Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415

Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 9

644.1K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Noor-e-Emaan Episode 9

Noor-e-Emaan by Umme Hani

” میں کیسے انکار کر سکتی ہوں اصفر وہ مجھ سے ملنا چاہتی ہیں ” حمنہ پریشان ہوئی تھی

” اہم ہمم ابھی نہیں “

” لیکن کیوں ” وہ روہانسی ہوئی تھی

” اس لئے کہ میں نہیں چاہتا ۔۔۔ میرے خیال سے بس یہی وجہ کافی ہے ہم نہیں چاہتا ۔۔۔ کال کرو۔ انہیں اور منع کرو۔ کے وہ یہاں نا آئیں ۔۔۔ اور ہاں یہ تم اپنی طرف سے کہو گی میرا نام نہیں آنا چاہیے ” حمنہ نے اپنے آنسوں صاف کیے اپنی والدہ کو کال کی اصفر نے اسپیکر آن کر دیا

” امی وہ میں تو آپ کو بتانا ہی بھول گئ۔۔۔ یہاں سب لوگ ڈائٹ کونشیس ہیں اتنا ہیوی ناشتہ کوئی نہیں کرے گا ۔۔۔ آپ کہاں اتنا لائیں گئیں ۔۔۔۔ ” اپنے آنسو۔ پر ضبط کا بندھن باندھے لہجہ متوازن رکھ کر اس نے کہا تھا

” حمنہ تو کوئی بات نہیں بیٹا جو وہ کھاتے ہیں تم وہ بتا دو ” اسکی والدہ نے فکرمندی سے پوچھا

” امی آپ رہنے دیں ۔۔۔وہ سب ہی ناشتہ بس کرنے ہی والے ہیں جب تک آپ پہنچے گئیں سب ہی کھا کر فارغ ہو چکے ہوں گئے ۔۔۔ پھر کبھی صحیح ۔۔۔ “

” اچھا ٹھیک ہے رات کو تم اور اصفر یہی میرے پاس رکو گئے نا ؟ حمنہ نے اصفر کی جانب دیکھا جو نفی میں سر ہلا رہا تھا ۔۔۔

” نہیں امی آج تو مشکل ہے۔۔ایکچلی حسن انکل کے بہت سے دوست بیرون ملک سے ملنے آ رہے ہیں اس لئے آج تو ممکن نہیں ۔ ہم کل ملنے آ جائیں گئے ۔۔۔۔ ” حمنہ بات ٹالی تھی ۔۔۔۔

” اچھا چلو ٹھیک ہے بیٹا جیسا وہ لوگ خوش ۔۔۔ لیکن تم کل ملنے ضرور آنا میں انتظار کروں گی تمہارا “

” جی امی ضرور آؤں گی ” یہ کہہ کر حمنہ نے فون بند کر دیا ۔۔۔ برابر اصفر بیٹھا مسکرا رہا تھا

” ہاؤ سوئٹ ۔۔۔۔ سوئٹ ہارٹ ۔۔۔۔ بہانے اچھے بنانے آتے ہیں تمہیں ۔۔ اپنے میکے میں شوہر کی عزت رکھنا خوب سیکھایا گیا ہو گا مشرقی لڑکیوں کا یہی تو فائدہ صبر بہت ہوتا ہے ان میں مر جاتی ہیں مگر اپنا گھر ٹوٹنے نہیں دیتیں ۔۔ لو اٹ ۔۔۔۔۔۔ جلدی سے ریڈی ہو جاؤں آٹھ بجے سب بریک فاسٹ کے لئےڈائنگ پر موجود ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ” اسکے رخسار سے بہتے آنسوں اپنے انگوٹھے سے پانچ کر اسکا رخسار تھتپا کر وہ اٹھ کر واش روم میں چلا گیا ۔۔۔ حمنہ نے آنسوں صاف کیے چہرے پر فیس پاؤڈر سے رونے کا اثر۔ ختم کیا ہلکی سی لپ اسٹک لگا کر اپنا اسکاف باندھ کر کمرے میں ہی اصفر کے باہر نکلنے کی ا انتظار کرنے لگی ۔۔۔۔ نیچے وہ دونوں اکھٹے ہی اترے تھے ۔۔۔ سب ہی اٹھ چکے تھے ۔۔۔۔ نوکروں کی چہل پہل سے لگ رہا تھا کہ ناشتے کی تیاری ہو رہی ہے ۔۔۔۔

ڈائنگ روم میں وہ اصفر کے ہمراہ ہی داخل ہوئی تھی ۔۔۔۔ سامنے ہی سب بیٹھے تھے

” پورے پانچ منٹ لیٹ ہو تم لوگ ۔۔۔” حسن کمال نے گھڑی دیکھ کر کہا

” سوری ڈیڈ کل سے دس پہلے آ جائیں گئے آج کی تاخیر مینج ہو جائے گی ” اصفر نے لاپروائی سے کہا ۔۔۔ حمنہ کے لئے سب کچھ اجنبی سا تھا ۔۔۔ لیکن پھر بھی وہ پہلے اصفر کی والدہ کی طرف بڑھی انہیں سلام کیا

” واعلیکم اسلام ۔۔ آؤں بیٹھوں ناشتہ کروں “انہوں نے مسکراتے ہوئے خوشگواری کا مظاہرہ کیا ۔۔۔ پھر وہ حسن کمال کی طرف بڑھی انہیں بھی سلام کیا ۔۔۔ سر بھی جھکایا کہ شاید وہ سر ہاتھ رکھ دعا دیں

اب حمنہ کی فیملیز میں بڑے بزرگ نئ بہوں کے سر پر ہاتھ رکھ دعا دیتے تھے اور چھوٹے آگے بڑھ کر خود سلام کرتے تھے لیکن یہاں سب کچھ الگ

تھا

“مورنئگ ہیو آ سیٹ ” حسن کمال نے دور سے ہی کہا ۔۔۔ مسکرانے کی بھی زحمت نہیں کی حمنہ کو عجیب سا تو لگا وہ اٹھ کر دعا کے برابر میں بیٹھ گئ

” اسلام علیکم بھابی ” حمنہ نے اسے مسکرا کر سلام کیا

” اوہ ہائے ” دعا کی آنکھوں اور چہرے کے پر بیزاریت سی چھلک رہی تھی حمنہ کو دیکھ کر ۔۔۔ جیسے وہ حمنہ سے بات ہی نا کرنا چاہتی ہو جوس چائے فرائی ایگ کیک مکھن جیم سب ہی موجود تھا ۔۔۔ لیکن کسی نے اسکی طرف کوئی نہیں بڑھائی تھی ۔۔۔ نا ہی ایسی کوئی چاہت دیکھائی تھی جیسی دلہن کے لئے دیکھائی جاتی ہے بھوک ہونے کے باوجود وہ صرف ایک کپ میں چائے ڈال کر ہی پینے لگی ۔۔۔۔۔

“دعا ہری اپ یار جلدی سب ختم کروں یہ سب ۔۔۔ ” دعا پہلے ہی بڑی عجلت میں ناشتہ کر رہی تھی سیف کی دہائی ڈالنے پر اور تیز ہوئی تھی

“اونلی ون منٹ سیف ” دعا نے کھڑے ہوتے ہوئے پورا جوس کا گلاس ایک سانس میں ختم کیا تھا نا جانے کس بات کی جلدی تھی ۔۔۔۔ اور سیف کے ساتھ چلی گئ جینز کے اوپر کرتی پہنے صبح ہی صبح اتنا ڈارک میک اپ ڈاکٹر کر کسے لیتی ہیں حمنہ نے سوچا اور چائے کا سپ لینے لگی ۔۔۔

