Noor-e-Emaan by Umme Hani NovelR50415 Noor-e-Emaan Episode 11
Rate this Novel
Noor-e-Emaan Episode 11
Noor-e-Emaan by Umme Hani
تین چار دن سے اسکی والدہ کی طعبت نا ساز تھی ۔۔۔ اس لئے حمنہ کلینک سے سیدھا انکے پاس آگئ وہ بخار سے بیڈ پر لیٹی تھیں ۔۔۔۔ حمنہ پریشان سی ہوگئ تھی ۔۔۔ ان کے لئے کھانا بنایا اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا دوا بھی کھلائی ۔۔۔۔ پھر اصفر کو فون کیا کہ وہ چند دن اپنی والدہ کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہے وجہ ایسی تھی کہ وہ منع نہیں کر سکتا تھا لیکن پانچ سالوں میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ وہ رات اپنی والدہ کا پاس رکی تھی ورنہ دن میں رہ لیتی تھی لیکن رات کو اصفر لینے پہنچ جاتا تھا۔۔۔۔
رات ہزار کوشش کے باوجود اصفر کو نیند نہیں آ رہی تھی اپنا کمرہ اپنا نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔ لگ رہا تھا بہت قیمتی چیز ہے جو اسے نظر نہیں آ رہی لیکن اسکی کمی محسوس ہو رہی ہے ۔۔۔ جب نیند نے آنکھوں میں آنے سے انکار کیا تو اپنی کتاب لیکر بیٹھ گیا ۔۔۔ بے دھیانی میں ہاتھ سائیڈ ٹیبل پر گیا ہاتھ سے ٹٹولتے ہوئے جب نظر سائڈ ٹیبل پر پڑی تو یاد آیا کہ آج دودھ کا گلاس کس نے رکھنا تھا وہ تو گھر پر ہے ہی نہیں ۔۔۔۔ رات کے دو بج رہے تھے جب اس نے حمنہ کے نمبر پر فون کیا تھا ۔۔۔ کافی بیل ہونے پر بھی فون نہیں اٹھایا گیا تھا رات کو وہ اکثر فون سائیلنٹ پر لگا لیتی تھی یہ عادت اصفر کو بھی معلوم تھی اس لئے فون سائیڈ پر رکھ دیا رات کو میڈسن کی بک پڑھتے پڑھتے نا جانے کب نیند اس پر مہربان ہوئی تھی ۔۔۔ صبح آٹھ بجے بھی اٹھنے کا موڈ نہیں تھا کریمن بوا کے دروازے پر دستک دی لیکن اس نے اٹھنے سے منع کر دیا ۔۔۔۔
صبح دس بجے وہ ناشتے کے لئے ڈائنگ پہنچا تھا ۔۔۔ روز اس کا ناشتہ حمنہ ہی بناتی تھی اس لئے کک کے ہاتھ کے بنے ہوئے ناشتے میں اسے سو نقص نظر آ رہے تھے ۔۔۔
رات کو کھانا بھی ٹھیک سے نہیں۔ کھایا ۔۔۔۔ کمرے میں آتے ہی حمنہ کو کال کی تھی ۔۔۔ اسکی والدہ کی طعبت دریافت کی
” اصفر ابھی وہ ٹھیک نہیں ہیں ۔۔۔ بخار تو اتر گیا ہے بس ویکنس بہت ہے”
” او کے ٹھیک ہے تم خیال رکھوں انکا ۔۔۔ میں نے تو بس خیریت پوچھنے کے لئے فون کیا تھا “
“او کے ٹیک کیر اللہ حافظ “حمنہ نے فون بند کرنا چاہا
” سنو “
“جی “
“صبح کک کو یہ بتا دینا کے تم فرائی ایگ کیسے بناتی ہو اسے بلکل بنانا نہیں آتا آدھا سے زیادہ کچا تھا چائے بھی بہت اسٹرونگ تھی ۔۔۔میں نے ناشتہ ٹھیک سے نہیں کیا ہے ۔۔۔ اور ہاں ڈنر میں پلاؤ میں بھی مرچ بہت کم تھی اس لئے میں نے ڈنر بھی ٹھیک سے نہیں کیا اور دو دن سے دودھ کا گلاس بھی کسی نے نہیں دیا ” یہ وہ بات تھی جس سے وہ اسے یہ احساس دلانا چاہتا تھا کہ اسکے بنا اس کا سب کچھ ادھورا ہے ۔۔۔ حمنہ مسکرائی تھی
” صاف صاف کیوں نہیں کہتے کہ مجھے مس کر رہے ہیں “۔
” صاف صاف کہہ دوں تو واپس آ جاؤں گی ” اصفر نے جیسے بے چینی سے پوچھا تھا
” نہیں امی کو چھوڑ کر نہیں آ سکتی ۔۔۔۔ اور پھر شادی کے بعد پہلی بار تو رک رہی ہوں “
” ہاں تو میں نے کب منع کیا ہے ۔۔۔میں تو یونہی بتا رہا تھا تمہیں ۔۔۔ خیر ہے تم امی کا خیال رکھو ۔۔۔ میرا کیا ہے دو تین دن اور بھوکا رہ لوں گا ۔۔۔”یہ کہہ کر فون بند کر دیا ۔۔۔۔
” کیسی بیوی ہے یہ ۔۔۔میری ذرا پروا نہیں ہے ۔۔۔۔ ” فون کی بیل بجنے لگی تھی ۔۔۔۔ حمنہ کا نمبر موبائل پر جگمگاتا دیکھ کر وہ مسکرانے لگا تھا
