Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415

Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 6

644.1K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Noor-e-Emaan Episode 6

Noor-e-Emaan by Umme Hani

حمنہ بھاگتے ہوئے ہاسپٹل سے باہر نکلی تھی ہلکی ہلکی برف باری ہو رہی تھی ۔۔۔

اصفر کا جمود اس وقت ٹوٹا تھا جب زور سے دروازہ بند ہوا تھا ۔۔۔ وہ تیزی سے سب کو ہٹاتا ہوا کمرے سے نکلا تھا ۔۔

“حمنہ ۔۔۔ حمنہ رکو ” وہ اسکے پیچھے لپکا تھا مگر کسی نے بہت مضبوطی سے اسے پکڑ کر روکا تھا ۔۔۔ اس نے پیچھے پلٹ کر دیکھا تو سامنے فارس کھڑا تھا ۔۔۔

” کیوں پکڑ رکھا ہے تم نے مجھے ہاتھ چھوڑو میرا وہ چلی جائے گی ” اصفر نے اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔اس سے پہلے حمنہ پھر سے کہیں کھو جاتی وہ اسکے پاس پہنچنا چاہتا تھا

” تم کیسے جانتے ہو اسے ۔۔۔۔ ہاں ” فارس کو اصفر کی بے چینی بری لگ رہی تھی جو وہ حمنہ کے لئے دیکھا رہا تھا

” ابھی وقت نہیں ہے یہ سب بتانے کا ہاتھ چھوڑو میرا ۔۔ ” اصفر کو جانے کی جلدی تھی ۔۔۔ لیکن فارس کی گرفت اور مضبوط ہوئی تھی

” ایسے نہیں چھوڑو گا تمہیں ۔۔۔ “فارس نے سخت لہجے سے کہا اسی اثناء میں باقی سب ڈاکٹر بھی باہر نکل چکے تھے ۔۔۔

“ڈاکٹر بیگ اسے کہیں چھوڑے مجھے ” اصفر کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مارنا شروع کر دے فارس کو ۔۔۔

” نہیں ڈاکٹر بیگ پہلے اس سے پوچھیں کہ حمنہ کا پیچھا کیوں کر رہا ہے ۔۔۔۔ ” فارس کا حمنہ کے لئے یوں حق جتانا اصفر کو عجیب لگ رہا تھا

” تم کون ہوتے ہو یہ پوچھنے والے ” اس بار اصفر کا لہجہ بھی بلند ہوا تھا ۔۔۔

” اصفر وہ ہمارے ہاسپٹل کی ڈاکٹر ہیں ۔۔۔ ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم آپ سے پوچھیں ۔۔۔ “

” وہ بیوی ہے میری ” اصفر ایسے تھا کہ بے بسی سے رو دے گا یہ خبر کسی دھماکے کی طرح سب پر گری تھی فارس کو لگا کہ زمین پاؤں سے کھسکی ہو ۔۔۔ یک دم اس نے اصفر کا بازو چھوڑا تھا وہ باہر کی جانب بھاگا تھا فارس کو لگا آسمان سر پر گرا ہو ۔۔۔۔

” بیوی ۔۔۔۔۔ “

یہی حیرت وہاں موجودسب ڈاکٹرز کو تھی ڈاکٹر بیگ فارس کی حالت جان سکتے تھے ۔۔۔۔ فارس پر تو یہ بات قیامت بنکر ٹوٹی تھی ۔۔۔۔

“حمنہ ۔۔۔ بیوی ۔۔۔ اصفر حسن کمال کی “

(“جانتی ہوں لاہور کے بہت مشہور ڈاکٹر اوربڑے سرجن ہیں یہ ۔۔۔۔لیکن مجھے نامور شخصیتوں کے بارے ۔میں جاننے کی ذرا سی دل چسپی نہیں ہے”

“ہاں یاد آیا فارس وہ تمہاری نامور شخصیت ابھی تک ہاسپٹل میں ہے یا جا چکے ہیں”

“سر میں نہیں کر سکتی شادی سمجھ لیں کہ انکار کرنے پر مجبور ہوں ۔۔۔۔ “)

حمنہ کی باتیں اس کے کانوں میں گونجنے لگی تھیں ۔۔۔۔ پھر ذہن میں آنے لگا جب تک حسن کمال ہاسپٹل میں رہے تھے حمنہ نہیں آئی تھی ۔۔۔۔ شادی سے انکار کی وجہ یہ تھی کہ وہ اب تک اصفر کی بیوی تھی تو پھر مجھے سے جھوٹ کیوں بولا ۔۔۔ مجھے دھوکا کیوں دیا ۔۔۔۔ کیوں کہاں کہ اسکے ہسبنڈ مر چکے ہیں ۔۔۔۔ وہ آج بھی اسکے لئے اول روز کئ طرح پہیلی تھی۔۔۔۔ وہ سیدھا اپنے گھر گیا تھا جو ہاسپٹل کے چند قدموں کے فاصلے پر تھا ۔۔۔۔جا کر اپنا لیپ ٹاپ کھولا اصفر حسن کمال کو سرچ کرنا شروع کیا لیپ ٹاپ پر متحرک انگلیاں یک دم جیسے رکی تھیں سامنے وہی تھی اصفر کے پہلو میں کھڑی ہوئی نیچے اس کا تعارف تھا مسز اصفر کے نام سے۔۔۔ کمال حسن کی چھوٹی بہو کے نام سے ۔۔۔۔ اب تو کوئی شک نہیں رہ گیا تھا ۔۔۔ کوئی شبہ نہیں تھا ۔۔۔۔۔

******…….

اصفرجب باہر نکلا تو پھر سے غائب تھی۔۔۔۔۔ برف باری تیز ہوئی تھی وہ پیدل ہی دائیں جانب بھاگنے لگا ۔۔۔ لیکن سڑک س سے سنسان تھی ۔۔۔۔ پتہ نہیں کہاں چلی گئ تھی اسے فارس پر رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا ۔۔۔ پھر جب وہ واپس ہاسپٹل پہنچا تو سب ہی آپس

