Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 2
Rate this Novel
Noor-e-Emaan Episode 2
Noor-e-Emaan by Umme Hani
سیف جب ہاسپٹل پہنچا ۔۔۔۔ڈاکٹر کمال کو ہوش آ چکا تھا ۔۔۔۔نقاہت کے باوجود وہ خود کو بہتر محسوس کر رہے تھے۔۔۔۔۔اصفر بھی اب کافی مطمئن تھا ۔۔۔۔۔چند دن تک انہیں وہیں رہنا تھا ۔۔۔۔۔۔حمنہ کی چھٹی کی وجہ سے ۔۔۔فارس پر کافی بوجھ بڑھ چکا تھا ۔۔۔۔۔بڑی مشکل سے رات کی چھٹی لیکر وہ اپنے گھر کے بجائے حمنہ کی طرف چلا آیا ۔۔۔۔کال بیل بجاتے ہی نور اور ایمان دونوں ہی خوش ہوتے ہوئے میں گیٹ کی طرف لپکے فارس ہمیشہ ایک مخصوص طریقے سے بیل دیتا تھا ۔۔۔۔اور بچے اس سے مانوس بھی بہت تھے ۔۔۔۔حمنہ کچن میں ڈنر تیار کر رہی تھی ۔۔۔۔بیل کی آواز سے سمجھ گئ کہ فارس ہی ہے ۔۔۔۔اس لئے کوفت زدہ منہ بنا کر کباب تلنے لگی اب وہ آیا تھا تھا دو گھنٹے سے پہلے تو اس کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔باہر انکل انکل کی آواز پر حمنہ نے برنر بند کیا کباب پلیٹ میں نکالے ۔۔۔اور باہر لاونج میں آ گئ جہاں دونوں بچے ہی فارس کی گود میں چڑھے ہوئے تھے ۔۔۔۔
“نور۔۔۔ مان اترو نیچے اب تم لوگ بچے تو نہیں ہو ۔۔۔۔”۔حمنہ کے ٹوکنے پر وہ یک دم ہی چپ سے ہو گئے اور گود سے نیچے بھی اتر گئے
“فارس تم بھی نا ۔۔۔۔منع کیوں نہیں کرتے ہو انہیں” ۔۔۔۔حمنہ لاونج میں رکھے ٹیبل پر کباب رکھ کر دوبارہ کچن میں چلی گئ
“کیا ہو گیا ہے تمہیں بچے ہی تو ہیں “۔۔۔۔فارس نے جیب سے چاکلیٹ نکالیں اور دونوں کو پکڑادیں دونوں ہی اسکا شکریہ ادا کرتے ہوئے ٹیبل پر بیٹھ گئے حمنہ نے کھانا ٹیبل پر لگایا ۔۔۔فارس بے تکلفی سے ٹیبل کے پاس آکر باول کاڈھکن اٹھا کر دیکھتے ہی چہکنے لگا
“واہ کوفتے بنائے ہیں ۔۔۔۔بہت اچھا کیا تم حمنہ قسم سے دو دن سے ہاسپٹل کی کینٹین کا کھا کھا کر بیزار ہو چکا تھا “۔۔۔فارس جلدی سے پلیٹ میں سالن ڈالتے ہوئے بولا اور کرسی کھنچ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔
حمنہ نے ایک پلیٹ میں کباب بھی رکھ کر پلیٹ فارس کے سامنے رکھ دی ۔۔۔۔
“تھینکس ڈاکٹر صاحبہ “۔۔۔۔منہ میں نوالہ لیتے ہوئے فارس نے تشکر بھری نگاہ سے حمنہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا حمنہ کے چہرے پر سجی خفیف سی مسکراہٹ بھی اس کے اس جمعلے سے دم توڑ گئ
“پلیز فارس مجھے ڈاکٹر صاحبہ مت کہا کرو حمنہ نے کہا کرو” ۔۔۔۔حمنہ اب دونوں بچوں کو باری باری کھانا کھلانے لگی
“او کے جناب ۔۔۔۔اور کوئی حکم “۔۔۔۔وہ کباب کھاتے ہوئے بولا
“ویسے ایک بات تو بتاؤں حمنہ ۔۔۔۔ڈاکٹر اور سرجن ہوتے ہوئے تم اتنے مزیدار کھانے کیسے بنا لیتی ہو ۔۔۔۔رئیلی بہت ذائقہ ہے تمہارے ہاتھ میں ۔۔۔۔پتہ ہے کچھ دن پہلے میں ڈاکٹر نایاب کے گھر کھانے پر چلا گیا تھا ۔۔۔۔اف میرے خدایا لگ رہا تھا سب کچھ ابال کر سامنے رکھ دیا ہو ۔۔۔۔زہر مار کر کے کھانا کھانا پڑا مجھے اور اس پر یہ بھی ستم کے اسکی تعریف بھی کرنی پڑی” ۔۔۔۔وہ کھانے کے دوران مسلسل بولے جا رہا تھا ۔۔۔۔
“کبھی اپنے گھر کا بھی رستہ بھول جایا کرو ۔۔۔۔۔کبھی نایاب کبھی توبہ کبھی روبی اور کبھی میں ۔۔۔۔۔” حمنہ دونوں بچوں کو باری باری نوالہ کھلا رہی تھی
“گھر جا کر کیا کروں گا ۔۔۔۔وہاں کونسا میرے لئے گرما گرم روٹی اور کوفتے بنے رکھے ہوں گئے ۔۔۔”۔فارس نے ہاٹ پاٹ سے روٹی نکالتے ہوئے حمنہ کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
“شادی کر لو فارس ۔۔۔گرم روٹی اور کھانا وقت پر ملے گا “۔۔۔۔حمنہ نے نور کو پانی پلاتے ہوئے کہا کچھ دیر فارس خاموشی سے حمنہ کو دیکھتا رہا ۔۔۔۔ پھر ایمان سے پوپوچھنے لگا
“کیوں بھئ مان تم بتاؤں کر لوں شادی ؟” ۔۔۔۔ایمان جو کباب کھانے میں مصروف تھا ہسنے لگا
“ہاں کر لیں پھر ہم آپ کے گھر کھانے پر آیا کریں گئے ۔۔۔۔”وہ کیچپ لگا لگا کر کباب کھاتے ہوئے بولا
“ہاں۔۔۔ ہو سکتا ہے ۔۔۔۔تم دونوں کو میں اپنے پاس ہی رکھ لوں ہمیشہ کے لئے ” ۔۔۔ فارس کی ذو معنی بات پر حمنہ نے برجستہ فارس کی طرف دیکھا وہ مسکراتے ہوئے پانی پینے لگا تھا ۔
“۔۔۔مان ۔۔۔نور جاؤں شاباش کھیلو جا کر”حمنہ نے نیپکن سے دونوں کا منہ صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔دونوں بچے اپنے کمرے میں چلے گئے
“تم کیا بچوں کے ساتھ اول فول بکنے لگتے ہو ۔۔۔۔” حمنہ نے فارس کو گھرکہ تھا
“تو اس میں حرج کیا ہے ۔۔۔۔۔تمہیں اعتراض کس بات پر ہے” ۔۔۔۔فارس اب سنجیدہ ہو گیا تھا ۔۔۔۔
“مجھے اس موضوع پر بات نہیں کرنی” ۔۔۔۔حمنہ ٹیبل سے برتن اٹھانے لگی ۔۔۔۔۔فارس بھی کچن میں ہی آ گیا
“مجھے تمہارے انکار کی وجہ جاننے کا حق ہے حمنہ ۔۔۔۔۔۔”
“مجھے شادی کرنی ہی نہیں ہے ۔۔۔۔بہتر ہے کہ تم اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنا گھر بسالو ۔۔۔۔”حمنہ اب سنک میں برتن رکھ کر دھونے لگی
“اور تم ‘”وہ خشمگیں نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
“میری فکر اور ذمہ داری لینے والے تم کون ہوتے ہو ۔۔۔۔میں ایسے ہی خوش ہوں ۔۔۔۔” اس بات پر فارس اس کے قریب آ کر بولا
