Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 22
Rate this Novel
Noor-e-Emaan Episode 22
Noor-e-Emaan by Umme Hani
حمنہ بری طرح سے گھبرائی تھی اس سے پہلے کہ وہ اندر آتا اور بچوں کو دیکھ لیتا ۔۔۔۔ حمنہ نے پہلے تو بچوں کو مزید کمبل سے لپیٹ دیا پھر بیڈ سے نیچے اتر گئ اپنے بہتے آنسوں صاف کیے اور کمرے کے دروازے کے پاس جا کر رک گئ دھڑکنیں تیز رفتار سے چل رہیں تھیں اس وقت بہت خوفزدہ تھی ۔۔۔۔ کوئی پناہ گاہ ایسی نہیں تھی جو اسے اصفر سے چھپا سکے کیسے وہ بے دھڑک ہر جگہ پہنچ جاتا تھا ۔۔۔۔۔ چاہے یوسف کا گھر ہو یا ڈاکٹر بیگ کا ۔۔۔۔ اسے اصفر سے چھاپانے لئے نا کام تھا باہر وہ اسی کو پکار رہا تھا ڈاکٹر بیگ کی۔ بھی آوازیں آ رہیں تھیں وہ شاید اسے واپس جانے کے لئے کہہ رہے تھے لیکن وہ اپنی دھن کا پکا تھا یہی کہہ رہا تھا کہ حمنہ سے ملے بنا اس سے بات کیے بنا وہ واپس نہیں جائے گا ۔۔۔ جانتی تھی کہ وہ اپنی بات سے ٹلے گا نہیں اپنے آنسوں پونچ کر اس نے اپنے خوف پر قابو پایا تھا فارس کی بات ٹھیک تھی کب تک وہ ڈر ڈر کی چھپ چھپ کر جی سکتی تھی ۔۔۔ کب تک اسے بھاگ سکتی تھی۔۔۔۔۔ اس سے اپنے راستے الگ کرنے کے لئے اسے بات تو کرنی تھی۔۔۔ اس لئے دروازہ کھول باہر نکلتے فورا سے دروازہ بند کیا تھا ڈاکٹر بیگ اسے جانے کا کہہ رہے تھے اور وہ حمنہ ملنے پر باضد تھا ڈاکٹر بیگ کی وائف بھی شور سے کمرے سے باہر نکل آئیں تھیں ۔۔۔ ڈاکٹر بیگ کی حمنہ کے طرف پشت تھی اصفر سامنے کھڑا تھا حمنہ کو دیکھ کر چپ ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔ چھ سال بعد اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ بظاہر ذرا سی نہیں بدلی تھی ویسی ہی تھی ۔۔۔۔
لگ رہا بیچ کے چھ سال غائب ہوئے تھے ۔۔۔۔ وقت وہیں تھم گیا تھا رک گیا تھاگھڑی کی سوئیاں بند ہوئی تھیں چھ سال کے طویل عرصے کو حمنہ کی ایک جھلک نے پل ختم کیا تھا ۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر بیگ نے اصفر کو ایک ٹک پیچھے دیکھتے دیکھا تو پلٹ گئے حمنہ کو دیکھ کر اصفر کی چپ سمجھ آئی تھی ۔۔۔۔ وہ چلتی ہوئی ڈاکٹر بیگ کے پاس کھڑی ہو گئ
” حمنہ ” ا اصفر کو ایک بے یقینی سی اب بھی تھی۔ ۔۔۔ خواب اور حقیقت سب جیسے دل و دماغ میں یک جان ہوئے تھے ۔۔۔۔ اصفر کی بے چینی کا یہ عالم تھا کہ اسے چھو کر یقین کرنا چاہتا تھا لیکن وہ فاصلے پر تھی ۔۔۔۔ ٹپ ٹپ اصفر کے آنسوں بہے تھے
” حمنہ تم ” اصفر کچھ اور آگے بڑھا تھا
” دور رہ کر بات کریں مجھ سے ” حمنہ کے سخت لہجے پر جیسے وہ ہوش میں لوٹا تھا ۔۔۔۔ اس کا روٹ سا لہجہ سن کر قدم رکے تھے
” اصفر بہتر ہے تمہیں جو کہنا ہے سامنے صوفے پر بیٹھ کر کہو ۔۔۔۔۔ “ڈاکٹر بیگ نے کہا
وہ اثبات میں سر ہلا کر صوفے پر بیٹھ گیا نہیں چاہتا تھا۔ کہیں وہ نظروں سے اوجھل نا ہو جائے۔ ۔۔۔۔
حمنہ بھی ڈاکٹر بیگ اور انکی بیوی کے ساتھ اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
” ہاں بولو کیا کہنا چاہتے ہو تم ” بات ڈاکٹر بیگ نے شروع کی
” م۔۔۔میں حمنہ سے بات کرنا چاہتا ہوں ” اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے بولا
“ہاں تو کرو بات ” ڈاکٹر بیگ نے کہا
” صرف حمنہ سے ” ایک ٹک وہ اس پر نظریں جمائے ہوئے تھا شاید پلکیں بھی نہیں جھپک رہا تھا
لیکن حمنہ نے ایک سے دوسری نظر اس پر نہیں ڈالی تھی
” آپ کو جو کچھ کہنا ہے آپ ڈاکٹر بیگ کے سامنے کہیں ۔۔۔۔ مجھے آپ سے اکیلے میں کوئی بات نہیں کرنی ” وہ بنا اسکی جانب دیکھے بولی
” لیکن مجھے صرف تم سے بات کرنی ہے ۔۔۔ چھ سال سے ڈھونڈ رہا ہوں تمہیں دیوانوں کی طرح ۔۔۔۔
