Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 16
Rate this Novel
Noor-e-Emaan Episode 16
Noor-e-Emaan by Umme Hani
(اسلام علیکم ریڈرز ۔۔۔۔ اس اپیسوڈ کی ویڈیو میری بہت پیاری سی دوست اور ریڈر سومیہ عثمان نے بنا کر بھیجی ہے اس لئے پلیز انہیں اپریشیڈ ضرور کیجے گا ۔۔۔
“سومیہ تھنک یو سو مچ”)
“کیا بات ہے رو کیوں رہی ہو تم “لائبہ اس بچی کے پاس بیٹھ گئ
“آپی یہ ۔۔۔ یہ ڈاکٹر اچھا نہیں ہے ” وہ دروازے کی طرف انگلی کتے ہوئے بولی
” کیوں “
“یہ بہت برا ہے مجھے اس سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔ “وہ بچی حد درجہ گھبرا رہی تھی
” کیوں کیا کہتا ہے تمہیں “
“کہتا کچھ نہیں بس مجھے ۔۔۔۔۔ ” یہ کہہ وہ چپ سی ہو گئ
” بتاؤں مجھے کیا کچھ کرتا ہے تمہارے ساتھ “لائبہ نے بڑی نرمی سے پوچھا تھا کہ وہ بتا سکے
” وہ ڈاکٹر نے کہا کہ کسی سے کہا تو میرا گلا دبا دے گا ” وہ سہم سی گئ تھی
” کوئی کچھ نہیں کہے گا ۔۔۔۔ پتہ چپ رہنے والوں کو ہی ڈرایا جاتا ہے مجھے دیکھوں میں۔ چپ نہیں رہتی شور مچا دیتی ہوں چلانا شروع کر دیتی ہوں ہنگامہ مچا دیتی ہوں اس لئے سب مجھ سے ڈرتے ہیں ۔۔۔۔ تم بھی بہادر بنواور بتاؤں کیا کرتا ہے یہ ڈاکٹر “
“آپی مجھے کہتا ہے اپنی شرٹ پیٹ سے اوپر کرو مجھے چیک اپ کرنا ہے ۔۔۔۔ مجھے برا لگتا ہے اس کا چھونا ” یہ سن کر تو لائبہ ہونق سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔۔
“اور تمہاری امی ” وہ اسے غصہ اسکی لاپروا ماں پر آیا تھا
” امی سے کہتا ہے کہ آپ باہر بیٹھے مجھے ٹھیک سے چیک کرنے دیں والدین کے سامنے بچے ٹھیک سے چیک کرنے نہیں کرنے دیتے “
“اور تمہاری امی یہ بات مان لیتی ہیں ۔۔۔۔ عقل بیچ کھائی ہے تمہاری ماں نے ۔۔۔۔ دن بھر تمہیں یہاں ہاسپٹل کے کمرے میں۔ تنہا چھوڑ کر گھر گرہستی یاد آ جاتی ہے ۔۔۔ اور تم ۔۔۔۔ اچھی خاصی اور سمجھدار ہو منہ نوچ کے رکھ دو ایک بار اس ڈاکٹر کا ۔۔۔۔ ڈرو گی تو ایسے مرد تمہیں ہر موڑ کر کھانے کے لئے دوڑیں گئے ۔۔۔۔ ارے تماشہ بنا کر رکھ دو اس کمینے ڈاکٹر کا ۔۔۔ ایک کی دس بتاؤں لوگوں کو دیکھوں کیسا اوقات میں رہتا ہے۔۔۔۔ اب مجھے دیکھوں میں ایک نرس ہوں ۔۔۔۔ جس کی مریض تک عزت۔ نہیں کرتے ۔۔۔ توڈاکٹرز سے کیا امید کی جا سکتی ہے ۔۔۔۔ لیکن میں دب کر نہیں رہتی ۔۔۔ اس لئے سارے ہاسپٹل والےمجھ سے گھبراتے ہیں یہاں تک یہ ڈاکٹر بھی ۔۔۔۔ جانتا ہے اگر مجھ سے فضول بات بھی کی تو میں اس کا تماشہ بنا کر رکھ دوں گی ۔۔۔۔” لائبہ کے سمجھانے کا اثر یہ ہوا تھا کہ اگلے روز اس لڑکی نے واقع شور مچا کر ڈاکٹر کی حرکتیں سب کے سامنے بیان کر دیں ۔۔۔۔ اس ڈاکٹر کو تو اپنے عزت کے لالے پڑھ گئے تھے ۔۔۔۔۔ بڑی مشکل سے بات رفع دفع ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن لائبہ خوش تھی ۔۔۔۔۔