“اچھا خوش ہونے والے ایسے ہوتے ہیں ۔۔۔۔تمہاری طرح ۔۔۔۔۔۔میں نے تمہیں پچھلے پانچ سالوں میں کبھی کھلکھلا کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا ۔۔۔حمنہ کبھی تمہارے چہرے پر خوشی کی چمک نہیں دیکھی ۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہے تمہیں اپنے شوہر سے بہت محبت ہوگی ۔۔۔۔۔۔میں مانتا ہوں ۔۔۔مگر حقیقت کو بھی تو تسلیم کر لو کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے ۔۔۔۔اپنے لئے نہیں تو بچوں کا سوچ لو ۔۔۔آج وہ چھوٹے مگر کل انہیں ہر قدم پر ایک باپ کے سہارے کی ضرورت ہے ” فارس سنجیدگی سے کہہ رہا تھا لیکن وہ تلخ سی ہو گئ
“نہیں ہے ضرورت انہیں باپ کی ۔۔۔۔میں کافی انکے لئے ۔۔۔۔اور میرے بچے بھی کوئی انوکھے نہیں ہیں کئی عورتیں اپنے بچوں کو یونہی پال لیتی ہیں ۔۔۔۔۔ساری زندگی انکی بھی گزر جاتی ہے ۔۔۔آسانی سے نا سہی مشکل سے ہی سہی مگر گزر ضرور جاتی آتی ہے “۔۔۔ حمنہ تلخ سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔۔فارس بھی حتمی اندازے سے بولا
“ٹھیک ہے پھر میری فکر بھی مت کیا کرو ۔۔۔۔بہت سے لوگ میری طرح تنہا زندگی بھی بسر کر ہی لیتے ہیں انکی بھی گزر ہی جاتی ہے خوشگوار نا سہی روکھی ہی سہی ۔۔۔۔چلو چائے بناؤ میرے لئے ۔۔۔۔اور تم کھانا کھاؤ ۔۔۔کھانے سے بھلا کیا ناراضگی ہے تمہاری “۔۔۔۔فارس یہ کہہ کر باہر چلا گیا ۔۔۔حمنہ نے چاہے کی کیتلی رکھی اور باقی کے برتن دھونے لگی بھوک تو ویسے ہی مر چکی تھی ۔۔۔۔۔فارس بچوں کے کمرے میں ہی ان کے ساتھ لڈو کھیل رہا تھا ۔۔۔۔۔حمنہ نے ایک کپ فارس کی طرف بڑھا دیا اور اپنا کپ لیکر زمین پر ہی ایمان کے پاس بیثھ گئ ۔۔۔۔فارس نے نے اپنا کپ زمین پر رکھا گود میں بیٹھی نور کو بھی نیچے بیٹھایا اور خود کھڑا ہو گیا ۔۔۔نور تم باری چلو میں بس ابھی آیا ۔۔۔۔یہ کہہ کر فارس کمرے سے باہر نکل گیا حمنہ ان دونوں کی گیم میں مدد کرنے لگی ۔۔۔ فارس ایک ٹرے میں کھانا رکھ کر اندر داخل ہوا اور وہ ٹرے حمنہ کے سامنے رکھ دی
“کھانا کھاؤں پہلے بہت مزے گا بنا ہے ۔۔۔میں نے اپنے ہاتھوں سے تمہارے لئے بنایا ہے” ۔۔۔۔فارس کی بات پر حمنہ مسکرانے لگی ۔۔۔۔۔فارس دوبارہ بیٹھ کر گیم میں نور کی کی مدد کرنے لگا ۔۔۔۔دونوں بچے فارس کے آ جانے سے خوش ہو جاتے تھے ۔۔۔۔۔جیسے ہی گیم ختم ہوئی فارس کی چائے بھی ختم ہو چکی تھی ۔۔۔۔
“اب تمہارا کیاارادہ ہے ۔۔۔۔۔ہاپسٹل کب آؤں گی “
“ابھی نہیں ۔۔۔بس کچھ دن بچوں کے ساتھ گزاروں گی “۔۔۔۔حمنہ نے چائے کا خالی کپ اس کے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے کہا
“ہاں یاد آیا وہ تمہاری نامور شخصیت ابھی تک ہاسپٹل میں ہے یا جا چکے ہیں ۔۔۔۔حمنہ نے کمرے سے نکلتے ہوئے پلٹ کر پوچھا
“نہیں ابھی تو نہیں اب تو انہیں ہوش بھی آ چکا ہے ۔۔۔۔۔اور ان کے دونوں ڈاکٹر بیٹے بھی مطمئن ہیں ۔۔۔۔دو تین دن کے بعد شاید چلے جائیں “۔۔۔۔۔فارس کندھے اچکا کر بولا ۔۔۔۔۔ہمنہ کچھ سوچتے ہوئے باہر چلی گئ ۔۔۔۔فارس بھی کچھ دیر میں چلا گیا ۔۔۔۔ حمنہ بچوں کو ایک اچھی اسٹوری سنانے لگی کچھ ہی دیر میں وہ دونوں بھی سو گئے ۔۔۔۔۔
********……..********
“ڈاکٹر بیگ آپکی وہ سرجن نہیں آئیں جنہوں نے ڈیڈ کوآپریٹ کیا تھا” ۔۔۔۔اصفر نے کے استفسار پر ڈاکٹر بیگ نے نفی سر ہلا دیا
“وہ چھٹیوں پر ہے ۔۔۔۔اور بہت ہی کم چھٹی کرتی ہیں اس لئے ۔۔۔۔میں انہیں منع نہیں کرتا ۔۔۔بہت قابل ڈاکٹر ہیں ۔۔۔۔۔اور ذمے دار بھی ۔۔۔۔۔ویسے آپ کے والد اب کافی بہتر ہو چکے ہیں ۔۔۔۔۔آپ چاہیں تو کل تک انہیں کے لے جا سکتے ہیں ۔۔۔۔ڈاکٹر بیگ نے مسکرا کر اصفر کو تسلی دی ۔”۔۔۔ڈاکٹرحسن کمال کی بہت خواہش تھی کہ ایک بار وہ اس سرجن سے ضرور ملیں جس نے انہیں زندگی کی نوید سنائی ہے ۔۔۔۔انہوں نے ڈاکٹر بیگ سے ریکوسٹ بھی کی کہ وہ ایک بار انہیں اس ڈاکٹر سے ملوا دیں تا کہ وہ انکا شکریہ ادا کر سکیں ۔۔۔۔ڈاکٹر بیگ نے کال بھی کی حمنہ سے کہا بھی کہ ڈاکٹر کمال ان سے ملنے کی خواہشمند ہیں مگر حمنہ نے بہانہ بنا کر ٹال دیا ۔۔۔۔۔۔اگلے دن ہی وہ لوگ لاہور کے لئے روانہ ہو گئے تھے ۔۔۔۔۔جب حمنہ کو اس بات کی تسلی ہو گی کہ وہ جا چکے ہیں ۔۔۔پھر ہی وہ واپس ڈیوٹی پر آئی تھی ۔۔۔۔۔۔
اصفر نا جانے کیوں مطمئن نہیں۔ تھا اس لئے لاہور واپس آتے ہی اس نے ڈاکٹر کمال کے تمام ٹیسٹ دوبارہ کروائے ۔۔۔۔۔بڑے سرجن نے چیک اپ کے بعد انہیں تسلی بخش جواب ہی دیا تھا ۔۔۔۔
“اصفر ۔۔۔حسن کمال صاحب کا آپریشن بلکل ٹھیک ہوا ہے ۔۔۔۔۔اور کرنے والا سرجن کافی تجربہ کار معلوم ہوتا ہے ورنہ اس نوعیت کے کیس عام اور معمولی سرجن کے بس کی بات نہیں تھی” ۔۔۔۔ڈاکٹر آفتاب بہت بڑے سرجن ہونے ساتھ ساتھ ڈاکٹر کمال کے دوست بھی تھے ۔۔۔۔کمال صاحب کی ساری پرانی نئی رپورٹس دیکھ کر بولے ۔۔۔۔۔۔پھر انہیں نئے سرے سے میڈسن اورڈائٹ کے بارے میں بتانے لگے ۔۔۔۔۔ کافی دن گزرنے کے بعد جب کمال صاحب کافی بہتر ہو گئے تو اصفر بھی مطمئن سا ہو گیا ۔۔۔۔۔رات کو ڈنر کے بعد وہ کمال صاحب کو میڈسن خود دیتا تھا ۔۔۔۔۔ اب بھی انہیں میڈسن اپنے سامنے کھلانے کے بعد کمرے سے جانے لگا تو کمال صاحب کی پکار پر رک گیا ۔۔۔