” اب تمہارا کیا پلان ہے اصفر ہنی مون ڈرپ کے بارے میں کہوں سوئزر لینڈ کی کی ٹکٹ فائنل کرو دوں ۔۔۔۔۔ ” حسن کمال نے چائے کا خالی سائیڈ پر رکھتے ہوئے اپنی گھڑی دیکھتے ہوئے اصفر سے پوچھا ۔۔۔ جیسے بات بھی گھڑی دیکھ کر کی جاتی تھی کہ کتنی جلدی کی جاسکتی ہے

” ڈیڈ میں فی الحال مری ایبٹ آباد ہی جانا چاہتا ہوں ۔۔۔ ویسے بھی چند ماہ بعد حمنہ کے کو اسپشلائز کے لئے باہر اپلائی کروانا ہی ہے اسی وقت دیکھ لیں گئے کے کہاں اسے ایڈمشن ملتا ہے ۔۔۔۔ “اصفر نے جوس پیتے ہوئے کہا۔۔۔

“ہمم یہ تو ہے کے آج کے فنگشن سے فری ہو جاؤں تو میرے خیال سے پھر کل ہی تم لوگ تیاری کر لو ۔۔۔ پندرہ دن میں لوٹ آنا پھر ڈسائیڈ کریں گئے کے حمنہ کے لئے کون سی لائن ٹھیک رہے گی “حسن کمال یوں بات کر رہے جیسے حمنہ کی زندگی کی ڈور اب انکے ہاتھ میں ہو

“ابھی میری ہاوس جاب باقی تھی ۔۔۔ اور یہاں باپ بیٹا میرے لئے فکر مند ہیں کے مجھے مزید کیا کرنا ہے ۔۔۔۔

” لیکن انکل میری ابھی ہاؤس باقی ہے ” نا چاہتے ہوئے بھی حمنہ بول پڑی تھی یہ اسکے کیریر کا معاملہ تھا اس لئے چپ نہیں رہ سکتی تھی

” انکل نہیں ڈیڈ ۔۔۔ ڈیڈ کہا کرو ” اصفر نے پھر اسے ٹوکا تھا وہ بھی سختی سے

” اٹس اوکے اصفر ۔۔ آہستہ آہستہ سیکھ جائے گی ۔۔۔” حسن کمال نے مدافعانہ انداز سے کہا اور اٹھ کر چلے گئے ۔۔۔

” حمنہ بیٹا چار بجے ڈرائیور تمہیں پارلر چھوڑ دے گا ۔۔۔ رات کے ریسپشن پارٹی کے لئے ۔۔۔۔ چاہوں تو اپنی فرینڈز کو بھی انوایٹ کر لو ” اصفر کی والدہ بھی کرسی کھسکا کر کھڑی ہو گئ تھیں

” نو موم اسکی ضرورت نہیں ہے حمنہ کی کوئی بھی فرینڈ کا آنا مجھے پسند نہیں ہے ۔۔۔۔ ” سوال حمنہ سے کیا جا رہا تھا جواب وہ دے رہا تھا وہ اپنی مرضی کا ۔۔۔ حمنہ صرف اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ کیا صرف ایک نیا رشتہ قائم کرنے سے اسکی اپنی ہر خواہش کا مالک یہ شخص تھا ۔۔۔۔ اسے آگے کیا کرنا ہے اس کا فیصلہ وہ کرے گا ؟ وہ اپنی مرضی سے کسی سے مل نہیں سکتی تھی اپنے گھر پر اپنی ماں کو بلا نہیں سکتی تھی ۔۔۔ مطلب کس قسم کا رشتہ ہے جو جو اس سے اسکی پہچان ہی چھین لے رہا تھا ۔۔۔۔

” چلو جیسی تمہاری مرضی اصفر ۔۔ او کے بیٹا میں اپنی ایک فرینڈ کے جا رہی ہوں پھر رات کو ملاقات ہوتی ہے ” یہ کہہ کر وہ بھی چلی گئیں ۔۔۔۔ اصفر بڑے آرام سے فوک سے آملیٹ کھا رہا تھا ۔۔۔ حمنہ نے خالی کپ پیچھے کھسکا اور کھڑی ہو گئ ۔۔۔

” تم کہاں جا رہی ہو ” اصفر نے اسے پوچھا

” آپکے کمرے میں ۔۔۔ اگر آپکی اجازت ہو تو کچھ دیر دیر کر لوں ” دل تو حمنہ کا پہلے جلا پڑا تھا اس لئے لہجہ کچھ ترش ہوا تھا ۔۔۔ اصفر ذراس مسکرایا

” جی جائیے آرام فرمائیے ۔۔۔۔ اور اگر کچھ فرصت مل جائے تو کچھ پیکنگ کریمن سے کروا لینا ۔۔۔ کل شام تک ہم اسلام آباد کے لئے نکل جائیں گئے ۔۔۔”

اب وہ مزے سے چائے پیتے ہوئے کہہ رہا تھا

” جی بہتر ” یہ کہہ کر وہ اوپر کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔بیڈ پر لیٹ کر کافی دیر صرف اصفر کی فیملی کے بارے میں سوچنے لگی ۔۔۔۔۔ سب اپنی لائف ہی تو جی رہے تھے اور وہ بھی بڑی آذادی سے ۔۔۔ پھر اسے یہ حق کیوں نہیں۔ تھا ۔۔۔۔ لیکن زیادہ دیر سوچ نہیں پائی جلدی ہی نیند نے اپنی آغوش میں لیا تھا رات تقریبا جاگ کر گزاری تھی وہ بھی ایک سنگدل کے ساتھ جیسے اسکے احساسات کی پروا نہیں تھی ۔۔۔ دروازے کی دستک پر اسکی آنکھ کھلی تھی ۔۔۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔

دروازے کے باہر کریمن بوا تھی

” جی اندر آئیے ۔۔۔ ” حمنہ نے اسے اجازت دی اور خود بھی اٹھ کر کھڑی ہو گئ تھی دوپہر کے دو بج رہے تھے ۔۔۔

کریمن اندر داخل نہیں ہوئی تھی بس دروازے سے ہی کہنے لگی

” چھوٹی بہو کھانا ڈائنگ پر کھائیں گئ یا یہیں۔ کمرے میں لگا دوں “

“نہیں مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔۔ آپ رہنے دیں “

” کیوں چھوٹی بہو بھوک کیوں نہیں ہے ۔۔۔ “

” بس یونہی”

” پھر فریش جوس لا دوں آپ کو “

” ہاں ایک گلاس جوس لا دو ” بھوک تو جیسے اسکی مر چکی تھی ہاں پیاس ضرور ۔محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔ شام کو چار بجے وہ ڈرائیور کے ساتھ پارلر چلی گئ اسکا ڈریس وہیں موجود تھا۔۔۔۔ لائٹ گرے کلر کی بے حد خوبصورت میکسی تھی جس پرسلور کام ہوا تھا ۔۔۔۔ تیار بھی بیوٹیشن نے غضب کا کیا تھا ۔۔۔۔ لیکن ان سب تیاریوں میں رات ہو چکی تھی ۔۔۔۔ واپسی پر اسے پک اصفر نے کیا تھاوہ گرے کوٹ پہنے تیار تھا ۔۔۔ لیکن اسے دیکھ کر کچھ پل دیکھتا رہ گیا تھا ۔۔۔۔

