Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415

Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 21

644.1K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Noor-e-Emaan Episode 21

Noor-e-Emaan by Umme Hani

کچھ پل وہ کچھ بھی بول نہیں پائی ۔۔۔۔ فارس کو اسکی چپ چبھ رہی تھی ۔۔۔۔ دل کی دھڑکنیں شور مچا رہی۔ تھیں۔۔۔ انتظار اسکے جواب کا تھا جو بے چین کیے ہوئے تھا

حمنہ نے اپنی نظریں جھکا لیں

” اگر بات میری ذات کی ہوتی تو میرے خیال سے ایک مرد کو آزمانے کے بعد تو دوسرے کی خواہش ہی نہیں رہی ۔۔۔ ہاں بچے تم سے بہت اٹیچ ہیں ۔۔۔ تم بھی ان سے بہت محبت کرتے ہو شاید بچوں کے لئے تمہیں قبول کر لیتی ” حمنہ نے بنا لگی لپٹی کے جواب دیا

” بچوں کے لئے ہی سہی۔۔۔۔ بس ایک بار مجھے اپنی زندگی میں شامل تو ہونے دو ۔۔۔ آئی سوئیر تمہارے دل میں جگہ میں خود بنا لوں گا ” فارس کی خوشی اس کے ہر انداز سے چھلک رہی تھی

” فارس میرے دل میں اب بھی تمہاری لئے جگہ ہے ۔۔۔ تم بہت اچھے انسان ہو ۔۔۔۔ میں دل سے تمہاری عزت کرتی ہوں ۔۔۔ رہ گئ میری چاہت میری خواہش

تو جب عورت ماں بنتی ہے نا ۔۔۔۔ تو اسکے لئے اس کے بچے پہلی اٹینشن ہو جاتے ہیں ۔۔۔ وہ ہر معاملے میں اپنے بچوں کے بارے پہلے سوچتی ہے ۔۔۔ یہاں تک اپنی ہر خواہش ان پر قربان کرنے سے پہلے ایک پل نہیں لگاتی ۔۔۔ کئ بار ایسا ہوتا کہ جب بچے بہت چھوٹے ہوتے ہیں ماں کا کسی چیز کو کھانے کا بے حد دل چاہ رہا ہوتا ہے لیکن وہ اس لئے نہیں کھاتی کہ کہیں مدر فیڈ سے بچے کو اس چیز سے تکلیف نا پہنچے ۔۔۔ اپنا کھانا پینا سونا جاگنا ۔۔۔ اپنی ہر روٹین وہ بچوں کے لئے بدل دیتی تھی ۔۔۔ وہ بھی بہت خوشی خوشی ۔۔۔۔ میرے لئے میرے ایمان اور نور سب سے پہلے ہیں ۔۔۔۔ جب نور تمہاری گود میں بڑے مان سے بیٹھی ہے اپنے دل کی بات تمہارے کان میں کرتی ہے۔۔۔۔ ایمان تمہارے کندھوں پر چڑھ کر بیٹھتا ہے تمہارے گلے میں بانہیں ڈالتا ہے تم سے فرینک ہو کر بات کرتا ہے تو مجھے لگتا ہے تمہارا میری لائف میں آنا ہی بہتر ہے ” حمنہ ساتھ ساتھ بات کر رہی تھی ساتھ ساتھ وال بھی کر رہی تھی فارس اس کے آگے کھڑا ہو گیا اسکے بلکل مقابل اور الٹے قدم چلنے لگا

” اس مطلب ۔۔ میں ہاں سمجھوں پھر ؟ ” فارس کو اپنے کانوں پر شاید یقین نہیں آ رہا تھا

” فارس ” حمنہ نے اسے آنکھیں دیکھائیں تھیں

” تھنک یو سو مچ ۔۔۔ تمہیں نہیں پتہ کتنا خوش ہوں آج میں ۔۔۔۔ لگتا ہے سب کچھ مل گیا ہو ۔۔۔۔ اور اس وقت دنیا کا سب سے خوش نصیب شخص فارس ہے ۔۔۔۔ ” خالی سڑک پر وہ جھوم کر کہنے لگا ۔۔۔ حمنہ اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

حالانکہ اس نے اظہار محبت تو نہیں کیا تھا ۔۔۔۔ صرف یہی تو کہا تھا کہ وہ بچوں کے لئے اسے اپنا سکتی ہے لیکن اسے دیکھ لگ رہا تھا جیسے حمنہ کے منہ سے بڑا لمبا چوڑا پیار بھرا اظہار سنا ہو ۔۔۔