” فکر تو میری بہت ہے جبھی فون کر رہی ہے ۔۔۔ لیکن میں۔ بھی نہیں اٹھاؤں گا ۔۔۔ ” کچھ دیر بعد فون بند ہو گیا لیکن دروازے پر دستک ہونے لگی باہر کریمن بوا تھی
“یس کم ان “اصفر کے کہنے پر دروازہ کھلا کریمن بوا دودھ کا گلاس لئے کھڑی تھیں
” چھوٹے صاحب یہ آپ کے لئے ۔۔۔ چھوٹی بہو نے خاص فون کر کے مجھ سے کہا تھا آپ کو دے دوں ” اصفر نے آگے بڑھ کر گلاس ان سے لے لیا
” صبح ناشتہ میں خود آپ کو بنا دوں گی چھوٹی بہو نے بتا دیا ہے مجھے کے کیسے بنانا ہے “
“او کے آل رائٹ ۔۔۔۔ ” اصفر نے دروزہ بند کیا ۔۔۔۔ دودھ پی کر لیٹ گیا ۔۔۔۔
دو دن مزید گزرے تو اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا ۔۔۔۔ اس لئے اسکے کلینک جا پہنچا تھا ۔۔۔
مریضوں کا تانتا سا بندھا ہوا تھا ایک بعد ایک مریض کو آمد ہو رہی تھی ۔۔۔
وہاں کا کمپوڈر اسے جانتا تھا لیکن پھر بھی اس نے فیس۔ باہر بھر کر ٹوکن بھی لیا تھا ۔۔۔۔
” سر آپ یہ سب کیوں لے رہے ہیں آپ تو خود ڈاکٹر ہیں “
“کیوں ڈاکٹر بیمار نہیں ہوتے یا وہ انسان نہیں ہوتے ” اصفر کی بات پر وہ مسکرانے لگا
” آپ اپنا علاج تو خود بھی کر سکتے ہیں “
“ہاں لیکن میری فیس۔ بہت زیادہ ۔۔۔۔ تمہاری میڈیم کی فیس کم ہے ۔۔۔ ” اصفر کی بات پر وہ کامپوڈر کھلکھلا کر ہسنے لگا تھا ۔۔۔
” یہ تو ہے ۔۔۔۔ ویٹنگ ایریا میں ویٹ بھی کریں گئے یا نمبر جلدی لگوا دوں پچاس روپے ذیادہ لوں گا ” اس نے بھی مزاق سے مسکراتے ہوئے کہا
“نہیں ویٹ کر لوں گا تم بس میرے بعد مزید ٹوکن دینا بند کروں ۔۔۔ تمہاری میڈیم کو ساتھ لے جانے آیا ہوں “اصفر کے کہنے پر اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔
تقریبا آدھے گھنٹے کے بعد اسکی باری آئی تھی اور کلینک اب خالی تھا اس کے۔ کیبن میں داخل ہوتے ہی وہ اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔
” اصفر آپ “وہ حیران ہوئی تھی
” جی ڈاکٹر صاحبہ میں ۔۔۔چیک آپ کروانے آیا ہوں ” حمنہ نے اسے غور سے دیکھا سمجھ گئ تھی مزاق کر رہا ہے اکثر مزاق یا محبت میں ہی وہ اسے ڈاکٹر صاحبہ کہتا اور آپ جناب سے بات کرتا تھا
” شکل سے ٹھیک ٹھاک لگ رہے ہیں ” حم ہ اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا
” شکل مت جائیے
ع
انکے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ ہے رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
حمنہ ہسنے لگی تھی
اصفر نے سامنے ٹیبل پر رکھے اسٹیتھو سکوپ کو اٹھا کر حمنہ کے کانوں پر لگایا اور اسکے آلے کو اپنے دل کے مقام پر ۔۔۔۔
” غور سے سنیں ڈاکٹر صاحبہ دھک دھک کی آواز بھی سنائی دے رہی ہے یا نہیں چار دن سے میں نے اپنی۔ بیوی کو دیکھا نہیں ہے دیکھیں دل دھڑک بھی رہا ہے کہ بند ہو گیا ہے ۔۔۔۔ ” اصفر کی ڈرامے بازی اس نے آنکھیں دیکھائی۔ تھیں
“بس بھی کر دیں اب اور جائیں یہاں سے ” حمنہ نے اسٹیتھو سکوپ اتار کر سائیڈ پر رکھا
“ارے ایسے کیسے چلا جاؤں پورے سو روپے کا ٹوکن خریدا ہے میں نے آدھا گھنٹہ اپنی باری کا انتظار بھی کیا ہے ۔۔۔۔۔ ” ٹوکن اس کے ٹیبل پر رکھ کر جتاتے ہوئے بولا
” یہ سب کرنے کی ضرورت کیا تھی ۔۔۔۔ “
” اب کیا بتاؤں آپ کو ڈاکٹر صاحبہ جب سے میری بیوی گئ ہے راتوں کی نیندیں اڑ گئیں ہے دن کا چین برباد ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔ چار دن میں دیوانوں والا حال ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔ لیکن بہت ظالم بیوی ہے میری شوہر کے حال پر ذرا ترس نہیں آتا اسے ” اصفر کی باتیں اور نظروں کی وارفتگی سے وہ ذرا سی نروس ہوئی تھی ۔۔۔
