Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415

Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 8

644.1K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Noor-e-Emaan Episode 8

Noor-e-Emaan by Umme Hani

حمنہ گھر جا کر پریشان ہوئی تھی ۔۔۔۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا آگے ہو گا کیا ۔۔۔۔ تین کے بجائے آٹھ ڈن گزر گئے تھے ۔۔۔ نا تو دوبارہ اصفر کی کوئی کال آئی تھی نا وہ دوبارہ اسکے ہاسپٹل آیا تھا ۔۔۔ نا ہی اسکی فیملی نے کوئی بات کی تھی ۔۔۔ حمنہ کی والدہ دو تین بار حمنہ سے پوچھ چکیں تھیں کہ اسکی والدہ کیوں نہیں آ رہیں کیوں بیچ میں لٹ رکھا ہے ۔۔۔ اب تو اصفر سے کیا بس کرتی وہ شاید سنتا ہی نہیں ۔۔۔۔ پھر خود سے س سے پوچھنا اپنی کم تری اور مائیگی سی لگ رہی تھی ۔۔۔۔ اس لئے مسلسل اپنی ماں کو ٹال رہی تھی ۔۔۔۔۔

ایک دن نائٹ لگا کر صبح گھر پہنچی تھی بہت تھکی ہوئی تھی لیکن ماں کو پریشان دیکھ کر وجہ پوچھنے لگی ۔۔۔۔

” کیا بات ہے امی ۔۔۔ “

کچھ نہیں بیٹا بس تمہیں لیکر پریشان تھی “

“امی میری ڈیوٹی ہی ایسی ہے آپکو پتہ ہے ہاؤس جاب میں ڈیوٹی میری مرضی سے تو نہیں لگے گی ۔۔۔ ایک سال ہی تو رہ گیا ہے ۔۔۔ اسکے بعد آپکی بیٹی اپنے ابا کا خواب پورا کرے گی انشاء اللہ” حمنہ کو لگا رات بھر اسکی غیر موجودگی سے وہ پریشان ہوئیں تھیں

” یہ بات نہیں حمنہ یہ تو

مجھے معلوم کے تمہیں دیر سویر ہو جاتی ہے ۔۔۔دراصل کل وہ لڑکا آیا تھا میرے پاس جس سے تمہاری بات طے ہوئی ہے ۔۔۔۔ “حمنہ کی والدہ نے اصل مدعا بیان کیا

” وہ آئے تھے مگر کیوں ؟”

” بیٹا وہ کہہ رہا تھا کہ آج رات اسکے گھر والے آئیں گئے ۔۔۔ اور بیس دن میں انہیں نکاح اور رخصتی دونوں چاہیے ” حمنہ تو اچھل کر رہ گئ تھی

” شادی بیس دن میں “

“ہاں حمنہ میں نے بہت کہا کہ ہم اتنی گنجائش نہیں رکھتے میں تو رشتے کو لیکر بھی پریشان ہوں ۔۔۔ میں کیسے یہ سب کروں گی لیکن اس نے میری ایک نہیں سنی کہنے لگا ۔۔۔ حمنہ سے رشتہ جڑ جانے کے بعد میرا بھی آپ سے بیٹے کا ہی رشتہ ہے ۔۔۔۔ پھر کون سا بیٹا ایسا ہو گا جو ماں پر بوجھ ڈالے ۔۔۔۔۔ اسے نا جہیز میں کچھ چاہیے نا شادی کا کوئی خرچہ ہم سے کروائے گا ۔۔۔ بس سادگی سے وہ دس لوگوں میں تمہیں رخصت کروا کے لے جائے گا البتہ ولیمہ دھوم دھام سے کریں گئے ۔۔۔۔ “

” امی آپ نے کیا کہا؟ ” حمنہ کے لئے ہر بات غیر متوقع تھی

” حمنہ میں نے بہت منع کیا اسے مگر وہ تب تک نہیں واپس نہیں گیا جب تک مجھ سے وعدہ نہیں لے لیا ۔۔۔ کہنے لگا پہلی بار اپنی اس ماں سے کچھ مانگ رہا ہوں خالی ہاتھ نہیں جاؤں گا ۔۔۔۔ پھر اتنے مان اور محبت سے کہہ رہا تھا میں کیا اسے کہتی ” حمنہ اپنی ماں کی سادگی پر زچ ہوئی تھی

” امی میری ہاؤس جاب ابھی باقی ہے آپ نے کیوں ہاں کر دی ” حمنہ کو اگر فکر تھی تو اپنے کیریر کی تھی

” بیٹا میں نے ساری بات کی تھی اس بچے سے مگر اس کے پاس ہر بات کا جیسے حل موجود تھا کہنے لگا ہاؤس جاب شادی کے بعد بھی وہ کر سکتی ہے میری پوری فیملی ڈاکٹر ہے حمنہ کے شوق میں رکاوٹ کبھی کوئی نہیں بنے گا ۔۔۔۔ بلکہ اسے بہت کچھ مزید سیکھنے کو ملے گا ۔۔۔۔ پھر نے یہ بھی کہا کہ وہ ہاؤس جاب کے بعد اپنے ابا کی خواہش کے مطابق کلینک بھی چلائے گی اسے اس پر بھی اسے کوئی اعتراض نہیں تھا ۔۔۔۔ مجھے اسکی باتوں سے لگا کہ بہت چاہتا ہے تمہیں ۔۔۔ میری بھی بہت عزت کر رہا تھا بلکل بیٹوں کی طرح میری منت سماجت کر رہا تھا ۔۔۔ اتنا امیر ہونے کے باوجود ذرا نخرہ نہیں تھا اس میں پھر میں کیا بار بار اعتراض کرتی ۔۔۔۔ عادت کا توبہت بھلا لگا مجھے ” حمنہ کی والدہ اس بار کچھ مطمئن سی لگ رہیں تھیں

