Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415

Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 14

644.1K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Noor-e-Emaan Episode 14

Noor-e-Emaan by Umme Hani

صبح جب اصفر کی آنکھ کھلی تو بیڈ خالی تھا کمرے پر نظر دوڑائی تو وہ کمرے میں نہیں تھی ۔۔۔ اٹھتے ہی اسے غصے آنے لگا تھا رات بھر روتے ہوئے حمنہ نے گزاری تھی ۔۔۔۔ لیکن اصفر نے کہاں اسکی ایک بھی سنی تھی ۔۔۔۔۔ اپنی ہی من مانی کی تھی ۔۔۔۔

لحاف خود سے اتار کر اس نے سائیڈ پر پھنکا تھا ۔۔۔ تیار ہو کر نیچے ڈائنگ میں پہنچا تو حسن کمال غصے سے شاید اسی کا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔۔

” اصفر یہ حمنہ صبح ہی صبح کہاں گئ ہے “

” ڈیڈ میں نہیں جانتا ۔۔۔۔ ” پیشانی پر بل ڈالے وہ کرسی کھنچ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

” کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔۔ یہ لڑکی چاہتی کیا ہے اسکی خاطر میں نے مبشر کو بھی جواب دیدیا ہے۔۔۔۔۔ ۔میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔۔ حمنہ کو اپنے ساتھ لیکر ہاسپٹل پہنچوں” وہ حکمیہ انداز سے بات کر رہے تھے

” ڈیڈ وہ اپنی امی کے گھر ہی گئ ہو گئ۔۔۔۔ ایسا کریں آپ جاتے ہوئے پک کر لیجیے گا آپ کو انکار کبھی نہیں کر سکتی یہ تو فیکٹ ہے ۔۔۔ مجھ سے ناراض ہے ۔۔۔ خوامخواہ کے نخرے دیکھائے گی جو میں فی الحال دیکھنے کے موڈ میں نہیں ہوں” گلاس میں جوس ڈالتے ہوئے وہ ناگواری سے بولا تھا ۔۔۔

” اصفر اسکی کل بھی طعبیت ٹھیک نہیں تھی ۔۔۔۔ بجائے اس کا چیک اپ کروانے کے تم اسے لڑتے پھر رہے ہو ” اصفر کی والدہ نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا

” مام پلیز کچھ نہیں ہے اسے ٹھیک ہے وہ ۔۔۔۔ ” مدافعانہ انداز سے کہہ کر اس نے بس جوس ہی پیا تھا ۔۔۔ اپنا اوورال اٹھائے وہ لاونج سے نکل کر پورچ کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔۔

حسن کمال نے گاڑی اسکی والدہ کے گھر سامنے کھڑی تھی ڈرائیور نے گھر کے دروازے پر دستک دی

دروازہ اسکی والدہ نے ہی کھولا تھا ۔۔۔ جو حمنہ کے یوں صبح آ جانے سے پریشان تھیں۔۔۔۔۔

“حسن صاحب گاڑی میں چھوٹی بہو کا انتظار کر رہے ہیں انہیں جلدی سے بھیجیں ۔۔۔۔ ” ڈرائیور کا پیغام سن کر حمہ کی والدہ پریشان ہوئیں تھیں شادی کے بعد تو ایک بار بھی حسن کمال نے انکے گھر آنے کی زحمت نہیں کی تھی ۔۔۔ پھر بیٹی کا یوں صبح سات بجے پہنچ جانا ہزار بار پوچھنے پر بھی وجہ نا بتانا اور اب اس کے سسر اسے بلا رہے تھے ۔۔۔ آخر ہوا کیا تھا ۔۔۔ وہ پہلے تو گاڑی کے پاس آ کر حسن کمال سے اندر آنے کو کہنے لگیں

” بھائی صاحب آپ اندر تو تشریف لائیں ۔۔۔۔ یوں کھڑے کھڑے لوٹ جائیں گئے تو بہت غیر مناسب سا لگے گا “

” دیکھیں بہن میں اس وقت جلدی میں ہوں آپ حمنہ سے کہیں پانچ منٹ میں باہر آئے ہمیں ہاسپٹل بھی جانا ہے ۔۔۔۔ ” کوفت زدہ شکل بنا کر وہ بولے تھے وہ کون سا یہاں رشتے داریاں نبھانے آئے تھے ۔۔۔۔ حمنہ کی والدہ تیزی سے اندر گئیں حمنہ اب بھی کمرے میں بیٹھی رو رہی تھی ۔۔۔۔

شادی کے پانچ سالوں میں جس شخص نے اسے آج تک کسی شہزادی کے تخت کر بیٹھائے رکھا تھا محبت کے لطیف جذبوں کو ہمیشہ بڑی محبت سے سنچتا آ رہا تھا ۔۔۔ اسے ہمیشہ پھولوں طرح چھوا تھا ۔۔۔۔ گزرشتہ رات تو اس شخص نے جنون کے نظر گزاری تھی ۔۔۔۔