میں حمنہ کے متعلق ہی بات کر ر ہے تھے بس فارس غائب تھا

“ڈاکٹر بیگ مجھے ۔۔۔ مجھے حمنہ سے ملنا ہے ۔۔۔ پلیز مجھے بتائیے وہ کہاں رہتی ہے ۔۔۔ “

” ڈاکٹر اصفر پلیز کول ڈاؤن ۔۔۔۔ “

” آپ مجھے۔ بتائیں وہ کہاں رہتی ہے “

” دیکھیں حمنہ نے شروع میں ہی ہمہیں منع کیا تھا کہ بنا اسکی اجازت کے اسکی رہائش کسی کو نا بتائی جائے”

” آپ ۔۔۔ سمجھ کیوں نہیں رہے ہیں میرا اس سے ملنا بہت ضروری ہے ” وہ حد درجہ پریشان لگ رہا تھا

” او کے میں پہلے حمنہ سے پوچھ لوں پھر آپ کو بتا دوں گا ۔۔۔۔ ” ڈاکٹر بیگ کی بات پر وہ بے بسی سے وہاں سے نکلا تھا

حمنہ کو اپنی گاڑی کی بھی ہوش نہیں تھی بس پیدل بھاگتے ہوئے دو میل کا فاصلہ طے کر کے وہ گھر پہنچی تھی۔۔۔ اسے ڈھیر گھنٹہ لگا تھا گھر پہنچنے میں

گھر کا دروازہ حمنہ نے زور سے بجایا تھا ۔۔۔

دروازہ فارس نے کھولا تھا آنکھیں سرخ اور متورم تھیں جیسے خون آنکھوں میں اترا ہو ۔۔۔۔ وہ پیچھے ہٹ گیا وہ اندر داخل ہوئی پہلی فکر بچوں کی ستائی تھی اس سے پہلے کے کمرے میں جاتی فارس نے اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنے مقابل کھڑا کیا ۔۔۔

“کہاں گئ تھی تم ۔۔۔۔ پچھلے ایک گھنٹے سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں ” آنکھوں میں عجیب سا استحقاق تھا ۔۔۔

” بازو چھوڑو میرا مجھے بچوں کے پاس جانا ہے ” حمنہ نے سخت لہجہ اپنایا

” جو پوچھ رہا ہوں تم سے اس کا جواب دو ” فارس اسے بازو سے کھنچ کر اپنے قریب کر کے غراتے ہوئے بولا

” تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے ۔۔۔ہاتھ چھوڑو میرا ” حمنہ نے اس سے اپنا چھڑواتے ہوئے کہا

” میں کون ہوتا ہوں ؟ ۔۔۔۔۔ تمہیں بتاؤں میں کون ہوتا ہوں ۔۔۔

میں تمہارے اور تمہارے بچوں کی حفاظت کرنے والا وہ انسان ہوں جیسے تم نے پانچ سال تک بیوقوف بنایا ۔۔۔۔ جھوٹ بولا ۔۔۔۔ دھوکہ دیا ۔۔۔ وہ ہوں میں ” فارس نے دانت بیچ کر کہا اور اسے جھٹکے سے چھوڑا

” اور تم کون ہو تم ہو ۔۔۔۔۔ مسز حمنہ اصفر ۔۔۔۔ ڈاکٹر اصفر حسن کی بیوی ۔۔۔ ” وہ چلا کر بولا ساتھ ہی ٹیبل پر شیشے کا رکھا واز اس نے اٹھا کر پوری قوت سے زمین پر پھینکا تھا ۔وہ پلمیں چکنا چور ہوس تھا۔۔ حمنہ نے خوف سے آنکھیں بند کیں کئ قدم پیچھے ہٹی تھی

فارس پھر اسکے قریب آیا اسکی آنکھیں میں آنسوں جھلملا رہے تھے ۔۔۔۔ غصے کے مارے اسکے جبڑے لرز رہے تھے اتنی سخت ٹھنڈ میں کنپٹیوں سے پسینہ بہہ رہا تھا

” مجھے کیا سمجھ کر استعمال کیا تم نے میرے ۔ جذبات سے کیوں کھیلا بولو” یہ کہہ فارس نے ٹی وی پر رکھا واز زمین پر زور سے پٹخا ۔۔۔۔ اتنا غصہ تھا کہ اسے ۔۔۔کہ وہ بس سے باہر ہو رہا تھا ۔۔۔ پچھلے پانچ سالوں میں وہ اس سے صرف محبت ہی تو کرتا آ رہا تھا ۔۔۔ اسے اپنا سمجھ کر اسکا خیال رکھ رہا تھا ۔۔۔ بے لوث محبتیں نچھاور کر رہا تھا اور وہ ۔۔۔۔ اس نے کیا کیا تھا اتنا بڑا سچ چھپایا تھا

لیکن آج تو جیسے سب کچھ ٹوٹ چکا تھا چکنا چور ہو چکا تھا ۔۔ حمنہ اس کے اس قدر شرید رد عمل پر ششدد سی رہ گئ تھی ۔۔۔

“تم پاگل ہو گئے فارس ؟۔۔۔” اس نے دھیرے سے کہا

” ہاں پاگل ہی تو ہو گیا ہوں آگ سی لگا دی تم نے میرے اندر ۔۔۔۔انسان سے جانور بننے پر مجبور کر دیا ہے۔۔۔ تمہیں اندازہ ہے کہ تمہارے اس ایک جھوٹ نے مجھے کس مقام پر پہنچا دیا ہے اندازہ ہے تمہیں ” وہ چلا کر بولا تھا ۔۔۔ حمنہ پیچھے ہٹی تھی کانچ اسکے سینڈل کے نیچے آکر مزید کرچی کرچی ہو رہے تھے

