Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415

Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 18

644.1K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Noor-e-Emaan Episode 18

Noor-e-Emaan by Umme Hani

(یہ وال پیپر میری ایک ریڈر مبین فاطمہ نے بھیجا ہے ۔۔۔ تھنکس فار ہر )

” آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں ۔۔۔ ” حمنہ کے کہنے پر اس شخص نے چہرہ اوپر کر کے حمنہ کو دیکھا پھر کھڑا ہو گیا

” آپ وہی ڈاکٹر صیبہ ہو ۔۔۔ وہی ہو نا ” وہ اسے پہچان چکا تھا

” ہاں میں وہیں ہوں ۔۔۔۔ بیٹا کہاں ہے آپ کا ” حمنہ کے پوچھنے کی دیر تھی کہ وہ شخص پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا دوبارہ سے فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا

” مار ڈالا ۔۔۔۔ مار ڈالا میرے عبدالباری کو ۔۔۔۔ ارے کم بختوں نے میرے بچے کو مار ڈالا ۔۔۔ ” وہ شخص اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پیٹتے ہوئے رونے لگا ۔۔۔حمنہ کو لگا پورے وجود میں سے کسی نے روح کھنچ لی ہو ۔۔۔۔ یک دم اپنا پورا جسم بے جان سا لگنے لگا اپنے فرض کو نبھانے کے لئے کتنی بڑی قیمت چکا چکی تھی لیکن ہوا کیا تھا ۔۔۔۔ جس بچے کو بچانے کے لئے اس نے خود کو مار ڈالا تھا ۔۔۔ ماں جیسی ہستی اس سے چھن گئ تھی ۔۔۔۔ وہ بچہ بھی نہیں رہا تھا ۔۔۔۔ مارا ڈالااسے بھی ۔۔۔۔ حمنہ بے جان وجود کے ساتھ وہیں اس شخص کے ساتھ فٹ پاتھ پر ڈھے سی گئ تھی ۔۔۔۔ آنکھوں میں آنسوں تھے لیکن جیسے پتھر کے ہو گئے تھے ۔۔۔۔ کچھ دیر تو کچھ بول ہی نہیں پائی سڑک پر گزرتی گاڑیوں کو دیکھتی رہی اپنے آنسو۔ کو ضبط کرنے کی سعیی۔ لگی رہی وہ شخص بے تحاشہ روئے جا رہا تھا ۔۔۔۔ اولاد کادکھ کتنااذیت ناک ہوتا ہے ۔۔۔۔ آپریشن سے پہلے کیسے یہ شخص بیٹے کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ رہا تھا ۔۔۔ اور اب اسی کو کھو جانے کی درد ناک اذیت کو سہہ رہا تھا حمنہ نے اسکی جانب دیکھا جس کا کرب اسکے چہرے پر رقم تھا ۔۔۔

” آپ نے میری بات کیوں نہیں مانی ۔۔۔۔ کیوں اپنے بیٹے کو وہیں رہنے دیا لیکر کیوں نہیں گئے ” بے بسی سے اسکی آواز نہیں نکل رہی تھی ۔۔۔۔ افسوس ایسا تھا کہ ناقابل برداشت تھا

” ڈاکٹر جی پتر میرا بے ہوش تھا ۔۔۔۔ کیسے لے لیکر جاتا ۔۔۔ آپ کے جاتے ہی آدھے گھنٹے بعد جی ایک بڑی عمر کا ڈاکٹر میرے پاس آیا بولا کہ ابھی آپریشن کرنا پڑے گا ۔۔۔ میں نے کہا کہ مجھے نہیں کروانا آپریشن میرے پتر کو ہوش آ جائے تو میں یہاں سے چلا جاؤں گا ” لیکن اس ڈاکٹر نے میری ایک نہیں سنی

“کہنے لگے بنا آپریشن کیے ہم مریض کو جانے نہیں دیں گئے ۔۔۔ مجھ سے پتہ نہیں کن کن پرچوں پر انگوٹھے وہ لوگ پہلے لگوا چلے تھے کہنے لگے یہ دیکھو تم نے انگوٹھا لگایا ہے کہ بنا آپریشن کے تم بچے کو نہیں لے جا سکتے ۔۔۔اور اب تم شور نہیں مچاوں گئے نا مریض کو لیکر جاؤں گئے آپریشن کرنا بہت ضروری ہے ۔۔۔ مجھ غریب جاہل گوار کو کیا پتہ ۔۔۔ کیا ٹھیک ہے کیا نہیں میرے لاکھ منع کرنے پر بھی وہ لوگ میرے عبدالباری کو دوبارہ آپریشن تھیٹر میں لے گئے ۔۔۔۔ چار پانچ گھنٹے بعد میرے کو بیٹے باہر لے کر آئے ۔۔۔

پھر کہنے لگے وہ ٹھیک ہو گیا ہے صبح تک ہوش آ جائے گا ۔۔۔ لیکن میرے بچے کو ہوش نہیں آیا ۔۔۔

رات سے صبح ہوئی صبح سے پھر شام پھر کہنے لگے غلط ٹیکہ لگ گیا ہے اس لئے آپ کا بچہ مر چکا ہے ” یہ کہتے ہی وہ شخص پھر سے دھاڑیں مار کر رونے لگا ۔۔۔۔