” کہیں بھی ۔۔۔۔ کہیں بھی شروع ہو جاتے ہیں کلینک میں بیٹھی ہوں میں باہر مریض انتظار کر رہے ہیں کیا سوچیں گئے ڈاکٹر صاحبہ شوہر سے عشق فرما رہیں ہیں ” حمنہ نے ذرا سا گھور کر کہا
” ایک عشق کرنے میں ہی تو کنجوسی دیکھاتیں ہیں آپ ۔۔۔۔ اور آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ کوئی نہیں باہر سب کی چھٹی کروا کر آیا ہوں چلو اٹھو اب بہت بھوک لگ رہی ہے کریمن بوا کے کھانے کھا کھا کر بور ہو چکا ہوں ” اس ہاتھ پکڑے وہ اسے بھی کھڑا کر چکا تھا
” اصفر امی ابھی مکمل صحت یاب نہیں ہوئی ہیں”اصفر کے ساتھ چلتے ہوئے وہ بولی
“تم چلو تو مجھے امی سے بھی ملنا ہے ۔۔۔۔ “حمنہ کو کیبن سے باہر لا چکا تھا جہاں صرف کمپوڈر ہی کھڑا شاید انہیں کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔
” میڈیم جی میرے لئے کیا حکم ہے “
“تمہارے حکم ہے کلینک بند کر کے چھٹی مناؤں ” جواب اصفر نے دیا تھا
“تم کلینک بند کر دو ۔۔۔ اور میرے لوکر سے پیسے نکال کر جو میڈسن ختم ہیں وہ کل لیتے ہوئے آنا “حمنہ نے کھڑے کھڑے اسے انسٹرکشن دیں پھر دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے ۔۔۔۔اصفر نے گاڑی اسکی والدہ کے گھر کے سامنے کھڑی کی تھی۔۔۔۔
اندر جاتے ہی اس کی والدہ کے پاس جا کر بیٹھ گیا تھا پہلے سے تو کافی ویک لگ رہیں تھیں وہ ۔۔۔۔ آتے ہوئے وہ پھل اور جوس کے پیک لیتے ہوئے آیا تھا ۔۔۔
“ارے بیٹا ان سب کی کیا ضرورت تھی سب کچھ گھر میں موجود ہے “حمنہ کی والدہ نے پیار سے داماد کو دیکھا تھا
” بیٹے سے یوں نہیں کہتے ۔۔۔ بلکہ حق سے مانگتے ہیں ۔۔۔ جاؤں حمنہ جلدی سے سیب کاٹ کر لاؤں امی کو میں اپنے ہاتھ سے کھلاؤ۔ گا ۔۔۔۔
حمنہ یہی بہت خوش تھی کہ اصفر کا رویہ اسکی والدہ کے ساتھ ہمیشہ مثبت ہی رہا تھا ۔۔۔۔
اپنے ہاتھ سے وہ اسکی والدہ کو سیب کھلا رہا تھا تھا ساتھ ساتھ انہیں دوائیں وقت پر لینے کی تلقین بھی کر رہا تھا ۔۔۔۔
“آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں ورنہ میں ضرور بیمار پڑ جاؤں گا ۔۔۔۔ ” سیب انکے منہ ڈالتے ہوئے بولا
“اللہ نا کرے بیٹا یوں کیوں کہہ رہے ہو ۔۔۔ “
” آپ کی بیٹی نے مجھے نکما بنا کر رکھ دیا ہے ۔۔۔ اتنی عادت پڑ گی اسکے ہاتھ کے کھانوں کی کہ چار دن سے ڈھنگ سے کھانا نہیں کھایا میں نے ۔۔۔ کوئی چیز جگہ پر نہیں مل رہی ۔۔۔۔۔ والٹ ڈھونڈو تو چشمہ نہیں ملتا چشمہ ڈھونڈو تو گھڑی غائب ہوتی ہے ۔۔۔ ” اصفر کی باتوں پر وہ ہمیشہ ہنس دیتی تھیں
‘ یہ تو فرض ہے اس کا “
” ہاں اپنے فرض کے چکر مجھے تو کہیں کا نہیں چھوڑا اس نے
ع
عشق نے غالب نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
شعر وہ اسکی والدہ کو سنا رہا تھا چور آنکھوں سے دیکھ اسے رہا تھا جو دستخواہ پر کھانا لگاتے ہوئے اسے گھور رہی تھی
” میں تو کہہ رہی تھی حمنہ سے کہ میں اب ٹھیک ہوں کھانے تم نے بنا کر فریز کر دیے ہیں برابر میں جمیلہ بھی مجھے بار بار پوچھنے آ جاتی ہے سب پڑوسی بہت بھلے اور خیال رکھنے والے ہیں تم اپنے گھر میں جاؤں لیکن اسے بس میری فکر ستاتی رہتی ہے “
” تو آپ بھی اپنا خیال رکھا کریں ۔۔۔۔ “
” رکھتی تو ہوں بیٹا اب کمزوری آہستہ آہستہ ہی جائے گی ۔۔۔۔ “
کھانے کے فوری بعد اصفر نے کچن میں برتن دھوتی ہوئی حمنہ سے کہا
” آدھے گھنٹے تک ریڈی ہو جاؤں تم میرے ساتھ جاؤں گی ۔۔۔ ” اصفر کی بات سن کر برتن دھوتے ہوئے حمنہ کے ہاتھ رکے تھے
” اصفر بس دو دن اور رہنے دیں امی ٹھیک ہو جائیں تو “
” پلیز اتنا امتحان مت لیا کروں میرا ۔۔۔ کل دن میں آ جانا ۔۔۔۔ کم ان جلدی سے اپنے کام ختم کرو ” اصفر یہ کہہ کر باہر نکل گیا تھا ۔۔۔۔ حمنہ بھی جانتی تھی کہ اب اسکی سنے گا نہیں