” امی میں اپنی ہاؤس جاب سے پہلے شادی نہیں کر سکتی ۔۔۔ شادی باذات خود ایک زمہ داری ہے ۔۔۔۔

یہ سب ٹھیک نہیں ہے ایک سال تو بلکل بھی نہیں “

” اب میں تو ہاں کر چکی ہوں آج اسکے گھر والے آنے والے ہیں ۔۔۔ حمنہ میں تو مزید کوئی شرط نہیں رکھوں گی “۔۔۔ حمنہ کی سمجھ سے باہر تھا کہ کرے کیا ۔۔۔ ایسی کیا افتاد آن پڑی تھی جو اتنی جلدی شادی کا شوشا چھوڑ دیا وہ بھی بیس دن میں حمنہ نے خود اس سے بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔۔۔ اسے کال کی لیکن نو رسپونس ۔۔۔۔ کئ بار فون کیا لیکن کسی نے نہیں اٹھایا ۔۔۔ پوری رات کی وہ جاگی ہوئی تھی لیکن پھر بھی اٹھ کھڑی ہوئی

” امی میں بس ایک گھنٹے میں واپس آتی ہوں ۔۔۔۔ “

“لیکن جا کہاں رہی ہو اس وقت۔۔۔۔ ابھی تو تھکی ماندی گھر پہنچی ہو “

” امی میرا جانا بہت ضروری ہے ۔۔۔ بس آجاؤ گی کچھ دیر میں ” حمنہ تھکن سے چور تھی لیکن اتنی جلدی شادی کی وجہ جاننا چاہتی تھی ۔۔۔۔ کچھ دن پہلے تووہ خود سے کہہ رہا تھا ایک سال سے پہلے شادی نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔۔ وہ اس کے ہاسپٹل میں پہنچی تھی رسپشنر نے اصفر کو کال کے بتایا بھی کہ حمنہ آئی ہے اس سے ملنا چاہتی ہے لیکن اس نے کہا کہ وہ بزی ہے وہ ویٹ کرنا چاہتی ہے تو کر سکتی ہے ورنہ جا سکتی ہے ۔۔۔ ” اصفر کا پیغام سن کر وہ ویٹنگ ایریا میں بیٹھ گئ ۔۔۔ ایک گھنٹہ دو گھنٹے تین گھنٹے گزر گئے تھے کئ بار وہ پوچھ چکی تھی لیکن ایک ہی جواب تھا کہ وہ بزی ہے ۔۔۔۔ وہ ویٹ کر سکتی ہے تو ٹھیک ورنہ جاسکتی ہے

” آپ میری پیشنٹ کے سلیپ بنائیں اور اس پر فوزیہ نام لکھیں ” حمنہ کی برداشت جواب دے گئ تھی اس لئے پیشنٹ کے طور پر سلپ بنانے کے لئے کہا ۔۔۔۔ رسپشنر پر بیٹھی لڑکی مسکرائی تھی ۔۔۔

” میم فیس بھی ہے کریں گی؟ ‘”

” جی بولیے کتنی فیس ہے “

” 2000″

“دو ہزار ” حمنہ کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا

“یس میم سلپ بناؤں یا نہیں “

” جی بنائیے ” اپنے پرس سے دوہزار نکال کر اس نے سلپ اس سے لی تھی اپنی باری پر جب وہ اندر گئ تو ایک پیشنٹ پہلے سے موجود تھا بس جانے ہی والا تھا اصفر اسے ڈسکرپشن سلپ سے دوائیں کیسے لینی ہیں وہ بتا رہا تھا ۔۔۔۔ دروازہ کھلنے پر بس ایک سرسری نظر اس نے سامنے دروازے پر ڈال کر ہٹالی ۔۔۔ وہ مریض باہر چلا گیا ۔۔۔ اصفر اٹھ کر کھڑا ہوا ۔۔۔۔ اسٹیتھو سکوپ اٹھا کر کر کمرے سے باہر جانے لگا

” کہاں جا رہے ہیں آپ مجھے بات کرنی ہے آپ سے “حمنہ اس کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئ

” مجھے راونڈ پر جانا ہے آپ ویٹ کر سکتی ہیں تو ٹھیک ورنہ جاسکتی ہیں ” بڑا روٹ سا رویہ تھا اصفر کا حمنہ متحیر ہوئی تھی اسکی اجنبیت پر

” میں اس وقت ایک پیشنٹ کے طور پر یہاں آئی ہو۔ اپنی پوری فیس بھی بھری ہے ۔۔۔ ہر پیشنٹ کو آپ پندرہ سے بیس منٹ دے رہے ہیں مجھے بھی اتنے ہی چاہیے ۔۔۔ ” حمنہ کی بات پر پہلے تو اصفر نے اسے حیرانگی سے دیکھا ۔۔۔ پھر گہری سانس لے کر بولا

” آپ پیشنٹ نہیں ہیں ۔۔۔ میں کال کر دیتا ہوں ۔۔۔ فیس ریٹن ہو جائے گی ۔۔۔۔ ” وہی روکھا سا لہجہ تھا

٫” اصفر پلیز ” حمنہ بے بس ہوئی تھی اصفر دوبارہ جا کر کرسی پر بیٹھ گیا حمنہ بھی اس کے سامنے بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔

“آپ نے بیس دن بعد شادی کیوں رکھی ہے ؟۔۔۔ آپ جانتے ہیں کہ میری ہاؤس جاب ابھی رہتی ہے “

