑاتھا کیا برا کیا میں نے۔۔اب مارو۔۔،،وہ ماشی کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئےبولا
ماشی نے آنکھیں بند کر لی اور آنسوں پلکوں کی باڑ توڑ کر نکل گئے اسے درد ہورہاتھا کسی نے کبھی اسے یوں نہیں چھوا تھا وہ اپنی عزت بچانا جانتی تھی پر افنان نے اسی عزت پہ وار کیا جو چیز اسے پیاری تھی اس پہ ہی داغ لگنے کے بارے میں سوچا
,,اے خدا میری مدد کر۔۔کسی کو تو بھیج
میرے اللہ اس دریندےسے بچالے مجھے۔۔،ماشی مسلسل ہاتھوں سے اسے دھکیل رہی تھی پر ناکام تھی اتنا زور نہیں تھااس میں
,, میری جان۔۔کوشش ناکام ہے آج تم کچھ نہیں کرسکتی۔۔مارو مجھے پلیز مارو نہ۔۔۔،،وہ ماشی کے کان میں سرگوشی کرنے لگا اتنا نزدیک ماشی کے کوئی نہیں آیا تھا جتنا وہ کھڑا تھا اس کی سانسیں روکنے لگی تھی۔
اسی پل لائٹ چلی گئ افنان نے گرفت ڈھیلی نہیں کی تھی پر ماشی کے منہ سے ہاتھ اٹھا لیا
,, پلیز مجھے جانے دو۔۔۔،،ماشی نے روتے ہوئے التجاء کی۔
,,بٹ کیوں بےبی۔۔ابھی تو پکڑاہے دل نہیں کررہا چھوڑنے کو۔۔،،افنان نے کمنگی سے کہا
اور اس کی فراک کے رشمی بازو کو کاندھے سے کھینچا بازو پھٹ گیا
“نہیں۔۔،،ماشی خوفگی سے چلائی۔۔اسی پل کسی نے افنان کو منہ پہ زور دار مکا مارا تھا وہ لڑکھڑا گیا اور ماشی کو چھوڑ کر اندھیرے میں اس کو ڈھونڈنےلگا جس نے اسے مکا مارا تھا۔ماشی بھاگنے لگی تو اس انسان سے ٹکرا گئی جو اس کے لئے اللہ نے بھیجا تھا۔۔اس انسان نے اسے بازوؤں سے پکڑ کے دروازے سے باہر نکال دیاماشی بے سود باہر والے گیٹ کی طرف بھاگی۔اس نہیں پتاتھاوہ کہاں جارہی ہے پر وہ بھاگتی گئ
۔بہت دور جاکر وہ ایک درخت کے پاس بیٹھ گئ آدھی رات تھی ہرطرف اندھیرا تھا۔
,, اللہ میں نے کیا گناہ کیا تھا جوتم نے مجھے یہ سزا دی۔۔،،وہ ڈوپٹہ اپنے اپر اڑھ کربیٹھ گئ۔پر بریک ڈوپٹے میں وہ خود کو چھپانا سکی۔
,, میں نے اسے تھپڑ مار کر کیا غلط کیاتھا اپنی عزت کو بچانے کے لئے میں نے اس بغیرت انسان کو مارا تھا میرے اللہ میں مایوس نہیں ہوں میری حفاظت کے لیے فرشتہ بھیج دیا اس میں بھی شائد میری بھلائی ہوگی۔۔،، آسمان کو دیکھتے ہوئے رونے لگ گئ۔اسے اپنے قریب افنان کے سانس سنائی دے رہے تھے اس کی سرگوشیاں اس کے ہاتھوں کالمہس محسوس کر کے اسے اور رونا آرہا تھا۔
اور مرے ہوئے قدموں سے اٹھ کر چل پڑھی۔۔بال بکھر چکےتھے ایک بریک ڈوپٹہ اس کے پھٹے ہوئے بازو کو ڈھانپ نہیں رہاتھا۔
وہ اپنے پیچھے قدموں کی چاپ سن کر رکی نہیں چلتی گئ۔۔اسے پتاتھاشائد اسی لیئے وہ رکی نہیں۔تھوڑا سا چلنے کے بعد اس کے قدم رک گئے۔