“اصفر کچھ دیر بیٹھو میرے پاس” ۔۔۔۔کمال صاحب دھیرے دھیرے ہی بات کر رہے تھے ۔۔۔۔اصفر ان کے بیڈ کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا
“جی ڈیڈ ۔۔۔۔کہیے ۔۔۔۔کہیں پین ہے یا کوئی پرابلم ہے تو بتائیے مجھے ۔”۔۔۔ اصفر فکرمندی سے پوچھنے لگا
“نہیں بہت بہتر فیل کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔بس بہت عرصہ گزر گیا تم سے بات کیے ہوئے ۔۔۔۔۔حالانکہ کہنے کو ہم باپ بیٹا ہیں۔”۔۔کمال صاحب کے لہجے میں طنز تھا لیکن اصفر چپ ہی رہا
” کہاں گم رہتے ہو تم ۔۔۔۔۔بس کر دو اصفر جس کی تلاش میں تم مارے مارے پھر رہے ہو۔۔۔ نا جانے زندہ بھی ہے یا “۔۔۔۔اصفر نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں چپ کروادیا
“پلیز ڈیڈ ۔۔۔۔۔وہ زندہ ہے ۔۔۔کچھ نہیں ہو سکتا اسے ۔۔۔۔۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسے ۔۔۔۔۔اس بار میری آنکھوں کا دھوکہ نہیں تھا نا ہی کوئی وہم وگمان وہ سچ مچ میرے سامنے تھی ڈیڈ بس کچھ دور تھی مجھ سے ۔۔۔مجھے دیکھ کر بھاگ گئ ۔۔۔۔ میں نے پیچھا بھی کیااس کا مگر نا جانے کہاں کھو گئ ۔”۔۔۔۔اصفر بہت مضطرب سا ہو کر بتا رہا تھا ۔۔۔۔
“تم نے اسے اپنے ہواسوں پر سوار کر لیا ہے اصفر بھول جاؤں اسے ۔۔۔۔”حسن کمال اسکی دیوانگی سے تنگ آ چکے تھے
“کوئی اور بات کریں ڈیڈ ” آواز میں نمی تھی
“کیا بات کروں ۔۔۔۔۔تم ہی غور کرو خود پر اپنا حلیہ دیکھوں کون کہہ سکتا ہے تم ایک ڈاکٹر اور سرجن ہو ۔۔۔۔۔تم نے ہاسپٹل بھی جانا چھوڑ دیا ہے ۔۔۔۔۔سیف اور میرب کب تک اکیلے سنبھالیں گئے تمہاری مما کے انتقال کے بعد میں ویسے بھی ٹوٹ چکا ہوں ۔۔۔۔تم بھی بے نیاز ہو گئے ہو ۔۔۔۔۔ ہوسپٹل کی وہ رپوٹیشن بھی نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی
“ٹھیک ہے کل چلا جاؤں گا ۔۔۔۔”
“بس کل؟ “
“ڈیڈ میں پابندی سے نہیں جا سکتا مجھے اسے ڈھونڈنا ہے بس آپ کے ٹھیک ہونے کا انتظار ہے مجھے واپس وہیں جانا ہے جب تک وہ نہیں مل جاتی میرے لئے ہر۔ چیز بے معنی ہے ۔۔۔۔میرا دل کہتا ہے وہ وہیں کہیں ہے ۔۔۔ یونہی کسی دن سر راہ مجھے مل جائے گئ۔۔۔۔”اصفر کو اپنی محبت پر یقین تھا
“چلو خدا کرے ایسا ہی ہو ۔۔۔۔” حسن کمال کو ہی بیٹے کے سامنے ہار ماننی پڑی
“ایسا ہی ہو گا مجھے پورا یقین ہے اپنے رب کی ذات پر “۔۔۔۔اصفر نے اپنے دونوں ہاتھوں میں کمال صاحب کا ہاتھ تھام کر ۔۔۔۔زبردستی مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا
“اصفر اگر وہ تمہیں مل بھی گئ ۔۔۔۔تو کیاوہ اپنا لے گئ تمہیں ۔۔۔۔تمہارا کیا خیال ہے واپس آئے گی یہاں ۔۔۔۔نہیں بیٹا ۔۔۔۔وہ نہیں آئے گی “وہ رنجیدگی سے بولے
“ضرور آئے گی ڈیڈ ۔۔۔۔میں لیکر آؤ۔ گا اسے ۔۔۔۔منت کرو گا اسکی ہاتھ جوڑو کا اسکے آگے ۔۔۔۔اگر اسے منانے کے لئے مجھے اسکے پیر بھی پکڑنے پڑے تو میں اس سے بھی گریز نہیں کرونگا ۔۔۔۔بس ایک بار ۔۔۔۔صرف ایک بار وہ میرے رو با رو آ جائے ۔۔۔۔۔میں اسے کہیں جانے نہیں دونگا “۔۔۔ اصفر لاکھ ضبط کے باوجود اپنے بے اختیار آنسوں پر بندھ باندھنے سے قاصر تھا ۔۔۔۔۔فورا سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا کمال صاحب ایک ٹھنڈی آہ لیکر رہ گئے
“کاش کے اصفر وہ تمہیں مل جائے ۔۔۔۔کمال صاحب اصفر کی حالت زار پر بہت آرزدہ تھے ۔۔۔۔ایک اس لڑکی کے چلے جانے سے اسکی پوری زندگی کی خوشیاں جیسے رخصت ہو چکی تھیں ۔۔۔۔۔۔نا اسے اپنے کریئر کی فکر تھی نا اپنی ۔۔۔۔بس ایک ہی دھن سوار تھی کہ وہ اسے مل جائے کہاں کہاں اصفر نے اسے تلاش نہیں کیا تھا ۔۔۔۔۔۔مگر وہ تو یوں گم ہوئی جیسے اسکا کہیں کوئی وجود ہی نا ہو ۔۔۔۔۔کمال صاحب نے ایک گہری سانس کھنچ کر لی اور بیڈ کی بیک سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لی ۔۔۔۔۔
“اصفر یہ لڑکی ضرور ہمیں بدنام کرئے گی مجھے اسکے تیور ٹھیک نہیں لگتے ۔۔۔۔اور تم جانتے ہو پورے شہر میں میری کیا رپوٹیشن ہے ۔۔۔۔۔میں اس نیچ خاندان کی معمولی سی لڑکی کی کوتاہی کو برداشت نہیں کروں گا ” کمال صاحب کو بیتے لمحے یاد آنے لگے تھے
“ڈیڈ وہ ایسا کچھ نہیں کرے گی ۔۔۔۔میراوعدہ ہے آپ سے “
“کیا کرو گئے تم ۔۔۔۔۔کیا کر سکتے ہو تم ۔۔”۔۔کمال صاحب چلا کر آپے سے باہر ہوتے ہوئے بولے
“ڈیڈ میں نے کہا نا وہ کچھ نہیں کرے گی”
“میں کچھ نہیں جانتا اصفر اگر اس لڑکی نے اپنا منہ کھولا تو میں جان سے مار ڈالوں گا “۔۔۔۔کمال کو اپنی بازگشت سنائی دے رہی تھیں۔۔۔۔۔۔
*******……….*********
حمنہ ابھی او پی ڈی کے مریضوں سے فارغ ہوئی تھیں۔۔۔۔کہ برف باری کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا تھا ۔۔۔۔اس نے موبائل پر ملازمہ کو سخت تاکید کی کہ ایمان اور نور کو بلکل باہر نا نکلنے دے ۔۔۔۔فون بند کر کے اٹھ گئ اسے فکر تھی کہ بچے کبھی بھی ملازمہ کی بات کو اہمیت نہیں دیں گئے اس لئے چاہتی تھی کہ جلد ہی واڈ کا راؤنڈ لیکر جلد ہی گھر چلی جائے اس لئے کچھ عجلت سے کمرے سے نکلی تو فارس سے ٹکرا گئ ۔۔۔۔
“او ہو ہو محترمہ ۔۔۔۔ذرادیکھ بھال کر “۔۔۔فارس دورازے پیچھے ہٹ گیا