” میں آپکی والدہ کو جواب دے چکا ہوں جا کر ان سے بات کریں یہاں آپ میری پیشنٹ بن کر آئی ہیں اس لئے صرف اپنی طعبی بیماری کا ذکر کریں گھریلوں بات چیت کے لئے بات صرف بڑوں کے درمیان ہو گی ۔۔۔کیونکہ شرعی اعتبار سے۔ فی الحال میں آپ کے لئے غیر محرم ہوں اور آپ کا مجھ سے یوں بات کرنا نہایت غیر مناسب عمل ہے ۔۔۔۔ اس قسم کی بر بات اب میں آپ سے اسوقت کروں گا جب شرعی رشتہ آپ سے استوار کر چکوں گا ۔۔۔۔ “

” اصفر ٹرائے ٹو انڈسٹینڈ سمجھنے کی کوشش کریں میرے کیریر کا معاملہ ہے میں دوہری ذمہ داری نہیں اٹھا سکتی ” حمنہ رو دینے کی تھی اسکی کہی بات کو وہ کس الگ انداز سے استعمال کر رہا تھا

” میں آپکی والدہ کو ہر بات کلیر کر چکا ہوں لہذا ان سے پوچھ لیں ۔۔۔ اور بے فکر رہیں اپنی کسی بات سے مکروں گا نہیں ۔۔۔۔ “

” اصفر ” حمنہ اس کے روکھے بے لچک رویے سے زچ ہوئی تھی بلکل رو دینے کو تھی آنکھوں نمی سی تھی

” نو ڈاکٹر صاحبہ آج کے بعد جو کچھ ہو گا شرعی اعتبار سے ہو گا ۔۔۔ جائیے یہاں سے ۔۔۔ اور ہاں بیس دن کی چھٹی کی اپیلی کیشن یوسف آپکی دیدے گا ۔۔۔ آپ کو اب ہاسپٹل جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ گھر جا کر سکون سے بیس دن گزاریں یہ جو پریشان حال صورت ہے نا مجھے اپنی شادی پر ایسی دلہن نظر نا آئے ۔۔۔۔ مجھے اپنی دلہن میں ہر وہ خوشی اور امنگ نظر آنی چاہیے جو شادی کے دن ہر شوہر اپنی بیوی سے ایکسپکٹ کرتا ہے ۔۔۔۔۔ ” یہ کہہ وہ کمرے سے جا چکا تھا ۔۔۔۔ وہ بس اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئ

*******……

حمنہ کی باتیں سن کر ایک آگ سی لگ گئ تھی اسے ۔۔۔۔ سمجھ کیا رکھا تھا حمنہ نے اسے ۔۔۔۔ منگنی کیا مزاق کرنے کے لئے کی جاتی ہے یاوقت گزاری کے لئے یا اس نے مجھے کوئی چلتا پھرتا معمولی سا واڈ بوائے سمجھ لیا ہے ۔۔۔۔ وہ اچھی لگی تو عزت سے اسے اپنا نام دیا ہے ۔۔۔۔ دنیا منگنی کے بعد باتیں کرتی ہے ہوٹلنگ پر جاتی ہے ملا جاتا باتیں کی جاتیں ایسا انوکھا تو کچھ نہیں کہا تھا میں نے جس پر وہ مجھے شرعی حدود یاد کرواتی ۔”۔۔۔ دو دن تو اسی آگ خود جلاتا رہا بار بار حمنہ کا انگوٹھی واپس کرنا طیش دلاتا رہا۔۔۔لیکن بہرحال محبت وہ اس سے کرنے لگا تھا ۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے نئے اصولوں کے تحت یہ رشتہ ختم کرنے کا سوچے بہتر تھا کہ اسے مضبوط ڈور سے باندھ لے ۔۔۔ جب یہی بات اصفر نے حسن کمال کے سامنے رکھی تو وہ ہتھے سے اکھڑ گئے

” دماغ تو خراب نہیں ہو گیا تمہارا ۔۔۔۔ اسی مہنے شادی ؟ ۔۔۔ وہ بھی چند لوگوں کی موجودگی میں ۔؟۔۔ سادی سے ؟ ۔۔۔ بلکل بھی نہیں ۔۔۔ سیف کی شادی جیسی میں نے کی تھی دنیا آج بھی یاد کرتی ہے اسے اور تمہارے لئے تو اس سے بڑھ کر میں نے سوچ رکھا تھا پہلے ہی لڑکی کے معاملے میں تم نے مجھے بہت مایوس کیا ہے اور اب شادی بھی تم چاہتے ہو کے لاورثوں کی طرح کر دوں ” حسن کمال کا غصہ آخری حدوں کو چھو رہا تھا

“ڈیڈ آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ اسکی والدہ کے کوئی ملنے ملانے والے شادی میں شرکت نا کریں ۔۔۔ اس کا تو یہی حل ہے۔۔۔ نا ہم بارات لیکر جائیں گئے ۔۔۔نا ہی ان کے ملنے ملانے والے شرکت کریں گئے ۔۔۔ ولیمے پر ہم حمنہ کی والدہ کے علاؤہ کسی کو انوائیٹ ہی نہیں کریں گئے اس لئے کسی کو پتہ نہیں چلے گا کہ میری بیوی ایک عام میڈل کلاس سے آئی ہے ۔۔۔۔ اور جب یہ سب کرنا ہے تو پھر سال بھر کا انتظار کس لئے ۔۔۔۔ ” اصفر نے انکی بات کو سامنے رکھا تھا