,,جب میں تنہا ہوتی ہوں تب ہی تم کیوں آتے ہو میری حفاظت کیوں کرتے ہو۔۔۔،،وہ منہ نقاب پوش کی طرف کرکے بولی۔وہ ہر بار کی طرح آج بھی چپ تھا۔
,,کیا چاہتے ہو تم رشتہ کیا ہے تمہارا مجھ سے کیوں چلے آتے ہو میری حفاظت کرنے۔۔۔،،ماشی نے دکھ میں ڈوبی آواز سے کہا
رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں اور سفید رنگ سرخ ہو چکا تھا
معروش کے آنسوں دیکھ کر اس نوجوان کی آنکھوں میں بے بسی آگئ پر وہ دو قدم دور سے کھڑا دیکھتا رہا۔
ماشی اس کی طرف بڑھی نقاب ہٹانے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا پر اس نقاب پوش نے ماشی کا ہاتھ روک دیا اور بے بسی سے نفی میں سر ہلا دیاماشی کاڈوپٹا سرک کر قدموں میں گر گیا تھبی اس نقاب پوش کی نظر اس کے پھٹے ہوئے بازو پہ پڑھی ۔وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا
ماشی نے آنکھیں بند کر لی بہت سارے آنسوں بہے نکلے
اس نے کسی کے سامنے نہیں اپنے محافظ کے سامنے آنسوں بہائے تھے
نقاب پوش نے دوقدموں کی دوری کو ختم کیا اپنا کالا کوٹ اتار کر ماشی کے کاندھوں پہ ڈال دیا
اور پیرؤں میں گرا ڈوپٹہ اس کے سر پہ دیا
ماشی اسے دیکھتی رہی چھپاہوا چہرتھادو آنکھیں ہی نظر آتی تھی ہمشہ
وہ آنکھیں ملاتا ہی نہیں تھا
وہ ماشی کاہاتھ پکڑ کر گاڑی تک لے گیا اور فرنٹ ڈور کھول دیا ماشی نے کوئی بات نہ کی چپ چاپ بیٹھ گئ۔
پھروہ ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ گیا۔ایک نظر ماشی پہ ڈالی اور ڈرائیو کرنےلگا
,ماشی نے کچھ نہیں پوچھا شائد اسے یقین تھا پرجو بھی تھا وہ اس کی ہربار حفاظت کرتاتھا۔
۔وہ اسے ہوسٹل کے دروازے کےآگے اتار کر اسے دیکھنے لگا
ماشی نے جب اس کی آنکھوں میں دیکھنا چاہا تو وہ گاڑی اسٹارٹ کر کے چلا گیا۔۔پر اپنا کورٹ ماشی کے پاس چھوڑ گیا۔دور جاتی گاڑی کودیکھ کر وہ بھی
ہوسٹل میں داخل ہو گئ اور جاکر اپنے کمرے میں دروازہ بند کر کے بیڈ پہ گر گئ
,,اے اللہ تیرا شکر ہے تم نے میری حفاظت کی ۔پر ایسا کیوں ہوا میرے ساتھ۔۔،،وہ رو رہی تھی اسے گوارہ نہیں تھا کہ کوئی اسے چھوئے پھر افنان نے تو زیادتی کی تھی
,, میری عزت لٹ جانے کو تھی اگر وہ انسان نہ بچاتا پپ۔۔پ پر وہ نقاب پوش نہیں تھاپر شکر ہے میرے اللہ تم نے باہر بھی میری مدد کی اور وہہ۔۔ہاں بھی،، وہ روتے ہوئے کسی سے نہیں بلکہ اس ذات سے سوال کرنے لگی۔۔پرکوئی جواب نہیں تھا۔۔روتے روتے کب اس کی آنکھ لگی اسے نہیں پتا چلا۔وہ بھول گئ تھی پارٹی کو
