Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 13
Rate this Novel
Noor-e-Emaan Episode 13
Noor-e-Emaan by Umme Hani
“اصفر میری بات سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔۔ یہ درست نہیں ہے ۔۔۔ گناہ ہے نا جائز ہے ۔۔۔ حرام کے زمرے میں آتا ہے”
” جسٹ شٹ اپ حمنہ ۔۔۔۔۔ تمہارے کہنے کا مطلب ہے ۔۔۔۔ نوے فیصد ہاسپٹل اور ڈاکٹر اس وقت حرام کھا رہے ہیں نا جائز پیسہ کما رہے ہیں ” اصفر غصے سے بھبک کر بولا
” ناقابل یقین۔ تلخ حقیقت ہے اصفر ۔۔۔۔ لیکن سچ ہی ہے ۔۔۔ جہاں یہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔۔۔۔ نا جائز ہی ہو رہا ہے ۔۔۔۔ آجکل ڈاکٹر پیشے کو اپنانے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے ساری زندگی اپنے اس پیشے کو کیش کیا جائے ۔۔۔۔۔ جو ہمہیں اصل مقصد سے بہت دور لے جا چکی ہے
یہ کاروبار نہیں ہے جس میں دو کے چار بنائے جائیں اصفر ۔۔۔ یہ حکمت ہے ۔۔۔ عبادت ہے ۔۔۔۔ بہت بڑی نعمت ہے ۔۔۔خدمت خلق کا اعلی درجہ ہے جس کے لئے اللہ نے مجھے اور آپکو اور بے شمار ڈاکٹروں کو چنا ہے ۔۔۔ اور اتنی ہی بڑی آزمائش بھی ہماری ہی ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ کارو بار میں انسان غلطیاں کر کے تجربہ کار ہوتا ہے ۔۔۔۔ پہلے پیسوں کا نقصان کرتا ہے پھر کمانا سیکھتا ہے اور اسکے بعد نفع اسکے پاس آنا شروع ہوتا ہے ۔۔۔لیکن جس پیشے سے ہم تعلق رکھتے ہیں اصفر یہاں ذراسی غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی ۔۔۔ کیونکہ یہاں بات کاغذ کے چند ٹکڑوں کی نہیں انسانی جان کی ہے ۔۔۔۔۔ جس کے نقصان کا کوئی نعم البدل ہے ہی نہیں ۔۔۔۔۔ یہ کیوں نہیں سمجھتے ہم لوگ پروایٹ ہاسپٹلوں میں بھی آجکل ایک لوٹ مار کا بازار گرم نظر آتا ہے ۔مریضوں نے نئے تجربے کیے جاتے ہیں ٹھیک ہو گئے ٹھیک ہے اگر اس تجربے کے بھنٹ کوئی چڑھ گیا تو چڑھ گیا نو پرابلم حالانکہ ہم جوابدہ ہیں ۔۔۔۔ ” حمنہ کی بات کو اس نے تمسخرانہ طور پر لیا تھا
” واہ حمنہ جی کیا کہنے ہیں آپ کے ایک طرف تم ایمان اور یقین کی بات کرتی ہو ۔۔۔ دوسری طرف اسی بات کی تردید بھی کر دیتی ہو ۔۔۔۔ ہمارا ایمان ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اسی بات پر ہر مسلمان کا ایمان ہے ۔۔۔ جتنی سانسیں ہم لکھو کر آئے ہیں اتنی لئے بنا زندگی سے خلاصی نہیں مل سکتی۔۔۔۔ پھر مریضوں کے معاملے میں سارا قصور ڈاکٹرز کے ذمے کیوں لگا دیا جاتا ہے ۔۔۔۔ اگر مریض کی موت ہاسپٹل کے آپریشن تھیٹر میں لکھی ہے۔۔تو قصور وار ڈاکٹر ہر گز نہیں۔۔۔۔۔
میں اس معاملے تم سے مزید بحث کرنا ہی نہیں چاہتا جو جیسا چل رہا ہے چلنے دو ۔۔۔۔ اور دوبارہ مجھ سے اس ٹاپک پر بات مت کرنا ۔۔۔۔ “اپنا تکیہ غصے سے درست کر کے وہ لیٹ گیا ۔۔۔۔ حمنہ کی بات کو سمجھنے کے بجائے وہ الٹا اس پر ہی برس رہا تھا پورا دن وہ پریشان رہی تھی پہلے اس ہاسپٹل میں ہونے والی ہیرا پھیریوں سے انجان تھی ۔۔۔۔ بس کبھی کبھی آپریشن کرنے ہی آتی تھی اور پھر واپس چلی جاتی تھی ۔۔۔۔لیکن اب بہت سی باتوں کو جان چکی تھی اور مزید بھی جو کچھ جان رہی تھی دل کا خلجان بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔
اب تک جو کمائی اس گھر میں آ رہی تھی اس میں محنت ضرور شامل تھی لیکن وہ تھی سراسر ناجائز ۔۔۔۔۔
صبح کی او پی ڈی سے فارغ ہوتے ہوئے اسے دوپہر ہو جاتی تھی اور لنچ وہ اسی ہاسپٹل میں کرتی تھی جو کہ حسن کمال کے کہنے پر خاص طور پر بہترین بنایا جاتا تھا اور صرف انکے گھر کے افراد ہی تناول فرماتے تھے ۔۔۔ ۔۔۔ بھوک ہونے باوجود ایک نوالہ حمنہ کے اندر نہیں اترا تھا ۔۔۔۔ سچ حقیقت کی پھانس اگر گلے میں لگ جائے تو آنکھوں دیکھی مکھی نہیں نگلی جاتی ۔۔۔۔ انجانے میں کھایا گیا زہر بھی کبھی کبھی اثر نہیں کرتا ۔۔۔۔ دل کی بے چینی کا یہ عالم تھا کہ سوج بوجھ ختم ہوتی معلوم ہو رہی تھی اب تک وہ کیا کھا رہی تھی ایک مشتبہ رزق ؟ جس کے حلال ہونے میں احتمال تھا ۔۔۔۔۔ اس نے کھانا کا ٹفن ویسے ہی پیک کر دیا انٹر کام بجا کر کہا کہ وہ کھانا لے جائیں اسے بھوک نہیں ۔۔۔۔ اب اسے اپنے کلینک جانا تھا لیکن اس نے کمپوڈر کو کال کر کے کہہ کہ وہ آج نہیں آئے گی ۔۔۔۔
” اعجاز ایک پیپر کر لکھ کر باہر لگا دو کہ آج کلینک نہیں کھلے گا ” کمپوڈر کو انسٹرکشن دے کر اس نے موبائل بند کر دیا ۔۔۔۔ ہاسپٹل سے باہر نکل کر وہ آپ ی گاڑی میں بیٹھ گئ اور قریبی ایک مدرسے میں چلی گئ ۔۔۔ جہاں مقتی اور عام موجود ہوتے ہیں اور مسلے مسائل سے آگاہ کرتے ہیں ۔۔۔۔ اسکاف وہ پہلے سے پہنتی تھی بس نقاب کبھی نہیں کیا تھا ۔۔۔۔