اس لئے تیار ہو گئ برابر والی پڑوسن سے رات وہی۔ رکنے کا کہہ کر چلی گئ ۔۔۔۔۔
پہلے اصفر نے گاڑی ایک آئسکریم پارلر کے سامنے کھڑی کی ۔۔۔ آئسکریم کھانے کے بعد ہی وہ گھر پہنچے تھے رات کے بارہ بج چکے تھے ۔۔۔۔ سب ہی صبح سے اپنی ڈیوٹیز کے لئے نکلتے تھے اس لئے دس بجے ہی سونے چلے جاتے تھے ۔۔۔۔ اصفر نے لاونج کا دروازہ چابی سے کھولا تھا ۔۔۔۔ کیونکہ سب سو رہے ہوتے تھے اور حسن کمال دس بجے کے بعد باہر دیر تک گھومنے پھرنے کے خلاف تھے ۔۔۔۔ اس لئے حمنہ کو بھی خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے اس نے لاونج کادروازہ دھیرے سے کھولا تھا لانج میں اندھیرا تھا صرف ایک ڈم لائٹ چل رہی تھی ۔۔۔۔۔جس کی دھندلی سی روشنی سے لانج ملجگا سا لگ رہا تھا ۔۔۔
دونوں محتاط طریقے سے قدم اٹھاتے ہوئے سیڑیوں کی جانب بڑھ رہے تھے ۔۔۔ جب لاونج کی لائٹ آن ہوئی تھی اندھیرا پل میں چھٹا تھا ۔۔۔ دونوں کی جان نکلی تھی خوف سے آنکھیں پھیلیں تھیں
” اصفر ” حسن کمال کی آواز سے اصفر کو یقین ہو گیا تھا اب شامت پکی ہے حمنہ کو تو وہ کچھ نہیں کہتے تھے شامت اصفر کی ہی آتی تھی ۔۔۔۔ وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوا تھا ۔۔۔۔ دونوں ہی بیک وقت پلٹے تھے نائٹ سوٹ میں ملبوس گرم شال اوڑھے وہ ان دونوں کو غصیلی نظر سے ہی دیکھ رہے تھے
” ڈیڈ وہ ۔۔۔۔حمنہ کی امی ” اصفر نے صافی دینی روڈ کی
” ڈونٹ اینی ایکسکیوز ۔۔۔۔ میں اسڈی میں ہوں ابھی آؤں وہاں “
” ج۔۔۔ جی ڈیڈ میں بس پانچ منٹ میں آیا ” اصفر کی بات پر انہوں سے خشمگیں نظروں سے دیکھا تھا
” اصفر ابھی کا مطلب ہے ابھی اسی وقت ” حسن کمال کے حتمی لہجے پر اس نے حمنہ کو اوپر جانے کا اشارہ کیا اور خود اپنے والد کے پیچھے چلنے لگا ۔۔۔۔
اسڈی روم میں جا کر باادب کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔۔
چند دن سے جو آگ حسن کمال کے اندر دھک رہی تھی وہ کب تک خود کو اس میں جلاسکتے تھے ۔۔۔۔
” تمہاری بیوی کیا کرتی پھر رہی ہے کچھ ہوش ہے تمہیں ” سخت لہجے میں وہ بولے تھے اصفر کو لگا
شاید حمنہ اپنی والدہ کے پاس چند دن رک گئ تھی شاید یہ بات ان پر نا گوار گزری ہے ۔۔۔۔
” ڈیڈ اسکی والدہ بیمار تھی اس لئے اسے وہاں رہنا پڑا ورنہ آپ جانتے ہیں پچھلے چار پانچ سالوں میں وہ کبھی وہاں رکی نہیں ہے ” اصفر نے جیسے بات کی وضاحت کی تھی
“She will go to hell on my behalf….I don’t care “
وہ دھاڑتے ہوئے بولے تھے اصفر چپ سا ہو گیا تھا
اب تو حمنہ انہیں کچھ بھی نہیں کہتی تھی ۔۔۔۔ جب جب حسن کمال نے دعا کے ہاتھوں بگڑے ہوئے کیس کے لئے اصفر سے کہا کہ حمنہ سے کہے کہ آکر سنبھالے وہ بنا کچھ کہے پہنچتی تھی ۔۔۔۔۔ حسن کمال براہ راست حمنہ سے بات نہیں کرتے تھے ۔۔۔ لیکن اصفر کی کسی بات کو حمنہ نے ٹالا نہیں تھا ۔۔۔۔ لیکن حسن کمال کا انداز ہمیشہ حمنہ کے لئے حقارت سے بھرا ہی نظر آتا تھا ۔۔۔۔ نا جانے کیوں لیکن اس بار اصفر کو وہ بے قصور ہی لگ رہی تھی ۔۔۔ اور اسکے لئے اپنے باپ کا یہ انداز بلکل غیر مناسب لگ رہا تھا
“ڈیڈ اب کیا کیا ہے اس نے “وہ بلکل سنجیدہ ہوا تھا
” اب کیا کیا ہے؟ ۔۔۔۔ کیا نہیں کرتی پھر رہی وہ ۔۔۔ میرے ٹکڑوں پر پل رہی ہے میرے ہی پیسوں سے وہ سرجن بنی ہے اور نام اپنااور اپنے مرے ہوئے باپ کاروشن کرنا چاہتی ہے ۔۔۔۔ ڈاکٹرغفور کی پارٹی میں ۔۔۔۔ جانتے ہو میرے دوست اسے میری بہو کے حوالے سے کم اور حمنہ کی قابلیت کے حوالے سے زیادہ جانتے تھے ۔۔۔ کیونکہ تمہاری بیوی نے یہ ضروری ہی نہیں سمجھا کہ وہ خود کو ۔میرے حوالے سے متعارف کروائے ۔۔۔۔ جانتے ہو کتنی ایمبرسمنٹ ہوئی مجھے سب کے سامنے ” وہ غصے سے بھبک کر بولے