اپنی تیار کی ہوئی تقریر کو
_________*************_________
,,ماشی یہ کورٹ کس کا ہے اور تم وہاں سے اکیوں آ گئ تھی کب سے پوچھ رہی ہوں کچھ بتاؤ گی بھی ساری رات ہم باہر بیٹھی رہی دروازے کے ۔۔۔کتنا کھٹکھٹایا کھولا کیوں نہیں۔۔۔،،عشرت ہزار بار یہ سوال کرچکی تھی پر معروش نے کوئی جواب نہیں دیا تھا وہ اٹھ کر واش روم چلی گئی۔کپڑے چینچ کر کے اس نے ایک نظر کورٹ کو دیکھا اور پھر اسے وارڈروب میں رکھ دیا۔
,, کمال کرتی ہو تم ہم ساری رات باہر ذلیل ہوتی رہی اور تم جواب بھی نہیں دے رہی۔۔،،عشرت تپ کر بولی۔
,, عشرت چپ کرو یار ۔۔بعد میں پوچھ لیں گی۔۔،کومل نے عشرت کو کہا۔تو وہ سر چھٹک کر بیٹھ گئ۔ماشی کچھ نہیں بولی چپ چاپ ناشتہ بنانے لگ گئی۔وہ کمزور لڑکی نہیں تھی پر اتنی مضبوط بھی نہیں تھی ساری رات رو کے اپنا بوجھ ہلکا کر چکی تھی
افنان نے اس کی عزت کو ٹھیس پہنچاناچاہی کسی حد تک پہنچا بھی دی تھی پر کسی نے معروش کی حفاظت کی تھی اور باہر بھی وہ فرشتہ اسے مل گیا جو ہمیشہ اس کا محافظ بنا تھا
_________*************_________
,,ماشی کل تم یونیورسٹی جارہی ہو مجھ سے اور چھوٹ نہیں بولے جاتے
کیوں نہیں جا رہی کیا وجہ ہے۔۔،،
دو دن سے وہ لگاتار یونی ورسٹی نہیں جارہی تھی۔۔معروش سے کوئی بھی پوچھتا تووہ کہ دیتی اسے بخار ہے۔
،, “ماشی تم کمزور نہیں پڑھ سکتی وہ خبث انسان کیا سمجھے گا میں ڈر گئ
نہیں ماشی ملک ہو تم ایسے چھپ کر نہیں بیٹھ سکتی۔سمجھی تم کل یونیورسٹی جاؤ گی۔۔،،اس کے دل نے سرگوشی کی۔
,, ٹھیک ہے میں کل جاؤں گی۔۔،،ماشی بالوں کو جوڑے کی شکل دیتے ہوئے بولی۔
,, میری سویٹ جان۔۔۔،،عشرت نے اس کے گرد بازو حائل کر دیئے ماشی نے مسکرا کر اس کے منہ پہ ہاتھ رکھا۔،
,”اس کمینے اور گرے ہوئے انسان کاسامنا کیسے کروں گی میں۔۔،،وہ بیڈ پہ بیٹھ کر سوچنے لگی
,, غلطی اس نے کی ہے شرم اسے آنی چاہیے تمہیں نہیں ماشی ،،اس کے نزدیک کسی نے سرگوشی کی۔تووہ پڑھنے بیٹھ گئ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اس انسان سے نہیں ڈرے گی۔۔آئی تو وہ پڑھنے تھی پرکیاکیاہونا تھا کیا قسمت میں لکھا تھا وہ نہیں جانتی تھی۔
کل رات جانے کیا ہوا
کچھ دیر پہلے نیند سے
کچھ اشک ملنے آ گئے
کچھ خواب بھی ٹوٹے ہوئے
کچھ لوگ بھی بھولے ہوئے
کچھ راستہ بھٹکی ہوئیں
کچھ گرد میں لپٹی ہوئیں
کچھ بے طرح پھیلی ہوئیں
کچھ خول میں سمٹی ہوئیں
بے ربط سی سوچیں کئی
بھولی ہوئی باتیں کئی
اک شخص کی یادیں کئی
پھر دیر تک جاگی رہی!