” میں لٹ گیا ڈاکٹر صیبہ ۔۔۔ میں برباد ہو گیا ۔۔۔ مر گیا میں ۔۔۔میرا بچہ مر گیا ۔۔۔ میرا عبدالباری مر گیا ۔۔۔ ” وہ روئے جارہا تھا

حمنہ کی اپنی آنکھوں سے آنسوں جاری ہونے لگے

” اس بات کو کافی دن گزر گئے آپ واپس نہیں گئے “

” کیسے چلا جاؤں ۔۔۔۔ کہاں چلا جاؤں اس کی ماں رو رو کے پاگل ہو گئ ہے کہتی ہے بیٹے کی میت کو لائے بغیر نا آنا ۔۔۔ اور ہاسپٹل والے کہتے ہیں دس لاکھ بھرو پھر دیں گئے میت کو آٹھ دن گزر گئے ہیں ڈاکٹر صیبہ ۔۔۔ میرے پاس پانچ لاکھ ہی تھے جو میں نے آپریشن کے لئے دے دیے اب پیسہ کہاں سے لاؤں ۔۔۔”وہ روتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ حمنہ نے اس کا فون نمبر لے لیا ۔۔۔

” پیسے میں آپ کو دوں گی لیکن آپ کو بھی میرا ایک کام کرنا پڑے گا”وہ شخص تو یہ سن کر ہی خوش ہو گیا تھا کہ حمنہ اسے پیسے دینے کے لئے تیار ہو گئ تھی ۔۔۔اب اسے بیٹے کی ڈیڈ باڈی مل جائے گی

” جی ڈاکٹر صیبہ آپ جو کہو گی وہ کروں گا ۔۔۔ “

” میں آپ کو جب فون کروں آپ ہاسپٹل پہنچ جانا ۔۔۔ آپ کو آپکے بیٹے کی ڈیڈ باڈی مل جائے گی ۔۔۔ ” حمنہ یہ کہہ کر سیدھا یوسف کے پاس گئ تھی

*****…..

آج تو اصفر کی جیت ہوئی تھی ۔۔۔ دل میں امنگوں کا طوفان ٹھاٹھے مار رہا تھا ۔۔۔ اتنا خوش تھا کہ حمنہ کو ہار کا مزہ چکھا چکا ہے ۔۔۔۔ جان بوجھ کر رات کو نئ پینٹ شرٹ پہنی اچھے سے تیار بھی ہوا شیور بھی تازی کی ۔۔۔ تین چار قسم کے اسپرے خود پر چھڑکائے۔۔۔ گانا گنگناتے ہوئے چابی انگلی میں گھماتے ہوئے وہ گھر سے نکلا تھا حمنہ پر یہ باورا کرانا چاہتا تھا کہ وہ اپنی جیت کی خوشی منانے آیا ہے حمنہ کے گھر سامنے گاڑی کھڑی کی

نیچے اتر کر گیٹ کے پاس پہنچا تو بڑا سا تالا جیسے اصفر کو منہ چڑھا رہا تھا اصفر کے تو تلوں پر لگی تھی اور سر پر جا بجھی تھی۔۔۔ سینے پر جیسے سانپ لوٹ رہے تھے ۔۔ کہاں گئ تھی وہ اس وقت ۔۔۔ کیوں گئ تھی ۔۔۔ اپنے شوز سے اس نے ایک زور دار ٹھوکر غصے سے دروازے پر ماری تھی ۔۔۔ پھر برابر والے گھر دروازہ دھڑدھڑایا تھا

ایک مرد نے دروازہ کھولا اصفر کو جانتا تھا

” اصفر بیٹا تم “

” حمنہ کہاں ہے آپ کے گھر ہے ؟”

” نہیں بیٹا ہمارے گھر تو نہیں ہے ۔۔۔ کیاواپس نہیں آئی ابھی تک صبح کی گئ ہوئی تھی ۔۔۔ مجھے لگا شاید تم لے گئے ہو سے اپنے گھر ” وہ شاید ہر بات سے انجان تھے “

“نہیں میرے ساتھ نہیں ہے ۔۔۔ اینی وئے کسی دوست کے گئ ہو گی ۔۔۔ میں فون کر کے پوچھ لیتا ہوں ” ۔اصفر نے حمنہ کے نمبر پر کال کی لیکن اس نے فون نہیں اٹھایا ۔۔ اصفر کا غصہ مزید بڑھ گیا تھا ۔۔۔

اس نے دوبارہ کال کی تو فون آف ہو چکا تھا ۔ جس تھا مطلب کہ وہ یہ سب جان بوجھ کر رہی تھی ۔اس سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔ رگوں میں۔ خون کی جگہ آگ سی دوڑنے لگی تھی ۔۔۔ غصے سے وہ واپس گاڑی میں بیٹھ کر واپس چلا گیا ۔۔۔

******…….

حمنہ کے آپریشن سے انکار کے بعد حسن کمال کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسکی ماں کے ساتھ ساتھ