******…….
ماں ایک ایسا رشتہ جس کی محبت کو اللہ نے خود سے تشبیہ دی ۔۔۔۔ کہ وہ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے ۔۔۔۔ ماں کی مثال اس لئے دی کہ جتنا ماں اپنے بچوں سے محبت کرتی ہے ۔۔۔۔ اتنی محبت کوئی کر ہی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔
آج حمنہ کی ماں بھی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھی ۔۔۔۔
کیسے وہ ایسی ہستی کو خود سے اتنی دور جانے دیتی جو ہر پل اس کے لئے دعا گو رہی تھی۔۔۔۔۔۔ آنکھوں کے سامنے ماں کا چہرہ نظر آیا ۔۔۔۔ کبھی مسکراتا ہوا کبھی روتا ہوا کبھی بے ہوش آئی سی یو میں مشنوں سے جکڑا ہوا وجود نظر آیا دل کو بڑی زور کا دھچکا سا لگا تھا ۔۔ جھٹ سے ٹیبل سے پین اٹھایا ۔۔۔۔ بہتے ہوئے آنسوں سے کانپتے ہاتھوں سے سائن کیا
حسن کمال نے فورا سے اس سے پیپر لیا
“شاباش بڑا عقلمندانہ فیصلہ کیا ہے تم نے ۔۔۔۔ دیکھوں جب تک تم آپریشن روم میں رہو گی میں بھی تمہاری ماں کا آپریشن کرتا رہوں گا ۔۔۔۔۔ ارشد سے فون پر رابطے میں رہو گا اگر ذرا بھی گڑبڑ کرنے کی کوشش کی تو ۔۔۔۔۔ تمہاری ماں کی زندگی میرے ہاتھوں ۔میں ہے ۔۔۔۔۔ جب چاہوں جان بخشی کر دوں اور جب چاہوں موت کے گھاٹ اتار دوں ۔۔۔۔
مجھے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔۔۔۔ ” حمنہ کسی پتھر کے مجسمے کی طرح کھڑی ہو گئ تھی ۔۔۔۔ سنا تھا کہ حضرت موسیٰ کے دور میں فرعون نے ایسے دعوے کیے تھے ۔۔۔۔ دیکھا بھی تھا کہ اسے نا زمین نے قبول کیا نا آگ اور پانی نے ۔۔۔۔ عبرت کے نشان کے طور پر مصر کے ایک عجائب خانے میں موجود ہے
لیکن سامنے کھڑے اس شخص کی خوش نصیبی شاید یہ کہ کے یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لیوا ہے ۔۔۔ اور ایسے بہت سے ۔مسلمان جو ایسے دعوں کے ساتھ جی رہے ہیں ۔۔۔۔ نا جانے اللہ کی دی گئ مہلت کو غینمت سمجھ کر توبہ کیوں نہیں کرتے کیوں اپنے اعمال ٹھیک نہیں کرتے ۔۔۔ دعوے کرنے کا حق ایک ایسی مخلوق کو کیسے ہے جو ہر معاملے میں محتاج اور عاجز ہے ۔۔۔۔۔ انسان تکبر کرنے سے پہلے صرف پیدائش پر ہی غور کر لے تو پتہ چلے اس کی حقیقت کیا ہے کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔ چند دن کا حسن کمال کھانے پینے تک میں اپنی ماں کا محتاج تھا ۔۔۔ اور اب دعوے خدائی کے کر رہا ہے ۔۔۔۔۔
جسے چاہے زندگی بخش دے جسے چاہے موت کے گھاٹ اتار دے ۔۔۔۔ حمنہ کی سوچوں کا سلسل حسن کمال کی آواز سے ٹوٹا تھا
٫” آدھا گھنٹہ ہے تمہارے پاس ۔۔۔۔ اس کے بعد آپریشن تھیٹر نمبر 2میں تم آپریشن کروں اور تھیٹر نمبر 1میں۔۔۔ میں تمہاری والدہ کا آپریشن کروں گا ۔۔۔۔۔ ناؤ یو کین گو ناؤ” حسن کمال نے جیسے بڑی حقارت سے اسے جانے کی اجازت دی تھی ۔۔۔۔ وہ باہر نکل گئ اپنے کیبن میں آ کر بیٹھ گئ
آدھا گھنٹہ حمنہ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت جیسے ختم ہی رہی تھی ۔۔۔۔ کچھ بھی سوچنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔ اس وقت ماں اہم تھی
اس لئے خود کو سوچنے سے باز رکھا ۔۔۔۔ پورے آدھے گھنٹے بعد نرس نے حمنہ سے کہا آپریشن تھیٹر میں اسے ڈاکٹر راشد نے بلایا ہے ۔۔۔۔
دل مٹھی میں جیسے دبوچا گیا تھا ۔۔۔۔ گلے میں گرہیں بڑھیں تھیں ۔۔۔۔
” تم جاؤں میں آتی ہوں ۔۔۔۔ “
بامشکل آواز پھنس کر نکلی تھی ۔۔۔۔