“ایم وری سوری” ۔۔۔۔حمنہ کچھ خجل سی ہو گئ
“بائے دا وبے اتنی جلدی میں کہاں جانے کا ارادہ ہے ۔۔۔۔”
“راؤنڈ پر جانے لگی تھی پھر واپس گھر بھی جانا ہے ۔۔۔۔مان اور نور ایسے موسم میں میرے علاؤہ کسی سے نہیں سنبھلتے ۔۔۔۔اور ملازمہ کی تو بلکل ہی نہیں سنتے ۔۔۔۔اگر باہر نکل گئے تو بیمار پڑ جائیں گئے ۔۔۔۔”
“اوہو ۔۔۔۔تو تم چلی جاؤں حمنہ ۔۔۔۔میں دیکھ لوں گا ۔۔۔۔ویسے بھی اپنی ڈیوٹی سے میں فری ہو چکا ہوں ‘
“ارے نہیں تم صبح سے ڈیوٹی پر ہو ۔۔۔۔اچھا نہیں لگتا “۔۔۔۔۔ابھی حمنہ فارس سے بات کر ہی رہی تھی کہ کچھ ایمرجنسی کیس اور آ گئے ۔۔۔۔رات بھر حمنہ کہ ڈیوٹی تھی ۔۔۔۔
نرس حمنہ کو فورا ایمرجنسی میں آنے کے لئے کہہ کر چلی گئ
“اب توبلکل ممکن نہیں ہے ۔”۔۔۔حمنہ نے متفکر سی ہو گئ
“او کے تم پریشان مت ہو میں چلا جاتا ہوں گھر ۔۔۔۔فارس نے جیسے اسکا مسلہ حل کر دیا تھا
“تھینکس فارس ۔۔۔۔اگر تم چلے جاؤ۔ گئے تو میں بیفکر ہو جاؤں گی ۔۔۔”۔
“یو ڈونٹ وری حمنہ ۔۔۔۔میں ہوں نا ۔۔۔ بچوں کی فکر مت کرنا ۔۔”۔ فارس نے مسکرا کر اسے تسلی دیتے ہوئے کہا اور جانے کے لئے تیار تھا
“فارس ” چند قدم ہی باہر کی جانب بڑھائے تھے کی حمنہ کی پکار پر رکنا پڑا
“ہاں “
“کھانا فریج میں رکھا ہے ۔۔۔۔اور قدسیہ سے کہنا کہ روٹی بنا دے “
“او کے کہہ دوں گا بلکہ مان اور نور کو خود اپنے ہاتھوں سے کھا دونگا “۔۔۔۔فارس حمنہ کی پریشانی کو بھانپ گیا تھا حمنہ جلدی میں تھی اس لئے ایمرجنسی کی طرف چلی گئ اور فارس ہاسپٹل سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔ابھی برف باری شروع ہی ہوئی تھی ۔۔۔۔پارکنگ میں کھڑی گاڑی کی طرف تیزی سے بڑھ گیا ۔۔۔۔۔گاڑی کافرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گیاسردی کافی بڑھ گئ تھی اور شام تو ویسے ہی ڈھل چکی تھی ۔۔۔۔۔فارس نے ایک نظر آسمان کی طرف دیکھ کر موسم کے تیور دیکھنے چاہے ۔۔۔۔۔جو کسی طور ٹھیک نہیں لگ رہے تھے ۔۔۔۔فارس نے گاڑی کی اسپیڈ نارمل ہی رکھی کیونکہ باف باری کی وجہ سے سڑک پر کافی پھسلن سی ہو گئ تھی اور کچھ سڑکیں بھی سانپ کی طرح بل کھاتی تھی ۔۔۔۔وہ کافی محتاط ڈرائیو کرتے ہوئے حمنہ کے چھوٹے سے کاٹج نما گھر کے قریب گاڑی روکی ۔۔۔سامنے لکڑی کے دروازے کے اندر سے ہی مان اور نور چھوٹے سے لان میں ادھر ادھر بھاگتے نظر آرہے تھے اور قدسیہ حمنہ کی ملازمہ ان کے پیچھے بھاگتے ہوئے انہیں آوازیں دے رہی تھی ۔۔۔۔۔مگر وہ شاید اس کی سن ہی نہیں رہے تھے ۔۔ کبھی وہ نور کے پیچھے بھاگتی تو کبھی ایمان کے پیچھے ۔۔۔وہ دونوں ہی اسے منہ چڑھاتے بھاگ رہے تھے کبھی باغیچے میں بکھری برف اٹھا کر قدسیہ کے اوپر پھنکنے لگے فارس نے لکڑی کادروازہ کھولا ۔۔۔ اور تیزی سے جا کر ایمان کو پیچھے سے گود میں لے لیا “بہت شرارتی ہو گئے ہاں ۔۔۔چلو اندر ۔۔۔۔آذقدسیہ تم نور کو اندر لیکر آؤں” ۔۔۔۔فارس نے ہانپتی ہوئی بھری جسامت کی قدسیہ کو کہا ۔۔۔۔۔جس کا بھاگ بھاگ کر سانس بری طرح پھول رہا تھا ۔۔۔۔
“جی صاب جی ۔۔۔۔۔چلو نور ۔۔۔۔نور نے جب ایمان کو فارس کی گود میں دیکھا تو اس کا جوش خود ہی ختم ہو گیا ۔۔۔ایمان کے ساتھ ملکر اسے بھی تنگ کرنے کا جوش اور ولولہ بڑھ جاتا تھا ذیادہ تر شراتیں وہ ایمان کے ساتھ ملکر ہی کرتی تھی اب بھی بڑی شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قدسیہ کواپنا ہاتھ پکڑا کر اندر کی طرف بڑھ گئ ۔۔۔۔
“انکل یار چھوڑیں مجھے ۔۔۔مجھے ابھی باہر کھیلنا ہے ۔۔۔۔” ایمان اپنا آپ فارس سے چھڑواتے ہوئے بولا
“نہیں کھیلنا ۔۔۔۔بیمار پڑ جاؤں گئے ۔۔۔چلو آرام سے بیٹھو یہاں “۔۔۔۔فارس نے اسے صوفے پر لیٹا دیا ۔۔۔ایمان کا موڈ کافی آف تھا ۔۔۔۔نور بھی چپ چاپ ایمان کے ساتھ بیٹھ گئ ۔۔۔۔جیسے وہ ہاتھ باندھے منہ پھلائے اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہا تھا نور بھی ویسے ہی منہ پھلائے بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔
“نور بیٹا ادھر آؤ میرے پاس” ۔۔۔۔فارس نے نور کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہا
“نہیں نور تم انکل سے بات نہیں کرو گی ۔۔۔انکل گندے ہیں” ۔۔۔ ایمان نے ماتھے پر شکنیں ڈالے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا
“انکل میں آپ سے بات نہیں کرو گی آپ گندے ہیں “۔۔۔نور نے بھی ایمان کی تائید میں کہا فارس مسکرانے لگا ۔۔۔۔
“اچھا تو ٹھیک ہے مت کرو بات ۔۔۔۔جو چاکلیٹ میں تم دونوں کے لئے لایا تھاوہ میں قدسیہ کودیدتا ہوں ۔۔۔قدسیہ جو ٹیبل پر کھانا لگارہی تھی اپنی پوری بتیسی نکال کر ہسنے لگی
“قدسیہ تمہارے کتنے بچے ہیں “فارس نے دونوں کو نظر انداز کر کے قدسیہ سے پوچھا
“جی صاب جی چار ۔”۔۔۔قدسیہ نے اسے ہاتھ کی چار انگلیاں دیکھا کر بتایا
“ایمان اور نور نے ایک دوسرے کو دیکھاآنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کیے پھر فارس کے پاس آکر بیٹھ گئے
“انکل آپ چوکلیٹ لیکر آئے ہیں” ۔۔۔۔ایمان نے بڑی لگاوٹ دیکھاتے ہوئے کہا
“بلکل لایا ہوں۔۔۔”