” فارس اسوقت تم ہوش ۔میں نہیں ہو جاؤں یہاں میں تمہیں سب کچھ بتا دوں گی ۔۔۔۔ لیکن “

” جسٹ شٹ اپ حمنہ ۔۔۔۔۔ اب بتاؤں گی تم مجھے؟۔۔۔۔ اب ۔؟۔۔۔ مجھے برباد کرنے کے بعد؟ ۔۔۔ نہیں حمنہ ۔۔۔ جہاں تک تم مجھے پہنچا چکی ہوں ۔۔۔ میں۔ تم سے دستبردار ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔۔ یا تو میں خود کو ختم کر لوں گا ڈاکٹر اصفر کو مار ڈالوں گا ۔۔۔ دیکھوں اب میں کیا کرتا ہوں ” لہو رنگ انکھوں کو اسکی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے وہ اسے یہ کہتے ہوئے گھر سے باہر نکل گیا حمنہ کی جان پر بنی تھی وہ اسکے پیچھے لپکی تھی۔۔۔۔

“فارس فارس میری بات سنو “

لیکن وہ تیزی سے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا ۔۔۔ حمنہ اندر کی طرف بھاگی تھی کمرے میں دونوں بچے سہمے بیٹھے تھے شاید باہر کے شور شرابے سے گھبرا گئے تھے ۔۔۔۔ حمنہ نے دونوں کو ساتھ لگایا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔۔۔ یہ ٹھکانہ بھی اب محفوظ نہیں رہا تھا سوچ رہی تھی کہ اب کہاں لیکر بھاگے کی بچوں کو کہاں جائے گی کیا کرے گی پانچ سالوں میں بڑی مشکل سے یہاں سب سیٹل کر پائی تھی۔۔۔ لیکن یہ تو طے تھا کہ اسے آج رات ہی بچوں کو لیکر نکلنا تھا۔۔۔۔

*******……

۔مزمل صاحب آمنہ بیگم اور لائبہ کو دوسرے گورنمنٹ ہاسپٹل لے گئے لیکن وہاں توجہ نہیں دی جا رہی تھی۔۔۔۔ ایکسرا تک نہیں لیا گیا تھا ۔۔۔ لائبہ دوسرے دن اپنی امی کے گورنمنٹ اسکول گئ جہاں اسکی والدہ کئ سالوں سے پڑھا رہی ہیں۔۔میڈیم کو انکے حادثے کے بارے میں بتایا۔۔۔ اور انکی چھٹی کی درخواست بھی دی لیکن میڈیم نے کہا کہ انکی چھٹی کی درخواست کو قبول کیا جائے گا جب تک ہاسپٹل کے گورنمنٹ ڈاکٹر کا ڈسکرپشن پیپر اسکے سائن کے ساتھ نا مل جائے ۔۔۔ دوسری جانب گورنمنٹ ہاسپٹل کی لاپروائی سے تنگ آ کر مزمل صاحب نے آمنہ بیگم کوپراویٹ ہاسپٹل میں منتقل کروا دیا ۔۔۔

وہاں بھی گورنمنٹ کا سینئر ڈاکٹر موجود تھا لیکن چونکہ وہ پراویٹ ہاسپٹل تھا اس لئے اس نے بڑی تسلی سے انہیں چیک کیا ایک کے بجائے تین ایکسرے مختلف زاویوں سے نکلوائے بل بھی خوب لمبا چوڑا بنوایا ۔۔۔ گھٹنے کی ہلڈی پر کریک آ گیا تھا یہ شکر تھا کہ ٹوٹی نہیں تھی ۔۔۔ رات کو مزمل صاحب نے ساری جمع پونجی الماری کے اوپر بنی چھوٹی سی الماری جس میں بستر رکھے جاتے تھے وہاں سے ایک تکیہ نکالا اور تکیے کے غلاف سے نکال کر بیڈ کر رکھی اور گننے لگے پیسے بہت کم تھے ۔۔۔ آپریشن کے لئے نا کافی تھے ۔۔۔

لائبہ نے اپنی سونے کی چین لا کر مزمل صاحب کو دیدی

“ابو جی اسے بیچ دیں۔۔ امی کا آپریشن ضروری ہے ۔۔۔۔چین کا کیا ہے پھر آ جائے گی ۔۔۔” لائبہ کی بات سن کر وہ بے بس سے ہوئے تھے ۔۔۔۔ بیٹی کوشفقت سے ساتھ لگایا ۔۔۔۔ آپریشن کے پیسے وہ پورے کر چکے تھے ۔۔۔۔

لائبہ نے پراویٹ ڈاکٹر سے ڈسکرپشن لیٹر لکھنے کو کہا سائن کرنے کو بھی ڈاکٹر نے وہ لیٹرلکھ دیا لیکن چونکہ وہ پروایٹ یاسپٹل کی پرچی تھی اس لئے گورنمنٹ اسکول کی میڈیم نے قبول کرنے سے منع کر دیا ۔۔۔۔

” یہ قابل قبول نہیں ہے گورنمٹ ڈاکٹر کے پیپر پر سائن ہونے چاہیے ورنہ انکی چھٹی قبول نہیں کی جائے گی ۔۔۔ نوکری بھی جا سکتی ہے ” لائبہ نے یہ بات مزمل صاحب کو بتائی ۔۔۔۔

آپریشن کے بعد بھی دو تین مہینوں تک آمنہ بیگم چل نہیں سکتی تھیں ۔۔۔۔

کئ سالوں کی محنت کی تھی ۔۔۔۔ اب تو راٹئرمنٹ ملنے والی تھی ۔۔۔۔ اور اگر نوکری چلی جاتی تو وہ چانس بھی ختم تھا ۔۔۔۔

مزمل صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گئے تھے ۔۔۔۔ آمنہ بیگم کا