کھڑی ہوئی تو ہر قدم من من بھاری لگنے لگا جیسے کوئی وزنی بوجھ اٹھا لیا ہو ۔۔۔
بوجھ تو اس پر تھا اس کے ضمیر کا بوجھ۔۔۔ آج تک کچھ ایسا نہیں کیا تھا کہ ضمیر کی عدالت میں مجرم بننا پڑے ۔۔۔۔ لیکن آج جیسے وہ مجرم بننے والی تھی
” ابا یہ دل کی کالک کیسی ہوتی ہے ۔۔۔ کہتے ہیں گناہ کرنے سے دل سیاہ ہو جاتا ہے ۔۔۔” ہر قدم پر اپنے باپ کی باتیں جیسے اسکے قدموں کی زنجیر بنی تھیں
“ہاں بیٹا جب انسان گناہ کرتا ہے تو ایک سیاہ دھبہ دل پر پڑ جاتا ہے ۔۔۔ اگر توبہ کر لے گناہ چھوڑ دے تو دھل جاتا ہے ۔۔۔ لیکن اگر گناہ کرتا رہے تو پھر دل سیاہ دھبوں سے بھر جاتا ہے ۔۔۔ اتنا سیاہ کہ پھر گناہ کااحساس ہی ختم ہو جاتا ہے ۔۔۔۔ ” حمنہ کے قدم یک دم رکے تھے کہاں جا رہی تھی وہ ۔۔۔ گناہ کی طرف۔۔۔؟ ایک بہت بڑی چوری کرنے؟ ۔۔۔۔ پھر اصفر سے طلاق کس بات پر لینا چاہتی تھی ۔۔۔۔ جس گناہ سے بچنے کے لئے وہ اصفر سے علیحدہ ہونا چاہتی تھی وہ چوری ہی تو تھی اپنے پیشے کے ساتھ نا انصافی تھی ۔۔۔ اگر اس سے دور رہ کر وہ گناہ سے بچنا چاہتی تھی تو ۔۔۔۔ اب جو کر رہی تھی کیا وہ گناہ نہیں تھا ۔۔۔۔ کیا فرق رہ گیا تھا اس میں اور حسن کمال میں جو وہ کرتا آ رہا تھا اسی روش پر وہ قدم رکھنے کا رہی تھی ” ضمیر نے دل پر چوٹ لگائی تھی ۔۔۔ شیطان نے اپناوار چلا تھا
” ماں چلی جائے گی حمنہ ۔۔۔۔ کیا کرو گی تم ۔۔۔۔ ایک گناہ کر لو کوئی بات نہیں پھر توبہ کر لینا ۔۔۔۔ سجدوں میں رو کر منا لینا اپنے رب کو اللہ تو رحمن ہے ۔۔۔ رحمت جب چیز کو ڈھانپ لیتی ہے وہ غفور ہے ۔۔ زمین آسمان بھی گناہوں سے بھر جائیں تو اپنی رحمت سے بخش دیتا ہے ۔۔۔۔”برائی نے اپنی چال چلائی تھی ۔۔۔۔ ماں کا چہرہ آنکھوں سمایا تھا ۔۔۔۔ خون نے جوش مارا تھا۔۔۔۔۔ آنسوں رخسار پر گرے جسے حمنہ نے جلدی سے صاف کیا تھا آپریشن تھیٹر کے باہر ایک شخص ملجگی سے دھوتی پہنے نیلا کرتا۔۔۔ کندھے پر رومال ڈالے اپنے آنسوں پونچ رہا تھا دعائیہ انداز سے ہاتھ اٹھائے
اوپر آسمان کی جانب دیکھ رہا تھا مسلسل ہونٹ کپکپا رہے تھے آنسوں آنکھوں سے بہہ رہے تھے ۔۔۔ حمنہ کی کیفت بھی اس شخص جیسی ہی تھی ۔۔۔۔ فرق یہ تھا کہ وہ اپنے بیٹے کے رو رہا تھا اور حمنہ اپنی ماں کے لئے ۔۔۔۔
اس سے پہلے ضمیر اسے کے قدموں کو روکتا ۔۔۔ اس نے قدموں کی رفتار بڑھائی تھی لیکن وہ شخص اس کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔۔
” ڈاکٹر صیبہ آپ میرے عبدالباری کا آپریشن کروں گی ؟”
حمنہ نے صرف اثبات میں سر ہلایا منہ سے بولنے کی ہمت نہیں تھی ۔۔۔۔
” ڈاکٹر صیبہ۔۔۔۔ چھوٹا سا ہے میرا عبدالباری ۔۔۔۔ ٹیکہ بھی لگ جائے تو بڑا درد ہوتا ہے ہے جی اسے ۔۔۔۔ اکلوتا بھی ہےنا میرا پتر ۔۔۔ لاڈلا ہے میرا اور میری بیوی کا ۔۔۔ میرے بس میں ہوتا نا جی تو اپنا پیٹ کٹوا لیتا ۔۔۔ پر اپنے بیٹے کو ۔۔۔۔۔” شاید اس شخص کا ضبط ختم ہوا تھا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا حمنہ کو لگا گلے کی گرہیں اتنی بڑھ گئیں ہوں کے سانس لینا محال ہوا ہو ۔۔۔
” آپ دعا کریں اللہ کی ذات بڑی ہے ۔۔۔ میں اور آپ بلکل بے بس ہیں ” آنسوں پر اس کا بھی اختیار نہیں رہا تھا ۔۔۔۔ جتنا اس بچے کا باپ بے بس تھا اتنا حمنہ بھی بے بس تھی ۔۔۔ دونوں کی تکلیف ایک جیسی تھی ۔۔۔ دونوں ہی اپنوں کو کھونا نہیں چاہتے تھے ۔۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی وہ اس کے کندھے پر ہاتھ کر تھپتھپا کر تسلی دینے لگی۔۔۔۔ نا جانے کیوں