“انکل آپ کو پتہ ہے قدسیہ کے بچوں کا گلہ خراب ہے ۔۔۔۔ممی نے کل ہی تو دوا لا کر دی قدسیہ کو ۔۔۔۔ ” ایمان نے ناک چڑھاتے ہوئے بہانے بنانے شروع کیے
“اچھا ۔۔۔۔چلو کوئی بات نہیں قدسیہ کھا لے گئ
کیوں بھئ قدسیہ تم تو بیمار نہیں ہو نا” ۔۔۔۔فارس مصنوعی حیرت دیکھاتے ہوئے قدسیہ سے پوچھنے لگا وہ بھی بچوں کی بہانے بازی سمجھ گئ تھی اس لئے کھی کھی کر کے ہسنے لگی
“نہیں جی میں تو بھلی چنگی ہوں ۔۔۔۔۔”
“جھوٹ مت بولو ابھی تو کچھ دیر پہلے کھانس رہی تھی” ۔۔۔۔ایمان غصے سے بولا
“ہاں انکل سچی ۔۔۔قدسیہ بہت جھوٹ بولتی ہے ۔۔۔۔آپ یہ چوکلیٹ مجھے اور مان بھیا کو دیدی۔ہم تو بلکل جھوٹ نہیں بولتے” ۔۔۔۔نور نے بڑی معصومیت سے بھائی کا ساتھ دیا تھا
“وہ تو میں دیدوں مگر میں تو بہت گندا ہوں نا ۔۔۔”۔فارس نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔
“نہیں میں نے یہ کب کہا وہ تو مان بھیا نے کہا تھا ” نور فورا اپنے موقف سے ہٹی تھی
“جی نہیں میں نے نہیں نور تم نے کہا تھا ۔۔۔۔” ایمان نے نور کو آنکھیں دیکھائیں
“اچھا بس بس ۔”۔۔فارس نے انکی تکرار سے محفوظ ہوتے ہوئے جیب سے چوکلیٹ نکال کر ان دونوں کی طرف بڑھا دی دونوں نے شکریہ کے ساتھ وہ چوکلیٹ فارس سے لی ۔۔۔۔
“لیکن پہلے کھانا کھاؤ ۔۔۔۔پھر چوکلیٹ کھانا ۔۔۔”۔فارس کی بات پر دونوں نے خوش ہوتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا فارس ابھی ان دونوں کو باری باری نوالے کھلا ہی رہا تھا کہ قدسیہ کچن سے باہر آ گئ
“وہ صاب جی میں اب گھر جاوں گی موسم کافی خراب ہے جی۔۔۔میرے بچے بھی میراانتظار کر رہے ہوں گئے ۔۔۔بی بی جی کب آئیںگئ”” ۔۔۔آسیہ نے اپنی مجبوری بتاتے ہوئے کہا
“ہاں تم جاؤں ۔۔۔۔۔حمنہ کو شاید صبح ہو جائے ۔۔۔”۔فارس نے نور کے منہ میں نوالہ ڈالتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔قدسیہ سر ہلاتے ہوئے چلی گئ۔۔۔فارس نے کھانا کھلانے کے بعد دونوں کے ساتھ گیم کھیلتا رہا رات کے گیارہ بجے تک حمنہ کا انتظار کرتا رہا ۔۔۔۔۔۔دونوں بچے سو چکے تھے
فون کی بیل بجی حمنہ کا ہی نمبر تھا
“ہیلو “
“فارس بچے کیسے ہیں ” حمنہ نے فکرمندی سے پوچھا
“سو رہے ہیں ۔۔۔ “
“کھانا تو کھا لیا تھا ٹھیک سے “حمنہ نے فکر مندی سے پوچھا
“ہاں میں نے خود کھلایا تھا ۔۔۔”
“تھینکس فارس ۔۔۔۔ایکچلی دو تین ایمرجنسی کے کیس آئے ہیں میں شاید صبح ہی آ پاؤں” ۔۔۔حمنہ کی بات پر فارس گہری سانس لے کر رہ گیا “اوکے ۔۔۔۔ٹھیک ہے ۔۔۔۔پھر میں یہیں سوجاتا ہوں ۔۔۔”
“ہاں تمہیں زحمت تو ہو گئ ۔۔۔۔لیکن بس کچھ دن کی بات ہے میں نے کہہ رکھا ہے ایک دو جگہ جلد ہی دن رات کے ملازمہ کے لئے…. مجھے امید ہے کہ بہت جلد انتظام ہو جائے گا ۔۔۔۔”حمنہ نے رقت آمیز لہجے میں کہا
“ہاں وہ تو تم کر ہی لو گئ ۔۔۔مگر بچوں کو اسوقت تمہاری ضرورت ہے حمنہ “
“ہاں میں جانتی ہوں مگر ۔۔۔۔کسب معاش بھی ضروری ہے ۔۔۔۔پھر میرا پیشہ ایسا ہے کہ میں ۔۔۔۔”حمنہ کی بات فارس نے بیچ میں سے اچک لی تھی
“جی جی میں سمجھ سکتا ہوں ۔۔۔۔اپکی مجبوریاں ۔۔۔۔حمنہ تم مان کیوں نہیں لیتی کہ تمہیں ایک ساتھی کی اشد ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔ماسی کے بجائے ساتھی کے بارے سوچوں اور اسکے لئے ادھر ادھر کہنے اور کوشش کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔بندہ غلامی کا شرف حاصل کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے'” ۔۔۔۔فارس کی بات پر وہ بس ہسنے لگی
“کبھی تو سیریس بھی جایا کرو ” حمنہ نے ہنستے ہوئے بات اڑائیں تھی
“بہت سیریس ہوں یار ۔۔۔۔۔بے شک قسم لے لو ۔۔۔۔” فارس کی جذباتی باتوں سے وہ ہمیشہ ہی زچ ہو جاتی تھی
” فارس پلیز ۔”۔۔۔۔
“ہاں ہاں معلوم ہے تم کہو گئ
پلیز فارس اگر تمہیں اس قسم کی فضول باتیں کرنی ہے تو میں فون رکھ دیتی ہوں ۔۔۔۔میری خاطر اپنا وقت ضائع مت کرو کسی بھی اچھی لڑکی سے شادی کر لو وغیرہ وغیرہ “۔۔۔۔۔حمنہ بے ساختہ ہنس پڑی
“شکر ہے کہ تمہیں ہسنا بھی آتا ہے ورنہ میں تو سمجھا تھا کہ۔۔۔۔۔”
“بس تم اپنی سمجھ اپنے پاس رکھو ۔۔۔۔اور بچوں پر بلینکٹ ٹھیک سے اوڑھا دینا ۔۔۔۔ نور کا ہاتھ پکڑ کے سونا فارس وہ رات کو ڈر جاتی ہے “۔۔۔۔حمنہ کو بار بار بچوں کی فکر ستا رہی تھی ۔۔۔۔
“او کے مادام ۔۔۔اور کوئی حکم “
“نہیں بس یہی” ۔۔۔حمنہ نے فون رکھ دیا ۔۔۔۔۔ابھی کچھ دیر پہلے ہی آ کر اپنے کمرے میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔کرسی سے اپنی پشت ٹکا کر کچھ دیر آنکھوں بند کیے لیٹ گئ ۔۔۔۔۔۔
“مبارک ہو حمنہ اللہ نے تمہیں رحمت اور نعمت دونوں سے نوازہ ہے” ۔۔۔۔۔حمنہ نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو دو معصوم بچے اسکے برابر میں لیٹے سو رہے تھے ۔۔۔۔۔دو دن بعد وہ ہوش میں آئی تھی ۔۔۔۔۔۔زندگی اور موت کی جنگ لڑتے ہوئے موت کو شکست دینے میں اسے دو دن لگ گئے تھے ۔۔۔۔۔نقاہت اور تکلیف کے باوجود ۔۔۔۔اپنے معصوم سے بچوں کو دیکھ کر وہ اپنے سارے غم جیسے بھول گئ تھی ۔۔۔۔۔ڈاکٹر نے اسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھرااور باہر چلی گئ کچھ دیر بعد ایک نرس آ کر اسکی ڈرپ چینج کرنے لگی