آپریشن ہو چکا تھا ۔۔۔ لائبہ آمنہ بیگم کے ساتھ ہاسپٹل میں تھی اس لئے مزمل صاحب خود اسکول پہنچ گئے میڈیم کی منتیں کیں لیکن وہ نا مانی ۔۔۔۔

آمنہ بیگم کے آپریشن کو دو دن ہوئے تھے ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی مجبورا انہیں دوبارہ سے گورنمٹ ہاسپٹل لے جایا گیا تا کہ گورنمنٹ ڈاکٹر کے پیپر پر سائن حاصل ہو سکیں اور انکی چھٹی منظور ہو جائے ۔۔۔ آمنہ بیگم درد سے کراہ رہیں تھیں وہاں ڈاکٹر نے یہ کہا کہ انہیں آلاو نہیں ہے کہ کسی بھی گورنمنٹ ٹیچر کو تین چار دن کی چھٹی سے ذیادہ کی ایپلی کیشن پر سائن کیا جائے ۔۔۔۔

لائبہ کا جی چاہا ڈاکٹر کا منہ نوچ کے رکھ دے ارے اس کنڈیشن میں کیا کوئی انسان ٹیچنگ کرنے جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔

” کس قسم کا قانون کے یہ ۔۔۔ یہ لاء ہے ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ۔۔۔ ایک عورت پچھلے کئ سال سے گورنمنٹ اسکول میں بچوں کو روانہ تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہی ہے اپنی ڈیوٹی پوری ایمانداری سے ادا کر رہی ہے اور آج اس پر مشکل وقت آیا ہے تو آلاو نہیں ہے ۔۔۔ “لائبہ کی بات ڈاکٹر نے لاپرائی دیکھاتے ہوئے کہا

” دیکھیں بی بی یہاں شور کرنے سے کچھ نہیں ہو گا ایسا کریں ایجوکیشن ڈپاٹمنٹ میں جا کر ہیڈ مسٹریس سے بات کریں شاید وہاں آپکی مدد ہو جائے

یہ چار دن کی چھٹی کا میں نے لکھ دیا ہے ہڈی مکمل نہیں ٹوٹی ورنہ شاید کوئی گنجائش نکل آتی ” ڈاکٹر کی بات نے لائبہ کے اندر مزید آگ لگائی تھی

” مطلب انسان جب تک ہڈی پسلی نا ٹوٹ جائے ۔۔۔ آپ لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہو گئے ۔۔۔۔واہ اچھا سسٹم ہے یہ ” لائبہ نے تڑخ کر جواب دیااور باہر آ گئ

*******……..

حمنہ نے ایک بیگ میں کپڑے ڈالنے شروع کیے ۔۔۔۔ فون وہ اپنے آف کر چکی تھی جو تماشہ آج ہاسپٹل میں لگ چکا تھا فون پر سب نے کال کر کے وجہ ہی پوچھنی تھی جو وہ بتانا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔

“ممی آپ رو کیوں رہیں ہیں ۔۔۔ کیا فارس انکل نے کچھ کہا ہے ۔۔۔ وہ کیوں اتنے غصے میں تھے ” ایمان اسکے آنسوں پونچتے ہوئے پوچھنے لگا

” نہیں بیٹا بس یونہی ۔۔۔ تم شوز پہنوں اپنے “

پیروں میں شاید مسافت ہی لکھی تھی ۔۔۔۔ تھکا دینے والا سفر ۔۔۔ پہلے تو اکیلی تھی لیکن اب چھوٹے بچوں کا ساتھ تھا ۔۔۔۔

” ممی ہم کہاں جا رہے ہیں ” نور اپنے سینڈل پہنتے ہوئے پوچھنے لگی ۔۔۔

” یہ تو مجھے بھی نہیں پتہ ۔۔۔ لیکن یہاں نہیں رہ سکتے ” خود کو شال میں لپیٹ کر اس نے بچوں کے ہاتھ پکڑے اور دوسرے ہاتھ سے بیگ گھسٹ کر مین دروازے تک پہنچی پورے لاونج میں کانچ کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے لیکن جیسے ہی دروازہ کھولا سامنے ڈاکٹر بیک اور اسکی بیگم کھڑے تھے شاید بیل دینے ہی والے تھے کہ حمنہ نے دروازہ کھول دیا ۔۔۔۔ حمنہ کا آنسوں سے تر بتر چہرہ دیکھ وہ پریشان ہوئے تھے ۔۔۔ پھر اس وقت بچوں کو اور بیگ کو لئے وہ جا کہاں رہی تھی

” سر آپ ‘

” ہاں میں ۔۔۔ میری بیٹی اتنی پریشانی سے ہاسپٹل سے نکلی تھی ۔۔۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ میں پوچھنے نا آتا آج تو تمہاری میم بھی ساتھ آئیں ہیں ۔۔۔ اندر نہیں بلاؤں گی ” حمنہ دروازے سے پیچھے ہٹ گئ

٫ جی آئیے ” ڈاکٹر بیگ اور انکی بیگم اندر داخل ہو گئے

لاونج میں بکھیرے کانچ دیکھ مزید الجھے تھے

” یہ سب فارس نے کیا ہے ” حمنہ نے تاسف سے کہا

” ہاں بہت غصے سے ہاسپٹل سے نکلا تھا ۔۔۔ میری آواز بھی نہیں سنی خیر کان کھنچوں گا اس کے تم فکر مت کرو ” ڈاکٹر بیگ ٹیبل کے قریب آ کر کرسی کھنچ کر بیٹھ گئے میم بھی اور بچے بھی وہیں۔بیٹھ گئے ۔۔۔۔ حمنہ بھی ایک کرسی پر۔ بیٹھ گئ