” ڈاکٹر بیگ سے کہوں گا جلدی سے میری حمنہ کو اصفر نامی صیاد سے چھٹکارا دلوائیں ۔۔۔۔۔ پھر شروع ہو گئ ہماری ہیپی لائف ۔۔۔۔ ” اسکی آنکھوں میں جیسے جگنوں سی چمک تھی ۔۔۔۔ حمنہ نے ذیادہ دیر اسکی آنکھوں میں دیکھا نہیں ۔۔۔۔ فورا سے نظریں بدل لیں

” اب واپس بھی چلو فارس ٹھنڈ بہت بڑھ رہی ہے ۔۔۔۔ “حمنہ نے موضوع بدلہ تھا

” ہاں چلتے ہیں ۔۔۔۔ ” فارس کا ایسا کوئی موڈ نہیں تھا لیکن حمنہ پلٹ گئ تھی

” ہاسپٹل واپس کب آؤں گی ؟”

” پتہ نہیں ۔۔۔۔ جب تک اصفر یہاں ہیں میں اس گھر سے نہیں نکل سکتی ” حمنہ کی آنکھوں میں جیسے پھر سے خوف اترا تھا

” حمنہ کیوں ڈرتی ہوں اس سے ۔۔۔۔ اب میں ہوں تمہارے ساتھ ۔۔۔۔ اس لئے بے فکر ہو جاؤں ۔۔۔۔ تم کل سے ہاسپٹل آؤں میں دیکھتا ہوں کیا کہتا ہے وہ تمہیں ۔۔۔۔ ” فارس کی بات پر وہ فورا سے نفی میں سر ہلانے لگی

” نہیں مجھے اس کا سامنا نہیں کرنا ۔۔۔۔ تم اسے نہیں جانتے ۔۔۔۔ جنونی ہے وہ ۔۔۔۔ میرے ساتھ تمہیں دیکھ لیا تو قیامت برپا کر دے گا ۔۔۔ اس لئے جب تک وہ مجھے ڈائیواز نہیں دیدتا میں کوئی رسک نہیں لے سکتی ۔۔۔۔ ” حمنہ یہ کہہ کر تیز قدموں سے چلتے ہوئے ڈاکٹر بیگ کے گھر چلی گئ فارس وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہ گیا ۔۔۔۔۔

********………

دوسرے دن مزمل صاحب ایک پراویٹ ہاسپٹل میں لائبہ کی جاب کے لئے بات کر کے ہی گھر لوٹے تھے لیکن جب بیٹی کو رضائی میں مسلسل چھنکیں مارتے دیکھا تو سمجھ گئے مری نے اپنا رنگ دیکھا دیا ہے آمنہ بیگم ساتھ لائبہ کو جارہیں تھی ساتھ ساتھ گرم یخنی پلا رہیں تھیں ۔۔۔

” ایک ہی اولاد قسم میں لکھی تھی وہ بے عقل ۔۔۔” آمنہ بیگم کی ڈانٹ لائبہ پر کبھی کبھی ہی اثر کرتی تھی ہاتھ میں رومال پکڑے وہ چھنکییں ماری جا رہی تھی ۔۔۔

” امی ایک کو آپ کے بہالپور والے ڈاکٹر نے میرے سونگھنے کی صلاحیت ہی ختم کر دی ہے اس پر چھنکنوں کا دوراہ مجھ پرالگ پڑنے لگا ہے ۔۔۔۔” گرم گرم یخنی پیتے ہوئے وہ بولی آنکھیں ناک سب سرخ تھے ۔۔۔

” میں تو لائبہ کے لئے ایک خوشخری لیکر آیا تھا ۔۔۔ ایک پراویٹ ہاسپٹل میں اسکی نوکری کے لئے بات کر آ رہا ہوں تا کہ یہ مصروف ہو جائے لیکن۔ اب تو لگتا ہے اسی ہاسپٹل میں اسے ایڈمٹ کروانا پڑے گا “

“نہیں ابو جی مجھے کسی بھی ہاسپٹل میں ایڈمٹ نہیں ہونا آپ مجھے ایرنک کی ٹیبلٹ لا دیں میں ٹھیک ہو جاؤں گی ۔۔۔۔ جب میں خود ڈاکٹر ہوں کسی ہاسپٹل کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔ “

” نیم حکیم خطرہ جان ہی ہوا کرتے ہیں ۔۔۔ آئی بڑی ڈاکٹرانی ۔۔۔۔ ” آمنہ بیگم نے دانت کچکچا کر بیٹی کو گھورتے ہوئے کہا لائبہ ہاتھ میں پکڑے یخنی کے کپ کو لبوں پر لگانے لگی ۔۔۔۔

” ہاں ڈاکٹر سے یاد آیا ۔۔۔ وہ بچہ جو اسے چھوڑنے آیا تھا وہ بھی ڈاکٹر ہی ہے ” مزمل صاحب کے منہ سے اصفر کے لئے لفظ بچہ سن کر لائبہ کے منہ سے یخنی فوارے کی طرح سے باہر نکلی تھی اور سیدھی آمنہ بیگم کے منہ پر گری تھی ۔۔۔۔

پھر تو نہوں نے نا آؤں دیکھا نا تاؤ ایک بعد ایک تھپڑ اسکے بازو پر مارے تھے

” کم عقل اولاد یہ کیا کیا ہے تم نے ” اپنا منہ ڈوپٹے سے پونچتے ہوئے وہ غصے سے بولیں

۔”میرا کیا قصور ہے امی ۔۔۔۔ابو جی کی بات کچھ ایسی تھی ۔۔ اچھی خاصی عمر کے آدمی کو بچہ کہہ رہے

ہیں ۔۔۔ وہ انہیں بچہ نظر آتا ہے ” لائبہ نے حیرت کا اظہار کیا

” اب میرے لئے تو بچہ ہی ہے ۔۔۔۔ بہرحال اس نے نمبر تو دیا تھا اپنا میں فون کرتا ہوں ذرا ٹھیک سے چیک اپ کر کے اچھی دوا تجویز کر دے گا ۔۔۔۔۔ جلد فرق پڑ جائے گا ۔۔۔۔ “مزمل صاحب نے جیب سے فون نکالا اور اصفر کو کال کر دی ۔۔۔۔ وہ لاہور واپسی کے لئے ہی نکل رہا تھا لیکن مزمل صاحب کا فون سننے لگا ۔۔۔

” ارے انکل آپ ” اسلام دعا کے بعد مزمل صاحب نے ہی اپنا تعارف کروایا تھا

” ہاں بیٹا کہیں مصروف تو نہیں تھے “

” نہیں۔۔۔ بس لاہور کے لئے نکلنے لگا تھا ۔۔۔۔ آپ فرمائیے”

” او ہو پھر تو غلط وقت فون کر دیا ۔۔۔ “

” ارے نہیں آپ کہیے سب خیریت تو ہے ؟

” خیریت کہاں ہے وہ میری بیٹی کو ٹھنڈ لگ گئ ہے ۔۔۔ بخار چھنکیں طعبت کچھ ٹھیک نہیں ہے میں نے سوچا تم ڈاکٹر ہو تو ذرا آ کر دیکھ لیتے “

” جی میں آ جاتا ہوں ۔۔۔ کوئی ایسا ایشو نہیں ہے ۔۔۔۔ ” اصفر گاڑی میں بیٹھ گیا پہلے وہ لائبہ کے گھر ہی گیا تھا جو کمرے میں رضائی میں چھپی ہوئی چھنکیں مار رہی تھی ۔۔۔۔ اسکی نبض دیکھ کر بولا

بخار بہت تیز تھا ۔۔۔ پھر انہیں سانس لینے بھی دکت ہو رہی تھی کھانس بھی رہی تھی

” آئی تھنک انہیں نمونیے کا اٹیک ہے ۔۔۔۔۔ برف اور ٹھنڈ ان سے برداشت نہیں ہوئی میں دوائیں لکھ بھی دوں تو فرق نہیں پڑے گا کیوں انہیں سانس لینے میں تکلیف ہو رہی ہے فورا سے ہاسپٹل لے جائیں ۔۔۔ آکسیجن لگوانا ضروری ہے ۔۔۔۔ ” یہ بات سن کر آمنہ بیگم پریشان ہوئیں تھیں

” نہیں ہاسپٹل ہر گز نہیں جاؤں گی ۔۔۔ پتہ نہیں کیا تجربہ کریں گئے میرے ساتھ ” لائبہ نے فورا سے انکار کیا

” ایسا نہیں ہے ۔۔ میں ایک ہاسپٹل کے بارے میں جانتا ہوں وہاں آپ کی اچھی کیر ہو جائے گی ۔۔۔ ” اصفر نے لائبہ کو یہ کہنے کے بعد مزمل صاحب کی طرف متوجہ ہوا