وہ فرنٹ ڈور کھولا کر بیٹھ گئ ۔۔۔ گاڑی کی ڈرائیونگ کے دوران دونوں خاموش ہی رہے تھے ۔۔۔ حمنہ کی خاموشی کی وجہ ایک نیا ماحول تھا جو اسکے ماحول سے متضاد تھا اور اصفر کی حمنہ کے حسن کو دیکھ کر بولتی بند تھی جب بھی بار بار اسے دیکھ رہا اپنی قسمت پر فخر سا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔ اس کا انتخاب ایسا تھا کہ آج کی محفل میں سب دانتوں کے نیچے انگلیاں دبا لیتے ۔۔۔۔ اس وقت حمنہ کاحسن ہی اسکے لئے جان لیوا بن رہا تھا ۔۔۔ اس پر ستم یہ کہ اسکی تعریف نہیں کرنی تھی اور نا ہی اپنی محبت کا اظہار جس کو کرنے کے لئے دل کی بے تابیاں عروج پر تھیں ۔۔۔ لب خاموش تھے لیکن نظریں بے لگام تھیں بس نہیں چل رہا تھا کہ ایک پل بھی اس سے نظریں نا ہٹائے ۔۔۔ لاہور کے ایک خوبصورت ہوٹل میں اریجمنٹ کیا گیا تھا سب مہمان حسن کمال کے مدعو کیے ہوئے تھے ۔۔۔ ہائی سے ہائی اسٹینڈرڈ کے لوگ تھے بڑے بڑے بزنس مین ڈاکٹرز ۔۔۔ میڈیا کے چند صحافی بھی وہاں موجود تھے ۔۔۔ ہوٹل کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ۔۔۔۔ اصفر اپنی ہمراہی میں حمنہ کو سامنے بنے اسٹیج پر لیکر گیا تھا ۔۔۔ فوکس لائٹس کیمرے کی روشنیاں دھیمہ سا ۔میوزک گلاب کے پھولوں کی بارش ۔۔۔ ہر چیز جیسے حمنہ کے لئے بے معنی تھی اسکی آنکھیں اگر منتظر تھیں تو اپنی والدہ کے لئے ۔۔۔ وہ ایک ٹک شیشے کے اس دروازے پر نظریں جمائے بیٹھی تھی جہان سے اسکی والدہ کی آمد ہونی تھی ۔۔۔ یہاں سب تھے مگر کوئی بھی اس کا اپنا نہیں تھا ۔۔۔۔ اجنبیت تھی ٹھنڈ کے باوجود گھٹن تھی ۔۔۔ اپنی زندگی کا فیصلہ بڑی عجلت میں شاید غلط کر بیٹھی تھی اس شخص نے اسے سوچنے سمجھنے کی مہلت جیسے نہیں دی تھی ایک کے بعد ایک فتاد اس پر ڈالی گئ تھی وہ سوج بوجھ کھو بیٹھی تھی ۔۔۔۔ یا قسمت نے عقل پر پردے ڈالے تھے ۔۔۔۔ سامنے اسکی والدہ اس ڈرائیور کے ساتھ اندر داخل ہوئی تھی جو اسے پارلر چھوڑنے گیا تھا ۔۔۔ وہ انکا ہاتھ پکڑے بڑے احترام سے اندر لارہا تھا حمنہ کی والدہ کا لباس خاصا قیمتی تھا محفل کی مناسب کے لحاظ سے ۔۔۔ بے اختیار حمنہ انہیں دیکھ کر کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔ وہ بھی حمنہ کی جانب ہی بڑھ رہیں ۔ تھیں۔۔۔ جب وہ قریب۔ آئیں تو اصفر خود اٹھ کر انہیں اسیٹج پر چڑھنے میں مدد کرنے لگا سب سے پہلے انہوں اصفر کو ہی ساتھ لگایا تھا پھر حمنہ کے گلے لگ کر ۔ملیں اسے خوب دعائیں دینے لگیں اصفر اٹھ کر وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔ حمنہ کا جی چاہا ماں کے ساتھ لگ کر جی بھر کے روئے ۔۔۔۔ لیکن رو نہیں پائی کیونکہ اسکی والدہ خوش تھیں اس لئے نہیں چاہتی تھی کہ اسکی آنکھوں میں آنے والی ذرا سی نمی دیکھ کر وہ رنجیدہ نا ہو جائیں ۔۔۔ ان کے چہرے پر خوشی اور اطمینان کے پھیلے رنگ ماند نا پڑیں وہ فکر مند ہو جائیں جب سے اسکے والد کا انتقال ہوا تھا اسکی والدہ چپ چپ سی ہو گئی۔ تھیں حمنہ کے لئے فکر مند بھی بہت رہتی تھیں۔ لیکن اب جیسے پر سکون تھی شاید یہ سمجھ رہی۔ تھیں کہ وہ خوش ہے اگر یہ جھوٹ اسکی والدہ کو سکون بخش رہاتھا کہ وہ کیوں انکا چین برباد کرتی ۔۔۔ وہ حمنہ کے ساتھ ہی بیٹھ گئیں ۔۔۔۔۔

” میری بیٹی کیسی ہے ” بڑی دلفریب سی مسکراہٹ سے اسکی والدہ نے پوچھا تھا حمنہ کے گلے میں گرہیں سی پڑیں تھیں

” ب۔۔بہ۔۔ت خوش ” لفظوں نے جھوٹ کا ساتھ نہیں دینا چاہا تھا

” اللہ تمہیں ہر بری نظر سے بچائے ۔۔۔۔ اصفر ماشاءاللہ سے بہت ہی پیارا بیٹا ہے ۔۔۔ میری وہ ساری دعائیں قبول ہو گئیں حمنہ جو اب تک تمہارے لئے مانگیں تھیں ۔۔۔۔ یہ دیکھ رہی ہوں میرا جوڑا اسی نے دلوایا ہے ” انہوں نے بڑی اپنایت سے اپنے جوڑے کی طرف اشارہ کیا

” صبح دس بجے ہی مجھ سے ملنے آ گیا تھا ۔۔۔ کہنے لگا تم سو رہی تھی اس لئے تمہیں جگایا نہیں ۔۔۔ کافی دیر بیٹھا باتیں کرتا رہا زبرستی مجھے بازار لے گیا یہ جوڑا دلوایا اور فرمائش کی کہ میں آج یہی پہنوں ۔۔۔۔ میراسگا بیٹا بھی ہوتا تو شاید اتنا نا کرتا جتنا وہ داماد ہو کر کر رہا ہے ۔۔۔۔ میں جتنا اپنے رب کا شکر ادا کروں اتنا کم ہے ۔۔۔۔ ” حمنہ کے لئے ہر بات بے یقین تھی ۔۔۔ کتنے روپ تھے اس شخص کے ۔۔۔ میرے سامنے کچھ۔۔۔ اپنے والدین کے سامنے کچھ اور میری ماں کے سامنے ۔۔۔۔۔ میری ماں کے سامنے تو ایک الگ ہی رنگ ہے اس کا ۔۔۔۔ لیکن بہرحال۔ اچھا ہی تھا کم از کم امی تو مطمئن ہیں ” حمنہ کے لئے اصفر کا یہ التفات ہی کم نہیں تھا ۔۔۔۔ دل سے اسکے رویے کی بد گمانی جیسے چھٹنے لگی تھی ۔۔۔۔ اصفر اپنے دوستوں میں اور باقی مہمانوں سے ہی ملتا رہا بس تصاویر بنوانے کے لئے ہی حمنہ کے پاس آ کر بیٹھا تھا ۔۔۔۔

فنگشن کے بعد گھر واپسی تک وہ خود بھی بہت تھک چکی تھی ۔۔۔۔

کمرے میں جاتے ہی جی چاہا چینج کرے اور آرام کرنے کے لئے لیٹ جائے ۔۔۔ لیکن کل والی ہزمیت نہیں چاہتی تھی اس لئے ویسے ہی بیٹھی رہی ۔۔۔ وہ آج بھی غائب تھا۔۔۔۔ رات کو آج بھی دو بجے ہی داخل ہوا تھا ۔۔۔۔ بس ایک نظر اس پر ڈالی تھی پھر نظریں ہٹا لیں