” وہ لڑکی ابھی ہاؤس جاب کر رہی ہے “

“ہاں شادی کے بعد بھی کر سکتی ہے ۔۔ اور نا۔ بھی کرے تو ہمہیں کیا فرق پڑتا ہے بعد میں وہ ہمارا ہاسپٹل ہی جوائن کرے گی ۔۔۔ اس لڑکی میں آگے بڑھنے کی بہت چاہ ہے ڈیڈ جنون کی حد تک اپنے پیشے سے محبت ہے اسے ۔۔۔ میں اسے باہر لے جانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ جس میں اسے انٹرسڈ ہوا اسی میں اسے اسپشلائز کرواں گا ۔۔۔ ابھی کم عمر ہے وہ بہت کچھ کرنے کا جنون ہے اس میں ۔۔۔۔ہمارے ہاسپٹل کو وہاں پہنچا سکتی جہاں آپ دیکھنا چاہتے ہیں عجیب ذہن پایا ہے اس نے اسکا ریکوڈ آپ دیکھ چکے ہیں ۔۔۔ مریض کو دیکھ کر جانچ کر وہ اس قدر جلد مرض کی شاخت کر لیتی کہ میں حیران رہ گیا تھا ۔۔۔۔ میں اسے دوسری لڑکیوں کی طرح میک اپ اور فیشن پر توجہ دیتے نہیں دیکھا ۔۔ جیسے دعا بھابی کرتی ہیں ۔۔۔ بس ایک ہی شامی ہے اس میں اور وہ ہے اسکی فضول سی میڈل کلاس مینٹلٹی۔۔۔جیسے میں منگنی کے دوران نہیں بدل سکتا ۔۔۔ یہ نا ہو کے وہ انکار کر دے ۔۔۔ اس لئے شادی کرنا چاہتا ہوں پھر وہ وہی کرے کی جو میں چاہوں گا آپ۔ چاہیں ۔ گئے اسے کیسے لے کر چلنا ہے یہ میں اور آپ طے کریں گئے ۔۔۔” اصفر کی دور اندیشی پر جیسے دل ہی دل میں حسن کمال نے فخر کیا تھا ۔۔۔۔ اس لئے ہر بات پر راضی ہو گئے تھے ۔۔۔۔ باپ کی طرف سے مطمئن ہو کر دوسری فکر اب صرف حمنہ کی والدہ کو منانا تھا وہ سادہ سی عورت تھی حمنہ کی غیر موجودگی میں اپنی باتوں سے انہیں قائل کرنا اصفر کے بائیں ہاتھ کا کام تھا اس سلسلے میں یوسف کی مدد درکار تھی ۔۔۔۔ حمنہ کی نائٹ ڈیوٹی لگوائی اور خود اسکے گھر پہنچ گیا ۔۔۔ ایک احساس مند بیٹا بننے کا وعدہ ۔۔۔مان رکھنے کی قسمیں اسکی والدہ سے لے کر ہی وہ اٹھا تھا ۔۔۔

جانتا تھا جب یہ خبر حمنہ سنے گی تو اس سے بات کرنے کی کوشش ضرور کرے گی اپنا کیریئر داؤ پر نہیں لگائے گی ۔۔۔

وہی ہوا تھا تین چار گھنٹے اسے جان بوجھ کر انتظار کروا کر اصفر کی انا کو جیسے تسکین ملی تھی ۔۔۔ حمنہ کی بے بسی رقت آمیزی سے جیسے اندر لگی آگ بھجی تھی ۔۔۔ ابھی تو اسے مزید یہ بتانا تھا کہ اصفر چیز کیا ہے ۔۔۔

دل پر لگا کر اڑے تھے ۔۔۔۔ شادی کا دن بھی آن پہنچا تھا ۔۔۔۔ عشا کے بعد نکاح حمنہ کے گھر پر ہی ہوا تھا ۔۔۔ زارا اور حمنہ کی سب دوستیں وہاں پہنچی تھیں ۔۔۔۔۔ دلہن بنی ہوئی تو واقع قیامت ڈھا رہی تھی ۔۔۔ رخصتی پر اپنی والدہ کے گلے لگ کر بہت روئی تھی ۔۔۔ اصفر کے ہاتھ تھامنے پر ماں سے الگ ہوئی تھی

” بیٹا خیال رکھنا میری بیٹی کا ” حمنہ کی والدہ نے پر نم آنکھوں سے التجا کی تھی

” اپنی جان سے بھی زیادہ خیال رکھوں گا ۔۔ لیکن آپ نے رونا بلکل نہیں ہے ۔۔۔ نا ہی خود کو اکیلا سمجھنا ہے جب بھی اداس ہوں بس اپنے بیٹے کو کال کر دیجیے گا ۔۔۔ میں فورا سے حمنہ کو آپکے پاس لے آؤں گا ” بڑی اپنایت اور میٹھے بول تھے اسکے جہاں اسکی والدہ کو تسلی ہوئی تھی وہیں حمنہ بھی خوش تھی ۔۔ کہ اصفر اسکی سوچ سے کہیں زیادہ اچھا ہے ۔۔۔ رخصت ہو کر سسرال پہنچی تو گاڑی سے اترتے ہی اصفر تیز قدموں سے اکیلا ہی اندر جا چکا تھا حسن کمال اور سیف پہلے گھر پہنچے تھے اس لئے منظر سے ہی غائب تھے ۔۔۔۔ وہ اپنی ساس اور جیھٹانی کے ہمراہ اس بڑے سے بنگلے کے لاونج میں داخل ہوئی تھی ۔۔۔۔ جہاں کے ماحول سے یہ کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ شادی کا گھر ہے ۔۔۔۔ کوئی مہمان موجود نہیں تھا ۔۔۔ پہلی بار حمنہ نے اپنی جھٹانی کو دیکھا تھا ۔۔۔ خاصی ماڈرن سی لگی ڈائی شدہ بال فشن س سے لبریز ساڑی پہنے ہوئے بڑی ناپسندگی سی نگاہ اس نے حمنہ پر ڈالی تھی ۔۔۔

