Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 32 (Last Episode Last Part)
Rate this Novel
Noor-e-Emaan Episode 32 (Last Episode Last Part)
Noor-e-Emaan by Umme Hani
” ڈاکٹر بیگ میرا اور اصفر کا بلڈ گروپ سیم ہے اگر اسے اسوقت بلڈ نہیں ملا تو کچھ بھی ہو سکتا آپ پلیز ویٹ مت کریں ۔۔۔۔ میں اسے بلڈ دے رہا ہوں ” فارس کے چہرے پر فکرمندی سی تھی ۔۔۔۔ اسوقت اصفر کی جان بچانا ضروری تھا جو فارس ہی کر سکتا تھا اپنا بلڈ ڈونیٹ کر کے
” او کے ۔۔۔ فارس اینڈ تھنکس ” ڈاکٹر بیگ بھی جانتے تھے کہ دیر کرنا اصفر کے لئے خطرے سے خالی نہیں ہے ۔۔۔۔
ایک سائیڈ پر اصفر لیٹاتھااور دوسری طرف فارس ۔۔۔۔ فارس قطرہ قطرہ اسے زندگی بخش رہا تھا ۔۔۔۔۔ ایک نظر اصفر پر ڈالی جس کی زندگی حمنہ کے لئے بہت اہم تھی ۔۔۔ پھر اپنی آنکھیں بند کر لیں آج فارس کے فرض اور محبت دونوں کا امتحان تھا ۔۔۔۔
فارس جب صبح ہاسپٹل پہنچا تو سب سے پہلے حمنہ کے کمرے کی طرف رخ کیا تھا اس سے جاننا چاہتا تھا کہ اصفر چاہتا کیا ہے ۔۔۔ لیکن حمنہ ہ
اور لائبہ کے درمیان ہونے والی باتیں سن چکا تھا ۔۔۔۔
اپنے کمرے میں آ کر یہی سوچ رہا تھا کہ کس زندگی کا انتخاب کر رہا ہے وہ ۔۔۔۔ جس میں حمنہ کی محبت شامل ہی نہیں نا ہی خواہش وہ بس وعدے کی پاسداری نبھائے گی یا احسان مندی کے بوجھ تلے دبی رہے گئ ۔۔۔۔ ضمیر کی سنتا تو وہ کہتا ۔۔۔ صبر کر لو فارس دل پر ذراسا جبر کر لو
وہ کل بھی اصفر کی ہی تھی۔اور آج بھی اسی کی ہے ۔۔ آج تک اس نے ایک بار یہ نہیں کہا کہ ۔۔۔تم سے محبت کرتی ہے ۔۔۔۔ ہمیشہ تمہیں راہیں بدلنے کا مشورہ ہی دیا ہے ۔۔۔ یہی کہا کہ کسی اور سے شادی کر لو اپنا گھر بسا لو
نا ایسی محبت بھری نظروں سے کبھی دیکھا جیسے تم دیکھتے رہے ۔۔۔ نا کوئی لفظی اظہار کیا ۔۔۔۔ بس بچے ہی تھے حمنہ کی زندگی میں اہم تھے۔۔۔۔۔ فارس کو اگر آسرا دیا بھی تھا تو صرف اس لئے کہ اسکے بچوں کو باپ کی محبت مل سکے ۔۔۔ اب تو ان کا حقیقی باپ موجود تھا اور پیار بھی اصفر بچوں سے بہت کرتا تھا ۔۔۔۔ اور حمنہ کو کتنا چاہتا تھاوہ بھی فارس سے ڈھکا چھپا تو نہیں تھا ۔۔۔۔
فارس نے جیسے ضمیز کی آواز اپنے اندر دبانا چاہی تھی ۔۔۔۔
دل نے بے ایمانی کرنے پر اکسایا تھا ۔۔۔
” شادی ہو جائے گی تو ۔محبت بھی ہو جائے گی پانچ سال انتظار کیا ہے میں نے ۔۔۔۔پانچ سال شدت سے چاہا ہے اسے ۔۔۔۔ اگر اصفر کی محبت سے قائل ہو سکتی ہے تو ۔میری محبت سے بھی ہو جائے گی ۔۔۔ بچوں کا کیا ہے ۔۔۔ بچے پیار پا کر بہل جاتے ہیں۔۔۔ میں کرو یا اصفر کیافرق پڑتا ہے ۔۔۔ میں اب کیوں پیچھے ہٹوں” ۔۔۔۔ ٹیبل کے دراز سے سگریٹ نکال کر وہ پینے لگا ۔۔۔۔ لیکن باہر ایمبولنس کے سائرین نے سوچوں کا تسلسل توڑاتھا پھر حمنہ کے اصفر کے لئے تڑپ اور بے قراری نے واضع جواب دے دیا تھا ۔۔۔۔۔ کہ وہ حمنہ کی زندگی میں کہاں کھڑا ہے
اصفر آج بھی حمنہ کے دل پر راج کرتا تھا ۔۔۔۔ اسکے دل پر ویسے براجمان تھا کسی سلطنت کے بادشاہ کی طرح حمنہ کی بے قراریوں کا،واحد حقدار تھا ۔۔۔۔ فیصلہ تو ہو ہی چکا تھا اتنا بے ضمیر توفارس بھی نہیں تھا کہ اب مزید کوئی رکاوٹ ڈالتا ۔۔۔۔ محبت خود غرض بنا دیتی ہے یہ سچ ہے ۔۔۔ لیکن یہ یک طرفہ محبت تھی ۔۔۔ لیکن ب بہرحال محبت تو تھی ۔۔۔ اس لئے ۔۔۔ محبوب کے محبوب کو بچانے کے لئے فارس کچھ بھی کر سکتا تھا ۔۔۔۔ جب پتہ چلا کے اصفر کا بلڈ گروپ سیم ہے تو ایک پل سوچنے میں نہیں لگایاتھا۔۔۔
اور اب اصفر خطرے سے باہر تھا ۔۔۔۔ فارس نے اپنی آنکھیں بند کر دیں آنکھوں میں جمع شدہ پانی گر کر تکیہ بھگونے لگا تھا ۔۔۔ نرس نے آ کر ڈرپ بند کر دی ۔۔۔
لائبہ ایک دو بار اندر آ کر اصفر اور فارس کو دیکھ چکی تھی ۔۔۔ کچھ حیران پریشان بھی تھی ۔۔۔ فارس سے یہ امید نہیں رکھتی تھی کہ اصفر کو بچانے کے لئے اس حد تک بھی جائے گا ۔۔۔
حمنہ بس آنکھیں بند کیے دعا میں مشغول تھی ۔۔۔آج ۔
ایک ہی شخص کے لئے اسکی ہر دعا تھی ۔۔۔ آنسوں کے ساتھ۔۔۔ تڑپ کے ساتھ ۔۔۔محبت کے ساتھ۔۔۔۔ منت کے ساتھ ۔۔۔ ہر جذبہ جیسے آب تاب سے جاگ اٹھا تھا
دل پر پڑی غلط فہمیوں کی گرد کسی دلیل اور صفائی دیے بھی دھل چکی تھی ۔۔۔۔ ۔ محبت ہر چیز پر حاوی ہو چکی تھی ۔۔۔
لائبہ اسکے پاس آ کر بیٹھ گئ ۔۔۔
” آپی سر اب خطرے سے باہر ہیں ۔۔۔۔ بلڈ کی فوری ضرورت تھی جو ڈاکٹرفارس نے دے دیا ہے آپ پریشان نا ہوں ” لائبہ کے منہ سے یہ سن کر حمنہ نے آنسوں صاف کیے تھے خدا کا شکر ادا کیا تھا ۔۔۔۔
ایک احسان فارس کا اسپر اور ہو چکا تھا ۔۔۔۔ جو شاید پچھلے سب احسانوں سے بڑھ کر تھا ۔۔۔
دل کی بے قراریوں کے باوجود وہ اصفر کو دیکھنے نہیں جاسکی ۔۔۔ بس یہ سکون ہو گیا تھا کہ وہ خطرے سے باہر ہے ۔۔۔۔ لائبہ یہ کہہ کر جا چکی تھی حمنہ جائے نماز پر شکرانے کے نفل ادا کر کے کرسی پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر بیگ بھی مسکراتے ہوئے حمنہ پاس آکر بیٹھ گئے تھے