“بی بی اللہ نے بڑا کرم کیا ہے آپ پر ورنہ ڈاکٹر توامید کھو بیٹھے تھے کہ آپ کو ہوش بھی آئے گا ۔۔۔دو دن آپکے بچوں نے بڑاتنگ کیا ہے جی ۔۔۔۔ویسے کوئی تو ہو گا آپ کا” ۔۔۔۔نرس نے ہمدردانہ لہجے میں پوچھا
“نہیں کوئی نہیں ہے ۔۔۔۔۔” وہ دھیرے سے بولی آنکھوں کے کنارے بھیگے تھے
“ان بچوں کا باپ ۔۔۔۔وہ کہاں ہے”
“وہ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔گزر گیا ہے “۔۔۔۔حمنہ نے بامشکل کہا
“اوہ بڑادکھ ہوا سن کر ۔۔۔۔۔باپ کے بغیر دو دو بچوں کی پرورش ۔۔۔بڑاکٹھن امتحان ہے بی بی۔۔۔۔
“اللہ ہے میرے ساتھ ہے ۔۔۔۔پھر اور کسی کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے ۔۔۔۔۔میں اکیلی تو ایسی نہیں جس کے ساتھ ایسا ہوا ہو بہت سے عورتیں اپنے بچوں کو اکیلا پالتی ہیں ۔۔۔”
“ہاں بی بی یہ تو ہے ۔۔۔۔ویسے نام کیا رکھو گی بچوں گا “
“نور …ایمان ۔۔۔۔۔میں چاہتی ہوں میرے دونوں بچے ایمان کے نور سے منور رہیں” ۔۔۔۔۔حمنہ نے بہت فرط محبت سے ان دونوں سوئے ہوئے بچوں کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
“ڈاکٹر حمنہ “
وہ بیڈ نمبر سولہا پر جو بچہ ہے انجکشن نہیں لگوارہا کہہ رہا ہے آپ سے ہی لگوائے گا “۔۔۔۔حمنہ نے آنکھیں کھولیں سامنے نرس کافی عاجز نظر آرہی تھی
“تم جاؤں میں آتی ہوں “۔۔۔۔حمنہ نے ایک گہری سانس لی اور آٹھ کر واڈ کی طرف چل پڑی ۔۔۔۔بیڈ نمبر پر سولہا پر آٹھ سالہ بچہ حمنہ کو دیکھ کر چہک سا گیا
“آپ آ گئیں ۔۔۔۔”
“ہاں ۔۔۔اب بتاؤ۔ کیوں تنگ کر رہے تھے نرس کو ” حمنہ نے بچے کو پیار سے ڈپٹا
“آنٹی یہ بہت زور سے ٹیکہ لگاتی ہے اور آپکی طرح بسم اللہ بھی نہیں پڑھتی آپ نے کہا تھا کہ بسم اللہ پڑھنے سے درد نہیں ہوتا ۔۔۔”
کیوں بھئ کیوں بسم اللہ نہیں پڑھتی تم ۔۔لاؤں انجکشن مجھے دو ابھی میں بسمہ اللہ پڑھ کر انجکشن لگاؤں گی اور سعد کے ناتو درد ہو گااور وہ جلدی سے ٹھیک ہو جائے گا “۔۔۔۔حمنہ نے بہت پیار سے اس بچے سے کہا ۔۔۔۔وہ بھی ہسنے لگا ۔۔۔۔جیسے ہی حمنہ نے انجکشن اسکے بازو پر لگایا ایک سی کی آواز اس بچے کے منہ سے نکلی
“سعد لڑکے تو بہت بہادر ہوتے ہیں۔۔۔۔تم کیا نازک سی لڑکیوں کی طرح ریاکیٹ کر رہے ہو ۔۔۔۔”
“نہیں مجھے درد تو نہیں ہوا وہ تو ویسے ہی ۔۔۔”۔سعد خود کو مضبوط ظاہر کرتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
“ہاں مجھے معلوم ہے سعد بہت بہادر ہے ۔۔۔۔اسے درد نہیں ہوتا چلو اب سو جاؤ” ۔۔۔۔حمنہ نے سعد کو لیٹا کر اسپر اچھی طرح سے کمبل اوڑھا دیا ۔۔۔۔اسکی والدہ حمنہ کو مشکور نظروں سے دیکھ کر مسکرانے لگیں
“آپ بہت اچھی ہیں ڈاکٹر صاحبہ ۔۔۔۔اتنی محبت اور لگاوٹ سے پیش آتی ہیں”
“میں اچھی کہاں ہوں سعد بہت اچھا ہے ۔۔۔۔اور ویسے بھی بچے پیار ہی کی زبان سمجھتے ہیں ۔۔۔۔آپ بھی آرام کریں انشاللہ کل تک سعد کو ڈسچارج کر دیا جائے گا “۔۔۔حمنہ نے سعد کی والدہ کو تسلی دی اور پورے واڈ کادوبارہ سے چکر لگایا سب مریض تقریبالیٹ چکے تھے ۔۔۔۔
*******……
فارس نے نور کے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔بلکل حمنہ کی طرح معصوم سی تھی پھر ایمان کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔گو کہ وہ دونوں جڑواں تھے مگر آپس میں مشابہت بلکل نہیں تھی ۔۔۔۔کافی دیر ایمان کو دیکھنے کے بعد فارس یہی رائے قائم کر پایا کہ شاید ایمان اپنے باپ پر گیا ہے ۔۔۔۔پھر اسی نہج پر سوچنے لگا پچھلے پانچ سالوں میں ہمنہ نے اپنے مرحوم شوہر کا ایک بار بھی تذکرہ نہیں کیا تھا ۔۔۔۔۔نا ہی کبھی اسکے ساتھ بیتی اپنی زندگی کا کوئی باب کھولا تھا ۔۔۔۔۔۔فارس نے کئ بار پوچھنے کی کوشش بھی کی مگر وہ خوبصورتی سے موضوع بدل دیتی ۔۔۔۔۔عجیب لڑکی ہے اول روز کی طرح آج بھی میں اس سے انجان ہوں کبھی نہیں کھلتی کبھی اپنا دکھ نہیں بتاتی ۔۔۔۔بس خاموشی سے مسکرا کر بات بدل دیتی ہے ۔۔۔۔۔فارس کو یاد آنے لگا وہ اپنی اماں کے انتقال کی خبر سن کر اپنے گاؤں چلا گیا تھا والد پہلے ہی انتقال کر چکے تھے ۔۔۔۔بہن بھائی کوئی تھا نہیں بس ایک والدہ کا آسرا تھا وہ بھی چھن گیا ۔۔۔۔۔وہ پورے ایک مہینے بعد ڈیوٹی پر واپس آیا تھا ۔۔۔۔ڈاکٹر نایاب زوبی فاطمہ شہروز سب نے اس سے تعزیت کی تھی ۔۔۔۔۔فارس کافی آزردگی سے بات کر رہا تھا ۔۔۔جب پہلی بار سامنے سے آتے ہوئے حمنہ کودیکھا۔۔۔۔۔نازک اور خوبصورت سی لڑکی پہلی نظر میں ہی اسے متوجہ کر گئ تھی ۔۔۔۔۔بے شک وہ بہت خوبصورت تھی مگر سب سے ذیادہ کشش اس کی آنکھوں میں تھی لگتا تھا کوئی ٹہرا ہوا سمندر ہے ۔۔۔۔یاکوئی گہراساگر ۔۔۔۔مگر بلکل بے جان اور خاموش سا ۔۔۔۔چہرے پر معصومیت کے ساتھ متانت اور سنجیدگی تھی حالانکہ اسکی عمر اتنی زیادہ نہیں تھی جتنی وہ سنجیدہ تھی۔۔۔ ایک اسکاف تھا جو وہ ہر وقت اسکے سر کی زینت بنا رہتا تھا
“نایاب یہ کون ہیں” ۔۔۔ فارس نے آنکھوں کے اشارے سے حمنہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
نایاب کی حمنہ کی طرف پشت تھی اس نے پلٹ کر حمنہ کو دیکھا مگر وہ اپنے روم میں جا چکی تھیں