کہاں غائب ہو گئ تھی تم۔ ۔۔۔۔” وہ کسی کرب سے گزر رہا تھا
” یہ سوال اپنے ڈیڈ سے کر لیتے تو شاید چھ سال کی مسافت سے بچ جاتے ” حمنہ تڑخ کر جواب دیا
“حمنہ ۔۔۔ میں تمہارا گناہگار ہوں ۔۔۔۔ تم سے معافی بھی مانگنے کو تیار ہوں ۔۔۔۔ اگر سزا دینا ۔۔۔
چاہوں تو وہ بھی دے سکتی ہو لیکن پلیز یوں اجبنی مت بنو ۔۔۔۔ ” وہ متلجی ہو کر بات کر رہا تھا چاہتا کہ وہ اس کی طرف جانب دیکھ کر بات کرے ۔۔۔ لیکن وہ رخ بدلے بیٹھی تھی
” مجھے کچھ نہیں سننا بس ایک احسان کر دیں مجھ پر۔۔۔ مجھے اپنے رشتے سے آذاد کر دیں احسان مند رہوں گی آپ کی ۔۔۔۔ ” وہ اجنبیت وہی روکھا س رویہ
“حمنہ ” اصفر نے رقت آمیز لہجے سے کہا ابھی بات چل ہی رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی تھی دروازہ ڈاکٹر بیگ کی بیگم نے کھولا تھا سامنے فارس کھڑا تھا ۔۔۔۔۔ بہت تیزی سے اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔۔ سامنے اصفر کو دیکھ کر اشتعال میں آ گیا تھا ۔۔۔۔ سیدھا اصفر کے پاس آکر بولا
” اٹھوں یہاں سے اور نکلو باہر “
فارس کا یوں طیش میں آنا اصفر کی سمجھ سے باہر تھا ۔۔۔۔
” فارس تم ادھر آؤں میرے پاس ” ڈاکٹر بیگ نے اسے اپنے پاس بلایا لیکن وہ اب بھی اصفر کو ہی غصے سے دیکھ رہا تھا
” فارس کم ان “ڈاکٹر بیگ کے دوبارہ پکارنے پر وہ جا کر حمنہ کے برابر میں بیٹھا تھا حمنہ ضرور سمٹ گئ تھی فاصلہ رکھ چکی تھی ۔۔۔۔۔ اس طرح سے فارس کا حمنہ کے پاس بیٹھنا اصفر کو باہر نکلنے کے لئے کہنا۔۔۔۔ اس سے پہلے بھی اس سے یہ پوچھنا کہ حمنہ اسکی کیا لگتی ہے ۔۔۔ اصفر کو کچھ مشکوک سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔
“دیکھوں اصفر میں حمنہ کے حوالے سے بات تم سے کرنا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن اکیلے میں ۔۔۔ لیکن اب تم آ ہی گئے ہو تو بات یہیں ہو جائے تو بہتر ہے ۔۔۔۔ جو کچھ بھی تم نے اور تمہارے والد نے حمنہ کے ساتھ کیا ۔۔۔۔۔ وہ سب میں جان۔ چکا ہوں ۔۔۔۔ حمنہ تمہارے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو پھر زبردستی کے بندھن کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔۔۔۔ بہتر یہی ہے کہ تم اسے آزاد کر دو ” ڈاکٹر بیگ کی بات وہ سن رہا تھا دیکھ حمنہ کو رہا تھا
” یہ بات میری اور میری بیوی کی ذاتی ہے بہتر ہے کہ ہم آپس میں طے کریں ۔۔۔۔ آپ اور یہ سوال کا حق نہیں رکھتے ” اصفر نے فارس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا فارس اسی کو دیکھ رہا تھا ڈاکٹر بیگ نے بات آگے بڑھائی
” یہ بات بھی ہم حمنہ کی خواہش پر ہی کر رہے ہیں”
” حمنہ میں صرف تمہارا جوابدہ ہوں ۔۔۔۔ تمہارے منہ بھولے باپ بھائی کا نہیں ” اصفر نے براہ راست حمنہ سے بات کی اور بھائی کہتے ہوئے فارس کی طرف خشمگیں نظروں سے دیکھا جو حمنہ کے برابر میں بیٹھا زہر لگ رہا تھا
بھائی سن کر فارس تپ سا گیا تھا
” تم فیصلہ کب دو گئے یہ بتاؤں ۔۔ حمنہ کو کس سے کون سا رشتہ جوڑنا ہے اس کا فیصلہ وہ خود کر لے گئ ” فارس بھی سخت لہجے سے بولا
” حمنہ مجھے تم سے اکیلے میں ملنا ہے ۔۔۔۔ ” اصفر نے فارس کو نظر انداز کر کے حمنہ سے پوچھا
” مجھے ایسی کوئی ملاقات نہیں کرنی ۔۔۔۔ مجھے بس طلاق چاہیے ۔۔۔۔ ” حمنہ اس کی طرف زیادہ دیر دیکھ نہیں رہی تھی
“حمنہ مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے ۔۔۔تمہیں کبھی ڈیڈ کے ساتھ رہنے اور ان سے ملنے پر مجبور نہیں کروں گا ڈیڈ کا ہاسپٹل بھی چھوڑ دونگا ۔۔۔ وہ ہر چیز جو تمہیں پسند نہیں یا تمہارے نزدیک گنا ہے خدا کی قسم اسکے پاس بھی نہیں جاؤں گا ۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔ تمہں نہیں چھوڑ سکتا ٹرائے ٹو انڈسٹینڈ “نم آنکھوں سے وہ بے بسی سے بول رہا تھا