” مبارک ہو تمہیں۔ اصفر اب خطرے سے باہر ہے ۔۔۔ بروقت خون ملنے سے اللہ نے بڑا کرم کر دیا ہے ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں ہوش میں بھی آ جائے گا ۔۔۔ ہارٹ بیٹ بھی بہت بہتر ہو گئ ہے ۔۔۔۔ بس کچھ دیر میں کمرے میں شفٹ کر دیا جائے گا ۔۔۔۔ اب کچھ کھا پی لو کب سے رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی ۔۔۔ ” حمنہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر وہ چلے گئے ۔۔۔۔۔۔ کیا کہتی وہ۔۔۔۔ آنسوں تو شاید قسمت میں لکھے جا چکے ہیں ۔۔۔۔ کچھ دیر میں کلائی پر روئی مسلتا ہوا فارس ایمرجنسی وارڈ سے باہر آیا تھا ۔۔۔ حمنہ نے اسے دیکھ کر فوراسے آنکھیں صاف کیں تھیں ۔۔۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔ رو رو کے ناک آنکھیں سب سرخ تھیں ۔۔۔ حمنہ کا یوں نادم سا ہو کر نظریں۔ چرانے پر وہ مسکرا پڑا تھا ۔۔۔ وہ یوں شرمندہ تھی جیسے اسکی چوری پکڑی گئ ہو۔۔۔ فارس کے سامنے اصفر کے لئے جو بے اختیار اپنے جذبوں کا اظہار کر بیٹھی تھی سوچ رہی کہ اب کیسے اس بات کو سنبھالے گی ۔۔۔۔ فارس اس کے برابر میں۔ بیٹھ گیا حمنہ اپنے پاؤں کی طرف دیکھنے لگی فارس کی طرف دیکھنا مشکل تھا
” اب ٹھیک ہے وہ ۔۔۔ خطرے والی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔۔۔ اپنا۔ خون دے کر بچایا ہے اسے ۔۔۔۔ اللہ کے بعد تو سمجھوں اسے زندگی میں نے ہی دی ہے ” فارس نے جان بوجھ کر اس پر جتایا وہ خاموشی سے نظریں جھکائے اپنی انگلیاں مسل رہی تھی ۔۔۔ جیسے کہنے کو شکریہ کا لفظ بھی نا ہو پھر کپکپاتے ہونٹوں سے با مشکل بولی
” تمہارا یہ احسان میں کبھی نہیں بھولوں گی ” حمنہ نے نظریں ملائے بغیر فارس سے کہا تھا
” بھولنا بھی نہیں۔ چاہیے ۔۔۔۔ خیر ابھی آ جائے گا اسے ہوش۔۔۔ ٹھیک بھی جو جائے گا ۔۔۔ یہ بتاؤں کے کب طلاق دے گا اصفر تمہیں ” فارس کاسوال پہلی بار حمنہ کو برا سا لگا تھا وہ بے ہوش ایمرجنسی وارڈ میں پڑا تھا اور اسے یہ جاننے میں دلچسپی تھی کہ وہ اسے طلاق کب دے گا۔۔۔۔ ایک تکلیف سی پہنچی تھی فارس کی بات پر لیکن اظہار نہیں کر سکی
” چند ۔۔۔۔ دن ۔۔۔ تو لگ جائیں گئے ” ماتھے پر نا گواری سے بل ڈالے اس نے جواب دیا
” چند دن ۔۔۔۔ او کے عدت پوری ہوتے ہی اگلے روز ہم نکاح کر لیں گئے ۔۔۔۔ ٹھیک ہے نا حمنہ ؟” وہ حمنہ کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھ رہا تھا وہ مسلسل آنکھیں چرا رہی تھی سب کچھ جانتا تھا لیکن آج اس کے منہ سے سننا چاہتا تھا جس کی چپ نے سب سے ذیادہ نقصان اسی کا کیا تھا
” ہمم ۔۔۔ ” حمنہ بس یہی کہہ پائی تھی
” ہممم ۔۔۔۔ ہممم کا مطلب کیا سمجھوں میں مطلب تم مجھ سے شادی کرنے پر راضی ہو ؟ ” فارس کی بات پر حمنہ نے ہلکاساسر خم کیا تھا
“شادی کا مطلب سمجھتی ہو تم ؟ ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ استزائیہ مسکراہٹ لئے بولا
“اتنے احسان کیے ہیں میں نے تم پر ۔۔۔۔ وعدہ کیا ہے تم نے مجھ سے کہ اگر تمہاری زندگی کوئی آ سکتا ہے تو وہ میں ہوں ۔۔۔ ظاہر ہے نبھانا تو پڑے گا ہی ۔۔۔ وعدے کی پاسداری ۔۔۔۔۔احسانات کا بدلہ پورا اتارنے کے لئے چاہے بہت سے لوگوں زندگی کیوں نا برباد ہو جائے ۔۔۔۔ لیکن حمنہ میڈیم کو وعدہ خلافی بلکل نہیں کرنی کیونکہ وعدہ خلاف اللہ کو ناپسند ہیں ۔۔۔۔ ہے نا ؟ ” حمنہ نے یہ بات سن کر بس ایک پل ہی فارس کی جانب دیکھا تھا ۔۔۔ ہونٹ جیسے سل سے گئے تھے ۔۔۔۔ ایک بار دل پر یہ شک بھی گزرا کہ کہیں اسکی اور لائبہ کی باتیں نا سن لیں ہوں۔۔۔۔۔ فارس کا لہجہ تیز اور تلخ ہوا تھا
” کیا کرنے جا رہی تھی تم ؟ ۔۔۔۔ اندازہ ہے تمہیں ؟۔۔۔۔۔ حمنہ میں نے تم سے محبت کی ہے ۔۔۔۔ محبت میں مجھ سے جو ہوا وہ میں کرتا رہا یہ کبھی نہیں۔ سمجھا کہ تم پر احسان کر رہا ہوں ۔۔۔۔ تم اصفر کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھی ؟ یہی کہا تھا تم نے مجھ سے ؟
وہ تمہارے بچے تم سے دور نا کر دے یہی وجہ تھی اصفر کے ساتھ رہنے کی ۔۔۔۔ کیوں حمنہ یہی کہا تھا نا تم سے مجھ سے ؟”فارس کے کسی سوال کا وہ جواب نہیں دے رہی تھی یہی وجہ تھی کہ فارس کا لہجہ سخت ہو رہا تھا
اگر وہ تمہارے لئے پھر سے کوئی اہمیت رکھنے لگا تھا مجھے کیوں انجان رکھا تم نے ۔؟۔۔۔۔ تم اس سے خلع لینا چاہتی تھی۔۔۔۔۔ بچوں کو اس سے دور رکھنا چاہتی تھی ۔۔۔
یہی سب کہا تم نے مجھ سے ۔۔۔۔میں پاگل ۔۔۔ آلو کا پٹھا یہی سمجھتا رہا کہ تمہارے دل میں اصفر کہیں نہیں ہے اس لئے میری گنجائش بن ہی جائے گی ۔۔۔ لیکن یہ جو کچھ دیر پہلے تم نے مجھے ڈیمو دیکھایا ہے ۔۔۔ میں کیا کہو تم سے ۔۔۔۔۔ دل میں وہ ۔۔۔سامنے میں۔۔۔ پھر بچے بھی ؟ ۔۔۔ حمنہ تم جیسی عقل مند سے تو ایسی توقع نہیں کر سکتا تھا ۔میں کہ تم یہ حماقت بھی کر سکتی ہو ۔۔۔ اس لئے میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں تمہیں ہر وعدے سے آذاد کرتا ہوں ۔۔۔۔ اور رہ گئ بات احسان کی تو وہ میں نے آج تک تم پر کیا ہی نہیں ہے ۔۔۔۔ میری محبت ۔۔۔۔میرا مسلہ ہے ۔۔۔۔ تمہارا نہیں حمنہ ۔۔۔ جوریایکشن میں نے تمہارے ساتھ اسوقت کیا تھا جب مجھے یہ معلوم ہوا تھا کہ تمہارا شوہر زندہ ہے تو وہ بھی موقع کی مناسبت سے غلط نہیں تھا پانچ سال میں یہ سمجھتا رہا کہ تم اکیلی ہو تمہارا شوہر زندہ نہیں ہے پھر پانچ سال بعد مجھے اچانک یہ پتہ چلا کہ تمہارا شوہر زندہ ہے تو میرا ریایکشن تو یہی ہونا تھا ۔۔۔۔ تم نے تب بھی مجھ سے کچھ نہیں کہا پانچ سال انجان رکھا۔۔۔ یہ غلط کیا ۔۔۔۔ اور آج بھی تم چپ رہ کر غلط کر رہی تھی ۔۔۔ یہی بات اگر شادی کے بعد میں جانتا کہ میری بیوی ہوتے ہوئے تم اپنے سابقہ شوہر کی محبت دل میں بسائے بیٹھی ہو تو سوچو کیا میں یہ برداشت کر سکتا تھا؟ “فارس اب غصے سے بول رہا تھا