” آج کس خوشی سجی سنوری بیٹھی ہو جاؤں چینج کروں اور آرام کرو ۔۔۔۔ ” وہی سخت لہجہ تھا حمنہ جو بڑی مشکل سے اپنا دل صاف کیے اس کی منتظر تھی ۔۔۔۔ خود پر غصہ آنے لگا تھا ۔۔۔۔

” کل آپ ہی کو اعتراض تھا “

” کل کی بات اور تھی ۔۔۔ مجبوری تھی آج ایسی کوئی مجبوری نہیں ہے ۔۔۔ ناؤ ٹیک آ ریسٹ ان ہول نائٹ ” یہ کہہ کر اس نے سائیڈ ٹیبل کے دراز سے سگریٹ کی ڈبیہ نکالی اور گیلری میں چلا گیا ۔۔۔۔ یہ شخص میری سمجھ سے باہر ہے ۔۔۔۔ ” دل ہی دل میں پیج وتاب کھاتی ہوئی وہ اٹھ گئ کپڑے بدل کر لیٹ بھی گئ تھکی ہوئی تو پہلے ہی تھی اس لئے سو بھی گئ ۔۔۔۔ صبح فجر کے لئے اٹھی تو وہ برابر میں مخالف سمت کروٹ بدلے سویا ہوا تھا ۔۔۔۔ حمنہ نے اٹھ کر نماز پڑھی دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہی آنسوں پر اختیار کھو بیٹھی تھی ۔۔۔۔ سسک سسک کر رونے لگی تھی ۔۔۔۔ کس امتحان میں پڑ گئ تھی ۔۔۔ پل پل اصفر کابدلتا مزاج اسکی برداشت کا امتحان لے رہا تھا ۔۔۔۔

صبح وہ آٹھ بجے سے پہلے ہی ڈائنگ روم میں پہنچ گئ تھی ۔۔۔ وہی ماحول تھا اسلام کا جواب گڈ مارننگ سے دیا جاتا تھا ۔۔۔ نپی تلی باتیں تھیں ۔۔۔ ہائے موم بائے موم ۔۔۔ دعا کے کے چہرے پر اسے ناگواری کے علاؤہ دوسرا کوئی تاثر نظر نہیں آیا تھا

سیف نے آج تک سلام کا جواب تک نہیں دیا تھا ۔۔۔۔۔

اور اصفر اس کے روز بدلتے روپ کو دیکھ وہ متذبذب سی تھی ۔۔۔۔

شام تک وہ پیکنگ کر چلی تھی ۔۔۔ لاہور سے وہ اپنی گاڑی میں ہی جانے کے لئے نکلی تھے ۔۔۔۔ لیکن حمنہ کے دل میں کوئی امنگ نہیں تھی ۔۔۔۔ اس لئے چپ تھی اصفر بھی خاموش تھا حیران وہ تب ہوئی جب گاڑی اسکے گلی کی جانب مڑی تھی ۔۔۔ اسکے دروازے کے سامنے کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔ اپنی امی سے ملنے کا خیال ہی اس کے لئے خوشگوار احساس تھا ۔۔۔

اس لئے نیچے اترتے ہی بیل بجائی تھی اسکی والدہ ان دونوں کی اچانک آمد پر حیران تھیں ۔۔۔ ۔۔۔۔ اندر داخل ہوتے ہی حمنہ انکے گلے لگ گئ ۔۔۔۔ پھر وہ اصفر سے بھی ملیں اسے پیار دیا وہ بھی بڑی فرمابرداری کا مظاہرہ کر رہا تھا۔۔۔۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد حمنہ سے کہنے لگیں

” بیٹا تم مجھے بتا تو دیتی کہ تم دونوں آ رہے ہو ” اس سے پہلے کے حمنہ جواب دیتی اصفر بول اٹھا

” حمنہ آپ نے بتایا نہیں تھا امی کو کہ ہم۔ آ رہے ہیں ۔۔۔ میں نے تو صبح ہی آپ سے کہہ دیا تھا کہ رات کا کھانا امی کے ساتھ کھائیں گئے” اصفر کے جھوٹ پر وہ متحیر سی رہ گئ تھی چہرے پر تاثرات میں بھی وہ کمال رکھتا تھا حمنہ کی والدہ نے حمنہ کو گھورا تھا پھر اشارے سے حمنہ کو باہر بلایا حمنہ غصے سے گھونٹ پیتی ہوئی باہر گئ تھی

” بیٹا تم لوگوں کے آنے کا ارادہ تھا تو پہلے بتانا چاہیے تھا میں دو چار چیزیں بنا لیتی ۔۔۔ ایک فون کال ہی کر دیتی مجھے میں تو آج دال بنائے بیٹھی ہوں ۔۔۔۔ “

“بس امی میرے ذہن سے بلکل نکل گیا تھا ۔۔۔ آپ برابر والے مقبول صاحب کے بیٹے کو بھیج کر بازار

سے کچھ منگوا لیں کچن میں کھڑی اپنی ماں سے وہ اس بات پر شرمندہ تھی جس میں وہ بے قصور تھی۔۔۔۔

” یہ کیا منگوانے کی باتیں ہو رہیں ہیں امی ” اصفر بڑی بے تکلفی سے کچن میں داخل ہوا تھا

حمنہ کی والدہ گھبرا گئیں تھیں کہ کہیں ماں بیٹی کی باتیں نا سن لیں ہوں ۔۔ سفید پوش خاتون تھی ۔۔۔ امیر ترین داماد کے سامنے پردے دری سے گھبرائیں تھیں ۔۔۔

لیکن وہ تو بڑے پیار سے انکے گلے میں بانہیں ڈالے بولا

” میں آپ کے ہاتھ کی دال ہی تو کھانے آیا ہوں امی ۔۔۔ کچھ بھی منگوانے کی ضرورت نہیں ہے ” جتنی وہ اپنایت دیکھا رہا تھا دیکھنے والا اسکی محبت پر شک کر ہی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔۔

اس نے ضد کر کے کچھ بھی منگوانے نہیں دیا تھا ۔۔۔ دستخواہ پر بیٹھ کر انکے ساتھ دال کھائی بھی تھی اور تعریف بھی بہت کی تھی ۔۔۔۔

حمنہ کی والدہ تو اس پر صدقے واری ہوئے جا رہیں تھیں اتنی خوش تھیں کہ حمنہ نے انہیں کئ سال بعد اتنا خو دیکھا تھا ماں کی خوشی اس کے لبوں پر قفل سا باندھ رہی تھی ۔۔۔۔

رات وہ وہیں رکے تھے ۔۔۔۔ رات دیر تک اصفر اسکی والدہ کے ساتھ ہی بیٹھا رہا باتیں کرتا رہا ہنستا ہنساتا رہا ۔۔۔۔ حمنہ بس ایک ٹک اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ بہت سے لوگ دیکھے تھے زندگی میں اس نے ۔۔۔ اچھے بھی برے بھی مگر پل پل بدلتا یہ شخص اسکی سمجھ سے باہر تھا ۔۔۔۔ کمرے میں جا کر پھر وہی اسپاٹ سا چہرہ ۔۔۔۔وہی روکھارویہ ۔۔۔۔ صبح سے جو سفر شروع ہوا ۔۔۔۔ شام تک وہ مری پہنچ گئے تھے ۔۔۔۔۔ پورے راستے بس ایک بے ہنگم سے پاپ میوزک کے گانے ہی چلتے رہے ۔۔۔۔ جسے وہ سننے کے ساتھ ساتھ گنگنا بھی رہا تھا ۔۔۔۔ جیسے اکیلا ہی سفر کر رہا ہو ۔۔۔۔۔ حمنہ کو لائٹ میوزک اور غزلیں پسند تھی