سوچوں میں گم بیٹھی رہی
انگلی سے ٹھنڈے فرش پر
اک نام بس لکھتی رہی
کل رات بھی وہ رات تھی
کچھ دیر پہلے نیند سے
میں دیر تک روتی رہی
,,وہ میڈم دو دن سے یونی ورسٹی نہیں آرہی ایسا کیا کردیا تھا تم نے اس کےساتھ۔۔ہاہاہاہا،،انوشکا ڈرنک کا گلاس بھرتے ہوئے کہا
۔وہ لوگ آج مسٹر رندھاوا کے فارم پر پارٹی کررہے تھے
یہ پارٹی کچھ دن پہلے ہونی تھی
پر مسز رندھاوا کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے افنان نے نہیں دی پارٹی۔
,,یار کہاں۔۔صرف چھواتھا۔۔۔افففف یار کیالڑکی ہے۔۔ہاہاہا،،افنان جھولے پر گرتے دل پہ ہاتھ رکھ کر بولا۔
,,پر پتانہیں کس نے آکر اسے میری گرفت سے نکال لیا۔سارا پلین خراب ہو گیا۔۔پرجس نے بھی ایسا کیا چھوڑوں گا نہیں اسےبھی۔۔،،دو منٹ پہلے جو خوشی تھی اس کے چہرے پر یکدم غائب ہو گئ۔
,,میرے شیر حوصلہ رکھو پسند تو آئی۔اب کھانا کیسے ہے یہ تم سوچو۔ہاہاہا۔،،لکی نے کمنگی سے کہااور ڈرنک سے بھرا ہوا گلاس ساگر کے گلاس کے ساتھ مارا۔
افنان کچھ سوچ رہاتھا اس کے ہونٹوں پہ جان دار سمائل نمودار ہوئی
,,گائس دیکھو ہمارے ہیرو نے پلین بنالیا یہ سمائل بتارہی ہے کیوں ہیرو۔۔۔،،ونیت نے افنان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا
تو افنان نے اسے آنکھ ماری ۔
وہ آٹھ افراد پر مشتمل گروپ کسی لحاظ سے شریف نہیں لگتے تھے۔۔اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔
ہرلحاظ سے بگڑے ہوئے تھے۔
اسی لیئے آسام ان سے دور رہتا تھا آج بھی وہ ان کے ساتھ نہیں آیا تھا
وہ ان کو چاہ کر بھی روک نہیں سکتا تھا
پر خود رک سکتا تھا۔۔
_________**********_________
,, فہد۔۔یہاں کی لڑکیاں کتنی خوبصورت ہیں۔۔،،
فہد اوررضا ایک ہی کمرے میں ٹھہرے ہوئے تھے اکٹھے انگلینڈ گئے تھے
ابھی وہ باہر گھومنے نکلے تھے
ان کے پاس سے ایک لڑکی گزری تورضا نے فہد کوکہا۔
,,کیا خاک خوبصورت ہیں آدھے سے زیادہ کپڑے تو غائب ہوتے ہیں
۔خوبصورتی تو پاکستان سے شروع اور پاکستان پہ ختم ہوتی ہے توتم ادھر ادھر منہ نہ مارو سمجھے تم ۔۔،،فہد کہ کر سڑک پہ چل پڑا
,,سنو!
تو پاکستان میں کیا پیارا ہے
لڑکیاں اتنی شرملی ہوتی ہیں بندہ کچھ بات کرو آگے سے شرما جاتی ہیں ان کی حالت دیکھ کر بندہ کا رومنٹک موڈ ہی خراب ہو جاتاہے
۔اور بھاگتی ایسے ہیں جیسے پیچھے گیارہ ملکوں کی پولیس لگی ہو ہاہاہاہاہاہاہا،،آخری جملہ اس نے معنی خیز انداز میں کہا۔
,,رضا شیٹ اپ کتنی بار کہنا ہوگا کہ وہ میری بہن ہے اسے میں نے کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا یار۔۔،،فہد اس کی بات سن کر
کان پٹی مسلتے ہوئے بولا
,, تمہارا دل بھی یہ بیان دیتاہےکیا۔۔،،رضا نے جھک کر اس کا چہرا دیکھا تو فہد نےسر اٹھا کر اسے سنجیدگی سے دیکھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اس کا سر پھاڑ دے
