Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 19
Rate this Novel
Noor-e-Emaan Episode 19
Noor-e-Emaan by Umme Hani
حمنہ کی جب آنکھ کھلی تو سر بے تحاشہ بھاری ہو رہا تھا ۔۔۔۔ آنکھیں نشے سے بوجھل تھیں ۔۔۔آنکھوں کے پپوٹے سوجے ہوئے تھے ۔۔۔ جیسے آنکھوں پر کوئی وزن ہو اٹھنے کی ہر کوشش بے کار ہوئی تھی ۔۔۔۔
با مشکل وہ آنکھیں کھول پائی تھی ۔۔۔۔ ذہن سن تھا ۔۔۔۔ اوپر چھت پر ایک پنکھا چلتا ہوا نظر آیا ۔۔۔ آنکھیں پھر سے بند ہوئی ذہن نے کچھ کام کرنا شروع کیا تو یاد آیا کہ اسے شاید کڈنیپ کیا گیا تھا ۔۔ یک دم جیسے حواس بحال ہوئے تھے وہ کرنٹ کی مانند اٹھ کر بیٹھی تھی خالی کمرہ تھا لیکن کمرہ ہر آسائش سے آراستہ تھا ۔۔۔۔ ضرورت کی ہر چیز موجود تھی حمنہ نے اپنے گھومتے سر کو دونوں ہاتھوں سے جکڑا تھا ۔۔۔۔ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہاں کیوں لائی گئ ہے ۔۔۔۔ اب کون سی نئ آزمائش ہے ۔۔۔۔ نا جانے اب کیا ہو گا اسکے ساتھ ہوس کا شکار بنا کر مار دیں گئے یا پھر ۔۔۔۔۔۔” دل میں خوف ابھرا تھا پورے جسم کے مسام سے پسینے پھوٹنے لگے تھے ۔۔۔۔ گھبراہٹ سے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ جھٹ سے وہ بیڈ سے نیچے اتری تھی دروازے کھولنے کی کوشش کی تو وہ لوک تھا کھڑکی کے پاس گی تو وہ بھی لوک تھی دروازے کو خوب پیٹا لیکن نا کوئی اندر آیا نا کسی نے دروازہ کھولا ۔۔۔۔ تھک ہار کر وہ سامنے صوفے پر بیٹھ کر رونے لگی ۔۔۔۔ طرح طرح کے وسوسے ستا رہے تھے ۔۔۔۔
دل میں یہ بھی آیا کہ یوسف کی بات مان لینی چاہیے تھی ایک عورت کہاں حق کی خاطر لڑ سکتی ہے ایک قدم رکھتے ہی دوسرے قدم پر پہلے عزت سے پامال کر دی جاتی ہے پھر مار دی جاتی ہے ۔۔۔ مرنے کا تو اتنا خوف نہیں تھا لیکن عزت کے جانے کا ڈر موت سے بڑھ کر تھا ۔۔۔۔ کئ آنسوں آنکھوں سے گر کر دامن میں جذب ہوئے تھے ۔۔۔۔
رات تک وہ وقفے وقفے سے روتی رہی بار بار دروازہ بھی کھٹکھٹاتی رہی ۔۔۔۔ دس بجے کے قریب وہ صوفے پر بیٹھی رو رہی تھی جب دروازہ کھلا تھا
ایک پٹھان شخص تھا ہاتھ میں کھانے ٹرے لئے شلوار قمیض پہنے سر پو جالی والی ٹوپی پہنے نظریں جھکائے اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔۔
جیسے وہ اندر آیا حمنہ صوفے کے ساتھ لگ گئ خوفزدہ سی تھی ۔۔۔ لیکن وہ سائیڈ ٹیبل پر ہی ٹرے رکھ کر واپس جانے لگا ۔۔۔
” سنو ” حمنہ نے اسے پکارا بھی لیکن وہ رکا نہیں دوبارہ سے دروازہ بند ہوا اور پھر لوک
حمنہ نے کھانا نہیں کھایا تھا ۔۔۔۔ رات بارہ بجے تک بھوک پیاس سے نڈھال ہونے لگی تھی لیکن نا ایک گھونٹ پانی پیا نا روٹی کاایک لقمہ منہ میں ڈالا ۔۔۔۔
بارہ بجے پھر سے دروازہ کھلا تھا سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی۔۔۔
” آپ ” اصفر کھڑا مسکرا رہا تھا
” یس مائے وائف میں ۔۔۔” چہرے پر بڑی دلفریب مسکراہٹ سجائے وہ آگے بڑھ رہا تھا حمنہ کا جی چاہا کوئی چیز اٹھا کر اسکے سر پر دے مارے یہ کون سا طریقہ تھا… اپنی ہی بیوی کو اغوا کرناا اسے ڈرانا ہراساں کرنا ۔۔۔
بڑے بے تکلفانہ انداز سے وہ اسے برابر میں س کر بیٹھ گیا تھا
وہ پیچھے ہونے لگی ۔۔۔۔
” لیکن ہٹنے کی جگہ نہیں تھی
” کیسا گزرا سفر ؟ آنے میں کوئی دکت ۔۔۔ کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی ” بڑا عام ساانداز تھا جیسے بڑے اچھے تعلقات نبھائے جا رہے تھے ۔۔۔