“مجھے مفتی صاحب سے ملنا ہے ” حمنہ نے باہر کھڑے چوکیدار سے کہا
“جی آئیے “چوکیدار اسے اندر لے گیا ایک بہت بڑے سے گراؤنڈ سے ہوتے ہوئے وہ ایک کمرے کی طرف لے گیا جہاں دو تین خواتین بیٹھیں تھیں ۔۔۔ اور ایک پردہ بیچ میں حائل تھا دوسری جانب ایک مردانہ آواز سے سمجھ گئی کہ مفتی صاحب خواتین کے مسائل کا حل پردے کی اوٹ سے بتانے کے قائل ہیں وہ بھی وہاں بیٹھ گئ ۔۔۔۔ چند ہی خواتین تھی گھر کے مسلے مسائل سے پریشان کچھ کو انہوں نے وظائف بھی پڑھنے کے لئے بتائے ۔۔۔ پھر وہ چلی گئیں صرف حمنہ ہی رہ گئ تھی
” جی کوئی مستورات باقی ہے تواپنا مسلہ بتائے ” ایک مردانہ آواز گونجی تھی
“جی ” حمنہ نے دھیرے سے کہا
” جی بی بی فرمائیے “
” مجھے کچھ پوچھنا ہے آپ سے”
“جی جی سن رہا ہوں کہیے بی بی “
” میں ایک ڈاکٹر ہوں۔۔۔ میرے میاں بھی ڈاکٹر ہیں ” حمنہ نے بات شروع کی اور ساری حقیقت سے انہیں آگاہ کر دیا جووہ اب تک جان پائی تھی
” جی بی بی قیامت کے اثار ہیں ہر طرف یہی اندھیر چھائی ہے ۔۔۔۔ یہ تو آپ پوچھنے بھی آ گئیں ورنہ لوگ کہاں حلال حرام کی پروا کرتے ہیں ۔۔۔۔
” میں بہت بے چین ہوں میرے والد نے مجھے کبھی حرام نہیں کھلایا شادی کے بعد ۔۔۔ پہلے توانجان تھی لیکن اب جان کر کیسے ایسا رزق کھاسکتی ہوں جس کے ناجائز ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور میراشوہر۔ بھی اپنا رستہ بدلنے کو تیار نہیں ” حمنہ کے آواز میں کرب ارچغم کے آمیزش تھی
” محترمہ آپ نے ابھی سمجھانے کی ابتدا کی ہے ۔۔۔
اس لئے آپ کو یہ مشورہ توہرگز نہیں دے سکتا ۔۔۔ یہ پہلی ہی باری میں ہمت ہار جائیں ممکن ہے کہ جو بات وہ آج نہیں سمجھ رہا کل کو تسلیم کر لے ۔۔۔ لیکن چونکہ آپ ماشااللہ سے خود۔ بھی ڈاکٹر ہیں اپنے روز گار کا بندوبست کر سکتی ہیں اس لئے آپ کھانا پینا اپنے پیسوں سے لیکر کھا لیں ۔۔۔۔ دیکھیں رشتوں کو مہلت دینی چاہیے یک مشت فیصلے پچھتاوے کا سبب بنتے ہیں۔۔۔۔۔ اپنے رشتے کو وقت دیں پیار اور محبت سے اپنے شوہر کو سمجھائیں۔۔۔۔
نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:وہ گوشت جنت میں نہ جائے گا جس کی پرورش حرام مال سے ہوئی ہو اور ایسا حرام گوشت دوزخ کا زیادہ مستحق ہے۔(ترمذی،ج 2،ص118، حدیث: 614، مشکوٰۃ،ج 2،ص131، حدیث:2772) (2)فرمایا:”حرام خور کی دعا قبول نہیں ہوتی۔“(مسلم، ص393، حدیث:2346) (3)فرمایا:”حرام مال کا کوئی صدقہ قبول نہیں کیا جائے گا۔‘‘(مسلم،ص115 حدیث: 224) (4)فرمایا:”رشوت لینے والا، دینے والا جہنمی ہے۔“(معجم اوسط،ج 1،ص550،حدیث:2026) (5)فرمایا:رشوت دینے والے اور لینے والے پر اللہ کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے لعنت بھیجی ہے۔ (ابوداؤد،ج 3،ص420،حدیث:3580) (6)حرام کھانے والے کی عبادت و نماز قبول نہیں ہوتی۔(اتحاف السادۃ المتقین،ج 452،ص6) (7)تجارت میں جھوٹ بولنے والے اور عیب چھپانے والے کے کاروبار سے برکت مٹادی جاتی ہے۔(بخاری،ج2،ص14،حدیث:2082) (8)مزدور کی مزدوری مارنے والے کے مقابلے میں قیامت کے دن نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس مزدور کی حمایت میں ظالم کے خلاف کھڑے ہوں گے۔(بخاری،ج2،ص52،حدیث:2227)
حرام كمائی کی صورتیں:باطل اور ناجائز طریقے سے دوسروں کا مال کھانا حرام ہے اور اس میں حرام خوری کی ہر صورت داخل ہے خواہ لُوٹ مار کرکے ہو یا چوری، جُوئے، سُود، رشوت میں سے کسی طریقے سےیا جھوٹی گواہی دے کرگواہ نے کمایا یا جھوٹا فیصلہ دے کر قاضی و جج نے مال پانی وصول کیا یا جھوٹ کی وکالت کرکے وکیل نے فیس لی یا یتیم، بیوہ، غریب امیر الغرض کسی کے مال میں خیانت کرکے، ڈنڈی مار کر یا کسی بھی طرح دھوکہ دے کر مال ہتھیا لیا یا حرام تماشوں جیسے ناٹک، فلموں، ڈراموں، گانے بجانے کی اجرت وصول کی، یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کا معاوضہ ہو یا بِلااجازت ِ شرعی بھیک مانگ کر رقم لی ہو۔ یا اپنے پیشے کا ناجائز استعمال کر کے بلاوجہ کی اجرت لی ہو ۔۔۔ جیسا ڈاکٹر حضرات خواہ مخواہ مریضوں کو بیماری کے خوف حراس ۔یں مبتلہ کر کے مہنگے ٹیسٹ کرواتے ہیں اور لباٹری سے انہیں اس کام کے پیسے ملتے ہیں ۔۔۔ یا بلاوجہ بیماریوں کو طول دے کر بار بار انہیں آنے پر مجبور کیا جائے تا کہ فیس کی صورت ۔میں پیسے وصول کیے جائیں ۔۔۔ یہ سب ممنوع و حرام اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو حلال رزق کھانے اور حرام رزق سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
. اسلام نے جہاں اپنی بیش بہا عطیات دیے ہیں ان میں سے ایک اس کا انتہائی لطیف، نفیس اور