“۔۔۔ میں…. تمہیں…. اصفر کے ساتھ ایک کمرے میں دیکھ برداشت نہیں کر سکا تھا حمنہ ۔۔۔۔ اسے تم دل میں بسائے اگر میری بیوی بن جاتی تو قیامت کھڑی کر دیتا میں ۔۔۔۔۔ شکر کرو وقت پر سچائی جان چکا ہوں ۔۔۔۔ ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“فارس کاچہرہ غصے۔ سے سرخ ہوا تھا اپنی مٹھیاں بینچے وہ ضبط کر گیا تھا ۔۔۔ حمنہ خاموش ہی بیٹھی رہی ۔۔۔۔ لیکن فارس اٹھ کر وہاں سے چلا گیا
وہ چپ گم صم سی بیٹھی رہی ۔۔۔۔ واقع کتنا غلط کرنے جا رہی تھی خود کے ساتھ بچوں کے ساتھ اصفر کے ساتھ اور فارس کے ساتھ ۔۔۔۔۔ بعد کا کب سوچا تھا اس نے کے کیا ہو گا ۔۔۔ بلکہ اس نے تو فارس سے شادی کا بھی کبھی نہیں سوچا تھا ۔۔۔ ٹھیک ہی کہہ رہا تھا وہ کوئی مرد کہاں یہ برداشت کرتا ہے کہ اسکی بیوی دل میں کسی اور کو بسائے ۔۔۔۔چاہے اصفر ہو یا فارس یا کوئی بھی مرد ۔۔۔ محبت میں شراکت برداشت نہیں۔ کرتا ۔۔۔ کر ہی نہیں سکتا انہیں سوچوں میں گم تھی
جب لائبہ مسکراتے ہوئے ایمرجنسی وارڈ سے نکلی تھی
” آپی سر کو ہوش آ گیا ہے آپ کو ہی پکار رہے ہیں ۔۔۔ ” لائبہ نے ابھی پوری طرح سے بتایا بھی نہیں تھا کہ حمنہ اٹھ کر ایمرجنسی وارڈ کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔ اب نا کوئی وعدہ پاؤں کی زنجیر تھا نا ہی کندھوں پر احسان کا کوئی بوجھ پھر قدم بڑھانے میں دیر کیسی ۔۔۔۔۔
دل کی بے تابیاں نظروں میں سمت آئیں تھیں ۔۔۔ واڈ بوائے اصفر کو بیٹھا چکا تھا ۔۔۔ سر پورا پٹیوں سے جکڑا ہوا تھا پاؤں پر بھی سفید پٹیاں باندھیں ہوئیں تھیں ۔۔۔ چہرے پر تکلیف کے آثار تھے ۔۔۔ حمنہ کو سامنے کھڑا دیکھ کر ایک پل دل تھما تھا ۔۔۔ روئی روئی آنکھیں دیکھ کر نظریں جھکا بیٹھا تھا
” وہ ۔۔۔۔ ایم سوری۔۔۔۔ پتہ نہیں کیسے سامنے آتی گاڑی نظر نہیں آئی ۔۔۔۔ لیکن تم فکر مت کرو جلد ہی ہاسپٹل سے ڈسچارچ لے لوں گا ۔۔۔۔ ” اصفر اس سے نظریں ہٹا نہیں پارہا تھا نا مسلسل دیکھ پا رہا تھا وہ ایک ایک قدم اسکے پاس آ رہی تھی ۔۔۔۔
“چلا جاؤں گا یہاں سے ۔۔۔۔ اور ڈرائیوز پیپر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” بات یہیں تک پہنچی تھی کہ حمنہ نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔ اصفر اسے دیکھنے لگا حمنہ کے آنسوں بہہ رہے تھے۔۔۔ اس کے پاس بیٹھ گی ۔۔۔۔ اس کے منہ سے ہاتھ ہٹا کر اسکے سینے سے لگ کر رونے لگی تھی ۔۔۔۔۔ وہ تو یک دم ہی فریز ہوا تھا ۔۔۔۔ یہ لڑکی کبھی اسکی سمجھ میں نہیں آ سکتی تھی ۔۔۔۔ خود ہی فاصلوں کو طویل کر دیتی تھی ۔ خود میں ہر فاصلہ ختم کر دیتی تھی پل بھر میں ۔۔۔۔ اب بھی سینے سے لگی دھڑکنوں کو پھر سے ایک نئ لہہ پر دھڑکا رہی تھی ۔۔۔ اصفر اتنی ہمت کہاں تھی کہ اسے خود سے دور کرتا۔۔۔۔ اس لئے اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا ۔اپنے آپ میں سمیٹ لیا تھا ۔۔ سر سے ٹیسیں اٹھ رہیں تھیں ۔۔۔۔۔ جسم درد سے چور تھا پورے وجود میں اگر کوئی چیز پر سکون تھا تو وہ دل تھا ۔۔۔۔ جو اسوقت حمنہ کے دل کے ساتھ دھڑک رہا تھا
” گاڑی دیکھ کر چلانی چاہیے تھی اصفر ۔۔۔ اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو۔۔۔۔ میں کیا کرتی ۔۔۔۔۔ کیوں نہیں سوچا۔۔۔۔”وہ روتے ہوئے بولی
” تمہیں ہی تو سوچ رہا تھا ۔۔۔۔ سوچتے سوچتے پتہ ہی نہیں چلا کب کیا ہو گیا ” اسے اپنے ساتھ لگائے آنسوں وہ بھی بہا رہا تھا
” بس اب مجھ سے کبھی دور مت جائیے گا ۔۔۔۔ بہت تھک چکی ہوں ۔۔۔ اکیلے چلتے چلتے ۔۔۔۔ اب آپ کے بغیر نہیں چل سکتی ۔۔۔۔ سن رہے نا ۔۔۔ مجھے نہیں رہنا آپ کے بغیر ۔۔۔ بہت محبت کرتی آپ سے ۔۔۔۔ نا جانے اتنا کچھ ہونے بعد بھی ۔۔۔ دل سے آپ کی محبت کو کیوں نہیں نکال پائی ۔۔۔۔ بہت کوشش کی خود کو پتھر کا کر لو۔۔۔۔ ہر جذبے کو دل سے نکال پھنکو ۔۔۔ لیکن ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ نہیں ہوا مجھ سے ۔۔۔۔ ” روتے ہوئے وہ اپنا ہر غم کہہ رہی تھی ۔۔۔ اصفر ان باتوں پر شکر کر رہا تھا کہ وہ ٹھیک وقت پر ٹھیک فیصلہ کر چکی ہے
” آپی سب دیکھ رہے ہیں ۔۔۔ باقی کی باتیں روم میں شفٹ ہونے کے بعد کر لیجیے گا ۔۔۔ ” لائبہ کی آواز نے ہوش دلایا تھا کہ وہ دونوں وہاں اکیلے موجود نہیں ہیں اور بھی بہت سے مریض ہیں اور نرسیں اور اسٹاف بھی موجود ہے جو یہ سین لائیو دیکھ رہے ہیں دونوں یک دم ہی ایک دوسرے پیچھے ہوئے تھے ۔۔۔۔
نرسیں اور وہاں موجود مریض مسکرا رہے تھے ۔۔۔ حمنہ خفت کے مارے فورا سے باہر نکل گئ تھی کچھ ہی دیر میں اصفر کو کمرے میں شفٹ کر دیا گیا تھا مزمل صاحب بچوں کو بھی لے آئے تھے اصفر کی خیریت دریافت کر کے چلے گئے تھے اصفر کو یوں پٹیوں ۔میں دیکھ کر بچے اپنی ناراضگی بھولے باپ کے گلے لگ کر رونے لگے تھے ۔۔۔۔
” ڈیڈ چوٹ کیسے لگ گئ ۔۔۔۔ ” نور نے پوچھا تھا
” بس لگ گئ ۔۔۔ چوٹ نے کہا نور کو روتا ہوا کیوں چھوڑ کر آئے ہو ۔۔۔۔ اب ایسے واپس جانے نہیں دوں گی ۔۔۔ تھوڑے سے زخم تو کھانے پڑیں گئے ۔۔۔ نور کو رلایا جو ہے ۔۔۔۔ ” آصفر اسے ساتھ لگائے بول رہا تھا ۔۔۔۔
” لیکن مجھے اب بھی تو دیکھ کر رونا آ رہا ہے ڈیڈ آپ کو درد ہو رہا ہو گا ۔۔۔ ہے نا ۔۔۔ مجھے بھی دیکھ کر درد ہو رہا ہے ۔۔۔ آپ میرے ڈیڈ اور فرینڈ ہیں نا ڈیڈ کو درد ہو گا تو نور کو بھی ہو گا۔۔۔ چوٹ سے بولو آپ کو ٹھیک کر دے ۔۔۔ ابھی جلدی سے ” نور کی باتیں ہی اس کے لئے ہر درد کی شفا تھیں ۔۔۔ وہ پی ھے ہٹ کر اب اصفر کی گود میں بیٹھ چکی تھی