” میں میرے ساتھ چلیں میں آپ کو ہاسپٹل تک ڈوپ کر دیتا ہوں ۔ ۔ ” مزمل صاحب کو بھی یہی ٹھیک لگا ۔۔۔۔۔ اس لئے لائبہ کو لیے وہ گاڑی میں بیٹھ گئے تھے ۔۔۔۔

******…….

“حمنہ تم چاہوں تو میرے ساتھ ہاسپٹل جا سکتی ہو کیونکہ میری اصفر سے بات ہوئی ہے وہ مری سے روانہ ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔ لیکن اگر آرام کرنا چاہو تب بھی کوئی مسلہ نہیں ہے “۔ ڈاکٹر بیگ نے ناشتہ کرتے ہوئے کہا

” وہ جاچکے ہیں تو میں گھر بیٹھ کر کیا کرو۔ گی میں بھی ساتھ چلتی ہوں “۔۔۔۔ ناشتہ کر کے وہ بھی تیار ہو کر ڈاکٹر بیگ کی گاڑی میں انکے ساتھ ہاسپٹل پہنچی تھی ۔۔۔۔ کافی دن بعد وہ ہاسپٹل گئ تھی ۔۔۔ اس لئے سب ہی اسکی خیریت دریافت کر رہے تھے ۔۔۔۔ او پی ڈی میں سب سے پہلی مریضہ ایک لڑکی تھی جو اپنے والد کے ساتھ آئی تھی ۔۔۔ اس کاتفصیلی چیک اپ کرنے بعد حمنہ نے اسے ایک دن اوبزرویشن میں رکھنے کا مشورہ دیا لیکن وہ لڑکی ماننے کو تیار نہیں ہو رہی تھی

” نہیں مجھے یہاں نہیں رہنا اور نا ہی کوئی فضول سے انجیکشن لگوانے ہیں ۔۔۔ پہلے اسکی وجہ سے میں سونگنے کی صلاحیت کھو بیٹھی ہوں ۔۔۔ “

“دیکھیں ایسا کچھ نہیں ہو گا آپ کے ساتھ ۔۔۔ لیکن اس وقت آپ کی باڈی میں آکسیجن کی بہت کمی ہو رہی ہے ۔۔۔ جو کہ خطرناک ہے ۔۔۔۔ ” حمنہ نے اپنے تہی لائبہ کو سمجھانے کی کوشش کی

وہ تو مان نہیں رہی تھی لیکن مزمل صاحب مان گئے ۔۔۔۔ اکسجن ماسک لگا کر اسے لیٹا دیا گیا ۔۔۔۔

لیکن جب نرس اسے انجیکشن لگانے آئی تو اس نے صاف منع کر دیا ۔۔۔۔ مجبورا حمنہ کو ہی اس کے پاس آنا پڑا ۔۔

” دیکھیں نا ڈاکٹر حمنہ یہ انجیکشن نہیں لگوا رہیں “نرس نے حمنہ سے لائبہ کی شکایت لگائی

” یہ سب کیا ہے مس لائبہ آپ ٹرٹمنٹ کیوں نہیں کروا رہیں ” حمنہ لائبہ کے پاس آ کر پوچھنے لگی

” دیکھیں پہلے میں ایسے ہی ایک ٹرٹمنٹ کو بھکت چکی ہوں تب تو انجان تھی ہر بات سے لیکن اب میں خود ایک نرس ہوں اس لئے مجھے کوئی بھی بیوقوف نہیں بنا سکتا ۔۔۔ مجھے انجیکشن نہیں لگوانا میں صرف آکسیجن اور نیبولایئز ہی کرواں گی ” لائبہ دو ٹوک انداز سے بولی

‘” آپ خود نرس ہیں تو پھر تو اچھی طرح سے جانتی ہوں گی بنا اینٹی بائیوٹک کے آپ کاانفیکشن باڈی سے ختم نہیں ہو گا ۔۔۔۔ فی الحال تو انجیکشن لگوانا پڑے گا کل میں میڈسن لکھ دوں گی ۔۔۔ ” حمنہ ابھی لائبہ سے بات ہی کر رہی تھی جب فارس حمنہ کو ڈھونڈتے ہوئے وہاں پہنچا تھا