” میرے نزدیک اب یہ باتیں غیر اہم ہوچکیں ہیں ۔۔۔۔ میرے لئے آپ سے جڑا یہ رشتہ صرف ایک بوجھ ہے ۔۔۔ایک اذیت ناک بوجھ جو پل پل میرا دم گھونٹتا ہے ۔۔۔۔ مجھے واپس ماضی کی انہیں اذیتوں سے دو چار کر دیتا ہے جو میں بھولنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔ میں مزید اس میں نہیں رہ سکتی مجھے حق ہے کہ میں ایسے رشتے سے خلاصی حاصل لوں ۔۔۔۔۔
میں اپنی نئ زندگی شروع کرنا چاہتی ہوں فارس کے ساتھ ۔۔۔۔ ” حمنہ کے لفظوں نے جیسے اسکے پیروں سے زمین کھنچی تھی ۔۔۔۔۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے وہ اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ شادی کے بعد سے اب تک وہ اسی رشتے کو نبھا رہا تھا جو حمنہ کے ساتھ قائم ہوا تھا۔۔۔۔ ایک مرد ہوتے ہوئے ۔۔۔۔ دوسری شادی کا حق رکھتے ہوئے اپنی فیملی کے فورس کرنے پر بھی اس نے حمنہ کی جگہ کسی کو نہیں دی تھی ۔۔۔ وہ تو پھر عورت تھی کیسے اسکی جگہ کسی اور کو دینے کے بارے میں سوچ سکتی تھی ۔۔۔۔
اسے لگا پانچ سال کی مسافت نے اتنا نہیں تھکایا تھا جتنا حمنہ کے چند جمعلوں نے تھکن سے چور کیا تھا ۔۔۔۔ کیس وہ پل ٹوٹ چکا تھا
فورا سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔۔
گھر سے باہر نکلنے لگا لیکن ڈاکٹر بیگ کی آواز پر رکنا پڑا
” اصفر جاتے جاتے یہ بتاتے جاؤں کہ طلاق تم خود دو گئے یا عدالت کا نوٹس بھیجوں ؟ ” ان کی بات پر وہ اصفر پلٹ حمنہ سے بولا
” حمنہ اس رشتے سے ہمارے درمیان ایک محبت کا بھی رشتہ جڑ چکا تھا ۔۔۔ جو ہم دونوں نے ایک دوسرے ٹوٹ کر کی ہے ۔۔۔۔میرے دل میں اب تک وہ محبت اسی طرح قائم ہے۔۔۔ اور اسکو نبھاتے ہوئے جب میں خود کو تمہارا پابند کر سکتا تو تم پر بھی محبت کا یہ قرض ہے ۔۔۔ کہ تم بھی میرے نام پر زندگی گزارو ” حمنہ سے کہ کر وہ ڈاکٹر بیگ سے مخاطب ہوا
” آپ جائیں عدالت ۔۔۔کریں کیس۔۔۔ جو موقع مجھے اپنی بیوی سے بات کرنے کا یہاں نہیں مل رہا وہ میں عدالت سے لے لوں گا ۔۔۔۔ لیکن بات کیے بنا سوال ہی پیدا ہوتا کہ حمنہ کو چھوڑ دوں ” یہ کہہ وہ باہر نکل گیا ۔۔۔۔ وہ خوفزدہ سی بیٹھی ہوئی تھی
” حمنہ تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اس شخص سے ۔۔۔ طلاق تو یہ اس بار ضرور دے گا ۔۔۔۔”فارس طیش میں بول رہا تھا لیکن حمنہ کی آنکھوں سے صرف آنسوں بہہ رہے تھے
ڈاکٹر بیگ بھی حمنہ کو تسلی دینے لگے۔۔۔۔
******…….
ہاسپٹل میں سب نرسیں مل کر چائے پی رہیں تھیں ۔۔۔۔
ایک دن پہلے لائبہ نے ان کے سامنے بڑی ڈینگیں ماریں تھیں کہ ڈاکٹر لڑکے کا رشتہ آیا ہے ۔۔۔۔ مجھے دیکھتے ہی مان جائیں گئے ۔۔۔۔ اور اب سب اسے آڑے ہاتھوں لے رہیں تھیں ۔۔۔ وہ منہ پھلائے سب کو گھور گھور کر دیکھ رہی تھی ساری کہانی وہ لائبہ کے منہ سے سن چکی۔ تھیں اس لئے اسکی اچھا کچھائی ہو رہی تھی
” ویسے لائبہ تم نے ہمت دیکھا دی ۔۔۔ ورنہ ہم جیسی تو چپ ہو سن لیتی ہیں ” ان میں ایک نے لائبہ کی تائید کی
” میرے دل کی حسرتیں ابھی باقی تھیں میرا بس چلتا تو دھکے دے کر نکالتی ارے نرس ہونا کوئی گناہ ہے کیا ۔۔۔ اپنے بنا ڈگری والے بیٹے کو ڈاکٹر کہہ کر رشتہ بھیجا تھا ۔۔۔
میرے پاس تو پھر نرسنگ کی ڈگری ہے ۔۔۔۔ ” لائبہ نے جواب دیا