” بیٹا ۔۔۔ ڈاکٹر اصفر حسن تمہارے ہسبنڈ ہیں “بات ڈاکٹر بیگ نے ہی شروع کی

” جی ہاں “

” میں یہ بات اصفر کے منہ سے سن شاکڈ رہ گیا تھا ۔۔۔۔ بے یقین تھا ۔۔۔ ایک پل لگا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے میری حمنہ تو کبھی جھوٹ بولتی ہی نہیں ہے ۔۔۔ جب اس نے کہہ دیا کہ اسکے ہسبنڈ اب اس دنیا میں نہیں رہے تو سچ میں نہیں رہے ۔۔۔ شاید ایسا ہی یقین فارس کو بھی تم پر تھا ۔۔۔ یا شاید اس سے بھی زیادہ ۔۔۔۔ پھر تمہارے ساتھ اسکی دلی وابستگی کسے نہیں معلوم ۔۔۔۔ بچوں کے ساتھ اس کی محبت پر تم بھی شک نہیں کر سکتی ۔۔۔۔

میں اسے بھی غلط نہیں کہوں گا حمنہ ۔۔۔ جیسے مجھے بھی تمہارے کبھی نا کبھی مان جانے کی آس تھی اسے۔ بھی یہی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن اب تو سچویشن ہی الگ ہے ۔۔۔۔ ” حمنہ خاموشی سے سن رہی تھی پھر دھیرے سے بولی

” میرے لئے کچھ الگ نہیں ۔۔۔۔ مجھے اصفر کے ساتھ رہنا ہی نہیں ہے ۔۔۔۔ “

” کوئی لڑائی جھگڑا ہوا تھا ” ڈاکٹر۔ بیگ نے پوچھا

” سر پلیز مجھے کچھ نہیں بتانا ۔۔۔۔ آپ کو

میں غلط لگتی ہوں او کے۔ میں ہی غلط ہوں ۔۔۔ آپ جو چاہیں سمجھ لیں ۔۔۔ فارس کو بھی میں ہی جھوٹی لگتی ہوں ٹھیک وہ بے شک محبت کی جگہ نفرت کرنے لگے لیکن مجھے کوئی صفائی پیش نہیں کرنی ۔۔۔۔ ” اس انداز اٹل تھا لیکن لہجہ متوازن

” اصفر تمہارے گھر کا پتہ پوچھ رہا تھا ۔۔۔ میں نے نہیں بتایا لیکن آج نہیں تو کل ڈھونڈے گا ” ڈاکٹر بیگ کی یہ خبر بھی اس کے لئے نئ نہیں تھی جانتی تھی کہ یہاں رہی تو اصفر بہت جلد اس تک پہنچ جائے گا

“وہ مجھے تب ڈھونڈے گا جب میں یہاں رہوں گی ” حمنہ کا چہرہ اب بھی بے تاثر تھا

” تم کہاں جا رہی ہو اور کس کے پاس ” “

” کہیں بھی چلی جاؤں گی ۔۔۔ اللہ کی دنیا بہت۔ بڑی ہے اور ہاسپٹلوں کی کمی بھی نہیں ہے ۔۔۔ کہیں نا کہیں نوکری مل جائے گی “

” بھاگ جانا مسلے کا حل نہیں ہے حمنہ اب تم اکیلی نہیں ہوں بچے ہیں تمہارے ساتھ ” میم نے سمجھانا چاہا

” میرے مسلے کا حل بھاگ جانا ہی ہے میم “

” کہیں نہیں جاؤں گی تم ۔۔۔ فی الحال میرے ساتھ چلو یہاں رہنا مناسب نہیں ہے تمہارا نا جانے جذبات میں آ کر کون سا غلط قدم اٹھاو گی ۔۔۔۔ “یہ کہہ ڈاکٹر بیگ نے حمنہ کی ایک نہیں سنی تھی اس کا بیگ اٹھا کر باہر نکل گئے مجبورا حمنہ کو بھی جانا پڑا ۔۔۔ گھر میں پہنچ کر انہوں نے حمنہ سے کچھ نہیں پوچھا انکی وائف نے اسے اور بچوں کو کھانا کھلا کر ایک کمرے میں سونے کے لئے بھیج دیا ۔۔۔

******۔۔۔۔

اصفر صبح ڈاکٹر بیگ کے پہنچنے سے پہلے ہاسپٹل میں موجود تھا پوری رات آنکھوں میں کاٹی تھی ۔۔۔ ایک پل چین نہیں آیا تھا ۔۔۔۔ لگ رہا کے دو قدم کا فاصلہ ہی رہ گیا اسکے اور حمنہ کے بیج میں بس دو قدم طے کرتے ہی وہ مل جائے گی ۔۔۔ لیکن اگلے پل یہ لگنے لگتا کہ بھاگ جائے گی پھر اسکی پہنچ سے بہت دور اتنا دور کے کے وہ پھر سے کئ سال کی مسافت میں زندگی گزار دے گا یہ سوچتے ہی دل ڈوبنے لگا تھا اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔بد حواسی سی چھانے لگی تھی بند کمرے میں منفی درجہ حرارت میں بھی اس پر گھبراہٹ طاری ہوئی تھی ۔۔۔۔ گھٹن کا شدید احساس تھا ۔۔۔ رضائی ہٹا کر وہ یک دم بستر سے نکل کر کھڑکی کے پاس پہنچا تھا کھڑی سے پردہ پیچھے کیا کھڑی کا پٹ کھولا تو جمادینے والی سرد ہوا کے جھونکے کانپنے پر مجبور کیا تھا مگر ۔۔۔ اندر کی گھٹن بے چین کیے ہوئی تھی ۔۔۔ آسمان کی جانب دیکھا تو کالی رات بہت طویل سی لگ رہی تھی ۔۔ نا ختم ہونے والی

ظلمت سے بھری ہوئی ۔۔۔ اتنی اندھیری کے جس میں اپنے ہونے کا بھی احساس گم ہو جائے ۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی آنکھوں سے آنسوں ٹوٹ کر نکلے تھے