,,ہاں میرا دل بھی یہ ہی بیان دیتا ہے کیونکہ وہ میری بہن ہے۔۔۔اور آئندہ ایسی بکواس کرنے سے پہلے سوچ لینا۔۔،،وہ اسے دھکیل کر چل دیا رضا بھی اس کے پیچھے بھاگا وہ ٹھان چکا تھا فہد کے دل کا حال جاننے کی
,,فادی فادی لسنٹ۔۔،،وہ بھاگ کر فہد کے آگے آگیا
,,سوچو اگر تمہارے گھر والے تمہیں اور معروش کو ایک رشتے میں باندھ دیں تو۔۔،،فہد نے تپ کر اسے دیکھا پر وہ مسکرا دیا
,,اور تم کو لگتا ہے کہ میں ایسا کچھ ہونے دوں گا۔۔،،فہد ہاتھ سینے پہ باندھ کر بولا
,,بٹ وائے۔۔شی از سو پریٹی۔۔کیا کمی ہے اس میں یار جتنی وہ خونصورت ہے اچھے بھلے مر مٹیں پھر تم ۔۔،،اس سے پہلے رضا کچھ بولتا فہد نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا
,,رضا میں مانتا ہوں یہ سب
اور جانتا بھی ہوں پر میرا ضمیر یہ
اجاز ت نہیں دیتا کہ میں۔۔،،وہ بات اُدھوری چھوڑ کر رضا کو دیکھنے لگا
,,کہ میں اسے اپنے ہم سفر کے روپ میں دیکھوں۔۔مجھے نہیں پتاایسا کیوں ہے۔۔،،فہد سڑک پہ چلتے ہوئے بولارضا اسے دیکھ کر رہ گیا وہ کچھ نہیں بولا۔۔دونوں چلتے چلتے بہت دور نکل گئے۔
_________**********_________
,,سم ون سپیشل کے لئے۔
تیری ہر ادا محبت سی لگتی ہے
اک پل کی جدائی مدت سی لگتی ہے
پہلے نہیں سوچاپر سب سوچتے ہیں
زندگی کے ہر لمحے میں
تیری ضرورت سی لگتی ہے۔،،
افنان ڈائس پر بازو جما کر ماشی کودیکھتے ہوئے مسکرا کر سنارہا تھا
,, وہ سم ون ہے کون۔۔،،بہت سی آوازیں کلاس روم میں گونجی وہ ہنسنے لگا
,,بتا دوں کیا جان۔۔۔،،وہ ماشی کودیکھ کر بولا ماشی نظریں جھکا گئی اس کا دل کیا ابھی اٹھ کر دو لگادے
پر وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔افنان اس کی طرف بڑھ رہا تھا ماشی نے زور سے آنکھیں میچ لی۔
,,انوشکا۔۔،،وہ ماشی کے پاس سے گزر کر انوشکا کا ہاتھ تھام کر بولا۔ماشی نے آنکھیں کھول دی اوراس کو خود سے دور دیکھ کر سکون کا سانس لیا
سب نے تالیاں بجا دی۔انوشکا نزاکت سے اس کے ساتھ چل کر سامنے آگئ۔
,,شی از مائی گرل۔۔،،تالیاں ایک بار پھر گونجی تھی ماشی کو وہ زہر لگ رہا تھا
تو اٹھ کر کلاس روم سے نکل گئ۔افنان اسے دیکھ کر ہس دیا۔
فری پیریڈ تھا اور وہ دل کھول کر ماشی کوڈسٹرب کر رہاتھا۔
_________**********_________
دور دور تک جہاں کوئی بھی نہیں تھا وہ وہاں جا کر بیٹھ گئ۔اس کا دل ہر چیز سے اچٹ ہوگیاتھا افنان کی شکل دیکھ کر اسے غصہ آرہا تھا پر وہ کچھ نہیں کرنا چاہتی تھی غصہ پی رہی تھی پر اب اسے پارٹی کی شام والا واقع یاد آگیا تو وہ منہ چادر میں دے کر رونے لگی۔
جب غصہ برداشت کیاجائے تووہ آنسوں بن کر نکل جاتاہے وہ بھی غصے پہ قابو پاگئ تھی
,,مس ملک۔۔،،وہ آسام کی آواز سن کر چونکی آنسوں صاف کر کےمنہ اوپر اٹھاکر اسے دیکھنے لگی
,, کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں۔۔،،آسام نے مؤدبانہ گزارش کی ماشی نے آس پاس دیکھا پھر اسے دیکھاوہ اس کے جواب کا منتظر تھااس نے ہاں میں سر ہلا دیا
آسام اس سے کافی فاصلے پر بیٹھ گیا۔