“یہاں ہو تم ۔۔۔۔ کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا ہے

میں نے تمہیں ۔۔۔ تمہاری ڈیوٹی اس وقت ایمرجنسی میں ہوتی ہے ۔۔۔ تم یہاں پروایٹ روم میں کیا کر رہی ہو “وہ آتے ہی حمنہ سے مخاطب ہوا تھا

” بس ایک انجیکشن لگا کر آتی ہوں ‘” حمنہ نے جواب دیا

” تم لگاؤں گی؟ نرس سے کہہ دو ایمرجنسی میں کیس زیادہ سنجیدہ ہیں ۔۔۔ یہ تو دیکھنے میں اچھی خاصی ہٹی کٹی لگ رہیں تم جاؤ۔ میں انہیں دیکھ لیتا ہوں ” فارس کی بات پر لائبہ نے گھور کر اسے دیکھا تھا ۔۔۔

“تم اپنے سامنے انجیکشن لگوانا ” حمنہ یہ کہہ کر وہاں سے چلی گئ ۔۔۔

“دیکھیں میں دوائیں تو کھا لوں گی لیکن ڈرپ اور انجیکشن ہر گز نہیں لگواں گی ” لائبہ نے فارس کو بھی صاف منع کر دیا

” کیوں بھئ کیوں نہیں لگواں گی ۔۔۔ چھوٹی بچی ہو۔۔۔ جو ٹیکہ لگوانے سے ڈر رہی ہو اگر میں نے زبردستی لگوا دیا تو رونے بیٹھ جاؤں گی ” فارس یہ کہہ کر اس کی فائل پکڑی اور پڑھنے لگا

” دیکھیں آپ مجھے ذیادہ ایزی مت لیں لائبہ ہوں میں ڈرتی ورتی میں کسی سے نہیں ہوں ۔۔۔ آپ لوگوں کو کیا لگے ۔۔۔۔سارے تجربے ہم معصوم عوام پر کر کر چیک کرتے ہیں کہ کون سا تجربہ کامیاب ہو گیا،اور کون سا ناکام ” لائبہ کی بات سن کر فارس نے فائل سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا تھا

“نرس ؟” ۔۔۔ فارس نے نرس کو مخاطب کیا

” یس سر “

” انجیکشن لگاؤں انہیں ” فارس کے کہنے پر نرس انجیکشن بھرنے لگی

” ہرگز بھی نہیں ۔۔۔۔ یوں نہیں لگواں گی پہلے مجھے انجیکشن کا نام بتاؤں میں خود نرس ہوں اس لئے مجھے بے وقوف بنانے کی کوشش بھی مت کیجیے گا ” اس لڑکی کی کینچی کی طرح چلتی زبان اور انجیکشن کے خوف کو دیکھ کر فارس نے فائل زور سے سائیڈ پر رکھی تھی چہرے پر غصے سے بھرے تاثرات ڈالے وہ اسے گھورتے ہوئے بولا

” نرس انجیکشن بھریں ۔۔۔۔۔ میں بھی دیکھتا ہوں یہ کیسے نہیں لگاتیں ” یہ کہہ کر وہ انگلی اٹھا لائبہ کو تنبیہ کہتے ہوئے بولا

“۔۔۔۔ دیکھوں لڑکی ۔۔۔۔ ایک بات تم ٹھیک کہہ ہو تم ہم ڈاکٹر تجربے تو مریضوں کے ساتھ ضرور کرتے ہیں ۔۔۔ اور میری بد قسمتی یہ ہے کہ اب تک پانچ مریضوں کے ساتھ میں نے مختلف تجربے کیے ہیں اور سب کے سب اللہ کے فضل سےاوپر پہنچ چکے ہیں ۔۔۔۔ تم چھٹی ہو ۔۔۔۔۔ اور میری پوری کوشش ہو گی کہ میرا یہ تجربہ بھی نا کام ہو جائے ۔۔۔ بہت خطرناک ڈاکٹر ہوں میں مریض اگر بچ جائے تو گلا گھونٹ کر اسے مار دیتا ہوں اور جو میری بات سے اختلاف کرے اسکی میں زبان ہی کاٹ دیتا ہوں اور مزے کی بات کہ مجھ پر آج تک کیس بھی نہیں ہوا کیوں کہ پولیس والا میرا چچا لگتا ہے ۔۔۔” فارس کی بات لائبہ نے اڑی ہوئی رنگت سے سنی تھی البتہ نرس ضرور ہسنے لگی تھی