” شرم آنی چاہیے آپ کو اس قسم کی گھٹیا حرکت کرتے ہوئے “
” کیوں بھئ کیا گھٹیا حرکت کی ہے میں نے ۔۔۔۔ ہاں’ ” اس کے بہتے ہوئے آنسوں کو اصفر نے اپنی انگلی کے پوروں سے اٹھا کر ہوا میں جھاڑتے ہوئے کہا ۔۔۔
” مجھے یوں کڈ نیپ کروا کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں آپ ” حمنہ نے آزردگی سے کہا وہ اس۔ بات پر استزائیہ انداز میں مسکرایا پھر اپنی آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے بولا
” جانے من ! میری بیوی ہو تم ۔۔۔میری شریک حیات ۔۔۔۔ میری نصف بہتر …تمہیں میں کہیں بھی لے جا سکتا ہوں۔۔۔ بیکوز یو آر مائے لولی وائف۔۔۔ شو شوئٹ ….. ” بڑا پیار دیکھاتے ہوئے اس کا نرمی سے گال کھنچ کر بولا ۔۔۔ حمنہ نے فورا سے اصفر کا ہاتھ جھٹکا ۔۔۔
“ہاتھ پیچھے کریں اپنا ” وہ نا گواری سے بولی
“امم ہممم ۔۔۔ بری بات ہے سوئٹ ہارٹ اس طرح کی بدتمیزی برداشت نہیں کروں گا ۔۔۔۔ ” اسکے چہرے پر اپنے ہاتھ کی پشت نرمی سے پھیرنے لگا حمنہ اٹھ کر کھڑی ہو گئ لیکن اصفر وہیں بڑے اطمینان سے بیٹھا رہا حمنہ دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔ لیکن دروازہ کھلا نہیں ۔۔۔۔ کافی دیر وہ زورآزمائی کرتی رہی لیکن بے سود واپس پلٹ کر اس نے تاسف سے اصفر کو دیکھا تھا جو بڑی فرصت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ “
” کر لی اپنی من مانی ہو گیا شوق پورا ۔۔۔ شاباش اب اچھی بیوی کی طرح ادھر آ کر بیٹھو۔ میرے پاس ۔۔۔۔ ” اس کا اتنا نارمل انداز حمنہ کی سمجھ سے باہر تھا ۔۔۔۔
“اصفر دروازہ کھولیں مجھے یہاں نہیں رہنا ” ہمت کر کے اس نے کہا
” رہنا تو پڑے گا نا میری جان کیا ہے نا کہ باہر رہ رہ کر بہت بگڑتی جا رہی ہو تم اور مجھے بگڑی ہوئی بیوی کو سیدھا کرنا بہت اچھے سے آتا ہے ” اب اس کے چہرے تاثرات بدلنے لگے تھے ۔۔۔۔ چہرے پر سختی اور غصے سے تاثرات تھے ۔۔۔ اندر ہی اندر حمنہ کی جان نکلی تھی ۔۔۔۔ پتہ نہیں کیا کرے گا ۔۔۔۔ وہ صوفے سے اٹھ کر اس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا
” تم یہاں سے تب تک باہر نہیں نکل سکتی جب تک کہ میری ہر بات نا مان لو ۔۔۔۔ اب یہ تم پر ڈپمنڈ کرتا ہے حمنہ کے تم یہاں کتنا عرصہ قید رہنا چاہتی ہو ۔۔۔ ” یہ سن کر سمجھ گئ تھی کہ وہ اسے کیس واپس کرنے کا کہے گا خلع کا مقدمہ بھی واپس کرنے کا کہے گا ۔۔۔۔ اپنے باپ سے معافی مانگنے کا کہے گا ۔۔۔ اسے جھکائے گا اس شخص کے سامنے جس سے وہ شدید نفرت کرتی تھی ۔۔۔۔
” کتنی چھوٹی سوچ ہے آپکی اپنی بات منوانے کا نہایت گھٹیا طریقہ ہے یہ ” وہ چلا کر بولی
“ہاں بھئ میں گھٹیا میرا باپ بھی گھٹیا ۔۔۔ ہم کم ظرف لوگ ہیں ۔۔۔ ایک تم ہی تو با ظرف ہو ۔۔۔ نیک۔۔۔ پارسا ۔۔۔۔حلال حرام کا خیال رکھنے والی ۔۔۔۔ محرم غیر محرم سے شریعت کے حساب سے ملنے والی ۔۔۔۔ “
اپنا ہاتھ سے اسکے دونوں رخسار پر رکھ کر اسکے جبڑے دبانے لگا ۔۔۔۔
” یوسف کے گھر کیا کر رہی تھی ۔۔۔۔ کیوں گئ تھی ۔۔۔۔ کیا لگتا ہے تمہارا ۔۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔۔ جب میں نے کہا تھا میرے ساتھ چلو سمجھ نہیں آیا تھا تمہیں ” آہستہ آہستہ اس کی گرفت اسکے چہرے پر مضبوط ہو رہی تھی لہجہ سخت اور غصے سے بھپرنے لگا تھا ۔۔۔۔ اپنی آنکھیں اسکی آنکھوں میں گاڑتے وہ اپنے آپے سے باہر ہو رہا تھا حمنہ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا وہ ہاتھ جس سے وہ اس کے جبڑے دبا رہا تھا پیچھے کرنا چاہا ۔۔۔۔ تکلیف سے حمنہ کے آنسوں نکلنے لگے اصفر نے جھٹکے سے اسے بیڈ پر پھینکا تھا