” بس ایک موقع تو دو مجھے حمنہ ۔۔۔۔ ایک آخری بار میرا اعتبار کر لو۔۔۔ مجھے میری غلطی سدھارنے بس ایک موقع دے دو ۔۔۔۔ ہر اس ذیاتی کی تلافی کرنا چاہتا ہوں جو میں تمہارے ساتھ کر بیٹھا ہوں “

صبح کا بے چینی سے انتظار کرنے لگا تھا ۔۔۔۔

صبح کی ہلکی ہلکی روشنی ہوتے ہی وہاں سے نکل گیا تھا ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر بیگ اندر داخل ہوئے تھے انہیں دیکھ کر وہ کھڑا ہو گیا ۔۔۔ ڈاکٹر بیگ بھی اسے دیکھ چکے تھے یہ بھی جانتے تھے کہ حمنہ ہر گز اس سے ملنا نہیں چاہتی ان دونوں کے بیچ ہوا کیا تھا یہ تو وہ نہیں جانتے تھے لیکن اس وقت حمنہ کا ساتھ دینا ضروری تھا اصفر انکے پاس آ گیا

” ڈاکٹر بیگ مجھے حمنہ کا پتہ چاہیے ۔۔۔ آج اسکا پتہ لئے بنا نہیں جاؤں گا ” اصفر کے چہرے پر رتجگے کے تاثرات اور فکرمندی دیکھ کر انہوں نے گہری سانس لی اور جیب میں ہاتھ ڈالے اسے دیکھ کر بولے

” ٹھیک میں دے دیتا ہوں تمہیں حمنہ کا ایڈریس لیکن فائدہ کچھ نہیں ہے وہ اپنا گھر چھوڑ کر رات کو ہی جا چکی ہے ۔۔۔۔ کہاں گئ ہے یہ کسی کو پتہ نہیں فون بھی آف ہے ۔۔۔ ۔یں گیا تھا اس کے گھر تالا لگا ہے “

“چلی گئ ۔۔۔” اصفر بے بس سا ہوا تھا ۔۔۔۔

“وجہ کیا ہے ڈاکٹر اصفر ۔۔۔پچھلے پانچ سال سے وہ یہاں ہے ۔۔۔ آپ نے ڈھونڈنے کی کوشش بھی نہیں کی “

” کوشش نہیں کی ۔؟۔۔ پچھلے پانچ سال سے خاک ہی تو چھان رہا ہوں اس کے پیچھے ۔۔۔۔۔

مجھے کہاں خبر تھی کہ وہ یہاں ہے ورنہ پانچ سال پہلے کی پہنچ جاتا ۔۔۔۔ ” اصفر کی غیر ہوتی حالت اور بے بسی دیکھ کر وہ متذبذب سے ہوئے تھے ۔۔۔۔ خوش تو وہ بھی نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔ ورنہ اتنی صبح یہاں موجود نا ہوتا ۔۔۔۔

” پھر وہ آپ سے کیوں بھاگ رہی ہے ۔۔۔۔ ملنا کیوں نہیں چاہتی آپ سے ۔۔۔۔ ہمہیں تو اب تک یہی معلوم تھا کہ اسکے ہسبنڈ حیات ہی نہیں ہیں ” ڈاکٹر بیگ کی یہ بات بھی اصفر کے لئے نیا انکشاف تھی ۔۔۔۔

” جس دن مل گئ پھر بھاگنے نہیں دونگا ۔۔۔ بس ایک بار مل جائے مجھے ۔۔۔ سارے شکوے دور کر دوں گا اسکے ۔۔۔”اصفر نے یہ کہہ کر اپنا کارڈ نکال کر ڈاکٹر بیگ کے ہاتھ میں رکھا

“اگر وہ آپکے پاس آئے تو پلیز اسے بتائے بغیر مجھے انفارم کر دیجیے گا ۔۔۔ بس ایک بار میری ملاقات ہو جائے اس سے ۔۔۔ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔ ” وہ یہ کہہ کر وہیں سے پلٹ کر چلا گیا ۔۔۔ ڈاکٹر بیگ سوچ میں پڑ گئے تھے ۔۔۔ آج فارس ہاسپٹل نہیں آیا تھا ۔۔۔

پورا دن بیٹھا اپنا جی جلاتا رہا ۔۔۔ لیپ ٹاپ کھولے اصفر کی ہسٹری پڑھتا رہا ۔۔۔ ایک سال اصفر جیل میں کاٹ چکا تھا ۔۔۔ غلط انجکشن لگانے سے بچے کی موت کے جرم میں ۔۔۔۔ چھوٹ اس وجہ سے گیا کہ بچے کے والدین نے کیس واپس لے لیا تھا ۔۔۔ شاید باپ کے اثر رسوخ کام آ گئے تھے یا پیسے ۔۔۔ فارس کو پہلے حسن کمال کے بارے میں پہلے بس اتنا ہی معلوم تھا کہ ایک بہت بڑا نام ہے ہارٹ کی سرجری میں انکا ۔۔

لیکن انکی فیملی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا ۔۔ کبھی اتنی دلچسپی ہی نہیں ہوئی لیکن اب ایک ایک بات کی جیسے کھوج تھی ۔۔۔

کون سی ایسی عورت ہو سکتی ہے جو اپنے زندہ شوہر کو مردہ کہہ دے ۔۔ وہ حمنہ جیسی ۔۔۔ اتنی نرم دل احساس دل رکھنے والی مریضوں کی تکلیف ہے رونے والی ۔۔۔۔ کچھ تو ایسا ہوا ہے ۔۔۔ ذہن الجھتا جا رہا تھا ۔۔۔ انگلیاں اب اصفر کی پچھلی چھ سالہ ہسٹری پر چل رہیں تھیں دوسرا انکشاف یہ پڑھ کر ہوا کہ اسکی بیوی نے اس پر خلع کا مقدمہ بھی دائر کیا تھا ۔۔۔۔