لیکن دل کی بے چینی بڑھنے لگی تھی ۔۔۔
” ڈاکٹر صیبہ ذرا آہستہ کاٹنا اسے ۔۔۔میرے بچہ بڑا نازک ہے ۔۔۔ پہلے اچھی طرح بے ہوش کر لینا ۔۔۔ وہ ٹیکہ یاد سے لگانا جس سے جسم سن ہو جاتا ہے ۔۔۔۔ تا کہ درد کااحساس نا ہو میرے عبدالباری کو ” باپ کی کا بس نہیں چل رہا تھا بیٹے کی جگہ خود آپریشن کے اسڑیچر پر لیٹ جائے ۔۔۔۔ حمنہ کو لگا اگر چند سکینڈ بھی وہاں رکی تو دل پھٹ جائے گااس کا ۔۔۔ دم اتنا گھٹنے لگا کہ سانس لینا دشوار لگ رہا تھا تیزی سے آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھول کر اندر چلی گئ ۔۔۔ اندر اے سی چل رہا تھا ۔۔۔ گرین گاؤں میں ڈاکٹر راشد کے ساتھ دو سئنیر نرسیں اور واڈ بوائے بھی موجود تھے ۔۔۔ جو خاص آپریشن تھیٹر کے لئے مخصوص تھے ۔۔۔۔ اے سی کی کولنگ نے جیسے اس کے پورے وجود میں سنسنی سی دوڑائی تھی ۔۔۔۔ سامنے اسڑیچر پر نظر پڑی تو دل۔ بے قابو سا ہو گیا ۔۔۔ معصوم سا بچہ بے ہوش آپریشن کا گاؤن پہنے لیٹا تھا ۔۔۔۔
” آئیے ڈاکٹر حمنہ۔۔۔ ” ڈاکٹر راشد نے کی پکار پر وہ ذرا سا چونکی تھی ۔۔۔۔ وہ ڈاکٹر حسن کمال کی عمر کے تھے کافی سینئر تھے ۔۔۔ کڈنی کے ٹرانسپلانٹ میں بھی کئ بار شامل ہو چکے تھے ۔۔۔
حمنہ دھیرے سے چلتی ہوئی وہاں پہنچی تھی ۔۔۔
” ڈاکٹر حسن کا آڈر ہے کہ یہ آپریشن آپ کریں گی میں صرف آپ کو انسٹرکشن کروں گا ۔۔۔ ” ڈاکٹر راشد کی بات اس نے بے دلی سے سنی تھی نظریں حمنہ کی صرف اس بچے کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں جو کہنے کی امید لئے لیٹا تھا ۔۔۔ بے ضرر سا ۔۔۔
” کیا قصور ہے اس کا ۔۔۔۔ کیوں اسے میں بلاوجہ موت کے بھنٹ چڑھانے جا رہی ہوں ۔۔۔ “
” باقی شعبوں میں انسان خود کو دیکھ لیتا ہے ۔۔ لیکن ڈاکٹر کی لائف میں اسکی ڈیوٹی پہلی اہمیت رکھتی ہے ۔۔۔ مریض اول درجہ رکھتا ہے ۔۔۔۔ اپنی لائف اپنی ترجعات اور اپنی فیملی ثانوی حیثیت رکھتے ہیں ۔۔۔ کیونکہ ہم انسانیت کے لئے چنے گئے ہیں ۔۔۔ اللہ کی عیال کے مسیحا ہیں ۔۔۔۔ اگر کوئی مریض تکلیف میں ہے تو ڈاکٹر کا اپنی نیند سے جاگ کر اسے دیکھنا اسکی تکلیف کو دور کرنا بھی عبادت ہے ۔۔۔
بلکل ویسے ہی جیسے راہ چلتے مسافر کی راہ سے پتھر کو پیچھے ہٹا کر اسکی راہ کو ہموار کرنا صدقہ ہے ۔۔۔
The doctor’s responsibility is his first goal”
اپنے ٹیچر کا لیکچر حمنہ کو یاد آنے لگا ۔۔۔۔
جو وہ بڑے غور اور توجہ سے سنتی تھی اپنی زندگی کے اصولوں میں شامل کرتی تھی ۔۔۔
اس بچے کے پاس کھڑے ہو کر ۔۔۔ اس نے اپنی نظریں اس کے چہرے سے ہٹائیں۔ تھیں
” بیٹا عبادت میں خیانت کبھی مت کرنا ۔۔۔ اللہ ایماندار کو سے محبت کرتا ہے ۔۔۔ ” اپنے ابا کی بات یاد آنے لگی
” ابا عبادت میں خیانت کہاں ہوتی ہے ۔۔۔ میں نماز پابندی سے پڑھتی ہوں ۔۔۔ توجہ بھی پوری دیتی ہوں ” حمنہ کے جواب پر اس کے ابا مسکرانے لگے