ایک رات میں ہی اسے بتا چکا تھا کہ وہ ضد میں کہاں تک جا سکتا ہے ۔۔۔ اس لئے سوچ چکی تھی ۔۔۔ کہ اب واپس نہیں جائے گی جب تک کہ اصفر اپنے رویے کی معافی نا مانگ لے ۔۔۔۔ اس کی جائز بات پر آمادہ نا ہو جائے وہ اسکے ساتھ دوبارہ اس گھر میں نہیں جائے گی جہاں کی ہر چیز حرام کے پیسوں اور غریب مظلوم مریضوں کی مجبوریوں سے خریدی گئی ہے نا جانے اپنوں کے علاج کی خاطر کتنی عورتوں نے اپنے زیور بیچے ہوں گئے ۔۔۔۔ گھر کے خرچوں کو دبا کر ڈاکٹرز کی فیس بھری ہوں گی تا کہ انکے اپنے ٹھیک ہو جائیں۔۔۔۔۔ کیا سیٹ پر بیٹھا دو ہزار لینے والا ڈاکٹر ان کا مسیحا ہو سکتا ہے ایسی کھانوں سے بھرا ٹیبل جو کسی اور کے خون پیسنوں کو نچوڑ کر مختلف انواع کے کھانوں سے لباب بھری جائے کیسے حلق سے نیچے اتر سکتے ہیں ۔۔۔ ڈاکٹر جب دو ہزار فیس لیکر تین ہزار کی دوائیں اور پانچ ہزار کے ٹیسٹ لکھ کر ڈسکرپشن پیپر پر دوائیں لکھتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ میں نے طاقت کی میڈسن تو لکھ دیں ہیں لیکن دودھ اور پھل اور گوشت کا استعمال بھی ضروری ہے ۔۔۔ ایک بار سامنے بیٹھے مریض کی آنکھوں میں بھی دیکھ لیا کرے ۔۔۔ کے کتنی بے بسی سے وہ یہ سب سن رہا ہوتا ہے جس کی مہنے کی جمع پونجی وہ ایک وقت میں اڑا کر اسے اچھی خوراک کھانے مشورہ دیتا ہے اور رات ڈنر اپنے بچوں کے ساتھ ایک اچھے سے ریسٹورنٹ میں کرتا ہے ۔۔۔ حمنہ کے لئے یہ مشکل تھا ۔۔۔۔ وہ کبھی بھی ایسا نہیں کر سکتی تھی نا ہی ایسی بے حس زندگی گزار سکتی تھی ۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔ ایک مہدوم سی امید ابھری تھی کہ شاید اسکی جدائی سے اصفر اپنی راہ بدلنے کے بارے

ی۔ سوچے ۔۔۔۔ یہ بھی اندازہ تھا کہ وہ اسکے بنا زیادہ دن نہیں گزار سکتا ۔۔۔ اس لئے شاید محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کی بات مان لے ۔۔۔

چھوڑنا تو وہ بھی اسے نہیں چاہتی تھی کچھ بھی تھا محبت تو حمنہ نے بھی اس سے بہت کی تھی اور اب بھی کرتی تھی ۔۔۔۔ لیکن جس روش کاوہ مسافر تھا وہ اس کا ساتھ نہیں دے سکتی تھی ۔۔۔۔

“حمنہ ۔۔۔۔ ” اپنی والدہ کی پکار پر اسکی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا تھا ۔۔۔۔ وہ بے حد گھبرائی ہوئی سی تھیں

” جی امی کیا ہوا اتنی پریشان کیوں ہیں ۔۔۔۔۔۔”

“حسن صاحب لینے آئے ہیں تمہیں جلدی سے جاؤ”حمنہ سن اچھنبے میں آئی تھی

” ڈیڈ لینے آئے ہیں؟ مجھے ؟ ” وہ بیڈ سے کھڑی ہوئی تھی

” ہاں حمنہ ۔۔۔تمہارا انتظار کر رہے ہیں باہر گاڑی میں ۔۔۔۔۔ جاؤں اب ” اس نے سمجھا تھااصفر اسے لینے آئے گا تو صاف منع کر دے گی ۔۔۔۔ لیکن حسن کمال کو انکار نہیں کر سکتی تھی اس لئے آنسوں پونچتے ہوئے باہر نکل گئ ۔۔۔۔ گاڑی کا ڈور کھولا کر بیٹھ بھی گئ ۔۔۔۔

” چلو ڈرائیور ” حمنہ کی جانب دیکھے بنا حسن کمال نے ڈرائیور کو حکم دیا ۔۔۔ پورا راستہ خاموشی سے کٹا تھا ۔۔۔۔ گاڑی ہاسپٹل کے مین گیٹ پر کھڑی ہوئی حمنہ دروازہ کھول کر اترنے لگی

” حمنہ ” حسن کمال کی پکار وہ رکی تھی

” جی ڈیڈ “

“تم میرے روم میں جاؤں مجھے بات کرنی ہے تم سے ” وہی بے لچک سا لہجہ

“جی بہتر” یہ کہہ کر وہ گاڑی سے نیچے اتر گئ کوریڈور سے گزرتے ہوئے سامنے اصفر سے سامنا ہوا تھا ۔۔۔ جو گھور گھور کر اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

حمنہ سائیڈ سے جانے لگی لیکن وہ سامنے کھڑا ہو گیا

” بہت شوق ہے تمہیں مجھ سے دور بھاگنے کا ۔۔۔۔ ہمم ۔۔۔۔۔ ہر راستہ تمہیں ہمیشہ میرے سامنے لا کر کھڑا کر دے گا ۔۔۔۔ ذرا او پی ڈی سے فری ہو جاؤں تو درست کرتا ہوں تمہارے مزاج کو ۔۔”۔ سخت لہجے سے کہتا ہوا وہ اس کے سامنے سے ہٹ گیا ۔۔۔۔۔

وہ اپنے کیبن میں جانے کے بجائے حسن کمال کے روم میں گئ تھی ۔۔۔۔ بیس منٹ انتظار کرتی رہی ۔۔۔ پھر وہ اندر داخل ہوئے تھے ۔۔۔۔ حمنہ انہیں دیکھ کر احتراماً کرسی سے کھڑی ہو گئ وہ سامنے اپنی ریوالونگ چیر پر بیٹھ گئے

” اوہ پلیز سٹ ڈاؤن ” بڑا لاپروا سا انداز تھا ۔۔۔ سامنے سے سگار اٹھا کر جلا کر ہونٹوں میں دبایا تھا ۔۔۔۔