پاکیزه “نظام اکل و شرب” ہے۔
جس کی حساسیت کا اندازہ وہی شخص کرسکتا ہے جس کے سامنے اس حوالے سے قرآن و سنت کے
احکامات پوری طرح واضح ہوں۔ قرآن حکیم میں ایک
جگہ تمام اہل ایمان کو اور دوسری جگہ انبیا کو اپنی ماکولات کو طیب“ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چند آیات
و احادیث ملاحظہ ہوں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
یا ایھا الناس كلو مما في الارض حلالا طيبا ولا تتبعوا
۱۶۸) خطوات الشيطن انہ لکم عدو مبين. (البقرة:
ترجمہ: اے لوگوں جو چیزیں زمین میں موجود ہیں اس میں سے حلال پاک چیزوں کو کھاؤ اور شیطان کے قدم بقدم مت چلو، یقینا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ دوسری جگہ ارشاد ہے۔
” یا ایها الرسل كلوا من الطيبات و عملوا صالحا انى بما ۵۱)تعملون علیہم (المومنون:
ترجمہ: اے پیغمبروں پاک چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو یقیناً میں تمہارے اعمال خوف واقف ہوں۔
۔ حدیث شریف میں ہے کہ
طلب الحلال فریضۃ بعد الفریضۃ۔ طلب الحلال واجب على كل مسلم (الجامع الصغير
۳/۱۳۱)سیوطی ترجمہ: یعنی طلب حلال ہر مسلمان پر فرض واجب ہے۔ ایک اور جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد
ان الله طيب لا يقبل الاطيبا و ان اللہ تعالیٰ امر المومنین بما امربہ المرسلین فقال يا ايها الرسل كلوا من الطيبات و اعلمواصالحا۔ الصحیح مسلم ،کتاب الزكواة، واخرجہ الترمذی فی) (۶۳،باب: ۲التفسیر، سورة ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ پاک ہے پاک کے علاوہ کسی چیز کو قبول ہی نہیں کرتے اور اللہ تعالی نے مومنوں کو اس چیز کا حکم فرمایا ہے جو حکم اپنے رسولوں کو دیا ہے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) فرمایا: اے رسولوں پاک چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل
کرو۔ اس حدیث کی تشریح میں علما نے لکھا ہے کہ کوئی بھی عمل حلال کھانے کے علاوہ دوسرے طریقہ سے نہ پاک ہوتا ہے اور نہ ہی قبول ہوتا ہے۔ جبکہ حرام کھانے سے اعمال فاسد ہوجاتے ہیں اور قبولیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔۔۔۔ حلال رزق کاحصول بھی حیا کے زمرے میں آتا ہے اور حیا نصف ایمان ہے “
بی بی آپ اپنے شوہر کو سمجھائیں شاید کوئی بہتر صورت نکل آئے ۔۔۔ ورنہ دوسری صورت تو پھر ۔۔۔ علیدگی ہی ہے “
حمنہ اٹھ کر وہاں سے چلی گئ ۔گاڑی میں بیٹھ گئ۔۔۔ ۔۔۔ اپنے پرس کو کھول کر دیکھا تو ہزار کے کئ نوٹ تھے لیکن اصفر کے دیے ہوئے اے ٹی ایم کارڈ تھا لیکن اکاؤنٹ ۔۔۔میں موجود رقم اصفر کی بھری ہوئی تھی ۔۔۔۔ اپنے تن پر پہنا لباس مہنگے برینڈ کا تھا لیکن پہلی بار چبھنے لگا تھا ۔۔۔ جیسے اس میں کانٹے سے لگ گئے ہوں کانٹے لگ گئے ہوں ۔۔۔۔ گاڑی ڈرائیور کرتے ہوئے اسے گاڑی کسی اجنبی کی لگی تھی کیونکہ وہ اصفر نے لیکر دی تھی ۔۔۔ وہاں سے وہ سیدھا اپنی والدہ کے گھر گئ تھی سب سے پہلے اپنے کمرے میں جا کر اپنی الماری سے اپنا ایک سادہ لباس نکال کر پہنا کھانا بھی وہیں کھایا ۔۔۔۔ کچھ دیر وہیں گزاری آگے کے لائحہ عمل کے بارے میں سوچنے لگی ۔۔۔۔
کیا ہو گا جب وہ صبح ناشتے کے ٹیبل پر موجود نہیں ہو گئ یا ڈنر ساتھ نہیں کرے گی روز روز کتنے بہانے تراشے گی کیسے یہ سب فیس کرے گی ۔۔۔۔
کاش کے شادی کے فیصلے پر اصفر اور اسکے گھر والوں کے پریشر میں آنے کے بجائے وہ سکون سے سوچ کر تحقیق کر کے فیصلہ کرتی تو شاید یہ نوبت نا آتی ۔۔۔۔ اور اب تو دل کا بھی یہ عالم تھا اصفر کے بغیر زندگی ادھوری لگنے لگی تھی ساری عمر دل کو یہ سمجھاتے گزری تھی کہ عورت کی محبت اسکے شوہر کے لئے مخصوص ہوتی ہے ۔۔۔۔ اس لئے جب اصفر سے شادی ہوئی تو سارے بندھن جیسے کھلتے چلے گئے تھے ۔۔۔۔ پھر اسکی محبت نے جیسے حمنہ کو بری طرح جکڑ لیا تھا ۔۔۔۔ اگر اصفر اس کے بغیر چار دن نہیں گزار سکتا تھا تو چین تو اسے بھی اصفر کے بغیر نہیں آتا تھا ۔۔۔۔ کئ آنسوں آنکھوں سے ٹوٹ کر گرنے لگے تھے ۔۔۔ پانچ سال اسکی سنگت میں ایسےگزرے تھے کہ دنیاوی لحاظ سے اسکی زندگی آئیڈیل تھی محبت کرنے والا شوہر ۔۔۔۔پیسے کی ریل پیل روایتی سسرال نہیں تھا آنے جانے کی آذادی تھی۔۔۔ ڈاکٹر پیشے کو لیکر سسرال والوں کی روک ٹوک نہیں تھی بلکہ اس معاملے میں وہ لوگ معاون اور مدد گار ہی ثابت ہوئے تھے ۔۔۔ لیکن دینی لحاظ سے ۔۔۔ وہ گناہ کی مرتب ہو رہی تھی ۔۔۔۔ نا جائز پیسوں کے دلدل میں دھنس رہی تھی ۔۔۔۔
اور یہ گناہ کوئی چھوٹا تو نہیں تھا ۔۔۔۔ آج وہ اکیلی تھی ۔۔۔۔ لیکن کل کو اگر اصفر نا مانا تو بچوں کو کیسے اس ماحول سے دور رکھ سکتی تھی ۔۔۔ بلکہ اصفر کے ساتھ بھی کیسے رہ سکتی تھی۔۔۔۔۔