لیکن کہہ نہیں پائی اور کہتی بھی کیسے اس نے اسے بے تکلف ہونے ہی کب دیا تھا ۔۔۔۔ مری میں اچھی خاصی ٹھنڈ تھی ۔۔۔ لاہور کے مقابلے میں کئ گنا زیادہ پھر مہینہ بھی دسمبر کا تھا ۔۔۔۔۔ ہوٹل کے کمرے میں جاتے ہی اس نے بیگ سے موٹا سویٹر نکال کر پہنا تھا ۔۔۔۔ کچھ دیر آرام کے بعد کھانے کے لئے اسی ہوٹل کے ریسٹورنٹ کا انتخاب کیا تھا ۔۔۔ اب تک وہ خاموش تھا ایک بات بھی حمنہ سے نہیں کی تھی ۔۔۔۔ اتنا لاپروا کہ جیسے حمنہ وہاں موجود ہی نا ہو

حمنہ اسکی بے رخی سے زچ سی ہو گئ تھی ۔۔۔ صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا ۔۔۔ کھانا بھی وہ بلکل لاتعلق ہو کر کھا رہا تھا وہ سامنے خالی پلیٹ رکھے خفگی سے بیٹھی رہی لیکن اس نے ایک بار یہ نہیں پوچھا کہ وہ کھانا کیوں نہیں کھا رہی ۔۔۔۔

کھانے کے بعد بل پے کر کے وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔ کمرے میں آتے ہی حمنہ بیڈ پر اوندھے لیٹے کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی مگر اس شخص کی بے حسی کی انتہا تھی کہ وہ سگریٹ اٹھائے کمرے کی گیلری میں چلا گیا پھر کمرے میں آکر ایک کپ کافی آڈر کی کافی لیکر دوبارہ سے گیلری میں چلا گیا نا اسکے آنسوں کی فکر تھی نا سسکیوں کی پروا ۔۔۔۔ کافی دیر تو وہ دل کا غبار آنسوں سے نکالتی رہی ۔۔۔۔

پھر اسے اپنی ماں کی باتیں یاد آنے لگیں۔

” بیٹا مرد سے مقابلہ بیوقوف عورتیں کرتی ہیں اگر وہ غلط بھی ہے تو ضروری تو نہیں کہ اسے زبان سے برا کہا جائے ۔۔۔۔ ذرا سا جھک جانے سے اگر زندگی سہل ہو سکتی ہے تو ابتدا کرنے سے کبھی بھی گھبرانا نہیں چاہیے ۔۔۔۔ ” یہی باتیں تو بچپن سے سب تک دامن میں بھری تھیں ۔۔۔ شاید اسی کا امتحان آن پڑا تھا اس لئے اس بار سونے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔ ناہی کمرے میں لیٹ کر دل جلاتی رہی وہ اٹھ کر گیلری میں آ گئ جہاں لوئے کے بنے جھولے نما صوفے پر بیٹھے وہ سگریٹ پی رہا تھا سردی شدت کی تھی کمرے نسبت گیلری میں ٹھنڈ زیادہ تھی پھر یخ بست ہوائوں نے کانپنے پر مجبور کیا تھا وہ سویٹر کے اوپر گرم شال لئے بیٹھا تھا ۔۔۔ حمنہ کو ایک نظر دیکھ کر نظروں کازاویہ بدل گیا ۔۔۔۔۔ سائیڈ پر ایک چھوٹی سی لوہے کی ٹیبل پر کافی کا مگ رکھا تھا ۔۔۔ جیسے اس نے ابھی آڈر دے کر منگوایا تھا ۔۔۔۔ مگ میں بھاپ سی اٹھ رہی تھی ۔۔۔۔ حمنہ چلتے ہوئے اسکے برابر میں بیٹھ گئ ۔۔۔

” مجھے بھوک لگی ہے ” حمنہ کی بات پر اسنے ایک تیکھی نظر سے اسے نوازہ تھا ۔۔۔

” ریسٹورنٹ میں ہم کھانا ہی کھانے گئے تھے ۔۔۔ ہاتھ نہیں روکا میں نے تمہارا ۔۔۔ ” وہی بے لچک لہجہ

” تب مجھے بھوک نہیں تھی ۔۔۔ “

” اسوقت تو کچھ نہیں ملے گا رات کاایک بج رہا ہے “

“مجھے ٹھنڈ بھی لگ رہی ہے ” حمنہ کے کانپتے ہوئے کہا

” یہاں آنے کا مشورہ بھی میں نے تمہیں نہیں دیا ” اصفر کے روکھے رویے کی پروا کیے بنا اس نے اسکی شال کا ایک کونہ اس کے کندھے سے اتار کر اپنے گرد لپیٹ لیا اور اسکے ساتھ ہو کر بیٹھ گی اس بار حیرت کا جھٹکا اصفر کو لگا تھا ۔۔۔ ایک پل میں نے اس نے سارے فاصلے طے کیے تھے اسکے کندھے پر سر رکھے اسکے ساتھ لگ کر بیٹھی تھی اسی کی آدھی شال اپنے گرد لپیٹے ۔۔۔ بڑی حیرت سے وہ اسے دیکھ رہا تھا بیوی ہونے کا پہلا حق جمایا تھا ۔۔۔۔ اسکے ہاتھ حمنہ نے اسکے ہاتھ میں پکڑی سگریٹ پکڑ کر دور پھنکی تھی ۔۔۔ یہ دوسرا حق تھا جو اس نے استعمال کیا تھا اصفر کو غصہ آنا چاہیے تھا لیکن چاہ کر وہ غصہ نہیں کر پا رہا تھا ۔۔۔

” ایک ڈاکٹر یہ اچھی طرح سے جانتا ہے سگریٹ صحت کے لئے اچھی نہیں ہوتی ۔۔۔۔ اور مجھے یہ بات بلکل پسند نہیں کہ میرا شوہر سگریٹ پیے ۔۔۔ اسکے گلے میں بازو ڈالے اس نے کہا تھا ۔۔۔ اصفر کی تو جیسے بولتی بند ہوئی تھی ۔۔۔۔ اس بار حمنہ اسے الگ سی لگی تھی ۔۔۔۔ ریزو سی حمنہ تو کہیں سے نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔ جو اپنے قریب بھی کسی کو آنے کی اجازت نہیں دیتی تھی ۔۔۔ ہاتھ پکڑنے پر سو باتیں سنانے والی ۔۔۔۔ اپنی پرانی روایات کو ہر چیز پر فوقیت دینےوالی حمنہ نہیں تھی ۔۔۔ الگ یا شاید رشتہ الگ تھا

” اصفر مجھے بھوک لگی ہے ” بہت دھیرے سے حمنہ نے پھر سے کہا تھا اصفر نے جیب سے ایک چوکلیٹ نکال کر اسے پکڑا دی

” فی الحال یہی ہے میرے پاس ۔۔۔۔۔ ” حمنہ نے چوکلیٹ پکڑ کر کھول کر کھانی شروع کی سگریٹ تو وہ پھنک چکی تھی۔۔ جس بات کی وجہ سے وہ سگریٹ سے جی جلا رہا تھا اس پر تو جیسے حمنہ کی ایک قربت نے اوس سی ڈال دی تھی ۔۔۔۔ اس لئے سائیڈ سے گرم کافی کا کپ اٹھا کر پینے لگا ۔۔۔ لیکن دوسرے ہی سپ کر کپ حمنہ نے پکڑ کر لیا اور پینے لگی ۔۔۔