” بات تو مجھے تم سے گھر پر کرنی چاہیے تھی لیکن تم گھر پر رہنا پسند نہیں کرتی خیر ۔۔۔ یہاں بھی ہو سکتی ہے سگار کا دھواں ہوا میں اڑتے ہوئے انہوں نے بست شروع کی

” اصفر میرا بیٹا ہے ۔۔۔ اور جتنا میں اس پر فخر کروں اتنا کم ہے۔۔۔۔۔ سیف سے زیادہ مجھے اصفر سے محبت ہے ۔۔۔ اور وجہ ۔۔۔۔اسکی حد درجہ فرمابرداری ہے ۔۔۔۔۔ تم میری چوائس ہر گز نہیں تھی حمنہ ۔۔۔۔ میں نے تو اپنے بیٹے کے لئے بہت اونچے خواب دیکھے تھے ۔۔۔۔۔ لیکن اسے تم پسند آ گئیں ” حسن کمال کے لہجے کی رعونت سے بھرے انداز پر حمنہ کا جی چاہا کہ کہہ دے اپنے پاس سنبھال رکھے آپنے فرمابردار بیٹے کو لیکن بڑوں سے بدتمیزی کرنا اسے تربیت میں شامل نہیں تھا اس لئے چاہ کر کچھ نہیں کہہ پائی ۔

” بہت منتیں کیں اس نے میرے سامنے تم سے شادی کرنے کے لئے ۔۔۔۔۔ میں مڈل کلاس لڑکیوں کی مینٹلی کا ہمیشہ سے قائل رہا ہوں ۔۔۔۔ چھوٹے سے محلے میں رہ کر خواب بہت اونچے دیکھتی ہیں ۔۔۔۔

پھر داؤ پیج بھی خوب۔ چلانے جانتی ہیں امیر لڑکوں کو پھانسنے کے۔۔۔۔۔ اور ڈاکٹر حسن کمال کے گھر کی بہو بننا تو عزت اور مقام کو وہاں پر پہنچا دیتا کہ بس جہاں صرف نیچے ہی دیکھنا پڑتا ہے کیونکہ اوپر تو پھر کچھ رہ نہیں جاتا ۔۔۔۔ “یہ باتیں تو حمنہ کے گمان سے باہر کی تھیں اتنا غرور اتنا گھمنڈ تھا اس شخص کو خود پر

” آپ مجھ سے بڑے ہیں ۔۔۔ میرے والد کی جگہ ہیں اور اس سے بڑی بات میرے شوہر کے والد بھی ہیں اس لئے میرے لئے قابل احترام کے بہت اونچے مقام پر فائز ہیں ۔۔۔۔ میں دل سے آپکی بہت عزت کرتی ہوں ۔۔۔۔ لیکن اس لئے ہر گز نہیں کہ آپ ڈاکٹر حسن کمال ہیں ۔۔۔۔ اس لئے کہ میرے والدین نے مجھے بڑوں کی عزت کرنے کی بچپن سے تلقین کی ہے۔۔۔۔ یہ بات میری تربیت میں ہے ۔۔۔۔ رہ گئ مڈل کلاس لڑکیوں کی منٹیلٹی تو میرے خیال سے میں نے آپکے بیٹے کے ساتھ بھاگ کر ہر گز شادی نہیں کی ۔۔۔۔ میں تو آپکو لوگوں کی آمد سے بھی بے خبر تھی۔۔۔۔ یوں اچانک سے میرے گھر رشتہ لیکر آپ ہی آئے تھے ۔۔۔۔ مجھے اور میری والدہ کو سوچنے کا موقع تک نہیں دیا گیا ۔۔۔۔ ورنہ اچھی طرح جانچ پڑتال کرنے کا حق تو میں بھی ضرور رکھتی تھی ۔۔۔۔ میری بھی ساری زندگی کا معاملہ تھا ۔۔۔۔ لیکن آپ کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا ۔۔۔۔ اس لئے نہیں کہ مجھے حسن کمال کی بہو بننے کا شوق تھا بلکہ اس لئے میرے والد کی تربیت ایسی تھی کہ گھر آئے مہمان کا مان رکھا جائے آپ لوگ رشتہ پکا ہو جانے کا مان لیکر انگوٹھی تک ساتھ لائے تھے ۔۔۔۔ اس لئے آپکی بات کو رد نہیں کیا ۔۔۔۔ باقی رہ گیا آپ کے بیٹے کااپکی منتیں کرنا تو میرے خیال سے یہ معاملہ آپ کا اور انکا بلکل ذاتی سا ہے ۔۔۔۔ میرااس سے کوئی تعلق نہیں ۔۔۔۔ ” حمنہ نے بہت مہذب طریقے سے انہیں آئینہ دیکھایا تھا ۔۔۔۔ حسن کمال کی سوچ سے کئ ذیادہ تیز تھی وہ لڑکی سگار کے دو تین کش بڑی تیزی سے انہوں نے لئے تھے ۔۔۔۔ دل کی آگ جیسے پل میں بھڑکی تھی ۔۔۔۔ اس ذرا سی لڑکی نے اونچے تخت پر بیٹھے حس کمال کو جیسے اپنے پیروں پر لا بیٹھایا تھا ۔۔۔ احسان کا جوتا الگ سر پر رکھا تھا کہ اسے نے انہیں اپنے گھر سے بے مراد نہیں لوٹایا ۔۔۔۔ حمنہ کو دیکھ کر نا جانے انکی رگوں میں دوڑتا فشار خون کا پارہ ہائی ہونے لگتا تھا ۔۔۔۔ سرخ چہرے اور غصے سے پھولے سانسوں کے ساتھ وہ بڑے ضبط سے بولے

” گڈ۔۔۔ ویری گڈ ۔۔۔۔ رشتے کی جانچ پڑتال کروانے کے بعد تو جیسے تمہارا جواب ” ناں ” ہوتا ہے نا ۔۔۔ کیوں ۔۔۔۔” انہوں نے استزائیہ انداز سے مسکراتے ہوئے گویا اس کا مزاق اڑانے کی کوشش کی تھی