” اب نور ڈیڈ کے ساتھ رہے گی تو ڈیڈ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں گئے ۔۔۔ ” نور کے پاس تو کرنے کو بے شمار باتیں تھیں ۔۔۔ بس ایمان چپ تھا پہلے تو اصفر کو دیکھ کر رہا نہیں گیافوراسینے سے لگ گیا لیکن اب یاد ا گیا تھا کہ وہ باپ سے ناراض تھا اس لئے پیچھے ہٹ کر ماتھے پر تیوری چڑھائی۔ منہ پھلائے بیٹھا تھا کہ کب نور صاحبہ چپ ہو تو اور اصفر کی نظر نخرے باز بیٹے ہر پڑے تو وہ بھی اپنی ناراضگی کا اظہار کرے ۔۔۔۔ اصفر نور کو گود میں بیٹھائے ہوئے تھا ۔۔۔ پھر جب ایمان پر نظر پڑی تو اس کا منہ پھلانا سمجھ میں نہیں آیا ۔۔۔ ابھی تو سینے سے لگا تھا اور اب منہ پھلائے ترچھی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا کہ کب اسکی نظر ایمان پر پڑھتی ہے ۔۔۔۔
” بگ باس ۔۔۔ تمہیں کس بات کاغصہ ہے “
” ڈیڈ مان بھائی ہماری دوستی سے جیلس ہے شاید ” نور نے باپ کی گود میں بیٹھتے ہی پیندرہ بدلہ تھا ۔۔۔۔ ایمان نے ایک نظر اسے بھی غصے سے نوازہ تھا ۔۔۔
“جی نہیں ۔۔۔ میں ڈیڈ میں ناراض ہوں ۔۔۔ اچھا ہوا جو انہیں چوٹ لگ گئ ۔۔۔ کیوں چھوڑ کر گئے تھے ہمہیں ۔۔۔۔ چوٹ لگی ہے تو واپس آئے ہیں ورنہ جا چکے ہوتے ۔۔۔۔ ” ایمان کی بات پر وہ مسکرانے لگا
” ادھر آؤں میرے پاس “
” نہیں مجھے نہیں آنا “
“اچھا بتاؤں کیسے دور کروں تمہاری ناراضگی کو پیزا چلے گا یا ٹوائز ” اصفر نے اسکے پسندیدہ چیزوں کے بارے میں پوچھا
” مجھے کچھ نہیں چاہیے آپ مجھ سے پرومس کریں کے آپ کبھی ہمہیں چھوڑ کر نہیں جائیں گئے ۔۔۔ کبھی بھی نہیں ” ایمان نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر وعدہ لینا چاہا اصفر نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا
” او کے کبھی نہیں جاؤں گا ۔۔۔۔ اب تو موڈ ٹھیک کروں اپنا ۔۔۔۔ ” اصفر اس کے گال کو پیار سے کھنچتے ہوئے کہا ۔۔۔ لائبہ اندر داخل ہوئی ہ
تو نور کو اصفر کی گود براجمان دیکھ گھور ے لگی
” یہ تم بڑے مزے سے کہاں بیٹھی ہوئی ہو بہت چوٹیں آئیں ہیں تمہارے بابا کے ابھی ذرا فاصلہ رکھ کر بات کروں چلو نیچے اترواور کرسی پر بیٹھوں ورنہ یہ انجیکشن دیکھ رہی ہو تمہارے بابا کے ساتھ ساتھ تمہارے بھی لگا دوں گی ” لائبہ کی بات سن کر نور اصفر کی گود سے اتر کر کرسی پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
لائبہ انجیکشن سرنج میں بھرنے لگی ۔۔۔۔ پھر اصفر کے بازو پر لگا کر ۔۔۔ اسے دوا نکال کر ہاتھ میں رکھ کر پانی کا گلاس بھی پکڑا دیا
دوا کھا کر اس نے گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا
“تمہاری آپی کہاں ہے ۔۔۔ جب سے روم میں شفٹ ہوا آئی ہی نہیں ” لائبہ اصفر کی بے چینی دیکھ کر مسکرانے لگی
” وہ دوسرے مریضوں کو دیکھ رہیں ہیں ۔۔۔ کہہ رہی۔ تھی یہ تو گھر کا ہی مریض ہے ۔۔۔ نا بھی دیکھوں تو خیر ہے ۔۔۔ ” لائبہ نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا
” یہ نہیں کہہ سکتی ۔۔۔ “
” اچھا بڑا پتہ ہے آپ کو کہ کیا کہہ سکتی ہیں ۔۔۔ “لائبہ کی پر شوخ مسکراہٹ پر وہ بھی مسکرانے لگا اسی اثنا میں دروازہ کھلا تھا حسن کمال اندر داخل ہوئے تھے ۔۔۔۔ اصفر کو پیٹوں میں لپٹا دیکھ کر تڑپ کر آگے بڑھے تھے
” کون ہیں آپ اور یہاں کہاں بنا اجازت گھسے چلے آ رہے ہیں ” لائبہ نے حسن کمال کو دروازہ کھولتے ہی تیزی سے اصفر کے پاس آتے دیکھ کر پوچھا
٫” لائبہ یہ میرے ڈیڈ ہیں “جواب اصفر نے جواب دیا تھا ۔۔۔۔ لائبہ انہیں سلام کر کے باہر چلی گئ
“اصفر کیسے ہو تم ۔۔۔۔ ایکسڈنٹ کیسے ہو گیا ۔۔۔ “وہ اسکے پاس آکر اشک سے بھری آنکھوں سے پوچھنے لگے ۔۔۔۔۔ لاہور سے مری تک کا سفر بڑی مشکل سےکٹا تھا ان کا ۔۔۔
” ڈیڈ بس سامنے والی گاڑی کی اسپیڈ تیز تھی اور میں ۔ بھی ڈرائیو تیز ہی کر رہا تھا ۔۔۔۔ ” اصفر نے بہانہ بنایا
” کتنی بار تمہیں ٹوکا کہ ڈرائیو کرتے وقت کیر فل رہا کروں ۔۔۔۔” حسن کمال کی نظر بچوں پر نہیں پڑی تھی ۔۔۔۔ وہ سخت لہجے سے اصفر سے کہہ رہے تھے ۔۔۔ ایمان توانہیں بس غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ لیکن نور سے کہاں برداشت تھا کہ اسکے ڈیڈ کو کوئی یوں ڈانٹے اس لئے کرسی پر بیٹھی فورا سے بولی
” آپ ۔میرے ڈیڈ کو ڈانٹ کیوں رہے ہیں ” حسن کمال نے پلٹ کر نور کو دیکھا تھا ۔۔۔ پھر اسکے ساتھ بیٹھے ایمان کو دیکھنے لگے جو انہیں بڑے غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” کیا کہا ۔۔۔تمہارے ڈیڈ ” حسن کمال کے لئے تو یہ بات بہت بڑا دھچکا تھی
” جی ڈیڈ یہ میرے بچے ہیں ۔۔۔۔ نور اور ایمان ” جواب اصفر نے دیا تھا حسن کمال تو ششدد سے رہ گئے تھے کبھی بے یقینی سے اصفر کو دیکھنے لگتے کبھی ان دونوں بچوں کو ۔۔۔ یہ تو سوچا بھی نہیں تھا کے بیٹے کے ساتھ ساتھ اپنے ہوتا پوتی سے بھی ملاقات ہو جائے گی ۔۔۔۔
” تمہارے۔ بچے مطلب میرے ۔۔۔۔ میرے پوتا پوتی ۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ میں دادا ۔۔۔۔ اوہ ۔میرے خدایا ” وہ بے قراری سے بچوں کو سینے سے لگانے لگے ۔۔۔ بچے گم صم سے تھے
” میں ۔۔۔۔ ۔میں ۔۔۔ داد ہوں تمہارا ۔۔۔۔۔ تمہارے ۔۔۔ ڈیڈ کا ڈیڈ “حسن کمال ان کے چہروں کو چومتے ہوئے بولے پل بھر کو لگا نئ زندگی سی مل گئ ہو ۔۔۔۔
لیکن دروازہ کھلتے ہی سامنے حمنہ کو دیکھ کر انکی مسکراہٹ مہدوم سی ہو کر غائب ہوئی تھی