ذہن جیسے تھکنے لگا تھا معاوف ہونے لگا تھا ۔۔۔۔اور دل کسی ضدی بچے کی طرح مچلنے لگا تھا ۔۔۔ دل کہاں عقل کی دلیلیں سمجھتا ہے ۔۔۔۔ وہ تو اصفر کی جدائی پر ہی بری طرح سے اسے دہائی دے رہا تھا ۔۔۔۔ کل تک حمنہ کو بچہ نا ہونے کا قلق اس لئے ڈرا رہا تھا کہ کہیں اصفر اس سے جدا نا ہو جائے اور آج جیسے اپنے رشتے کو لیکر پریشان تھی ۔۔۔
اسکی والدہ جب اسکے کمرے میں آئیں تو وہ آنسوں پوچنے لگی لیکن وہ دیکھ چکی۔ تھیں اس لئے بے چینی سے اسکی طرف بڑھیں
“حمنہ تم رو رہی ہو بیٹا ۔۔۔ کیا بات ہے ” حمنہ کے پاس بیٹھ کر وہ اس کے آنسوں پونچنے لگیں ماں کا لمس تھا کہ ضبط کے بندھ ٹوٹے تھے ۔۔۔ انکے ساتھ لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی ۔۔۔۔۔۔
“حمنہ میرے بچے کیا بات ہے ۔۔۔ کیوں اتنا رو رہی ہو اصفر نے کچھ کہہ دیا ہے ” اسے سینے سے لگائے وہ اس سے پوچھنے لگیں وہ نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔
” پھر کیا ساس نے کوئی کڑوی بات کر دی ہے یاسسر نے کچھ کہہ دیا ہے “حمنہ کی والدہ کے شبہات بھی عام سی ماؤں جیسے تھے ۔۔۔ جو شادی شدہ بیٹی کو روتا دیکھ کر سب سے پہلے ذہن میں آتے ہیں لیکن ہر بار وہ روتے ہوئے نفی میں سر ہلا رہی تھی ۔۔۔۔۔
” پھر کیا بات ہے “
” تھک گئ ہوں امی ۔۔۔۔ بہت زیادہ تھک گئ ہوں ۔۔۔۔۔ ” بس یہی ایک بہانہ تھا کیا بتاتی کہ کہاں جا کر مسافت نے تھکن سے چور کیا ہے
” تم نے ہی اتنی ذمہ داریاں لے رکھیں ہیں ۔۔۔ چلو اب چپ ہو جاؤں آرام کر لو کچھ دیر ۔۔۔ “
“امی میں کچھ دن یہاں رہنا چاہتی ہوں “حمنہ جیسے کو آگے کے لئے تیار کرنا چاہتی تھی
” ہاں تو رہ لو بیٹا اصفر سے میں کہہ دونگی کہ تمہیں رہنے دے ” اسکی والدہ نے اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں ۔میں لیکر اسکے ماتھے پر بوسہ دے کر کہا ۔۔۔ وہ اپنے بیڈ پر لیٹ کر سو گئی اس وقت آرام کی ہی سخت ضرورت تھی ۔۔۔ اسکی والدہ اس کا موبائل باہر لے گئیں ۔۔۔ اصفر کی کال آئی تو انہوں۔ نے ہی بتایا کہ حمنہ کی طعبت ٹھیک نہیں سو رہی ہے ۔۔۔۔ وہ تو سنتے ہی پریشان ہوا تھا ۔۔۔
” امی کیا ہوا ہے اسے “
” کچھ نہیں بیٹا بس تھک گئ ہے ۔۔۔۔ کچھ دن رہنے دو سے میرے پاس کچھ آرام ملے گا تو فریش یو جائے گی “
” جی تو کوئی بات نہیں رہ لے ۔۔۔ اچھا امی جب بھی وہ اٹھے اسے کہیں مجھ سے بات کرے ” اصفر نے فکرمندی سے کہا۔۔۔۔
چار دن حمنہ نے خود کو سوچنے سے روکے ہی رکھا تھا ۔۔۔ جب بھی اس معاملے میں سوچنے لگتی دماغ کی طنابیں کھچنے لگتیں۔۔۔۔۔ چوتھے دن اصفر وہاں موجود تھا پہلی بار اسے دیکھ کر دل مٹھی میں جکڑا ہوا محسوس ہو تھا پہلی بار اسکی آنکھوں کی وارفتگی بری لگی تھی ۔۔۔۔۔ اسکی آنکھوں بے تابیوں سے خوف محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔ دروازے پر ایستادہ کیے وہ پریشانی کے عالم میں اسے تکے جارہی تھی
” جانے من اندر آوں یہاں یہیں لے کر بھاگ جاؤں تمہیں ” اس نے اپنا چہرہ اسکے چہرے کے قریب کر کے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔ ایسا وہ اکثر مزاق ۔میں کہہ دیا کرتا لیکن اس بار ان لفظوں میں اجنبیت کا احساس ہوا تھا ۔۔۔ وہ جھٹ سے پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔۔۔۔ وہ حمنہ کے یوں ہٹنے پر بے ساختہ ہنسا تھا ۔۔۔
” تم تو ایسے گھبرا رہی ہو جیسے میں کوئی غیر ہوں ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ آگے بڑھ گیا اسکی والدہ کی خیریت پوچھنے لگا ۔۔۔ کھانا کھاتے ہی گھڑی دیکھنے لگا
” حمنہ جلدی سے تیار ہو جاؤں ۔۔۔ دس بجے کے بعد ڈیڈ ناراض ہوتے ہیں ۔۔۔۔ “
“حمنہ کا جی چاہا کہ جانے سے انکار کر دے ۔۔۔ لیکن وہ کہاں اس کے انکار کو اہمیت دیتا تھا لینے آیا تھا تو لئے بنا تو واپس کبھی نہیں جاتا ۔۔۔ پورے راستے بس وہی باتیں کرتا تھا ۔۔۔۔ چار دن میں کتنی بار اسے یاد کیا تھا کتنا مس کیا تھا ۔۔۔ وہ بس کسی بے جان بت کی طرح بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔ گھر پہنچ کر بھی ۔۔۔ وہ کمرے میں جاتے ہی سونے کے لئے لیٹ گئ ۔۔۔۔ جب تک اصفر کمرے میں آیا وہ سوچکی تھی ۔۔۔ اس لئے اس نے بھی اسے جگایا نہیں دوسرے دن ناشتے کے ٹیبل پر وہ چپ چاپ بیٹھی تھی ۔۔۔ پورا ٹیبل مختلف قسم کی اشیاء سے بھرا پڑا تھا لیکن اسکی جیسے بھوک مر چکی تھی ۔۔۔۔
“کیا بات ہے ناشتہ نہیں کر رہی تم ” اصفر نے اسے ہاتھ پر ہاتھ دھرے دیکھا تو پوچھا
” مجھے بھوک نہیں ہے ہاسپٹل جا کر کچھ کھا لوں گی ” حمنہ نے بہانہ بنایا اور وہاں سے اٹھ گئ ہاسپٹل میں بھی ہاسپٹل کی عام سی کینٹین میں جا کر وہاں بیٹھ کر اپنے پیسوں سے چائے اور کیک منگوا کر کھایا ۔۔۔۔