” یقینا” ناں” ہی ہوتا ۔۔۔۔۔ ” حمنہ کے جواب پر وہ سیدھے ہو کر بیٹھے تھے ۔۔۔۔ اسے یوں دیکھا جیسے نظروں سے مار ڈالیں گئے ۔۔۔ اتنی ہزمیت وہ اس لڑکی کے ہاتھوں کہاں برداشت کر سکتے تھے جنہیں خود پر کچھ زیادہ ہی بھروسہ تھا

” مطلب کیا ہے تمہارا ” دانت بینچ کر غصے کو قابو کرتے ہوئے بولے

” آپ کو کیا لگتا ہے میں آپکی ڈاکٹری شخصیت سے مرعوب ہوں یا آپکی دولت سے ۔۔۔۔ ہر گز نہیں ۔۔۔۔ مجھے میرے باپ نے اپنی چادر میں رہنا بہت اچھے طریقے سے سیکھایا ہے اور الحمد اللہ میں رہنا جانتی ہوں خدا نے اتنی صلاحیت بھی دی ہے کما کر کھاسکتی ہوں ۔۔۔۔ آپ چاہیں تو بے شک اپنے فرمابردار بیٹے سے کہہ کر مجھے طلاق دلوا کر اپنی مرضی سے انکی جہاں چاہے شادی کروا دیں ۔۔۔ مجھے دری بھر بھی پروا نہیں ہوگی ” حمنہ یہ کہہ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔

” میں نے جانے کی اجازت ابھی تمہیں نہیں دی” وہ غصے سے سخت لہجے سے بولے

” لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اب کہنے کے لئے مزید کچھ بچا ہے ۔۔۔۔۔ ” وہ اب تک متوازن لہجے سے ہی بات کر رہی تھی

” بیٹھوں یہاں ۔۔۔ تم اصفر کے ساتھ رہنا چاہتی ہو یا نہیں یہ تمہارا اور اس کا ذاتی معاملہ ہے مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم اپنی ڈیوٹی پر توجہ دو اگر تمہیں ہاسپٹل چھوڑنا بھی ہے تو تب بھی ۔۔۔۔جب تم تب تک نہیں جا سکتیں جب تک میں کسی نئے ڈاکٹر کا انتظام نا کر لوں ۔۔۔ اس کے لئے چاہوں تو ڈبل سیرلری بھی میں تمہیں دے سکتا ہوں ” اس وقت وہ مجبور تھے اتنی جلدی ایک جرنل فزیشن کی تلاش مشکل تھی ۔۔۔ جو حمنہ کے مد مقابل انہیں فائدہ پہنچا سکے

” سیلری آپ اپنے پاس رکھیں ۔۔۔ مجھے اسکی ضرورت نہیں ہے ہاں انسانیت کے ناطے میں آپ کی مدد کر سکتی ہوں جب تک کے یہاں کسی نئے ڈاکٹر کا انتظام نہیں ہو جاتا ” حمنہ نے ان پر ایک اور احسان کیا تھا

” او کے اٹس یور چوائس ” وہ لا پروائی سے کندھے اچکا کر بولے ۔۔۔۔

حمنہ انکے کمرے سے نکل گئ ۔۔۔۔ او پی ڈی سے فری ہوتے ہی وہ واپسی کے لئے ہاسپٹل سے نکلنے لگی تو اصفر سامنے کھڑا تھا ۔۔۔۔

” چلو میرے ساتھ “

” مجھے آپ کے ساتھ کہیں نہیں جانا ۔۔۔ بہتر ہو گا کہ میرا راستہ مت روکیں ” وہ سخت نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی

” حمنہ مجھے بحث نہیں چاہیے ” اس لے لہجے میں اپنا استحقاق تھا

” اصفر جانے دو اسے ” اصفر کو اپنے عقب سے حسن کمال کی آواز آئی تھی اس نے پلٹ کر دیکھا تو وہ اس کے پیچھے ہی کھڑے تھے ۔۔۔ حمنہ فوراسے باہر نکل گئ اور دو پل میں تیز قدم اٹھاتی وہاں سے جا چکی تھی

” ڈیڈ وہ ” اصفر اسے دیکھتا رہ گیا تھا

” اپنی ماں کے پاس رہنا چاہتی ہے تو رہنے دو اسے ۔۔۔۔ چار۔ چھ دن میں جب گھر کی قدر ہو گی تو بھاگی چلی آئے گی ۔۔۔ تم بھی عقل سے کام لو تو۔ بہتر ہے ۔۔۔ اسے اگر اپنی کمزوری بنا لو گئے تو سر پر چڑھے گی تمہارے اوقات میں رکھنا سکھو ۔۔۔۔۔ چلو تم میرے ساتھ ۔۔۔اور اسے کال کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔ پڑی رہنے دو اسے اسکی ماں کے گھر ” اصفر غصے کے باوجود خاموش ہی رہا ۔۔۔۔ حسن کمال کے ساتھ گھر چلا گیا

حمنہ باقاعدہ سے ہاسپٹل آنے لگی تھی اصفر کی گھورتی نظریں اسی پر ہوتی تھیں لیکن منہ سے دوبارہ کچھ نہیں کہا تھا لیکن نظروں کی بے تابی بتا رہی تھی اس کے۔ بغیر وقت کیسا گزر رہا ہے ۔۔۔۔ اور دوسرے ہاسپٹل میں بھی جاب کے اپلائے کر چکی تھی ۔۔۔ کیونکہ کلینک سے اسکی کوئی آمدنی نہیں تھی۔۔۔۔۔ کچھ ہی دن میں اسکی جاب لگ چکی تھی اور حسن کمال کو ڈاکٹر مل چکا تھا اس لئے اب حمنہ صرف اپنے کام پر ہی فوکس کر رہی تھی