” ایک تلخ حقیقت ہے لائبہ نرس چاہے بی بے پاس ہو کر بھی نرسنگ کی لائن جوائن کرے ۔۔۔۔۔ چاہے تجربے میں ڈاکٹر سے ذیادہ سمجھدار ہو لیکن ڈاکٹر جتنی عزت نہیں پا سکتی ۔۔۔ ” چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے ایک اور نرس نے کہا جس کی عمر بتیس سال کی ہوچکی تھی شادی نہیں ہو پائی تھی ۔۔۔ نرسنگ کرنا اس کی مجبوری تھی گھریلوں معاملات بنا نوکری کے چل نہیں سکتے تھے ۔۔۔۔ دن با دن بڑھتی مہنگائی نے ہر فرد کو کمانے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔ پھر لوگوں کی ہتک زدہ نظروں نے دل سے شادی کی خواہش ہی ختم کر ڈالی تھی ۔۔۔۔
” ائیر ہوسٹر۔۔۔۔ بس ہوسٹرز۔۔۔۔۔ مال ورکرز ۔۔۔ اور ایک نرس ان کو لوگ پبلک پراپرٹی سمجھتے ہیں ۔۔ چلتے چلتے جہاں چاہا ہاتھ مار دیا ۔۔۔ جو منہ آیا کہہ دیا چیپ سی اشارے بازی کر دی ۔۔۔۔۔ ہم جیسی مجبور لڑکیاں جو گھر چلانے میں سپورٹ کر رہی ہوتی ہیں یہ سب برداشت کرنے پر مجبور ہوتی ہیں ” ایک اور نرس نے بڑی دل گرفتگی سے کہا تھا
” ایسے کیسے مجبورا برداشت کرنے پر مجبور ہوتی ہیں ۔۔۔۔ کسی کی کیا مجال کے کچھ کہہ جائے ۔۔۔۔ ہمہیں ہماری چپ مروا دیتی ہے ۔۔۔۔ ہماری مروت۔۔۔۔ ہمارا صبر ہمہیں کہیں کا نہیں چھوڑتا ۔۔۔ ایسی بھی کوئی مجبوری نہیں ہے بات یہ ہے کہ ہم مرد کی دھمکیوں سے ڈر جاتے ہیں ۔۔۔۔ اور چپ سادھ لیتے ہیں جو بعد میں ہمہیں ہی مہنگی پڑتی ہے ۔۔۔۔ “لائبہ کی بات پر سب کو اتفاق تھا ۔۔۔۔ لیکن چپ تھیں
” لائبہ تم خوبصورت ہو کم عمر بھی پھر تمہارے امی ابو بھی جاب کرتے ہیں ۔۔۔ تم نا بھی جاب کروں تو گھر اچھے سے چل رہا ہے میری مانو تو چھوڑ دو نرسنگ ۔۔۔۔ شادی اچھی جگہ ہو جائے گی ” ان میں سے ایک بڑی عمر کی نرس نے مشورہ دیا “اگر ہر نرس یہی سوچ لے تو پھر تو کر لی ہم نے انسانیت کی خدمت ۔۔۔۔ میں تو ہر گز نہیں چھوڑو گی ۔۔۔۔ جس نے اپنانا ہے اپنائے نہیں تو بھاڑ میں جائے ” اپنا کپ سامنے ٹیبل کر رکھ کر وہ بولی
” ابھی تو تم یہ کہہ رہی ہو لیکن بعد میں پچھتاوں گی ۔۔۔۔ کوئی معمولی ڈاکٹر بھی کسی نرس کے بجائے عام لڑکی کو شادی کے لئے ترجعی دیتا ہے ۔۔۔ نرس کی لائف بہت ٹف ہوتی ہے “
” جو ہو گا دیکھا جائے گا ۔۔۔۔ میں یہ سب سیکھ کرگھر پر نہیں بیٹھ سکتی ۔۔۔۔ “لائبہ نے لاپروائی سے جواب دیا ۔۔۔۔
******…….
پہلا خلع کانوٹس اصفر کے گھر پر پہنچا تھا ۔۔۔ لاہور میں ۔۔۔۔حسن کمال ناشتے کے دوران ہی اپنی ڈاک چیک کرتے تھے ۔۔۔۔ حمنہ کی طرف سے خلع نامہ دیکھ کر حوش اڑے تھے
” زندہ ہے یہ” زیر لب انہوں نے دہرایا تھا ۔۔۔۔
پھر گہری سانس بھری ۔۔۔۔۔
ذہن چھ سال پیچھے چلا گیا ۔۔۔۔ جب اصفر کو امریکہ بھیج کر وہ فارم ہاؤس پہنچے تھے انکی اچانک آمد پر چوکیدار سمیت وہاں موجود پٹھان ملازم کا بھی رنگ اڑا تھا
گاڑی پورچ میں کھڑی کر کے وہ نیچے اترے انکے ساتھ دو نرسیں تھیں ۔۔۔ سامنے کھڑا گل خان بد حواس ہوا تھا ۔۔۔ وہ اس کے پاس جا کر نہایت غضب ناک لہجے سے بولے
” حمنہ کس کمرے میں ہے لیکر جاؤں مجھے وہاں ” گل خان اس اچانک سے ٹوٹ پڑنے والی افتاد پر بوکھلا سا گیا تھا پھر اصفر بھی اسے اپنے امریکہ جانے کی خبر دے چکا تھا۔۔۔۔ اس لئے اصفر سے رابطہ نا ممکن تھا ۔۔۔ اور جس طرح سے وہ حمنہ کا پوچھ رہے تھے تو یقینا اسکی موجودگی سے واقف تھے۔۔۔۔ اس لئے گل خان مجبورا انہیں حمنہ کے کمرے میں لے گیا ۔۔۔۔۔
کمرہ باہر سےلوک تھا ۔۔۔ لوک کھولا تو کمرہ نیم تاریخی میں ڈوبا ہو تھا حمنہ سو رہی تھی ۔۔۔ حسن کمال کے ساتھ دو نرسیں بھی تھیں
انہوں نے ایک لائٹ آن کی ۔۔۔۔ اور پھر نرسوں کو اشارہ کیا انہوں نے جیب سے انجیکشن بھر کر حمنہ کی طرف قدم بڑھانے لگی وہ گہری نیند میں تھی ۔۔۔۔ اس لئے کمرے کی روشنی سے بھی آنکھ نہیں کھلی تھی ۔۔۔۔