“ڈیڈ پلیز اب آپ زیادتی کر رہے ہیں اس کے ساتھ ۔۔۔۔ وہ جہاں بھی جاتی ہے میرے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے ۔۔۔۔ اس نے شادی بعد اپنے نام کے ساتھ ہر جگہ ہمیشہ میرا نام لگایا ہے اپنے باپ کا نہیں ۔۔۔۔ اور اسکی پہنچان اسکی محنت لگن اور قابلیت ہے ۔۔۔۔ وہ آپ کا نام لے بھی لیتی تب بھی اسکی پہچان اپنی جگہ قائم ہی رہتی باقی رہ گئ اسکی ہمارے ٹکڑوں پر پلنے کی بات تو وہ میری بیوی ہے ڈیڈ ۔۔۔۔ اسکے کھانے پینے اور ضرورت کی ہر اشیا پوری کرنا میری ذمے ہے گھر میں جو بھی خرچہ ہوتا ہے میرے خیال سے میں تیسراحصہ دیتا ہوں ۔۔۔ اگر اسکے باوجود وہ آپکے ٹکڑوں پر پل رہی ہے تو پھر دعا بھابی بھی پل رہیں ہیں ۔۔۔۔
اگر بات اسکی فیس کی ہے تو آج تک جتنے آپریشن وہ ہاسپٹل میں کر چکی ہے کبھی بھی ایک روپیہ نہیں مانگا آپ سے حالانکہ دعا بھابھی ایک معقول رقم لیتی ہیں ۔۔۔۔۔ سمجھ لیں کہ فیس اسکی آپریشن سے بھری جا چکی “جب اصفر کی بات سے وہ لا جواب ہونے لگے تو اور اپنی بڑائی یاد آ گئ
” اب تم مجھ سے اسکی وکالت کروں گئے “
” میں یہ کبھی نہیں جتانا چاہتا تھا ڈیڈ لیکن پتہ نہیں کیوں مجھے فیل ہوتا ہے کہ حمنہ کو آپ بہت ڈی گریٹ سمجھتے ہیں ۔۔۔ اسکی ذرا سی کوتاہی آپ کو بہت بڑی لگتی ہے اور دعا بھابی کی بڑی بڑی غلطیاں بھی آپ نظر انداز کر دیتے ہیں ۔۔۔۔ چاہے انکی وجہ سے کسی پیشنٹ کی جان ہی کیوں نا چلی جائے ” جو آئینہ اصفر انہیں دیکھا رہا حسن کمال کو لگا کہ اصفر حمنہ کی زبان بول رہا ہے
انکا فرمابردار بیٹا جو اب تک انکے ہر عیب پر پردہ ڈالے بس انکی ہر بات پر صرف جی ڈیڈ جی ڈیڈ کہتا چلا آ رہا تھا پہلی بار حسن کمال کے سامنے بول رہا تھا ۔۔۔۔
” نکل جاؤں یہاں سے ‘ وہ غرا کر بولے تھے اصفر بھی خاصا سنجیدہ تھا اور غصے میں بھی اس لئے واپس چلا گیا ۔۔۔۔
حسن کمال کو لگا حمنہ سے سب سے بڑی شکست انہوں نے آج کھائی ہے ۔۔۔۔۔ پہلی بار جب اصفر نے انہیں حمنہ کے متعلق بتایا تھا اور جس طرح اس لڑکی کے لئے آنکی منتیں کیں تھیں یوسف سے بھی سفارش کروائی تھی وہ سمجھ گئے تھے کے بیٹا اسکی محبت میں مبتلہ ہو چکا ہے انہیں لگا کہ اگر وہ اسکی شادی اس سے کروا دیں گئے تو اصفر انکی ویسے ہی بات مانتا رہے گا بلکہ انکے آگے مزید جھک جائے گا کہ باپ نے بیٹے کی خاطر ایسی جگہ جانے سے گریز نہیں کیا جہاں وہ خواب میں ۔ بھی جانے کا نہیں سوچ سکتے تھے ۔۔۔ اور ہوا بھی یہی تھا ۔۔۔۔۔ انہیں لگاشادی کے چند سالوں بعد اسکی محبت بیوی سے کم ہو جائے گی اور وہ ان کے کہنے پر ہمیشہ حمنہ پر اپنی چلائے گا لیکن اب تو لگ رہا تھا کہ بیٹے کو بھی کھو بیٹھیں گئے اسکی حمنہ سے محبت میں کمی آنے کے بجائے بڑھتی جارہی تھی ۔۔۔۔ اتنی بڑھ چکی تھی کہ پہلی بار وہ حسن کمال کے سامنے حمنہ کی حمایت میں بول رہا تھا
غصے کا یہ عالم تھا کہ اس لڑکی کو گھر سے دھکے مار نکالنے کو جی چاہ رہا تھا ۔۔۔۔۔ لیکن پہلی بار بے بس ہوئے تھے اصفر انکا دائیاں بازو ہی نہیں وہ ریڑھ کی ہڈی تھا جس پر حسن کمال گردن اکڑائے کھڑے تھے ۔۔۔۔
اس لئے اصفر کو اپنے ہاتھ سے کھو نہیں سکتے تھے انکے ہاسپٹل کو چلانے میں اس نے دن رات ایک کر دیے تھے۔۔۔۔ آج جس مقام پر ان کا ہاسپٹل تھا بہت زیادہ ہاتھ اس میں اصفر کا تھا ۔۔۔۔ پہلی بار پوری رات حسن کمال کی آنکھوں میں گزری تھی سگار پی کر رات بھر دل جلاتے ہوئے ۔۔۔