” میرے ہاتھ سے کوئی چھین کر کھائے پئے بہت برا لگتا ہے مجھے ” چاہ کر بھی وہ سخت لہجے سے نہیں بول پا رہا تھا

” تواپنی عادت بدل لیجیے ڈاکٹر صاحب ۔۔۔ کیونکہ مجھے تو ہمیشہ ایک شال میں بیٹھ ایک ہی کپ میں آپکے ساتھ کافی پینی ہے ” کافی کے دو گھونٹ بھر کر اس نے کافی اصفر کو تھا دی ۔۔۔

” ہمم ۔۔۔ ویسے جو آپ پچھلے پانچ منٹ سے میرے ہوش اڑا رہیں ہیں اسکی وجہ جان سکتا ہوں ” اب تو اصفر کے بس باہر تھا اس کا بدلتا رویہ

” صلح میں پہل کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔ ایم سوری اصفر ۔۔۔ میں نے آپ کو بہت غلط سمجھا تھا ۔۔۔ مجھے آپ سے وہ سب نہیں کہنا چاہیے تھا جو

میں نے اس دن ہاسپٹل میں کہا تھا ۔۔۔ ” حمنہ نے اس۔ بات کی معافی مانگی جس میں وہ حق میں تھے لیکن اب رشتہ بدل چکا تھا وہ بات غیر اہم سی ہو چکی تھی پھر اس بات کی وجہ سے اپنی زندگی میں بدمزگی کیوں پیدا کرے ۔۔۔۔ اصفر کو لگا جس بات پر وہ اب تک اسے ستا رہا تھا ۔۔۔ جس سے اپنا خوں سگریٹوں سے جلا رہا تھا اتنی بھی بڑی نہیں تھی ۔۔۔۔ جتنی کچھ دیر پہلے اسے لگ رہی تھی ۔۔۔۔ یا شاید حمنہ کی قربت نے ہر بات کو بے معنی سا کر دیا تھا اسکے میٹھے لہجے میں سوری کہنے نے بات جیسے ختم کر دی تھی ۔۔۔۔

“یہ سب پہلے نہیں کہہ سکتی تھی ۔۔۔۔ تین دن میرے برباد کیے تم نے ۔۔۔ “اس کے گرد بازو پھیلاتے ہوئے جیسے اس نے اسکی صلح قبول کی تھی ۔۔۔ دل پر جبر تو وہ بھی کر رہا تھا ۔۔ اسے سزا دینے کے چکر میں ۔۔۔۔ اپنے جذبوں پر بھی بندھ باندھے ہوئے تھا ۔۔۔

” سب کچھ اتنا اچانک تو ہوا تھا اصفر ۔۔۔ میں تو ایک واڈ بوائے سے حسن کمال کے بیٹے تک ہی پہنچ نہیں پائی تھی کہ آپ نے منگنی کی رسم بھی کر دی ۔۔۔۔ پھر ایک دم سے آپکا یوں حق جمانا ۔۔۔ مجھ بوکھلا کے رکھ گیا تھا ۔۔۔ شاید اسی میں کچھ زیادہ ہی کہہ گئ ” حمنہ نے بات کی وضاحت کی تھی وہ مسکرانے لگا

” کچھ نہیں ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔ بہت کچھ ۔۔۔۔ “

“ایم سوری “

” صرف سوری کافی نہیں ہے ۔۔۔۔ تم نے میرے منہ دیکھائی کے تحفے کو کھول کر بھی نہیں دیکھا ویسے ہی پیک کا پیک وہی رکھ دیا تھا ۔۔۔ جانتی ہو کتنی اہمیت ہونی چاہے تھی تمہارے نزدیک اسکی؟ ” یہایک اورشکوہ تھا لیکن اس بار پیسر سے کیا گیا تھا

” آپ نے بھی تو میرا گھونگٹ نہیں اٹھایا تھا ۔۔۔ اگر اپنے ہاتھوں سے پہناتے تو زندگی بھر نا اتارتی ۔۔۔ ” اصفر ایک ٹک اسے دیکھ رہا تھا جو اب بھی اسکے کندھے کے ساتھ لگی کہہ رہی تھی ۔۔۔

” چلو تمہاری یہ خواہش بھی پوری کر دیتا ہوں ” اصفر کا لہجہ اور انداز پل میں بدلہ تھا ۔۔۔۔ کمرے میں لے جا کر اسے اپنے ہاتھ سے چین لوکٹ اسے پہنایا تھا ۔۔۔ جس پر اصفر کے نام پہلا حرف تھا ۔۔۔

******…….

مری میں گزرے باقی کے دن جیسے دونوں کے لئے یاد گار تھے ۔۔۔۔۔ اصفر نے اپنی محبت اس پر نچھاور کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی ۔۔۔۔

ایسے تھا جیسے اس کا دیوانہ ہو ۔۔۔ ہر روز صبح اٹھتے ہی حمنہ کو ایک فلاور بکے اپنے بیڈ کے پاس موجود ملتا تھا محبت صرف باتوں سے ہی نہیں ہر انداز سے بتائی گئی تھی ۔۔۔ مری سے بالا کوٹ اور وہاں سے ناران کاغان ۔۔۔ خوبصورت پہاڑوں کے دل کو چھو جانے مناظر میں بہت سے لمحوں کو یاد گار بنایا تھاایک دوسرے کی سنگت میں پندرہ دن جیسے یوں گزرے تھے جیسے چند دن گزرے ہوں یہ سب چھوڑ کر واپس لاہور جانے کو دونوں کا دل نہیں چاہ رہا تھا ۔۔۔۔

لیکن حسن کمال کی ایک کال پر اصفر کی انکار کی گنجائش نہیں تھی ۔۔۔

“اصفر ڈیڈ سے بات تو کر کے دیکھیں ۔۔۔ شاید انہیں اعتراض نا ہو کچھ دن اور رک جاتے ہیں ” حمنہ پیکنگ کرتے ہوئے بولی

” اعتراض اگر نا ہوتا تو فون بھی نا آتا پندرہ دن کا مطلب ڈیڈ کے نزدیک پندرہ دن ہی ہیں ۔۔۔ چاہیں ہمہیں وہ پل میں گزارتے ہوئے محسوس ہوئے ہوں ۔۔۔۔ بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے اس نے حمنہ سے کہا جو جانے کے بلکل موڈ میں نہیں تھی ۔۔۔

بیگ کو ایک سائیڈ پر رکھ کر وہ اسکے پاس آکر کھڑا ہو گیا ۔۔۔ دونوں بازو اس کے کندھے پر رکھ دیے ۔۔۔۔

” موڈ آف کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔ یہ تو ابتدا ہے سوئٹ ہارٹ ۔۔۔ دنیا گھومانی ہے تمہیں ۔۔۔ اسے ایسے خوبصورت نظارے ہیں دنیا میں کہ مری اور ناران کو بھول جاؤں گی “

” میں نے کچھ کہا تو نہیں ہے۔۔۔ جانے سے انکار تو نہیں کیا ۔۔۔ ” اصفر کے دونوں بازو اس نے بڑے پیارے سے اپنے کندھوں سے ہٹائے تھے ۔۔۔۔

” لیکن تمہارا یہ چہرہ جو ہے یہ سارے راز کھول دیتا ہے ۔۔۔۔

پھر لے آؤں گا تمہیں ۔۔۔” اصفر کو اسکی فکر تھی اسکی خواہش کی پروا تھی حمنہ کے لئے یہی کافی تھا ۔۔۔۔ راستے میں پہلی بار سردیوں پہلی برف باری ہوئی ۔۔۔۔