” دعا بیٹا حمنہ کو اسکے کمرے میں چھوڑ آؤں ” اصفر کی والدہ نے اس سے کہا

” اوہ سوری موم ایم سو ٹائیڈ آپ اماں کریمن سے کہہ دیں “منہ کے ،زاویے بگاڑتے ہوئے وہ اکیلی ہی سیڑیاں چڑھ کر جا چکی تھی ۔۔۔

” ایم سوری بیٹا وہ کچھ تھکی ہوئی تھی اس لئے چلی گئ میں خود تمہیں چھوڑ آتی لیکن میرے گھٹنوں میں تکلیف رہتی ہے ۔۔۔ میں کریمن کو بولتی ہوں ” یہ کہہ کر وہ۔ بھی کریمن کریمن کرتی ہوئی ایک طرف چلی گئیں حمنہ اکیلی سیڑیوں کے پاس کھڑی تھی ۔۔۔۔ کچھ دیر بعد ایک چالیس سالہ عورت اس کے پاس آئی اور اس کا ہاتھ تھامے اسے اوپر کی سیڑیاں چڑھانے لگی ۔۔۔ فل فینسی میکسی اور ہیل میں خود کو سنبھالے وہ بڑی احتیاط سے سیڑیاں چڑھ رہی تھی سامنے کمرے کے سامنے اس نے حمنہ کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا

” چھوٹی بہو اصفر صاحب کے کمرے میں ہمہیں جانے کی اجازت نہیں ہے آپ خود اندر چلی جائیں ” یہ کہہ وہ نوکرانی بھی چلتی بنی تھی ۔۔۔۔۔

حمنہ دروازے کا نیب گھما کر وہ اندر داخل ہوئی تھی ۔۔۔ کمرہ بلکل سادہ اور سمپل تھا ایک گلاب کا پھول تک نہیں سجایا گیا تھا ۔۔۔۔۔ وہ اندر داخل ہوئی کمرہ خالی تھا کوئی نہیں تھا کمرے میں ۔۔۔ وہ خود ہی چلتے ہوئے وہ بیڈ پر بیٹھ گئ جی چاہا پھوٹ پھوٹ کر رو دے

یہ کیسی شادی تھی ۔۔۔۔۔۔ وہ تو نکاح کے دو بول پڑھوا کر اپنے گھر لا کر ہی لاتعلق سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔ کیسی فیملی تھی نئ دلہن کو دیکھنے کا اسے بات کرنے کا سب کو شوق ہوتا ہے یہاں تو ایسا کوئی چاؤ نہیں ہی نہیں آیا تھا جیسے وہ کچھ تھی ہی نہیں ۔۔۔ بے وقعت سی چیز تھی ۔۔۔۔ خود پر ضبط کے بندھ باندھے وہ انتظار کی سولی پر لٹکی تھی ۔۔۔۔ رات کے دو بجے تک وہ بیٹھے بیٹھے اسکی کمر اکڑ کر تختہ ہوئی تھی دو بجے کمرے کا دروازہ کھلا تھا ۔۔۔ اصفر نے داخل ہو کر دروازہ بند کیا ۔۔۔ اور اپنے واڈ روب کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔ جیسے حمنہ وہاں موجود ہی نا ہو ۔۔۔ اپنا نائٹ سوٹ نکال کر واش روم میں چلا گیا۔۔۔۔ شاور لیکر اپنے نائٹ سوٹ میں ملبوس وہ باہر آیا تھا حمنہ اسکی جانب دیکھ رہی تھی لیکن اصفر کے چہرے پر کوئی تاثرات نہیں تھے ۔۔۔۔ نا خوشی کے نا غصے کے ۔۔۔ ایک نظر اب تک اس نے حمنہ پر نہیں ڈالی تھی ۔۔۔۔۔

سائیڈ ٹیبل کے دروازے سے ایک مخملی ڈبیہ نکالی اور ایک سگریٹ کا پیکٹ ڈبیہ حمنہ کی گود میں اچھال کر پھنک دی وہ بری طرح چونکی تھی

” آپ کی منہ دیکھائی پہن لیجیے گا ۔۔۔۔ “یہ کہہ کر وہ کمرے سے منسلک گیلری میں چلا گیا ۔۔۔۔ حمنہ کا جی چاہا اٹھا ،،زور سے وہ مخملی ڈبیہ سامنے ڈرسنگ کے شیشے ہے دے مارے اور اٹھ کر اپنے گھر چلی جائے یا وقت کا پہیہ بس چند گھنٹے پیچھے چلا جائے ۔۔۔ نکاح کے وقت تک ۔۔۔ اور وہ بنا کچھ سوچے سمجھے انکار کر دے ۔۔۔۔۔ اتنی ہزمیت اتنی تذلیل قصور کیا تھا اس کا ۔۔۔۔ نا تو اس نے سب کے سامنے تھپڑ مارا تھا ۔۔۔ ناہی دس لوگوں کے سامنے سے اسے رسوا کیا تھا ۔۔۔۔ کیا کیا تھا اس نے ۔۔۔ بس ایک بے حیائی کا ارتکاب کرنے سے انکار کیا تھا ۔۔۔۔ اگر دل میں اتنی نفرت اور غصہ تھا تو شادی ہی کیوں کی ۔۔۔ ڈبیہ اس نے ویسے ہی اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی خود بھی شیڈنگ کے سامنے کھڑی ہو گئ روتے ہوئے خود کو زیوارت سے آذاد کیا تھا

پھر واڈروب کی طرف بڑھ گئ ۔۔۔۔ اسے کھول کر دیکھنے لگی ایک واڈ روب میں لیڈیز کپڑے ہینگ تھے وہاں سے ایک سمپل سا جوڑا نکالا ڈسنگ روم میں چلی گئ ۔۔۔۔