جب پندرہ سے بیس دن اسے اپنی والدہ کے گھر ہو گئے ۔۔۔ اور اصفر کی نا تو کوئی کال آئی تھی نا ہی وہ خود ملنے آیا تھا تو اسکی والدہ کو پریشانی لاحق ہوئی تھی ۔۔۔۔

” حمنہ بیٹا کتنے دن کے لئے آئی ہو ۔۔۔۔ اصفر بھی تم سے ملنے نہیں آیا ۔۔۔ ورنہ کہاں وہ تمہیں چند دن سے ذیادہ رہنے دیتا ہے ۔۔۔ ” حمنہ نے چائے کا کپ اپنی والدہ کو پکڑایااور خود بھی ان کے پاس بیٹھ گئ

” امی کیوں پریشان ہورہیں ہیں آ جائیں گئے

مجھے لینے ۔۔۔۔ آج کل بزی ہیں “حمنہ نے۔ بہانہ بنایا

” جتنا مرضی مصروف ہو اتنے دن وہ خبر نا لے ۔۔۔ میں نہیں مانتی سچ بتاؤ مجھے ۔۔۔ لڑ کر تو نہیں آئی اس سے ” اپنی امی کے چہرے پر پھیلی۔ تفکر کی گہری لکیروں نے جیسے حمنہ کی زبان کو قفل لگایا تھا

” بس کچھ ان بن سی ہو گئ ہے امی ۔۔۔۔لیکن فکر مت کریں مجھے پتہ ہے کہ وہ ضرور آئیں گئے لینے “

” بیٹا ضرورت کیا تھی میاں سے لڑنے کی ۔۔۔۔ حمنہ تم سے میں ایسی امید نہیں رکھتی ہوں بیٹا ۔۔۔ چلو فون کرو اسے ۔۔۔ یہ بھلا کیا بات ہوئی کہ میاں نے ذرا سا کچھ کہہ دیا تو تم ناراض کو گھر آ بیٹھی ۔۔۔۔ ” وہ خفگی سے بولیں

” امی میرا کوئی قصور نہیں ہے ۔۔۔ غلطی اصفر کی ہے ۔۔۔۔ پلیز امی اگر میں خود سے چلی گئ تو انہیں کبھی اپنی غلطی کا احساس تک نہیں ہو گا ۔۔۔ اس لئے مجھے بلکل فورس مت کریں ” حمنہ نے التجا کی تھی

” ایک تو تم آج کل بچیاں۔۔۔۔ نا جانے کیوں ذرا سی بات کو انا کا مسلہ بنا لیتی ہو ۔۔۔۔ ایسی ضدوں سے گھر تباہ ہو جاتے ہیں بیٹا سمجھوں میری جان ۔۔۔۔ میرا تو اس دن سے دل ہی بیٹھا جا رہا ہے جس دن تم صبح سویرے ہی گھر آ گئ تھی ۔۔۔۔ ” اسکی والدہ واقع حد درجہ پریشان لگ رہیں تھیں ۔۔۔۔

” امی آپ پریشان کیوں ہو رہی ہو ۔۔۔۔ آپ کو لگتا ہے میں کسی چھوٹی موٹی بات پر روٹھ کر آ جاؤں گی ” حمنہ انہیں دھیرے دھیرے سب کچھ بتانا چاہتی تھی تا کہ وہ اسکی بات کو سمجھ سکیں

” یہی تو فکر کھائی جا رہی مجھے حمنہ ۔۔۔ تم کسی چھوٹی بات پر یوں واپس نہیں آ سکتی اور نا ہی چھوٹی موٹی بات پر اصفر یوں تم سے بے نیازی برت سکتا ہے ۔۔۔ میرا جی بہت گھبرا رہا ہے بیٹا ” وہ متفکر سی تھیں

” امی پلیز آپ کیوں دل کو چھوٹا کر رہیں ۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے آپکی کی بیٹی کمزور ہے ۔۔۔۔ جو حق پر ہونے کے باوجود اس لئے پیچھے ہٹ جائے کے ۔۔۔۔ کہیں اس کا گھر برباد نا ہو جائے “

” دیکھ بیٹا ۔۔۔۔ میاں بیوی کے رشتے میں برابری نہیں چلتی ۔۔۔۔ مرد چاہے غریب ہو یا امیر ۔۔۔۔ عورت کی برتری برداشت نہیں کرتا اس کے سامنے جھک نہیں سکتا چاہے غلطی اسکی ہی کیوں نا ہو ۔۔۔۔ عورت حق پر بھی ہو تو جھک جانے سے چھوٹی نہیں پڑ جائے گی ۔۔۔ گھر کو بسانا بڑا مشکل کام ہوتا ہے ۔۔۔۔ اپنی ذات کو فنا کرنا پڑتا ہے ۔۔۔ شادی کے بعد عورت کو جو سب سے پہلے بدلنی پڑتی ہیں وہ اپنی عادات ہیں ۔۔۔۔ اسے میاں کے رنگ ڈھلنا پڑتا ہے بیٹا “

” امی بات میری ذات کی ہوتی تو خاک ہو جاتی اصفر کے لئے ۔۔۔ اپنا آپ بدل کے رکھ دیتی ۔۔۔۔ بہت محبت کرتی ہوں اس سے ۔۔۔۔۔ ” آواز میں نمی اتری تھی ۔۔۔۔ آنکھوں سے آنسوں ٹپکے تھے ۔۔۔ ایک سسکی ابھری تھی لبوں سے ۔۔۔ دل کی ٹھیس نے جیسے بے قرار سا کر دیا تھا ۔۔۔۔ دل تو صرف اسی کے نام پر دھڑکتا تھا