حسن کمال کے خاص کچن سے کچھ بھی نہیں منگوایا جہاں صرف انہیں لئے پکتا تھا لنچ کے ٹائم بھی اس نے لنچ کرنے سے منع کر دیا ۔۔۔۔۔ رات کو اصفر کے ساتھ واپسی پر اس۔ نے بات شروع کی
” اصفر ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے میری منتھلی تنخواہ کتنی بنتی ہے ؟ ” حمنہ کے سوال پر برجستہ اصفر نے اسکی جانب دیکھا تھا
” کیوں ‘”
” ظاہر ہے ۔میں بھی ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کرتی ہوں ۔۔۔ اس لئے جاننا چاہتی ہوں “
” تمہں پیسے چاہیے حمنہ۔۔۔۔ تو اپنا اے ٹی ایم یوز کر لو ۔۔۔۔ تمہارے اکاؤنٹ میں دو تین لاکھ تو موجود ہو گا ۔۔۔۔۔ اگر اسے ذیادہ کی ضرورت ہے تو بتا دو مجھے میں تمہارے اکاؤنٹ میں ڈلوا دیتا ہوں لیکن اتنے پیسے کرنے کیا ہیں تم نے شاپنگ کا تو تمہیں ذرا شوق نہیں ہے میں ہی تمہیں زبردستی
شاپنگ کروا دو کروا دوں ۔۔۔ ” اصفر نے نارمل انداز سے جواب دیا
مجھے صرف یہ جاننا ہے کہ ڈاکٹر مبشر منتھلی کتنی فیس لیتے تھے “
” وہ پینتیس سے چالیس ہزار ۔۔۔کیوں؟ “
” مطلب اگر میری جگہ جرنل فزیشن آئے تو اسکی تنخواہ پینتیس سے چالیس ہزار ہو گئ”
“ہاں اتنی تو ہوگی “
“اصفر مجھے بھی ہر ماہ اتنے ہی چاہیے تنخواہ کی مد میں” حمنہ کی بات پر اس نے نافہمی انداز سے لی تھی
” میں سمجھا نہیں حمنہ جب تمہارے اکاؤنٹ میں اچھی خاصی رقم موجود ہے ۔۔۔ اسکے علاؤہ بھی جتنے تمہں چاہیے میں دینے کو تیار ہوں تو تنخواہ کی بات بیچ میں کہاں سے آ جاتی ہے” وہ اسکی بات پر کچھ الجھن کا کار ہوا تھا
” اصفر مجھے صرف تنخواہ چاہیے ۔۔۔ جو رقم میرے اکاونٹ میں ہے وہ بے شک واپس لے لیں ” یہ بات اصفر لگی تو عجیب تھی لیکن وہ پھر بھی نارمل انداز سے بات کو ٹال گیا
” اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔ کماؤں بیوی بننا چاہتی ہو ۔۔۔ بن جاؤں اچھی بات ہے شاپنگ بھی اپنے پیسوں سے کرنا ۔۔۔ میں بلکل پیسے نہیں دونگا ” وہ ہنسی مزاق میں بات ٹال گیا ۔۔۔۔ گھر آکر بھی وہ ڈنر کے لئے نیچے نہیں اتری تھی ۔۔۔۔۔
کریمن بوا بلانے بھی آئیں تو اس۔ نے بھوک نا ہونے کا بہنانہ بنا دیا ۔۔۔۔ اپنے پرس سے ایک منرل واٹر کی بوتل نکال کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور پرس سے بسکٹ نکال کر کھانے لگی ۔۔۔ چند بسکٹ کھا کر پانی پینے سے اسکی بھوک کافی حد تک مٹ چکی تھی ۔۔۔۔ اپنے گھر سے آتے ہوئے وہ اپنے چند جوڑے ساتھ لیکر آئی تھی جو اسکی والدہ نے سلوا کر اسکے لئے رکھے تھے کئ بار اس سے کہہ چکیں تھیں کہ وہ لے جائے لیکن وہ ہمیشہ ٹال جاتی تھی اس بار لے آئی تھی اور وہی پہن بھی رہی تھی اب بھی ایک سوٹ پہن کر اپنے بال کھول کر برش کر رہی تھی جب اصفر اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔
” کھانے پر کیوں نہیں آئی تم ” آتے ہی اس نے پوچھا تھا
“بھوک نہیں تھی “
” تم ڈائٹ پروپر نہیں لے رہی کیا بات ہے ۔۔۔ “وہ اسکے قریب آکر پوچھنے لگا
” ایسی بات نہیں بس آج بھوک نہیں تھی ” حمنہ نے بالوں کو لپیٹ کر کیچر لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔
لیکن اگلے ہی لمحے بال پھر سے کیچر سے آذاد ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
اصفر نے کیچر اتار کر ڈرسنگ پر پھنکا تھا ۔۔۔ پھر اسکے قریب آنے لگا لیکن اس بار وہ پیچھے ہٹنے لگی تھی ۔۔۔۔ پہلی بار اسکی قربت کاسوچ کر گھبراہٹ سی محسوس ہونے لگی تھی
” بہت ظالم ہو تم چار دن بعد گھر آکر کیا یوں بے مروتی برتے ہوئے سو جاتے ہیں ۔۔۔ کل تو بخش دیا تھا میں نے تمہیں ۔۔۔۔ لیکن آج کوئی چانس نہیں ہے ۔۔۔ ” اسکی باتیں۔ ہر بار جیسی تھی لیکن حمنہ کو اس بار خوفزدہ کر رہیں تھیں ۔۔۔۔
“اصفر پلیز میں ایسا کچھ نہیں چاہتی ” وہ ناگواری سے بولی
” لیکن ۔میں تو بہت کچھ چاہتا ہوں ۔۔۔۔ ایک تو اب تم آئے دن میکے جانے لگی ہو ۔۔۔ اور اب بھی میری بے قراریاں بڑھا کر دامن بچانا چاہتی ہو ۔۔۔۔ نو سوئٹ ہارٹ ” یہ کہتے ہی وہ اسے حصار ۔میں لے چکا تھا ۔۔۔ لیکن وہ رونے لگی تھی اسے پیچھے ہٹنے لگی ۔۔۔ اصفر اس کی اس قسم کی کیفت سے گھبرا کر پیچھے ہٹا تھا ایسا پہلی بار ہوا تھا ۔۔۔۔ حمنہ اس سے کئ قدم پیچھے ہٹی تھی۔۔۔۔ چہرے پر خوف تھا بدحواسی تھی ۔۔۔۔
“حمنہ آر یو آل رائٹ ” اسکے بے تحاشہ روتے دیکھ وہ بھی پریشان ہوا تھا اس سے پہلے کہ وہ اسکے قریب آتا وہ چلا کر بولی
” خدا کے لئے میرے قریب مت آئیے گا ۔۔۔۔ دور رہیں مجھ سے ” روتے ہوئے وہ جیسے خود میں نہیں تھی ۔۔۔