” میری گڑیا نماز بہترین عبادت ہے لیکن نماز ہی عبادت نہیں ہے ۔۔۔ کسی مریض کا علاج کرنا اور پوری ایمانداری سے کرنا بھی عبادت ہے ۔۔۔ اگر تم اپنے پیشے سے نا انصافی کروں گی تو وہ بھی خیانت کے زمرے میں آتا ہے ۔۔۔ اور یہ حقوق عباد کے ساتھ ظلم ہے ۔۔۔ اللہ اپنے احکامات میں نرمی محبت کر لیتا ہے لیکن حقوق عباد کی معافی نہیں ہے ۔۔۔ یہاں تک کہ اگر ایک سینگ والی بکری بغیر سینگ والی بکری کو سینگ مارے تو قیامت کے دن اللہ انکے درمیان بھی انصاف کا معاملہ فرمائیں گئے ۔۔۔ بنا سینگ والی بکری کو سینگ دیے جائیں گئے وہ اپنا بدلہ لے گی پھر وہ دونوں مٹی ہو جائیں گئے کیونکہ جنت دوزخ تو جن و انس لے لئے ہیں ۔۔۔
سوچوں میری گڑیا جب وہ پروردیگا نا سمجھ جانوروں میں انصاف کے تقاضوں کو نہیں چھوڑے گا تو ہم تو پھر انسان ہیں ۔۔۔ یہ حقوق عباد کا معاملہ ہے ۔۔۔ ورنہ تو وہ بخشنے پر آئے تو بے نمازی جواری شرابی کو بھی بخش دیتا ہے کیونکہ یہ اللہ کا بندے سے معاملہ ہے وہ جسے چاہے سزا دے جسے چاہے بخش دے ” ۔۔۔ حمنہ کو لگا ہاتھوں میں جان باقی نہیں رہی تھی ۔۔۔
” حمنہ ناؤ اسٹاٹ ” ڈاکٹر راشد نے اسے گم صم دیکھ کر کہا ۔۔۔
” آئی ایم ناٹ فینگ ویل ۔۔۔۔ ” وہ دھیرے سے بولی اپنی ہی دھڑکنیں ڈوبتی ہوئی محسوس ہونے لگیں
“اٹس او کے کچھ دیر بیٹھ جاؤں ۔۔ وہ پیچھے رکھی کرسی پر بیٹھ گئ
نرس نے اسے ایک گلاس پانی دیا تھا ۔۔۔ بیس منٹ گزر چکے تھے لیکن اس کے لئے ہر لمحہ آزمائش بنکر گزر رہا تھا ۔۔۔۔
دس منٹ تک وہ بڑی مشکل سے خود کو اس گناہ کے لئے آمادہ کر پائی تھی ۔۔۔
لیکن جب جب بچے کے چہرے پر نظر پڑتی اس کا دل دھلنے لگتا ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر راشد حمنہ کے ساتھ ہی کھڑے تھے ۔۔۔ ہاتھ میں انٹسرومنٹ لئے جس سے کٹ کیا جاتا ہے ۔۔۔ حمنہ کے ہاتھ کپکپائے تھے
“ڈاکٹر صیبہ۔۔۔۔ چھوٹا سا ہے میرا عبدالباری ۔۔۔۔ ٹیکہ بھی لگ جائے تو بڑا درد ہوتا ہے ہے جی اسے ۔۔۔۔ اکلوتا بھی ہے میرا پتر ۔۔۔ لاڈلا ہے میرا اور میری بیوی کا ۔۔۔ میرے بس میں ہوتا نا ۔۔۔جی تو اپنا پیٹ کٹوا لیتا ۔۔۔ پر اپنے بیٹے کو” اس بچے کے باپ کی گڑگڑاہٹ نے جیسے حمنہ کے ہاتھ روکے تھے ۔۔۔ اس نے وہ کٹر دوبارہ سے ڈرے ۔ہں پھنک دیا
” نہیں میں یہ نہیں کر سکتی ۔۔۔ نو ۔۔۔۔نیور ۔۔۔ظلم ہے یہ “حمنہ یک دم پیچھے ہٹی تھی
” What’s wrong with you doctor humna “
ڈاکٹر راشد کا لہجہ سخت ہوا تھا
” نہیں میں یہ نہیں کر سکتی ۔۔۔ میں یہ گناہ نہیں کر سکتی ۔۔۔ ” وہ کئ قدم پیچھے ہٹی تھی
” ڈاکٹر حمنہ آپ کی ڈاکٹر حسن سے کیا کمنٹمنٹ ہوئی ہے یاد ہے ۔۔۔ ” ڈاکٹر راشد نے جیسے اسے یاد دلانا چاہا
” مجھے ایسا کوئی کام نہیں کرنا ۔۔ خیانت ہے یہ ۔۔۔۔ میں یہ گناہ نہیں کر سکتی ” وہ بد حواس سی ہوئی تھی
” دیکھیں انسان ایک گردے پر زندہ رہ سکتا ہے ۔۔۔ اس بچے کا ایک گردہ ایک اور بچے کی زندگی بچا سکتا ہے ۔۔۔ یہ نیک کام ہے گناہ نہیں ثواب ہے ” ڈاکٹر راشد جیسے اسے اپنی دلیلوں سے قائل کرنے لگا
” جانتے ہیں اس بچے کی عمر کیا ہے ۔۔۔ بارہ سال ۔۔۔
اسے اور اسکے باپ کو ہر بات سے انجان رکھ کر آپ اس بچے کو موت کے دہانے پر کھڑا کر کے دوسرے بچے کو بچانا چاہتے ہیں ۔۔۔ جس کی زندگی کی امید کا پتہ نہیں۔۔۔ کہ بچے گا بھی کہ نہیں ۔۔۔ کئ لوگ گردہ ملنے کے باوجود ٹرانسپلانٹ کے دوران زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔۔۔ میں کیسے اس بچے کی زندگی سے کھیل جاؤں ۔۔ جس کے باپ نے اس ہسپتال کی پوری فیس بھری ہے جس کا یہ اکلوتا جگر کا ٹکڑا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر راشد ۔۔۔ آپ نے کیسے حامی بھر لی یہ سب کرنے کے لئے ۔۔۔۔سیک پل کے لئے بھی دل نہیں کانپا آپ کا ۔۔۔۔ اگر آپ کو اتنا ہی خیر خواہی کاشوق ہے تو اپنے بیٹے اور پوتے کو کیوں اس نیک کام کے لئے نہیں چن لیا ۔۔۔