” لیکن بات اللہ کی ہے امی ۔۔۔۔۔ اب اصفر کے لئے اپنے رب کو تو ناراض نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔ بس سمجھ لیں کہ ایک امتحان آن پڑا ہے مجھ پر ۔۔۔ دعا کریں کے بنا کچھ کھوئے میں کامیاب ہو جاؤں ” یہ کہہ وہ اپناضبط کھو بیٹھی تھی اس لئے اٹھ کر اپنے کمرے ۔میں چلی گئ ۔۔۔ اصفر کو چھوڑنا آسان تو اس کے لئے بھی نہیں تھا اس لئے ایک داؤ سا کھیلا تھا کہ شاید وہ اس اسکی بات سنجیدگی سے لینے کا سوچے

******……

پچھلے ایک ہفتے سے حمنہ ہاسپٹل میں نظر نہیں آ رہی تھی ۔۔۔ اصفر کے دل کا عالم یہ تھا کہ اندر سینے میں یوں مچل رہا تھا جیسے بنا پانی مچھلی ۔۔۔ پہلے تو وہ ہاسپٹل میں نظر آ رہی تھی ۔۔۔ دل کو تسلی تھی کہ شاید مان جائے لیکن پچھلے آٹھ دن سے غائب تھی ۔۔۔۔ پھر باپ کی سخت نگرانی تھی اسے اپنے بغیر ہلنے نہیں دے رہے تھے ۔۔۔۔ فون وہ خود اسے نہیں کر رہا تھا لیکن روز چیک ضرور کرتا کہ شاید اسکا کوئی میسج آیا ہو کوئی کال آئی ہو ۔۔۔۔ لیکن نہیں ۔۔۔۔ رات ڈنر پر جیسے اصفر کاضبط جواب دے گیا تھا

” ڈیڈ حمنہ کافی دن سے ہاسپٹل نہیں آ رہی مجھے تو آپ نے بات کرنے سے منع کر دیا ہے ذرا

پوچھیں اس سے مسلہ کیا ہے اس کے ساتھ چاہتی کیا ہے وہ ۔۔۔۔ ” وہ کھانا نہیں کھا رہا تھا

” وہ ہاسپٹل چھوڑ چکی ہے ۔۔۔۔ سنا ہے غفور کے پراویٹ کلینک میں کام کر رہی ہے ۔۔۔۔ اچھا بد نام کرنے پر تلی ہوئی ہے ہمہیں ۔۔۔ خیر میری بلا سے ۔۔۔ میری عزت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ” وہ لاپروائی سے بول رہے تھے ۔۔۔ سلاداپنی پلیٹ میں ڈالتے ہوئے انہوں نے اسے نئ اطلاع دی تھی

اصفر کو تو حیرت کا بڑا زور کا جھٹکا لگا تھا ۔۔۔۔

” ہاسپٹل چھوڑ دیا ہے ۔۔۔۔ ہاو کین شی ڈو دس “وہ آپے سے باہر ہوا تھا ۔۔۔۔

“یہی نہیں تمہیں ایک تحفہ اور بھی بھیجا ہے ۔۔۔” ایک انویلوپ اس کے سامنے ٹیبل پر پھنکا تھا ۔۔۔ دعا اور سیف تھے تو چپ لیکن نظریں سب کی اس انویلوپ پر تھیں

اصفر نے کھول کر دیکھا تو عدالت کا نوٹس تھا ۔۔۔حمنہ کی طرف سے خلع کا مطالبہ کیا گیا تھا اصفر کے جیسے

اوسان خطا ہوئے تھے ۔۔۔۔۔وہ اتنا بڑا قدم بھی اٹھا سکتی ہے ۔۔۔۔۔ یہ صلہ دیا تھااسے نے اسکی محبت کا ۔۔۔۔ وہ غصے سے اٹھ کر کھڑا ہوا تھا

” تم کہاں جا رہے ہو “حسن کمال نے اسے غصے سے بپھرے دیکھ کر پوچھا

“اوہ پلیز ڈیڈ آپ کے کہنے پر بیس دن صبر کرنے کا نتجہ دیکھ چکا ہوں ۔۔۔۔ اب نہیں رکو۔ گا سمجھ کیا رکھا اس نے ۔۔۔ شادی بیاہ مزاق ہے ۔۔۔ جب چاہا رچا لیا جائے جب چاہے توڑ لیا جائے ۔۔۔۔ ” غصے سے یہ کہہ وہ باہر نکلا تھا ۔۔۔۔ اسوقت حمنہ اپنے کلینک میں ہوتی تھی۔۔۔۔ وہ سیدھا اس کے کلینک گیا تھا مریضوں کی پروا کیے بغیر وہ اندر کیبن میں داخل ہوا تھا وہ ایک لیڈیز کا بلڈ پریشر چیک کر رہی تھی ۔۔۔۔ اصفر کو غصے سے لال بھبھوکا بنا دیکھ کر سمجھ گئ تھی کہ اسے خلع کا نوٹس مل چکا ہے ۔۔۔۔ اصفر نے نا آؤں دیکھا نا تاؤ اس کے ہاتھ اسٹیتھو سکوپ پکڑ کر ٹیبل پر پٹخا

” اصفر یہ کر رہے ہیں آپ ” اس جارحانہ پن پر وہ مریضہ کے سامنے شرمندہ ہوئی تھی ۔۔۔ لیکن اصفر کو تو شاید کسی بات کی پروا نہیں تھی۔۔۔

اس کا ہاتھ پکڑے وہ اسے کھنچتے ہوئے باہر لے گیا

” اصفر میرا ہاتھ چھوڑیں یہ کیا جہالت ہے ۔۔۔ ” حمنہ اپنا ہاتھ چھڑوانے لگی لیکن وہ تیز قدم بڑتا کو اسے گاڑی تک لے آیا ۔۔۔ فرنٹ ڈور کھول کر اسے اندر دھیکیلا