” او کے ۔۔ریلکس ہوا کیا ہے تمہیں یار طعبیت تو ٹھیک ہے نا ” وہ تو ہونا بنا اسے دیکھ رہا تھا
” نہیں میری طعبیت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ مجھے چکر آ رہے ہیں میں سونا چاہتی ہوں ” سمجھ نہیں پا رہی تھی کیا کہے کیا نا کہے ۔۔۔۔
“ٹھیک کے تم لیٹو آرام کرو ۔۔۔۔ ” وہ دوبارہ اس کے قریب نہیں ہوا تھا ۔۔۔لیکن اسکے رویے سے پریشان ضرور ہو گیا تھا ۔۔۔۔ صبح بھی جب وہ اٹھی تو نارمل تھی لیکن ناشتہ نہیں کیا تھا ۔۔۔ اصفر اب اسکی روٹین نوٹ کرنے لگا تھا ۔۔۔ وہ ہاسپٹل آتے ہی وہاں کی کینٹین سے لیکر چائے اور کیک کھا رہی تھی اسے دور سے دیکھ کر وہ وہی سے پلٹ گیا دوپہر میں بھی اس نے لنچ سے انکار کر دیا تھا ۔۔۔ پھر شام میں وہ اپنے کلینک کے لئے نکل گئ اس وقت اصفر بھی فری ہوتا تھا اس لئے اسکی گاڑی کا پیچھا کرنے لگا ۔۔۔۔ اس۔ نے ایک ریسٹورنٹ سے برگر منگوا کر کھایا اور پھر اپنے کلینک چلی گئ ۔۔۔۔
اصفر واپس اپنے ہاسپٹل آیا گیا تھا ۔۔۔۔ سوچنے یہ لگا تھا کہ وہ ہاسپٹل میں وہ کیوں نہیں کھا رہی تھی جو خاص اسی کی فیملی کے لئے بنایا جاتا تھا ۔۔۔ پھر سوچا کہ شاید برگر کھانے کا موڈ ہو گا لیکن ڈنر پر وہ آج بھی موجود نہیں تھی ۔۔۔ اس بار وہ خود اسے بلانے کمرے گیا ۔۔۔
وہ بیڈ پر ہی بیٹھی ہوئی تھی وہ سیدھا اس کے پاس گیا اس کا ہاتھ پکڑا اور پل میں اسے کھڑا کیا
” چلو نیچے اور سب کے ساتھ ڈنر کرو ۔۔۔ “
” اصفر مجھے بھوک نہیں ہے ہاتھ چھوڑیں میرا “
” تم بھوکی رہو گی تو کیسے بھوک لگے گی تمہیں کھاؤں گی جبھی تو بھوک بھی لگے گی ہو کیا گیا ہے تمہیں ” ۔۔۔ اپنے ساتھ وہ اسے ڈائنگ تک لایا تھا ۔۔۔ مجبورا اسے بیٹھنا پڑا تھا ۔۔۔۔۔ اصفر نے اسکی پلیٹ میں قیمہ ڈالا اور روٹی اسکے ہاتھ میں تھما دی
“کھاں اسے ” دعا نے نا گوار انداز سے اسے دیکھا اور پھر اپنے کھانے کی طرف متوجہ ہو گئ
حمنہ نے ہچکچاتے ہوئے اس سے روٹی پکڑی تھی ۔۔۔
با مشکل نوالہ توڑ کر کھانے لگی ۔۔۔
” ابا یہ حلال روزی اور حرام روزی میں کیا فرق ہوتا ہے ۔۔۔ ” بچپن میں دسترخواں پر بیٹھے اپنے باپ کے ساتھ بیٹھ کر چٹنی سے روٹی کھاتے ہوئے اس نے پوچھا تھا
” حرام کی کمائی وہ ہوتی ہے جسے چوری کر کے حاصل کیا جائے کس کا حق مارا جائے ۔۔۔ یا جھوٹ بول کر اپنا عیب دار مال بیچ کر پیسہ وصول کرنا ۔۔
“۔ اس کا مطلب تو صرف چور ہی حرام مال کھاتے ہیں “
” چوری بھی تو کہیں طرح کی ہوتی ہے میری گڑیا ۔۔۔ جیسے ڈاکٹر کو ہی لے لو اگر وہ مریض سے جھوٹ بولے کے مجھے شک ہے کہ اپکو بڑی خطرناک بیماری ہے اس لئے یہ ڈھیر سارے ٹیسٹ کروائیں ۔۔۔۔ اور فلاح جگہ سے ہی کروائیں ۔۔ وہاں کی رپورٹس ٹھیک ہوتی ہے ۔۔۔ حالانکہ کہ وہ اچھی طرح سے جانتا کو کہ وہ مریض کسی بھی خطرناک بیماری میں مبتلہ بھی نہیں ہے ۔۔۔ لیکن اس لیباٹری سے اسے ٹیسٹ کروانے پر پیسے ملتے ہوں تو یہ بھی چوری ہے اسی طرح ڈاکٹر مریض کا مکمل علاج کرنے کے بجائے اسے ایسی دوائیں دے کے جس وہ دھیرے دھیرے ٹھیک ہو اور مریض کو کئ مہنے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑے اور اسکی فیس بھی بھرنی پڑے حالانکہ ڈاکٹر یہ جانتا ہو کہ وہ چار دن کی دوا سے مکمل صحت یاب ہو سکتا ہے لیکن بس اپنے پیسے بنانے کے چکر میں اسے ہلکی دوا پر لگائے رکھے تو ڈاکٹر کی یہ کمائی بھی نا جائز ہے ۔۔۔
تمہیں ڈاکٹر کی مثال اس لئے دے رہا ہوں حمنہ کہ تم نے بڑی ڈاکٹر بننا ہے ۔۔۔ اگر تمہیں اچھی طرح پتہ ہو گا تو تم یہ غلطی نہیں کروں گی
” ابا کیا حلال روٹی اور حرام روٹی کھانے سے ذائقے سے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ حلال کی ہے اور یہ حرام کی ۔۔کیا پہچان ہے اسکی ابا “
” تم یہ چٹنی سے نوالہ کھاؤں ۔۔۔ کیونکہ یہ تمہارے باپ کی محنت کی سو فیصد حلال کمائی کا ہے ۔۔۔ اس سے بڑاسکون ملے گا تمہیں ۔۔۔ حرام کمائی سے کہاں چین ملتا ہے ۔۔۔۔ حوس بڑھتی ہی رہتی ہے ” سن باتوں سے
چوتھے نوالے پرجیسے حمنہ کا حلق بند ہوا تھا ۔۔۔ اسے لگا قیمے سے بڑی گندی اور ناقابل برداشت بو آ رہی ہے ۔۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی گلے میں آنسوں کا گولا ایسا پھنسا کہ نوالا لینا مشکل ہوا تھا ۔۔۔۔ ابکائی لیتے ہوئے وہ ٹیبل سے اٹھ گئ نیچے لاونج میں بنے واش روم میں بھاگی تھی ۔۔۔ منہ میں ڈالا نوالہ اس نے واش بیسن میں تھوکا تھا باقی کے نوالے حلق میں انگلی ڈال کر وومنٹ کی صورت میں نکالے تھے ۔۔۔ جب لگا کہ اب معدہ خالی ہو چکا ہے تو پر سکون ہوئی تھی باپ نے محنت کی تھی مزدوری کی تھی خون پسینے کی کھلائی تھی ۔۔ اپنا بڑا گھر تھا جو پرانے وقتوں سے باپ کی ملکیت تھا ۔۔۔ ایک اسٹور کی بڑی سی جگہ تھی جہاں اس کے والد نے راشن کی دکان کھول رکھی تھی ۔۔۔۔ کم نفع رکھ کر راشن بیچتا تھا ۔۔۔ گھر میں بہت خوشحالی کبھی نہیں دیکھی تھی بس جتنا نفع روز ہوتا گھر کے دیگر اخراجات نکال کر کبھی اچھا بھی پک جاتا تو کبھی دال چٹنی سے بھی گزارا کر لیا جاتا لیکن یہ یقین تھا کہ جو کھایا ہے وہ سو فیصد حلال کھایا ہے ۔۔۔