******…….
اصفر جب کمرے میں آیا ۔۔۔۔ حمنہ بیڈ پر ہی پریشان بیٹھی تھی ۔۔ اصفر کو دیکھ فورا سے اٹھ کر اسکے پاس آ گئ اسے اس قدر سنجیدہ دیکھ کر یہی سمجھی کہ دیر سے آنے پر ڈانٹ پڑی ہے
” بہت ڈانٹا ہے ڈیڈ نے ” بڑی لگاوٹ اور محبت سے اس نے پوچھا تھا
” ہمم ۔۔۔ ۔۔۔ “
” کوئی بات نہیں والد ہیں آپ کے ۔۔۔۔ اگر کہہ بھی تو غلط تو نہیں کہا ہم واقع کافی لیٹ ہو گئے تھے”
وہ حمنہ کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔ اس نے اس نے دن کے بعد حسن کمال کی شکایت کبھی نہیں کی تھی جب اسے اصفر نے کہا تھا تم جو چاہتی کر سکتی ہو ڈیڈ کو کوئی فرق نہیں پڑتا بس آج کے بعد ان سے کبھی بحث مت کرنا “
وہ دن اور آج کا دن حمنہ نے کبھی حسن کمال کے متعلق اسے کچھ نہیں کہا تھا بلکہ جب بھی اصفر کی کال آتی کے
“حمنہ ڈیڈ نے کہا کہ آپریشن تم کرو گی ” حمنہ اپنا کلینک چھوڑ کر بھی وقت پر وہاں موجود ہوتی تھی ۔۔۔۔ چاہے تھکن سے چور کیوں نا ہو لیکن کبھی یہ نہیں کہا تھا تمہاری بھابی کے ہاتھ کے بگڑے کیس میں کیوں سنبھالوں ۔۔۔۔ دعا ویسے توحمنہ سے سیدھے منہ بات تک نہیں کرتی تھی لیکن جب مطلب ہوتا تو اپنے رونے سنانے لگتی اور کام نکلتے ہی آنکھیں یوں بدلتی جیسے حمنہ کو جانتی بھی نا ہو لیکن حمنہ کو پروا نہیں تھی بس یہ سوچتی تھی کہ اللہ کا احسان ہے اس پر کہ ایک جان کو بچانے کے لئے اللہ نے اس کے ہاتھوں کو چنا ہے بسمہ اللہ پڑھ کر وہ صدق دل سے یہ دعا کرتی کہ اللہ اس مریض کو زندگی بخش دے ۔۔۔۔۔
اصفر کو وہ بلکل بے ضرر سی لگی تھی ۔۔۔۔ پھر کیوں اسے ہمیشہ عتاب کا نشانہ بنایا جائے ۔۔۔۔ اسوقت بھی
اپنی ماں کی بیماری کے باوجود اسکے ایک بار کہنے پر اسکے ساتھ آگئ تھی ۔۔۔۔
اس کے گلے میں دونوں بازو رکھے اور بڑی محبت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
” اتنی اچھی کیوں ہو تم ۔۔۔۔۔ دن با دن میں تمہاری محبت میں جیسے دیوانہ ہوتا جا رہا ہوں ۔۔۔۔ اگر یہی حال رہا تو کہیں کا نہیں رہو گا ” حمنہ کے لئے بڑی غیر متوقع بات تھی ۔۔۔ باپ سے ڈانٹ کھا کر ہمیشہ تو چپ چاپ سونے کی کرتا تھا حمنہ سے بات نہیں کرتا تھا اور اب محبت بھری باتیں
” خیر تو ہے نا ۔۔۔۔ ڈانٹ کا الٹا اثر ہو رہا ہے آپکو ” حمنہ نے مسکرا کر پوچھا
” ہمم آجکل سب کچھ الٹا سیدھا ہی ہو رہا ہے ۔۔۔۔ ” نظروں بس وارفتگی تھی حمنہ نے اسکے بازو اپنے کندھوں سے ہٹانا چاہتے تھے لیکن نا کام ہوئی تھی ۔۔۔۔
” آئی لو یو سو مچ ” اصفر کے اظہار پر وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔
” آج تو واقع آپکی طعبیت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی ۔۔۔۔ “
“مجھے لگتا ہے تمہاری قدر نہیں کر پایا ہوں جیسی کرنی چاہیے تھی ۔۔۔۔ “
” میں نے تو کبھی آپ سے شکایت نہیں کی “
” اسی لئے تو ۔۔۔ اور بھی پیار آتا ہے تم پر ۔۔۔۔ ” اپنے حصار میں لئے وہ صدق دل سے کہہ رہا تھا
******………
صبح بھی حسن کمال نائٹ سوٹ میں ملبوس ناشتے کے ٹیبل پر موجود تھے ۔۔۔۔
اور ایسا ہمیشہ اسوقت ہوتا تھا جب انکی طعبت ٹھیک نا ہو ۔۔۔ یا ہاسپٹل جانے کاارادہ نا ہو ۔۔۔
“ڈیڈ آر یو آل رائٹ۔ ” سیف نے کرسی سنبھالتے پوچھا تھا
” نہیں سیف تمہارے ڈیڈ کی طعبیت ٹھیک نہیں رات بھر اسڈی میں ہی رہے ہیں ۔۔۔۔ پروپر سوئے بھی نہیں۔ ہیں ” اصفر کی والدہ نے فکرمندی سے کہا
” اصفر نظریں چرا سا گیا تھا ۔۔۔۔ پہلی بار باپ سے اتنا کچھ کہہ تو گیا ۔۔۔۔ لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ رات بھر پریشان رہیں گئے ۔۔۔
” ڈیڈ آپ دو تین دن ریسٹ کریں ۔۔۔ بلکہ موم آپ اور ڈیڈ کچھ دنوں کےلئے لندن چلیں جائیں ڈیڈ بھی کچھ فریش ہو جائیں گئے ” اصفر اندر ہی اندر سبکی سی محسوس کر رہا تھا
” مشورے کا بہت شکریہ لیکن میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے ” چائے کا سپ لیتے ہوئے ہوئے وہ بولے حمنہ اپنے ناشتے کی طرف ہی متوجہ تھی ۔۔۔
” حمنہ” بہت عرصے بعد براہ راست حسن کمال نے حمنہ کو پکاراتھا