” اصفر گاڑی روکیں کتنا خوبصوت منظر ہے ” گاڑی پر گرتی برف روئی کے سفید گالوں کی طرح فضا میں بکھیر گی تھی کی موسم کی دلکشی اور بھی بڑھ گئ تھی پہاڑوں کی چوٹیاں سفید ہونی شروع ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ اصفر اسکے چہرے پر بے پناہ خوشی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ جو پہلی بار برف باری دیکھ آنکھوں میں کسی جگنوں کی طرح سے جگمگا رہی تھی ۔۔۔۔

اصفر نے گاڑی سائیڈ پر لگا دی ۔۔۔۔

حمنہ گاڑی سے نیچے اتر گئ تھی۔۔۔۔ سڑکوں کے اطراف برف جمع ہونا شروع ہو گئ تھی ۔۔۔ نیلے رنگ کے موٹے سویٹر پر ہم رنگ اون کی ٹوپی پہنے وہ باہر کھڑی آسمان کی جانب دیکھ کر مسکراتے ہوئے مصور کی ایک حسین شہکار تصویر لگ رہی تھی ۔۔۔۔ جس کی آنکھوں میں خوشی کا ہر رنگ موجود تھا جس کا چہرہ دھنک کے سارے رنگ اپنے اندر سموئے ہوئے تھا وہ خوش تھی بے حد خوش اصفر گاڑی سے ٹیک لگائے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ جو ہاتھ پھیلائے آسمان سے گرتی برف سمیٹنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔ سامنے کھڑی لڑکی جو چند دن پہلے اسے صرف پسند تھی ۔۔۔۔ آج رگ و جان سے قریب ہوتی محسوس ہونے لگی تھی ۔۔۔۔۔ اپنے انتخاب پر ہر بار کی طرح بہترین نکلا تھا کیوں کے دل سے ذیادہ وہ ہمیشہ دماغ کو ترجعی دینے کا قائل تھا پہلی بار اسے چائیلڈ واڈ میں دیکھ کر اسے احساس ہوا تھا کہ یہ لڑکی عام ڈاکٹرز سے ذرا مختلف ہے یوسف سے بھی اسی کے متعلق پوچھنے کی کوشش کر رہا تھا جب وہ نرس اندر داخل ہو کر شکایت کے طور پر حمنہ کی خوبیاں بتانے لگی تھی ۔۔۔۔ حمنہ کے آمد پر جیسے ہر بات پر مہر لگ گئ تھی ۔۔۔ یکلخت اپنے کیے جانے والے فیصلے پر اصفر کو پہلے تو حیرت ہوئی تھی اس لڑکی کے ساتھ ایک دن گزار کر وہ اچھا خاصا بیزار ہوا تھا ۔۔۔۔

ٹھیک ہے وہ اسکے سامنے ایک واڈ بوائے کے طور متعارف ہوا تھا لیکن سحرانگیز شخصیت کا مالک بھی تو تھا لیکن مجال ہے جو وہ لڑکی اسے ذرا بھی متاثر ہوئی ہو ۔۔۔۔ اس کا لیا دیا رویہ اصفر کے لئے دلچسپی کا باعث بنا تھا ۔۔۔ ورنہ اسکی ساتھی لڑکیاں پورا پورا رسپونس اصفر کو دیتی تھیں ۔۔۔۔ ایک بار اس نے یوسف سے حمنہ کے ریکارڈ کے بابت پوچھا تھا ۔۔۔ کیوں کہ اکثر پیشنٹ کے مرض کی شناخت وہ سمٹمز دیکھ کر لگا لیتی تھی ۔۔۔۔ ورنہ تو ڈاکٹر بس ذیادہ تر ٹیسٹ لکھ دیتے تھے ۔۔۔۔ یوسف جب بھی کسی مریض کی بیماری کے متعلق سب اسٹوڈنٹ سے پوچھتا تو اس کا جواب منفرد ہی ہوتا تھا ۔۔۔ وہ بہت ڈیپلی اس مرض کی وجوہات کو بیان کرتی تھی ۔۔۔۔۔ اسکی آنکھوں میں الگ سی چمک نظر آتی تھی جیسے ڈاکٹر بننا اسکا جنوں ہو ۔۔۔۔۔ انسانیت کی خدمت میں نا جانے کہاں تک پہنچنے کا شوق رکھتی تھی ۔۔۔۔

” اسکالر شپ پر میڈیکل کیا اس نے ٹاپ فائیو میں حمنہ کا نام آتا رہا ہے ہمیشہ ۔۔۔ یہ لڑکی مستقبل میں بہت آگے بڑھے گی بہت جذبہ ہے اس میں آگے بڑھنے کا ” یوسف نے اسکی فائل اصفر کے سامنے رکھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔

وہ اسکی فائل کھولے بڑی دلچسپی سے۔ دیکھ رہا تھا

” بائے دا وئے ۔۔۔ تم اتنا انٹرسڈ کیوں لے رہے ہو ” یوسف کی جانچتی ہوئی نظروں پر وہ مسکرایا تھا

” اچھی سی لگنے لگی ہے اس لئے ۔۔۔۔ “

” ہمم ابا مان جائیں گئے تمہارے “یوسف نے تعجب سے پوچھا تھا

” یہ فائل دیکھ تو سو فیصد امید ہے انکار نہیں کریں گئے ۔۔۔ پھر تم کس مرض کی دوا ہو ۔۔۔۔ پورا پورا ساتھ دینا ہے تم نے میرا ۔۔۔۔ ” حمنہ کی فائل بند کر کے اصفر نے یوسف سے کہا تھا

” کیوں اپنی دوسری بھتجی لانے کا ارادہ نہیں ہے نہیں انکا “

” پہلی کو ہی لا کر پچھتا رہے ہیں ۔۔۔۔ دعا بھابی کی توجہ نہیں ہوتی ۔۔۔ اتنا اٹنشن نہیں دے پاتیں جتنا کہ ڈیڈ چاہتے ہیں ۔۔۔ “

” میری سمجھ سے باہر ہے ایک فیلیر ڈگری اور ان کمپلیٹ اسٹڈیز کے ساتھ کیسے تمہاری بھابی گائناکالوجسٹ کہلوانا پسند کرتی ہے ۔۔۔۔ ” یوسف نے تاسف کا اظہار کیا تھا ۔۔۔

” میں یہاں تم سے دعا بھابی کو ڈسکس کرنے نہیں آیا وہ جو کچھ ہیں ڈیڈ کاسر درد ہے یاسیف کا میرا نہیں ۔۔ ۔ حمنہ کے لئے ڈیڈ کو تم قائل کروں گئے ۔۔۔۔ ” اصفر نے موضوع بدلہ تھا

” اچھی طرح سوچ لو اصفر وہ لڑکی بہت مختلف سوچ کی مالک ہے غلط بات برداشت نہیں کرتی یہ تو تم بھی ان چند دنوں میں جان گئے ہو گئے “

” کوئی بڑی بات نہیں ہے میں ہینڈل کر لوں گا ۔۔۔ ” اپنا دعوہ سچ ہی لگ رہا تھا اپنی محبت سے وہ اسے گھائل تو کر ہی چکا تھا اس وقت حمنہ کی آنکھوں اور دل میں صرف اصفر تھا ۔۔۔ تو یہ اصفر کی بہت بڑی جیت تھی

وہ سامنے کھڑی اصفر کو اپنی جانب آنے کا اشارہ کر رہی تھی ۔۔۔ حمنہ کو دیکھ کر اس نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔ اب شام بڑھ رہی تھی سردی کی شدت میں اضافہ ہوا تھا ۔۔