” ڈاکٹر فارس کیوں ڈرارہے ہیں مریضہ کو ۔۔۔ بیچاری پہلے ہی شاید کسی ڈاکٹر کی ستائی ہوئی لگ رہی ہے ۔۔۔ دیکھیں مس لائبہ ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔ یہاں کا اسٹاف اور ڈاکٹر کوئی تجربہ نہیں کرتے ۔۔۔ آپ یہ انجیکشن لگوا لیں شام تک آپ کو خود اپنے آپ میں بہتری محسوس ہو گی ۔۔۔۔ ” نرس نے بڑے پیار سے لائبہ کو سمجھایا پھر اس کی نس ہر انجیکشن لگا کر دوبارہ سے اکسجن ماسک لگا کر چلی گئ ڈاکٹر فارس بھی جا چکا تھا مزمل صاحب کچھ دیر بعد ہی کمرے میں آ کر لائبہ کے پاس بیٹھ گئے ۔۔۔۔

” ذیادہ پریشانی کی بات نہیں ہے ۔۔۔ ہو سکتا ہے شام تک ہی چھٹی ہو جائے ۔۔۔ میری بات ہوئی ہے ڈاکٹر سے ” مزمل صاحب کی بات پر لائبہ کچھ نہیں بولی ۔۔۔۔ شام تک واقع اسکی طعبت کافی بہتر ہو گئ تھی ۔۔۔۔۔ چھٹی سے پہلے حمنہ ہی اسے چیک کرنے آئی تھی ۔۔۔ بخار کافی کم ہو چکا تھا اس نے میڈسن لکھ کر ڈسکرپشن پیپر مزمل صاحب کو پکڑا دیا ۔۔۔

“یہ دس دن کا کورس ہے یہ لازمی کروائیے گا ویسے فیور انکا تین چار دن تک اتر جائے گا لیکن کورس پورا کروائیے گا ۔۔۔۔ “

لائبہ واپس گھر آگئ ۔۔۔۔ کچھ دنوں کافی بہتر بھی ہو گئ تھی ۔۔۔۔۔

******……..,

دس دن لائبہ اسی ہاسپٹل میں جاب کے لئے اپلائی کرنے آئی تھی ۔۔۔۔

انٹر ویو کے بعد سلیکٹ بھی ہو گئ تھی ۔۔۔۔

لائبہ کی والدہ کو اب اس کی شادی کی فکر ستانے لگی تھی ۔۔۔۔

اس لئے ایک میرج بیورو سے رابطہ کرنے کے بعد پہلے آمنہ بیگم اور مزمل صاحب خود لڑکا دیکھ آئے تھے اور لڑکا انہیں پسند بھی آگیا تھا ۔۔۔۔لڑکے والے والوں کی آمد پر انہوں نے خوب احتمام کیا تھا ۔۔۔۔ لائبہ کو بھی خاص تاکید کی گئ تھی ۔۔۔ ہر کام سلیقے سے کرے اور ذیادہ باتیں نا کرے ۔۔۔

خوش وہ بھی بہت تھی لڑکا ڈاکٹری کے آخری سال میں تھا ۔۔۔۔ پھر مری میں ہی رہائش تھی ۔۔۔۔ اس لئے خوب دل سے تیار ہوئی تھی ۔۔۔ لڑکے والوں کے سامنے خوب شرمائی شرمائی بیٹھی رہی آمنہ بیگم بھی بیٹی کی فرمابرداری پر خوش تھیں ۔۔۔۔

لڑکے کی ماں کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر لگ رہا تھا کہ انہیں بھی لائبہ پسند آ چکی ہے ۔۔۔دیکھنے صرف ۔ لڑکے کی ماں ہیںائی تھی

” مجھے آپ کی بیٹی بہت پسند آئی ہے ۔۔۔ منگنی کی رسم تو ہم جلد ہی کر لیں گئے لیکن شادی بیٹے کا آخری سال پورا ہونے کے بعد ہی کریں گئے ” لڑکے کی ماں نے جواب دیا ۔۔۔۔

پھر لڑکے کی ماں نے پانچ ہزار کا نوٹ بھی لائبہ کے ہاتھ پر رکھ دیا اپنی طرف سے بات پکی کر دی لائبہ کے سر پر پیار بھی دیا ۔۔۔