اسے بھی مار ڈالے ۔۔۔ حمنہ کے ہاسپٹل سے جاتے ہی حسن کمال جلدی سے اس بچے کے روم میں داخل ہوا بڑی مشکل سے ایک ایسا بچہ ملا تھا جو لیاقت چوہدری کے پوتے کو گردہ ڈونیٹ کر سکتا تھا ۔۔ اور دوبارہ ایسا چانس حسن کمال کو دوبارہ ملنے والا نہیں تھا ۔۔۔۔ بچے کا باپ دھاتی تھا اسے باتوں میں الجھانا اور پریشرائز کرنا حسن کمال کے لئے کوئی بڑی بات تو تھی نہیں ۔۔۔ وہ بیچارہ انکار کرتا رہ گیا لیکن ڈاکٹر کے نام پر بنے فرعونوں کو رحم نا آیا ۔۔۔ آپریشن کی اتنی جلدی تھی اور حسن کمال کا پریشر اتنا تھا کہ راشد جیسا ڈاکٹر بھی بوکھلا سا گیا تھا ۔۔۔ بچے کو سن اور بے حوشی کا انجیکشن دوبارہ نہیں لگایا تھا ۔۔۔ آپریشن کے فوری بعد اس کا سن اور بے ہوشی کا اثر ختم ہوا تھا ۔۔۔ ابھی اسٹیچز لگ رہے تھے کہ بچہ تڑپنے لگا درد کی شدت سے ہاتھ پاؤں مارنے لگا ۔۔۔ نرس کے ہاتھ سے اسٹچیز کا تھرڈ چھٹا تھا ۔۔۔ آدھا زخم ابھی کھلا ہوا تھا کہ بچے کے تڑپنے سے خون کے فوارے چھوٹ گئے تھے ۔۔۔ نرس واڈ بوائے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرراشدکے بھی ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے ۔۔۔ بوکھلاہٹ میں راشد نے نرس کو فورا سے انجیکشن لگانے کو کہا واڈ بوائے بچے کو قابو کرنے کی کوشش کرنے لگا لیکن وہ تکلیف سے کراہ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔جلد بازی میں نرس نے انجیکشن بھرا اور اسکی ائیر نکالے بغیر ہی بچے کے بازو پر لگا دیا ۔۔۔۔ کچھ دیر تڑپنے کے بعد ہی بچہ بے جان سا ہو گیا تھا ۔۔۔ غلطی نا جانے نرس کی تھی کہ سب چوروں کی چوری کرنے کے بعد طاری ہونے والی بوکھلاہٹ کی تھی لیکن بچہ مر چکا تھا ۔۔۔ سب کی ہوائیں سی اڑنے لگیں تھیں ۔۔۔

ڈاکٹر راشد نے یہ بات جب حسن کمال کو فون پر بتائی تو پہلا سوال حسن کمال کا یہ تھا کہ

” کڈنی تو نکال لی ہے نا اسکی ؟

“یس سر “۔”تو پھر مجھے کیوں پریشان کر رہے ہو ۔۔۔ اسٹیچز لگاؤں اسکے ۔۔۔ اسکے جاہل باپ کو کیسے ٹیکل کرنا ہے یہ تم اچھی طرح سے جانتے ہو ۔۔۔۔” بڑا لاپروا سا انداز تھا جیسے مرنے والا انسان نہیں کسی جانور کا بچہ ہو ۔۔۔۔ کسی بلی کتے کا بچہ بھی سامنے مرتا دیکھ لیں تو انسان کو کئ دن نیند نہیں آتی بار بار دھیان اس چھوٹے سے بچے پر چلا جاتا ہے لیکن یہ ڈاکٹر قصاب سے بھی دو ہاتھ آگے تھے ۔۔۔ کسی کا دل نہیں کانپا تھا ڈاکٹر راشد نے حسن کمال کی تاکید پر عمل کرتے ہوئے مردہ بچے کے اسٹیچز لگوا کر باہر لا کر اسکے باپ سے یہ کہا کہ بے حوش ہے چوبیس گھنٹے بعد اسے اسکے مرنے کی خبر سنائی گئی پھر فیس دینے کے لئے جب اسکے والد کے پاس پیسے نہیں تھے تو بچے کی ڈیڈ باڈی واپس نہیں کی گئ

بیچارہ باہر روتے تڑپتے انکی منتیں کرتا رہا کہ وہ غریب انسان ہے اتنے پیسے نہیں دے سکتا لیکن۔ دنیا کے خداؤں کو ذرا ترس نہیں آیا ۔۔۔۔

*****……

ساری بات یوسف نے بہت غور سے سنی تھی

” بہت بڑا ظلم ہوا ہے اس بیچارے کے ساتھ ” حمنہ کی آنکھیں آشکبار تھیں یوسف نے ایک ٹھنڈی آہ بھری تھی