” ڈاکٹر حمنہ don’t cross your limit s”وہ غصے سے غرائے
” کیوں ڈاکٹر راشد ۔۔ آپ کے بچے خاص ہیں ۔۔۔ اور یہ ایک غریب دھاتی کا بیٹا ہے اس لئے اس کی جان کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں آپ ۔۔ “
” میں نے پہلے کہ کہا تھا۔۔ڈاکٹر حسن سے کہ اس لڑکی پر بھروسہ مت کروں ۔۔۔ وہی ہوا ۔۔۔ ” ڈاکٹر راشد نے غصے سے جیب سے موبائل نکالا ساری بات ڈاکٹر حسن کو بتائی ۔۔ جو اسکی والدہ کوآپریشن کر چکے تھے بس انکے اسٹیچز ہی لگ رہے تھے ۔۔۔
حمنہ کا انکار سن کر ڈاکٹر حسن کاغصے سے برا حال ہوا تھا عین وقت پر اسکی لڑکی نے دغا دی تھی
“اسپیکر کھولو راشد “حسن کمال کے کہنے پر ڈاکٹر راشد نے فون کااسپیکر کھولا
” حمنہ تمہاری ماں کا آپریشن میں کر چکا ہوں میں نے وعدہ نبھایا ہے اب تم اپناوعدہ نبھاؤں ورنہ ابھی اسی وقت تمہاری ماں کو ہمیشہ کی نیند سلا دوں گا ” وہ غصے سے بپھرے بول رہے تھے
” میں یہ نہیں کر سکتی ۔۔ یہ ظلم ہے ۔۔۔ میں اپنی والدہ کی فیس آج ہی ارینج کر کے دے دوں گی “حمنہ کے جواب پر وہ آپے سے باہر ہوئے تھے
” او شٹ اپ حمنہ ۔۔۔ تم آپریشن کر رہی ہو یا ۔۔۔ “
” نہیں میں یہ نہیں کر سکتی ” وہ مسلسل انکار کر رہی تھی
” او کے ۔۔۔۔ نرس اوکسیجن ماسک اتارو مریض کا ۔۔۔۔”حسن کمال کی آواز گونجی
” لیکن ڈاکٹر حسن اس طرح سے انکا سانس رک جائے گا ۔۔۔ ” ایک نرس کی آواز آئی حمنہ کے دل کا یہ عالم تھا کہ پسلیاں توڑ کر باہر آ جائے گا
” اس پیشنٹ کے اسٹیچیز ادھیڑ دو ابھی ۔۔ اسی وقت ۔۔۔ میرے سامنے ” ڈاکٹر حسن کے سفاکانہ حکم پر حمنہ کے منہ سے سسکی برآمد ہوئی تھی پوری کی پوری لرز سی گئ تھی ۔۔۔
” بٹ ڈاکٹر ” نرس کو شاید ترس آیاتھا
” جو کہہ رہا ہوں وہ کروں ہری اپ ۔۔۔ ” ڈاکٹر حسن کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی پر فون پر مشین سے اس کی والدہ کے دل دھڑکنوں کو انڈیکیٹ کرتی مشن کی ٹوں ٹوں سنائی دے رہی تھی لیکن بس چند منٹ ۔۔ اسکے بعد جو سن رہی تھی وہ اسکی ماں کی موت کی تصدیقی ٹون تھی ۔۔۔ دل جیسے سینے میں تھم گیا تھا ۔۔۔ فون بند ہو گیا تھا حمنہ کو لگاسانس بھی بند سا ہو گیا ہے ۔۔۔۔ فرض کی خاطر اپنا سب کچھ لٹا بیٹھتی تھی ۔۔۔
” حمنہ جاؤں تم یہاں سے ۔۔۔ میں خود مینج کر لوں گا ” ڈاکٹر راشد حمنہ کی کیفت سے بے خبر اپنے موقف پر قائم تھا
” اگر اس بچے کو ہاتھ لگایا تو میں شور مچا دوں گی ۔۔۔ نرس باہر لیکر جاؤں مریض کو ۔۔۔۔ کوئی آپریشن نہیں ہو گا یہاں ۔۔۔ میں نے جو کھو دیا ہے اس کے بعد میرے پاس کھونے کے لئے کچھ بچا نہیں ہے اس لئے ۔۔۔ اگر کچھ غلط کرنے کی کوشش بھی کی تو ۔۔۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے نظر آؤں گئے تم ” ڈاکٹر راشد کو بنا لحاظ کے وہ سخت تنبیہ کر رہی تھی ۔۔۔ ڈاکٹر راشد گھبرا کر باہر نکل گیا نرس بچے کو باہر لے گئ
باہر اس کا باپ جائے نماز سے اٹھ کر حمنہ کے پاس آیا تھا ۔۔۔ اسکی دعائیں قبول ہوئیں تھیں ۔۔۔
“ڈاکٹر صیبہ “
” آپ کا بیٹا بلکل ٹھیک ہے اسے کوئی بیماری نہیں ہے ۔۔۔ نا ہی آپریشن کی ضرورت ہے اسے لے جائیں یہاں سے ورنہ بہت پچھتائیں گئے خدا کے لئے چلے جائیں اسے لیکر یہاں سے ۔۔۔۔ ” حمنہ نے روتے ہوئے یہ کہا اور آگے بڑھ گئ ۔۔۔