” انسان نہیں جلاد ہیں آپ ” وہ درد کی شدت برداشت نہیں کر پا رہی تھی اس لئے تڑخ کر بولی
“اوہ رئیلی ” اصفر کا انداز تمسخرانہ تھا ۔۔۔ استزائیہ ہنسی ہنستے ہوئے بیڈ پر جہاں بیٹھی وہیں جھک کر اپنا چہرہ اس کے چہرے سے مقابل کیا ۔۔۔
” آج تو میں واقع تمہیں جلاد ہی بنکر دیکھاوں گا ۔۔۔ اور اسکی ذمہ دار بھی تم ہو گی ۔۔۔ میری ایک بات یاد رکھنا حمنہ میں تمہیں کسی کے ساتھ بھی برداشت نہیں کر سکتا ہے ۔۔۔۔ اسے تم میری خود غرضی سمجھ لو ۔۔۔۔ جنون یا محبت کی انتہا ۔۔۔۔ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا جب کوئی دوسرا تمہارے ساتھ ہو ۔۔۔ جانتی ہو یوسف سے میری دوستی کالج کے زمانے سے تھی لیکن وہ تمہارے فیور میں بس ایک بار بولا تھا میں نے اس سے بات چیت تک ختم کر دی ۔۔۔۔ یہ میری محبت کی انتہا ہے تمہارے لئے ۔۔۔۔ یوسف کے گھر تمہیں دیکھ آگ سی لگ گئ تھی مجھے ۔۔۔۔ کیوں نہیں مانی تھی تم نے میری بات ؟۔۔۔ میں شوہر ہوں تمہارا تمہارا محرم اور مجھ سے ہی بچنے کے لئے تم یوسف کے پیچھے چھپ رہی تھی ۔۔۔۔ یہ دیکھ میرا جی چاہا جان سے مار ڈالو یوسف کو ۔۔۔ لیکن اسکی بیوی کا خیال آگیا ۔۔۔۔ بچ گیا وہ میرے ہاتھوں لیکن اگر دوبارہ کسی کو تمہارے آس پاس بھی دیکھا تو شاید مار ہی ڈالوں گا اسے ۔۔۔ ” حمنہ اسکی آنکھوں اس وقت جنون اور وحشت ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ حمنہ کا دل بری طرح سے دھڑک رہا خوف سے ڈر سے ۔۔۔۔
وہ کچھ پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔۔
” کھانا کھاو اپنا ۔۔۔۔ ورنہ پھر نا کہنا کہ تمہیں اتنا بھی وقت نہیں دیا میں نے کیونکہ باقی کاتمہارا سارا وقت میرے نام ہے ۔۔۔۔ ” یہ کہہ وہ کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔ کھانے کو حمنہ نے ہاتھ نہیں لگایا تھا ۔۔۔۔ جانتی تھی کے اسکی بات ماننے کے علاؤہ دوسرا راستہ نہیں ہے اس کے پاس ۔۔۔۔ چاہے وہ دل سے مانے یا جبرا لیکن اس وقت مرضی اصفر کی ہی چلے گئ اپنی بے بسی پر وہ صرف رو سکتی تھی اس لئے رو رہی تھی ۔۔۔۔
*******………
اگلی صبح حمنہ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اٹھ کر بیٹھ سکے چوبیس گھنٹے سے بھوکی پیاسی تھی
اپنے برابر میں دیکھا تو اس ستم پر نظر پڑی جو اسکے شوہر کے مرتبے پر فائز تھا ۔۔۔۔ اپنے سارے حقوق جانتا تھا
ڈنکے کی چوٹ پر لینا بھی جانتا تھا ۔۔۔۔ چاہے بیوی کی مرضی ہو یا نا ہو ۔۔۔۔۔ اصفر بے خبر سو رہا تھا ۔۔
حمنہ نے سوچ لیا تھا کہ ہار نہیں مانے گی ۔۔۔
کچھ دیر بعد ہی دروازے کی دستک پر اصفر کی آنکھ کھلی تھی ۔۔۔ حمنہ نے فوراسے آنکھیں بند کر لیں تا کہ اسے لگے کے وہ سو رہی ہے ۔۔۔
وہ فورا سے اٹھ بیٹھا تھا سامنے گھڑی ہر نظر ڈالی صبح کے چھ بج رہے تھے
لحاف پیچھے ہٹا کر پہلے اس نےحمنہ کی جانب دیکھا اسے سوتے ہوئے دیکھ کر اس پر اچھی طرح سے لحاف دیا اور کمرے کادروازہ کھولا ۔۔۔ سامنے وہی پٹھان ملازم تھا
“بولو گل خان “
” صاحب جی ناشتہ لاؤں آپ کے لئے “
” ہاں لے آؤں “
یہ کہہ کر اصفر نے دروازہ بند کیا اور خود واش روم کا رخ کیا ۔۔۔۔ نہا کر وہ جب باہر آیا وہ تب بھی سو رہی تھی