” ظلم ہی ظلم ہے ۔۔۔۔ اندھیر نگری ہے “

“یوسف بھائی میں اپنا گھر بیچنا چاہتی ہوں ۔۔۔ میرا گھر کافی بڑا ہے ابا کے انتقال کے بعد ہم ماں بیٹی اتنے بڑے گھر میں رہ نہیں سکتے تھے ۔۔۔ پھر آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اس لئے مکان کے بڑے حصے کے بیچ میں دیوار کر کے ہم نے کرایے پر چڑھا دیا تھا ۔۔۔ ابا کی دوکان بھی میڈیکل اسٹور والے کو دیدی وہ بھی خاصی بڑی ہے جس پر میں اب کلینک چلا رہی ہوں ۔۔۔ اب تو علاقے کے ریٹ بھی بہت بڑھ چکے ہیں ۔۔۔ میں چاہتی ہوں کے گھر بیچ کر اس بچے کی ڈیڈ باڈی کو حاصل کیا جائے ۔۔ دس دن ہو چکے ہیں کیا پوسٹ مارٹم ہو سکتا ہے اس کاجس سے یہ ثابت ہو سکے کے اس بچے کا گردہ نکالا گیا ہے ۔۔۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ بچے کے گردے کی۔ چوری کی گئ ہے “۔”حمنہ بہت افسردگی سے بات کر رہی تھی

” میں کوشش کر سکتا ہوں ثابت بھی ہو جائے گا لیکن کروں گی کیا یہ سب جان کر “۔یوسف نے کہا

” کیس کرواں کی حسن کمال پر جتنے مرضی پیسے لگ جائیں اسے سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتی ہوں اسکے غرور اور گھمنڈ کو ٹوٹتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں ۔۔۔ ” وہ غم اور غصے سے بول رہی تھی

” حمنہ یہ ممکن نہیں ہے تم اپناسب کچھ بیچ کر بھی داؤ پر لگا دو تو حسن کمال کا بال بیکا نہیں کر سکتی ۔۔۔ ” یوسف کی بات پر حمنہ نے تاسف سے اسے دیکھا

” پتہ ہے ہمارا مسلہ کیا ہے یوسف بھائی ۔۔ ہم ظالم کو اپنا مائی باپ سمجھ لیتے ہیں ۔۔۔ سوچ لیتے کے ہم بے بس ہیں اس لئے کچھ کر نہیں سکتے ۔۔۔۔ بس چپ ہو سکتے ہیں ۔۔ ظلم سہہ سکتے ہیں ۔۔۔ صبر کر سکتے ہیں ۔۔۔ سامنے والے کو یہ سمجھا سکتے ہیں کہ تم طاقتور ہو اس لئے ہم پر نا خدا بن جاؤں ” حمنہ کے طنز پر یوسف خفیف سا مسکرایا تھا پھر اسے غور سے دیکھنے لگا

” جانتی جب ہاؤس جاب میں تمہارے گروپ کو میرے انڈر کیا گیا تھا ۔۔۔ پہلی بار تمہارے اعتماد کو دیکھ کر مجھے لگتا تھا کہ یہ لڑکی ایک دن اتنا آگے بڑھ جائے گی کہ شاید اسے دیکھنے کے لئے مجھے اپنا چہرہ بہت اونچا کرنا پڑے گا ۔۔۔

تمہارے اندر بہت ایبلٹی ہے حمنہ ۔۔۔۔ ان چکروں میں مت پڑو ۔۔۔۔ حسن کمال کی ریس ٹریک پر بھاگتے بھاگتے تم صرف خود کو زخمی کر سکتی ہو ۔۔۔۔ اس کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتی ۔۔۔ ایک حقیقت ہے ۔۔۔ بے شک تلخ ہے ۔۔۔۔ لیکن سچ ہے۔۔۔۔ ہم ایک ایف آئی آر اسکے خلاف کرنے سے آگے نہیں بڑھ سکتے ۔۔۔۔

نا جانے کن کن پرچوں پر وہ اس غریب کسان کے انگوٹھے لگوا چکا ہے ۔۔۔ حسن کمال پرانہ کھلاڑی ہے ۔۔۔۔ سارے داؤ پیچ سے واقف ہے ۔۔۔۔ شاید اس بات کا علم اصفر کو بھی نا ہو “

” اس کا نام مت لیں میرے سامنے ۔۔۔” حمنہ نے خفگی سے کہا

” کیوں کیس جیت گیا ہے اس لئے ” وہ ذرا سا مسکرایا

” اس کے کیس جیت جانے سے میں اسکی زرخرید نہیں ہو گئ نا وہ میرا مالک بن بیٹھا ہے “حمنہ کے تپے تپے لہجے پر وہ بے اختیار ہنسا تھا

” آپ ہنس رہے ہیں یوسف بھائی “حمنہ کو یوسف کا ہسنا برا لگا تھا

“ویسے ایک بات تو ہے حمنہ اصفر جیسا بھی ہے محبت تم سے سچی کرتا ہے ۔۔۔۔ میں آج تک اسے کسی کے لئے اپنے باپ کے سامنے یوں منتیں کرتے نہیں دیکھا جیسے تمہارے لئے دیکھا ہے جب تک حسن کمال نے تمہارے لئے حامی نہیں بھری تھی اصفر کی جان سولی پر لٹکی رہی تھی ۔۔۔۔ پیار سے سمجھاؤں تو شاید تمہاری بات مان جائے ۔۔۔ ” یوسف کا مشورہ اسوقت حمنہ کو برا سا لگ رہا تھا

” آپ پھر ٹھیک سے سمجھے نہیں ہے اسے ۔۔۔ اپنے باپ کے خلاف ایک لفظ نہیں سن سکتا چاہے حسن کمال غلط ہوں تب بھی نہیں وہ نا جائز کرے تب بھی نہیں ۔۔۔