” حمنہ واپس آوں اب ۔۔۔ واپسی پر رات ہو جائے گی ” کچھ فاصلے پر کھڑی حمنہ کو اس نے پکارا تھا

” بس تھوڑی دیر اور ۔۔۔۔”

” نو حمنہ پلیز کم بیک ” اس کے ارادے بھانپ کر وہ اسکی طرف لپکا تھا ۔۔۔ جس کا اب بھی واپسی کا کوئی موڈ نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔ اس کا ہاتھ تھامے وہ اسے گاڑی کے پاس لا رہا تھا اور وہ بس “”پانچ منٹ اور اصفر “” کی رٹ لگا رہی تھی ۔۔

” بلکل بھی نہیں ۔۔۔ہاتھ دیکھوں کیسے برف کی مانند ٹھنڈے ہو رہے ہیں تمہارے۔۔ بیمار پڑ جاؤں گی ” اب وہ اسے غصے سے آنکھیں دیکھاتے ہوئے بول رہا تھا ۔۔۔۔۔

گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے ہیٹر آن کیا تھا ۔۔۔۔

پورے سفر میں وہ دونوں باتیں کرتے رہے تھے ۔۔۔ مری جاتے ہوئے سفر جتنا طویل لگ رہا تھا واپسی پر باتوں میں وہ سفر جلد کٹ گیا تھا ۔۔۔۔۔

زندگی اب معمول پر آ گئ تھی ۔۔۔ ایک مہینہ گزر گیا تھا ۔۔۔ حمنہ کو اب اپنی ہاوس جاب کی فکر ستانے لگی تھی ۔۔۔۔

” اصفر میں کب یونہی گھر پر بیٹھی رہوں گی “

‘ تو کس نے کہا گھر بیٹھوں کل سے میرے ہاسپٹل چلو ۔۔۔۔ دل لگ جائے گا تمہارا “

” مجھے پہلے اپنی ہاوس کمپلیٹ کرنی ہے”

” اس کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ “

” کیوں ضرورت نہیں ہے اصفر میرے کیریر کاسوال ہے بنا ہاؤس جاب کے ۔۔۔” ۔۔۔۔

” کوئی تمہیں کچھ نہیں کہے گا ۔۔۔۔ یہ تو طے ہے حمنہ کے اب تمہیں ہمارا ہاسپٹل ہی چلانا ہے ۔۔۔۔ اور وہ گورنمنٹ کا نہیں ہے پارویٹ ہے وہاں کے رول ڈیڈ بناتے ہیں ۔۔۔۔ اس لئے ٹینشن فری ہو جاؤں ۔۔۔ ” بیڈ کے کروان پر تکیہ رکھتے ہوئے وہ ٹیک لگا کر بیٹھ کیا تھا

” لیکن پھر بھی میں چاہتی ہوں کہ میں اپنی ہاؤس جاب پوری کروں ۔۔۔ مجھے اپنے ابا کا کلینک بھی کھولنا ہے “

” وہ سب بھی ہو جائے گا مجھے اب مزید بحث نہیں چاہیے ۔۔۔ یار ۔۔۔ کلینک سے مریضوں سے سر کھپانے کے بعد اتنا اسٹمنا نہیں ہت ۔یرے پاس کہ تمہارے ساتھ۔ بی بحث کروں ۔۔۔ ” اصفر کے چہرے پر پھیلی ناگواری دیکھ وہ چپ ہوئی تھی ۔۔۔۔

” او کے جسٹ ریلکس میں آپ کے چائے بنا کر لاتی ہوں ” حمنہ کو لگاشاید اس۔ نے بات کچھ غلط وقت کر پر دی ہے ۔۔۔ اسوقت رواسے واقع ریلکس کی ضرورت تھی ۔۔۔

” پلیز ضرور ۔۔۔ اسوقت چائے کی شدت سے طلب ہے ” اصفر کے اپنا چشمہ اتار کر سائیڈ پر رکھا تھا اور تکیے سے سر ٹکائے آنکھیں موندے گیا تھا ۔۔۔۔ حمنہ اس کے لئے چائے بنانے چلی گئ ۔۔۔

چند دن ہی ہوئے تھے اصفر کے ساتھ ہوسپٹل جاتے ہوئے ۔۔۔۔ آج صبح بھی جانے کے لئے تیار ہو رہی تھی جب چکر آنے کے باعث گرتے گرتے بچی تھی اصفر بھی بال بنا رہا حمنہ کی حالت دیکھ کر پریشان ہوا تھا ۔۔۔

” کیا بات ہے ۔۔۔ آر یو او کے “

“پتہ نہیں۔ چکر سے آ رہے ہیں ۔۔۔ “وہ سر پکڑ کر بولی تھی

” تم رہنے دو کلینک مت جاؤں شاید نیند پوری نہیں ہوئی تمہاری ۔۔۔” حمنہ کو بھی یہی لگا کہ اسے آرام ہی کرنا چاہیے ۔۔۔ اپنی اندرونی حالت بھی بدلی سے لگ رہی تھی ۔۔۔ اس لئے آرام ہی کو ترجعی دی تھی رات چند میڈسن اصفر نے اسے کھول اسکے ہاتھ میں رکھیں تھیں

” کھاؤں اسے کل تک ٹھیک ہو جاؤں گی “

” یہ کس چیز کی میڈسن ہیں “

“تمہیں چکر ویکنس سے آ رہے ہوں گئے یہ صرف وٹامنز کی میڈسن ہیں کھاؤں اسے اصفر نے اپنے سامنے اسے دوا کھائی تھی ۔۔۔۔ اور اب روز اسے باقاعدگی سے اپنے سامنے اسے میڈسن کھلانے لگا تھا ۔۔۔۔

چند ہی دنوں میں وہ دوبارہ نارمل ہو چکی تھی ۔۔۔

پہلے جیسی کیفت بھی نہیں رہی تھی ۔۔۔۔

ایک بار ڈنر کے دوران حسن کمال نے ایک نیا فیصلہ سنایا تھا

” میرے خیال سے تم کڈنی میں اسپشلائز کر لو nephrologists

کی بہت ضرورت ہے ہمارے ہاسپٹل میں ۔۔۔۔ اس میں ذیادہ فائدہ ہے اور اگر ٹرانس پلانٹ بھی کرنا آ جائے تو سونے پر سہاگا ہے ۔۔۔ ” پہلی بار حمنہ سے براہرست انہوں نے کہا تھا

” نہیں ڈیڈ مجھے نہیں کرنا ۔۔۔ garnal physicain میں ہی آگے بڑھنا چاہتی ہوں اس میں میں ہر بیماری کو ڈایئگنو کر سکتی ہوں اور میرا مین مقصد سرجن بننا ہے ۔۔۔۔ خاص کڈنی اور ہارٹ ۔۔ لیور کے لئے مخصوص نہیں ہونا چاہتی ۔۔۔۔۔ “

” Why don’t you specialize in one thing ?want to be “

حسن کمال کا لہجہ بلند ہوا تھا

“I have to fulfill my father’s dream

مجھے اپنے چھوٹے سے علاقے میں کلینک کھول کر لوگوں کا مفت علاج کرنا ہے اور وہ میں جرنل فزیشن بن کر ہی کر سکتی ہوں ۔۔۔۔۔۔ مجھے اسی آگے بڑھنا ہے ” حمنہ آپ ے موقف پر قائم تھی۔۔۔۔

حسن کمال نے اصفر کو لگا جس ے والے انداز سے دیکھا تھا ۔۔۔

” ڈیڈ حمنہ وہی کرے گی جو آپ چاہتے ہیں ” اصفر کی بات سن کر حمنہ نے حیرت سے اسے دیکھا تھا