ساری دنیا لٹ چکی تھی حمنہ کی ۔۔۔ خالی ہاتھ رہ گئ تھی آج صیحیح معنوں میں پتہ چلا تھا کہ کس پیشے سے تعلق رکھتی ہے ۔۔۔۔۔ ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرح آنکھوں سے گرتے آنسوں کے ساتھ وہ کوریڈور پر بڑی سست روی سے چل رہی تھی ۔۔۔۔ سامنے سے تیزی سے اصفر اس کے پاس پہنچا تھا اسی کو ڈھونڈ رہا تھا
اپنی او پی ڈی سے فری ہو کر وہ اسکی والدہ کے آپریشن تھیٹر کے باہر ہی کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔ حمنہ تو اسے صبح سے دوبارہ نظر ہی نہیں۔ آئی تھی ۔۔۔ نا ہی اپنے باپ کی منصوبہ بندی کا علم تھا ۔۔۔ لیکن جب ڈاکٹر حسن کو غصے سے آپریشن تھیٹر سے نکلتے دیکھا تو وہ تیزی سے انکے پاس پہنچا تھا
” ڈیڈ “
” شی از نو مور ۔۔ ایم سوری ” وہ پیشانی پر بل ڈالے بولے
“واٹ ۔۔۔ ڈیڈ ایسے کیسے ہو سکتا ہے ” اصفر کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا
“کیوں نہیں ہو سکتا ۔۔ میں ڈاکٹر ہوں خدا نہیں ” ہمیشہ سے نا خدا بننے والا حسن کمال آج غصے سے اپنی ہی بات کی تردید کرتے ہوئے وہاں سے چلا گیا ۔۔ اصفر کو کچھ پل کے لئے بد حواس سا ہو گیا تھا ۔۔ باپ کے غصے کی وجہ اسے حسن کمال کا نا کام آپرشن لگا تھا ۔۔۔۔
دکھ تو اصفر کو بھی بہت ہوا تھا لیکن حمنہ کا سوچ کر مزید پریشان ہوا تھا کہ کیسے اسے یہ خبر سنائے گا ۔۔۔ جلدی سے سیڑیاں نیچے اترا تھا ۔۔۔ وہ سامنے ہی کوریڈور پر چلتے ہوئے نظر آ گئ تھی ۔۔۔
وہ تیز قدم اٹھاتا ہوا اس کے پاس پہنچا تھا ۔۔۔
“اس کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔۔ آنکھوں میں نمی لئے بولا
” حمنہ وہ “
“۔ جانتی ہوں امی اب نہیں رہیں ” بڑے ضبط سے بولی تھی۔۔۔ بڑے حوصلے سے آنسوں پونچے تھے ۔۔۔
اصفر اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ عجیب لڑکی تھی کل رات سے رو رو کے بے حال تھی ۔۔۔ حالانکہ اسوقت اسکی والدہ زندہ تھیں ۔۔۔ اور ابھی جب وہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر جا چکیں۔ تھیں تو وہ وہ آنسوں پونچ رہی تھی ۔۔۔۔ ۔۔اصفر کو لگا کہ شاید وہ شدید صدمے میں ہے اس لئے اس کے دونوں بازوں سے پکڑ لیا
” حمنہ وہ جا چکیں ہیں تمہیں چھوڑ کر ۔۔۔ رو کیوں نہیں رہی ہو تم ۔۔۔” اصفر نے چاہا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے اپنے اندر کا غبار نکسل لے لیکن وہ چپ تھی
“ہاتھ چھوڑیں میرے اصفر ۔۔۔”
” میں جس تا ہوں بہت بڑا صدمہ ہے حمنہ ۔۔۔ لیکن ہم بے بس ہیں “
” جانتی ہوں سانسوں پر اللہ کا اختیار ہے میری ماں کی موت آپریشن تھیٹر کے اسڑیچر پر ہی لکھی تھی ۔۔۔۔ سمجھ گئ ہوں یہ بات۔۔۔۔ قبول بھی کر چکی ہوں ۔۔۔ ” اب وہ رو نہیں رہی تھی اصفر کے آنسوں ضرور بہہ رہے تھے وہ حیران سا ہو تھا اس کے اس طرح کے رویے پر
” حمنہ میں سمجھ سکتا ہوں “
اصفر کے اسے ساتھ لگانا چاہتا لیکن وہ اس سے اپنے بازو چھڑوانے لگی
” اصفر مجھے چھوڑ دیں ۔۔۔ ” اپنے بازو اس کی گرفت سے چھڑوا کر وہ تیزی سے کوریڈور سے باہر کی طرف جانے لگی ۔۔۔ وہ اس کے پیچھے ہی گیا تھا لیکن وہ ہاسپٹل سے نکل کر ٹیکسی میں بیٹھ چکی تھی
ٹیکسی میں بیٹھ کر اس نے ڈاکٹر یوسف کو فون کیا تھا ۔۔۔
” اٹس حمنہ ؟ “
” یس سر “