اگر اصفر ٹھیک ہوتا تو کیسے ممکن تھا کہ ہاسپٹل میں ہونے والے ان گھنونے کاموں کی روک تھام نا کرتا ۔۔۔۔ آج کے بعد میرے سامنے اصفر کی سائیڈ مت لیجے گا۔۔۔ ” حمنہ کے تپے انداز پر یوسف خاموش ہو گیا ۔۔۔۔ گھر کی قیمت اچھی خاصی لگ گئ تھی یوسف نے یہ کام دنوں میں کرایا تھا ۔۔۔۔ پیسے ملتے ہیں حمنہ اس کسان کو فون کیا ہاسپٹل سے اس بچے کی ڈیڈ باڈی گورنمنٹ ہاسپٹل کائی گئ تھی ۔۔۔ حالت یہ تھی پوسٹ مارٹم کرنا مشکل ہو رہا تھا ایک سچائی سامنے آچکی تھی ۔۔۔۔ رپوٹ بھی تیار کی جا چکی تھی ۔۔۔ بچے کی ڈیڈ باڈی اسکے والد کے حوالے کر کے ۔۔۔ حمنہ نے اس کسان سے کہا کہ وہ اپنے گاؤں لے جا کر اسکی تدفین کر دے اور واپس لوٹ آئے ۔۔۔۔ وہ کسان چند دنوں میں واپس لوٹ آیا تھا ۔۔۔

ایف آئی آر حسن کمال کے خلاف کٹوائی گئ تھی پولیس والے اس لئے تیار نہیں تھے لیکن یوسف کے پاس پوسٹ مارٹم کی گورنمنٹ رپورٹ تھی اس لئے انہیں مجبورا کاٹنی پڑی ۔۔۔ اس میں ڈاکٹر غفور نے بھی حمنہ کا ساتھ دیا تھا ۔۔۔ ارسٹ وارنٹ کے ساتھ پولیس حسن کمال کے گھر پہنچی تھی۔۔۔ حسن کمال کا غصہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا پولیس ساری فیملی لاونج میں جمع ہو گئ

” کس نے کٹوائی ہے ایف آئی آر میرے خلاف ۔۔۔ اس دیہاتی میں تو اتنی ہمت نہیں تھی کون ہے اس کے پیچھے “

” آپ کی بہو اور ڈاکٹر یوسف ” ان دونوں کا نام پولیس کے منہ سے سن کر ساری فیملی متعجب ہوئے تھے ۔۔۔ اصفر کا خون کھول کر رہ گیا تھا

“دیکھ رہے اس لڑکی کو ۔۔۔۔ جس کی خاطر تم مرے جا رہے تھے ۔۔۔۔ تمہارے باپ کے خلاف ایف آئی کٹوائی ہے اس نے نا جانے اور کیا کیا گل کھلائے گی وہ بد نام کرنا چاہتی ہے مجھے ” حسن کمال نے اصفر کو کھا جانے والے انداز سے کہا پھر اپنے موبائل سے کال کر کے انسپکٹر کو پکڑا دیا وہ جی سر جی سر کرتا رہا فون بند ہوتے ہی حسن کمال سے معذرت کرنے لگا

” سر میں وہ ایف آئی آر کینسل کر دوں گا ۔۔ آپ بے فکر رہیں ” یہ کہہ کر انسپکٹر واپس چلا گیا

اصفر غصے سے باہر نکل کر گیا تھا ۔۔۔۔

حسن کمال نے ڈرائیور کو بلوایا

” اپنا موبائل دو مجھے ” حسن کمال کے حکم پر ڈرائیور نے اپنا موبائل اسے دے دیا حسن کمال نے اس کے نمبر سے حمنہ کا نمبر ڈائل کیا یہ تو جانتے تھے کہ وہ ان کے نمبر سے کال ریسیو نہیں کرے گی ایک ان نون نمبر تھا ۔۔۔ حمنہ نے فون اٹھا لیا

” تم کیا سمجھتی ہو …..تم ایک معمولی سی لڑکی۔۔۔۔اس شہر کے بڑے اور نامور ڈاکٹر کو شکست دے سکتی ہے حسن کمال کو شکست دو گی ۔۔۔میرا ایک اشارہ تمہیں صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے” “۔۔۔۔وہ پھنکارتے ہوئے بولے

” یہ وقت آپ کو بتائے گا کہ معمولی سی لڑکی کیا کر سکتی ہے ” حمنہ کا لہجہ متوازن ہی تھا

“تم اگر اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئی تو مجھے یقینا انتہائی قدم اٹھانا پڑے گا ۔۔۔۔اوروہ تمہاری موت بھی اگر ہوا نا لڑکی تو حسن کمال اس سے بھی گریز نہیں۔ کرے گا ” یہ کہہ کر حسن کمال نے فون بند کر دیا ۔۔۔

******……..=

لائبہ کو جاب کرتے ایک سال گزر گیا تھا ۔۔۔۔۔

جب اسکے والد کی پوسٹنگ مری میں ہو گئ ۔۔۔ یہ خبر لائبہ کے لئے خوشیوں کا خزانہ ثابت ہوئی تھی