” جی ڈیڈ ” حمنہ نے برجستہ جواب دیا کچھ حیران تھی وہ کبھی اسے بلاتے تک نہیں تھے نا بات کرتے تھے کام اگر حمنہ سے بھی ہوتا تو پیغام اصفر ہی اسے دیتا تھا ۔۔۔ اور کچھ پریشان بھی تھی کے رات لیٹ آنے پر سب کے سامنے ڈانٹ ہی دیں ۔۔۔۔
” میرے خیال سے اب تمہیں مزید کورس کرنے کے بجائے اپنے ہاسپٹل میں پروپر ٹائم دینا چاہیے ۔۔۔۔
اس لئے آج سے اصفر کے ساتھ تم ہاسپٹل جاؤں گی ۔۔۔ اور تمہارا روٹین چارٹ میں خود تیار کروں گا ۔۔۔۔۔ ” چائے پینے کے دوران یہی بات انہوں نے حمنہ ہ سے کی تھی
” جی ڈیڈ جیسا آپ کو ٹھیک لگے ” حمنہ نے کوئی اختلاف نہیں کیا تھا ۔۔۔۔
” اصفر “
” جی ڈیڈ “
“ڈاکٹر مبشر جو جرنل فزیشن کے طور پر ڈیوٹی دے رہے ہیں انہیں نوکری سے جواب دیدوں آج کے بعد یہ ڈیوٹی حمنہ دے گی ۔۔۔۔ “
“مگر ڈیڈ یوں اچانک سے ڈاکٹر مبشر کو نکالنا ۔۔۔ وہ بھی بنا پیشگی اطلاع کے رول کے خلاف ہے پھر وہ بہت سینئر ڈاکٹر ہیں ۔۔۔ حمنہ اتنی تجربہ کار ابھی نہیں ہے انہیں بھی ابھی رہنے دیں ۔۔۔ حمنہ انہیں کے زیر نگرانی کچھ ماہ کام کر لے تو یہ ذیادہ بہتر ہے ” اصفر کو باپ کے اس فیصلے سے بھی اختلاف ہوا تھا
” یہ فیصلہ تم نے کب سے کرنا شروع کر دیا کہ کرنا چاہیے اور کیا نہیں ۔۔۔ تین ماہ کی تخواہ مبشر کو دے دی جائے گی ۔۔۔ لیکن شام کو جب میں آؤں مجھے وہاں
مبشر نظر نا آئے بلکہ حمنہ نظر آئے ” یہ کہہ وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے اس بات پر اصفر حمنہ کے علاؤہ سیف اور دعا۔ بھی حیران ہوئے تھے ۔۔۔
” یہ ڈیڈ کو ہوتا کیا جارہا ہے ۔۔۔۔ جب سے ہاسپٹل اوپن ہوا ہے ڈاکٹر مبشر تب سے ہمارے ساتھ ہیں کتنا۔ برا لگے گا یوں ایک منٹ میں انہیں نوکری سے جواب دینا ” اس بار سیف پریشانی سے بولا تھا
” ٹھیک کہہ رہے ہو سیف ۔۔۔۔ ڈیڈ کافیصلہ تو مجھے بھی ٹھیک نہیں لگ رہا ہے ۔۔۔۔ اصفر نے تائید کی تھی ۔۔۔
” چلو ناسیف لیٹ ہو رہے ہیں ” دعا نے اٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔ جسے شاید ان باتوں کی دری بھر پروا نہیں تھی
افسوس تو حمنہ کو بھی بہت ہوا تھا کسی کی روزی روٹی چھننے کاسبب بن رہی تھی لیکن منع نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔ اصفر نے حسن کمال کا پیغام جب ڈاکٹر مبشر کو دیا تو وہ چپ سے ہو گئے تھے ۔۔۔۔ جانتے تھے کہ حسن کمال کوئی ایکسکیوز نہیں سنے گا اس لئے خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے ۔۔۔۔
حمنہ کے لئے یہ نیا نہیں تھاوہ اپنا کلینک بھی چلا رہی تھی صبح سے دوپہر تک کی ڈیوٹی وہ دے کر جیسے ہی فری ہوئی اپنے کلینک چلی گئ ۔۔۔۔ پھر وہاں سے سبھی فری ہوئی تھی کہ حسن کمال کی کال اس کے نمبر پر آ رہی تھی یہ بات بھی حمنہ کے لئے حیرت انگیز تھی ۔۔۔
پہلے کبھی انکی کال اس نہیں آئی تھی
” اسلام علیکم ۔۔۔جی ڈیڈ “
“ہائے ۔۔۔۔ کہا ہو تم” بڑا روکھا سا لہجہ تھا ۔۔۔۔
” میں اپنے کلینک “
” آدھے گھنٹے کے اندر ہاسپٹل پہنچو سات سے رات دس بجے تک تمہاری او پی ڈی ٹائم ہیں ” یہ کہہ کر فون بند ہوا تھا ۔۔۔۔ سب کچھ جلدی سے کور کر کے وہ سات بجے وہاں پہنچ گئ تھی پے سے مریض نمبر لیکر اسی کے انتظار میں تھے رات دس بجے تک وہ تھکن سے چور ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔ اصفر کے ڈیوٹی ٹائم بھی آف ہو چکے تھے ۔۔۔۔ اس لئے دونوں کی واپسی کا سوچ رہے تھے جب حسن کمال انکے پاس پہنچے ۔۔۔۔
” حمنہ رات کی ایمرجنسی کے ڈاکٹر کو ایک ایمرجنسی پیش آ گئ تھی اس لئے میں نے انہیں چھٹی دیدی ہے ۔۔۔ اور رات کو ایمرجنسی میں ایک جرنل فزیشن کی ہی ضرورت ہوتی ہے جو ہر قسم کے مریض کو ہینڈل کر سکے اس لئے رات تم ایمرجنسی میں ڈیوٹی دو گی ۔۔۔٫ ” اصفر یہ سن کر متذبذب سا ہوا تھا وہ صبح نو بجے سے گھن چکر بنی ہوئی تھی ۔۔۔۔
اور اب رات بھر ڈیوٹی ؟
” ڈیڈ وہ صبح کی ان داڈیوٹی ہے “
” مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔۔ ” وہ سخت لہجے میں اصفر سے بولے تھے وہ زچ سا ہوا تھا لیکن چپ ہو گیا
” حمنہ اگر تمہیں ڈیوٹی نہیں دینی تو صاف بتا دو پھر میں رک جاتا ہوں “