“اتنے سال بعد تمہیں سر کی یاد آ گئ ۔۔۔ دے دی تمہارے مطلبی شوہر نے مجھ سے بات کرنے کی اجازت “یوسف ہر بات سے انجان تھا اصفر نے جب سے یوسف سے بحث کی تھی دوبارہ اس سے رابطہ تک نہیں کیا تھا نا حمنہ کو اجازت تھی کی وہ یوسف سے بات کر لے
” سر میری امی ” یہ کہہ کر وہ رونے لگی “
” حمنہ کیا ہوا ہے ۔۔۔ آپکی امی کو ” وہ پریشان ہوا تھا
” وہ اب نہیں رہیں ۔۔۔ ” روتے ہوئے اس نے بتایا تھا
” اوہ نو۔۔۔۔ کیا ہوا اچانک سے انہیں “
” سر میں یہ سب میں آپ کو بعد میں بتاؤں گی مجھے اس وقت پیسوں کی سخت ضرورت ہے ۔۔۔
تیرا لاکھ ادھار مل سکتے ہیں ” حمنہ بے تحاشہ روتے ہوئے پوچھ رہی تھی
” اتنی بڑی رقم کیا کرنی ہے تم نے “
” مجھے میری امی کی ڈیڈ باڈی چاہیے ۔۔۔ جو مجھے تیرا لاکھ بھر کر ملے گی “
” کون سے ہاسپٹل میں ہیں وہ۔۔؟ ایسا کیا ہوا ہے انہیں ؟اصفر کہاں ہے “یوسف نے کئ سوال کر ڈالے تھے
” سر میں نے کہا نا میں ابھی نہیں بتا سکتی “
” حمنہ یہ بہت بڑی رقم ہے ۔۔۔ میرے پاس چھ لاکھ ہی ہوں گئے سیونگ کے ۔۔۔ “
“ٹھیک ہے آپ وہ میرے اکاونٹ میں ڈلوا دیں ۔۔۔ میں آپ کو اکاؤنٹ نمبر سینٹ کر دیتی ہوں ۔۔۔ یہ کہہ کر اس نے فون بند کیا اپنے گھر جا کر اپنا سارا زیور نکال کر بیچ دیاسواظے چند چیزوں کے جو اسکے والد نے اسے دیں تھیں ۔۔۔ پیسوں کا انتظام کرکے وہ ہاسپٹل پہنچی تھی فون پر اسکی ساس کی اصفر کی کئ کال آئیں مگر اس نے نہیں اٹھائیں بل پے کر کے اپنی والدہ کی میت کو وہ گھر لے گئ تھی سارا محلہ اکھٹا ہو چکا تھا ۔۔۔ کچھ دیر میں اصفر اور اسکی والدہ بھی پہنچ گئیں سفید شلوار قمیض میں ملبوس تھا ۔۔۔ اس بار دعا بھی آئی تھی لیکن جسے مجبورا لائی گئ ہو ۔۔۔
حسن کمال نہیں آیا تھا سیف مردوں میں بیٹھ گیا ۔۔۔ حمنہ اب تو نہیں رہی تھی ۔چپ چاپ بیٹھی ہوئی تھی ۔۔ اس کی ساس اسکے ساتھ لگ رونے لگی تسلی دینے لگی لیکن نا تو حمنہ روئی ۔۔۔ نا ہی کچھ بولی ۔۔۔ اصفر اسے ہی دیکھ رہا تھا جس کارویہ پل پل اسے حیران کر رہا تھا
کچھ دیر میں اسکی والدہ کی میت لے جانے کے لئے محلے والوں نے اصفر کو ہی بلایا تھا ۔۔۔ اس نے بس میت کے پاس جا کر آخری بار اپنی امی کا چہرہ دیکھا تھا ۔۔۔ پھر کان کے پاس جا کر اپنے دودھ بخشنے کی درخواست کی ۔۔۔ پھر پیچھے ہٹ گئ ۔۔۔ دفنانے کے بعد ۔۔۔ سب ہی آہستہ آہستہ جا چکے تھے سیف اور دعا بھی چلے گئے ۔۔۔ بس اصفر اور اسکی والدہ ہی رہ گئے تھے
” بیٹا اب تم بھی ہمارے ساتھ چلو ۔۔۔ یہاں اکیلی رہ کر کیا کروں گی “
” مجھے کہیں نہیں جانا ۔۔۔ ” حمنہ بلکل بے تاثر تھی۔۔۔ اسپاٹ لہجے سے بولی ۔۔
“لیکن بیٹا “
“او کے آل رائٹ ۔۔۔۔ ” اصفر نے اپنی والدہ کو مزید بولنے سے روک دیا
” موم آپ ڈرائیور کے ساتھ واپس چلی جائیں ۔۔ میں یہیں ہوں حمنہ کے پاس ” اصفر کے کہنے پر حمنہ نے ایک تاسف بھری نظر اس ڈالی تھی
” آپ بھی جاسکتے ہیں ۔۔۔ ” وہ برجستہ بولی تھی
” میں کہیں نہیں جا رہا ۔۔۔ تمہیں تہنا نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔ روتی رہوں پریشان رہوں گی “
” مسٹر اصفر حسن کمال ۔۔۔ آپ یہاں سے جاسکتے ہیں ۔۔ آج کے بعد میری فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے آپ کو ۔۔۔ آپ سے اگلی ملاقات میں اب کوٹ میں کروں گی ” حمنہ کے سخت لہجے اور غیر متوقع بات پر اصفر جتنا بھی حیران ہوتی کم تھا