*******…….
لائبہ کی ڈیوٹی ختم ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔ گھر جانے سے پہلے وہ حمنہ کے پاس گئ تھی ۔۔۔۔ اسے یہ کہنے کے حمنہ اگر ہاسپٹل میں اصفر کے پاس رکے گی تو بچوں کو وہ اپنے ساتھ لے جائے ۔۔۔۔ “
” ایک ہی دن کی تو بات ہے آپی میں بچوں کو رکھ لوں گی کل تک تو چھٹی ہو جائے گی سر کی ۔۔۔ “
” نہیں لائبہ ۔۔۔۔ روم بڑا ہے بیڈ بھی دو ہیں مینج ہو جائے گا بچے کہاں تمہارے ساتھ جائیں گئے ۔۔۔ پھر میرے بغیر رہنے کے عادی بھی نہیں ہیں ۔۔۔ “حمنہ نے پیار سے منع کر دیا ۔۔۔۔
لائبہ گھر جانے کے لئے ہاسپٹل سے باہر نکلنے لگی تو فارس اس کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔۔ وہ دائیں جانب سے جانے لگی وہ دائیں جانب کھڑا ہو گیا وہ بائیں جانب سے جانے تو جانب چلا گیا گو کے اس کاراستہ روک رہا تھا
” راستہ دیں گئے مجھے ؟ لائبہ نے سے گھورتے ہوئے پوچھا
” شادی کروں گی مجھ سے ؟ ” لائبہ کے سوال کے جواب پر جوسوال اس نے پوچھا تھا لائبہ اپنی جگہ کھڑی کی کھڑی رہ گئ تھی ۔۔۔ منہ کھولے حیرت اسے دیکھ رہی تھی
” لائبہ ۔۔۔۔ “فارس کے پکارنے پر اپنے ٹرانس سے باہر آئی تھی
” میں ۔۔۔۔ نے شاید کچھ غلط سن لیا ہے کچھ ان ایکسپکٹڈ سا ۔۔۔ شاید کان بج رہے ہیں ” وہ بے یقین تھی
” میں نے کہا ۔۔۔ شادی کروں گی مجھ سے ؟۔۔۔ ” فارس نے پھر سے دہرایا
” میں ۔۔۔۔ میں کیوں کرنے لگی آپ سے شادی ۔۔۔ آ۔۔۔ آپ آپی سے ۔۔۔ محبت کرتے ہیں ۔۔۔۔ “
“ہاں وہ تو کرتا ہوں لیکن اس سے شادی نہیں کر سکتا کیونکہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی تمہی نے کہا تھا کہ مجھے انکے بیچ میں نہیں آنا چاہیے ۔۔۔ اس لئے میں پیچھے ہٹ گیا لیکن ایک سہارے کی تو مجھے بھی ضرورت ہے ۔۔۔ اگر تمہاری زندگی میں پہلے سے کوئی شامل نہیں تو ؟” فارس نے صاف گوئی سے بات کی
” نہیں میری زندگی کوئی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ ” وہ برجستہ بولی
” مطلب میں شامل ہو سکتا ہوں “
” میرے دل میں بھی پہلے سے کوئی نہیں ہے ” لائبہ کی کی معنی خیز بات پر وہ کچھ دیر وہ اسے دیکھتا رہا
” یہ تو اور بھی اچھی بات ہے ۔۔۔ “
” جب میری زندگی میں اور دل میں کوئی نہیں ہے تو سامنے والے سے یہی ایکپسٹ کروں کی کہ میں ہی اسکی زندگی اور دل میں ہونا چاہیے”
” یہ گارنٹی تو تمہیں کوئی بھی مرد نہیں دے سکتا ۔۔۔۔ جسے تمہارے ماں باپ تمہارے لئے منتخب کریں ہو سکتا ہے اسکے دل میں کوئی اور ہو لیکن زندگی میں تم چلی جاؤں ۔۔۔ یہ الگ بات ہے کہ تم اس بات سے انجان ہو گی اور میرے بارے میں تم سب جانتی ہو ۔۔۔۔ “
کیا آپ کر سکتے ہیں ایسی لڑکی سے شادی جس کے دل میں کوئی اور ہو “
” ہر گز نہیں ۔۔۔۔ حمنہ کو اسی لئے انکار کر کے آیا ہوں “
” تو پھر میں یہ رسک کیوں لوں ” لائبہ نے برجستہ کہا وہ بھی خفگی سے
” کیونکہ چار شادیوں کی اجازت مرد کو اسلام میں دی گئ ہے ۔۔۔۔ اس لئے اس کے دل میں وسعت بہت ذیادہ ہوتی ہے ۔۔۔۔ اصفر کی زندگی میں بھی حمنہ آخری تو ہو سکتی ہے لیکن پہلی ہر گز نہیں ہو گی بہت سی آئی ہوں گی میری زندگی میں بھی تم آخری ہو سکتی ہو ۔۔۔ ” فارس کا جواب اسے خاص پسند نہیں آیا تھا
” پھر بھی میں سوچ کر بتاؤں گی ” اچھا تو فارس اسے لگتا تھا ہاں کوئی خطرناک ٹائپ کی محبت اس سے نہیں ہوئی تھی اور اب تو خود سے پرپوز بھی کر رہا تھا لیکن لائبہ کو لگا یوں اچانک ہاں کر دینا ٹھیک نہیں ہے تھوڑے نخرے بھی دیکھانے چاہیے ۔۔۔ تا کہ سامنے والے کو بھی لگے کہ وہ بڑی مشکل سے مانی ہے
” پھر بھی میں سوچ کے بتاؤں گی ” لائبہ نے اتراتے ہوئے آبرو چڑھاتے ہوئے کہا
” او کے ۔۔۔ پورے دس منٹ ہیں تمہارے پاس گیارویں منٹ میں اگر تم نے جواب نہیں دیا تو ۔میں سمجھوں گا کہ تمہاری طرف سے انکار ہے ” فارس نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا
” ارے اتنی جلدی کون اپنی زندگی کا فیصلہ کرتا ہے ۔۔۔۔ “
” میں “فارس ساتھ ساتھ گھڑی دیکھ رہا تھا ساتھ ساتھ جواب دے رہا تھا
” چلیں فرض کریں میں دس منٹ تک جواب نا دوں تو آپ کیا کریں گئے ” لائبہ کو اسکی جلد بازی پر حیرت ہوئی تھی
” وہ سامنے سے نجمہ نرس آ رہی ہے جا کر اسے پرپوز کر دوں گا ۔۔۔ اگر وہ نا مانی تو اسکے پیچھے ڈاکٹر زینب بھی آ رہی ہے اسے کہہ دوں گا اسکے علاؤہ بہت سی نرسیں اور ڈاکٹرز موجود ہیں ان سے پوچھ لوں گا کوئی نا کوئی تو مان ہی جائے گی ۔۔۔۔ اب تمہارے پاس صرف چار منٹ بچے ہیں ” فارس نے دوبارہ گھڑی دیکھ کر کہا
” ٹھیک ہے ٹھیک ہے ۔۔۔ آپ اتنا فورس کر رہے تو ۔۔۔ اٹس او کے ” لائبہ نے پھر بھی اپنی بات اوپر رکھتے ہوئے کہا تھا
” کل میں ڈاکٹر بیگ اور انکی وائف کے ساتھ تمہارے گھر آؤں گا تمہارا رشتہ لیکر ۔۔۔۔ کیونکہ میرے والدین نہیں ہیں اور نا ہی کوئی بہن بھائی ” یہ کہہ کر وہ لائبہ سے پہلے ہاسپٹل سے باہر نکل گیا تھا چند قدم کے فاصلے پر ہی اس کا گھر تھا ۔۔۔۔ اپنے گھر میں آ کر دروازہ بڑی زور سے بند کیا تھا ۔۔۔ سیدھا اپنے کمرے کارخ کیا تھا ۔۔۔۔ کمرے میں جا کر بھی کمرے کا دروازہ پوری قوت سے بند کر کے وہ اپنی فسٹریش نکالنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔
جی تو چاہا اپنے ساتھ ساتھ ہر چیز کو آگ لگادے
دل کی دنیا تباہ ہوئی تھی ۔۔۔۔ ضمیر کی عدالت میں سرخرو ہوا تھا لیکن دل پر بہت بڑا جبر کر کے ۔۔۔۔ جتنے آرام سے حمنہ سے دستبردار ہوا تھا ۔۔۔ فارس کے اتنا آسان تھا نہیں ۔۔۔۔ ٹوٹ تووہ بھی چکا تھا ۔۔۔
کب سے خود پر ضبط باندھے ہوا تھا ۔۔۔۔۔ لیکن اب بند کمرے میں اس دیکھنے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔ اس لئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔۔۔۔