ایک نرس نے حمنہ کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا حمنہ کی آنکھ کھل گئی تھی لیکن ابھی سنبھل ہی نہیں پائی تھی جب انجیکشن اسکے ہاتھ پر لگابھی دیا گیا تھا ۔۔۔ یک دم ہوش وحواس میں آئی تھی سامنے حسن کمال کو دیکھ کر گھبرائی تھی پھر
نرس سے اپنا ہاتھ چھڑوانے لگی جو انجیکشن لگانے کے بعد اس کے ہاتھ پر سنی پلاس لگا رہی تھی ۔۔۔۔نرس اپناکام کر چکیں تھیں اس لئے حمنہ کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔۔ اور حسن کمال کے سامنے کھڑی ہو گئیں جیسے اگلے حکم کی منتظر ہوں
” تم لوگ جاؤں کمرے سے باہر ” دونوں نرسیں کمرے سے نکل گئیں لیکن گل خان وہیں موجود تھا ۔۔۔۔ حسن کمال قہر برساتی۔ نظروں سے حمنہ کو دیکھ رہے تھے
” میں نے کہا تھا نا تم سے ۔۔۔ تم میرے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی اپنی حرکتوں سے باز آ جاؤں ورنہ بہت پچھتاوں گی ۔۔۔۔۔ ” حسن کمال غصے سے بھبک کر بولے
” لیکن تم باز نہیں آئی ۔۔۔۔ اگر میری بات مان کر تم وہ آپریشن کر دیتی تو آج خوش حال زندگی جی رہی ہوتی ۔۔۔۔ لیکن تم بیوقوف لڑکی باز نہیں آئی ماں کو بھی کھو دیا اور اب تم بھی چند گھنٹے کی مہمان ہو ۔۔۔۔ ” حسن کمالی یہ بات سن کر حمنہ کے سارے طبق روشن ہوئے تھے
” کیا مطلب کون سا انجیکشن لگایا ہے آپ نے مجھے ” حمنہ حسن کمال کی بے حسی سے واقف تھی وہ شخص کچھ بھی کر سکتا تھا کسی کی بھی جان لے سکتا تھا ۔۔۔۔
” واہ کبھی کبھی سمجھداری دیکھا دیتی ہو تم بڑی جان گئ کہ انجکشن کون سا لگایا ہے ۔۔۔ زہر کا انجکشن لگایا ہے جو تین گھنٹے تک تمہیں تمہاری ماں کے پاس پہنچا دے گا ۔۔۔۔ ” وہ۔ بی حسی کی آخری حد پر تھے ۔۔۔۔ یہ سن کر حمنہ بد حواس سی ہوئی تھی اسکے بعد وہ کمرے سے نکل گئے ۔۔۔۔ کمرہ بند کر دیا
” صبح اس لڑکی کی لاش کو ٹھکانے لگا دینا ” گل خان سے یہ کہہ وہ باہر نکل گئے لیکن گل خان کی حالت غیر ہو رہی تھی اپنے مالک کایہ سفاکانہ روپ اس نے پہلی بار دیکھا تھا حسن کمال جیسے آیا تھاویسے جا چکا تھا ۔۔۔۔۔
صبح گل خان کا فون آیا تھا کہ حمنہ رات کو کھڑکی کھلی ہونے کے باعث بھاگ گئ تھی
” اچھا ہوا بھاگ گئ راستے میں مر مرا جائے گی
تو ہم پر شک نہیں ہو گا ۔۔۔۔۔ بات سنو اگر تم نے اصفر سے کچھ بھی کہا تو یاد رکھوں جب میں اپنی بہو کو مار سکتا ہوں تو تم کیا چیز ہو ۔۔۔۔ اسے بس یہی کہنا کہ حمنہ بھاگ گئ تھی خبردار جو منہ کھولنے کی کوشش بھی کی تو ۔۔۔۔۔ “
چائے رکھی رکھی ٹھنڈی ہو گئ تھی ۔۔۔۔۔ اکیلے ہی ڈائنگ پر بیٹھے تھے ٹیبل پر ناشتے کے نام پر ہر چیز موجود تھی بوائل ایک فرائی ایگ آملیٹ جوس پھل چائے بریڈ مکھن جیم ۔۔۔۔ لیکن بھوک اڑ چکی تھی ۔۔۔۔۔
مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہوتا ہے اس بات کے یقین نے جسم کو لرزہ کے رکھ دیا تھا ۔۔۔۔۔ دل کے ساتھ جسم بھی کانپ گیا تھا ۔۔۔۔
یہ خبر اصفر کے لئے زندگی کی نوید کہ حمنہ زندہ ہے اسے مل سکتی ہے ۔۔۔۔ انکا چہیتا اور فرمابردار بیٹا جو اسوقت اس لڑکی کی جدائی میں زندگی کے نام پر صرف سانسیں لے رہا تھا ۔۔۔۔ ہسنا بولنا جینا جیسے سب کچھ بھول چکا تھا
عشق میں لوگوں کو جنگلوں اور ویرانوں کی خاک چھانتے سنا تھا ۔۔۔ لیکن اصفر کو کرتے دیکھا تھا ۔۔۔
پانچ سال سے ڈھونڈ رہا تھااسے ۔۔۔۔ جس کے زندہ ہونے کا بھی یقین نہیں تھا ۔۔۔۔۔
پہلی بار حمنہ کے زندہ ہونے کے یقین نے جیسے خوش کیا تھا ۔۔۔۔۔ فورا سے موبائل پکڑا اور اصفر کا نمبر ملایا ۔۔۔۔۔ فون کئ بیلوں کے بعد اٹھایا گیا تھا آواز میں بھاری پن تھا