,,مجھے یہ ٹوپک سمجھ نہیں آرہا تو کیا آپ میری تھوڑی سی ہیلپ کردیں گی۔۔،،آسام کتاب ماشی کے سامنے رکھتے ہوئے بولا۔ماشی نے کتاب اٹھا کر دیکھا
,,پین۔۔،،ماشی نے منہ کتاب میں ہی ڈلے ہاتھ اس کے سامنے کیا آسام نے
اس کے ہاتھ میں پن تھما دیا۔ماشی گہرا سانس لے کر اسے سمجھنے کے ساتھ ساتھ لکھنے لگی۔
,,واؤ گریٹ۔۔اسی لیئے تو یونیورسٹی آپ کے نوٹس ڈھونڈتی ہےشکریہ،،آسام نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہاماشی نے پھیکی سی سمائل اس کی طرف اچھال دی۔
,,ایک بات پوچھ سکتا ہوں۔۔،،آسام کتاب سے سر اٹھاکر اسے دیکھ کر بولا اور پھر نظر جھکا لی۔
,,جی پوچھئے۔۔،،ماشی اسے دیکھنے لگی آسام نے نظر اٹھاکر اسے نہیں دیکھا۔
,,آپ رو کیوں رہی ہیں۔۔،،آسام نے ایک نظر اس کی آنکھوں پہ ڈالی اور پھرسے کتاب پہ جھک گیا۔ماشی اس کے سوال پر چپ رہی۔وہ جواب نہ پاکر اسے دیکھنے لگا ماشی نے منہ پھیر لیا تو آسام اٹھ گیا۔
,, آپ کو بتا کر میرا درد کم نہیں ہو گا تو میں کیوں اپنا تماشا بنواؤں بھائی تو تم بھی اسی کے ہو۔
جس کو بتا کر میرا درد کم ہوتا ہے وہ دور دور تک نہیں ہے۔۔،،ماشی اس کی پیٹھ دیکھ کر بولی
ان دونوں میں کوئی ایسا تعلق نہیں تھا کہ ماشی اس کے سامنے اپنا درد بیان کر دیتی کلاس فیلو کے علاوہ وہ دونوں ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں رکھتے تھے۔۔
افنان لوگوں کاڈرمہ اسی وقت بند ہو گیا تھا جب ماشی کلاس سے نکلی تھی۔
آخر وہ رچایابھی اسی کے لیئے تھا۔
_________**********_________
یونیورسٹی کے بعد وہ لوگ پارک میں چلی گئی تھی۔کومل لوگ ٹہل رہی تھی ماشی بنچ پہ بیٹھی تھی جب ایک بچہ اس کے
پاس آیااور ایک لفافہ اسے تھماکر بھاگ گیا۔ماشی نے جاتے ہوئے بچے کو دیکھا پھر ہاتھ میں پکڑے ہوئے لفافے کو دیکھا اور کھولنے لگی۔وہ جس نے بھی لکھا تھا پہلے بھی وہ اس لکھائی کو جاننتی تھی اسے لاہور کی وہ شام یاد آگئ جب کسی نے اسے ان دریندوں سےبچایا تھا
,, اسلام علیکم!
آپ جاننا چاہتی ہیں نہ کہ میں کون ہوں۔۔؟ کیوں آتا ہوں جب آپ اکیلی ہوتی ہو۔۔؟میرا رشتہ کیا ہے آپ سے؟اور میں آپ کو اپنا چہرہ کیوں نہیں دیکھاتا..؟
میں آپ کا محافظ ہوں آپ کی حفاظت کرنا میں نے اپنا فرض بنالیا ہے۔
جب آپ اکیلی ہوتی ہوتو میں سائے کی طرح تمہارے ساتھ ہوتا ہوں اور میرارشتہ آپ سے وہ ہی ہے جو انسان کاروح سے ہوتا ہے میں آپ کو بول نہیں۔
پتا نہیں کیوں
پرجب بھی تم اکیلی ہوگی اسی طرح مجھے اپنے ساتھ پاو گی ۔مجھ پہ یقین کرنے کا شکریہ,, ماشی حیرانگی سے خط کو دیکھنے لگی
,, مجھے اس انجان شخص پہ یقین کیسے ہو سکتا ہے۔۔،،وہ خط کواپنے بیگ میں رکھ کے سوچنے لگی تو پارٹی کی شام اس کی آنکھوں کے سامنے فیلم کی طرح چلنے لگی وہ اس ایک انسان کے ساتھ ہی تو آئی تھی اس نے ہی تو اس کو چھپایا تھا۔اس کے سامنے ہی تو وہ روئی تھی
,, میں ایک انجان انسان پہ یقین کیسے کر سکتی ہوں۔۔،پھرسے اس نے خود سے سوال کیا۔پر دل اب بھی خاموش تھا