“یہ ڈاکٹر حمنہ ہیں ۔۔۔۔ابھی مہینہ پہلے ہی جوائن کیا ہے ۔۔۔بہت قابل ڈاکٹر ہیں۔ فارس اور سرجن بھی ہیں ۔۔۔۔” یہ سن کر فارس بہت متعجب ہوا تھا
“اچھا اتنی سی عمر میں لڑکیاں اتنا کچھ بھی کر لیتی ہی۔ مجھے تو لگایا ہاؤس جاب سے ابھی ابھی فارغ ہو کر آئی ہو ۔۔۔۔۔
ارے نہیں ایسا نہیں ہے ۔۔۔۔۔ڈاکٹر بیگ تو بہت خوش ہیں کہہ رہے تھے یہ اب اس چھوٹے سے ہاسپٹل میں آپریشن بھی ہوا کریں گئے ورنہ لوگوں کو کتنی پریشانی کا سامنا تھا ۔۔۔۔۔پتہ ہے فارس لاہور کی سب سے بڑی میڈیکل یونیورسٹی میں ہر سال ٹاپ کرتی رہیں ہیں اور اسکالرشپ سے اپنی پڑھائی مکمل کی ہے ۔۔۔۔۔یقین مانو ہر پیشنٹ کے مرض کی تشخیص بنا رپوٹ کے بھی کر لیتی ہیں ” ۔۔۔۔نایاب کا ستائشی انداز فارس کو حمنہ کے بارے میں اور بھی تجسس میں ڈال گیا ۔۔۔۔۔۔اسوقت تووہ سب سے بس ملنے ہی آیا تھا اس لئے واپس اپنے گھر چلا گیا ۔۔۔۔مگر رات بھر حمنہ کے بارے میں ہی سوچتا رہا ۔۔۔۔۔۔اتنی کم عمر لڑکی ڈاکٹر سرجن ۔۔۔۔۔اور اتنی پیاری ۔۔۔۔کاش کچھ مہنے پہلے مل جاتی اپنی اماں سے توضرور ملواتا کتنی چاہ تھی انہیں میری شادی کی ۔۔۔۔۔اب لڑکی ملی ہے تو اماں اگلے جہان سدھار گئیں ہیں ۔۔۔۔دوسرے ہی دن ڈاکٹر بیگ نے ہی حمنہ سے فارس کاتعارف کروایا ۔۔۔۔ حمنہ نے بس ایک مدھم سی مسکراہٹ سے ہی اپنا سر اثبات میں ہلایا پھر ڈاکٹر بیگ سے کسی کیس کے بارے میں ڈسکس کرنے لگی ۔۔۔۔جیسےفارس وہاں موجود ہی نا ہو ۔۔۔یہ بات فارس کو کھل گئی تھی
“اب میں اتنا بھی گیا گزرا نہیں ہوں کہ مجھے دیکھتے ہی یوں نظر انداز کیا جائے اچھا خاصا ہینڈسم ہوں ۔۔۔۔۔شاید یہ لڑکی مغرور بہت ہے ۔۔۔”۔ڈاکٹر فارس نے پہلی ملاقات میں تو یہی رائے حمنہ کے بارے میں قائم کی ۔۔۔۔۔کئ بار ڈاکٹر فارس نے حمنہ سے بات کرنا چاہی مگر وہ بہت محتاط اور لئے دیے انداز کو ہی اپنائے رکھتی تھی ۔۔۔۔اس تکلف کی دیوار کو اس نے کبھی گرنے ہی نہیں دیا تھا ایک سال گزر گیا تھا ۔۔۔ مگر حمنہ کے رویے میں تبدیلی کبھی نہیں آئی ہاں البتہ پیشنٹ کے ساتھ اسکا رویہ بہت دوستانہ ہوتا اور خاص طور پر بچوں کے ساتھ وہ بلکل فرینکلی ہو کر بات کرتی تھی ۔۔۔۔۔ایک دن سب ہی ڈاکٹر حمنہ کے روم میں بیٹھی چائے سے لطف اندوز ہو رہیں تھیں کہ ڈاکٹر فارس اور ڈاکٹر شہروز بھی وہیں آ گئے ۔۔۔
“چائے پی جا رہی ہے وہ بھی اکیلے اکیلے ۔؟” شہروز نے سب کو گھورتے ہوئے کہا
“اکیلے تو خیر مت کہیں ڈاکٹر شہروز ماشاللہ سے ہم چار خواتین یہاں موجود ہیں” ۔۔۔۔ نایاب نے مسکرا کر کہا
“ویسے ڈاکٹر بیگ کیا آج آف پر ہیں” ۔۔۔۔ فارس نے پوچھا
“نہیں کیوں “
“انکے ہوتے ہوئے سب ڈاکٹرز ایک ساتھ بیٹھ کر چائے پی لیں میرے خیال سے یہ ناممکنات میں سے ہے ۔۔۔ ” فارس کی بات پر سب ہی ہسنے لگیں لیکن حمنہ صرف مسکرائی تھی
“ایکچلی آج کوئی نیا کیس آیا ہی نہیں ہے اس لئے کچھ فرصت مل گئ ۔۔۔۔اپ لوگ بیٹھیں میں آپ کے لئے بھی چائے منگوادوں” ۔۔۔۔حمنہ نے شگوار لہجے میں کہا ۔۔۔۔پھر چائے کافی پرتکلف انداز میں ہلکی پھلکی باتوں میں پی گئ ۔۔۔۔اتفاق تھا کہ ڈاکٹر فارس اور حمنہ کی ڈیوٹی ایک ساتھ ہی آف ہوئی تھی شام کے پانچ بج رہے تھے ۔۔۔۔ موسم نے بھی یک دم ہی اپنے تیور بدلے ۔۔۔۔۔تیز بارش نے کچھ سوجنے ہی نہیں دیا ۔۔۔۔ فارس نے دیکھا کہ وہ پیدل ہی تیز قدموں سے چل کر روڈ کی طرف جا رہی تھی ۔۔۔۔۔فارس نے گاڑی اسٹاٹ کی اور گاڑی حمنہ کے قریب روک دی
“اتنی تیز بارش میں آپ کہاں سواری ڈھونڈیں گی ۔۔۔میں چھوڑ دیتا ہوں آپ کو “فارس نے کھڑی کا شیشہ نیچے کر کے کہا
“ارے نہیں آپ زحمت نا کریں ۔۔۔مری کا موسم تو ایسا ہی رہتا ہے ۔۔۔۔میں چلی جاؤں گی “
“پلیز بیٹھ جائیں حمنہ ۔۔۔۔فارس کے ملتجی لہجے پر وہ ہچکچاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئ
“آپ نے یونہی زحمت کی میں چلی جاتی” ۔۔۔۔۔وہ اب بھی کچھ نروس سی لک گ رہی تھی
“زحمت کہہ کر آپ مجھے اجنبی بنا رہی ہیں ۔۔۔۔” فارس نے کن انکھیوں سے اسے دیکھا تھا
“اجنبی سمجھتی تو کبھی آپ کے ساتھ بیٹھی نہیں” ۔۔۔اب وہ قدرے آرام سے بات کر رہی تھی ساتھ ہی ساتھ راستہ بھی بتانے لگی ۔۔۔۔
“یہاں سے رائٹ” ۔۔۔۔فارس نے سیدھی طرف موڑتے ہوئے حمنہ کی طرف باغور دیکھا
“ویسے جب مجھے معلوم ہوا کہ آپ سکالرز شپ سے ڈاکٹر بنی ہیں اور پھر سرجن بھی ہیں یقین مانے مجھے یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔۔”فارس نے موقع پا کر بات شروع کی
“کیوں ۔۔۔۔اس میں حیرت کی کیا بات ہے “
“آپ ۔۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔میرا مطلب ہے بہت کم عمر لگتی ہیں “۔۔۔۔۔فارس کی بات پر وہ بے ساختہ ہسنے لگی فارس کو لگا جیسے کوئی جلترنگ سے بجنے لگی ہوں یا پھر کوئی قیمتی موتی یک لخت ہی تارسے چھوڑ کر مرمری فرش پر گرے ہوں ۔۔۔۔
“بس یہیں روک دیں میرا گھر آ چکا ہے” ۔۔۔۔حمنہ نے رکنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔سامنے ایک چھوٹا سا کاٹج نما گھر تھا اور باہر کافی وسیع لان حمنہ گاڑی سے اترنے لگی تو فارس نے کہا
“اگر آپ مجھے چائے کی آفر کرنا چاہتی ہیں تو میں بلکل انکار نہیں کروں گا اس وقت ایک سٹرونگ چائے کی طلب ہو رہی ہے ۔۔۔”