“مطلب وہ طلاق لینا چاہتی تھی اصفر سے پھر لی کیوں نہیں ؟ ۔۔۔۔ ” فارس جتنا جانتا جا رہا تھا اتنا ہی الجھتا جا رہا تھا ۔۔۔۔ اسکے بعد سے اصفر کے بارے میں کوئی خاص خبر نہیں تھی ۔۔۔۔ حسن کمال کا بڑا بیٹا سیف الرحمن باپ کے نقش قدم پر چل رہا تھا اسکی بیوی بھی گائنا لوجسٹ میں کافی نام اور پیسہ کمارہی تھی ۔۔ حسن کمال کو اپنے پیشے کو خیر آباد کیے ہوئے چار سال گزر چکے تھے ۔۔۔ حالانکہ اس۔ بات پر میڈیا اور ڈاکٹرز کا بہت شور اٹھایا تھا کہ وہ کیوں اتنی جلدی یہ سب چھوڑ رہے ہیں لیکن کوئی جواب نہیں تھا اندر کی کہانی کچھ اور تھی لیکن بظاہر یہی کہا گیا کہ وہ اپنی بیوی کے انتقال کے بعد سے خود بھی بیمار رہنے لگے تھے اس لئے اب گھر پر ہی رہنے کو ترجعی دینا چاہتے ہیں ۔۔۔

فارس نے لیپ ٹاپ بند کر کے سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔۔۔

اور اپناسر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ سوالات کی بھرمار تھی اور جواب صفر ۔۔۔۔

گزشتہ پانچ سالوں سے جتنا وہ حم ہ سے انجان تھا اب تک اتنا ہی انجان تھا ۔۔۔۔

*******….

شام کو واپسی پر ڈاکٹر بیگ پہلے فارس کے گھر گئے جو ہاسپٹل کے قریب تھا ۔۔۔ ڈور بیل پر اس نے اکتائے ہوئے دروازہ کھولا ۔۔۔ سامنے ڈاکٹر۔ بیگ کو دیکھ کر رخ بدلہ تھا گھر کے عام سے ٹراوزر شرٹ میں ملبوس تھا ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر بیگ اندر داخل ہوئے ۔۔۔۔

چائے کے تین خالی کپ ۔۔ سگریٹ سے بھرا ایش ٹرے اور لیپ ٹاپ سامنے ٹیبل پر رکھا تھا ۔۔۔ فارس نے آگے بڑھ کر پہلے تو ایش ٹرے پکڑا تھا ۔۔

“سر آپ بیٹھیں میں ابھی آیا” اپنے باپ جیسے استاد کے سامنے ایش ٹرے دیکھ کر اسے سبکی سی محسوس ہوئی تھی ۔ کن انکھیوں سے ڈاکٹر بیگ نے اسے گھورا تھا ۔۔۔۔

” نہایت شرم ناک بات ہے ایک ڈاکٹر ہوتے ہوئے تم نے ایک رات میں اتنی سگریٹ پیں ہیں ۔۔۔” وہ خشمگیں نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولے

” سر وہ ۔۔۔۔ ” فارس شرمندہ تھا ۔۔۔۔۔

“نو ایکسکیوز فارس ۔۔۔چلو کپڑے تبدیل کرو اور میرے ساتھ چلو ۔۔۔ میرے گھر پر تمہاری میم نے کھانا بنایا ہے اور خاص تاکید کی تھی کہ فارس کو اپنے ساتھ ضرور لانا ۔۔۔۔۔ “

” سر میں پھر کبھی آ جاؤں گا ” وہ دل جلائے بیٹھا تھا اس لئے کہیں جانا نہیں چاہتا تھا

” مجھے کچھ نہیں سننا جلدی سے تیار ہو کر آوں ” ڈاکٹر بیگ کے حتمی انداز پر وہ با دل نخواستہ اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔ ڈاکٹر بیگ کے گھر پہنچ کر لاونج میں ہی اسے ایمان اور نور کاٹون دیکھتے نظر آئے تھے ۔۔۔۔

فارس کو دیکھ کر دونوں ہی سہم سے گئے تھے ۔۔۔ جیسے ہی فارس انکے قریب آیا وہ بدک کر پیچھے ہٹے تھے

” مان نور کیا بات ہے ڈر کیوں رہے ہو مجھ سے “

” آ۔۔پ نے ممی ۔۔۔۔ سے لڑائی کی ہے ۔۔۔۔ ” نور نے ڈرتے ہوئے کہا

” ہمارا گھر بھی توڑا ہے ۔۔۔ ” ایمان نے کہا

فارس کو غصے میں اس وقت یہ احساس ہی کب تھا کہ اسکی بلند آواز اور توڑ پھوٹ کرنے پر بچوں پر کیا اثر پڑے گا ۔۔اور وہ اس سے اس قدر خوفزدہ ہو جائیں گئے اس کا اندازہ نہیں تھا اسے

” ہاں وہ میں غصے میں تھا ایم سوری ۔۔۔۔ آئندہ کبھی نہیں کروں گا ۔۔۔ ” فارس نے کان پکڑے تھے

” آپ گندے بچے ہیں ممی کو بہت رولایا ہے آپ نے ” ایمان کے ماتھے بل ٹھیک نہیں ہو رہے تھے

” کیا ممی بہت روئیں تھیں ؟” فارس کو اب افسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔

“بہت روئیں تھیں ” نور نے بھی منہ بسور کر شکوہ کیا

” ممی کہاں ہیں تمہاری “

“میم کے ساتھ کچن میں ہیں “

فارس ایمان کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا حیران اس بات پر تھا کہ وہ تینوں یہاں کیوں تھے ڈاکٹر بیگ کے گھر ۔۔۔ پھر ڈاکٹر بیگ اسے یہاں کیوں لائے تھے ۔۔۔۔ حمنہ میم کے ساتھ ہی کچن میں ڈنر تیار کرنے میں انکی مدد کر رہی تھی ۔۔۔ پھر آگے کے لائحہ عمل کے بارے میں الگ پریشان تھی۔ لیکن یہاں اڈے نہیں رہنا تھا یہ وہ مصمم ارادہ کر چکی تھی ڈاکٹر بیگ اپنے کمرے سے نہا دھو کر باہر نکلے حمنہ سلاد رکھنے باہر لانج میں رکھے ٹیبل پر رکھنے کچن سے باہر نکلی تو فارس کو دیکھ کر پہلے تو متحیر ہوئی وہ بھی اسی دیکھ رہا تھا پھر خفگی سے رخ بدل گئ ۔۔۔ ڈنر کے ٹیبل پر سب کچھ رکھ کر جب سب ڈنر کے لئے بیٹھ گئے تو حمنہ کمرے میں جانے لگی

” حمنہ کھانا کھاؤں بیٹا ” ڈاکٹر بیگ کی پکار پر وہ رکی تھی

” سر مجھے ابھی بھوک۔ نہیں ہے میں بعد میں کھا لوں گی ” اصل وجہ فارس کی وہاں موجودگی تھی

جو کچھ اس نے کیا تھاوہ اب اس سے بات بھی نہیں کرنا چاہتی تھی فارس سمجھ گیا تھا کہ وہ کیوں کترا رہی ہے

پلیٹ میں پلاؤ ڈالتے ہوئے اسکے ہاتھ رکے تھے اس نے ہاتھ پیچھے کر لیا اور کرسی کھسکا کر کھڑا ہو گیا

” مجھے اجازت دیں ۔۔۔ میں میم کے ہاتھ کا کھانا پھر کبھی کھانے آ جاؤں گا ۔۔۔ میرے خیال سے مسز اصفر کو میرا یہاں بیٹھنا پسند نہیں ” فارس کو حمنہ کا یوں خفا ہونا آگ لگارہا تھاایک تو اسے دھوکہ دیا تھا جھوٹ بولا تھا اور اس پر یہ

نخرہ ۔۔۔۔ فارس کے مسز اصفر کہنے پر وہ اسے گھورنے لگی تھی۔۔۔

” فارس چپ چاپ کھانا کھاؤں حمنہ تم بھی بیٹھ کر کھانا کھاؤ ۔۔۔۔ مجھے۔ دونوں سے ہی ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔ ” حمنہ نور کے ساتھ بیٹھ گئ کھانا کھانے کے بعد بچوں ڈاکٹر بیگ نے دوسرے کمرے میں بھیج دیا ۔۔۔ حمنہ ڈاکٹر بیگ کی وانف کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئ اور فارس ڈاکٹر بیگ کے ساتھ بیٹھ گیا

” حمنہ اصفر صبح بھی ہاسپٹل آیا تمہارے گھر کا پوچھ رہا تھا “

” وہ کیوں آیا تھا ہوسپٹل ۔۔۔۔ اور وہ ہوتا کون ہے حمنہ کا پوچھنے والا ” فارس کو تو جیسے سن کر آگ لگی تھی

” فارس وہ اس کا شوہر ہے ۔۔۔۔ “

” ہاں بس ایک شوہر کا سرٹیفکیٹ ہونا اسے حمنہ کا حقدار بنا دیتا ہے ۔۔۔۔”وہ جل کر بولا

شوہر اور باپ ہونے کے حقوق بھی کچھ ہوتے ہیں ۔۔۔۔”

” فارس تم اب بلکل چپ بیٹھوں گئے ۔۔۔ ” ڈاکٹر بیگ کے سخت لہجے پر وہ چپ ہو گیا

” حمنہ جب تک میں پوری حقیقت جان نہیں جانتا ۔۔۔ کچھ بھی کہنے سے قاصر ہوں ۔۔۔ اگر تمہاری نظر میں میری اتنی اہمیت ہے کہ تم مجھے اپنے والد جیسا سمجھوں تو ہر بات۔ مجھے بتا سکتی ہو ۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں اگر قصور وار اصفر ہوا تو تمہاری جنگ اس سے میں لڑو گا ۔۔۔ تمہیں اس سے چھپنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔۔ نا کسی سے ڈرنے کی۔۔۔ تم آذادی سے اپنی زندگی جی سکتی ہو ۔۔۔

” سر آپ اسے نہیں جانتے ۔۔۔۔ بہت خطرناک ہے وہ ۔۔۔۔۔ آپ کی سوچ سے زیادہ ۔۔۔۔

مجھے اس کے ساتھ نہیں رہنا ہے ۔۔۔ اور پلیز اسے یہ مت بتائیے گا کہ ایمان اور نور اسکے بچے ہیں ۔۔۔ وہ نہیں جانتا انکے بارے میں اگر اسے بھنک بھی پڑ گئ تو ۔۔۔ میرے بچے مجھ سے چھین لے گا ۔۔۔۔

اور میں اپنے بچوں کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔۔۔ مر جاؤں گی میں ” حمنہ بے بسی سے رونے لگی تھی

ڈاکٹر بیگ متذبذب سے ہو کر رہ گئے تھے جس سے بات کر رہے تھے وہی اپنی جگہ سچا لگ رہا تھا ۔۔۔ فارس کا دکھ اپنی جگہ ٹھیک تھااور اصفر کی بے بسی بھی ناٹک نہیں لگ رہی تھی اور نا ہی حمنہ کے آنسوں جھوٹے لگ رہے تھے ۔۔۔ لیکن بہت کنفوژ تھے ۔۔۔ سمجھ نہیں پا رہے تھے ۔۔ آخر معاملہ ہے کیا ؟