“بیٹا پورا دن کیا کیا مصروفیت ہوتی ہے ؟” لڑکے کی ماں نے پوچھا

” جی بس صبح ہاسپٹل میں جاتی ہوں شام تک کی ڈیوٹی ہوتی ہے اس کے بعد گھر آ کر گھر کے کام کاج ” لائبہ نے دھیرے سے جواب دیا ۔۔۔

” ہاسپٹل میں ڈیوٹی ” وہ کچھ متحیر ہوئیں تھیں لائبہ کی نرسنگ سے نا واقف تھیں

” جی میں نرسنگ کرتی ہوں ” لائبہ نے دل فریب مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا

لیکن اس خاتون کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے مسکراہٹ کی جگہ ناگواری نے لے لی ۔۔۔

” تم نرس ہو ؟ اس بار انکا لہجہ بھی سخت تھا

“جی ہاں ” لائبہ نے جواب دیا انکے ماتھے پر بل پڑنے لگے لائبہ کے ہاتھ سے پانچ ہزار بھی چھین لئے اور کھڑی ہو گئیں

” آپ لوگوں نے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ آپ کی بیٹی نرس ہے ” وہ تو ہتھے سے ہی اکھڑ گئیں آمنہ بیگم اور مزمل صاحب بھی انکے یک دم بدل جانے والے رویے پر حیران تھے

” بہن اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔ یہ تو انسانیت کی خدمت ہی کر رہی ہے ” آمنہ بیگم نے کہا

” رہنے دو بی بی ارے نرس کو کون عزت کی نظر سے دیکھتا ہے ۔۔۔۔ میں اپنے ڈاکٹر بیٹے کی شادی ایک نرس سے کر کے خاندان والوں کو کیا منہ دیکھاوں گی آپ کو اپنی بیٹی کے لئے کسی واڈ بوائے کا رشتہ ڈھونڈنا چاہیے تھا ” اس خاتون کی بات سن کر لائبہ کھڑی ہو گئ

” کیوں نرس کوئی گالی ہے یا کوئی گرا پڑا پیشہ ہے ۔۔۔۔ “

“تم تو چپ ہی رہو لڑکی میرا منہ مت کھلواں ” وہ عورت غصے سے بپھر سی گئ تھی

” نہیں آپ کھولیں اپنا منہ بتائیں مجھے کیا برائی ہوتی ہے نرس میں۔۔۔۔ ” لائبہ کہاں چپ رہنے والی تھی

“ارے جانے دو دنیا جانتی ہے نرسنگ کے پیشے کو لوگ کس نظر سے دیکھتے ہیں ۔۔۔’۔

“پھر تو قصور لوگوں کی نظروں کا ہوا نرس کا کیا قصور ہے ۔۔۔۔۔ پھر ڈاکٹروں کو سرخاب کے پر لگے ہوتے ہیں ۔۔۔ جو کسی نرس سے شادی کرنا انکی توہین ہو جاتی ہے آپ کیا انکار کریں ۔۔۔ مجھے آپکے ان کمپلیٹ ڈاکٹر بیٹے سے خود ہی شادی نہیں کرنی ۔۔۔ نکلیں یہاں سے ۔۔۔۔ ” لائبہ نے بنا لحاظ کے انہیں باتیں تو ٹھیک ہی سنائیں تھیں لیکن ہمارے معاشرے میں ایسی لڑکیوں کو بدتمیز گردان دیا جاتا ہے

لڑکے والے چاہے لڑکی کو دیکھ کر ناک منہ چڑھائیں یا لڑکی کو سو باتیں کر دیں بس اس لڑکی کو چپ رہ کر ہی سہنا پڑتا ہے ۔۔۔ اور مسکرا کر جواب بھی دینا پڑتا ہے ۔۔۔ اپنا ضبط آزمائے وہ ایسے لوگوں کو بھی فیس کرتی ہے جو اسے دیکھ کر آڑے ٹہرے منہ بناتے ہیں

اور اگر وہ لائبہ جیسی ہو تو بدتمیز مشہور ہو جاتی ہے چاہے ان لڑکیوں کی بات حق ہی کیوں نا ہو

وہ عورت اپنا پرس اٹھائے تن فن کرتی ہوئی چلی گئیں اس بار آمنہ بیگم نے لائبہ کو کچھ نہیں کہا مزمل صاحب بھی چپ سے ہو گئے تھے

*******……….

رات کے دس بجے حمنہ دونوں بچوں کو سلا رہی تھی جب فارس کی کال آنے لگی دونوں ہی سو چکے تھے حمنہ نے فون اٹھایا