” ابو جی سچ میں ہم مری جائیں گئے ” سب سے زیادہ خوشی لائبہ کو ہو رہی تھی ۔۔۔۔

“ہاں تمہاری ماں کے لئے میں نے وہاں کے گورنمٹ اسکول میں ٹرانسفر کا کہہ دیا ہے انشاللہ اگلے مہنے

ہم وہاں شفٹ ہو جائیں گئے ” مزمل صاحب نے جواب دیا

” ہائے ابو جی کتنا مزہ آئے گا نا ۔۔۔ مری کے خوبصورت پہاڑ روز دیکھنے کو ملیں گئے ۔۔۔۔ برف باری میں میں خوف برف پھنکوں گی امی پر ۔۔ بڑا مزہ آئے گا “۔۔۔ صوفے پر بیٹھی آمنہ بیگم نے بیٹی کے منہ سے یہ گل فشانیاں سن کر اسے گھوری سے نوازہ تھا

” ہاں ہاں بیٹا ایک ماں ہے ملی ہے تمہیں برف سے جی بہلانے کے لئے ۔۔۔ ارے کم بختوں نے مری میں ہی ٹرانسفر کرنا تھا ۔۔۔ مجھ سے یہاں کی سردی برداشت نہیں ہوتی ۔۔۔ اور اب یہ گھنٹے کا درد زندگی بھر کا روگ بن گیا ہے اوپر سے مری کا سرد موسم پتہ نہیں کیا بنے گا میرا ۔۔۔۔ “آمنہ بیگم اپنے جوڑوں کے دردوں سے ہراساں تھیں لیکن لائبہ کی خوشی قابل دید تھی ۔۔۔۔

” ارے امی کچھ نہیں ہوتا دو چار دن بس سردی لگے پھر عادت ہو جائے گی ۔۔۔ ہائے امی مجھے یقین نہیں آ رہا اب ہم مری میں رہیں وہ بھی ہمیشہ کے لئے افف۔۔۔۔ میری تو دلی خواہش پوری ہونے والی ہے ” لائبہ آمنہ بیگم کے کو گلے لگائے خوشی سے زور سے بینچ کر بولی

” تیری کونسی خواہش پوری ہو گئ ” آمنہ بیگم نے اسے کچھ پیچھے ہٹا کر کہا

” امی مجھے شروع سے مری بڑا پسند ہے ۔۔۔میں تو روز نماز میں دعا مانگتی تھی کہ ۔میری شادی مری ہو جائے ۔۔۔ ہائے اللہ جی آپ کتنے اچھے

آئی لو یو سو مچ” وہ اپنے آپ میں مگن بول گئ تھی یہ سوچے سمجھے بنا کہ ماں باپ دونوں وہاں موجود ہیں ایک تھپکی کمر پر لگی تو ہوش آئی

” بے شرم ۔۔۔بے حیا ۔۔۔کم بخت ۔۔۔نا ہنجان ۔۔۔۔بے عقل ۔۔۔۔ باپ کے سامنے کیسے دیدہ دلیری سے اپنی ہی شادی کی بات کر رہی ہے ۔۔۔۔ ” دو تین تھپکیوں پر لائبہ کو ہوش آئی تھی ۔۔۔۔۔

پھر باپ کی جانب چور آنکھوں سے دیکھا وہ اسے ہی خشمگیں نظروں سے دیکھ رہے تھے

اپنی غلطی کا احساس لائبہ کو بڑی شدت سے ہوا تھا بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں گئ تھی

” کم بخت نا جانے کس پر چلی گئ ہے ۔۔۔۔ ذرا لحاظ نہیں ہے اسے ” آمنہ بیگم کاغصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا

” اچھا اچھا اب بس بھی کرو۔ اپنی خوشی میں بول گئ ہو گی ناسمجھی میں ۔۔۔۔ لیکن ایک بات تو ہم بھی بھول بیٹھے تھے آمنہ اب اس کااحساس ہونے لگا ہے ” مزمل صاحب سنجیدہ سے ہوئے تھے

” اب کیا بھول گئے آپ۔۔ ایک تو میں آپکی اس بھولنے کی بیماری بڑی پریشان ہوں ۔۔۔” آمنہ بیگم نے کوفت بھرے لہجے سے کہا

” ارے وہ نہیں بیگم ۔۔۔ یہی کہ اب لائبہ بڑی ہو گئ ہے “

“مزمل صاحب آپ بھی نئ ہی لاتے ہو یہ بات بھی کوئی بھولنے والی ہے ۔۔۔ “

“پوری بات تو سن لو میری ” مزمل صاحب نے آمنہ بیگم کو ٹوکتے ہوئے کہا

” جی کہیے “

” شادی کی عمر ہو رہی ہے اسکی ۔۔۔۔ بائیس سال کی ہو چکی ہے ۔۔۔۔ اب ہمہیں اس بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچنا چاہیے ” مزمل صاحب کی بات اب انہیں سمجھ آئی تھی ۔۔۔ پھر خود بھی گہری سوچ میں ڈوب گئیں

“ہائے مزمل صاحب میں نے یہ سوچا ہی نہیں تھا میری لائبہ کی بھی شادی ہو گئ میرا تو سوچ کے ہی دل ڈوبا جا رہا ہے ۔۔۔ اسکے بغیر تو مجھے اپنا گھر ہی گھر نہیں لگتا وہ چلی گئ تو ہم بڈھا بڈھی کیا کریں گئے ۔۔۔۔ ” آمنہ بیگم کے دل پر ہاتھ پڑا تھا ۔۔۔ مزمل صاحب نے بھی کوئی گہری سوچ سوچتے ہوئے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا

” ابھی کل کی بات لگتی ہے جب میرے ہاتھوں میں نرس نے ننھی منی پیاری سی لائبہ مجھے دی تھی اور دیکھوں آج اتنی بڑی بھی ہو گئ ” دونوں کی آنکھوں میں نمی سی اتری تھی

” یہ بچیاں بھی گھر کے آنگن کی چڑیوں طرح ہوتی ہیں چوں چوں کرتے پورے گھر میں رونق لگا دیتی ہیں ۔۔۔ لالچ ہی کیا ہوتی ہے انہیں بس چند دانے ہی تو چگتی ہیں ۔۔۔۔ پھر آن کی آن میں کب دیوار کی منڈیر سے اڑ کر اتنی دور چلی جاتی ہیں کہ ۔۔۔۔۔ ” مزمل صاحب ضبط کر گئے ۔۔۔۔ لیکن آمنہ بیگم کا ضبط ٹوٹ چکا تھا وہ تو رونے ہی لگی۔ تھیں

” مزمل صاحب ۔۔۔ اب بس بھی کریں رلائیں گئے کیا ” اپنے آنسوں پونچتے ہوئے بولیں

******………

اصفر جب حمنہ کے گھر پہنچا تو وہاں کچھ اجنبی سے لوگ تھے ۔۔۔ حمنہ کا پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہ گھر بیچ چکی ہے ۔۔۔۔ اصفر وہاں سے سیدھا یوسف کے گھر گیا تھا ۔۔۔۔ دروازہ اس کی بیوی نے کھولا تھا ۔۔۔۔ یوسف بھی گھر پر موجود تھا

” مجھے یوسف سے ملنا ہے ” وہ دو ٹوک انداز سے بولا

” اصفر بھائی آپ یہیں رکیں انہیں بلاتی ہوں ” یوسف کی وانف نہیں چاہتی تھی کہ وہ اندر داخل ہو کیونکہ حمنہ بھی ان کے گھر پر ہی موجود تھی لیکن اصفر کے سر پر تو جیسے خون سوار تھا اس لئے دروازہ پورا کھول کر سائیڈ سے اندر چلا گیا یوسف کی بیوی اسے پکارتی رہ گئ لیکن وہ لان سے ہوتا ہوا لاونج کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا سامنے ہی یوسف اور حمنہ صوفے پر ہی بیٹھے نظر آ گئے حمنہ یوسف کو حسن کمال کی کال کے بارے میں ہی بتا رہی تھی ۔۔۔۔ ایک آگ سی لگ گئ تھی حمنہ کو یوسف کے گھر دیکھ کر ۔۔۔ وہ صرف یوسف کو دھمکانے آیا تھا کہ اس کے باپ پر وہ کیس کروانے والا کون ہوتا ہے اور حمنہ کا ساتھ وہ کیوں دے رہا ہے ۔۔۔ یہ نہیں جانتا تھا حمنہ اسے وہاں ملے گی یوسف کو چھوڑ کر وہ حمنہ کی جانب بڑھا تھا ۔۔۔۔ وہ گھبرا کر پیچھے ہٹی تھی جس قدر وہ غصے میں تھا پل بھر کو وہ خوفزدہ ہوئی تھی لیکن اگلے ہی پل یوسف اصفر کے سامنے کھڑا ہو گیا

” ہاں بولو کیوں آئے ہو یہاں “یوسف نے بھی سخت لہجے سے پوچھا

” آگے سے ہٹ جاؤ۔ ورنہ آج چھوڑو گا نہیں تمہیں ۔۔۔ جان سے مار ڈالو گا ” اسکی آنکھوں میں اپنی لہو رنگ آنکھیں گاڑتے ہوئے وہ شیر کی طرح دھاڑا تھا ۔۔۔

حمنہ بری طرح سے ڈر گئ تھی ۔۔۔۔

” اچھا۔۔۔ مجھے جان سے مارو گئے ۔۔۔ ٹھیک ہے میں بھی دیکھوں ۔۔۔۔ کتنا دم کے تمہارے ہاتھوں میں ۔۔۔ “یوسف بھی غصے سے بھبک کر بولا ۔۔۔ اس پہلے کے دونوں دست گریباں ہوتے یوسف کی بیوی سامنے آ گئ دونوں کے آگے جوڑنے لگی

” خدا کے لئے لڑنا بند آپ لوگ ۔۔۔ ” یوسف پیچھے ہٹ گیا اصفر اب بھی اسے گھور کر دیکھ رہا تھا

پھر حمنہ کی طرف قہر برساتی نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔

” میں باہر تمہارا گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں۔۔۔صرف دو منٹ دے رہا ہوں تمہیں ۔۔۔ جلدی سے آؤں باہر” اصفر کاغصے کے مارے سانس پھول رہا تھا

” مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ ۔۔۔۔ میرا انتظار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے آپکو ” حمنہ کا بار بار کا انکار اسے اشتعال میں لانے لگا تھا