” یس ڈیڈ ” آواز میں بیزاریت تھی حسن کمال چہک کر بولے
” اصفر ۔۔۔۔ اصفر وہ ۔۔۔۔ وہ زندہ ہے ۔۔۔۔ حمنہ ۔۔۔۔۔حمنہ زندہ ہے ۔۔۔۔ ” وہ بے حد خوشی سے بتا رہے تھے جیسے یہ خبر بیٹے کے لئے خوشی کا باعث ہو گی
” جانتا ہوں ۔۔۔۔۔ مل چکا ہوں اس سے ۔۔۔۔۔ ” اصفر کے لہجے میں نمی تھی
” تم ۔۔۔ تم ۔۔۔۔ حمنہ سے مل چکے ہو ۔۔۔۔ کیسی ہے وہ “_ لہجے میں بے صبری تھی بے چینی تھی
” بس زندہ ہے ۔۔۔۔ جیسے میں زندہ ہوں ۔۔۔۔ سانس لے رہی ہے جیسے میں لے رہا ہوں ۔۔۔۔ جینا چاہتی لیکن میرے ساتھ نہیں ۔۔۔۔۔ کسی کے اور کے ساتھ ۔۔۔۔۔
طلاق مانگ رہی مجھ سے ۔۔۔۔۔ کیا کروں ڈیڈ ۔۔۔۔؟
وہ میں دے نہیں سکتا ورنہ اگلا سانس نہیں آئے گا مجھے ۔۔۔۔ مر جاؤں گا یا پاگل ہو جاؤں گا ۔۔۔۔ ” اصفر اب سسکیوں سے رو رہا تھا ۔۔۔۔ بے بسی سے رو رہا تھا حسن کمال کی پتھر آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے ۔۔۔۔ سفید کرتا کے اوپر آف وائٹ شال پہنے بڑی ہوئی سفید شیو کے ساتھ وہ ٹوٹے ہوئے ہی تو لگ رہے تھے ۔۔۔۔۔ بیٹے کی حالت زار نے جیسے خون کے آنسوں پھر سے رلایا تھا ۔۔۔۔
” اصفر چپ ہو جاؤں کہاں ہے وہ مجھے بتاؤں میں اس کے پاس جا کر معافی مانگ لوں گا ۔۔۔۔
اسکے سامنے ہاتھ جوڑ گا اس کے پیر پڑ جاؤں گا منا لوں گا اسے ” وہ خود رو رہے تھے بس نہیں چل رہا تھا حمنہ کے پاس پہنچ کر اس سے اپنے گناہوں کی تلافی کر لیں ۔۔۔۔
” نو ڈیڈ ۔۔۔۔ وہ نہیں مانے گی ۔۔۔۔۔ وہ کچھ سننے کو تیار نہیں ہے ۔۔۔۔۔ “
” میں مری پہنچ رہا ہوں اس سے بات کروں گا مجھ سے ملنے سے منع نہیں کر سکتی ۔۔۔ میری بہت عزت کرتی تھی ۔میری بات نہیں ٹالتی تھی وہ ۔۔۔۔ تم سے ناراض ہونے کے باوجود میری بات مان لیتی تھی ۔۔۔۔ اب بھی ۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔۔” آگے جیسے حسن کمال کے لفظ ختم ہوئے تھے ۔۔۔۔۔ اصفر فون بند کر چکا تھا
دل کے اندر موجود ضمیر نے قہقہ لگایا تھا
“حسن کمال کس منہ سے یہ بات کہہ رہے ہو ۔۔۔۔ اس منہ سے جس منہ سے اسکی ماں کا ماسک اتارنے کا کہا تھا ۔۔۔ یا اس منہ سے جس سے نرس کو حمنہ کو زہر کا ٹیکہ لگانے کو کہا تھا ۔۔۔۔ تمہاری بات سے وہ کیوں انکار نہیں کر سکتی جسے تم نے قبر میں پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔۔۔۔ فون ہاتھ سے چھٹتے ہوئے بچا تھا ۔۔۔۔ اپنا احتساب کرنا کتناشکل امر ہے یہ حسن کمال کو ان پانچ سالوں میں پتہ چلا تھا
*******…….
اصفر ڈاکٹر بیگ کے گھر سے اپنی کواٹر نما کمرے آبدیدہ آنکھوں سے پہنچا تھا ۔۔۔۔۔
کمرے میں پہنچ کر دروازہ بند کیا اور بیڈ پر ڈھے گیا ۔۔۔۔ پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہو گیا ۔۔۔۔
اسکی زندگی میں میرے علاؤہ بھی کوئی آ سکتا ہے ۔۔۔۔
میرے علاؤہ ۔۔۔۔۔ “بے یقنی تھی ۔۔۔۔ نا ممکنات میں سے تھی یہ بات
” اچھا یہ بتاؤں مجھ سے کتنی محبت کرتی ہو ۔۔۔۔ سیف الملوک کی جھیل کے پاس ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھے ہوئے سویٹر میں بھی وہ ٹھرٹھرا رہی تھی
جب اصفر نے اپنی جیکٹ اسے پہنائی تھی سر پر اونی ٹوپی پہنی وہ اسے پہلو میں لگ کر بیٹھی اپنے سر ہاتھوں میں اصفر کے ہاتھ تھامے تا کہ گرمی کی کچھ حدت مل سکے ۔۔۔
” یہ کیسا سوال ہے اصفر “۔اسکے ساتھ لگے لگے حمنہ نے پوچھا تھا
” بتاؤں نا یار ۔۔۔۔ کتنے دن گزر گئے ہیں ہماری شادی کو ۔۔ تم نے ابھی تک اظہار نہیں کیا ہے ۔۔۔ مجھے بھی تو پتہ چلے میری بیوی مجھ سے محبت کتنی کرتی ہے ” وہ شوخ ہوتے ہوئے پوچھنے لگا ایک جل ترنگ کی طرح اسکی ہنسی گونجی تھی