بہت سے لوگ فراخدلی میں اپنا پیسہ مکان دھن دولت یہاں تک کے اولاد بھی دان کر دیتے ہیں لیکن بہت کم ہوتے ہیں جو محبت کو دان کر دیں ۔۔۔ آج وہ کر کے آیا تھا ۔۔۔۔ لائبہ کافورا سے انتخاب کرنا اسکی وقتی مجبوری تھی ۔۔۔۔ چاہتا تھا کہ فوراسے کسی کو زندگی میں شامل کر لینا چاہیے ۔۔۔۔ حمنہ کے بعد سب سے پہلا خیال لائبہ کے بارے میں آیا اگر وہ واقع انکار کر دیتی تو وہ بھی واقع وہاں ۔موجود کسی اور لڑکی کو پرپوز کر دیتا ۔۔۔۔۔۔ یہی ایک حل تھااس کے پاس حمنہ کی زندگی سے بہت دور جانے کا ۔۔۔۔ پھر زندہ رہنے کے لئے سہارے کی ضرورت تواسے بھی تھی ۔۔۔۔ محبت اس کا ذاتی مسلہ تھا ۔۔۔۔ شاید زندگی کے ساتھ چلتا رہتا لیکن ایک ہمسفر کے ساتھ چلنا اکیلے چلنے سے بہتر تھا ۔۔۔۔۔ شاید کہ کبھی لائبہ حمنہ کی جگہ لے سکتی ۔۔۔۔ شاید نہیں۔ بھی لیکن زندگی میں لائبہ آخری لڑکی ضرور ہو سکتی تھی ۔۔۔۔ اگلے دو دن میں وہ اس سے نکاح کر چکا تھا ۔۔۔۔ نا جہیز کا لین دین اس نے کرنے دیا نا ہی دھوم دھام کے شادی کی ۔۔۔۔ لائبہ کی خواہش تھی کہ حمنہ اسکی شادی میں شرکت کرتی لیکن فارس نے منع کر دیا تھا ۔۔۔۔ یہ ضروری تھا کہ اب وہ کبھی حمنہ کا سامنا نا کرتا ۔۔۔۔ اسکی اپنی زندگی کے لئے بھی اسے حمنہ کی زندگی کے لئے۔ بھی ورنہ شاید نااسے چین سے جینے دیتا نا لائبہ کے ساتھ انصاف کر پاتا ۔۔۔۔۔ لائبہ اس ایمرجنسی شادی سے پریشان ہوئی تھی ۔۔۔۔ رشتے سے ہاں ہوتے ہی اگلے روز ہی نکاح اور رخصتی کی فرمائش فارس کی تھی ۔۔۔۔ فارس کی گارنٹی بیگ صاحب کے بعد اصفر نے مزمل صاحب کو دی تھی ۔۔۔ مزمل صاحب نے اصفر سے ہی فارس کے بارے میں پوچھا تھا ۔۔۔۔
” بہت اچھا لڑکا ہے ۔۔۔۔ لائبہ بہت خوش رہے گی ۔۔۔۔ “
” لیکن بیٹاوہ توکل ہی نکاح اور رخصتی مانگ رہا ہے ۔۔۔۔ مجھے تو تھا کہ تم ٹھیک جو جاتے تو شادی میں شرکت تو کرتے “
” میں ٹھیک ہوتے ہی مبارک باد دینے حاضر ہو جاؤں گا لیکن آپ دیر نا کریں ۔۔۔۔ جب رشتہ طے کر ہی دیا ہے تو نکاح ایک دن بعد کیا جائے یا مہنے بعد کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔ ” اصفر نے انہیں مطمئن کر دیا تھا فارس کافیصلہ ٹھیک ہی تھا ۔۔۔۔ پھر احسان اس نے اصفر پر کیا تھا اس سے وہ کیسے بھلا سکتا تھا ایک نئ زندگی فارس نے اسے دی تھی ۔۔۔ محبت سے بھری ہوئی ایک نئ زندگی اصفر اسے دے چکا تھا ۔۔۔ جسے وہ محبت سے بھر سکتا تھا ۔۔۔۔لیکن یہ احسان دونوں نے بنا ایک دوسرے کو جتائے ہوئے کیے تھے ۔۔۔۔
حجلہ عروسی میں دلہن بنی بیٹھی لائبہ اسوقت تو سچ میں گھبرائی ہوئی تھی سارا اعتماد ساری بہادری جیسے سائیڈ لگ چکی تھی یہ بات بھی سچ تھی کہ وہ فارس سے ڈرتی اور گھبراتی تھی ۔۔۔۔ فارس کے کمرے میں داخل ہوتے ہی ۔۔۔ دروازے کے بند ہونے کی آواز سے لائبہ کو لگا کہ اس کا بھی دل بند ہوا ہو ۔۔۔ وہ چلتے ہوئے اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔۔ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا ۔۔۔ تو یہ تھااسکا نصیب لائبہ مزمل ۔۔۔۔۔ ایک حسرت بھری آہ دل سے نکل کر شاید دل میں بھی کہیں گھٹ کر رہ گئ تھی گھونگھٹ میں وہ تھی نہیں جسے اٹھایا جاتا ۔۔۔۔ خوبصورت بھی تھی اور اسوقت ۔۔۔اس روپ میں تو حسن کو آخری حد تک سنوارا جاتا ہے کہ دیکھنے والا نظریں ہٹانا ابھول جائے ۔۔۔ جیب سے ایک انگوٹھی نکال کر فارس نے نے بڑی خاموشی سے اسے پہنائی تھی پھر حق مہر کے پچاس ہزار بھی اسکے ہاتھ پر رکھ دیے ۔۔۔
” یہ تمہارا پہلا حق ہے مجھ پر ۔۔۔۔ اور آئندہ بھی میری کوشش ہو گئ کہ تمہارے سارے حق پوری ایمانداری سے پورے کرو ۔۔۔۔ ” پھر اس کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔
” بہت خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔ بلکہ بہت خوبصورت ہو بھی ۔۔۔۔ لائبہ میں منافقت پر یقین نہیں رکھتا اس لئے تم سے صاف بات کروں گا ۔۔۔
مجھے تم سے محبت چاہیے ۔۔۔۔ اوراسکا بھرپور اظہار بھی ۔۔۔۔۔ تا کہ میرے دل سے پرانہ ہر نقش مٹ جائے ۔۔۔۔۔ بس رہ جائے تو صرف لائبہ ۔۔۔۔ دوں گی نا اتنی محبت ” بڑی بے بسی سے وہ اس سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔ لائبہ نے ایک نظر اس پر ڈالی ۔۔۔ جانتی تھی کہ بہت گہری چوٹ کھا کر اس کے پاس آیا ہے ۔۔۔۔ سوچا تو تھا کہ اسے نخرے دیکھائے گی اپنی چار پانچ شرطیں بھی منوائے گی ۔۔۔۔ لیکن فارس کے چند جمعلوں نے جیسے سب کچھ دھرم بھرم کیا تھا ۔۔۔ اسوقت اسے صرف محبت اور اپنایت کی ضرورت تھی ۔۔۔۔ اس لئے اپنے ارادوں کو پس پشت ڈال کر اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔۔
مجھے اشاروں کی زبان سمجھ نہیں آتی ۔۔۔ منہ سے بولنا پڑے گا ” فارس کے اگلے جمعلے نے شرم سے بلش کیا تھا ۔۔۔۔
پہلی رات کی دلہن سے یہ فرمائش کون کرتا ہے ۔۔۔۔ سب سے پہلے تو وہ اظہار کی منتظر ہوتی ہے ۔۔۔۔ اس لئے چپ ہی رہی ۔۔۔
” انگوٹھی بہت خوبصورت ہے ” لائبہ جب کچھ نا سوجا تو ہاتھ میں پہنی انگوٹھی دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
” ہاں ساری رات انگوٹھی ہی دیکھتی رہو گی تو وہی اچھی لگے گی ۔۔۔ ذرا میری طرف بھی نظریں اٹھا کر دیکھ لو تو شاید میں بھی اچھا لگ جاؤں ۔۔۔۔ ” فارس نے اس چہرا اپنے سامنے کیا
” جانتی ہو نا بہت خطرناک ڈاکٹر ہوں میں ۔۔۔ اگر بیوی سیدھے طریقے سے اظہار نا کرے تو ۔۔۔۔۔۔”
“فارس آئی لو یو ” آنکھیں مچے وہ جلدی سے بولی تھی ورنہ پتہ نہیں کیا کرتا اس کے ساتھ ۔۔۔۔ فارس کی ہنسی کی آواز پر وہ اس نے آنکھیں کھولیں تھیں
” مطلب تم دھمکیوں سے سدھرنے والی لڑکی ہوں ۔۔۔ پیار کی زبان سمجھ نہیں آتی تمہیں ” فارس نے اسکے گال پر ہلکی سی چت لگا کر کہا ۔۔۔