” نہیں ڈیڈ آئی ول مینج آپ جائیں ۔۔۔ میں دیکھ لوں گی ” حمنہ نے جواب دیا
” چلو اصفر سیف دعا کے ساتھ جا چکا ہے میں آج تمہارے ساتھ جاؤ۔ گا ” اصفر چپ چاپ آگے بڑھ گیا ۔۔۔۔ حمنہ ایمرجنسی وارڈ کی جانب بڑھ۔ گئ
تقریبا ایک ماہ سے حمنہ کی روٹین بہت ٹف سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔ بس چند گھنٹے ہی اسے آرام کے ملتے تھے ۔۔۔۔ اس لئے اصفر سے بات چیت کا موقع جیسے نا ہونے کے۔ برابر ہو گیا تھا ۔۔۔۔ ایک ماہ تین چار بار اس نے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی مسلسل ڈیوٹی دی تھی ۔۔۔ اصفر اس لئے چپ ہو جاتا تھا کہ حمنہ حسن کمال کو انکار نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔
لیکن ایک مہینے میں جیسے تھک چکی تھی ۔۔۔۔ اسلئے ایک بار نیند کی کمی کے باعث اور مسلسل پندرہ گھنٹے ڈیوٹی دینے کی وجہ سے ۔۔۔۔ واڈ میں مریض کو چیک کرتے ہوئے چکرا کر گر گئ تھی ۔۔۔۔
جب ہوش آئی تو اصفر اس کا ہاتھ تھامے اسکے برابر میں بیٹھا تھا ۔۔۔
ایک ہاتھ میں ڈرپ لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔
” آر یو آل رائٹ حمنہ ۔۔۔ کیا ہوا تھا تمہیں ۔۔۔ ٫
” کچھ نہیں شاید نیند کی خرابی کی وجہ سے “
” ہاں مجھے بھی یہی لگتا ہے ۔۔۔ بس اب تم ایک ہفتہ گھر پر ریسٹ ہی کروں گی۔۔۔۔” اس کے ہاتھ کو چومتے ہوئے اس نے بڑی فکرمندی سے کہا تھا ۔۔۔
کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک لیڈی ڈاکٹر اندر داخل ہوئی اصفر حمنہ کا ہاتھ چھوڑ کر کھڑا ہو گیا وہ لیڈی ڈاکٹر حمنہ کے پاس آ کر اسکی نبض دیکھنے لگی ۔۔۔۔
” اب تو کچھ بہتر لگ رہی ہو ۔۔۔۔ ویسے میں نے تمہارے بلڈ ٹیسٹ لئے ہیں صبح تک رپورٹس آ جائیے گئیں ۔۔۔
” ٹیسٹ کس چیز کے ۔۔۔ ایک بی پی ہی تو لو ہوا تھا حمنہ کا “اصفر نے لیڈی ڈاکٹر سے دریافت کیا
” بس یونہی نارمل سے c b c and blood culture
ڈاکٹر نے اب نرس کو حمنہ کا بی پی چیک کرنے کا کہا ۔۔۔۔ کچھ ہی دیر اصفر اسے گھر لے گیا تھا چند دن آرام کرنے کے جب وہ ہاسپٹل گئ تو آپ ی او پی ڈی سے فری ہو حمنہ اس لیڈی ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئ جو گائناکالوجسٹ تھی ۔۔۔۔ اور اسوقت اپنے کیبن میں موجود۔ بھی تھی ۔۔۔۔ حمنہ کو دیکھ کر مسکرانے لگی
” آئیے حمنہ ” حمنہ اندر داخل ہو گئ
” ہیو آ سیٹ ” حمنہ اسکے سامنے کرسی پر بیٹھ گئ
” اب کیسی طعبیت ہے حمنہ “
” برفیکٹلی آل رائٹ ۔۔۔ “
” یہ تواچھی بات ہے ۔۔۔ ویسے آپ کی رپورٹس بھی بلکل پرفیکٹ ہیں ” اس نے ایک فائل اسکی جانب۔ بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔۔
” مجھے تو لگا تھا شاید آپ expactive ہیں لیکن نہیں آپ شاید ایساابھی چاہت نہیں ہیں “
” کیا مطلب ہے آپ کا “ڈاکٹر کی ذو معنی بات وہ سمجھی نہیں تھی
” مطلب تو آپ مجھ سے بہتر جانتی ہیں حمنہ ۔۔۔۔ جبھی ایسی میڈسن یوز کر رہی ہیں “
” میں ؟ نہیں تو ڈاکٹر میں تو ایسا کچھ بھی یوز نہی کر رہی
” لیکن آپکے بلڈ رپورٹس تو یہی بتا رہیں ہیں ۔۔۔ دیکھیں حمنہ ایسی ہیوی میڈسن اگر آپ نے مزید یوز کی تو بعد میں آپ کبھی بھی ماں نہیں بن پائیں گئیں “
حمنہ نے فوراسے فائل کھول کر دیکھی تھی ۔۔۔۔
جس سے یہی ثابت ہو رہا تھا کہ جو ڈاکٹر کہہ رہی تھی ۔۔۔۔ وہ فائل لئے سیدھاگھر گئ تھی ۔۔۔۔
اصفر کی باتیں یاد آنے لگیں کہ اسے ابھی اولاد نہیں چاہیے ۔۔۔۔ لیکن وہ ایسا کچھ بھی نہیں کھا رہی تھی پھر اسے یاد آیا کہ اصفر اسے رات کو روز ایک میڈسن کھانے کو وٹامن کی ٹیبلٹ ضرور کھلاتا ہے ۔۔۔ اور بہت باقاعدگی سے کھلاتا ہے اس۔ نے سائیڈ ٹیبل کے دراز سے وہ ٹیبلٹ کی ڈبیہ نکالی لیکن وہ وٹامن کی ہی تھی۔۔۔ حمنہ کا دل مطمئن سا نہیں ہو رہا تھااس لئے وہ میڈسن اس نے لیباٹری سے ٹیسٹ کروائی تھی ۔۔۔۔ جو وٹامن کی نہیں بلکہ وہی تھی جس کا اسے ڈر تھا ۔۔۔۔
مطلب پچھلے پانچ سال سے وہ اسے ایسی میڈسن دے رہا تھا جس سے وہ ماں بن ہی سکے مگر کیوں ؟
اس کی محبت چاہت دیوانگی ۔۔۔ جیسے سب دھوکہ سا لگنے لگا تھا ۔۔۔۔ کیوں کر رہا تھا یہ سب۔۔۔۔کوئی جواب نہیں تھا اس کے پاس “