اصفر گیلری میں راکنگ چیر پر بیٹھا سگریٹ پیتا رہا اسے مزید انتظار کروانا چاہتا تھا جو اپنے اصولوں کی خاطر اسکے ارمانوں پر پانی پھر چکی تھی ۔۔۔ تین ساڈھے تین بجے کمرے میں آیا تو وہ سو چکی تھی کپڑے بھی تبدیل تھے ۔۔۔۔ ہر آرائش سے مبرا تھی ۔۔۔۔ غصہ تو پہلے اصفر کو اس پر بہت تھا ۔۔۔۔ لیکن یہ دیکھ کر کہ حمنہ کو اسکی پروا تک نہیں ہے ۔۔۔۔ یہ بات اسے اندر سے مزید تپا کر رکھ گئ تھی ۔۔۔۔ آکر اسے بازو سے ہلا کر جگانا چاہا لیکن وہ یا تو پکی نیند میں سوئی ہوئی یا پھر جان بوجھ کر نظر انداز کر رہی تھی ۔۔۔ ایک بار دو بار مزید اسے ہلانے پر بھی جب وہ ٹس سے مس نا ہوئی تو سمجھ گیا جاگ رہی ہے اور غصے سے لیٹی ہوئی ہے

” آپ اٹھ رہیں یا پھر میں دوسرے طریقے سے اٹھاؤں آپکو ۔۔۔۔ ” اس بار وہ اسکے کان کے قریب جا کر بولا تھا ۔۔۔ وہ سو نہیں رہی شاید اپنی ناراضگی دیکھا رہی تھی بازو آنکھوں سے ہٹایا خفگی سے اسے دیکھا ۔۔۔ اور فورا سے اٹھ کر بیٹھ لیکن خفا خفا سی لگ رہی تھی وہ اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔ ایک نظر اسکی متورم آنکھوں کو دیکھا جو اسکے رونے کی گواہی دے رہیں تھیں

” میرے خیال سے آج شادی ہوئی ہے ہماری ۔۔۔ کس سے پوچھ کر چینج کیا ہے آپ نے ” لہجہ ذرا سا سخت تھا

” رات بھر تو میں اس حلیے نہیں رہ سکتی تھی ۔۔۔ ” وہ بات دھیرے سے کہہ رہی لیکن بنا اسکی جانب دیکھے ۔۔۔ پیشانی کے بل ناراضگی کا اظہار کر رہے تھے

” میری بیوی ہیں آپ ۔۔۔۔ آج کا دن میرا ہے ۔۔۔ میری مرضی کو اہمیت دینی چاہیے تھی آپکو ۔۔۔۔ میری خواہش کا احترام کرنا چاہیے تھا ۔۔۔۔ ” اصفر کا نظریں ہٹانا مشکل تھا جو۔ دھلے ہوئے چہرے پر بھی بلا کی معصومیت تھی ۔۔۔۔ لیکن کا دل غبار نکالنے کا موقع بھی جانے نہیں دینا چاہتا تھا

” دو بجے تک انتظار کیا تھا میں نے آپ کا ” حمنہ نے جیسے جتایا تھا

” پوری رات کرنا چاہیے تھا ۔۔۔ ” اصفر کی بات پر برجستہ اس نے اسکی طرف دیکھا جس کی آنکھیں نا جانے کس جذبے کے تحت سرخ ہو رہی تھیں

” ایک بیوی کے کیا کیا فرائض ہیں میرے خیال سے تو آپ بہت اچھے سے جانتی ہوں گی ۔۔۔۔ ” اصفر نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا تھا یا جتایا تھا لیکن وہ نظریں بدل گئ تھی

” میں تھک چکی تھی “

” یہ کوئی وجہ نہیں ہے ۔۔۔ جائیے اور دوبارہ سے تیار ہو آئیے ۔۔۔۔ ” یہ بات بھی حمنہ کو عجیب سی لگی تھی ۔۔۔۔

” میرا ایسا کوئی موڈ نہیں ہے ” وہ رخ موڑ کر بولی

” آپ جانتی ہیں شرعی اعتبار سے شوہر کو انکار کرنے کی اجازت نہیں ہے بیوی کو ۔۔۔۔ میری ہر بات آپ کے لئے حکم کا درجہ رکھتی ہے ۔۔۔۔۔ اس لئے میں آج کے بعد کسی بھی بات سے انکار نہیں سننا چاہتا ۔۔۔ جائیے اور تیار ہو کر آئیے ” نا جانے کس بات کا بدلہ لے رہا تھا ۔۔۔۔ وہ اٹھ کر ڈرسنگ روم میں چلی گئ دوبارہ سے لہنگا پہنا ڈوپٹہ بس یونہی سر پر اوٹھ لیا ۔۔۔۔ باہر آئی تو وہ اسی پوزیشن میں بیڈ پر بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ بیڈ تک پہنچتی اصفر نے نیا آڈر جاری کیا

” میک اپ کر کے یہاں تشریف لائیے گا شرع میں بیوی کا شوہر کے لئے سجنا سنورنا بھی ثواب ہے ۔۔۔۔ ” حمنہ زچ سی ہوئی تھی ۔۔۔ اتنی سی بات کا کیا کوئی اس طرح بھی بدلہ لیتا ہے ۔۔۔۔ ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہو کر ہلکا پھلکا وہ تیار ہو گئ ۔۔۔ بیڈ پر بیٹھ کر اپنا ضبط آزما رہی تھی ۔۔۔۔

” جی تو جناب ۔۔۔ اب بات شروع کرتے ہیں ” حمنہ کو تپا ہوا دیکھ کر جیسے اسے مزہ آ رہا تھا