*****…….
پورا دن او پی ڈی میں گزار کر شام کو ہی حمنہ اصفر کے روم گئ تھی لیکن سامنے حسن کمال کو دیکھ کر وہی ٹھٹھک گئ تھی ۔۔۔۔ قدم جیسے وہیں جم گئے تھے وہ بھی حمنہ کو دیکھ کر جیسے منجمد ہوئے تھے ۔۔۔۔ اصفر حمنہ کے چہرے پر چھائی نا گواری دیکھ کر پریشان ہوا تھا لیکن ۔۔۔ اتنا ہی بے بس بھی تھا ۔۔۔۔
” حمنہ اندر آؤں نا ” اصفر نے ہی اسے دروازے پر کھڑے دیکھ کر کہا
” نہیں میں بس بچوں کو دیکھنے آئی تھی ۔۔۔ بعد میں آ جاؤں گی ۔۔۔ ” یہ کہہ کر واپسی چلی گئ حسن کمال کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے ۔۔۔ کاش کے وقت کا پہیہ پیچھے کی جانب الٹا چل سکتا تو سب کچھ ٹھیک کر ر دیتے ۔۔۔۔ لیکن وقت ریس میں بھاگتے ہوئے گھوڑے کی طرح صرف آگے کاسفر ہی تیزی سے طے کرتا ہے ۔۔۔۔ اصفر خاموش تھا عجیب امتحان میں پڑ چکا تھا ۔۔۔ باپ سے یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ آپ کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی اس لئے یہاں سے چلیں جائیں ۔۔۔ نا حمنہ سے یہ کہہ سکتا تھا کہ بے شک میرے باپ کے گناہوں کو معاف مت کرو۔لیکن ان کے کیے کی سزا مجھے تو مت دو ۔۔۔۔
حمنہ واپس اپنے کمرے میں جا کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔ حسن کمال کو دیکھ کر جیسے ہر زخم تازہ ہوا تھا ۔۔۔۔ وقت جیسے پھر سے ماضی کے تپتے صحرا میں ننگے پاؤں چلنے کی سزا دے چکا تھا ۔۔۔۔
بس یہی ایک وجہ تھی اصفر سے دوری کی ۔۔۔۔ اور دل کے ہاتھوں بے بس کو کر آج اسی کاسامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔۔۔ کئ آنسوں ٹوٹ کر آنکھوں سے گرے تھے ۔۔۔۔
کمرے پر دستک کی آواز پر حمنہ نے آنسوں پونچے تھے
” یس کم ان ” حمنہ کو لگا کوئی نرس ہو گی ۔۔۔۔ لیکن جھکی ہوئی نظروں سے حسن کمال اندر داخل ہوئے تھے ۔۔۔۔ حمنہ اپنی کرسی سے کھڑی ہو گئ ۔۔۔ ان کے یوں آ جانے کی توقع نہیں تھی اسے ۔۔۔ کندھے گردن نظروں کے ساتھ جھکی ہوئی تھی ۔۔۔۔ پہلے والی اکڑ غرور جیسے خاک ہو چکا تھا چہرے کی جھریاں کئ سال آگے لے گئیں تھیں ۔۔۔۔۔ بال بھی سفید ہو چکے تھے ورنہ وہ خود کو بہت مین تین رکھنے کے عادی تھے دو جوان بیٹوں ساتھ کھڑے وہ باپ کم اور بڑے بھائی ذیادہ لگتے تھے۔۔۔ پھر دولت کا نشہ اور شہرت کے غرور نے گردن کا اکڑاوں بھی کم نہیں ہونے دیا تھا ۔۔۔ پانچ سالوں نے جیسے پانچ صدیاں اس شخص پر گزار دیں تھیں ۔۔۔۔
پہلے والی بات نہیں رہی تھی۔۔۔۔
” میں سے بات کر سکتا ہوں ” برا عاجزانہ لہجہ تھا ۔۔۔ ٹوٹا ہوا ۔۔۔ گلو گیر آنسوں جو ضبط کیا ہوا ۔۔۔ جیسے اگر وہ انکار کر دے گی تو پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں گئے
” جی بیٹھے ” ضبط سے تو حمنہ بھی گزر رہی تھی ۔۔۔
وہ سامنے کرسی پر بیٹھ گئے مجبورا حمنہ کو بھی بیٹھنا پڑا
” حمنہ بیٹا “
” پلیز سر ۔۔۔ میرا نام صرف حمنہ ہے یا پھر حمنہ اصفر ۔۔۔۔ اس لئے مجھے اچھا لگے گا اگر آپ مجھے صرف میرے نام سے پکاریں” حمنہ کو اس شخص سے کوئی رشتہ نہیں جوڑنا تھا ۔۔۔۔ حسن کمال بے بس ہوئے تھے گلے میں۔ گرہیں مزید پڑیں تھیں جب سے یہ معلوم ہوا تھا کہ حمنہ زندہ ہے اصفر کو مل گئ ہے تب سے خود کو حمنہ کے سامنے مافی مانگنے کے لیے تیار کر رہے تھے ۔۔۔۔ لیکن آج جیسے لفظ کھونے لگے تھے
” میں تم سے اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہوں ۔۔۔۔ بہت ۔۔۔بہت شرمندہ ہوں ” با مشکل اپنے ہاتھ اسکے سامنے جوڑ کر کہنے لگے
” اپنے کیے کی سزا بہت بری پائی ہے ۔۔۔ اور اب تک ایک اذیت کو بوجھ کی طرح زندگی کے نام پر گزار رہا ہوں ۔۔۔۔۔ میرے گناہ معافی کے قابل تو نہیں لیکن یہ سوچ کر تمہارے سامنے آیا ہوں کہ تم ایک باظرف ماں باپ کی خودار اور باظرف بیٹی ہو ۔۔۔ “وہ روتے ہوئے کہہ رہے تھے
” جی میں اسی باظرف ماں کی بیٹی ہوں جسے موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے آپ کو ذرارثم نہیں آیا تھا ۔۔۔۔ لیکن کیا کرو میرے مان باپ کی تربیت مجھے نفرت بھی ڈھنگ سے کرنے نہیں دیتی ۔۔۔۔
آپ بڑی امید لیکر میرے پاس آئے ہیں ۔۔۔ اور میری
جبوتی یہ ہے خالی ہاتھ آپ جوآج بھی لوٹا نہیں۔ سکتی ۔۔۔ میری ماں کہتی تھی کہ باشادہ بھی درازے پر کھڑا سوالی بنکر آئے تو ۔۔۔ ہوتا سائل ہی ہے ۔۔۔۔ نا امید نہیں لوٹانا چاہیے ۔۔۔ جو کچھ آپ نے میری ماں کے ساتھ کیا اس کا معاملہ میں نے اللہ پر چھوڑ دیا تھا ۔۔۔ اب امی جانے آپ جانے آڈر اللہ جانے ۔۔۔۔ میں نے اپنی والدہ کے حوالے سے نا آپ پر کوئی کیس کیا نا ہی کوئی قانونی کاروائی کی ۔۔۔ کیونکہ اللہ بہتر انصاف مرنے والا ہے ۔۔۔ ہاں جو کچھ آپ نے میرے ساتھ کیا ۔۔۔ وہ میرے اختیار میں ہے ۔۔۔۔