ناشتے کی ٹرے اس نے باہر سے ہی ملازم سے لی تھی ۔۔۔ صوفے کے سامنے رکھے ٹیبل پر رکھ کر حمنہ کو اٹھانے لگا
” ڈاکٹر صاحبہ اٹھ جائیے صبح ہو گئ ہے رات کی خماری ٹوٹی نہیں ابھی تک ۔۔۔۔ ” وہی طنزیہ لہجہ تھا دل دیکھانے والے انداز لئے وہ بول رہا تھا ۔۔۔ حمنہ کی پیشانی پر کئ بل پڑے تھے چہرے پر ناگواری کے آثار ابھرے تھے
” یعنی جاگ گئ ہو ڈرامے کر رہی میرے ساتھ ۔۔۔ چلو اٹھو اور ناشتہ کرو رات بھر سے بھوکی ہو “
” مجھے۔ بھوک نہیں ہے ۔۔۔ نا ہی میں کچھ کھاؤں گی ” حمنہ کروٹ بدلی تھی اصفر غصے سے اسے دیکھا تھا
” شرافت سے اٹھوں اور ناشتہ کرو”۔اصفر نے بازو سے پکڑ کر اسکارخ اپنی جانب کیا حمنہ نے اپنا بازو اس سے چھڑوا یا اور اٹھ کر بیٹھ گئ
“ورنہ کیا کریں گئے آپ ۔۔۔۔ زبردستی ناشتہ کروائیں
اصفر مجھے کچھ نہیں کھانا میرے لئے آپ کا کمایا ہوا رزق حرام ہے ۔۔۔
میں مر جاؤں گی لیکن نا کچھ کھاؤں گی نا ہی پیو گی ۔۔۔۔ بہتر ہے مجھے آزاد کر دیں ۔۔۔۔ اس قید سے اپنے رشتے سے۔۔۔ طلاق دیدیں مجھے “
“ایک زور دار تھپڑ حمنہ کے منہ پڑا تھا
” آئندہ طلاق کا نام ناسنو تمہارے منہ سے ۔۔۔۔ بہت شوق ہے تمہیں بھوکا رہنے کا۔۔۔ او کے رہو بھوکی ۔۔۔ ” غصے سے یہ کہتا وہ باہر چلا گیا ۔۔۔۔ حمنہ غصے سے بیڈ سے اٹھی ناشتے سے بھری ٹرے اٹھا کر دروازے کے سامنے زور سے پٹخ دی ۔۔۔ چھن سے کانچ کے برتن ٹوٹ کے بکھرے تھے انڈا بریڈ چائے سب کچھ بکھر کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔
******…….
اصفر سیدھاہاسپٹل پہنچا تھا ۔۔۔۔ او پی ڈی سے فارغ ہوا ہی تھا کہ حسن کمال کا بلاوا آ گیا ۔۔۔ وہ اجازت لیکر انکے کمرے میں گیا تھا
” اندر آؤں ” حسن کمال کے ماتھے پر سلوٹوں کے جال کو دیکھ کر اصفر سمجھ گیا تھا کہ رات بھر غائب رہنے کی جواب دہی دینی پڑے گی ” وہ سامنے کرسی پر بیٹھ گیا
” یس ڈیڈ “
” رات بھر کہاں تھے ” وہی سوال جو وہ ان سے متوقع کر رہا تھا حسن کمال کی زبان پر تھا
” ڈیڈ وہ ۔۔۔ میں رات ہاسپٹل میں تھا “وہ نظریں چرا کر بولا “
” یہاں تو نہیں تھے تم ” وہ سنجیدگی سے بولے
” ڈیڈاپنے دوست کے ہاسپٹل میں گیا تھا ۔۔۔ اس نے بلایا تھا کچھ ایمرجنسی کیسز تھے ” باپ کے جھوٹ بولتے ہوئے ہمیشہ اس پر گھبراہٹ طاری ہونے لگتی تھی
” ایسی بلا وجہ کی ڈیوٹیز سے ذرا پرہیز ہی کیا کروں تم ۔۔۔۔ آئندہ مجھ سے پوچھے بنا تم نہیں جاؤں گئے ” حسن کمال کے تشویشی انداز پر وہ یک دم تلملا گیا تھا
” ڈیڈ میں اب بچہ تو نہیں ہوں کہ ایک ایک بات آپ کو ۔۔۔۔۔۔”
” اصفر ” حسن کمال کی دھاڑ پر اصفر چپ ہوا تھا بات بیچ میں رہ گئ تھی
“۔ مجھے یہ باروا کروانے کی ضرورت نہیں ہے کہ تم کتنے بڑے آلو کے پٹھے ہو چکے ہو وہ سب میں جانتا ہوں ۔۔۔۔ ” جتنے غصے میں وہ تھے اصفر مزید کچھ بول نہیں سکا تھا رات کو دوبارہ حمنہ کے پاس جانے کا کوئی چانس نظر نہیں آ رہا تھا باپ سے چھپ کر یہ قدم اٹھایا تھا تا کہ میڈیا کی بات دب جائے اور حمنہ خلع کا کیس بھی واپس لے لے ۔۔۔۔ حمنہ کو۔ چھوڑ دینااصفر کے بس میں نہیں تھا لیکن اس کی وجہ سے حسن کمال کی عزت کی جو دھجیاں اڑ چکی۔ تھیں وہ کبھی اسے بہو کے روپ میں قبول نہیں کرتے ۔۔۔۔ فی الحال تو بلکل نہیں کرتے اصفر دو کشیوں کا مسافر بن چکا تھا نا باپ کو چھوڑ سکتا تھا نا بیوی کو ۔۔۔۔ اس لئے ایک چور راستہ اصفر نے اپنایا تھا ۔۔۔۔اپنے پرانے فارم ہاؤس میں اسے لے گیا تھا ۔۔۔۔ لڑکوں کے ذریعے اسے صرف بس اسٹاپ سے اٹھوایا تھا ۔۔۔۔ آدھے راستے میں ہی وہ لڑکے گاڑی سے اتر چکے تھے گاڑی اصفر نے ڈرائیو کی تھی کمرے میں وہی اسے لے کر گیا تھا ۔۔۔۔