” اس وقت کیوں کال کی ہے ۔۔۔ بچے ابھی ابھی سوئے ہیں اٹھ جائیں گئے ” حمنہ نے دھیرے سے کہا

” بس یونہی ۔۔۔ مجھے لگا جاگ رہے ہوں گئے ایمان سے تھوڑی گپ شپ لگا لوں گا دن تو ساراہاسپٹل کی نظر ہی ہو جاتا ہے “

” وہ سورہا ہے ۔۔۔۔ “

” او کے تم سے۔ بھی بات کرنی تھی ۔۔۔ ایک دو کیس کے بارے میں ڈسکشن کرنی تھی ” فارس حمنہ سے پیشنٹ کے بارے میں ڈسکس کرنے لگا ۔۔۔

*******..

دس بجے مین گیٹ کی بل بجی تھی ڈاکٹر بیگ سونے ہی جا رہے تھے۔۔۔ اور اسوقت ان کے گھر کوئی اتا بھی نہیں تھا ۔۔۔ انہوں نے دروازہ کھولا تو سامنے اصفر کھڑا تھا ۔۔۔۔ اسے یوں اچانک اپنے گھر کے سامنے دیکھ کر وہ حیران اور پریشان ہوئے تھے

” اصفر تم اس وقت “

” جی میں اسوقت ابھی صرف دس ہی تو بجے ہیں ۔۔۔ آج ہی واپس آیا تھاسوچااپ سے مل لوں ” وہ گھڑی دیکھتے ہوئے بولا

” او اچھا کل ہاسپٹل میں آ جاتے ” وہ بات کو ٹالتے ہوئے بولے اصفر کو اندر بلانا نہیں چاہتے تھے اور وجہ حمنہ کی موجودگی تھی ۔۔۔۔

” کیا آپ کے گھر آ کر میں نے غلطی کی ہے ؟ اصفر نے حیرت سے پوچھا

” ن۔۔نن۔۔نہیں نہیں یار آؤں لان میں بیٹھتے ہیں ” پہلے تو ڈاکٹر بیگ جھجک گئے اس بعد اسے گھر سے باہر بنے لان میں جانے کا کہنے لگے

” باہر تو بہت ٹھنڈ ہے بیگ صاحب اندر بیٹھ جاتے ہیں ” وہ بھی اندر جانے پر با ضد تھا مجبورا ڈاکٹر بیگ کو پیچھے ہٹنا پڑا اصفر اندر داخل ہو گیا لاونج بلکل خالی تھا

“آؤں بیٹھوں “ڈاکٹر بیگ گھبرا سے گئے تھے ۔۔۔ اصفر کو بیٹھنے کا کہنے لگے

” ضرور بیٹھوں گا لیکن پہلے حمنہ کو بلائیں ” اصفر کے منہ سے حمنہ کا نام سن کر وہ متذبذب سے ہوئے تھے

” حمنہ ۔۔۔ وہ یہاں کہاں ہے ” ڈاکٹر بیگ بد حواس سے ہوئے تھے

” ڈاکٹر بیگ مجھے پتہ ہے کہ وہ یہاں ہے ۔۔۔۔ آپ بلائیں اسے ۔۔۔ ” وہ بے حد سنجیدگی سے بولا رہا تھا

” دیکھوں اس وقت تم جاؤں یہاں سے ۔۔۔۔ میں ابھی تمہیں اس سے نہیں ملوا سکتا ہے ” ۔”

“میری بیوی ہے وہ اس سے ۔ملنے سے مجھے روک کون سکتا ہے ۔۔۔۔ حمنہ ۔۔۔۔۔ حمنہ باہر آؤں ” وہ حمنہ کو زور سے پکارنے لگا

اندر فارس سے بات کرتے ہوئے حمنہ کا ہاتھ کپکپایا تھا فون چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا تھا

” حمنہ یہ کون پکار رہا ہے تمہیں ” اصفر کی آواز فارس نے بھی سنی تھی حمنہ تو جیسے سانس لینا بھول گئ تھی

” اص۔۔۔۔۔فر ” فون اس نے بند کے بیڈ پر پھنک دیا

“حمنہ مجھے معلوم ہے کہ تم یہاں ہو اس لئے خود باہر۔ آ جاؤں ورنہ میں اندر آ جاؤں گا ” وہی سخت لہجہ وہی استحقاق جتاتا انداز ۔۔۔۔ حمنہ کو لگا شاید سانس ہی گھٹ جائے گا ۔۔۔