” اس وقت آپکے پہلو میں بیٹھی آپکے ہاتھوں ہاتھ دئیے بیٹھی ہوں ۔۔۔۔آپکے خیال سے یہ محبت نہیں ہے یا پھر ایک۔۔۔ آئی ۔۔۔۔ لو ۔۔۔ یو ۔۔۔ کہنا ہی محبت کا یقین دلانا ہے ۔۔۔۔ ” حمنہ کی بات سے کہاں اسکی تسلی ہونے والی تھی وہ تو بہت کچھ سننے کے موڈ میں تھا
” یہ تو تم سردی کی وجہ سے بیٹھی ہو ۔۔۔۔ تا کہ ٹھنڈ نا لگے ” اصفر نے مزاق سے کہا حمنہ نے سر اٹھا کر تیکھی نظر سے اصفر کو دیکھا تھا
” جی نہیں یہ بھی محبت کا اظہار ہے ۔۔۔۔ آپ ہی تو سب کچھ ہیں میرے لئے ۔۔۔۔ مائے فرسٹ اینڈ لاسٹ لو ” اصفر کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی اسکے ہاتھ پکڑے اس نے بڑی فرحت محبت سے چومے تھے
” حمنہ “
“ہمم ” وہ دوبارہ اسکے کندھے سے سر ٹکائے بیٹھ گئ تھی
” مجھے تمہاری محبت میں کبھی بھی کمی چاہیے جتنا پیار آج کرتی ہو پچاس سال بعد بھی اتنا ہی ہونا چاہیے
میں سب کچھ برداشت کر سکتا بس تمہاری چاہت میں شراکت اور کمی ہر گز برداشت نہیں کر سکتا ” اصفر نے جیسے اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا
” جتنی میں آج کرتی ہوں بس اتنی ہی ؟” حمنہ کے حیرت سے کیے گئے سوال پر وہ بھی متحیر ہوا تھا
” مطلب ” اصفر کے سوال پر اس نے بانہیں اسکے گلے ڈالیں تھیں
” اگر میں اس سے زیادہ محبت کر بیٹھی پھر کیا کریں گئے آپ ۔۔۔۔جو مجھے لگتا ہے کہ آپ سے ہو جائے گی ۔۔۔۔ ” وہ بناوٹی تعجب سے پوچھ رہی تھی اصفر نے اسکی ناک دبائی
” پھر تو بڑا مسلہ ہو جائے گا میرے لئے اتنی زیادہ محبت کا عادی ہو جانا خطرناک ہے ۔۔۔۔۔ تمہارے بغیر کہیں مر ہی نا جاؤں پھر ” اصفر کی مزاق میں کہی بات پر بے اختیار حمنہ کے ہاتھ نے اسکا منہ بند کیا تھا ۔۔۔ چہرے پر سنجیدگی تھی ۔۔۔ ٹپ ٹپ آنسوں بہنے لگے تھے
” اللہ نا کرے کہ آپ کو کچھ ہو ۔۔۔۔ آپ سے پہلے میں مر جاؤں۔۔۔۔ ایسا کیوں کہا آپ نے ” حمنہ کی تڑپ اور محبت وہ دیکھ کر خود پر رشک نا کرتا تو اور کیا کرتا ۔۔۔۔۔ ” ہنی مون پر گزارے حسین لمحے جیسے خواب سے لگ رہے تھے
” میرے لئے آپ سے جڑا یہ رشتہ صرف ایک بوجھ ہے ۔۔۔ایک اذیت ناک بوجھ جو پل پل میرا دم گھونٹتا ہے ۔۔۔۔ مجھے واپس ماضی کی انہیں اذیتوں سے دو چار کر دیتا ہے جو میں بھولنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔ میں مزید اس میں نہیں رہ سکتی مجھے حق ہے کہ میں ایسے رشتے سے خلاصی حاصل لوں ۔۔۔۔۔
میں اپنی نئ زندگی شروع کرنا چاہتی ہوں فارس کے ساتھ ۔۔۔۔ “
پھر آج کے کہے جمعلوں نے جیسے اسے اندر سے چھلنی کیا تھا ۔۔۔ کیا ماضی صرف اذیت ناک ہی تھا حمنہ کے لئے ۔۔۔۔پانچ سال میری کی گئ محبت بے معنی سی ہوگئ ۔۔۔۔۔ فارس۔۔۔۔۔ فارس۔۔۔۔۔
نام کیسے لے لیا اس نے میرے علاؤہ کسی اور کا ۔۔۔۔ دل میں جگہ کیسے دیدی میری بیوی ہوتے ہوئے ۔۔۔۔۔
میں تو نہیں دے پایا ۔۔۔۔۔ آج بھی میرے دل میں صرف وہ ہے
نو حمنہ ۔۔۔۔۔ نو ۔۔۔۔۔۔۔ یہ سچ نہیں ہے ۔۔۔۔ تم نے مجھ سے محبت کی ہے۔۔۔ بے انتہا کی ہے ۔۔۔۔۔ تمہارے وہ آنسوں جھوٹے نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔ جو میری جدائی کاسوچ کر بہے تھے ۔۔۔۔ تمہاری بے اختیاری میرے لئے خاص تھی ۔۔۔ میرا حق ہے تمہاری محبت پر ۔۔۔۔ کوئی اور ۔۔۔۔۔ کیوں ۔۔۔۔ ” وہ جنونی سا ہونے لگا تھا ۔۔۔۔ بیڈ کی سائیڈ پر رکھا گلاس اس نے زور سے زمین پر پٹخا تھا ۔۔۔۔
“کیسے ۔۔۔۔۔ کیسے آ سکتا ہے تمہاری زندگی میں ۔۔۔۔ “بلک بلک کر وہ کسی چھوٹے سے بچے کی طرح با آواز رو رہا تھا ۔۔۔۔۔
حمنہ کو دوبارہ اس نے اس وقت ہاسپٹل میں داخل ہوتے دیکھا تھا ۔۔۔ جب وہ مزمل صاحب اور لائبہ کو ہاسپٹل چھوڑنے گیا تھا اس کی گاڑی ذرا فاصلے پر تھی ۔۔۔۔ وہ ڈاکٹر بیگ کے ساتھ انکی گاڑی سے اتر کر ہاسپٹل کے اندر گئ تھی ۔۔۔۔