” اب جاؤں یہاں سے ۔۔۔ ” حسن کمال سگار جلاتے ہوئے غصے سے بولے اصفر انکے کمرے سے باہر نکل گیا
شام کو گل خان کی کال آ گئ
” صاحب جی وہ بیگم صاحبہ کچھ کھا نہیں رہیں ہیں ۔۔۔ صبح بھی ناشتے پھنک دیا تھا اب دوپہر کو بھی کھانا واپس بھجوا دیا۔۔۔ پانی تک نہیں پیا ۔۔۔۔ جگ تک ویسے بھرا ہوا ہے اور خود نڈھال نڈھال سی ہیں ۔۔۔”گل خان کہ بات سن وہ جی بھر کے زچ ہوا تھا
۔ “اوہ شٹ ۔۔۔۔ عجیب ضدی لڑکی ہے ۔۔۔۔ او کے ۔۔۔ میں آتا ہوں ۔۔۔ ” اصفر بری طرح سے پھنس چکا تھاایک طرف حسن کمال جو اسے ہلنے نہیں دے رہے تھے دوسری طرف حمنہ جو تیس گھنٹے سے بھوکی پیاسی تھی ۔۔۔۔
اس وقت اسے حمنہ کی ذیادہ فکر تھی ۔۔۔۔ اس لئے شام کی او پی ڈی سے منع کر کے وہ سیدھا فارم ہاؤس گیا تھا ۔۔۔۔ اپنے ساتھ چند انجکشن اور ڈرپ بھی لیکر گیا تھا ۔۔۔۔ کہ اگر اس کچھ نا کھایا تو ڈرپ کے ذریعے اسکی خوراک کی کمی پوری کر دے گا
وہاں پہنچے ہی پہلے وہ حمنہ کے کمرے میں گیا تھا وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی چہرے پر پژمردگی چھائی تھی ۔۔۔۔ اصفر کو دیکھ کر رخ بدل۔ گئ ۔۔۔ صبح حمنہ کی طلاق کی بات سن کر مارے گئے تھپڑ کا افسوس سا اسے ہونے لگا تھا
اس بار وہ اس کے پاس بیٹھ گیا بڑی نرمی سے بات شروع کی
” حمنہ یہ سب کیا ہے یار ۔۔۔ ہو کیاگیا ہے تمہیں ۔۔۔۔
پانچ سال کتنے اچھے گزرے ہیں ہمارے ۔۔۔ کیوں میری اور اپنی زندگی کو آزمائش بنا رہی ہو ۔۔۔۔ ” اس ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لینا چاہا لیکن اس نے پی ھے کر لیادنوں بازو بیڈ پر رکھ خود بیٹھنے کی کوشش کرنے لگی جو بھوکے رہنے کی وجہ سے ہونی والی نقاہت سے مشکل لگ رہا تھا وہ بہت نرمی اور اپنایت سے کہہ رہا تھا
” آزمائش میں تو میں پڑ گئ ہوں ۔۔۔۔ میری زندگی ایک اذیت میں گزر رہی ہے ۔۔۔۔ جیسی زندگی آپ گزار رہیں ہیں میں سب کچھ جان کر ایک دن بھی نہیں گزار سکتی ۔۔۔با خدا مجھے پہلے علم ہوتا تو آپ سے شادی کی نا کرتی ۔ ” حمنہ کی بات پر وہ بجھ کر رہ گیا تھا
” یہ صرف تمہاری فرسودہ سوچ ہے اور کچھ نہیں۔۔۔۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں حمنہ ۔۔۔۔۔ تمہیں الگ نہیں کر سکتا ٹرائے ٹو انڈسٹینڈ۔۔۔۔ ” اصفر کی بات سن کر وہ اسے غور سے دیکھنے لگی ۔۔۔ بے بس تو بھی لگ رہا تھا ۔۔۔
” ٹھیک ہے آپ اپنے والد اور انکے ہاسپٹل کو چھوڑ دیں میں خلع کا نوٹس واپس لے لوں گی ” ایک نیا امتحان تھا جس وہ اسے ڈال رہی تھی
” واٹ آ ربش ۔۔۔۔۔ ڈیڈ کو کیوں چھوڑ دوں ” ۔سہ تلملا سا گیا تھا
“محبت کرتے ہیں نا آپ مجھ سے ۔۔۔ میرے لئے اتنا تو کر ہی سکتے ہیں ” حمنہ بات پر وہ بے ساختہ بولا تھا
” نو ۔۔۔ نتھنگ ڈیڈ کو چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔ میں تو ساری زندگی ڈیڈ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ اور تمہیں بھی ڈیڈ سے اپنی غلطی کے لئے سوری کہنا چاہیے “۔حمنہ نے اصفر بات سن کر بلا تامل کہا