” سب سے پہلے تو میں آج کے بعد آپ کو آپ کہہ کر مخاطب نہیں کروں گا ۔۔۔ چونکہ اب تم شرعی رو سے میری بیوی ہو تو اتنی بے تکلفی برتی جا سکتی ہے تم سے ۔۔۔۔ ویسے اس رات کے اعتبار بہت سے خواب تھے میرے اور جب تمہیں ہمسفر کے لئے پسند کیا تو مت پوچھوں کے دل میں کتنے ارمان جاگے تھے ۔۔۔۔ لیکن شومئی قسمت کہ میری بیوی خاصی تمیزدار ۔۔۔ میچور اور شریعت کی پاسدار ہے ۔۔۔ میں ٹہرا گناہگار ان مچیور اور دل پھنک قسم کا انسان جسے شاید اپنے جذبوں کو قابو میں رکھنا نہیں آتا “

” میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا آپ سے “

” چند دن پہلے بہت کچھ کہہ اور سمجھا چکی ہو تم مجھے اس لئے اب صرف چپ چاپ میری بات سنو ۔۔۔ ” اصفر کے سخت لہجے اور ٹہرے انداز پر وہ چپ سی ہو گئ تھی

” جو کچھ تم نے مجھے سمجھ کر اس دن کہا تھا ۔۔۔ میں نے اس بیس دنوں میں خود بدلنے حد الامکان کوشش کی ہے ۔۔۔ اس لئے تعریف تو بلکل نہیں کروں گا تمہاری ۔۔۔۔ کہیں تمہیں یہ نا لگے سڑک چھاپ عاشق ہوں ۔۔۔ ویسے تو میرا بھی بلکل موڑ نہیں کے تمہارے قریب بھی آوں ۔۔ لیکن کیا کروں شریعت کے تقاضے بھی تو پورے کرنے ہیں ۔۔۔ ورنہ تمہیں یہ اعتراض نا ہو کہ میں نے شرعی حق ادا کرنے کوتاہی کی ہے ” اصفر کی باتیں سن کر اسکے آنسوں جاری ہوئے تھے ۔۔۔۔۔ کس قدر سطحی سوچ کا مالک شخص تھا اتنی سی بات پر اتنی بڑی توہین ۔۔۔

” ایسا کوئی حق مجھے نہیں چاہیے جسے آپ مجبورا ادا کریں ” حمنہ کی برداشت جیسے جواب دے گئ تھی

” لیکن مجھے تو اپنا حق چاہیے چاہے تم اسے مجبورا ہی کیوں نا ادا کرو ” یہ کہہ کر اس نے حمنہ کا ہاتھ تھام لیا تھا ۔۔۔۔

*****…….

دوسرے دن مزمل صاحب خود ایجوکیشن ڈپاٹمنٹ میں پہچے ۔۔۔ لیکن وہاں بھی سنوائی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔ تھک ہار کر لوٹے تھے ۔۔۔۔

چند دن بعد ہی اسکول سے نوٹیفیکشن بھی آ گیا کہ اگر مزید چھٹیاں جاری رکھیں تو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے گا آمنہ بیگم پریشان ہوئی تھیں ۔۔۔ لائبہ نے جا کر میڈیم کی منت کی کہ جب تک اسکی والدہ ٹھیک نہیں ہو جاتیں وہ اسکول پڑھا دیا کرے گی لیکن میڈیم نے یہ بات ماننے سے بھی انکار کر دیا ۔۔۔ ۔۔۔ آمنہ بیگم نے مزمل صاحب سے کہا کہ وہ اسے اسکول میں چھوڑ دیا کریں ورنہ اتنے سالوں کی محنت پر کوئی آ کر کوئی اور بیٹھ جائے گا ۔۔۔ پہلے ساری جمع پونجی آپریشن اور دواں پر لگ گئ تھی ۔۔۔ پھر مزمل صاحب کی بھی آئے روز چھٹیاں ہو رہیں تھیں ۔۔۔وہ الگ حرج ہو رہا تھا

آمنہ بیگم نے خود ہی مزمل صاحب کی منت کی تھی

” دیکھیں جی کچھ عرصے مشکل تو ہے لیکن فاقوں سے بہتر ہے کہ ہمت کر لی جائے ۔۔۔ میں پڑھا دیا کروں گی بچوں کو۔۔۔ پھر لائبہ کا یہ سال بھی سمجھیں کہ ضائع کی گیا اب کہاں سے اس سال فیس بھری جائے گی ۔۔۔ سب کچھ میرے اس موئے پیر پے لگ گیا “

” دل چھوٹا مت کروں ۔۔۔ میں کر لوں گا سب ٹھیک ۔۔۔ ابھی تو آٹھ دن بھی نہیں گزرے تمہارے آپریشن کو ۔۔۔۔ “

” نہیں جی نوکری چلی جائے گی میری ۔۔۔ سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔ ” لائبہ کمرے سے باہر کھڑی اپنے ماں کی بے بسی دیکھ رہی تھی دونوں کی قلیل تنخواہ تھی جیسے ملا کر گھر اچھے سے چل رہا تھا ۔۔۔ اور اب ماں اس حال میں بھی شوہر کا ساتھ دینے کو تیار تھیں صرف لائبہ کے لئے ۔۔۔ اپنے کمرے میں جا پہلے تو وہ خوب روئی اسکے بعد اپنی کتابیں کھول پر پڑھنے لگی لیکن پھر سے وہی کیفت طاری ہوئی تھی ۔۔۔ وہی بے زاری ۔۔۔ شاید یہ اس کے بس میں ہی نہیں تھا ۔۔۔۔وہ میڈیکل نہیں پڑھ پارہی تھی ۔۔۔۔