اصفر کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا ۔۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو جب وہ لاہور کے لئے نکلنے لگا تھا تو ڈاکٹر بیگ کا فون آیا تھا اس سے پوچھ رہے تھے کہ وہ کہاں ہے اصفر نے بتایا کہ لاہور کے لئے نکل چکا ہے ۔۔۔ ایسا اس لئے کہہ دیا کہ وہ بس گاڑی میں ہی بیٹھ رہا تھا ۔۔۔ لیکن اتفاق تھا کہ دوسری کال مزمل صاحب کی آ گئ ۔۔۔۔
حمنہ کو دیکھ پہلے تو اس کے قدم بے اختیار ہاسپٹل کی طرف اٹھے لیکن پھر رک گیا پھر سے تماشہ لگ جاتااس لئے ۔۔۔۔ واپس پلٹ گیا ۔۔۔ دوسرے دن گاڑی کافی پیچھے کھڑی کر کے وہ ہاسپٹل کے باہر بنے باغ میں بیٹھ گیا سر پر ایک ہیٹ سی پہن لی تا کہ چہرہ ذرا چھپ جائے پھر ہاتھ میں ایک کتاب لئے وہ چہرے کے قریب کر کے دیکھنے لگا وہ روز ڈاکٹر بیگ کے ساتھ ہی آ رہی تھی اور واپس بھی ڈاکٹر بیگ کے ساتھ ہی جاتی تھی ان کا پیچھا کرتے ہوئے وہ ڈاکٹر بیگ کا گھر دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔
لیکن دور سے ۔۔۔ قریب نہیں گیا تھا کہ کہیں انکی نظر اس پر نا پڑھ جائے یہ سمجھ ہی چکا تھا کہ ڈاکٹر بیگ نے اس سے جھوٹ بولا ہے اور حمنہ کو پناہ بھی دی ہے ۔۔۔۔ دس دن بڑے صبر سے گزارے تھے لیکن کب تک ۔۔۔۔ اسے دیکھ کر دل کو چین آنا تھا ۔۔۔ اس لئے رات کو ہی وہاں پہنچ گیا تھا ۔۔۔۔ لیکن جس حمنہ سے وہ اب مل کر آ ہا تھا وہ اتنی اجنبی تھی جیسے اس سے کبھی ملی ہی نہیں تھی ۔۔۔۔ کبھی محبت کی نا ہو ۔۔۔۔۔
******………
خلع کے نوٹس کا میسج اصفر کو حسن کمال نے فون پر دیدیا تھا پڑھ کر اس نے موبائل سائیڈ پر رکھ دیا
جب وہ رہنا ہی نہیں چاہتی تھی تو کتنی عدالتوں کے دھکے کھاتا ۔۔۔۔ کہاں تک لڑ سکتا تھا ۔۔۔ دوسری تیسری پیشی پر جب وہ خود ہی نا جاتا۔ فیصلہ حمنہ کے حق میں ہو ہی جانا تھا ۔۔۔۔۔ زندگی میں ایک مسافت ہی بچی تھی جو اسے ایک مہدوم سی امید دیے ہوئی تھی کہ اگر وہ مل گئ تو اسکی محبت کا یقین کر لے گی ۔۔۔ لیکن اب سب کچھ بے معنی سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔ عجیب بات یہ تھی واپس بھی نہیں جا پا رہا تھا جیسے کوئی کشش تھی جو روک رہی تھی ۔۔۔۔ یونہی باہر گاڑی میں گھومتے ہوئے ایک بڑی سی دوکان میں چلا گیا ۔۔۔۔ اکثر بچوں کے لئے کھانے پینے کی چیزیں وہ اپنے کمرے میں رکھتا اس لئے سوچا وہ خرید لے ۔۔۔۔ دوکان کافی بڑی تھی۔۔۔۔۔ چیزیں ٹرالی میں ڈالتے ہوئے نظر سامنے رکھے کھلونوں کے ریک پر پڑی جہاں ایک چھوٹی بچی اوپر رکھی ڈول دیکھ کر اچھل اچھل کر اسے اتارنے کی۔ نا کام کوشش کر رہی تھی ۔۔۔ اصفر نے اپنی ٹرالی سائیڈ پر کی اور اسکے پاس آ گیا ۔۔۔ فیری فراک پہنے اپنی گوری سفید رنگت میں وہ خود بھی جاپانی گڑیا سی لگ رہی تھی
” ہیلو لٹل ڈول ” اصفر کے پکارنے پر اس بچی نے اصفر کی جانب دیکھا ۔۔۔۔ وہ نور تھی۔۔۔۔۔ اصفر کو پہنچان چکی تھی ۔۔۔۔
” آپ وہ گاڑی والے اور کیک والے انکل ہیں نا ” نور نے فورا سے تصدیق چاہی
“ہممم اور تم وہی پیاری سی گڑیا ہوں جس کا بھائی بہت بہادر ہے ؟” اصفر۔ کی بات پر وہ ہسنتے ہوئے اثبات میں سر ہلانے لگی
” یہاں سے کیا لینا ہے ” وہ ریک کی طرف اشارہ کرتے پوچھنے لگا
” انکل مجھے وہ بڑی والی ڈول چاہیے ۔۔۔ پلیز مجھے وہ اتار کر دے دیں ” نور نے سب سے اوپر سے دیک پر رکھی بڑی سی ڈول کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔ اصفر نے وہ اتار کر دے دیدی
“نور کہاں ہو تم ” کسی نے اس بچی کو پکارا تھا