“غلطی؟ کیسی غلطی ” حمنہ نے ناگواری سے اسے دیکھا تھا اصفر متحیر ہوا ۔”تمہیں اپنی غلطی کا احساس تک نہیں ہے حمنہ تم نے جھوٹا کیس کروایا ہے میرے ڈیڈ پر۔۔۔ میڈیا میں غلط باتیں پھیلا رہی تھی اس یوسف کی باتوں میں آ کر شاید جیلس ہے وہ ۔مجھ سے میری اور ڈیڈ کی کامیابی سے اس لئے خود تو کچھ کر نہیں سکتا تمہیں مہرہ بنا رہا ہے ” اصفر کی اپنی سوچ تھی ۔۔۔۔ اپنے ہی قیاس تھے ۔”
“اصفر کیا آپ واقع اتنے ہی انجان ہیں یا یہ بھی کوئی نئ چال میرے ساتھ چل رہے ہیں” حمنہ کو لگا تھا کہ وہ اپنے باپ کے ہر عمل سے واقف ہو گا
“واٹ ڈو یو مین ؟ “وہ نا فہم نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
” قاتل ہے آپ کا باپ ۔۔۔ مار ڈالا انہوں میری ماں کو ” حمنہ چلا کر بولی پھر رونے لگی اصفر آپے سے باہر ہوا تھا
” کچھ بھی بکواس کرو گی تم ۔۔۔۔ “, وہ چلا کر بولا وہاں سے کھڑا ہو گیا
” میرے ڈیڈ نے تو تاریخ بھی نہیں ڈالی تھی تمہاری امی کے لئے اسی وقت آپریشن کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔۔۔۔ اب یہ اللہ کا فیصلہ تھا ورنہ کئ سال ہو چکے ہیں ڈیڈ کے ہاتھوں کبھی کوئی آپریشن نا کام نہیں ہوا ۔۔۔ تم میرے باپ کی کمائی کو حرام سمجھتی ہو ۔۔۔۔ ذرا عقل سے سوچو اگر وہ برے ہوتے تو کیا اللہ انکے ہاتھ میں شفا رکھتا ۔۔۔۔ ؟
میرا باپ دل جان سے مریضوں کا علاج کرتا ہے ۔۔۔ ایسے مریض انکے ہاتھ سے صحت یاب ہوئے ہیں جن کو بڑے بڑے شہروں کے ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا ۔۔۔۔ اگر وہ قاتل ہوتا یا حرام کھا رہا ہوتا تو اللہ شفا جیسی اتنی بڑی نعمت سے انہیں نا نوازتے لیکن تمہارے اپنے ہی الگ عقائد ہیں ” اصفر کو اپنا باپ ہر حال میں ٹھیک اور حق پر لگ رہا تھا
” اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے اپنے بندوں انہیں سدھرنے کا پورا موقع دیتا ہے ۔۔۔رہ گئ شفا کی بات تو وہ اپنی نعمتوں کو اپنے بندوں کو دے کر بھی آزماتا ہے ۔اسر لے کر بھی دیکھتا ہے کہ اس کا بندہ کتنا استقامت۔سے کام لیتا ۔۔ اسکی مہلت اور آزمائش کو اسکی رضا سمجھ کر غلط روش پر قدم مت بڑھائیں ۔۔۔ جس دن اس نے احتساب لینا شروع کیا تو کہیں کے نہیں رہیں وہ لوگ جو جو اپنے غرض کی لالچ کے لئے نا حق قتل کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔۔۔ میں نے کوئی جھوٹا کیس نہیں کروایا۔۔۔۔ جو کچھ اس کسان کے بچے کے ساتھ ہوا ہے اگر ۔۔۔”۔
“بس حمنہ میں ڈیڈ کے بارے میں کچھ بھی سننا نہیں چاہتا ۔۔۔۔۔ تمپیں اگر ان کے ساتھ مسلہ ہے تو اسے تم خود سولو کروں گی ۔۔۔۔ ” وہ مزید سننا ہی نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔ ہاتھ کے اشارے سے اسے مزید بولنے سے روک دیا
” مسلہ ہی سولو کر رہی ہوں ۔۔۔ لیو می ۔۔۔ چھوڑ دیں مجھے ” حمنہ اپنے موقف سے ہلنے کو تیار نہیں تھی
” سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔۔ تمہیں تو اب میں ایسی ڈور سے باندھو گا کہ مجھے چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں پاؤں گی ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر اس نے جیب سے ایک رومال نکال حمنہ کی ناک پر رکھا وہ چند لمحوں میں ۔ بے حوش ہوئی تھی اسے ڈرپ لگا کر اس میں انرجی کے انجیکشن ڈال دیے تا کہ خوراک نا ملنے پر بھی اسے کمزوری نا ہو جانتا تھا کہ صبح سے پہلے اسے حوش نہیں آئے گا اور اسوقت تک ڈرپ اپنا کام کر چکی ہو گی ۔۔۔ کمرے کی لائٹ آف کر کے وہ باہر آ گیا
” گل خان ” پٹھان ملازم کو اس نے آواز لگائی ۔۔۔۔وہ چند لمحوں میں اصفر کے پاس پہنچا تھا