“اچھا ۔۔۔۔لیکن چائے کچھ دیر پہلے ہی ہم نے پی ہے “۔۔۔۔ حمنہ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا فارس نے بہانہ بنایا تھا تا کہ وہ اسکی فیملی کے بارے میں جان سکے یا ملے
“یعنی آپ مجھے اپنے پیرنٹس سے بھی نہیں ملائیں گی ۔۔۔۔۔”
“اوہ ۔۔۔۔آپ آئیے اندر” حمنہ اسکی بات سمجھ کر بولی ۔۔۔۔بارش اب بھی کافی تیز ہو رہی تھی سامنے چھوٹا سا لکڑی کا گیٹ کھولے وہ تیز قدموں سے اندر چلی گئ فارس کو بھی اسکی تقلید کرنی پڑی لان کو عبور کرتے ہی سامنے دروازے پر حمنہ نے بڑی زور سے دستک دی ۔۔۔کچھ ہی دیر میں ایک چالیس سالہ عورت نے دروازہ کھولا حلیے سے وہ ملازمہ لگ رہی تھی ۔۔۔۔حمنہ کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئ حمنہ تیزی سے اندر داخل ہوئی
فارس کو بھی اندر آنے کے لئے کہا
وہ بھی خاموشی سے اندر داخل ہو گیا ایک چھوٹا سا لاونج تھا اور سامنے ہی کچن اور لاونج کے دواطراف دو کمرے تھے گھر بہت بڑا نہیں تھا ۔۔۔۔حمنہ نے فارس کو صوفے پر بیٹھنے کا کہہ کر ملازمہ سے چائے کا کہنے لگی ۔۔۔۔اور خود بھی اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔۔
آپ اکیلی رہتی ہیں ۔۔۔۔فارس پورے گھر کا جائزہ لے چکا تھا اگر کوئی ہوتا تو سامنے تو ضرور آتا
“نہیں اکیلی تو نہیں رہتی لیکن میرے والدین کی ڈیتھ ہو چکی ہے ۔۔۔۔”
“اوہ ایم سوری” ۔۔۔۔۔فارس کو افسوس سا ہوا
“کوئی بات نہیں ان سب میں ہم بے بس ہیں ۔۔۔۔”
“جی بلکل میرے بھی والدین وفات پا چکے ہیں میں بھی آپکی طرح اکیلا ہوں “
“نہیں میں اکیلی نہیں ہوں” ۔۔۔حمنہ نے کہا اور ملازمہ کے ہاتھ سے ٹرے لیکر سامنے سنٹرل ٹیبل پر رکھ دی اور چائے بنانے لگی
“صغری بچے کہاں ہیں “۔۔۔۔حمنہ ۔نے اپنی ملازمہ سے پوچھا فارس کو لگا جیسے اسکے سننے میں غلطی ہوئی ہے ۔۔۔۔
“بی بی جی وہ تو سو رہے ہیں “۔۔۔۔صغرہ نے جواب دیا ۔۔۔۔
“اچھا آپ بچوں کے پاس جائیں” ۔۔۔۔حمنہ کے کہنے پر ملازمہ وہاں سے ایک کمرے کی طرف چلی گئی فارس کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا
“شکر کتنی لیں گئے آپ ۔۔۔۔”حمنہ نے فارس سے پوچھا مگر اسے لگا جیسے اسکی آواز حلق میں بھی پھنس گئ ہو ۔۔۔
“فارس آپ شکر کتنی لیں گئے “
فارس کچھ سنبھل کر بیٹھ گیا اپنا گلہ صاف کیا اور با مشکل بولا دل کی کلی کھلنے سے پہلے مرجھائی تھی
“بس ایک چمچ”۔۔۔۔حمنہ نے ایک چمچ کپ میں ڈال کر چائے کا کپ فارس کی طرف بڑھادیا
“آپ میریڈ ہیں” ۔۔۔۔فارس نے ہچکچاتے ہوئے کہا
“جی میرے دو بچے بھی ہیں” ۔۔۔۔چائے کا ذائقہ فارس کو کڑواسا لگنے لگا شاید یہ اس کے اندر ہی کڑواہٹ تھی پچھلے ایک سال سے وہ ایک ایسی لڑکی کے خواب اپنی آنکھوں میں سجا رہا تھا جو اسکی کبھی ہو ہی نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔
“حمنہ آپ نے پہلے کبھی تذکرہ نہیں کیا “
“اس میں بتانے والی کیا بات تھی ۔۔۔۔پھر ایسا موقع بھی نہیں ملا۔۔۔۔اپ بتائیے آپ کی بیوی بچے؟ ۔۔۔”۔حمنہ نے بات ادھوری چھوڑ دی
“نہیں میری ابھی شادی نہیں ہوئی “
“اوہ ۔۔۔۔اچھا “
“آپ کے ہسبنڈ ؟۔۔۔۔وہ کیا کرتے ہیں؟ ۔۔۔۔وہ بھی ڈاکٹر ہیں؟ ۔۔۔۔فارس نے چائے کا سپ لیتے ہوئے پوچھا مگر اس تذکرے پر حمنہ خاموش سی ہو گئ پھر کچھ توقف کے بعد بولی
“وہ اب نہیں ہیں” ۔۔۔۔ فارس کے لئے یہ ایک دوسرادھچکا تھا ۔۔۔۔۔
“اوہ ایم سو سوری” ۔۔۔۔وہ تقریبا اچھل ہی گیا تھا
“کوئی بات نہیں حادثے تو انسانوں کے ساتھ ہی ہوتے ہیں ” بہت ٹہراوں تھا حمنہ کے لہجے میں
“سچ تو یہ ہے حمنہ کہ میں سمجھتا رہا کہ آپ غیر شادی شدہ ہیں ۔۔۔۔لیکن اتنی کم عمری میں اتنا بڑا حادثہ ۔۔۔۔ایم وری شاکڈ ۔۔۔۔کیا ہوا تھا آپ کے ہسبنڈ کو ۔۔۔۔آئی مین بیمار تھے یا کوئی ایکسڈینٹ ” فارس نے لئے یہ انکشاف ہی نا قابل برداشت تھا
“پلیز فارس اگر آپ مجھ سے یہ سوال نا کریں تو میں مشکور ہوں گی ….میں اپنے غموں کو ہرا نہیں کرنا چاہتی” حمنہ کی اضطرابی کیفیت دیکھ کر فارس خاموشی کو گیا ۔۔۔۔چائے کا خالی کپ رکھ کر جانے لگا ۔۔۔۔
“میں چلتا ہوں” ۔۔۔ فارس یہ کہہ کر باہر نکل گیابارش کافی تھم چکی تھی غم اور پژمردگی نے اسے اپنے احاطے میں لے لیا تھا ۔۔۔۔یہاں آنے کا جتنااسےاشتیاق تھا واپسی اتنی کی تکلیف دہ تھی ۔۔۔۔۔وہ شادی شدہ دو بچوں کی ماں تھی ۔۔۔۔یہ بات ہی اسے ہضم نہیں ہو پا رہی تھی کہ اسکی بیوگی کا دکھ نا قابل برداشت تھا ۔۔۔۔۔اتنی سی عمر میں کتنی گہرے گھاوں کھا چکی تھی وہ ۔۔۔۔۔اس لئے اتنی سنجیدہ اور غم زدہ رہتی ہے اسکا چہرہ اسکی آنکھیں اپنے غم کی کھل کر عکاسی کرتی رہیں اور میں سمجھ ہی نہیں پایا ۔۔۔۔۔کہ اگر وہ کسی جامد دریا کی طرح اتنی خاموش اور سکوت میں ہے تو شاید کسی طوفان کے گزرنے کے بعد کے آثار ہیں ۔۔۔۔اور اتنا بڑا طوفان اتنی بڑی اذیت ۔۔۔۔
“ممی ممی آپ یہیں۔ ہیں نا میرے پاس ۔۔۔ نور کی آواز پر فارس اپنی سوچوں سے باہر نکل آیا ۔۔۔۔نور نیند میں ہمنہ کو ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔۔۔فارس نے نور کا ہاتھ تھام لیا وہ مطمئن سی ہو کر سو گئ۔۔۔۔۔اسے لگا اسکی ماں اسکے پاس موجود ہے