زندگی میں بہت آسائشیں نہیں تھی لیکن پھر بھی پر سکون نیند تھی ۔۔۔ اور اب یہاں ٹیبل پر مختلف قسم کے پکوان موجود تھے کمرے میں نرم گداز بیڈ تھااے سی اور دیگر سہولیات موجود تھیں ۔۔۔ گھر میں ہر آسائش تھی ۔۔۔ سواری کے لئے چار چار گاڑیاں موجود تھیں لیکن ایک بے چینی اور افراتفری سی ہر شخص کے اندر پائی جاتی تھی ۔۔۔روز ایک بھاگ دوڑ سی مچی رہتی تھی ۔۔۔۔ کہ جلد از جلد خوراک کھانے کے بجائے اندر انڈیلی جائے اور دس منٹ پہلے اپنی ڈیوٹی سنبھالی جائے تا کہ دو مریضوں کو زائد چیک کر کے جہاں روز کے ساٹھ ہزار چھاپے جاتے ہیں وہاں پینسٹھ ہو جائیں ۔۔۔۔ سب کچھ تھا زندگی۔ میں ۔۔نہین تھا تو سکون نہیں تھا اتنا بھی وقت نہیں کہ دو وقت کی روٹی سکون اور تسلی سے کھائی جا سکے ۔۔۔۔ بہتر سے بہترین کی طلب نے انسان کو اس کے اصل مقصد سے کوسوں دور کر دیا تھا ۔۔۔۔
حمنہ جب واش روم سے باہر آئی تو اصفر اور اسکی والدہ دونوں ہی باہر کھڑے تھے
” کیا بات ہے بیٹا طعبت تو ٹھیک ہے نا تمہاری “۔ اصفر کی والدہ حمنہ سے محبت سے پوچھ رہیں تھیں
” نہیں موم مجھے نہیں لگتا کہ یہ ٹھیک ہے ۔۔ چند دن سے کچھ نہیں کھا رہی ہے یہ ” اصفر نے فکرمندی سے کہا
“ادھر آؤں میرے پاس” وہ حمنہ کو تھامے سامنے صوفے پر لے گئیں کریمن سے جوس منگوایا
” میں دعا سے کہوں گی کہ کل تمہاراتفصلی چیک اپ کروا دے ۔۔۔۔ ” جو وہ سمجھ رہیں۔ تھی ایسا تو کچھ بھی نہیں تھا لیکن وہ چپ رہی
” بڑی خواہش تھی میری کہ اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ وقت گزاروںءلیکن دعا نے نے تو میرے ارمانوں کی پروا نہیں کی ۔۔۔۔ پھر جب تم اس گھر میں آئی تو یہ خواہش پھر سے جاگ اٹھی لیکن لگتا ہے پوری اب ہو جائے گی ” وہ بڑی محبت سے حمنہ کو دیکھ رہیں تھیں اصفر سامنے کھڑا نظریں۔ چرا رہا تھا ۔۔۔۔کریمن جوس لے آئی تھی لیکن حمنہ نے ایک گھونٹ نہیں پیا تھا یہ کہہ کر ٹال دیا کہ اسکی طعبیت گھبرا رہی ہے ۔۔۔ اوپر کمرے میں جاتے ہی وہ لیٹ کر سو گئی تھی ۔۔۔۔
رات کے کسی پہر اسے یہ لگا کہ اصفر اسکے بہت قریب ہے اس کے قربت کو محسوس کرتے ہی وہ بدک کر پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔ پھر لمپ کھول کر دیکھا تو وہ گہری نیند میں تھا ۔۔۔ شاید نیند میں ہی اسکے قریب آیا تھا ایک فطری سی بات تھی لیکن اسے بے چین کر گئ تھی ۔۔۔۔ وہ اٹھ کر سامنے صوفے پر لیٹ گئ ۔۔۔ سوچ یہ رہی کہ کب تک یہ سب چل سکتا ہے ۔۔۔ اصفر سے کھل کر بات کرنی چاہیے لیکن اس کے بعد ہو گا کیا وہ تو پچھلی بار۔ بھی سخت رویہ اپنائے ہوئے تھا کچھ سننے اور سمجھنے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔۔ ایک فیصلے پر تو اسے ہی پہچنا تھا ۔۔۔۔ کیسے سمجھائے اسے جو سننا بھی نہیں چاہتا ۔۔۔۔ سمجھائے بھی یا پھر راستہ الگ کر لے ۔۔۔۔
ذہن پھر سے الجھا تھا سامنے وہ شخص اسکی ہر اذیت سے بے خبر سو رہا تھا ۔۔۔ جس کے بغیر نا وہ رہ سکتی تھی اور ہی اس کے ساتھ رہ پا رہی تھی ۔۔۔۔ صبح جب اصفر کی آنکھیں کھلی تو بیڈ خالی تھا نظر سامنےصوفے پر پڑی تو حمنہ وہاں سوئی ہوئی تھی۔۔۔۔ آج وہ ہاسپٹل نہیں گئ تھی ۔۔۔۔ اصفر نے بھی ناشتے پر حسن کمال کو منع کر دیا کہ وہ ہاسپٹل سے آف لے رہا ہے ۔۔۔۔ حمنہ کا یوں اس سے کترانا گھبرانا گھر میں بھوکا رہنا باہر سے کھانا سب کچھ اسے الجھا رہا تھا ۔۔۔۔ حمنہ کو یہی لگا کہ وہ ہاسپٹل جا چکا ہے ۔۔۔۔ اپنے پرس سے اس نے ایک جوس پیک نکالا اور بسکٹ کھا کر جوس پی کر اپنی بھوک مٹائی تھی۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ گاڑی لیکر دوبارہ اسی مدرسے جا پہنچی ۔۔۔۔
اس وقت کمرہ خالی تھا مولانا صاحب کچھ دیر بعد کمرے میں داخل ہوئے تھے ۔۔۔
” جی بی بی فرمائیے “
“میں ڈاکٹر حمنہ ۔۔۔۔ آپ سے چند دن پہلے ملاقات کی تھی ۔۔۔”
” جی جی یاد آ گیا ۔۔۔۔ جی کہیے بات کی آپ نے اپنے شوہر سے ۔۔۔۔ “
“نہیں ۔۔۔ لیکن میں اب اپنا الگ سے کھا رہی ہوں ۔۔۔ لیکن سسرال میں رہ کر یہ میرے لئے مشکل ہے ۔۔۔ پھرمجھے نہیں لگتا کہ میرا شوہر اپنی روش سے باز آئے گا ۔۔۔ میں نے پہلے بھی انہیں سمجھانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ سننے کو تیار نہیں تھے ۔۔۔میں جانتی ہوں کہ وہ نہیں مانیں گئے ۔۔۔ میرا ان کے ساتھ رہنا مجھے اب ایک گناہ سا لگنے لگا ہے ۔۔۔ پریشان ہو کر رہ گئ ہوں ” ور رونے لگی تھی