” کسی عورت کا انتظام کروں جو رات یہیں میری بیوی کے ساتھ گزارے ۔۔۔ “۔
” صاحب جی اپنی بیوی کو لے آؤں اس وقت اتنی جلدی تو کوئی انتظام نہیں ہو گا ” گل خان کی بات اصفر کا ٹھیک ہی لگی اس لئے فورا سے مان گیا خود وہ واپس چلا گیا تھا صبح حمنہ کی آنکھ چھوٹے بچے کی رونے کی آواز سے کھلی تھی ۔۔۔ جسم کی نقاہت کم لگ رہی تھی ۔۔۔۔ طعبیت نڈھال بھی نہیں تھی ۔۔۔۔ اس نے آنکھ کھول کر دیکھا تو اس کے ہاتھ پر ڈرپ لگی تھی لیکن مکمل ہونے کے بعد اسٹاپ کر دی گئ تھی ۔۔۔۔ اٹھ کر بیٹھی تو زمیں پر ایک خاتون چھوٹے بچے کو بہلا رہی تھی ۔۔۔ حمنہ کو دیکھ کر کھڑی ہو گئ بچے کا گود میں لے لیا ۔۔۔
” کون ہو تم ” حمنہ نے با مشکل بوجھل آنکھوں کو کھول کر دیکھا
” جی ام گل خان کا بیوی ہے ۔۔۔ آپ کی طعبت اب کیسی ہے بیگم صاحبہ ” دیکھنے میں وہ خاصی خوبصورت اور سرخ سفید تھی ۔۔۔ کڑھائی اور شیشوں کے کام سے بھری فراک۔ پہنے آنکھوں میں کاجل لگا ہوا تھا ۔۔۔ بچہ بھی بے حد خوبصورت تھا لیکن مسلسل رو رہا تھا
” میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ تمہیں یہاں میرے پاس کس نے آنے دیا ۔۔۔ ؟ حمنہ اب اپنی ڈرپ اتارنے لگی روئی سنی پلاس سب سائیڈ ٹیبل پر موجود تھا
” صاحب جی نے گل کو بولا تھا ۔۔۔۔ کہ اپنی بیوی کو آپ کے پاس۔ چھوڑ دو۔۔۔۔ آپ رات کو اکیلا تھا نا اس لئے ” وہ بچے کو گود میں لیے بہلاتے ہوئے کہہ رہی تھی جو ریں ریں کر رہا تھا
” بیگم صاحبہ میرا بچہ بیمار ہے اپنے گھر اور کمرے کا عادی ہے ۔۔۔۔ رات بھر روتا رہا ہے ٹھیک سے سویا بھی نہیں ہے ۔۔۔ ” حمنہ نے بچے کو دیکھا وہ چہرے سے بھی ٹھیک نہیں لگ رہا تھا
” کیا ہوا ہے اسے میرے پاس لاؤں اسے ” حمنہ نے اپنے پاس بلایا اور پھر اپنے ہاتھ سے ڈرپ نکال کر سائیڈ ٹیبل پر رکھے سنی پلاس کو ہاتھ پر لگایا ۔۔۔ پھر اس بچے کو گود میں لیا لیکن وہ حمنہ کی گود میں آتے ہی بے تحاشہ رونے لگا ۔۔۔ اپنی ماں کی طرف لپکنے لگا
وہ بخار سے وہ تپ رہا تھا ۔۔۔ کھانس بھی رہا تھا ۔۔۔
” اسے تو بخار ہے ۔۔۔ ” حمنہ نے پکڑتے ہی کہا
” دس دن سے بخار ہے بیگم صاحبہ ۔۔۔ دوا سے فرق نہیں پڑ رہا ” وہ عورت خاصی پریشان لگ رہی تھی حمنہ نے اس بچے کی کمر پر کان لگایا ۔۔۔۔ اسٹیتھو سکوپ تو تھا نہیں اس لئے اس کاسینہ چیک کرنے لگی ۔۔۔ اسکی آنکھیں دیکھنے لگی شرٹ اوپر کر کے اس کا معائنہ کرنے لگی ۔۔۔
“اس کو سینے کا ہلکاساانفکشن ہے اس لئے بخار کی دوائیں اس پر بے اثر نہیں کر رہیں مجھے پین کاغذ دو میں کچھ دوائیں لکھ دیتی ہوں ۔۔۔ فوراسے منگوا کر اسے دو ۔۔۔۔ دو تین دن میں ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔”حمنہ کے کہنے پر
وہ عورت جلدی سے باہر گئ واپسی پر گل خان بھی ساتھ تھا
” بیگم صاحبہ میرے میاں کو سمجھا دو وہ دوا لے آئے گا ۔۔۔” حمنہ نے ڈوپٹہ ٹھیک سے لیا گل خان کو اندر بلا کر دوائیں لکھ کر دیں ۔۔۔۔ “
وہ دوا لینے بازار چلا گیا ۔۔۔۔ حمنہ جب تک فریش ہو کر واش روم سے باہر آئی وہ عورت اس کا ناشتہ لگا چکی تھی ۔۔۔۔ حمنہ نے ناشتے کی طرف اشارہ کر کے کہا
” اسے اٹھا کر لے جاؤں یہاں سے ۔۔۔ مجھے کچھ نہیں کھانا “
“کیوں بیگم صاحبہ ناشتہ کیوں نہیں کرنا ۔۔۔ “
” تم یہ واپس لے جاؤں ” حمنہ نے جب صاف منع کر دیا تو وہ ناشتہ باہر لے گئ ۔۔۔ بچہ وہیں کارپیٹ پر لیٹا سورہا تھا ۔۔۔ حمنہ نے اسے اٹھا کر بیڈ پر لیٹا دیا ۔۔۔۔