“تم ہر حال میں میرے ساتھ جاؤں گی اور ہاتھ جوڑ کر میرے باپ سے معافی بھی مانگوں اپنا کیس بھی واپس لو گی ۔۔۔۔۔ انکار نہیں سنو گا تمہارا ۔۔۔۔ وہ زہر خند لہجے میں بول رہا تھا “

” میں نہیں جاؤں گی ” حمنہ نے پھر سے انکار کیا

یوسف حمنہ کے اب بھی آگے ہی کھڑا تھا ۔۔۔

وہ اسی کے پیچھے آدھی چھپی ہوئی تھی ۔۔۔

” سن لیا تم نے حمنہ تمہارے ساتھ نہیں جانا چاہتی اس لئے اب نکلو میرے گھر سے باہر ۔۔۔ ” یوسف نے چٹکی بجا کر اسے جانے کے لئے کیا وہ حمنہ کو گھورتے ہوئے باہر نکل گیا ۔۔۔۔ جب حمنہ کے پتہ چلا کہ اس کی ایف آئی آر بے معنی ہو گئ ہے تو پھر اس نے میڈیا کا سہارا لیا ۔۔۔ صحافی پہلے تو اس کیس کو اچھالنے اور سب کے سامنے لانے سے گھبرائے تھے ۔۔۔۔ بہت سارے چینلز نے انکار کر دیا لیکن جہاں خود غرض لوگ ہوتے ہیں وہیں احساس مند لوگ بھی مل جاتے ہیں ایسے ایک نوجوان صحافی لڑکے سے حمنہ اور یوسف کی ملاقات ہوئی وہ ساری بات سن کر انکی مدد کرنے کے لئے مان گیا

اخبار میں حسن کمال کا نام فرنٹ پیج کی زینت بنا تھا عبدالباری کے باپ کا مختصر سا۔ بیاں بھی لیا گیا ۔۔۔۔۔

خبر کسی آگ کی طرح پھیلی تھی حسن کمال کو وہ آگ لگی تھی کے برداشت سے باہر تھی ۔۔۔ اصفر کا بھی یہی حال تھا ۔۔۔۔

” یہ لڑکی بچے گی نہیں اب مجھ سے ۔۔۔۔۔ اسکے خلاف میرے پاس بہت سے ثبوت ہیں ۔۔۔ دیکھوں اب میں کیا کرتا ہوں ۔۔۔ اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے نا بھیجا تو ڈاکٹر حسن کمال نام نہیں ہے میرا ۔۔۔ ” غصے سے ڈائنگ ٹیبل پر اخبار لپیٹ کر زور سے پھنک کر وہ بنا ناشتہ کیے ہی اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے

” اصفر فورا سے پہلے طلاق دو س لڑکی کو ۔۔۔۔ اب وہ اس قابل نہیں کہ اسے اس گھر کی بہو کی حیثیت سے رکھا جائے ارے ایسی بھی کیا نفرت کہ اس حد تک پہنچ جائے ۔۔۔ حسن کو بھلے کا بدلہ برا ہی ملا ہے ۔اس لڑکی سے عیش سے رکھا ہے ہم نے اسے اور یہ ہے کہ ۔۔۔۔ ” اصفر کی والدہ بھی ناگواری سے بولیں ۔۔۔۔ اصفر نے کوئی جواب نہیں دیا بس وہاں سے اٹھ کر چلا گیا

اگلے روز حمنہ بس اسٹاپ پر اپنی مطلوبہ بس کا انتظار کر رہی تھی جب ایک تیز رفتار گاڑی اس کے پاس آ کر رکی تھی ۔۔۔۔ گاڑی کا بیک ڈور کھلا اور دو لڑکے ماسک پہنے باہر نکلے ہاتھوں میں اسلحہ لئے اوپر ہوا میں فائرنگ کی ۔۔۔ سب لوگ ڈر کر پیچھے ہٹ گئے ان میں سے ایک نے حمنہ کا ہاتھ پکڑا اور گھسٹتے ہوئے گاڑی میں لے جانے لگاوہ چیخنے چلانے لگی ۔۔۔۔دوسرے لڑکے نے پھر سے ہوائی فائر کیا پھر وہاں موجود لوگوں سے غراتے ہوئے بولا

” تم لوگوں نے یہاں کچھ ہوتے نہیں دیکھا سمجھے ۔۔۔ یہاں کسی لڑکی کو اغوا نہیں کیا گیا

بس اس بیان کے علاؤہ اگر کسی نے بھی کچھ بھی کہنے کی کوشش کی تو اسکی بیٹی بھی اسے ہی غائب ہو گی ” لوگوں کے خوف کے مارے پہلے ہی جان نکلی ہوئی تھی کون تھا جو یہ جرت دیکھاتا ۔۔۔۔ پھر وہ لڑکا بھی گاڑی میں بیٹھ گیا گاڑی تیز رفتار سے خاک اڑاتی ہوئی آگے بڑھ گئ ۔۔۔۔

حمنہ اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔ اسکی آنکھوں پر ایک کالی پٹی باندھ دی گئ پھر ناک پر ایک رومال رکھا گیا کلوروفارم کی تیز خوشبوں نے اسے چند لمحوں میں حوش وحواس سے دور کیا تھا