اگر معافی کا مطلب یہ ہے ۔۔۔ آپ مجھے حمنہ سے بیٹا یا بیٹی کہہ کر پکاریں ۔۔۔ یا مجھ سے اس عزت اور فرمابرداری کی توقع رکھیں جو میں پہلے آپ کی کرتی تھی تو میں ابھی اتنے اونچے ایمان درجے پر نہیں پہنچی ۔۔۔
ہان اگر معافی کا مطلب یہ ہے کہ میرے زبانی اعتراف سے اپکی تکلیف اور اذیت میں کمی آ جاتی ہے ۔۔۔ تو میں ۔ نے آپ کو معاف کیا ۔۔۔لیکن آپ سے صرف یہ چاہوں کے خدارا میرے سامنے مت آئیے گا۔۔۔۔ ” وہ بڑے ضبط سے گزر رہی تھی ۔۔
” میں ۔۔۔۔ میں تمہاری زندگی میں کبھی بھی مشکل پیدا نہیں کروں گا لیکن ۔۔۔۔ مجھے میرے بیٹے اور ہوتا پوتی سے محروم مت کروں تنہائی کسی زہریلے سانپ کی طرح مجھے ڈستی ہے ۔۔۔۔ زندگی کی شام تو کب کی گزار چکا ہوں ۔۔۔۔ جانے کتنے کی دن کی زندگی کی رات بچی ہے ۔۔۔ بس مجھے بچوں کے ساتھ جی لینے دو حمنہ ۔۔۔۔ میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا ” وہ اب ہاتھ جوڑے گڑ گڑاتے ہوئے کہہ رہے تھے حمنہ کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔ اگلے روز
اصفر کو ڈسچارج کر دیا گیا تھا ۔۔۔۔ حسن کمال واپس جا چکے تھے مزید اصفر کی زندگی کو آزمائش نہیں بنا سکتے تھے
اصفر کا پاؤں کا اوپری حصہ بری طرح سے جل چکا تھا ۔۔۔ پھر ٹانگ پر پہلے سے ہی چوٹ تھی وہ ٹھیک سے چل نہیں پا رہا تھا ۔۔۔ حمنہ ہی اسے سہارادے کر کمرے تک لائی تھی ۔۔۔۔ بیڈ پر احتیاط سے بیٹھایا تھا ۔۔۔۔ لیکن تھی چپ چپ سی ۔۔۔۔ رات کا کھانا کھلانے کے بعد اس نے ایک بیل اس کے پاس رکھ دی
” اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو اسے پریس کر دیجیے گا ۔۔۔ میں آجاؤں گی ۔۔۔ “یہ کہہ کر وہ بچوں کے کمرے میں۔ جا چکی تھی ۔۔۔ رات بارہ بجے تک وہ بچوں کے سونے کاانتظار کرتا رہا ۔۔۔ پھر بٹن پریس کیا تھا بیل کی آواز حمنہ کے کمرے میں گئ تھی کچھ دیر بعد کی وہ موندی موندی آنکھوں سے اس کے پاس پہنچی تھی جیسے نیند سے جاگی ہو
“جی کہیے “
” ادھر آوں ۔میرے پاس ۔۔۔۔ ” اصفر کے کہنے پر وہ اس کے پاس آ کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔ اصفر نے اس ہاتھ تھام کر بات شروع کی تھی ۔۔۔
” بہت بہت شکریہ مجھے معاف کرنے کے لئے اپنی زندگی میں شامل کرنے کے لئے۔۔۔۔ حمنہ میرے پاس تمہارے ہر سوال کا جواب ہے تم جو چاہے وہ پوچھ سکتی ہو ۔ اپنے دل کاہر خدشہ جو چاہو دور کر سکتی ہو ۔۔۔ ” حمنہ نے مسکرا کر اس کا ہاتھ اپنے دوسرے ہاتھ سے تھام لیا تھا
” اصفر میں سب کچھ بھول جانا چاہتی جو کچھ گزر چکا ہے ۔۔۔۔ مجھے کوئی صفائی کوئی دلیل نہیں چاہیے ۔۔۔ آپ نے وہ سب چھوڑ دیا ہے جس پر مجھے اعتراض تھا بس میرے لیے یہی کافی ہے ۔۔۔۔۔۔ کیا یہ بات اہم نہیں کہ کہ ہماری محبت میں اب بھی اتنی سچائی باقی ہے کہ بنا کسی وضاحت کے بھی ہم ایک دوسرے کے لئے محبت رکھتے ہیں ۔۔۔ اور ضروری نہیں کہ آپ میری اور بچوں کی ضروریات کے لئے خود ہلکان کریں ہم ملکر بھی سب مینج کر سکتے ہیں ۔۔۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھی ہوتے ہیں ۔۔۔ ایک دوسرے کے لئے بوجھ ہر گز نہیں جیسے اٹھاتے اٹھاتے انسان تھکنے لگے “
” تم بس میرا حوصلہ ہی بڑھا دیا کرو تو میری تھکن تمہیں دیکھ کر ہی اتر جائے گی ۔۔۔۔ بس ۔میرے ساتھ رہو میرے پاس ۔۔۔۔ کبھی نا دور جانے کے لئے ۔۔۔۔” وہ بڑی محبت اور اپنایت سے کہہ رہا تھا ۔۔۔ حمنہ مسکرانے لگی ۔۔۔۔
” حمنہ میں تمہیں کبھی فورس نہیں کروں گا لیکن ڈیڈ کو بھی نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔۔ اس لئے نور اور ایمان کو انکے دادا سے ملوانے تو لے جاسکتا ہوں ۔۔۔”؟اصفر کی اس بات پر وہ چپ تھی
” میں انہیں وہاں کچھ بھی کھلاؤں گا نہیں ۔۔ بے فکر رہو ۔۔۔ بس ڈیڈ۔ مل لیں گئے ” حمنہ کی فکر وہ جانتا تھا ۔۔۔
“مجھے کوئی اعتراض نہیں ” حم ہ کے جواب نے جیسے اسکی بہت بڑی الجھن دور کی تھی ۔۔۔۔
******……..
شادی کے چند دن روز بعد ہی فارس اپنے گاوں واپس جا چکا تھا ۔لائبہ کو ساتھ لیکر ۔۔ زندگی کو نئے سرے سے گزارنے کے لئے ضروری تھا کہ راہیں بدل لی جائیں تاکہ زندگی سے حسداور تلخیاں ختم ہو جائیں
فارس لائبہ کے ساتھ بہت خوش تھا کیونکہ وہاں حمنہ کہیں نہیں تھی بس لائبہ تھی ۔۔۔اور اس کا پیار تھا ۔۔۔ جو وہ اکثر اس سے جتاتی رہتی تھی
اصفر بھی حمنہ اور بچوں کے ساتھ اپنی زندگی مطمئن گزار رہا تھا خوشیاں پھر سے لوٹ آئیں تھیں ۔۔۔
بس اگر کوئی تکلیف میں تھا تو تھا حسن کمال محل جیسا گھر لیکن بلکل خالی نا بیٹے نا بہوئیں نا ہی ایمان اور نور ۔۔۔
کیو نکہ ایمان کا نور پانے کے لئے نفس پر پاؤں رکھنا پڑتا ہے ۔۔۔۔ جو کہ حمنہ اصفر اور فارس نے رکھ لیا تھا ۔۔۔ اس لئے زندگی میں کم سہولیات کے ہوتے ہوئے بھی زندگی خوشحال گزر رہی تھی
کیونکہ زندگی میں ایمان کا نور شامل تھا