دوسرے روز آمنہ بیگم پلستر سمیت مزمل صاحب کے سہارے اسکول پہنچی تھیں ۔۔ وہ انہیں گود میں لئے کلاس میں۔ بیٹھا کر آئے تھے تمام ٹیچر حیران تھی۔ اور میڈیم کچھ شرمسار لیکن خود کو غلط بھی نہیں کہہ سکتی تھیں اس لئے یہی کہاں کہ ہماری بھی مجبوری ہوتی ہے پیچھے سے آڈر نہیں تھے وغیرہ وغیرہ۔۔۔

آپ ی مدد آپ کے تحت اسکول کی سب ٹیچرز نے پیسے ملا کر ایک ویل چئیر کا انتظام کر دیا تھا جس سے یہ سہولت ہو گئ تھی کہ وہ آسانی سے کلاس تم پہنچ جاتی تھیں۔۔۔ بچے بھی ٹیچر کا خیال رکھتے تھے ۔۔۔

چند دن میں ہی اڑوس پڑوس سے کہلوا کر لائبہ نے بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کر دیا ۔۔۔ وہ پہلے سے بہت زیادہ سنجیدہ ہو گئ تھی اپنی امی کا خیال بھی رکھ رہی تھی اور گھر کی ساری ذمہ داری بھی سنبھال رہی تھی ۔۔۔

مزمل صاحب۔ اور آمنہ کو حیرت تب ہوئی جب لائبہ نے کہا کہ وہ میڈیکل میں داخلہ نہیں لے گی

“کیوں بیٹا ‘

” امی جی میں نرسنگ کروں گی ” یہ ایک اور نیا انکشاف تھا دونوں میاں بیوی کے لئے

” کیوں نرسنگ کروں گی ” آمنہ بیگم بھڑک ہی اٹھی تھیں

” آپکی خواہش یہی ہے نا کہ ڈاکٹر بنکر انسانیت کی خدمت کروں ۔۔۔۔ تو وہ میں نرس بنکر بھی کر سکتی ہوں ۔۔۔۔ نرسنگ کی فیس کم ہے ۔۔۔ ڈاکٹر بننے کے لئے بہت پیسہ چاہیے جو میں جانتی ہوں کہ میرے ماں باپ کے پاس نہیں کے نا ہی میں کوئی ذہین فطین ہوں کہ اسکالر شپ پر پڑھ لوں ۔۔۔۔ اور پھر ساری خدمت تو نرسیں ہی کرتی ہیں ۔۔۔

” کم بخت نرس اور ڈاکٹر میں تجھے فرق نہیں دکھتا ” آمنہ بیگم نے تاسف سے اسے گھورا

” امی جانے بھی دیں ۔۔۔ بس ڈاکٹر کا لیبل ہی نہیں لگا ہوتا ورنہ آپریشن تھیٹر تک تو نرسیں ہی سب کچھ کر رہی ہوتی ہیں ۔۔۔ آدھے سے زیادہ آپریشن وہی کرتی ہیں ۔۔۔۔ “

” لیکن پھر بھی عزت تو کوئی نہیں کرتا نرسوں کی ۔۔۔۔ سب حقارت کی نظر سے ہی دیکھتے ہیں کہ نرس ہے۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحبہ نہیں “

“لوگوں کی سوچ میں اور آپ کبھی نہیں بدل سکتے ۔۔۔۔ لیکن نرسنگ سے میں آپکی خواہش اور بہت جلد اس گھر کی ذمہ داری ضرور پوری کر سکتی ہوں ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ کمرے سے چلی گئ مزمل صاحب اس بار کچھ نہیں بے تھے ۔۔۔ بیٹی کی فکرمندی سمجھ گئے تھے ۔۔۔۔

*******……

صبح اصفر کی آنکھ حمنہ کی آواز پر کھلی تھی وہ شاید کسی سے فون پر بات کر رہی تھی ۔۔۔۔ اصفر نے پلٹ کر دیکھا تو بیڈ خالی تھا وہ صوفے پر بیٹھی فون پر اپنی امی سے بات کر رہی تھی

” جی امی ۔۔۔ جی ہاں میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔ خوش ہوں ۔۔۔ آپ کیسی ہیں ” آواز میں نمی تھی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوں بھی بہہ رہے تھے لیکن بول جھوٹ رہی تھی ۔۔۔۔ جیسا رویہ اصفر اسکے کی فیملی کادیکھا تھا وہ خوش تو ہر گز نہیں تھی ۔۔۔

” جی امی وہ بھی بہت اچھے ہیں ۔۔۔ جی آپ خود آئیں گئیں ناشتہ لے کر؟ ۔۔۔۔ جی ٹھیک ہے ۔۔۔ آ جائیں امی ۔۔” ابھی وہ خود کو ضبط کیے بات کر ہی رہی تھی کہ اس کا فون اصفر۔ نے چھین کر بند کیا تھا وہ یک دم چونک سی گئ تھی ۔۔۔

موندی موندی آنکھوں سے اصفر نے فون ڈسکنکٹ کیا

” آپ “

” کتنی بار تمہیں سمجھانا پڑے گا کہ مجھ سے پوچھ کر فیصلے کیا کرو” اصفر کھڑا اسے گھور کر کہہ رہا تھا ویسا ہی اکھڑا سا لہجہ تھا حمنہ سمجھ نہیں پائی تھی اب اس نے کیا غلطی کی ہے

” اب میں نے ایسا کیا کیا ہے ” اصفر کے اس کا فون اسے تھمایا

” فون کروں اپنی امی کو اور ان سے کہوں کہ یہاں ناشتہ لانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ” حمنہ اسکے بدلے رویے سے رات سے اب تک بس حیران ہی ہو رہی تھی یہ کونساروپ تھااس کا جو وہ رات سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

یہ وہ اصفر تو نہیں تھا جو اسکے سر پر ذراسی لگی چوٹ پر تڑپ سا گیا تھا ۔۔۔۔ اسکے لئے فکرمند تھا ۔۔۔۔