” اگر یہاں کوئی بھی تماشہ نہیں چاہتی تو گاڑی سے اترنے کی کوشش مت کرنا ” اس سخت تنبیہ کرتے ہوئے وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا تھا گاڑی وہ بہت رچ ڈرائیو کر دیا تھا غصے سے بھرا پڑا تھا ۔۔ حمنہ کچھ خوفزدہ بھی تھی لیکن ہمت کر کے بولی

” اصفر۔ مجھے آپ کے ساتھ کہیں نہیں جانا ہے ” اصفر قہر بھری نظروں سے اسے دیکھا تھا وہ گاڑی اندھا دھن چلا رہا تھا

” کہاں لے جا رہے ہیں مجھے “

” تمہارے گھر ۔۔۔ تمہاری ماں کو۔ بھی پتہ چلنا چاہیے کہ تمہیں مجھ سے کیا چاہیے ۔۔۔۔۔ میں نے پہلے بھی تم سے کہا تھا ۔۔۔ مجھے ضد پر اکسانے کی کوشش مت کرنا دیکھوں تو صحیح کرتا کیا ہوں میں تمہارے ساتھ ۔۔۔۔ ” وہ غصے میں پاگل پن کی انتہا پر تھا

” اصفر امی کے سامنے کوئی تماشہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے وہ پہلے بیمار رہتی ہیں ۔۔۔۔ جو کچھ کہنا ہے مجھ سے کہیں۔۔۔۔ “

” یہ تو نوٹس بھیجنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا تمہیں ۔۔۔۔ جو بھی ہو گا ذمہ دار تم ہوگی “اصفر نے گاڑی اس کے دروازے کے سامنے جھٹکے سے روکی تھی اسپٹ بریکر بڑی زور سے کھنچا تھا ۔۔۔ پھر گاڑی سے اتر کر بڑی ،زور سے دروازہ بند کیا تھا پھر حمنہ کی جانب بڑھ اس کا ڈور کھول کر اس ہاتھ پکڑ کر اسے باہر نکالا ۔۔۔

” اصفر میری بات سنیں امی کے سامنے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے “

” او شٹ اپ ۔۔۔۔ “گھر کی ڈور بیل پر اس نے انگلی تب تک دبائے رکھی جب تک کے دروازہ کھل نہیں گیا تھا ۔۔۔۔۔ اسکی والدہ دونوں دیکھ پہلے تو خوش ہوئیں لیکن اصفر کو غصے میں حمنہ ہاتھ پکڑے دیکھ کر پریشان ہوئیں تھیں وہ اندر بڑے غصے سے داخل ہوا تھا پھر ایک زور دار جھٹکے سے حمنہ کا ہاتھ چھوڑا تھا ۔۔۔

” اصفر بیٹا کیا ہوا ہے ” حمنہ کی والدہ کارنگ اڑا تھا اصفر نے جیب سے ایک انویلوپ نکال کر انکی طرف پھنکا تھا

” پوچھیں اپنی۔ بیٹی سے ۔۔۔۔ کیا تکلیف دی اب تک اسے میں نے ۔۔۔۔ کس کی چیز کی کمی ہے اس کے پاس ۔۔۔ پچھلے پانچ سالوں میں کون سے سے ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں اس پر ۔۔۔ جو یہ خلع لینا چاہتی ہے مجھ سے ” خلع کا لفظ سن کر حمنہ کی امی کا ہاتھ سینے تک گیا تھا

” اصفر خدا کے لئے چپ ہو جائیں “حمنہ نے روتے ہوئے کہا تھا

” میں چپ ہو جاؤں اور تم جھوٹی کہانی سنا کر اپنی ماں کے سامنے سچی بن جاؤں ” وہ چلا کر بولا تھا ۔۔۔۔۔۔

” حمنہ ۔۔۔۔ اصفر سچ کہہ رہا ہے؟ تم نے خلع مانگی ہے ؟’ ” وہ اب بھی بے یقین تھیں کہ ایساقدم انکی۔بیٹی بھی اٹھا سکتی ہےحمنہ اپنی والدہ کے پاس آئی تھی

” امی میری بات سنیں ۔۔۔۔ “

” صرف اس بات کا جواب دو ۔۔۔ تم نے طلاق مانگی ہے اصفر سے ؟ ” بہتے ہوئے آنسوں کے ساتھ انہوں نے بیٹی کی طرف دیکھا تھا جو خود بھی رو رہی تھی ۔۔۔۔ ماں کو اپنی حمنہ سے ایسی امید تو کبھی نہیں تھی۔۔۔۔

“امی “

” حمنہ ہاں یا ناں ؟” وہ جیسے بامشکل بولیں

” ہاں ۔۔۔ لیکن امی ” حمنہ اس سے پہلے کچھ بولتی ایک زوردار تھپڑ اسکے منہ پر پڑا تھا ۔۔۔۔

” کیسے مانگ سکتی ہو تم طلاق ۔۔۔۔ وہ بھی اپنے منہ سے ۔۔۔ ایساغلیظ لفظ تم زبان پر لائی بھی کیسے ۔۔۔۔ سوچا بھی کیسے ۔۔۔۔ میں تو روز تمہارے گھر بس جانے دعائیں مانگ رہی تھی ۔۔۔ اور تم “

“امی ۔۔۔ امی ایک بار بات سنیں میری ” وہ روتے ہوئے بولی اسکی ماں کو شاید حمنہ کی حرکت سے صدمہ سا ہوا تھا ۔۔۔ رنگ انکا لٹھے کی طرح سفید ہوا تھا ۔۔۔۔ چہرے پر بے یقینی تھی ۔۔۔۔۔