,,ہاں ماشی تمہیں اس پہ یقین ہےہربار اس نے تیری حفاظت کی ہے۔۔پھر یقین تو ہو گا نہ۔اور محبت بھی۔،،وہ اپنے دل کی آواز پہ سن ہو گئ جب دل کام کرتاہے تو دماغ بھول جاتا ہے کام کرنا اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا دل کا جواب سن کر دماغ نے کوئی سوال نہیں کیا۔
,,کیاہوا کیاسوچ رہی ہوچلنانہیں کیا۔۔،،وہ گہرائی میں ڈوب چکی تھی جب عشرت کی آواز اسے باہر نکال لائی۔وہ چپ کرکے چل دی ہوسٹل پہنچ کر اس نے وارڈروب کھولی اور کالے رنگ کا کورٹ نکال لیا
اس میں سے ابھی بھی اس اجنبی کی خوشبو
آرہی تھی۔
تھوڑی دیر دیکھنے کے بعد اسے عجیب سی کیفیت کااحساس ہوا اسے وہ خوشبو اپنے وجود پہ محسوس ہونے لگی
تو اس نے جلدی سےکورٹ کو وارڈروب میں رکھ دیا اور وارڈروب کے ساتھ ٹیک لگا کرکھڑی ہو گئی اور آنکھیں بند کر لی۔
“اے میرے رب مجھے کیا ہو گیا ہے مجھے ایسے انسان سے محبت ہونے لگی ہے جس کو میں جانتی نہیں پہنچانتی نہیں اففففف۔۔،، وہ گھبرا بھی رہی تھی پہلی بار ایسا احساس اس کے دل میں جگا تھا
,, یہ کیا ہے ماش۔۔لولیٹر۔۔،،کومل کے ہاتھ میں وہ لیٹر دیکھ کر سٹپٹا گئ۔
,,کومل ادھر دو۔۔۔،،وہ سنجیدگی سے بولی
,,کومی پڑھ پڑھ انچی پڑھنا میں اسے پکڑتی ہوں۔,, عشرت نے کہکہکا لگاکرکہا اور ماشی کا ہاتھ پکڑ لیا خط پڑھ کر ان تینوں نے حیران ہو کر ماشی کو دیکھا اور پھر ایک دوسرے کو دیکھا ان تینوں نے بے اختیار کہکہکا لگادیا
,,ماشی کون ہے یہ۔بتانا۔۔ہاہاہا،، انہوں نے ماشی کو تنگ کرناشروع کر دیا
,,سٹوپ اٹ گرلز میری تو سن لو۔۔،،ماشی نے انچی اور غصے سے کہا تووہ تینوں چپ کرگئ۔
,,مجھے نہیں پتایہ کون ہے۔۔،،ماشی ان کے ہجوم سے نکل کر بیڈ پہ بیٹھ گئ
,,اور وہ کوٹ اس کاہی ہےنہ یونیورسٹی کا کوئی لڑکاہے۔۔میں گیس کرتی ہوں۔۔،،عشرت سوچنے لگی۔
,, ہماری یونیورسٹی کاسب سے ہنڈسم بوائےافنان رندھاوا۔۔۔,,وہ چٹکی بجاکر بولی ماشی نے خوفگی سے اسے دیکھا اور نفی میں سر ہلا دیا
,,تو پھرموسٹ ہینڈسم گڈ لوکنگ
شریف آسام رندھاوا۔۔،عشرت نے دل کھول کر آسام کی تعریف کی ماشی نے پھر نفی میں سر ہلا دیا
,ویسے وہ لگتا نہیں کیوں کہ وہ شریف ساہے۔۔،،کومل نے سوچ کرکہا
,,یار مجھے نہیں معلوم کہ یہ کون ہے۔پرجب بھی میں تنہا ہوتی ہوں میرے پیچھے سائے کی طرح ہوتا ہے۔،،اس نے اب تک کے سارے واقعات سنادیئے بس افنان والی حرکت نہیں بتائی, ان تینوں کے منہ کھول گئے۔
,,کیا۔۔واقع ہی واؤ کیا عشق ہے اس کا ماشی تم بھی اس انجان سے محبت کرنے لگی ہو کیا۔سچ سچ بتانا۔۔،،مہک نے وہ سوال پوچھ لیا جس کا جواب ماشی خود بھی نہیں جانتی تھی۔وہ پہلے حیران ہو کر دیکھتی رہی پھر نفی میں سر ہلا
دیا
,, میں پڑھنے کے لیے آئی ہوں اس شہر میں۔۔ان سب چیزوں سے دور رہنا چاہتی ہوں اور اب اس بارے میں کوئی بات نہیں ہو گی ۔،،ماشی کتابیں اٹھا کر کمرے سے باہر چلی گئی۔وہ اپنی کیفیت چھپا رہی تھی۔