اسے لحاف اوڑھا دیا ۔۔۔۔ خود کمرے سے نکلنے لگی لیکن دروازہ لاک تھا ۔۔۔
پھر کچھ ہی دیر میں وہ عورت اپنا بچہ لیکر چلی گئ ۔۔۔۔
پیاس سے گلا خشک ہو چکا تھا شام کو گل خان دروزے کو دستک دے کر اندر داخل ہوا ۔۔۔ نظریں جھکی ہوئی۔ تھیں ہاتھ میں ایک اسٹیل کا ٹفن تھا
” بیگم صاحبہ آپ نے امارے بچے کو دوا لکھ کر دیا ہے یہ کھانا ام اپنے گھر سے لایا ہے ۔۔۔ یہ صاحب کے پیسوں کا نہیں ہے ۔۔۔ یہ پانی ام گھر سے لایا ہے ۔۔۔ یہ آپ کھا لو ” اس نے بیڈ کی سائیڈ پر وہ ٹفن رکھ دیا حمنہ اسکی باتیں سن کر حیران ہوئی تھی ۔۔۔
‘ تمہیں یہ کیسے پتہ “
” وہ ہم نے آپکی اور صاحب جی باتیں سنی تھی وہ جان بوجھ کر نہیں جی بس کام سے آیا تھا ۔۔۔ اس لئے سن لیا ۔۔۔ آپ کھا لو میں صاحب کو نہیں بتاؤں گا ” نظریں جھکائے وہ بات کر رہا تھا
” تم بس ایک احسان کر دو مجھ پر ۔مجھے یہاں سے باہر نکال دو ۔۔۔ میں احسان مند رہوں گی تمہاری ۔۔۔۔
” بیگم صاحبہ ۔۔۔ یہ میں نہیں کر سکتا ۔۔۔ میری روزی روٹی کاسوال ہے ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ باہر چلا گیا
” حمنہ کچھ دیر اس ٹفن کو دیکھتی رہی ۔۔۔ پانی کی بوتل کو بھی پھر اس نے سب سے پہلے پانی کی بوتل کھول کر گلاس بھرا لیکن پہلا گھونٹ حلق میں اٹک کر نیچے اترا تھا دوسرے گھونٹ پرخشک حلق تر ہو تھا ۔۔۔ دو گلاس پانی وہ پی چکی تھی لیکن پیاس اب بھی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔
پھر کچھ دیر بعد کھانا بھی کھا لیا ۔۔۔۔ جسم میں توانائی کا احساس ہوا تھا ۔۔۔ کرنے کو وہاں کچھ نہیں تھا۔ بس سوچنے کو تھا ۔۔۔ ایک لا محدود سوچوں کاسلسلہ تھا ۔۔۔
******…….,
اصفر تم صبح کی فلائٹ سے امریکہ جا رہے ہو ۔۔۔۔ “رات کے کھانے پر یہ نئ اطلاع اصفر کو ملی تھی وہ حیران پریشان سا رہ گیا تھا ۔۔۔۔
” یوں اچانک سے ؟ ” اصفر کا نوالہ ہاتھ میں رہ گیا تھا
” تم شاید بھول رہے ہو میں نے ہمیشہ تمہیں ٹکٹ کنفرم ہونے کے بعد ہی اطلاع دی ہے اور تمہیں کبھی اس بات پر اتنی حیرانگی نہیں ہوئی جتنی آج ہو رہی ہے ۔۔۔۔ تیاری کر لو اپنی اور ہاں پندرہ دن تم وہیں رہو گئے ۔۔۔ ایک کورس ہے چند دنوں گا ۔۔۔
Gastroenterologist
کے لئے بہت کارآمد کورس ہے ۔۔۔۔۔ ” حسن کمال کھانا کھا چکے تھے لیکن سے ہونٹ تھپتھپایے اور اٹھ گئے اصفر پریشان سا ہو گیا تھا ۔۔۔ حمنہ اپنی ضد پر وا تھی پیچھے سے بھی وہ یوں بھوکی پیاسی رہی تو کیا ہو گااس کا ۔۔۔۔
رات کو گل خان سے بات ہوئی تو اس نے بتایا کہ اس نے حمنہ کو اپنے گھر سے کھانا لا۔ دیا تھا ۔۔۔ جو اس کھا بھی لیا اس خبر نے اسے کچھ سکون بخشا تھا اپنی جانے کی اطلاع اصفر نے گل خان کو دی تھی ساتھ ہی ساتھ حمنہ کا خیال رکھنے کو بھی کہا تھا ۔۔۔۔ اب وہ کچھ مطمئن تھا ۔۔۔۔ “
******……
حسن کمال بیٹے کے ہر کام سے با خبر تھے ۔۔۔ جانتے تھے کہ وہ ان سے چھپ کر حمنہ کو فارم ہاؤس لے گیا ہے
اب حمنہ کو راستے سے ہٹانے کے لئے بیٹے کو باہر بھیج رہے تھے ۔۔۔۔ حمنہ اب ان کے لئے خطرہ بن سکتی تھی ۔۔۔۔ اور پھر اپنی زبان بھی بند کرنے کے لئے تیار نہیں تھی ۔۔۔۔
جیسے ہی یہ خبر ملی کہ اصفر کا جہاز ہوا میں پرواز کر چکا ہے حسن کمال کارخ فارم ہاؤس کی طرف تھا ۔۔۔۔ جلد از جلد حمنہ کو راستے سے ہٹانا تھا ۔۔۔۔ جو انکے لئے بڑی بات نہیں تھی