انہوں نے حمنہ کو بازو سے پکڑا اور کھنچتی ہوئی اصفر کے پاس کے گئیں

” اسے اپنے ساتھ لیکر جاؤں ۔۔۔۔ آج اپنی تربیت پر تمہارے سامنے شرمندہ ہوں اصفر ۔۔۔۔ ” وہ روتے ہوئے کہہ رہی۔ تھیں “

” امی میری بات سنیں مجھے کہیں نہیں جانا” حمنہ نے۔ بے بسی سے کہا تھا

” چپ ہو جاؤں تم اب اگر کچھ بھی بولی تو اپنا دودھ نہیں بخشوں گی تمہیں ” ایسا قفل ماں نے منہ پر لگایا تھا حمنہ کے ہونٹ سل گئے تھے

پھر روتے ہوئے انہوں نے اصفر کے سامنے ہاتھ جوڑے

“مجھے معاف کر دو بیٹا ” اصفر کے ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے تھے

” امی کیوں مجھے گناہگار کر رہیں ہیں ۔۔۔ ” وہی اپنایت جو وہ ہر بار دیکھاتا تھا اس بار حمنہ کو سب سے ذیادہ برا لگ رہا تھا

” اگر تمہاری نظر میں میری تھوڑی سی عزت اور مقام ہے تو وعدہ کروں حمنہ کو کبھی بھی طلاق نہیں دو گئے ۔۔۔۔ “انہوں نے جیسے اسکی منت کی تھی

“امی ” حمنہ نے بے بسی سے روتے ہوئے التجائیہ کہا تھا لیکن ماں کی گھوری پر چپ ہوئی تھی

“۔ کبھی نہیں دوں گا ۔۔۔۔ اگر ایسا کرنا ہوتا تو آپ کے پاس کیوں آتا اسی لئے آپ کے پاس آیا ہوں کے سمجھائے اسے ۔۔۔۔ یوں ذرا ذرا سی بات پر گھر۔ برباد نہیں کیے جاتے ” انکے دونوں ہاتھ۔ چومتے ہوئے وہ انکا سب سے بڑا ہمدرد بنا تھا

” اسے تم ساتھ لے جاؤں ۔۔۔ اگر اب یہ واپس آئی تو میرا مرا منہ دیکھے گی ” یہ جمعلہ کہتے ہوئے انہوں نے خفگی سے بیٹی کو دیکھا تھا جو مسلسل رو رہی تھی۔۔۔۔

” جی لینے ہی تو آیا ہوں اسے ۔۔۔۔ آپ فکر مت کریں اچھی طرح سے اسے سمجھا دوں گا کہ گھر کیسے بسائے جاتے ہیں ” جس معنی خیز انداز سے وہ کہہ رہا تھا ۔۔۔۔ حمنہ اچھی طرح سے سمجھ گئ تھی کہ وہ کیا کرے گااس کے ساتھ ۔۔۔۔۔

ماں نے ایسی قسموں میں جھکڑا تھا کہ رک نہیں سکتی تھی ۔۔۔ اس ستمگر کے ساتھ باہر نکل گئ کسی ٹوٹے ہوئے پتے کی طرح جو ہوا کی طاقت کے سامنے بلکل بے بس ہوتا ہے بس ہوا کی مرضی اڑا کر اسے کہاں لے جا کر پھنک دے ۔۔۔۔ ایک ڈاکٹر ہو کر ۔۔۔۔ سرجن بن کر ۔۔۔۔ وہ رشتوں میں اب بھی ایک بے بس سی بیٹی تھی ۔۔۔۔ جیسے ہر صورت ماں کا نام رکھنا تھا ۔۔۔۔ ایک ایسی زندگی گزارنی تھی۔۔۔۔ جواس لئے اذیت ناک تھی ۔۔۔۔ کاش کے وہ انجان رہتی یا یہ آنکھیں اصفر سے شادی کرنے سے پہلے کھل جاتیں ۔۔۔۔

گاڑی میں اس کے برابر بیٹھی تھی بے بسی سے ۔۔۔ ایکجسمے کی طرح

” چپ کیوں سوئٹ ہارٹ ۔۔۔ بولو ۔۔۔ بات کرو مجھ سے ۔۔۔۔ ” اصفر کے استز،ائیہ مسکراہٹ اور طنزیہ لہجے پر اس کی چاہا چلتی گاڑی سے کود جائے

” اچھا چلو یہ ہی بتا دو کے مجھے کتنا مس کیا ۔۔۔۔

“یہ کہہ کر ہسنے لگا ۔۔ قہقے لگانے لگا

” Humna asfer Kamal will always be humna asfer Kamal remember this “

حمنہ نے آبدیدہ آنکھوں سے اسکے دھندلے چہرے کو پہلی بار نفرت سے دیکھا تھا ۔۔۔۔ آنکھیں بند کر لیں آنسوں سے رخسار بھاگنے لگے تھے

اصفر کے نمبر فون کی ٹیون بجی ۔۔۔ نمبر حمنہ کی والدہ کا تھا

“جی امی کہیے ” اصفر نے حمنہ کو طرف مسکراتے ہوتے دیکھ کر دو پر جواب دیا لیکن اگلے ہی پل مسکراہٹ مہدوم ہو کر ختم ہوئی تھی چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔۔۔۔

“واٹ ۔۔۔ کیا ہو ہے انہیں ۔۔۔ او کے میں ابھی پہنچ رہا ہوں ۔۔۔ ” اصفر نے گاڑی تیزی بیک کی تھی

” اصفر کیا ہوا ہے ۔۔۔ کیا کہہ رہیں تھیں امی ” حمنہ کو یہ معلوم ہو چکا تھا کہ۔ فون اس کی والدہ کاایا تھا

” پتہ نہیں تمہارے پڑوس سے کوئی تھا ۔۔۔۔ وہ شاید بے ہوش ہو گئیں ہیں “

بے اختیار حمنہ کا ہاتھ منہ تک گیا تھا آنسوں میں روانی آئی تھی۔۔۔