” دیکھیں محترمہ ایک بار صاف ستھرے لفظوں میں بات کر کے دیکھیں ۔۔۔ کہہ دیں کہ جو وہ کر رہیں کہ وہ سراسر ناجائز ہے اور یہ بھی کہہ دیں کے اگر وہ باز نہیں آئے تو آپ علیدگی اختیار کر لیں گئ ۔۔۔۔ شاید کہ کوئی بہتر صورت حال نکل آئے “
” اور اگر وہ پھر بھی نا مانے “
“تو پھر خلع کا مقدمہ دائر کر دیجیے گا ۔۔۔۔ “
حمنہ چپ کی چپ سی رہ گئ ۔۔۔۔۔ اصفر باہر کھڑا سب سن رہا تھا اس کا پیچھا کرتے ہوئے یہاں تک پہنچا تھا ۔۔حمنہ کے بدلے ہوئے رویے کی وجہ سمجھ آ چکی تھی غصے سے خون ایسا کھول دیا تھا کہ مولوی صاحب پر ہاتھ ہی اٹھا لے جو نا جانے کون سے فتوے دے کر حمنہ کا دماغ۔ خراب کر رہے تھے ۔۔۔۔۔
لیکن۔ وہیں سے پلٹ گیا گاڑی کچھ دور کھڑی کی تھی حمنہ کچھ دیر بعد ہی باہر آئی اور واپس گھر چلی گئ ۔۔۔۔ کمرے میں جا کر یہی سوچنے لگی کہ اصفر سے بات کیسے کرے۔ کیسے اسے سمجھائے کہ غلط راستے کو وہ چھوڑ دے ۔۔۔۔ حسن کمال کے سامنے وہ اونچاسانس لینے سے بھی گھبراتا تھا کجا انکی بات سے اختلاف تو بہت دور کی بات تھی اس لئے میری بات تو کبھی مانے گا ۔۔۔۔ ابھی انہیں سوچوں میں غلطیاں تھیں جب اصفر اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔۔ بے وقت اسے دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی
” آپ اس وقت ۔۔۔”
” دل نہیں لگ رہا ہاسپٹل میں ۔۔۔۔ اس لئے واپس آ گیا ۔۔۔سوچا بہت دن ہو گئے بیوی کے ساتھ وقت نہیں گزارا کیوں نا آج کا دن بیگم کے نام کر دیا جائے ۔۔۔” دروازہ اس نے بند کر کے لوک کیا تھا ۔۔۔۔ حمنہ اٹھ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔ اس کے انداز سے سمجھ گئ تھی کہ وہ کیسا سے گزارنا چاہتا ہے
” میں سوچ رہی تھی کہ امی سے مل آؤں ” حمنہ نے راہ فرار تلاش کی تھی
” کیوں بھئ روز روز میکے جانے کا اتناشوق کس لئے ۔۔۔” وہ اسکے قریب آ کر پوچھنے لگا
” آ۔آج مجھے ۔۔۔۔۔ کلینک ذرا جلدی جانا ہے ۔۔۔۔ دو دن سے ذیادہ وقت نہیں دے پا رہی تھی ” حمنہ کچھ بدحواس سی ہونے لگی تھی دل کی دھڑکنوں نے الگ شور برپا کیا تھا پھر اصفر کی جانچتی نظروں۔ نے مزید پریشان کیا تھا
” جب میں تمہارے لئے ہاسپٹل چھوڑ کر آ سکتا ہوں تو تم کلینک کیوں نہیں۔ چھوڑ سکتی ۔۔۔۔ ” اسکے بلکل قریب کھڑا ہو کر وہ اسکے بالوں کی لڑ کو پیچھے کرتے ہوئے بولا حمنہ نے اپنے چہرے پر اسکے ہاتھ کا لمس پا کر بے ساختہ اس کا ہاتھ جھٹکا تھا ۔۔۔ اسے پہلے کہ وہ اس سے پیچھے ہٹتی اور ایک ہاتھ سے اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا
” کیا بات ہے ۔۔۔۔ اتنی بے رخی کیوں دیکھا رہی ہو ۔۔۔۔ ہمم ۔۔۔۔ جیسے میں کوئی غیر ہوں ۔۔۔ ” اسے اپنی گرفت میں لئے اسکی آنکھوں خوف دیکھ کر پوچھنے لگا اس وقت وہ کافی سنجیدہ لگ رہا تھا
“ایس۔۔۔ایسی کوئی بات نہیں ہے “حمنہ نے نظریں۔ چرائیں تھیں اپنا ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کچھ فاصلہ رکھنے کی کوشش کرنے لگی
” ایسی کوئی بات نہیں ہے تو پھر مجھے بھی تو اس بات کا احساس دلاؤ۔ کے ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔۔ “اس کو اپنے ساتھ لگائے وہ بولا تھا ۔۔۔ لیکن۔ وہ مسلسل پیچھے ہٹ رہی تھی ۔۔۔۔
” حمنہ یا تو مجھ سے دوری کی صاف صاف وجہ بتاؤں یا پھر مجھ سے ویسے پیش آؤں جیسے پہلے آتی ہو ۔۔۔۔ ” اس کے کان کے قریب ہو کر اس۔ نے کہا
” میں آپ کے ساتھ۔ نہیں رہ سکتی “
” کیوں “
” اصفر مجھے چھوڑیں پہلے “
” وجہ بتاؤں ۔۔۔ کیوں چھوڑو ۔۔۔۔ ” اپنی گرفت وہ اور بھی مضبوط کر کے پوچھنے لگا
” میرا دم گھٹ رہا ہے لیو می “
” اچھا۔۔۔۔ میری قربت سے کب سے تمہارا دم گھٹنے لگا جب سے اس مولوی نے خناس بھرنا شروع کیا تمہارے دماغ میں تب سے یا ایسا کوئی کیڑا پہلے سے تمہارے دماغ میں موجود تھا ” یک دم اسے اپنی گرفت مزید بڑھاتے ہوئے اس نے نہایت غصے سے کہا تھا
” حلال حرام جائز نا جائز ۔۔۔۔ کن چکروں میں ہو تم ہاں ۔۔۔۔ مجھ سے خلع لینے کا سوچ بھی کیسے لیا تم نے ۔۔۔۔ ایک بات میری بہت دھیان سے سن لو اور اچھی طرح سے سمجھ لو ۔۔۔ مجھ سے آذادی توتمہیں کبھی بھی کسی بھی صورت میں نہیں مل سکتی ۔۔۔۔ میں اب تک صرف تمہیں اپنی محبت دیکھائی ہے ۔۔۔۔ بہتر ہے کہ میری محبت ہی دیکھوں ۔۔۔۔ ورنہ تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ اپنی ضد میں کہاں تک جا سکتا ہوں میں ۔۔۔ کہیں کا نہیں چھوڑو گا تمہیں ۔۔۔ ” اس کے کان کے قریب وہ ایک زہر ہی تواگل رہا تھا ۔۔۔ اسکی سخت گرفت سے جیسے حمنہ کا دم گھٹنے لگا تھا
